تمام مخلوق اللہ ہی کی محتاج ہے وہ کسی کا محتاج نہیں

    قرآنی فیصلے

  • يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَنْفِقُوْا مِنْ طَيِّبٰتِ مَا كَسَبْتُمْ وَمِمَّآ اَخْرَجْنَا لَكُمْ مِّنَ الْاَرْضِ ۠ وَلَا تَيَمَّمُوا الْخَبِيْثَ مِنْهُ تُنْفِقُوْنَ وَلَسْتُمْ بِاٰخِذِيْهِ اِلَّآ اَنْ تُغْمِضُوْا فِيْهِ ۭ وَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰهَ غَنِىٌّ حَمِيْدٌ(سورہ بقرہ:267)
  • ’’ اے ایمان والو! عمدہ چیزیں خرچ کرو اپنی کمائی میں سے، اور اس میں سے جو ہم نے تمہارے لیے زمین میں سے نکالا ہے، اور ان میں سے ایسی بری شے کو خرچ کرنے کا ارادہ بھی نہ کرنا جن کو تم خود لینا نہ چاہو گے ،سوائے اس کے کہ آنکھیں ہی بند کر لو۔ جان لو، کہ الله تعالیٰ بےنیاز ہے، بہت زیادہ خوبیوں والا ہے‘‘۔
  • ﴿وَهُوَ ٱلَّذِي جَعَلَ لَكُمُ ٱلنُّجُومَ لِتَهۡتَدُواْ بِهَا فِي ظُلُمَٰتِ ٱلۡبَرِّ وَٱلۡبَحۡرِۗ قَدۡ فَصَّلۡنَا ٱلۡأٓيَٰتِ لِقَوۡمٖ يَعۡلَمُونَ(سورہ انعام:97)
  • ’’ اور وہی ہے جس نے تمہارے لیے ستارے پیدا کیے تاکہ تم خشکی و تری کے اندھیروں میں اُن سے راستہ معلوم کرو۔ ہم نے دلائل کھول کر بیان کردیے ہیں جاننے والوں کے لیے ‘‘۔
  • قَالُوا اتَّخَذَ اللّٰهُ وَلَدًا سُبْحٰنَهٗ ۭ ھُوَ الْغَنِيُّ ۭ لَهٗ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَمَا فِي الْاَرْضِ ۭ اِنْ عِنْدَكُمْ مِّنْ سُلْطٰنٍۢ بِهٰذَا ۭ اَتَقُوْلُوْنَ عَلَي اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ (سورہ یونس:68)
  • ’’ یہ کہتے ہیں کہ اللہ کی اولاد ہے۔ وہ ایسی باتوں سے پاک ہے، وہ بےنیاز ہے، اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں اور جو کچھ زمین میں ہے۔ تمہارے پاس اس کی کوئی دلیل نہیں ہے۔ کیا تم اللہ پر وہ بات کہتے ہو جس کا تم کو علم نہیں۔‘‘
  • وَقَالَ مُوْسٰٓى اِنْ تَكْفُرُوْٓا اَنْتُمْ وَمَنْ فِي الْاَرْضِ جَمِيْعًا ۙ فَاِنَّ اللّٰهَ لَغَنِيٌّ حَمِيْدٌ Ď (سورہ ابراھیم:8)
  • ” اور موسیٰ نے کہا اگر تم اور جو لوگ زمین میں ہیں سب کے سب کفر کرو تو بیشک اللہ بے پروا اور بہت تعریف والا ہے۔‘‘
  • وَمَنْ جَاهَدَ فَاِنَّمَا يُجَاهِدُ لِنَفْسِهٖ ۭ اِنَّ اللّٰهَ لَغَنِيٌّ عَنِ الْعٰلَمِيْنَ(سورہ عنکبوت:6)
  • ’’ جو شخص کوشش کرتا ہے دراصل وہ اپنے ہی لیے کرتا ہے۔ یقینا اللہ دنیا والوں سے بےنیاز ہے ‘‘
  • وَلَقَدْ اٰتَيْنَا لُقْمٰنَ الْحِكْمَةَ اَنِ اشْكُرْ لِلّٰهِ ۭ وَمَنْ يَّشْكُرْ فَاِنَّمَا يَشْكُرُ لِنَفْسِهٖ ۚ وَمَنْ كَفَرَ فَاِنَّ اللّٰهَ غَنِيٌّ حَمِيْدٌ (سورہ لقمان:12)
  • ’’ ہم نے لقمان کو دانائی عطا کی تھی تاکہ اللہ کا شکر ادا کرے، جو شکر کرے گا اس کا شکر اسی کے لیے فائدہ مند ہے۔ اور جو کفر کرے گا حقیقت ہے کہ اللہ اس کے کفر سے بے پروا ہے کیونکہ وہ لائق تعریف ہے ‘‘۔
  • يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ اَنْتُمُ الْفُقَرَاۗءُ اِلَى اللّٰهِ ۚ وَاللّٰهُ هُوَ الْغَنِيُّ الْحَمِيْدُ ( الفاطر:15)(سورہ انفطار:15)
  • ’’ لوگو ! تم اللہ کے محتاج ہو۔ اللہ، غنی اور حمید ہے ‘‘۔
  • اِنْ تَكْفُرُوْا فَاِنَّ اللّٰهَ غَنِيٌّ عَنْكُمْ ۣ وَلَا يَرْضٰى لِعِبَادِهِ الْكُفْرَ ۚ وَاِنْ تَشْكُرُوْا يَرْضَهُ لَكُمْ ۭ وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰى ۭ ثُمَّ اِلٰى رَبِّكُمْ مَّرْجِعُكُمْ فَيُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ ۭ اِنَّهٗ عَلِـيْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Ċ(سورہ زمر:7)
