تفسیر قرآن مجید

    بِسۡمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحۡمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ

    ابتدائیہ

    سورہ فاتحہ مکی سورہ ہے، یعنی ہجرت سے قبل مکی دور میں نازل ہوئی ہے. یہ قرآن مجید کی پہلی سورہ ہے،  اس لحاظ سے اس کا نام سُوْرَۃُالْفَاتِحَةْ ہے۔ احادیث میں اس کو فاتحۃالکتاب (بخاری:کتاب الاذان) , اُم القرآن (بخاری:کتاب التفسیر اور مسلم: کتاب الصلوة) بھی کہا گیا ہے۔ اس سورہ میں کل سات آیات ہیں، سورۃ الحجر آیت نمبر ٨٧ میں مذکور سَبْعًا مِّنَ الْمَثَانِی یعنی بار بار پڑھی جانے والی سات آیات سے یہی آیات مراد ہیں ۔

    اس سورہ کے دو حصے ہیں۔پہلے حصے میں رب ذوالجلال کی حمد و ثنا، عظمت و کبریائی اور روز قیامت اس کے مالک و مختار ہونے کا اعتراف و اقرار ہے تو دوسرے حصے میں ایک باشعور اور منیب  بندے کی اپنے آقا اور مالک سے بندگی کے اظہار و اقرار کے بعد عاجزانہ دعا ہے، اور دعا بھی ایسی جامع جو دنیا وآخرت کی فلاح و کامیابی کا پوری طرح احاطہ کیے ہوئے ہے، اپنے مفہوم کے لحاظ سے یہ قرآن کی مکمل ترین دعا ہے۔الله کے یہاں اس سورہ کا کیا مقام ہے اس کا اندازہ اس حدیثِ قدسی سے لگایا جا سکتا ہے جس میں نبی صلی الله عليه وسلم نے فرمایا کہ الله تعالیٰ فرماتا ہے:

    قَسَمْتُ الصَّلٰوةَ بَیْنِیْ وَ بَیْنَ عَبْدِیْ نِصْفَیْنِ،فَنِصْفُھَا لِیْ وَ نِصْفُھَا لِعَبْدِیْ

    (مسلم۔کتاب الصلٰوة)

    “میں نے صلاۃ یعنی سورہ فاتحہ کو اپنے اور اپنے بندے کے درمیان نصف نصف تقسیم کر دیا ہے اور میرے بندے کو ملے گا جو وہ مانگے گا۔ پس جب بندہ اَلۡحَمۡدُ لِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ کہتا ہے تو الله تعالیٰ فرماتا ہے، “میرے بندے نے میری تعریف کی” اور جب وہ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ. کہتا ہے تو الله تعالیٰ فرماتا ہے “میرے بندے نے میری ثناء کی”۔اور جب وہ مٰلِکِ یَوۡمِ الدِّیۡنِ  کہتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے “میرے بندے نے میری بزرگی بیان کی”۔ اور کبھی یہ فرمایا “میرے بندے نے اپنے معاملے کو میرے حوالے کردیا”۔ اور پھر جب وہ اِیَّاکَ نَعۡبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسۡتَعِیۡنُ کہتا ہے تو الله تعالیٰ فرماتا ہے “یہ میرے اور میرے بندے کے درمیان ہے اور میرے بندے کو ملے گا جو وہ مانگے گا”۔ اور پھر جب وہ اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الۡمُسۡتَقِیۡمَ صِرَاطَ الَّذِیۡنَ اَنۡعَمۡتَ عَلَیۡہِمۡ ۙ ۬ غَیۡرِ الۡمَغۡضُوۡبِ عَلَیۡہِمۡ وَ لَا الضَّآلِّیۡنَ کہتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: “یہ میرے بندے کے لئے ہے اور میرے بندے کو ملے گا جو وہ مانگے گا” (مسلم۔کتاب الصلٰوة)

    اس حدیث میں سورہ فاتحہ کو  الصلاۃ  کہا گیا ہے اس طرح اس سورہ کا صلٰوة  کے ساتھ خصوصی تعلق ثابت ہوتا ہے۔اس سورہ کو صلٰوة کی ہر رکعت میں پڑھنے کا حکم دیا گیا ہے۔احادیث سے یہ بات بھی ثابت ہوتی ہے کہ انفرادی صلوۃ میں ہر فرد پر اور باجماعت صلوۃ میں امام پر ہر رکعت میں سورہ فاتحہ کی تلاوت ضروری ہے اور اس کے بغیر صلوۃ کو “خداج“(ناقص یانامکمل) کہا گیا ہے (مسلم: کتاب الصلوة).

