ہر چیز پر صرف اللہ کا حکم چلتا ہے

    قرآنی فیصلے

  • تِلْكَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَھُمْ عَلٰي بَعْضٍ ۘ مِنْھُمْ مَّنْ كَلَّمَ اللّٰهُ وَرَفَعَ بَعْضَھُمْ دَرَجٰتٍ ۭ وَاٰتَيْنَا عِيْسَى ابْنَ مَرْيَمَ الْبَيِّنٰتِ وَاَيَّدْنٰهُ بِرُوْحِ الْقُدُسِ ۭ وَلَوْ شَاۗءَ اللّٰهُ مَا اقْتَتَلَ الَّذِيْنَ مِنْۢ بَعْدِھِمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَا جَاۗءَتْھُمُ الْبَيِّنٰتُ وَلٰكِنِ اخْتَلَفُوْا فَمِنْھُمْ مَّنْ اٰمَنَ وَمِنْھُمْ مَّنْ كَفَرَ ۭ وَلَوْ شَاۗءَ اللّٰهُ مَا اقْتَتَلُوْا ۣوَلٰكِنَّ اللّٰهَ يَفْعَلُ مَا يُرِيْدُ (سورہ بقرہ:253)
  • ’’ اللہ (ہی معبود) ہے اسکے سوا کوٸی الہ نہیں، وہ زندہ اور قائم رکھنے والا ہے ،اسے نہ اونگھ آتی ہے اور نہ نیند۔ اسی کے لیے ہے جو آسمانوں اور زمین میں ہے،کون ہے یہاں جو بغیر اس کی اجازت کے سفارش کر سکے، جو کچھ انکے آگے اور پیچھے ہے وہ سب جانتا ہے ، اور لوگ اسکے علم میں سے کسی چیز کا احاطہ نہیں کر سکتے مگر جتنا وہ چاہے۔اس کی کرسی زمین و آسماں پر چھاٸی ہوٸی ہے، اور ان کی نگرانی اس کو تھکاتی نہیں، وہ اعلیٰ مرتبہ اور عظیم ہے‘‘۔
  • قُلِ اللّٰهُمَّ مٰلِكَ الْمُلْكِ تُؤْتِي الْمُلْكَ مَنْ تَشَاۗءُ وَتَنْزِعُ الْمُلْكَ مِمَّنْ تَشَاۗءُ ۡ وَتُعِزُّ مَنْ تَشَاۗءُ وَتُذِلُّ مَنْ تَشَاۗءُ ۭبِيَدِكَ الْخَيْرُ ۭ اِنَّكَ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ (سورہ آل عمران:26)
  • ’’ تم کہو کہ اے اللہ ! ملک کے مالک ! تو جسے چاہے ملک (کا اقتدار ) عطا فرمائے اور جس سے چاہے ملک چھین لے اور جسے چاہے عزت دے اور جسے چاہے ذلیل کر دے، سب خیر تیرے ہی ہاتھ میں ہے اور بلاشبہ تو ہی ہر چیز پر قادر ہے‘‘۔
  • ثُمَّ اَنْزَلَ عَلَيْكُمْ مِّنْۢ بَعْدِ الْغَمِّ اَمَنَةً نُّعَاسًا يَّغْشٰى طَاۗىِٕفَةً مِّنْكُمْ ۙ وَطَاۗىِٕفَةٌ قَدْ اَهَمَّتْھُمْ اَنْفُسُھُمْ يَظُنُّوْنَ بِاللّٰهِ غَيْرَ الْحَقِّ ظَنَّ الْجَاهِلِيَّةِ ۭ يَقُوْلُوْنَ ھَلْ لَّنَا مِنَ الْاَمْرِ مِنْ شَيْءٍ ۭ قُلْ اِنَّ الْاَمْرَ كُلَّهٗ لِلّٰهِ ۭ يُخْفُوْنَ فِيْٓ اَنْفُسِھِمْ مَّا لَا يُبْدُوْنَ لَكَ ۭ يَقُوْلُوْنَ لَوْ كَانَ لَنَا مِنَ الْاَمْرِ شَيْءٌ مَّا قُتِلْنَا ھٰهُنَا ۭقُلْ لَّوْ كُنْتُمْ فِيْ بُيُوْتِكُمْ لَبَرَزَ الَّذِيْنَ كُتِبَ عَلَيْهِمُ الْقَتْلُ اِلٰى مَضَاجِعِھِمْ ۚ وَلِيَبْتَلِيَ اللّٰهُ مَا فِيْ صُدُوْرِكُمْ وَلِيُمَحِّصَ مَا فِيْ قُلُوْبِكُمْ ۭ وَاللّٰهُ عَلِيْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ (سورہ آل عمران:154)
