کیا اقوالِ صوفیاء دین میں حجت ہیں؟
اقوالِ صوفیاء دین میں حجت نہیں ہیں۔ دین کی بنیاد صرف قرآن اور صحیح سنت رسول ﷺ پر ہے۔ اللہ
اقوالِ صوفیاء دین میں حجت نہیں ہیں۔ دین کی بنیاد صرف قرآن اور صحیح سنت رسول ﷺ پر ہے۔ اللہ
نہیں، یہ عقیدہ اپنے اندر بہت آیات کا کفر رکھتا ہے۔ سب سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ قبر
قرآن و سنت سے واضح ہے کہ بخشش صرف اللہ کے اختیار میں ہے، کوئی نبی، ولی یا فرشتہ اپنی
جی، صوفیہ کے تمام گروہ دین کے بنیادی عقائد سے الگ ہو گئے ہیں۔ اصل اسلام کا عقیدہ قرآن و
نہیں، مشائخ کی قبروں کو بابِ حاجات یعنی حاجت روائی کا دروازہ سمجھنا قرآن و سنت کے خلاف اور شرک
اللہ کے ولی کا تعلق ایمان اور تقویٰ سے ہے، مگر وہ بشر ہیں، انبیاء علیہم السلام کی طرح معصوم
ولی کو تقدیر بدلنے کا کوئی اختیار نہیں، یہ عقیدہ صرف اللہ کی ربوبیت اور الوہیت کا حصہ ہے۔ اللہ
اللہ تعالیٰ نے حاجت روائی اور مشکل کشائی کو اپنی ذات کے ساتھ خاص کیا ہے۔ کوئی نبی، ولی یا
اللہ کی کتاب توحید کو واضح کرتی ہے اور غوث، قطب یا ابدال کا کوئی نظام قرآن سے ثابت نہیں۔
نہیں، اولیاء کرام کو موت کے بعد کوئی علم نہیں ہوتا۔ قرآن و سنت کے مطابق علم الغیب صرف اللہ