کیا سلامی اور جلوس شریعت کا حصہ ہیں؟
دین اسلام مکمل ہو چکا ہے اور نبی ﷺ نے جو طریقے عبادت و محبت کے بیان کیے وہی شریعت
دین اسلام مکمل ہو چکا ہے اور نبی ﷺ نے جو طریقے عبادت و محبت کے بیان کیے وہی شریعت
ختم کرنا قرآن و سنت سے ثابت نہیں، بلکہ یہ ایک بدعت ہے جسے دین کا حصہ بنا دیا گیا
نہیں، موت کے تیسرے دن قرآن خوانی نہ قرآن میں ہے اور نہ نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرامؓ کے
اسلام میں ثواب صرف وہ عمل ہے جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے حکم و تر غیب دی
نبی ﷺ آلاتِ موسیقی کو ختم کرنے کے لئے بھیجے گئے اور نبی ﷺ نے فرمایالَيَكُونَنَّ مِنْ أُمَّتِي أَقْوَامٌ يَسْتَحِلُّونَ
نبی ﷺ کی ولادت پر جلوس نکالنا جائز نہیں بلکہ یہ بدعت ہے۔ نبی کا راستہ کیا تھا دوٹوک اللہ
بارہ ربیع الاول کو جشن منانا سنت نہیں بلکہ بدعت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایااَلْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ
شبِ برات ایک خود ساختہ رات ہے اور نہ ہی اس کے بارے میں قرآن و سنت میں کوئی خاص
شبِ قدر اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ بابرکت رات ہے، جسے قرآن نے نزولِ قرآن کی رات قرار دیا ہے
یہ مسئلہ براہِ راست عقیدۂ توحید سے تعلق رکھتا ہے۔ قبر سے برکت حاصل کرنے کا تصور دراصل امتوں کی