صراط کیا ہے، اور مومن و منافق اس پر کیسے گزرے گے؟

صراط وہ پل ہے جو جہنم کے اوپر بچھایا جائے گا اور تمام انسانوں کو اس پر سے گزرنا ہوگا۔ یہ راستہ نبی ﷺ نے تیز دھار تلوار اور بال سے بھی زیادہ باریک قرار دیا۔ یہ پل مومن کے لیے نجات اور منافق کے لیے ہلاکت کا مقام ہوگا۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے

وَاِنْ مِّنْكُمْ اِلَّا وَارِدُهَا ۚ كَانَ عَلٰي رَبِّكَ حَتْمًا مَّقْضِيًّا۝ ثُمَّ نُـنَجِّي الَّذِيْنَ اتَّقَوْا وَّنَذَرُ الظّٰلِمِيْنَ فِيْهَا جِثِيًّا ۝
تم میں سے کوئی نہیں مگر وہ (جہنم) پر گزرنے والا ہے، یہ تیرے رب پر طے شدہ وعدہ ہے۔ پھر ہم پرہیزگاروں کو نجات دیں گے اور ظالموں کو وہیں گرا چھوڑیں گے۔
(مریم: 71–72)

یہ مقام ایمان اور اعمال کا آخری امتحان ہے۔ مومن جن کے دل توحید اور اخلاص سے بھرے ہوں گے، وہ روشنی کے ساتھ صراط پار کر جائیں گے، اور منافقوں کی روشنی بجھ جائے گی، وہ اندھیرے میں جہنم میں گر پڑیں گے۔ صراط اس بات کی یاد دہانی ہے کہ دنیا کا سیدھا راستہ (صراطِ مستقیم) ہی آخرت کے صراط پر آسانی کا ذریعہ ہے۔ جو شخص دنیا میں قرآن و سنت کے راستے پر چلا، اس کا گزر آخرت کے پل پر آسان ہوگا۔ اور جس نے نفاق، بدعت، یا شرک کا راستہ اختیار کیا، وہ وہاں اندھیرے اور ہلاکت میں گر جائے گا۔

تلاش کریں