Categories
Uncategorized

عید میلاد النبی ﷺ کی شرعی حیثیت

    بلاشبہ اللہ کے نبی محمد ﷺ سے محبت ایمان کا لازمی حصہ ہے جس کے بغیر ایمان مکمل نہیں ہوتا ۔ زبانِ رسالت ﷺ نے اس کی اہمیت کو ان الفاظ میں بیان فرمایا ہے :

لَا يُؤْمِنُ أَحَدُکُمْ حَتَّی أَکُونَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ وَالِدِهِ وَوَلَدِهِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ

(صحیح بخاری :کتاب الایمان بَابٌ: حُبُّ الرَّسُولِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الإِيمَانِ)

” تم میں سے کوئی اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک کہ میں اسے اس کے والدین ، اولاد اور تمام انسانوں سے زیادہ عزیز نہ ہو جاؤں ۔”

نبی ﷺ کی رسالت پر ایمان رکھنے والا کوئی شخص ان کی محبت سے خالی یا عاری نہیں ہوسکتا۔ اس معاملے میں نہ تو کسی قسم کے اختلاف کی گنجائش ہے اور نہ ہی کسی کو  اختلاف ہے۔ہاں ، اختلاف ہے تو اس بات پر کہ نبی ﷺ سے محبت کا انداز اور معیار کیا ہو ۔ آج امت کی ایک  بڑی اکثریت نبی ﷺ کے احکام و فرامین  سے بے پرواہ ہو کر ان کی تعریف میں غلو پر مبنی شرکیہ نعتیں ترنم سے گانے کو محبت کا نام دیتی ہے؛ یارسول اللہ کا نعرہ لگانے کو فعل ِ محبت سمجھتی ہے ؛ آپ ﷺ کو حاضرو ناظر ، مختارِ کل  ، غائبانہ مدد کو پہنچنے اور کائنات میں تصرف کا اختیار رکھنے والا سمجھنے کو محبت قرار دیتی ہے ! اور نبی ﷺ کا یوم ِ ولادت  ” عید میلاد النبی ﷺ” کے نام سے بطور ِ جشن منانے کو حبِ نبی ﷺ قرار دیتی ہے ؛ اس دن کو نبی ﷺ کی ولادت کے حوالے سے ” بڑا دن” بتا کر من گھڑت روایات اور خود ساختہ قصے بیان کرنے کو باعث ِ ثواب سمجھتی ہے۔ اس دن جلسے ، جلوس اور چراغاں کا اہتمام کیا جاتا ہے ، شیرینیاں تقسیم کی جاتی ہیں ¸دوسروں کو بھی اسکی ترغیب دی جاتی ہے اور یہ سب کچھ نبی ﷺ سے محبت کا تقاضا سمجھا جاتا ہے اسی لئے ایسا نہ کرنے والوں کو یہ لوگ محبتِ رسول ﷺ سے خالی قراردیتے ہیں ۔چاہے انہیں کتنا ہی سمجھایا جائے کہ نبی ﷺ سے محبت کا یہ انداز قرآن و حدیث میں نہیں بتایا گیا ، جو چیز دین میں نہیں اسکی  کوئی حیثیت نہیں ، اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی تعلیمات میں یہ چیزیں  نہیں پائی جاتیں ۔ بلکہ نبی علیہ السلام نے تو دین میں نئی چیزیں ایجاد کرنے سے منع فرمایا ہے : 

مَنْ اَحْدَثَ فِیْ اَمْرِنَا ھٰذَا مَا لَیْسَ مِنْہُ فَھُوَ رَدٌّ

(بخاری، کتاب الصلح، بَابُ إِذَا اصْطَلَحُوا عَلَى صُلْحِ جَوْرٍ فَالصُّلْحُ مَرْدُودٌ )

” جس نے ہمارے دین میں کوئی نئی بات نکالی جو اس میں نہ تھی ، وہ قابل رد ہے۔”

مَنْ عَمِلَ  عَمَلاً لَّیْسَ عَلَیْہِ اَمْرُنَا فَھُوَ رَ دًّ           

(صحیح بخاری : کتاب البیوع ، بَابُ النَّجْشِ، وَمَنْ قَالَ: «لاَ يَجُوزُ ذَلِكَ البَيْعُ)

” جو کوئی ایسا کام کرے جس کا ہم نے حکم نہیں دیا تو وہ قابل رد ہے۔”

ان دلائل کے باوجود  بھی یہ دن نہ ماننے والوں کو  مطعون کیا جاتا ہے اور ان پر توہین ِ رسالت بلکہ منکر ِ رسالت ہونے کے فتوے لگائے جاتے ہیں۔ اس صورتحال میں ضروری ہے کہ اللہ کے نبی ﷺ کے صحیح انداز کو قرآن  و حدیث کے حوالے سے واضح کیا جائے تاکہ حُب ِ رسول ﷺ کے درست معیار کو اپنایا جا ئے اور غلط طرزِ عمل کی اصلاح کر لی جائے ۔

نبی ﷺ سے محبت کے معنی  ان کی اطاعت و اتباع ہے ، یعنی جو اپنی زندگی کو سنت کے رنگ میں رنگ لے وہی صحیح معنوںمیں  نبی ﷺ سے محبت کرنے والا ہے ۔ نبیﷺ کی سنت سے ہٹ کر نبی ﷺ سےمحبت کے دعوے خود نبی ﷺ کی حدیث کے مطابق باطل محض ثابت ہوتے ہیں ۔ یہ بھی خیال رہے کہ سنت وہی طریقہ ہے جسے نبی ﷺ نے اختیار کیا ہے اور کوئی ایسا کام جو نبی ﷺ کر سکتے تھے لیکن آپ ﷺ نے نہیں کیا ، اسے نہ کرنا ہی سنت ہے۔ کسی نیک کام میں سنت ِ رسول ﷺ سے تجاوز یعنی آگے بڑھ جانا بھی سنت سے ہٹ جانے ہی کی ایک شکل ہے ۔ سنت سے تجاوز کرنے والے کا اقدام ظاہر کرتا ہے کہ اس کے خیال میں (نعوذباللہ ) سنتِ رسول ﷺ ناقص ہے اور اس میں اضافے کی ضرورت ہے ! ایسا کرنے  والوں کے لئے درج ذیل واقعہ انتہائی سبق آموز ہے :

 ۔ ۔ ۔ ۔  ۔ ۔۔ أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ جَاءَ ثَلَاثَةُ ۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔  وَقَالَ آخَرُ أَنَا أَصُومُ الدَّهْرَ وَلَا أُفْطِرُ وَقَالَ آخَرُ أَنَا أَعْتَزِلُ النِّسَاءَ فَلَا أَتَزَوَّجُ أَبَدًا فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهِمْ فَقَالَ أَنْتُمْ الَّذِينَ قُلْتُمْ كَذَا وَكَذَا أَمَا وَاللَّهِ إِنِّي لَأَخْشَاكُمْ لِلَّهِ وَأَتْقَاكُمْ لَهُ لَكِنِّي أَصُومُ وَأُفْطِرُ وَأُصَلِّي وَأَرْقُدُ وَأَتَزَوَّجُ النِّسَاءَ ٭فَمَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِي فَلَيْسَ مِنِّي

( البخاري: كِتَابُ النِّكَاحِ (بَابُ التَّرْغِيبِ فِي النِّكَاحِ)

” انسؓ  سے روایت ہے کہ نبی ﷺ کی ازواج کے پاس تین آدمی آئے اور نبی ﷺ کی عبادت کے متعلق پوچھا ۔ ان کو اس کی خبر دی گئی ۔ انہوں نے اسکو کم جانا اور کہنے لگے : ہماری نبی ﷺ کے ساتھ کیا نسبت ؟ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کی اگلی پچھلی لغزشیں معاف فرمادی ہیں ۔ ایک آدمی نے کہا کہ میں ہمیشہ ساری رات صلوٰۃ پڑھا کروں گا ۔ دوسرے نے کہا کہ میں ہمیشہ دن کو صوم رکھوں گا اور  ناغہ نہ کروں گا ۔ تیسرے آدمی نے کہا کہ میں عورتوں سے الگ رہوں گا اور کبھی نکاح نہ کروں گا ۔ نبی ﷺ کو جب یہ بات معلوم ہوئی تو آپ ﷺ اُن سے پوچھا کہ تم نے ایسی ایسی باتیں   کہی ہیں ؟ خبردار ! اللہ کی قسم میں تمہاری نسبت اللہ سے  بہت ڈرتا ہوں  اور تم سب سے زیادہ متقی ہوں ، لیکن میں رات کو صلوٰۃ بھی پڑ ھتا ہوں  اور سوتا بھی ہوں ، صوم بھی رکھتا ہوں اور ناغہ بھی کرتا ہوں ، اور عورتوں سے نکاح بھی کیے ہیں ۔ جس نے میرے طریقے سے منہ موڑا وہ مجھ سے نہیں ‘‘۔

ہمیشہ رات بھر عبادت کرنا یا ہمیشہ صوم رکھنا بظاہر کوئی برُا کام نہیں ہے ، لیکن چونکہ یہ نبی ﷺ کی سنت نہیں بلکہ سنت سے تجاوز ہے ، اس لئے نبی ﷺ نے ایسا کرنے والے کے متعلق فرمایا کہ ” فَلَیْسَ مِنِّی” یعنی اسکا مجھ سے کوئی تعلق نہیں ۔اسطرح اللہ کے نبی ﷺ  نے ایساکرنے والوں سے بیزاری کا اظہار فرمایا ۔

اس تمہید کا مقصد یہ ہے کہ نبی ﷺ کی سنت سے محبت ہی  نبیﷺ سے محبت ہے۔اب دیکھنا یہ کہ آج  جس طرح نبی سے محبت کا اظہار کیا جاتا ہے اور پھر اسی  پر اصرار بھی کیا جاتا ہے ، اس کا ثبوت کہیں سنت میں بھی ملتا ہے یا نہیں ۔ ہمارے پاس اللہ کی آخری کتاب محفوظ شکل میں موجود ہے اور نبی ﷺ کی سنت احادیث ِ صحیحہ کی صورت میں ۔ ان دونوں کا مطالعہ کر لیا جائے، کوئی ایک آیت یا کوئی ایک صحیح حدیث بھی ایسی نہ ملے گی جو مروجہ عید میلا د النبی ﷺ منانے کے لئے دلیل بن سکے ۔ مل بھی کیسے سکتی ہے کیونکہ اگر قرآن و سنت میں ایسی کوئی دلیل ملتی تو سب سے پہلے صحابہ اکرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم یہ  ” عید ” مناتے کیونکہ وہ آج کے ان نام نہاد عاشقان ِ رسول سے کہیں زیادہ  صحیح معنوں میں نبی ﷺ سے محبت کرنے والے تھے ۔ وہ تو زندگی بھر دو ہی عیدیں مناتے رہے ۔ ایسی صورتحال میں نبی ﷺ کی ولادت کے حوالے سے اس دن عید منانے ، جلوس نکالنے ، گلیاں اور عمارتیں قمقموں سے سجانے ، مصنوعی آرائشی محرابیں بنانے ، خانہ کعبہ اور مسجد نبوی کے گتے اور کاغذ کے تعزیوں کی طرح ماڈل بناکر انکا طواف کرنے ، مٹھائیاں اور حلوے تقسیم کرنے کی کیا دینی حیثیت رہ جاتی ہے اور ان سب کو کس درجے میں ” حُبِ رسول  ﷺ ” قرار دیا جا سکتا ہے کہ جو کام نبی ﷺ کی سنت نہیں وہی محبت رسول ﷺ کا معیار بن جائے ؟  یہ سب کچھ سنت سے انحراف اور تجاوز ہے جو کسی بھی صورت میں پسندیدہ نہیں ۔ دین نام ہی قرآن و سنت کا ہے ۔دین کی حدود سے آگے بڑھنا نری گمراہی و ضلالت ہے ۔ اس بات کو سمجھنے کے لئے نہ تو عقل و خرد کے بلند معیار کی ضرورت ہے اور نہ ہی آگہی و معرفت کے کوئی خاص علوم درکار ہیں ۔ عمر بن عبد العزیز رحمتہ اللہ علیہ نے ایک شخص کو جس نے ان سے تقدیر کے متعلق سوال کیا تھا یہی جواب دیا تھا کہ ” میں تجھے اللہ سے ڈرنے اور اس کے حکم پر چلنے کی وصیت کرتا ہوں اور نبی ﷺ کی سنت پر چلنے کی بھی تاکید کرتا ہوں ۔جو باتیں بدعتیوں نے نکالی ہیں انہیں چھوڑ دو ۔انہوں نے یہ باتیں اس وقت نکالیں جبکہ رسول اللہ ﷺ کی سنت جاری ہو چکی  تھی اور یہ لوگ یہ باتیں ایجاد کرنے کا کوئی حق نہیں رکھتے تھے ۔ تو سنت پر عمل لازم ہے کہ اس سے تم گمراہی سے بچو گے ۔۔۔۔ تم اپنے لئے وہی راستہ اختیار کرو جسے اصحاب ِ رسول نے اختیار کیا تھا ۔ وہ بڑی فضیلت والے اور دور رس نگاہ والے تھے ، اور جن  کاموں سے انہوں نے منع کیا تو درست ہی منع کیا ، کیوں کہ وہ دین کو ہم سے زیادہ سمجھنے والے تھے ۔ آج جو لوگوں نے بدعتیں نکال رکھی ہیں  یہی اگر ہدایت کا راستہ ہے  تو اس کا مطلب یہ کہ یہ لوگ دین کے معاملے میں صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے بھی آگے بڑھے ہوئے ہیں ۔۔۔۔۔” (سنن ابی داؤد : کتاب السنتہ  ، باب فی لزوم السنتہ )

دیکھئے عمر ثانی رحمتہ اللہ علیہ نے کتنی شدت سے نبی علیہ السلام اور صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے راستے کو چھوڑ کر بدعت کی روش اپنانے والوں کو تنبیہ فرمائی ہے۔ قرآن نے بھی اس کی شدید مذمت کی ہے :

وَمَن يُشَاقِقِ ٱلرَّسُولَ مِنۢ بَعۡدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُ ٱلۡهُدَىٰ وَيَتَّبِعۡ غَيۡرَ سَبِيلِ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ نُوَلِّهِۦ مَا تَوَلَّىٰ وَنُصۡلِهِۦ جَهَنَّمَۖ وَسَآءَتۡ مَصِيرًا

[النساء: 115]

” اور جو شخص ہدایت واضح ہونے کے بعد رسول کی مخالفت کرے اور مومنوں کے راستہ کے سوا کسی اورراستے پر چلے تو جدھر وہ چلتا ہے ہم اسے ادھر ہی چلنے دیتے گے اور ( قیامت کے دن ) جہنم میں داخل کر دیں گے ، اور وہ بر ی جگہ ہے۔”

 مندرجہ  بالا آیت میں یہ واضح کر دیا گیا  کہ نبی ﷺ کی تعلیمات کی مخالفت کرنے اور مومنین ( یعنی صحابہ کرام  رضی اللہ تعالیٰ عنہم )  کے راستے کو چھوڑ کر کوئی دوسرا راستہ اخیتا ر کرنے کا انجام جہنم ہے۔  آج  موجودہ معاشرے میں کفر و الحاد کا بھی زور ہےاور بدعات و خرافات کا بھی دور دورہ ہے ۔ دین اپنی خالص اور اصلی صورت میں قرآن و حدیث کی حد تک رہ گیا ہے ۔عملاً تو دین کی خود ساختہ صورت ہی ہر طرف رائج ہے۔ دن بہ دن نئی نئی بدعات دین کے نام سے رائج ہوتی جارہی ہیں ۔ عید میلاد النبی ﷺ کے نام سے نئی عیدبھی ان ہی خود ساختہ بدعات میں سے ایک ہے ۔ اسے رائج کرنے میں ہمارے یہاں کے نام نہاد علماء کا بڑا عمل دخل ہے کیونکہ اس کا سب سے زیادہ فائدہ انہی کو ہوتا ہے۔ یہ فن ِ دینداری کے ماہر اور علمی موشگا فیوں سے آراستہ  ہوتے ہیں ۔ اس لئے ان بدعات کو جائز ثابت کرنے کے لئے آئے دن کوئی نہ کوئی شوشہ چھوڑتے رہتے ہیں ۔ اس نو ایجاد کردہ ” عید میلاد النبی ﷺ ” کو ثابت کرنے کے لئے ان  لوگوں نے چند عجیب و غریب قسم کے دلائل بھی تراش لئے ہیں ۔ اگلی سطور میں انہیں بیان کرکے قرآن و حدیث کی روشنی میں انکا جائز ہ لیا گیا ہے ۔

 جشن ِ میلا د منانے کے لئے سورۃ یونس  کی آیت 57 پیش کی جاتی ہے ۔ آیت اور ترجمہ ملاخطہ فرمائیں :

يٰٓاَيُّھَا النَّاسُ قَدْ جَاۗءَتْكُمْ مَّوْعِظَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَشِفَاۗءٌ لِّمَا فِي الصُّدُوْرِ ڏ وَهُدًى وَّرَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِيْنَ

[يونس: 57]

” آپ فرما دیں کہ ( قرآن  کا نزول) اللہ کے فضل اور اس کی رحمت سے ہے تو اس پر اُنہیں خوش ہونا چا ہیے ۔ یہ ان چیزوں سے کہیں بہتر ہے جو وہ جمع کر رہے ہیں ۔”

یہ آیت پیش کر کے کہا جاتا ہے کہ نزولِ قرآن پرخوشی منانے کا حکم دیا گیا ہے ، اور قرآن کا نازل ہونا ، نصیحت ، شفا ، ہدایت و رحمت  سب کچھ نبی ﷺ کی پیدائش اور تشریف آوری پر موقوف ہے اور قرآن سے بڑی رحمت و نعمت تو خود نبی ﷺ کی ذاتِ گرامی ہے ، لہٰذ ا نبی ﷺ کی ذات مقدسہ کے ظہور پر جتنی بھی خوشی منائی جائے کم ہے ۔

  ان حضرات کی بیشتر بدعات کا یہی حال ہے کہ جس آیت کو دلیل میں پیش کرتے ہیں اس میں اس چیز کا کوئی ذکر ہی نہیں ہوتا جسے یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ سورۃ یونس کی درج بالا آیت میں اللہ کی رحمت پر خوش ہونے کا حکم ہے ، اس سے ” عید میلا د” منانے کا جواز کیسے نکل آیا ؟ کیا اس آیت سے رسول اللہ ﷺ نے جن پر یہ آیت نازل ہوئی ، یہ سمجھا کہ عید میلاد منانی چاہیے ؟ صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے یہ سمجھا کہ ا س آیت سے عید میلاد منانا ثابت ہو رہا ہے ؟ یا پھر صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے شاگرد تابعین اور ان کے بعد تبع تابعین نے اس آیت سے عید میلاد کا جواز نکالا ؟ تو جس آیت میں اللہ کے نبی ﷺ کو عید میلا د نظر نہیں آئی ، صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کو نظر نہیں آئی ، تابعین و تبع تابعین اور محدثین کو نظر نہیں آئی ، آج کئی صدیوں کے بعد اس آیت سے عید میلادکا جواز کیسے نکل آیا ؟ پھر یہ کہ  بلا شبہ نزول ِ قرآن پر ہر مومن کو خوشی ہونی چاہیے کہ یہ اللہ کی طرف سے ہدایت  و رحمت کا ذریعہ ہے ، اور ظاہر ہے کہ صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کو ہم سے زیادہ خوشی تھی جنہوں نے اس سے پورا فائدہ حاصل کیا ، مگر انہوں نے خوشی کا اظہار چراغاں کرکے یا جلسے جلوس کرکے نہیں بلکہ اس پر عمل کر کے کیا ۔یہ نہیں کہ قرآن کے نزول کی خوشی میں گلی کوچوں کو سجائیں ، گھروں اور عمارتوں پر چراغاں کریں ، لیکن عملی طور پر قرآن کی تعلیم سے دور ہٹے ہوئے ہوں ! کیا خوشی منانے کے یہ طریقے جو آج رائج ہیں نبی ﷺ اور صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے بھی ثابت ہیں ؟ ایسا نہ کرنے والے کو یہ کہا جاتا ہے کہ اسے نبی ﷺ سے محبت نہیں ہے ! صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی زندگیاں تو ایسی نام نہاد محبت سے قطعا ًخالی ملیں گی ۔ پھر یہ کہنا کہ قرآن کا نزول نبی ﷺ کی بدولت ہے ، دین کی روح سے ناوقفیت کی بات ہے ۔ اللہ تعالیٰ کا دین کسی کا محتاج نہیں ۔ اللہ اپنے دین کا کام جس انسان سے لیتا ہے اس میں اس کا کوئی کمال  نہیں ۔ یہ تو اللہ کی عطا اور انعام ہے کہ اللہ کسی بندے سے اپنے دین کا کام لے۔اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ کو منصبِ رسالت کے لئے منتخب کیا تو یہ آپ ﷺ پر اللہ تعالیٰ کا انعام تھا جس کے لئے نبی ﷺ ہمیشہ شکر گزار رہے اور کبھی اس کو اپنا ذاتی کمال بتا کر فخر نہ کیا ۔ جشن ِ میلا د منانے والے کہتے ہیں کہ اللہ نے اپنی نعمتوں کو بیان کرنے کا حکم دیاہے :

وَأَمَّا بِنِعۡمَةِ رَبِّكَ فَحَدِّثۡ

[الضحى: 11]

” اپنے رب کی نعمت کو بیان کرو۔”

اور نبی ﷺ اللہ کی سب سے بڑی نعمت ہیں لہٰذااس دن عید منانا اور اللہ کی اس نعمت کا تذکرہ کرنا جائز ہے ۔ بلا شبہ نبی ﷺ اللہ کی عظیم نعمت ہیں لیکن اس سے عید میلاد منانے کا ثبوت کیسے نکل آیا ؟ اگر محض نعمت ہونے سے عید کا جواز مل جاتا ہے تو پھر تو بے شمار عیدیں منانی چاہیئں کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :

۔ ۔ ۔  وَإِن تَعُدُّواْ نِعۡمَتَ ٱللَّهِ لَا تُحۡصُوهَآۗ ۔ ۔ ۔

[إبراهيم: 34]

” اگر تم اللہ کی نعمتوں کا شمار کرنا چاہوتو انہیں گن نہ سکو گے۔”

اللہ کی نعمتیں بے شمار ہیں ، کہاں تک عید یں منائی جائیں گی ؟ اگر یہ کہا جائے کہ فلاں نعمت پر عید منائی جائے اور فلاں پر نہیں تو اس کی کیا دلیل ہو گی ؟ پھر یہ کہ صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم بھی جانتے تھے کہ اللہ کے نبی ﷺ عظیم نعمت ہیں ۔ کیا وجہ ہے کہ انہوں نے یہ عید نہیں منائی ۔ وہ جانتے تھے کہ اسلام میں شخصیت پرستی کی کوئی حیثیت نہیں اس لئے نہ نبی ﷺ نے اپنی پیدائش کا دن کبھی منایا اور نہ ہی صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے ۔ یہ تو عیسائیوں کا طریقہ ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش کے حوالے سے کرسمس مناتے ہیں اور اس دن کو ” بڑا دن ” کہتے ہیں ۔ اسی  طرح ہندو بھی اپنے دیوتا کرشن جی کا جنم دن مناتے ہیں جسے ” جنم اشٹمی ” کہتے ہیں ۔ رسول اللہ ﷺ کی حدیث کے مطابق مَنْ تَشَبَّهَ بِقَوْمٍ فَهُوَ مِنْهُمْ  ( سنن ابی داؤد : کتاب اللباس )  ” جو کسی قوم کی مشابہت اختیار کر ے گا وہ انہی میں شمار کیا جائے گا ۔” لہٰذا ان تمام بدعتوں سے پرہیز لازمی ہے۔

اس دن عید منانے کے جواز کے لئے یہ لوگ اللہ کے دشمن ابولہب کے طرز عمل سے بھی استدلال کرتے ہیں ۔ بخاری کتاب النکاح کے حوالے سے بتاتے  ہیں کہ ابو لہب کے مرنے کے بعد اس کےبعض گھر والوں نے اسے خواب میں برے حال میں دیکھا اور اس سے اس کا حال پوچھا ۔ ابو لہب نے کہا کہ مرنے  کے بعدمیں نے کوئی راحت نہ پائی سوائے اس کے کہ تھوڑاسا سیراب کیا جاتا ہوں ، اس لئے کہ میں نے ثوبیہ کو آزاد کیا تھا ۔ کہتے ہیں کہ ابو لہب کو جب اس کی باندی ثوبیہ نے نبی ﷺ کی ولادت کی خبر دی تو اس نے اس خوشی میں ثوبیہ کو آزاد کر دیا تھا ، تو جب کافر ابولہب کو نبی ﷺ کی ولادت کی خوشی منانے کا فائدہ ہو سکتا ہے تو ہمیں کیوں نہ ہوگا ۔

 افسوس کہ ان حضرات کو عیدمیلاد منانے کی کوئی دلیل نہ تو نبی ﷺ سے ملی نہ صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے بلکہ اس اللہ کے دشمن ابولہب سے ملی جس کا ذکر قرآن میں یوں ہے کہ تَبَّتْ يَدَآ اَبِيْ لَهَبٍ وَّتَبَّ    ( سورہ لہب :1) ” ٹوٹ گئے ابو لہب کے ہاتھ دونوں اور وہ برباد ہو گیا ۔” حالانکہ اس نے تو محمد ﷺ کی پیدائش پر ایک رشتے دار کی حیثیت سے خوش ہو کر اپنی باندی ثوبیہ کو آزاد کیا تھا ۔اس کے وہم گمان میں بھی نہ تھا کہ اس کے فوت شدہ بھائی کا یہ بیٹا بڑا ہو کر نبی بنے گا اور اس کے باطل معبووں کو جھٹلائے گا ورنہ وہ تو بھتیجےکی پیدائش کی خوشی منانے کی بجائے اس کے برعکس کوئی طرزِ عمل اختیار کرتا۔ابولہب کے عمل سے استدلال کیسے کیا جاسکتا ہے ، وہ تو کوئی مسلمان نہیں بلکہ نبی ﷺ کا دشمن اور بدترین کافر تھا جس کی مذمت میں قرآن نازل ہوا ! نبی ﷺ اور صحابہ کرام ر  ضی اللہ تعالیٰ عنہم نے تو کسی کی پیدائش کے لحاظ سے کبھی کوئی دن نہیں منایا ۔ تو پھر اب سنت ِ رسول ﷺ اور طریقئہ صحابہ کو چھوڑ کر ابولہب کا عمل کیوں اختیار کیا جار ہا ہے ؟

کیسی ستم ظریفی ہے کہ رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے اسوہ حسنہ پر ابولہب کے اسوہ کو ترجیح دی جارہی ہے ! رہی بات اس کے مرنے کے بعد اسے خواب میں دیکھے جانے کی تو یہ نہ  تو قرآن کی آیت ہے اور نہ کوئی حدیث ِ رسول ﷺ ، یہ تو محض ایک خواب ہے جس کی زبان ِ نبوت یا صحابہ رضی اللہ تعالی ٰ عنہم  سے کوئی تصدیق وارد نہیں ۔ بھلا خواب دین میں کب حجت ہو ا کرتے ہیں ؟ بلاشبہ انبیاء علیہم السلام کے خواب سچے ہوتے ہیں ، لیکن عام طور سے غیر نبی کے خواب عجیب و غریب ہی ہوا کرتے ہیں اور یہ خواب تو حد درجہ عجیب و غریب ہے کہ جس میں عالم ِ برزخ کا عالم ِ دنیا سے رابطہ بیان کیا گیا ہے اور مرنے والا عالم ِ برزخ کی کیفیت بیان کررہا ہے۔قرآن و حدیث کی کسوٹی پر تو یہ اور اس قسم کے دوسر ے خواب سراسر باطل قرار پاتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے تو عالم دنیا اور عالم ِ برزخ کے درمیان قیامت تک کے لئے ایک آڑ  رکھی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں سے لطف اندوز ہونے والے شہداء احد شدید خواہش کے باوجود اپنا پیغام دنیا والوں تک نہ پہنچا سکے جیسا کہ احادیث میں بیان کیا گیا ہے ، البتہ اللہ تعالیٰ نے سورۃ آل عمران کی یہ آیت نازل فرما کر دنیا والوں کو ان کے حال سے باخبرکیا :

وَلَا تَحۡسَبَنَّ ٱلَّذِينَ قُتِلُواْ فِي سَبِيلِ ٱللَّهِ أَمۡوَٰتَۢاۚ بَلۡ أَحۡيَآءٌ عِندَ رَبِّهِمۡ يُرۡزَقُونَ

[آل عمران: 169]

” جو اللہ کی راہ میں قتل کئےجائیں انہیں مردہ نہ سمجھو ، وہ اپنے رب کے پاس زندہ ہیں اور رزق  دئے جاتے ہیں ۔”

اللہ تعالیٰ ایک اور جگہ شہید کی تمنا ان الفاظ میں بیان فرماتا ہے :

قِيلَ ٱدۡخُلِ ٱلۡجَنَّةَۖ قَالَ يَٰلَيۡتَ قَوۡمِي يَعۡلَمُونَ       ۝  بِمَا غَفَرَ لِي رَبِّي وَجَعَلَنِي مِنَ ٱلۡمُكۡرَمِينَ

[يس: 26-27]

” کاش میری قوم کو معلوم ہو کہ میرے رب نے مجھے معاف فرما دیا اور مجھے عزت والوں میں شامل کر دیا ۔”

 اللہ کی راہ میں جان دینے والے شہید تو خود کسی کو اپنے حال کی خبر نہ دے سکیں اوروہ  اس کی تمنا ہی کرتے رہیں جبکہ اللہ کا دشمن ابو لہب خواب میں لوگوں سے اپنا حال بیان کر تا پھرے ! کیسی عجیب اور بے سروپا بات ہے ! اب جس کا دل چاہے وہ قرآن و حدیث کو مان لےکہ ایسا ہونا ناممکن ہے اور جس کا دل چاہے وہ خوابوں پر ایمان لے آئے ۔

جشن ِ میلاد برپا کرنے والوں کی اس بدعت کے جواز میں ایک دلیل ملاحظہ فرمائیے کہ نبی ﷺ سے پیر کے د ن صوم  رکھنے کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ اسی دن اللہ تعالیٰ نے مجھ پر وحی نازل فرمائی اور اسی دن میں پیدا ہوا ۔ ( صحیح مسلم : کتاب  الصوم ) حدیث میں تو اس دن صوم رکھنے کا ہی ذکر ہے ، کوئی اور خاص کام تو ثابت نہیں ، لیکن یہ فرماتے ہیں کہ جب نبی ﷺ نے اپنی ولادت کا دن منایا تو ہم کیوں نہ منائیں ؟ حالانکہ جو کچھ آج بدعات و خرافات پھیلا دی گئی ہیں ان کا کوئی اشارہ تک بھی اس حدیث میں نہیں پایا جاتا ۔ اللہ کے نبی ﷺ تو پیر اور جمعرات کو صوم   رکھتے تھے اور فرماتے تھے کہ کہ ان دنوں میں اللہ کی بارگاہ میں اعمال پیش ہوتے ہیں اور میں پسند کرتا ہوں کہ جب میرے اعمال بارگاہِ الہی میں پیش ہوں تو میں صائم  ہوں ۔ ( جامع ترمذی : ابواب الصوم ) ۔ جشن میلاد برپا کرنے والے اگر واقعی نبیﷺ سے محبت کرتے ہیں تو سنت پر عمل کریں کہ ہر پیر اور جمعرات کو صوم رکھا کریں ، نبی ﷺ کی سنت کے بجائے ہندوؤ ں کی جنم اشٹمی اور عیسائیوں کے کرسمس کی طرح سال میں ایک دن جلسے جلوس ، بڑے بڑے لاؤڈ سپیکر وں پر دن رات شور شرابہ کر کے غیر مسلموں کی تقلید کرنا آخر نبی ﷺ سے محبت کا کون سا انداز ہے جس پر یہ عمل پیرا ہیں ! اللہ کے رسول ﷺ تو شکر گزار ی کا اظہار صوم رکھ کر کریں اور یہ نام نہاد عاشق ِ رسول اس کے برعکس لنگر بازی کریں ! آج جو کچھ نبی ﷺ کی پیدائش کی خوشی میں کیا جاتا ہے وہ اسلام نہیں ، نہ اللہ کے نبی ﷺ نے اس کا حکم دیا اور نہ صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے اللہ کے نبی ﷺ سے بہت زیادہ محبت رکھنے کے باوجود کبھی ایسا کیا ۔ ایمان والوں کے لئے صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کا طرز ِ عمل نمونہ ہے اور ان کا ایمان معیار ۔ ہمارے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ انہوں نے یہ سب کچھ نہیں کیا۔

       روزِ روشن کی طرح عیاں اس حقیقت سے چشم پوشی کرتے ہوئے مجوزین ِ میلاد اپنے ہر فعل  کو ثابت شدہ قرار دیتے ہیں ۔ یہاں تک کہ جشن ِ میلاد کے خود ساختہ موقعے پر جھنڈ ا لگانے تک کوثابت شدہ امر کہا جاتا ہے اور جھنڈے والوں میں جبر یل علیہ السلام کا نام پیش بھی کیا کرتے ہیں اور ثبوت میں بجائے قرآن و حدیث کے اپنے ہی جیسے لوگوں کی کتابوں کے حوالے پیش کرتے ہیں یا پھر احادیث کے نام سے لکھی جانے والی کتابیں جن میں من گھڑت اور ضعیف روایات ہی پائی جاتی ہیں ، جبکہ کوئی صحیح حدیث تو ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتی۔

   سب سے پہلے تو یہ ثابت ہو نا چاہیے کہ 12 ربیع الاول نبی ﷺ کا یوم پیدائش ہے بھی یا نہیں ۔ کسی بھی صحیح حدیث میں اس کا وجود نہیں ملتا البتہ کچھ روایا ت میں 8 ، 9 یا 14 ربیع الاول کا ذکر ہے ۔ اس کے برعکس 12 ربیع لاول واضح طور پر نبی ﷺ کی وفات کا دن ہے ۔ اس دن مومنین کا خوشی منانا ؟؟؟؟؟؟ استغفر اللہ ۔  احادیث سے تو پتہ چلتا ہے کہ سارے صحابہ کرام رضی اللہ تعالی ٰ عنہم رو رہے تھے ، ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے خطبہ دیا  :

    ” سن لو تم میں جو کوئی محمد ﷺ کی بندگی کرتا تھا محمد ﷺ کی وفات ہوگئی ۔ اور جو کوئی اللہ کی بندگی کرتا ہے تو بے شک اللہ تعالیٰ حئ ( زندہ جاوید ) ہے جس کو کبھی موت نہیں آنی ، اور اللہ کا ارشاد ہے کہ ” محمد (ﷺ) محض ایک رسول ہیں ، ان سے پہلے بھی بہت رسول گذرے ہیں ، اگر یہ وفات پا جائیں یا شہید کرد ئیے جائیں تو کیا تم الٹے پھر جاؤ گے ، اور جو کوئی الٹے پاؤں پھر گیا تو وہ اللہ کو کچھ نقصان نہیں پہنچا سکتا اور اللہ اپنے شکر گزار بندوں کو ضرور جزا دے گا۔”  یہ سن کر لوگ بے اختیار رونے لگے ۔”   

( بخاری : کتاب الا نبیاء )

ایک اور روایت میں عبد بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں : 

  ” جب ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ آیت تلاوت فرمائی تو ایسا معلوم  ہو تا تھا کہ کسی کو اس  آیت کی خبر ہی نہیں تھی پھر جسے دیکھو یہی آیت پڑھ رہا تھا” ( زہری کہتے ہیں سعید بن مسیب )نے کہا کہ عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ واللہ جس دم میں نے ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یہ آیت تلاوت کرتے ہوئے سنا میں گھٹنوں کے بل گر پڑا ، اور ایسا بے دم ہوا کہ میرے پاؤں مجھے سہارا نہ دے سکے یہاں تک کہ میں زمین کی طرف جھک پڑا جس وقت مجھے یقین ہو گیا کہ اللہ کے نبی ﷺ وفات پا گئے ہیں ۔” 

( بخاری : کتاب المغازی ، باب مرض النبی ﷺ و وفاتہ)

 تو اس دن تو ہر ایمان والا افسردہ تھا اور کیوں نہ ہوتا اس امت کا نبی  ، ایک عظیم شخصیت ، ان سے محبت کرنے والا ، ان کو جہنم کی آگ سے بچانے کی کوشش کرنے والا اور ان کے لیے دعائیں کرنے والا آج ان کو چھوڑ کر اس دنیا  سےچلا گیا تھا۔ کیا یہ ممکن ہے کہ آئندہ سال 12 ربیع الاول کو کوئی صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہم ” عید” ” خوشی ” مناسکتا تھا ۔ خوشیاں ضرور منائی گئی ہوں گی لیکن ان کے گھروں میں جو محمد ﷺ سے نفرت کرتے تھے ، جو ان کے لائے ہوئے دین کے دشمن تھے ! وہ یقینا ً خوشیاں منا رہے ہو ں گے ۔ آج 12 ربیع الاول کو ” عید ” منا کر کس کی پیروی کی جارہی ہے ؟ غورو فکر کا مقام ہے !

  اللہ کے نبی ﷺ نے دو عیدیں بتائی تھیں ، عید الفطر اور عید الاضحی ( ابو داؤ / نسائی )۔ اللہ کے نبی ﷺ کی بتائی ہوئی عیدوں کو نا کافی سمجھ کر یہ تیسری عید ( عید میلادالنبی ﷺ کے نام سے ) ایجاد کی گئی ہے اور پھر اسے عیدوں کی عید قرار دے کر یہ شعر پڑھا جاتا ہے کہ

           ؎          نثار تیری چہل پہل پر ہزار عیدیں اے ربیع  الاول

                   جہاں میں ابلیس کے سوا سبھی  تو خوشیاں منا رہے ہیں 

  یعنی نبی ﷺ اور صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم زندگی بھر دو عید یں مناتے رہے ، ایسی ہزاروں عیدیں ان کی اپنی ایجاد کردہ عید پر نثار اور قربان کی جاسکتی ہیں ! غور کرنے کا مقام ہے کہ حب ِ رسول ﷺ کا دم بھرنے والے نبی ﷺ کے حکم کا کیسا مذاق اڑارہے ہیں ! جب انہیں سمجھایا جاتاہے کہ اسلام میں تو صرف دو عیدیں ہیں تو بجائے اصلاح کے حیل و حجت سے کام لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اسلام میں دو نہیں اور بھی عیدیں ہیں کیونکہ عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ آیت  تکمیل ِ دین

۔ ۔  ٱلۡيَوۡمَ أَكۡمَلۡتُ لَكُمۡ دِينَكُمۡ وَأَتۡمَمۡتُ عَلَيۡكُمۡ نِعۡمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ ٱلۡإِسۡلَٰمَ دِينٗاۚ ۔ ۔

[المائدة: 3]

” آج میں نے تمہارے لئے تمہارا دین مکمل کر دیا ، تم پر اپنی نعمت تمام کر دی اور تمہارے لئے دین ِ اسلام پر راضی ہو گیا ۔”

کے متعلق فرمایا کہ یہ دو عیدیں یعنی جمعہ و عرفہ والے دن نازل ہوئی ( مشکوٰۃ : باب الجمعہ )۔ چنانچہ فرماتے ہیں کہ عید صرف عید الفطر اور عید الا ضحی ہی نہیں بلکہ مسلمین کے لئے ہر جمعہ عید ہونے کی وجہ سے ہر ہفتے عید ہوتی ہے ۔ یوم ِ جمعہ کو بعض احادیث میں عید کہا گیا ہے ( اس کی تفصیل آگے

آ رہی ہے )لیکن کیا نبی ﷺ کے یوم ِ ولادت کو بھی کسی حدیث میں عید کہا گیا ہے ؟ اگر نہیں اور قطعا نہیں تو جمعہ کو عید کہنے سے یوم ِ میلاد عید کیسے ثابت ہو جائے گا ؟ دعوے اور دلیل میں مطابقت تو ہونی چاہئے۔ دوسرا یہ کہ جمعہ عید قرار دیا ہے تو اس دن غسل کرنے ، خوشبولگانے ، مسواک کرنے اور صلوٰۃ ِ جمعہ ہی ادا کرنے کا حکم دیا ہے نہ کہ جلوس نکالنے ، عمارتیں و گلیاں سجانے اور ” لنگر شریف ” لٹانے کا۔ پھر یہ کہ جمعہ کے دن لوگ اپنے کاروبار بھی کرتے ہیں ۔ عیدین کی طرح نہ تو عام چھٹی ہوتی ہے اور نہ ہی اس کو بطور تہوار منایا جاتا ہے۔ جس طرح اس کا صاٖ ف مطلب ہے کہ احادیث میں عیدحکماً  کہا گیا ہے ورنہ جمعہ عید الفطر و عید الا ضحی کی طرح حقیقتا عید نہیں ہے ، مثلا ً ڈوب کر مرنے والا ،  طاعون سے مرنے والا ، وغیرہ ۔ جیسا کہ احادیث میں موجود ہے ، یہ سب شہدا ء حکما ً شہید ہیں یعنی اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے انہیں بھی شہادت کے اجرو ثواب سے نواز دے گا ، لیکن جو اللہ کی راہ میں قتل کر دیا جائے تو اس کا مقام یقینا ًبہت زیادہ ہے۔اسی طرح سے یوم ِ جمعہ کو حکما ً عید کہا گیا ہے کہ یہ مسلمین کے لئے خصوصی عبادت کا دن ہے ۔ عرفہ کا دن بھی خصوصی عبادت کے حوالے سے حکما ً عید ہے ۔

 یہ بھی ملحوظ رہے کہ اگر یوم ِ جمعہ حقیقی عید ہو تا تو اس دن صوم رکھنا قطعا نا جائز ہو تا کیونکہ عید کے دن صوم رکھنے کی احادیث میں واضح ممانعت واردہے جبکہ اگر کوئی مسلم  ہر مہینے کچھ صوم مثلاً ایام ِ بیض وغیرہ کے رکھتا ہے اور ان میں جمعہ بھی آجاتا ہے تو وہ جمعہ کو بھی صوم رکھ سکتا ہے ۔ پھر یہ کہ اگر نبی ﷺ کا یوم ِ ولادت بھی عیدین کی طرح یوم ِ عید ہو تا تو اس دن بھی صوم  رکھنا جائز نہ ہوتا حالانکہ نبی ﷺ خود سوموار کے دن صوم رکھا کرتے تھے جو نبی ﷺ کی پیدائش کا دن تھا ۔ صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے نبی ﷺ کی پیدائش کے دن کبھی جشن ِ میلاد برپا نہیں کیا ، نہ اس دن جلوس نکالے ، نہ کسی بھی سال اس دن کے حوالے سے مردانہ و زنانہ محافل ِ میلاد و نعت منعقد کیں ۔انہوں نے نبی ﷺ سے محبت کا اظہار آپ ﷺ کی کامل اطاعت کرکے کیا اور یہی سچی محبت ہے ۔ صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے تو اس کی اتنی اہمیت بھی نہ سمجھی کہ اس دن سے اسلامی کیلنڈر کا آغاز کرتے ! بلکہ انہوں نے تو اسلام کے لئے اپنے گھر بار چھوڑکر مدینہ ہجرت کرنے کے دن سے اسلامی سن کا آغاز کیا ۔ اسی لئے مسلمین کا سن ” سنِ ہجری ”کہلاتا ہے ۔

 ان معروضات سے کسی کی دل آزاری مقصود نہیں بلکہ صرف یہ واضح کرنا ہے کہ ہم نبی ﷺ سے اظہار ِ محبت کے مروجہ طریقوں کو قرآن و حدیث کی کسوٹی پر پرکھیں اور پوری طرح صورتحال کا جائزہ لیکر اصلاح کی کوشش کریں ۔ یہ بات ذہن نشیں کر لی جائے کہ دنیا و آخرت کی فلاح  و کامیابی کا دارومدارزبانی دعؤوں اور ہند و نصاری ٰ  کی رسومات بجالانے پر نہیں بلکہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی مکمل اطاعت اور صحابہ  کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے نقش ِ قدم کی پیروی ہی پر ہے ۔اللہ تعالیٰ حق کو سمجھنےاور اس کی اتباع کی توفیق عطا فرمائے۔

Categories
Uncategorized

قربانی اللہ کا حق

Categories
Uncategorized

تعارف

عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «بدأ الإسلام غريبا، وسيعود كما بدأ غريبا، فطوبى للغرباء»

