کائنات کی ہر چیز اللہ کی مطیع اور فرمان ہے۔

    قرآنی فیصلے

  • وَقَالُوا اتَّخَذَ اللّٰهُ وَلَدًا ۙ سُبْحٰنَهٗ ۭ بَلْ لَّهٗ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۭكُلٌّ لَّهٗ قٰنِتُوْنَ ؁بَدِيْعُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۭوَاِذَا قَضٰٓى اَمْرًا فَاِنَّمَا يَقُوْلُ لَهٗ كُنْ فَيَكُوْنُ(سورہ بقرہ:116)
  • ’’ اور وہ کہتے ہیں کہ الله نے کسی کو بیٹا بنا لیا ہے، (ہرگز نہیں) وہ پاک ہے بلکہ زمین و آسمان میں جو کچھ ہے وہ سب اسی کا ہے، سب اس کے مطیع وفرمابردار ہیں۔وہی زمین اور آسمان کو ابتداً پیدا کرنے والا ہے، جب وہ کسی کام (کو کرنے) کا فیصلہ کرتا ہے صرف اتنا کہتا ہے کہ "ہوجا" تو وہ ہو جاتا ہے ۔ اور جو لوگ علم نہیں رکھتے وہ کہتے ہیں کہ اللہ ہم سے کلام کیوں نہیں کرتا یا ہمارے پاس کوئی نشانی کیوں نہیں آتی؟‘‘۔
  • قُلِ اللّٰهُمَّ مٰلِكَ الْمُلْكِ تُؤْتِي الْمُلْكَ مَنْ تَشَاۗءُ وَتَنْزِعُ الْمُلْكَ مِمَّنْ تَشَاۗءُ ۡ وَتُعِزُّ مَنْ تَشَاۗءُ وَتُذِلُّ مَنْ تَشَاۗءُ ۭبِيَدِكَ الْخَيْرُ ۭ اِنَّكَ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ(سورہ آل عمران:26)
  • ’’ تم کہو کہ اے اللہ ! ملک کے مالک ! تو جسے چاہے ملک (کا اقتدار ) عطا فرمائے اور جس سے چاہے ملک چھین لے اور جسے چاہے عزت دے اور جسے چاہے ذلیل کر دے، سب خیر تیرے ہی ہاتھ میں ہے اور بلاشبہ تو ہی ہر چیز پر قادر ہے‘‘۔
  • اَفَغَيْرَ دِيْنِ اللّٰهِ يَبْغُوْنَ وَلَهٗٓ اَسْلَمَ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ طَوْعًا وَّكَرْھًا وَّاِلَيْهِ يُرْجَعُوْنَ(سورہ آل عمران:83)
  • ’’ کیا یہ اللہ کے دین ( اسلام) کے علاوہ کسی اور دین کے متلاشی ہیں ، حالانکہ آسمان و زمین میں جو کچھ ہے سب خوشی یا ناخوشی سے اُسی کے تابع فرمان ہے اور یہ اُسی کی طرف لوٹائے جائیں گے‘‘۔
  • مَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖٓ اِلَّآ اَسْمَاۗءً سَمَّيْتُمُوْهَآ اَنْتُمْ وَاٰبَاۗؤُكُمْ مَّآ اَنْزَلَ اللّٰهُ بِهَا مِنْ سُلْطٰنٍ ۭ اِنِ الْحُكْمُ اِلَّا لِلّٰهِ ۭ اَمَرَ اَلَّا تَعْبُدُوْٓا اِلَّآ اِيَّاهُ ۭ ذٰلِكَ الدِّيْنُ الْقَيِّمُ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ(سورہ یوسف:43)
  • ’’ اللہ کے سوا جنہیں تم پوجتے ہو وہ تو ایسے نام ہیں جو تم نے اور تمہارے آباء و اجداد نے رکھ لیے ہیں، اللہ نے ان کے لئے کوئی سند نازل نہیں کی۔ اللہ کے سوا یہاں کسی کی فرماں روائی نہیں۔ اس نے یہی حکم دیا ہے کہ اس کے سوا اور کسی کی عبادت نہ کرو۔ یہی دین برحق ہے۔ لیکن اکثر لوگ یہ باتیں جانتے نہیں‘‘۔
