سورہ البقرہ، رکوع 1

    تفسیر قرآن مجید

    سورۃ البقرۃ مدنیہ

    286آیات، 40 رکوعات

    سورہ بقرہ قرآن کی طویل ترین سورہ ہے، اس میں ٤٠ رکوعات ہیں اور ٢٨٦ آیات۔اس سورہ کی آیت نمبر ٦٧ میں ایک واقعہ کا ذکر ہے جس میں بنی اسرائیل کو ایک خاص موقع پر گائے ذبح کرنے کا حکم دیا گیا تھا اس لحاظ سے اس کا نام علامتی طور پر سورةالبقرة رکھا گیا، یعنی وہ سورہ جس میں گائے کے واقعے کا ذکر ہے ۔ یہ مدنی سورہ ہے یعنی ہجرت کے بعد مدنی دور میں نازل ہوئی ۔اس کا بیشتر حصہ ابتدائی دور کا ہے لیکن اس کی بعض آیات آخری دور میں نازل ہوئیں۔ سود کی حرمت کی آیات تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے آخری ایام میں اتری تھیں ۔ سورہ کی آخری دو آیات معراج کا تحفہ ہیں اور معراج ہجرت سے پہلے واقع ہوئی تھی تو یہ دو آیات مکی دور میں نازل ہوئی تھیں ۔متعدد صحیح احادیث میں اس سورہ کی فضیلت بیان کی گئی ہے ۔رسول اللہ صلی الله عليه وسلم نے فرمایا :

    “سورہ بقرہ کے آخر میں دو آیات (ایسی فضیلت والی) ہیں کہ جو شخص ان کو رات میں پڑھے تو اس کے لئے کافی ہوتی ہیں ’’

    (مسلم: صلوۃ المسافرین و قصرھا)

    ایک دوسری روایت میں فرمایا:

    “اپنے گھروں کو مقبرے نہ بناؤ، اس گھر سے شیطان فرار ہو جاتا ہے جہاں سورہ بقرہ پڑھی جاتی ہے۔” (ایضاً)

     

    ایک اور روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ”یہ(البقرۃ اور آل عمران) اپنے پڑھنے والوں کے لئے پرزور سفارش کریں گی” (ایضاً)اسی سورہ میں آیت الکرسی ہے جس کی بخاری و مسلم میں خصوصی فضیلت بیان کی گئی ہے۔رسول اللہ صلی الله عليه وسلم نے آیت الکرسی کو اعظم آیۃ (یعنی عظمت والی آیت) فرمایا ہے_ (مسلم)

  • بسم اللہ الرحمن الرحیم
  • شُروع اَللہ کے پاک نام سے جو بڑا مہر بان نہایت رحم والا ہے
  • ﴿الٓمٓ﴾ 1
  • یہ وہ کتاب ہے جس میں کوئی شک نہیں

    2

    ، ہدایت ہے پرہیزگار لوگوں کے لئے

    3

  • ﴿ذَٰلِكَ ٱلۡكِتَٰبُ لَا رَيۡبَۛ فِيهِۛ هُدٗى لِّلۡمُتَّقِينَ﴾ 2
  • یہ وہ کتاب ہے جس میں کوئی شک نہیں

    2

    ، ہدایت ہے پرہیزگار لوگوں کے لئے

    3

  • الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ وَيُقِيمُونَ الصَّلَاةَ وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنْفِقُونَ 3
  • جو غیب پر ایمان لاتے ہیں

    4

    اور صلوۃ قائم کرتے ہیں

    5

    اور جو رزق ہم نے انہیں دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں

    6

  • ﴿وَٱلَّذِينَ يُؤۡمِنُونَ بِمَآ أُنزِلَ إِلَيۡكَ وَمَآ أُنزِلَ مِن قَبۡلِكَ وَبِٱلۡأٓخِرَةِ هُمۡ يُوقِنُونَ﴾ 4
  • اور جو ایمان لاتے ہیں اس پر جو تمہاری طرف نازل کیا گیا اور اس پر (بھی) جو تم سے پہلے نازل کیا گیا تھا