( مسلم کتاب الایمان ، باب؛ باب بيان أن الإسلام بدأ غريبا وسيعود غريبا، وأنه يأرز بين المسجدين )

’’ ابوہریرہ ؓفرماتے ہیں کہ رسولﷺنے فرمایا ابتداء میں اسلام غریب (اجنبی) تھا اور عنقریب پھر غیر معروف ہوجائے گا پس خوشخبری ہے اجنبی  بن جانے والوں کے لئے۔ ‘‘

آج سے تقریبا 1400 سال قبل نبی ﷺ نے اپنی قوم کے سامنے الٰہ واحد کی دعوت رکھی۔ وہ قوم اللہ کو مانتی تھی  لیکن اسلام ان کے لئے اجنبی تھا۔ اسلام ایک اللہ (الٰہ واحد) کی بات کرتا ہے کہ اس کائنات میں اللہ تعالیٰ کے علاوہ  کوئی الٰہ نہیں ( لا الٰہ الا اللہ )۔ ان کا عقیدہ تھا کہ  زمین اور آسمان کا خالق اللہ تعالیٰ ہے جو زبردست اور  ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے (  لقمان : 25 ، الزخرف : 9 ) ۔  وہ اللہ تعالیٰ کو رازق بھی مانتے تھے اور یہ بھی ان کا عقیدہ تھا کہ دیکھنے اور سننے  کی طاقت بھی اسی کی دی ہوئی ہے اور یہ کہ تمام تر معاملات  اسی کے کنٹرول میں ہیں ( یونس: 31 ، مومنون ـ 84/89 ، العنکبوت : 61/63)۔

اس وقت کے مشرک دعا بھی اللہ ہی سے کیا کرتے تھے (  الانعام : 40/41 ، 63/64 ) وہ صلوة (نماز) بھی ادا کرتے تھے ( مسلم،  کتاب فضائل الصحابہ ؓ  )، صوم بھی رکھا کرتے تھے( مسلم، کتاب  الصیام، بَابُ صَوْمِ يَوْمِ عَاشُورَاءَ )، صدقہ و  خیرات بھی کیا کرتے تھے (  بخاری، کتاب البیوع ) یہاں تک کہ حج بھی کیا کرتے تھے اور اس میں ( اللھم لبیک )  کی تلبیہ بھی پڑھا کرتے تھے۔

ان عقائد و اعمال کے باوجود نبی ﷺ نے فرمایا کہ’’ اسلام اجنبی تھا‘‘ یعنی اسے کوئی جانتا نہ تھا۔ اسلام کی بنیاد دراصل لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ ہے۔ یعنی صرف ایک الٰہ ، اس کائنات کا صرف ایک خالق، ایک رب ہے ( جو پالتا ہے، جو ہر چیز دیتا ہے ، جس کے علاوہ کسی اور کا حکم نہیں ماننا چاہئیے)۔ جو داتائی ، اور دستگیری کے منصب پر فائز ہے۔ ساری کائنات کی تقدیرجسکے حکم سے ہے اور اس میں کوئی تبدیلی نہیں کر سکتا۔ وہ اکیلا  ہے جو اولادیں دیتا ، بیماری میں شفاء اور تنگ دستی میں فراوانی عطا فرماتا ہے۔

یہ تھی  اسلام کی وہ  دعوت جو ان کے لئے اجنبی تھی۔ انہوں نے تو  اپنی قوم کے صالح انسان یعنی لات کا بت بنا رکھا تھا، وہ لات اور عزیٰ کو پکارتے تھے ( بخاری،  کتاب التفسیر القرآن ) انبیاء علیہم السلام کے بت بنا رکھے تھے ( بخاری ،  کتاب الحج )ان سے فال معلوم کیا کرتے تھے۔ ’’ ھبل  ‘‘ سے وہ غائبانہ مدد مانگا کرتے تھے( بخاری، کتاب الجہاد و السیر)۔انبیاء علیہم السلام اور دیگرنیک لوگوں کی قبروں کو عبادت گاہ بنا کر وہاں  ان کی عبادت کرتے تھے( مسلم، کتاب المساجد  )۔ الغرض کہ انہوں نے بتوں سے منسوب  شخصیات کو اپنا ’’ الٰہ ‘‘ بنایا ہوا تھا۔ نبی ﷺ نے ان کے سامنے  بیان کیا  کہ ’’لا الٰہ الا اللہ ‘‘ْ  یعنی  اللہ کے علاوہ کوئی الٰہ نہیں۔ کو ئی خالق نہیں، کوئی پالنہار نہیں، کوئی اولاد دینے والا نہیں، کوئی بگڑیاں بنانے والا نہیں، کوئی ایسا نہیں کہ جس کا حکم مانا جائے، کہ جسے غائبانہ پکارا جائے جس سے مدد مانگی جائے،  جس کا شکرانہ ادا کیا جائے،صرف ایک ’’ الٰہ ‘‘ جو اللہ تعالیٰ ہے۔

یہی فرق تھا اسلام اور ان کے عقائد میں کہ اسلام صرف ایک الٰہ کی بات کرتا ہے اور وہ اللہ کیساتھ اوروں کو بھی الٰہ مانتے تھے۔ بس اسلام اجنبی ہوگیا۔ باپ دادا کے مذہب کو قائم رکھنے کے لئے اس وقت کے  مذہبی اکابرین نے بڑا پروپیگنڈا کیا لیکن جنہیں اللہ تعالیٰ نے قلب سلیم دیا تھا انہوں نے اسلام  قبول کیا اور پھر ایک وقت آیا کہ اسلام کے ماننے والوں کی بڑی تعداد ہوگئی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اقتدار بھی بخش دیا۔

آج پھر اسلام اجنبی ہوگیا ہے،  اللہ کے ساتھ ساتھ دوسروں کو بھی داتا ،دستگیر، مشکل کشا، حاجت روا، بگڑیاں بنانے والا، غوث اور غوث الاعظم سمجھا جا رہا ہے۔ یہ قوم فرقوں میں تقسیم ہوگئی، ہر فرقے کا اپنا علیحدہ مذہب وجود میں آگیا ہے۔ اس مذہب میں نماز، روزہ، حج اور زکوٰۃ بھی ہے لیکن عقائد میں شرک کی  ملاوٹ ہوگئی ہے۔  قرآن و حدیث میں موجود اُسی’’ اجنبی اسلام‘‘ کو روشناس کرانے کے لئے یہ ویب بنائی گئی کہ کاش یہ کلمہ گو اس کلمے کے  معنی سمجھ جائیں ، اپنے عقائد قرآن اور احادیث کے مطابق کرلیں تاکہ اللہ تعالیٰ کی پکڑ اور اس کے عذاب سے بچ جائیں۔

اس سلسلے میں ہماری گزارش ہے کہ سب سےپہلے ہماری ویب کے مضمون ’’ لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ ‘‘ کا مطالعہ ضرور کریں، اور دوسری گزارش یہ کہ اس ویب میں جہاں کہیں بھی کوئی غلطی یا خلاف قرآن و حدیث  کوئی بات محسوس کریں توہمیں لازمی مطلع فرما کر ہماری اصلاح فرما دیں۔ شکریہ

Categories
Uncategorized

کیا نبی ﷺ کی ازواج کا شمار اہل بیت میں ہوتا ہے ؟

Categories
Uncategorized

سمرہ بن جندب ؓ والی حدیث پر اعتراضات کا جواب

ابتدائیہ:

اس سلسلے میں پیش کی جانے والی احادیث صحیحہ چونکہ ان فرقہ پرستوں کے عقائد کو کلعدم قرار دیتی ہیں اس لئے ان لوگوں نے ان احادیث کے بارے میں لوگوں میں شکوک پھیلادئے ہیں اور چاہتے ہیں کہ کسی طرح لوگوں کی نگاہ میں بخاری کی ان احادیث کو مشتبہ بنا دیا جائے۔ لہذا ان شکوک کا کتاب اللہ کے حوالے سے کا مطالعہ کرتے ہیں۔

اس بارے  بیان کردہ  سمرۃ بن جندب رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی بخاری کی حدیث جس میں نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو انسانوں کی موت کے بعدسے قیامت کے دن تک ہونے والے عذاب (عذاب قبر) اور مومنوں اور شہداء کو قیامت تک عطا ہونے والی راحتیں دکھائی گئیں اور آپ  ؐ  کوآپکا اپنا وفات کے بعد ملنے والا مقام بھی دکھایا گیا، چونکہ یہ حدیث ان فرقہ پرستوں کے عقائد کو مکمل طور پر باطل قرار دیتی ہے اس لئے اس حدیث سے جان چھڑانے کے لئے لوگوں کوبہکایا جاتا ہے کہ:

اعتراض نمبر 1 :

۱۔ یہ محض ایک خواب تھا اور حقیقت میں ویسا ہی نہیں ہوتا جیسا کہ دیکھا جاتا ہے، جیسا کہ ابراہیم علیہ السلام نے دیکھا کہ وہ اپنے بیٹے کو ذبح کررہے ہیں لیکن انھوں نے ذبح نہیں کیا بلکہ صرف اسے لٹا دیا تھا۔ اسی طرح یوسف علیہ السلام نے خواب میں دیکھا کہ سورج چاند اور ستارے ان کو سجدہ کررہے ہیں لیکن ان کو انسانوں نے سجدہ کیا۔ اسی طرح بہت سے خوابوں میں جو دیکھا گیا بالکل وہی نہیں ہوا بلکہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے انکی تعبیر فرمائی۔

وضاحت:

انبیاء علیھم السلام کے خواب

عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ أَوَّلُ مَا بُدِئَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْوَحْيِ الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ فِي النَّوْمِ فَکَانَ لَا يَرَی رُؤْيَا إِلَّا جَائَتْ مِثْلَ فَلَقِ الصُّبْحِ

( عن عائشہ ؓ ، بخاری، بدء الوحی ، كَيْفَ كَانَ بَدْءُ الوَحْيِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ )

عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہیں کہ پہلے پہلے وحی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم پر اترنی شروع ہوئی وہ اچھے خواب تھے جو بحالت نیند آپ صلی اللہ علیہ و سلم دیکھتے تھے۔ چناچہ جب بھی آپ صلی اللہ علیہ و سلم خواب دیکھتے تو وہ صبح کی روشنی کی طرح ظاہرہوجاتا۔“

قرآن مجید میں نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو دکھائے گئے ایک خواب کیلئے فرمایا گیا:

لَـقَدْ صَدَقَ اللّٰهُ رَسُوْلَهُ الرُّءْيَا بِالْحَقِّ ۚ لَتَدْخُلُنَّ الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ اِنْ شَاۗءَ اللّٰهُ اٰمِنِيْنَ ۙ مُحَلِّقِيْنَ رُءُوْسَكُمْ وَمُقَصِّرِيْنَ ۙ لَا تَخَافُوْنَ ۭ فَعَلِمَ مَا لَمْ تَعْلَمُوْا فَجَــعَلَ مِنْ دُوْنِ ذٰلِكَ فَتْحًا قَرِيْبًا

(الفتح: 27)

”فی الواقع اللہ نے اپنے رسول کو سچا خواب دکھایا تھا جو ٹھیک ٹھیک حق کے مطابق تھا انشاء اللہ تم ضرور مسجدحرام میں پورے امن کے ساتھ داخل ہوگے اپنے سر منڈھواؤگے اور بال ترشواؤگے اور تمھیں کوئی خوف نہ ہوگا۔ وہ اس بات کو جانتا تھا جسکو تم نہیں جانتے تھے اس لئے وہ خواب پورا ہونے سے قبل اس نے یہ قریبی فتح تمکو عطا فرمادی۔“

اسی طرح احادیث میں نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے اور بھی کئی خوابوں کا تذکرہ ملتا ہے جنکی تعبیر دیکھے گئے کے مطابق تھی۔

نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا :

قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُرِيتُکِ قَبْلَ أَنْ أَتَزَوَّجَکِ مَرَّتَيْنِ رَأَيْتُ الْمَلَکَ يَحْمِلُکِ فِي سَرَقَةٍ مِنْ حَرِيرٍ فَقُلْتُ لَهُ اکْشِفْ فَکَشَفَ فَإِذَا هِيَ أَنْتِ فَقُلْتُ إِنْ يَکُنْ هَذَا مِنْ عِنْدِ اللَّهِ يُمْضِهِ ثُمَّ أُرِيتُکِ يَحْمِلُکِ فِي سَرَقَةٍ مِنْ حَرِيرٍ فَقُلْتُ اکْشِفْ فَکَشَفَ فَإِذَا هِيَ أَنْتِ فَقُلْتُ إِنْ يَکُ هَذَا مِنْ عِنْدِ اللَّهِ يُمْضِهِ

( عن عائشہ ؓ ، بخاری کتاب النکاح ، بَابُ النَّظَرِ إِلَى المَرْأَةِ قَبْلَ التَّزْوِيجِ )

”اے عائشہ ؓ تم مجھے خواب میں دوبار دکھائی گئیں کہ ایک شخص ریشمی کپڑے میں تمہیں اٹھائے ہوئے کہہ رہا تھا کہ یہ تمہاری بیوی ہے۔“

کیا عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی بیوی نہیں بنیں؟

نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا :

عَنْ أَبِي مُوسَی أُرَاهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ رَأَيْتُ فِي الْمَنَامِ أَنِّي أُهَاجِرُ مِنْ مَکَّةَ إِلَی أَرْضٍ بِهَا نَخْلٌ فَذَهَبَ وَهَلِي إِلَی أَنَّهَا الْيَمَامَةُ أَوْ هَجَرُ فَإِذَا هِيَ الْمَدِينَةُ يَثْرِبُ

( عن ابی ہریرۃ ؓ ، بخاری، کتاب مناقب الانصار ، بَابُ هِجْرَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابِهِ إِلَى المَدِينَةِ )

”میں نے خواب میں دیکھا کہ اس زمین کی طرف ہجرت کررہا ہوں جہاں کھجور کے درخت ہیں۔ میرا خیال تھا کہ وہ یمامہ یا حجر ہے لیکن وہ مدینہ کی زمین تھی جس کا نام یثرب ہے۔“

اور نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے مدینہ ہی کی طرف ہجرت فرمائی۔

نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے لیلۃ القدر کیلئے فرمایا:

فَإِنِّي أُرِيتُ لَيْلَةَ الْقَدْرِ وَإِنِّي نُسِّيتُهَا وَإِنَّهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ فِي وِتْرٍ وَإِنِّي رَأَيْتُ کَأَنِّي أَسْجُدُ فِي طِينٍ وَمَائٍ وَکَانَ سَقْفُ الْمَسْجِدِ جَرِيدَ النَّخْلِ وَمَا نَرَی فِي السَّمَائِ شَيْئًا فَجَائَتْ قَزْعَةٌ فَأُمْطِرْنَا

( عن ابی سلمۃ ؓ ، بخاری ، کتاب الاذآن ، بَابُ السُّجُودِ عَلَى الأَنْفِ، وَالسُّجُودِ عَلَى الطِّينِ)

میں نے خواب میں دیکھا کہ میں پانی اور کیچڑ میں سجدہ کررہا ہوں۔“ صحابی ئرسول ؐ فرماتے ہیں ”یکایک بادل کا ایک ٹکڑا نمودار ہوا اور بارش ہونے لگی یہاں تک کہ مسجد کی چھت جو کھجور کی ٹہنیوں سے بنی ہوئی تھے ٹپکنے لگی اور صلواۃ ادا کی گئی تو میں نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم پانی اورکیچڑ میں سجدہ کررہے ہیں یہاں تک کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی پیشانی پر مجھے کیچڑ کا اثر دکھائی دیا۔“

نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے خواب میں دیکھا اور فرمایا :

نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي عُرِضُوا عَلَيَّ غُزَاةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ يَرْکَبُونَ ثَبَجَ هَذَا الْبَحْرِ مُلُوکًا عَلَی الْأَسِرَّةِ أَوْ مِثْلَ الْمُلُوکِ عَلَی الْأَسِرَّةِ

( عن انس بن مالک ؓ ، بخاری ، کتاب الجہاد و سیر ، بَابُ رُكُوبِ البَحْرِ )

میری امت کے کچھ لوگ اللہ کی راہ میں (جہاد کیلئے)سمندر میں سوار ہونگے۔“

نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا یہ خواب بھی جیسا دیکھا گیا ویسا ہی ظاہر ہوا۔

ابراہیم علیہ السلام کے خواب کا تذکرہ قرآن کریم میں اسطرح فرمایا گیا ہے:

فَلَمَّا بَلَــغَ مَعَهُ السَّعْيَ قَالَ يٰبُنَيَّ اِنِّىْٓ اَرٰى فِي الْمَنَامِ اَنِّىْٓ اَذْبَحُكَ فَانْظُرْ مَاذَا تَرٰى ۭ قَالَ يٰٓاَبَتِ افْعَلْ مَا تُــؤْمَرُ ۡ سَتَجِدُنِيْٓ اِنْ شَاۗءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰبِرِيْنَ ؁فَلَمَّآ اَسْلَمَا وَتَلَّهٗ لِلْجَبِيْنِ ؀وَنَادَيْنٰهُ اَنْ يّـٰٓاِبْرٰهِيْمُ ؀قَدْ صَدَّقْتَ الرُّءْيَا ۚ اِنَّا كَذٰلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِيْنَ ؁اِنَّ ھٰذَا لَهُوَ الْبَلٰۗــــؤُا الْمُبِيْنُ ؁وَفَدَيْنٰهُ بِذِبْحٍ عَظِيْمٍ ؁وَتَرَكْنَا عَلَيْهِ فِي الْاٰخِرِيْنَ ؀سَلٰمٌ عَلٰٓي اِبْرٰهِيْمَ

(الصفٰت: 102/109)

”جب وہ لڑکا اسکے ساتھ دوڑدھوپ کرنے کی عمر کو پہنچ گیا تو (ایک روز) ابراہیم ٌ نے اس سے کہا ’’بیٹا خواب میں دیکھتا ہوں کہ میں تجھے ذبح کررہا ہوں اب تو بتا تیراکیا خیال ہے؟“اس نے کہا ”ا با جان جو کچھ آپکو حکم دیا جارہا ہے اسے کرڈالیے انشاء اللہ آپ مجھے صا بر وں میں پائیں گے“ آخرکار جب ان دونوں نے سر تسلیم خم کردیا اور ابراہیم ؑ نے بیٹے کو ماتھے کے بل گرا دیا اور ہم نے ندا دی ”اے ابرہیم تو نے خواب سچا کر دکھایا“ ہم نیکی کرنے والوں کو ایسی ہی جزا دیتے ہیں۔ یقینا یہ ایک کھلی آزمائش تھی۔ اور ہم نے ایک بڑی قربانی فدیے میں دیکر اسے چھڑا لیا اور اسکی تعریف و توصیف ہمیشہ کیلئے بعد کی نسلوں میں چھوڑ دی۔ سلام ہو ابراہیم پر۔ہم نیکی کرنے والوں کو ایسی ہی جزا دیا کرتے ہیں۔“

ان لوگوں کا یہ کہنا درست نہیں کہ خواب ہوبہو اسی طرح کا نہیں ہوتا بلکہ ملتا جلتا ہوتا ہے۔ یعنی نعوذباللہ اللہ تعالی اپنے رسولوں پر جو وحی کرتا ہے بالکل ویسی ہی نہیں ہوتی۔کس قدر سچے ہوتے تھے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے خواب کہ کیچڑ میں سجدہ کرتے ہوئے دکھایا ہے اور دور دور تک بادل کا نام و نشان تک نہیں تھا لیکن یکایک بادل آتا ہے اور بارش ہو جاتی ہے۔ یہ لوگ خواہ کچھ بھی کہتے رہیں ہمارے لئے قرآن میں کی گئی اللہ کی تصدیق کافی ہے کہ ”اے ابراہیم تو نے خواب سچا کر دکھایا“۔

اوپر بیان کی گئی آیات نے وضاحت فرمادی کہ اللہ تعالی کو ابراہیم علیہ السلام کے بیٹے کا ذبح ہونا مطلوب نہیں تھا بلکہ یہ انکی آزمائش کی گئی تھی کہ وہ اللہ کے حکم پر کس قدر عمل کرنے والے ہیں انکے بیٹے نے بھی یہ نہیں کہا کہ اے والد صاحب جو کچھ خواب میں دیکھا جائے وہی کرناضروری نہیں ہوتا بلکہ اس سے ملتا جلتا ہوتا ہے اس خواب کا مطلب محض یہ ہے کہ آپ کوئی چیز اللہ کی راہ میں قربان کرینگے بلکہ ا نھوں نے فرمایا کہ اے میرے والد آپ وہی کریں جسکا آپکو حکم دیا گیا ہے۔

اس تفصیل سے یہ بات ثابت ہوئی کہ انبیاء علیہم السلام کے خواب سچے اور وحی کی ہی ایک صورت ہوتے ہیں، اسی لئے اسماعیل علیہ السلام نے اپنے والد ابراہیم علیہ السلام سے کہا کہ آپ کو جو حکم دیا گیا ہے آپ وہ کیجئے۔

نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے کچھ خواب ایسے بھی ہیں جن کی انھوں نے تعبیر بیان فرمائی ہے، مثلاًدودھ پیتا دیکھا اور اسکی تعبیر’’علم“ فرمائی، اسی طرح قمیص گھسٹتی ہوئی دیکھی اور اسکی تعبیر’’دین‘‘ اورپریشان عورت خواب میں دیکھی تواسکی تعبیر”وبا“ بیان فرمائی۔اسی طرح یوسف علیہ السلام کو جوخواب دکھایا گیا تھا اسکا بیان قرآن مجید میں اسطرح کیا گیا ہے:

وَرَفَعَ اَبَوَيْهِ عَلَي الْعَرْشِ وَخَرُّوْا لَهٗ سُجَّدًا ۚ وَقَالَ يٰٓاَبَتِ هٰذَا تَاْوِيْلُ رُءْيَايَ مِنْ قَبْلُ ۡ قَدْ جَعَلَهَا رَبِّيْ حَقًّا ۔

(یوسف:100)

اس نے والدین کو اٹھا کرتخت پر بٹھایا اور سب اسکے آگے سجدے میں جھک گئے۔ یوسف ؑ نے کہاابا جان یہ تعبیر ہے اس خواب کی جو میں نے دیکھا تھا میرے رب نے اسے حقیقت بنا دیا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔“

انبیاء علیہم السلام کو خواب کے ذریعے مستقبل میں ہونے والے واقعات سے بھی آگاہ کیا جاتا تھا اور حال کی بھی خبر دی جاتی تھی اور اسی طرح احکامات بھی دیے جاتے تھے۔ نبی صلی اللہ علیہ و سلم اور یوسف علیہ السلام نے خود ہی ایسے دیکھے گئے خوابوں کی وضاحت فرمادی کہ اس سے مراد یہ معاملہ ہے تو اس بارے میں تو کوئی دوسری بات کہنا ہی گمراہی ہے لیکن اگر انھوں نے اپنے کسی خواب کے متعلق بیان ہی نہیں کیا کہ اس سے مراد فلاں معاملہ ہے تو اسے جوں کا توں مان لینا ہی ایمان ہے۔نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے خواب کا تعین اپنے طرف سے کرنا کہ اس سے مراد وہ نہیں جو دیکھا گیا ہے بلکہ کچھ اور ہے، بہت بڑی جسارت ہے ایساکہنے والا انبیاء کے خوابوں کے وحی ہونے کا منکر ہے۔

اعتراض نمبر 2:

۲۔ یہ لوگ کہتے ہیں کہ خواب میں نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو عمر رضی اللہ تعالی عنہ کا محل دکھایا گیا جبکہ وہ ابھی زمین پر ہی زندہ تھے، اسی طرح رمیصا ء رضی اللہ تعالی عنہا کو جنت میں دکھایا گیا اور بلال رضی اللہ تعالی عنہ کے قدموں کی آواز سنائی گئی۔گویا کہ ا س کی تعبیر دکھائے جانے والے سے مختلف تھی۔

وضاحت:

کم فہم شخص بھی یہ بات آسانی سے سمجھ سکتا ہے کہ جب تینوں زندہ ہیں تو انکو جنت میں دکھایا جانا یا انکا محل دکھایاجانا محض اللہ تعالی کی طرف سے ان لوگوں کیلئے بشارت ہے۔ اور یہ کہنا کہ یہ خواب بھی ہوبہو ویسا نہیں ہوا جیسا دیکھا گیا تھا انتہائی کم علمی کی بات ہے۔ ہمارا ایمان ہے کہ ان افراد کی موت کے بعد ایسا ہی ہوا ہوگا جیسا نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو دکھایا گیا تھا۔

اعتراض نمبر 3 :

۳۔ اس حدیث کے حوالے سے یہ بھی کہا جاتا ہے کہ عمر، بلال اور رمیصاء رضی اللہ تعالی عنہم ابھی زمین پر زندہ تھے تو اس کا مطلب ہے کہ خواب میں کوئی عارضی یا تمثیلی جسم بنا کر دکھائے گئے اسی طرح سمرۃ بن جندب رضی اللہ تعالی عنہ والی حدیث میں دکھائے گئے جسم تمثیلی و عارضی تھے اور یہ کہ اس حدیث میں صرف یہ بتایا گیا ہے کہ قیامت کے بعد جھوٹے کو کیسے عذاب ہوگا، سود خوار کو کیا عذاب ملے گا۔

وضاحت:

ہوسکتا ہے کہ عمر رضی اللہ تعالی عنہ وغیرہ کے یہ جسم تمثیلی ہوں یا یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالی نے خواب میں وہ منظر دکھایا ہو جب یہ لوگ اپنی وفات کے بعد جنت میں داخل کردئیے جائیں گے جیسا کہ اللہ تعالی نے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو اللہ تعالی کی راہ میں جہاد کیلئے سمندری سفر کرنے والوں کو دکھا دیا جبکہ ان میں وہ لوگ بھی تھے کہ جو اسوقت تک پیدا ہی نہیں ہوئے تھے۔لیکن اس حدیث کو بنیاد بنا کر یہ لوگ سمرۃ بن جندب رضی اللہ تعالی عنہ والی حدیث کے بارے میں کسی کو کیسے گمراہ کرسکتے ہیں کیونکہ اس میں دکھائے جانے والے افراد فوت شدہ ہیں جیسا کہ فرشتوں نے کہا: أَمَّا الَّذِي رَأَيْتَهُ يُشَقُّ شِدْقُهُ فَکَذَّابٌ يُحَدِّثُ بِالْکَذْبَةِ فَتُحْمَلُ عَنْهُ حَتَّی تَبْلُغَ الْآفَاقَ”وہ شخص جھوٹا تھا جھوٹی باتیں بیان کرتا تھا اور اس بات کو لوگ لے اڑتے تھے یہاں تک کہ ہر طرف اسکا چرچا ہوتا تھا“، الْقِيَامَةِ وَالَّذِي رَأَيْتَهُ يُشْدَخُ رَأْسُهُ فَرَجُلٌ عَلَّمَهُ اللَّهُ الْقُرْآنَ فَنَامَ عَنْهُ بِاللَّيْلِ وَلَمْ يَعْمَلْ فِيهِ بِالنَّهَارِ”یہ وہ شخص تھا کہ جس کو اللہ تعالی نے قرآن کا علم دیا تھا لیکن وہ راتوں کو قرآن سے غافل سوتا رہا اور دن میں اسکے مطابق عمل نہ کیا“، وہ زنا کار تھے، وہ سود خور تھا۔ اسی طرح بتایا گیا کہ وہ ابراہیم علیہ السلام تھے، یہ شہداء کے گھر ہیں۔

بتائیے یہ افراد جن کو اسوقت عذاب دیا جارہا تھا کیا اس دنیا میں زندہ تھے یا دنیا سے جانے کے بعد یہ عذاب ہورہا تھا؟ اسی طرح جزا پانے والوں میں ابراہیم علیہ السلام مومنین اور شہداء تھے۔ کیا ابراہیم علیہ السلام اور شہداء بھی اسوقت دنیا میں زندہ تھے؟دراصل یہ مقام تو ہے ہی موت سے ہمکنار ہو جانے والوں کا۔ جب نبی صلی اللہ علیہ و سلم فرشتوں سے فرماتے ہیں کہ ”مجھے چھوڑ دو کہ میں اپنے گھر میں داخل ہوجاؤں“ توفرشتے جواب دیتے ہیں ”ابھی آپؐ کی عمر کا کچھ حصہ باقی ہے جس کو آپ ؐنے پورا نہیں کیا ہے جب آپ ؐا س کو پورا کرلیں گے تواپنے اسی گھر میں آجائنگے“۔

معلوم ہوا کہ یہ مقام بھی فرضی نہیں بلکہ حقیقی ہے اور ملنے والی جزا و سزا بھی فرضی نہیں دکھائی جارہی بلکہ حقیقی ہے جیسا کہ فرشتوں نے کہا یفعل بہ الیٰ یوم القیامۃ ”یہ اسکے ساتھ قیامت تک ہوتا رہیگا“۔

مزید یہ کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے صرف خواب میں ہی عذاب قبر ہوتے ہوئے نہیں دیکھا بلکہ صلواۃ الکسوف کے موقع پر بھی آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے اس قسم کے عذاب کے مناظردیکھے۔ اسی طرح دیگراحادیث میں بھی فوت شدہ افراد کیلئے جزا وسزاکا بیان کیا گیا ہے۔

مزید یہ کہنا کہ یہ سب جو دکھایا گیا ہے وہ قیامت کے بعد کے عذاب ہیں کہ جھوٹے کو ایسے عذاب ہوگا اور زناکاروں کو اسطرح، محض فریب کاری ہے۔ فرشتے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے

کہہ رہے ہیں کہ ”یہ اسکے ساتھ قیامت تک ہوتا رہے گا“ اور یہی بات نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بیان فرمائی کہ یہ عذاب ا س کو قیامت تک ہوتا ر ہے گا یعنی قیامت کے دن ختم ہوجائے گا۔ اور یہ لوگ ہیں کہ دعویٰ تو نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے امتی ہونے کا کرتے ہیں لیکن رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی بات کو رد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ عذاب قیامت کے دن سے شروع ہوگا۔بتائیے کسقدر تضاد ہے، اسے ایمان کہا جائے یا کفر؟

پھر انکا یہ کہنا کہ”جیسا دیکھا جاتا ہے بالکل ویسا ہی نہیں ہوتا بلکہ ملتا جلتا ہوتا ہے“، یہ کس کی تشریح ہے کیا نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ایسا فرمایا ہے؟ ”ملتا جلتا ہوگا“ سے کیا مراد ہے؟ عمر رضی اللہ تعالی عنہ کو محل نہیں ملیگاکچھ اور ملے گا؟بلال رضی اللہ تعالی عنہ کیا جنت میں قدموں پر نہیں چلیں گے؟جھوٹے شخص کا منہ نہیں ناک چیری جائیگی؟

اعتراض نمبر 4

4۔ یہ فرقہ پرست کہتے ہیں ”اس حدیث میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ”مجھے ارض مقدس لے گئے“۔زمین کالفظ بتا رہا ہے کہ اسی زمین کی بات ہے۔ اکثر علماء نے اس سے مرادبیت المقدس لیا ہے اور کسی نے شام کی زمین“۔

وضاحت:

اللہ تعالی قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ جب اللہ سے ڈرنے والے جنت میں داخل کئے جا ئیں گے:

وَقَالُوا الْحـَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْ صَدَقَنَا وَعْدَهٗ وَاَوْرَثَنَا الْاَرْضَ نَـتَبَوَّاُ مِنَ الْجَــنَّةِ حَيْثُ نَشَاۗءُ ۚفَنِعْمَ اَجْرُ الْعٰمِلِيْنَ

(الزمر: 74)

”اور وہ کہیں گے اللہ کا شکر ہے کہ جس نے ہم سے اپنے وعدے کو سچا کر دکھایا اور ہمیں زمین کا وارث بنا دیا ہم جنت میں جس جگہ چاہیں رہیں“۔

قرآن کی آیت نے وضاحت کردی کہ جنت کی زمین کو بھی ”ارض“ کہا گیا ہے۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ ان سب فرقوں کا عقیدہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم مدینہ والی قبر میں زندہ ہیں اس حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا مقام دکھایا گیا ہے اور فرشتوں نے یہی کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم اپنی دنیاوی زندگی پوری کر کے اپنے اس مقام میں آجائیں گے۔ عالم برزخ کی بجائے اگر یہ لوگ ارض مقدس سے مراد بیت المقدس لیتے ہیں تو پھر نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو مدینہ والی قبر کی بجائے بیت المقدس میں زندہ کیو ں نہیں مانتے؟ ملاحظہ فرمایا انکے عقائد کا تضاد! اسی طرح انکا عقیدہ ہے کہ ہر شخص مرنے کے بعد اپنی اسی ارضی قبر میں عذاب و جزا کا دور گذارتا ہے جو کہ دنیا بھر میں پھیلی ہوئی ہیں۔ جبکہ اس حدیث کی رو سے یہ وہ جگہ ہے جہاں موت سے ہمکنار ہونے والا ہر شخص جاتا ہے اور وہاں ہی اسکو قیامت تک کا یہ دور گذارنا ہوتا ہے۔اگر یہ فرقہ پرست اس جگہ کو عالم برزخ کے بجائے بیت المقدس قرار دیتے ہیں تو پھر انکا عقیدہ ہونا چاہیے کہ ہر شخص مرنے کے بعد اس ارضی قبر کی بجائے بیت المقدس میں عذاب دیا جاتا ہے۔ پھر یہ عذاب قبر کہاں رہا عذاب بیت المقدس بن گیا!

قرآن و حدیث میں انبیا ء و شہداء جنتوں میں موجود بیان کئے گئے ہیں اور اس حدیث میں انبیاء و شہداء بھی دکھائے گئے ہیں تو کیا انکا عقیدہ ہے کہ جنت بھی بیت المقدس میں ہے۔

جب کتاب اللہ کے بجائے منطق کو ایمان کی اساس بنایا جائے تو پھر انسان اسی طرح گمراہ ہوجایاکرتا ہے۔

اعتراض نمبر 5 :

5  کہا جاتا ہے کہ کیا آدم علیہ السلام سے لیکر اسوقت تک صرف ایک ہی جھوٹا مرا تھا جو اسکو عذاب دیا جارہا تھا اور اسی طرح ایک ہی عالم قرآن اور ایک ہی سود خور؟

وضاحت:

یہ لوگ اسے قیامت کے بعد ہونے والا عذا ب قرار دیتے ہیں تو کیا ازل سے لیکر ابد تک صرف ایک ہی جھوٹا مرے گا، ایک ہی قرآن کا بے عمل عالم اور ایک ہی سود خور؟

اس حدیث میں تو اس بات کی وضاحت ہے کہ مرنے کے بعد انسان کہاں جاتا ہے، اور یہ کہ موت سے ہمکنار ہوتے ہی اسکی آ خرت شروع ہوجاتی ہے جو کچھ دنیا میں کرکے آیا ہے اب اسکے مطابق ا س کو جزا و سزا ملنی شروع ہوجاتی ہے اور یہ کہ برزخ کا یہ دور قیامت تک چلے گا۔ ایک ہی رات میں ساری دنیا کے تمام افراد کے عذاب نہیں دکھائے گئے، بلکہ چند نمونے دکھائے گئے ہیں۔

اعتراض نمبر 6 :

6اس حدیث میں فرمایا گیا ہے کہ اللہ تعالی نے انکی روحوں کو سبز اڑنے والے جسموں میں ڈالدیا ہے جبکہ اس حدیث میں تو شہداء انسانی روپ میں دکھائے گئے ہیں۔

وضاحت:

صرف غزوہ احد کے شہداء کیلئے فرمایا گیا ہے کہ اللہ تعالی نے انکی روحوں کو سبز اڑنے والے جسموں میں ڈالدیا، دنیا کے تمام شہداء کے لیے نہیں، جیسا کہ غزوہ مؤتہ کے شہداء میں صرف جعفر بن ابی طالب رضی اللہ تعالی عنہ کیلئے اُڑنے والے جسم کا ذکر ہے۔

اعتراض نمبر 7 :

7 کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی حدیث ہے کہ جنت میں سب لوگ جوان ہوں گے لیکن اس حدیث میں تو بچے، جوان اور بوڑھے دکھائے گئے ہیں۔

وضاحت:

دراصل یہ سب جہالت کی باتیں ہیں جنکے ذریعے یہ لوگوں کو صراط مستقیم سے ہٹانا چاہتے ہیں اس حدیث میں جو بیان کیا گیا ہے وہ سارا برزخی دور ہے اور جب قیامت کے بعد لوگ جنت میں داخل کئے جا ئیں گے تو سب جوانی کی حا لت میں ہونگے۔ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنے فرزند کیلئے فرمایا کہ ”جنت میں انکے لئے ایک دودھ پلانے والی ہے“،نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا یہ بیان تو اس برزخی دور کے لیے ہے ورنہ کیا جنت میں بھی وہ ایک دودھ پیتا بچہ ہونگے؟

اعتراض نمبر 8 :

8 ۔ پھر یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اس حدیث میں قرآن کے ایک عالم کا عذاب دکھایا گیا ہے جبکہ اسوقت تک تو قرآن نازل ہورہا تھا پس ثابت ہوا کہ یہ قیامت کے بعد کے عذاب ہیں۔

وضاحت:

اللہ تعالی کی نازل کردہ تمام کتابیں قرآن ہی تھیں انہیں بھی قرآن ہی کہا گیا ہے۔اللہ تعالی فرماتا ہے:

كَمَآ اَنْزَلْنَا عَلَي الْمُقْتَسِمِيْنَ ۔ ۔ الَّذِيْنَ جَعَلُوا الْقُرْاٰنَ عِضِيْنَ

(لحجر:90/91 )

”یہ اسی طرح کی تنبیہ ہے جیسی ہم نے ان تفرقہ پردازوں کی طرف بھیجی تھی جنہوں نے قرآن کو ٹکڑے ٹکڑ ے کرڈالاتھا“۔

بخاری میں روایت ملتی ہے :

عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ هُمْ أَهْلُ الْکِتَابِ جَزَّئُوهُ أَجْزَائً فَآمَنُوا بِبَعْضِهِ وَکَفَرُوا بِبَعْضِهِ

( عن ابن عباس ؓ ، بخاری، تفسیر القرآن ، بَابُ قَوْلِهِ: {الَّذِينَ جَعَلُوا القُرْآنَ عِضِينَ} [الحجر: 91])

’’عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما فرماتے ہیں کہ”وہ اہل کتاب ہی ہیں جنہوں نے ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا تھابعض حصوں پر ایمان لائے اور بعض کا کفر کیا“۔

حدیث میں آتاہے :

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: خُفِّفَ عَلَى دَاوُدَ القِرَاءَةُ، فَكَانَ يَأْمُرُ بِدَابَّتِهِ لِتُسْرَجَ، فَكَانَ يَقْرَأُ قَبْلَ أَنْ يَفْرُغَ – يَعْنِي – القُرْآنَ

( عن ابی ہریرۃ ؓ ، بخاری، کتاب تفسیر القرآن ، بَابُ قَوْلِهِ: {وَآتَيْنَا دَاوُدَ زَبُورًا} )

”داؤد علیہ السلام پر قرآن کی قرأت اتنی آسان ہو گئی تھی کہ آپ گھوڑاکسنے کا حکم دیتے اور اس سے قبل قرآن پڑھ کر فارغ ہوجاتے“۔

معلوم ہواکہ جس کے متعلق فرشتوں نے بتایا کہ وہ قرآن کا عالم تھا تو وہ گذشتہ کتب آسمانی میں سے کسی کا عالم تھا۔

اعتراض نمبر 9 :

۹۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ انبیاء و شہداء کیلئے تو کتاب اللہ یہ بیان کرتی ہے کہ وہ جنت میں داخل کر دئیے جاتے ہیں لیکن اس حدیث میں تو عام مومن بھی جنت میں دکھائے گئے ہیں اور فاسق جہنم میں۔ اسطرح یہ حدیث کتاب اللہ کے بیان کا انکار کرتی ہے۔

وضاحت:

دراصل عذاب یا راحت قبر کے معاملے کا تعلق آخرت سے ہے، جو کچھ ایک انسان کوقیامت کے بعد ملنا ہے یہ اسی کا ایک تسلسل اور ایک حصہ ہے۔

اعتراض نمبر 10 :

۱۰۔آخر میں کہنے لگتے ہیں کیا اللہ ظالم ہے کہ ایسے جسموں (برزخی جسموں) کو سزا دے جنہوں نے یہ قصور ہی نہیں کئے ہوں۔

وضاحت:

اللہ تعالی فرماتا ہے:

اِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا بِاٰيٰتِنَا سَوْفَ نُصْلِيْهِمْ نَارًا ۭ كُلَّمَا نَضِجَتْ جُلُوْدُھُمْ بَدَّلْنٰھُمْ جُلُوْدًا غَيْرَھَا لِيَذُوْقُوا الْعَذَابَ ۭ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَزِيْزًا حَكِيْمًا

(النساء:56)

جن لوگوں نے ہماری آیات کو جھٹلایاانہیں ہم ضرور آگ میں ڈالیں گے اور جب ان کی کھالیں جل جائیں گی توہم ا ن کو دوسری کھالوں سے بدل د یں گے کہ وہ عذاب کا مزہ چکھتے رہیں“

نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی حدیث کے بارے میں شکوک پھیلانے والے یہ لوگ اب جواب دیں کہ نئی بنائی جانے والی ان کھالوں نے کونسے گناہ کئے ہونگے کہ انکو جلایا جائیگا؟ مزید ان سے پوچھا جائے کہ شہداء نے زخم کونسے جسموں پر کھائے تھے؟ حمزہ، انس بن نضر اور عبداللہ بن عمرو بن حرام رضی اللہ تعالی عنہم نے کونسے جسموں پر زخم کھائے تھے؟ اللہ تعالی نے کیوں ان جسموں کو نواز دیا جنہوں نے جہاد میں حصہ ہی نہیں لیا تھا؟ قرآن و حدیث کے مقابلے میں عقل کے گھوڑے دوڑانے کی بجائے سمعنا و اطعنا کا انداز اختیار کریں۔ چونکہ اور چناچہ، اگر و مگر، کیوں اور کیسے منکروں اور فاسقوں کا وطیرہ ہے۔

اعتراض نمبر 11 :

۱۱۔ اہلحدیثوں کے ایک بڑے مفتی اس حدیث کے بارے میں بیان فرماتے ہیں:

”آپ ﷺ کو نافرمان انسانوں کو عذاب دینے کے کچھ مشاہدات بھی کرائے گئے تھے جیسا کہ خواب میں آپ ﷺ نے کچھ نافرمانوں کومبتلائے عذاب دیکھا تھا ان واقعات کا تعلق عام عذاب سے ہے خاص عذاب القبر سے نہیں اور یہ احادیث بتارہی ہیں کہ عذاب القبر ایک بالکل الگ شے ہے جیسا کہ ان احادیث کے مطالعہ سے یہ حقیقت الم نشرح ہوتی ہے معلوم ہوا کہ عذاب القبر اور عذاب جہنم دونوں الگ الگ حقیقتیں ہیں جن پر ایمان رکھنا ضروری ہے۔…………میت کو قبر مین دفن کیا جاتا ہے اور اور وہ یہاں عذاب قبر سے دوچار ہوتی ہے۔ اور جب قیامت قائم ہوگی تو پھر عذاب قبر کا سلسلہ ختم ہوجائے گا اور صرف عذاب جہنم باقی رہ جائے گا اور پھر جسم و روح کے مجموعے (مکمل انسان) کو جہنم میں داخل کردیا جائے گا۔ڈاکٹر موصوف جس چیز کو”برزخی قبر“سے تعبیر کرتے ہیں وہ یہی عذاب جہنم ہے کہ جس سے انہیں مغالطہ ہوا ہے یا وہ مغالطہ دے رہے ہیں اور اس عذاب کا ان کو اقرار ہے مگر عذاب قبر کے وہ انکاری ہیں اور وہ اسی عذاب جہنم کوعذاب قبر ثابت کرنے کے درپے ہیں اور اسکے لئے انہیں صحیح بخاری اور مسلم تک کی احادیث سے انکار کرنا پڑ رہا ہے۔“(عقیدہ عذاب قبر، صفحہ ۶۳۔۷۳،از ابوجابر عبد اللہ دامانوی)

وضاحت:

اپنی اس تحریر میں انہوں جو باتیں بیان کی ہیں وہ یہ ہیں کہ چونکہ یہ عذاب اس قبر میں نہیں ہورہا تو یہ عذاب قبر نہیں بلکہ جہنم میں دیا جانے والا عام عذاب ہے،دوسری بات یہ ہے کہ مرنے کے بعد ایک انسان کو دو عذاب ہوتے ہیں ایک اس کی روح کو دوسرا اس کے جسم کو۔روح کو جہنم میں اور جسم کو اس قبر میں۔برزخی قبر کوئی چیز نہیں ہے یہ صرف عذاب جہنم ہے جس کو عذاب قبر کہا جارہا ہے۔

