اللہ تعالیٰ نے قیامت کے دن کی ہولناکی اور کائناتی نظام کی تبدیلی کو اپنے کلام میں نہایت واضح انداز میں بیان کیا ہے۔ اُس دن یہ پوری مخلوقی ترتیب جو انسان کو مضبوط اور ابدی لگتی ہے، اللہ کے حکم سے فنا ہو جائے گی تاکہ عدلِ الٰہی کے لیے نیا مرحلہ قائم کیا جائے۔
يَوْمَ تُبَدَّلُ الْاَرْضُ غَيْرَ الْاَرْضِ وَالسَّمٰوٰتُ وَبَرَزُوْا لِلّٰهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ
جس دن زمین بدل دی جائے گی کسی اور زمین سے، اور آسمان (بھی بدل دیے جائیں گے)، اور سب اللہ کے سامنے حاضر ہوں گے جو یکتا اور زبردست ہے۔
(سورۃ ابراہیم: 48)
قیامت کے دن زمین اپنی موجودہ شکل میں نہیں رہے گی؛ نہ پہاڑ ہوں گے، نہ سمندر، نہ یہ آسمان بلکہ ایک نئی زمین ہوگی جس پر فیصلہ ہوگا۔ کائنات کی یہ تبدیلی اللہ کی قدرت کا ظہور ہے، تاکہ بندوں کو احساس ہو کہ بقا صرف خالق کی ہے، مخلوق فانی ہے۔
نبی ﷺ نے فرمایا:
قیامت کے دن لوگوں کا حشر سفید و سرخی آمیز زمین پر ہو گا جیسے میدہ کی روٹی صاف و سفید ہوتی ہے۔ اس زمین پر کسی (چیز) کا کوئی نشان نہ ہو گا۔
(صحيح البخاري:كتاب الرقاق:حدیث: 6521)
اس سے واضح ہوتا ہے کہ اُس دن زمین و آسمان کی ہر پہچان مٹا دی جائے گی، تاکہ ہر انسان صرف اپنے عمل اور اپنے رب کے سامنے جواب دہی کے احساس میں کھڑا ہو۔
یہ ایمان کا حصہ ہے کہ قیامت کا دن مادی نظام کے زوال اور ربّ العالمین کے فیصلے کے ظہور کا دن ہے۔ اس یقین سے مومن کا دل دنیا کی ظاہری چمک سے بے نیاز اور آخرت کے لیے تیار رہتا ہے۔