  • ’’پھر اللہ نے اس غم کے بعد سکون کے لیے تم پر اونگھ نازل کردی، جو تم میں سے ایک جماعت پر طاری ہو گئی، اور ایک گروہ کو تو (بس) اپنی جانوں ہی کی فکر پڑی ہوئی تھی، وہ اللہ کے بارے میں ناروا جاہلیت کے گمان کر رہے تھے، وہ کہہ رہے تھے کہ کیا اس معاملے میں ہمارا بھی کچھ (اختیار) ہے، (اے نبی!) تم کہہ دو کہ سارا معاملہ اللہ ہی کا ہےیہ جو بات دلوں میں چھپاتے ہیں وہ تم پر ظاہر نہیں کرتے، کہتے ہیں کہ اس معاملے میں اگر ہماری (بات) کچھ بھی چلتی تو ہم (اور ساتھی) یہاں قتل نہ ہوتے (اے نبی!) کہہ دو کہ اگر تم اپنے گھروں میں بھی ہوتے تو جن کے لیے قتل ہونا لکھ دیا گیا تھا وہ تو ضرور اپنی قتل گاہوں کی طرف نکل آتے، تاکہ جو کچھ تمہارے سینوں میں ہے اللہ اسے آزما لے اور جو تمہارے دلوں میں ہے اسے خالص کردے، اللہ دلوں کے حال خوب جاننے والا ہے’’۔
  • اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِيْنَ يُزَكُّوْنَ اَنْفُسَھُمْ ۭ بَلِ اللّٰهُ يُزَكِّيْ مَنْ يَّشَاۗءُ وَلَا يُظْلَمُوْنَ فَتِيْلًا (سورہ نساء:49)
  • کیا تم نے ان کو نہیں دیکھا جو (خود) اپنے آپ کو پاکیزہ قرار دیتے ہیں، حالانکہ اللہ ہی جس کو چاہے پاکیزہ کرے () اور ان پر ایک (کھجور کی گٹھلی کے) ریشے برابر بھی ظلم نہیں کیا جائے گا،‘‘۔
  • اُحِلَّتْ لَكُمْ بَهِيْمَةُ الْاَنْعَامِ اِلَّا مَا يُتْلٰى عَلَيْكُمْ غَيْرَ مُحِلِّي الصَّيْدِ وَاَنْتُمْ حُرُمٌ ۭاِنَّ اللّٰهَ يَحْكُمُ مَا يُرِيْدُ(سورہ مائدہ:1)
  • ’’اے ایمان والو! عہدوپیماں پورے کرو تمہارے لیے چوپائے جانور حلال کیے گئے ہیں، سوائے ان کے جو تمہیں آگے پڑھ کر سنائے جاتے ہیں، مگر احرام کی حالت میں شکار کو حلال نہ سمجھتے ہوئے۔ بیشک اللہ جوچاہتا ہے حکم دیتا ہے۔‘‘
  • لَقَدْ كَفَرَ الَّذِيْنَ قَالُوْٓا اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْمَسِيْحُ ابْنُ مَرْيَمَ ۭ قُلْ فَمَنْ يَّمْلِكُ مِنَ اللّٰهِ شَـيْـــًٔـا اِنْ اَرَادَ اَنْ يُّهْلِكَ الْمَسِيْحَ ابْنَ مَرْيَمَ وَاُمَّهٗ وَمَنْ فِي الْاَرْضِ جَمِيْعًا ۭوَلِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا ۭ يَخْلُقُ مَا يَشَاۗءُ ۭوَاللّٰهُ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ (سورہ مائدہ:17)
  • ’’یقیناً ان لوگوں نے کفر کیا جنہوں نے کہا کہ اللہ تو مسیح ابن مریم ہی ہے۔ (ان سے ) کہو کہ اگر اللہ مسیح ابن مریم اور اس کی ماں کو اور تمام زمین والوں کو ہلاک کرنے کا ارادہ کرے تو کون ہے جو اللہ کے سامنے اختیار رکھتا ہو؟ اور آسمان اور زمین اور اس کے درمیان میں جو کچھ ہے سب اللہ ہی کی ملکیت ہے، وہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے‘‘۔
  • اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۭ يُعَذِّبُ مَنْ يَّشَاۗءُ وَيَغْفِرُ لِمَنْ يَّشَاۗءُ ۭوَاللّٰهُ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ (سورہ مائدہ:40)
  • ’’ کیا تمہیں نہیں معلوم کہ آسمان وزمین کی سلطنت کا بلاشبہ اللہ ہی مالک ہے وہ جسے چاہے عذاب دے اور جس کی چاہے مغفرت کرے اور اللہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔‘‘
  • قُلْ اِنِّىْ عَلٰي بَيِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّيْ وَكَذَّبْتُمْ بِهٖ ۭ مَا عِنْدِيْ مَا تَسْتَعْجِلُوْنَ بِهٖ ۭ اِنِ الْحُكْمُ اِلَّا لِلّٰهِ ۭ يَقُصُّ الْحَقَّ وَهُوَ خَيْرُالْفٰصِلِيْنَ(سورہ انعام:57)
  • ’’کہہ دو کہ میں اپنے ربّ کی طرف سے ایک روشن دلیل پر ہوں، اور تم نے اُسے جھٹلا دیا ہے۔ میرے پاس وہ(عذاب) نہیں جس کی تم جلدی کررہے ہو۔ فیصلے کا اختیار تو صرف اللہ ہی کو ہے۔ وہ حق ہی بیان کرتا ہے، اور وہی بہترین فیصلہ کرنے والا ہے ۔‘‘
  • اِنَّ رَبَّكُمُ اللّٰهُ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ فِيْ سِتَّةِ اَيَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَي الْعَرْشِ يُغْشِي الَّيْلَ النَّهَارَ يَطْلُبُهٗ حَثِيْثًا ۙ وَّالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ وَالنُّجُوْمَ مُسَخَّرٰتٍۢ بِاَمْرِهٖ ۭاَلَا لَهُ الْخَلْقُ وَالْاَمْرُ ۭ تَبٰرَكَ اللّٰهُ رَبُّ الْعٰلَمِيْنَ (سوررہ اعراف:54)
  • ’’یقینا تمہارا رب تو وہ اللہ ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دن میں پیدا کیا پھر اپنے عرش پرمستوی ہوا۔ وہی رات کو دن پر ڈھانک دیتا ہے، پھر دن رات کے پیچھے چلا آتا ہے اور سورج، چاند، ستارے سب چیزیں اس (اللہ) کے حکم کے تابع ہیں۔ یاد رکھو ! یہ ساری تخلیق اسی کی ہے اورحکم بھی اسی کا چلے گا۔ بڑا بابرکت ہے اللہ تعالیٰ جو سارے جہانوں کاپالنہار ہے‘‘۔
  • اِذْ اَنْتُمْ بِالْعُدْوَةِ الدُّنْيَا وَهُمْ بِالْعُدْوَةِ الْقُصْوٰي وَالرَّكْبُ اَسْفَلَ مِنْكُمْ ۭوَلَوْ تَوَاعَدْتُّمْ لَاخْتَلَفْتُمْ فِي الْمِيْعٰدِ ۙ وَلٰكِنْ لِّيَقْضِيَ اللّٰهُ اَمْرًا كَانَ مَفْعُوْلًا ڏ لِّيَهْلِكَ مَنْ هَلَكَ عَنْۢ بَيِّنَةٍ وَّيَحْيٰي مَنْ حَيَّ عَنْۢ بَيِّنَةٍ ۭ وَاِنَّ اللّٰهَ لَسَمِيْعٌ عَلِيْمٌ(سورہ انفال:42)
  • ’’جب تم (میدان جنگ کے) اس کنارے پر تھے اور وہ (دشمن) پرلے کنارہ پر تھے اور ( ایک )قافلہ تم سے نیچے تھا اور اگر تم دونوں (مسلمین اور کفار) باہم جنگ کا عہد و پیمان کرتے تو تم دونوں مقررہ وقت سے پہلوتہی کرجاتے۔ لیکن اللہ نے تو وہ کام پورا کرنا ہی تھا جو ہو کر رہنے والا تھا۔ تاکہ جسے ہلاک ہونا ہے وہ دلیل کی بنا پر ہلاک ہو اور جسے زندہ رہنا ہے وہ بھی دلیل کی بنا پر زندہ رہے اور اللہ تعالیٰ یقینا سننے والا اور جاننے والا ہے‘‘۔
