اللہ نےنوحؑ کو کتنے سال تک اپنی قوم کو دعوت دینے کا ذکر کیا ہے؟

اللہ تعالیٰ نے نوحؑ کو ساڑھے نو سو سال تک اپنی قوم کو توحید کی دعوت دینے کا ذکر کیا ہے۔ لیکن ان کی قوم نے ضد، تکبر اور باطل معبودوں پر بھروسہ کرتے ہوئے دعوت کو رد کر دیا۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ
وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰى قَوْمِهٖ فَلَبِثَ فِيْهِمْ اَلْفَ سَنَةٍ اِلَّا خَمْسِيْنَ عَامًا ۭ فَاَخَذَهُمُ الطُّوْفَانُ وَهُمْ ظٰلِمُوْنَ
اور یقیناً ہم نے نوح (علیہ السّلام ) کو ان کی قوم کی طرف بھیجا تو وہ ان میں پچاس کم ہزار (ساڑھے نو سو) سال رہے پھر اُنھیں طوفان نے آپکڑا اور وہ ظالم تھے۔ (العنکبوت: 14)

شرک اور انکارِ توحید پر ڈٹے رہنے والے، خواہ ان کے پاس کتنی ہی مہلت ہو، آخرکار اللہ کے عذاب کا شکار ہوتے ہیں۔ آج بھی جب امت صدیوں سے باطل رسموں اور شرکیہ عقائد پر جم جائے تو وہی انجام قریب آ سکتا ہے جو قومِ نوحؑ پر آیا تھا۔ نجات اسی میں ہے کہ ہم نوحؑ کی طرح صبر کے ساتھ توحید کی دعوت پر قائم رہیں، اور کسی باطل معبود یا شخصیت پر ایمان کو معیارِ حق نہ بنائیں۔

تلاش کریں