عقیدہ عذاب قبر

فہرست

عقیدہ عذاب قبر

عقیدہ عذاب قبر قرآن و حدیث کی روشنی میں

آج امت مسلمہ میں شرک کی ایک بڑی  وجہ  اِسی دنیاوی قبر میں زندگی کی بنیاد ہے۔ قرآن و حدیث  دنیاوی قبر میں اعادہ روح، زندگی یا عذاب القبر کا مکمل  طور پر انکار کرتےہیں  اور نصوص کی روشنی میں  بات بہت واضح ہے کہ اپنی دنیاوی زندگی گذار کر مر جانے والا  اب  تا قیامت مردہ ہے، اور ایک انسان کی موت آتے ہی یہ جسم (جس کو لاش کہا جاتا ہے ) یہ  بے حس و بے شعور ہو جاتا ہے اور رفتہ رفتہ گل سڑ  کر  ایک نہ ایک دن مٹی میں ملکر مٹی ہو  جاتا ہے۔ لیکن حقیقت حال کے برعکس !عقائد و نظریات میں بگاڑ کا شکار ہوجانے والی اِس  امت میں آج بکثرت یہ عقیدہ پایا جاتا ہے کہ قبر میں مدفون یہ لاش  زندہ ہے، اور نہ صرف زندہ۔۔۔ بلکہ اب یہ سنتا اور دیکھتا بھی ہے ، پھر اسی عقیدے نے مزید ترقی کرکے اِس مردہ جسم کو داتا ، دستگیر، مشکل کشاو حاجت روا  اور نہ جانے اللہ رب العزت کی  کن کن صفات کا حامل بنادیا۔یہی وجہ ہے کہ آج اللہ کو چھوڑ کر انہیں پکارا بھی جارہا ہے ، اور ان کی خوشنودی کے حصول کے لیے ان کی نذر و نیاز بھی کی جارہی ہے۔

 اِن تمام باطل نظریات کا موجب یہی دنیاوی قبر میں اعادہ روح (یعنی روح لوٹائے  جانے) اور زندگی کا عقیدہ ہے۔سب سے پہلے عذاب القبر  اور قبر کے سوال و جواب کے نام پر اس مردہ جسم میں روح لوٹائے جانے  کا عقیدہ پیش کیا  گیا۔۔ ۔ اب  جب کہ  روح  اس مردہ جسم میں واپس  آگئی تو یہ زندہ ہوگیا ۔۔۔ اور پھر بابا بنا کر داتائی، دستگیری، مشکل کشائی اور حاجت روائی کے منصب پر فائز قرار دے دیا  گیا۔  ہم اِس سیریز میں  ان شاء اللہ العزیز  قرآن واحادیث صحیحہ میں دی گئی معلومات کی روشنی میں اِس بات کو واضح کرنے کی کوشش کریں گے کہ ’ عذاب القبر کیا ہے،اور یہ  کہاں اور کیسے ہوتا ہے‘۔  ظاہری بات ہے کہ روح اور عذاب القبر غیبی امور میں سے ہیں، جن کی ہوبہو ہیّت و کیفیت اور معاملات  کے بارے میں تو نہیں بتایا جاسکتا، البتہ قرآن و حدیث نے اتنی تفصیلات ضرور فراہم کردی ہیں کہ ایک بندۂ مومن جو قرآن و احادیث صحیحہ سے اس سلسلے میں رہنمائی حاصل کرنا چاہے، وہ ہرگز احبار و رہبان کے خود ساختہ  عقائد یعنی اعادہ روح ، سماع موتیٰ اور اِسی دنیاوی گڑھے میں عذاب و راحت  قبر کے حامل نہیں رہ سکتا۔

امید ہے کہ آپ اسے  دلجمعی کے ساتھ ملاحظہ فرمائیں گے ۔ آپ سے یہ بھی گذارش ہے کہ  جہاں بھی  کہیں کوئی غلطی پائیں تو قرآن و حدیث کے دلائل  پیش کرکے ہماری اصلاح  کا حق بھی ضرور ادا کریں۔

نبیﷺ کی حدیث کے مطابق  عذاب القبر کی ہولناکی

عذاب قبر کیا ہے ؟

عَنْ أَسْمَائَ بِنْتَ أَبِي بَکْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا تَقُولُ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطِيبًا فَذَکَرَ فِتْنَةَ الْقَبْرِ الَّتِي يَفْتَتِنُ فِيهَا الْمَرْئُ فَلَمَّا ذَکَرَ ذَلِکَ ضَجَّ الْمُسْلِمُونَ ضَجَّةً