    یہاں اس بات کی نشاندہی ضروری ہے کہ مسلک پرستی کے شکار فرقوں نے اس مسئلے میں کچھ تشدد کی راہ اختیار کر کے باہمی اختلاف کی ایک بنیاد فراہم کر لی ہے۔ایک گروہ نے اس معاملے میں اپنے مسلک کے دفاع میں احادیث سے بے اعتنائی کی روش اپنائی ہے، تو دوسرے گروہ نے دوسری طرف انتہاپسندی کی روش اختیار کی ہے۔ قرآن و صحیح احادیث سے صرف نظر کر کے جہری قراءت کے دوران بھی امام کے پیچھے سورہ فاتحہ کی قراءت کو لازم قرار دے دیا ہے۔ان کے نزدیک اگر مقتدی جہری رکعات میں بھی سورہ فاتحہ نہ پڑھیں تو ان کی صلوة نہ ہو گی! حالانکہ امرِ واقعہ یہ ہے کہ قرآن سننے والوں کو(جہری قراءت کےدوران) غور سے سننے اور خاموش رہنے کا حکم دیا گیا ہے (الاعراف:۲۰۴)۔ اور مسلم کی ابو موسی الاشعری رضی اللہ عنہ کی روایت اور دیگر متعدد روایات میں بھی یہ بات کہی گئی ہے۔ ویسے تو حکم عام ہے لیکن صلوة کے لئے بدرجہ اُولٰی ہے۔سورہ فاتحہ کی اہمیت کو مد نظر رکھتے ہوئے قرآن و حدیث کی واضح ہدایت کی روشنی میں اعتدال کی یہی راہ ہے کہ جہری رکعات میں مقتدی خاموشی سے قراءت سنیں اور آیات کے مفہوم پر غور کریں، البتہ سری رکعات میں صرف سورہ فاتحہ تلاوت کر لینا جائز ہے۔اللہ اور اس کے رسول محمدﷺ کے حکم کے مطابق صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا اسی پر عمل رہا ہے، جیسا کہ سنن نسائی، ابن ماجہ اور موطا وغیرہ کی متعدد روایات سے ثابت ہے۔

    بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ

    اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم فرمانے والا ہے

    پہلے یہ بات ذہن نشین کر لی جائے کہ رب ذوالجلال، خالق ومالک کائنات لا شریک ہے اور اس نے ہمیں اپنا نام  اللہ  بتایا ہے ۔ جس میں اُلوہیت و ربوبیت کی عظمت و شان جھلکتی ہے۔ وہ اول و آخر ہے۔ اسکی ہستی کے ساتھ ساتھ اسکا نام بھی قائم ودائم ہے، ہر زبان اور آسمانی کتاب میں یہی نام رہا ہے۔یہ ایک مسلمہ اصول ہے کہ اسم علم یعنی کسی بھی خاص نام کا ترجمہ نہیں کیا جاتا لہٰذا اللہ کا اردو یا کسی اور زبان میں ترجمہ کرنا قطعاًغیر مناسب ہے، جس طرح کہ اردو اور فارسی میں اللہ کا ترجمہ “خدا” کیا جاتا ہے جو کہ صحیح نہیں ۔

