جب کوئی شخص یہ کہتا ہے کہ (میں سید فلاں کے نام کی نیاز دوں گا)، تو یہ درحقیقت ایک نذرانہ یا نذر کی صورت بن جاتی ہے، اور نذر و نیاز عبادت کی قسم ہے۔ اگر نیت میں اللہ کا قرب اور ثواب ہو مگر نام کسی بزرگ یا ولی کا لیا جائے، تو بھی یہ شرعی لحاظ سے عبادت غیر اللہ کی طرف پھیرنا ہے، کیونکہ اس میں عمل کی وہ شکل داخل ہے جو عبادت کے معنی میں آتی ہے۔ یہ اسکی عزت و احترام نہیں کہلائے گا بلکہ شرک کہلائے گا۔ اسلام میں عزت و احترام کی اجازت صرف دنیاوی حد تک ہے، لیکن نذر و نیاز جیسے اعمال عبادت کے دائرے میں آتے ہیں اور صرف اللہ کے لیے خاص ہیں۔
وَمَا أُمِرُوا إِلَّا لِيَعْبُدُوا اللّٰهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ (البینہ 98:5)
اور انہیں صرف یہی حکم دیا گیا تھا کہ وہ اللہ کی عبادت کریں، اسی کے لیے دین کو خالص رکھتے ہوئے۔
آیت میں (مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ) کا مفہوم یہ ہے کہ عبادت، نذر، قربانی، یا کوئی بھی دینی عمل خالص اللہ کے لیے ہو۔ اگر نذر میں کسی بزرگ کا نام شامل کر لیا جائے تو اخلاص ختم ہو جاتا ہے، اور عبادت میں شرک کی آمیزش پیدا ہوتی ہے۔ نبی ﷺ کے زمانے میں مشرکین بھی اپنے معبودوں کے لیے نذریں دیتے تھے، حالانکہ وہ انہیں اللہ کے قریب کرنے والے سمجھتے تھے، مگر قرآن نے ان کا یہ عمل شرک قرار دیا۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا
لَعَنَ اللّٰهُ مَنْ ذَبَحَ لِغَيْرِ اللّٰهِ
اللہ نے اس پر لعنت فرمائی جو اللہ کے سوا کسی اور کے نام پر ذبح کرے۔
صحیح مسلم: کتاب الاضاحی: باب تحريم الذبح لغير الله تعالى ولعن فاعله: 5126
یہی اصول نذر و نیاز پر بھی لاگو ہوتا ہے، کیونکہ نذر بھی ایک عبادت ہے جیسے قربانی۔ لہٰذا اگر کوئی سید فلاں کے نام کی نیاز کرتا ہے تو وہ عمل غیر اللہ کے لیے مخصوص ہو جاتا ہے، اور یہ صرف احترام نہیں بلکہ عبادت کی صورت میں شرک شمار ہوگا۔ حقیقی احترام یہ ہے کہ اللہ کے محبوب بندوں (انبیاء و صحابہ کرامؓ ) کی اتباع کی جائے، نہ کہ ان کے نام پر نذریں مانی جائیں۔