Categories
Uncategorized

عید میلاد النبی ﷺ کی شرعی حیثیت

    بلاشبہ اللہ کے نبی محمد ﷺ سے محبت ایمان کا لازمی حصہ ہے جس کے بغیر ایمان مکمل نہیں ہوتا ۔ زبانِ رسالت ﷺ نے اس کی اہمیت کو ان الفاظ میں بیان فرمایا ہے :

لَا يُؤْمِنُ أَحَدُکُمْ حَتَّی أَکُونَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ وَالِدِهِ وَوَلَدِهِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ

(صحیح بخاری :کتاب الایمان بَابٌ: حُبُّ الرَّسُولِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الإِيمَانِ)

” تم میں سے کوئی اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک کہ میں اسے اس کے والدین ، اولاد اور تمام انسانوں سے زیادہ عزیز نہ ہو جاؤں ۔”

نبی ﷺ کی رسالت پر ایمان رکھنے والا کوئی شخص ان کی محبت سے خالی یا عاری نہیں ہوسکتا۔ اس معاملے میں نہ تو کسی قسم کے اختلاف کی گنجائش ہے اور نہ ہی کسی کو  اختلاف ہے۔ہاں ، اختلاف ہے تو اس بات پر کہ نبی ﷺ سے محبت کا انداز اور معیار کیا ہو ۔ آج امت کی ایک  بڑی اکثریت نبی ﷺ کے احکام و فرامین  سے بے پرواہ ہو کر ان کی تعریف میں غلو پر مبنی شرکیہ نعتیں ترنم سے گانے کو محبت کا نام دیتی ہے؛ یارسول اللہ کا نعرہ لگانے کو فعل ِ محبت سمجھتی ہے ؛ آپ ﷺ کو حاضرو ناظر ، مختارِ کل  ، غائبانہ مدد کو پہنچنے اور کائنات میں تصرف کا اختیار رکھنے والا سمجھنے کو محبت قرار دیتی ہے ! اور نبی ﷺ کا یوم ِ ولادت  ” عید میلاد النبی ﷺ” کے نام سے بطور ِ جشن منانے کو حبِ نبی ﷺ قرار دیتی ہے ؛ اس دن کو نبی ﷺ کی ولادت کے حوالے سے ” بڑا دن” بتا کر من گھڑت روایات اور خود ساختہ قصے بیان کرنے کو باعث ِ ثواب سمجھتی ہے۔ اس دن جلسے ، جلوس اور چراغاں کا اہتمام کیا جاتا ہے ، شیرینیاں تقسیم کی جاتی ہیں ¸دوسروں کو بھی اسکی ترغیب دی جاتی ہے اور یہ سب کچھ نبی ﷺ سے محبت کا تقاضا سمجھا جاتا ہے اسی لئے ایسا نہ کرنے والوں کو یہ لوگ محبتِ رسول ﷺ سے خالی قراردیتے ہیں ۔چاہے انہیں کتنا ہی سمجھایا جائے کہ نبی ﷺ سے محبت کا یہ انداز قرآن و حدیث میں نہیں بتایا گیا ، جو چیز دین میں نہیں اسکی  کوئی حیثیت نہیں ، اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی تعلیمات میں یہ چیزیں  نہیں پائی جاتیں ۔ بلکہ نبی علیہ السلام نے تو دین میں نئی چیزیں ایجاد کرنے سے منع فرمایا ہے : 

مَنْ اَحْدَثَ فِیْ اَمْرِنَا ھٰذَا مَا لَیْسَ مِنْہُ فَھُوَ رَدٌّ

(بخاری، کتاب الصلح، بَابُ إِذَا اصْطَلَحُوا عَلَى صُلْحِ جَوْرٍ فَالصُّلْحُ مَرْدُودٌ )

” جس نے ہمارے دین میں کوئی نئی بات نکالی جو اس میں نہ تھی ، وہ قابل رد ہے۔”

مَنْ عَمِلَ  عَمَلاً لَّیْسَ عَلَیْہِ اَمْرُنَا فَھُوَ رَ دًّ           

(صحیح بخاری : کتاب البیوع ، بَابُ النَّجْشِ، وَمَنْ قَالَ: «لاَ يَجُوزُ ذَلِكَ البَيْعُ)

” جو کوئی ایسا کام کرے جس کا ہم نے حکم نہیں دیا تو وہ قابل رد ہے۔”

ان دلائل کے باوجود  بھی یہ دن نہ ماننے والوں کو  مطعون کیا جاتا ہے اور ان پر توہین ِ رسالت بلکہ منکر ِ رسالت ہونے کے فتوے لگائے جاتے ہیں۔ اس صورتحال میں ضروری ہے کہ اللہ کے نبی ﷺ کے صحیح انداز کو قرآن  و حدیث کے حوالے سے واضح کیا جائے تاکہ حُب ِ رسول ﷺ کے درست معیار کو اپنایا جا ئے اور غلط طرزِ عمل کی اصلاح کر لی جائے ۔

نبی ﷺ سے محبت کے معنی  ان کی اطاعت و اتباع ہے ، یعنی جو اپنی زندگی کو سنت کے رنگ میں رنگ لے وہی صحیح معنوںمیں  نبی ﷺ سے محبت کرنے والا ہے ۔ نبیﷺ کی سنت سے ہٹ کر نبی ﷺ سےمحبت کے دعوے خود نبی ﷺ کی حدیث کے مطابق باطل محض ثابت ہوتے ہیں ۔ یہ بھی خیال رہے کہ سنت وہی طریقہ ہے جسے نبی ﷺ نے اختیار کیا ہے اور کوئی ایسا کام جو نبی ﷺ کر سکتے تھے لیکن آپ ﷺ نے نہیں کیا ، اسے نہ کرنا ہی سنت ہے۔ کسی نیک کام میں سنت ِ رسول ﷺ سے تجاوز یعنی آگے بڑھ جانا بھی سنت سے ہٹ جانے ہی کی ایک شکل ہے ۔ سنت سے تجاوز کرنے والے کا اقدام ظاہر کرتا ہے کہ اس کے خیال میں (نعوذباللہ ) سنتِ رسول ﷺ ناقص ہے اور اس میں اضافے کی ضرورت ہے ! ایسا کرنے  والوں کے لئے درج ذیل واقعہ انتہائی سبق آموز ہے :

 ۔ ۔ ۔ ۔  ۔ ۔۔ أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ جَاءَ ثَلَاثَةُ ۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔  وَقَالَ آخَرُ أَنَا أَصُومُ الدَّهْرَ وَلَا أُفْطِرُ وَقَالَ آخَرُ أَنَا أَعْتَزِلُ النِّسَاءَ فَلَا أَتَزَوَّجُ أَبَدًا فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهِمْ فَقَالَ أَنْتُمْ الَّذِينَ قُلْتُمْ كَذَا وَكَذَا أَمَا وَاللَّهِ إِنِّي لَأَخْشَاكُمْ لِلَّهِ وَأَتْقَاكُمْ لَهُ لَكِنِّي أَصُومُ وَأُفْطِرُ وَأُصَلِّي وَأَرْقُدُ وَأَتَزَوَّجُ النِّسَاءَ ٭فَمَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِي فَلَيْسَ مِنِّي

( البخاري: كِتَابُ النِّكَاحِ (بَابُ التَّرْغِيبِ فِي النِّكَاحِ)

” انسؓ  سے روایت ہے کہ نبی ﷺ کی ازواج کے پاس تین آدمی آئے اور نبی ﷺ کی عبادت کے متعلق پوچھا ۔ ان کو اس کی خبر دی گئی ۔ انہوں نے اسکو کم جانا اور کہنے لگے : ہماری نبی ﷺ کے ساتھ کیا نسبت ؟ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کی اگلی پچھلی لغزشیں معاف فرمادی ہیں ۔ ایک آدمی نے کہا کہ میں ہمیشہ ساری رات صلوٰۃ پڑھا کروں گا ۔ دوسرے نے کہا کہ میں ہمیشہ دن کو صوم رکھوں گا اور  ناغہ نہ کروں گا ۔ تیسرے آدمی نے کہا کہ میں عورتوں سے الگ رہوں گا اور کبھی نکاح نہ کروں گا ۔ نبی ﷺ کو جب یہ بات معلوم ہوئی تو آپ ﷺ اُن سے پوچھا کہ تم نے ایسی ایسی باتیں   کہی ہیں ؟ خبردار ! اللہ کی قسم میں تمہاری نسبت اللہ سے  بہت ڈرتا ہوں  اور تم سب سے زیادہ متقی ہوں ، لیکن میں رات کو صلوٰۃ بھی پڑ ھتا ہوں  اور سوتا بھی ہوں ، صوم بھی رکھتا ہوں اور ناغہ بھی کرتا ہوں ، اور عورتوں سے نکاح بھی کیے ہیں ۔ جس نے میرے طریقے سے منہ موڑا وہ مجھ سے نہیں ‘‘۔

ہمیشہ رات بھر عبادت کرنا یا ہمیشہ صوم رکھنا بظاہر کوئی برُا کام نہیں ہے ، لیکن چونکہ یہ نبی ﷺ کی سنت نہیں بلکہ سنت سے تجاوز ہے ، اس لئے نبی ﷺ نے ایسا کرنے والے کے متعلق فرمایا کہ ” فَلَیْسَ مِنِّی” یعنی اسکا مجھ سے کوئی تعلق نہیں ۔اسطرح اللہ کے نبی ﷺ  نے ایساکرنے والوں سے بیزاری کا اظہار فرمایا ۔

اس تمہید کا مقصد یہ ہے کہ نبی ﷺ کی سنت سے محبت ہی  نبیﷺ سے محبت ہے۔اب دیکھنا یہ کہ آج  جس طرح نبی سے محبت کا اظہار کیا جاتا ہے اور پھر اسی  پر اصرار بھی کیا جاتا ہے ، اس کا ثبوت کہیں سنت میں بھی ملتا ہے یا نہیں ۔ ہمارے پاس اللہ کی آخری کتاب محفوظ شکل میں موجود ہے اور نبی ﷺ کی سنت احادیث ِ صحیحہ کی صورت میں ۔ ان دونوں کا مطالعہ کر لیا جائے، کوئی ایک آیت یا کوئی ایک صحیح حدیث بھی ایسی نہ ملے گی جو مروجہ عید میلا د النبی ﷺ منانے کے لئے دلیل بن سکے ۔ مل بھی کیسے سکتی ہے کیونکہ اگر قرآن و سنت میں ایسی کوئی دلیل ملتی تو سب سے پہلے صحابہ اکرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم یہ  ” عید ” مناتے کیونکہ وہ آج کے ان نام نہاد عاشقان ِ رسول سے کہیں زیادہ  صحیح معنوں میں نبی ﷺ سے محبت کرنے والے تھے ۔ وہ تو زندگی بھر دو ہی عیدیں مناتے رہے ۔ ایسی صورتحال میں نبی ﷺ کی ولادت کے حوالے سے اس دن عید منانے ، جلوس نکالنے ، گلیاں اور عمارتیں قمقموں سے سجانے ، مصنوعی آرائشی محرابیں بنانے ، خانہ کعبہ اور مسجد نبوی کے گتے اور کاغذ کے تعزیوں کی طرح ماڈل بناکر انکا طواف کرنے ، مٹھائیاں اور حلوے تقسیم کرنے کی کیا دینی حیثیت رہ جاتی ہے اور ان سب کو کس درجے میں ” حُبِ رسول  ﷺ ” قرار دیا جا سکتا ہے کہ جو کام نبی ﷺ کی سنت نہیں وہی محبت رسول ﷺ کا معیار بن جائے ؟  یہ سب کچھ سنت سے انحراف اور تجاوز ہے جو کسی بھی صورت میں پسندیدہ نہیں ۔ دین نام ہی قرآن و سنت کا ہے ۔دین کی حدود سے آگے بڑھنا نری گمراہی و ضلالت ہے ۔ اس بات کو سمجھنے کے لئے نہ تو عقل و خرد کے بلند معیار کی ضرورت ہے اور نہ ہی آگہی و معرفت کے کوئی خاص علوم درکار ہیں ۔ عمر بن عبد العزیز رحمتہ اللہ علیہ نے ایک شخص کو جس نے ان سے تقدیر کے متعلق سوال کیا تھا یہی جواب دیا تھا کہ ” میں تجھے اللہ سے ڈرنے اور اس کے حکم پر چلنے کی وصیت کرتا ہوں اور نبی ﷺ کی سنت پر چلنے کی بھی تاکید کرتا ہوں ۔جو باتیں بدعتیوں نے نکالی ہیں انہیں چھوڑ دو ۔انہوں نے یہ باتیں اس وقت نکالیں جبکہ رسول اللہ ﷺ کی سنت جاری ہو چکی  تھی اور یہ لوگ یہ باتیں ایجاد کرنے کا کوئی حق نہیں رکھتے تھے ۔ تو سنت پر عمل لازم ہے کہ اس سے تم گمراہی سے بچو گے ۔۔۔۔ تم اپنے لئے وہی راستہ اختیار کرو جسے اصحاب ِ رسول نے اختیار کیا تھا ۔ وہ بڑی فضیلت والے اور دور رس نگاہ والے تھے ، اور جن  کاموں سے انہوں نے منع کیا تو درست ہی منع کیا ، کیوں کہ وہ دین کو ہم سے زیادہ سمجھنے والے تھے ۔ آج جو لوگوں نے بدعتیں نکال رکھی ہیں  یہی اگر ہدایت کا راستہ ہے  تو اس کا مطلب یہ کہ یہ لوگ دین کے معاملے میں صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے بھی آگے بڑھے ہوئے ہیں ۔۔۔۔۔” (سنن ابی داؤد : کتاب السنتہ  ، باب فی لزوم السنتہ )

دیکھئے عمر ثانی رحمتہ اللہ علیہ نے کتنی شدت سے نبی علیہ السلام اور صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے راستے کو چھوڑ کر بدعت کی روش اپنانے والوں کو تنبیہ فرمائی ہے۔ قرآن نے بھی اس کی شدید مذمت کی ہے :

وَمَن يُشَاقِقِ ٱلرَّسُولَ مِنۢ بَعۡدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُ ٱلۡهُدَىٰ وَيَتَّبِعۡ غَيۡرَ سَبِيلِ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ نُوَلِّهِۦ مَا تَوَلَّىٰ وَنُصۡلِهِۦ جَهَنَّمَۖ وَسَآءَتۡ مَصِيرًا

[النساء: 115]

” اور جو شخص ہدایت واضح ہونے کے بعد رسول کی مخالفت کرے اور مومنوں کے راستہ کے سوا کسی اورراستے پر چلے تو جدھر وہ چلتا ہے ہم اسے ادھر ہی چلنے دیتے گے اور ( قیامت کے دن ) جہنم میں داخل کر دیں گے ، اور وہ بر ی جگہ ہے۔”

 مندرجہ  بالا آیت میں یہ واضح کر دیا گیا  کہ نبی ﷺ کی تعلیمات کی مخالفت کرنے اور مومنین ( یعنی صحابہ کرام  رضی اللہ تعالیٰ عنہم )  کے راستے کو چھوڑ کر کوئی دوسرا راستہ اخیتا ر کرنے کا انجام جہنم ہے۔  آج  موجودہ معاشرے میں کفر و الحاد کا بھی زور ہےاور بدعات و خرافات کا بھی دور دورہ ہے ۔ دین اپنی خالص اور اصلی صورت میں قرآن و حدیث کی حد تک رہ گیا ہے ۔عملاً تو دین کی خود ساختہ صورت ہی ہر طرف رائج ہے۔ دن بہ دن نئی نئی بدعات دین کے نام سے رائج ہوتی جارہی ہیں ۔ عید میلاد النبی ﷺ کے نام سے نئی عیدبھی ان ہی خود ساختہ بدعات میں سے ایک ہے ۔ اسے رائج کرنے میں ہمارے یہاں کے نام نہاد علماء کا بڑا عمل دخل ہے کیونکہ اس کا سب سے زیادہ فائدہ انہی کو ہوتا ہے۔ یہ فن ِ دینداری کے ماہر اور علمی موشگا فیوں سے آراستہ  ہوتے ہیں ۔ اس لئے ان بدعات کو جائز ثابت کرنے کے لئے آئے دن کوئی نہ کوئی شوشہ چھوڑتے رہتے ہیں ۔ اس نو ایجاد کردہ ” عید میلاد النبی ﷺ ” کو ثابت کرنے کے لئے ان  لوگوں نے چند عجیب و غریب قسم کے دلائل بھی تراش لئے ہیں ۔ اگلی سطور میں انہیں بیان کرکے قرآن و حدیث کی روشنی میں انکا جائز ہ لیا گیا ہے ۔

 جشن ِ میلا د منانے کے لئے سورۃ یونس  کی آیت 57 پیش کی جاتی ہے ۔ آیت اور ترجمہ ملاخطہ فرمائیں :

يٰٓاَيُّھَا النَّاسُ قَدْ جَاۗءَتْكُمْ مَّوْعِظَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَشِفَاۗءٌ لِّمَا فِي الصُّدُوْرِ ڏ وَهُدًى وَّرَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِيْنَ

[يونس: 57]

” آپ فرما دیں کہ ( قرآن  کا نزول) اللہ کے فضل اور اس کی رحمت سے ہے تو اس پر اُنہیں خوش ہونا چا ہیے ۔ یہ ان چیزوں سے کہیں بہتر ہے جو وہ جمع کر رہے ہیں ۔”

یہ آیت پیش کر کے کہا جاتا ہے کہ نزولِ قرآن پرخوشی منانے کا حکم دیا گیا ہے ، اور قرآن کا نازل ہونا ، نصیحت ، شفا ، ہدایت و رحمت  سب کچھ نبی ﷺ کی پیدائش اور تشریف آوری پر موقوف ہے اور قرآن سے بڑی رحمت و نعمت تو خود نبی ﷺ کی ذاتِ گرامی ہے ، لہٰذ ا نبی ﷺ کی ذات مقدسہ کے ظہور پر جتنی بھی خوشی منائی جائے کم ہے ۔

  ان حضرات کی بیشتر بدعات کا یہی حال ہے کہ جس آیت کو دلیل میں پیش کرتے ہیں اس میں اس چیز کا کوئی ذکر ہی نہیں ہوتا جسے یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ سورۃ یونس کی درج بالا آیت میں اللہ کی رحمت پر خوش ہونے کا حکم ہے ، اس سے ” عید میلا د” منانے کا جواز کیسے نکل آیا ؟ کیا اس آیت سے رسول اللہ ﷺ نے جن پر یہ آیت نازل ہوئی ، یہ سمجھا کہ عید میلاد منانی چاہیے ؟ صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے یہ سمجھا کہ ا س آیت سے عید میلاد منانا ثابت ہو رہا ہے ؟ یا پھر صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے شاگرد تابعین اور ان کے بعد تبع تابعین نے اس آیت سے عید میلاد کا جواز نکالا ؟ تو جس آیت میں اللہ کے نبی ﷺ کو عید میلا د نظر نہیں آئی ، صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کو نظر نہیں آئی ، تابعین و تبع تابعین اور محدثین کو نظر نہیں آئی ، آج کئی صدیوں کے بعد اس آیت سے عید میلادکا جواز کیسے نکل آیا ؟ پھر یہ کہ  بلا شبہ نزول ِ قرآن پر ہر مومن کو خوشی ہونی چاہیے کہ یہ اللہ کی طرف سے ہدایت  و رحمت کا ذریعہ ہے ، اور ظاہر ہے کہ صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کو ہم سے زیادہ خوشی تھی جنہوں نے اس سے پورا فائدہ حاصل کیا ، مگر انہوں نے خوشی کا اظہار چراغاں کرکے یا جلسے جلوس کرکے نہیں بلکہ اس پر عمل کر کے کیا ۔یہ نہیں کہ قرآن کے نزول کی خوشی میں گلی کوچوں کو سجائیں ، گھروں اور عمارتوں پر چراغاں کریں ، لیکن عملی طور پر قرآن کی تعلیم سے دور ہٹے ہوئے ہوں ! کیا خوشی منانے کے یہ طریقے جو آج رائج ہیں نبی ﷺ اور صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے بھی ثابت ہیں ؟ ایسا نہ کرنے والے کو یہ کہا جاتا ہے کہ اسے نبی ﷺ سے محبت نہیں ہے ! صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی زندگیاں تو ایسی نام نہاد محبت سے قطعا ًخالی ملیں گی ۔ پھر یہ کہنا کہ قرآن کا نزول نبی ﷺ کی بدولت ہے ، دین کی روح سے ناوقفیت کی بات ہے ۔ اللہ تعالیٰ کا دین کسی کا محتاج نہیں ۔ اللہ اپنے دین کا کام جس انسان سے لیتا ہے اس میں اس کا کوئی کمال  نہیں ۔ یہ تو اللہ کی عطا اور انعام ہے کہ اللہ کسی بندے سے اپنے دین کا کام لے۔اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ کو منصبِ رسالت کے لئے منتخب کیا تو یہ آپ ﷺ پر اللہ تعالیٰ کا انعام تھا جس کے لئے نبی ﷺ ہمیشہ شکر گزار رہے اور کبھی اس کو اپنا ذاتی کمال بتا کر فخر نہ کیا ۔ جشن ِ میلا د منانے والے کہتے ہیں کہ اللہ نے اپنی نعمتوں کو بیان کرنے کا حکم دیاہے :

وَأَمَّا بِنِعۡمَةِ رَبِّكَ فَحَدِّثۡ

[الضحى: 11]

” اپنے رب کی نعمت کو بیان کرو۔”

اور نبی ﷺ اللہ کی سب سے بڑی نعمت ہیں لہٰذااس دن عید منانا اور اللہ کی اس نعمت کا تذکرہ کرنا جائز ہے ۔ بلا شبہ نبی ﷺ اللہ کی عظیم نعمت ہیں لیکن اس سے عید میلاد منانے کا ثبوت کیسے نکل آیا ؟ اگر محض نعمت ہونے سے عید کا جواز مل جاتا ہے تو پھر تو بے شمار عیدیں منانی چاہیئں کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :

۔ ۔ ۔  وَإِن تَعُدُّواْ نِعۡمَتَ ٱللَّهِ لَا تُحۡصُوهَآۗ ۔ ۔ ۔

[إبراهيم: 34]

” اگر تم اللہ کی نعمتوں کا شمار کرنا چاہوتو انہیں گن نہ سکو گے۔”

اللہ کی نعمتیں بے شمار ہیں ، کہاں تک عید یں منائی جائیں گی ؟ اگر یہ کہا جائے کہ فلاں نعمت پر عید منائی جائے اور فلاں پر نہیں تو اس کی کیا دلیل ہو گی ؟ پھر یہ کہ صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم بھی جانتے تھے کہ اللہ کے نبی ﷺ عظیم نعمت ہیں ۔ کیا وجہ ہے کہ انہوں نے یہ عید نہیں منائی ۔ وہ جانتے تھے کہ اسلام میں شخصیت پرستی کی کوئی حیثیت نہیں اس لئے نہ نبی ﷺ نے اپنی پیدائش کا دن کبھی منایا اور نہ ہی صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے ۔ یہ تو عیسائیوں کا طریقہ ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش کے حوالے سے کرسمس مناتے ہیں اور اس دن کو ” بڑا دن ” کہتے ہیں ۔ اسی  طرح ہندو بھی اپنے دیوتا کرشن جی کا جنم دن مناتے ہیں جسے ” جنم اشٹمی ” کہتے ہیں ۔ رسول اللہ ﷺ کی حدیث کے مطابق مَنْ تَشَبَّهَ بِقَوْمٍ فَهُوَ مِنْهُمْ  ( سنن ابی داؤد : کتاب اللباس )  ” جو کسی قوم کی مشابہت اختیار کر ے گا وہ انہی میں شمار کیا جائے گا ۔” لہٰذا ان تمام بدعتوں سے پرہیز لازمی ہے۔

اس دن عید منانے کے جواز کے لئے یہ لوگ اللہ کے دشمن ابولہب کے طرز عمل سے بھی استدلال کرتے ہیں ۔ بخاری کتاب النکاح کے حوالے سے بتاتے  ہیں کہ ابو لہب کے مرنے کے بعد اس کےبعض گھر والوں نے اسے خواب میں برے حال میں دیکھا اور اس سے اس کا حال پوچھا ۔ ابو لہب نے کہا کہ مرنے  کے بعدمیں نے کوئی راحت نہ پائی سوائے اس کے کہ تھوڑاسا سیراب کیا جاتا ہوں ، اس لئے کہ میں نے ثوبیہ کو آزاد کیا تھا ۔ کہتے ہیں کہ ابو لہب کو جب اس کی باندی ثوبیہ نے نبی ﷺ کی ولادت کی خبر دی تو اس نے اس خوشی میں ثوبیہ کو آزاد کر دیا تھا ، تو جب کافر ابولہب کو نبی ﷺ کی ولادت کی خوشی منانے کا فائدہ ہو سکتا ہے تو ہمیں کیوں نہ ہوگا ۔

 افسوس کہ ان حضرات کو عیدمیلاد منانے کی کوئی دلیل نہ تو نبی ﷺ سے ملی نہ صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے بلکہ اس اللہ کے دشمن ابولہب سے ملی جس کا ذکر قرآن میں یوں ہے کہ تَبَّتْ يَدَآ اَبِيْ لَهَبٍ وَّتَبَّ    ( سورہ لہب :1) ” ٹوٹ گئے ابو لہب کے ہاتھ دونوں اور وہ برباد ہو گیا ۔” حالانکہ اس نے تو محمد ﷺ کی پیدائش پر ایک رشتے دار کی حیثیت سے خوش ہو کر اپنی باندی ثوبیہ کو آزاد کیا تھا ۔اس کے وہم گمان میں بھی نہ تھا کہ اس کے فوت شدہ بھائی کا یہ بیٹا بڑا ہو کر نبی بنے گا اور اس کے باطل معبووں کو جھٹلائے گا ورنہ وہ تو بھتیجےکی پیدائش کی خوشی منانے کی بجائے اس کے برعکس کوئی طرزِ عمل اختیار کرتا۔ابولہب کے عمل سے استدلال کیسے کیا جاسکتا ہے ، وہ تو کوئی مسلمان نہیں بلکہ نبی ﷺ کا دشمن اور بدترین کافر تھا جس کی مذمت میں قرآن نازل ہوا ! نبی ﷺ اور صحابہ کرام ر  ضی اللہ تعالیٰ عنہم نے تو کسی کی پیدائش کے لحاظ سے کبھی کوئی دن نہیں منایا ۔ تو پھر اب سنت ِ رسول ﷺ اور طریقئہ صحابہ کو چھوڑ کر ابولہب کا عمل کیوں اختیار کیا جار ہا ہے ؟

کیسی ستم ظریفی ہے کہ رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے اسوہ حسنہ پر ابولہب کے اسوہ کو ترجیح دی جارہی ہے ! رہی بات اس کے مرنے کے بعد اسے خواب میں دیکھے جانے کی تو یہ نہ  تو قرآن کی آیت ہے اور نہ کوئی حدیث ِ رسول ﷺ ، یہ تو محض ایک خواب ہے جس کی زبان ِ نبوت یا صحابہ رضی اللہ تعالی ٰ عنہم  سے کوئی تصدیق وارد نہیں ۔ بھلا خواب دین میں کب حجت ہو ا کرتے ہیں ؟ بلاشبہ انبیاء علیہم السلام کے خواب سچے ہوتے ہیں ، لیکن عام طور سے غیر نبی کے خواب عجیب و غریب ہی ہوا کرتے ہیں اور یہ خواب تو حد درجہ عجیب و غریب ہے کہ جس میں عالم ِ برزخ کا عالم ِ دنیا سے رابطہ بیان کیا گیا ہے اور مرنے والا عالم ِ برزخ کی کیفیت بیان کررہا ہے۔قرآن و حدیث کی کسوٹی پر تو یہ اور اس قسم کے دوسر ے خواب سراسر باطل قرار پاتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے تو عالم دنیا اور عالم ِ برزخ کے درمیان قیامت تک کے لئے ایک آڑ  رکھی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں سے لطف اندوز ہونے والے شہداء احد شدید خواہش کے باوجود اپنا پیغام دنیا والوں تک نہ پہنچا سکے جیسا کہ احادیث میں بیان کیا گیا ہے ، البتہ اللہ تعالیٰ نے سورۃ آل عمران کی یہ آیت نازل فرما کر دنیا والوں کو ان کے حال سے باخبرکیا :

وَلَا تَحۡسَبَنَّ ٱلَّذِينَ قُتِلُواْ فِي سَبِيلِ ٱللَّهِ أَمۡوَٰتَۢاۚ بَلۡ أَحۡيَآءٌ عِندَ رَبِّهِمۡ يُرۡزَقُونَ

[آل عمران: 169]

” جو اللہ کی راہ میں قتل کئےجائیں انہیں مردہ نہ سمجھو ، وہ اپنے رب کے پاس زندہ ہیں اور رزق  دئے جاتے ہیں ۔”

اللہ تعالیٰ ایک اور جگہ شہید کی تمنا ان الفاظ میں بیان فرماتا ہے :

قِيلَ ٱدۡخُلِ ٱلۡجَنَّةَۖ قَالَ يَٰلَيۡتَ قَوۡمِي يَعۡلَمُونَ       ۝  بِمَا غَفَرَ لِي رَبِّي وَجَعَلَنِي مِنَ ٱلۡمُكۡرَمِينَ

[يس: 26-27]

” کاش میری قوم کو معلوم ہو کہ میرے رب نے مجھے معاف فرما دیا اور مجھے عزت والوں میں شامل کر دیا ۔”

