قومِ نوحؑ کو کس بنیادی گناہ کی وجہ سے عذاب دیا گیا؟

قومِ نوحؑ کی ہلاکت کا اصل سبب ان کا شرک اور باطل معبودوں کی پرستش تھی۔ انہوں نے اللہ کی توحید کو چھوڑ کر بتوں کو سفارشی اور مشکل کشا مان لیا، اور نبی کی دعوت کو جھٹلا دیا۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ
وَقَالُوا لَا تَذَرُنَّ آلِهَتَكُمْ وَلَا تَذَرُنَّ وَدًّا وَلَا سُوَاعًا وَلَا يَغُوثَ وَيَعُوقَ وَنَسْرًا
اور وہ کہتے رہے ہرگز اپنے معبودوں کو نہ چھوڑو، نہ ہی ودّ، سواع، یغوث، یعوق اور نسر کو چھوڑو۔
(نوح: 23)

یہی وہ انحراف تھا جو انہیں اللہ کے غضب کا مستحق بنا۔ آج بھی جب امت قبروں، اولیاء اور اوہام کو مشکل کشا مان کر انہی کو پکارتی ہے تو وہی روش دہرائی جاتی ہے جو قومِ نوحؑ نے اپنائی تھی۔

نجات کا راستہ صرف ایک ہے جس طرح نوحؑ نے اپنی قوم کو توحید کی دعوت دی، اسی طرح ہمیں بھی خالص اللہ کی عبادت اور سنت کی پیروی اختیار کرنی ہے۔

تلاش کریں