کیا خلافتِ راشدہ پر اعتراض کفر ہے؟
خلافتِ راشدہ پر اعتراض کرنا کہ صحابہ کرامؓ کی نیت اور حقانیت کو جھٹلایا جائے، تو یہ کفر کی حد
خلافتِ راشدہ پر اعتراض کرنا کہ صحابہ کرامؓ کی نیت اور حقانیت کو جھٹلایا جائے، تو یہ کفر کی حد
قرآن و سنت کی روشنی میں خلافت کا معاملہ اللہ کے حکم اور نبی ﷺ کی رہنمائی کے مطابق ہوا
اہل بیت بھی صحابہ میں داخل ہیں، ان کو صحابیت سے الگ کوئی مستقل درجہ دینا درست نہیں۔ اللہ تعالیٰ
جی ہاں، صحابہ کرامؓ کے عمل سے بھی عقیدہ معلوم ہوتا ہے، کیونکہ وہ براہِ راست قرآن اور نبی ﷺ
جی ہاں، غیر مسلم اگرچہ بظاہر نیک اعمال کریں، لیکن ایمان کے بغیر نجات نہیں پائیں گے، کیونکہ اصل معیار
جی ہاں، محبتِ صحابہ ایمان کا لازمی جز ہے۔ ایمان کی تکمیل اس وقت تک نہیں ہوتی جب تک صحابہ
نہیں، صرف محبتِ اہل بیت نجات کے لیے کافی نہیں ہے۔ دین اسلام کی بنیاد توحید، ایمان، اور اطاعتِ رسول
اللہ تعالیٰ نے اپنے نیک بندوں کے درجات مقرر فرمائے ہیں۔ رضی اللہ عنہ کہنا دراصل اللہ کی رضا کی
اسلام میں قیادت و خلافت کا مقصد صرف اللہ کی حاکمیت کا قیام ہے، نہ کہ اقتدار کی جنگ۔ اور
اسلام میں خلافت کا مقصد اللہ کی زمین پر اللہ کے دین کو غالب کرنا ہے، نہ کہ بادشاہی قائم