 اللہ کی راہ میں جان دینے والے شہید تو خود کسی کو اپنے حال کی خبر نہ دے سکیں اوروہ  اس کی تمنا ہی کرتے رہیں جبکہ اللہ کا دشمن ابو لہب خواب میں لوگوں سے اپنا حال بیان کر تا پھرے ! کیسی عجیب اور بے سروپا بات ہے ! اب جس کا دل چاہے وہ قرآن و حدیث کو مان لےکہ ایسا ہونا ناممکن ہے اور جس کا دل چاہے وہ خوابوں پر ایمان لے آئے ۔

جشن ِ میلاد برپا کرنے والوں کی اس بدعت کے جواز میں ایک دلیل ملاحظہ فرمائیے کہ نبی ﷺ سے پیر کے د ن صوم  رکھنے کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ اسی دن اللہ تعالیٰ نے مجھ پر وحی نازل فرمائی اور اسی دن میں پیدا ہوا ۔ ( صحیح مسلم : کتاب  الصوم ) حدیث میں تو اس دن صوم رکھنے کا ہی ذکر ہے ، کوئی اور خاص کام تو ثابت نہیں ، لیکن یہ فرماتے ہیں کہ جب نبی ﷺ نے اپنی ولادت کا دن منایا تو ہم کیوں نہ منائیں ؟ حالانکہ جو کچھ آج بدعات و خرافات پھیلا دی گئی ہیں ان کا کوئی اشارہ تک بھی اس حدیث میں نہیں پایا جاتا ۔ اللہ کے نبی ﷺ تو پیر اور جمعرات کو صوم   رکھتے تھے اور فرماتے تھے کہ کہ ان دنوں میں اللہ کی بارگاہ میں اعمال پیش ہوتے ہیں اور میں پسند کرتا ہوں کہ جب میرے اعمال بارگاہِ الہی میں پیش ہوں تو میں صائم  ہوں ۔ ( جامع ترمذی : ابواب الصوم ) ۔ جشن میلاد برپا کرنے والے اگر واقعی نبیﷺ سے محبت کرتے ہیں تو سنت پر عمل کریں کہ ہر پیر اور جمعرات کو صوم رکھا کریں ، نبی ﷺ کی سنت کے بجائے ہندوؤ ں کی جنم اشٹمی اور عیسائیوں کے کرسمس کی طرح سال میں ایک دن جلسے جلوس ، بڑے بڑے لاؤڈ سپیکر وں پر دن رات شور شرابہ کر کے غیر مسلموں کی تقلید کرنا آخر نبی ﷺ سے محبت کا کون سا انداز ہے جس پر یہ عمل پیرا ہیں ! اللہ کے رسول ﷺ تو شکر گزار ی کا اظہار صوم رکھ کر کریں اور یہ نام نہاد عاشق ِ رسول اس کے برعکس لنگر بازی کریں ! آج جو کچھ نبی ﷺ کی پیدائش کی خوشی میں کیا جاتا ہے وہ اسلام نہیں ، نہ اللہ کے نبی ﷺ نے اس کا حکم دیا اور نہ صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے اللہ کے نبی ﷺ سے بہت زیادہ محبت رکھنے کے باوجود کبھی ایسا کیا ۔ ایمان والوں کے لئے صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کا طرز ِ عمل نمونہ ہے اور ان کا ایمان معیار ۔ ہمارے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ انہوں نے یہ سب کچھ نہیں کیا۔

       روزِ روشن کی طرح عیاں اس حقیقت سے چشم پوشی کرتے ہوئے مجوزین ِ میلاد اپنے ہر فعل  کو ثابت شدہ قرار دیتے ہیں ۔ یہاں تک کہ جشن ِ میلاد کے خود ساختہ موقعے پر جھنڈ ا لگانے تک کوثابت شدہ امر کہا جاتا ہے اور جھنڈے والوں میں جبر یل علیہ السلام کا نام پیش بھی کیا کرتے ہیں اور ثبوت میں بجائے قرآن و حدیث کے اپنے ہی جیسے لوگوں کی کتابوں کے حوالے پیش کرتے ہیں یا پھر احادیث کے نام سے لکھی جانے والی کتابیں جن میں من گھڑت اور ضعیف روایات ہی پائی جاتی ہیں ، جبکہ کوئی صحیح حدیث تو ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتی۔

   سب سے پہلے تو یہ ثابت ہو نا چاہیے کہ 12 ربیع الاول نبی ﷺ کا یوم پیدائش ہے بھی یا نہیں ۔ کسی بھی صحیح حدیث میں اس کا وجود نہیں ملتا البتہ کچھ روایا ت میں 8 ، 9 یا 14 ربیع الاول کا ذکر ہے ۔ اس کے برعکس 12 ربیع لاول واضح طور پر نبی ﷺ کی وفات کا دن ہے ۔ اس دن مومنین کا خوشی منانا ؟؟؟؟؟؟ استغفر اللہ ۔  احادیث سے تو پتہ چلتا ہے کہ سارے صحابہ کرام رضی اللہ تعالی ٰ عنہم رو رہے تھے ، ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے خطبہ دیا  :

    ” سن لو تم میں جو کوئی محمد ﷺ کی بندگی کرتا تھا محمد ﷺ کی وفات ہوگئی ۔ اور جو کوئی اللہ کی بندگی کرتا ہے تو بے شک اللہ تعالیٰ حئ ( زندہ جاوید ) ہے جس کو کبھی موت نہیں آنی ، اور اللہ کا ارشاد ہے کہ ” محمد (ﷺ) محض ایک رسول ہیں ، ان سے پہلے بھی بہت رسول گذرے ہیں ، اگر یہ وفات پا جائیں یا شہید کرد ئیے جائیں تو کیا تم الٹے پھر جاؤ گے ، اور جو کوئی الٹے پاؤں پھر گیا تو وہ اللہ کو کچھ نقصان نہیں پہنچا سکتا اور اللہ اپنے شکر گزار بندوں کو ضرور جزا دے گا۔”  یہ سن کر لوگ بے اختیار رونے لگے ۔”   

( بخاری : کتاب الا نبیاء )

ایک اور روایت میں عبد بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں : 

  ” جب ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ آیت تلاوت فرمائی تو ایسا معلوم  ہو تا تھا کہ کسی کو اس  آیت کی خبر ہی نہیں تھی پھر جسے دیکھو یہی آیت پڑھ رہا تھا” ( زہری کہتے ہیں سعید بن مسیب )نے کہا کہ عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ واللہ جس دم میں نے ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یہ آیت تلاوت کرتے ہوئے سنا میں گھٹنوں کے بل گر پڑا ، اور ایسا بے دم ہوا کہ میرے پاؤں مجھے سہارا نہ دے سکے یہاں تک کہ میں زمین کی طرف جھک پڑا جس وقت مجھے یقین ہو گیا کہ اللہ کے نبی ﷺ وفات پا گئے ہیں ۔” 

( بخاری : کتاب المغازی ، باب مرض النبی ﷺ و وفاتہ)

 تو اس دن تو ہر ایمان والا افسردہ تھا اور کیوں نہ ہوتا اس امت کا نبی  ، ایک عظیم شخصیت ، ان سے محبت کرنے والا ، ان کو جہنم کی آگ سے بچانے کی کوشش کرنے والا اور ان کے لیے دعائیں کرنے والا آج ان کو چھوڑ کر اس دنیا  سےچلا گیا تھا۔ کیا یہ ممکن ہے کہ آئندہ سال 12 ربیع الاول کو کوئی صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہم ” عید” ” خوشی ” مناسکتا تھا ۔ خوشیاں ضرور منائی گئی ہوں گی لیکن ان کے گھروں میں جو محمد ﷺ سے نفرت کرتے تھے ، جو ان کے لائے ہوئے دین کے دشمن تھے ! وہ یقینا ً خوشیاں منا رہے ہو ں گے ۔ آج 12 ربیع الاول کو ” عید ” منا کر کس کی پیروی کی جارہی ہے ؟ غورو فکر کا مقام ہے !

  اللہ کے نبی ﷺ نے دو عیدیں بتائی تھیں ، عید الفطر اور عید الاضحی ( ابو داؤ / نسائی )۔ اللہ کے نبی ﷺ کی بتائی ہوئی عیدوں کو نا کافی سمجھ کر یہ تیسری عید ( عید میلادالنبی ﷺ کے نام سے ) ایجاد کی گئی ہے اور پھر اسے عیدوں کی عید قرار دے کر یہ شعر پڑھا جاتا ہے کہ

           ؎          نثار تیری چہل پہل پر ہزار عیدیں اے ربیع  الاول

                   جہاں میں ابلیس کے سوا سبھی  تو خوشیاں منا رہے ہیں 

  یعنی نبی ﷺ اور صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم زندگی بھر دو عید یں مناتے رہے ، ایسی ہزاروں عیدیں ان کی اپنی ایجاد کردہ عید پر نثار اور قربان کی جاسکتی ہیں ! غور کرنے کا مقام ہے کہ حب ِ رسول ﷺ کا دم بھرنے والے نبی ﷺ کے حکم کا کیسا مذاق اڑارہے ہیں ! جب انہیں سمجھایا جاتاہے کہ اسلام میں تو صرف دو عیدیں ہیں تو بجائے اصلاح کے حیل و حجت سے کام لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اسلام میں دو نہیں اور بھی عیدیں ہیں کیونکہ عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ آیت  تکمیل ِ دین

۔ ۔  ٱلۡيَوۡمَ أَكۡمَلۡتُ لَكُمۡ دِينَكُمۡ وَأَتۡمَمۡتُ عَلَيۡكُمۡ نِعۡمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ ٱلۡإِسۡلَٰمَ دِينٗاۚ ۔ ۔

[المائدة: 3]

” آج میں نے تمہارے لئے تمہارا دین مکمل کر دیا ، تم پر اپنی نعمت تمام کر دی اور تمہارے لئے دین ِ اسلام پر راضی ہو گیا ۔”

کے متعلق فرمایا کہ یہ دو عیدیں یعنی جمعہ و عرفہ والے دن نازل ہوئی ( مشکوٰۃ : باب الجمعہ )۔ چنانچہ فرماتے ہیں کہ عید صرف عید الفطر اور عید الا ضحی ہی نہیں بلکہ مسلمین کے لئے ہر جمعہ عید ہونے کی وجہ سے ہر ہفتے عید ہوتی ہے ۔ یوم ِ جمعہ کو بعض احادیث میں عید کہا گیا ہے ( اس کی تفصیل آگے

آ رہی ہے )لیکن کیا نبی ﷺ کے یوم ِ ولادت کو بھی کسی حدیث میں عید کہا گیا ہے ؟ اگر نہیں اور قطعا نہیں تو جمعہ کو عید کہنے سے یوم ِ میلاد عید کیسے ثابت ہو جائے گا ؟ دعوے اور دلیل میں مطابقت تو ہونی چاہئے۔ دوسرا یہ کہ جمعہ عید قرار دیا ہے تو اس دن غسل کرنے ، خوشبولگانے ، مسواک کرنے اور صلوٰۃ ِ جمعہ ہی ادا کرنے کا حکم دیا ہے نہ کہ جلوس نکالنے ، عمارتیں و گلیاں سجانے اور ” لنگر شریف ” لٹانے کا۔ پھر یہ کہ جمعہ کے دن لوگ اپنے کاروبار بھی کرتے ہیں ۔ عیدین کی طرح نہ تو عام چھٹی ہوتی ہے اور نہ ہی اس کو بطور تہوار منایا جاتا ہے۔ جس طرح اس کا صاٖ ف مطلب ہے کہ احادیث میں عیدحکماً  کہا گیا ہے ورنہ جمعہ عید الفطر و عید الا ضحی کی طرح حقیقتا عید نہیں ہے ، مثلا ً ڈوب کر مرنے والا ،  طاعون سے مرنے والا ، وغیرہ ۔ جیسا کہ احادیث میں موجود ہے ، یہ سب شہدا ء حکما ً شہید ہیں یعنی اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے انہیں بھی شہادت کے اجرو ثواب سے نواز دے گا ، لیکن جو اللہ کی راہ میں قتل کر دیا جائے تو اس کا مقام یقینا ًبہت زیادہ ہے۔اسی طرح سے یوم ِ جمعہ کو حکما ً عید کہا گیا ہے کہ یہ مسلمین کے لئے خصوصی عبادت کا دن ہے ۔ عرفہ کا دن بھی خصوصی عبادت کے حوالے سے حکما ً عید ہے ۔

 یہ بھی ملحوظ رہے کہ اگر یوم ِ جمعہ حقیقی عید ہو تا تو اس دن صوم رکھنا قطعا نا جائز ہو تا کیونکہ عید کے دن صوم رکھنے کی احادیث میں واضح ممانعت واردہے جبکہ اگر کوئی مسلم  ہر مہینے کچھ صوم مثلاً ایام ِ بیض وغیرہ کے رکھتا ہے اور ان میں جمعہ بھی آجاتا ہے تو وہ جمعہ کو بھی صوم رکھ سکتا ہے ۔ پھر یہ کہ اگر نبی ﷺ کا یوم ِ ولادت بھی عیدین کی طرح یوم ِ عید ہو تا تو اس دن بھی صوم  رکھنا جائز نہ ہوتا حالانکہ نبی ﷺ خود سوموار کے دن صوم رکھا کرتے تھے جو نبی ﷺ کی پیدائش کا دن تھا ۔ صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے نبی ﷺ کی پیدائش کے دن کبھی جشن ِ میلاد برپا نہیں کیا ، نہ اس دن جلوس نکالے ، نہ کسی بھی سال اس دن کے حوالے سے مردانہ و زنانہ محافل ِ میلاد و نعت منعقد کیں ۔انہوں نے نبی ﷺ سے محبت کا اظہار آپ ﷺ کی کامل اطاعت کرکے کیا اور یہی سچی محبت ہے ۔ صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے تو اس کی اتنی اہمیت بھی نہ سمجھی کہ اس دن سے اسلامی کیلنڈر کا آغاز کرتے ! بلکہ انہوں نے تو اسلام کے لئے اپنے گھر بار چھوڑکر مدینہ ہجرت کرنے کے دن سے اسلامی سن کا آغاز کیا ۔ اسی لئے مسلمین کا سن ” سنِ ہجری ”کہلاتا ہے ۔

 ان معروضات سے کسی کی دل آزاری مقصود نہیں بلکہ صرف یہ واضح کرنا ہے کہ ہم نبی ﷺ سے اظہار ِ محبت کے مروجہ طریقوں کو قرآن و حدیث کی کسوٹی پر پرکھیں اور پوری طرح صورتحال کا جائزہ لیکر اصلاح کی کوشش کریں ۔ یہ بات ذہن نشیں کر لی جائے کہ دنیا و آخرت کی فلاح  و کامیابی کا دارومدارزبانی دعؤوں اور ہند و نصاری ٰ  کی رسومات بجالانے پر نہیں بلکہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی مکمل اطاعت اور صحابہ  کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے نقش ِ قدم کی پیروی ہی پر ہے ۔اللہ تعالیٰ حق کو سمجھنےاور اس کی اتباع کی توفیق عطا فرمائے۔

Categories
Urdu Articles

دینی امور پر اجرت

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

إِنَّ الْحَمْدَ لِلَّهِ، نَحْمَدُهُ وَنَسْتَعِينُهُ، مَنْ يَهْدِهِ اللهُ فَلَا مُضِلَّ لَهُ، وَمَنْ يُضْلِلْ فَلَا هَادِيَ لَهُ، وَأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ،

أَمَّا بَعْدُ

قال اللہ تعالیٰ فی سورہ آل عمران

وَ اِنَّ مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ لَمَنْ يُّؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَيْكُمْ وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَيْهِمْ خٰشِعِيْنَ لِلّٰهِ١ۙ لَا يَشْتَرُوْنَ بِاٰيٰتِ اللّٰهِ ثَمَنًا قَلِيْلًا١ؕ اُولٰٓىِٕكَ لَهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَرِيْعُ الْحِسَابِ۰۰۱۹۹

[آل عمران: 199]

’’اہل کتاب میں بھی کچھ لوگ ایسے ہیں جو اللہ پر ایمان ہیں، اس کتاب پر ایمان لاتے ہیں جو تمہاری طرف بھیجی گئی ہے اوراُس کتاب پربھی ایمان رکھتے ہیں جو اس سے پہلے خود ان کی طرف بھیجی گئی تھی، اللہ کے آگے جھکے ہوئے ہیں، اور اللہ کی آیات کو تھوڑی سی قیمت پر بیچ نہیں دیتے ان کا اجر ان کے رب کے پاس ہے اور اللہ حساب چکانے میں دیر نہیں لگاتا۔‘‘

          اللہ تعالی نے اس آیت میں ان لوگوں کو ذکر بہت اچھے انداز میں بیان کیا ہے کہ جو اللہ کی آیات پر دنیاوی اجر نہیں لیتے بلکہ فرمایا کہ ان کا اجر ان کے رب کے پاس ہے۔ یعنی دین کاموں کا اجر آخرت کے لئے ہے دنیا کے لئے نہیں۔قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :

وَ اٰمِنُوْا بِمَاۤ اَنْزَلْتُ مُصَدِّقًا لِّمَا مَعَكُمْ وَ لَا تَكُوْنُوْۤا اَوَّلَ كَافِرٍۭ بِهٖ١۪ وَ لَا تَشْتَرُوْا بِاٰيٰتِيْ ثَمَنًا قَلِيْلًا١ٞ وَ اِيَّايَ فَاتَّقُوْنِ۰۰۴۱

[البقرة: 41]

’’اور ایمان لاو (اس کتاب) پر جو میں نے نازل کی تصدیق کرنے والی ہے اس کی جو تمہارے پاس ہے (تورات و انجیل) اور مت بنو پہلے انکار کرنے والے اس کے اور مت بیچو میری آیتوں کو تھوڑی قیمت میں اور صرف مجھ ہی سے پس تم ڈرو۔

۔ ۔ ۔ فَلَا تَخْشَوُا النَّاسَ وَ اخْشَوْنِ وَ لَا تَشْتَرُوْا بِاٰيٰتِيْ ثَمَنًا قَلِيْلًا١ؕ وَ مَنْ لَّمْ يَحْكُمْ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْكٰفِرُوْنَ۰۰۴۴

 [المائدة: 44]

’’تم لوگوں سے نہ ڈرو بلکہ مجھ سے ڈرو اور میری آیات کوتھوڑے معاوضے پر مت بیچو، جو لوگ اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلہ نہ کریں وہی کافر ہیں۔ُُ

       ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے فرما کہ’’ میری آیات ‘‘ کو  ’’ ذریعہ معاش نہ بنا لو،اور فرمایا کہ جو اللہ کے نازل کردہ کے مطابق فیصلہ نہ کریں ’’وہی کافر ‘‘ ہیں۔ یعنی یہ جو حکم دیا گیا ہے کہ قرآن مجید کی آیات نہ بیچ ڈالو یہ اللہ کا حکم ہے ، اور جو اس کے خلاف فیصلہ کریں یعنی اس کمائی کو جائز قرار دیں پس وہی کافر ہیں۔ اللہ تعالیٰ مزید فرماتا ہے:

اِنَّ الَّذِيْنَ يَكْتُمُوْنَ مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ مِنَ الْكِتٰبِ وَ يَشْتَرُوْنَ بِهٖ ثَمَنًا قَلِيْلًا١ۙ اُولٰٓىِٕكَ مَا يَاْكُلُوْنَ فِيْ بُطُوْنِهِمْ اِلَّا النَّارَ وَ لَا يُكَلِّمُهُمُ اللّٰهُ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ وَ لَا يُزَكِّيْهِمْ١ۖۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ۰۰۱۷۴

[البقرة: 174]

’’بے شک  جو لوگ اُن احکام کو چھپاتے ہیں جو اللہ نے اپنی کتاب میں ناز ل کیے ہیں اوراس  (قرآن) کے ذریعے تھوڑا معاوضہ کماتے ہیں، وہ دراصل اپنے پیٹ میں جہنم کی  آگ ڈالتے ہیں، قیامت کے دن اللہ ہرگز ان سے بات نہ کرے گا، نہ انہیں پاک کرےگا، اور اُن کے لیے دردناک عذاب ہے‘‘۔

          اس آیت میں دو معاملات بیان کئے گئے ہیں،  اول وہ لوگ جو اللہ کے نازل کردہ احکامات کو چھپاتے ہیں اور دوم وہ لوگ جو اس قرآن کے ذریعے کماتے ہیں، یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے پیٹوں میں جہنم کی آگ ڈال رہے ہیں یعنی قرآن مجید پر یہ کمائی درحقیقت جہنم کی آگ ہے۔ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ایسے افراد سے بات تک نہیں کرے گا یعنی ان پر بہت ہی غضب ناک ہوگا۔ انہیں پاک بھی نہیں کیا جائے گا کیونکہ جنت میں صرف پاک لوگ ہی جائیں گے۔

          قارئین گرامی!  کتنے واضح  انداز میں اللہ تعالیٰ نے یہ بتا دیا کہ قرآن پر اجرت لینا حرام، اپنے پیٹوں میں جہنم کی آگ ڈالنا ہے اور جو لوگ یہ کام فی سبیل للہ کرتے ہیں ، آخرت میں اللہ تعالیٰ کے پاس اس کا بھرپور اجر پائیں گے۔

گویا  امامت،تعلیم القرآن پر اجرت مکمل طور پر حرام ہے۔

 نبی ﷺ نے فرمایا :

” اقْرَءُوا الْقُرْآنَ ، وَلَا تَغْلُوا فِيهِ ، وَلَا تَجْفُوا عَنْهُ وَلَا تَأْكُلُوا بِهِ ، وَلَا تَسْتَكْبِرُوا بِهِ “

( مسند احمد،  مسند المكيين ، حدیث عبد الرحمن بن شبل ؓ)

’’ قرآن پڑھو اور اس میں غلو نہ کرو اور اس سے اعراض نہ کرو اس کو ذریعہ معاش نہ بناؤ اور نہ ہی اس سے بہت سے دنیاوی فائدے حاصل کرو۔‘‘

عن سهل بن سعد الساعدي، قال: خرج علينا رسول الله صلى الله عليه وسلم يوما ونحن نقترئ، فقال: «الْحَمْدُ لِلَّهِ، كِتَابُ اللَّهِ وَاحِدٌ، فِيكُمُ الْأَحْمَرُ، وَفِيكُمُ الْأَبْيَضُ، وَفِيكُمُ الْأَسْوَدُ، اقْرَءُوهُ قَبْلَ أَنْ يَقْرَأَهُ أَقْوَامٌ يُقَوِّمُونَهُ كَمَا يُقَوَّمُ السَّهْمُ؛ يَتَعَجَّلُ أَجْرَهُ وَلَا يُتَأَجَّلُهُ»

( ابو داؤد،  أبواب تفريع استفتاح الصلاة، باب ما يجزئ الأمي والأعجمي من القراءة )

’’ سہل بن سعد بن ساعدی ؓ سے روایت ہے کہ ایک دن رسول اﷲﷺہمارے پاس تشریف لاۓ اس حال میں کہ ہم قرآن کی تلاوت کر رہے تھے یہ دیکھ کر آپؐ نے فرمایا الحمدﷲ کتابﷲ پڑھنے والے سرخ بھی ہیں‛ سفید بھی ہیں‛ کالے بھی ہیں قرآن پڑھو عنقریب ایسی قومیں آئیں گی جو قرآن کے زیرزبر کو ایسے سیدھا کریں گی جیسے تیر کو سیدھا کیا جاتا ہے لیکن قرآن کے اجر میں جلدی کریں گے اور اس کو آخرت پر نہ رکھیں گے۔‘‘

عن عثمان بن أبي العاص قال: قلت :  يَا رَسُولَ اللَّهِ، اجْعَلْنِي إِمَامَ قَوْمِي. قَالَ: أَنْتَ إِمَامُهُمْ، وَاقْتَدِ بِأَضْعَفِهِمْ، وَاتَّخِذْ مُؤَذِّنًا لا يَأْخُذُ عَلَى أَذَانِهِ أَجْرًا

     ( سنن النسائی،  کتاب الاذان ، اتخاذ المؤذن الذي لا يأخذ على أذانه أجرا )

’’ عثمان بن ابی العاصؓ سے روایت ہے کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ مجھے اپنی قوم کا امام بنا دیجئے آپ ؐ نے فرمایا (ٹھیک ہے) تم ان کے امام ہو لیکن کمزور مقتدیوں کا خیال رکھنا۔ اور مؤذن ایسا شخص مقرر کرنا جو اذان پر اجرت نہ لے۔‘‘

عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، قَالَ: عَلَّمْتُ نَاسًا مِنْ أَهْلِ الصُّفَّةِ الْكِتَابَ، وَالْقُرْآنَ فَأَهْدَى إِلَيَّ رَجُلٌ مِنْهُمْ قَوْسًا فَقُلْتُ: لَيْسَتْ بِمَالٍ وَأَرْمِي عَنْهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، لَآتِيَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَأَسْأَلَنَّهُ فَأَتَيْتُهُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، رَجُلٌ أَهْدَى إِلَيَّ قَوْسًا مِمَّنْ كُنْتُ أُعَلِّمُهُ الْكِتَابَ وَالْقُرْآنَ، وَلَيْسَتْ بِمَالٍ وَأَرْمِي عَنْهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ، قَالَ: «إِنْ كُنْتَ تُحِبُّ أَنْ تُطَوَّقَ طَوْقًا مِنْ نَارٍ فَاقْبَلْهَا»         

  (المستدرک علی الصحیحین للحاکم ، کتاب البیوع، وَأَمَّا حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ )

’’ عبادہ بن صامت سے روایت ہے کہ وہ فرماتے ہیں کہ میں نے اہل صفہ کے کچھ لوگوں کو قرآن مجید  اور کتاب اللہ کی تعلیم دی ان میں سے ایک شخص نے مجھے ایک کمان ہدیہ دی۔ میں نے کہا کہ اس کی مالیت تو کچھ نہیں اور میں اس سے اللہ کی راہ میں تیر اندازی کروں گا (مقصد یہ کہ اس ہدیہ کے قبول کرنے کا خیال تھا اس واسطے کہ اس کی مالیت تو کچھ خاص نہیں تھی کہ اس کو تعلیم کا معاوضہ خیال کرتا اور نیت یہ تھی کہ اس کے ذریعہ اللہ کے راستہ میں تیر اندازی کروں گا) میں اس کے بارے میں رسول اللہﷺ کے پاس جاؤں گا اور سوال کروں گا، چنانچہ میں نبی ﷺ کے پاس گیا اور کہا کہ یا رسول ﷺایک آدمی نے مجھے کمان ہدیہ کی ہے ان میں سے کہ جنہیں کتاب اللہ اور قرآن کی تعلیم دیتا ہوں اور اس کمان کی کچھ مالیت بھی نہیں ہے اور اس کے ذریعہ میں اللہ کے راستہ میں تیر اندازی کروں گا، نبیﷺ نے فرمایا کہ اگر تجھے یہ بات پسند ہے کہ تیرے گلے میں آگ کا طوق ڈالا جائے تو اسے قبول کر لے۔‘‘

عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:  «مَنْ تَعَلَّمَ عِلْمًا مِمَّا يُبْتَغَى بِهِ وَجْهُ اللَّهِ، لَا يَتَعَلَّمُهُ إِلَّا لِيُصِيبَ بِهِ عَرَضًا مِنَ الدُّنْيَا، لَمْ يَجِدْ عَرْفَ الْجَنَّةِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ»

( صحیح ابن حبان ،  کتاب العلم ، ذكر وصف العلم الذي يتوقع دخول النار في القيامة لمن طلبه )

’’ابوہریر ؓ ہ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا کہ جس شخص نے وہ علم کہ جس سے اللہ تبارک تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کی جاتی ہے اس لئے سیکھا کہ اس کے ذریعہ اسے دنیا کا کچھ مال و متاع مل جائے تو ایسا شخص جنت کی خوشبو کو بھی نہیں پا سکے گا قیامت کے دن۔ ‘‘

قارئین  گرامی ! یہ جسم کو لرزا دینے والی احادیث ہیں کہ تعلیم القرآن پر تحفہ لینے والا بھی آگ کا ہار پہنے گا اور جس نے  اسی ذریعہ معاش بنایا وہ جنت کی خوشبو بھی نہیں سونگھ پائیں گے۔ استغفر اللہ من ذالک

قرآن اور احادیث نبوی ﷺ سے ثابت ہوا کہ

قرآن مجید کی آیات  پر  اجرت لینا،

اس پر تحفہ لینا،

اس کے ذریعے کسی اور قسم کا فائدہ اٹھانا       ،

اپنے پیٹوں میں جہنم کی آگ ڈالنا ہے۔

اللہ کے حکم کا کفر،

اورنبی ﷺ کے حکم کا کفرہے۔

اسی طرح اذان کی اجرت سے بھی منع کردیا گیا ہے۔

اسلام کے نام پر فرقے بنا دئیے گئے، ایک دوسرے سے اختلاف کی گیا لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ

دینی امور پر اجرت لینے پر سارے فرقوں کا اتفاق ہے۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ فرقوں کا سارا کنٹرل ان کے مفتی اور مولوی کے ہاتھ میں ہوتا ہے ، اور یہ اپنی کمائی کسی  بھی طور چھوڑنے پر تیار نہیں، انہوں دین کو پیشہ بنا رکھا ہے۔لیکن اس کمائی پر مصر رہنے والےفرقوں کے یہ  علماء  کہتے ہیں کہ   ان قرآنی آیات کا ہر گز یہ مقصد نہیں کہ  قرآن پر  اجرت منع ہے بلکہ قرآن ہی کی آیات بعض دوسری آیات کی تفصیل بیان کرتی ہیں۔ اس بارے میں وہ سورہ بقرہ آیات ۱۷۴ اور ۱۷۵ آیت پیش کرتے ہیں :