’’اسماء بنت ابی بکر ؓ سے روایت کرتے ہیں وہ کہتی تھیں رسول اللہﷺ خطبہ دینے کے لئے کھڑے ہوئے تو عذاب القبر کا ذکر کیا جس میں آدمی کو (مرنے کے بعد) مبتلا کیا جاتا ہے۔ تو جب آپ ؐنے اس کا ذکر کیا تو مسلمین چیخنے لگے۔ ‘‘

(بخاری، کتاب الجانئز ، بَابُ مَا جَاءَ فِي عَذَابِ القَبْرِ )

: اللہ تعالی ٰفرماتاہے

يُثَبِّتُ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَ فِي الْاٰخِرَةِ

” اللہ تعالی ایمان والوں کو اس قول ِثابت پر دنیا اور آخرت میں ثابت قدم رکھتا ہے۔۔

(إبراهيم: 27)

اس آیت کے بارے میں نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا

يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا۔۔۔ نَزَلَتْ فِي عَذَابِ الْقَبْرِ

”یہ آیت عذاب القبر کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔“

( عن براء بن عازب ، بخاری، کتاب الجنائز ، بَابُ مَا جَاءَ فِي عَذَابِ القَبْرِ )

اَلْمُسْلِمُ إِذَا سُئِلَ فِي الْقَبْرِ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ فَذَلِکَ قَوْلُهُ يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ

”قبر میں مسلم سے جب سوال کیا جاتا ہے تو وہ گواہی دیتا ہے کہ اللہ کے علاوہ کوئی الٰہ نہیں اورمحمد صلی اللہ علیہ و سلم اللہ کے رسول ہیں“۔لہذا اس قول ثابت سے مراد یہی ہے کہ اللہ تعالی ایمان والوں کو دنیا و آخرت میں ثابت قدم رکھے گا۔“

( عن براء بن عازب ؛ بخاری، کتاب تفسیر القرآن ، باب: يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالقَوْلِ الثَّابِتِ )

مندرجہ بالا احادیث سے یہ بات واضح ہوگئی کہ عذاب و راحت قبر کا تعلق آخرت کی زندگی سے ہے۔

انسان کی آخرت کہاں سے شروع ہوتی ہے؟

عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: تُوُفِّيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِي، وَفِي يَوْمِي، وَبَيْنَ سَحْرِي وَنَحْرِي، وَكَانَتْ إِحْدَانَا تُعَوِّذُهُ بِدُعَاءٍ إِذَا مَرِضَ، فَذَهَبْتُ أُعَوِّذُهُ، فَرَفَعَ رَأْسَهُ إِلَى السَّمَاءِ، وَقَالَ: «فِي الرَّفِيقِ الأَعْلَى، فِي الرَّفِيقِ الأَعْلَى»، وَمَرَّ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ وَفِي يَدِهِ جَرِيدَةٌ رَطْبَةٌ، فَنَظَرَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَظَنَنْتُ أَنَّ لَهُ بِهَا حَاجَةً، فَأَخَذْتُهَا، فَمَضَغْتُ رَأْسَهَا، وَنَفَضْتُهَا، فَدَفَعْتُهَا إِلَيْهِ، فَاسْتَنَّ بِهَا كَأَحْسَنِ مَا كَانَ مُسْتَنًّا، ثُمَّ نَاوَلَنِيهَا، فَسَقَطَتْ يَدُهُ، أَوْ: سَقَطَتْ مِنْ يَدِهِ، فَجَمَعَ اللَّهُ بَيْنَ رِيقِي وَرِيقِهِ فِي آخِرِ يَوْمٍ مِنَ الدُّنْيَا، وَأَوَّلِ يَوْمٍ مِنَ الآخِرَةِ

” عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہیں کہ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جب نبی صلی اللہ علیہ و سلم مرض الموت میں مبتلا تھے تو میرے بھائی عبدالرحمن بن ابی بکررضی اللہ تعالی عنہما تشریف لائے۔ انکے ہاتھ میں مسواک تھی۔ جب نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے مسواک کی طرف دیکھا تو میں جان گئی(کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم اسکی خواہش رکھتے ہیں) میں نے مسواک انکے ہاتھ سے لی اور نرم کردی۔ نبی صلی اللہ علیہ و سلم مسواک کرکے واپس کرنے لگے تو وہ انکے ہاتھ سے گر گئی۔(عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہیں کہ) پس اللہ نے  نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے دنیا میں آخری دن اور آخرت کے پہلے دن میرا لعاب آپ کے لعاب کے ساتھ ملادیا۔ ‘‘

( بخاری، کتاب  المغازی  ، باب: مَرَضِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَوَفَاتِهِ)

اوپر بیان کردہ  حدیث  سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ جیسے ہی انسان کی روح قبض ہوتی ہے زندگی کا یہ دور ختم اور آخرت کا دور  شروع ہوجاتا ہے۔

آخرت شروع ہوتے ہی انسان کیساتھ کیا معاملہ ہوتا ہے۔

الَّذِيْنَ تَتَوَفّٰىهُمُ الْمَلٰٓىِٕكَةُ ظَالِمِيْۤ اَنْفُسِهِمْ١۪ فَاَلْقَوُا السَّلَمَ مَا كُنَّا نَعْمَلُ مِنْ سُوْٓءٍؕ بَلٰۤى اِنَّ اللّٰهَ عَلِيْمٌۢ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ۰۰۲۸فَادْخُلُوْۤا اَبْوَابَ جَهَنَّمَ خٰلِدِيْنَ فِيْهَاؕ فَلَبِئْسَ مَثْوَى الْمُتَكَبِّرِيْنَ۰۰

ان نفس پر ظلم کرنے والوں کی جب فرشتے روح قبض کرتے ہیں تو اس موقع پر لوگ بڑی فرمانبرداری کے بول بولتے ہیں کہ ہم تو کوئی برا کام نہیں کرتے تھے۔، ( فرشتے  جواب دیتے ہیں ) ، یقینا اللہ  جانتا ہے جو کچھ تم کیا کرتے تھے۔پس داخل ہو جاو جہنم کے دروازوں میں جہاں تمہیں ہمیشہ رہنا ہے، پس برا ہی ٹھکانہ ہے  متکبرین  کے لئے۔

( النحل :28- 29 )

وَ لَوْ تَرٰۤى اِذِ الظّٰلِمُوْنَ فِيْ غَمَرٰتِ الْمَوْتِ وَ الْمَلٰٓىِٕكَةُ بَاسِطُوْۤا اَيْدِيْهِمْ١ۚ اَخْرِجُوْۤا اَنْفُسَكُمْ١ؕ اَلْيَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذَابَ الْهُوْنِ بِمَا كُنْتُمْ تَقُوْلُوْنَ عَلَى اللّٰهِ غَيْرَ الْحَقِّ وَ كُنْتُمْ عَنْ اٰيٰتِهٖ تَسْتَكْبِرُوْنَ۠

”کاش تم ظالموں کو اس حالت میں دیکھ سکو جبکہ وہ سکرات موت میں ہوتے ہیں اور فرشتے ہاتھ بڑھا بڑھا کر کہہ رہے ہوتے ہیں لاؤ نکالو اپنی  روحوں کو آج تمھیں ان باتوں کی پاداش میں ذلت کا عذاب دیا جائیگا جو تم اللہ پر تہمت رکھ کر نا حق کہا کرتے تھے اور اسکی آیات کے مقابلے میں سرکشی دکھاتے تھے۔“

(الانعام: 94)

الَّذِيْنَ تَتَوَفّٰىهُمُ الْمَلٰٓىِٕكَةُ طَيِّبِيْنَ١ۙ يَقُوْلُوْنَ سَلٰمٌ عَلَيْكُمُ١ۙ ادْخُلُوا الْجَنَّةَ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ

’’ جب فرشتے پاک ( نیک ) لوگوں کی روحیں قبض کرتے ہیں تو کہتے ہیں : تم پر سلامتی ہو داخل ہو جاؤ جنت میں اپنے ان اعمال کیوجہ سے جو تم کرتے تھے۔‘‘

(  النحل :32 )