سوال یہ ہے کہ مرنے کے بعد ہونے والا عذاب”عذاب قبر“ ہے یا”عذاب جہنم“؟

قرآن کریم میں مرنے کے بعد ہونے والے عذاب کی بابت جتنی بھی آیات آئی ہیں ان سب میں جہنم کا ہی لفظ بیان کیا گیا ہے، اسی طرح صلوٰۃ الکسوف کی تمام احادیث میں بھی عذاب کا مقام جہنم ہی بیان کیا گیا ہے جب کہ عمرو بن لحی اور ابو ثمامہ دونوں کا تعلق مشرکین مکہ ہی سے تھا جو اپنے مردے دفن کیا کرتے تھے۔اب چونکہ اس عذاب کے لئے قرآن و حدیث دونوں میں ایک ہی مقام یعنی جہنم بیان کیا جارہا تھا اوراس سے ان کے باطل عقیدے کی پول کھل رہی تھی کہ اسی جسم کے ساتھ اور اسی قبر میں عذاب ہوتا ہے تو اس لئے انہوں نے ایک نیا عقیدہ تخلیق کیا ہے کہ مرنے کے بعد ہونے والے عذاب کے دو حصے کرڈالے روح کو جہنم میں اور جسم کو یہاں اس قبر میں!حیرت کی بات ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنے فرزند ابراہیم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اسی قبر میں دفن کرنے کے باوجود اس جسم اور اس قبر کے بارے میں کوئی وضاحت نہ فرمائی بلکہ صرف جنت میں ان کو ملنے والی راحت کا ذکر رمایا،اسی طرح عمرو بن لحی و ابو ثمامہ۔ بالکل اسی طرح قرآن مجید میں بیان کئے گئے واقعات میں کہیں بھی یہ عقیدہ نہیں دیا گیا کہ آل فرعون کی روحوں کو وہاں عذاب ہو رہا ہے اور جسموں کو یہاں۔پھر آخر ان کے اس عقیدے کی بنیاد کیا ہے؟

بخاری میں بیان کردہ یہودی عورت والی روایت کے بارے میں بھی اسی قسم کی باتیں بیان کی جاتی ہیں لہذاضروری ہے کہ اسکی بھی ضاحت کردی جائے۔

یہودی عورت والی روایت اور فرقہ پرستوں کی غلط تشریحات

بخاری و دیگر کتب احادیث میں ایک حدیث بیان کی گئی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم ایک (فوت شدہ)یہودی عورت کے پاس سے گذرے اسکے گھر والے اس پر رو رہے تھے۔ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا یہ لوگ اس پر رو رہے ہیں اور اسے اسکی قبر میں عذاب دیا جارہا ہے۔یہ حدیث اس مقام و قبر کی مکمل وضاحت کرتی ہے کہ جہاں ایک فوت شدہ انسان کو جزا و سزا دی جاتی ہے۔ اس صحیح حدیث سے جان چھڑانے کیلئے انھوں نے یہ انداز اختیار کیا ہے کہ ”لتعذب“کا ترجمہ مستقبل میں کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اسکا ترجمہ اسطرح کیا جائیگا کہ ”اسکو عذاب دیا جائے گا اسکی قبر میں“ یعنی جب دفن ہو جائیگی۔

وضاحت:

جس طرح اردو میں ماضی، حال اور مستقبل کے علیحدہ علیحدہ صیغے ہوتے ہیں اس طرح عربی میں ماضی اور مضارع کا صیغہ ہوتا ہے۔ مضارع کے صیغے میں حال اور مستقبل دونوں زمانے ہوتے ہیں، لیکن سیا ق و سباق سے صحیح زمانے کا تعین کرلیا جاتا ہے۔

اس حدیث میں ”یبکون“ (رو رہے ہیں) بھی مضارع کا صیغہ ہے لیکن اسکا ترجمہ یہ لوگ ”رو رہے ہوں گے“ نہیں کرتے۔ ایک ہی جملے میں دو الفاظ مضارع کے صیغے میں ہیں لیکن ایک کا ترجمہ حال میں کررہے ہیں اور دوسرے کا مستقبل میں۔ اگر اس حدیث کے ان الفاظ ا”مستقبل“ میں

ترجمہ لیا جائیگا تو وہ اس طرح ہوگا ”یہ لوگ اس پر رو ر ئیں گے اور اس پر عذاب ہوگا اسکی قبر میں“۔ان دونوں صیغوں کا ترجمہ یا تو حال میں ہوگا یا پھرمستقبل میں ایک کا حال میں اور دوسرے کا مستقبل میں کرنا محض اپنے باطل عقیدے کے تحفظ کی ہی کوشش ہے۔ اس حدیث کادرست ترجمہ وہ ہے جو ہم نے لکھا ہے اور یہی ترجمہ کتب احادیث کا اردو ترجمہ کرنے والوں کے ترجمہ میں لکھاہوا ہے۔ مگرچونکہ یہ حدیث انکے جھوٹے عقائد کے خلا ف جاتی ہے تو یہ سٹپٹا گئے ہیں کہ اپنے باطل عقیدے کا دفاع کیسے کریں؟

اسی حدیث کے بارے میں یہ بات بھی کہی جاتی ہے کہ نسائی میں بھی یہ حدیث آئی ہے اور وہاں نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے قبر سے گزرنے کا ذکر ہے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ حدیث بخاری و مسلم یا نسائی میں جہاں بھی آئی ہے اس میں نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے قبر پر سے گذرنے کا ذکر کہیں بھی نہیں۔ نسائی کی جس حدیث کا یہ لوگ حوالہ دیتے ہیں وہ یہ روایت نہیں بلکہ ایک دوسری روایت ہے اور اس میں کسی یہودی عورت کا کوئی ذکر نہیں۔

Categories
Uncategorized

صوم رمضان

إِنَّ الْحَمْدَ لِلَّهِ، نَحْمَدُهُ وَنَسْتَعِينُهُ، مَنْ يَهْدِهِ اللهُ فَلَا مُضِلَّ لَهُ، وَمَنْ يُضْلِلْ فَلَا هَادِيَ لَهُ، وَأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، أَمَّا بَعْدُ

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا کُتِبَ عَلَیۡکُمُ الصِّیَامُ کَمَا کُتِبَ عَلَی الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِکُمۡ لَعَلَّکُمۡ تَتَّقُوۡنَ

( البقرہ : 183 )

’’اے ایمان والو! تم پر صیام فرض کیے گئے جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے تھے، تاکہ تم پرہیزگار بن جاؤ‘‘

سورہ بقرہ کی اس آیت میں ایمان والوں کو صوم کا حکم دیا جا رہا ہے۔ صوم ایک فرض عبادت ہے۔ ہمارے یہاں اسے روزہ کہا جاتا ہے ۔ روزہ فارسی کا لفظ ہے جبکہ قرآن و حدیث میں اسے صوم ہی کہا گیا ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا :

بُنِيَ الْإِسْلَامُ عَلَی خَمْسٍ شَهَادَةِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ وَإِقَامِ الصَّلَاةِ وَإِيتَائِ الزَّکَاةِ وَالْحَجِّ وَصَوْمِ رَمَضَانَ

( بخاری، کتاب الایمان، بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «بُنِيَ الإِسْلاَمُ عَلَى خَمْسٍ» )

’’ اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے۔اس بات کی گواہی کہ کوئی نہیں ہے معبود سوائے اللہ کے اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں، اور صلاۃ قائم کرنا،اور زکواۃ دینا ، اور حج اور ماہ رمضان کے صوم‘‘۔

صوم کا مادہ باب نَصَرَ سے صَامَ آیا ہے۔جس کے معنی رکے رہنے کے ہیں۔ ماءٌ صَا ئمٌ کے معنی رکا ہوا پانی۔ اصطلاح میں کھانے پینے، جنسی خواہشات اور تمام منکرات سے صبح صادق سے سورج غروب ہونے تک ’’ رکے ‘‘ رہنے کو ’’ صوم ‘‘ کہتے ہیں۔

صوم کس پر فرض ہیں ؟

سورہ بقرہ میں فرمایا :

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا کُتِبَ عَلَیۡکُمُ الصِّیَامُ کَمَا کُتِبَ عَلَی الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِکُمۡ لَعَلَّکُمۡ تَتَّقُوۡنَ

( البقرہ : 183 )

’’اے ایمان والو! تم پر صیام فرض کیے گئے جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے تھے، تاکہ تم پرہیزگار بن جاؤ‘‘

یعنی صوم ایمان والوں پر فرض کئے گئے۔ ایمان والے کون ہوتے ہیں ؟ کیونکہ لوگ ایمان کا دعویٰ کرکے شرک بھی کرتے ہیں جیسا کہ سورہ یوسف میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :

﴿وَمَا يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ

[يوسف: 106]

’’اور نہیں ایمان لاتے ان میں اکثر اللہ پر مگر اس طرح کہ وہ (اس کے ساتھ دوسروں کو) شریک ٹھہراتے ہیں‘‘۔

یعنی دعویٰ تو اللہ پر ایمان کا ہوتا ہے لیکن اس کیساتھ اس کی مخلوق کو بھی اس کی ذات، صفات حقوق و اختیارات میں شریک کردیا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :

﴿ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَلَمۡ يَلۡبِسُوٓاْ إِيمَٰنَهُم بِظُلۡمٍ أُوْلَٰٓئِكَ لَهُمُ ٱلۡأَمۡنُ وَهُم مُّهۡتَدُونَ﴾

[الأنعام: 82]

’’جو لوگ ایمان لائے اور نہیں مخلوط کیا اپنے ایمان کو ظلم ( شرک) سے وہی ہیں کہ ان کے لیے ہی امن ہے اور وہی ہدایت پانیوالے ہیں ۔‘‘

بتایادیا گیا کہ ایمان وہ ہے کہ جس میں شرک کی آمیزش نہ ہو۔ ایک الٰہ واحد کے علاوہ کسی کو بھی اللہ کی صفات کا حامل نہ سمجھا جائےلیکن افسوس کہ آج ہماری قوم کا بھی وہی حال ہوگیا ہے جو سابقہ قوموں کا تھا کہ اللہ پر ایمان کا دعویٰ لیکن ساتھ ساتھ اس کے شریک بھی بنا لئے گئے۔ اگر ہم آج مسلمان کہلوانے والی اس قوم کے عقائد و اعمال پر نگاہ ڈالیں تو کثرت سے مشرکانہ عقائد و اعمال دکھائی دیتے ہیں۔

آج یہ کلمہ گو ایک طرف قل ہو اللہ احد پڑھتا ہے کہ اے اللہ تو یکتا ہے، تیرے جیسا اس کائنات میں کوئی نہیں لیکن جس طرح یہود و نصاریٰ نے اپنے اپنے انبیاء کو اللہ کی ذات سے منسوب کردیا تھا کہ یہ اللہ کے بیٹے ہیں اسی طرح آج اس قوم کا عقیدہ ہے کہ نبی ﷺ اللہ کی ذات کا ٹکڑا ہیں، یعنی عقیدہ نورٌ من نورٌ اللہ ۔گویا اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ ﷺ کی ذات ایک ہی ہے، نعوذوباللہ من ذالک۔یہ شرک فی الذات ہے۔

اسی طرح اس قوم کا دوسرا شرک فرقہ بندی ہے ، سورہ الروم آیت نمبر 31/32 میں اللہ تعالیٰ نے فرقہ بندی اور گروہ بندی کو مشرکانہ عمل بتایا اور ایمان والوں کو حکم دیا کہ تم ان جیسا نہ ہو جانا۔ سورہ انعام میں نبی ﷺ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ اے نبی ؐ! جنہوں نے اسلام میں فرقے اورگروہ بنائے آپ کا ان کیساتھ کوئی تعلق نہیں ہے، یعنی وہ نبی ﷺ کی امت میں سے نہیں۔

اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہوئے کسی فوت شدہ شخصیت کا وسیلہ بنانا بھی اسلام میں جائز نہیں۔ سورہ یونس آیت نمبر 18 میں اللہ تعالیٰ نے اسے شرک قرار دیا ہے۔ اللہ کی ذات کے لئے وسیلہ کیسا ؟ وہ تو ہر ہر لمحے اپنی ہر ہر مخلوق کی حالت جانتا ہے۔ اربوں کھربوں درختوں کے پتوں میں سے کوئی ایک پتابھی ایسا نہیں کہ جو ٹوٹ کر گرے اور اللہ تعالیٰ کو علم نہ ہو۔ وہی اکیلا عالم الغیب ہے اس کے علاوہ کوئی اور عالم الغیب نہیں، یہ بات اس نے سورہ انعام میں بیان کردی ہے ، اب کوئی کسی نبی ، ولی یا کسی ملنگ کو عالم الغیب مانے تو یہ اللہ کی اس صفت میں شرک ہے۔

اللہ تعالی ٰ ’’ داتا ‘‘ ( دینے والا ) پیدائش سے لیکر موت اور موت کے بعد ہر ہر چیز صرف وہی دیتا ہے، اب کوئی علی ہجویری کو داتا مانے تو یہ کھلا شرک ہے۔ کائنات کے سارے خزانوں کا مالک تن تنہا اللہ تعالیٰ ہے، کوئی علی ہجویری کو ’’ گنج بخش ‘‘ ( خزانے بخشنے والا ) سمجھے

تو یہ اللہ کی صفت میں شامل کردینا ہے۔ ’’ غوث الاعظم ‘‘ ( کائنات کا سب سے بڑا دعا سننے والا ، مدد کرنے والا ) صرف ایک اللہ تعالیٰ ہے اب کوئی عبد القادر جیلانی کو غوث الاعظم کہے تو اس سے بڑھ کر اللہ کی صفات اور اختیارات میں کیا شرک ہوگا( نعوذوباللہ من ذالک )۔

کائنات کی ہر چیز کا خالق، اس پر قدرت رکھنے والا صرف اللہ تعالیٰ ہے وہ ہی مدد پر قادر ہے اس کے علاوہ کسی اور کو مدد کے لئے پکارا جائے تو سورہ یونس میں اس فعل کو شرک قرار دیا ہے اور سور ہ الجن میں نبی ﷺ سے کہلوا دیا گیا میں صرف اپنے رب کو پکارتا ہوں ( کسی اور کو پکار کر ) اس کے ساتھ شریک نہیں کرتا۔

الغرض کہ اولادیں دینے والا، کسی بھی قسم کا نفع یا نقصان دینے والا، مفلسی میں غنی کرنے والا، بیماری میں شفاء دینے والا صرف اللہ کو سمجھا جائے اور اسی پر توکل ہو۔ پھر ایسا نہ ہو کہ مدد کے لئے کسی نبی ، ولی یا دوسرے انسانوں کو پکاراجائے۔ قبر میں مدفون افراد کو زندہ سمجھ کر ان کے نام نذر ونیاز ( مالی عبات ) کی جائے یا تعویذ ،کالے پیلےدھاگے، کڑے یا چھلوں پر یقین کرکے اسے پہنا جائے یہ سارے اعمال مشرکانہ ہیں۔

اللہ تعالیٰ کے دین، دین اسلام کیساتھ ساتھ تصوف، جمہوریت ، سوشلزم ، یا دوسرے فرقہ وارانہ مذاہب جیسے اہلحدیث، سلفی، دیوبندی، بریلوی ، شیعہ ، حنفی، مالکی، شافعی و حنبلی کو بھی قبول کرلیا جائے تو اللہ تعالیٰ نے سورہ الشوریٰ میں اسے مشرکانہ فعل قرار دیا ہے۔ حکم صرف اللہ کا ماننا ہے، اللہ تعالیٰ نے ہمارا نام مسلمین رکھا ہےلیکن لوگوں نے اپنے اپنے فرقوں کے علماء و مفتیان کے کہنے پر اپنی پہچان اس سے ہٹ کر بنالی ہے، گویا اللہ کے حکم کے سامنے اپنے فرقوں کے بڑوں کا حکم قبول کرلیا۔ سورہ توبہ میں اللہ تعالیٰ نے اس قسم کے عمل کو اپنے مولیوں اور پیروں کو رب بنانا قرار دیا ہے۔

تو جو اس قسم کے تمام عقائد و اعمال سے دور ہو جائے ایسے گروہ اور فرقے جو اس قسم کے کفریہ و شرکیہ عقائد و اعمال میں ملوث ہیں چھوڑ دے، ایک اللہ کو اپنا کارساز مان لے، صرف قرآن و حدیث صحیحہ کو اپنا لے وہی در حقیقت مومن ہے اور ایسے ہی افراد پر صوم فرض کئے گئے ہیں۔

سورہ بقرہ میں صوم کا حکم دیتے ہوئے فرمایا گیا :

﴿أَيَّامٗا مَّعۡدُودَٰتٖۚ فَمَن كَانَ مِنكُم مَّرِيضًا أَوۡ عَلَىٰ سَفَرٖ فَعِدَّةٞ مِّنۡ أَيَّامٍ أُخَرَۚ وَعَلَى ٱلَّذِينَ يُطِيقُونَهُۥ فِدۡيَةٞ طَعَامُ مِسۡكِينٖۖ فَمَن تَطَوَّعَ خَيۡرٗا فَهُوَ خَيۡرٞ لَّهُۥۚ وَأَن تَصُومُواْ خَيۡرٞ لَّكُمۡ إِن كُنتُمۡ تَعۡلَمُونَ﴾

[البقرة: 184]

’’یہ گنتی کے دن ہیں (جن کو پورا کرنا ہے)، لیکن اگر تم میں سے، کوئی بیمار ہو یا سفر میں ہو تو وہ اور دنوں میں اس گنتی کو پورا کرے ۔ اور جو طاقت ہوتے ہوئے صوم نہ رکھنا چاہیں تو وہ بطور فدیہ ایک مسکین کو کھانا کھلا دیں۔ پھر جس نے بخوشی کچھ اضافی عمل کیا تو وہ اس کے لیے باعث خیر ہوگا، اور اگر تم صوم رکھو تو تمہارے لیے بہتر ہوگا اگر اس بات کو سمجھو۔‘‘

أَيَّامٗا مَّعۡدُودَٰتٖۚ ، گنتی کے چند دن۔ یہ کونسے ایام ہیں اگلی ہی آیت میں فرمایا گیا :

﴿شَهۡرُ رَمَضَانَ ٱلَّذِيٓ أُنزِلَ فِيهِ ٱلۡقُرۡءَانُ هُدٗى لِّلنَّاسِ وَبَيِّنَٰتٖ مِّنَ ٱلۡهُدَىٰ وَٱلۡفُرۡقَانِۚ فَمَن شَهِدَ مِنكُمُ ٱلشَّهۡرَ فَلۡيَصُمۡهُۖ وَمَن كَانَ مَرِيضًا أَوۡ عَلَىٰ سَفَرٖ فَعِدَّةٞ مِّنۡ أَيَّامٍ أُخَرَۗ يُرِيدُ ٱللَّهُ بِكُمُ ٱلۡيُسۡرَ وَلَا يُرِيدُ بِكُمُ ٱلۡعُسۡرَ وَلِتُكۡمِلُواْ ٱلۡعِدَّةَ وَلِتُكَبِّرُواْ ٱللَّهَ عَلَىٰ مَا هَدَىٰكُمۡ وَلَعَلَّكُمۡ تَشۡكُرُونَ﴾

’ماہ رمضان ہی وہ مہینہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا ہے جو لوگوں کے لیے ہدایت ہے اور ہدایت کی واضح دلیلوں پر مشتمل، اور (حق وباطل میں) فرق کرنے والا ہے، لٰہذا تم میں سے جو کوئی اس مہینے کو پائے وہ اس میں صائم رہے، البتہ جو مریض ہو یا سفر میں ہو تو وہ اس تعداد کو دوسرے دنوں میں پورا کرے۔ اللہ تم پر آسانی چاہتا ہے اور تمہیں مشکل میں نہیں ڈالنا چاہتا، تاکہ تم گنتی پوری کرو اور اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی ہدایت پر اس کی کبریائی بیان کرو اور شکر کرو۔‘‘

معلوم ہوا کہ ماہ رمضان کے صوم فرض ہیں، اور حکم ہے کہ ہر ایک ( صاحب ایمان ) صوم رکھے۔ بیماروں اور مسافروں کو یہ رخصت دی گئی کہ مسافر سفر کی حالت میں اور مریض بیماری کی وجہ سے اگر اس مہینے میں کچھ صوم نہ رکھ سکیں تو اس گنتی کو دوسرے دنوں میں پورا کر لیں۔ حدیث میں حاملہ اور رضاعت کرنے والی خواتین کے لئے بھی اس بات کی اجازت دی گئی ہے کہ ان کی یا بچے کی صحت کو خطرہ ہو تو وہ اس گنتی کو دوسرے دنوں میں پورا کر لیں {بخاری کتاب التفسیر ۔نسائی کتاب الصیام}۔

اسلامی احکامات کے نزول میں فطرت انسانی کے پیش نظر تدریج کا خیال رکھا گیا ہے۔ چنانچہ شروع میں اس بات کی رخصت دی گئی کہ طاقت ہونے کے باوجود جو لوگ صوم نہ رکھنا چاہیں وہ اس کے بدلے فدیہ دے سکتے ہیں یعنی ایک صوم کے بدلے ایک مسکین کو کھانا کھلا دیں، لیکن اضافی عمل کو مستحب قرار دیا گیا، یعنی کوئی ایک صوم کے بدلے ایک سے زیادہ مساکین کو کھانا دیدے یا فدیہ دینے کے بعد بھی صوم رکھ لے تو اس کے لئے زیادہ بہتر ہے۔ یہ رخصت بعد والی آیت کے نزول کے بعد ختم ہو گئی۔

آیت نمبر 185 پچھلی آیت کی ناسخ ہے یعنی اس کے ذریعے عام حالات میں صوم کے بدلے فدیہ دینے کی رخصت منسوخ ہو گئی ۔ البتہ مریض اور مسافر کے لیے صوم نہ رکھنے اور اس گنتی کو دوسرے دنوں میں پورا کرنے کی رخصت باقی رکھی گئی۔ حدیث میں عمر رسیدہ افراد یا دائمی مریضوں کے لیے صوم کے بدلے فدیہ دینے کی رخصت دی گئی ہے {بخاری: کتاب التفسیر ونسائی ۔کتاب الصیام}۔یعنی ایسے امراض جن میں صحت یاب ہو جانے کی جلد امید ہو اس میں جو صیام رمضان رہ جائیں تو ان کی گنتی بعد میں پوری کی جائے لیکن ایسے دائمی امراض جن میں صوم کیوجہ سے انسان کی بیماری بڑھ جانے کے زیاد ہ اندیشہ ہو یا وہ افراد ضعیف العمر ہوں تو ان کی طرف سے صیام رمضان نہ رکھنے کا فدیہ ادا کردیا جائے۔

اسی طرح مسافر کے لئے آزادی دی گئی ہے کہ وہ چاہے رکھے یا چاہے بعد میں گنتی پوری کرے۔ ایک سفر میں جب صوم رکھنے والوں کی حالت خراب ہو گئی تو غیر صائم سفر کرنے والوں نے ان کی خدمت کی تو نبی ﷺ نے فرمایا کہ آج صوم نہ رکھنے والے فضیلت لے گئے۔

مقصد صیام و فضیلت:

لَعَلَّکُمۡ تَتَّقُوۡنَ ، تاکہ تم پرہیز گار بن جاؤ۔

ماہ صیام ایمان والوں کی تربیت کا انتہائی قیمتی دورانیہ ہے، دن میں صوم اور رات میں قیام کے ذریعے تزکیہِ نفس یعنی اخلاقی خوبیاں پیدا کرنے اور زبان وجذبات پر قابو حاصل کرنے، سیرت وکردار کی اصلاح وتعمیر کرنے اور صبر وحلم کے اوصاف کو پروان چڑھانے کا بہترین موقع ملتا ہے لہٰذا ضروری ہے کہ صائم اس مقصد کو پیش نظر رکھے۔ حدیث میں بھی اس بات پر زور دیا گیا ہے چنانچہ نبی صلی الله عليه وسلم نے فرمایا کہ

مَنْ لَّمْ یَدَعْ قَوْلَ الزُّوْرِ وَالْعَمَلَ بِهِ فَلَیْسَ لِلہ حَاجَۃٌ فِیْ اَنْ یَّدَعَ طَعَامَہُ وَشَرَابَہُ

( بخاری، کتاب الصوم ، بَابُ مَنْ لَمْ يَدَعْ قَوْلَ الزُّورِ، وَالعَمَلَ بِهِ فِي الصَّوْمِ )

“یعنی جو کوئی غلط بات اور غلط کام نہ چھوڑے تو الله کو ضرورت نہیں کہ وہ اپنا کھانا پینا چھوڑ دے”

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الصِّيَامُ جُنَّةٌ فَلَا يَرْفُثْ وَلَا يَجْهَلْ وَإِنْ امْرُؤٌ قَاتَلَهُ أَوْ شَاتَمَهُ فَلْيَقُلْ إِنِّي صَائِمٌ مَرَّتَيْنِ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ تَعَالَی مِنْ رِيحِ الْمِسْکِ يَتْرُکُ طَعَامَهُ وَشَرَابَهُ وَشَهْوَتَهُ مِنْ أَجْلِي الصِّيَامُ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ وَالْحَسَنَةُ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا

( بخاری، کتاب التوحید ، بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {يُرِيدُونَ أَنْ يُبَدِّلُوا كَلاَمَ اللَّهِ})

’’ ابوہریرہ ؓ روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ صوم ڈھال ہے، اس لئے نہ تو بری بات کرے اور نہ جہالت کی بات کرے اگر کوئی شخص اس سے جھگڑا کرے یا گالی گلوچ کرے تو کہہ دے میں صائم ہوں، دو بار کہہ دے۔ (رسول اللہﷺ نے فرمایا) قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے کہ صائم کے منہ کی بو اللہ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے بہتر ہے وہ کھانا پینا اور اپنی مرغوب چیزوں کو صوم کی خاطر چھوڑ دیتا ہے اور نیکی دس گنا ملتی ہے اور ( اللہ تعالیٰ کا قول) میں اس کا بدلہ دیتا ہوں‘‘۔

حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الصَّوْمُ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ يَدَعُ شَهْوَتَهُ وَأَکْلَهُ وَشُرْبَهُ مِنْ أَجْلِي وَالصَّوْمُ جُنَّةٌ وَلِلصَّائِمِ فَرْحَتَانِ فَرْحَةٌ حِينَ يُفْطِرُ وَفَرْحَةٌ حِينَ يَلْقَی رَبَّهُ وَلَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْکِ

( بخاری، کتاب الباس، بَابُ مَا يُذْكَرُ فِي المِسْكِ)

’’ابوہریرہ ؓ روایت کرتے ہیں، آپ نے فرمایا کہ اللہ عز و جل فرماتا ہے کہ صوم میرے لئے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا، میری وجہ سے وہ اپنی خواہش، کھانا و پینا چھوڑتا ہے اور صوم ڈھال ہے اورصائم کے لئے دو خوشیاں ہیں ایک خوشی جس وقت صوم افطار کرتا ہے اور ایک خوشی جس وقت اپنے رب سے ملاقات کرے گا اورصائم کے منہ کی بو اللہ کو مشک کی خوشبو سے بھی زیادہ اچھی معلوم ہوتی ہے‘‘۔

یہ بات سمجھ لیں کہ اگر صائم زبان وکردار پر قابو نہ رکھے تو مقصد صوم حاصل نہ ہوگا۔ صائم کو اس دوران اپنے رب سے بہت ہی قربت ہوتی ہے اور وہ شیطانی حملوں سے بڑی حد تک محفوظ رہتا ہے۔ نوافل، صدقات وخیرات کے ذریعے اللہ اور اس کے رسولﷺسے محبت اور ایمان میں پختگی پیدا کرنے کا زریں موقع حاصل ہوتا ہے۔ ماہ صیام کا ماحول بھی صائم کے قلب وذہن پر اثرانداز ہوتا ہے اور قیام الّیل میں تسلسل سے قرآن سننا اس کی تربیت کے عمل میں بہت زیادہ بہتری لاتا ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :

وَمَنْ صَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ

( بخاری، کتاب الصوم ، بَابُ مَنْ صَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا وَنِيَّةً )

’’ اور جس نے رمضان کے صوم ایمان اور ثواب کی نیت سے رکھے تو اس کے پچھلے گناہ معاف کردئیے جاتے ہیں ‘‘۔

قیامت کے دن صائم کے لئے جنت میں ایک خصوصی دروازہ ہوگا۔ نبی ﷺ نے فرمایا:

عَنْ سَهْلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ فِي الْجَنَّةِ بَابًا يُقَالُ لَهُ الرَّيَّانُ يَدْخُلُ مِنْهُ الصَّائِمُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَا يَدْخُلُ مِنْهُ أَحَدٌ غَيْرُهُمْ يُقَالُ أَيْنَ الصَّائِمُونَ فَيَقُومُونَ لَا يَدْخُلُ مِنْهُ أَحَدٌ غَيْرُهُمْ فَإِذَا دَخَلُوا أُغْلِقَ فَلَمْ يَدْخُلْ مِنْهُ أَحَدٌ

( بخاری ، کتاب الصوم ، بَابٌ: الرَّيَّانُ لِلصَّائِمِينَ )

’’سہل ، نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ جنت میں ایک دروازہ ہے جس کو ریان کہتے ہیں قیامت کے دن اس دروازے سے صائم ہی داخل ہوں گے کوئی دوسرا داخل نہ ہوگا، کہا جائے گا کہ صائم کہاں ہیں ؟ وہ لوگ کھڑے ہوں گے اس دروازہ سے ان کے سوا کوئی داخل نہ ہو سکے گا، جب وہ داخل ہوجائیں گے تو وہ دروازہ بند ہوجائے گا اور اس میں کوئی داخل نہ ہوگا‘‘۔

نبی ﷺ نے فرمایا:

مَنْ صَامَ يَوْمًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ بَعَّدَ اللَّهُ وَجْهَهُ عَنْ النَّارِ سَبْعِينَ خَرِيفًا

’’ جو شخص اللہ کی راہ میں ایک دن کا صوم رکھے اللہ تعالیٰ اس کے چہرے کو جہنم سے ستر سال دور کردیتا ہے ‘‘

( بخاری، کتاب الجھاد و السیر، بَابُ فَضْلِ الصَّوْمِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ )

رمضان المبارک ماہ صیام و شھر القرآن ہے۔یہ اسلامی تقویم کا نواں مہینہ ہے۔بیان اللسان اور المنجد میں اس کا مادہ رَمَضَ باب سَمِعَ سے بھی آیا ہے ۔ اولذکر باب سے اس کے معنیٰ دن کا بہت گرم ہونا ، ریت کا تیز دھوپ سے جلنا ، پیاس سے بدن کا گرم ہونا ، تپتی زمین پر چلنے وغیرہ کے ہیں۔ جبکہ دوسرے باب سے تلوار وغیرہ کے پھل کو دو پتھروں کے درمیان رکھ کر کوٹ کر دھار لگانے کے معنوں میں آتا ہے۔ یہی مادہ ثلاثی مزید فیہ میں تفعیل و افعال کے ابواب میں بکریوں کو سخت گرم زمین پر چَرانے ، کسی کو جلانے تکلیف دینے کے معنیٰ دیتا ہے۔

چونکہ اس ماہ میں صوم رکھ کر نفس کی تربیت کی جاتی ہے ، بھوکا پیاسہ رہ کر اسے تپایا جاتا ہے ، یعنی اسے کوٹ پیٹ کا سان لگا یا جاتا ہے اس کے اوپر بیان کئے گئے تمام ہی معنی اس ماہ رمضان پر صادق آتے ہیں۔

شَهۡرُ رَمَضَانَ ٱلَّذِيٓ أُنزِلَ فِيهِ ٱلۡقُرۡءَانُ هُدٗى لِّلنَّاسِ وَبَيِّنَٰتٖ مِّنَ ٱلۡهُدَىٰ وَٱلۡفُرۡقَانِۚ ۔ ۔

(البقرہؒ185)

’’ماہ رمضان ہی وہ مہینہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا ہے جو لوگوں کے لیے ہدایت ہے اور ہدایت کی واضح دلیلوں پر مشتمل اور (حق وباطل میں) فرق کرنے والا ہے‘‘۔

یہ نزول قرآن اسی ماہ مبارک کی رات ’’ لیلۃ القدر ‘‘ میں ہوا ہے جسے اللہ تعالیٰ نے ہزار ماہ سے افضل رات قرار دیا ہے۔

نبی ﷺ نے فرمایا:

إِذَا كَانَ رَمَضَانُ فُتِّحَتْ أَبْوَابُ الرَّحْمَةِ وَغُلِّقَتْ أَبْوَابُ جَهَنَّمَ وَسُلْسِلَتْ الشَّيَاطِينُ

( بخاری، کتاب الصوم ، بَابٌ: هَلْ يُقَالُ رَمَضَانُ أَوْ شَهْرُ رَمَضَانَ، وَمَنْ رَأَى كُلَّهُ وَاسِعًا )

’’جب رمضان آتا ہے تو رحمت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کر دئیے جاتے ہیں اور شیطانوں کو زنجیروں میں جکڑ دیا جاتا ہے‘‘۔

یعنی جس طرح شیطان عام دنوں میں مومنین کو آسانی سے بہکا دیتا ہے اس ماہ میں اس طرح نہیں ہوتا بلکہ ایمان دار اس ماہ میں عبادات کا خصوصی اہتمام کرتے ہیں۔اللہ کی طرف سے رحمت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کردئیے جاتے ہیں۔ اس ماہ میں صوم کے کیساتھ ساتھ قیام الیل کا خصوصی اہتمام کرنا چاہئیے۔ صلاۃ العشاء کے بعد مسجد میں طویل قیام الیل ہو اور کوشش کی جائے کہ کم از کم ایک سپارہ روز ختم کریں اور پھر سحری سے قبل بھی قیام الیل ہو۔ نبی ﷺ نے اس کی خاص فضیلت فرمائی :

مَنْ قَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ

( بخاری، کتاب الایمان ، بَابٌ: تَطَوُّعُ قِيَامِ رَمَضَانَ مِنَ الإِيمَانِ )

’’ جو کھڑا ہوا رمضان میں ایمان اور ثواب کی نیت سے اس کے پچھلے گناہ معا ف کردئیے جاتے ہیں ‘‘۔

ابن عباس ؓ سے مروی ہے :

قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِامْرَأَةٍ مِنْ الْأَنْصَارِ سَمَّاهَا ابْنُ عَبَّاسٍ فَنَسِيتُ اسْمَهَا مَا مَنَعَکِ أَنْ تَحُجِّينَ مَعَنَا قَالَتْ کَانَ لَنَا نَاضِحٌ فَرَکِبَهُ أَبُو فُلَانٍ وَابْنُهُ لِزَوْجِهَا وَابْنِهَا وَتَرَکَ نَاضِحًا نَنْضَحُ عَلَيْهِ قَالَ فَإِذَا کَانَ رَمَضَانُ اعْتَمِرِي فِيهِ فَإِنَّ عُمْرَةً فِي رَمَضَانَ حَجَّةٌ أَوْ نَحْوًا مِمَّا قَالَ

( بخاری، کتاب العمرہ ، بَابُ عُمْرَةٍ فِي رَمَضَانَ )

’’انصار کی ایک عورت سے (جس کا نام ابن عباس نے لیا تھا لیکن میں بھول گیا) فرمایا کہ تمہیں میرے ساتھ حج کرنے سے کس چیز نے روکا ؟ اس نے کہا کہ میرے پاس ایک پانی بھرنے والا اونٹ تھا جس پر اس کا بیٹا اور فلاں شخص (یعنی اس کا شوہر) سوار ہو کر چلے گئے اور صرف ایک اونٹ چھوڑ گیا، جس ہر ہم پانی لادتے ہیں، آپ نے فرمایا کہ جب رمضان کا مہینہ آئے تو اس مہینہ میں عمرہ کرلے اس لئے کہ رمضان میں عمرہ کرنا ایک حج کے برابر ہے یا اسی کے مثل کچھ فرمایا۔

یعنی اس ماہ میں عمرے کی اس قدر فضیلت ہے کہ اس کا ثواب حج کے برابر ہے۔

اب ہم آتے ہیں صوم کے طریقہ کار کی طرف۔

صوم کا طریقہ کار

نبی ﷺ نے فرمایا :

الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ لَيْلَةً فَلَا تَصُومُوا حَتَّی تَرَوْهُ فَإِنْ غُمَّ عَلَيْکُمْ فَأَکْمِلُوا الْعِدَّةَ ثَلَاثِينَ

’’مہینہ انتیس راتوں کا بھی ہوتا ہے اس لئے جب تک چاند نہ دیکھ لوصوم نہ رکھو اور جب تک چاند نہ دیکھ لو افطار نہ کرو۔ اور اگر ابر چھایا ہوا ہو تو تیس دن پورے کرو‘‘۔

( بخاری ، کتاب الصوم ، بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ [ص:27]:

إِذَا رَأَيْتُمُوهُ فَصُومُوا وَإِذَا رَأَيْتُمُوهُ فَأَفْطِرُوا فَإِنْ غُمَّ عَلَيْکُمْ فَاقْدُرُوا لَهُ

’’جب تم رمضان کا چاند دیکھو، تو ٍصوم رکھو اور جب شوال کا چاند دیکھو تو افطار کرو، اگر تم پر بدلی چھائی ہو تو اس کا اندازہ کرو ( یعنی تیس دن پورے کرو) ۔‘‘

( بخاری ، کتاب الصوم ، بَابٌ: هَلْ يُقَالُ رَمَضَانُ أَوْ شَهْرُ رَمَضَانَ، وَمَنْ رَأَى كُلَّهُ وَاسِعًا)

سامعین ! چاند دیکھنے پر دعا جو عام طور پر مشہور ہے ، سنداً و ہ ضعیف ہے، اسی طرح صوم رکھنے کی کوئی بھی دعا کسی بھی حدیث سے ثابت نہیں یہ من گھڑت ہے لہذا بدعت ہے۔ اس بارے میں نبی ﷺ کی حدیث پیش کی جاتی ہے کہ ’’ جس نے فجر سے پہلے نیت نہیں کی تو اس کا صوم نہیں‘‘ ( سنن نسائی ، کتاب الصیام ، ذكر اختلاف الناقلين لخبر حفصة في ذلك )۔ نیت دراصل دل کے ارادے کا نام ہے ، یعنی جس نے فجر سے پہلے صوم کا ارادہ نہیں کیا اس کا صوم نہیں۔

اوقات صوم ؛

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :

﴿۔ ۔ ۔ وَكُلُواْ وَٱشۡرَبُواْ حَتَّىٰ يَتَبَيَّنَ لَكُمُ ٱلۡخَيۡطُ ٱلۡأَبۡيَضُ مِنَ ٱلۡخَيۡطِ ٱلۡأَسۡوَدِ مِنَ ٱلۡفَجۡرِۖ ثُمَّ أَتِمُّواْ ٱلصِّيَامَ إِلَى ٱلَّيۡلِۚ ﴾

[البقرة: 187]

’’اور کھاتے پیتے رہو یہاں تک کہ صبح کی سفید دھاری سیاہ دھاری سے الگ نظر آنے لگے، پھر رات تک صوم کو پورا کرلو۔ ‘‘

سیاہ اور سفید دھاری یا دھاگے کا فرق اسی وقت واضح ہو سکتا ہے جبکہ رات کی تاریکی ختم ہو اور دن کی روشنی نمودار ہو۔ عدی بن حاتم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نبی صلی الله عليه وسلم سے اس بارے میں وضاحت چاہی تو آپ نے فرمایا کہ “اس سے رات کی سیاہی اور صبح کی سفیدی مراد ہے” {بخاری: کتاب التفسیر}۔ یہ روشنی شفق سحر کے آغاز پر نمودار ہوتی ہے اور اسی کو “طلوعِ سحر” یا “صبح صادق” کہا جاتا ہے، اور اسی سے صوم کی ابتداء ہوتی ہے ِ،سحری آخری وقت میں کی جائے اور صبح صادق سے قبل سحری ختم کر دی جائے ۔

سحری کھانے میں برکت ہوتی ہے، نبی ﷺ نے فرمایا :

تَسَحَّرُوا فَإِنَّ فِي السَّحُورِ بَرَکَةً

( بخاری، کتاب الصوم ، بَابُ بَرَكَةِ السَّحُورِ مِنْ غَيْرِ إِيجَابٍ )

’’ سحری کھاؤ اس لئے کہ سحری کھانے میں برکت ہوتی ہے‘‘۔

فَصْلُ مَا بَيْنَ صِيَامِنَا وَصِيَامِ أَهْلِ الْکِتَابِ أَکْلَةُ السَّحَرِ

( مسلم ، کتاب الصیام ، بَابُ فَضْلِ السُّحُورِ وَتَأْكِيدِ اسْتِحْبَابِهِ، وَاسْتِحْبَابِ تَأْخِيرِهِ وَتَعْجِيلِ الْفِطْرِ )

’’ہمارے اور اہل کتاب کے صوم میں سحری کھانے کا فرق ہے‘‘۔

نبی ﷺ نے فرمایا :

إِذَا أَقْبَلَ اللَّيْلُ مِنْ هَا هُنَا وَأَدْبَرَ النَّهَارُ مِنْ هَا هُنَا وَغَرَبَتْ الشَّمْسُ فَقَدْ أَفْطَرَ الصَّائِمُ

( بخاری ، کتاب الصوم ، بَابٌ: مَتَى يَحِلُّ فِطْرُ الصَّائِمِ)

’’جب رات اس طرف سے آجائے اور دن اس طرف چلا جائے اور آفتاب ڈوب جائے تو صائم کے افطار کا وقت آگیا‘‘۔

متعدد احادیث میں افطار میں جلدی اور سحری میں تاخیر کرنے کی تاکید کی گئی ہے، لہذا یہ مسنون اور مستحب ہے کہ غروب کے فورا بعد افطار کر لیا جائے اور یہاں یہ بات قابل وضاحت ہے کہ قطبین کے نزدیکی علاقوں میں جہاں دن و رات کئ کئ مہینے کے ہوتے ہیں وہاں مشرقی اور مغربی افق پر کچھ ایسے آثار نمایاں ہو جاتے ہیں جن سے صبح وشام کا اندازہ لگا کے وہ لوگ سونے جاگنے اور دیگر ضروریات ومشاغل کے اوقات کار متعین کر لیتے ہیں، چنانچہ صلوۃ اور سحروافطار کے اوقات کا تعین بھی اسی طرح کیا جا سکتا ہے۔

جب نبی ﷺ افطار فرماتے تو کہتے :

ذَهَبَ الظَّمَأُ وَابْتَلَّتْ الْعُرُوقُ وَثَبَتَ الْأَجْرُ إِنْ شَائَ اللَّهُ

( ابوداؤد ، کتاب الصوم ، باب القول عند الإفطار )

(ترجمہ) پاس بجھ گئی رگیں تر ہوگئیں اور اجر ثابت ہوگیا اگر اللہ نے چاہا۔

اس مبارک ماہ میں صائم کو صوم افطار کرانے کی بھی بڑی فضیلت ہے، نبی ﷺ نے فرمایا :

من فطر صائما كان له مثل أجره، غير أنه لا ينقص من أجر الصائم شيئا

( ترمذی، ابواب الصوم ، باب ما جاء في فضل من فطر صائما )

’’ جس نے کسی صائم کو افطار کرایا اس کے لئے بھی اتنا ہی اجر ہے جتنا صائم کو ملے گا اور صائم کے اجر سے کوئی کمی نہ ہوگی ‘‘۔

لہذا اللہ نے توفیق دی ہو تو زیادہ سے زیادہ کو افطار کرایا جائے۔

اس طرح ماہ صیام مومن کے لیے بہت ہی بڑی نعمت ہے ۔ یہ احساس کہ الله تعالیٰ نے ہدایت عطا فرما کے ہم پر کتنا عظیم احسان فرمایا ہے، مومن کے دل میں جذبۂ تشکر پیدا کرتا ہے چنانچہ اس کو والہانہ اپنے رب کی عظمت وکبریائی اور حمد وثنا میں رطب اللسان رہنا چاہئے۔ اس بات کو دل میں اتار لیں کہ رمضان کا مہینہ سیرت و کردر اور اخلاق و اوصاف کی تعمیر و اصلاح کا بہترین وقت ہے۔ مومنین کو چاہئیے کہ اس زرین موقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں اور جو کمی و کوتاہی اس سے قبل ہوئی ہو اس کا ازالہ کریں۔ اپنے اعمال کا محاسبہ کرتے ہوئے اس ماہ کے دن و رات اللہ کی بندگی میں صرف کریں ۔ اذکار اور صلاہ علی النبی ( درود ) کا اہتمام ہو ، قرآن مجید کی تلاوت بھی کی جائے ، آیاتِ بشارت پر اللہ کی رحمت طلب کی جائے اور آیات ِ وعید پر اللہ کے عذاب سے پناہ مانگی جائے۔ فرض صلاۃ کا اہتمام بھی پہلے سے بڑھ کر ہو اور نوافل پر زور دیا جائے۔