  • وَاِذْ يُرِيْكُمُوْهُمْ اِذِ الْتَقَيْتُمْ فِيْٓ اَعْيُنِكُمْ قَلِيْلًا وَّ يُقَلِّلُكُمْ فِيْٓ اَعْيُنِهِمْ لِيَقْضِيَ اللّٰهُ اَمْرًا كَانَ مَفْعُوْلًا ۭوَاِلَى اللّٰهِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ (سورہ انفال:44)
  • ’’اور (یاد کرو) جب تمہیں اللہ تعالیٰ نے تمہاری نظروں میں دشمن کی تعداد تھوڑی دکھلائی اور دشمن کی نظروں میں تمہیں تھوڑا کرکے پیش کیا تاکہ اللہ تعالیٰ وہ کام پورا کرے جس کا ہونا مقدر تھا اور سب کاموں کا انجام تو اللہ ہی کے پاس ہے‘‘۔
  • وَقَالَ الَّذِي اشْتَرٰىهُ مِنْ مِّصْرَ لِامْرَاَتِهٖٓ اَكْرِمِيْ مَثْوٰىهُ عَسٰٓى اَنْ يَّنْفَعَنَآ اَوْ نَتَّخِذَهٗ وَلَدًا ۭ وَكَذٰلِكَ مَكَّنَّا لِيُوْسُفَ فِي الْاَرْضِ ۡ وَلِنُعَلِّمَهٗ مِنْ تَاْوِيْلِ الْاَحَادِيْثِ ۭ وَاللّٰهُ غَالِبٌ عَلٰٓي اَمْرِهٖ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ (سورہ یوسف:21)
  • ’’ اور مصر کے جس شخص نے اسے خریداتھا اس نے اپنی بیوی سے کہا : اسے عزت سے رکھو۔ امید ہے کہ یہ نفع دے گا یا ہوسکتا ہے کہ اسے ہم اپنا بیٹا ہی بنالیں، اس طرح ہم نے یوسف کو اس سرزمین میں قدم جمانے کا موقع فراہم کردیا۔ غرض یہ تھی کہ ہم اسے باتوں کی تاویل سکھا دیں اور اللہ اپنے حکم (نافذ کرنے) پر غالب ہے۔ لیکن اکثر لوگ یہ بات جانتے نہیں‘‘۔
  • وَلَوْ اَنَّ قُرْاٰنًا سُيِّرَتْ بِهِ الْجِبَالُ اَوْ قُطِّعَتْ بِهِ الْاَرْضُ اَوْ كُلِّمَ بِهِ الْمَوْتٰى ۭ بَلْ لِّلّٰهِ الْاَمْرُ جَمِيْعًا ۭاَفَلَمْ يَايْــــــَٔـسِ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَنْ لَّوْ يَشَاۗءُ اللّٰهُ لَهَدَى النَّاسَ جَمِيْعًا ۭ وَلَا يَزَالُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا تُصِيْبُهُمْ بِمَا صَنَعُوْا قَارِعَةٌ اَوْ تَحُلُّ قَرِيْبًا مِّنْ دَارِهِمْ حَتّٰى يَاْتِيَ وَعْدُ اللّٰهِ ۭ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُخْلِفُ الْمِيْعَادَ (سورہ رعد:31)
  • ’’ اور اگر قرآن ایسا ہوتا کہ اس (کے زور) سے پہاڑ چلائے جاسکتے یا زمین کے طویل فاصلے فوراً طے کئے جاسکتے یا اس کے ذریعہ مردوں سے کلام کیا جاسکتا، تو بھی یہ کافر ایمان نہ لاتے بلکہ ایسے سب امور اللہ ہی کے اختیار میں ہیں۔ کیا اہل ایمان (ابھی تک کافروں کی مطلوبہ نشانی آنے سے) مایوس نہیں ہوئے کیونکہ اگر اللہ چاہتا تو (نشانی کے بغیر بھی) تمام لوگوں کو ہدایت دے سکتا تھا۔ اور کافروں کو تو ان کی کرتوتوں کی وجہ سے کوئی نہ کوئی مصیبت پہنچتی ہی رہے گی یا ان کے گھر کے قریب اترتی [٤٣] رہے گی تاآنکہ اللہ کا وعدہ (عذاب) آجائے۔ یقینا اللہ اپنے وعدہ کی خلاف ورزی نہیں کرتا‘‘۔