    اس سوره کی امتیازی خصوصیت اللہ اور بندے کے قریبی تعلق کا اظہار ہے، چنانچہ جذبہ اخلاص اور قلب و ذہن کی یکسوئی کے لئے اور رب سے تقرب اور اس پر توکل کے احساس کو ہمہ وقت بیدار رکھنے کے لئے بندے کو یہ ادب سکھایا گیا کہ وہ اپنے ہر کام کی ابتداء اپنے رب کے نام سے ہی کرے۔ہر کام مثلاََ کھانا کھانا، پانی پینا، ذبح کرنا وغیرہ شروع کرنے سے پہلے بِسْمِ اللہِ پڑھنے کی تاکید کی گئی ہے ۔اس کے بے شمار فوائد ہیں۔ایک طرف تو اللہ تعالیٰ کی تائید و توفیق حاصل  ہو گی اور معاملات میں خیر و برکت شامل رہے گی تو دوسری طرف شیطان لعین کی فتنہ سامانیوں سے اللہ کی محافظت رہے گی۔(النحل:۹۸) میں قرآن کی تلاوت سے پہلے تعوّذ کا حکم دیا گیا ہے ، چنانچہ تلاوت سے پہلے اَعُوْذُ بِاللہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ   اور پھر. بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ.  پڑھ کر تلاوت شروع کی جائے۔

  • بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ ()
  • اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم فرمانے والا ہے۔
  • اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَۙ (۱)
  • تمام تعریف

    ۱

    اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہے جو سب جہانوں کا پالنے والا ہے۔(۱)
  • الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِۙ (۲)
  • جو بڑا ہی مہربان اور نہایت رحم فرمانے والا ہے

    ۲

    (۲)۔
  • مٰلِكِ يَوْمِ الدِّيْنِؕ (۳)
  • روز جزا کا مالک ہے

    ۳

    (۳)۔
  • اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَ اِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُؕ (۴)
  • (اے اللہ) ہم صرف تیری ہی عبادت کرتے ہیں تجھ ہی سے مدد چاہتے ہیں

    ۴

    (۴)۔
  • اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيْمَۙ (۵)
  • (اے اللہ) ہمیں سیدھا راستہ دکھا دے (۵)۔
  • صِرَاطَ الَّذِيْنَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ١ۙ۬ (۶)
  • ان لوگوں کا راستہ جن پر تو نے انعام فرمایا (۶)۔
  • غَيْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَيْهِمْ وَ لَا الضَّآلِّيْنَؒ (۷)
  • نہ کہ ان لوگوں کا جن پر تیرا غضب ہوا اور نہ گمراہوں کا راستہ

    ۵

    ) (۷)۔
  • (۱) اَلْحَمْدُ میں لام تعریف یعنی ال سے استغراق یعنی کلیت کا مفہوم پیدا ہوتا ہے، جیسا کہ الانسان سے ساری انسانیت مراد ہے ہوتی ہے۔ چنانچہ اَلْحَمْدُلِلہِ کے معنی ہوئے کہ ساری تعریف اللہ کے لیے ہے۔ تعریف کسی کے ذاتی حسن و کمال کی وجہ سے ہوتی ہے یا اس کے احسان کی وجہ سے جذبہ شکر گزاری کے تحت کی جاتی ہے۔ کائنات میں جو کچھ اپنے حسن و کمال کی وجہ سے قابل تعریف ہے وہ اللہ تعالیٰ ہی کی تخلیق اور عطا ہے ،اس لئے اَلْحَمْدُلِلہِ کا مکمل معنی اور مفہوم اس طرح ہوگا کہ سب تعریف اللہ ہی کے لئے ہے۔ یہ کلمہ شکر ہے اور اللہ کا شکر ادا کرنے کے لئے الحمدللہ کہنا مسنون ہے اور احادیث میں اس کی بہت فضیلت آئی ہے،کھانے پینے کے بعد انہیں الفاظ میں شکر ادا کیا جاتا ہے۔

    Close

    (۲) الرَّحۡمٰنِ اور الرَّحِیۡمِ اللہ تعالیٰ کےصفاتی نام ہیں۔ یہ تفضیل کے صیغے ہیں، اور ان سے اللہ تعالیٰ کے انتہائی اور دائمی رحم وکرم کا اظہار ہوتا ہے۔