یاد رکھیں کہ اس مبارک ماہ میں تمام ایسے کاموں سے مکمل پرہیز ہو جو دنیا پرستی کی طرف جاتے ہوں۔ بازاروں سے دور رہیں جہاں لوگ اللہ کے احکامات کے مقابلے شیطان کی پیروی کر رہے ہوتے ہیں۔ یہ کمائی کا مہینہ ہےکہ جتنا زیادہ ہو سکے کما لیں ، معلوم نہیں کہ آئندہ سال ہمیں ماہ نصیب ہوگا یا نہیں۔

آج کی اس پوسٹ میں ہم ان باتوںکی نشاندہی کریں گے کہ جو حالت صوم میں کی جا سکتی ہیں یاجن کی وجہ سے صوم ٹوٹ سکتا ہے۔

وہ مباح کام جو حالت صوم میں کئے جا سکتے ہیں :

حالت صوم میں غلطی سے کھا پی لینےکے متعلق نبی ﷺ نے فرمایا :

إِذَا نَسِيَ فَأَكَلَ وَشَرِبَ، فَلْيُتِمَّ صَوْمَهُ، فَإِنَّمَا أَطْعَمَهُ اللَّهُ وَسَقَاهُ

( بخاری، کتاب الصوم ، بَابُ الصَّائِمِ إِذَا أَكَلَ أَوْ شَرِبَ نَاسِيًا )

’’ جب کوئی غلطی سے کھا پی لے تو صوم ختم نہ کرے، کیونکہ اسے اللہ ہی نے کھلایا و پلایا ہوتا ہے ‘‘۔

حالت صوم میں سینگی لگوائی جا سکتی ہے۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں :

احْتَجَمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ وَاحْتَجَمَ وَهُوَ صَائِمٌ

( بخاری، کتاب الجزاء و الصید ، بَابُ الحِجَامَةِ لِلْمُحْرِمِ )

’’(نبیﷺ نے ) حالت احرام میں حجامہ کرایا اور صوم کی حالت میں بھی حجامہ کرایا‘‘۔

جسم سے فاسد خون نکلوانے کو سینگی یا حجامہ کہتےہیں۔ ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ حالت حجامہ کرنے اور کرانے والے دونوں کا صوم ٹوٹ جاتا ہے تو خیال رہے کہ وہ حدیث فتح مکہ کے موقع کی ہے جبکہ وہ حدیث جس میں حالت صوم میں حجامہ کا ذکر ہے وہ حجۃ الوداع کے موقع کی ہے یعنی اسے کے بعد کی ہے لہذا عمل آخر والی پر ہی ہوگا کہ حالت صوم میں حجامہ کرایا جا سکتا ہے۔

اب جب حالت صوم میں جسم سے خون نکلنا ثابت ہے تو بیماری کی صورت میں خون ٹیسٹ وغیرہ کے لئے خون نکالا جا سکتا ہے اور اگر کسی اور کو خون کی ضرورت ہے تو اسے بھی دیا جا سکتا ہے لیکن اس بات کا خیال رکھا جائے کہ اسقدر خون نہ نکل جائے کہ جسم میں کمزوری پیدا ہو جائے۔

صوم کی حالت میں سرمہ بھی لگایا جا سکتا ہے۔ (مصنف ابن أ بي شيبۃ ، کتاب الصیام ، باب من رخص فی الکحل للصائم)

اگر جنابت کی حالت میں بیدار ہو تو سحری کرلے پھر غسل کرکے صلوٰۃ ادا کرلے۔ ( بخاری، کتاب الصوم ،بَابُ الصَّائِمِ يُصْبِحُ جُنُبًا)

حالت صوم میں اگر احتلام ہو جائے تو صوم جاری رکھے کیونکہ یہ انسان کے اپنے کنٹرول کا معاملہ نہیں اور نبی ﷺ کا فرمان ہے کہ ’’ تین آدمیوں پر سے قلم اٹھا لیا گیا ہے، ایک : جو سویا ہوا ہو حتیٰ کہ وہ جاگ جائے ، دوسرا دیوانہ جب تک کہ وہ عقلمند نہ ہو جائے اور تیسرا بچہ حتی کہ وہ بڑا یعنی بالغ ہو جائے۔( سنن ابی داؤد ، کتاب الحدود ، باب في المجنون يسرق أو يصيب حدا )

جو جان بوجھ کر قے کرے تو اس کا صوم ٹوٹ جائے گا، نبی ﷺ نے فرمایا :

مِنْ ذَرَعَهُ الْقَيْءُ وَهُوَ صَائِمٌ فَلَيْسَ عَلَيْهِ قَضَاءٌ وَمَنِ اسْتَقَاءَ فَلْيَقْضِ

( سنن ابی داؤد، کتاب الصوم ، باب الصائم يستقيء عامدا )

’’جسے حالت صوم میں قے آ جائے تو اس پر قضاء نہیں ہے (یعنی اس کاصوم نہیں ٹوٹا) اور جس نے از خود قے کی اس پر قضاء لازم ہے‘‘۔

اکثر انجکشن کے بارے میں سوال کیا جاتا ہے ۔

وضاحت : اگر کسی کی حالت خطرناک حد کو چھو رہی ہو تو وہ انجکشن لگوا لےتو اس میں حرج نہیں لیکن نارمل حالت میں یاطاقت کے لئے انجکشن لگوائے تو یہ جائز نہیں ہوگا۔

حالت صوم میں ممنوعہ امور:

حالت صوم میں جماع کسی بھی طور جائز نہیں البتہ رات میں اس پر کوئی پابندی نہیں۔ سورہ بقرہ میں فرمایا گیا :

اُحِلَّ لَکُمۡ لَیۡلَۃَ الصِّیَامِ الرَّفَثُ اِلٰی نِسَآئِکُمۡ

( البقرہ : 187 )

’’صوم کی رات میں اپنی بیویوں سے ملنا تمہارے لیے حلال کیا گیا ہے‘‘۔

ایک شخص جو حالت صوم میں جماع کا مرتکب ہو گیا اس سے نبی ﷺ نے پوچھا :

أَتَجِدُ مَا تُحَرِّرُ رَقَبَةً ، قَالَ لَا

کیا تم ایک غلام آزاد کر سکتے ہو؟ اس نے جواب دیا: نہیں۔

قَالَ فَتَسْتَطِيعُ أَنْ تَصُومَ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ قَالَ لَا

فرمایا: کیا تم دو ماہ کے مسلسل صوم رکھ سکتے ہو ؟ جواب دیا : نہیں

قَالَ أَفَتَجِدُ مَا تُطْعِمُ بِهِ سِتِّينَ مِسْکِينًا قَالَ لَا

فرمایا : کیا تم ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا سکتے ہو؟ جواب دیا : نہیں

فَأُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَقٍ فِيهِ تَمْرٌ وَهُوَ الزَّبِيلُ قَالَ أَطْعِمْ هَذَا عَنْکَ

نبی ﷺ کے پاس کھجوروں کا ایک تھیلا لایا گیا ، تو نبی ﷺ نے وہ اسے دے دیا کہ وہ لیجا کر اپنی طرف سے کھلا دے، یعنی صدقہ کردے۔

( بخاری ، کتاب الصوم ، بَابُ المُجَامِعِ فِي رَمَضَانَ، هَلْ يُطْعِمُ أَهْلَهُ مِنَ الكَفَّارَةِ إِذَا كَانُوا مَحَاوِيجَ )

لہذا اگر کوئی ایسی حرکت کا مرتکب ہو جائے اور اس میں غلام آزاد کرنے کی توفیق ہو تو وہ غلام آزاد کرے، اگر نہ ہو تو لگاتار دو ماہ کے صوم رکھے، اگر اس کی صحت اس بات کی اجازت نہیں دیتی تو وہ ساٹھ مساکین کو ایک وقت کا کھانا کھلا دے اور اگر اس کی بھی گنجائش نہ ہو تو جو ہو سکے وہ صدقہ کرے۔

حالت حیض میں بھی صوم نہیں رکھا جا سکتا بلکہ بعد کے دنوں میں اس کی قضاء کا حکم ہے۔

سنن نسائی، کتاب الصیام،باب: وضع الصيام عن الحائض )

مباحات میں بیان کی گئی ایک حدیث سے واضح ہے کہ جو جان بوجھ کر قہ کرے اس کا صوم ٹوٹ جاتا ہے اور اسے بعد میں اسے پورا کرنا ہوگا ۔

اس سے قبل سابقہ پوسٹ میں اس بات کی وضاحت کردی گئی ہے حالت صوم میں ایماندار کسی سے جھگڑا نہ کرے ۔ نبی ﷺ نے فرمایا :

’’۔ ۔ ۔ نہ تو بری بات کرے اور نہ جہالت کی بات کرے اگر کوئی شخص اس سے جھگڑا کرے یا گالی گلوچ کرے تو کہہ دے میں صائم ہوں، ‘‘۔

( بخاری، کتاب التوحید ، بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {يُرِيدُونَ أَنْ يُبَدِّلُوا كَلاَمَ اللَّهِ})

مزید فرمایا :

“۔ ۔ ۔ جو کوئی غلط بات اور غلط کام نہ چھوڑے تو الله کو ضرورت نہیں کہ وہ اپنا کھانا پینا چھوڑ دے”

( بخاری، کتاب الصوم ، بَابُ مَنْ لَمْ يَدَعْ قَوْلَ الزُّورِ، وَالعَمَلَ بِهِ فِي الصَّوْمِ )

لہذا مومنین ہر اس چیز سے دور رہیں جس سے صوم میں کی گئی محنت ضائع ہو جائے ۔

قیام الیل فی الرمضان

ماہ صیام میں قیام الیل کا بڑا اجر ہے ،نبی ﷺ نے فرمایا:

مَنْ قَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ

( بخاری، کتاب الایمان ، بَابٌ: تَطَوُّعُ قِيَامِ رَمَضَانَ مِنَ الإِيمَانِ )

’’ جو کھڑا ہوا رمضان میں ایمان اور ثواب کی نیت سے اس کے پچھلے گناہ معا ف کردئیے جاتے ہیں ‘‘۔

قیام الیل کے معنی ہیں رات کو کھڑا ہونا، احادیث میں یہ اصطلاح رات میں نوافل ادا کرنے کے لئے استعمال کی گئی ہے۔ رات کی صلاۃ کی ادائیگی نہایت افضل عبادت ہے اور احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت فرشتے بھی حاضر ہوتے ہیں اور رات کے آخر میں اللہ تعالیٰ آسمان دنیا پر تشریف لاتا ہے اور فرماتا ہے کہ ہے کوئی مجھ سے سوال کرنے والا کہ میں اسے عطا کروں ، کوئی مجھ

سے دعا کرنے والا ہے کہ اس کی دعا قبول کروں ، ہے کوئی کہ مجھ سے مغفرت چاہے اور میں اسے بخش دوں۔ قرآن مجید میں فرمایا گیا :

﴿وَٱلَّذِينَ يَبِيتُونَ لِرَبِّهِمۡ سُجَّدٗا وَقِيَٰمٗا٦٤ وَٱلَّذِينَ يَقُولُونَ رَبَّنَا ٱصۡرِفۡ عَنَّا عَذَابَ جَهَنَّمَۖ إِنَّ عَذَابَهَا كَانَ غَرَامًا﴾

[الفرقان: 64-65]

’’ ان کی راتیں اپنے رب کے سامنے قیام و سجود میں گزرتی ہیں اور وہ دعا کرتے ہیں کہ اے ہمارے رب ! ہمیں عذاب جہنم سے بچا ، بلاشبہ اس کا عذاب بڑا تکلیف دہ ہے‘‘۔

نبی ﷺ نے فرمایا :

«رحم الله رجلا قام من الليل فصلى، وأيقظ امرأته فصلت، فإن أبت نضح في وجهها الماء، رحم الله امرأة قامت من الليل فصلت، وأيقظت زوجها، فإن أبى نضحت في وجهه الماء»

( ابوداؤد، باب تفریع ابواب الوتر، باب الحث على قيام الليل )

’’ اللہ رحم فرمائے اس آدمی پر جو رات کو اٹھے اور صلاۃ ادا کرے اور اپنی عورت کو بھی اٹھائے،اگر وہ نہ اٹھے تو اس منہ پر پانی کے چھینٹے مارے۔ اللہ رحم فرمائے اس عورت پر جو رات کو اٹھے اور صلاۃ ادا کرے اور اپنے شوہر کو اٹھائے اور اگر وہ نہ اٹھے تو اس کے منہ پر پانی کے چھینٹے مارے ‘‘۔

یہی عبادت جب ماہ صیام میں ہو تو اس کا اجر اور بھی بڑھ جاتا ہے جیسا کہ اوپر حدیث میں بیان کیا گیا جو مسلم اس ماہ میں قیام الیل کے لئے ایمان اور ثواب کی نیت سے کھڑا ہوا تو اس کے سابقہ گناہ معاف کردئیے جاتے ہیں۔ گویا ماہ صیام میں یہ عمل ایک مسلم کے لئے ثواب کمانےاور سابقہ گناہ معاف کرانے کا ایک بہترین موقع ہے۔

ماہ صیام میں ہونے والے اس عمل کو لوگ ’’ تراویح ‘‘ کہتے ہیں لیکن احادیث میں اسے ’’ قیام الیل ‘‘ ہی کہا گیا ہے۔زید بن ثابت ؓ فرماتے ہیں :

أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اتَّخَذَ حُجْرَةً – قَالَ: حَسِبْتُ أَنَّهُ قَالَ مِنْ حَصِيرٍ – فِي رَمَضَانَ، فَصَلَّى فِيهَا لَيَالِيَ، فَصَلَّى بِصَلاَتِهِ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِهِ، فَلَمَّا عَلِمَ بِهِمْ جَعَلَ يَقْعُدُ، فَخَرَجَ إِلَيْهِمْ فَقَالَ: «قَدْ عَرَفْتُ الَّذِي رَأَيْتُ مِنْ صَنِيعِكُمْ، فَصَلُّوا أَيُّهَا النَّاسُ فِي بُيُوتِكُمْ، فَإِنَّ أَفْضَلَ الصَّلاَةِ صَلاَةُ المَرْءِ فِي بَيْتِهِ إِلَّا المَكْتُوبَةَ»

( بخاری ، کتاب الاذان ، بَابُ صَلاَةِ اللَّيْلِ )

’’ کہ رسول اللہﷺ نے رمضان میں ایک حجرہ بنایا تھا (سعید کہتے ہیں مجھے خیال آتا ہے کہ زید بن ثابت ؓ نے یہ کہا تھا کہ وہ چٹائی کا تھا) اور اس میں چند شب آپ نے صلوٰۃ ادا کی، اس کا علم آپ کے اصحاب کو ہوگیا اس لئے انہوں نے آپ کی اقتداء میں صلوٰۃ ادا کی۔ مگر جب آپ کو ان کا علم ہوا تو بیٹھ رہے، پھر صبح کو ان کے پاس تشریف لائے اور فرمایا کہ میں نے تمہارا فعل دیکھا، اسے سمجھ لیا (یعنی تم کو عبادت کا شوق ہے) تو اے لوگو ! اپنے گھروں میں صلوٰۃ ادا کیا کرو کیونکہ آدمی کی صلوٰۃمیں سب سے افضل وہ صلوٰۃہے جو وہ گھر میں ادا کرے سوائے فرض صلوٰۃ ‘‘۔

ایک دوسری روایت میں جو عائشہ ؓ سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں:

أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى ذَاتَ لَيْلَةٍ فِي المَسْجِدِ، فَصَلَّى بِصَلاَتِهِ نَاسٌ، ثُمَّ صَلَّى مِنَ القَابِلَةِ، فَكَثُرَ النَّاسُ، ثُمَّ اجْتَمَعُوا مِنَ اللَّيْلَةِ الثَّالِثَةِ أَوِ الرَّابِعَةِ، فَلَمْ يَخْرُجْ إِلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا أَصْبَحَ قَالَ: «قَدْ رَأَيْتُ الَّذِي صَنَعْتُمْ وَلَمْ يَمْنَعْنِي مِنَ الخُرُوجِ إِلَيْكُمْ إِلَّا أَنِّي خَشِيتُ أَنْ تُفْرَضَ عَلَيْكُمْ وَذَلِكَ فِي رَمَضَانَ»

( بخاری، کتاب التہجد، بَابُ تَحْرِيضِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى صَلاَةِ اللَّيْلِ وَالنَّوَافِلِ مِنْ غَيْرِ إِيجَابٍ )

’’عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک رات مسجد میں صلوٰۃ ادا کی تو آپ کے ساتھ لوگوں نے بھی پڑھی، پھر دوسری رات میں آپ نےصلوٰۃ ادا کی تو لوگوں کی تعداد زیادہ ہوگئی، پھر تیسری یا چوتھی رات کو لوگ جمع ہوئے تو رسول اللہﷺان کے پاس نہیں آئے۔ جب صبح ہوئی تو آپ نے فرمایا کہ میں نے اس چیز کو دیکھا جو تم نے کیا اور مجھے باہر آنے سے کسی چیز نے نہیں روکا، بجز اس خوف کے کہ کبھی تم پر فرض نہ ہوجائے، اور یہ رمضان کا واقعہ ہے‘‘۔

واضح ہوا کہ قیام الیل فی رمضان کچھ دن نبی ﷺ کی امامت میں بھی ادا کی گئی ہے لیکن نبی ﷺ نے اسے اس لئے جاری نہیں رکھا کہ کہیں امت پر یہ فرض نہ ہو جائے۔نبی ﷺ کی وفات کے بعد یہ عمل جاری رہا ۔ عمر ؓ کے دور میں ایک ہی مسجد میں کئی کئی جماعتیں متفرق اماموں کے پیچھے ہونے لگیں :

عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدٍ القَارِيِّ، أَنَّهُ قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ عُمَرَ بْنِ الخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، لَيْلَةً فِي رَمَضَانَ إِلَى المَسْجِدِ، فَإِذَا النَّاسُ أَوْزَاعٌ مُتَفَرِّقُونَ، يُصَلِّي الرَّجُلُ لِنَفْسِهِ، وَيُصَلِّي الرَّجُلُ فَيُصَلِّي بِصَلاَتِهِ الرَّهْطُ، فَقَالَ عُمَرُ: «إِنِّي أَرَى لَوْ جَمَعْتُ هَؤُلاَءِ عَلَى قَارِئٍ وَاحِدٍ، لَكَانَ أَمْثَلَ» ثُمَّ عَزَمَ، فَجَمَعَهُمْ عَلَى أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، ثُمَّ خَرَجْتُ مَعَهُ لَيْلَةً أُخْرَى، وَالنَّاسُ يُصَلُّونَ بِصَلاَةِ قَارِئِهِمْ، قَالَ عُمَرُ: «نِعْمَ البِدْعَةُ هَذِهِ، وَالَّتِي يَنَامُونَ عَنْهَا أَفْضَلُ مِنَ الَّتِي يَقُومُونَ» يُرِيدُ آخِرَ اللَّيْلِ وَكَانَ النَّاسُ يَقُومُونَ أَوَّلَهُ

(بخاری، کتاب التراویح ، بَابُ فَضْلِ مَنْ قَامَ رَمَضَانَ )

’’عبدالرحمن بن عبدالقاری سےمنقول ہے ،عبدالرحمن نے بیان کیا کہ میں عمر ؓ کے ساتھ رمضان کی ایک رات مسجد کی طرف نکلا، وہاں لوگوں کو دیکھا کہ کوئی الگ صلوٰۃ ادا کررہا ہے اور کہیں ایک شخص صلوٰۃ ادا رہا ہے تو اس کے ساتھ کچھ لوگ صلوٰۃ ادا کر رہے ہیں، عمر ؓنے فرمایا کہ میرا خیال ہے کہ ان سب کو ایک قاری پر متفق کروں تو زیادہ بہتر ہوگا پھر اس کا عزم کر کے ان کو ابی بن کعب ؓپر جمع کردیا۔ پھر میں ان کے ساتھ دوسری رات میں نکلا لوگ اپنے قاری کے ساتھ صلوٰۃ ادا کر رہے تھے، عمرؓ نے فرمایا کہ یہ ایک اچھی نئی بات ہے اور رات کا وہ حصہ یعنی آخری رات جس میں لوگ سو جاتے ہیں اس سے بہتر ہے جس میں کھڑے ہوجاتے ہیں اور لوگ ابتدائی حصہ میں کھڑے ہوتے تھے‘‘۔

واضح ہوا کہ یہ کام خود نبی ﷺ نے کچھ دن کیا اور بعد میں باقاعدہ صحابہ ؓ نے اس کامکمل اہتمام کیا۔روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ ؓ طویل قیام کیا کرتے تھے:

سائب بن یزید ؒ سے روایت ہے کہ عمرؓ نے ابی بن کعبؓ اور تمیم داری ؓ کو گیارہ رکعتیں پڑھانے کو کہا۔ امام ایک رکعت میں سو سو آیتیں پڑھتا ، یہاں تک کہ ہم لکڑی پر سہارا لگاتے ، اور ہم فجر کے قریب ہی فارغ ہوتے تھے۔

( موطاامام مالک : کتاب الصلوٰۃ،باب قیام رمضان)

’’ عبد الرحمن بن ہرمزاعرج کہتے ہیں : رمضان میں قاری سورہ بقرہ آٹھ رکعات میں مکمل کرتا تھا، اور جب بارہ رکعات میں مکمل کرتا تو لوگ سمجھتے کہ تخفیف ہو گئی ہے ‘‘۔

( موطاامام مالک : کتاب الصلوٰۃ،باب قیام رمضان)

چنانچہ ہمیں بھی اس بات کو اپنانا چاہئیے اور قیام الیل میں طویل قرآت کرنا چاہئیے۔ روزانہ کم از کم ایک یا ڈیڑھ سپارہ پڑھنا چاہئیے۔

تعداد رکعات فی القیام الیل :

قیام الیل فی رمضان نفل ہے اور نفلوں کی تعداد مقرر کرنا صحیح نہیں جب کہ نبیﷺ نے اس کا تعین نہ فرمایا ہو۔ اپنی سہولت ، رغبت و شوق کے مطابق جتنے چاہیں نوافل ادا کیے جائیں ۔ یاد رکھیں تراویح بھی ” قیام اللیل ” ہی ہے ، اس لئے اس کی رکعتیں بھی قیام اللیل کے مطابق ادا کریں ، اور ان کی تعداد مختلف روایات میں مختلف آئی ہے۔

مندرجہ بالا احادیث اور مزید احادیث سے رسول اللہ ﷺ اور صحابہ اکرامؓ سے قیام رمضان میں رکعتوں کی مختلف تعداد ثابت ہوتی ہے ۔ لہِذا قیام الیل فی الرمضان میں آٹھ ،دس ، بارہ، بیس یا زیادہ ، جتنی ہمت اور شوق اجازت دے پڑھ لینی چاہِے ۔ مسجد میں باجماعت قیام ادا کرنے کے بعد رات کو گھر میں انفرادی قیام اللیل کاموقع بھی ضائع نہ کریں کہ یہ افضل ہے۔

بعض لوگ آٹھ رکعات پڑھنے کو خواہش نفس کہتے ہیں اور انہیں تہجد کی صلوٰۃ کہہ کراول قیام الیل فی رمضان سے جدا کر دیتے ہیں، جبکہ دوسرے لوگ انہی آٹھ کو مسنون تعداد کہتے ہیں اور اس سے زیادہ کے انکاری ہیں ۔ یہ دونوں قسم کے لوگ افراط و تفریط اور مسلکی تشدد کا شکار ہیں۔ جیسا کہ پہلے بتایا گیا کہ قیام الیل فی رمضان اور تہجد دونوں ایک ہی صلوٰۃ کے نام ہیں جن کے لئے احادیث میں ” قیام اللیل ” کا لفظ آیا ہے ۔ فرق صرف اتنا ہے کہ اول قیام الیل فی رمضان یعنی جسے عرف عام میں تراویح کہا جاتا ہے کو لوگ عشاء کے ساتھ اول وقت میں ادا کر لیتے ہیں۔

اب جیسا جس کا ذوق اورہمت و وسعت ہو سو اسی قدر وہ رمضان میں قیام اللیل کرے ۔ غرضیکہ نہ تو آٹھ رکعت پڑھنا خواہشِ نفس ہے اور نہ آٹھ سے زیادہ پڑھنا خلافِ سنت ۔

لیلۃ القدر:

ماہ صیام کے آخری عشرے میں ایک ایسی رات آتی ہے جس میں کی گئی عبادت ایک ہزار سال کی عبادت سے بہتر ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اِنَّآ اَنْزَلْنٰهُ فِيْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ۝ښ وَمَآ اَدْرٰىكَ مَا لَيْلَةُ الْقَدْرِ ۝ۭ لَيْلَةُ الْقَدْرِ ڏ خَيْرٌ مِّنْ اَلْفِ شَهْرٍ ۝ڼ تَنَزَّلُ الْمَلٰۗىِٕكَةُ وَالرُّوْحُ فِيْهَا بِاِذْنِ رَبِّهِمْ ۚ مِنْ كُلِّ اَمْرٍ ۝ڒ سَلٰمٌ ڕهِيَ حَتّٰى مَطْلَعِ الْفَجْرِ ۝ۧ

’’ بے شک ہم نے نازل کیا ہے اسے ( قرآن مجید ) لیلۃ القدر میں، اور تم کیا جانو لیلۃ القدر کیا ہے ، لیلۃ القدر ہزار ماہ سے بہتر ہے، نازل ہوتے ہیں فرشتے اور روح ( جبریل) اس رات میں اپنے رب کے حکم سے ہر کام کے لئے،سلامتی ہی سلامتی ہے طلوع فجر تک ‘‘۔

سورہ دخان میں فرمایا :

حٰـمۗ۝ڔ وَالْكِتٰبِ الْمُبِيْنِ ۝ڒ اِنَّآ اَنْزَلْنٰهُ فِيْ لَيْلَةٍ مُّبٰرَكَةٍ اِنَّا كُنَّا مُنْذِرِيْنَ ۝ فِيْهَا يُفْرَقُ كُلُّ اَمْرٍ حَكِيْمٍ ۝ۙ اَمْرًا مِّنْ عِنْدِنَا ۭ اِنَّا كُنَّا مُرْسِلِيْنَ ۝ۚ رَحْمَةً مِّنْ رَّبِّكَ ۭ اِنَّهٗ هُوَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ ۝ۙ

( الدخان 1/6 )

’’ حٰم ۔ اس کتاب روشن کی قسم ہم نے اسے ایک مبارک رات میں نازل کیا ہے۔ ہم تو ( عذاب سے ) ڈرانے والے ہیں، اس رات میں ہماری طرف سے ہر معاملے میں حکیمانہ فیصلے ہوتے ہیں، بے شک ہم رسول بھیجنے والے تھے۔ ( یہ رات ) تمہارے رب کی طرف سے رحمت ہے وہی سننے والا جاننے والا ہے ‘‘۔

شَہۡرُ رَمَضَانَ الَّذِیۡۤ اُنۡزِلَ فِیۡہِ الۡقُرۡاٰنُ ہُدًی لِّلنَّاسِ وَ بَیِّنٰتٍ مِّنَ الۡہُدٰی وَ الۡفُرۡقَانِ

( البقرہ : 185 )

’ماہ رمضان ہی وہ مہینہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا ہے جو لوگوں کے لیے ہدایت ہے اور ہدایت کی واضح دلیلوں پر مشتمل ۔ ۔ ‘‘

قرآن مجید ماہ رمضان میں نازل ہوا ۔ اس رات کو اللہ تعالیٰ نے لیلۃ القدر و لیلۃ مبارکہ کا نام دیا اور بتایا کہ یہ وہ رات ہے کہ جس میں اللہ تعالیٰ حکیمانہ فیصلے فرماتا ہے۔ فرشتے اور جبریل امین بھی اس رات دنیا کی طرف بھیجے جاتے ہیں ۔ یہ رات رحمت و سلامتی کی رات ہے۔ اس کی فضیلت کا اندازہ لگائیں کہ اس ایک رات میں عبادت کرنے کا اجر تیس ہزار راتوں میں عبادت کرنے سے افضل ہے جو کہ تقریبا ً تیراسی ( ۸۳ )سال چار ماہ بنتے ہیں جبکہ عموماً لوگوں کی اتنی عمر تک نہیں ہوتی۔ یہ راب کا مومنوں کو نوازنے کا انداز ہے ۔ اپنے مومن بندوں کے لئے اس نے ثواب کو کس انداز میں لٹا دیا ہے کہ اس ایک رات کی عبادت اس کی زندگی بھر کی عبادت سے افضل ہے ، اور جس ایمان دار کو ایسی بیس تیس یا پچاس راتیں مل جائیں تو اس کے اجر کا کیا کہنا وہ تو اپنی زندگی سے بیس تیس گنا اجر کما لیتا ہے۔نبی ﷺ نے فرمایا :

مَنْ قَامَ لَيْلَةَ الْقَدْرِ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ

( بخاری ، کتاب الصوم ، بَابُ مَنْ صَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا وَنِيَّةً )

’’جو شخص لیلۃقدر میں ایمان اور ثواب کی نیت سے کھڑا ہو، اس کے سابقہ گناہ بخش دئیے جاتے ہیں‘‘۔

حدیث میں ہے کہ نبی ﷺ کو اس رات کا بتایا گیا اور وہ صحابہ ؓ کو بتانے کے لئے باہر تشریف لائے لیکن دو مسلمین کی لڑائی کیوجہ سے انہیں بھلا دی گئی۔ مختلف احادیث میں راتوں کی طاق راتوں کی تاریخ کیساتھ بیان کیا گیا ہے لیکن بات یہی ہے کہ آخری عشرے کی طاق راتوں میں اس تلاش کا حکم دیا گیا ہے جیسا کہ ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے :

فَالْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ وَالْتَمِسُوهَا فِي کُلِّ وِتْرٍ

( بخاری ، کتاب الاعتکاف ، بَابُ الِاعْتِكَافِ فِي العَشْرِ الأَوَاخِرِ، وَالِاعْتِكَافِ فِي المَسَاجِدِ كُلِّهَا )

’’اسے آخری عشرے میں تلاش کرو اور طاق راتوں میں تلاش کرو‘‘۔

عائشہ ؓ فرماتی ہیں :

کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَجْتَهِدُ فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مَا لَا يَجْتَهِدُ فِي غَيْرِهِ

( مسلم ، کتاب الاعتکاف ، بَابُ الِاجْتِهَادِ فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ )

’’ رسول اللہ ﷺ رمضان کے آخری عشرہ میں اتنی جدوجہد کرتے تھے کہ اس کے علاوہ اور دنوں میں اتنی زیادہ جدو جہد نہیں کرتے تھے‘‘۔

نبی ﷺ نے صحابہ کو بھی ان راتوں میں جدوجہد کرنےپر زور دیا اور کہا کہ اگر کمزور بھی ہو تو ان راتوں میں سستی نہ کرے۔ابن عمر ؓ کہتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا:

الْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ يَعْنِي لَيْلَةَ الْقَدْرِ فَإِنْ ضَعُفَ أَحَدُکُمْ أَوْ عَجَزَ فَلَا يُغْلَبَنَّ عَلَی السَّبْعِ الْبَوَاقِي

( مسلم ، کتاب الصیام ، بَابُ اسْتِحْبَابِ صَوْمِ سِتَّةِ أَيَّامٍ مِنْ شَوَّالٍ إِتْبَاعًا لِرَمَضَانَ )

’’( لیلۃ القدر) کو رمضان کے آخری عشرہ میں تلاش کرو کیونکہ اگر تم میں سے کوئی کمزور ہو یا عاجز ہو تو ہو آخری سات راتوں میں سستی نہ کرے‘‘۔

مسروق ؒ عائشہ ؓ سے روایت کرتے ہیں :

قَالَتْ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَ الْعَشْرُ أَحْيَا اللَّيْلَ وَأَيْقَظَ أَهْلَهُ وَجَدَّ وَشَدَّ الْمِئْزَرَ

( مسلم ، کتاب الاعتکاف ، بَابُ الِاجْتِهَادِ فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ )

’’عائشہؓ سے روایت ہے فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب آخری عشرہ میں داخل ہوتے تھے تو آپ رات کو جاگتے تھے اور اپنے گھر والوں کو بھی جگاتے اور عبادت میں خوب کوشش کرتے اور تہبند مضبوط باندھ لیتے ‘‘۔

الغرض کہ لیلۃ القدر ماہ رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں سے ایک رات ہوتی ہے جسے اللہ تعالیٰ نے پوشیدہ رکھا ہے ۔ رسول اللہ ﷺ ان راتوں میں نہ صرف خود محنت کرتے تھے بلکہ خواتین اور بچوں کو بھی جمع کیا کرتے تھے۔ ابو ذر ؓ سے روایت ہے :

’’ ابوذر ؓ سے روایت ہے کہ ہم نے ماہ رمضان میں رسول ﷺ کے ساتھ صوم رکھے۔ آپ نے ہمیں کسی رات کو بھی صلاۃ نہیں پڑھائی یہاں تک کہ (رمضان ختم ہونے میں) سات راتیں باقی رہ گئیں تو آپ کھڑے ہوگئے ہمارے ساتھ تہائی رات تک ۔

پھر جب چھ راتیں باقی رہ گئی تو آپ کھڑے نہیں ہوئے۔پھر جب پانچ راتیں باقی رہ گئیں تو آپ کھڑے ہوئے نصف شب تک، ہم نے عرض کیا یا رسول ﷺکاش آج آپ مزید کھڑے رہتے ۔نبی ﷺ نے فرمایا جب آدمی امام کے ساتھ صلاۃ ادا کر کے فراغت پائے تو اس کو ساری رات کھڑے رہنے کا ثواب ملے گا۔

اور جب چار راتیں باقی رہ گئیں تو آپ کھڑے نہیں ہوئے اور جب تین راتیں باقی رہ گئیں تو آپ نے اپنے تمام اہل خانہ کو اور لوگوں کو جمع فرمایا، پس آپ کھڑے ہوئے یہاں تک کہ ہم کو خوف ہوا کہ فلاح نکل جائے گی راوی کہتے ہیں کہ میں نے پوچھا کہ فلاح کیا چیز ہے ؟ ابوذرؓ نے کہا کہ فلاح سے مراد سحری کھانا ہے پھر آپ چاند رات تک کھڑے نہیں ہوئے ‘‘۔

( سنن ابی داؤد ، باب تفريع أبواب شهر رمضان، باب في قيام شهر رمضان )

نبی ﷺ نے لیلۃ القدر کی یہ دعا بیان فرمائی :

اللَّهُمَّ إِنَّكَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّي

(سنن ابن ماجہ: کتاب الدعاء، بَابُ الدُّعَاءِ بِالْعَفْوِ وَالْعَافِيَةِ)

اعتکاف :

اعتکاف کے لغوی معنی ٰ ٹہرے رہنا، جمے رہنا ، کسی مقام پر اپنے آپ کو روکے رکھنا ہیں۔ شرعاً اعتکاف یہی ہے کہ ایمان دار اپنے رب کا تقرب حاصل کرنے کے لئے مسجد میں ٹہرا رہے۔ عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں :

کَانَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْتَکِفُ فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ فَکُنْتُ أَضْرِبُ لَهُ خِبَائً فَيُصَلِّي الصُّبْحَ ثُمَّ يَدْخُلُهُ

( بخاری ، کتاب الاعتکاف، بَابُ اعْتِكَافِ النِّسَاءِ )

’’ کہ نبیﷺ رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف کرتے تھے، میں آپ کے لئے ایک خیمہ نصب کردیتی تھی، آپ فجر کی صلاۃ ادا کر اس میں داخل ہوتے۔‘‘

عروہ بن زبیر ؓ عائشہ ؓ سے روایت کرتے ہیں :

أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ يَعْتَکِفُ الْعَشْرَ الْأَوَاخِرَ مِنْ رَمَضَانَ حَتَّی تَوَفَّاهُ اللَّهُ ثُمَّ اعْتَکَفَ أَزْوَاجُهُ مِنْ بَعْدِهِ

( بخاری، کتاب الاعتکاف ، بَابُ الِاعْتِكَافِ فِي العَشْرِ الأَوَاخِرِ، وَالِاعْتِكَافِ فِي المَسَاجِدِ كُلِّهَا )

کہ نبیﷺ رمضان کے آخری عشرہ میں اعتکاف کرتے تھے، یہاں تک کہ اللہ نے آپ کو اٹھا لیا پھر آپ کے بعد آپ کی بیویاں بھی اعتکاف کرتی تھیں‘‘۔

عمرہ بنت عبد الرحمن نے بیان کیا :

’’عائشہ ؓ زوجہ رسول اللہ ﷺ سے روایت ہے کہ اگر میں حالت اعتکاف میں ہوتی تو گھر میں حاجت کے لئے داخل ہوتی اور چلتے چلتے مریض کی عیادت کرلیتی اور اگر رسول اللہ ﷺ حالت اعتکاف میں ہوتے تو مسجد میں رہتے ہوئے اپنا سر مبارک میری طرف کردیتے تو میں اس میں کنگھی کرتی اور آپ ﷺ جب معتکف ہوتے تو گھر میں سوائے حاجت کے داخل نہ ہوتے تھے‘‘۔

( مسلم ، کتاب الحیض ، بَابُ جَوَازِ غُسْلِ الْحَائِضِ رَأْسَ زَوْجِهَا وَتَرْجِيلِهِ وَطَهَارَةِ سُؤْرِهَا وَالَاتِّكَاءِ فِي حِجْرِهَا وَقِرَاءَةِ الْقُرْآنِ فِيهِ )

واضح ہوا کہ اعتکاف مسجد میں کیا جاتا ہے، ماہ صیام کے آخری عشرے میں ہوتا ہے ۔ نبی ﷺ نے اپنی زندگی کے آخر تک اعتکاف کیا۔ ان کی ازواج نے بھی ان کی زندگی اور ان کی وفات کے بعد بھی اعتکاف کیا۔ معتکف کے لئے مسجد میں خیمہ لگا دیا جاتا ہے جہاں وہ دنیا سے کٹ کر صرف اور صرف عبادات پر بھرپور زور لگاتا ہے جیسا کہ حدیث سے نبی ﷺ کا طرز عمل ملتا ہے۔ عائشہ ؓ فرماتی ہیں :

کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَجْتَهِدُ فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مَا لَا يَجْتَهِدُ فِي غَيْرِهِ ( مسلم ، کتاب الاعتکاف ، بَابُ الِاجْتِهَادِ فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ )

’’ رسول اللہ ﷺ رمضان کے آخری عشرہ میں اتنی جدوجہد کرتے تھے کہ اس کے علاوہ اور دنوں میں اتنی زیادہ جدو جہد نہیں کرتے تھے‘‘۔

اعتکاف آخری عشرہ یعنی 21 صوم سے شروع ہوتا ہے لہذا اعتکاف کرنے والا بیسویں رمضان کو مغرب سے قبل مسجد میں داخل ہو جائے کیونکہ اکیسویں شب مغرب سے شروع ہو جاتی ہے۔معتکف سوائے لازمی حاجت کے مسجد سے باہر نہیں نکل سکتا اور اگر نکلے گا تو راستے میں کہیں نہیں رکے گا بلکہ جس مقصد کے لئے نکلا ہے صرف اسے پورا کرے گا۔ جیسا کہ آج کل مساجد میں ہی استنجاء و غسل کی جگہ موجود ہوتی ہے تو اس کے لئے گھر جانے کی ضرورت نہ رہی۔ عروہ عائشہ ؓ سے روایت کرتے ہیں :

عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ السُّنَّةُ عَلَی الْمُعْتَکِفِ أَنْ لَا يَعُودَ مَرِيضًا وَلَا يَشْهَدَ جَنَازَةً وَلَا يَمَسَّ امْرَأَةً وَلَا يُبَاشِرَهَا وَلَا يَخْرُجَ لِحَاجَةٍ إِلَّا لِمَا لَا بُدَّ مِنْهُ وَلَا اعْتِکَافَ إِلَّا بِصَوْمٍ وَلَا اعْتِکَافَ إِلَّا فِي مَسْجِدٍ جَامِعٍ

( ابوداؤد ، کتاب الصوم ، باب المعتكف يعود المريض )

’’ عروہ سے روایت ہے کہ عائشہؓ نے فرمایا : سنت یہ ہے معتکف نہ کسی مریض کی عیادت کے لئے جائے اور نہ صلاۃ المیت کے لئے (مسجد سے باہر) جائے اور نہ عورت کو (شہوت کے ساتھ) چھوئے اور نہ اس کے ساتھ مباشرت کرے اور نہ کسی ضرورت کے لئے باہر نکلے سوائے انسانی ضرورت کے (قضاء حاجت وغیرہ کے لئے) اور اعتکاف درست نہیں مگرصوم کے ساتھ۔ اور اعتکاف درست نہیں مگر مسجد میں‘‘۔

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ اعْتَكَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ فَسَمِعَهُمْ يَجْهَرُوا بِالْقِرَاءَةِ وَهُوَ فِي قُبَّةٍ لَهُ فَكَشَفَ السُّتُورَ وَكَشَفَ وَقَالَ أَلَا كُلُّكُمْ مُنَاجٍ رَبَّهُ فَلَا يُؤْذِيَنَّ بَعْضُكُمْ بَعْضًا وَلَا يَرْفَعَنَّ بَعْضُكُمْ عَلَى بَعْضٍ فِي الْقِرَاءَةِ أَوْ قَالَ فِي الصَّلَاةِ

( سنن ابی داؤد ، کتاب الصلاۃ ، باب رفع الصوت بالقراءة في صلاة الليل )

’’ابوسعید خدری ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبیﷺ نے مسجد میں اعتکاف کیا، اس دوران آپ کے کانوں میں لوگوں کے اونچی آواز میں قرآن مجیدپڑھنے کی آواز گئی، اس وقت آپ اپنے خیمے میں تھے، نبیﷺ نے اپنا پردہ اٹھا کر فرمایا یاد رکھو ! تم میں سے ہر شخص اپنے رب سے مناجات کر رہا ہے، اس لئے ایک دوسرے کو تکلیف نہ دو اور ایک دوسرے پر اپنی آوازیں بلند نہ کرو‘‘۔

اگر ہم ان سب روایات میں بیان کردہ کو جمع کریں تو واضح ہوتا ہے کہ

· اعتکاف ماہ رمضان کے آخری عشرے یعنی اکیسویں شب سے ماہ شوال کا چاند کھائی دینے تک ہوتا ہے۔

· اعتکاف کے لئے صوم اور مسجد لازمی ہیں۔

· اعتکاف کے لئے خیمہ بنایا جائے جو ہر ہر فرد کا علیحدہ ہو۔

· معتکف کو اپنا وقت اپنے خیمے میں گزارنا چاہئیے۔ خیمہ سے باہر بیٹھ دنیاوی یا دینی باتوں کی ہر گز اجازت نہیں۔

· معتکف کوئی انتظامی امور نہ نبھائے۔( امیر جماعت اس بات پر زور دیتے ہیں کہ انتظامی امور کے افراد ہی کام کریں، معتکف اس میں ہاتھ نہ بٹائے )

· معتکف اپنا وقت نوافل، قرآت قرآن و اذکار میں لگائے۔( دیگر دینی کتب ، رسالہ جات نہ پڑھےجائیں اور نہ ہی کوئی دوسرا دینی کام کیا جائے)

· اعتکاف کے معنیٰ اللہ کے لئے دنیا سے کٹ کر مسجد میں بیٹھ کر عبادت کرنا ہے لہذا موبائل وغیرہ بالکل نہ استعمال کیا جائے البتہ اہل خانہ معتکف سے ملاقات کے لئے آ سکتے ہیں۔ ( بخاری، کتاب الاعتکاف )

· موجودہ حالات میں واش روم وغیرہ کی سہولت مساجد میں ہی مہیا ہوتی ہے اس لئے معتکف اب مسجد سے باہر نہ جائے۔

· اگر معتکف کا کوئی کھانا لانے والا نہ ہو تو گھر سے جاکر لے آئے۔( ہماری مساجد میں تمام معتکفین کے لئے یہ انتظام ہوتا ہے اس لئے باہر جانے کی ضرورت نہیں )۔