اِنَّ الَّذِيْنَ يَكْتُمُوْنَ مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ مِنَ الْكِتٰبِ وَ يَشْتَرُوْنَ بِهٖ ثَمَنًا قَلِيْلًا١ۙ اُولٰٓىِٕكَ مَا يَاْكُلُوْنَ فِيْ بُطُوْنِهِمْ اِلَّا النَّارَ وَ لَا يُكَلِّمُهُمُ اللّٰهُ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ وَ لَا يُزَكِّيْهِمْ١ۖۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ۰۰۱۷۴ اُولٰٓىِٕكَ الَّذِيْنَ اشْتَرَوُا الضَّلٰلَةَ بِالْهُدٰى وَ الْعَذَابَ بِالْمَغْفِرَةِ١ۚ فَمَاۤ اَصْبَرَهُمْ عَلَى النَّارِ۰۰۱۷۵

[البقرة: 174-175]

’’بے شک  جو لوگ اُن احکام کو چھپاتے ہیں جو اللہ نے اپنی کتاب میں ناز ل کیے ہیں اوراس  (قرآن) کے ذریعے تھوڑا معاوضہ کماتے ہیں، وہ دراصل اپنے پیٹ میں جہنم کی  آگ ڈالتے ہیں، قیامت کے دن اللہ ہرگز ان سے بات نہ کرے گا، نہ انہیں پاک کرےگا، اور اُن کے لیے دردناک عذاب ہے۔ یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہدایت کے بدلے گمراہی خرید لی ہے اور  ( اللہ  کی طرف سے ) مغفرت کے بدلے ( اللہ کا ) عذاب، سو دیکھو یہ کس قدر صبر کرنے والے ہیں جہنم کی آگ پر۔‘‘

وَ اِذْ اَخَذَ اللّٰهُ مِيْثَاقَ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ لَتُبَيِّنُنَّهٗ۠ لِلنَّاسِ وَ لَا تَكْتُمُوْنَهٗ١ٞ فَنَبَذُوْهُ وَرَآءَ ظُهُوْرِهِمْ وَ اشْتَرَوْا بِهٖ ثَمَنًا قَلِيْلًا١ؕ فَبِئْسَ مَا يَشْتَرُوْنَ۰۰۱۸۷

[آل عمران: 187]

’’ اور جب اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں سے پختہ عہد لیا تھا جو کتاب دیئے گئے کہ وہ لوگوں کے سامنے کتاب کو وضاحت سے بیان کریں گے اور اسے چھپائیں گے نہیں۔ پھر انہوں نے کتاب کو پس پشت ڈال دیا اور اسے تھوڑی سی قیمت کے عوض بیچ ڈالا۔ کتنی بری ہے وہ قیمت جو وہ وصول کر رہے ہیں‘‘۔

ان آیات  کو پیش کرکے کہا جاتا ہے کہ  جب دین کو چھپا لیا جائے اور اس پر اجرت لی جائے تو یہ اسوقت یہ حرام ہے ورنہ یہ جائز ہے۔

وضاحت :

بے شک ایسا کرکے اس پر اجرت لینا تو کھلا حرام ہے لیکن یہ مفتیان بھی اس امت کیساتھ وہی کھیل رہے ہیں جو کہ قوم یہود کے علماء نے کھیلا تھا کہ  اللہ کے نازل کردہ  میں سے بہت چھپا لیا کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اس قسم کے افراد کی  اس روش سے اسی وقت آگاہ کردیا تھا، مالک کائنات فرماتا ہے :

يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّ كَثِيْرًا مِّنَ الْاَحْبَارِ وَ الرُّهْبَانِ لَيَاْكُلُوْنَ اَمْوَالَ النَّاسِ بِالْبَاطِلِ وَ يَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ١ ۔ ۔ ۔  

[التوبة: 34]

’’اے ایمان والو، بے شک علماء اور پیروں کی اکثریت   لوگوں کا مال باطل  طریقے سے کھاتی ہے  اور انہیں اللہ کی راہ سے روک دیتی ہے ۔ ۔ ۔‘‘

اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی بتا دیا تھا کہ یہ لوگوں کا  مال باطل طریقے سے کھاتے ہیں تو اللہ کی وہ بات صادق آئی اور آج  یہ بات ہمارے سامنے کھل کر آچکی ہے کہ یہ مولوی، یہ پیر اور مفتیان کس کس طرح دین پر کمائی کر رہے ہیں۔  کہیں امامت پر اجرت ہے، کہیں تعلیم القرآن پر اجرت، کہیں قرآن کا تعویذ لکھ کر کما رہے ہیں  اور کہیں ایصال ثواب کی بدعات پر مبنی رسومات ایجاد کرکے وہاں پوری پوری ٹیم لیجا کر ختم قرآن کی فیس لے رہے ہیں۔ کہیں مولوی صاحب کو ختم  پر بلایا جاتا ہے اور ہاتھ اٹھا اٹھا کر دعا کرکے تر مال اور ہدیہ حاصل کرتے ہیں تو  اب کہیں ’’ قرآن سے روحانی علاج ‘‘ شروع کردیا ہے۔ کہیں اذان پر اجرت ہے تو کہیں  درس و تدریس پرجانے کا ہدیہ۔ الغرض کہ دین کو کمائی کا ذریعہ بنا ڈالا ہے۔

مفتی صاحبان جو یہ دو آیات پیش کررہے ہیں تو دین پر اجرت کے بارے میں  قرآن میں صرف یہ دو آیات نہیں ہیں بلکہ کثرت سے وہ آیات بھری پڑی ہیں جن میں اجرت پر انکار ثابت ہوتا ہے۔ مفتی صاحبان وہ آیات لوگوں کے سامنے آنے ہی نہیں دیتے بلکہ اسے چھپا لیتے ہیں۔ملاحظہ فرمائیں اس کی چند مثالیں:

نوح علیہ السلام نے اپنی قوم سے کہا :

وَ مَاۤ اَسْـَٔلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ اَجْرٍ١ۚ اِنْ اَجْرِيَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الْعٰلَمِيْنَۚ۰۰۱۰۹

[الشعراء: 109]

’’اور نہیں میں سوال کرتا تم سے اس پر کسی اجرت کا، نہیں ہے میری اجرت مگر جہانوں کے رب کے ذمے‘‘ ۔

وَ يٰقَوْمِ لَاۤ اَسْـَٔلُكُمْ عَلَيْهِ مَالًا١ؕ اِنْ اَجْرِيَ اِلَّا عَلَى اللّٰهِ ۔ ۔ ۔

[هود: 29]

’’اور اے میری قوم ! میں نہیں مانگتا تم سے اس پر کوئی مال، نہیں ہے میرا اجر مگر اللہ پر ‘‘

ھود علیہ اسلام نے فرمایا میرا اجر ﷲ کے ذمہ ہے۔

وَ مَاۤ اَسْـَٔلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ اَجْرٍ١ۚ اِنْ اَجْرِيَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الْعٰلَمِيْنَؕ۰۰۱۲۷

[الشعراء: 127]

’’اور نہیں میں سوال کرتا تم سے اس پر کسی اجرت کا، نہیں ہے میری اجرت مگر جہانوں کے رب کے ذمے‘‘ ۔

وَ مَاۤ اَسْـَٔلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ اَجْرٍ١ۚ اِنْ اَجْرِيَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الْعٰلَمِيْنَؕ۰۰۱۲۷

[هود: 51]

’’اے میری قوم ! نہیں میں مانگتا تم سے اس پر کوئی اجر، نہیں ہے میرا اجر مگر اس پر جس نے مجھے پیدا کیا تو کیا تم سمجھتے نہیں ہو‘‘

لوط علیہ اسلام نےفرمایا میرا اجر ﷲ کے ذمہ ہے۔

وَ مَاۤ اَسْـَٔلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ اَجْرٍ١ۚ اِنْ اَجْرِيَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الْعٰلَمِيْنَؕ۰۰۱۶۴

[الشعراء: 164]

’’اور نہیں میں مانگتا تم سے اس (تبلیغ) پر کوئی اجرت ، نہیں ہے میری اجرت مگر رب العالمین کے ذمے ‘‘۔

شعیب علیہ اسلام نے فرمایا میرا اجر ﷲ کے ذمہ ہے۔

وَ مَاۤ اَسْـَٔلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ اَجْرٍ١ۚ اِنْ اَجْرِيَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الْعٰلَمِيْنَؕ۰۰۱۸۰

[الشعراء: 180]

’’اور نہیں میں مانگتا تم سے اس (تبلیغ) پر کوئی اجرت ، نہیں ہے میری اجرت مگر رب العالمین کے ذمے‘‘ ۔

سورہ یٰسن میں اللہ تعالیٰ نے ایک بنیاد بیان فرمائی کہ ہدایت پر کون ہے :

اتَّبِعُوْا مَنْ لَّا يَسْـَٔلُكُمْ اَجْرًا وَّ هُمْ مُّهْتَدُوْنَ۰۰۲۱

(یٰسٓ :21)

’’ رسولوں کی اتباع کرو جو تم سے کوئی اجر نہیں مانگتے اور جو ہدایت یافتہ ہیں۔‘‘

نبی ﷺ سے کہلوایا :

قُلْ لَّاۤ اَسْـَٔلُكُمْ عَلَيْهِ اَجْرًا١ؕ اِنْ هُوَ اِلَّا ذِكْرٰى لِلْعٰلَمِيْنَؒ

(الانعام: 90)

’’ (اے نبی ﷺ!) کہدو کہ میں تم سے اس (قرآن) پر اجرت نہیں مانگتا ، یہ تو تمام عالم کے لیے نصیحت ہے ۔‘‘

۔ ۔  ۔ قُلْ لَّاۤ اَسْـَٔلُكُمْ عَلَيْهِ اَجْرًا١ؕ اِنْ هُوَ اِلَّا ذِكْرٰى لِلْعٰلَمِيْنَؒ۰۰۹۰            

          (سبا :47)

’’ (اے نبی ﷺ!) کہدو کہ میں نے (دین پر) تم سے کچھ اجرت مانگی ہو تو وہ تمہاری، میرا اجر تو اﷲ کے ذمہ ہے اور وہ ہر چیز سے باخبر ہے ‘‘۔

انبیاء علیہ السلام بھی اپنے ہاتھوں سے کمانے والے تھے :

قَالَ مَا بَعَثَ اللّٰہُ نَبِیًّا اِلَّا رَعَی الْغَنَمَ فَقَالَ اَصْحَابُہٗ وَ اَنْتَ فَقَالَ نَعَمْ کُنْتُ اَرْعَاھَاعَلٰی قَرَارِْ یطَ لِاَھْلِ مَکَّۃَ

(بخاری: کتاب الاجارۃ، باب رعی الغنم علی قراریط )

’’ نبی ﷺنے فرمایا کہ اﷲ تعالیٰ نے کوئی نبی ایسا نہیں بھیجا جس نے بکریاں نہ چَرائیں ہوں۔ صحابہؓ نے پوچھا اور آپ نے بھی؟ فرمایا کہ ہاں، میں بھی مکہ والوں کی بکریاں چند قیراط کی اجرت پر چَرایا کرتا تھا‘‘۔

اسی طرح انبیاء علیہ السلام مختلف کام کیا کرتے تھے:

اِنَّ دَاوٗدَ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ لَا یَاْکُلُ اِلَّامِنْ عَمَلِ یَدِہٖ

(بخاری: کتاب البیوع، باب کسب الرجل عملِہ بیدہٖ)

’’ اﷲ کے نبی داؤ د علیہ الصلوٰۃ و السلام صرف اپنے ہاتھ سے کام کرکے روزی حاصل کرتے تھے ۔‘‘

کَانَ زَکَرِیَّا نَجَّارًا

(مسلم:کتاب الفضائل،باب فضائل زکریا ؑ)

’’ زکریا  ؑ بڑھئی تھے ۔‘‘

اب دیکھیں صحابہ ؓ کا کردار:

عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَتَاهُ رِعْلٌ وَذَكْوَانُ وَعُصَيَّةُ وَبَنُو لَحْيَانَ فَزَعَمُوا أَنَّهُمْ قَدْ أَسْلَمُوا وَاسْتَمَدُّوهُ عَلَى قَوْمِهِمْ ، فَأَمَدَّهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَبْعِينَ مِنْ الْأَنْصَارِ ، قَالَ : أَنَسٌ كُنَّا نُسَمِّيهِمْ الْقُرَّاءَ يَحْطِبُونَ بِالنَّهَارِ وَيُصَلُّونَ بِاللَّيْلِ فَانْطَلَقُوا بِهِمْ حَتَّى بَلَغُوا بِئْرَ مَعُونَةَ غَدَرُوا بِهِمْ وَقَتَلُوهُمْ ، فَقَنَتَ شَهْرًا يَدْعُو عَلَى رِعْلٍ وَذَكْوَانَ وَبَنِي لَحْيَانَ ، قَالَ : قَتَادَةُ ، وَحَدَّثَنَا أَنَسٌ أَنَّهُمْ قَرَءُوا بِهِمْ قُرْآنًا أَلَا بَلِّغُوا عَنَّا قَوْمَنَا بِأَنَّا قَدْ لَقِيَنَا رَبَّنَا فَرَضِيَ عَنَّا وَأَرْضَانَا ، ثُمَّ رُفِعَ ذَلِكَ بَعْدُ

( بخاری،کتاب الجہاد و السیر، بَابُ العَوْنِ بِالْمَدَدِ )

’’نبی ﷺ کی خدمت میں رعل ‘ ذکوان ‘ عصیہ اور بنو لحیان قبائل کے کچھ لوگ آئے اور یقین دلایا کہ وہ لوگ اسلام لا چکے ہیں اور انہوں نے اپنی کافر قوم کے مقابل امداد اور تعلیم و تبلیغ کے لیے آپ سے مدد چاہی۔ تو نبیﷺنے ستر انصاریوں کو ان کے ساتھ کر دیا۔ انسؓ نے بیان کیا ‘ کہ ہم انہیں قاری کہا کرتے تھے۔ وہ لوگ دن میں جنگل سے لکڑیاں جمع کرتے اور رات میں صلوٰۃ ادا کرتے  رہتے۔ یہ لوگ  ان قبیلہ والوں کے ساتھ چلے گئے ‘ لیکن جب بئرمعونہ پر پہنچے تو قبیلہ والوں نے ان صحابہ ؓ کے ساتھ دغا کی اور انہیں شہید کر ڈالا۔ نبیﷺ نے ایک مہینہ تک  ( صلوٰۃ میں )  قنوت پڑھی اور رعل و ذکوان اور بنو لحیان کے لیے بددعا کرتے رہے۔ قتادہ نے کہا کہ ہم سے انس ؓ نے کہا کہ  ( ان شہداء کے بارے میں )  قرآن مجید میں ہم یہ آیت یوں پڑھتے رہے ”ہاں! ہماری قوم  ( مسلمین )  کو بتا دو کہ ہم اپنے رب سے جا ملے۔ اور وہ ہم سے راضی ہو گیا ہے اور ہمیں بھی اس نے خوش کیا ہے۔“ پھر یہ آیت منسوخ ہو گئی تھی‘‘۔

یہ ہے صحابہ ؓ کا عمل کہ دن میں محنت مزدوری اور رات میں اللہ کی عبادت۔قرآن و حدیث کے دلائل سے ثابت ہوا کہ کسی بھی حالت میں قرآن مجید پر اجرت نہیں لی جا سکتی۔  فرقے کے مفتیان و علماء خود ان سب باتوں کو چھپاتے ہیں، لوگوں کے سامنے یہ سب بیان نہیں کرتے تاکہ لوگ حقیقت جان کر ہمیں  مال دینا نہ بند کردیں، لہذا اب ان پر بھی ان دونوں آیات کا نفاذ ہوتا ہے جو یہ بہانہ تراشنے کے لئے بیان کرتے ہیں۔ اس طرح انہوں نے وہی کام کیا جو مالک قرآن مجید میں فرماتا ہے :

اِشْتَرَوْا بِاٰيٰتِ اللّٰهِ ثَمَنًا قَلِيْلًا فَصَدُّوْا عَنْ سَبِيْلِهٖ١ؕ اِنَّهُمْ سَآءَ مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ۰۰۹

[التوبة: 9]

’’انہوں نے اللہ کی آیات کو تھوڑی سی قیمت پر بیچ دیا پھر (لوگوں کو) اللہ کی راہ سے روک دیا۔ بہت برے ہیں وہ کام جو وہ کر رہے ہیں‘‘۔

بالکل آج یہی ماحول ہے کہ ہر ہر فرقےنے ’’ دین پر اجرت ‘‘ پر اتفاق کیا ہوا ہے اور باقی ہر ہر مسئلے پر ان کا اختلاف ہے، بہر حال ان میں بھی کچھ لوگ ایسے ہیں جو اجرت نہیں لیتے لیکن ان کی تعداد بمشکل ایک دو فیصد ہی ہوگی۔

اپنےاس حرام فعل کو حلال ثابت کرنےکے لئے یہ  بخاری کی ایک حدیث بھی پیش کرتے ہیں، لہذا اس کا مطالعہ بھی کرتے ہیں۔

اس سے قبل ہم نے  دینی امور پر اجرت کے بارے میں قرآن و حدیث کا بیان پیش کیا تھا جس کی رو سے  امامت اور تعلیم القرآن پر اجرت لینا منع اور  جہنم کی آگ اپنے  پیٹوں میں ڈالنا ہے۔ ایسے لوگ قیامت کے دن   پاک نہیں کئے جائیں گے ، کیونکہ جنت میں صرف پاک لوگ جائیں گے۔ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ان سے کلام  بھی نہیں کرے گا بلکہ حدیث نبی ﷺ  کی رو سے یہ جنت کی  خوشبو بھی نہیں پا سکیں گے۔ لیکن ان کا دل جگرا دیکھیں کہ انہوں اس حرام کام  کو  اپنا پیشہ بنا لیااورجہنم کی آگ پر صبر کرلیا :

اِنَّ الَّذِيْنَ يَكْتُمُوْنَ مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ مِنَ الْكِتٰبِ وَ يَشْتَرُوْنَ بِهٖ ثَمَنًا قَلِيْلًا١ۙ اُولٰٓىِٕكَ مَا يَاْكُلُوْنَ فِيْ بُطُوْنِهِمْ اِلَّا النَّارَ وَ لَا يُكَلِّمُهُمُ اللّٰهُ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ وَ لَا يُزَكِّيْهِمْ١ۖۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ۰۰۱۷۴اُولٰٓىِٕكَ الَّذِيْنَ اشْتَرَوُا الضَّلٰلَةَ بِالْهُدٰى وَ الْعَذَابَ بِالْمَغْفِرَةِ١ۚ فَمَاۤ اَصْبَرَهُمْ عَلَى النَّارِ۰۰۱۷۵

[البقرة: 174-175]

’’بے شک  جو لوگ اُن احکام کو چھپاتے ہیں جو اللہ نے اپنی کتاب میں ناز ل کیے ہیں اوراس  (قرآن) کے ذریعے تھوڑا معاوضہ کماتے ہیں، وہ دراصل اپنے پیٹ میں جہنم کی  آگ ڈالتے ہیں، قیامت کے دن اللہ ہرگز ان سے بات نہ کرے گا، نہ انہیں پاک کرےگا، اور اُن کے لیے دردناک عذاب ہے۔ یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہدایت کے بدلے گمراہی خرید لی ہے اور  ( اللہ  کی طرف سے ) مغفرت کے بدلے ( اللہ کا ) عذاب، سو دیکھو یہ کس قدر صبر کرنے والے ہیں جہنم کی آگ پر۔‘‘

فَمَاۤ اَصْبَرَهُمْ عَلَى النَّارِ

’’سودیکھو یہ کس قدر صبر کرنے والے ہیں جہنم کی آگ پر‘‘

جہنم کی آگ پر صبر کرنے والے یہ لوگ  قرآن و حدیث کے واضح احکامات کے بعد بھی اسے پیشہ بنائے ہوئے ہیں اور عوام الناس کو دھوکہ دینے کے لئے ایک دو احادیث بھی پیش کرتے  اور اس سے دینی امور پر اجرت  کوجائز قرار دیتے ہیں۔اب ہم ان کی پیش کردہ احادیث کی طرف آتے ہیں:

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ نَاسًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَوْا عَلَى حَيٍّ مِنْ أَحْيَاءِ العَرَبِ فَلَمْ يَقْرُوهُمْ، فَبَيْنَمَا هُمْ كَذَلِكَ، إِذْ لُدِغَ سَيِّدُ أُولَئِكَ، فَقَالُوا: هَلْ مَعَكُمْ مِنْ دَوَاءٍ أَوْ رَاقٍ؟ فَقَالُوا: إِنَّكُمْ لَمْ تَقْرُونَا، وَلاَ نَفْعَلُ حَتَّى تَجْعَلُوا لَنَا جُعْلًا، فَجَعَلُوا لَهُمْ قَطِيعًا مِنَ الشَّاءِ، فَجَعَلَ يَقْرَأُ بِأُمِّ القُرْآنِ، وَيَجْمَعُ بُزَاقَهُ وَيَتْفِلُ، فَبَرَأَ فَأَتَوْا بِالشَّاءِ، فَقَالُوا: لاَ نَأْخُذُهُ حَتَّى نَسْأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلُوهُ فَضَحِكَ وَقَالَ: «وَمَا أَدْرَاكَ أَنَّهَا رُقْيَةٌ، خُذُوهَا وَاضْرِبُوا لِي بِسَهْمٍ»

( بخاری، کتاب  الطب، بَابُ الرُّقَى بِفَاتِحَةِ الكِتَابِ )

’’ابوسعیدخدری ؓ کہتے ہیں کہ نبیﷺ کے صحابہ میں سے چند لوگ عرب کے کسی قبیلہ کے پاس پہنچے، اس قبیلہ کے لوگوں نے ان کی ضیافت نہیں کی، وہ لوگ وہیں تھے کہ اس قبیلہ کے سردار کو سانپ نے ڈس لیا، تو انہوں نے پوچھا کہ تمہارے پاس کوئی دوا یا کوئی دم کرنے والا ہے، تو ان لوگوں نے کہا کہ تم نے ہماری مہمان داری نہیں کی اس لئے ہم کچھ نہیں کریں گے، جب تک کہ تم لوگ ہمارے لئے کوئی چیز متعین نہ کروگے، اس پر ان لوگوں نے چند بکریوں کا دینا منظور کیا،پھر  ابو سعید خدری ؓ  نے سورہ فاتحہ پڑھنا شروع کی اور تھوک جمع کرکے اس پر ڈال دیا، تو وہ آدمی تندرست ہوگیا، وہ آدمی بکریاں لے کر آیا تو انہوں ( صحابہ ؓ ) نے کہا کہ ہم یہ نہیں لیتے جب تک کہ نبیﷺ سے اس کے متعلق دریافت نہ کرلیں، چنانچہ ان لوگوں نے نبی ﷺسے اس کے متعلق دریافت کیا تو آپ ہنس پڑے، فرمایا کہ تمہیں کیسے معلوم ہوا کہ سورہ فاتحہ دم ہے، تم اس کو لے لو اور ایک حصہ میرا بھی اس میں لگا ؤ۔

یہ خصوصی معاملہ اس وقت پیش آیا تھا جب صحابہ کرامؓ کی جماعت کا گزر ایک قبیلے والوں پر ہوا جنہوں نے اس جماعت کی میزبانی کرنے سے انکار کردیا۔ایسی صورتحال کے لیے نبی ﷺ نے صحابہ کرام کو اس بات کی تعلیم دی ہوئی تھی کہ اگر کوئی قبیلہ ان کی ضیافت نہ کرے تووہ کسی طور سے حق ضیافت وصول کرلیں کیونکہ اس دور میں آج کل کی طرح ہوٹلوں وغیرہ کا رواج نہیں تھا۔

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَزِيدُ، عَنْ أَبِي الخَيْرِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ: قُلْنَا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّكَ تَبْعَثُنَا، فَنَنْزِلُ بِقَوْمٍ لاَ يَقْرُونَا، فَمَا تَرَى فِيهِ؟ فَقَالَ لَنَا: «إِنْ نَزَلْتُمْ بِقَوْمٍ   فَأُمِرَ لَكُمْ بِمَا يَنْبَغِي لِلضَّيْفِ فَاقْبَلُوا، فَإِنْ لَمْ يَفْعَلُوا، فَخُذُوا مِنْهُمْ حَقَّ الضَّيْفِ»

( بخاری، کتاب المظالم و غضب ، بَابُ قِصَاصِ المَظْلُومِ إِذَا وَجَدَ مَالَ ظَالِمِهِ )

’’عقبہ بن عامر سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ ہم نے نبیﷺسے عرض کیا کہ آپ  ہمیں دوسری جگہ بھیجتے ہیں تو ہم ایسی قوم میں اترتے ہیں جو ہماری مہمانداری نہیں کرتے اس کے متعلق آپ  کیا فرماتے ہیں ؟ نبی ﷺنے ہم سے فرمایا کہ اگر تم کسی قوم کے پاس اترو اور وہ تمہارے لئے مناسب طور پر مہمانداری کا حکم دیں تو خیر ورنہ تم ان سے مہمانی کا حق وصول کرو‘‘۔

اس دوران قبیلے کے سردار کو سانپ نے ڈس لیا۔جب وہ قبیلے والے صحابہ  کرام ؓ کے پاس آئے تو اُن کے طرز عمل کی نشاندہی کی گئی جیسا کہ روایت میں ہے۔ اس سے اس بات کی مکمل وضاحت ہوگئی کہ صحابہؓ نے یہ معاملہ محض اس بنیاد پر کیا تھا کہ قبیلے والوں نے حق ضیافت ادا نہیں کیا تھا ۔چنانچہ سور ہ فاتحہ کا دم کیا گیا اور اﷲ تعالیٰ نے ان کے سردار کو شفا عطا فرمادی ،قبیلے والے حسب وعدہ بکریاں لے آئے۔اب صحابہ کرام ؓ   کو تردد ہو ا ۔ یہ تردد اسی وجہ سے ہوا کہ اللہ اوراس کے رسولﷺ قرآن پر اجرت کو حرام ٹھہراتے تھے ۔ چنانچہ انہوں نے اس سلسلے میں یہ طے کیا کہ یہ معاملہ پہلے نبیﷺ کے سامنے پیش کیا جائے۔نبیﷺنے ان سے کہا کہ تمہیں کیسے معلوم کہ ’’ فاتحہ ‘‘ ایک دم ہے  ( یعنی ایسی کوئی تعلیم نہیں دی گئی تھی )، پھر فرمایا کہ اس میں میرا بھی حصہ لگاو‘‘۔

اگر نبیﷺ اسے ’’اجرت‘‘ یا ’’کمائی‘‘ سمجھتے تو کسی طور پر بھی اس کی تقسیم اور اس میں اپناحصہ نکالنے کا حکم نہ دیتے کیونکہ ’’اجرت‘‘یا ’’    کمائی ‘‘ توعمل کرنے والے کی ہوتی ہے، وہ کسی میں تقسیم نہیں ہوتی۔

قبیلہ والوں نے صحابہ سے دریافت کیا کہ کیا تمہارے پاس کاٹے کی دوا ہے یا تمہارے اندر کوئی ایسا ہے جو کاٹے کے منتر سے واقف ہو اور دم کر سکتا ہو۔ صحابہ نے جواب دیا کہ ’’ ہاں‘‘۔ مگر تم لوگ وہ ہو جنہوں نے ہماری میزبانی کرنے سے انکار کردیا ہے اس لیے ہم اس وقت تک تمہارے سردار پر ’’دم‘‘ نہ کریں گے جب تک تم ہمیں اُس کی اجرت دینے کا وعدہ نہ کرو۔‘‘ان علماء سو ءنے جو  اپنی حرام کمائی کو حق ثابت کرنے کے لیے جو تانے بانے ملانے کی کوشش کی تھی،اس حدیث کے واضح الفاظ نے سر راہ اس کا شیرازہ بکھیر دیا۔

اِنَّ اَحَقَّ مَا اَخَذْتُمْ عَلَیْہِ اَجْراً کِتَابُ اللّٰہِ


اسی واقعہ کی ایک اور روایت ابن عباس رضی اﷲ عنہما سے بھی آتی ہے۔ما قبل بیان کردہ روایت ابو سعید خدری ؓسے مروی ہے جو کہ خود اس قافلے میں شامل تھے،اور ترمذی کی بیان کردہ روایت کے مطابق دم کرنے والے بھی وہ خود ہی تھے، مگر یہ حدیث جس کو روایت کرنے والاصحابی وہ ہے جو خود اس میں سفر میں شامل تھا اور جو اس پورے واقعے کا عینی شاہد اور مرکزی کردار رہا،ان فرقہ پرستوں کے نزدیک اُس روایت سے کم تر ہے جو دوسرے ایسے صحابی سے مروی ہے جو اس واقعے کے گواہ نہیں کہ اس مہم میں شریک سفر نہ تھے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اُس روایت میں ایک ایسا جملہ ہے جس کے ذریعے ان پیشہ وروں نے اپنی ’’حرام‘‘ کمائی کو جائز ٹھہرایا ہوا ہے۔ ابن عباس رضی اﷲ عنہما کی محولہ روایت میں یہ بیان کیا گیا ہے :

عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ نَفَرًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرُّوا بِمَائٍ فِيهِمْ لَدِيغٌ أَوْ سَلِيمٌ فَعَرَضَ لَهُمْ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْمَائِ فَقَالَ هَلْ فِيکُمْ مِنْ رَاقٍ إِنَّ فِي الْمَائِ رَجُلًا لَدِيغًا أَوْ سَلِيمًا فَانْطَلَقَ رَجُلٌ مِنْهُمْ فَقَرَأَ بِفَاتِحَةِ الْکِتَابِ عَلَی شَائٍ فَبَرَأَ فَجَائَ بِالشَّائِ إِلَی أَصْحَابِهِ فَکَرِهُوا ذَلِکَ وَقَالُوا أَخَذْتَ عَلَی کِتَابِ اللَّهِ أَجْرًا حَتَّی قَدِمُوا الْمَدِينَةَ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَخَذَ عَلَی کِتَابِ اللَّهِ أَجْرًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ أَحَقَّ مَا أَخَذْتُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا کِتَابُ اللَّهِ

