غیر اللہ کے نام پر نذر ماننا اصل میں عبادت کو مخلوق کی طرف پھیر دینا ہے، اور یہ قرآن کی ممانعت (وَمَا أُهِلَّ بِهِ لِغَيْرِ اللَّهِ) (البقرۃ: 173) کے تحت شدید گناہ ہے۔ جب انسان ایسی نذر مان لیتا ہے، تو وہ نذر سرے سے باطل اور غیر معتبر ہوتی ہے، کیونکہ شریعت میں صرف وہ نذر صحیح ہوتی ہے جو اللہ کے لیے ہو۔ باطل نذر کا کوئی کفارہ نہیں ہوتا، کیونکہ کفارہ صرف اس نذر کا ہوتا ہے جو شریعت میں جائز اور صحیح ہو، اور پھر آدمی اس کو پورا نہ کرے۔
نبی ﷺ نے فرمایا
أَوْفِ بِنَذْرِكَ، فَإِنَّهُ لَا وَفَاءَ لِنَذْرٍ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ
اپنی نذر پوری کر لو البتہ اللہ کی نافرمانی والی نذر پوری کرنا جائز نہیں۔
(صحیح بخاری 6696)
اس اصول کے مطابق غیر اللہ کے نام پر نذر گناہ اور معصیت ہے، لہٰذا یہ نذر سرے سے قائم ہی نہیں ہوتی کہ اس کا کفارہ دیا جائے۔ اس پر لازم ہے کہ وہ سچی توبہ کرے، اللہ سے معافی مانگے، اور دل سے اس عمل کو چھوڑ دے، کیونکہ توبہ ہی اس کا اصل علاج ہے، نہ کہ کفارہ۔
صحابہؓ کے طریقے سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ باطل نذریں پورا نہیں کی جاتیں، اور نہ ان کا کفارہ ہوتا ہے، بلکہ صرف توبہ کی جاتی ہے اور آئندہ کے لیے خالص عبادت اللہ کے لیے رکھی جاتی ہے۔ اس لیے غیر اللہ کے نام پر نذر ماننے والا اگر توبہ کر لے تو اس پر کوئی کفارہ لازم نہیں، بلکہ ترکِ عمل اور خالص توبہ ہی اس کے لیے کافی ہے۔