· کسی کی تیمارداری یا جنازے کے لئے بھی باہر نہیں جا سکتا، تیمار داری کی اجازت بھی اس وقت ہے کہ جب اپنی ضروری حاجت کے لئے نکلے تو راستے میں بغیر رکے چلتے چلتے تیمارداری کرلے۔

· دوران اعتکاف خواتین سے تعلقات مکمل ممنوع ہیں، قرآن مجید میں ہے :

وَ لَا تُبَاشِرُوۡہُنَّ وَ اَنۡتُمۡ عٰکِفُوۡنَ ۙ فِی الۡمَسٰجِدِ ( البقرہ 187 )

’’اور جب تم مساجد میں معتکف ہو تو ان کے ساتھ مباشرت نہ کرنا‘‘

یہی بات عائشہ ؓ والی روایت میں ہے کہ

وَلَا يَمَسَّ امْرَأَةً وَلَا يُبَاشِرَهَا

’’اور نہ عورت کو (شہوت کے ساتھ) چھوئے اور نہ اس کے ساتھ مباشرت کرے‘‘

اللہ تعالیٰ تمام ایمان دار معتکفین کو ان باتوں کو سمجھنے اور اس پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔

Categories
Uncategorized

صلوٰۃ ۔۔ مومن کی شان

صلوٰۃ دین کا رکن ہے۔ صلوٰۃ کی بے انتہا فضیلت ہے۔ یہ بہت مہتم بالشان فریضہ ہے۔ اس کی خصوصیت اس سے ظاہر ہے کہ تمام احکامات دین اللّہ تعالیٰ نے بذریعہ وحی زمین پر بھیجے لیکن صلوٰۃ معراج کے موقع پر فرض ہوئی جب نبی ﷺ  کو اللہ نے آسمانوں پر بلایا (بخاری: کتاب الصلوٰۃ، باب کیف فرضت الصلوۃ فی الاسراء)۔
گویا کہ یہ معراج کی سوغات ہے۔ بلکہ یہ مومن کی اپنی معراج ہے کیونکہ صلوٰۃ کے ذریعے وہ اپنے مالک سے ہمکلامی کا شرف حاصل کرتا ہے، حالتِ سجدہ میں وہ اپنے رب سے انتہائی نزدیک ہو جاتا ہے ( بخاری: کتاب الصلوٰۃ، باب دفن النخامہ فی المسجد/ مسلم: کتاب ا لصلوٰۃ، باب مایقال فی الرکوع والسجود، عن ابی ھریرہ ؓ)۔
جہنم کی آگ پر اللہ نے حرام کر دیا کہ وہ سجدے کے نشان کو کھائے (بخاری: کتاب الاذان، باب فضل السجود)۔کثرت سجدہ اللہ کو سب کاموں سے زیادہ پسند ہے، ہر سجدے سے ایک درجہ بلند ہوتا ہے اور ایک گناہ معاف ہوتا ہے (مسلم: کتاب الصلوٰۃ، باب فضل السجود،عن ثوبان ؓ)۔
صلوٰۃ کو نور بھی کہا گیا ہے (مسلم، کتاب الطہارۃ، باب فضل الوضو، عن ابی مالک اشعری   ؓ)۔
قرآن میں ایمان کے بعد اللہ نے سب سے زیادہ تاکید صلوٰۃ قائم کرنے کی کی ہے۔ قرآن سے جن لوگوں کو ہدایت ملتی ہے ان کی ایک صفت یہ بھی ہے کہ وہ صلوٰۃ قائم کرتے ہیں (سورۃ البقرۃ: آیت3)۔
معززومکرم جنتیوں کی صفات میں صلوٰۃ کو ہمیشہ ادا کرتے رہنا اور اس کی  حفاظت کرنا بھی شامل ہے (سورۃ المعارج: آیات22،23،34،35) ۔
صلوٰۃ بے حیائی اور بری باتوں سے روکتی ہے (سورۃ العنکبوت: 45)۔
 گناہوں کو مٹا دیتی ہے (سورۃ ھود: 114/ بخاری: کتاب مواقیت الصلوٰۃ،باب الصلوٰۃ کفارہ) ۔
 اس سلسلے میں نبی ﷺ نے ایک مثال دی کہ جس طرح اس شخص کے بدن پر میل کچیل باقی نہیں رہتا جو اپنے گھر کے دروازے پر بہتی نہر میں روزانہ پانچ غسل کرے،اسی طرح صلوٰۃ خمسہ کی ادائیگی سے گناہ دور ہو جاتے ہیں (بخاری: کتاب مواقیت الصلوٰۃ، باب الصلوت الخمس کفارۃ للخطایا)۔
اللہ نے یہ عہد کر رکھا ہے کہ جو مومن صلوٰۃ خمسہ کا اہتمام کرے گا تو وہ اسے جنت میں داخل کر دے گا(نسانی: کتاب الصلوٰۃ،باب المحافظﮫ علی الصلوت الخمس)۔
صلوٰۃ خمسہ اور ایک جمعہ سے دوسرا جمعہ اپنے درمیان ہونے والے گناہوں کا کفارہ ہیں، جب تک کبائر کا ارتکاب نہ کیا جائے(ترمذی: کتاب الصلوٰۃ،باب فضل الصلوٰۃ الخمس، عن ابی ھریرۃ ؓ)۔
 نبیﷺنے بعض صلوٰت کی مخصوص فضیلت بھی بیان فرمائی ہے چنانچہ فرمایا کہ وہ شخص جہنم میں نہیں جائے گا جو صلوٰۃ ادا کرے سورج نکلنے سے پہلے اور ڈوبنے سے پہلے (یعنی فجروعصر) (مسلم: کتاب المساجد،باب صلوٰۃ الصبح و العصر، عن عمارۃ بن رویبﺔؓ)۔
 ایک جگہ فرمایا کہ جو یہ دو ٹھنڈی صلوٰت ادا کرے وہ جنت میں جائے گا(بخاری: کتاب امواقیت  الصلوٰۃ،باب فضل صلوٰۃ الفجر، عن ابی موسی اشعری ؓ) ۔
 فرمایا کہ جس نے صبح کی صلوٰۃ ادا کی وہ اللہ کی پناہ میں آئے ہوئے کو ستائے گا تو اللہ اسے جہنم میں ڈال دے گا(مسلم: کتاب المساجد،باب فضل صلوٰۃ الجماﻋﺔ،عن جندب ؓ) ۔
 فرمایا کہ عشاء اور فجر کی صلوٰۃ کا جو ثواب ہے اگر معلوم ہو جائے تو لوگ اس کے لیے ضرور آئیں اگرچہ گھسٹ کر ہی کیوں نہ آنا پڑے(بخاری: کتاب الاذان، باب الاستفہام فی الاذان)۔
 ایک دوسری جگہ فرمایا کہ جس   شخص کی صلوٰۃ العصر فوت ہو جائے تو ایسا ہے کہ جیسے  اس کے گھر والے اور مال سب لوٹ لیا گیا (بخاری: کتاب مواقیت صلوٰۃ، باب اثم من فاتۃ العصر)۔
 فرمایا جس  نے عصر کی صلوٰۃ چھوڑ دی تو اس کے اعمال اکارت ہو گئے(بخاری: کتاب مواقیت صلوٰۃ،باب اثم من ترک العصر)۔
 فرمایا کہ بندے اور شرک وکفر کے درمیان ترک صلوٰۃ کے سوا اور کوئی چیز نہیں ، جس نے صلوٰۃ ترک کی اس نے کفر کیا(مسلم : کتاب الایمان،باب اطلاق اسم الکفر علی من ترک الصلوٰۃ) ۔
 عمرؓنے فرمایا کہ اس کا اسلام میں کوئی حصہ نہیں جو صلوٰۃ کو ترک کر دے(مؤطا امام مالک: کتاب الطہارۃ، باب العمل فیمن غلبہ الدم من جرح او رعاف)۔
 قرآن میں اللہ نے فرمایا کہ تباہی ہے ان صلوٰۃ ادا کرے والوں کے لیے جو صلوٰۃ  سے غافل ہیں اور ریا کاری کرتے ہیں(سورۃ الماعون آیات 4/5)۔
 صلوٰۃ کی اہمیت کے پیشِ نظر نبی ﷺنے فرمایا کہ اپنی اولاد کو صلوٰۃ کا حکم دو جب وہ سات سال کے ہوں اور جب دس سال کے ہوں اور صلوٰۃ ادا نہ کریں تو انہیں مارو(ابو داؤد : کتاب الصلوٰۃ،باب متی یؤمر الغلام بالصلوٰۃ )۔
 صلوٰۃ کو ہرگز گراں نہیں سمجھنا چاہئے اور نہ ہی اس کو بوجھ اور حرج سمجھ کر ادا کیا جائے بلکہ اپنے رب سے ملاقات اور گفتگو کرنے کے لیے انتہائی شوق و لگن کے ساتھ ادا کرنا چاہئے(بخاری: کتاب مواقیت الصلوٰۃ،باب المصلی یناجی رﺒﮫ)۔(سورۃ البقرۃ: آیت 46)۔
 اللہ سے ڈرنے والے اور آخرت میں اپنے رب سے ملاقات پر یقین رکھنے والے مومنوں پر کسی بھی حالت میں صلوٰۃ کی ادائیگی بھاری نہیں(سورۃ البقرۃ: آیت 46)۔

شرائطِ صلوٰۃ

شرائط صلوٰۃ سے مراد وہ ضروری امور ہیں جو ادائیگی صلوٰۃ کے لیے لازمی ہیں۔ ان میں سب سے اولین شرط ایمانِ خالص ہے اور وہ ایسا ایمان ہے جس میں اللہ کے سوا کسی اور کو داتا، دستگیر،غوث اور مشکل کشا نہ سمجھا جائے، کسی اور کو مدد کے لیے نہ پکارا جائے، کسی اور کے نام نذر نیازنہ کی جائے، قبر میں دفن مردوں کو زندہ، سننے والا، مدد کرنے والانہ مانا جائے،قرآن و حدیث کے خلاف عقائد و اعمال اختیار کرنے والے کسی بھی مسلک، فرقےو مکتبہ فکر کی پیروی نہ کی جائے،اللہ کے رکھے ہوئے نام ”مسلم“ کے سوا اپنی اور کوئی پہچان نہ بنائی جائے۔۔۔ ایمان کے بغیر کوئی بھی عمل خیرِ قبول نہیں کیا جاتا۔ ایمانِ خالص کے علاوہ درجِ ذیل باتیں بھی صلوٰۃ قائم کرنے کے لیے ضروری ہیں:

طہارت

طہارت کا مطلب ہے پاکیزگی۔ ایمان کو شرک کی نجاست سے پاک کرنے کے بعد مومنین کو اپنے لباس اور جسم کو بھی ظاہری نجاست سے بچانا اور پاک رکھنا ہے۔ صلوٰۃ کے لیے وضو کرنا چاہیے۔(سورۃ المآئدہ)وضو کے بغیر صلوٰۃ نہیں ہوتی (بخاری: کتاب الصلوٰۃ، باب لایقبل صلوٰۃ بغیر طھور، عن ابی ھریرہ ؓ)
نبی ﷺ ہر کام بسم اللہ سے شروع کرتے تھے(بخاری: کتاب الوضو، عن انس بن مالک ؓ)
اور وضو شروع کرنے سے پہلے بھی بسم اللہ پڑھتے تھے(نسانی: کتاب الطھارۃ ، التسمیہ عند الوضو، عن انس بن مالک ؓ)
وضو سیدھی طرف سے شروع کریں کیونکہ دوسرے کاموں کی طرح وضو بھی نبی ﷺ سیدھی طرف سے شروع کرتے تھے(بخاری: کتاب الوضو ، باب التیمن فی الوضوٓء)
پہلے دونوں ہاتھ گٹوں تک دھوئیں، پھر کلی کریں، ناک میں پانی چڑھائیں، (کلی کرنے اور ناک میں پانی چڑھانے کے دو طریقے ہیں یا تو ان دونوں کے لیے الگ الگ چلو میں پانی میں لیں یا ایک ہی چلو سے کلی بھی کریں اور اس میں سے کچھ پانی بچا کر ناک میں چڑھا لیں(بخاری: کتاب الوضوٓء، باب من مضمض و استنشق من غرﻔﺔ واحدۃ عن عبداللہ بن زید﷜ترمذی: کتاب الطھارۃ، باب ماجآء فی وضو،النبی ﷺ کیف کان، عن علی ﷜ بن ابی طالب))
منہ دھوئیں، دونوں ہاتھ کہنیوں تک دھوئیں، سر کا مسح کریں، دونوں پیر ٹخنوں سمیت دھوئیں(بخاری: کتاب الوضوء، باب الوضوٓء، ثلثا ثلثا)۔
یہ اعضاء ایک ایک، دو دو اور تین تین دفعہ بھی دھوئے جا سکتے ہیں، تینوں عمل سنت ہیں(ایضاً: باب الوضوٓء مرۃ مرۃ/الوضوٓء مرتین مرتین/ الوضوٓء ثلثا ثلثا)
البتہ تین دفعہ سے زیادہ دھونا نبی ﷺ سے ثابت نہیں۔ وضو میں داڑھی میں خلال سنت ہے۔ نبی ﷺ چلو میں پانی لے کر اس کو ٹھوڑی کے نیچے لے جاتے اور داڑھی کا خلال کرتے(ابو داؤد: کتاب الطھارۃ،باب تخلیل اللحیۃ، عن انس بن مالک ؓ)
مسح سارے سر کا کرنا چاہئے جس کی ترکیب یہ ہے کہ نیا پانی لے کر دونوں ہاتھ تر کریں، پھر سر کے سامنے کے حصے پر رکھ کر دونوں ہاتھوں کو پیچھے گدی تک لے جائیں، پھر جہاں سے شروع کیا تھا وہیں لے آئیں(بخاری: کتاب الوضوٓء، باب مسح الراس کلہ)۔
گردن یا گدی کا علیحدہ سے مسح کرنا صحیح احادیث سے ثابت نہیں۔ کان بھی سر کا حصہ ہیں اس لیے سر کے ساتھ کانوں پر بھی مسح کریں جس کے لیے شہادت کی تر انگلیاں کانوں کے اندر گھمائیں اور انگوٹھے کانوں کی پشت پر(ترمذی: کتاب الطھارۃ، باب مسح الاذنین ظاھر ھما و باطنھما و باب ماجاء ان الاذنین من الراس/ ابن ماجہ: کتاب الطھارۃ و سننھا، باب ماجاء فی  مسح الاذنین / نسائی: کتاب الطھارۃ، باب مسح الاذنین)۔
وضو میں مسواک بھی کرنا چاہیے کہ نبی ﷺ نے اس کی بہت تاکید فرمائی ہے(بخاری: کتاب الصلوٰۃ باب السواک یوم الجمعۃ/ مسلم: کتاب الطھارۃ، باب السواک)۔
رسول اللہﷺ کو مسواک کرنا بھی اس قدر محبوب تھا کہ اپنی زندگی کا آخری کام یہی کیا(بخاری:کتاب المغاری، باب مرض النبی ﷺ و وفاتہ)۔
اس بات کا خیال رہے کہ وضو میں کوئی جگہ سوکھی نہ رہے ورنہ وضو نہ ہو گا اور صلوٰۃ بھی نہ ہو گی اور ساری محنت ضائع جائے گی (مسلم: کتاب الطھارۃ، باب وجوب استیعاب جمیع اجزاء محل الطھارۃ، عن جابر بن عبداللہ ؓ)۔
حدیث میں آیا ہے کہ جو اچھی طرح وضو کرے اور پھر کہے: اَشْھَدُاَنْ لَّا اِﻠٰﮫَ اِلَّا اللہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیْکَ لَهُ وَ اَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْ لُهٗ‎‏ (میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہی، اور گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں) تو اس کے لیے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دیے جائیں گے (مسلم:کتاب الطھارۃ، باب الذکر المستحب عقب الوضو، عن عقبہ بن عامر ؓ)۔
صحیح حدیث میں ایسا کوئی ذکر نہیں کہ یہ کلمہ کھڑے ہو کر، آسمان کی طرف دیکھ کر اور شہادت کی انگلی اٹھا کر پڑھا جائے یا دورانِ وضو سر کا مسح کرتے ہوئے اور انگوٹھے چوم کر آنکھوں سے لگا کر پڑھا جائے۔ پیشاپ یا پاخانہ کرنے، ہوا خارج ہونے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے (بخاری: کتاب الوضوٓء، باب من لم یرالوضوء الامن المخر جین القبل والدبر/ ترمذی: کتاب الطھارۃ، باب ماجآءفی الوضوء من الریح)
اگر ہوا خارج ہونے کا محض شک ہو تو نیا وضو نہ کریں جب تک کہ آواز نہ سنے یا بو نہ محسوس ہو (بخاری: کتاب الوضوٓء، باب لا یتوضاء من الشک حتیٰ یستقین)
لیٹ کر سونے سے بھی وضو ٹوٹ جاتا ہے (ترمذی: کتاب الطھارۃ، باب الوضوء من النوم)
وضو میں اگر بیٹھے بیٹھے نیند آ جائے تو وضو نہیں ٹوٹتا (ترمذی: کتاب الطھارۃ، باب الوضوء من النوم)
یہ بیٹھنا اگر ٹیک لگا کر ہوا تو اس سے بھی ٹوٹنے کا اندیشہ ہے کہ اس میں بھی لیٹ کر سونے کی طرح جوڑ ڈھیلے پڑ جاتے ہیں۔
جسم اور لباس کی پاکیزگی کے ساتھ صلوٰۃ کی جگہ بھی پاک ہونا چاہیےاور وہاں کوئی ظاہری نجاست نہیں ہونی چاہیے۔ اگر ہو تو پانی سے دھو لینا چاہیے (بخاری: کتاب الوضوٓء، باب صب المآءعلی البول فی المسجد)
بچہ اگر کپڑوں (یا زمین) پر پیشاپ کر دے تو اتنے ہی حصے پر پانی بہا کر دھو  لینا چاہیے (ایضاً: باب بول الصبیان)
اس کے علاوہ بھی اگر کوئی دوسری نجاست مثلاً خون وغیرہ لگا ہو تو اسے دھو کر صاف کر لینا چاہیے(ایضاً، باب غسل الدم/ غسل المني وفرکه و غسل ما یصیب من المر أۃ)۔
قبرستان، جانوروں کے اصطبل جہاں گوبر و پیشاپ ہوتا ہے، جانوروں کے ذبح کرنے، کوڑا پھینکنے غسل کرنے، پیشاپ پاخانہ کرنے کی جگہوں اور راستوں پر صلوٰۃ نہیں ہوتی، ان کے علاوہ ہر پاک جگہ پر صلوٰۃ ادا کی جا سکتی(بخاری: کتاب الصلوٰۃ، باب قول النبی ﷺ جعلت لی الارض مسجداو طھورا/کراھیه الصلوٰۃفی المقابر/ ترمذی: کتابالصلوٰۃ، باب ماجآء ان الارض کلھا مسجد الاالمقبرۃ والحمام/ ابوداؤد: کتاب الصلوٰۃ، باب النھی عن الصلوٰۃ فی مبارک الابل/ ابن ماجه: کتاب المساجد والجماعات، باب المواضع التی تکرہ فیھا الصلاۃ)۔

ستر چھپانا

جسم کے وہ حصے جن کا چھپانا لازم ہے، ستر کہلاتے ہیں۔ صلوٰۃ میں ستر کا چھپانا فرض ہے۔ اللہ کا حکم ہے کہ ہر صلوٰۃ کے وقت اپنی زینت کو اختیار کرو (الاعراف: آیت 31)۔
زینت سے مراد لباس ہے۔ مرد کے لباس میں قمیص وغیرہ کے علاوہ ازار (یعنی وہ لباس جو جسم کے نچلے حصے پر پہنا جاتا ہے مثلاً شلوار، لنگی، پاجامہ، پتلون، وغیرہ)ہوتا ہے، اس کو صلوٰۃ اور دیگر اوقات میں بھی  ٹخنوں سے اوپر رکھنا چاہیے کیونکہ اس کو ٹخنوں کے نیچے لٹکانے پر نبی ﷺ نے صلوٰۃ قبول نہ ہونے، جنت حرام ہونے، جہنم حلال ہونے اور اللہ کے رحمت کی نظر نہ فرمانے کی وعید سنائی ہے (بخاری: کتاب اللباس، باب ما اسفل من الکعین فھو فی النار/ باب من جر ثوبه من الخیلاء)۔
عورتوں کے لیے یہ حکم ہے کہ وہ اپنے ٹخنے ڈھانکے  رکھیں (نسائی: کتاب الزیینۃ، باب ذیول النساء، عن ام سلمۃؓ)۔
عورتیں لباس کے معاملے میں زیادہ احتیاط کریں کیونکہ  نبی ﷺ فرمایا کہ عورت چھپانے کی چیز ہے(ترمذی: کتاب الرضاع ، عن عبداللہ بن مسعود ؓ)۔
مردوں کو سر پر ٹوپی بھی رکھنی چاہیے کہ یہ اس کی زینت ہے اور اوپر مذکور آیت میں اللہ نے صلوٰۃ کے وقت زینت کو اختیار کرنے کا حکم دیا ہے۔ اللہ کے نبی ﷺ کی سنت بھی یہی ہے۔ جو لوگ جان بوجھ کر بغیر سر ڈھانپے صلوٰۃ ادا کرنے کے قائل ہیں ان کے پاس اس کی کوئی دلیل نہیں۔ اللہ کے رسول ﷺ سے بغیر سر ڈھانپے صلوٰۃ ادا کرنا ثابت نہیں ہے۔

وقت

اللہ نے مومنین پر صلوٰۃ وقت کی پابندی کے ساتھ فرض کی ہے (سورۃ النسآء: آیت 103)۔
ہر صلوٰۃ اپنے وقت پر پڑھنا سب سے افضل عمل ہے (بخاری: کتاب مواقیت الصلوٰۃ ، باب فضل الصلوٰۃ لو قتھا، عن عبداللہ بن مسعود ؓ)۔
اس لیے صلوٰۃ کو اس کے وقت پر ہی ادا کرنا چاہیے۔ دن رات میں پانچ وقت کی صلوٰۃ فرض ہے: فجر،ظہر، عصر، مغرب اور عشاء (بخاری و مسلم : کتاب الصلوٰۃ )۔
ظہر کا وقت سورج ڈھلتے ہی شروع ہو جاتا ہے اور اس وقت تک رہتا ہے جب تک آدمی کا سایہ اس کے قد کے برابر ہو جائے (یعنی ایک مثل)، اور اس وقت عصر کی صلوٰۃ کا وقت شروع ہو جاتا ہے جو اس وقت تک رہتا ہے جب تک سورج زرد نہ ہو جائے، اور مغرب کا وقت سورج ڈوبتے ہی شروع ہو جاتا ہے اور اس وقت تک رہتا ہے جب تک آسمان سے شفق کی سرخی غائب نہ ہو، اور شفق غائب ہونے کے بعد عشاء کا وقت شروع ہو جاتا ہے جو آدھی رات تک رہتا ہے،اور صبح  صادق کے ساتھ ہی فجر کا وقت شروع ہو جاتا ہے جو سورج نکلنے تک رہتا ہے (مسلم: کتاب المساجد ، باب اوقات الصلوٰۃ  الخمس عن عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ)۔
صلوٰۃ العصر کے ابتدائی وقت کا تعین کرتے ہوئے اس بات کا خیال رکھا جائے کہ  ایک مثل سائے میں وہ سایہ بھی شامل کیا جائے جو نصف النہار کے وقت ہوتا ہے (نسائی: کتاب المواقیت،باب آخر وقت المغرب)۔
تین وقتوں میں صلوٰۃ ادا کرنا منع ہے: جب سورج طلوع ہو رہا ہو، جب عین سر پر آجائے اور جب غروب ہو رہا ہو(مسلم: کتاب فضائل القرآن، باب الاوقات التی نھی عن الصلوٰۃ فیھا، عن عقبہ بن عامر الجھنی ؓ)۔
اسی طرح صلوٰۃ الفجر ادا کرنے کے بعد سورج بلند ہونے تک اور صلوٰۃ العصر ادا کرنے کے بعد سورج ڈوب جانے تک نبی ﷺ نے صلوٰۃ ادا کرنے سے منع فرمایا ہے (بخاری: کتاب مواقیت الصلوٰۃ ، باب لاتتحری الصلوٰۃ قبل غروب الشمس)۔

قضاء صلوٰۃ

صلوٰۃ کو اس وقت پر ہی ادا کرنا چاہیے جس طرح اللہ نے فرض کیا ہے۔ اور اس کا وقت پر ادا کیا جانا ہی اللہ کے نزدیک افضل ہے۔لیکن اگر بھول ،نیند یا کسی  مجبوری کی وجہ سے صلوٰۃ کو اس کے وقت پر ادا نہ کیا جا سکے تو بعد میں اس کی قضاء ادا کر لیں اور یہ نہ سوچیں کہ اب تو وقت نکل گیا ہے اب کیا پڑھیں۔ غزوہ خندق و خیبر کے موقع پر نبی ﷺ کی عصر و فجر کی صلوٰت قضاء ہو گئیں تو ان کو وقت گزارنے کے بعد ادا کیا (بخاری: کتاب الاذان، باب قول الرجل ما صلینا/ کتاب المواقیت باب الاذان بعد ذھاب الوقت)۔
نبی ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص کوئی صلوٰۃ بھول جائے تو یاد آتے ہی اس کو ادا کرے، بس یہی اس کا کفارہ ہے اور کچھ نہیں، اللہ نے حکم دیا کہ  اقیم الصلوٰۃ لذکری ( ترجمہ: صلوٰۃ قائم کرو میرے ذکر کے لیے) (سورہ طہٰ: آیت 14/ بخاری: کتاب مواقیت الصلوٰۃ،باب من نسی صلوٰۃ فلیصل اذا ذکر)۔
اکثر لوگ صبح کے وقت سوتے رہتے ہیں اور فجر کی صلوٰۃ قضاء کر دیتے ہیں اور پھر سستی کرتے ہیں اور ظہر کے ساتھ ادا کرتے ہیں۔ انہیں چاہیے کہ مندرجہ بالا فرمانِ رسول ﷺ کی تعمیل میں جاگنے کے فوراً بعد قضاء ادا کر لیں۔ لیکن اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ روزانہ پڑے سوتے رہیں اور فجر وغیرہ کی صلوٰۃ قضاء کرتے رہیں۔ نبی ﷺ نے فرمایا کہ منافقوں پر فجر اور عشاء سے زیادہ کوئی صلوٰۃ بھاری نہیں (بخاری: کتاب الاذان، باب فضل صلوٰۃ العشاء فی الجماعۃ
            ایک سفر میں نبی ﷺ اور صحابہ ؓ سوتے رہے  اور سورک نکل آیا ۔ دھوپ کی تمازت سے آنکھ کھلی  ۔ صحابہ کرام ؓ کہنے لگےقصور ہم نے صلوٰۃ میں کیا ہے اس کا کفارہ ہو گا۔ نبی ﷺ نے فرمایا کہ کیا میں تم لوگوں کے لیے اسوہ نہیں ہوں، قصور تواس  میں ہے کہ آدمی صلوٰۃ ادا نہ کرےیہاں تک کہ دوسرا وقت آ جائے، اس لیے جب ہوشیار ہو تو اس کو ادا کر لے اور دوسرے دن اس کو مقررہ وقت پر ادا کرے۔ پھر اذان و اقامت کے بعد نبی ﷺنے  با جماعت صلوٰۃ ادا کی۔ اس سے معلوم ہوتا ہےکہ قضاء  صلوٰۃ کو با جماعت بھی ادا کیا جا سکتا ہے (مسلم: کتاب المساجد، باب قضاء الصلوٰۃ ، عن ابی قتادہ ؓ/ بخاری: کتاب مواقیت الصلوٰۃ، باب الاذان بعد ذھاب الوقت وباب من صلی بالناس بعد ذھاب الوقت)
قضاء صلوٰۃ میں بھی ترتیب کا خیال رکھیں یعنی جو صلوٰۃ قضاء ہو چکی ہو اسے پہلے ادا کریں  بعد میں دوسری صلوٰۃ ادا کریں (بخاری: کتاب مواقیت الصلوٰۃ باب قضاء الصلوٰۃ الاولی فالا ولی)۔
لیکن اگر جماعت ہو رہی ہو تو پھر قضاء صلوٰۃ ادا کیے بغیر جماعت میں شامل ہو جائیں (بخاری:  کتاب الاذاان،باب اذا اقیمت الصلوٰۃ فلا صلوٰۃ الا المکتوبۃ)۔
فجر کی قضاء صلوٰۃ ادا کرتے وقت فرضوں سے پہلے کی دو رکعتیں بھی پڑھ لیں کیونکہ نبی ﷺ نے بھی ان کی قضاٰ ادا فرمائی (مسلم: کتاب المساجد، باب قضاء الصلوٰۃ، عن ابی قتادہ ؓ)۔
فجر میں وقت تنگ ہونے کی وجہ سے فرضوں سے پہلے کی دو سنتیں نہ پڑھی جا سکیں اور فرض ادا کر لیے تو یہ سنتیں سورج نکلنے کے بعد پڑھیں (ترمذی: کتاب الصلوٰۃ ، باب ماجآء فی اعادتھا بعد طلوع الشمس)۔
جس روایت میں فرضوں کے بعد پڑھنے کا ذکر ہے وہ متصل نہیں (ترمذی: کتاب الصلوٰۃ، باب ماجآ ء فیمن تفوتہ الرکعتان قبل الفجر یصلیھا بعد صلوٰۃ الصبح)۔
اگر کوئی ظہر کی شروع کی چار نفل ( سنتیں) نہ پڑھ سکے تو وہ  ظہر کی دو رکعت نفل کے بعد پڑھ لے (ابن ماجہ: کتاب اقامۃالصلوٰۃ: باب من فاتۃ الاربع قبل الظہر)۔
اس طرح ظہر کے بعد کی دو رکعتیں کسی وجہ سے نہ پڑھ سکیں تو بعد میں ان کی قضاء پڑھ لی جائے۔ نبی ﷺ نے اگرچہ عصر اور مغرب کے درمیان صلوٰۃ ادا کرنے سے منع فرمایا ہے (بخاری: کتاب مواقیت الصلوٰۃ، باب لا تتحری الصلوٰۃ قبل غروب الشمس)۔
لیکن ظہر کی ان دو رکعتوں کی عصر کے بعد قضاء ادا فرمائی (بخاری: کتاب السھو باب اذا کلم اھو یصلی فاشارہ بیدہ واستمع)۔

تعداد رکعات

صلوٰۃ خمسہ میں فرائض کی سترہ رکعات ہیں۔ اورنوافل کی بارہ (مسلم:کتاب صلوٰۃ المسافرین، باب فضل سنن الراتبہ…. عن ام حبیبہ ؓ)
اور ایک روایت میں  ظہر کی شروع کی دو رکعت سنت کے لحاظ سے کل دس رکعات ہیں (بخاری: کتاب تفصیر الصلوٰۃ، باب الرکعتین قبل الظہر)
ان کی تقسیم اس طرح ہے کہ فجر کی صلوٰۃ میں پہلے دو سنت ہیں پھر دو فرض، ظہر کی صلوٰۃ میں پہلے دو یا چار سنتیں (یہ چار رکعتیں دو سلام سے دو دو کر کے یا ایک سلام سے ایک ساتھ اکٹھی بھی پڑھی جا سکتی ہیں) (نسائی: کتاب الامامۃ، باب 532 الصلوٰۃ قبل العصر عن علی ؓ)
پھر چار فرض پھر دو سنتیں، عصر کی صلوٰۃ میں پہلے یا بعد میں کوئی سنت نہیں، صرف چار فرض ہیں، مغرب کی صلوٰۃ میں پہلے تین فرض پھر دو سنت، عشاء کی صلوٰۃ میں پہلے چار فرض پھر دو سنت اور اس کے بعد وتر جو ایک، تین، پانچ، سات یا نو جتنے چاہیں پڑھیں۔

مساجد

صلوٰۃ مسجد میں مومن ساتھیوں کے ساتھ با جماعت ادا کرنی چاہیے۔ مسجد مسلمین  کی عبادت گاہ کو کہتے ہیں جہاں وہ اللہ کے سوا کسی اور کی عبادت نہیں کرتے کیونکہ اللہ کا حکم ہے:

وَاَنَّ الْمَسٰجِدَلِلّٰهِ فَلَا تَدْعُوْا مَعَ اللّٰهِ اَحَدًا

(الجن: 18)

“اور یہ کہ مسجدیں تو اللہ ہی کے لیے ہیں پس وہاں اللہ کے ساتھ کسی اور کو نہ پکارو۔”

یعنی ایسا ہرگز نہ ہو کہ ان مساجد میں غیر اللہ کی دہائیاں دی جائیں ، ان کے نعرے بلند ہوں، ان سے مدد مانگی جائے یا ان کے ناموں کو وسیلہ بنایا جائے۔ جس جگہ ایسا کیا جائے یا ایسی تحریریں، تصویریں اور کتبات وغیرہ ہوں تو یہ وہ مقام ہر گز نہیں ہو سکتا جو اللہ کو ساری زمین پر سب سے زیادہ اچھا لگتا ہے، جسے ایمان خالص کے حامل، صلوٰۃ و زکوٰۃ کے عامل اور صرف اللہ سے ڈرنے والے مومن لوگ آباد کرتے ہیں نہ کہ وہ لوگ جو شرک کی نجاست سے آلودہ ہوں اگرچہ ایمان کے اقراری ہوں لیکن دلوں میں کفر باقی ہو (التوبۃ: 17،18)۔ نبی ﷺ نے فرمایا کہ جس شخص کو دیکھو کہ مسجد کی خبر گیری کرتا ہے (اس کو آباد رکھتا ہے) تو اس کے ایمان کی گواہی دو؛ پھر آپ نے یہی آیت پڑھی (ترمذی: کتاب الایمان، باب ماجآء فی حرمۃ الصلوٰۃ، عن ابی سعید الخدریؓ)۔
حدیث میں آتا ہے کہ جو شخص اچھی طرح وضو کرے اور صلوٰۃ کے لیے مسجد کی طرف جائے تو ہر قدم پر ایک گناہ معاف ہوتا ہے اور ایک درجہ بڑھتا ہے اور جب تک صلوٰۃ کے انتظار میں رہتا ہے تو اسے صلوٰۃ ادا کرنے کا ہی ثواب ملتا ہے اور فرشتے اس کے لیے دعائے خیر کرتے ہیں۔ صلوٰۃ کے بعد جب تک وہ اپنی جگہ پر رہتا ہے اور وضو نہیں ٹوٹتا تو فرشتے اس کے لیے رحمت، مغفرت و توبہ کی قبولیت کی دعا کرتے رہتے ہیں۔ (مسلم: کتاب الطھارۃ، باب فضل الوضوٓءو الصلوٰۃ عقبہ/ کتاب المساجد، باب فضل الصلوٰۃ الجماعۃ… و باب فضل الصلوٰۃ المکتوبۃ فی جماعۃ و فضل انتظار الصلاۃ/ بخاری کتاب الوضوٓء ، باب من لم یر الوضوء…. / کتاب الاذان، باب من جلس فی المسجد ینظر الصلوٰۃ و فضل المساجد)۔
مسجد میں داخل ہوتے وقت پہلے سیدھا پیر اندر رکھیں (رواہ البخاری تعلیقاً، کتاب الصلوٰۃ ، باب التیمن فی دخول المسجد)
اور یہ دعا پڑھیں :

اَلّٰھُمَّ افْتَحْ لِیْ اَبْوَابِ رَحْمَتِکَ

(مسلم: کتاب صلوٰۃ المسافرین، باب ما یقول اذا دخل المسجد)

” اے اللہ مجھ پر اپنی رحمت کے دروازے کھول دے”

اور باہر آتے ہوئے پہلے الٹا پیر نکالیں اور یہ دعا پڑھیں:

اَلّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْئلُکَ مِنْ فَضْلِکَ

” اے اللہ میں تجھ سے تیرے فضل کا سوال کرتا ہوں “

مسجد میں داخل ہوں تو بیٹھنے سے پہلے دو رکعت تحیۃ المسجد کے نوافل پڑھنے چاہئیں (بخاری: کتاب الصلوٰۃ، با اذا دخل احد کم المسجد فلیر کع رکعتین قبل ان یجلس/ مسلم: کتاب صلوٰۃ المسافرین، باب استحباب تحیۃ المسجد)۔

اذان

اصطلاحاً صلوٰۃ کے لیے پکار کر بلانے کو اذان کہتے ہیں اور اذان دینے والا مُؤذِّن کہلاتا ہے۔ یہ بڑی مبارک پکار ہے اور اس کا پکارنے والا بہترین شخص ہے۔ احادیث میں اذان اور مؤذن کی بہت فضیلت بیان ہوئی ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا کہ قیامت کے دن مؤذن کی گردن سب سے زیادہ اونچی ہو گی (مسلم: کتاب الصلوٰۃ، باب فضل الاذان)۔
نیز فرمایا کہ اذان دینے کا اتنا ثواب ہے کہ اگر لوگوں کو معلوم ہو جائےتو وہ اس کے لیے قرعہ اندازی کریں (بخاری: کتاب الاذان، باب الاستھمامفی الاذان)۔
 اذان کے کلمات دو مرتبہ ہیں اور اقامت کے ایک ایک مرتبہ(بخاری: کتاب الاذان، باب مثنیٰ مثنیٰ)۔
حدیث میں اذان کے کلمات یہ بیان کیے  گئے ہیں: (مسلم: کتاب الصلٰوۃ، باب استحباب القول مثل قول المؤذن لمن سمعہ ، عن عمر)

اَللَّہُ اَکْبَرُ اَللَّہُ اَکْبَر (اللہ بہت بڑا ہے، اللہ بہت بڑا ہے)

اَللَّہُ اَکْبَرُ اَللَّہُ اَکْبَر (اللہ بہت بڑا ہے،اللہ بہت بڑا ہے)

اَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ الَّا اِللَّہُ  (میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں)

اَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ الَّا اِللَّہُ  (میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں)

اَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللَّہُ  (میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں)

اَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللَّہُ  (میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں)

حَیَّ عَلیَ الصَّلٰوﺓِ (آؤ صلوٰۃ کی طرف)

حَیَّ عَلیَ الصَّلٰوﺓِ  (آؤ صلوٰۃ کی طرف)

حَیَّ عَلیَ الْفَلاَحِ (آؤ کامیابی کی طرف)

حَیَّ عَلیَ الْفَلاَحِ (آؤ کامیابی کی طرف)

اَللَّہُ اَکْبَرُ اَللَّہُ اَکْبَر (اللہ بہت بڑا ہے،اللہ بہت بڑا ہے)

لَّا اِلٰہَ الَّا اِللَّہُ  (اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں)

مؤذن کو اذان میں حَیَّ عَلیَ الصَّلٰوۃِ کے کلمات کہتے ہوئے دائیں طرف اور حَیَّ عَلیَ الْفَلاَحِ کہتے ہوئے بائیں طرف گردن گھمانی چاہیے (مسلم: کتاب الصلٰوۃ ، باب سترۃ المصلی)۔
اذان کہتے وقت دونوں کانوں میں انگشت  شہادت دینی چاہئے (بخاری تعلیقًا: کتاب الاذان،  باب ھل یتبع المؤذن فاہ ھٰھنا / ترمزی: کتاب الصلٰوۃ، باب ما جآء فی ادخال الصبع فی الا ذن عند الاذان )۔
فجر کی اذان حَیَّ عَلیَ الْفَلاَحِ کے بعد دو مرتبہ اَلصَّلٰوﺓ خیرٌمِّنَ النَّومِ (صلٰوۃ نیند سے بہتر ہے) کہنا بھی اللہ کے رسول ﷺ ہی نے سکھایا (ابو داؤد: کتاب الصلٰوۃ، باب کیف الاذان)۔
جماعت کھڑی ہوتے ہوئے بھی یہی اذان کے کلمات کہے جاتے ہیں جنہیں اقامت کہتے ہیں مگر فرق یہ ہےاذان کے کلمات دو دو دفعہ ہیں اور اقامت کے کلمات حَیَّ عَلیَ الْفَلاَحِ ایک ایک دفعہ ہیں پھر دو دفعہ قَدْ قَامَتِ الصَّلٰوۃِ (بیشک صلوٰۃ کھڑی ہو گئی) کا اضافہ کیا جاتا ہے اور پھر باقی کلمات اذان ہی کی طرح کہے جاتے ہیں (بخاری: کتاب الاذان، باب الاذان مثنیٰ مثنیٰ/ابو داؤد: کتاب الصلوٰۃ، باب کیف الاذان و باب فی الاقامۃ)۔
اذان کا جواب دینا بھی بہت ثواب کا کام ہے۔ اس کے جواب میں وہی  کلمات دہرائے جائیں جو مؤذن کہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا کہ اذان سننے والا اگر پورے خلوص اور دلی یقین کے ساتھ جواب  دے تو وہ جنت میں داخل میں ہو گا (مسلم : کتاب الصلٰوۃ، باب استحباب القول مثل قول المؤذن لمن سمعہ)۔
فرمایا تم بھی ایسا  ہی کہو جیسا مؤذن کہتا ہے (بخاری: کتاب الاذان، باب ما یقول اذا سمع المنادی)۔
حَیَّ عَلیَ الصَّلٰوﺓِ اور حَیَّ عَلیَ الْفَلاَحِ کے جواب میں لَا حَوْلَ وَ لَا قُوَّۃ اِلَّا بِا للَّہِ (اللہ کے سوا کوئی طاقت ہے نہ قوت)کہا جائے (بخاری: کتاب الاذان، باب ما یقول اذا سمع المنادی)۔
فجر کے اذان کے کلمات اَلصَّلٰوﺓ خیرٌ مِّنَ النَّومِ کے جواب میں صَدَقْتَ وَبَرَرْتَ بِلحَقِّ نَطَقْتَ  صحیح احادیث سے ثابت نہیں۔ اذان کے جواب کے بعد نبی ﷺ پر صلوٰۃ پڑھنا چاہیے۔ نبی ﷺ فرمایا کہ جب مؤذن کی اذان سنو تو تم بھی وہی کہو جو مؤذن کہتا ہے پھر مجھ پر صلوٰۃ پڑھو کیونکہ جو کوئی مجھ پر ایک مرتبہ صلوٰۃ پڑھتا ہے تو اللہ اس پر دس مرتبہ رحمت بھیجتا ہے، اسکے بعد اللہ تعالیٰ سے میرے لیے وسیلہ مانگو؛ وسیلہ دراصل جنت میں ایک مقام ہے جو اللہ کے بندوں میں سے ایک بندے کو دیا جائے گا اور مجھے امید ہے کہ وہ بندہ میں ہی ہوں گا اور جو میرے لیے وسیلہ طلب کرے گا تو اس کے لیے میری شفاعت واجب ہو گئی (مسلم : کتاب الصلٰوۃ، باب استحباب القول مثل قول المؤذن لمن سمعہ)۔
نبی ﷺ نے دعائے وسیلہ ان الفاظ میں سکھائی: (بخاری: کتاب الاذان، باب الدعاء عند النداء)

اللّٰھُمَّ رَبَّ ھٰذہِ الدَّعْوَۃِ التَّآ مَّۃِ وَالصَّلٰوۃِ الْقَآئِمَۃِ اٰتِ مُحَمَّدَ نِ الْوَسِیْلَۃَ وَالْفَضِیْلَۃَ وَابْعَثْہُ مَقَاماً مَّحْمُوْدَ نِ الَّذِیْ وَعَدْتَّہ̒

“اے اللہ، اس مکمل پکار اور قائم ہونے والی صلوٰۃ کے رب! محمد ﷺ کو وسیلہ اور فضیلت عطا فرما اور انہیں مقام محمود پر پہنچا جس کا تو نے ان سے وعدہ فرمایا ہے۔”

احادیث میں اذان کے بعد کی دعا کے یہی الفاظ آئے ہیں، ان میں کوئی اضافہ نہیں کرنا چاہیے۔ اور نہ ہی ان کلمات کو بلند آواز سے اور ہاتھ اٹھا کر پڑھنے کا حدیث میں کوئی ذکر ہے۔ صحیح احادیث میں اس بات کا بھی ذکر نہیں کہ ابو بکر ؓ نے اذان میں نبی ﷺ کا نام سن کر اپنے ہاتھوں کے دونوں انگوٹھے چوم کر آنکھوں سے لگا لیے۔

قبلہ رخ ہونا

صلوٰۃ قبلہ رخ یعنی خانہ کعبہ کی طرف منہ کر کے ادا کرنی چاہیے کہ یہ اللہ کا حکم ہے؛