    Close

    (۳) یَوۡمِ الدِّیۡنِ سے مراد روزِ جزا یا یوم حساب ہے، وہ عظیم دن جبکہ انسان کے ایمان و عمل کی بنیاد پر اس کی آخرت کا فیصلہ ہوگا، پھر یا تو وہ اللہ کے انعام کا مستحق جنتی ہوگا یا اس کے عذاب کا حقدار ٹھہرایا جائے گا، اللہ تعالیٰ یومِ حساب کا اکیلا مالک ومختار ہوگا اور تمام جن وانس( نبی و غیر نبی) اس کی رحمت کے طلبگار اور فاسق و فاجر اس کے عذاب کے خوف سے لرزاں و ترساں ہوں گے ،اس دن فیصلےعدل وانصاف سے ہوں گے اور کسی کے ساتھ کوئی ظلم نہ ہوگا۔شرک سے پاک ایمان کے ساتھ عمل صالح کا اجر بڑھا چڑھا کر ملے گا، جبکہ شرک پر مرنے والا ہمیشہ کے لئے جہنم میں ڈال دیا جائے گا (المائدہ :۷۲)۔

    Close

    (۴) اللہ  تعالیٰ کی عظمت و کبریائی اور اس اکیلے کی الوہیت و ربوبیت کے اعتراف  و اقرار کے بعد اب اس سے والہانہ وابستگی کا اظہار ان الفاظ میں کیا جا رہا ہے کہ”ہم صرف تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد چاہتے ہیں” یہ بندے کا اپنے رب کے سامنے نہ صرف بندگی کا اظہار ہے بلکہ ایک طرح کا عہد بھی ہے کہ ہر قسم کی عبادت صرف الله ہی کے لیے مخصوص ہوگی، خواہ وہ رکوع وسجود ہوں یا نذر و نیاز۔ اس کی مزید تائید و تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة  الانعام (آیت نمبر ۱۶۲) جس میں نبیﷺ سے فرمایا گیا” آپ کہہ دیجئے کہ بے شک میری صلٰوة، قربانی(گویا کہ ساری عبادات ،جانی و مالی)، میرا جینا اور مرنا سب کچھ اللہ رب العٰلمین ہی کے لئے ہے”  دوسری بات کہ ہر حاجت و مصیبت کے وقت اللہ ہی سے مدد کی درخواست کی جائے گی کسی اور سے نہیں، چاہے بیماری میں شفاء کی طلب ہو، آفت سے چھٹکارا مطلوب ہو یا اولاد کی طلب ہو یا کوئی اور مقصد ہو۔

    یہ بات قابل غور ہے کہ یہاں مفعول کو فاعل پر مّقدم کرنے یعنی “اِیَّاکَ” جملے کے شروع میں لانے سے کلام میں انتہائی زور پیدا ہوا ہے، گویا اس طرز بیان نے شرک کی جڑ کاٹ دی اور غیر اللہ سے استعانت و استمداد (یعنی مدد چاہنے) کا مطلق سدباب کر دیا۔اب اگر کوئی اللہ پر ایمان لانے اور یہ عہد کرنے کے بعد بھی غیر اللہ کے لئے نذر و نیاز کرے یا اللہ کے علاوہ کسی اور کو مدد کے لئے پکارے۔ تو یہ اپنےمالک سے غداری کے مترادف ہو گا، اَلْعِیَاذُ بِاللہِ!

    یہاں یہ بات بھی قابل غور ہے کہ بعض مفسرین نے اپنے خود ساختہ  مسلک کے تحت یہ تاویل کی ہے:

    “اس آیت شریفہ سے معلوم ہوا کہ اس کی ذات پاک کے سوا کسی سے حقیقت میں مدد مانگنی بالکل ناجائز ہے، ہاں اگر مقبول بندے کو محض واسطہ رحمتِ الٰہی اور غیر مستقل سمجھ کر اس سے استعانت ظاہری کر لے تو یہ جائز ہے کہ یہ استعانت در حقیقت حق  تعالیٰ ہی سے استعانت ہے” (ترجمہ قرآن،حاشیہ سوره فاتحہ۔محمود الحسن و شبیر احمد عثمانی)

    اور احمد رضا خان صاحب بریلوی کے نزدیک

    “مقربانِ حق امداد الٰہی ہے۔اور یہ استعانت بالغیر نہیں”(کنزالایمان۔حاشیہ سورہ فاتحہ۔احمد رضا خان)

