کیا کسی کے اعمال دوسرے کے کام آ سکتے ہیں؟
قرآن و سنت کی روشنی میں کسی کے اعمال دوسرے کے کام نہیں آ سکتے، ہر انسان اپنے عمل کا
قرآن و سنت کی روشنی میں کسی کے اعمال دوسرے کے کام نہیں آ سکتے، ہر انسان اپنے عمل کا
نہیں، صرف عقیدہ زبانی اقرار یا دعویٰ کافی نہیں، نجات کے لیے ایمان کے ساتھ اعمال صالحہ بھی لازم ہیں۔
جی ہاں، گناہگار مسلمان نبی کریم ﷺ کی شفاعت سے اللہ کے اذن کے ساتھ نجات پا لے گا، اگر
نبی کریم ﷺ کی شفاعت اللہ تعالیٰ کے اذن سے صرف اہلِ ایمان کے لیے ہوگی، اور مشرکین و کافروں
اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ کی ختم نبوت کو قطعی اور ابدی بنا دیا ہے، لہٰذا ان کے بعد کسی
دربار پر منت ماننا جائز نہیں کیونکہ دربار اور مزارات خود شریعت میں ناجائز ہیں اور ان پر جا کر
منزل یا سورۃ یٰس کو دم کے لیے مخصوص کرنا قرآن و سنت سے ثابت نہیں۔ نبی ﷺ نے منزل
آج کل جو “قرآن سے شفا” کو ایک کاروبار اور پیشہ بنا دیا گیا ہے یہ دین کا حصہ نہیں
نقش اور تعویذ پہننا دین میں جائز نہیں ہے کیونکہ یہ عمل قرآن و سنت سے ثابت نہیں اور اس
مروجہ دم درود اور چلہ کشی دین کا حصہ نہیں بلکہ یہ خود ساختہ رسومات اور بدعات ہیں جن کی