ابراہیم علیہ السلام نے جب اپنی قوم کو بت پرستی سے روکا تو انہوں نے کیا جواب دیا؟

جب ابراہیمؑ نے اپنی قوم کو بت پرستی سے روکا اور انہیں اللہ وحدہٗ لا شریک کی عبادت کی دعوت دی، تو ان کی قوم نے انکار کیا اور کہا

قَالُوْا وَجَدْنَآ اٰبَاۗءَنَا لَهَا عٰبِدِيْنَ
اور جس بستی کو ہم نے ہلاک کردیا (ان کے لیے) ممکن نہیں کہ وہ (دنیا میں) واپس آئيں۔
(سورۃ الأنبیاء: 53)

یعنی وہ دلیل کے بجائے آباؤ اجداد کی اندھی تقلید کو دلیل بناتے تھے۔ ابراہیمؑ نے ان سے فرمایا کہ تم اور تمہارے آباؤ اجداد دونوں ہی کھلی گمراہی میں ہیں۔ انہوں نے ابراہیمؑ کی بات کو جھٹلایا اور ضد پر قائم رہے، یہاں تک کہ انہیں آگ میں ڈالنے کا فیصلہ کیا گیا۔ ادھر اللہ نے ابراہیم علیہ السلام کے لئے آگ کو گلزار بنادیا۔

یہی طرزِ فکر آج بھی شرک اور بدعت کے پیروکاروں میں پایا جاتا ہے کہ وہ دین کی اصل بنیاد قرآن و سنت کے بجائے۔ (ہم نے اپنے بڑوں کو ایسے کرتے دیکھا۔) اس جملے پر قائم رہتے ہیں۔ توحید کا تقاضا یہ ہے کہ صرف اللہ کے حکم اور نبی ﷺ کی سنت کو حجت مانا جائے، نہ کہ آباء و اجداد کی روایت کو۔

تلاش کریں