بدعت نیک نیت ہی سے کی جاتی ہے اوراسے ثواب سمجھا جاتا ہے۔ نیک نیت سے بدعت کرنا بھی معاف نہیں، بلکہ دین میں اضافہ کرنے کی جسارت ہے، جو بدترین گمراہی ہے۔ شریعت نیت کے ساتھ ساتھ عمل کی مطابقت بھی چاہتی ہے۔ خواہ نیت اچھی ہو لیکن عمل نبی ﷺ کی سنت کے خلاف ہو، تو وہ مردود (رد کیا گیا) عمل ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا
من عمل عملاً ليس عليه أمرنا فهو ردّ
جس نے ایسا عمل کیا جو ہمارے طریقے پر نہیں، وہ مردود ہے
(صحیح مسلم، حدیث: 1718)
یہ حدیث صریح طور پر واضح کرتی ہے کہ نیت کا اخلاص عمل کو قبول نہیں کراتا جب تک وہ سنت کے مطابق نہ ہو۔