  • وَلِلّٰهِ يَسْجُدُ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ طَوْعًا وَّكَرْهًا وَّظِلٰلُهُمْ بِالْغُدُوِّ وَالْاٰصَالِ(سورہ رعد:15)
  • ’’ اور اللہ ہی کے لیے سجدہ کرتا ہے جو کوئی آسمانوں اور زمین میں ہے خوشی سے اور ناخوشی اور ان کے سائے بھی صبح اور شام ( سجدہ کرتے ہیں )‘‘۔
  • وَاُدْخِلَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِيْنَ فِيْهَا بِاِذْنِ رَبِّهِمْ ۭ تَحِيَّتُهُمْ فِيْهَا سَلٰمٌ(سورہ ابراھیم:23)
  • ’’ جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے انھیں ایسے باغوں میں داخل کیا جائے گا جن میں نہریں بہ رہی ہیں وہ اللہ کے حکم سے ان میں ہمیشہ رہیں گے۔ وہاں ان کی دعائے ملاقات سلام ہوگی ‘‘۔
  • اَوَلَمْ يَرَوْا اِلٰى مَا خَلَقَ اللّٰهُ مِنْ شَيْءٍ يَّتَفَيَّؤُا ظِلٰلُهٗ عَنِ الْيَمِيْنِ وَالشَّمَاۗىِٕلِ سُجَّدًا لِّلّٰهِ وَهُمْ دٰخِرُوْنَ ؀وَلِلّٰهِ يَسْجُدُ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَمَا فِي الْاَرْضِ مِنْ دَاۗبَّـةٍ وَّالْمَلٰۗىِٕكَةُ وَهُمْ لَا يَسْتَكْبِرُوْنَ 49؀يَخَافُوْنَ رَبَّهُمْ مِّنْ فَوْقِهِمْ وَيَفْعَلُوْنَ مَا يُؤْمَرُوْنَ(سورہ نحل:48)
  • ’’ کیا ان لوگوں نے اللہ کی پیدا کردہ اشیاء میں سے کسی چیز کو بھی نہیں دیکھا کہ اس کا سایہ کیسے دائیں سے (بائیں) اور بائیں سے (دائیں) اللہ کے سامنے سجدہ کرتے ہوئے ڈھلتارہتا ہے اور یہ سب چیزیں انتہائی عجز کا اظہار کر رہی ہیں۔ آسمانوں اور زمین میں جتنی جاندار مخلوق ہے اور فرشتے بھی سب اللہ ہی کو سجدہ کرتے ہیں اور کبھی تکبر نہیں کرتے۔ وہ اپنےرب سے ڈرتے رہتے ہیں جو ان کے اوپر ہے اور وہی کام کرتے ہیں جو انھیں حکم دیا جاتا ہے ‘‘۔
  • اِنْ كُلُّ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ اِلَّآ اٰتِي الرَّحْمٰنِ عَبْدًا(سورہ مریم:93)
  • ’’ آسمان اور زمین میں جو کچھ بھی ہے وہ سب رحمن کے حضور غلام بن کر آئیں گے۔‘‘
  • اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ يَسْجُدُ لَهٗ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَمَنْ فِي الْاَرْضِ وَالشَّمْسُ وَالْقَمَرُ وَالنُّجُوْمُ وَالْجِبَالُ وَالشَّجَرُ وَالدَّوَاۗبُّ وَكَثِيْرٌ مِّنَ النَّاسِ ۭ وَكَثِيْرٌ حَقَّ عَلَيْهِ الْعَذَابُ ۭ وَمَنْ يُّهِنِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ مُّكْرِمٍ ۭ اِنَّ اللّٰهَ يَفْعَلُ مَا يَشَاۗءُ(سورہ حج:18)
