قرآن میں “الواقعة” اور “القارعة” کے نام قیامت کے کن پہلوؤں کو ظاہر کرتے ہیں؟

قرآنِ کریم میں قیامت کے لیے مختلف نام استعمال ہوئے ہیں، جن میں الواقعة اور القارعة خاص طور پر قیامت کے ہولناک اور فیصلہ کن پہلو کو ظاہر کرتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے

إِذَا وَقَعَتِ الْوَاقِعَةُ ۝ لَيْسَ لِوَقْعَتِهَا كَاذِبَةٌ۝
جب وہ واقعہ (قیامت) پیش آجائے گا، تو اس کے پیش آنے کے وقت کوئی اس کا انکار نہ کر سکے گا۔
(الواقعة :1–2)

الواقعة کا مطلب ہے وہ عظیم واقعہ جو ضرور پیش آنے والا ہے۔ اس سے قیامت کی یقینی آمد اور اس کے نظامِ عدل کے قائم ہونے کا پہلو ظاہر ہوتا ہے۔ اس دن تمام جھوٹے دعوے باطل ہو جائیں گے، اور انسان کو اس کے عمل کے مطابق درجہ دیا جائے گا۔

جبکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا
الْقَارِعَةُ ۝ مَا الْقَارِعَةُ ۝ وَمَا أَدْرَاكَ مَا الْقَارِعَةُ۝
وہ کھٹکھٹانے والی (قیامت)! کیا ہے وہ کھٹکھٹانے والی؟ اور تجھے کیا معلوم کہ وہ کھٹکھٹانے والی کیا ہے؟
(القارعة :1–3)

القارعة: کا معنی ہے زور سے ٹکرانے والی آفت۔ یہ قیامت کے اچانک اور دہلا دینے والے وقوعے کو ظاہر کرتا ہے جب آسمان پھٹ جائے گا، قبریں الٹ دی جائیں گی، اور دل خوف سے لرز اٹھیں گے۔

ان دونوں تعبیرات سے قرآن نے قیامت کے دو پہلو واضح کیے

الواقعة – قیامت کا یقینی اور لازمی پیش آنا۔

القارعة – قیامت کا شدید، زلزلہ خیز اور لرزا دینے والا منظر۔

یہ دونوں نام انسان کو خبردار کرتے ہیں کہ یہ دن نہ صرف حقیقت ہے بلکہ اس کا جھٹکا اور فیصلہ دونوں اٹل ہیں۔ اس لیے مومن کے لیے اس دن کی تیاری ایمان، عمل صالح، اور توحید پر استقامت سے ممکن ہے۔

تلاش کریں