عیسیٰ علیہ السلام کا قتل نہ ہونا کافر یا مشرک اقوام کے لیے کیا سبق ہے؟

کافر اور مشرک قومیں ہمیشہ یہ سمجھتی رہی ہیں کہ اگر وہ نبیوں کو ختم کر دیں، سچائی کو مٹا دیں یا اللہ کے رسولوں کے خلاف سازش کر لیں تو وہ اپنے باطل پر غالب آ جائیں گی۔ مگر عیسیٰ علیہ السلام کا قتل نہ ہونا اللہ کی طرف سے ایک دائمی اعلان ہے کہ باطل کبھی سچائی پر غالب نہیں آ سکتا، اور کوئی قوم اللہ کے فیصلے کو بدل نہیں سکتی۔ یہ واقعہ کفر و شرک کے لیے اس بات کی قطعی دلیل ہے کہ طاقت، اکثریت، ظلم، سازش وغیرہ یہ سب کمزور ہیں، غالب وہی ہے جو آسمانوں اور زمین کا رب ہے۔ فرمایا کہ

وَّقَوْلِهِمْ اِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِيْحَ عِيْسَى ابْنَ مَرْيَمَ رَسُوْلَ اللّٰهِ ۚ وَمَا قَتَلُوْهُ وَمَا صَلَبُوْهُ وَلٰكِنْ شُبِّهَ لَهُمْ ۭ وَاِنَّ الَّذِيْنَ اخْتَلَفُوْا فِيْهِ لَفِيْ شَكٍّ مِّنْهُ مَا لَهُمْ بِهٖ مِنْ عِلْمٍ اِلَّا اتِّبَاعَ الظَّنِّ ۚ وَمَا قَتَلُوْهُ يَقِيْنًۢا۝ بَلْ رَّفَعَهُ اللّٰهُ اِلَيْهِ ۭوَكَانَ اللّٰهُ عَزِيْزًا حَكِـيْمًا ۝
اور یہ کہنے کی وجہ سے کہ ہم نے قتل کیا ہے، مسیح عیسی ابن مریم کو جواللہ کے پیغمبر ہیں ، حالانکہ نہ تو انہوں نے عیسی قتل کیا ہے، اور نہ سولی پر چڑھایا ہے، بلکہ معاملہ ان پر مشتبہ ہو گیا تھا۔ جولوگ عیسی کے بارے میں اختلاف کے شکار ہیں ، یقیناوہ بھی اس بارے میں شک کرتے ہیں ان کے پاس کوئی دلیل نہیں ، بلکہ وہم پرستی کے شکار ہیں ۔ یقینا انہوں نے عیسی کو قتل نہیں کیا،بلکہ اللہ تعالی نے اس کو اپنی طرف اٹھایا۔ اللہ تعالی زبردست اور حکمت والا ہے۔
(النساء، 157، 158)

یہ آیات کافر قوموں کو صاف صاف یہ سبق دیتی ہیں کہ وہ قتل کرنا چاہتے تھے مگر قتل نہ کر سکے، وہ صلیب دینا چاہتے تھے مگر نہ دے سکے، انہوں نے سازش کی مگر وہ غلط فہمی اور دھوکے میں مبتلا کر دیے گئے، اور اصل فیصلہ یہ ہوا کہ اللہ نے اپنے نبی کو اٹھا لیا۔

اس طرح یہ واقعہ کافر قوموں کی شکست اور اللہ کے غلبے کا اعلان ہے۔
آخر میں خود اللہ نے یہ نتیجہ بیان کر دیا:وَكَانَ اللّٰهُ عَزِيزًا حَكِيمًا، اللہ تعالی زبردست اور حکمت والا ہے۔ یعنی فیصلہ اللہ کا چلتا ہے، دشمن کا نہیں۔

تواس واقعے میں کافر و مشرک قوموں کے لیے سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ جو قوم اللہ کے رسول کے خلاف کھڑی ہو، اس کے فیصلے کے مقابلے میں اپنا منصوبہ چلانا چاہے، وہ چاہے کتنی ہی طاقتور ہو آخرکار ذلیل اور ناکام ہوتی ہے۔
یہودیوں نے سوچا کہ وہ اللہ کے نبی کو ختم کر کے اللہ کے منصوبے کو بدل دیں گے، مگر اللہ نے اعلان کر دیا کہ (وَكَانَ اللّٰهُ عَزِيزًا حَكِيمًا)۔ یعنی اصل غالب میں ہوں، تمہاری تدبیر میرے فیصلے کو نہیں ہلا سکتی۔ لہذا ہر باطل قوت آخرکار شکست کھاتی ہے۔ جو قوم نبیوں سے دشمنی کرتی ہے وہ اللہ سے دشمنی کرتی ہے، اور جو اللہ سے دشمنی کرے وہ کبھی جیت نہیں سکتی۔

تلاش کریں