کیا نبی ﷺ یا اولیاءاللہ بخشوا سکتے ہیں؟
قرآن و سنت سے واضح ہے کہ بخشش صرف اللہ کے اختیار میں ہے، کوئی نبی، ولی یا فرشتہ اپنی
قرآن و سنت سے واضح ہے کہ بخشش صرف اللہ کے اختیار میں ہے، کوئی نبی، ولی یا فرشتہ اپنی
جی، صوفیہ کے تمام گروہ دین کے بنیادی عقائد سے الگ ہو گئے ہیں۔ اصل اسلام کا عقیدہ قرآن و
امام ابو حنیفہؒ کے اقوال دین میں رہنمائی کا ایک ذریعہ تو ہو سکتے ہیں، مگر شریعت میں اصل حجت
نہیں، مشائخ کی قبروں کو بابِ حاجات یعنی حاجت روائی کا دروازہ سمجھنا قرآن و سنت کے خلاف اور شرک
اللہ کے ولی کا تعلق ایمان اور تقویٰ سے ہے، مگر وہ بشر ہیں، انبیاء علیہم السلام کی طرح معصوم
ولی کو تقدیر بدلنے کا کوئی اختیار نہیں، یہ عقیدہ صرف اللہ کی ربوبیت اور الوہیت کا حصہ ہے۔ اللہ
قطب بننے کا عقیدہ قرآن و حدیث سے ثابت نہیں، یہ صوفیانہ اصطلاح ہے جو باطل تصورات اور شرک اور
اللہ کے علاوہ غوثِ اعظم (یعنی سب سے بڑا فریادرس) کا تصور قرآنِ مجید سے ثابت نہیں، نہ نبی ﷺ
ولی اللہ کی بیعت کوئی واجب نہیں، بلکہ بیعت نبی ﷺ کے ہاتھ پر واجب تھی، اور نبی کے بعد
خطا ہر بشر سے ممکن ہے، حتیٰ کہ انبیاء علیہم السلام سے بھی۔ وہ معصوم ہوتے ہیں گناہِ کبیرہ اور