( بخاری، کتاب الطب، باب: الشرط فی الرقیۃ ۔ ۔)

’’ ابن عباس سے روایت ہے کہ نبیﷺکے اصحاب میں سے چند آدمی پانی کے رہنے والوں کے پاس سے گذرے جن میں سے ایک شخص کو سانپ  کاٹا ہوا تھا (لدیغ یا سلیم کا لفظ بیان کیا) پانی کے رہنے والوں میں سے ایک آدمی ان صحابہ کے پاس پہنچا اور کہا تم میں سے کوئی شخص جھاڑنے والا ہے، پانی میں ایک شخص سانپ یا بچھو کا کاٹا ہوا ہے (سانپ کے کاٹے ہوئے کے لیے لدیغ یا سلیم کا لفظ بیان کیا) ایک صحابی گئے اور بکریوں کی شرط پر سورت فاتحہ پڑھی، تو وہ آدمی اچھا ہوگیا اور وہ صحابہ ؓ کے پاس بکریاں لے کر آئے ۔لیکن ان ( صحابہ ؓ ) نے اسے برا خیال کیا اور کہنے لگے کہ تم نے کتاب اللہ پر اجرت لی ہے، یہاں تک کہ وہ لوگ مدینہ پہنچے تو ان لوگوں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! انھوں نے کتاب اللہ پر اجرت لی، آپ نے فرمایا کہ جن چیزوں پر تم  اجر لیتے ہو ان میں سب سے مستحق کتاب اللہ ہے۔‘‘

ان کی طرف سے پیش کردہ اس روایت میں سب سے پہلے صحابہ ؓ کے اس جملے کو پڑھئیے :

فَکَرِهُوا ذَلِکَ وَقَالُوا أَخَذْتَ عَلَی کِتَابِ اللَّهِ أَجْرًا

لیکن ان ( صحابہ ؓ ) نے اسے برا خیال کیا اور کہنے لگے کہ تم نے کتاب اللہ پر اجرت لی ہے

صحابہ ؓ کے اس قول نے یہ اس حقیقت کو واضخ کردیا کہ :

صحابہ ؓ کو یہی تعلیم دی گئی تھی اور وہ کتاب اللہ پر کمائی حرام سمجھتے تھے۔

اب جب صحابہ ؓ نبی ﷺ کے پاس پہنچے تو اس واحد روایت کے مطابق نبی ﷺ نے فرمایا :

إِنَّ أَحَقَّ مَا أَخَذْتُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا کِتَابُ اللَّهِ

’’جن چیزوں پر تم  اجرت  لیتے ہو ان میں سب سے مستحق کتاب اللہ ہے۔‘‘


اس واقعے کے بارے میں تمام کتب حدیث بشمول صحیح بخاری میں جتنی بھی روایات بیان کی گئی ہیں ،سوائے اس منفرد روایت کے کسی میں بھی یہ الفاظ نہیں ملتے۔ یہی وہ جملہ ہے جس پرمفتی و مولوی اور ان  کے ہم قبیل اسلاف نے ایک جھوٹی عمارت کھڑی کرنے کی کوشش کی ہے۔ ہر معاملے میں قرآن و حدیث ایک متفقہ عقیدہ دیتا ہے۔ اگر کبھی کسی آیت یا حدیث کے الفاظ سے بظاہر کسی اور آیت یا حدیث کا انکار ہو رہا ہو تواس کی تاویل کتاب اﷲکے دئیے ہوئے مؤقف کے مطابق کی جاتی ہے۔اس بارے میں قرآن و حدیث کا یہی بیان ہے کہ اﷲ کی آیات کو بیچا نہ جائے، اس کوکسی انداز میں بھی کمائی کا ذریعہ نہ بنایا جائے، اس کے عوض کسی قسم کا کوئی تحفہ نہ لیا جائے اور نہ کوئی دوسرا دنیاوی فائدہ اٹھایا جائے، اذان فی سبیل اﷲ دی جائے، اس پر کوئی معاوضہ نہ دیا لیا جائے، دینی علم کو صرف اﷲ کی رضا کے لیے سیکھا جائے،جس کسی نے اسے دنیا کمانے کے لیے سیکھا تواس پر جنت کی خوشبو بھی حرام ہے۔۔۔۔۔۔

یہ سار ی باتیں ہمیں رسول اﷲ ﷺ کے ذریعے ہی پہنچی ہیں۔ اب کیا اس بات کا تصور کیا جا سکتا ہے کہ اﷲ کے رسول ﷺ اس کے خلاف بھی کوئی بات فرما دیں گے! رسول اﷲﷺ کے اس فرمان کو اسی انداز میں قبول کیا جائے گا کہ جس انداز میں خود انہوں نے اس پر عمل کیا ہوگا۔جبکہ نبی ﷺ سے زیادہ اللہ تعالیٰ کے حکم کو جو سورہ الانعام آیت نمبر 90 میں ہے عمل کرنے والا اور کون ہو سکتا ہے:

اُولٰٓىِٕكَ الَّذِيْنَ هَدَى اللّٰهُ فَبِهُدٰىهُمُ اقْتَدِهْ١ؕ قُلْ لَّاۤ اَسْـَٔلُكُمْ عَلَيْهِ اَجْرًا١ؕ اِنْ هُوَ اِلَّا ذِكْرٰى لِلْعٰلَمِيْنَؒ۰۰۹۰

[الأنعام: 90]

’’یہی لوگ ایسے تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت کی تھی  سو آپ بھی ان ہی کے طریق پر چلیئے  آپ کہہ دیجیئے کہ میں تم سے اس (قرآن) پر کوئی معاوضہ نہیں چاہتا  یہ تو صرف تمام جہان والوں کے واسطے ایک نصیحت ہے‘‘  ۔

سور ہ احزاب میں اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے: 

لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِيْ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِّمَنْ كَانَ يَرْجُوا اللّٰهَ وَ الْيَوْمَ الْاٰخِرَ وَ ذَكَرَ اللّٰهَ كَثِيْرًاؕ۰۰۲۱

 [الأحزاب: 21]

’’اور تمہارے لیے رسول اللہ  کی زندگی میں بہترین نمونہ ہے، ہر اس شخص کے لیے جو اﷲ(کے سامنے)اور روز آخرت (سرخروئی)کی توقع رکھتا  ہو اور کثرت سے اﷲ کا ذکر کرنے والا ہو‘‘
یہ علماء فرقہ  اب فیصلہ کرلیں کہ وہ کن لوگوں میں ہیں؟اگریہ اﷲ کے ملنے اور قیامت کے آنے پر ایمان رکھتے ہیں تو نبی ﷺ کا طریقہ اپنائیں۔

رسول اﷲﷺنے یہ جملہ فرمایا کہ ’’جن چیزوں پر تم  اجرت  لیتے ہو ان میں سب سے مستحق کتاب اللہ ہے‘‘، لیکن فقر و فاقہ، مصیبت و افلاس میں گھرے ہوئے کسی صحابی کو امامت،اذان یا تعلیم القرآن پر اجرت نہیں دی!  

                               کیا رسول اﷲﷺ کا یہ اسوہ قابل اتباع نہیں ؟

 صحابہ کرام ؓ بھی اس جملے کے معنی نہیں سمجھ پائے اور دین سے دنیا کمانے کے بجائے آخرت خریدنے میں ہی مصروف رہے! لیکن سمجھے توبس علم کے یہ ’’سمندروپہاڑ‘‘ ہی سمجھے کہ اس جملے میں کیا بات پنہاں ہے!
قرآن و حدیث کی رو سے جو بات اس جملے سے واضح ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ اجر کمانے کے لائق بہترین چیز اﷲ کی کتاب ہے۔اس سلسلے میں قرآن کی آیات اور احادیث پیش کرنے کی چنداں ضرورت نہیں کہ قرآن پڑھنے ،اس کے مطابق اپنے عقائد بنانے اوراس پر عمل کرنے والوں کے لیے اﷲ نے کتنا بہترین اجر تیارکر رکھا ہے جو آخرت میں ملے گا۔ نبی ﷺ نے فرمایا :

اللَّهُمَّ لَا عَيْشَ إِلَّا عَيْشُ الْآخِرَهْ

( بخاری ، کتاب الجہاد و السیر ، بَابُ البَيْعَةِ فِي الحَرْبِ أَنْ لاَ يَفِرُّوا، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: عَلَى المَوْتِ )

 ’’ اے میرے اللہ زندگی نہیں ہے مگر  بس آخرت کی زندگی ہے ‘‘۔

دنیا میں اس کتاب سے جو اجر ملتا ہے وہ یہی ہے کہ اﷲ اس کتاب پر عمل کرنے والوں کو ’’سربلند‘‘کر دیتا ہے۔جیسا کہ نبیﷺ نے فرمایا:


اِنَّ اﷲَ یَرْفَعُ بِھٰذَا الْکِتَابِ اَقْوَامًا وَّ یَضَعُ بِہٖ اٰ خَرِیْنَ


(مسلم: کتاب صلوٰۃ،باب فضل من یقوم بالقرآن۔۔۔)


’’ ۔۔۔ اﷲ تعالیٰ اس کتاب کے ذریعے قوموں کو سربلندی عطا فرماتا ہے اور دوسروں کو اس کے ذریعے پستی میں ڈالدیتا ہے‘‘۔


دنیا میں قرآن پر جو صلہ ملتا ہے وہ یہی ہے کہ اس کو پڑھنے اور اس پر عمل کرنے والی قوموں کو اﷲ تعالیٰ اس دنیا میں سربلندی عطا فرماتا ہے اور اس کے مقابلے میں جو قومیں اس کے مطابق عمل نہیں کرتیں ،انہیں اس دنیا میں ذلیل و پست کردیا جاتا ہے، جیسا کہ آج یہ کلمہ گو امت اس دنیا میں پست کردی گئی ہے۔لہٰذا دینی امور پر اجرت کو جائز قرار دینا محض جہالت اور افترا ء پردازی ہے،خود نبی ﷺکے اسوہ اور صحابہ کرام ؓ   کا طرز عمل اس کی نفی کرتا ہے۔

اگر نبی ﷺ کا اس جملے سے مطلب نعوذوباللہ قرآن پر  دنیاوی اجرت لینا تھا تو یہ سارے ملکر  وہ  صحیح احادیث پیش کردیں جس میں نبی ﷺ کا کسی صحابی کو امامت ، تعلیم القرآن پرتنخواہ، اجرت، وظیفہ یا تحفہ دینا ثابت ہو۔

الحمد للہ تا قیامت یہ لوگ ایک بھی ایسی حدیث نہیں پیش کرسکیں گے کہ جس سے یہ ثابت ہو کہ نبیﷺ نے کتاب اللہ پر کسی ایک کو اجرت یا ہدیہ دیا ہو۔ اللہ تعالیٰ انہیں ہدیت دے کہ یہ اللہ کے حرام کردہ کو حرام ہی مانیں۔


حفظ قرآن کی بنیاد پر نکاح:

اپنی اس حرام کمائی کو جائز کرنے کے لئے ایک اور حدیث کو بھی ڈھال بنانے کی کوشش کی جاتی ہے، ملاحظہ فرمائیں :

عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، أَنَّ امْرَأَةً جَاءَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ جِئْتُ لِأَهَبَ لَكَ نَفْسِي، فَنَظَرَ إِلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَصَعَّدَ النَّظَرَ إِلَيْهَا وَصَوَّبَهُ، ثُمَّ طَأْطَأَ رَأْسَهُ، فَلَمَّا رَأَتِ المَرْأَةُ أَنَّهُ لَمْ يَقْضِ فِيهَا شَيْئًا جَلَسَتْ، فَقَامَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِهِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكَ بِهَا حَاجَةٌ فَزَوِّجْنِيهَا، فَقَالَ: «هَلْ عِنْدَكَ مِنْ شَيْءٍ؟» فَقَالَ: لاَ وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: «اذْهَبْ إِلَى أَهْلِكَ فَانْظُرْ هَلْ تَجِدُ شَيْئًا؟» فَذَهَبَ ثُمَّ رَجَعَ فَقَالَ: لاَ وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا وَجَدْتُ شَيْئًا، قَالَ: «انْظُرْ وَلَوْ خَاتَمًا مِنْ حَدِيدٍ» فَذَهَبَ ثُمَّ رَجَعَ، فَقَالَ: لاَ وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَلاَ خَاتَمًا مِنْ حَدِيدٍ، وَلَكِنْ هَذَا إِزَارِي – قَالَ سَهْلٌ: مَا لَهُ رِدَاءٌ – فَلَهَا نِصْفُهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا تَصْنَعُ بِإِزَارِكَ، إِنْ لَبِسْتَهُ لَمْ يَكُنْ عَلَيْهَا مِنْهُ شَيْءٌ، وَإِنْ لَبِسَتْهُ لَمْ يَكُنْ عَلَيْكَ شَيْءٌ» فَجَلَسَ الرَّجُلُ حَتَّى طَالَ مَجْلِسُهُ ثُمَّ قَامَ فَرَآهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُوَلِّيًا، فَأَمَرَ بِهِ فَدُعِيَ، فَلَمَّا جَاءَ قَالَ: «مَاذَا مَعَكَ مِنَ القُرْآنِ؟» قَالَ: مَعِي سُورَةُ كَذَا، وَسُورَةُ كَذَا، وَسُورَةُ كَذَا – [ص:193] عَدَّهَا – قَالَ: «أَتَقْرَؤُهُنَّ عَنْ ظَهْرِ قَلْبِكَ؟» قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: «اذْهَبْ فَقَدْ مَلَّكْتُكَهَا بِمَا مَعَكَ مِنَ القُرْآنِ»

( بخاری، کتاب فضائل القرآن ، بَابُ القِرَاءَةِ عَنْ ظَهْرِ القَلْبِ )

’’ سہل بن سعد ؓ روایت کرتے ہیں کہ ایک عورت نبی ﷺکے پاس آئی اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ (ﷺ) میں نے آپ کو اپنا نفس بخش دیا، آپ نے اس کو اوپر سے نیچے تک غور سے دیکھا پھر اپنا سرجھکا لیا، جب عورت نے دیکھا کہ آپ نے اس کے بارے میں کوئی حکم نہیں دیا تو وہ بیٹھ گئی، پھر نبی ﷺ کے ایک صحابی نے عرض کیا یا رسول اللہ ! اگر آپ کو اس عورت کی ضرورت نہ ہو تو اس کا مجھ سے نکاح کردیجئے، آپ نے فرمایا کیا تیرے پاس کچھ سامان ہے، اس نے جواب دیا کچھ نہیں اللہ کی قسم اےرسول اللہ ( ﷺ )۔ آپ  نے فرمایا اپنے گھر جا کر دیکھو شاید تمہیں کچھ مل جائے، وہ گیا پھر لوٹ کر آیا اور کہا یا رسول اللہ (ﷺ)  اللہ کی قسم مجھے کچھ بھی نہیں ملا، آپ نے فرمایا جاؤ دیکھو، چاہے لوہے کی انگوٹھی ہی لے آؤ، وہ گیا، پھر آکر عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! لوہے کا چھلا بھی نہیں، البتہ یہ تہہ بند ہے، (سہل کہتے ہیں اس کے پاس دوسری چادر بھی نہ تھی)، لیکن اس نے کہا اس خاتون کو آدھا تہہ بند دے دیجئے، تو رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ تو اپنی اس ازار کو کیا کرے گا، اگر تو اسے پہن لے گا تو عورت کے پاس نہ رہے گی اور اگر وہ پہن لے گی تو تیرے پاس کچھ نہ رہے گا، تب وہ شخص بیٹھ گیا اور دیر تک بیٹھا رہا پھر اٹھ کھڑا ہوا، نبی ﷺ نے اسے مغموم جاتے دیکھ کر بلوایا اور فرمایا تجھے کچھ قرآن یاد ہے، اس نے جواب دیا مجھے فلاں فلاں سورتیں یاد ہیں، ان سورتوں کو شمار کرکے تعداد بھی بتائی، آپ نے فرمایا کیا وہ تجھے حفظ ہیں ؟ اس نے جواب دیا ہاں ! آپ نے فرمایا جا میں نے تجھے قرآن شریف حفظ کرنے کی وجہ سے اس کا مالک بنادیا۔‘‘

اس حدیث کو غور سے بار بار پڑھیں کیا اس سے دینی امور پر اجرت کا کوئی جواز نکلتا ہے؟

یہ ایک خاص واقعہ تھا کہ  اس صحابی کے پاس  اس خاتون کو مہر میں دینے کے لئے کچھ بھی نہیں تھا ۔ نبی ﷺ نے اس سے فرمایا:

هَلْ عِنْدَکَ مِنْ شَيْئٍ

کیا تیرے پاس کچھ سامان ہے

اسنے جواب دیا :

لَا وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ

کچھ نہیں اللہ کی قسم اےرسول اللہ ( ﷺ )

نبی ﷺ نےفرمایا :

اذْهَبْ إِلَى أَهْلِكَ فَانْظُرْ هَلْ تَجِدُ شَيْئًا؟

اپنے گھر جا کر دیکھو شاید تمہیں کچھ مل جائے

وہ گھر گیا اور واپس آکر بولا:

لاَ وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا وَجَدْتُ شَيْئًا

یا رسول اللہ (ﷺ)  اللہ کی قسم مجھے کچھ بھی نہیں ملا

قَالَ: انْظُرْ وَلَوْ خَاتَمًا مِنْ حَدِيدٍ» فَذَهَبَ ثُمَّ رَجَعَ، فَقَالَ: لاَ وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَلاَ خَاتَمًا مِنْ حَدِيدٍ، وَلَكِنْ هَذَا إِزَارِي – قَالَ سَهْلٌ: مَا لَهُ رِدَاءٌ – فَلَهَا نِصْفُهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا تَصْنَعُ بِإِزَارِكَ، إِنْ لَبِسْتَهُ لَمْ يَكُنْ عَلَيْهَا مِنْهُ شَيْءٌ، وَإِنْ لَبِسَتْهُ لَمْ يَكُنْ عَلَيْكَ شَيْءٌ»

نبی ﷺ  نے فرمایا اپنے گھر جا کر دیکھو شاید تمہیں کچھ مل جائے، وہ گیا پھر لوٹ کر آیا اور کہا یا رسول اللہ (ﷺ)  اللہ کی قسم مجھے کچھ بھی نہیں ملا، آپ نے فرمایا جاؤ دیکھو، چاہے لوہے کی انگوٹھی ہی لے آؤ، وہ گیا، پھر آکر عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! لوہے کا چھلا بھی نہیں، البتہ یہ تہہ بند ہے، (سہل کہتے ہیں اس کے پاس دوسری چادر بھی نہ تھی)، لیکن اس نے کہا اس خاتون کو آدھا تہہ بند دے دیجئے، تو رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ تو اپنی اس ازار کو کیا کرے گا، اگر تو اسے پہن لے گا تو عورت کے پاس نہ رہے گی اور اگر وہ پہن لے گی تو تیرے پاس کچھ نہ رہے گا۔‘‘

یہ وہ حالات تھے کہ اس صحابی ؓ کے پاس مہر میں اس خاتون کو دینے کے لئے لوہے کا چھلا بھی نہیں تھا۔ اب وہ صحابی غمزدہ ہو کر  خاموش بیٹھ گیا اور پھر اٹھ کر جانے لگا، ایسی   کیفیت میں نبیﷺ نے اسے روکا اور پوچھا:

مَاذَا مَعَكَ مِنَ القُرْآنِ؟

تجھے کچھ قرآن یاد ہے

 قَالَ: مَعِي سُورَةُ كَذَا، وَسُورَةُ كَذَا، وَسُورَةُ كَذَا – عَدَّهَا –

اس نے جواب دیا مجھے فلاں فلاں سورتیں یاد ہیں، ان سورتوں کو شمار کرکے تعداد بھی بتائی

 قَالَ: أَتَقْرَؤُهُنَّ عَنْ ظَهْرِ قَلْبِكَ؟

آپ نے فرمایا کیا وہ تجھے حفظ ہیں ؟

قَالَ: نَعَمْ،

اس نے جواب دیا ہاں !

 قَالَ: اذْهَبْ فَقَدْ مَلَّكْتُكَهَا بِمَا مَعَكَ مِنَ القُرْآنِ

آپ نے فرمایا جا میں نے تجھے قرآن شریف حفظ کرنے کی وجہ سے اس کا مالک بنادیا

( دوسری روایات میں ہے کہ میں نے تیرا نکاح اس سے کردیا )

کیا اس حدیث کو پڑھ جانے کے بعد یہ خیال تک گزرتا ہے کہ اس حدیث  سے دینی اجرت ثابت ہوتی ہے ؟ یہ تو محض یہ دینی سوداگر ہیں جنہیں ہر چیز سے  دین پر کمائی دکھائی دے جاتی ہے۔ افسوس خود بھی گمراہ ہوئے اور دوسروں کو بھی گمراہ کر رہے ہیں۔

عمر ؓ پر دینی امور پر اجرت دینے کا   الزام :

عمر ؓ پر الزام لگایا جاتا ہے کہ انہوں نے  دینی امور پر  وظائف کی صورت میں اجرت دی۔ گویا  یہ عمر ؓ پر الزام لگاتے ہیں کہ نعوذوباللہ وہ کام جسے کتاب اللہ نے جہنم کی آگ قرار دیا، جس سے نبیﷺ نے  منع فرمایا اور جو کام ابوبکر صدیق ؓ نےنہیں کیا یعنی وہ کام جو اسلام میں تھا ہی نہیں نعوذوباللہ من ذالک عمر ؓ نے کیا۔

نبی ﷺ نے عمر ؓ کی بابت یہ فرمایا کہ جس راہ پر عمر ؓ چلتے ہین شیطان وہ راہ چھوڑ کر دوسری طرف چلا جاتا ہے، یعنی عمر ؓ اس قدر سختی سے اسلام پر چلنے والے ہیں۔  لیکن ان  کا ظرف دیکھیں کہ اس ہستی کے متعلق بلا کسی ثبوت یہ بات کہہ دی گئی۔ حدیث کی کسی بھی کتاب میں ایسا ہر گز نہیں ملتا بلکہ  وظائف کا ذکر ملتا ہے جو عمر ؓ نے ہر ہر مسلم کو دئیے تھے۔

حقیقت یہ ہے کہ عمر ؓ کے زمانے میں بے انتہا فتوحات ہوئیں، کفار کے بے شمار علاقے فتح ہو کر اسلامی مملکت میں شامل ہوتے رہے اور ان سے حاصل ہونے والے مال غنیمت اور دوسری مدات کی آمدنی کے مسجد نبوی میں ڈھیر لگے رہتے تھے۔ اور عمر ؓ اس سارے مال کو ساری مملکت میں تقسیم کرنے پر اتنے پرعزم تھے کہ فرماتے تھے۔

لَوْلَا آخِرُ الْمُسْلِمِينَ مَا فَتَحْتُ قَرْيَةً إِلَّا قَسَمْتُهَا بَيْنَ أَهْلِهَا کَمَا قَسَمَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْبَرَ

(بخاری کتاب الجہادوالسیر باب الغنیمۃ)

“اگر دوسرے مسلمین کا خیال نہ ہوتا تو جو بستی میں فتح کرتا اس کو لوگوں میں تقسیم کردیتا جیسا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کو تقسیم کردیا تھا”۔

آپ نے اس مال غنیمت کی مملکت کے لوگوں میں تقسیم کے مختلف معیار مقرر کیے ہوئے تھے جس کا اندازہ ذیل کی روایات سے ہوتا ہے۔

كَانَ عَطَاءُ الْبَدْرِيِّينَ خَمْسَةَ آلَافٍ , خَمْسَةَ آلَافٍ ، وَقَالَ عُمَرُ :    لَأُفَضِّلَنَّهُمْ عَلَى مَنْ بَعْدَهُمْ    .

( بخاری، کتاب المغازی )

’’بدری صحابہ کا  ( سالانہ )  وظیفہ پانچ پانچ ہزار تھا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں انہیں  ( بدری صحابہ کو )  ان صحابیوں پر فضیلت دوں گا جو ان کے بعد ایمان لائے‘‘۔

عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : كَانَ فَرَضَ لِلْمُهَاجِرِينَ الْأَوَّلِينَ أَرْبَعَةَ آلَافٍ فِي أَرْبَعَةٍ , وَفَرَضَ لِابْنِ عُمَرَ ثَلَاثَةَ آلَافٍ وَخَمْسَ مِائَةٍ ، فَقِيلَ لَهُ : هُوَ مِنْ الْمُهَاجِرِينَ فَلِمَ نَقَصْتَهُ مِنْ أَرْبَعَةِ آلَافٍ ، فَقَالَ : إِنَّمَا هَاجَرَ بِهِ أَبَوَاهُ ، يَقُولُ : لَيْسَ هُوَ كَمَنْ هَاجَرَ بِنَفْسِهِ    .

( بخاری، کتاب المناقب الانصار ، بَابُ هِجْرَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابِهِ إِلَى المَدِينَةِ )

’’ ابن عمر ؓ  نے کہا آپ ( عمر ؓ )  نے تمام مہاجرین اولین کا وظیفہ  ( اپنے عہد خلافت میں )  چار چار ہزار چار چار قسطوں میں مقرر کر دیا تھا، لیکن عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا وظیفہ چار قسطوں میں ساڑھے تین ہزار تھا اس پر ان سے پوچھا گیا کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بھی مہاجرین میں سے ہیں۔ پھر آپ انہیں چار ہزار سے کم کیوں دیتے ہیں؟ تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ انہیں ان کے والدین ہجرت کر کے یہاں لائے تھے۔ اس لیے وہ ان مہاجرین کے برابر نہیں ہو سکتے جنہوں نے خود ہجرت کی تھی‘‘۔

 ایک موقع پر عمر ؓ نے فرمایا :

لَئِنْ سَلَّمَنِي اللَّهُ، لَأَدَعَنَّ أَرَامِلَ أَهْلِ العِرَاقِ لاَ يَحْتَجْنَ إِلَى رَجُلٍ بَعْدِي أَبَدًا

( بخاری،  کتاب اصحاب النبی ﷺ، بَابُ قِصَّةِ البَيْعَةِ، وَالِاتِّفَاقِ عَلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ وَفِيهِ مَقْتَلُ عُمَرَ بْنِ الخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا )

’’اگر اللہ تعالیٰ نے مجھے سلامت رکھا تو میں اہل عراق کی بیوہ عورتوں کو اتنا خوش حال کر دوں گا کہ میرے بعد وہ کسی کی محتاج نہ رہیں گی ۔‘‘

عن ابن عمر قال: قدمت رفقة من التجار، فنزلوا المصلى، فقال عمر لعبد الرحمن بن عوف: هل لك أن نحرسهم الليلة من السرق فباتا يحرسانهم، ويصليان ما كتب الله لهما فسمع عمر بكاء صبى فتوجه نحوه، فقال لأمه: اتقى الله وأحسنى إلى صبيك، ثم عاد إلى مكانه فسمع بكاءه، فعاد إلى أمه، فقال لها: مثل ذلك، ثم عاد إلى مكانه، فلما كان فى آخر الليل سمع بكاءه، فأتى أمه، فقال: ويحك إنى لأراك أم سوء، مالى أرى ابنك لا يقر منذ الليلة قالت: يا عبد الله قد أبرمتنى منذ الليلة إنى أريغه عن الفطام فيأبى، قال: ولم قالت: لأن عمر لا يفرض إلا للفطيم، قال: وكم له قالت: كذا وكذا شهرا، قال: ويحك لا تعجليه، فصلى الفجر وما يستبين الناس قراءته من غلبة البكاء فلما سلم قال: يا بؤسا لعمر كم قتل من أولاد المسلمين، ثم أمر مناديا فنادى ألا لا تعجلوا صبيانكم عن الفطام، فإنا نفرض لكل مولود فى الإسلام وكتب بذلك إلى الآفاق: إنا

( جامع  الاحادیث ،  مسند العشرہ ،  مسند  عمر بن الخطاب ؓ )

’’ ابن عمر ؓ فرماتے ہیں کہ چند تاجردوست آئے اور معلی میں ٹھہرے، تو عمر ؓ نے عبدالرحمن بن عوف ؓ سے فرمایا کہ کیا خیال ہے ؟ کیا آج رات ہم ان کو چوری سے بچانے کے لیے ان کی چوکیداری کریں ؟ چنانچہ دونوں نے ان  کی پہرے داری کرتے ہوئے رات گزاری اور صلوٰۃ ادا کرتے  رہے جتنی اللہ نے ان کے نصیب میں لکھی تھی، اتنے میں عمر ؓ نے ایک بچے کی رونے کی آواز سنی تو اس کی طرف متوجہ ہوگئے اور اس کی ماں سے کہا کہ اللہ سے ڈر اور اپنے بچے کے ساتھ اچھا معاملہ کر یہ کہہ کر واپس آگئے، پھر بچے کے رونے کی آواز سنی، اس کی مان کے پاس واپس آئے اور اس سے اسی طرح کہا، اور اپنی جگہ واپس آگئے، رات کے آخری پہر انھوں نے پھر بچے کی رونے کی آوازسنی تو اس کی ماں کے پاس واپس آئے اور فرمایا کہ تو برباد ہو، میرے خیال میں تو اچھی ماں نہیں ہے، بھلا کیا مسلہ ہے کہ رات بھرتیرا بچہ بےچین رہا ہے ، وہ کہنے لگی کہ اے اللہ کے بندے ! میں رات سے پریشان ہوں کیونکہ میں اس کا دودھ چھڑانا چاہتی ہوں اور یہ انکار کرتا ہے، عمر ؓ نے نے دریافت فرمایا کیوں ؟ کہنے لگی اس لیے کہ عمر ؓ اسی بچے کے لیے وظیفہ مقرر کرتے ہیں جس کا دودھ چھڑایا جاچکا ہو، پھر پوچھا کہ اس کا کتنا ہوگا ؟ عورت نے فرمایا کہ اتنا اتنا ماہوار۔ فرمایا تو برباد ہو جلدی مت کر، پھر فجر کی صلوٰۃ پڑھائی، اور اسی صلوٰۃ  میں اتنا رو رہے تھے کہ لوگ ٹھیک سے آواز نہ سن پا رہے تھے، سو جب سلام پھیرا تو فرمایا کہ ہائے تمہارے عمر کی بربادی، مسلمین کے بچے قتل کردئیے، پھر اعلان کرنے والے کو حکم دیاتو اس نے اعلان کیا کہ اپنے بچوں کو دودھ چھوڑانے میں جلدی نہ کروہم ہرنومولود مسلم بچے کے لیے وظیفہ مقرر کردیتے ہیں، اور یہ حکم تمام ممالک اسلامیہ میں پہنچادیا کہ مسلمین کے ہر پیدا ہونے والے بچے کا وظیفہ مقرر کیا جائے گا ‘‘۔ (ابن سعد اور ابوعبید فی الاموال)

مندرجہ ذیل روایت سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ  پھر پیدا ہونے والے بچے کا بھی وظیفہ مقرر کردیا گیا۔

عن أبي قبيل  قال: كان الناس في زمن عمر بن الخطاب إذا ولد المولد فرض له في عشرة، فإذا بلغ أن يفرض ألحق به. “أبو عبيد”.