    7

    ، اور وہ آخرت پر یقین رکھتے ہیں

    8

  • ﴿أُوْلَٰٓئِكَ عَلَىٰ هُدٗى مِّن رَّبِّهِمۡۖ وَأُوْلَٰٓئِكَ هُمُ ٱلۡمُفۡلِحُونَ﴾ 5
  • یہی لوگ اپنے رب کی طرف سے (بھیجی ہوئی) ہدایت پر ہیں اور یہی لوگ فلاح پانے والے ہیں

    9

    .
  • ﴿إِنَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ سَوَآءٌ عَلَيۡهِمۡ ءَأَنذَرۡتَهُمۡ أَمۡ لَمۡ تُنذِرۡهُمۡ لَا يُؤۡمِنُونَ﴾ 6
  • جن لوگوں نے کفر کیا ان کے لیے برابر ہے، آپ انہیں ڈرائیں یا نہ ڈرائیں، یہ لوگ ایمان نہیں لائیں گے

    10

  • ﴿خَتَمَ اللّٰهُ عَلٰي قُلُوْبِهِمْ وَعَلٰي سَمْعِهِمْ ۭ وَعَلٰٓي اَبْصَارِهِمْ غِشَاوَةٌ وَّلَھُمْ عَذَابٌ عَظِيْمٌ﴾ 7
  • اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں اور کانوں پر مہر لگا دی ہے، اور ان کی آنکھوں پر پردہ ہے

    11

    اور ان کے لئے بڑا عذاب ہے.
  • (1) “الف۔لام۔میم”
    حروف مقطعات ہیں۔ قرآن کی٢٩ سورتوں کی ابتداء میں حروف مقطعات آئے ہیں۔
    مقطعات جمع ہے مقطعہ کی جس کے معنی ہیں علیحدہ کیے گئے، یہ حروف الگ الگ پڑھے جاتے ہیں۔ قرآن یا صحیح احادیث میں ان کی کوئی وضاحت نہیں کی گئی، اس لئے ان کی تاویل کرنا مناسب نہیں۔

    Close

    قرآن کتاب اللہ ہے اور ہر قسم کے شک وشبہ سے بالاتر ہے۔ سورہ ا-ل-م السجدہ میں بھی اس بات پر زور دیا گیا ہے .

    Close

    بلا شبہ یہ تمام ہی انسانوں کے لئے پیغام ہدایت ہے.(البقرة:185) لیکن اس سے صحیح معنوں میں فیض وہی حاصل کریں گے جن میں تقوی کی صفت ہو، جو اللہ کے عذاب سے ڈرتے ہوں اور آخرت کی پیشی اور جوابدہی کا پورا شعور اور احساس رکھتے ہوں اور یہی احساس ان میں راہِ حق کی تلاش کے جذبے کو ابھارتا ہے۔ جو کوئی ہدایت کا متلاشی ہو، اللہ اسے راہ ہدایت دکھا دیتا ہے، اور جو تلاش کے بعد پاتا ہے وہ اس کی قدر بھی کرتا ہے۔