  • اَوَلَمْ يَرَوْا اَنَّا نَاْتِي الْاَرْضَ نَنْقُصُهَا مِنْ اَطْرَافِهَا ۭوَاللّٰهُ يَحْكُمُ لَا مُعَقِّبَ لِحُكْمِهٖ ۭ وَهُوَ سَرِيْعُ الْحِسَابِ(سورہ رعد:41)
  • ’’ کیا وہ دیکھتے نہیں کہ ہم (ان کے لئے) زمین کو اس کی تمام اطراف سے گھٹاتے جارہے ہیں اور اللہ ہی فیصلہ کرتا ہے جس کے فیصلہ پر کوئی نظرثانی کرنے والا نہیں۔ اور وہ فوراً حساب لے لینے والا ہے‘‘۔
  • يُثَبِّتُ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَفِي الْاٰخِرَةِ ۚ وَيُضِلُّ اللّٰهُ الظّٰلِمِيْنَ ڐ وَيَفْعَلُ اللّٰهُ مَا يَشَاۗءُ(سورہ ابراھیم:27)
  • ’’ جو لوگ ایمان لائے انھیں اللہ قول ثابت (کلمہ طیبہ) سے دنیا کی زندگی میں بھی ثابت قدم رکھتا ہے اور آخرت میں بھی رکھے گا اور جو ظالم ہیں انھیں اللہ بھٹکا دیتا ہے۔ اور اللہ وہی کرتا ہے جو چاہتا ہے ‘‘۔
  • وَقُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْ لَمْ يَتَّخِذْ وَلَدًا وَّلَمْ يَكُنْ لَّهٗ شَرِيْكٌ فِي الْمُلْكِ وَلَمْ يَكُنْ لَّهٗ وَلِيٌّ مِّنَ الذُّلِّ وَكَبِّرْهُ تَكْبِيْرًا(سورہ اسراء:111)
  • ’’اور کہو کہ سب تعریف اللہ ہی کو ہے جس نے نہ تو کسی کو بیٹا بنایا ہے اور نہ اس کی بادشاہی میں کوئی شریک ہے اور نہ اس وجہ سے کہ وہ عاجز و ناتواں ہے کوئی اس کا مددگار ہے اور اس کو بڑا جان کر اس کی بڑائی کرتے رہو۔
  • اِنَّ اللّٰهَ يُدْخِلُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ ۭ اِنَّ اللّٰهَ يَفْعَلُ مَا يُرِيْدُ (سورہ حج:14)
  • ’’ بیشک اللہ داخل کرے گا ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور نیک عمل کیے (ایسے ) باغات میں (کہ ) بہتی ہونگی انکے نیچے نہریں بیشک اللہ کرتا ہے جو چاہتا ہے ۔‘‘
  • اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ يَسْجُدُ لَهٗ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَمَنْ فِي الْاَرْضِ وَالشَّمْسُ وَالْقَمَرُ وَالنُّجُوْمُ وَالْجِبَالُ وَالشَّجَرُ وَالدَّوَاۗبُّ وَكَثِيْرٌ مِّنَ النَّاسِ ۭ وَكَثِيْرٌ حَقَّ عَلَيْهِ الْعَذَابُ ۭ وَمَنْ يُّهِنِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ مُّكْرِمٍ ۭ اِنَّ اللّٰهَ يَفْعَلُ مَا يَشَاۗءُ(سورہ حج:18)