( کنز العمال، حرف جیم ، باب احکام الجھاد، الأرزاق والعطايا )

’’ابو قبیل فرماتے ہیں عمرؓ کے زمانے میں جب کوئی بچہ پیدا ہوتا تھا تو اس کے لیے دس تک وظیفہ مقرر ہوتا اور جب وہ بالغ ہوجاتا تو بڑوں والاوظیفہ ملتا “۔ (ابوعبید)

مندرجہ بالا روایات میں واضح ہے کہ عمر ؓ کی طرف سے دئیے جانے والے  وظائف کی بنیاد  کسی بھی طور امامت، تعلیم القرآن یا مؤذن کے لئے نہیں تھیں بلکہ پیدا ہونے والے بچے تک کے لئے وظیفہ مقرر تھا۔ عمڑ ؓ پر جھوٹا الزام لگانے والےکتن حادیث سے ایک روایت تو پیش کرتے کہ کس امام، کس مؤذن یا معلم  کو اس کے اس فعل کی بنیاد پر اجرت دی گئی۔ مزید یہ کہ خود امامت کرنے والے کا یہ حال تھا کہ جب زخمی ہوئے ہیں تو اپنے بیٹے سے کہتے ہیں :

يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، انْظُرْ مَا عَلَيَّ مِنَ الدَّيْنِ، فَحَسَبُوهُ فَوَجَدُوهُ سِتَّةً وَثَمَانِينَ أَلْفًا أَوْ نَحْوَهُ، قَالَ: إِنْ وَفَى لَهُ، مَالُ آلِ عُمَرَ فَأَدِّهِ مِنْ أَمْوَالِهِمْ، وَإِلَّا فَسَلْ فِي بَنِي عَدِيِّ بْنِ كَعْبٍ، فَإِنْ لَمْ تَفِ أَمْوَالُهُمْ فَسَلْ فِي قُرَيْشٍ، وَلاَ تَعْدُهُمْ إِلَى غَيْرِهِمْ

( بخاری،  کتاب اصحاب النبی ﷺ، بَابُ قِصَّةِ البَيْعَةِ، وَالِاتِّفَاقِ عَلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ وَفِيهِ مَقْتَلُ عُمَرَ بْنِ الخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا )

’’ اے ! عبداللہ دیکھو مجھ پر لوگوں کا کتنا قرض ہے ؟ لوگوں نے حساب لگایا، تو تقریبا چھیاسی ہزار قرضہ تھا، فرمایا اگر اس قرض کی ادائیگی کے لیے عمر کی اولاد کا مال کافی ہو تو انهی کے مال سے اسے ادا کرنا، وگر نہ پھر بنی عدی بن کعب ؓ سے مانگنا اگر ان کا مال بھی ناکافی ہو تو قریش سے طلب کرلینا، اس کے علاوہ کسی سے نہ لینا ‘‘۔

اللہ اکبر ! یہ حال تھا اتنی بڑی سلطنت کے خلیفہ کا۔ ان کا قول ملتا ہے کہ:

انی انزلت مال اﷲ منی بمنزلہ مال الیتیم فان استغینت عففت عنہ وان افتقرت اکلت بالمعروف 


( طبقات لابن سعد: جز ۱۰،صفحہ ۲۷۶)

’’ میں نے اﷲ کے مال (بیت المال) میں اپنا حق ویسا ہی رکھا ہے جیسا کہ یتیم کے ولی کو یتیم کے مال میں ہوتا ہے۔ اگر میں غنی ہوں گا تو اس میں سے کچھ نہ لوں گا اور ضرورت مندی کی حالت میں معروف کے مطابق ہی لوں گا‘‘۔

عمر ؓ پر بدترین الزام لگانے والے ان کی سیرت سے زندگی گزارنے کا طریقہ سیکھیں۔

 اللہ انہیں ہدایت دے یہ دین کا کام دنیا کمانے کے لئے نہیں اللہ کی رضا کے لئےکریں۔

Categories
Urdu Articles

زیارت قبر نبوی ﷺ کی روایات

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

إِنَّ الْحَمْدَ لِلَّهِ، نَحْمَدُهُ وَنَسْتَعِينُهُ، مَنْ يَهْدِهِ اللهُ فَلَا مُضِلَّ لَهُ، وَمَنْ يُضْلِلْ فَلَا هَادِيَ لَهُ، وَأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، أَمَّا بَعْدُ

نبیﷺ نے فرمایا :

عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ: «لَعَنَ اللَّهُ اليَهُودَ وَالنَّصَارَى، اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسْجِدًا»، قَالَتْ: وَلَوْلاَ ذَلِكَ لَأَبْرَزُوا قَبْرَهُ غَيْرَ أَنِّي أَخْشَى أَنْ يُتَّخَذَ مَسْجِدًا

( بخاری، کتاب الجنائز، بَابُ مَا يُكْرَهُ مِنَ اتِّخَاذِ المَسَاجِدِ عَلَى القُبُورِ )

’’عائشہ ؓ سے روایت کرتی ہیں کہ نبی ﷺ نے جس مرض میں وفات پائی، اس میں فرمایا کہ اللہ یہود و نصاری پر لعنت کرے انہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کوعبادت گاہ بنالیا۔ عائشہ ؓنے بیان کیا کہ اگر ایسا نہ ہوتا تو آپ کی قبر ظاہر کردی جاتی، مگر مجھے ڈر ہے کہ کہیں عبادت گاہ نہ بنالی جائے‘‘۔

أَلَا وَإِنَّ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ كَانُوا يَتَّخِذُونَ قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ وَصَالِحِيهِمْ مَسَاجِدَ، أَلَا فَلَا تَتَّخِذُوا الْقُبُورَ مَسَاجِدَ، إِنِّي أَنْهَاكُمْ عَنْ ذَلِكَ

( مسلم ، کتاب المساجد و مواضع الصلاۃ ، بَابُ النَّهْيِ عَنْ بِنَاءِ الْمَسَاجِدِ، عَلَى الْقُبُورِ وَاتِّخَاذِ الصُّوَرِ فِيهَا وَالنَّهْيِ عَنِ اتِّخَاذِ الْقُبُورِ مَسَاجِدَ )

’’آگاہ ہوجاؤ کہ تم سے پہلے لوگوں نے اپنے نبیوں اور نیک لوگوں کی قبروں کو عبادت گاہ بنا لیا تھا تم قبروں کو عبادت گاہ نہ بنانا میں تمہیں اس سے روکتا ہوں‘‘۔

قبروں کو عبادت گاہ بنا لینا سے مراد قبروں کی زیارت کرنا انہیں پوچنا ہے۔نبیﷺ کی وفات ان کی قبر کی زیارت کرنے کا کوئی تصور ہی نہیں تھا۔ نبیﷺ کی قبر تو عائشہ ؓ کے گھر میں تھی۔ عائشہ ؓ فرماتی ہیں :

وَلَوْلاَ ذَلِكَ لَأَبْرَزُوا قَبْرَهُ غَيْرَ أَنِّي أَخْشَى أَنْ يُتَّخَذَ مَسْجِدًا

( بخاری، کتاب الجنائز، بَابُ مَا يُكْرَهُ مِنَ اتِّخَاذِ المَسَاجِدِ عَلَى القُبُورِ )

’’اگر ایسا نہ ہوتا تو ان  ( نبی ﷺ ) کی قبر ظاہر کردی جاتی، مگر مجھے ڈر ہے کہ کہیں عبادت گاہ نہ بنالی جائے‘‘۔

بعد میں جب دین سے دوری ہوئی اور قبروں کو پوچا جانے لگا تو نبیﷺ کی قبر کی زیارت کی روایات بھی گھڑی گئیں۔الحمد للہ اسماء الرجال کے علم کے ذریعے محدثین نے ان روایات کی حقیقت کھول کر رکھ دی۔ اس مضمون میں ہم ایسی ہی روایات پر محدیثن کے بیانات پیش کر رہے ہیں۔

1۔ 

من حج إلى مكة ثم قصدني في مسجدي كتبت له حجتان مبرورتان.الديلمي عن ابن عباس

(کنز العمال 5/135 )

“جس نے مکہ کا حج کیا پھر میری مسجد کا قصد کیا اس کے لئے دو قبول شدہ حج لکھے جائیں گے”۔

اس کی سند اس  طرح سے ہے:

حدثنا أبو الحسن حامد بن حماد بن المبارك السر من رائي بنصيبين، حدثنا أبو يعقوب إسحاق بن سيار بن محمد النصيبي، حدثنا أسيد بن زيد، حدثنا عيسى بن بشير عن محمد بن عمرو عن عطاء، عن ابن عباس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم۔۔۔۔۔

یہ روایت موضوع ہے ۔

اس کا  راوی “اسید بن زید” شدید مجروح ہے۔

ابن معین نے اسکو کذاب کہا۔ (میزان الاعتدال 1/257)

نسائی نے اسکو متروک الحدیث کہا۔

( الضعفاء والمتروكين للنسائي ص55 الطبعة المحققة طبعة مؤسسة الكتب الثقافية.)

ابن حبان نے کہا :

يروي عن شريك والليث بن سعد وغيرهما من الثقات المناكير (المجروحين 1/171.)

یہ شریک و لیث وغیرہ جیسے ثقات سے منکر روایات بیان کرتا ہے ۔

ابن عدی نے کہا:

يتبين على روايته الضعف، وعامة ما يرويه لا يتابع عليه (الكامل لابن عدي 1/391 – 392.)

“اسکی روایات کا ضعف واضح ہے اور اس کی عمومی روایات کی کوئی متابعت نہیں کرتا”۔

ابن ماکولا نے اسے ضعیف کہا۔  (الإكمال لابن ماكولا 1/55)

اس روایت  کا ایک اور  راوی “عیسیٰ بن بشیر” غیر معروف ہے ۔

ذہبی اس کے ترجمہ میں لکھتے ہیں:

لا يدري من ذا، وأتى بخبر باطل،   ” نہیں جانتا کہ یہ کون ہے؟ یہ ایک باطل خبر لایا ہے  “۔

یہ کہہ کر ذہبی نے اس روایت کو پیش کیا:

فقال إسحاق ابن سيار النصيبى: حدثنا أسيد بن زيد الجمال، حدثنا عيسى بن بشير، عن محمد بن عمرو، عن عطاء، عن ابن عباس – يرفعه: من حج ثم قصدني في مسجدي كتبت له حجتان مبرورتان.

پھر کہا:

تفرد به أسيد، وهو ضعيف ولا يحتمله.   “اس میں اسید کا تفرد ہے اور وہ ضعیف ہے “۔   (میزان الاعتدال 3/310)

  ” مَنْ حَجَّ فَزَارَ قَبْرِي بَعْدَ وَفَاتِي فَكَأَنَّمَا زَارَنِي فِي حَيَاتِي “

“جس نے حج کیا پھر اس نے میری موت کے بعد میری قبر کی زیارت کی وہ ایسے ہے جیسے اس نے میری زندگی میں میری زیارت کی “۔

اس کو  دارقطنی نے (سنن دارقطنی  2/278) میں، بیہقی نے (سنن الکبریٰ 5/245)  اور (شعب الایمان  3/489) میں، طبرانی نے (المعجم الکبیر 12/406 ،  المعجم الاوسط  287، 3376) میں،الفاکھی نے (اخبار مکۃ  1/435) میں، الجوزی نے (مثیر الغرام  2/295) میں،

“حفص بن سليمان أبي عمر عن الليث بن أبي سليم عن مجاهد عن عبد الله بن عمر مرفوعا”کے طریق سے نقل کیا ہے۔

یہ روایت موضوع ہے۔

اس کا راوی  “حفص بن سلیمان ” متھم بالوضع ہے۔

ابن حجر نے کہا:

متروك الحديث ”   متروک الحدیث ہے”۔ (تقریب 1405)

ابن معین نے کہا:

ليس بثقة.  “ثقہ نہیں ہے”۔

ليس بشئ.  “یہ کوئی شے نہیں”۔

بخاری نے اسے متروک کہا۔  وقال البخاري: تركوه.

ابوحاتم نے اسے متروک کہا:

وقال أبو حاتم: متروك لا يصدق.

ابن خراش نے کہا:

وقال ابن خراش: كذاب يضع الحديث.    “کذاب ہے، حدیثیں وضع کرتا ہے”۔

ابن عدی نے کہا:  

وقال ابن عدي: عامة أحاديثه غير محفوظة.  “اسکی روایات غیر محفوظ ہوتیں ہیں”۔

ابن حبان نے کہا اسناد کو خلط ملط کرتا ہے ، لوگوں سے کتب لے کر بغیر سماع کے روایات بیان کرتا ہے:

وقال ابن حبان: يقلب الأسانيد، ويرفع المراسيل، وكان يأخذ كتب الناس فينسخها ويرويها من غير سماع.

(میزان الاعتدال 1/558)

نسائی نے کہا:

ليس بثقة ولا يكتب حديثه، وقال مرة: متروك الحديث

“ثقہ نہیں ہے اور اس کی حدیث نہ لکھی جائے، پھر کہا متروک الحدیث ہے”۔

 ( الضعفاء والمتروكين للنسائي ص82.)

دارقطنی نے اسے ضعیف کہا۔  (الضعفاء والمتروكين للدارقطني ص185)

اس کے دوسرے راوی “لیث بن ابی سلیم ” میں بھی ضعف  وحافظے کی خرابی ہے۔

محمد بن طاہر المقدسی نے اس روایت کو نقل کرکے کہا:

وحفص هذا هو ابن سليمان الغاضري القارئ ، متروك الحديث .

(ذخیرۃ الحفاظ 4/2261)

“اور حفص (اس روایت کا راوی) متروک الحدیث ہے”۔

بیہقی نے اس روایت کو نقل کر کے کہا:

تفرد به حفص وهو ضعيف

“اس میں حفص کا تفرد ہے اور وہ ضعیف ہے”۔

    مَنْ حَجَّ الْبَيْتَ وَلَمْ يَزُرْنِي فَقَدْ جَفَانِي

“جس نے بیت اللہ کا حج کیا اور میری  (قبر کی)  زیارت نہ کی تو اس نے مجھ سے بے رخی برتی “۔

یہ روایت بھی موضوع ہے۔

ابن حجر لکھتے ہیں:

وَرَوَاهُ الْخَطِيبُ فِي الرُّوَاةِ عَنْ مَالِكٍ فِي تَرْجَمَةِ النُّعْمَانِ بْنِ شِبْلٍ، وَقَالَ: إنَّهُ تَفَرَّدَ بِهِ عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ بِلَفْظِ: «مَنْ حَجَّ وَلَمْ يَزُرْنِي فَقَدْ جَفَانِي» . وَذَكَرَهُ ابْنُ عَدِيٍّ، وَابْنُ حِبَّانَ فِي تَرْجَمَةِ النُّعْمَانِ، وَالنُّعْمَانُ ضَعِيفٌ جِدًّا، وَقَالَ الدَّارَقُطْنِيُّ: الطَّعْنُ فِي هَذَا الْحَدِيثِ عَلَى ابْنِهِ لَا عَلَى النُّعْمَانِ،

(تلخیص الحبیر 2/509)

“اس کو خطیب نے نعمان بن شبل کے ترجمہ میں اسکی عن مالک سے روایات میں روایت کیا ہے اور کہا: کہ یہ اس کا عن مالک عن نافع عن ابن عمر اس ان الفاظ “جس نے حج کی اور میری زیارت نہ کی تو اس نے مجھ سے بے رخی برتی” کے ساتھ تفرد ہےاور اسکو ابن عدی اور ابن حبان نے نعمان کے ترجمہ میں ذکر کیا ، اور نعمان ضعیف ہے اور دارقطنی نے کہا: اس روایت کا اصل طعن ابن نعمان (محمد بن محمد بن نعمان)  پر ہے نہ کہ نعمان پر “۔

ذہبی نے اسکو موضوعات میں لکھا ہے:

حديث من حج ولم يزرني فقد جفاني وضع على مالك عن نافع عن ابن عمر آفته محمد بن محمد بن النعمان بن شبل عن جده عن مالك

(تلخیص کتاب الموضوعات للذہبی 1/211)

“اسکو مالک عن نافع عن ابن عمر سے وضع کیا گیا ، اس روایت کی مصیبت محمدبن محمد النعمان بن شبل عن جدہ عن مالک ہے”۔

ابن حبان نے نعمان بن شبل کے ترجمہ میں لکھا:

يَأْتِي عَن الثِّقَات بالطامات وَعَن الْأَثْبَات بالمقلوبات

“نعمان بن شبل ثقہ و ثبت راویوں سے مصائب آمیز اور مقلوب روایتیں بیان کرتا ہے “

یہ کہہ کر ابن حبان نے اس روایت کو نقل کیا:

رَوَى عَنْ مَالِكٍ عَنْ نَافِعٍ عَن بن عُمَر قَالَ قَالَ رَسُول الله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ حَجَّ الْبَيْتَ وَلَمْ يَزُرْنِي فَقَدْ جَفَانِي أَخْبَرَنَاهُ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ بِهَمْدَانَ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَحْمُود بْنِ النُّعْمَانِ بْنِ شِبْلٍ أَبُو شِبْلٍ قَالَ حَدَّثَنَا جَدِّي قَالَ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ نَافِعٍ عَنِ بن عمر رَضِي الله عَنهُ

(المجروحین للحبان 3/73)

دارقطنی نے نعمان کے ترجمہ میں اس روایت کو ذکر کر کے کہا:

هَذَا حَدِيثٌ غَيْرُ مَحْفُوظٍ، عَنِ النُّعْمَانِ إِلا مِنْ رِوَايَةِ ابْنِ ابْنِهِ عَنْهُ، وَالطَّعْنُ فِيهِ عَلَيْهِ، لَا عَلَى النُّعْمَانِ

(تعلیقات الدارقطنی علی المجروحین 1/272)

“یہ حدیث غیر محفوظ ہے نعمان سے یہ روایت صرف اسکا بیٹا بیان کرتا ہے اور اصل میں طعن اسی میں ہے نہ کہ نعمان پر”۔

یعنی دارقطنی کے مطابق اس روایت کے وضع کا طعن “محمد بن محمد بن نعمان” پر ہے۔

ابن تیمیہ نے کہا:

كَذِبٌ فَإِنَّ جَفَاءَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَرَامٌ وَزِيَارَةُ قَبْرِهِ لَيْسَتْ وَاجِبَةً بِاتِّفَاقِ الْمُسْلِمِينَ

(المجموع الفتاویٰ 18/342)

“یہ روایت جھوٹ ہے کیونکہ نبی ﷺ سے بے رخی حرام ہے ، اور آپﷺ کی قبر کی زیارت واجب نہیں اس پر مسلمین کا اتفاق ہے”۔

ابن تیمیہ نے اس روایت ، اور زیارت قبور سے متعلق اسی طرح کی چند روایات کو نقل کر کے کہا:

هذه الأحاديث كلها مكذوبة موضوعة

(اقتضاء الصراط 1/401)

“یہ احادیث تمام کی تمام جھوٹی اور موضوع ہیں”۔

مزید کہا:

لم يروه أحد من أهل العلم بالحديث، بل هو موضوع على رسول الله صلّى الله عليه وسلّم، ومعناه مخالف الإجماع، فإن جفاه  الرسول صلّى الله عليه وسلّم من الكبائر، بل هو كفر ونفاق… وأما زيارته فليست واجبة باتفاق المسلمين).

(دعاوی المناوئین 1/245)

“اس روایت کو حدیث کے کسی اہل علم نے روایت نہیں کیا، بلکہ یہ موضوع ہے اور اس کے معنی اجماع کے مخالف ہیں کیونکہ آپﷺ سے بے رخی کبیرہ گناہوں میں سے ہے بلکہ کفرو نفاق ہے اور آپ ﷺ کی (قبر کی) زیارت واجب نہیں اس پر مسلمین کا اتفاق ہے”۔

ابن جوزی نے اسکا ذکر موضوعات میں کرنے کے بعد مذکورہ بالا ابن حبان اور دارقطنی کے اقوال نقل کئے۔

” من حج البيت ولم يزرني فقد جفاني “.

قال ابن حبان:

” النعمان يأتي عن الثقاة بالطامات.

وقال الدارقطني: الطعن في هذا الحديث من محمد بن محمد لا من النعمان.

(الموضوعات لابن الجوزی 2/217)

محمد بن طاھر المقدسی نے اسکا ذکر موضوعات میں کیا:

من حج البيت ولم يزرني فقد جفاني

 (معرفۃ التذکرۃ فی الاحادیث الموضوعۃ  1/128)

زرقانی نے اسکو نقل کر کے کہا:

ولا يصح. “یہ روایت صحیح نہیں”۔

(شرح الزرقانی علی المواھب اللدنیۃ 12/181)

یہی بات سخاوی نے اس کو نقل کر کے کہی :    (المقاصد الحسنۃ 1/669)

الصغانی نے اسکا ذکر موضوعات میں کہا۔   (الموضوعات 1/43)

شوکانی نے اسکا ذکر موضوعات میں کیا۔  (الفوائد المجموعۃ 1/118)

محمد طاهر بن علي الصديقي الهندي الفَتَّنِي (المتوفى: 986ھ)  اسکو موضوعات میں ذکر کیا۔  (تذکرۃ الموضوعات 1/76)

ان روایات کے بارے میں محدثین کے اقوال سے ثابت ہوتا ہے کہ زیارت قبر نبویﷺ کی روایات سنداً صحیح نہیں بلکہ یہ سب ضعیف روایات ہیں۔

Categories
Urdu Articles

مردے نہیں سنتے

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

إِنَّ الْحَمْدَ لِلَّهِ، نَحْمَدُهُ وَنَسْتَعِينُهُ، مَنْ يَهْدِهِ اللهُ فَلَا مُضِلَّ لَهُ، وَمَنْ يُضْلِلْ فَلَا هَادِيَ لَهُ، وَأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، أَمَّا بَعْدُ

اِنَّمَا يَسْتَجِيْبُ الَّذِيْنَ يَسْمَعُوْنَ١ؔؕ وَ الْمَوْتٰى يَبْعَثُهُمُ اللّٰهُ ثُمَّ اِلَيْهِ يُرْجَعُوْنَؐ۰۰۳۶

( الانعام : 36 )

’’بےشک قبول تو وہی کرتے ہیں جو سنتے ہیں اور رہے مردے، اللہ انہیں زندہ کر کے اٹھائے گا پھر سب اللہ ہی کی طرف لائے جائیں گے۔‘‘

کیسا نادان ہے یہ کلمہ گو کہ قرآن و حدیث کو چھوڑ کر ان کہانیوں کے پیچھے پڑ گیا جو عقل بھی قبول نہیں کرتیں۔ اس کے سامنے کوئی مر جاتا ہے تو جان لیتا ہے کہ یہ مردہ اب بے حس ہو گیا ہے نہ سن سکتا ہے، نہ دیکھ سکتا اور نہ ہی بول سکتا ہے۔ لوگ اس کے کپڑے اتارتے ، اسے غسل دیتے اور کفن دیکر اپنے کاندھوں پر اٹھا کر اس قبرستان میں دفن کر آتے ہیں، کیونکہ انہیں معلوم ہوتا ہے کہ اب یہ مردہ جسم سڑگلنا شروع ہو جائے گا اور بدبو  پھیل جائے گی۔ یہ مردہ اپنے لئے دعا بھی نہیں کرسکتا اس لئے سب ملکر اس کے لئے دعا بھی کرتے ہیں۔ لیکن جب قبر میں دفن ہوگیا تو کہتے ہیں کہ اب یہ سنتا ہے، دیکھتا اور جانتا ہے، لوگوں کی سن کر اللہ کے آگے رکھتا اور اللہ سے منوا لیتا ہے۔

اگر قرآن و حدیث سے ان عقائد کا موازنہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ عقیدہ تو ہے ہی خلاف قرآن۔ قرآن تو بتاتا ہے کہ اب یہ ختم ہوجانے والی زندگی صرف قیامت کے دن بحال ہوگی۔

ثُمَّ اِنَّكُمْ بَعْدَ ذٰلِكَ لَمَيِّتُوْنَؕ۰۰۱۵ثُمَّ اِنَّكُمْ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ تُبْعَثُوْنَ۰۰۱۶

( سورہ المومنون 15/16 )

’’ پھر اس ( زندگی )کے بعد تمہیں موت آ جائے گی پھر تم قیامت کے دن زندہ کر کے اٹھائے جاوگے ‘‘۔

سورہ نحل میں فرمایا:

اَمْوَاتٌ غَيْرُ اَحْيَآءٍ١ۚ وَ مَا يَشْعُرُوْنَ١ۙ اَيَّانَ يُبْعَثُوْنَؒ۰۰۲۱

( النحل : 21 )

’’ مردہ ہیں، زندگی کی رمق نہیں، نہیں شعور رکھتے کہ کب اٹھائے جائیں گے‘‘۔

قرآن مجید میں واضح کردیا گیا مرا ہوا یہ شخص جس کاجسم مردہ ہو چکا ہے یہ کسی قسم کا شعور ہی نہیں رکھتا۔ اللہ تعالیٰ نے  مردہ انسانی جسم کو زندہ انسانی جسم کا ضد قرار دیا ہے :

وَ مَا يَسْتَوِي الْاَعْمٰى وَ الْبَصِيْرُۙ۰۰۱۹وَ لَا الظُّلُمٰتُ وَ لَا النُّوْرُۙ۰۰۲۰وَ لَا الظِّلُّ وَ لَا الْحَرُوْرُۚ۰۰۲۱وَ مَا يَسْتَوِي الْاَحْيَآءُ وَ لَا الْاَمْوَاتُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ يُسْمِعُ مَنْ يَّشَآءُ١ۚ وَ مَاۤ اَنْتَ بِمُسْمِعٍ مَّنْ فِي الْقُبُوْرِ۰۰۲۲

( فاطر: 19/22)

’’ اور نہیں ہے برابر اندھا اور دیکھنے والا، اور نہ ہی تاریکی اور روشنی، اور نہ سایہ اور یہ دھوپ، اور نہیں ہے برابر زندہ مردہ کے، بے شک اللہ جسے چاہتا سناتا ہے اور آپ ( محمد ﷺ ) انہیں نہیں سنا سکتے جو قبروں میں دفن ہیں۔‘‘

بتایا کہ جس طرح دیکھنے والا اندھے کی ضد ہے، تاریکی روشنی کی اور سایہ دھوپ کی ضد ہے اسی طرح مردہ زندہ کی ضد ہے۔ زندہ سنتا ہے، دیکھتا ہے بولتا ہے اور ہر قسم کا شعور رکھتا ہے مردہ اس کی ضد ہے نہ سنتا ہے نہ بولتا ہے اور نہ ہی کوئی شعور رکھتا ہے۔

اللہ تعالیٰ مزید فرماتا ہے :

اِنَّمَا يَسْتَجِيْبُ الَّذِيْنَ يَسْمَعُوْنَ١ؔؕ وَ الْمَوْتٰى يَبْعَثُهُمُ اللّٰهُ ثُمَّ اِلَيْهِ يُرْجَعُوْنَؐ۰۰۳۶

( الانعام : 36 )

’’بےشک قبول تو وہی کرتے ہیں جو سنتے ہیں اور رہے مردے، اللہ انہیں زندہ کر کے اٹھائے گا پھر سب اللہ ہی کی طرف لائے جائیں گے۔‘‘

اِنَّكَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتٰى وَ لَا تُسْمِعُ الصُّمَّ الدُّعَآءَ اِذَا وَلَّوْا مُدْبِرِيْنَ۰۰۸۰

( سورہ النمل : 80 )

’’ بے شک آپ مردوں کو نہیں سنا سکتے اور نہ ہی بہروں کو جب وہ پیٹھ پھیر کر بھاگ رہے ہوں۔‘‘

وَ الَّذِيْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ مَا يَمْلِكُوْنَ مِنْ قِطْمِيْرٍؕاِنْ تَدْعُوْهُمْ لَا يَسْمَعُوْا دُعَآءَكُمْ١ۚ وَ لَوْ سَمِعُوْا مَا اسْتَجَابُوْا لَكُمْ١ؕ وَ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ يَكْفُرُوْنَ بِشِرْكِكُمْ١ؕ وَ لَا يُنَبِّئُكَ مِثْلُ خَبِيْرٍؒ۰۰۱۴

