کیا متواتر حدیث عقیدہ ثابت کرنے کے لیے ضروری ہے؟
عقیدہ صرف قرآن اور سنتِ صحیحہ سے ثابت ہوتا ہے۔ اگر کوئی حدیث صحیح اور ثابت السند ہے، چاہے وہ
عقیدہ صرف قرآن اور سنتِ صحیحہ سے ثابت ہوتا ہے۔ اگر کوئی حدیث صحیح اور ثابت السند ہے، چاہے وہ
نہیں، عقیدہ میں ضعیف حدیث حجت نہیں بن سکتی۔ عقیدہ وہ بنیاد ہے جس پر ایمان کھڑا ہے، اور اس
یہ عقیدہ کہ نبی ﷺ کا کوئی سایہ نہیں تھا اس لئے یہ ان کے نور ہونے کی دلیل ہے،
نبی ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے تمام علومِ اولین و آخرین عطا نہیں فرمائے۔ ان پر صرف وہی علم نازل
مرنے کے بعد روح برزخ میں راحت یا عذاب پاتی ہے۔ جسمانی جسد مٹی میں مل کر فنا ہو جاتا
یہ روایت ضعیف ہے اور محدثین نے اس کی سند پر جرح کی ہے، اس لیے اس سے کسی عقیدے
یہ روایت ضعیف ہے اور اس پر کسی عقیدے یا مسئلے کی بنیاد نہیں رکھی جا سکتی۔ خاص طور پر
حدیث صحیح سند سے ثابت نہیں ہے، اور اس پر کسی عقیدے یا قاعدہ کی بنیاد نہیں رکھی جا سکتی
اس روایت فَنَبِيُّ اللَّهِ حَيٌّ يُرْزَقُ اللہ کے نبی زندہ ہیں اور ان کو رزق دیا جاتا ہے۔ بعض کتبِ
یہ روایت الأنبیاء أحياء في قبورهم يصلون (انبیاء اپنی قبروں میں زندہ ہیں اور نماز پڑھتے ہیں) کے بارے میں