  • ’’ کیا نہیں دیکھا آپ نے کہ بیشک اللہ کو سجدہ کرتا ہے جو آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے اور سورج اور چاند اور ستارے اور پہاڑ اور درخت اور چوپائے اور بہت سے لوگوں میں سے (بھی ) اور بہت (وہ ہیں کہ ) ثابت ہوگیا اس پر عذاب اور جسے اللہ ذلیل کرے تو نہیں اس کو کوئی عزت دینے والا بیشک اللہ کرتا ہے جو چاہتا ہے ۔‘‘
  • الَّذِيْ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَلَمْ يَتَّخِذْ وَلَدًا وَّلَمْ يَكُنْ لَّهُ شَرِيْكٌ فِي الْمُلْكِ وَخَلَقَ كُلَّ شَيْءٍ فَقَدَّرَهٗ تَقْدِيْرًا(سورہ فرقان:2)
  • ’’ (وہ) جو اسی کے لیے ہے آسمانوں اور زمین کی بادشاہی اور نہ اس نے بنائی کوئی اولاد اور نہیں ہے اس کا کوئی شریک بادشاہی میں اور اس نے پیدا کیا ہر چیز کو پھر اس نے اندازہ کیا اس کا پورا اندازہ۔‘‘
  • وَرَبُّكَ يَخْلُقُ مَا يَشَاۗءُ وَيَخْتَارُ ۭ مَا كَانَ لَهُمُ الْخِيَرَةُ ۭ سُبْحٰنَ اللّٰهِ وَتَعٰلٰى عَمَّا يُشْرِكُوْنَ(سورہ قصص:68)
  • ’’ اور آپ کا رب ! جو چاہے پیدا کرتا ہے اور جسے چاہے (اپنے کام کے لئے) منتخب کرلیتا ہے۔ انھیں اس کا کچھ اختیار نہیں۔ اللہ تعالیٰ پاک ہے اور جو کچھ یہ شریک بناتے ہیں اس سے وہ بالاتر ہے۔‘‘
  • فِيْ بِضْعِ سِنِيْنَ ڛ لِلّٰهِ الْاَمْرُ مِنْ قَبْلُ وَمِنْۢ بَعْدُ ۭ وَيَوْمَىِٕذٍ يَّفْرَحُ الْمُؤْمِنُوْنَ(سورہ روم:4)
  • ’’ اس (شکست) سے پہلے بھی اللہ ہی کا حکم چلتا تھا اور بعد میں بھی اسی کا چلے گا اور (جب رومیوں کو فتح ہوگی) اس دن مسلمین خوشیاں منائیں گے ‘‘
  • وَمِنْ اٰيٰتِهٖٓ اَنْ تَــقُوْمَ السَّمَاۗءُ وَالْاَرْضُ بِاَمْرِهٖ ۭ ثُمَّ اِذَا دَعَاكُمْ دَعْوَةً ڰ مِّنَ الْاَرْضِ ڰ اِذَآ اَنْتُمْ تَخْرُجُوْنَ (سورہ روم:25)
  • ’’ اور (اس کی نشانیوں میں سے) ایک یہ کہ زمین و آسمان اسی کے حکم سے (بلاستون) قائم ہیں۔ پھر جب وہ تمہیں ایک ہی دفعہ زمین میں سے پکارے گا تو تم زمین سے نکل کھڑے ہوگے۔
  • وَاِذْ تَقُوْلُ لِلَّذِيْٓ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَيْهِ وَاَنْعَمْتَ عَلَيْهِ اَمْسِكْ عَلَيْكَ زَوْجَكَ وَاتَّقِ اللّٰهَ وَتُخْــفِيْ فِيْ نَفْسِكَ مَا اللّٰهُ مُبْدِيْهِ وَتَخْشَى النَّاسَ ۚ وَاللّٰهُ اَحَقُّ اَنْ تَخْشٰـىهُ ۭ فَلَمَّا قَضٰى زَيْدٌ مِّنْهَا وَطَرًا زَوَّجْنٰكَهَا لِكَيْ لَا يَكُوْنَ عَلَي الْمُؤْمِنِيْنَ حَرَجٌ فِيْٓ اَزْوَاجِ اَدْعِيَاۗىِٕهِمْ اِذَا قَضَوْا مِنْهُنَّ وَطَرًا ۭ وَكَانَ اَمْرُ اللّٰهِ مَفْعُوْلًا ؀مَا كَانَ عَلَي النَّبِيِّ مِنْ حَرَجٍ فِيْمَا فَرَضَ اللّٰهُ لَهٗ ۭ سُـنَّةَ اللّٰهِ فِي الَّذِيْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلُ ۭ وَكَانَ اَمْرُ اللّٰهِ قَدَرًا مَّقْدُوْرَۨا ؀(سورہ احزاب:37)