( سورہ فاطر : 13/14 )

’’ اور لوگ جنہیں پکارتے ہیں اللہ کے علاوہ ( وہ ) ایک قطمیر ( کھجور کی گھٹلی پر چڑھاہوا غلاف ) کے بھی مالک نہیں، اگر تم انہیں پکارو یہ تمہاری پکار نہیں سنتے، اور اگر کہیں سن بھی لیں تو تو تمہارے کسی کام نہیں آ سکتے، اور قیامت کے دن تمہارے شرک کا انکار کریں گے، اور تمہیں اس کی خبر دینے والا کوئی نہیں سوا ( اللہ ) سب کچھ جانے والے کے۔‘‘

اللہ تعالیٰ نے اس فعل کو گمراہ ترین فعل فرمایا :

وَ مَنْ اَضَلُّ مِمَّنْ يَّدْعُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَنْ لَّا يَسْتَجِيْبُ لَهٗۤ اِلٰى يَوْمِ الْقِيٰمَةِ وَ هُمْ عَنْ دُعَآىِٕهِمْ غٰفِلُوْنَ

( الاحقاف :5 )

’’اس شخص سے بڑھ کرگمراہ کون ہو سکتا ہے جو اللہ کے سوا ان لوگوں کو پکارتا ہے جو قیامت تک اس کی داد رسی نہیں کر سکتے۔ وہ تو ان کی پکار ہی سے غافل ہیں۔‘‘

بتایا کہ تم انہیں پکار رہے ہو لیکن وہ تو تمہاری پکار سے غافل ہیں یعنی انہیں معلوم ہی نہیں کہ تم انہیں پکار رہے ہو۔

ان دلائل سے ثابت ہوا کہ مردہ کا سماع ثابت نہیں۔ اب ہم آتے ہیں ان روایات کی طرف جن سے لوگ مردے کا سماع ثابت کرتے ہیں۔ اس بارے میں مندرجہ زیل روایات پیش کی جاتی ہیں:

’’نبی ﷺ مدینہ میں قبروں کے پاس سے گزرے تو کہا:

السلام عليكم يا أهل القبور، يغفر الله لنا ولكم، أنتم سلفنا، ونحن بالأثر

( ترمذی، ابواب الجنائز، باب ما يقول الرجل إذا دخل المقابر )

اے قبر والوں تم پر سلامتی ہو ، اللہ ہماری و تمہاری مغفرت فرمائے، تم ہم سے پہلے جانے والے ہو اور ہم تمہارے بعد جانے والے ‘‘۔

اس روایت کو البانی نے ضعیف کہا ہے

( المسند الموضوعي الجامع للكتب العشرة،باب الذکر عند زیارت القبور، جلد 13 ، صفحی 136 )

سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ روایت ہی صحیح نہیں بلکہ ضعیف ہے، دوسری بات یہ ہے کہ یہ ایک دعا دی گئی ہے اس سے مراد سنانا نہیں، جیسا کہ عمر ؓ نے حجر اسود کو بوسہ دیتے ہوئے فرمایا:

إِنِّي أَعْلَمُ أَنَّكَ حَجَرٌ، لاَ تَضُرُّ وَلاَ تَنْفَعُ، وَلَوْلاَ أَنِّي رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُكَ مَا قَبَّلْتُكَ

(بخاری، کتاب الحج، بَابُ مَا ذُكِرَ فِي الحَجَرِ الأَسْوَدِ )

عمر ؓ نے فرمایا :’’ میں جانتا ہوں کہ تو ایک پتھر ہے نہ نقصان پہنچا سکتا ہے اور نہ ہی کوئی فائدہ ، اگر میں نے نبیﷺ کو تجھے بوسہ دیتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا تو تجھے کبھی بوسہ نہیں دیتا ‘‘۔

سوچیں کیا پتھر سنتا ہے ؟

قبرستان جانے پر صحیح حدیث اس طرح ہے :

السَّلَامُ عَلَيْكُمْ أَهْلَ الدِّيَارِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُسْلِمِينَ، وَإِنَّا، إِنْ شَاءَ اللهُ لَلَاحِقُونَ، أَسْأَلُ اللهَ لَنَا وَلَكُمُ الْعَافِيَةَ «

’’اےمومنوں اور مسلمین کے گھر والوں پر سلامتی ہو ۔ اورہم بھی ان شاء الله تم سے ملنے والے ہیں ۔ ہم اللہ سے اپنے اور تمہارے لئے عافیت کا سوال کرتے ہیں۔

اب یہاں مردوں کو خطاب کرکے انکو سنانا ہرگز نہیں ہے جیسا کہ لوگوں نے سمجھا ہے، کیونکہ الله کی کتاب تو مردے کے سننے کی مطلق نفی اور تردید کرتی ہے ۔ اس دعا کا مقصد مردوں کو سنانا یا سلام پہچانا نہیں بلکہ یہ اللہ کے سامنے ان کے لیے دعا ہے۔

ہر زبان کا یہ قائدہ ہے کہ بعض اوقات «غائب» کو «حاضر» بنا لیتے ہیں جیسے،، کسی کا باپ فوت ہو جاتا ہے،،، اسکی دی ہوئی نیکی کی تربیت بیٹے کے کام آئے تو وہ کہتا ہے «اے میرے باپ اللہ تم پر کروڑ ہا رحمتیں کرے،، کیسی اچھی تعلیم دے گئے تھے کہ آج وہ میرے کام آئی ہے» حالانکہ باپ وہاں موجود نہیں ہوتا، اور نہ ہی باپ کو سنانا مقصود ہوتا ہے ۔البتہ یہ اولاد نے باپ کو یاد کیا اور اسکے لیے دعا کی ۔ اس سے قبل حدیث بھی پیش کردی گئی ہے کہ جب ہم تشہد میں کہتے ہیں «السلام علیک ایھا النبی» اے نبی آپ پر سلامتی ہو، اور السلام علینا و علی عباداللہ

الصالحین تو ہر نیک بندے کو پہنچ جاتی ہے چاہے وہ زمین پر ہو یا آسمانوں میں۔

سماع موتی کے قائلین قلیب بدر والی حدیث بیان کرکے نہ صرف مُردوں کا سماع ثابت کرتے ہیں بلکہ صحابہؓ کرام پر التزام تراشی کرتے ہیں کہ سماع موتی کا مسئلہ صحابہؓ کرام کا اختلافی مسئلہ تھا ۔

واقعہ قلیب بدر

عَنْ أَبِي طَلْحَةَ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ يَوْمَ بَدْرٍ بِأَرْبَعَةٍ وَعِشْرِينَ رَجُلًا مِنْ صَنَادِيدِ قُرَيْشٍ، فَقُذِفُوا فِي طَوِيٍّ مِنْ أَطْوَاءِ بَدْرٍ خَبِيثٍ مُخْبِثٍ، وَكَانَ إِذَا ظَهَرَ عَلَى قَوْمٍ أَقَامَ بِالعَرْصَةِ ثَلاَثَ لَيَالٍ، فَلَمَّا كَانَ بِبَدْرٍ اليَوْمَ الثَّالِثَ أَمَرَ بِرَاحِلَتِهِ فَشُدَّ عَلَيْهَا رَحْلُهَا، ثُمَّ مَشَى وَاتَّبَعَهُ أَصْحَابُهُ، وَقَالُوا: مَا نُرَى يَنْطَلِقُ إِلَّا لِبَعْضِ حَاجَتِهِ، حَتَّى قَامَ عَلَى شَفَةِ الرَّكِيِّ، فَجَعَلَ يُنَادِيهِمْ بِأَسْمَائِهِمْ وَأَسْمَاءِ آبَائِهِمْ: «يَا فُلاَنُ بْنَ فُلاَنٍ، وَيَا فُلاَنُ بْنَ فُلاَنٍ، أَيَسُرُّكُمْ أَنَّكُمْ أَطَعْتُمُ اللَّهَ وَرَسُولَهُ، فَإِنَّا قَدْ وَجَدْنَا مَا وَعَدَنَا رَبُّنَا حَقًّا، فَهَلْ وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا؟» قَالَ: فَقَالَ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا تُكَلِّمُ مِنْ أَجْسَادٍ لاَ أَرْوَاحَ لَهَا؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، مَا أَنْتُمْ بِأَسْمَعَ لِمَا أَقُولُ مِنْهُمْ»، قَالَ قَتَادَةُ:

أَحْيَاهُمُ اللَّهُ حَتَّى أَسْمَعَهُمْ، قَوْلَهُ تَوْبِيخًا وَتَصْغِيرًا وَنَقِيمَةً وَحَسْرَةً وَنَدَمًا ( عن ابی طلحہ ؓ ، بخاری، کتاب المغازی ،باب : قتل ابی جھل )

’’ انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ابوطلحہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بدر کے دن چوبیس سردار ان مکہ کی لاشوں کو بدر کے ایک گندے کنویں میں پھینکنے کا حکم دیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی عادت تھی کہ جب وہ کسی قوم پر غالب آتے تھے تو تین راتیں اسی جگہ قیام فرماتے تھے لہذا بدر میں بھی تین دن قیام فرمایا تیسرے دن آپ کے حکم سے اونٹنی پر زین کسی گئی پھر آپ چلے صحابہ کرام نے خیال کیا کہ آپ کسی حاجت کے لئے جا رہے ہیں اصحاب ساتھ ہو لئے آپ چلتے چلتے اس کوئیں کی منڈھیر پر تشریف لے گئے اور کھڑے ہو کر مقتولین قریش کو نام بنام آواز دینے لگے اور اس طرح فرمانے لگے اے فلاں بن فلاں اور اے فلاں بن فلاں اب تم کو یہ اچھا معلوم ہوتا ہے کہ تم اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کا حکم مان لیتے ہم سے تو ہمارے رب نے جو وعدہ کیا تھا وہ ہم نے پا لیا کیا تم نے اس وعدے کو پورا پا لیا جو تم سے تمہارے رب نے کیا تھا ؟ طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ یہ سن کر عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ! آپ ایسی لاشوں سے خطاب فرما رہے ہیں جن میں روح نہیں ہے آپ نے فرمایا قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے میں جو باتیں کر رہا ہوں تم ان کو ان سے زیادہ نہیں سن سکتےقتادہ نے کہا کہ اللہ نے اس وقت ان کو زندہ فرمادیا تھا تاکہ وہ اس بات کو سن لیں تاکہ ان کو اپنی ذلت و رسوائی اور اس سزا سے شرمندگی حاصل ہو‘‘۔

أَنَّ ابْنَ عُمَرَ رَفَعَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ المَيِّتَ يُعَذَّبُ فِي قَبْرِهِ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ» فَقَالَتْ: وَهَلَ؟ إِنَّمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّهُ لَيُعَذَّبُ بِخَطِيئَتِهِ وَذَنْبِهِ، وَإِنَّ أَهْلَهُ لَيَبْكُونَ عَلَيْهِ الآنَ»، قَالَتْ: وَذَاكَ مِثْلُ قَوْلِهِ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ عَلَى القَلِيبِ وَفِيهِ قَتْلَى بَدْرٍ مِنَ المُشْرِكِينَ، فَقَالَ لَهُمْ مَا قَالَ: «إِنَّهُمْ لَيَسْمَعُونَ مَا أَقُولُ» إِنَّمَا قَالَ: «إِنَّهُمُ الآنَ لَيَعْلَمُونَ أَنَّ مَا كُنْتُ أَقُولُ لَهُمْ حَقٌّ»، ثُمَّ قَرَأَتْ {إِنَّكَ لاَ تُسْمِعُ المَوْتَى} [النمل: 80]، {وَمَا أَنْتَ بِمُسْمِعٍ مَنْ فِي القُبُورِ} [فاطر: 22] يَقُولُ حِينَ تَبَوَّءُوا مَقَاعِدَهُمْ مِنَ النَّارِ

( عن ابی طلحہ ؓ ، بخاری، کتاب المغازی ،باب : قتل ابی جھل )

’’ ۔ ۔ ۔ ۔ ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس حدیث کو رسول ﷺتک پہنچی ہوئی بتاتے ہیں عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنا نے فرمایا کہ رسول ﷺ نے تو یہ فرمایا ہے کہ مردے پر اپنی خطاؤں اور گناہوں کی وجہ سے عذاب ہوتا ہے اور اس کے عزیز روتے ہی رہتے ہیں یہ بالکل ایسا ہی مضمون ہے جیسے ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ یہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم مشرکین بدر کے لاشوں کے گڑھے پر کھڑے ہوئے اور آپ نے فرمایا کہ وہ میرا کہنا سن رہے ہیں حالانکہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا تھا کہ ان کو اب معلوم ہوگیا کہ میں جو کچھ ان سے کہتاتھا وہ سچ اور حق تھا اس کے بعد عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے سورہ نمل اور سورہ فاطرکی یه آیت تلاوت فرمائی ترجمه (اے نبی، تم مردوں کو اپنی بات نہیں سنا سکتے اور اے نبی، تم قبروں والوںکو اپنی بات نہیں سنا سکتے) عروه کهتے ہیں که عائشه کی مراد اس آیت کے پڑھنے سے یہ تھی که جب ان کو جہنم میں اپنا ٹھکانه مل گیا ہوگا‘‘۔

نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے جب ان مردوں کو مخاطب کیا تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ما تکلم من أجساد لا أرواح لها’’ آپ ایسی لاشوں سے خطاب فرما رہے ہیں جن میں روح نہیں ہے ‘‘ ۔ اس جملے نے صحابہ رضی اللہ عنہم کے عقیدے کی وضاحت کردی کہ صحابہ کو جو تعلیم دی گئی تھی وہ یہی تھی کہ مرنے کے بعد روح لوٹ کر نہیں آتی اور جس جسم میں روح نہ ہواس کا ناممکن ہے۔ جب اللہ کے بیان کردہ قانون سے ہٹ کر کوئی بات رونما ہو اور کسی نبی کی موجودگی میں ہو تو وہ معجزہ کہلاتا ہے۔ اللہ تعالی کا بیان کردہ قانون یہ ہے:ثُمَّ اِنَّكُمْ بَعْدَ ذٰلِكَ لَمَيِّتُوْنَ 15؀ۙثُمَّ اِنَّكُمْ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ تُبْعَثُوْنَ16؀’’ پھر اس ( زندگی )کے بعد تمہیں موت آ جائے گی پھر تم قیامت کے دن زندہ کر کے اٹھائے جاوگے ‘‘۔ اسی لئے جب عائشہ رضی اللہ عنہاکےسامنے یہ معاملہ پیش ہوا تو انہوں نے قر آن کی آیات پڑھیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم مردوں کو نہیں سنا سکتے تھے یعنی قرآن کا فیصلہ لاریب ہے۔انہوں نے فرمایا کہ اس سے مراد یہ تھا کہ انہیں اب علم ہو گیا ہوگا۔ کس بات کا علم ہو گیا ہوگا ؟ فهل وجدتم ما وعد ربکم حقا ’’ کیا تم نے اس وعدے کو پورا پا لیا جو تم سے تمہارے رب نے کیا تھا ؟ یعنی اللہ کا وعدہ انہیں جہنم میں داخل کرکے پورا ہوگیا، تو انہیں اس کا علم ہوگیا کہ جو بات نبی صلی اللہ علیہ و سلم فرمایا کرتے تھے وہ سچ تھی۔

یہ فرقہ پرست کہتے ہیں کہ اس بارے میں صحابہ ؓ میں بھی اختلاف تھا۔ نعوذوباللہ صحابہ ؓ ان لوگوں کی طرح ضد میں لڑنے والے نہ تھے ۔ کسی ایک صحابی ؓ کا بھی یہ عقیدہ نہ تھا کہ مردہ سنتا ہے اسی لئے عمر ؓ نے عرض کی کہ ایسے جسموں سے کلام کر رہے ہیں جس میں روح نہیں، قتادہ نے یہ سمجھا کہ شاید انہیں دوبارہ زندہ کرکے یہ سنوایا گیا ہے اور ابن عمر ؓ کے سامنے جب عائشہ ؓ نے قرآن کی آیات پیش کرکے اس تشریح فرمائی تو وہ بھی خاموش رہے۔

قرآن و حدیث کے ان سارے دلائل کا مدعا یہی ہے کہ مردہ نہیں سنتا۔

Categories
Urdu Articles

اپنی وفات کے بعد شہداء کہاں زندہ ہیں

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

إِنَّ الْحَمْدَ لِلَّهِ، نَحْمَدُهُ وَنَسْتَعِينُهُ، مَنْ يَهْدِهِ اللهُ فَلَا مُضِلَّ لَهُ، وَمَنْ يُضْلِلْ فَلَا هَادِيَ لَهُ، وَأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، أَمَّا بَعْدُ

فرقہ پرستوں نے امت کو بہکایا کہ یہ قبر ولا زندہ ہے، سنتا اور دیکھتا ہے۔ اپنے اس جھوٹ کو سچ ثابت کرنے کے لئے جہاں انہوں نے انبیاء علیہ السلام اور نبی ﷺ کو اپنی اپنی قبروں میں زندہ دکھانے کی کوشش کی وہاں شہداءکے لئے بھی یہی کہا کہ انہیں مردہ کہنے سے منع کیا گیا ہے ، یہ زندہ ہیں اور جب شہداء زندہ ہیں تو انبیاء کا مقام تو ان سے بہت اعلیٰ ہے وہ کیسے اپنے قبروں میں مردہ ہو سکتے ہیں۔ لہذا ہم قرآن و حدیث سے اس موضوع پر ہدایت حاصل کرتے  ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:


وَ لَا تَقُوْلُوْا لِمَنْ يُّقْتَلُ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ اَمْوَاتٌ١ؕ بَلْ اَحْيَآءٌ وَّ لٰكِنْ لَّا تَشْعُرُوْنَ۰۰۱۵۴

( سورہ بقرہ :154)

’ اور جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے جائیں انہیں مردہ نہ کہو بلکہ وہ زندہ ہیں لیکن تمہیں (انکی زندگی کا) شعور نہیں‘‘۔

غزوہ بدر کے بعد نازل ہونے والی اس آیت میں اللہ تعالی نے فرمایا کہ وہ جو اللہ کی راہ میں قتل کردئے جائیں انہیں مردہ نہ کہو، ایک طرف تو اللہ تعالی خود فرما رہا ہے کہ ’’ جو اللہ کی راہ میں قتل کردئے جائیں ‘‘ یعنی جو قتل کردیا گیا وہ مر گیا، لیکن تم انہیں مردہ نہ کہو بلکہ وہ زندہ ہیں، ساتھ اس بات کو بھی بیان کردہ گیا کہ انسانوں کو اس زندگی کا شعور نہیں، گویا یہ زندگی اس طرح کی زندگی نہیں جیسا کہ اس دنیا میں ہوتی ہے اورجس کا انسانوں کو شعور ہوتا ہے۔غزوہ بدر کے موقع پر حارثہ ؓشہید ہو گئے ، انکی والدہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس آئیں، ملاحظہ فرمائے یہ حدیث :


عَنْ حُمَيْدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسًا، يَقُولُ: أُصِيبَ حَارِثَةُ يَوْمَ بَدْرٍ وَهُوَ غُلاَمٌ، فَجَاءَتْ أُمُّهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَدْ عَرَفْتَ مَنْزِلَةَ حَارِثَةَ مِنِّي، فَإِنْ يَكُ فِي الجَنَّةِ أَصْبِرْ وَأَحْتَسِبْ، وَإِنْ تَكُنِ الأُخْرَى تَرَى مَا أَصْنَعُ؟ فَقَالَ: «وَيْحَكِ، أَوَهَبِلْتِ، أَوَجَنَّةٌ وَاحِدَةٌ هِيَ؟ إِنَّهَا جِنَانٌ كَثِيرَةٌ، وَإِنَّهُ لَفِي جَنَّةِ الفِرْدَوْسِ»

( عن انس ؓ ، بخاری، کتاب المغازی، باب فضل من شھداء بدر )


’’ انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو کہتے ہوئے سنا کہ حارثہ بدر کے دن شہید ہوئے تو وہ کمسن تھے ان کی والدہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا یا رسول اللہ آپ جانتے ہیں کہ حارثہ کا مرتبہ میرے دل میں کیا ہے، اگر وہ جنت میں ہوا تو میں صبر کروں گی اور اگر دوسری جگہ ہوا تو آپ دیکھیں گے کہ میں کیا کرتی ہوں آپ نے یحک  ھبلت فرمایا کیا جنت ایک ہی ہے، جنتیں تو بہت سی ہیں اور وہ جنت الفردوس میں ہے۔ ‘‘


معلوم ہوا کہ شہید جنت الفردوس میں زندہ ہیں۔

پھر غزوہ احد کے موقع پر کافی تعداد میں صحابہ شہید ہوئے۔ جب نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے اس بارے میں سوال کیا گیا تو یہ آیات نازل ہوئیں:


وَ لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِيْنَ قُتِلُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ اَمْوَاتًا١ؕ بَلْ اَحْيَآءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُوْنَۙ۰۰۱۶۹فَرِحِيْنَ بِمَاۤ اٰتٰىهُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ١ۙ وَ يَسْتَبْشِرُوْنَ۠ بِالَّذِيْنَ لَمْ يَلْحَقُوْا بِهِمْ مِّنْ خَلْفِهِمْ١ۙ اَلَّا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَ لَا هُمْ يَحْزَنُوْنَۘ۰۰۱۷۰

(سورہ آل عمران : آیت 169 تا 171)


’’ اور انہیں مردہ گمان نہ کرو جو اللہ کی راہ میں مارے جائیں ، بلکہ وہ تو زندہ ہیں اپنے رب کے پاس، رزق پاتے ہیں ۔ جو کچھ اللہ کا ان پر فضل ہو رہا ہے اس سے وہ بہت خوش ہیں اور ان لوگوں کےلئے بھی خوش ہوتے ہیں جو ان کے پیچھے ہیں اور ابھی تک (شہید ہوکر) ان سے ملے نہیں، انہیں نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ ہی وہ غمزدہ ہوں گے۔اللہ تعالیٰ کا ان پر جو فضل اور انعام ہو رہا ہے اس سے وہ خوش ہوتے ہیں اور اللہ تعالیٰ یقینا مومنوں کا اجر ضائع نہیں کرتا‘‘۔

اسی سورہ میں ان آیات سے قبل یہ بھی نازل ہوا ہے :

اَلَّذِيْنَ قَالُوْا لِاِخْوَانِهِمْ وَ قَعَدُوْا لَوْ اَطَاعُوْنَا مَا قُتِلُوْا١ؕ قُلْ فَادْرَءُوْا عَنْ اَنْفُسِكُمُ الْمَوْتَ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ۰۰۱۶۸

  ( آل عمران : 168 )


’’ یہ وہ لوگ ہیں جو خود تو پیچھے بیٹھ رہے اور اپنے بھائی بندوں سے کہنے لگے”: اگر تم ہمارا کہا مانتے تو (آج) مارے نہ جاتے” آپ ان سے کہئے کہ : اگر تم اپنی اس بات میں سچے ہو تو اپنے آپ سے ہی موت کو ٹال کر دکھلا دو ‘‘۔ 

یعنی ان کے کافر و مشرک رشتہ دار جو یہ سمجھ رہے تھے کہ اگر یہ لوگ ہماری بات مان لیتے تو آج مارے نہ جاتے اور اس طرح خومخواہ میں اپنی زندگی سے ہاتھ نہ دھو بیٹھے،تو ان کو کہا گیا کہ اگر واقعی تم سچے ہیں تو اپنی موت کو ٹال کر دکھاو، گویا یہ ثابت ہوا کہ ان شہدا کو موت آ گئی تھی، انہیں مردہ ہی سمجھا گیا اور اسی بنائ پر انہیں دفنایا گیا۔ غزوہ بدر کی طرح اب پھر اللہ تعالیٰ کا فرمان آیا کہ وہ جو اللہ کی راہ میں مار دئے گئے ہیں ان کے متعلق یہ گمان نہ کرو کہ وہ مردہ ہیں بلکہ وہ اپنے رب کے پاس زندہ ہیں اور انہیں رزق بھی دیا جا رہا ہے، مزید یہ کہ اس شہادت پر انہیں ان کے رب کی طرف سے جوعظیم اجر ملا ہے اس پر وہ بہت خوش ہیں اور انہیں معلوم ہو گیا ہے کہ اللہ مومنوں کے اجر کو ضائع نہیں کرتا۔ واضح ہوا کہ انہیں مردہ سمجھ کر افسردہ ہونے والوں کو بتایا گیا ہے کہ جو اس غزوہ میں شہادت کے بعد موت سے ہمکنار ہوگئے وہ اللہ کے پاس زندہ ہیں، جہاں انہیں اجر عظیم سے نوازا گیا ہے۔

 نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ یہ شہدا کہاں زندہ ہیں:

طَلْحَةَ بْنَ خِرَاشٍ قَال سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ لَقِيَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لِي يَا جَابِرُ مَا لِي أَرَاکَ مُنْکَسِرًا قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ اسْتُشْهِدَ أَبِي قُتِلَ يَوْمَ أُحُدٍ وَتَرَکَ عِيَالًا وَدَيْنًا قَالَ أَفَلَا أُبَشِّرُکَ بِمَا لَقِيَ اللَّهُ بِهِ أَبَاکَ قَالَ قُلْتُ بَلَی يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ مَا کَلَّمَ اللَّهُ أَحَدًا قَطُّ إِلَّا مِنْ وَرَائِ حِجَابٍ وَأَحْيَا أَبَاکَ فَکَلَّمَهُ کِفَاحًا فَقَالَ يَا عَبْدِي تَمَنَّ عَلَيَّ أُعْطِکَ قَالَ يَا رَبِّ تُحْيِينِي فَأُقْتَلَ فِيکَ ثَانِيَةً قَالَ الرَّبُّ عَزَّ وَجَلَّ إِنَّهُ قَدْ سَبَقَ مِنِّي أَنَّهُمْ إِلَيْهَا لَا يُرْجَعُونَ

( عن جابر ؓ ، ترمذی،  ابواب تفسیر القرآن ، باب:  ومن سورۃ آل عمران ) 


’’جابربن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کی میری نبیﷺ سے ملاقات ہوئی تو آپ نے فرمایا جابر کیا بات ہے؟۔ میں تمہیں شکستہ حال کیوں دیکھ رہا ہوں۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے والد شہید ہوگئے اور قرض و عیال چھوڑ گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا میں تمہیں اس چیز کی خوشخبری نہ سناؤں جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ تمہارے والد سے ملاقات کی عرض کیا کیوں نہیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے تمہارے والد کے علاوہ ہر شخص سے پردے کے پیچھے سے گفتگو کی لیکن تمہارے والد کو زندہ کر کے ان سے بالمشافہ گفتگو کی اور فرمایا اے میرے بندے تمنا کر۔ تو جس چیز کی تمنا کرے گا میں تجھے عطا کروں گا۔ انہوں نے عرض کیا اے اللہ مجھے دوبارہ زندہ کر دے تاکہ میں دوبارہ تیری راہ میں قتل ہو جاؤں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا میری طرف سےفیصلہ ہو چکا کہ یہ سب دنیا میں واپس نہیں بھیجےجائیں گے۔‘‘ 

عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ سَأَلْنَا عَبْدَ اللَّهِ عَنْ هَذِهِ الْآيَةِ وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا بَلْ أَحْيَائٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ قَالَ أَمَا إِنَّا قَدْ سَأَلْنَا عَنْ ذَلِکَ فَقَالَ أَرْوَاحُهُمْ فِي جَوْفِ طَيْرٍ خُضْرٍ لَهَا قَنَادِيلُ مُعَلَّقَةٌ بِالْعَرْشِ تَسْرَحُ مِنْ الْجَنَّةِ حَيْثُ شَائَتْ ثُمَّ تَأْوِي إِلَی تِلْکَ الْقَنَادِيلِ فَاطَّلَعَ إِلَيْهِمْ رَبُّهُمْ اطِّلَاعَةً فَقَالَ هَلْ تَشْتَهُونَ شَيْئًا قَالُوا أَيَّ شَيْئٍ نَشْتَهِي وَنَحْنُ نَسْرَحُ مِنْ الْجَنَّةِ حَيْثُ شِئْنَا فَفَعَلَ ذَلِکَ بِهِمْ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَلَمَّا رَأَوْا أَنَّهُمْ لَنْ يُتْرَکُوا مِنْ أَنْ يُسْأَلُوا قَالُوا يَا رَبِّ نُرِيدُ أَنْ تَرُدَّ أَرْوَاحَنَا فِي أَجْسَادِنَا حَتَّی نُقْتَلَ فِي سَبِيلِکَ مَرَّةً أُخْرَی فَلَمَّا رَأَی أَنْ لَيْسَ لَهُمْ حَاجَةٌ تُرِکُوا

( عن عبد اللہ بن مسعود ؓ ، مسلم ، کتاب الامارۃ ، باب بيان أن أرواح الشهداء في الجنة، وأنهم أحياء عند ربهم يرزقون)


