نذر ایک ایسی عبادت ہے جس میں بندہ اللہ کے لیے کسی عمل کا التزام کرتا ہے، اس لیے شریعت میں اس کی نسبت ہمیشہ اللہ ہی کی طرف رکھی گئی ہے۔ جب نذر کا رخ بدل کر کسی مرشد، بزرگ یا عرس کی طرف کر دیا جائے تو اس کے معنی عبادت کے مفہوم ہی میں تبدیلی پیدا ہو جاتی ہے، اور یہ وہی راستہ ہے جس نے پچھلی امتوں کو شرک کی طرف جھکایا۔
اللہ تعالیٰ نے واضح طور پر بتایا
وَمَا أُهِلَّ بِهِ لِغَيْرِ اللَّهِ
ہر وہ چیز جس پر غیر اللہ کا نام پکارا جائے۔
(البقرۃ، 173)
عبادت کا عمل اللہ کے سوا کسی اور کے نام پر ہو وہ مردود ہے۔ اور نذر کے بارے میں فرمایا
يُوفُونَ بِالنَّذْرِ
وہ (مومن) اپنی نذروں کو پورا کرتے ہیں۔
(الانسان، 7)
یعنی نذر اللہ کے لیے مانی جاتی ہے اور اللہ ہی کے لیے پوری کی جاتی ہے۔ اسی طرح نبی ﷺ نے فرمایا
أَوْفِ بِنَذْرِكَ، فَإِنَّهُ لَا وَفَاءَ لِنَذْرٍ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ
اپنی نذر پوری کر لو البتہ اللہ کی نافرمانی والی نذر پوری کرنا جائز نہیں۔
(صحیح بخاری 6696)
اللہ کی اطاعت کی نذر پوری کرنا، اور نافرمانی کی نذر پوری نہ کرنا۔ یہ اصول خود حدیث ہی کی روشنی میں بتا دیتا ہے کہ جو نذر اللہ کی اطاعت نہیں ہے وہ معتبر ہی نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ صحابہؓ نے غیر اللہ کے نام پر کوئی نذر یا نیاز نہیں کی، نہ کسی عرس، نہ کسی مزار، نہ کسی بزرگ کی نسبت سے کوئی دیگ، قربانی یا وعدہ باندھا۔ اگر ایسا عمل دینی اعتبار سے جائز ہوتا تو سب سے زیادہ محبت رکھنے والے صحابہؓ ضرور اس کا اہتمام کرتے، مگر انہوں نے عبادت کے ہر دروازے کو صرف اللہ کی طرف رکھا تاکہ دل غیر اللہ کی طرف نہ جھکے۔ لہذا جو شخص یہ نذر مانے کہ میں مرشد صاحب کے عرس پر دیگ دوں گا، تو یہ نذرشرک ہے، کیونکہ یہ نذر عبادت کو غیر اللہ کی طرف پھیر دیتی ہے جو توحید کے منافی ہے۔