  • ’’ اگر تم ناشکری کرو گے تو اللہ تم سے بےنیاز ہے، اور وہ اپنے بندوں کے لیے نا شکری کو پسند نہیں کرتا ہے، اور اگر تم شکر گزار بنو گے تو وہ تمہاری طرف سے اسے پسند کرے گا، اور روز قیامت کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا، پھر تم سب کو تمہارے رب کے پاس ہی لوٹ کر جانا ہے، پھر وہ تمہیں تمہارے اعمال کی خبر دے دے گا، بیشک وہ سینوں میں چھپی ہوئی باتوں کو جاننے والا ہے‘‘۔
  • هٰٓاَنْتُمْ هٰٓؤُلَاۗءِ تُدْعَوْنَ لِتُنْفِقُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ ۚ فَمِنْكُمْ مَّنْ يَّبْخَلُ ۚ وَمَنْ يَّبْخَلْ فَاِنَّمَا يَبْخَلُ عَنْ نَّفْسِهٖ ۭ وَاللّٰهُ الْغَنِيُّ وَاَنْتُمُ الْفُقَرَاۗءُ ۚ وَاِنْ تَتَوَلَّوْا يَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَيْرَكُمْ ۙ ثُمَّ لَا يَكُوْنُوْٓا اَمْثَالَكُمْ(سورہ محمد:38)
  • ’’ سنو ! تم وہ لوگ ہو جنہیں اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کی دعوت دی جاتی ہے، پھر تم میں سے کوئی بخل کرنے لگتا ہے حالانکہ جو بخل کرتا ہے وہ اپنے آپ ہی سے بخل کرتا ہے اور اللہ تو بےنیاز ہے اور تم ہی اس کے محتاج ہو اور اگر تم نہ مانو گے تو اللہ تمہاری جگہ (دوسرے لوگ) لے آئے گا جو تم جیسے نہ ہوں گے‘‘ ۔
  • مَآ اُرِيْدُ مِنْهُمْ مِّنْ رِّزْقٍ وَّمَآ اُرِيْدُ اَنْ يُّطْعِمُوْنِ(سورہ ذاریات:57)
  • ’’ میں ان سے رزق نہیں چاہتا نہ ہی یہ چاہتا ہوں کہ وہ مجھے کھلائیں۔‘‘
  • يَسْـَٔـلُهٗ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۭ كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِيْ شَاْنٍ(سورہ رحمن:29)
  • ’’ آسمانوں اور زمین میں جو مخلوق بھی موجود ہے سب اسی سے (اپنی حاجات) مانگتے ہیں۔ وہ ہر روز ایک نئی شان میں ہے‘‘۔
  • الَّذِيْنَ يَبْخَلُوْنَ وَيَاْمُرُوْنَ النَّاسَ بِالْبُخْلِ ۭ وَمَنْ يَّتَوَلَّ فَاِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْغَنِيُّ الْحَمِيْدُ(سورہ حدید:24)
  • ’’ جو بخل کرتے ہیں اور دوسروں کو بخل کرنے کے لیے کہتے ہیں اور جو روگردانی کرتا ہے۔ اللہ بےنیاز اور لائق تعریف ہے ‘‘۔
  • لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِيْهِمْ اُسْوَةٌ حَسَـنَةٌ لِّمَنْ كَانَ يَرْجُوا اللّٰهَ وَالْيَوْمَ الْاٰخِرَ ۭ وَمَنْ يَّتَوَلَّ فَاِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْغَنِيُّ الْحَمِيْدُ(سورہ ممتحنہ:6)
  • ’’ انھیں لوگوں میں تمہارے لیے ایک اچھا نمونہ ہے جو اللہ اور آخرت کے دن کی امید رکھتا ہو اور جو کوئی سرتابی کرے تو بلاشبہ اللہ بےنیاز اور اپنی ذات میں محمود ہے۔‘‘
  • ذٰلِكَ بِاَنَّهٗ كَانَتْ تَّاْتِيْهِمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَيِّنٰتِ فَقَالُوْٓا اَبَشَرٌ يَّهْدُوْنَنَا ۡ فَكَفَرُوْا وَتَوَلَّوْا وَّاسْتَغْنَى اللّٰهُ ۭ وَاللّٰهُ غَنِيٌّ حَمِيْدٌ(سورہ تغابن:6)
  • ’’ یہ اس لیے ہوا کہ ان کے پاس ان کے رسول کھلی دلیلیں اور نشانیاں لے کر آئے مگر انھوں نے کہا : کیا انسان ہماری راہنمائی کریں گے ؟ انھوں نے ماننے سے انکار کیا اور منہ پھیرلیا تب اللہ بھی ان سے بے پروا ہوگیا اور اللہ تو بےنیاز اور حمد کے لائق ہے ‘‘۔