وَمِنْ حَیْثُ خَرَجْتَ فَوَلِّ وَجْھَکَ شَطْرَالْمَسْجِدِالْحَرَامِ

(البقرۃ:150 )

” اور تم جہاں سے بھی نکلو مسجد حرام (خانہ کعبہ ہی) کی طرف منہ(کر کے صلوٰۃ ادا ) کرو اور تم جہاں بھی ہوا کرو تو اسی طرف رخ کیا کرو۔”

صلوٰۃ ایسی جگہ ادا کرنی چاہیے کہ راستہ نہ رکے اور لوگ سامنے سے نہ گزریں کیونکہ صلوٰۃ ادا کرنے والے کے سامنے سے گزرنے پر بہت وعید آئی ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا کہ نمازی کے سامنے سے گزرنے والا اگر یہ جانتا ہو کہ اس کا کتنا وبال ہے تو اسے چالیس تک کھڑا رہنا سامنے سے نکل جانے سے بہتر معلوم ہو۔ راوی کو یہ یاد نہیں رہا کہ چالیس دن ، مہینے یا سال (بخاری: کتاب الاذان ، باب اثم الماربین یدی المصلی / مسلم : کتاب الصلوٰۃ،باب السترۃ)۔

نبیﷺ ستون وغیرہ کی آڑ میں صلوٰۃ ادا فرماتے (بخاری: کتاب الاذان، باب الصلوٰۃ الی الاسطوانۃ)۔

اگر کوئی ستون نہ ہو تو کوئی اور چیز مثلاً کوئی ذرا اونچی لکڑی سامنے رکھ لینی چاہیے (بخاری: کتاب الصلوٰۃ، باب الصلوٰۃ الی الحربۃ / باب الصلوٰۃ الی العنزۃ)۔
اس طرح جو رکاوٹ رکھی جاتی ہے اسے سُتْرَۃ کہتے ہیں۔

قیام

صلوٰۃ کے لیے قبلہ رخ ہو کر با ادب کھڑے ہوں۔ اللہ کا حکم ہے:

وَقُوْمُوْالِلّٰہِ قٰنِتِیْنِ

(البقرۃ:  238)

‘‘اللہ کے آگے با ادب کھڑے رہو۔‘‘

اگر کھڑے ہونے کی قدرت نہیں  تو بیٹھ کر صلوٰۃ ادا کریں، بیٹھ کر بھی نہ پڑھ سکیں تو لیٹ کر ہی سہی بہر حال ادا ضرور کریں (بخاری: کتاب الاذان ، باب اذا لم یطق قاعدا  صلی علی جنب)۔
یا اگر عذر کے سبب بہتر سمجھے تو کچھ صلوٰۃ بیٹھ کر اور کچھ کھڑے ہو کر پڑھ  لے (بخاری: کتاب الصلوٰۃ، باب اذا صلی قاعدا ثم صح او وجد خفۃ تمم ما بقی)۔
قیام اور اس کے بعد بھی صلوٰۃ کے ہر رکن میں نظروں کو نیچا رکھنا ہے۔ صلوٰۃ میں ادھر اُدھر دیکھنے کے متعلق نبی ﷺ نے فرمایا کہ شیطان کا اچک لینا ہے (بخاری: کتاب الاذان، باب الالتفات فی الصلوٰۃ)۔
صلوٰۃ میں اوپر دیکھنے والوں کے بارے میں تو سخت وعید بتائی۔ فرمایا کہ اس فعل سے بعض آجائیں ورنہ ان کی بینائی چھین لی جائے گی (بخاری: کتاب الاذان، باب الالتفات فی الصلوٰۃ/ باب رفع البصرالی السماء فی الصلوٰۃ)۔

تسویۃ الصفوف

تسویۃ الصفوف سے مراد صفوں کو درست کرنا ہے۔ با جماعت صلوٰۃ کے لیے  اس وقت تک کھڑے نہ ہوں جب تک امام کو آتا نہ دیکھ لیں (بخاری: کتاب الاذان، باب الالتفات فی الصلوٰۃ/ باب رفع البصرالی السماء فی الصلوٰۃ، باب متیٰ یقوم الناس اذا راوا الامام عند الاقامۃ / مسلم: کتاب المساجد، باب متیٰ یقوم الناس للصلوٰۃ)۔
احادیث میں اس بات کا ذکر نہیں کہ سب لوگ بیٹھے رہیں اور مؤذن جب حَیَّ عَلیَ الصَّلٰوﺓِ   کہے تو اس وقت کھڑے ہوں۔ صف میں کھڑا ہونے کے لیے با وقار انداز اختیار کریں۔ پیروں کو بہت پھیلا کر کھڑے نہ ہوں بلکہ اعتدال کے ساتھ کھڑے ہوں ، قدموں کو سیدھا اور اور برابر رکھیں  (نسا ئی: کتاب الصلوٰۃ ، باب الصف بین القدمین فی الصلوٰۃ/ ابوداؤد : کتاب الصلوٰۃ ، باب وضع الیمنی علی الیسریٰ فی الصلوٰۃ)۔
جماعت سے صلوٰۃ پڑھتے ہوئے ہر آدمی اپنے برابر کھڑے ہوئے آدمی کے کندھے سے کندھا اور ٹخنے سے ٹخنہ ملا کر رکھے (بخاری : کتاب الاذان ،  باب الزاق المنکب بالمنکب والقدم  بالقدم فی الصف )۔
کہ اس طرح صف سیدھی رہتی ہے جس کی نبی ﷺ نے بہت تاکید فرمائی ہے (مسلم: کتاب الصلوٰۃ، باب تسویۃ الصفوف)۔
اور یہاں تک فرمایا کہ صفوں کو سیدھا رکھنا صلوٰۃ کا حسن اور اس کی تکمیل ہے (مسلم: کتاب الصلوٰۃ، باب تسویۃ الصفوف)۔
اس لیے اس کے بغیر صلوٰۃ ناقص رہتی ہے۔ جسم کی مخصوص ساخت کی بناء پر کاندھے اور قدم دونوں ایک ساتھ نہ مل پائیں تو بھی کوئی حرج نہیں، البتہ اس بات کا خیال رکھنا ضروری ہے کہ صف بالکل سیدھی ہو اور شانوں کے درمیان  خلاء نہ ہو۔ بچے بڑوں کے پیچھے صف بنائیں (مسلم: کتاب الصلوٰۃ ، باب تسویۃ الصنوف)۔
اور عورتیں بچوں کے پیچھے صف بنائیں (بخاری: کتاب الاذان، باب المرأ ۃ وحدھا  تکون صفا / مسلم: کتاب  الصلوٰۃ، باب امر النساء المصلیات  ورآء الرجال‎)۔
اگر صرف دو ہی آدمی صلوٰۃ ادا کریں (خواہ بچہ یا بڑا) تو دوسرا شخص امام کے دائیں طرف اس کے برابر کھڑا ہو (بخاری: کتاب الاذان ، باب میمنۃ المسجد والامام)۔
اور اگر کوئی  تیسرا آ جائے تو امام مقتدی کو پیچھے کر دے اور وہ دونوں امام کے پیچھے صف بنائیں (مسلم: کتاب الزھد، باب حدیث  جابر الطویل)۔
لیکن اگر وہ تیسرافرد عورت ہو تو وہ اکیلی پیچھے کھڑی رہے اور بچہ یا بڑا مام کے دائیں طرف (مسلم: کتاب المساجد، باب جوازالنافلۃ قاعداًوقائما)۔
لیکن کوئی آدمی پوری صف چھوڑ کر اکیلا نہ کھڑا ہو کیونکہ ایسے شخص کو نبی ﷺ نے صلوٰۃ دہرانے کا حکم دیا تھا (ابوداؤد:کتاب الصلوٰۃ، باب الرجل یصلی وحدہ خلف الصف/ ترمذی: کتاب الصلوٰۃ، باب الصلوٰۃ خلف بعدہ)۔
جب اقامت ہو جائے تو صلوٰۃ کے لیے دوڑ کر نہ آئیں بلکہ وقار اور سکون سے چل کر آئیں ، جس قدر صلوٰۃ مل جائے وہ پڑھ لیں اور جو رہ جائے اسے بعد میں پورا کر لیں (بخاری: کتاب الاذان، باب مادرکتم فصلوا)۔

نیت کرنا

نیت دل کے ارادے کو رہتے ہیں۔ جب صلوٰۃ ادا کرنے کھڑے ہوئے تو یہی اس کی نیت ہے۔اس کے لیے زبان سے الفاظ ادا کرنا کہ ” میں نیت کرتا ہوں دورکعت نماز فجر واسطے اللہ تعالیٰ کے، منہ طرف کعبہ شریف کے پیچھے اس امام کے۔۔۔۔” صریح بدعت ہے۔ احادیث میں اس کاکوئی ذکر نہیں۔ اور یہ کہنا تو صریح شرک ہے کہ ” نیت کرتا ہوں دو رکعت سنت واسطے رسول اللہ کے۔۔۔” کیونکہ عبادت کی ہر قسم صرف اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہے جس کا اقرار التحیات میں کیا جاتا ہے۔

تکبیرات

اللہُ اکبر کہنا تکبیر کہلاتا ہے۔ صلوٰۃ کے شروع میں اور ہر دفعہ رکوع و سجود میں جاتے ہوئے اور سجدوں اور قعدے سے اٹھتے ہوئے اللہُ اکبر کہیں (بخاری: کتاب الاذان، باب مادرکتم فصلوا، باب التکبیر اذا قام من السجود)۔
یہ تکبیریں اما م کے کہنے کے بعد مقتدی بھی کہیں کہ نبی ﷺ نے اس کا حکم دیا ہے (بخاری: کتاب الاذان، باب ایجاب التکبیر)۔
صلوٰۃ کے شروع میں کہی جانے والی تکبیر کو اصطلاح میں تکبیرِ تحریمۃ کہتے ہیں کہ اس سے بہت سی باتیں  صلوٰۃ میں حرام ہو جاتی ہیں۔ تکبیر تحریمہ کو تکبیرِ اولیٰ یعنی پہلی تکبیر بھی کہا جاتا ہے۔ یہ تکبیر دونوں ہاتھوں کو کاندھوں تک اٹھا کر کہی جائے (بخاری: کتاب الاذان، باب الی این یرفع یدیہ)۔
ایک روایت میں کانوں تک ہاتھ اٹھانے کا ذکر ہے (مسلم: کتاب الصلوٰۃ، باب استحباب رفع الیدین حذو المنکبین)۔
ان روایات سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ ہاتھ کم سے کم کاندھوں  تک اور زیادہ سے زیادہ کانوں تک اٹھائے جائیں۔ تا ہم انگوٹھوں کے سروں سے کانوں کو چھونے کا ذکر صحیح احادیث میں نہیں۔ ہاتھ اٹھا کر نیچے نہ گرائیں بلکہ انہیں ایک دوسرے پر رکھ کر باندھ لیا جائے (مسلم: کتاب الصلوٰۃ، باب استحباب رفع الیدین حذو المنکبین، وضع یدہ الیمنیٰ علی الیسریٰ، عن وائل بن حُجْر)۔
ہاتھ باندھنے کے مقام سے متعلق روایات ضعیف ہیں ۔ صحیح حدیث میں اسی قدر بتایا گیا ہے  کہ دایاں ہاتھ بائیں کلائی پر رکھ لیا جائے (بخاری: کتاب الاذان، باب ما یقرء بعد التکبیر/ مسلم: کتاب المساجد، باب ما یقال بین تکبیرۃالاحرام والقرأۃ)  

نبی ﷺ تکبیر تحریمہ اور قرأت کے درمیان یہ دعا پڑھتے تھے:

اللَّهُمَّ بَاعِدْ بَيْنِي وَبَيْنَ خَطَايَايَ کَمَا بَاعَدْتَ بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ اللَّهُمَّ نَقِّنِي مِنْ الْخَطَايَا کَمَا يُنَقَّی الثَّوْبُ الْأَبْيَضُ مِنْ الدَّنَسِ اللَّهُمَّ اغْسِلْ خَطَايَايَ بِالْمَائِ وَالثَّلْجِ وَالْبَرَدِ

(بخاری: کتاب الاذان، باب ما یقراء بعد التکبیر/ مسلم: کتاب المساجد، باب ما یقال بین تکبیرۃ الاحرام والقرأۃ)”

” اے اللہ مجھ میں اور میری خطاؤں میں اتنی دوری کر دے جتنی دوری تو نے مشرق اور مغرب کے درمیان کی ہے۔ اے اللہ مجھے خطاؤں سے ایسا پاک کر دے جیسے سفید کپڑا میل  سے پاک ہو جاتا ہے ۔ اے اللہ میری خطائیں  دھو ڈال پانی سے اور برف سے اور اولوں سے

قرأت

دعا  پڑھنے کے بعد قرأت کریں۔ قرأت سے پہلے تَعَوُذ یعنی
اَعُوْذُ بِا للّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّ جِیْمِ 
“میں اللہ کی شیطان مردود سے پناہ چاہتا ہوں”
پڑھنا ضروری ہے کیونکہ یہ اللہ کا حکم ہے:

فَاِذَ قَرَاْتَ الْقُرْاٰنَ فَاسْتَعِذْ بَاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّ جِیْمِ

(النحل: 98)

” اور جب تم قرآن پڑھنے لگو تو شیطان مردود سے اللہ کی پناہ پکڑ لیا کرو۔”

انفرادی صلوٰۃ میں سب کچھ آہستہ پڑھیں، نہ بالکل زیرِ لب پڑھیں نہ بہت زور سے کہ دور دور تک آواز جائے بلکہ متوسط انداز ہونا چاہیے جیسا کہ اللہ کا حکم ہے:

وَلَا تَجْھَرْ بَصَلَا تِکَ وَلَا تُخَافِتْ بِھَا وَابْتَغِ بَیْنَ ذٰلِکَ سَبِیْلَا

(بنی اسرائیل: 110)

” اپنی صلوٰۃ میں آواز کو بلند نہ کرو اور نہ ہی بالکل کم کرو بلکہ دونوں کے درمیان کی راہ اختیار کرو۔”

اس کے بعد تسمیہ یعنی
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
” اللہ کے نام کے ساتھ جو بہت مہربان اور رحم کرنے والا ہے۔”
(جو سورۃ التوبہ کے سوا قرآن کی ہر سورت سے پہلے ہے) آہستہ سے پڑھنی چاہیے (مسلم مو قو فاً: کتاب الصلوٰۃ باب حجۃ من قال لا یجھر با لبسملۃ/ نسا ئی: کتاب الصلوٰۃ ، باب ترک الجھر)۔
قرأت کا آغاز سورۃ الفاتحہ سے کرنا چاہیے (بخاری: کتاب الاذان، باب ما یقراء بعد التکبیر/ ترمذی : کتاب الصلوٰۃ، باب فی افتتاح القرأۃ بالحمد للّٰہ رب العٰلمین)۔
سورۃ الفاتحہ ہر رکعت میں پڑھنی ضروری ہے جس کے بغیر صلوٰۃ نہیں ہوتی (بخاری: کتاب الاذان، باب وجوب القرأء ۃ للامام و الماموم فی صلٰوت/ مسلم: کتاب الصلوٰۃ، باب وجوب قرآئۃ الفاتحہ فی کل رکعۃ )۔
لیکن اگر اما م کے پیچھے پڑھ رہے ہوں اور امام جہر یعنی بلند آواز سے قرأت کرے (جو فجر، مغرب، عشاء ، جمعہ، عیدین ، تراویح، وتر وغیرہ میں ہوتی ہے) تو مقتدیوں کو خاموش رہنا چاہیے کیونکہ اللہ کا حکم ہے:

وَاِذَ قُرِئَ الْقُرْاٰنُ فَاسْتَمِعُوْاٰ لَہ̒ وَاَنْصِتُوْ لَعَلَّکُمْ تُرْحَمُوْنَ

(الاعراف: 204)

” اور جب قرآن پڑھا جائے تو اسے توجہ سے سنو اور خاموش رہو تا کہ تم پر رحم کیا جائے۔”

حدیث میں نبی ﷺ نے بھی اس کی ممانعت فرمائی ہے اور حکم دیا ہے کہ جب امام قرأت کرے تو  تم خاموش رہو (مسلم: کتاب الصلوٰۃ، باب التشھد فی الصلوٰۃ)۔
اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے فرمان کی تعمیل  میں جہری رکعتوں میں خاموش رہ کر قرآن سننا چاہیے ۔ البتہ ظہر و عصر اور اسی طرح مغرب و عشاء کی ان رکعتوں میں جب امام سِرّی یعنی آہستہ آواز میں قر أت کرتا ہے تو مقتدی سورۃ الفاتحہ پڑھ سکتے ہیں۔ ایک دفعہ نبی ﷺ نے صلوٰۃ کے بعد پیچھے مڑ کر پوچھا  کہ کیا تم میں سے کسی نے میرے ساتھ قرأت کی تھی۔ ایک صحابی ؓ نے کہا کہ میں نے کی تھی۔ نبی ﷺ نے فرمایا کہ جبھی تو میں کہوں کہ مجھے  کیا ہو رہا تھا جو ایسا لگتا تھا جیسے کوئی مجھ سے قرآن چھین رہا ہو۔ اس کے بعد پھر لوگوں نے اس صلوٰۃ میں قرأت کرنا چھوڑ دی، جس میں نبی ﷺ زور سے قرأت فرماتے تھے (مؤطا امام مالک: کتاب الصلوٰۃ، باب ترک القراۃ خلف الامام فیما جھربہ)۔
ابو ہریرہ ؓ نے جب فرمان رسول ﷺ بیان کیا کہ جس نے صلوٰۃ میں سورۃ الفاتحہ نہیں پڑھی تو اس کی صلوٰۃ مکمل  ہوئے بغیر ناقص رہی؛ ایک صاحب نے پوچھا کہ امام کے پیچھے ہوں تو پھر کیا کریں؟ آپ ﷺ نے فرمایا‎‎‎  : اِقْرَٲبِھَا فِیْ نَفْسِکَ ”اس کو اپنے دل میں پڑھ لو“ (مسلم: کتاب الصلوٰۃ، باب وجوب قرآئۃ الفاتحہ فی کل رکعۃ)۔
زید بن ثابت ؓ سے امام کے پیچھے قرأت کرنے کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ امام کے ساتھ کوئی قرأت نہیں  (مسلم: کتاب المساجد، باب سجود القلاوۃ)۔
عبداللہ بن عمر ؓ جب یہ سوال کیا جاتا تو آپؓ  فرماتے تھے کہ تم میں سے جو کوئی امام کے پیچھے صلوٰۃ ادا کرے تو امام کی قرأت اس کے لیے کافی ہے، اور اگر اکیلے پڑھے تو پھر قرأت ضرور کرے۔ اور  خود عبداللہ بن عمر ؓامام کے پیچھے قرأت نہ کرتے تھے (مؤطا امام مالک: کتاب الصلوٰۃ، باب ترک القراۃ خلف الامام فیما جھر فیہ)۔
جابر بن عبداللہؓ  نے فرمایا کہ جس نے کوئی  رکعت بھی پڑھی اور اس میں سورۃ الفاتحہ نہیں پڑھی تو اس کی صلوٰۃ ادا نہ ہو گی، سوائے اس کے کہ وہ امام کے پیچھے ہو (مؤطا امام مالک: کتاب الصلوٰۃ، باب ترک القراۃ خلف الامام فیما جھر فیہ/ باب ماجاء فی ام القرآن)۔
فجر، مغرب اور عشاء کی صلوٰۃ میں امام کو قرأت بالجہر یعنی زور سے کرنی چاہیے (بخاری : کتاب الاذان، باب الجھر بقرأۃ  صلوٰۃ الفجر، باب الجھر فی المغرب، باب الجھر فی العشاء)۔
اور ظہر اور عصر میں بالسِّر یعنی آہستہ سے کرنی چاہیے(بخاری : کتاب الاذان، باب الجھر بقرأۃ  صلوٰۃ الفجر، باب الجھر فی المغرب، باب الجھر فی العشاء، باب من خافت القرأۃ فی الظھر والعصر)۔
اسی مناسبت سے یہ صلوٰت جہری اور سری کہلاتی ہیں۔ سورۃ الفاتحہ کے اختتام پر آمین کہنا چاہیے (بخاری : کتاب الاذان، باب الجھر بقرأۃ  صلوٰۃ الفجر، باب الجھر فی المغرب، باب الجھر فی العشاء، باب من خافت القرأۃ فی الظھر والعصر، باب جھر الماموم بالتامین)۔
جہری صلوٰۃ میں نبی ﷺ بلند آواز سے لمبا کر کے آمین کہتے تھے (ابوداؤد: کتاب الصلوٰۃ، باب التامین ورآء الامام/ ترمذی: کتاب الصلوٰۃ، باب ماجاء فی التامین)۔
آمین کہنے کا نبی ﷺ نے حکم دیا۔ فرمایا کہ جب امام  غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَ لَا الضَّآلِّیْنَ کہے تو تم آمین کہو (بخاری : کتاب الاذان، باب جھر الماموم بالتامین)۔
آمین کہنے کی بہت فضیلت ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی آمین کہتا ہے تو فرشتے آسمان میں آمین کہتے ہیں، جس کی آمین فرشتوں کی آمین سے  مل جائے گی تو اس کے پچھلے گناہ معاف کر دیے جائیں گے (بخاری : کتاب الاذان، باب جھر الماموم بالتامین، با فضل التامین)۔
پہلی دو رکعتوں میں فاتحہ کے بعد دوسری کوئی سورہ بھی پڑھی جائے گی اور باقی رکعتوں میں صرف سورۃ الفاتحہ (بخاری : کتاب الاذان، باب جھر الماموم بالتامین، با فضل التامین، باب یقراء فی الاخریین بفاتحۃ الکتاب)۔
اگر اکیلے صلوٰۃ ادا کر رہے ہوں تو یہ دوسری سورۃ جتنی چاہیں لمبی پڑھیں (بخاری : کتاب الاذان، باب جھر الماموم بالتامین، با فضل التامین، باب یقراء فی الاخریین بفاتحۃ الکتاب، باب اذا صلی لنفسہ فلیطول ما شآء)۔
کیونکہ اللہ کو طویل قیام والی صلوٰۃ پسند ہے (مسلم: کتاب صلوٰۃ المسافرین، باب صلوٰۃ اللیل و عدد رکعات النبی ﷺ فی اللیل)۔
لیکن جماعت کراتے ہوئے امام کمزوروں ، بوڑھوں ،  بیماروں اور کام کاج والوں کا خیال کرتے ہوئے چھوٹی سورتیں پڑھیں (بخاری: کتاب الاذان ، باب من شکا امامہ اذا طول)۔
بہتر تو یہ ہے کہ قرآن جس ترتیب سے مدون ہے اسی طرح پڑھا جائے کیونکہ مختلف اوقات کی صلوٰۃ میں نبی ﷺ سے جن سورتوں کی قرأت کرنا منقول ہے وہ ترتیب وار ہیں مثلاً عیدین میں  سورۃ ق اور القمر، جمعہ کی صبح السجدۃ اور الدھر، صلوٰۃ الجمعہ و عیدین میں الاعلیٰ اور الغاشیہ، صلوٰۃ الجمعہ میں الجمعہ اور المنافقون، عشاء میں الشّمس اور اللیل، التین اور العلق، وغیرہ (صحیحین کی کتاب الصلوٰۃ کے متعلقہ ابواب کی مختلف روایات)۔
البتہ یہ لازم بھی نہیں کیونکہ آپ ﷺ نے اس کے خلاف بھی کیا ہے۔ ایک مرتبہ تہجد میں آپ نے سورۃ البقرۃ کے بعد سورۃ النسآء اور پھر اس کے بعد سورۃ آل عمران تلاوت کی (مسلم: کتاب صلوٰۃ المسافرین، باب استحباب تطویل القرأت فی صلوٰۃ اللیل)۔
حالانکہ ترتیب مین سورۃ البقرۃ کے بعد سورۃ آل عمران آتی ہے۔ اس لحاظ سے ترتیب کے بغیر بھی پڑھ سکتے ہیں۔ نبی ﷺ کا اکثر معمول یہ تھا کہ آپ پہلی رکعت کو دوسری رکعت سے ذرا لمبی پڑھتے تھے (بخاری: کتاب الاذان ، باب یطول فی الرکعۃ الاولیٰ)۔
اسی طرح آپ کی چار رکعت والی صلوٰۃ میں پہلی دو رکعتیں بعد والی رکعتوں سے طویل ہوتی تھیں (بخاری: کتاب الاذان ، باب وجوب القرأۃ للامام والما مؤم)۔
اگر کوئی سجدہ والی آیت تلاوت کریں تو صلوٰۃ کے دوران ہی سجدۂ تلاوت کریں  (بخاری: کتاب سجود القرآن، باب من قرآء السجدۃ فی الصلوٰۃ فسجد بھا):

جس میں یہ دعا پڑھیں:

سَجَدَ  وَجْھِیَ لِلَّذِیْ خَلَقَہُ وَ صَوَّ رَ ہ̒ وَ شَقَّ سَمْعَہ̒ وَبَصَرَہ̒ بِحَوْلِہࢭ و قُوَّتِہ

(ابوداؤد: کتاب السجود، باب ما یقول اذا سجد)

”میرے چہرے نے اس (پروردگار) کے لیے سجدہ کیا جس نے اس کو پیدا کیا اور اس کی (بہترین انسانی) صورت بنائی اور محض اپنی طاقت و قوت سے اس کے کان اور آنکھیں کھولیں“۔

قرآن و حدیث کا حکم یہ ہے کہ قرآن سے جتنا بھی سہولت سے پڑھ سکو پڑھ لو (سورۃ: المزمل: 20/ بخاری: کتاب الاذان ، باب وجوب القرأۃ للامام والما مؤم)۔
چاہیں تو ایک ہی سورۃ ہر رکعت میں پڑھ لیں یا ایک رکعت میں کئی سورتیں ملا کر پڑھ لیں (بخاری: کتاب الاذان، باب الجمع بین السورتین فی رکعۃ/ مسلم: کتاب فضائل القران، باب ترتیل القرأۃ واجتناب الھذو اباحۃ سورتین فا کثر فی رکعۃ)۔

رکوع

قرأت سے فارغ ہونے کے بعد رکوع کریں۔ جیسا کہ پہلے لکھا گیا، رکوع میں جانے سے پہلے بھی امام و مقتدی دونوں اَللہُ اَکْبَر کہیں گے۔ رکوع میں کھڑے کھڑے کمر کو جھکا کر دونوں ہاتھوں سے گھٹنوں کو پکڑا جاتا ہے۔ رکوع میں جانے سے پہلے اور رکوع کے  بعد رفع یدین یعنی دونوں ہاتھوں کو کاندھوں تک اٹھانا (بخاری: کتاب الاذان، باب رفع الیدین اذاکبر و اذارکع واذا رفع/ مسلم : کتاب الصلوٰۃ، باب استحبابرفع الیدین حذو المنکبین مع تکبیرۃ الاحرام والرکوع و فی الرفع من الرکوع)
 اور نہ اٹھانا (بخاری: کتاب الاذان، باب سنۃ الجلوس فی التشھد/ ترمذی: کتاب الصلوٰۃ باب رفع الیدین عندالرکوع/ ابوداؤد: کتاب الصلوٰۃ، باب من لم یذکر الرفع عندالرکوع/ نسائی: کتاب الافتتاح، باب ترک ذلک)
دونوں طریقے نبی ﷺ کی سنت ہیں۔ رکوع میں ہاتھوں سے گھٹنے پکڑے رکھیں (بخاری: کتاب الاذان ، باب سنۃ الجلوس فی التشھد)۔
دونوں بازو سیدھے تنے ہوئے ہوں، ان میں جھول نہ ہو اور پسلیوں سے دور ہوں (ترمذی: کتاب الصلوٰۃ، باب ماجآء انه یجا فی یدیه عن جنبیه فی الرکوع)۔
رکوع میں سر کو کمر سے اونچا یا نیچا نہ رکھا جائے بلکہ دونوں برابر ہوں (مسلم: کتاب الصلوٰۃ، م یجمع فی صفۃ الصلوٰۃ۔۔۔ عن عائشہ ؓ)۔
رکوع  کو اچھی طرح کرنا چاہیے اور اس میں ہرگز کوتاہی نہیں کرنی چاہیے کیونکہ ایسا کرنے والے شخص کو نبی ﷺ نے کہہ کر دوبارہ صلوٰۃ ادا کرنے کا حکم دیا تھا کہ تم نے صلوٰۃ ادا نہیں کی (بخاری: کتاب الاذان، باب امر النبی ﷺ الذی لا یتم رکوعه بالاعادۃ)۔
رکوع میں قرآن پڑھنا منع ہے (مسلم: کتاب الصلوٰۃ، باب النھی عن قرأۃ القرآن فی الرکوع و السجود)۔
رکوع میں ان الفاظ میں تسبیح کی جائے :  سُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِیْمِ ”میرا عظمت والا رب پاک ہے “ (مسلم: کتاب المسافرین، باب استحباب تطویل القرأۃ فی صلوٰۃ اللیل)
اس تسبیح کی کم از کم تعداد تین مرتبہ ہے (ابوداؤد: کتاب الصلوٰۃ، باب ما یقول الرجل فی رکوعه و سجوده)۔

ان کے علاوہ دوسرے الفاظ بھی منقول ہیں مثلاً

سُبُّوْحٌ قُدُّوْسٌ رَبُّ الْمَلٰٓئِکۃِ وَالرُّوْحِ

”بہت پاک اور برگزیدہ ہے فرشتوں اور جبرئیل کا رب

“ (مسلم: کتاب الصلوٰۃ ، باب ما یقال فی الرکوع و السجود)

سُبْحٰنَکَ وَ بِحَمْدِکَ لَا اِلٰهَ اِلَّا اَنْتَ

”اے اللہ تو پاک ہے اور تیری ہی سب تعریف ہے، تیرے سوا کوئی الٰہ نہیں۔ “

(مسلم: کتاب الصلوٰۃ ، باب ما یقال فی الرکوع و السجود)

نبی ﷺ رکوع میں یہ دعا بھی کیا کرتے تھے:

سُبْحَانَکَ اللّٰھُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمْدِکَ اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ

”اے اللہ تو پاک ہے، اے ہمارے رب تیرے لیے تعریف ہے، اے اللہ مجھے بخش دے

“(بخاری: کتاب الاذان، باب الدعا فی الرکوع)

رکوع سے سر اٹھاتے ہوئے کہا جائے

سَمِعَ اللہُ لِمَنْ حَمِدَہ‎‎‏‏‍ُُ

” اللہ  نے اس کی سن لی  جس نے اس کی تعریف کی۔ “

اور جب سیدھے کھڑے ہو جائیں تو کہیں:

رَبَّنَا لَکَ الحَمْدُ

” اے ہمارے رب سب تعریف تیرے ہی لیے ہے “  کہیں

(بخاری: کتاب الاذان، باب التکبیر اذا قام من السجود)۔

اور دوسری روایت میں

اَللّٰھُمَّ رَ بَّنَا وَ لَکَ الحَمْدُ

بھی آئے ہیں بھی آئے ہیں

(بخاری: کتاب الاذان، باب التکبیر اذا قام من السجود، باب فضل اللھم ربنا و لک الحمد)۔

مقتدی صرف

رَبَّنَا لَکَ الحَمْدُ

کہہ کر رکوع سے کھڑے ہوں۔ نبی ﷺ نے فرمایا کہ جس کا یہ کہنا فرشتوں کے کہنے سے مل جائے گا تو اس کے پچھلے گناہ معاف ہو جائیں گے

(بخاری: کتاب الاذان، باب التکبیر اذا قام من السجود، باب فضل اللھم ربنا و لک الحمد، باب ما یقول الامام و من خلفه اذا رفع راسه من الرکوع)۔

مسلم نے نبی ﷺ کا رکوع سے کھڑے ہو کر یہ کلمات پڑھنا بھی روایات کیا ہے:

سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَہُ اَللّھُمَّ رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ مِلَاءَ السَّمٰوٰتِ وَ مِلَاءَ الْاَرْضِ وَمِلَاءَ مَاشِئْتَ مِنْ شَیْءٍ ۢ بَعْدُ

” اللہ نے اس کی سن لی جس نے اس کی تعریف کی۔ اے ہمارے رب تیرے ہی لیے ساری تعریف ہے جو بھر دے آسمانوں کو اور زمین کو اور اس کے بعد ہر شے کو جس کو تو چاہے “

(مسلم: کتاب الصلوٰۃ، باب ما یقول اذا رفع راسه من الرکوع)

امام سے پہلے ہر گز سر نہ اٹھائیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ

کہ کوئی امام سے پہلے سر نہ اٹھائے، کہیں ایسا نہ ہو کہ اس کا سر گدھے کا ہو جائے

(بخاری: کتاب الاذان، باب الطمانیۃ حین یرفع راسه من الرکوع)۔

رکوع سے سر اٹھانے کے بعد بالکل سیدھا کھڑا ہو جائیں اور سجدے میں جانے سے پہلے اتنی دیر کھڑے رہیں کہ ہر جوڑ اپنی جگہ پر آجائے (بخاری: کتاب الاذان، باب الطمانیۃ حین یرفع راسه من الرکوع، باب سنۃ الجلوس فی التشھد)۔
(اس طرح کھڑے ہونے کو قومہ کہتے ہیں) ایسا ہرگز نہ کریں کہ رکوع سے سیدھے کھڑے بھی نہ ہوئےکہ سجدے میں چلے گئے کیونکہ ایسا کرنے والے کو نبی ﷺ نے صلوٰۃ دہرانے کا حکم دیا تھا اور کہا تھا کہ تو نے تو صلوٰۃ ادا ہی نہیں کی، جس کا ذکر پہلے کیا جا چکا ہے۔ نبی ﷺ رکوع سے سر اٹھا کر اتنی دیر تک کھڑے رہتے کہ صحابہ ﷜ سمجھتے کہ نبی ﷺ سجدہ کرنا بھول گئے (باب سنۃ الجلوس فی التشھد ،باب الطمانیۃ حین یرفع راسه من الرکوع)۔
نیز آپ ﷺ کا رکوع و سجدہ اور رکوع سے سر اٹھا کر کھڑا رہنا اور دونوں سجدوں کے درمیان میں بیٹھا رہنا قریب قریب برابر ہوتا تھا (باب سنۃ الجلوس فی التشھد ،باب الطمانیۃ حین یرفع راسه من الرکوع)۔
 صحابہ ؓ اس وقت تک سجدے کے لیے اپنی کمر نہ  جھکاتے تھے۔ جب  تک نبی ﷺ کو سجدے میں نہ دیکھ لیتے (بخاری: کتاب الاذان، با متی یسجد من خلف الامام/ مسلم: کتاب الصلوٰۃ، باب متابعت الامام ولاعمل بعدہ)۔
اور ایسا صرف احتیاط کے پیش نظر تھا کہ نبی ﷺ نے امام سے پہلے کوئی عمل کرنے کی ممانعت فرمائی ہے (مسلم: کتاب الصلوٰۃ المسافرین، باب ائتمام الماموم بالامام)۔
جب بیٹھ کر صلوٰۃ ادا کر رہے ہوں تو رکوع کے لیے بیٹھے ہی بیٹھے کمر کو آگے جھکا کر بھی رکوع کیا جا سکتا ہے (مسلم: کتاب الصلوٰۃ المسافرین، باب ائتمام الماموم بالامام، با ب جواز النافلۃ قاعداوقائما)۔

سجدہ

رکوع  کے بعد سجدہ کریں۔  سجدوں میں جاتے ہوئے اور اٹھتے ہوئے بھی  اَللہُ اَکْبَر کہیں (بخاری: کتاب الاذان، باب یھو با لتکبیر حین یسجد)۔
سجدے میں سات اعضاء زمین پر لگنے چاہییں : پیشانی(اس میں ناک بھی شامل ہے)، دونوں ہاتھ، دونوں گھٹنے اور دونوں پیر (بخاری: کتاب الاذان، باب یھو با لتکبیر حین یسجد، باب السجود علی سبعۃ اعظم/ باب السجود علی الانف)۔
ان میں سے جو چیز بھی زمین پر نہ لگے گی تو سجدہ مکمل نہ ہو گا۔ سجدہ پورا نہ ہو گا تو صلوٰۃ بھی مکمل نہ ہو گی (بخاری: کتاب الاذان، باب یھو با لتکبیر حین یسجد، باب السجود علی سبعۃ اعظم/ باب السجود علی الانف، باب اذلم یتم سجودہ)۔
سجدے میں جاتے ہوئے زمین پر پہلے گٹھنے رکھیں یا دونوں ہاتھ، اس سلسلے میں جتنی روایتیں آئی ہیں ان سب میں ضعف پایا جاتا ہے لہٰذا کسی ایک مخصوص طریقے پر اصرار نہ کیا جائے۔ سجدوں میں کہنیاں اور بانہیں زمین سے اٹھی ہوئی ہوں، کتے کی طرح زمین پر انہیں بچھائیں نہیں(مسلم: کتاب المساجد، باب الاعتدال فی السجود)۔
اور دونوں ہتھیلیوں کے درمیان پیشانی رکھیں (مسلم: کتاب الصلوٰۃ، باب وضع یده الیمنی علی الیسریٰ، عن وائل بن حجر ؓ)
جو شخص رکوع سجود میں کمر سیدھی نہ کرے تو اس کی صلوٰۃ درست نہیں (ترمذی: کتاب الصلوٰۃ، باب ماجآء فی من لا یقیم صلبه فی الرکوع و السجود/ ابوداؤد: کتاب الصلوٰۃ، باب صلوۃ من لا یقیم صلبه فی الرکوع و السجود )۔
اگر کسی عذر کی بناء پر سجدہ نہ کیا جا سکے تو صرف سر کا اشارہ ہی کر لیا جائے اور کوئی اونچی چیز سامنے رکھ کر اس پر سجدہ نہ کیا جائے (موطا امام مالک: کتاب الصلوٰۃ، باب العمل فی جامع الصلوٰۃ)

سجدے میں یہ تسبیح پڑھی جائے:

سُبْحَانَ رَبِّیَ الْاعْلٰی

”میرا اعلیٰ رب پاک ہے“

(ابوداؤد: باب ماجآءفی التسبیح فی الرکوع و السجود)

اس تسبیح کی بھی کم سے کم تعداد تین ہے (ابوداؤد: باب ماجآءفی التسبیح فی الرکوع و السجود)

سجدے کی دوسری تسبیح یہ ہے:

سُبُّوْحٌ قُدُّوْسٌ رَبُّ الْمَلٰٓئِکۃِ وَالرُّوْحِ

”بہت پاک اور برگزیدہ ہے فرشتوں اور جبرئیل کا رب“

(مسلم:کتاب الصلوٰۃ، باب مایقال فی الرکوع و السجود)

نبی ﷺ نے فرمایا کہ بندہ سجدے میں اپنے رب سے بہت ہی قریب ہوتا ہے، پس تم سجدوں میں کثرت سے دعا کیا کرو (مسلم:کتاب الصلوٰۃ، باب مایقال فی الرکوع و السجود)۔
نبی ﷺ رکوع اور سجدوں میں اکثر یہ دعا کیا کرتے تھے : (بخاری: کتاب الاذان، باب التسبیح والدعا فی السجود)

سُبْحَانَکَ اللّٰھُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمْدِکَ اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ

”تو پاک ہے اے اللہ! اے ہمارے رب، تیری تعریف کے ساتھ ! اے اللہ مجھے معاف کر دے۔“

مسلم نے سجدے کی یہ دعا بھی روایت کی ہے:

اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ ذَنْبِیْ کُلَّهُ دِقَّهُ وَجِلَّهُ وَ اَوَّلَهُ وَ اٰ خِرَہُ وَعَلَا نِیَّتَهُ وَسِرَّہُ

” اے اللہ میرے سارے گناہوں کو معاف کر دے، تھوڑے ہوں یا بہت، اگلے ہوں یا پچھلے، ظاہر ہوں یا پوشیدہ ۔

(مسلم: کتاب الصلوٰۃ، باب ما یقال فی الرکوع و السجود)

سجدے سے  اَللہُ اَکْبَر کہتے ہوئے سر اٹھائیں  (بخاری: کتاب الاذان، با یھوی بالتکبیر حین یسجد)
اور اطمینان سے بیٹھ جائیں۔ دونوں سجدوں کے درمیان میں قعدہ کی طرح دوزانو بیٹھیں یعنی الٹا پیر بچھا کر بائیں ران پر بیٹھیں اور سیدھا پیر کھڑا رکھیں جس کی انگلیاں قبلہ کی طرف مڑی ہوئی ہوں (بخاری: کتاب الاذان، باب سنۃ الجلوس فی التشھد/ مسلم: کتاب الصلوٰۃ، باب ما یجمع صفۃ  الصلوٰۃ/ نسائی: کتاب الافتتاح، باب الامنقبال بطراف اصابع القدم القبلۃ عند اقعود للتشھد)۔
ایسا نہ کریں کہ ٹھیک سے بیٹھ بھی نہ پائیں  کہ دوسرا سجدہ کوّے کی ٹھونگ کی طرح کر دیں۔ بلکہ سکوں اور اطمینان سے بیٹھیں کہ ہر جوڑ اپنی جگہ پر آجائے (نسائی: کتاب الافتتاح، باب امرالنبی ﷺ الذی لا یتم رکوعه بالاعادۃ)۔
نبی ﷺ نے اس طرح ٹھونگیں ما ر کر سجدہ کرنے سے منع فرمایا ہے (نسائی: کتاب الافتتاح، باب امرالنبی ﷺ الذی لا یتم رکوعه بالاعادۃ، باب النھی عن تفرۃالغراب)۔

دونوں سجدوں کے درمیان میں بیٹھنے کواصطلاح میں جلسۃ کہتے ہیں۔

جلسے میں یہ دعا کرنا مسنون ہے:

رَبِّ اغْفِرْلِیْ رَبِّ اغْفِرْلِیْ

”اے رب مجھے معاف کر دے، اے رب مجھے معاف کر دے“

(نسائی: کتاب الافتتاح، باب الدعابین السجدتین)

اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ وَارْحَمْنِیْ وَ عَا فِنِیْ وَ اھْدِنِیْ وَارْزُقْنِیْ

”اے اللہ! مجھے معاف کر دے ، مجھ پر رحم فرما، مجھے عافیت دے، مجھے ہدایت دے، مجھے رزق“

(ابوداؤد: کتاب الصلوٰۃ، باب الدعا بین السجدتین)

ترمذی نے  عَا فِنِیْ کی جگہ وَاجْبُرْنِیْ (اور میرے نقصان کو پورا کر دے) روایت کیا ہے (ترمذی: کتاب الصلوٰۃ، با ب ما یقول بین السجدتین)۔
پہلے سجدے کی طرح دوسرا سجدہ بھی اطمینان سے کریں ۔ سجدے میں جاتے اور اٹھتے ہوئے تکبیر کہیں (بخاری: کتاب الاذان، باب التکبیر اذاقام من السجود)۔
اس طرح ایک رکعت پوری ہو گئی۔ اب دوسری رکعت کے لیے کھڑے ہوں۔ سجدوں کے بعد براہ راست کھڑے ہو جائیں (بخاری: کتاب الایمان و النذر، باب اذاحنث ناسیافی الایمان، عن ابی ھریرۃ ﷜)
یا تھوڑی دیر بیٹھ  کر زمین پر ہاتھ ٹیک کر  کھڑے ہوں (بخاری: کتاب الاذان، باب کیف یعتمد علی الارض اذا قام من الرکعۃ)۔

تیسری رکعت پڑھ کر چوتھی کے لیے کھڑے ہونے کا بھی یہی طریقہ ہے۔

قعدہ

پہلی رکعت کی طرح دوسری رکعت بھی ادا کریں اور دوسرے سجدے کے بعد قعدہ کریں یعنی بیٹھ جائیں۔ بیٹھنے کا وہی طریقہ ہے جو جلسے یعنی دو سجدوں کے درمیان بیٹھنے کا بتایا گیا یعنی دوزانو ہو کر بایاں پیر بچھائیںاور سیدھا پیر کھڑا رکھیں جس کی انگلیاں قبلہ رخ مڑی ہوئی ہوں، دونوں ہاتھ رانوں پر ہوں (مسلم: کتاب المساجد، باب صفۃ الجلوس فی الصلوٰۃ )۔
نبی ﷺ جب  قعدے میں بیٹھتے تو بایاں ہاتھ بائیں ران پر رکھتے اور داہنے ہاتھ کو دائیں ران  پر رکھ کر درمیانی انگلی   اور انگوٹھے کو ملا کر حلقہ بنا لیتے اور شہادت کی انگلی کو قدرے جھکا کر اٹھائے رکھتے اور اس سے اشارہ کرتے (مسلم: کتاب المساجد، باب صفۃ الجلوس فی الصلوٰۃ/ نسائی: کتاب الافتتاح، باب موضع الیدین عند الجلوس/ باب الاشارۃ بالاصبح/ ترمذی: کتاب الصلوٰۃ، باب کیف الجلوس فی التشھد، باب ماجآء فی الاشارۃ)اٹھی ہوئی  شہادت کی انگلی کو مسلسل ہلاتے رہنا کسی صحیح حدیث سے ثابت نہین۔
اور نظر اس اٹھی ہوئی انگلی سے آگے نہ بڑھتی (نسائی: کتاب الافتتاح، باب موضع البصر فی التشھد)
اگر کوئی عذر ہو تو چار زانو ہو کر آلتی پالتی مار کر بھی بیٹھ سکتے ہیں  (بخاری: کتاب الاذان، باب سنۃ الجلوس فی التشھد)۔