    درحقیقت یہ آیت کے اصل مفہوم اور منشا میں صریح تحریف کے مترادف ہے اور ہدایت ربانی پر گمراہی کا پردہ ڈالنے کا انداز ہے۔بلا شبہ یہ آیت کے معنی و مفہوم کے سراسر  منافی ہے۔ مکہ کے مشرک خانہ کعبہ میں رکھے ہوئے بتوں کو فریاد رسی کے لئے آواز دیتے تھے اور لات و منات کو مشکل کشائی کے لئے پکارتے تھے تو آج اس گمراہ مؤقف کے پیروکار کلمہ گو یا رسول مدد، یا علی مدد، یا غوث مدد، یا پیر دستگیر وغیرہ کی پکاریں لگاتے ہیں۔یہ سب کچھ ان نام نہاد مفسرین اور علماء و مشائخ کے نزدیک جائز سہی لیکن فی الحقیقت یہ توحیدِ باری تعالیٰ کا انکار اور اللہ تعالیٰ کے غیظ و غضب کو بھڑکانے کا مذموم انداز ہے، اَعَاذَنَااللہُ!

    یہ واضح کرنا بھی ضروری ہے کہ غیر اللہ سے مافوق الاسباب مدد مانگنا شرک ہے نہ کہ ماتحت الاسباب۔ ماتحت الاسباب مدد چاہنا اور ایک دوسرے کی مدد کرنا عین فطرتِ انسانی ہے اور عالم اسباب کے نظام کا حصہ ہے اور اس کے لئے کسی کے مقبول بارگاہ الٰہی اور برگزیدہ ہونے کی شرط نہیں۔باطل عقائد پھیلانے والے نام نہاد علماء اکثر ایسے شوشے چھوڑ کر لوگوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

    Close

    (۵)آخری تین آیات میں قرآن کی وہ جامع دعا ہے جس میں بندہ اپنے رب سے صراط مستقیم کے لئے رہنمائی طلب کرتا ہے اور درخواست کرتا ہے کہ(اے اللہ) ہمیں سیدھا راستہ دکھا دے (جو حقیقی منزل یعنی جنت تک پہنچائے)، وہ رستہ جو تیرے انعام یافتہ بندوں کا راستہ ہے، اور اس راستے سے ہمیں بچا جو گمراہ لوگوں اور ان کا راستہ ہے جن پر تیرا غضب ہوا۔ اللہ کا انعام پانے والے بندے انبیاء، صدیق، شہداء، اور دیگر صالحین(النساء :۶۹) بلاشبہ یہ اللہ کے مخلص و منیب بندے کے دل کی گہرائی سے ابھرنے والی آرزو کا اظہار ہے۔ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ یہ سورہ اللہ اور اس کے بندے کے درمیان براہِ راست تعلق اور رب سے قربت کا موقع فراہم کرتی ہے اور انسانوں کے بنائے ہوئے واسطوں وسیلوں کی مشرکانہ دیواروں کو گرا دیتی ہے۔بندے کی دعا اس کا رب(جو انسان کی شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے) براہ راست سنتا اور اس کا جواب عنایت فرما دیتا جیسا کہ مذکورہ حدیثِ قدسی سے واضح ہے، اور اس سورہ کا یہی مضمون ہے۔

    بہرحال جو اللہ کا بندہ پورے شعور کے ساتھ ان الفاظ میں اپنے رب سے دعا و التجا کرے گا اس کے دل میں آخرت کی اس منزل کے حصول کی تڑپ ہوگی اور اس کا ان (انعام پانے والے) سچے اولیاء اللہ سے قلبی تعلق ہو گا، وہ بالضرور ان کے نقش قدم کی پیروی کو راہ نجات سمجھتے ہوئے اختیار کرے گا اور ان لوگوں سے مکمل اجتناب کرے گا جو اللہ کے غضب کے مستحق اور راہِ حق سے بھٹکے ہوئے ہیں۔اللہ تعالیٰ ہمیں ان آیات کا مصداق بنائے۔

    Close