قومِ عاد کے سردار اپنی جسمانی طاقت اور بستیوں کی شان و شوکت پر فخر کرتے تھے، اور اسی غرور میں اللہ کی توحید کا انکار کر کے اپنے آپ کو ناقابلِ تسخیر سمجھنے لگے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ
فَأَمَّا عَادٌ فَاسْتَكْبَرُوا فِي الْأَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ وَقَالُوا مَنْ أَشَدُّ مِنَّا قُوَّةً ۖ أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّ اللَّهَ الَّذِي خَلَقَهُمْ هُوَ أَشَدُّ مِنْهُمْ قُوَّةً ۖ وَكَانُوا بِآيَاتِنَا يَجْحَدُونَ
تو عاد نے زمین میں ناحق تکبر کیا اور کہا ہم سے زیادہ طاقتور کون ہے؟ کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ اللہ جس نے انہیں پیدا کیا وہ ان سے زیادہ طاقتور ہے؟ اور وہ ہماری آیات کا انکار کرتے تھے۔ (فصلت:15)
یہی کبر اور غرور قومِ عاد کی ہلاکت کا باعث بنا۔ آج بھی جب انسان اپنی ٹیکنالوجی، لشکروں یا دولت پر گھمنڈ کرتا ہے اور اللہ کے احکام کو کمتر سمجھتا ہے تو وہی روش دہراتا ہے جو قومِ عاد نے اپنائی تھی۔ نجات اسی میں ہے کہ انسان اپنی طاقت کو اللہ کی امانت سمجھے، اور غرور کے بجائے عاجزی اور توحید کو اپنا شیوہ بنائے۔