آخری  قعدے میں بیٹھنے کا ایک اور انداز بتایا گیا ہے:

بائیں پیر پر بیٹھنے کے بجائے اسے آگے بڑھا کر کولھے پر بیٹھ جائیں یا دونوں پیروں کو داہنی طرف نکال کر بائیں سرین پر بیٹھ جائیں (بخاری: کتاب ا لاذان، باب سنۃ الجلوس فی التشھد)۔

اس طرح بیٹھنے کو  تَوَ رُّک کہتے ہیں۔ قعدہ میں تشہد کے لیے نبی ﷺ نے یہ کلمات سکھائے:

التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ السَّلامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ السَّلامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ

”ہر قسم کی زبانی، جسمانی اور مالی عبادت اللہ ہی کے لیے ہے۔ اے نبی آپ پر سلامتی ہو اور اللہ کی رحمت و برکت۔ اور سلامتی ہو ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اس کے بندے اور رسول ہیں

(بخاری: کتاب الاذان، با ب التشھد فی الاخرۃ)۔

اب اگر تیسری رکعت پڑھنی ہو تو اَللہُ اَکْبَر کہہ کر کھڑے ہو جائیں (بخاری: کتاب الاذان، باب یکبروھو ینھض من السجدتین)۔ 
کھڑے ہوتے وقت زمین پر ہاتھ لگا کر سہارا لیا جا سکتا ہے (بخاری: کتاب الاذان، باب کیف یعتمد علی الارض اذا قام من الرکعۃ)۔
اگر صلوٰۃ  رفع یدین کے ساتھ یعنی رکوع سے پہلے اور بعد  ہاتھ اٹھا کر ادا کر رہے ہوں تو تیسری رکعت کے لیے کھڑے ہو کر بھی رفع یدین کیا جائے (بخاری: کتاب الاذان، رفع الیدین اذا قام من الرکعتین)۔
تیسری یا چوتھی رکعت اگر فرض صلوٰۃ کی ہیں تو ان میں قیام میں صرف سورہ فاتحہ پڑھیں (بخاری: کتاب الاذان، باب یقراء فی الاخریین بفاتحۃ الکتاب)۔
اور آخری قعدہ کریں۔ آخری قعدہ میں تشہد کے کلمات  کہنے کے بعد اختیار ہے کہ جو بھی دعا بھی چاہیں کریں (بخاری: کتاب الاذان، باب ما یتخیر من الدعا بعد التشھد ولیس بواجب)۔
نبی ﷺ نے دعا کے آداب یہ بتائے ہیں کہ پہلے اللہ کی حمدوثناء کریں  پھر نبی ﷺ پر صلوٰۃ و سلام بھیجے پھر دعا کریں اپنے لیے اور دوسروں کے لیے (نسائی: کتاب الافتتاح، باب التمجید و الصلوٰۃ علی النبی ﷺ/ ترمذی: کتاب الدعوات، باب ماجآء فی جامع الدعوات عن رسول اللہ ﷺ)۔

صلوٰۃ اللہ کی حمدو ثناء کا مجموعہ ہے۔ تشہد میں بھی اللہ کی تعریف ہے۔ اس لیے اب فرمانِ رسول ﷺ کی تعمیل میں ان کے لئے صلوٰۃ و سلام یعنی رحمت  و سلامتی کی دعا کریں۔ یہ اللہ کا بھی حکم ہے:

اِنَّ اللّٰهَ وَمَلٰۤٮِٕكَتَهٗ يُصَلُّوْنَ عَلَى النَّبِىِّ ۗ يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوْا تَسْلِيْمًا

’’ اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے نبی پر رحمت کرتے ہیں۔ اے ایمان والو! تم (بھی) ان کے لئے رحمت کی دعا کرو اور خوب سلام‘‘۔

سورہ الاحزاب آية 56

یہ حکم سن کر صحابہ ﷜ نے نبی ﷺ سے پوچھا کہ ہمیں یہ تو معلوم ہو چکا ہے کہ آپ پر سلام کیسے پڑھیں ( نبی ﷺ نے انہیں تشہد میں سلام کرنا سکھایا تھا(بخاری: کتاب الاذان، باب التشھد فی الاخرۃ/ مسلم، کتاب الصلوٰۃ، باب التشھد)

، مگر یہ بتا دیجیے کہ ہم آپ پر صلوٰۃ کس طرح پڑھیں؟ تو فرمایا کہ اس طرح کہو:

اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍكَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ.إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌاللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ، وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍكَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَإِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ

”اے اللہ تو محمد اور آل محمد پر رحمت فرما جیسے تو نے ابراہیم اور آل ابراہیم پر رحمت فرمائی، بیشک تو تعریف والا اور بزرگی والا ہے۔ اے اللہ تو برکت فرما محمد اور آل محمد پر جیسے تو نے برکت فرمائی ابراہیم   اور آل ابراہیم پر، بیشک تو تعریف والا اور بزرگی والا ہے۔“

(بخاری: کتاب الانبیا، باب 313 یزفون النسلان فی المشی)۔

نبی ﷺ کے لیے رحمت کی دعا کرنا یعنی صلوٰۃ پڑھنا خود اپنے لیے موجب رحمت ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص مجھ پر ایک مرتبہ صلوٰۃکرے گا تو اللہ اس پر دس مرتبہ صلوٰۃکرے گا (مسلم: کتاب الصلوٰۃ، باب استحباب القول مثل قول المؤذن لمن سمعه)۔
اس کے بعد اپنے لیے اور دوسروں کے لیے خوب دعائیں مانگیں۔ احادیث میں بہت سی دعائیں مروی ہیں۔ قرآن میں بھی کافی دعائیں ہیں مثلاًسورۃ البقرۃ آیات ۱۲۷،۱۲۸،۲۰۱،۲۰۵،۲۸۵،۲۸۶/ آل عمران ۱۹۴،۱۹۳،۱۴۷،۱۵،۱۶:۸/ الاعراف: ۱۵۵،۱۲۶،۸۹،۳۳/یونس: ۸۶،۸۵/یوسف:۱۰۱/ابراہیم:۴۱،۴۰/بنی اسرائیل: ۸۰،۲۴/الکہف: ۱۰/طٰہٰ: ۲۵تا۲۸، ۱۱۴/ الانبیاء: ۸۳/ المومنون: ۱۱۸،۱۰۹،۹۸،۹۷/ الفرقان:۷۴،۶۶،۶۵/النمل:۱۹/القصص:۲۱/العنکبوت:۳۰/الاحقاف: ۱۵/ الحشر: ۱۰/ الممتحنہ: ۵،۴/ التحریم : ۸، وغیرہ۔ جو یاد ہوں پڑھ لیں البتہ ان کے شروع میں اَللّٰھُمَّ لگا لیں جیسا کہ رسول اللہ ﷺ خود   رَبَّنَآ اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَۃً سے پہلے لگایا کرتے تھے (بخاری: کتاب التفسیر، تفسیر سورۃالبقرۃ، باب وَمِنْھُمْ مَّنْ یَّقُوْلُ رَبَّنَآ اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَۃً )۔

کیونکہ  قرآن کی تلاوت صرف قیام میں کی جاتی ہے۔ عائشہ ﷜ فرماتی ہیں کہ نبی ﷺ صلوٰۃ میں یہ دعا کیا کرتے تھے:

اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْمَأْثَمِ وَالْمَغْرَمِ “

”اے اللہ میں تجھ سے عذاب قبر سے پناہ مانگتا ہوں اور مسیح دجال کے فتنے سے اور زندگی اور موت کے فتنے سے اور گناہ اور قرضداری سے“

مسلم نے شروع میں

اللَّهُمَّ إِنِّى أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ جَهَنَّمَ

کے الفاظ کا اضافہ روایت کیا ہے

(مسلم: کتاب المساجد، باب استحباب التعوذ من عذاب القبر)۔

ابوبکر ؓ کو نبی ﷺ نے صلوٰۃ میں پڑھنے کے لیے یہ دعا سکھائی:

اللهم إني ظلمت نفسي ظلما كثيرا ولا يغفر الذنوب إلا أنت،‏‏‏‏ فاغفر لي مغفرة من عندك،‏‏‏‏ وارحمني إنك أنت الغفور الرحيم»

”اے اللہ میں نے گناہ کر کے خود پر بہت ظلم کیا ہے اور گناہوں کا بخشنے والا تیرے سوا کوئی نہیں۔ پس تو اپنی بخشش سے مجھے معاف کر دے اور مجھ پر رحم فرما۔ بیشک تو بہت معاف کرنے والا رحم کرنے والا ہے۔“

(بخاری: کتاب الاذان، باب الدعا قبل السلام)

امامت کرنے والے شخص کو صرف اپنے لیے ہی دعا نہیں کرنی چاہیے بلکہ سب کے لیے دعا کرے کیونکہ نبی ﷺ نے ایسا کرنے والے کے متعلق فرمایا کہ اس نے خیانت کی (ترمذی: کتاب الصلوٰۃ، باب ماجآء فی کراھیۃ ان یخص الامام نفسه بالدعا)۔

سلام

صلوٰۃ کا اختتام سلام کے ذریعے کیا جائے۔ اس کے لیے پہلے دائیں پھر بائیں طرف چہرہ گھما کر سلام پھیرے۔ رسول اللہ ﷺ اپنے چہرے کو دائیں بائیں اتنا گھما کر سلام پھیرتے تھے کہ اگلی صف والوں کو آپ ﷺ کے رخسار نظر آجاتے تھے(مسلم: کتاب المساجد، باب السلام للتحلیل من الصلوٰۃ عند فراغھا و کیفیته)۔

ہر دفعہ سلام پھیرتے ہوئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم  فرماتے تھے

اسلام علیکم ورحمتہ اللہ

(ابوداؤد: کتاب الصلوٰۃ، باب فی السلام/ ترمذی: کتاب الصلوٰۃ، باب ماجآء فی التسلیم فی الصلوٰۃ)۔

ذکر بعد الصلوٰۃ

نبی ﷺ سلام پھیرنے سے پہلے کثرت کے ساتھ دعائیں کیا کرتے تھے۔ سلام کے بعد نبی ﷺ  اور صحابہ کرام ؓسے ہاتھ اٹھا کر اجتماعی یا انفرادی دعا کرنے کا احادیث میں کوئی ثبوت نہیں ملتا۔ آپ ﷺ سلام پھیر کر بلند آواز سے تکبیر کہتے تھے۔ عبداللہ بن عباس ؓ  روایت کرتے ہیں کہ میں تو اختتام صلوٰۃ اسی تکبیر کی آواز سے پہچانتا تھا (بخاری: کتاب الاذان، باب الذکر بعد الصلوۃ)۔
اس کے بعد تین بار  اَسْتَغْفِرُاللہَ کہتے تھے (مسلم: کتاب المساجد، باب استحباب الذکر بعد الصلوٰۃ)۔

عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ نبی ﷺ جب سلام پھیرتے تو اپنی جگہ پر اتنی دیر سے زیادہ نہ بیٹھتے کہ یہ الفاظ کہہ لیتے:

اللَّهُمَّ أَنْتَ السَّلَامُ وَمِنْکَ السَّلَامُ تَبَارَکْتُ يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِکْرَامِ

”اے اللہ تو سلام ہے، اور سلامتی تجھ ہی سے ہے۔ اے بزرگی اور عزت والے ! تو بڑی برکت والا ہے۔“

(مسلم: کتاب المساجد، باب استحباب الذکر بعد الصلوٰۃ)

نبی ﷺ ہر فرض کے بعد یہ ذکر بھی کرتے تھے:

لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيکَ لَهُ لَهُ الْمُلْکُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَی کُلِّ شَيْئٍ قَدِيرٌ اللَّهُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْکَ الْجَدُّ

”اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں، وہ ایک ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کی بادشاہت ہے، اور سب تعریف اسی کے لیے ہے، اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ اے اللہ جسے تو عطا کرے تو اسے کوئی مانع  نہیں ہو سکتا  اور جسے تو نہ دے اسے کوئی نہیں دے سکتا اور کسی بزرگ کی بزرگی اسے تیرے آگے فائدہ نہیں پہنچا سکتی “

(بخاری: کتاب الاذان، باب الذکر بعد الصلوٰۃ/ مسلم کتاب المساجد، باب استحباب الذکر بعد الصلوٰۃ)

آپ ﷺ نے ہر صلوٰۃ کے بعد تینتیس مرتبہ  سُبْحَانَ اللہِ ، تینتیس مرتبہ   اَلْحَمْدُلِلّٰہِ اور تینتیس مرتبہ   اَللہُ اَکْبَرُ پڑھنا بھی بتایا (بخاری: کتاب الاذان، باب الذکر بعد الصلوٰۃ/ مسلم کتاب المساجد، باب استحباب الذکر بعد الصلوٰۃ)۔

اور بتایا کہ جو یہ (مذکورہ بالا) ننانوے کلمات پڑھے اور (اس کے بعد)

لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيکَ لَهُ لَهُ الْمُلْکُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَی کُلِّ شَيْئٍ قَدِيرٌ

کہہ کر سینکڑہ پورا کرے تو اس کے گناہ بخشے جاتے ہیں اگرچہ سمندر کے جھاگ کے برابر ہوں

(مسلم: کتاب الصلوٰۃ، استحباب الذکر بعد الصلوٰۃ)۔

(ایک دوسری روایت میں اَللہُ اَکْبَرُ کہنے کی تعداد چونتیس مرتبہ آئی ہے) یہ تسبیحات شمار کرنے کے لیے نبی ﷺ سیدھے ہاتھ کی انگلیوں کے پورے استعمال فرماتے تھے (ابوداؤد: کتاب الصلوٰۃ، باب التسبیح بالحصی)
اور ایسا ہی کرنے کا حکم دیتے تھے کہ انگلیاں گواہی دیں گی (ابوداؤد: کتاب الصلوٰۃ، باب التسبیح بالحصی)۔
ایک دھاگے میں پروئے ہوئے دانوں والی مروجہ تسبیح پڑھنا نبی ﷺ کی سنت نہیں۔

سجدہ سہو

اگر صلوٰۃ میں کوئی غلطی ہو جائے تو سَہَو کے دو سجدے کرنے چاہییں۔ اگر اکیلے صلوٰۃ ادا کریں تو اکیلے سجدۂ سہو کریں، اگر جماعت سے پڑھیں تو اگر امام سے غلطی ہو تو امام و مقتدی دونوں سجدۂ کریں، لیکن اگر مقتدی سے غلطی ہو تو دونوں میں سے کوئی بھی نہ کرے۔ سجدۂسہو فرض ونفل دونوں میں کیا جاتا ہے (مسلم: کتاب المساجد، باب السھو فی الصلوٰۃ و السجود له، عن عبداللہ بن مسعود ﷜)۔
سجدۂ سہو کے دو طریقے ہیں : سلام پھیرنے سے پہلے دو سجدے یا سلام پھیرنے کے بعد دو سجدے ۔ سلام پھیرنے کے بعد اگر سجدۂ سہو کیا جائے تو اس کے بعد بھی سلام پھیرا جا سکتا ہے (مسلم: کتاب المساجد، باب السھو فی الصلوٰۃ و السجود له، عن عبداللہ بن مسعود ﷜)۔)۔
نبی ﷺ نے چار رکعت والی صلوٰۃ میں دوسری رکعت کے بعد بھولے سے قعدہ اولیٰ نہیں کیا اور سجدے سے سیدھے کھڑے ہو گئے۔ صلوٰۃ کے آخر میں صحابہ ﷜ سلام پھیرنے کے منتظر تھے کہ آپ ﷺ نے اللہ اکبر کہا اور سلام سے پہلے بیٹھے بیٹھے دو سجدے کیے۔ پھر سلام پھیرا (بخاری: کتاب التھجد، باب ماجآء فی السھو اذا قام من رکعتی الفریضۃ)۔
آپ ﷺ نے بھولے سے ظہر کی کی چار کے بجائے پانچ رکعتیں پڑھا دیں اور سلام پھیر دیا؛ بات چیت بھی فرما لی؛ لوگوں نے یاد دلایا  تو آپﷺ نے وہیں بیٹھے بیٹھے دو سجدے کیے، پھر سلام پھیرا (مسلم: کتاب المساجد، باب السھو فی الصلوٰۃ و السجود له)۔
آپ ﷺ نے بھولے سے عصر کی چار کی بجائے تین اور ایک روایت میں کے مطابق دو رکعت پڑھا کر سلام پھیر دیا اور اٹھ کر اپنے حجرے میں بھی چلے گئے۔ جب لوگوں نے یاد دلایا تو آپ نے صلوٰۃ لوٹائی نہیں بلکہ چھوٹ جانے والی دو یا ایک رکعت پڑھ کر سلام پھیرا اور پھر تکبیر کہہ کر سہو کے دو سجدے کیے اور پھر دوبارہ سلام پھیرا (مسلم: کتاب المساجد، باب السھو فی الصلوٰۃ و السجود له)۔
شیطان کے وسوسے سے اگر یہ یاد نی رہے کہ تین رکعتیں پڑھیں یا چار، تو پہلے اچھی طرح سوچ کر شک کو دور کریں اور جس قدر یقین ہو اس کو قائم کریں، پھر سلام سے پہلے دو سجدے کریں (مسلم: کتاب المساجد، باب السھو فی الصلوٰۃ و السجود له)۔

صلوٰۃ الوتر

ایک آدمی نے عبداللہ بن عمر ﷜ سے پوچھا کہ کیا وتر واجب ہے؟ آپ ﷜ نے کہا کہ بیشک نبی ﷺ نے وتر ادا کیا اور مسلمین نے بھی وتر ادا کیا (مؤطا امام مالک، کتاب صلوٰۃ االلیل باب الامر بالوتر)۔
ایک حدیث میں نبی ﷺ نے فرمایا کہ اللہ وتر ہے اور وتر کو پسند کرتا ہے، تو اے اہل قرآن تم وتر پڑھا کرو (نسائی: کتاب قیام اللیل باب الامر بالوتر/ ترمذی: کتاب الوتر، باب ماجآء ان الوتر لیس بحتم)۔
فرمایا کہ وتر ہر مسلم پر حق ہے؛ جس کا جی چاہے پانچ رکعت سے وتر پڑھے، جس کا جی چاہے تو تین رکعت سے وتر پڑھے اور جس کا جی چاہے تو ایک رکعت سے ہی پڑھے (ابوداؤد: کتاب الصلوٰۃ، باب کم الوتر)۔
فرمایا کہ وتر ایک رکعت ہے آخر شب میں (مسلم: کتاب صلوٰۃ المسافرین، باب صلوٰۃ اللیل وعدد رکعات النبی ﷺ)۔
آخر شب میں وتر پڑھنا عزیمت کی راہ ہے جس میں قوت درکار ہے جبکہ شب میں ادا کرنا احتیاط ہے جیسا کہ نبی ﷺ نے ابوبکر ؓ کے اوّل شب اور عمر ؓ کے آخر شب میں وتر پڑھنے کے بارے میں بیان فرمایا (ابوداؤد: کتاب الصلوٰۃ، باب فی الوتر قبل النوم)۔
ابوہریرہ ؓکو نبی ﷺ نے رات کو سونے سے پہلے وتر ادا کرنے کی وصیت فرمائی تھی (بخاری: ابواب تقصیر فی الصلوٰۃ، باب صلوٰۃ الضحیٰ فی الحضر)۔
فرمایا کہ جس کو خوف ہو کہ وہ آخر شب میں نہ اٹھ سگے گا تو وہ اوّل شب مین ہی وتر پڑھ لے ورنہ آخر شب میں پڑھے، اس لیے شب کی صلوٰۃ ایسی ہے کہ اس میں فرشتے حاضر ہوتے ہیں اور وہ  افضل ہے  (مسلم: کتاب صلوٰۃ المسافرین، باب صلوٰۃ اللیل وعدد رکعات النبی ﷺ)۔
عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ نبی ﷺ نے رات کے سب حصوں میں وتر پڑھا ہے : آخر میں آپ ﷺ سحر کے وقت (فجر سے پہلے ) وتر پڑھنے لگے (بخاری: کتاب الوتر، باب ساعات الوتر)۔
دوسری روایت میں اس طرح ہے کہ آپ ﷺ نے وتر اوّل شب میں ، وسطِ شب میں ، اور آخر شب میں بھی ادا کیا ہے، آخری زمانے میں یہ سحر تک پہنچ گیا (مسلم: کتاب صلوٰۃ المسافرین، باب صلوٰۃ اللیل وعدد رکعات النبی ﷺ)۔
نبی ﷺ نے فرمایا کہ رات کی صلوٰۃ دودو رکعتیں ہیں اور اس کے آخر میں ایک وتر ہے جو ساری صلوٰۃ کو وتر کر دے گا (بخاری: کتاب الوتر، باب ماجآء فی الوتر)۔
چنانچہ نبی ﷺ رات کو دو دو کر کے بارہ رکعات پڑھتے یعنی ہر دو رکعت کے بعد سلام پھیر دیتے اور آخر میں ایک رکعت وتر پڑھتے(بخاری: کتاب الوتر، باب ماجآء فی الوتر)۔
نبی ﷺ وتروں  کو نوافل کے ساتھ ملا کر بھی پڑھتے تھے، چنانچہ (ایک ہی سلام سے) پانچ رکعت وتر پڑھتے تھے اور ان میں سوائے آخری رکعت کے کسی میں نہ بیٹھتے؛ (مسلم: کتاب صلوٰۃ المسافرین، باب صلوٰۃ اللیل وعدد رکعات النبی ﷺ)
نو رکعتیں پڑھتے تو سات رکعتوں میں مسلسل کھڑے ہوتے رہتے اور آٹھویں میں پہلا قعدہ کرتے اور پھر کھڑے ہو کر نویں رکعت پڑھ کر آخری قعدہ کرکے سلام پھیر دیتے (مسلم: کتاب صلوٰۃ المسافرین، باب صلوٰۃ اللیل وعدد رکعات النبی ﷺ)۔
جب بدن بھارے ہو گیا تو سات رکعتیں پڑھنے لگے جن میں چھٹی اور ساتویں رکعت میں قعدہ کرتے (نسائی: کتاب قیام اللیل، باب کیف الوتر بسبع)۔
جیسا کہ اوپر فرمان رسول ﷺ نقل کیا گیا کہ جو چاہے پانچ رکعت سے وتر کرے، تین سے کرے یا ایک رکعت سے (ابوداؤد: کتاب الصلوٰۃ، باب کم الوتر)
اس لیے تین وتر بھی پڑھے جا سکتے ہیں۔ لیکن صرف تین رکعتوں پر ہی اصرار نہیں کرنا چاہیے بلکہ نبی ﷺ کے مذکورہ بالا تمام طریقوں پر عمل کرنا چاہیے۔ تین رکعت وتر اکٹھے ایک سلام سے پڑھے جا سکتے ہیں (نسائی: کتاب قیام اللیل باب کیف الوتر بثلاث)۔
ایک سلام سے پڑھتے وقت دوسری رکعت کے بعد تشہد میں نہ بیٹھیں بلکہ تیسری رکعت کے لیے کھڑے ہو جائیں (نسائی: کتاب قیام اللیل، باب کیف الوتر بثلاث/ مسند احمد، جلد۶ صفحه  ۱۵۶)۔
عبداللہ بن عمر ؓ  وتر کی تین رکعتوں  کے بعد سلام پھیر دیتے، اگر کوئی حاجت ہوتی تو بیان بھی کر دیا کرتے اور پھر تیسری رکعت پڑھتے (بخاری: ابواب الوتر، ماجآء فی الوتر/مؤطا امام مالک: کتاب صلوٰۃ اللیل، باب الامر بالوتر)۔
وتر کی رکعت میں قنوت پڑھنے کے لیے  تکبیر کہنا یا کانوں تک دونوں ہاتھوں کا اٹھانا احادیث میں مروی نہیں۔ قنوت رکوع جانے سے پہلے پڑھنی چاہیے۔ نبی ﷺ نے رکوع کے بعد تو صرف ایک مہینے تک قنوت پڑھی جس میں آپ قبائل رعل وذکوان پر بدعا فرماتےتھے جنہوں نے دھوکے سے ستر قراء صحابہ ﷜ کو شہید کر دیا تھا (بخاری: کتاب الوتر، باب القنوت قبل الرکوع و بعدہ)۔
دعائے قنوت ہاتھ اٹھا کر پڑھنا صحیح احادیث سے ثابت نہیں۔ نبی ﷺ نے حسن ؓ کو وتر میں پڑھنے کے لیے یہ قنوت سکھائی:

اللَّهُمَّ اهْدِنِي فِيمَنْ هَدَيْتَ وَعَافِنِي فِيمَنْ عَافَيْتَ وَتَوَلَّنِي فِيمَنْ تَوَلَّيْتَ وَبَارِکْ لِي فِيمَا أَعْطَيْتَ وَقِنِي شَرَّ مَا قَضَيْتَ إِنَّکَ تَقْضِي وَلَا يُقْضَی عَلَيْکَ وَإِنَّهُ لَا يَذِلُّ مَنْ وَالَيْتَ وَلَا يَعِزُّ مَنْ عَادَيْتَ تَبَارَکْتَ رَبَّنَا وَتَعَالَيْتَ

”اے اللہ! مجھے  ہدایت دے ان میں جنہیں تو نے ہدایت دی، اور عافیت دے ان میں جنہیں تو نے عافیت دی، اور میرا ضامن ہو جا ان میں جنہیں تو نے ضمانت دی، اور برکت دے مجھے اس میں جو تو نے مجھے عطا کیا، اور بچا اس شر سے جو تو نے تقدیر میں لکھا ہے، اس لیے کہ تو حکم کرتا ہے اور تجھ پر کوئی حکم نہیں کر سکتا، اور وہ ذلیل نہیں ہوتا جسکا تو دوست ہو جائے، اور وہ عزت نہیں پا سکتا جس کا تو دشمن ہو جائے۔ اے ہمارے رب تو بڑی برکت اور بلندی والا ہے“

(ابوداؤد: کتاب الصلوٰۃ، باب القنوت فی الوتر)

نبی ﷺ وتر کے آخر میں یہ دعا پڑھتے تھے:

اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِرِضَاکَ مِنْ سَخَطِکَ وَأَعُوذُ بِمُعَافَاتِکَ مِنْ عُقُوبَتِکَ وَأَعُوذُ بِکَ مِنْکَ لَا أُحْصِي ثَنَائً عَلَيْکَ أَنْتَ کَمَا أَثْنَيْتَ عَلَی نَفْسِکَ

”اے اللہ! میں پناہ مانگتا ہوں تیری رضا کی تیرے غصے سے، اور تیرے بچا‍‍ؤ کی تیرے عذاب سے، اور پناہ مانگتا ہوں تیری تجھ سے۔ میں تعریف کا حق ادا نہیں کر سکتا۔ تو ایسا ہے جیسا تو نے اپنے آپ کی تعریف کی“۔

(ابوداؤد: کتاب الصلوٰۃ، باب القنوت فی الوتر/ نسائی: کتاب قیام اللیل، باب ادعاء فی الوتر)

جب وتر پڑھ کر سلام پھیرتے تو پڑھتے   : سُبْحَانَ الْمَلِکِ الْقُدُّوْسِ (تعریف ہے پاک مالک کی) (ابوداؤد: کتاب الصلوٰۃ، باب فی الدعاء بعد الوتر)۔

صلوٰۃ الجمعہ

جمعہ کے مبارک دن کے متعلق نبی ﷺ نے بتایا کہ اس دن میں ایک گھڑی ایسی بھی ہے کہ جب کوئی مسلم بندہ اس میں کھڑا ہو کر صلوٰۃ ادا کرے اور اللہ سے کچھ مانگے تو اللہ اس کو عطا کرے گا (بخاری: کتاب الجمعۃ، باب الساعۃ التی فی یوم الجمعۃ)
اور بتایا کہ وہ گھڑی امام کے خطبے کے لیے منبر پر بیٹھنے سے صلوٰۃ ختم ہونے تک ہے (مسلم: کتاب الجمعۃ)۔
نبی ﷺ نے فرمایا کہ جو آدمی جمعہ کے دن غسل کرے ، تیل لگائے، خوشبو لگائے پھر صلوٰۃ کے لیے نکلے، پھر (مسجد میں ) دو آدمیوں کے درمیان نہ گھسے (بلکہ جہاں جگہ ملے بیٹھ جائے)، پھر جتنی صلوٰۃ اس کی تقدیر میں ہے پڑھے اور جب امام خطبہ دے تو اس وقت خاموش رہے تو اس کے اس جمعہ سے دوسرے جمعہ تک کے گناہ بخش دیے جاتے ہیں (بخاری: کتاب الجمعۃ، باب الدھن للجمعۃ)۔
جمعہ کی صلوٰۃ شہروگاؤں دونوں جگہوں کے مومنین کے لیے ضروری ہے (بخاری: کتاب الجمعۃ، باب الدھن للجمعۃ/ باب الجمعۃ فی القریٰ ایلمدن/ ابوداؤد: کتاب الصلوٰۃ ، باب الجمعۃ فی القریٰ)۔
جمعے کی صلوٰۃ جو جتنی جلدی مسجد میں آئے گا وہ اتنا ہی زیادہ ثواب پائے گا (بخاری: کتاب الجمعۃ، باب فضل یوم الجمعۃ/ باب الاستماع الی الخطبۃ)۔
جب مسجد میں آئے تو پہلے دو رکعت تحیۃ المسجد پڑھے خواہ امام منبر پر کھڑا خطبہ ہی کیوں نہ دے رہا ہو اور اس سے منع نہ کیا جائے کیوں کہ نبی ﷺ نے خود اپنا خطبہ روک کر سُلَیْک غِطفانی ﷜ کو دو رکعتیں پڑھنے کا حکم دیا (بخاری: کتاب الجمعۃ، باب اذا رای الامام رجلا جآء وھو یخطب امره ان یصلی رکعتین/ باب من جآء و الامام یخطب صلی رکعتین خفیفتین)۔
بعض لوگ کہہ دیتے ہیں سلیک ؓمفلوک الحال آدمی تھے اور لوگوں کو ان کی مدد پر آمادہ کرنے کے لیے نبی ﷺ نے انہیں کھڑے ہو کر دو رکعتیں پڑھنے کا حکم دیا تا کہ لوگ ان کی حالت کا مشاہدہ کر لیں۔ اور اس طرح وہ اس حکم کو سلیک ؓ کے لیے خاص کر کے عام لوگوں کے لیے اس کی نفی کرتے ہیں۔ یہ غلط استدلال ہے کیونکہ مسلم کی روایت میں نبی ﷺ نے عام حکم دیا ہے کہ تم میں سے جو کوئی جمعے کے لیے آئے اور امام خطبہ دے رہا ہو تو بھی دو رکعتیں مختصر سی پڑھ لے (مسلم: کتاب الجمعۃ، عن جابر بن عبداللہ ؓ)۔
جمعے کے دن ایک ہی اذان دی جائے وہ بھی جب کہ امام خطبہ کے لیے منبر پر بیٹھ جائے (بخاری: کتاب الجمعۃ، باب الاذان یوم الجمعۃ)۔
یہ اذان کہاں دی جائےَ اس بارے میں صحیح احادیث میں کوئی تخصیص نہیں۔ ابودا ؤد کی وہ روایت ضعیف ہے جس میں اس اذان کا مسجد کے دروازے پر دینا بیان ہوا ہے (ابوداؤد: کتاب الصلوٰۃ، باب الندآء یوم الجمعۃ)۔
 (لوگوں کے ساتھ ساتھ ) اما م کو بھی منبر پر بیٹھے بیٹھے اس اذان کا جواب دینا چاہیے (بخاری: کتاب الجمعۃ، باب یحب الامام علی المنبر اذا سمع الندآء)۔
اس کے بعد امام کھڑے ہو کر عصا لے کر خطبہ دے جسے بیٹھنے کی کوئی مخصوص صورت بنائے بغیر بغور سننا چاہیے (بخاری: کتاب الجمعۃ، باب الخطبۃ قائما/ مسلم: کتاب الجمعۃ، عن ابی ھریرہ ؓ)۔
نبی ﷺ خطبے میں سورۃ  ق اور دیگر آیات قرآنی کے ذریعے وعظ و نصیحت فرماتے تھے (مسلم: کتاب الجمعۃ، عن ام ہشام)۔
خطبے کے بعد با جماعت دو رکعتیں فرض پڑھی جائیں جن میں نبی ﷺ سے سورۃ الجمعہ، سورۃ المنافقون اور دوسری روایت میں سورۃ الاعلیٰ اور سورۃ الغاشیہ پڑھنا بتایا گیا ہے (مسلم: کتاب الجمعۃ، عن ام ہشام)۔
ان دو فرضوں کے بعد دو یا چار رکعات نفل ادا کئےجائیں (بخاری: کتاب الجمعۃ، باب الصلوٰۃ بعد الجمعۃ وقبلھا/ مسلم : کتاب الجمعۃ)۔

صلوٰۃ المیت

صلوٰۃ المیت اللہ کی تعریف، نبی ﷺ پر درود اور میت کے لیے دعا پر مشتمل ہے۔ صلوٰۃ المیت کے لیے صفیں بناتے ہوئے بچے پڑے سب ساتھ کھڑے ہوں (بخاری: کتاب الجنائز، باب صفوف الصبیان مع الرجال)۔
نجاشی شاہ حبش کی صلوٰۃ المیت پڑھاتے ہوئے نبی ﷺ نے چار تکبیریں کہیں (بخاری: کتاب الجنائز، باب التکبیر علی الجنازۃ اربعا)۔
پہلے تکبیر صلوٰۃ شروع کرنے کی ہے (نسائی: کتاب الجنائز، باب الدعا)۔
ہاتھ اٹھا کر پہلی تکبیر کہیں اور (تعوذ و تسمیہ کے بعد) سورۃ الفاتحہ تلاوت کریں (نسائی: کتاب الجنائز، باب الدعا)۔
پھر دوسری تکبیر کہیں اور نبی ﷺ  کے لئے رحمت کی دعا (درود) پڑھیں (مصنف عبدالرزاق: کتاب الجنائز، باب القراۃ و الدعا)۔
تیسری تکبیر پڑھ کر میت کے لیے دعائے مغفرت کریں (مصنف عبدالرزاق: کتاب الجنائز، باب القراۃ و الدعا)۔
بالغ نا بالغ، مردوعورت، سب کے لیے ایک ہی دعا ہے جیسا کہ اس کے الفاظ سے ظاہر ہے:

اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِحَيِّنَا وَمَيِّتِنَا وَشَاهِدِنَا وَغَائِبِنَا وَصَغِيْرِنَا وَکَبِيْرِنَا وَذَکَرِنَا وَاُنْثَانَا اَللّٰهُمَّ مَنْ اَحْيَيْتَه مِنَّا فَاَحْيهٖ عَلَی الْاِسْلَامِ وَمَنْ تَوَفَّيْتَهُ مِنَّا فَتَوَفَّهُ عَلَی الإِيْمَانِ اَللّٰھُمَّ لَا تَحْرِمْنَا اَجْرَہُ وَلَا تُضِلَّنَا بَعْدَہُ

(ابوداؤد: کتاب الجنائز، باب الدعاءللمیت)

”اے اللہ ! ہمارے زندہ اور مردہ، غائب اور حاضر، چھوٹے اور بڑے، مردوعورت (سب کو) بخش دے۔ اے اللہ! ہم میں جس کو تو زندہ رکھے تو اسلام پر زندہ رکھ اور ہم میں سے جس کو تو وفات دے تو ایمان پر وفات دے۔ اے اللہ! ہمیں اس (کی وفات پر صبر) کے اجر سے محروم نہ  رکھنا اور اس کے (مرنےکے) بعد ہمیں گمراہ نہ کر دینا‘‘۔

عوف بن مالک رضی اللہ عنہ  نے نبی ﷺ کو ایک میت پر دعا پڑھتے سنا تو تمنا کی کاش یہ جنازہ ان کا ہوتا :

اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلَهُ وَارْحَمْهُ وَعَافِهٖ وَاعْفُ عَنْهُ وَ اَکْرِمْ نُزُلَهُ وَ وَسِّعْ مَدْخَلَهُ وَاغْسِلْهُ بِالْمَآءِ وَالثَّلْجِ وَالْبَرْدِ وَ نَقِّهٖ مِنَ الْخَطَایَا کَمَا نَقَّیْتَ الثَّوْبَ الْاَبْیَضَ مِنَ الدَّنَسِ وَاَبْدِلْهُ دَارًا خَیْرًا مِّنْ دَارِہٖ وَ اَھْلاً خَیْرًا مِّنْ اَھْلِهٖ وَ زَوْجِهٖ وَ اَدْخِلْهُ الْجَنَّۃَ وَ اَعِذْہُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَمِنْ عَذَابِ النَّارِ

”اے اللہ! اس کی مغفرت فرما دے ، اس پر رحم فرما، اس کو عافیت دے، اس کو درگزر فرما دے، اس کی کریمانہ مہمانی فرما، اس کا ٹھکانہ (قبر) کشادہ فرما دے اور اس کی خطاؤں ( اور گناہوں) سے پانی ، برف اور اولوں کے ساتھ ایسا دھو دے اور پاک و صاف کر دے جیسے تو سفید کپڑے کو میل کچیل سے پاک و صاف کر دیتا ہے، اور اس کو اس کے (دنیا کے) گھر سے بہتر گھر، اور اس کے گھر والوں سے بہتر گھر والے ، اور اس کی بیوی سے بہتر بیوی بدلہ میں دےد ے اور اس کو جنت میں داخل فرما اور قبر کے عذاب سے اور (جہنم کی) آگ کے عذاب سے پناہ دےدے ۔“

(مسلم: کتاب الجنائز)

اس کے بعد چوتھی تکبیر کہہ کر عام صلوٰۃ کی طرح سلام پھیر دیا جائے (نسائی: کتاب الجنائز، باب الدعا)۔
 جس طرح عام صلوٰۃ کے بعد ہاتھ اٹھا کر کوئی دعا نہیں ، اسی طرح جنازے کی صلوٰۃ کے بعد بھی ہاتھ اٹھا کر کوئی دعانہیں۔ جنازہ قبرستان لے جاتے ہوئے بلند آواز سے کلمہ شہادت پڑھتے ہوئے جانا، میت دفن کرنے کے بعد قبر میں سرہانے کی طرف انگشت شہادت گاڑ کر سورۃ البقرۃ کا پہلا رکوع اور اسی طرح پائینتی کی طرف اس کا آخری رکوع پڑھنا، وہاں اذان دینا، قبر پر پھول چڑھانا وغیرہ جیسے اعمال نبی ﷺ سے ثابت نہیں۔ اور جو کام نبی ﷺ نے نہیں کیے، ان پر ثواب کے بجائے گناہ ملے گا۔

صلوٰۃ العیدین

عید خوشی کا موقع ہوتا ہےاور خوشی کے موقع پر اللہ کو یاد رکھنا، اس کا ذکروشکر کرنا، اس کے آگے سجدہ ریز ہو جانا، اس کی بندگی کا اظہار ہے۔ صلوٰۃ العید طلوع آفتاب کے بعد ادا کی جاتی ہے (ابوداؤد: کتاب العیدین، باب وقت الخروج الی العید)۔
صلوٰۃ العیدین نبی ﷺ مردوں عورتوں کے ساتھ مسجد سے باہر کھلی جگہ میں ادا فرماتے تھے (بخاری: کتاب العیدین، باب الخروج الی المصلی بغیر منبر)۔
عید الفطر میں صلؤٰۃ العید کے لیے نکلنے سے  پہلے طاق عدد میں کھجوریں کھالینا سنت ہے (بخاری: کتاب العیدین، باب الاکل یوم الفطر قبل الخروج)۔
رسول اللہ ﷺ عیدگاہ تکبیر پڑھتے ہوئے جاتے (سنن الکبریٰ: کتاب صلوٰۃ العیدین، باب التکبیر)۔
تکبیرات کے لیے صحابہ ؓ سے یہ الفاظ منقول ہیں

اَللّٰهُ اَکْبَرُ اَللّٰهُ اَکْبَرُ لَا اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ وَ اللّٰهُ اَکْبَرُ اَللّٰهُ اَکْبَرُ وَ لِلّٰهِ الْحَمْدُ

(مصنف ابن ابی شیبۃ: کتاب الصلوات، باب التکبیر من ای یوم ھو الی ای الساعۃ/ باب کیف یکبر یوم عرفۃ):

رسول اللہ ﷺ عیدگاہ پہنچ کر بغیر کوئی نفل ادا کیے (بخاری: کتاب العیدین، باب الصلوٰۃ قبل العدین و بعدھا)
یا اذان و اقامت کہے (بخاری: کتاب العیدین، باب الصلوٰۃ قبل العدین و بعدھا/ باب المشی والرکوب )
دو رکعتیں پڑھاتے (مسلم: کتاب صلوٰۃ العیدین، عن عبداللہ بن عباس/ بخاری : کتاب العیدین ، باب الخطبۃ بعد العید/ نسائی: کتاب صلوٰۃ اعیدین، باب عدد صلوٰۃ العیدین)۔
صلوٰۃ العیدین میں زائد تکبیرات کہی جاتی ہیں۔ روایات میں چھ اور بارہ تکبیرات کی تعداد مذکور ہے۔ دونوں پر عمل کیا جا سکتا ہے ( 12 رلعت والی صحیح سند سے جبکہ دوسری میں ضعف ہے ) چھ والی روایات کے مطابق ہر رکعت میں تین زائد تکبیرات کہی جائیں (ابوداؤد: کتاب الصلوٰۃ، باب التکبیر فی العیدین)۔
اور بارہ والی روایات کے مطابق پہلی رکعت میں سات تکبیرات قرأت سے پہلے اور دوسری رکعت میں پانچ تکبیرات قرأت سے پہلے کہی جائیں (مؤطا امام مالک: کتاب جامع الصلوٰۃ، باب ماجآء فی التکبیروالقرأۃ فی العیدین)۔
ہر تکبیر پر رفع یدین کیا جائے (ابوداؤد: کتاب الصلوٰۃ، باب رفع الیدین)۔
اس کے بعد سورۃ الفاتحہ کے ساتھ سورۃ ق یا سورۃالاعلیٰ کی جہری قرأت فرماتے اور عام صلوٰۃ کی طرح رکعت پوری کرتے۔ دوسری رکعت میں سورۃ الفاتحہ کے ساتھ سورۃ القمر یا سورۃ الغاشیہ تلاوت فرماتے (مسلم: کتاب الصلوٰۃ العیدین)۔
صلوٰۃ کے بعد بغیر کوئی دعا مانگے۔ حاضرین کی طرف منہ کر کے، بغیر کسی منبر کےخطبہ ارشاد فرماتے جس میں وعظ و نصیحت کے علاوہ اللہ کی راہ میں مال خرچ کرنے کی ترغیب دیتے۔ اس کی بعد سب لوگ گھروں کو واپس چلے جاتے ۔ کوئی کسی سے عید کے حوالے سے نہ گلے ملتا، نہ مصافحہ کرتا۔