’’ عبداللہ رضی اللہ عنہ سے اس آیت کے بارے میں سوال کیا جنہیں اللہ کے راستہ میں قتل کیا جائے انہیں مردہ گمان نہ کرو بلکہ وہ زندہ ہیں اپنے رب کے پاس سے رزق دیئے جاتے ہیں تو انہوں نے کہا ہم نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں سوال کیا تھا تو آپ نے فرمایا ان کی روحیں سر سبزاڑنے والے جسموں میں ہیں ،ان کے لئے ایسی قندیلیں ہیں جو عرش کے ساتھ لٹکی ہوئی ہیں اور وہ جنت میں جہاں چاہیں پھرتی رہتی ہیں پھر انہی قندیلوں میں واپس آ جاتی ہیں۔ ان کا رب ان کی طرف متوجہ ہوا اور ان سے پوچھا کہ کیا تمہیں کسی چیز کی خواہش ہے ، انہوں نےعرض کیا ہم کس چیز کی خواہش کریں حالانکہ ہم جہاں چاہتے ہیں جنت میں پھرتے ہیں اللہ تعالیٰ ان سے اس طرح تین مرتبہ فرماتا ہے جب انہوں نے دیکھا کہ انہیں کوئی چیز مانگے بغیر نہیں چھوڑا جائے گا، تو انہوں نے عرض کیا : اے رب ،ہم چاہتے ہیں کہ ہماری روحوں کو ہمارے جسموں میں لوٹا دیں یہاں تک کہ ہم تیرے راستہ میں دوسری مرتبہ قتل کئے جائیں جب اللہ نے دیکھا کہ انہیں اب کسی چیز کی ضرورت نہیں تو انہیں چھوڑ دیا ۔‘‘


واضح ہوا کہ شہدا کی وفات کے بعد ان کی روحین ان کے دنیاوی جسموں میں نہیں بلکہ اڑنے والی سبزرنگ کے جسموں میں ہیں۔ شہید سے اللہ تعالی کلام بھی کرتا ہے لیکن جب وہ اس بات کی خواہش کرتا ہے کہ اس کی روح کو واپس اس کے جسم میں ڈالدیا جائے اور دوبارہ اس دنیا میں بھیج دیا جائے تو اللہ تعالی  ان سے مزید بات نہیں کرتا کیونکہ جو ایک مرتبہ اللہ تعالیٰ کے پاس چلا جائے وہ دنیا واپس نہیں بھیجا جاتا۔مزید  اس حدیث کا مطالعہ کریں کہ مرنے کے بعد سب کیا اسی زمین میں ہوتی ہیں یا کسی اور عالم میں۔  نبی ﷺ نے فرمایا :

مَا مِنْ عَبْدٍ یَمُوْتُ لَہٗ عِنْدَاﷲِ خَیْرٌ یَّسُرُّہٗ اَنْ یَرْجِعَ اِلَی الدُّنْیَا وَمَا فِیْھَا اِلَّا الشَّھِیْدَ لِمَا یَرٰی مِنْ فَضْلِ الشَّھَادَۃِ فَاِنَّہٗ یَسُرُّہٗ اَنْ یَّرْجِعُ اِلَی الدُّنْیَا فَیُقْتَلُ مَرَّۃً اُخْرٰی…

( عن انس بن مالک ، بخاری، کتاب الجھاد و السیر ، بَابُ الحُورِ العِينِ، وَصِفَتِهِنَّ يُحَارُ فِيهَا الطَّرْفُ، شَدِيدَةُ سَوَادِ العَيْنِ، شَدِيدَةُ بَيَاضِ العَيْنِ)

”بندوں میں سے جو کوئی مرتا ہے اور اس کے لئے اللہ کے پاس کچھ خیر ہے تو نہیں چاہتا کہ دنیا کی طرف لوٹ آئے اگرچہ اسکو دنیا کی ہر چیز دے دی جائے، مگر سوائے شہید کہ اس نے شہادت کی فضیلت دیکھ لی ہوتی ہے لہذا وہ چاہتا ہے کہ دنیا کی طرف لوٹ آئے اور دوبارہ اللہ کی راہ میں قتل کیا جائے۔“

واضح ہوا کہ کوئی مرنے والا اس دنیا میں نہیں ہوتا،یہ عقیدہ رکھنا کہ شہدا ان دنیاوی قبروں میں زندہ ہیں قرآن اور حدیث کا انکار ہے۔

Categories
Urdu Articles

کیا انبیاء ؑ اپنی قبروں میں زندہ ہیں

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

إِنَّ الْحَمْدَ لِلَّهِ، نَحْمَدُهُ وَنَسْتَعِينُهُ، مَنْ يَهْدِهِ اللهُ فَلَا مُضِلَّ لَهُ، وَمَنْ يُضْلِلْ فَلَا هَادِيَ لَهُ، وَأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، أَمَّا بَعْدُ

          آج امت ٹوٹی پڑی ہے ان  مزاروں پے جس کے متعلق اللہ کی کتاب فرماتی ہے کہ مردہ ہیں ان میں زندگی کی کوئی رمق نہیں۔ لیکن یہ علماء فرقہ ہیں کہ جنہوں نے انہیں زندہ بتایا ہے۔ یہ معاملہ آج کا نہیں بلکہ  نبیﷺ کی بعثت سے قبل بھی یہود و نصاریٰ اپنے انبیاء اور نیک لوگوں کی قبروںکو عبادت گاہ بنا لیا کرتے تھے، اسی پر نبی ﷺ نے اپنی زندگی کے آخری  ایام میں  اللہ تعالیٰ  کی لعنت کا ذکر کیا تھا اور مسلمین کو ہدایت کی تھی کہ تم ایسا نہ کرنا۔

          لیکن امت میں جب بگاڑ پیدا ہوا اور مرنے کے بعد روح کا قبر میں پلٹا ئےجانے کا عقیدہ   دیا گیا تو مردےکو زندہ ثابت کرنے کی  ہر ممکن کوشش کی گئی۔ اسی کوشش میں  نبیﷺ اور دیگر انبیاء کے بارے میں قبر میں زندہ ہونے کی  روایات گھڑی گئیں۔اللہ تعالی نے انسانیت کے   لئے دو موتوں اور دو زندگیوں کا جو قانون بیان فرمایا ہے وہ انبیاء علیہ السلام کے لئے بھی پوری  طرح نافذ عمل ہے۔ قرآن و حدیث میں انبیاء علیہ السلام کی وفات کا ذکر موجود ہے تو اسی طرح احادیث میں ان کا بعد الوفات جنت میں ہونا بھی ثابت ہے۔ فرقہ پرستی کے شکار مفتیان و علمائے فرقہ  جو کہ اس زمینی قبر میں زندگی کا عقیدہ دیتے ہیں اپنے باطل عقیدے  کی دلیل میں  یہ بات بھی بیان کرتے ہیں کہ انبیاء علیہ ولسلام اپنی اپنی قبروں میں زندہ ہیں اور عبادات کرتے ہیں۔ ان کا یہ عقیدہ واضح طور پر قرآن کا انکار ہے، ملاحظہ فرمائیں :

یحییٰ علیہ السلام کے لئے فرمایا گیا :

وَ سَلٰمٌ عَلَيْهِ يَوْمَ وُلِدَ وَ يَوْمَ يَمُوْتُ وَ يَوْمَ يُبْعَثُ حَيًّاؒ۰۰۱۵

[مريم: 15]

’’ اور سلامتی ہو اس پر جس نے وہ پیدا ہوا ، جس دن وہ فوت ہوا اور جس دن وہ زندہ کرکے اٹھایا جائے گا۔‘‘

عیسیٰ علیہ السلام کے لئے فرمایا گیا :

وَ السَّلٰمُ عَلَيَّ يَوْمَ وُلِدْتُّ وَ يَوْمَ اَمُوْتُ وَ يَوْمَ اُبْعَثُ حَيًّا۰۰۳۳

[مريم: 33]

’’ اور سلامتی ہو اس دن پر کہ جس دن میں پیدا ہوا ، جس میں مروں گا، اور جس دن میں زندہ کرکے اٹھایا جاؤں گا ۔‘‘

قرآن مجید سے ثابت ہو گیا کہ انبیاء علیہ السلام  کو دوبارہ زندہ کر کے اٹھایا جائے گا۔

قرآن کے اس لاریب کے بیان کے باوجود انبیاء علیہم السلام کے بارے میں ان قبروں میں زندہ ہونے کا عقیدہ رکھنا یقیناقرآن کا انکار ہے ۔ لیکن یہ جانتے بوجھتے یہی عقیدہ رکھتے ہیں کیونکہ انہوں نے امت میں عقیدہ پھیلایا ہے کہ اولیا اللہ قبروں میں زندہ ہوتے ہین اور لوگوں کی سنتے اور انہیں نوازتے ہیں۔ انہیں زندہ ثابت کرنے کے لئے پہلے جھوٹی روایات کے ذریعے نبی ﷺ کو قبر میں زندہ ثابت کرنے کی کوشش کی اور پھر اس سے ایک ہاتھ آگے بڑھ کر تمام انبیاء کو ان قبروں میں زندہ ثابت کرنے کی کوشش کی۔

اس بارے میں پیش کی جانے  والی روایات کی حقیقت آپ کے سامنے  بیان کی جا رہی جن کے ذریعے یہ جھوٹا  عقیدہ کشید کیا گیا ہے۔

(1)

حدثنا هارون بن عبد الله حدثنا حسين بن علي عن عبد الرحمن بن يزيد بن جابر عن أبي الأشعث الصنعاني عن أوس بن أوس قال قال رسول الله صلی الله عليه وسلم إن من أفضل أيامکم يوم الجمعة فيه خلق آدم وفيه قبض وفيه النفخة وفيه الصعقة فأکثروا علي من الصلاة فيه فإن صلاتکم معروضة علي قال قالوا يا رسول الله وکيف تعرض صلاتنا عليک وقد أرمت يقولون بليت فقال إن الله عز وجل حرم علی الأرض أجساد الأنبيا

( ابو داوٌد، نسائی ، مسند احمد )


’’ اوس بن اوس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول ﷺ نے فرمایا! تمہارے بہتر دنوں میں سے ایک جمعہ کا دن ہے اسی دن آدم علیہ السلام پیدا ہوئے اسی دن ان کی وفات ہوئی اسی دن صور پھونکا جائے گا اور اس دن سب لوگ بیہوش ہوں گے اس لئے اس دن مجھ پر کثرت سے درود بھیجا کرو کیونکہ تمہارا درود میرے سامنے پیش کیا جاتا ہے لوگوں نے عرض کیا یا رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! ہمارا درود آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر کس طرح پیش کیا جائے گا جب کہ (وفات کے بعد) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا جسم (اولوں کی طرح) گل کر مٹی ہوجائے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے انبیاء کے جسموں کو زمین پر حرام قرار دیدیا ہے (یعنی زمین باقی تمام لوگوں کی طرح انبیاء کے اجسام کو نہیں کھاتی اور وہ محفوظ رہتے ہیں۔

اس روایت کے راوی حسین بن علی الجعفی دھوکہ کھا گئے ہیں اور انہوں نے راوی کا نام عبد الرحمن بن یزید   بن جابرکے نام سے اسے روایت کیا ہے جو کہ ایک ثقہ راوی ہیں، لیکن دراصل یہ عبد الرحمن بن یزید بن جابر نہین عبد الرحمن بن یزید بن تمیم ہے جو منکر الحدیث ہے۔ اما م بخاری فرماتے ہیں 

’’ عبد الرحمن بن یزید بن تمیم السلمی الشامی نے مکحول سے روایت کی ہے اور اس سے سنا الولید بن مسلم نے اس کی روایتوں  میں منکر روایات پائی جاتی ہیں، کہا جاتا ہے کہ یہی وہ شخص ہے جس سے  اہل کوفہ ابو اسامہ  اور حسین بن علی الجعفی  اور اس کا نام عبد الرحمن بن یزید بن تمیم کہنے کے بجائے عبد الرحمن بن یزید بن جابر کہہ گئے ہیں۔‘‘ (  ترجمہ : صفحہ نمبر ۳۶۵،  التاریخ الکبیر ، قم : ۱ ،  کلد : ۳ ، منصف امام بخاری )

’’ الولید نے کہا ( عبد الرحمن بن ےزید بن جابر ) کی ایک کتاب تھی  جسے انہوں سن کر لکھا تھا اور ایک دوسری کتاب تھی  جس کی روایتوں کو انہوں نے خود نہین سنا تھا  (اہل کوفہ ابو اسامہ  اور حسین بن علی الجعفی  )  نے اپنی روایتوں میں عبد الرحمن بن  یزید بن جابر کہا ہے  حالانکہ جس سے انہوں نے یہ روایتیں سنی ہیں وہ ( عبد الرحمن ) بن یزید بن تمیم  تھا عبد الرحمن بن یزید بن جابر نہین تھا۔ اور ابن تمیم والا عبد الرحمن منکر الحدیث ہے ۔‘‘ (  صفحہ : ۱۷۵، تاریخ الصغیر ، مطبوعہ الاثریہ، مصنف امام بخاری )

ابو اسامہ ( حماد بن اسامہ )  دیدہ و دانستہ تغافل برتا  یہ جانتے ہوئے کہ جس سے وہ روایت کر رہا ہے وہ عبد الرحمن بن یزید بن جابر نہیں بلکہ عبد الرحمن بن یزید بن تمیم ہے ۔ ( تہذیب التہذیب ،  جلد : ۶ ،صفحہ : ۲۹۵ ۔ ۲۹۶، ترجمہ عبد الرحمن بن یزید بن تمیم )

’’ الذ ہبی کہتے ہیں کہ  بخاری کا قول ہے کہ جس کے بارے میں ، میں یہ کہوں کہ وہ منکر الحدیث ہے  تو اس کی روایت بیان کرنا بھی جائز نہیں ۔‘‘

 (  صفحہ : ۲۱۷، سلسلہ الاحادیث  الضعیفہ و الموضوعۃ ، نا صر الدین البانی )

(2)

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ سَوَّادٍ الْمِصْرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَيْمَنَ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ نُسَيٍّ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ : ” أَكْثِرُوا الصَّلَاةَ عَلَيَّ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَإِنَّهُ مَشْهُودٌ تَشْهَدُهُ الْمَلَائِكَةُ، وَإِنَّ أَحَدًا لَنْ يُصَلِّيَ عَلَيَّ إِلَّا عُرِضَتْ عَلَيَّ صَلَاتُهُ حَتَّى يَفْرُغَ مِنْهَا “، قَالَ: قُلْتُ: وَبَعْدَ الْمَوْتِ، قَالَ: ” وَبَعْدَ الْمَوْتِ، إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَ عَلَى الْأَرْضِ أَنْ تَأْكُلَ أَجْسَادَ الْأَنْبِيَاءِ، فَنَبِيُّ اللَّهِ حَيٌّ يُرْزَقُ


(ابن ماجہ کتاب الجنائز)


’’ ابوالدرداء اضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا مجھ پر جمعہ کے روز بکثرت درود پڑھا کرو کیونکہ اس روز فرشتے حاضر ہوتے ہیں اور جو بھی مجھ پر درود بھیجے فرشتے اس کا درود میرے سامنے لاتے رہتے ہیں۔ یہاں تک کہ وہ درود سے فارغ ہو جائے۔ میں نے عرض کیا آپ کے وصال کے بعد بھی ؟ فرمایا موت کے بعد بھی اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے زمین پر انبیاء کے اجسام کھانا حرام کر دیا پس اللہ کا نبی زندہ ہے اور ان کو روزی دی جاتی ہے ۔‘‘

یہ روایت ضعیف ہے

امام بخاری کے مطابق زید بن ایمن کی عبادہ بن نسی سے روایت ‘مرسل ‘ ہے۔ (تاریخ الکبیر2 جلد : ۲ ، صفحہ ۳۸۷،تہہذیب التہذیب جلد : ۳ ، صفحہ ۳۹۸)  نیز ‘زید بن ایمن ‘کا ‘عبادہ بن نسی’سے ‘سماع’ثابت نہیں (ھو عن عبادہ بن نسی مرسل۔۔مراسیل ابی زرعہ)اور ‘ عبادہ بن نسی’کا ‘ابوالدردا رضی اللہ عنہ’سے ‘سماع’ثابت نہیں(واظن روایتہ عن الکبار منقطہ۔۔کاشف الذھبی)البانی نے بھی اس کو ‘ضعیف ‘قرار دیا ہے۔(ضعیف ابن ماجہ للبانی)

(3)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْمُفَضَّلِ الْحَرَّانِيُّ، نا الْحَسَنُ بْنُ قُتَيْبَةَ الْمَدَائِنِيُّ، نَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ : الأَنْبِيَاءُ أَحْيَاءٌ يُصَلُّونَ فِي قُبُورِهِمْ وَهَذَا الْحَدِيثُ لا نَعْلَمُ أَحَدًا تَابَعَ الْحَسَنَ بْنَ قُتَيْبَةَ عَلَى رِوَايَتِهِ

  (مسند البزار)

’’ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ انبیاء اپنی قبروں میں زندہ ہیں صلوٰہ ادا کرتے ہیں ‘‘ ۔

( یہ روایت پیش کرکے امام بزار کہتے ہیں ) : کہ ‘حسن بن قتینہ’کی اس روایت کی متابعت کوئی نہیں کرتا۔ ْ


 اس روایت کا ایک راوی محمد بن عبد الرحمٰن بن المفضل: مجھول الحال ہے۔
 دوسری راوی حسن بن قتیبہ پر  شدید شدید جرح ہے۔ملاحظہ ہو:

ابو الفتح الازدی ::”واهي الحديث”، ابو جعفر العقیلی ::”كثير الوهم”، حاتم الرازی:: “ليس بقوي الحديث ، ضعيف الحديث”، الدارقطنی::”متروك الحديث ، ومرة : ضعيف الحديث” الذھبی::”هالك”
(میزان الاعتدال ، لسان المیزان وغیرہ)


(4)

حَدَّثَنَا رِزْقُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، نَا الْحَسَنُ بْنُ قُتَيْبَةَ، نَا الْمُسْتَلِمُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ الْحَجَّاجِ، يَعْنِي: الصَّوَّافَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ قَالَ: الأَنْبِيَاءُ أَحْيَاءٌ فِي قُبُورِهِمْ يُصَلُّونَ.

’’ نبی ﷺ نے فرمایا  کہ انبیاء  اپنی قبروں میں زندہ ہیں صلوٰہ ادا کرتے ہیں‘‘ ،

وَهَذَا الْحَدِيثُ لَا نَعْلَمُ رَوَاهُ عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ إِلَّا الْحَجَّاجُ، وَلَا عَنِ الْحَجَّاجِ إِلَّا الْمُسْتَلِمُ بْنُ سَعِيدٍ، وَلا نَعْلَمُ رَوَى الْحَجَّاجُ، عَنْ ثَابِتٍ إِلَّا هَذَا الْحَدِيثَ( اس روایت کے بعد امام بزار کہتے ہیں): ‘عن ثابت عن انس’سے اسکو ‘حجاج’کے علاوہ کوئی روایت نہیں کرتا اور ‘حجاج’سے ‘مستلم بن سعید ‘ کے علاوہ کوئی روایت نہیں کرتا (مسند البزار)

 اس کے پہلے راوی حسن بن قتیبہ کے بارے میں بیان کیا گیا ہے :

ابو الفتح الازدی ::”واهي الحديث”، ابو جعفر العقیلی ::”كثير الوهم”، حاتم الرازی:: “ليس بقوي الحديث ، ضعيف الحديث”، الدارقطنی::”متروك الحديث ، ومرة : ضعيف الحديث” الذھبی::”هالك” (میزان الاعتدال ، لسان المیزان وغیرہ)


 دوسرے راوی مستلم بن سعید کے لئے ملتا ہے:

ابن حجر::قال في التقريب : صدوق عابد ربما وهم, قال شعبہ ما کنت اظن ان ذاک حدیثین
(تقریب،تہذیب)


(5)

 حَدَّثَنَا أَبُو الْجَهْمِ الأَزْرَقُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا الْمُسْتَلِمُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ الْحَجَّاجِ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ : ” الأَنْبِيَاءُ أَحْيَاءٌ فِي قُبُورِهِمْ يُصَلُّونَ (مسند ابو یعلٰی)

’’ نبی ﷺ نے فرمایا کہ انبیاءاپنی قبروں میں زندہ ہیں صلوٰہ ادا کرتے ہیں‘‘

 اس روایت کے راوی مستلم بن سعید::

ابن حجر:

قال في التقريب : صدوق عابد ربما وهم, قال شعبہ ما کنت اظن ان ذاک حدیثین
(تقریب،تہذیب) 
اس روایت ا دوسراراوی ‘حجاج بن اسود ‘، ‘ثابت البنانی ‘ سے منکر روایات بیان کرتا ہے ۔ذہبی نے اس بات کو ثابت کرنے کے لئے دلیل کے طور پر یہ روایت پیش کی ملاحظہ ہو:

حجاج بن اسود عن ثابت البنانی نکرۃما روی عنہ فیما اعلم سوی مستلم بن سعید ؛فاتی بخنر منکر ، عنہ، عن انس فی “” الأَنْبِيَاءُ أَحْيَاءٌ فِي قُبُورِهِمْ يُصَلُّونَ ” (میزان الاعتدال)

(6)


قَالَ أَبُو يَعْلَى: ثنا أَبُو الْجَهْمِ الْأَزْرَقُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي بَكِيرٍ، وَقَالَ الْبَزَّارُ: ثنا رِزْقُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحَسَنُ بْنُ قُتَيْبَةَ، قَالَا: ثنا الْمُسْتَلِمُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ الْحَجَّاجِ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ : ” الْأَنْبِيَاءُ أَحْيَاءٌ فِي قُبُورِهِمْ يُصَلُّونَ ” قَالَ الْبَزَّارُ: لَا نَعْلَمُ رَوَاهُ عَنْ ثَابِتٍ إِلَّا حَجَّاجٌ، وَلَا عَنْ حَجَّاجٍ إِلَّا الْمُسْتَلِمُ، وَلَا رَوَى الْحَجَّاجُ عَنْ ثَابِتٍ إِلَّا هَذَا : وَأَخْرَجَهُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحَرَّانِيِّ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنِ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، وَقَالَ: لَا نَعْلَمُ أَحَدًا تَابَعَ الْحَسَنَ بْنَ قُتَيْبَةَ فِي رِوَايَتِهِ إِيَّاهُ عَنْ حَمَّادٍ

(المطالب العالیہ بزوائد المسانید الثمانیہ لابن الحجر)

اس روایت میں بھی ‘حسن قتیبہ ‘ہے۔ سند بھی وہی ہے ۔اس کی پوری وضاحت اس سے قبل بزار والی روایت میں کردی گئی ہے۔


(7)

حَدَّثَنَا أَبُو الْجَهْمِ الأَزْرَقُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا الْمُسْتَلِمُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ الْحَجَّاجِ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ : ” الأَنْبِيَاءُ أَحْيَاءٌ فِي قُبُورِهِمْ يُصَلُّونَ “(زوائد ابی یعلٰی الموصلی الھیثمی)


یہی راویت اس سے قبل بزار کے حوالے سے  بیان کی گئی ہے اور اس کی سند بھی وہی ہے ۔ اس کی تفصیل وہاں دیکھی جا سکتی ہے۔

 
(8)

 أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ وَثَاقٍ النَّصِيبِيُّ، قِرَاءَةً عَلَيْهِ سَنَةَ أَرْبَعٍ وَأَرْبَعِينَ وَثَلاثِ مِائَةٍ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نَاجِيَةَ الْبَغْدَادِيُّ، أبنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُدَّانِيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ثنا الْمُسْتَنِيرُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ حَجَّاجِ بْنِ الأَسْوَدِ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ : ” الأَنْبِيَاءُ أَحْيَاءٌ فِي قُبُورِهِمْ يُصَلُّونَ “(فوائد تمام الرازی)


 اس روایت کے راوی ابوالقاسم الحسن بن علی بن وتاق :: “مجھول الحال” ہے۔
احمد بن عبدالرحمٰن الحدانی: “مجھول الحال”
حسن بن قتیبہ: اس پر جرح پہلے گزر چکی ہے۔
المستنیر بن سعید:: “مجھول الحال”
باقی سند ‘حجاج عن ثابت عن انس’ سے ‘منکر ‘روایت ہے ملاحظہ ہو روایت نمبر 4

(9)

أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْخَلِيلِ الصُّوفِيُّ، رَحِمَهُ اللَّهُ، قَالَ: أنبأ أَبُو أَحْمَدَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ قَالَ: ثنا قُسْطَنْطِينُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الرُّومِيُّ، قَالَ: ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْحَسَنُ بْنُ قُتَيْبَةَ الْمَدَائِنِيُّ، ثنا الْمُسْتَلِمُ بْنُ سَعِيدٍ الثَّقَفِيُّ، عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ الأَسْوَدِ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ أَنَسٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ : ” الأَنْبِيَاءُ أَحْيَاءٌ فِي قُبُورِهِمْ يُصَلُّونَ “، هَذَا حَدِيثٌ يُعَدُّ فِي إِفْرَادِ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ الْمَدَائِنِيِّ، وَقَدْ رُوِيَ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي بُكَيْرٍ، عَنِ الْمُسْتَلِمِ بْنِ سَعِيدٍ،عَنِ الْحَجَّاجِ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ 


(حیاۃ انبیاء فی قبورھم للبیہقی)


قسطنطین بن عبد اللہ الرومی:: “مجھول الحال”۔
حسن بن قتیبہ:: اس پر جرح پہلے گزر چکی ہے۔
“عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ الأَسْوَدِ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ “سے منکر ہے ۔ تفصیل اوپر بیان کی جا چکی ہے۔


(10)

وَهُوَ فِيمَا أَخْبَرَنَا الثِّقَةُ، مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ، قَالَ: أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ حَمْدَانَ، قَالَ: أنبأ أَبُو يَعْلَى الْمَوْصِلِيُّ، ثنا أَبُو الْجَهْمِ الأَزْرَقُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، ثنا الْمُسْتَلِمُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ الْحَجَّاجِ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ : ” الأَنْبِيَاءُ أَحْيَاءٌ فِي قُبُورِهِمْ يُصَلُّونَ “. وَقَدْ رُوِيَ مِنْ وَجْهِ آخَرَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مَوْقُوفًا

(حیاۃ انبیاء فی قبورھم للبیہقی)


الثِّقَةُ”،:: یہ صاحب کون ہیں اسکا کوئی پتہ نہیں –
عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ الأَسْوَدِ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ” سےمنکر ہے ۔ملاحظہ ہو روایت نمبر 4۔

(11)

وَرُوِيَ كَمَا، أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ، ثَنَا أَبُو حَامِدٍ أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَسْنَوِيُّ، إِمْلاءً، ثنا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَبَّاسِ الْحِمْصِيُّ، بِحِمْصَ، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ طَلْحَةَ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ قَالَ: ” إِنَّ الأَنْبِيَاءَ لا يُتْرَكُونَ فِي قُبُورِهِمْ بَعْدَ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً، وَلَكِنَّهُمْ يُصَلُّونَ بَيْنَ يَدَيِ اللَّهِ حَتَّى يُنْفَخَ فِي الصُّورِ “.

(حیاۃ انبیاء فی قبورھم للبیہقی)

ابو حامد احمد بن علی الحسنوی:

الذھبی: ذكره في المغني في الضعفاء ، ابن جوزی: اتهمه بالوضع
ابو عبداللہ محمد بن العباس الحمصی: “مجھول الحال”۔
اسماعیل بن طلحہ بن یزید:: “مجھول الحال”۔
محمد بن عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰٰ:
ابو بکر البیہقی: قال في السنن الكبرى : غير قوي في الحديث ، ومرة : لا يحتج به ، وفي معرفة السنن والآثار : لا حجة فيما ينفرد به لسوء حفظه وكثرة خطأه في الروايات ، وقال مرة : كثير الوهم
جوزجانی:: واهي الحديث سيئ الحفظ ، ابن عدی:: هو مع سوء حفظه يكتب حديثه ، حاتم الرازی::
محله الصدق ، كان سيئ الحفظ ، شغل بالقضاء فساء حفظه ، لا يتهم بشيء من الكذب إنما ينكر عليه كثرة الخطأ ، يكتب حديثه ولا يحتج به وابن أبي ليلى وحجاج بن أرطاة ما أقربهما ، نسائی:: أحد الفقهاء ليس بالقوي في الحديث ،، البخاری::صدوق ولا أروي عنه شيئا لأنه لا يدرى صحيح حديثه من سقيمه وضعف حديثه جدا،علی بن مدینی:: سيئ الحفظ واهي الحديث


(12)

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مَحْمُودٍ، ثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الصَّبَّاحِ، ثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ أَبِي بُكَيْرٍ، ثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، ثَنَا الْمُسْتَلِمُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ شجاج، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ : ” الأَنْبِيَاءُ فِي قُبُورِهِمْ يُصَلُّونَ “(اخبار اصبھان لابی نعیم)


علی بن محمود بن مالک:: “مجھول الحال”۔
عبد اللہ بن ابراہیم بن صباح:: “مجھول الحال”۔


(13)

قَالَ: وَأَنَا تَمَّامٌ، أَنَا أَبُو الْقَاسِمِ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ وتاقٍ النَّصِيبِيُّ، قِرَاءَةً عَلَيْهِ سَنَةَ أَرْبَعٍ وَأَرْبَعِينَ وَثَلاثِمِائَةٍ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نَاجِيَةَ الْبَغْدَادِيُّ، نَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحَرَّانِيُّ، نَا الْحَسَنُ بْنُ قُتَيْبَةَ، نَا مستلم بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ حَجَّاجِ بْنِ الأَسْوَدِ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ : ” الأَنْبِيَاءُ أَحْيَاءٌ فِي قُبُورِهِمْ يُصَلُّونَ “.


