اگر امام مشرک یا مجھول العقیدہ ہو تو کیا اسکے پیچھے نماز جائز ہے؟

امام کا صحیح العقیدہ ہونا شرط ہے۔ اگر امام کا عقیدہ مشکوک یا باطل ہو (شرک، بدعت، یا اہل قبور سے مدد مانگنے والا ہو) تو اس کے پیچھے صلاۃ باطل ہے۔ اگر امام کا عقیدہ درست ہو لیکن ہمیں لاعلمی ہو، تو پہلے تحقیق کرنا لازم ہے، تاکہ عبادت شک و شبہ سے پاک رہے۔

اللہ تعالیٰ نے ابراہیم علیہ السلام کو امامت کا منصب دیتے وقت یہ اصول واضح فرمایا

وَإِذِ ابْتَلَىٰ إِبْرَاهِيمَ رَبُّهُ بِكَلِمَاتٍ فَأَتَمَّهُنَّ ۖ قَالَ إِنِّي جَاعِلُكَ لِلنَّاسِ إِمَامًا ۖ قَالَ وَمِن ذُرِّيَّتِي ۖ قَالَ لَا يَنَالُ عَهْدِي الظَّالِمِينَ

اور جب ابراہیم کو اس کے رب نے چند باتوں میں آزمایا اور اس نے انہیں پورا کیا، تو اللہ نے فرمایا: میں تجھے لوگوں کا امام بنانے والا ہوں۔ ابراہیم نے کہا میری اولاد میں بھی؟ فرمایا: میرا عہد ظالموں کو نہیں پہنچے گا۔
(البقرۃ: 124)

یعنی اللہ کا واضح فیصلہ ہے کہ امامت کا منصب ظالم کو نہیں دیا جا سکتا، جب عقیدے کا ظالم ہو۔ پس جو امام عقیدے میں شرک یا بدعت پر ہو، وہ اس عہدِ امامت کے لائق نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا
من قاتل تحت راية عُمية، يغضب لعصبة أو يدعو إلى عصبة أو ينصر عصبة، فقُتل فقِتلة جاهلية
جو شخص اندھے جھنڈے (بغیر حق کے پرچم) تلے لڑے، عصبیت کے لیے غصہ کرے یا اس کی طرف بلائے یا اس کی مدد کرے اور اس حال میں قتل ہو جائے تو اس کی موت جاہلیت کی موت ہے۔
صحیح مسلم، حدیث 1848

یعنی باطل قیادت یا غلط امامت کے پیچھے کھڑا ہونا جاہلیت ہے، خواہ وہ جہاد کے نام پر ہو یا صلوۃ کے نام پر۔ لہٰذا امام کا صحیح العقیدہ ہونا لازمی ہے، ورنہ اس کی اقتدا کرنا درست نہیں۔

تلاش کریں