سو قرآن و حدیث کے بیان کردہ دلائل سے یہ بات روزِ روشن کی طرح واضح ہوجاتی ہے کہ انسان کی روح قبض ہوتے ہی اس کی دنیاوی زندگی ختم اور اس کی آخرت شروع ہو جاتی ہے۔ اور اگلے ہی لمحے جنت میں اس کی جزا ، یا جہنم میں اس کی سزا کا مرحلہ شروع ہوجاتا ہے جس میں اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو دنیاوی زندگی کی طرح ثابت قدمی عطا فرماتا ہے، اور صحیح بخاری میں مذکور براء بن عازب رضی اللہ عنہ کے اقوال کے مطابق یہی درحقیقت عذاب القبر بھی ہے۔

: موت کے بعد انسان کی روح  کیساتھ ہونے والا معاملہ

اب دوسرا  انتہائی اہم سوال یہ ہے کہ مرنے کے فوراً بعدآخرت کی زندگی شروع ہوتے ہی  انسان کی روح کے ساتھ کیا معاملہ پیش آتا ہے۔
قرآن المجید ۔۔۔سورہ  یٰس میں ایک  مرد مومن کا  ذکر کیا گیا ہے جسے صاحبِ یاسین کے نام سے موسوم  کیا جاتا ہے۔۔۔ کہ جب ایک قوم کی جانب اللہ تعالیٰ نے دو رسول بھیجیے اور پھر تیسرے کے ذریعے  انہیں تقویت بخشی گئی ، اور انہوں نے اپنی قوم کے سامنے یہ بات رکھی کہ ہم اللہ تعالیٰ کی جانب سے بھیجے گئے رسول ہیں اور ہمارا کام صرف اللہ رب العالمین کی کھلی دعوت تم تک پہنچا دینا ہے۔  مگر بدنصییب قوم نے اُن کی بشریت کو بنیاد بنا کر اُن کو جھٹلادیا ۔ بہرحال ، اِسی اثناء میں یہ صاحب یاسین شہر کی ایک دوسرے کنارے سے بھاگتا ہوا آیا ۔۔۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے سورۃ یٰسٓ میں بتایا کہ:

وَ جَآءَ مِنْ اَقْصَا الْمَدِيْنَةِ رَجُلٌ يَّسْعٰى قَالَ يٰقَوْمِ اتَّبِعُوا الْمُرْسَلِيْنَۙ۝ اتَّبِعُوْا مَنْ لَّا يَسْـَٔلُكُمْ اَجْرًا وَّ هُمْ مُّهْتَدُوْنَ ۝وَ مَا لِيَ لَاۤ اَعْبُدُ الَّذِيْ فَطَرَنِيْ وَ اِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَ۝ ءَاَتَّخِذُ مِنْ دُوْنِهٖۤ اٰلِهَةً اِنْ يُّرِدْنِ الرَّحْمٰنُ بِضُرٍّ لَّا تُغْنِ عَنِّيْ شَفَاعَتُهُمْ شَيْـًٔا وَّ لَا يُنْقِذُوْنِۚ۝اِنِّيْۤ اِذًا لَّفِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ۝اِنِّيْۤ اٰمَنْتُ بِرَبِّكُمْ فَاسْمَعُوْنِؕقِيْلَ ادْخُلِ الْجَنَّةَ١ؕ قَالَ يٰلَيْتَ قَوْمِيْ يَعْلَمُوْنَۙ۝

«اور شہر کے پرلے کنارے سے ایک آدمی دوڑتا ہوا آیا کہنے لگا کہ اے میری قوم پیغمبروں کے پیچھے چلو۔ ایسوں کے جو تم سے صلہ نہیں مانگتے اور وہ سیدھے رستے پر ہیں۔ اور مجھے کیا ہے میں اس کی پرستش نہ کروں جس نے مجھے پیدا کیا اور اسی کی طرف تم کو لوٹ کر جانا ہے۔ کیا میں ان کو چھوڑ کر اوروں کو معبود بناؤں؟ اگر اللہ میرے حق میں نقصان کرنا چاہے تو ان کی سفارش مجھے کچھ بھی فائدہ نہ دے سکے اور نہ وہ مجھ کو چھڑا ہی سکیں۔ تب تو میں صریح گمراہی میں مبتلا ہوں گا۔ میں تمہارے پروردگار پر ایمان لایا ہوں سو میری بات سن رکھو۔»

( يس: 20-25)

تلاش کریں