نذر برائے اللہ اور نذر برائے ولی میں شرعی فرق کیا ہے؟

نذر برائے اللہ اور نذر برائے ولی کے درمیان فرق بنیادی عقیدے کا ہے، کیونکہ ایک خالص عبادت ہے اور دوسری عبادت میں شرک کی آمیزش ہے۔

نذر برائے اللہ وہ ہے جو بندہ اللہ تعالیٰ کی رضا اور قرب کے لیے مانے۔ اس کا مقصد عبادت اور اطاعت ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر کوئی کہے: اگر میرا کام ہو جائے تو میں اللہ کے لیے روزہ رکھوں گا یا میں مسکینوں کو اللہ کی رضا کے لیے کھانا کھلاؤں گا۔ تو یہ نذر عبادت ہے اور صرف اللہ کے لیے مشروع ہے۔

يُوفُونَ بِالنَّذْرِ وَيَخَافُونَ يَوْمًا كَانَ شَرُّهُ مُسْتَطِيرًا
وہ لوگ اپنی نذر پوری کرتے ہیں اور اس دن سے ڈرتے ہیں جس کی سختی ہر طرف پھیلی ہوگی۔
(الإنسان :7)
اللہ اس نذر کی تعریف کرتا ہے جو خالص اللہ کے لیے ہو، کیونکہ یہ عمل تقوی اور اطاعت کی علامت ہے۔

نذر برائے ولی وہ ہے جو کسی بزرگ، پیر، نبی یا قبر کے نام پر مانی جائے۔ جیسے اگر میرا بچہ ٹھیک ہو جائے تو میں سید فلاں کے نام کی دیگ دوں گا یا عبدالقادر جیلانی کے نام پر بکرا چڑھاؤں گا۔ یہ نذر دراصل عبادت کو غیر اللہ کی طرف پھیرنا ہے، کیونکہ نذر بندگی کا وعدہ ہے، اور وعدہ صرف خالق کے ساتھ جائز ہے۔ لہذا نذر صرف اس اکیلے اللہ کی ہی ہو سکتی ہے۔ نذر برائے اللہ عبادت اور توحید ہے، جبکہ نذر برائے ولی عبادتِ غیر اللہ اور شرک ہے۔
اِنَّمَا حَرَّمَ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةَ وَالدَّمَ وَلَحْمَ الْخِنْزِيْرِ وَمَآ اُهِلَّ بِهٖ لِغَيْرِ اللّٰهِ ۚ
اس نے تو بس حرام کیا ہے تم پر مُردار، خُون، خنزیر کا گوشت اور ہر وہ چیز کہ پکارا جائے اس پر۔ (نام) غیر اللہ کا پھر جو مجبور ہوجائے۔
(البقرہ:173)
قربانی یا نذر جیسا کوئی بھی عمل اگر غیر اللہ کے لیے کیا جائے تو وہ عبادت کا رخ مخلوق کی طرف پھیر دینا ہے، جیسا کہ مشرکین مکہ اپنے معبودوں کے نام پر جانور ذبح کرتے تھے۔ آج بھی جو شخص اولیاء کے نام پر دیگ پکاتا، جانور چڑھاتا یا منت مانتا ہے، وہ اسی شرکیہ عمل کو دہراتا ہے جس سے قرآن نے منع فرمایا۔ نذر ایک عہد ہے جو بندہ اپنے رب سے باندھتا ہے، اس میں کسی اور کا واسطہ یا نام شریک کرنا عقیدے کو بگاڑ دیتا ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا
مَنْ نَذَرَ أَنْ يُطِيعَ اللَّهَ، فَلْيُطِعْهُ، وَمَنْ نَذَرَ أَنْ يَعْصِيَهُ، فَلَا يَعْصِهِ
جس نے اللہ کی اطاعت کی نذر مانی، وہ اسے پورا کرے، اور جس نے نافرمانی کی نذر مانی، وہ اسے پوری نہ کرے۔
(صحیح البخاری، كتاب الأيمان والنذور، حدیث 6696)

تلاش کریں