    Close

    (4) اب راہ حق پانے والوں کی صفات کا ذکر ہے۔ سب سے پہلی، بنیادی اور جوہری صفت ایمان بالغیب ہے۔ غیبی معاملات وہ ہیں جو ہمارے ادراک و حواس کی پہنچ سے باہر ہیں مثلا وجودِ باری تعالیٰ، ملائکہ اور جنت و جہنم وغیرہ ۔انکا علم انبیاء علیہم السلام کو وحی کے ذریعے عطا کیا جاتا رہا, پھر ان کے ذریعے انسانوں کو حاصل ہوتا رہا۔ انبیاء علیھم السلام کی دعوت کو حق مان کر آمنّا کہنا ہی ایمان بالغیب ہے اور ان کے احکامات پر پوری طرح عمل پیرا
    ہونا اسلام ہے۔ ایمان کے سلسلے میں یہ بات ذہن نشین کرلی جائے کہ اللہ تعالی کو ایمان خالص مطلوب ہے، ایسا ایمان جو ہر قسم کے شرک کی آمیزش سے یکسر پاک ہو- ہر قسم کی عبادت، استعانت و استمداد (مدد چاہنا)، نذر و نیاز، مافوق الاسباب دینا یا چھین لینا، نفع و نقصان کا اختیار صرف اور صرف اللہ تعالی سے ہی وابستہ ہو کسی اور سے نہیں۔ عبد و معبود کے درمیان واسطے اور وسیلے کی کوئی دیوار حائل نہ ہو، پھر اس کا عملی تقاضا یہ ہو کہ اللہ کے سوا کسی کو مدد کے لیے نہ پکارا جائے۔ نعرہ رسالت، نعرہ حیدری اور نعرہ غوثیہ سب شرکیہ نعرے ہیں، ان سے مکمل اجتناب ہو – اسی طرح تعویذ گنڈے، کڑے چھلے اور ٹونے ٹوٹکے وغیرہ میں نفع و نقصان کا عقیدہ رکھنا شرک سمجھیں۔ ایمانیات و عقائد کے مختلف پہلو قرآن میں تفصیل سے واضح کر دیئے گئے ہیں۔ یہ بات بھی یاد رکھیں کہ شرک آلود ایمان کے ساتھ کوئی بھی عبادت یا عمل قبول نہیں ہوتا۔

    Close

    (5) ایمان کا اقرار کرنے کے بعد جانی اور مالی عبادت کا ذکر ہے۔ طہارت وغیرہ کی شرائط کے ساتھ صلوة مکتوبہ یعنی فرائض کی پابندی اور نوافل کے ذریعے اللہ سے قربت حاصل کرتے رہنا ایمان کے تقاضوں میں سے ہے- فرض صلوۃ مومنوں کی جماعت میں شامل ہو کر نبی صلی الله عليه وسلم کی سنت کے مطابق ادا کرنا لازمی ہے- یہی اقامت صلوۃ ہے جو مومنوں کی تربیت اور ان کی اجتماعیت کو پروان چڑھانے کا مؤثر ترین ذریعہ ہے-

    Close

    (6) ایمان والوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ ناجائز ذریعہ معاش سے قطعاً مجتنب رہیں اور اپنی معاش کے لئے حلال ذرائع پر ہی اکتفا کریں۔ طیب مال سے اپنی اور اہل و عیال کی ضروریات پوری کریں اور اس میں سے بچا کر اللہ کی راہ میں خرچ کریں۔ اس میں زکوٰۃ کے علاوہ نفلی صدقات بھی شامل ہیں۔

    Close

    (7) ایمان کا تقاضا ہے کہ پچھلے تمام انبیاء علیھم السلام اور ان پر نازل شدہ کتب کو برحق مانیں لیکن آخری رسول محمد صلی الله عليه وسلم پر نازل شدہ شریعت ہی کا اپنے آپ کو پابند سمجھیں یعنی قرآن اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی پیروی کو لازم سمجھیں۔

    Close

    (8) ان متقی ایمان داروں کی امتیازی صفت یومِ آخرت پر یقین ہے جس پر ان کی سیرت و اخلاق کی تعمیر ہوتی ہے۔ آخرت میں جوابدہی کی فکر ان کو خواب غفلت کا شکار نہیں ہونے دیتی اور حساب کا خوف ان کو راہ حق میں فعال اور سرگرم رکھتا ہے۔ چنانچہ وہ مجاہدوں کی طرح جینے اور شہادت کی موت مرنے کو حقیقی کامیابی سمجھتے ہیں۔ اور اس کامیابی کے حصول کی تڑپ زندگی میں ان کو چین سے نہیں بیٹھنے دیتی۔ ان کی سیرت کے نمایاں پہلوؤں کا ذکر [سورہ الرعد : آیات نمبر :٢٠تا ٢٢] ، [المومنون : آیات: ١ تا ٩] اور [الفرقان آیات : ٦٣ تا ٧٤] وغیرہ میں کیا گیا ہے.

    Close

    (9)ایمان و تقویٰ سے پوری طرح آراستہ ان اوصاف کے حامل لوگ ہی حقیقی معنوں میں ہدایت یافتہ ہیں اور انجام کار یہی فلاح یاب ہونے والے ہیں.

