نبی ﷺ کا خواب میں آنا

نبی ﷺ کا خواب میں آنا

تَسَمَّوْا بِاسْمِي وَلاَ تَكْتَنُوا بِكُنْيَتِي، وَمَنْ رَآنِي فِي المَنَامِ فَقَدْ رَآنِي، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ لاَ يَتَمَثَّلُ فِي صُورَتِي، وَمَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ

 میرا نام رکھ لو، مگر میری کنیت (جو ابوالقاسم ہے) نہ رکھو اور جس شخص نے مجھے خواب میں دیکھا تو یقیناً اس نے مجھے دیکھاکیونکہ شیطان میری صورت نہیں بناسکتا اور جو شخص عمداً میرے اوپر جھوٹ بولے تو اسے چاہیے کہ اپنا ٹھکانا جہنم میں تلاش کرے۔

صحیح بخاری، کتاب العلم، بَابُ إِثْمِ مَنْ كَذَبَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ نَافِعٍ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا طَلَّقَ امْرَأَةً لَهُ وَهِيَ حَائِضٌ تَطْلِيقَةً وَاحِدَةً فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُرَاجِعَهَا ثُمَّ يُمْسِکَهَا حَتَّی تَطْهُرَ ثُمَّ تَحِيضَ عِنْدَهُ حَيْضَةً أُخْرَی ثُمَّ يُمْهِلَهَا حَتَّی تَطْهُرَ مِنْ حَيْضِهَا فَإِنْ أَرَادَ أَنْ يُطَلِّقَهَا فَلْيُطَلِّقْهَا حِينَ تَطْهُرُ مِنْ قَبْلِ أَنْ يُجَامِعَهَا فَتِلْکَ الْعِدَّةُ الَّتِي أَمَرَ اللَّهُ أَنْ تُطَلَّقَ لَهَا النِّسَائُ وَکَانَ عَبْدُ اللَّهِ إِذَا سُئِلَ عَنْ ذَلِکَ قَالَ لِأَحَدِهِمْ إِنْ کُنْتَ طَلَّقْتَهَا ثَلَاثًا فَقَدْ حَرُمَتْ عَلَيْکَ حَتَّی تَنْکِحَ زَوْجًا غَيْرَکَ وَزَادَ فِيهِ غَيْرُهُ عَنْ اللَّيْثِ حَدَّثَنِي نَافِعٌ قَالَ ابْنُ عُمَرَ لَوْ طَلَّقْتَ مَرَّةً أَوْ مَرَّتَيْنِ فَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَنِي بِهَذَا

 نافع کہتے ہیں کہ ابن عمرؓ  نےاپنی بیوی کو حیض کی حالت میں طلاق دے دی تو ان کو نبی ﷺنے حکم دیا کہ رجوع کرلے، پھر اس کو روکے رکھ، یہاں تک کہ وہ پاک ہوجائے، پھر اس کے پاس اسے دوسرا حیض آجائے، پھر اس کو رہنے دے یہاں تک کہ وہ حیض سے پاک ہوجائے، اگر وہ اس کو طلاق دینا چاہتا ہے تو طلاق دے دے جب کہ وہ حیض سے پاک ہوجائے لیکن صحبت سے پہلے، یہی وہ عدت ہے جس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ اس میں عورتوں کو طلاق دی جائے اور عبداللہ بن عمرؓ سے جب اس کے متعلق پوچھا گیا تو ایک شخص سے کہا کہ جب تو اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے تو وہ تجھ پر حرام ہے، یہاں تک کہ وہ دوسرے شوہر سے نکاح کرلے اور دوسرے لوگوں نے اس میں اضافہ کے ساتھ لیث سے بواسطہ نافع، ابن عمر رض کا قول نقل کیا کہ کاش ! تو عورت کو ایک یا دو طلاقیں دیتا اس لئے کہ نبی ﷺ نے اسی کا مجھے حکم دیا تھا۔

   بخاری ، کتاب الطلاق، باب لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَكَ

:ابو ہریرہ ؓ فرماتے ہیں

سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: مَنْ رَآنِي فِي المَنَامِ فَسَيَرَانِي فِي اليَقَظَةِ، وَلاَ يَتَمَثَّلُ الشَّيْطَانُ بِي قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ: قَالَ ابْنُ سِيرِينَ: إِذَا رَآهُ فِي صُورَتِهِ