  • ’’ اور جب آپ اس شخص کو، جس پر اللہ نے بھی احسان کیا تھا اور آپ نے بھی، یہ کہہ رہے تھے کہ : '' اپنی بیوی کو اپنے پاس ہی رکھو اور اللہ سے ڈرو '' تو اس وقت آپ ایسی بات اپنے دل میں چھپا رہے تھے جسے اللہ ظاہر کرنا چاہتا تھا۔ آپ لوگوں سے ڈر رہے تھے، حالانکہ اللہ اس بات کا زیادہ حقدار ہے کہ آپ اس سے ڈریں۔ پھر جب زید اس عورت سے اپنی حاجت پوری کرچکا تو ہم نے آپ سے اس (عورت) کا نکاح کردیا، تاکہ مومنوں پر ان کے منہ بولے بیٹوں کی بیویوں کے بارے میں کوئی تنگی نہ رہے جبکہ وہ ان سے اپنی حاجت پوری کرچکے ہوں اور اللہ کا حکم ہو کر رہنے والا ہے۔ جو بات اللہ نے نبی کے لئے مقرر کردی ہے اس میں نبی پر کوئی تنگی نہیں۔ یہی اللہ کی سنت ہے جو ان نبیوں میں بھی جاری رہی جو پہلے گزر چکے ہیں اور اللہ کا حکم ایک طے شدہ فیصلہ ہوتا ہے۔‘‘
  • لَهٗ مَقَالِيْدُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۚ يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ يَّشَاۗءُ وَيَقْدِرُ ۭ اِنَّهٗ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيْمٌ(سورہ شورى:12)
  • ’’ اسی کے پاس آسمانوں اور زمین کی کنجیاں ہیں وہ فراخ کرتا ہے رزق کو جس کے لیے وہ چاہتا ہے اور وہی تنگ کرتا ہے بیشک وہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے ۔ ‘‘
  • لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۭ يَخْلُقُ مَا يَشَاۗءُ ۭ يَهَبُ لِمَنْ يَّشَاۗءُ اِنَاثًا وَّيَهَبُ لِمَنْ يَّشَاۗءُ الذُّكُوْرَ اَوْ يُزَوِّجُهُمْ ذُكْرَانًا وَّاِنَاثًا ۚ وَيَجْعَلُ مَنْ يَّشَاۗءُ عَــقِـيْمًا ۭ اِنَّهٗ عَلِيْمٌ قَدِيْرٌ (سورہ شورى:49)
  • ’’ آسمانوں اور زمین کی بادشاہی اللہ ہی کے لیے ہے وہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے، جس کو چاہتا ہے وہ بیٹیاں عطا کرتا ہے اور جس کو چاہتا ہے وہ بیٹے عطا کرتا ہے ۔ یا ملا کردیتا ہے انہیں بیٹے اور بیٹیاں اور جسے چاہتا ہے وہ بانجھ کردیتا ہے بیشک وہ خوب علم والا ہے بہت قدرت والا ہے ۔ ‘‘
  • وَّيَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ ۭ وَمَنْ يَّتَوَكَّلْ عَلَي اللّٰهِ فَهُوَ حَسْبُهٗ ۭ اِنَّ اللّٰهَ بَالِغُ اَمْرِهٖ ۭ قَدْ جَعَلَ اللّٰهُ لِكُلِّ شَيْءٍ قَدْرًا(سورہ طلاق:3)
  • ’’ اور وہ رزق دیتا ہے اسے جہاں سے وہ گمان بھی نہیں کرتا اور جو اللہ پر بھروسا کرے تو وہ کافی ہے اسے بیشک اللہ پورا کرنے والا ہے اپنے کام کو یقیناً اللہ نے مقرر کر رکھا ہے ہر چیز کے لیے ایک اندازہ ۔ ‘‘
  • فَعَّالٌ لِّمَا يُرِيْدُ(سورہ بروج:16)
  • ’’ جو چاہتا ہے کردیتا ہے ‘‘۔