قرآن میں جہنم کے ایندھن کے طور پر دو بنیادی چیزوں کا ذکر کیا گیا ہے، انسان اور پتھر۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے
وَاِنَّ جَهَنَّمَ لَمَوْعِدُهُمْ اَجْمَعِيْنَ لَهَا سَبْعَةُ اَبْوَابٍ ۭ لِكُلِّ بَابٍ مِّنْهُمْ جُزْءٌ مَّقْسُوْمٌ
اور یقیناً جہنم کافروں پر محیط ہے۔ اس کےسات دروازے ہیں ہر دروازے کے لیے ان میں سے حصہ ہے تقسیم شدہ۔
الحجر: 43، 44
يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا قُوْٓا اَنْفُسَكُمْ وَاَهْلِيْكُمْ نَارًا وَّقُوْدُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ عَلَيْهَا مَلٰۗىِٕكَةٌ غِلَاظٌ شِدَادٌ لَّا يَعْصُوْنَ اللّٰهَ مَآ اَمَرَهُمْ وَيَفْعَلُوْنَ مَا يُؤْمَرُوْنَ
اے ایمان والو ! بچاؤ اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو اس آگ سے جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہوں گے اس پر سخت مزاج بہت طاقت ور فرشتے مقرر ہیں وہ نافرمانی نہیں کرتے اللہ کی جس کا وہ اُنھیں حکم دیتا ہے اور وہی کرتے ہیں جس کا اُنھیں حکم دیا جاتا ہے۔ التحریم:6
اوراللہ تعالیٰ نے مزید فرمایا کہ
اِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا بِاٰيٰتِنَا سَوْفَ نُصْلِيْهِمْ نَارًا كُلَّمَا نَضِجَتْ جُلُوْدُھُمْ بَدَّلْنٰھُمْ جُلُوْدًا غَيْرَھَا لِيَذُوْقُوا الْعَذَابَ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَزِيْزًا حَكِيْمًا
جو لوگ ہماری آیات کا انکار کرتے ہیں ہم انہیں آگ میں جلائیں گے۔ جب ان کی جلد جل جائے گی تو ہم انہیں دوسری جلد دے دیں گے تاکہ وہ عذاب کا مزہ چکھیں۔ بے شک اللہ غالب اور حکمت والا ہے۔ النساء: 56
یہ اس بات کی علامت ہے کہ کفار اور نافرمان اپنی نافرمانی کا بدلہ بھگتیں گے۔