میں نے نبیﷺ  کو فرماتے ہوئے سنا کہ جس نے مجھے خواب میں دیکھا تو عنقریب مجھے حالت بیداری میں دیکھے گا اور شیطان میری صورت میں نہیں آسکتا ابوعبداللہ (بخاری) نے بیان کیا کہ ابن سیرین نے کہا کہ جب آپ کو آپ کی صورت میں دیکھے۔

صحیح بخاری، کتاب التفسیر، بَابُ مَنْ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي المَنَام

ان احادیث سے جو باتیں ثابت ہوتی ہیں وہ اس طرح ہیں

جس نے نبی ﷺ کو خواب میں دیکھا اس نے یقیناً نبی ﷺ ہی کو دیکھا۔

اور وہ شخص عنقریب حالت بیداری میں بھی نبی ﷺ کو دیکھے گا۔

اور یہ کہ شیطان نبی ﷺ کی صورت اختیار نہیں کرسکتا۔

ان نکات کو غور سے پڑھیں تو یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ یہ بیان صحابہ کرام ؓ کے لئے تھا۔ صحابہ ؓ کو نبی ﷺ دور دور تبلیغ، دین سکھانے ، زکوٰۃ جمع کرنے یا جنگ کے لئے بھیجا کرتے تھے۔ تو یہ پیغام ان کے لئے تھا کہ اگر کبھی خواب کے ذریعے اللہ تعالیٰ ان تک کوئی بات پہنچانا چاہے تو یقین کرلینا وہ میں ہی ہوں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے شیطان کو یہ اختیار نہیں دیا کہ وہ میرے شکل و صورت اختیار کر سکے۔ اس بات کو تقویت نبی ﷺ کے اس فرمان سے بھی ملتی ہے کہ تو عنقریب مجھے حالت بیداری میں دیکھے گا ۔ یعنی جب صحابہ ؓ مدینہ لوٹ کر آئیں گے تو نبی ﷺکو اپنی  آنکھوں سے دیکھیں گے۔نیز اس روایت کے راوی  ابن سیرین نے فرمایا کہ نبی ﷺکو خواب میں دیکھنے والی بات اسی وقت مصدقہ ہو سکتی ہے  جب اس شخص نے  نبی ﷺ کو اپنی اصل صورت میں دیکھا ہو۔

            اب آج  جو نبی ﷺ کو خواب میں دیکھنے کا دعویٰ کر رہے ہیں کیا ان میں سے کسی نے نبی ﷺ کو ان کی اصلی صورت و شکل میں دیکھا ہے ؟ یقینا نہیں تو پھر یہ کیسے پہچان سکیں گے کہ یہ نبی ﷺ ہی ہیں۔ شیطان کسی کو گمراہ کرنے کے لئے کسی اور انسان کی صورت دکھا دے اور کہے کہ یہ تمہارے نبی محمد ﷺ ہیں توکیا کوئی پیمانہ ہے اس کی تصدیق کا؟

            یہاں ایک اور بات بھی مدنظر رکھیں کہ خواب کے بارے میں شیطان کو کیا اختیار دیا گیا ہے۔ ۔

نبی ﷺنے فرمایا

الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ مِنَ اللَّهِ، وَالحُلْمُ مِنَ الشَّيْطَانِ، فَإِذَا حَلَمَ فَلْيَتَعَوَّذْ مِنْهُ

 اچھا خواب اللہ کی جانب سے ہے اور برا خواب شیطان کی جانب سے جب برا خواب دیکھے تو اس سے (اللہ کی) پناہ مانگے۔

صحیح بخاری،  کتاب التعبیر، بَابٌ: الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ جُزْءٌ مِنْ سِتَّةٍ وَأَرْبَعِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ

 حدیث سے ثابت ہوا کہ کہ شیطان کوئی اچھی بات دکھا ہی نہیں سکتا، اچھے خواب کا اختیار صرف اللہ تعالیٰ کو ہے، شیطان صرف برا خواب دکھا سکتا ہے

تلاش کریں