قرآن نے واضح کیا ہے کہ اگر کسی جگہ یا آستانے کو غیر اللہ کے نام یا عبادت کے لیے مخصوص کر دیا گیا ہو، تو وہاں ذبیحہ کرنا یا کھانا حرام ہے، چاہے نیت اللہ کے نام بھی ہو۔ یہ اس لیے کہ جگہ یا آستانہ شرعی لحاظ سے غیر اللہ کی عبادت کے ساتھ منصوب ہے، اور اس کا اثر قربانی یا نذر کی مشروعیت پر پڑتا ہے۔
وَمَا ذُبِحَ عَلَي النُّصُبِ
اور وہ بھی (حرام ہے) جو ذبح کیا گیا آستانے پر
(المائدة:3)
یہ آیت واضح کرتی ہے کہ جگہ یا آستانہ غیر اللہ کے نام سے منصوب ہو، تو اس کا اثر باقی رہتا ہے اور کھانا اور ذبیحہ جائز نہیں رہتا۔
یعنی مزار یا آستانے پر زبح کیا ہوا گوشت، حتی کہ اللہ کے نام سے بھی، شرعی لحاظ سے حرام ہے، کیونکہ وہ جگہ غیر اللہ کے نام پر مخصوص ہے۔
ثابت بن ضحاک نے بیان کیا ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک شخص نے نذر مانی کہ وہ بوانہ (ایک جگہ کا نام ہے) میں اونٹ ذبح کرے گا تو وہ شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے عرض کیا کہ میں نے بوانہ میں اونٹ ذبح کرنے کی نذر مانی ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا جاہلیت کے بتوں میں سے کوئی بت وہاں تھا جس کی عبادت کی جاتی تھی؟“ لوگوں نے کہا: نہیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا کفار کی عیدوں میں سے کوئی عید وہاں منائی جاتی تھی؟“ لوگوں نے کہا: نہیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنی نذر پوری کر لو البتہ گناہ کی نذر پوری کرنا جائز نہیں اور نہ اس چیز میں نذر ہے جس کا آدمی مالک نہیں
(سنن ابي داود:كتاب الأيمان والنذور:حدیث: 3313)
یہ واقعہ ہمیں دو اہم اصول سکھاتا ہے:
زیبا یا قربانی کی جگہ خالص ہو، یعنی کسی مزار، قبر یا غیر اللہ کے لیے مخصوص نہ ہو۔ نیت اللہ کے لیے ہو تو ذبح جائز اور عبادت شمار ہوگی۔
یعنی مقام کی مشروعیت اور نیت کا خالص ہونا شرط ہے۔ اگر جگہ کسی مزار یا قبر کے اوپر ہو تو حتیٰ کہ اللہ کے نام سے بھی ذبح جائز نہیں، جیسا کہ سورۃ المائدة کی آیت میں واضح کیا گیا۔ لہذا عبادت اور نذر و قربانی کی مشروعیت میں مقام اور منصوبیت کا بھی اثر ہے، اور نذر و قربانی صرف خالص اللہ کے نام سے اور اللہ کے لیے غیر اللہ کی نسبت سے پاک جگہ اور جائز طریقے سے ہی جائز ہوتی ہے۔