کیا عمل ایمان کا جز ہے یا الگ؟
عمل ایمان کا جز ہے الگ نہیں۔ یعنی ایمان صرف دل کی تصدیق اور زبان کے اقرار کا نام نہیں
عمل ایمان کا جز ہے الگ نہیں۔ یعنی ایمان صرف دل کی تصدیق اور زبان کے اقرار کا نام نہیں
اللہ تعالیٰ نے ذکر کی ترغیب دی ہے مگر کسی خاص “حلقہ” یا “مجلس” کی صورت میں باقاعدہ دائرہ بنا
دین اسلام مکمل ہو چکا ہے اور نبی ﷺ نے جو طریقے عبادت و محبت کے بیان کیے وہی شریعت
ختم کرنا قرآن و سنت سے ثابت نہیں، بلکہ یہ ایک بدعت ہے جسے دین کا حصہ بنا دیا گیا
نہیں، موت کے تیسرے دن قرآن خوانی نہ قرآن میں ہے اور نہ نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرامؓ کے
اسلام میں ثواب صرف وہ عمل ہے جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے مشروع کیا ہو۔ عرس منانا
نبی ﷺ آلاتِ موسیقی کو ختم کرنے کے لئے بھیجے گئے اور نبی ﷺ نے فرمایالَيَكُونَنَّ مِنْ أُمَّتِي أَقْوَامٌ يَسْتَحِلُّونَ
نبی ﷺ کی ولادت پر جلوس نکالنا جائز نہیں بلکہ یہ بدعت ہے۔ نبی کا راستہ کیا تھا دوٹوک اللہ
بارہ ربیع الاول کو جشن منانا سنت نہیں بلکہ بدعت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایااَلْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ
شبِ برات ایک خود ساختہ رات ہے اور نہ ہی اس کے بارے میں قرآن و سنت میں کوئی خاص