قیامت کے دن شفاعت کا اختیار کسی نبی، ولی یا فرشتے کے ہاتھ میں نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کے اذن سے ہی ہوگا۔ اُس دن کی سب سے بڑی شفاعت، شفاعتِ کبریٰ کا شرف محمد ﷺ کو عطا کیا جائے گا۔ یہ وہ عظیم مقام ہے جہاں تمام انسان نبی ﷺ کے پاس فریاد لے کر آئیں گے تاکہ حساب کا آغاز ہو، اور اللہ تعالیٰ اُنہیں ’’مقامِ محمود‘‘ عطا فرمائے گا۔
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے
مَن ذَا ٱلَّذِى يَشْفَعُ عِندَهُۥٓ إِلَّا بِإِذْنِهِۦ
کون ہے جو اس کے حضور سفارش کر سکے، مگر اس کے اذن سے؟
(البقرہ: 255)
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
۔۔۔۔ پھر جب وہ میرے پاس آئیں گے تو میں چلوں گا (حسن کی روایت کے مطابق مومنوں کی دونوں صفوں کے درمیان چلوں گا) میں اپنے رب سے اجازت مانگوں گا، تو مجھے اجازت دے دی جائے گی، جب میں اپنے رب کو دیکھوں گا، تو سجدے میں گر پڑوں گا، میں اس کے آگے سجدے میں اس وقت تک رہوں گا جب تک وہ اس حالت میں مجھے چھوڑے رکھے گا، پھر حکم ہو گا: اے محمد! سر اٹھاؤ، اور کہو، تمہاری بات سنی جائے گی، مانگو تمہیں دیا جائے گا، شفاعت کرو تمہاری شفاعت قبول کی جائے گی، میں اس کی حمد بیان کروں گا جس طرح وہ مجھے سکھائے گا، پھر میں شفاعت کروں گا۔۔۔
(سنن ابن ماجه:كتاب الزهد:حدیث: 4312)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میرے رب کی طرف سے ایک آنے والا ( جبرائیل علیہ السلام ) میرے پاس آیا اور مجھے اختیار دیا کہ میری آدھی امت جنت میں داخل ہو یا یہ کہ مجھے شفاعت کا حق حاصل ہو ، چنانچہ میں نے شفاعت کو اختیار کیا ، یہ شفاعت ہر اس شخص کے لیے ہے جس کا خاتمہ شرک کی حالت پر نہیں ہو گا۔
(سنن ترمذي: كتاب صفة القيامة والرقائق والورع : حدیث: 2441)
یہ شفاعت صرف اُن کے حق میں ہوگی جن سے اللہ راضی ہوگا اور جو توحید پر دنیا سے رخصت ہوئے۔ شفاعت کا عقیدہ توحید کے خلاف نہیں، بلکہ اس کی تکمیل ہے، بشرط یہ کہ بندہ یقین رکھے کہ سفارش صرف اللہ کے حکم اور اجازت سے ہوتی ہے۔ جو شخص نبی ﷺ یا کسی ولی کو اللہ کے اذن کے بغیر مدد یا نجات دینے والا سمجھے، وہ شفاعت نہیں بلکہ شرک کا مرتکب ہوتا ہے۔ اہلِ توحید کا ایمان یہی ہے کہ نبی ﷺ شفاعت فرمائیں گے، مگر صرف اللہ کے حکم سے، اور صرف اہلِ توحید کے لیے۔