قرآن میں بیان کردہ زَلْزَلَةُ السَّاعَةِ (قیامت کا زلزلہ) کس کیفیت کو ظاہر کرتا ہے؟

زَلْزَلَةُ السَّاعَةِ (قیامت کا زلزلہ) اس ہولناک کیفیت کو ظاہر کرتا ہے جب زمین اور کائنات اپنی بنیادوں سے ہل جائے گی، نظامِ فطرت ٹوٹ جائے گا، پہاڑ ریزہ ریزہ ہو جائیں گے، اور ہر انسان خوف و دہشت سے بے خود ہو جائے گا۔ یہ وہ لمحہ ہوگا جب دنیا کا وجود فنا اور آخرت کا آغاز ہوگا۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے

يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمْ ۚ اِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَيْءٌ عَظِيْمٌ ۝ يَوْمَ تَرَوْنَهَا تَذْهَلُ كُلُّ مُرْضِعَةٍ عَمَّآ اَرْضَعَتْ وَتَضَعُ كُلُّ ذَاتِ حَمْلٍ حَمْلَهَا وَتَرَى النَّاسَ سُكٰرٰي وَمَا هُمْ بِسُكٰرٰي وَلٰكِنَّ عَذَابَ اللّٰهِ شَدِيْدٌ۝

اے لوگو! اپنے رب سے ڈرو، یقیناً قیامت کا زلزلہ بڑی خوفناک چیز ہے۔ جس دن تم اسے دیکھو گے تو ہر دودھ پلانے والی اپنے بچے کو بھول جائے گی، اور ہر حاملہ عورت اپنا حمل گرا دے گی، اور لوگ تمہیں مدہوش دکھائی دیں گے حالانکہ وہ مدہوش نہ ہوں گے، لیکن اللہ کا عذاب سخت ہوگا۔
(الحج :1-2)

یہ کیفیت دراصل انسان کے تمام سہاروں کے ختم ہونے کا منظر ہے۔ زمین جو ہمیشہ ٹھری ہوئی تھی، اس دن لرز اٹھے گی، آسمان جو محفوظ و مضبوط نظر آتا تھا، پھٹ جائے گا۔ اللہ تعالیٰ جس نے زمین کو قرار کی جگہ بنایا، وہی جب چاہے اسے فنا کے ذریعے قیامت کی طرف موڑ دے۔ اہلِ ایمان کے لیے یہ منظر اللہ کے وعدۂ حق کی تصدیق ہوگا، اور غافلوں کے لیے انجامِ غفلت کی حقیقت۔

تلاش کریں