قرآن میں قیامت کو یوم الدین کیوں کہا گیا ہے؟

قرآنِ کریم میں قیامت کو یوم الدین (یعنی جزا و سزا کا دن) اس لیے کہا گیا ہے کہ اس دن ہر انسان کو اُس کے ایمان اور اعمال کے مطابق پورا بدلہ دیا جائے گا نہ کسی پر ظلم ہوگا، نہ کسی کی نیکی ضائع کی جائے گی۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے

مٰلِكِ يَوْمِ الدِّينِ
وہ جزا و سزا کے دن کا مالک ہے۔
( الفاتحہ :4)

اس تعبیر میں دو بنیادی حقیقتیں بیان ہوئیں

عدالتِ الٰہیہ: دنیا میں بہت سے ظالم بچ نکلتے ہیں، اور مظلوم انصاف سے محروم رہتے ہیں۔ مگر یوم الدین وہ دن ہے جب سب کے درمیان عدلِ مطلق قائم ہوگا۔ کسی کو سفارش یا مال سے نجات نہ ملے گی، بلکہ صرف ایمان و عمل صالح کام آئیں گے۔

ملکیتِ مطلقہ: دنیا میں بادشاہ اور حاکم بظاہر فیصلے کرتے ہیں، مگر اس دن صرف اللہ ہی کا حکم چلے گا۔ کوئی دوسرا اقتدار یا اختیار باقی نہ رہے گا۔

نبی ﷺ نے فرمایا
لا تزول قدما عبد يوم القيامة حتى يسال عن عمره فيما افناه، وعن علمه فيم فعل، وعن ماله من اين اكتسبه وفيم انفقه، وعن جسمه فيم ابلاه
قیامت کے دن کسی بندے کے دونوں پاؤں نہیں ہٹیں گے یہاں تک کہ اس سے یہ نہ پوچھ لیا جائے: اس کی عمر کے بارے میں کہ اسے کن کاموں میں ختم کیا، اور اس کے علم کے بارے میں کہ اس پر کیا عمل کیا اور اس کے مال کے بارے میں کہ اسے کہاں سے کمایا اور کہاں خرچ کیا، اور اس کے جسم کے بارے میں کہ اسے کہاں کھپایا۔
(سنن ترمذي:كتاب صفة القيامة والرقائق والورع:حدیث: 2417)

یعنی یوم الدین دراصل حساب و جزا کا دن ہے، جہاں توحید کی سچائی، عدلِ الٰہی، اور انسان کے اعمال کا نتیجہ سامنے آئے گا۔
اسی لیے مؤمن ہر صلوۃ میں مٰلِكِ يَوْمِ الدِّينِ پڑھ کر یاد کرتا ہے کہ اس کی بندگی صرف اسی کے لیے ہے، کیونکہ آخرکار فیصلہ صرف اسی کے دربار میں ہونا ہے۔

تلاش کریں