  • ’’ کیا تم دیکھتے نہیں کہ جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اور سورج، چاند، ستارے، پہاڑ، درخت، چوپائے اور لوگوں کی ایک کثیر تعداد اللہ کے حضور سربسجود ہے اور بہت سے لوگ ایسے بھی ہیں جو عذاب کے مستحق ہوچکے ہیں۔ اور جسے اللہ ذلیل و خوار کرے اسے کوئی عزت دینے والا نہیں اور اللہ وہی کچھ کرتا ہے جو وہ چاہتا ہے ‘‘۔
  • اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ سَخَّرَ لَكُمْ مَّا فِي الْاَرْضِ وَالْفُلْكَ تَجْرِيْ فِي الْبَحْرِ بِاَمْرِهٖ ۭ وَيُمْسِكُ السَّمَاۗءَ اَنْ تَقَعَ عَلَي الْاَرْضِ اِلَّا بِاِذْنِهٖ ۭ اِنَّ اللّٰهَ بِالنَّاسِ لَرَءُوْفٌ رَّحِيْمٌ(سورہ حج:65)
  • ’’ کیا تم نہیں دیکھتے کہ جتنی چیزیں زمین میں ہیں اللہ نے تمہارے زیر فرمان کر رکھی ہیں ؟ اور کشتیاں (بھی) اسی کے حکم سے دریا میں چلتی ہیں اور وہ آسمان کو تھامے رہتا ہے کہ زمین پر (نہ) گرپڑے مگر اسکے حکم سے بیشک اللہ لوگوں پر نہایت شفقت کرنے والا مہربان ہے‘‘۔
  • وَلَهٗ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۭ كُلٌّ لَّهٗ قٰنِتُوْنَ(سورہ روم:26)
  • ’’ اور اسی کا ہے جو (بھی) آسمانوں اور زمین میں ہے سب اسی کے فرمانبردار ہیں ۔ ‘‘۔
  • هُوَ الَّذِيْ يُـحْيٖ وَيُمِيْتُ ۚ فَاِذَا قَضٰٓى اَمْرًا فَاِنَّمَا يَـقُوْلُ لَهٗ كُنْ فَيَكُوْنُ(سورہ مومنون:68)
  • ’’ (اللہ ) وہ ہے جو زندگی دیتا ہے اور وہ موت دیتا ہے پھر جب وہ فیصلہ کرتا ہے کسی کام کا تو بیشک صرف وہ کہتا ہے اس سے ہوجا تو وہ ہوجاتا ہے ‘‘۔
  • ثُمَّ اسْتَوٰٓى اِلَى السَّمَاۗءِ وَهِىَ دُخَانٌ فَقَالَ لَهَا وَلِلْاَرْضِ ائْتِيَا طَوْعًااَوْ كَرْهًا ۭ قَالَتَآ اَتَيْنَا طَاۗىِٕعِيْنَ ؀فَقَضٰهُنَّ سَبْعَ سَمٰوَاتٍ فِيْ يَوْمَيْنِ وَاَوْحٰى فِيْ كُلِّ سَمَاۗءٍ اَمْرَهَا ۭ وَزَيَّنَّا السَّمَاۗءَ الدُّنْيَا بِمَصَابِيْحَ ڰ وَحِفْظًا ۭ ذٰلِكَ تَقْدِيْرُ الْعَزِيْزِ الْعَلِيْمِ(سورہ سجدہ:11)
  • ’’ پھر وہ متوجہ ہوا آسمان کی طرف اور وہ ایک دھواں (سا تھا ) تو اس نے کہا اس سے اور زمین سے تم دونوں آؤ خوشی سے یا ناخوشی دونوں نے کہا ہم آگئے خوشی سے (یعنی بہ رضا و رغبت )۔ پس اس نے بنادیا انہیں سات آسمان دو دنوں میں اور اس نے القاء کیا (حکم بھیجا ) ہر آسمان میں اس کے کام کا اور ہم نے مزین کردیا دنیاوی آسمان کو چراغوں سے اور محفوظ رکھا (شیطانوں سے ) یہ اندازہ (تدبیر ) ہے بہت غالب خوب علم رکھنے والے کی ‘‘۔