میزانِ عدل (ترازو) کے بارے میں قرآن کیا کہتا ہے؟

قیامت کے دن اللہ تعالیٰ عدلِ کامل کے ساتھ فیصلہ کرے گا، اور اس کے لیے میزانِ عدل (ترازو) قائم کی جائے گا جس میں ہر انسان کے اعمال کو تولا جائے گا۔ یہ ترازو محض علامتی نہیں بلکہ حقیقی ہوگا، تاکہ انسان اپنے اعمال کا انجام دیکھ سکے اور کسی پر ذرّہ برابر ظلم نہ ہو۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے

وَنَضَعُ الْمَوَازِيْنَ الْقِسْطَ لِيَوْمِ الْقِيٰمَةِ فَلَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَـيْــــــًٔا ۭ وَ اِنْ كَانَ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ اَتَيْنَا بِهَا ۭ وَكَفٰى بِنَا حٰسِـبِيْنَ۝
اور قیامت کے دن ہم انصاف کے ترازو رکھیں گے، پھر کسی شخص پر کوئی ظلم نہیں ہوگا۔ اور اگر کوئی (عمل) رائی کے دانے کے برابر بھی ہوگا، ہم اسے بھی لے آئیں گے، اور حساب لینے کے لیئے ہم کافی ہیں۔
(الأنبیاء: 47)

نبی ﷺ نے فرمایا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص سے بھی قیامت کے دن حساب لیا گیا پس وہ ہلاک ہوا۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا اللہ تعالیٰ نے خود نہیں فرمایا ہے «فأما من أوتي كتابه بيمينه ۝ فسوف يحاسب حسابا يسيرا‏» کہ پس جس کا نامہ اعمال اس کے دائیں ہاتھ میں دیا گیا تو عنقریب اس سے ایک آسان حساب لیا جائے گا۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ تو صرف پیشی ہو گی۔ (اللہ رب العزت کے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ) قیامت کے دن جس کے بھی حساب میں کھود کرید کی گئی اس کو عذاب یقینی ہو گا۔
(صحيح البخاري:كتاب الرقاق:حدیث: 6537)

یہ ترازو اللہ کے عدل کی عظیم نشانی ہے۔ نیک اعمال، نیت، اور ایمان وزن کو بھاری کرتے ہیں، جبکہ شرک، ظلم، اور نفاق اسے ہلکا بنا دیتے ہیں۔ میزانِ عدل ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اللہ کا عدل کامل اور بے لاگ ہے۔ جو بندہ دنیا میں اللہ کے لیے خالص عمل کرے، اُس کے لیے میزان بھاری ہوگا، اور جو بندہ شرک و ریا میں مبتلا ہو، اُس کے تمام اعمال غارت ہو جائیں گے، کیونکہ اللہ کے میزان میں صرف خالص توحید ہی وزنی ٹھہرتی ہے۔

تلاش کریں