    Close

    (10) یہاں کفر کی روش اختیار کرنے والے بدنصیب گروہ کا ذکر ہے- دراصل ایمان لانے والے وہی لوگ ہوتے ہیں جن کے دلوں میں دین حق کے لئے تجسس ہو، جو حق کے متلاشی ہوں، اور کائنات کے مشاہدے نے ان کے دل میں آخرت کا احساس پیدا کر دیا ہو (آلِ عمران: 190/191) ایسے لوگوں کے دلوں میں آخرت کی جوابدہی کا خوف ان میں تلاش حق کے جذبے کو ابھار دیتا یے۔چنانچہ دعوت حق جب دلائل سے بھرپور ربانی کلام کی شکل میں ان کے سامنے آتی ہے تو وہ اسے بلا جھجک قبول کر لیتے ہیں۔ اور پوری طرح اس کا ساتھ دیتے ہیں۔ اس کے برعکس لذت کام و دہن کے رسیا، خواہشات کے بندے بن کر دنیا کے رنگین و پر لطف ماحول میں سر مست و مگن اور یوم حساب سے غافل ہو کر دنیا کے مفادات حاصل کرنے میں ہی لگے رہتے ہیں (یونس:٧) وہ اس دعوت حق کی طرف رخ کرنا بھی گوارا نہیں کرتے بلکہ آبائی تقلید اور اکابر پرستی ہی میں راضی اور مطمئن رہتے ہیں- ان کو یہ دعوت بڑی گراں گزرتی ہے(الشوری :13)۔

    Close

    (11)نبی صلی الله عليه وسلم کے دل میں شدید خواہش تھی کہ ان کی قوم کے لوگ ایمان لے آئیں، لیکن ان کے منفی رویے پر آپ صلی الله عليه وسلم کو دلی تکلیف ہوتی تھی۔ لہٰذا نہایت فصیح و بلیغ انداز میں بتایا گیا کہ ان کے دلوں اور کانوں پر مہر لگادی گئی ہے اور آنکھوں پر پردہ پڑ گیا ہے، پھر بھلا وہ آفاق و انفس کی کھلی نشانیاں کیوں کر دیکھیں گے (جو ان کے دلوں میں رب ذوالجلال کی عظمت و کبریائی اور آخرت کے عذاب کا احساس پیدا کر دے)، وہ یہ مدلل دعوت کیسے سنیں گے جو ان کے سوئے ہوئے ذہنوں کو جھنجھوڑے اور جگائے!ان کے قلب و ذہن پر تو دعوت حق کے داخل ہونے اور اس پر غور و فکر کا گویا دروازہ ہی بند ہو گیا ہے اس لئے آپﷺ ان کے بارے میں فکر مند نہ ہوں۔ دراصل مقصد حیات یعنی بندگی رب کو فراموش کر کے انہوں نے اپنے آپ کو سخت عذاب کا حق دار بنا لیا ہے- بڑے ہی بدنصیب ہیں یہ عاقبت نااندیش! یہاں اس آیت کا یہ مطلب نہ لیا جائے کہ کفار کے دلوں پر مہر ان کے کفر کا سبب بنی بلکہ انہوں نے نفس پرستی، تعیش اور سہل انگاری کا شکار ہو کر اپنے آپ کو اس نعمت سے محروم کر لیا جو مقصد حیات کا شعور رکھنے والے سمجھدار لوگوں کی سعی و جہد کا انعام ہے۔ اللہ تعالیٰ نے تو سماعت و بصارت عطا کی لیکن ان صلاحیتوں کو پیغامِ حق کو سننے اور حق کی نشانیاں دیکھنے کے لئے استعمال نہ کیا گیا، اللہ نے غور و فکر کرنے والا قلب و ذہن عنایت کیا اور حق و باطل میں فرق کرنے کی صلاحیت بھی عطا فرمائی لیکن اس کو اس مقصد کے لئے استعمال ہی نہ کیا گیا۔ الغرض، جب انہوں نے اس بربادی کے راستے ہی کو پسند کیا تو پھر راہ حق کی طرف بڑھنے کی توفیق ان سے سلب کر لی گئی_

    Close