صلوٰۃ المسافر

حالاتِ سفر میں چار رکعت والی صلوٰۃ کو قصر یعنی کم کر کے آدھا پڑھنا چاہیے البتہ مغرب و فجر اسی طرح تین اور دو رکعت پڑھی جائینگی (بخاری: کتاب تقدیر الصلوٰۃ، باب یصلی المغرب ثلاثا فی السفر/ مسلم: کتاب صلوۃالمسافرین)۔
صلوٰۃ میں قصر کے لیے مسافت مختلف فیہ ہے۔ روایات میں تین میل یا تین فرسخ وغیرہ پرقصر کرنے کا بیان ہے (بخاری: تعلیقاً: کتاب تقصیر الصلوٰۃ، باب فی کم تقصیر الصلوۃ/ مسلم: کتاب المسافرین)۔
نبی ﷺ نے صلوٰۃ میں قصر کے لیے مسافت کا حتمی تعین نہیں فرمایا۔ عبداللہ بن عمر اور عبداللہ بن عباس ؓ سے چار (4) بُرد (۴۸ میل) کی مسافت پر قصر کرنا ثابت ہے (مؤطا امام مالک: کتاب الصلوٰۃ، باب ما یجب فیه قصر الصلوٰۃ)۔
انیس دن سے کم ٹھیرنے کی نیت ہو تو قصر کیا جائے۔ اس سے زیادہ دن کے قیام میں پوری صلوٰۃ ادا کی جائے (بخاری: کتاب تقصیر الصلوٰۃ، باب ماجآء فی تقصیر و کم یقیم حتی یقصر)۔
اگر مسافر کسی ایسے امام کے پیچھے صلوٰۃ ادا کرے جو مقیم ہو یعنی مسافر نہ ہو تو پوری صلوٰۃ ادا کرے گا (مسلم: کتاب صلوٰۃ المسافرین)۔
نبی ﷺ سفر میں ظہرو عصر اور مغرب و عشاء کو ملا کر پڑھتے تھے اس طرح دو صلوٰۃ کو ملا کر پڑھنے کو جمع بین الصلوٰتین کہتے ہیں۔ نبی ﷺ جب سورج ڈھلنے سے پہلے کوچ فرماتے تو ظہر میں تاخیر کرتے عصر کے اوّل وقت تک اور ان دونوں صلوٰت کو ملا کر پڑھتے۔ اگر سورج ڈھلنے کے بعد کوچ فرماتے تو ظہر پڑھ کر سوار ہو جاتے (بخاری: کتاب تقصیر الصلوٰۃ، باب یؤخر الظہر الی العصر اذا ارتحل قبل ان تزیع الشمس فیه/ باب اذا ارتحل بعد ما زاعتالشمس صلی الظھر ثم رکب/ مسلم: کتاب صلوٰۃ المسافرین، باب جواز الجمع بین الصلوٰتین فی السفر)۔
اسی طرح مغرب و عشاء کو بھی ملا کر پڑھتے تھے جس میں مغرب کو مؤخر کرتے اور عشاء کو مقدم کر کے اس کے اوّل وقت میں پڑھتے تھے (بخاری: کتاب تقصیر الصلوٰۃ، باب ھل یؤذن او یقیم اذ جمع بین المغرب و العشاء/ مسلم: کتاب صلوٰۃ المسافرین، باب جواز الجمع بین الصلوتین فی السفر)۔
دو صلوٰت کو جمع کرتے وقت نبی ﷺ ہر ایک کے لیے علیحدہ علیحدہ تکبیر کہلواتے اور دونوں صلوٰۃ کے درمیان تھوڑی دیر بیٹھ کر وقفہ کرتے (بخاری: کتاب تقصیر الصلوٰۃ، باب ھل یؤذن او یقیم اذ جمع بین المغرب و العشاء/ مسلم: کتاب صلوٰۃ المسافرین، باب جواز الجمع بین الصلوتین فی السفر)۔
صلؤیہ الوتر سفر میں بھی پڑھی جاتی ہے اور اس کے لیے سواری سے اترنا ضروری نہیں۔ نبی ﷺ سواری پر بیٹھے بیٹھے وتر ادا فرما لیتے تھے؛ البتہ فرض کے لیے سواری سے نیچے اترتے (بخاری: کتاب تقصیر الصلوٰۃ، باب ینزل للمکتوبۃ)۔
حالتِ سفر میں سنت و نوافل کی رخصت ہے۔ عبداللہ بن عمرؓ فرماتے ہیں کہ میں نبی ﷺ کی صحبت میں رہا، میں نے کبھی آپ کو سفر میں سنتیں پڑھتے ہوئے نہیں دیکھا (بخاری: کتاب تقصیر الصلوٰۃ، باب من لم تطوع فی السفر دبر الصلوٰۃ و قبلھا)۔
البتہ فجر کی دو سنتیں آپ ﷺ نے سفر میں بھی نہیں چھوڑیں اور انکا یہاں تک اہتمام فرمایا کہ ایک دفعہ سفر میں سورج نکلنے کے بعد آنکھ کھلی تو آپ نے فرضوں کی قضا سے پہلے سنتوں کی بھی قضا ادا کی (مسلم کتاب المساجد، باب قضاء الصلوٰۃ الفائتۃ)۔

صلوٰۃ الخسوف/ صلوٰۃ الکسوف

رسول ﷺ کے دور میں سورج کو گرہن لگا تو آپ نے الصلوٰۃ جامعہ کا اعلان کروایا (بخاری: ابواب الکسوف، باب الجہر بالقرأت فی الکسوف)۔
جو اس بات کا اشارہ تھا کہ مسجد میں جمع ہو جائے۔ آپ ﷺ مسجد تشریف لائے۔ صحابہؓ نے آپ ﷺ کےپیچھے صف بندی کی، آپ ﷺ نے تکبیر کہی اور بہت طویل قرأت کی، پھر تکبیر کہی اور بہت طویل قرأت  رکوع کیا، رکوع سے کھڑے ہوئے اور سَمِعَاللہُ لِمَنْ حَمِدَہُ رَبَّنَا وَلَکَ الْحَمْدُ کہا؛ اس کے بعد آپ ﷺ نے حسب قاعدہ سجدہ کیا اور طوعل سجدہ کیا، پھر اسی طرح دوسری رکعت کی طرح ادا کی، لیکن پہلی رکعت زیادہ طویل تھی؛ دو رکعتوں میں آپ ﷺ نے چار رکوع اور چار سجدے کیے؛ آپﷺ کے اپنی جگہ سے پھرنے سے قبل سورج صاف ہو گیا؛ آپ ﷺ نے اس صلوٰۃمیں جہری قرأت فرمائی (بخاری: کتاب الکسوف، باب خطبۃ لامام فی الکسوف/ باب الجہر بالقرأت فی الکسوف)۔
صلوٰہ کے بعد آپ ﷺ نے خطبہ دیا: پہلے اللہ کی حمدوثنا بیان فرمائی جیسی اس کی شان ہے۔ پھر فرمایا کہ ”سورج اور چاند بلاشبہ اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں، ان میں کسی کی موت یا زندگی سے گرہن نہیں لگتا ٭بلکہ اللہ ان کے ذریعے اپنے بندوں کو ڈراتا ہے ، جب تم یہ دیکھو تو اللہ سے دعا کرو، اس کی بڑائی بیان کرو، صلوٰۃ ادا کرو اور صدقہ کرو (بخاری: کتاب الکسوف، باب الصدقۃ فی الکسوف)۔ ٭ اس دن نبی ﷺ کے بیٹے ابراہیم ؓ کی وفات ہوئی تھی، اس پر بعض لوگوں نے یہ کہا کہ نبی ﷺ کے بیٹے کی موت کی وجہ سے سورج گرہن لگا۔ آپ ﷺ نے اس طرح اس غلط خیال کو رد کیا۔
نبی ﷺ نے یہ بھی فرمایا کہ اس موقع پر اللہ کو یاد کرو، اس سے استغفار کرو اور عذاب قبر سے پناہ مانگو (بخاری: کتاب الکسوف، باب الصدقۃ فی الکسوف/ باب صلوٰۃ الکسوف فی المسجد/ باب الذکر فی الکسوف)۔
نبی ﷺ نے یہ بھی فرمایا کہ اس موقع پر غلام آزاد کرنے کا بھی حکم ہے (بخاری: کتاب الکسوف، باب الصدقۃ فی الکسوف/ باب صلوٰۃ الکسوف فی المسجد/ باب الذکر فی الکسوف/ باب من احب العتاقۃ فی کسوف الشمس)۔
صلوٰۃ الکسوف میں نبی ﷺ نے اتنے طویل رکوع و سجدے  کیے کہ عائشہ ؓ یل رکوع و سجدے نہیں کیے (مسلم: کتاب الکسوف، عن عائشہ ؓ )۔
اس صلوٰۃ میں نبی ﷺ کا پہلا قیام اتنا طویل تھا کہ سورۃ البقرۃ کی قرأت کر لی جائے (مسلم: کتاب الکسوف، عن عائشہ ؓ/ عن ابن عباسؓ)۔
نبی ﷺ نے جو صلوٰۃ الکسوف پڑھائی اس کے طویل ہونے کے باوجود اس میں بوڑھے اور بیمار بھی شریک ہوئے (مسلم: کتاب الکسوف، عن عائشہ ؓ/ عن ابن عباسؓ/ عن اسماءؓ )۔
گرہن صاف ہونے تک صلوٰۃ اور دعا میں مشغول رہا جائے (بخاری: کتاب الکسوف، باب الصلوٰۃ فی کسوف الشمس)۔
صلوٰۃ الکسوف میں خواتین بھی شرکت کر سکتی ہیں (بخاری: کتاب الکسوف، باب الصلوٰۃ فی کسوف الشمس/ باب صلوٰۃ لانسآء مع الرجال فی الکسوف)۔

صلوٰۃ الاستسقاء

استسقاء کے معنی ہیں پانی چاہنا۔ استسقاء کی صلوٰۃ خشک سالی میں پڑھی جاتی ہے۔ صلوٰۃ استسقاء ادا کرنے کے لیے نبی ﷺ لوگوں کے ساتھ عید گاہ کی طرف نکلے اور ان کی طرف پیٹھ کر کے کھڑے کھڑے قبلہ رو ہو کر اللہ سے بارش کی دعا کی پھر اپنی چادر پلٹی اور پھر  بغیر اذان و اقامت دو رکعتیں پڑھائیں جن میں قرأت بالجہر کی (بخاری: کتاب الاستسقآء، باب الاستسقآء فی المصلی و باب کیف حول النبی ﷺ ظہرہ الی الناس)۔
عبداللہ بن یزید ؓ نے لوگوں کو (جن میں صحابہ بھی شامل تھے) استسقاء کی صلوٰۃ اذان اور اقامت کے بغیر پڑھائی،  عیدگاہ میں منبر بھی نہیں تھا (بخاری: کتاب الاستسقآء ، باب الدعآء فی الاستسقآء قائماً)۔
نبی ﷺ استسقاءکی دعا کے لیے ہاتھ اتنے اونچے اٹھاتے تھے کہ بغلوں کی سفیدی نظر آنے لگتی تھی ( بخاری: کتاب الاستسقآء ، باب الدعآء فی الاستسقآء قائماً/باب ررفع الامام یدہ فی الاستسقآء)۔
اس دعا میں مقتدی بھی امام کے ساتھ ہاتھ اٹھا کر دعا کریں (باب ررفع الامام یدہ فی الاستسقآء/ باب رفع الناس ایدیھم مع الامام فی الاستسقآء)۔
ہاتھ اٹھا کر اجتماعی دعا کا یہ واحد موقع ہے، اس کے علاوہ کسی اور موقع پر ہاتھ اٹھا کر اجتماعی دعا کرنا صحیح احادیث سے ثابت نہیں۔  اور بارش کی دعا بھی صلوٰۃ سے پہلے ہے ورنہ کسی صلوٰۃ کے بعد کوئی دعا نہیں۔ بارش کے لیے دعا کرتے وقت ہتھیلیوں کی پشت آسمان کی طرف ہو (مسلم: کتاب الاستسقآء، عن انس ؓ) ۔

استسقاءکے لیے کئی دعائیں آتی ہیں، مثلاً

اَلّٰھُمَّ اَسْقِنَا اَلّٰھُمَّ اَسْقِنَا

]اے اللہ ہمیں پانی پلا، اے اللہ ہمیں پانی پلا[

(بخاری: کتاب الاستسقآء، باب الدعاءاذاکثر المطر حوالینا ولا علینا)

اَلّٰھُمَّ اَغِثْنَا اَلّٰھُمَّ اَغِثْنَا اَلّٰھُمَّ اَغِثْنَاْ

]اے اللہ ہم پر پانی برسا۔۔۔۔[

(بخاری: کتاب الاستسقآء، باب الدعاءاذاکثر المطر حوالینا ولا علینا/ باب الاستسقآء فی خطبۃ الجمعۃ غیر مستقبل القبلۃ)

اَلّٰھُمَّ اَسْقِنَا غَیْثًا مُّغِیْثًا مُّرِیًا مُّرِیْعًا نَّا فِعًا غَیْرَ ضَآرٍّعَاجِلاً غَیْرَاٰجِلٍ

] اے اللہ ہم کو ایسا مینہ پلا جو ہماری فریاد پوری کرے، ہلکا پھلکا، خوش انجام۔ جس سے ارزانی ہو ،غلہ اگے، فائدہ ہو، نقصان نہ ہو، فوراً آئے دیر نہ لگائے [

(ابوداؤد: کتاب الصؒؤٰۃ، باب رفع الیدین فی الاستسقآء، عن جابر ﷜)۔

بارش ہوتی دیکھیں تو پڑھیں :

اَلّٰھُمَّ صَیِّبًا نَّا فِعًا

]اے اللہ فائدہ دینے والا مینہ برسا [

(بخاری: کتاب الاستسقآء، باب مایقال اذا مطرت)۔

اگر بارش بہت زیادہ ہو جائے اور اس سے نقصان ہونے لگے تو اسکے تھم جانے کی دعا کریں

اَللّٰھُمَّ حَوْالَیْنَا وَلَا عَلَیْنَا اَللّٰھُمَّ عَلَی الْاٰکَامِ وَالظَّرَابِ وَبُطُوْنِ الْاوْدِﻴﺔِ وَمَنَبَتِ الشَّجَرِ

”اے اللہ ہمارے ارد گرد برسا اور ہم پر نہ برسا، اے اللہ ٹیلوں اور چڑھائیوں پر نالوں کے نشیب میں اور درختوں کے اگنے کی جگہوں میں برسا“

(بخاری: کتاب الاستسقآء، باب مایقال اذا مطرت/ باب الاستسقآء فی المسجد الجامع، عن انس ؓ)۔

استسقاءکے لیے بغیر آرائش وزینت کے عاجزی کرتے ہوئے انکسار سے نکلیں (ترمذی: کتاب الاستسقآء، عن ابن عباس ؓ / اباداؤد: جماع ابواب صلوٰۃ الاستسقآء و تفریعھا)۔
اگر جمعہ کے دن بارش کے لیے دعا کریں تو خطبہ جمعہ میں امام ہاتھ اٹھا کر مقتدیوں کے ساتھ دعائے باراں کرے اور صلوٰۃ الاستسقاء نہ پڑھے، نہ ہی چادر الٹے (بخاری: کتاب الاستسقاء، باب الاستسقاء فی المسجد الجامع، عن جابر ؓ)۔
چادر الٹنے کی یہ سکل ہوتی ہے کہ اس کا دایاں حصہ بائیں جانب اور بایاں دائیں جانب کر لیا جائے (ابن ماجه: کتاب اقامۃ الصلوٰۃ، باب ماجآء فی الاستسقاء، عن ابی ھریرۃ ؓ/ ابودا‍ؤد: جماع ابواب صلوٰۃ الاستسقاء و تفریعھا)۔

صلوٰۃ الاستخارہ

استخارہ کے معنی ہیں خیر طلب کرنا۔ جابر بن عبداللہ ؓروایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہم کو تمام امور میں استخارہ کرنا سکھلاتے تھے جیسے ہمیں قرآن کی کوئی سورہ سکھلاتے؛ آپ ﷺ فرماتے کہ جب تم میں سے کوئی کسی کام کا ارادہ کرے تو دو رکعتیں پڑھے، پھر یہ دعا پڑھ کر اپنی ضرورت کا نام لے :

اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْتَخِیْرُکَ بِعِلْمِکَ وَاَسْتَقْدِرُکَ بِقُدْرَتِکَ وَاَسْئَلُکَ مِنْ فَضْلِکَ الْعَظِیْمُ فَاِنَّکَ تَقْدِرُ وَلَا اَقْدِرُ وَتَعْلَمُ وَلَا اَعْلَمُ وَاَنْتَ عَلَّامُ الْغُیُوْبِ اَللّٰھُمَّ اِنْ کُنْتَ تَعْلَمْ اَنَّ ھٰذَا الْاَمْرَ خَیْرٌ لِّی فِیْ دِیْنِیْ وَ مَعَاشِی وَ عَاقِبَۃِ اَمْرِیْ فَاقْدِرْہُ لِیْ وَیَسِّرْہُ لِیْ ثُمَّ بَارِکْ لِیْ فِیْهِ وَاِنْ کُنْتَ تَعْلَمْ اَنَّ ھٰذَا الْاَمْرَ شَرٌّ لِّی فِیْ دِیْنِیْ وَمَعَاشِیْ وَ عَاقِبَۃِ اَمْرِیْ فَاصْرِفْهُ عَنِّیْ واصْرِفْنِی عَنْهُ وَاقْدُرْ لِیَ الْخَیْرَ حَیْثُ کَانَ ثُمَّ ارْضِنِیْ بِهٖ

”اے اللہ میں تیرے علم کے ذریعے تجھ سے خیر کا سوال کرتا ہوں اور تیری قدرت کے ذریعے قدرت طلب کرتا ہوں، اور تجھ سے تیرے عظیم فضل کا سوال کرتا ہوں، اس لیے کہ تو قدرت رکھتا ہےاور میں قدرت نہیں رکھتا اور تو جانتا ہے اور میں نہیں جانتا، اور تو تمام پوشیدہ باتوں کو خوب اچھی طرح جاننے والا ہے، اے اللہ تیرے علم کے مطابق اگر یہ کام میرے حق میں میرے دین، معاش اور انجام کار کے لحاظ سے بہتر ہے تو اس کو میرے لیے مقدر فرما دے اور اسے میرے لیے آسان کر دے اور پھر اس میں میرے لیے برکت ڈال دے۔ اور تیرے علم کے مطابق اگر یہ کام میرے حق میں میرے دین، معاش اور انجام کار کے لحاظ سے باعث شر ہے تو اس کو مجھ سے دور کر دے اور مجھے اس سے دور کر دے۔ اور جہاں بھی (جس کام میں بھی) میرے لیے بہتری ہو اس کو مجھے نصیب فرما دے اور پھر مجھے اس سے راضی کر دے “۔

(بخاری: کتاب التہجد، باب ماجآء فی التطوع مثنیٰ مثنیٰ)

احادیث میں استخارہ کرنے کا صرف اتنا ہی طریقہ آیا ہے۔ صلوٰۃ و دعا کے بعد سونے اور خواب میں بشارت ہونے کا کوئی ذکر نہیں۔ نہ ہی بیان ہے کہ کوئی دوسرا کسی کی طرف سے استخارہ کرے، بلکہ جس کی حاجت ہے وہی کرے جیسا کہ دعا کے الفاظ سے  ثابت ہوتا ہے کہ وہ خود اپنے لیے خیر مانگتا اور شر سےپناہ چاہتا ہے۔ لیکن ستم ظریفی دیکھیے کہ دیگر عبادات کی طرح آج اس کو بھی دکانداری کا ذریعہ بنا لیا گیا ہے اور عاشق رسول ہونے کے دعویدار یہ پیشہ ور مولوی دفتر کھول کر ذرئع ابلاغ سے اس کی تشہیر کرتے نظر آتے ہیں کہ استخارے سے پتہ چلا ہے کہ آپ کی شادی فلاں سال و مہینے میں ہو گی، فلاں کام فلاں وقت ہو گا، وغیرہ۔ یہ لوگ دعویٰ کرتے نظر آتے ہیں کہ ”استخارہ- ہر مشکل سے چھٹکارہ “ حلانکہ استخارہ تو صرف ایک دعا ہے۔ اسطرح سے غیب دانی اور مشکل کشائی کے دعوے کر کے ضعیف العقیدہ لوگوں سے مال بٹور کر یہ لوگ قرآن کی اس آیت کی تفسیر بنے نظر آتے ہیں کہ:

يَآ اَيُّـهَا الَّـذِيْنَ اٰمَنُـوٓا اِنَّ كَثِيْـرًا مِّنَ الْاَحْبَارِ وَالرُّهْبَانِ لَيَاْكُلُوْنَ اَمْوَالَ النَّاسِ بِالْبَاطِلِ وَيَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِيْلِ اللّـٰهِ

” اے ایمان والو! ان مولویوں اور پیروں (سے بچنا کہ ان) کی اکثریت لوگوں کا مال باطل طریقوں سے کھا جاتی ہے اور انہیں اللہ کے راستے سے بھی روک دیتی ہے ۔“

(التوبہ: 34)

خطبہ جمعہ

Categories
Uncategorized

سجدہ یوسف علیہ السلام

اگر لوگوں کے درمیان کوئی تنازعہ ہو تو حکم ہے کہ اسے اللہ اور رسول اللہ ﷺ ، یعنی قرآن و حدیث  سے رجوع کیا جائے ۔

يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَطِيْعُوا اللّٰهَ وَاَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ وَاُولِي الْاَمْرِ مِنْكُمْ ۚ فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِيْ شَيْءٍ فَرُدُّوْهُ اِلَى اللّٰهِ وَالرَّسُوْلِ اِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ ۭ ذٰلِكَ خَيْرٌ وَّاَحْسَنُ تَاْوِيْلًا

( سورہ نساء : 59 )

’’ اے ایمان والو ! اطاعت کرو اللہ کی اور اطاعت کرو رسول کی اور جو تم صاحب امر ہوں، پھر اگر تمہارے درمیان کسی بات پر اختلاف ہو تو پلٹا دو اسے اللہ اور رسول ؐ کی طرف، اگر تم حقیقت میں اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہو۔ یہ  بہترین طریقہ کار ہے اور اس کا  انجام بھی بہترین ہے‘‘

لہذا اس بہترین طریقے پر ہی اس مسئلہ کو حل کیا جائے، چناچہ ہم سورہ یوسف کی طرف آ تے ہیں:

یہ سجدہ اللہ  تعالیٰ کو ہوا یا یوسف علیہ السلام کو

اِذْ قَالَ يُوْسُفُ لِاَبِيْهِ يٰٓاَبَتِ اِنِّىْ رَاَيْتُ اَحَدَ عَشَرَ كَوْكَبًا وَّالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ رَاَيْتُهُمْ لِيْ سٰجِدِيْنَ 

آیت نمبر : 4

[اِذْ : جب ] [قَالَ : کہا ] [يُوْسُفُ : یوسف ] [لِاَبِيْهِ : اپنے باپ سے ] [يٰٓاَبَتِ : اے میرے باپ ] [اِنِّىْ : بیشک میں ] [رَاَيْتُ : میں نے دیکھا ] [اَحَدَ عَشَرَ : گیا رہ ] [كَوْكَبًا : ستارے ] [وَّالشَّمْسَ : اور سورج ] [وَالْقَمَرَ : اور چاند ] [رَاَيْتُهُمْ : میں نے انہیں دیکھا ] [لِيْ : اپنے لیے ] [سٰجِدِيْنَ : سجدہ کرتے ]

[اِذْ : جب ] [قَالَ : کہا ] [يُوْسُفُ : یوسف ] [لِاَبِيْهِ : اپنے باپ سے ] [يٰٓاَبَتِ : اے میرے باپ ] [اِنِّىْ : بیشک میں ] [رَاَيْتُ : میں نے دیکھا ] [اَحَدَ عَشَرَ : گیا رہ ] [كَوْكَبًا : ستارے ] [وَّالشَّمْسَ : اور سورج ] [وَالْقَمَرَ : اور چاند ] [رَاَيْتُهُمْ : میں نے انہیں دیکھا ] [لِيْ : اپنے لیے ] [سٰجِدِيْنَ : سجدہ کرتے ]

’’جب یوسف ؑنے اپنے والد سے کہا کہ ابا میں نے (خواب میں) گیارہ ستاروں اور سورج اور چاند کو دیکھا۔ دیکھاکہ وہ مجھے سجدہ کر رہے ہیں‘‘۔

قَالَ يٰبُنَيَّ لَا تَقْصُصْ رُءْيَاكَ عَلٰٓي اِخْوَتِكَ فَيَكِيْدُوْا لَكَ كَيْدًا  ۭ اِنَّ الشَّيْطٰنَ لِلْاِنْسَانِ عَدُوٌّ مُّبِيْنٌ

آیت نمبر : 5

[قَالَ : اس نے کہا ] [يٰبُنَيَّ : اے میرے بیٹے ] [لَا تَقْصُصْ : نہ بیان کرنا ] [رُءْيَاكَ : اپنا خواب ] [عَلٰٓي : پر (سے)] [اِخْوَتِكَ : اپنے بھائی ] [فَيَكِيْدُوْا : وہ چال چلیں گے ] [لَكَ : تیرے لیے ] [كَيْدًا : کوئی چال ] [اِنَّ : بیشک ] [الشَّيْطٰنَ : شیطان ] [لِلْاِنْسَانِ : انسان کے لیے (کا)] [عَدُوٌّ: دشمن ] [مُّبِيْنٌ: کھلا ]

’’انہوں ( یعقوب ؑ ) نے کہا کہ بیٹا اپنے خواب کا ذکر اپنے بھائیوں سے نہ کرنا نہیں تو وہ تمہارے لئے کوئی فریب کی چال چلیں گے۔بے شک شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے‘‘۔

وَكَذٰلِكَ يَجْتَبِيْكَ رَبُّكَ وَيُعَلِّمُكَ مِنْ تَاْوِيْلِ الْاَحَادِيْثِ وَيُـــتِمُّ نِعْمَتَهٗ عَلَيْكَ وَعَلٰٓي اٰلِ يَعْقُوْبَ كَمَآ اَتَمَّــهَا عَلٰٓي اَبَوَيْكَ مِنْ قَبْلُ اِبْرٰهِيْمَ وَاِسْحٰقَ  ۭ اِنَّ رَبَّكَ عَلِيْمٌ حَكِيْمٌ

آیت نمر : 6

[وَكَذٰلِكَ : اور اسی طرح ] [يَجْتَبِيْكَ : چن لے گا تجھے ] [رَبُّكَ : تیرا رب ] [وَيُعَلِّمُكَ : اور سکھائے گا تجھے ] [مِنْ : سے ] [تَاْوِيْلِ : انجام نکالنا ] [الْاَحَادِيْثِ : باتیں ] [وَيُـــتِمُّ : اور مکمل کرے گا ] [نِعْمَتَهٗ : اپنی نعمت ] [عَلَيْكَ : تجھ پر ] [وَ : اور ] [عَلٰٓي : پر ] [اٰلِ يَعْقُوْبَ : یعقوب کے گھر والے ] [كَمَآ : جیسے ] [اَتَمَّــهَا : اس نے اسے پورا کیا ] [عَلٰٓي : پر ] [اَبَوَيْكَ : تیرے باپ دادا ] [مِنْ قَبْلُ : اس سے پہلے ] [اِبْرٰهِيْمَ : ابراہیم ] [وَاِسْحٰقَ : اور اسحق ] [اِنَّ : بیشک ] [رَبَّكَ : تیرا رب ] [عَلِيْمٌ: علم والا ] [حَكِيْمٌ: حکمت والا ]

’’اور اسی طرح تمہارا رب تمہیں برگزیدہ (ممتاز) کرے گا اور (خواب کی) تعبیر کا علم سکھائے گا۔ اور جس طرح اس نے اپنی نعمت پہلے تمہارے دادا ابراہیم اور اسحاق پر پوری کی تھی اسی طرح تم پر اور اولاد یعقوب پر پوری کرے گا۔ بیشک تمہارا پروردگار (سب کچھ) جاننے والا (اور) حکمت والا ہے‘‘۔

سورہ یوسف کی ان ابتدائی آیات میں اس بات کا ذکر ہے کہ یوسف علیہ السلام  نے ایک خواب دیکھا اور اس کا ذکر اپنے والد سے کیا کہ سورج، چاند اور گیارہ ستارے مجھے سجدہ کر رہے ہیں۔والد جو کہ خود ایک نبی تھے اور اللہ کی طرف سے دئیے گئے  علم سے مالا مال تھے ، پہچان گئے کہ مالک نے یوسف علیہ السلام کوبھی چن لیا ہے اور انہیں بھی عظیم مقام عطا فرمائے گا۔ انہوں نے بیٹے سے یہی کہا کہ بیٹے اپنا یہ خواب اپنے بھائیوں کو نہ بتانا۔ اس سورہ میں جابجا اس بات کا ذکر ہے کہ یوسف علیہ السلام کے بھائی ان سے سخت جلتے تھے اور انہیں نقصان پہچانے کی کوشش کرتے تھے۔لہذا منع کیا کہ کہ انہیں نے بتانا ۔ یہ منع اسی لئے تھا کہ ان کی جلن و حسد میں اضافہ ہو جائے گا اور وہ جل کر انہیں نقصان پہنچانے کی کوشش کریں گے۔

(یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ منکریں سجدہ یوسف علیہ السلام  ، یوسف علیہ السلام کو ہونے والے سجدے کو ’’ غیر اللہ کو سجدہ ‘‘ قرار دیتے ہوئے اسے شرکیہ عمل قرار دیتے ہیں۔ اب کیا یہ خواب ان کے نزدیک شرکیہ بات نہیں کہ ’’ غیر اللہ کو سجدہ ‘‘ ہو رہا ہے۔ سجدہ جب صرف اللہ ہی کو ہے تو یہ لوگ اسے شرک قرار کیوں نہیں دیتے !)

یعقوب علیہ السلام نے ان سے کہا کہ  جس طرح مالک نے ابراہیم علیہ السلام اور اسحق علیہ السلام پر  اپنی  عظیم نعمتیں برسائیں تھیں اسی طرح اب تم اور آل یعقوب  علیہ السلام کو بھی اپنی نعمتوں سے نوازے گا اور تمہیں تعبیر کا علم عطا فرمائے گا۔ گویا  وہ یہ سمجھ گئے تھے کہ یوسف علیہ السلام کو بھی نبی بنایا جائے گا اور یہ اشارہ نبوت  ہی کی طرف ہے۔

یعقوب علیہ السلام نے یوسف علیہ السلام خواب کو  اللہ کی طرف سے وحی سمجھا کہ انہیں نبوت کا اشارہ دے دیا گیا ہے۔ کچھ افراد کو یہ بھی اعتراض ہوا کہ کسی بچے پر تو وحی نازل ہی نہیں ہوتی، اسے محض ایک خواب سمجھا جائے۔ اس بارے میں دلائل تو اور بھی ہیں لیکن اسی سورہ میں یوسف علیہ السلام پر بچپن میں وحی کا ذکر ہے، ملاحطہ فرمائیں :

فَلَمَّا ذَهَبُوْا بِهٖ وَاَجْمَعُوْٓا اَنْ يَّجْعَلُوْهُ فِيْ غَيٰبَتِ الْجُبِّ  ۚ وَاَوْحَيْنَآ اِلَيْهِ لَتُنَبِّئَنَّهُمْ بِاَمْرِهِمْ ھٰذَا وَهُمْ لَا يَشْعُرُوْنَ

آیت نمبر : 15

[فَلَمَّا : پھر جب ] [ذَهَبُوْا : وہ لے گئے ] [بِهٖ : اس کو ] [وَاَجْمَعُوْٓا : اور انہوں نے اتفاق کرلیا ] [اَنْ : کہ ] [يَّجْعَلُوْهُ : اسے ڈال دیں ] [فِيْ : میں ] [غَيٰبَتِ : اندھا ] [الْجُبِّ : کنواں ] [وَاَوْحَيْنَآ : اور ہم نے وحی بھیجی ] [اِلَيْهِ : اس کی طرف ] [لَتُنَبِّئَنَّهُمْ : کہ تو انہیں ضرور جتائے گا ] [بِاَمْرِهِمْ : ان کا کام ] [ھٰذَا : اس ] [وَهُمْ : اور وہ ] [لَا يَشْعُرُوْنَ : نہ جانتے ہوں گے ]

: ’’ پھر جب وہ لے کر چلے اس ( یوسف علیہ السلام ) کو تو انہوں نے اتفاق کرلیا کہ اسے ( یوسف علیہ السلام ) کو ڈالدیں  کسی گمنام گہرے کنوئیں میں، اور ہم ( اللہ تعالیٰ ) نے بھیجی وحی اس ( یوف علیہ السلام ) کی طرف تم ضرور ( کبھی ) انہیں بتاو گے  ان کا اس کام کے بارے میں اور وہ نہیں جانتے ( کہ کیا ہونے والا ہے)۔

واضح ہوا کہ اسی چھوٹی عمر میں یوسف علیہ السلام پر مزید بھی وحی کی گئی، یاد رکھیں کہ انبیاء علیہ السلام کے خواب وحی ہوتی ہیں۔ عائشہ ؓ فرماتی ہیں :

اَوَّلُ مَا بُدِیءَ رَسُوْلُ اﷲِ مِنَ الْوَحِیِ الرُّؤْیَا الصَّالِحَۃُ فِی النَّوْمِ فَکَانَ لاَ یَرٰی رُؤْیَآ اِلاَّ جَآءَ تْ مِثْلَ فَلَقِ الصُّبْحِ

(بخاری:کتاب الوحی، باب کیف کان … من بعدہ)

’’ پہلے پہلے وحی جو رسول اﷲﷺ پر اترنی شروع ہوئی، وہ اچھے اچھے خواب تھے جو بحالت نیند آپ دیکھتے تھے۔ چناچہ جب بھی آپ خواب دیکھتے تو وہ صبح کی روشنی کی طرح ظاہر ہوجاتا‘‘۔

سورہ یوسف میں ایک طویل بیان ہے کہ کس کس طرح یوسف علیہ السلام آزمائشوں سے گزرے اور آخر کار انہیں اللہ تعالیٰ نے حکمران بنا دیا۔ پھر ان کے بھائی یوسف علیہ السلام کے پاس پہنچے ہیں اور یوسف علیہ السلام نے اپنی قمیص انہیں دی ہے کہ وہ یعقوب علیہ السلام کے منہ پر ڈالدیں تو ان کی بینائی واپس ہو جائے گی۔ملاحظہ فرمائیں اس بارے میں قرآن کا بیان :

فَلَمَّآ اَنْ جَاۗءَ الْبَشِيْرُ اَلْقٰىهُ عَلٰي وَجْهِهٖ فَارْتَدَّ بَصِيْرًا  ۚ قَالَ اَلَمْ اَقُلْ لَّكُمْ ڌ اِنِّىْٓ اَعْلَمُ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ

یت نمبر : 96

[فَلَمَّآ : پھر جب ] [اَنْ : کہ ] [جَاۗءَ : آیا ] [الْبَشِيْرُ : خوشخبری دینے والا ] [اَلْقٰىهُ : اس نے وہ (کرتہ) ڈالا ] [عَلٰي : پر ] [وَجْهِهٖ : اس کا منہ ] [فَارْتَدَّ : تو لوٹ کر ہوگیا ] [بَصِيْرًا : دیکھنے والا ] [قَالَ : بولا ] [اَلَمْ اَقُلْ : کیا میں نے تمہیں کہا تھا ] [لَّكُمْ : تم سے ] [اِنِّىْٓ اَعْلَمُ : بیشک میں جانتا ہوں ] [مِنَ : (طرف) سے ] [اللّٰهِ : اللہ ] [مَا : جو ] [لَا تَعْلَمُوْنَ : تم نہیں جانتے ]

’’پھر جب خوشخبری سنانے والا  پہنچا اور ان ( یوسف علیہ السلام ) کی قمیص اس( یعقوب علیہ السلام ) کے چہرے پر ڈالی، تو  ان کی آنکھیں پھر سے دیکھنے والی ہو گئیں۔ انہوں نے کہا کہ میں سے نہیں کہتا تھا کہ میں بے شک میں اللہ کی طرف سے وہ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔‘‘

ظاہر ہے کہ انبیاء پر وحی ہوتی ہے عام انسان کا علم تو ان کی طرح ہو ہی نہیں سکتا۔  اللہ تعالیٰ نے انہیں یوسف علیہ السلام کے بارے میں یقینا ایسا علم دیا تھا کہ وہ یوسف علیہ السلام کے خواب سے ہی پہچان گئے تھے کہ اللہ تعالیٰ انہیں نبی بنائے گا اور یہ بھی اللہ کی طرف سے انہیں بتا دیا گیا تھا  کہ کھوئے ہوئے یوسف علیہ السلام انہیں واپس مل جائیں گے۔ مزید دیکھیں :

قَالُوْا يٰٓاَبَانَا اسْـتَغْفِرْ لَنَا ذُنُوْبَنَآ اِنَّا كُنَّا خٰطِـــِٕـيْنَ

آیت نمبر: 97

[قَالُوْا : وہ بولے ] [يٰٓاَبَانَا : اے ہمارے باپ ] [اسْـتَغْفِرْ لَنَا : ہمارے لیے بخشش مانگ ] [ذُنُوْبَنَآ : ہمارے گناہ ] [اِنَّا : بیشک ہم ] [كُنَّا : تھے ] [خٰطِـــِٕـيْنَ : خطا کار (جمع)]

’’ ( وہ بیٹے ) کہنے لگے : اے  ہمارے والد ہمارے گناہوں کے بارے میں ( اللہ سے ) استغفار کریں ، بے شک ہم قصور وار تھے‘‘

قَالَ سَوْفَ اَسْتَغْفِرُ لَكُمْ رَبِّيْ  ۭ اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِيْمُ

آیت نمبر : 98

[قَالَ : اس نے کہا ] [سَوْفَ : جلد ] [اَسْتَغْفِرُ : میں بخشش مانگوں گا ] [لَكُمْ : تمہارے لیے ] [رَبِّيْ : میرا رب ] [اِنَّهٗ : بشیک وہ ] [هُوَ : وہ ] [الْغَفُوْرُ : بخشنے والا ] [الرَّحِيْمُ : نہایت مہربان ]

’’ ( یعقوب ؑ ٰ نے کہا میں جلد تمہارے لئے بخشش مانگوں گا، میرا رب بڑا بخشنےوالا اور مہربان ہے‘‘۔

اب وہ یوسف علیہ السلام سے ملنے کے لئے گئے ہیں۔

فَلَمَّا دَخَلُوْا عَلٰي يُوْسُفَ اٰوٰٓى اِلَيْهِ اَبَوَيْهِ وَقَالَ ادْخُلُوْا مِصْرَ اِنْ شَاۗءَ اللّٰهُ اٰمِنِيْنَ

آیت نمبر : 99

[فَلَمَّا : پھر جب ] [دَخَلُوْا : وہ داخل ہوئے ] [عَلٰي يُوْسُفَ : یوسف پر (پاس)] [اٰوٰٓى: اس نے ٹھکانہ دیا ] [اِلَيْهِ : اپنے پاس ] [اَبَوَيْهِ : اپنے ماں باپ ] [وَقَالَ : اور کہا ] [ادْخُلُوْا : تم داخل ہو ] [مِصْرَ : مصر ] [اِنْ : اگر ] [شَاۗءَ اللّٰهُ : اللہ نے چاہا ] [اٰمِنِيْنَ : امن (دلجمعی) کے ساتھ ]

’’ پھر جب  یہ سب یوسف ؑ کے پاس  پہنچے تو  اس ( یوسف علیہ السلام ) نے اپنے والدین کو  اپنے پاس جگہ دی اور کہا  مصر میں چلیں اللہ نے چاہا تو  امن سے رہیں گے ‘‘۔

وَرَفَعَ اَبَوَيْهِ عَلَي الْعَرْشِ وَخَرُّوْا  لَهٗ سُجَّدًا  ۚ وَقَالَ يٰٓاَبَتِ هٰذَا تَاْوِيْلُ رُءْيَايَ مِنْ قَبْلُ ۡ قَدْ جَعَلَهَا رَبِّيْ حَقًّا  ۭ وَقَدْ اَحْسَنَ بِيْٓ اِذْ اَخْرَجَنِيْ مِنَ السِّجْنِ وَجَاۗءَ بِكُمْ مِّنَ الْبَدْوِ مِنْۢ بَعْدِ اَنْ نَّزَغَ الشَّيْطٰنُ بَيْنِيْ وَبَيْنَ اِخْوَتِيْ  ۭ اِنَّ رَبِّيْ لَطِيْفٌ لِّمَا يَشَاۗءُ  ۭ اِنَّهٗ هُوَ الْعَلِيْمُ الْحَكِيْمُ

آیت نمبر : 100

[وَرَفَعَ : اور اونچا بٹھایا ] [اَبَوَيْهِ : اپنے ماں باپ ] [عَلَي : پر ] [الْعَرْشِ : تخت ] [وَخَرُّوْا : اور وہ گرگئے ] [لَهٗ : اس کے لیے ( آگے)] [سُجَّدًا : سجدہ میں ] [وَقَالَ : اور اس نے کہا ] [يٰٓاَبَتِ : اے میرے ابا ] [هٰذَا : یہ ] [تَاْوِيْلُ : تعبیر ] [رُءْيَايَ : میرا خواب ] [مِنْ قَبْلُ : اس سے پہلے ] [قَدْ جَعَلَهَا : اس کو کردیا ] [رَبِّيْ : میرا رب ] [حَقًّا : سچا ] [وَ : اور ] [قَدْ اَحْسَنَ : بیشک اس نے احسان کیا ] [بِيْٓ: مجھ پر ] [اِذْ : جب ] [اَخْرَجَنِيْ : مجھے نکالا ] [مِنَ : سے ] [السِّجْنِ : قید خانہ ] [وَجَاۗءَ : اور لے آیا ] [بِكُمْ : تم سب کو ] [مِّنَ : سے ] [الْبَدْوِ : گاؤں ] [مِنْۢ بَعْدِ : اس کے بعد ] [اَنْ : کہ ] [نَّزَغَ : جھگڑا ڈالدیا ] [الشَّيْطٰنُ : شیطان ] [بَيْنِيْ : میرے درمیان ] [وَبَيْنَ اِخْوَتِيْ : اور میرے بھائیوں کے درمیان ] [اِنَّ : بیشک ] [رَبِّيْ : میرا رب ] [لَطِيْفٌ: عمدہ تدبیر کرنیوالا ] [لِّمَا يَشَاۗءُ : جس کے لیے چاہے ] [اِنَّهٗ : بیشک وہ ] [هُوَ : وہ ] [الْعَلِيْمُ : جانے والا ] [الْحَكِيْمُ : حکمت والا ]

’’  اور بٹھایا  اپنے والدین کو تحت کے اوپر اور  وہ سب اس ( یوسف علیہ السلام ) کے لئے سجدے میں گر گئے۔، اور کہا ( یوسف علیہ السلام ) نے :  اے میرے والد یہ ہے اس خواب کی تعبیر جو پہلے دیکھا تھا اور  میرے رب نے اسے ( خواب کو )  سچا کر دکھایا، اور اللہ نے میرے ساتھ احسان کیا کہ مجھے قید خانے سے نکالا اور  لے آیا تم سب کو گاؤں سے ، اس کے بعد کہ  شیطان نے میرے اور میرے بھائیوں کے درمیان اختلاف ڈال دیا تھا۔ بے شک میرا جو چاہتا ہے تدبیر کرتا ہے، بے شک وہ جاننے والا اور حکمت والا ہے ‘‘۔

یہ اور اس سے قبل کی آیات دیکھتے جائیں کہیں بھی اللہ تعالیٰ کا ذکر نہیں بلکہ ہر جگہ یوسف علیہ السلام کا ذکر بیان کیا جا رہا ہے کہ اس کے والدین اس کے پاس آئے وہ انہیں شہر ( مصر ) لیکر گیا، اس نے اپنے والدیں کو اپنے پاس تخت کے اوپر بٹھایا اور سب اس کے لئے سجدے میں گر گئے۔

اب یہاں یہ کہہ دینا کہ’’ لَهٗ ‘‘  کی ضمیر اللہ تعالیٰ کی طرف ہے  اور یہ سجدہ اللہ تعالیٰ کو ہوا ہے تو اس کا سیاق و سباق سے کوئی تعلق ثابت ہی نہیں ہوتا۔  یہ ساری ضمائرصرف ایک انسان کے طرف اشارہ کر رہی ہیں، اور وہ ہیں یوسف علیہ السلام، سوچیں کس نے والدین کو تخت پر بٹھایا تھا ؟ اور تخت پر بٹھاتے ہیں اس کے سامنے سجدہ کا ذکر ہے تو معاملہ بالکل صاف ہے کہ ’ لَهٗ ‘‘ کی یہ ضمیر اللہ تعالیٰ نہیں یوسف علیہ السلام کے لئے ہے اور اس سجدے کے فورا بعد یوسف علیہ السلام کہہ بھی رہے ہیں کہ اے میرے والد یہ ہے اس خواب کی تعبیر جو پہلے دیکھا تھا اور اللہ تعالیٰ نے اسے سچا کر دکھایا۔ سوچیں !  وہ خواب کس نے دیکھا تھا ؟ کون کہہ رہا ہے کہ یہ ہے اس خواب کی تعبیر؟

قرآن کی اس واضح بات کو جھٹلایا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ اگر یہ سجدہ یوسف علیہ السلام کو مانا جائے تو قرآن کا انکار ہو جاتا ہے کیونکہ غیر اللہ کو سجدہ حرام اور یہ عقیدہ مشرکانہ ہے۔

Categories
Uncategorized

مردے نہیں سنتے