کیا نبی ﷺ کا کلام وحی کے برابر ہے؟
نبی اکرم ﷺ جب دین میں کوئی بات فرماتے تو وہ اللہ کے اذن اور وحی کے تحت ہوتی ہے۔
نبی اکرم ﷺ جب دین میں کوئی بات فرماتے تو وہ اللہ کے اذن اور وحی کے تحت ہوتی ہے۔
نبی کریم ﷺ اللہ کے برگزیدہ رسول اور بندے تھے، بشر تھے، نور نہیں تھے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں
نبی کریم ﷺ کے نام کے ساتھ سیدنا (ہمارے سردار) کہنا جائز و مستحب ہے، لیکن واجب یا ضروری نہیں۔
جیسے یہ اصطلاح عارف باللہ ہے اسی طرح سید السالکین، قطب الاقطاب، سلطان العاشقین وغیرہ جیسے صوفیانہ القابات کی فہرست
اولاً عید میلاد النبیﷺ کی محفل منقعد کرنا خالص بدعت ہے۔ اسکا خیرالقرون میں ذکر تک نہیں ملتا۔ باقی رسول
اسلام مکمل دین ہے، جس میں عبادات اور عقیدے کی ہر حد اللہ اور رسول ﷺ نے مقرر فرمائی ہے۔
اسلام میں عبادات کی ادائیگی کا طریقہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے طے فرمایا ہے۔ جس عبادت کو
نبی کریم ﷺ کی محبت ایمان کا جز ہے، مگر محبت کا تقاضا اتباعِ سنت ہے، نہ کہ خود ساختہ
نبی کریم ﷺ وفات پا چکے ہیں اور آپ ﷺ کی روح برزخ، اللہ کی اعلی جنتوں میں داخل ہو
اسلام کا بنیادی عقیدہ یہ ہے کہ اللہ ہی خالق و معبود ہے اور انبیاء کرام علیہم السلام اللہ کے