اس آیت إِنَّكَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتَىٰ کو تمام مسالک پڑھتے تو ایک ہی طرح ہیں، مگر اس کی تاویل میں اختلاف بعد کے ادوار میں پیدا ہوا۔ اصل اور بنیاد وہی ہے جو ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے اختیار کی اور جسے بخاری (3980) نے قطعی اور حاکم تعبیر کے طور پر نقل کیا، یعنی مردے نہیں سنتے۔ آیت اپنے ظاہر پر ہے، اس میں کوئی تاویل نہیں۔
اب یہ دیکھیں کہ ہر مسلک اس آیت کو کیوں مختلف طریقے سے تعبیر کرتا ہے۔
پہلا فہم: صحابہؓ و تابعینؒ کا فہم
ام المومنین عائشہؓ، ابن عباسؓ، ابن مسعودؓ اور جمہور تابعینؒ نے اس آیت کو حقیقت پر محمول کیا، کہ مردے نہیں سنتے، نہ کلام سنتے ہیں اور نہ پکار سن سکتے ہیں۔
یہ فہم نصِ قرآنی کے ظاہر کے مطابق ہے اور اس پر ام المومنین عائشہؓ نے دلیل قائم کر کے کسی بھی خلافِ واقع تأویل کو رد کر دیا۔ اسی وجہ سے ان سب کے ہاں اس مسئلے میں کوئی اختلاف اصولاً موجود نہیں۔
دوسرا فہم: متأخرین میں تاویلی طریقہ
بعد کے بعض علماء نے کچھ واقعات جیسے بدر کے مقتولین سے خطاب کو بنیاد بنا کر یہ کہا کہ یہ آیت اصل میں سماعِ قبول یا سماعِ نفع کی نفی کرتی ہے، نہ کہ سماعتِ حقیقی کی۔
تاہم یہ تاویل صحابہؓ سے ثابت نہیں، بلکہ متأخرین کی طرف سے اصل فہم کے خلاف پیدا ہوئی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ قبر والوں سے خطاب یا سلام کے ظاہری الفاظ کو حقیقت سمجھ لیا گیا۔ بعض خطبوں میں (تم سے ذیادہ سن رہے ہیں) جیسے الفاظ کو بطورِ معجزہ تھے اس کو اصل قانون کے طور پر عقیدہ سمجھ لیا گیا۔ پھر قبر و مزار کے ساتھ تعظیمی رویوں کا دفاع کرنے کے لیے آیت کے ظاہر کو چھوڑ کر تاویل اختیار کی گئی۔
تیسرا فہم: مزارات و تصوف کے بعض حلقے
بعض صوفیانہ مسالک نے آیت کی یہ تاویل کی کہ یہ کفار کے مردوں کے بارے میں ہے، اولیاء کے بارے میں نہیں۔
:لیکن یہ تاویل بھی پانچ وجوہ سے باطل ہے
ام المومنین عائشہؓ کی صریح تفسیر سب مردوں پر عام ہے، نہ کہ صرف کفار پر۔
لفظ الْمَوْتَىٰ نکرہ ہے، عربی میں اس سیاق کے ساتھ نکرہ عموم پر دلالت کرتا ہے۔
اگر مرنے کے بعد ولی سن سکتا ہو تو قرآن اسے کیوں نفیِ سماعت میں مطلق ذکر کرتا؟
ام المومنین عائشہؓ کیوں اسے سننا مراد جاننا سے تعبیر فرماتی اور اس پر کسی صحابی کا رد بھی موجود نہیں۔
اگر بلعموم مردے سنتے ہیں تو قتادہؒ اسکے معجزہ کیوں قرار دیتے کہ اللہ نے ان کو زندہ کر دیا تھا تاکہ انکو ذلت محسوس ہو؟
اسی لیے یہ تاویل صحابہ کرامؓ کے ہاں معتبر نہیں سمجھی گئی۔
:اصل وجہ اختلاف
اختلاف نص کی وجہ سے نہیں، بلکہ مذہبی عمل کے دفاع میں تاویلیں گھڑی گئیں۔ جو لوگ مردوں سے استمداد، فریاد یا مزار پر پکارنے جیسے اعمال رکھتے تھے، انہوں نے آیت کو اس عمل کے خلاف محسوس کیا، تو اس کے ظاہر کو بدلنے کے لیے تاویلات اختیار کیں، اور یوں بعد کے زمانے میں مختلف فہم وجود میں آئے۔
:حقیقت یہ ہے کہ
نہ قرآن نے کہیں مردوں کا سننا ثابت کیا، نہ نبی ﷺ نے قانوناً یہ مسئلہ سکھایا، نہ صحابہؓ نے اسے حق سمجھا، بلکہ ام المومنین عائشہؓ نے اس کے ہر معارض فہم کا رد خود بخاری میں موجود ہے۔
لہٰذا جو فہم قرآن، سنت اور صحابہؓ کے مطابق ہے وہ یہی ہے إِنَّكَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتَىٰ کا ظاہر اپنے عموم پر ہے، مردے نہیں سنتے۔