(تاریخ دمشق لابن عساکر)

ابوالقاسم الحسن بن علی بن وتاق :: “مجھول الحال”
“، عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ الأَسْوَدِ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ
“سے منکر ہے ۔تفصیل اوپر بیان کردی گئی ہے۔

واضح ہوا کہ قرآن کے  بیان کردہ کے خلاف گھڑی ہوئی یہ  ساری روایت ضعیف ہیں۔

ایک حدیث پیش کی جاتی ہے کہ معراج النبی ﷺ کے موقع پر نبیﷺ نے  عیسیٰ علیہ السلام کو قبر میں صلوٰہ ادا کرتے دیکھا۔دراصل یہ ایک  معجزاتی معاملہ تھا، وہ پوری رات ہی معجزے کی رات ہے ۔ اس ایک ہی رات میں نبی ﷺ نے موسی ٰعلیہ السلام و دیگر انبیاء  علیہم السلام کو آسمانوں پر بھی دیکھا اور بیت المقدس میں انبیاء کی امامت بھی کرائی۔ تو اب موسی علیہ السلام کے بیت وقت تین جگہ زندہ ماننا جائے، صرف قبر میں ہی کیوں زندہ مانتے ہیں؟ یہ حدیث بھی ملاحظہ فرمائیں :

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ” أُرَانِي اللَّيْلَةَ عِنْدَ الكَعْبَةِ، فَرَأَيْتُ رَجُلًا آدَمَ، كَأَحْسَنِ مَا أَنْتَ رَاءٍ مِنْ أُدْمِ الرِّجَالِ، لَهُ لِمَّةٌ كَأَحْسَنِ مَا أَنْتَ رَاءٍ مِنَ اللِّمَمِ قَدْ رَجَّلَهَا، فَهِيَ تَقْطُرُ مَاءً، مُتَّكِئًا عَلَى رَجُلَيْنِ، أَوْ عَلَى عَوَاتِقِ رَجُلَيْنِ، يَطُوفُ بِالْبَيْتِ، فَسَأَلْتُ: مَنْ هَذَا؟ فَقِيلَ: المَسِيحُ ابْنُ مَرْيَمَ، وَإِذَا أَنَا بِرَجُلٍ جَعْدٍ قَطَطٍ، أَعْوَرِ العَيْنِ اليُمْنَى، كَأَنَّهَا عِنَبَةٌ طَافِيَةٌ، فَسَأَلْتُ: مَنْ هَذَا؟ فَقِيلَ: المَسِيحُ الدَّجَّالُ “

 ( بخاری ، کتاب اللباس ، بَابُ الجَعْدِ )

’’عبداللہ بن عمرؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺنے فرمایا کہ ایک رات کعبہ کے پاس میں نے خواب میں ایک گندمی خوبصورت آدمی دیکھا کہ اس جیسا خوبصورت آدمی تم نے نہ دیکھا ہوگا، اس کے بال کان کی لوتک تھے اور اتنا حسین تھا کہ اس جیسا حسین بالوں والا تم نے نہ دیکھا ہوگا، بالوں میں کنگھی کئے ہوئے تھا اور پانی ٹپک رہا تھا، دو آدمیوں کے سہارے یا یہ فرمایا کہ دو آدمیوں کے کندھے کے سہارے خانہ کعبہ کا طواف کر رہا ہے، پھر میں نے پوچھا یہ کون ہے، بتایا گیا کہ یہ عیسیٰ بن مریم ہیں، پھر میں نے ایک شخص کو دیکھا جس کے بال گھونگریالے تھے، دائیں آنکھ سے کانا تھا گویا کہ وہ انگور کی طرح ابھری ہوئی تھی، میں نے پوچھا یہ کون ہے، تو بتایا گیا کہ یہ مسیح دجال ہے۔‘‘

اس حدیث کی بناء پر  اب کوئی یہ عقیدہ بنا لے کہ عیسیٰ علیہ السلام اور دجال خانہ کعبہ میں زندہ ہیں تو یہ عقیدہ کیسا؟

الغرض کہ انبیاء علیہم السلام اپنی وفات کے بعد اللہ تعالیٰ کے پاس جنتوں میں زندہ ہیں، قیامت کے دن اللہ تعالیٰ انہیں زندہ کرکے اٹھائے گا، اللہ تعالیٰ سمجھنے اور عمل کرنے کی توفئق عطا فرمائے۔

Categories
Urdu Articles

اسفل سافلین۔ ملعون مرزاء قادیانی

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

إِنَّ الْحَمْدَ لِلَّهِ، نَحْمَدُهُ وَنَسْتَعِينُهُ، مَنْ يَهْدِهِ اللهُ فَلَا مُضِلَّ لَهُ، وَمَنْ يُضْلِلْ فَلَا هَادِيَ لَهُ، وَأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، أَمَّا بَعْدُ

لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِيْۤ اَحْسَنِ تَقْوِيْمٍٞ۰۰۴ثُمَّ رَدَدْنٰهُ اَسْفَلَ سٰفِلِيْنَۙ۰۰۵

 [التين: 5/6]

“یقیناً ہم نے انسان کو بہترین ساخت پر پیدا کیا ، پھر اس کو سب نیچوں سے نیچے درجے کی طرف پھیر دیا”۔

اللہ تعالیٰ نے انسان کو بہترین طریقے سے پیدا کیا، نہایت عمدہ شکل و صورت اور پیکر عطا فرمایا اور اعلیٰ صلاحیتوں سے نوازا۔ اس کو دیگر مخلوقات پر فضیلت دی، عقل و دانش عطا کی ، صحیح و غلط ، حق و باطل اور اچھے برے میں تمیز کرنے کی بھی صلاحیت دی۔ اولاد آدم کے لیے منصوبہ الہٰی خلافت ارضی عطا کرنے کا تھا اس لئے  اس کو امتحان سے گزارنا ضروری تھا چنانچہ اس کو فکر و عمل کی آزادی دی گئی۔ حق و باطل دونوں راستے دکھا کر اس کو اختیار دیا گیاکہ اللہ کی دی ہوئی سوجھ بوجھ استعمال کرے اور پورے شعور کے ساتھ اپنے لیے راہ عمل منتخب کر لے۔ اسی پر اس کے انجام کا دارومدار رکھا گیا۔ مقصد امتحان کے تحت شیطان کو مہلت تو دی گئی کہ وہ وسوسہ اندازی کر کے انسان کو ورغلانے کی کوشش کرے اور اللہ کی نافرمانی و سرکشی پر اکسائے، اس کے ساتھ ساتھ ہر دور میں شیطانی ترغیبات اور وسوسہ اندازی کے مقابلے میں انبیاء ؑ  کو انسانوں کی ہدایت و رہنمائی کے لیے مبعوث کیا جاتا رہا، یہاں تک  کہ آخری رسول محمد ﷺ کو مبعوث فرما کر دینِ حق کو قرآن و حدیث کی شکل میں قیامت تک کے لیے محفوظ کر دیا گیا۔

          ہر نبی نے اپنی قوم کو صحیح راستہ بتایا ، الٰہ  واحد کی بندگی کی دعوت دی اعمال صالحہ کی ترغیب دی اور برائیوں سے باز رہنے کی تلقین کی۔ ان کو بد انجامی سے ڈرایا اور اللہ کے عذاب کا خوف دلایا۔ اب جن سمجھدار لوگوں نے اپنے نبی کی بات کو غور سے سنا اور اللہ کی دی ہوئی عقل کو استعمال کر کے دعوتِ حق کو قبول کیا تو وہ راہ راست پا گئے اور دین اسلام میں داخل ہو گئے۔ پھر اللہ کی توفیق سے وہ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے احکام کی تعمیل کرتے ہوئے ہی زندگی گزارتے رہے اور تقویٰ کی صفات سے متصف یہ خوش نصیب لوگ احسن تقویم ہی پر زندگی گزارنے کے بعد اپنے ربّ سے ملاقی ہوتے ہوئے جنت کی لازوال نعمتوں میں ہمیشہ کے لیے داخل کر دیے جائیں گے۔ اعلیٰ اوصاف کے حامل یہ لوگ خلافت ارضی کے اہل تھے اور ان کا معاشرہ بھی امن و سکون اور عدل و انصاف کے اصولوں پر قائم تھا۔ خیرالقرون کا دور صحیح معنوں میں اس کا بہترین نمونہ تھا جب انسانی تاریخ کا ایک روشن باب رقم ہوا۔

          اس کے برعکس خواہش نفس کے دنیا دار  بندے نے چند روزہ زندگی کی دلفریبی اور رنگینی میں غرق ہو کر آخرت فراموشی کی روش اختیار کی، اپنے دشمن شیطان لعین کی پیروی کرتے ہوئے دعوتِ حق کا انکار کیا اور نبی کی مخالفت کی اور کفرو شرک پر جمے رہنے کو ہی ترجیح دی۔ پھر وہ دوسروں کو بھی ورغلانے لگا اور اپنی سرکشی کی روش کو ہی درست قرار دینے لگا (ابراہیم: 3، یونس: 7،8)۔ ایسے بدبختوں کو اسی راستے پر ڈھیل دی جاتی ہے اور گمراہی میں بھٹکنےکے لیے چھوڑ دیا جاتا ہے۔ چناچہ وہ خباثت میں گرتے چلے جاتے ہیں ، یہاں تک کہ ہر قسم کی گراوٹ، حرص و طمع ، لالچ و خودغرضی، بغض و عداوت، فتنہ و فساد میں تمام مخلوقات سے نیچے گر جاتے ہیں، اور أَسۡفَلَ سَٰفِلِينَ ہو کر رہ جاتے ہیں! اس آخری امت میں بھی ایسے قساوت قلبی کےشکار احبارورہبان اور ان طاغوتوں کے پرستاروں کی طویل فہرست ہےجن کے چشم کشا واقعات و ملفوظات پر مشتمل کتابوں سے کتب خانے بھرے ہوئے ہیں۔

انہوں نے مکشوفات و الہامات اور کرامات کی شکل میں بے شمار خلافِ قرآن عقائد امت میں پھیلا دیے۔ ان کے بزرگ ،علم غیب رکھنے، متصرف فی الامور ہونے اور موت حیات پر قادر ہونے کے دعوے دار تھے، نعوذوباللہ من ذالک  ایسے ہی ایک صوفی منش ، مرزا غلام احمد قادیانی نے بھی ” مکشوفات الہامات” کی سیڑھی  پر چڑھ کر جاہل انسانوں کے ایک گروہ ” جماعت احمدیہ” کے بانی و امام  ہونے کا اعزاز حاصل کر لیا۔ مرزا غلام احمد قادیانی کو اکثر لوگ عقیدۂ ختم نبوت کے منکر کے طور پر جانتے ہیں لیکن یہ                                                                                                           بد قسمت شخص صرف اسی عقیدے کا ہی منکر نہیں بلکہ توحید باری تعالیٰ کا بھی منکر تھا۔

اللہ تعالیٰ ہی زندہ کرنے اور موت دینے پر قادر ہے۔ اس کی اس صفت میں کوئی اس کا شریک نہیں:

اَللّٰهُ الَّذِيْ خَلَقَكُمْ ثُمَّ رَزَقَكُمْ ثُمَّ يُمِيْتُكُمْ ثُمَّ يُحْيِيْكُمْ١ؕ هَلْ مِنْ شُرَكَآىِٕكُمْ مَّنْ يَّفْعَلُ مِنْ ذٰلِكُمْ مِّنْ شَيْءٍ١ؕ سُبْحٰنَهٗ وَ تَعٰلٰى عَمَّا يُشْرِكُوْنَؒ۰۰۴۰

[الروم: 40]

” اللہ تعالیٰ وہ ہے جس نے تمہیں پیدا کیا پھر تمہیں روزی دی پھر تمہیں موت دیتا ہے پھر تمہیں (قیامت کے دن) زندہ کرے گا۔ بتاؤ تمہارے شریکوں میں سے کوئی بھی ایسا ہے جو ان کاموں میں سے کچھ بھی کر سکتا ہو۔ اللہ تعالیٰ پاک اور برتر ہے ہر اس شرک سے جو یہ لوگ کرتے ہیں۔”

اِنَّ اللّٰهَ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ يُحْيٖ وَ يُمِيْتُ١ؕ وَ مَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ وَّلِيٍّ وَّ لَا نَصِيْرٍ۰۰۱۱۶

[التوبة: 116]

“یقیناً اللہ ہی کے لیے آسمانوں اور زمین کی بادشاہی ہے، وہی زندہ کرتا ہے اور وہی مارتا ہے، اور نہیں ہے تمہارے لیے اللہ کے سوا کوئی دوست (کارساز) اور نہ کوئی مددگار”۔

مرزا قادیانی نے اللہ تعالیٰ کی ان صفات میں اس کے بے مثال ہونے کا انکار کرتے ہوئے خود بھی زندہ کرنے اور موت دینے پر قادر ہونے کا دعویٰ کیا۔ ساتھ ہی اللہ رب العزت پر یہ جھوٹ بھی گھڑ لیا کہ اسے یہ قدرت اللہ ہی نے عطا کی ہے۔نعوذ باللہ وہ لکھتا ہے:

و اعطیت صفۃ الافناء و الاحیاء من ربّ الفعّال“مجھج کو فانی کرنے اور زندہ کرنے کی صفت دی گئی ہے اور یہ صفت خدا تعالیٰ کی طرف سے مجھ کو ملی ہے”(خطبہ الہامیہ: صفحہ 55،56)

صرف اللہ تعالیٰ ہی وہ ذات ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا فرمایا اور مٹی سے انسان کی تخلیق فرمائی۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا: 

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ جَعَلَ الظُّلُمٰتِ وَ النُّوْرَ١ؕ۬ ثُمَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا بِرَبِّهِمْ يَعْدِلُوْنَ۰۰۱هُوَ الَّذِيْ خَلَقَكُمْ مِّنْ طِيْنٍ ثُمَّ قَضٰۤى اَجَلًا١ؕ وَ اَجَلٌ مُّسَمًّى عِنْدَهٗ ثُمَّ اَنْتُمْ تَمْتَرُوْنَ۰۰۲وَ هُوَ اللّٰهُ فِي السَّمٰوٰتِ وَ فِي الْاَرْضِ١ؕ يَعْلَمُ سِرَّكُمْ وَ جَهْرَكُمْ وَ يَعْلَمُ مَا تَكْسِبُوْنَ۰۰۳

 [الأنعام: 1/3]

” تما م تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں جس نے  آسمانوں اور زمین کو پیدا کیااور تاریکیوں کو اور نور کو بنایا پھر بھی کافر لوگ (دوسروں کو) اپنے رب کے برابر قرار دیتے ہیں۔ وہ ایسا ہے جس نے تم کو مٹی سے بنایا پھر موت آنے کا ایک وقت معین کیا اور ایک (دوسرا) معین وقت (قیام قیامت)خاص اللہ ہی کے نزدیک ہے،پھر بھی تم شک کرتے ہواور وہ اللہ ہی (معبود برحق) ہے آسمانوں میں اور زمین   میں وہ تمہارے پوشیدہ (احوال) کو اور تمہارے ظاہر کو  بھی جانتا ہے اور تم جو کچھ عمل کرتے ہو اسکو جانتا ہے‘‘۔

اس کے برعکس اپنی جان کے دشمن مرزاء قادیانی کے دعوے ہیں  کہ زمین و آسمان کا موجد  اور مٹی سے انسانوں کی پیدائش کرنے والی ذات وہ خود ہے ۔اپنے  جھوٹ کے پلندے سے جھوٹے الہام اور جھوٹے کشف نکال کر کہتا ہے:

ورایتی فی المنام عین اللہ و تیقنت اننی ھو“”میں نے خواب میں دیکھا کہ میں خود خدا ہوں، مجھے یقین ہو گیا کہ بے شک میں وہی ہوں”(حوالہ:آئینہ کمالات اسلام، صفحہ 564،مطبع ریاض ھند،قادیان)

میں نے اپنے ایک کشف میں دیکھا کہ میں خود خدا ہوں اور یقین کر لیا کہ وہی ہوں ۔میرے رب نے مجھے پکڑا اور ایسا پکڑا کہ میں بالکل اس میں محو ہو گیا اور میں نے دیکھا کہ اس کی قدرت اور قوت مجھے میں جوش مارتی اور اس کی الوہیت مجھ میں موجزن ہے  ۔ حضرت عزت کے خیمے میرے دل کے چاروں طرف لگائے گئے اور سلطان جبروت نے میرے دل کو پیس ڈالا۔ سو نہ تو میں ہی رہا اور نہ میری کوئی تمنا ہی باقی رہی ۔میری اپنی عمارت گر گئی اور ربّ العالمین کی عمارت نظر آنے لگی اور الوہیت بڑے زور کے ساتھ مجھ پر غالب ہوئی ۔الوہیت میری رگوں اور پٹھوں میں سرایت کر گئی ۔اور میں اس وقت یقین کرتا تھا کہ میرے اعضا نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے اعضا ہے ۔خدا تعالیٰ میرے  وجود میں داخل ہو گیا اور میرا غضب اور حلم اور تلخی اور شیرینی اور حرکت اور سکون سب اسی کا ہو گیا۔اور اس حالت میں یوں کہہ رہا تھا کہ ہم ایک نیا نظام اور نیا آسمان اور نئی زمین چاہتے ہیں ۔سو میں نے پہلے تو آسمان اور زمین کو اجمالی صورت میں پیدا کیا جس میں کوئی ترتیب و تفریق نہ تھی۔پھر میں نے منشاء حق کے موافق اس کی ترتیب و تفریق کی اور میں دیکھتا تھا کہ میں اس کے خلق پر قادر ہوں _پھر میں نے آسمان دنیا کو پیدا کیا اور کہا: اِنَّا زَیَّنَّا السَّمَآءَ الدُّنْیَا بِمَصَابِيْحَ پھر میں نے کہا:ہم اب انسان کو مٹی کے خلاصے سے پیدا کریں گے _پھر میری حالت کشف سے الہام کی طرف منتقل ہو گئی اور میری زبان پر جاری ہوا  ۔ ۔أردتُ أن أستخلف فخلقتُ آدم. انا خلقنا الانسان فی احسن تقویم(حوالہ” کتاب البریہ:صفحہ 85 تا 87،مطبع ضیاء الاسلام،قادیان)

مرزا غلام احمد قادیانی نے اللہ تعالی’ کی ذات کے شرک میں بھی اپنا  حصہ ڈالا ہے۔چنانچہ معاذ اللہ، اللہ تعالی’ کو عورت یعنی ماں اور خود کو اس کے دودھ پیتے بچے کے مثل قرار دیتے ہوئے لکھتا ہے:

ابتدا سے تیرے ہی سایہ میں میرے دن کٹے. . . . گود میں تیری رہا میں مثل طفل شیر خوار(براہین احمدیہ،حصہ پنجم،صفحہ 127)

ایک اور جگہ اپنا شیطانی الہام لکھتا ہے:

’’انت منی بمنزلة توحیدی و تفریدی،انت منی بمنزلة عرشی،انت منی بمنزلة ولدی“’’تو مجھ سے میری توحید و تفرید کی طرح ہے۔ تو مجھ سے میرے عرش کی طرح ہے۔تو مجھ سے میرے بیٹے کی طرح ہے‘‘۔( تذکرہ: وحی مقدس ور ویا و کشوف،صفحہ:442)

اللہ کی پناہ!اللہ تعالیٰ نے ایسے دعووں پر شدید غصے کا اظہار فرمایا ہے اور انہیں اللہ سبحان و تعالیٰ کو گالی دینے کے مترادف قرار دیا ہے:

وَ قَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمٰنُ وَلَدًاؕ۰۰۸۸لَقَدْ جِئْتُمْ شَيْـًٔا اِدًّاۙ۰۰۸۹تَكَادُ السَّمٰوٰتُ يَتَفَطَّرْنَ مِنْهُ وَ تَنْشَقُّ الْاَرْضُ وَ تَخِرُّ الْجِبَالُ هَدًّاۙ۰۰۹۰

( مریم : 88 تا 90 )

“ان کا قول ہے کہ اللہ رحمن نے بیٹا بنایا، یقیناً تم بہت بھاری چیز (زبان پر) لائے ہو، قریب ہے کہ اس قول کی وجہ سے آسمان پھٹ جائیں اور زمین شق ہو جائے اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہو جائیں کہ وہ رحمن کی اولاد ثابت کرنے بیٹھے، رحمن کی شان کے لائق نہیں کہ وہ اولاد رکھے، آسمان و زمین میں جو بھی ہیں سب کے سب اللہ کے غلام بن کر ہی آنے والے ہیں، ان سب کو گھیر کر رکھا ہے اور سب کو پوری طرح گن بھی رکھا ہے،یہ سارے کے سارے قیامت کے دن اکیلے اس کے پاس حاضر ہونے والے ہیں‘‘ْ۔

وَ قَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمٰنُ وَلَدًا سُبْحٰنَهٗ١ؕ بَلْ عِبَادٌ مُّكْرَمُوْنَۙ۰۰۲۶لَا يَسْبِقُوْنَهٗ بِالْقَوْلِ وَ هُمْ بِاَمْرِهٖ يَعْمَلُوْنَ۰۰۲۷يَعْلَمُ مَا بَيْنَ اَيْدِيْهِمْ وَ مَا خَلْفَهُمْ وَ لَا يَشْفَعُوْنَ١ۙ اِلَّا لِمَنِ ارْتَضٰى وَ هُمْ مِّنْ خَشْيَتِهٖ مُشْفِقُوْنَ۰۰۲۸وَ مَنْ يَّقُلْ مِنْهُمْ اِنِّيْۤ اِلٰهٌ مِّنْ دُوْنِهٖ فَذٰلِكَ نَجْزِيْهِ جَهَنَّمَ١ؕ كَذٰلِكَ نَجْزِي الظّٰلِمِيْنَؒ۰۰۲۹

(الأنبياء 26 تا 29)

“وہ (مشرک لوگ) کہتے ہیں کہ رحمن  نے ( کسی کو ) بیٹا بنا لیا ،(حالانکہ) اس کی ذات پاک ہے، بلکہ وہ سب اس کے باعزت بندے ہیں، کسی بات میں اللہ پر پیش دستی نہیں کرتے بلکہ اس کے فرمان پر کار بند ہیں،وہ (اللہ) ان کے آگے پیچھے کے تمام امور سے واقف ہے وہ (فرشتے) کسی کی بھی شفارش نہیں کرتے بجز ان کے جن سے اللہ خوش ہو وہ تو خود ہیبت الہی’ سے لرزاں و ترساں ہیں، اگر ان میں سے کوئی بھی کہہ دے کہ اللہ کے سوا میں معبود ہوں تو ہم اسے جہنم کی سزا دیں گے، ہم ظالموں کو اسی طرح سزا دیتے ہیں،‘‘۔

لَنْ يَّسْتَنْكِفَ الْمَسِيْحُ اَنْ يَّكُوْنَ عَبْدًا لِّلّٰهِ وَ لَا الْمَلٰٓىِٕكَةُ الْمُقَرَّبُوْنَ۠١ؕ وَ مَنْ يَّسْتَنْكِفْ عَنْ عِبَادَتِهٖ وَ يَسْتَكْبِرْ فَسَيَحْشُرُهُمْ۠ اِلَيْهِ جَمِيْعًا۰۰۱۷۲فَاَمَّا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَيُوَفِّيْهِمْ اُجُوْرَهُمْ وَ يَزِيْدُهُمْ مِّنْ فَضْلِهٖ١ۚ وَ اَمَّا الَّذِيْنَ اسْتَنْكَفُوْا وَ اسْتَكْبَرُوْا فَيُعَذِّبُهُمْ عَذَابًا اَلِيْمًا١ۙ۬ وَّ لَا يَجِدُوْنَ لَهُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَلِيًّا وَّ لَا نَصِيْرًا۰۰۱۷۳

(النساء:178)

“مسیح (عیسی علیہ السلام) کو اللہ کا بندہ ہونے میں کوئی ننگ و عار ہرگز ہو ہی نہیں سکتا اور نہ مقرب فرشتوں کو،اس کی بندگی سے جو بھی ننگ و عار کرے اور تکبر و انکار کرے،اللہ تعالی’ ان سب کو اکٹھا اپنی طرف جمع کرے گا “-

حدیث قدسی میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ” قَالَ اللَّهُ: كَذَّبَنِي ابْنُ آدَمَ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ ذَلِكَ، وَشَتَمَنِي وَلَمْ يَكُنْ لَهُ ذَلِكَ، أَمَّا تَكْذِيبُهُ إِيَّايَ أَنْ يَقُولَ: إِنِّي لَنْ أُعِيدَهُ كَمَا بَدَأْتُهُ، وَأَمَّا شَتْمُهُ إِيَّايَ أَنْ يَقُولَ: اتَّخَذَ اللَّهُ وَلَدًا، وَأَنَا الصَّمَدُ الَّذِي لَمْ أَلِدْ وَلَمْ أُولَدْ، وَلَمْ يَكُنْ لِي كُفُؤًا أَحَدٌ «(لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُؤًا أَحَدٌ)» كُفُؤًا وَكَفِيئًا وَكِفَاءً وَاحِدٌ “

( بخاری،  کتاب تفسیر القرآن ، بَابُ قَوْلِهِ: {اللَّهُ الصَّمَدُ} )

’’ رسول اللہ ﷺ نے  فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :  ابن آدم نے مجھے جھٹلایا، اگرچہ یہ اس کے لئے زیبا نہ تھا ۔ اور اس نے مجھے گالی دی، حالانکہ یہ اس کے لئے زیبا نہ تھا۔  اور مجھے اس کا جھٹلانا تو یہ  کہنا ہے کہ میں اسے دوبارہ زندہ نہیں کروں گا جیسا کہ میں نے پہلی بار پیدا کیا، اور مجھے اس کا گالی دینا  یہ کہنا ہے کہ اللہ نے  بیٹا بنا لیا ہے۔ حالانکہ میں بے نیاز ہوں  کہ نہ میں نے کسی کو جنا  اور نہ میں جنا گیا،  اور نہ کوئی میرا ہمسر ہے (  نہ اس نے کسی کو جنا  اور نہ وہ جنا گیا  اور نہ کوئی اس کا ہمسر ہے )‘‘۔

ہر طرح کا شرک چاہے وہ ذات کا شرک ہو،تخلیق کائنات کا دعوی ہو یا اُلوہیت کا، شرک عظیم ہے، اس کے مرتکب پر جنت حرام ہے اور ایسے شخص کو اللہ تعالیٰ نے شرک کو ظلم عظیم قرار دیا ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّمَا الْمُشْرِكُوْنَ نَجَسٌ

 [التوبة: 28]

’’اے ایمان والو! مشرکین نجس و پلید ہیں “-

وَ اِذْ قَالَ لُقْمٰنُ لِابْنِهٖ وَ هُوَ يَعِظُهٗ يٰبُنَيَّ لَا تُشْرِكْ بِاللّٰهِ١ؔؕ اِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيْمٌ۰۰۱۳

 [لقمان: 13]

’’اور وہ وقت یاد کرو جب لقمان نے اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے کہا تھا کہ اے میرے بیٹے !اللہ کے ساتھ شرک نہ کرنا،یقیناً شرک ظلمِ عظیم ہے ‘‘۔

اِنَّهٗ مَنْ يُّشْرِكْ بِاللّٰهِ فَقَدْ حَرَّمَ اللّٰهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ وَ مَاْوٰىهُ النَّارُ١ؕ وَ مَا لِلظّٰلِمِيْنَ مِنْ اَنْصَارٍ۰۰۷۲

[المائدة: 72]

“جس نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرایا اُس پر اللہ نے جنت حرام کر دی اور اس کا ٹھکانہ جہنم ہے اور ایسے ظالموں کا کوئی مددگار نہیں “۔

اِنَّ اللّٰهَ لَا يَغْفِرُ اَنْ يُّشْرَكَ بِهٖ وَ يَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِكَ لِمَنْ يَّشَآءُ١ۚ وَ مَنْ يُّشْرِكْ بِاللّٰهِ فَقَدِ افْتَرٰۤى اِثْمًا عَظِيْمًا۰۰۴۸

[النساء: 48]

“اللہ شرک کو ہرگز معاف نہیں کرتا، اس کےسوا دوسرے گناہوں کو وہ جس کے لیے چاہتا ہے معاف کر دیتا ہے، اللہ کے ساتھ جس نے بھی کسی اور کو شریک ٹھہرایا اُس نے بہت بڑا بہتان باندھا”۔

اللہ تعالیٰ کے ان فرامین کی بنا پر تو مرزا غلام احمد قادیانی کو ایک پاک انسان قرار دینا بھی جائز نہیں چہ جائیکہ اسے نبی مانا جائے لیکن حیرت ہے اس کے اندھے مقلدین پر کہ پھر بھی اس شخص کو نبی مانتے ہیں!

اللہ کے سچے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

الْإِيمَانُ بِضْعٌ وَسِتُّونَ شُعْبَةً ، وَالْحَيَاءُ شُعْبَةٌ مِنَ الْإِيمَان

(صحیح مسلم:کتاب الایمان، باب: بیان عدد شعب الایمان)

’’ایمان کی ستر سے کچھ زیادہ شاخیں ہیں اور حیا بھی ایمان کی ایک شاخ ہے‘‘۔

لیکن جب انسان پر حیا کی چادر کا کوئی ٹکڑا بھی باقی نہیں رہتا تو پھر وہ جو بھی جھوٹا دعوی چاہے، کر سکتا ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

إِنَّ مِمَّا أَدْرَكَ النَّاسُ مِنْ كَلَامِ النُّبُوَّةِ إِذَا لَمْ تَسْتَحْيِ فَافْعَلْ مَا شِئْتَ

( صحیح بخاری:کتاب الادب،باب: إِذَا لَمْ تَسْتَحْيِ فَافْعَلْ مَا شِئْتَ)

’’بلاشبہ قدیم کلام نبوت میں سے جو کچھ لوگوں نے حاصل کیا اس میں یہ بھی ہے کہ “جب تو حیا نہیں کرتا تو جو چاہتا ہے کر گزر‘‘۔

مرزا غلام احمد قادیانی کے پاس بھی جب حیا کا ذرّہ باقی نہ رہا تو وہ اپنے ربّ کے سامنے زبان درازی پر اُتر آیا، وہ اپنی حیثیت بھول گیا کہ وہ خالق نہیں مخلوق ہے، اپنے رب کے سامنے اس قدر زبان دراز تو مشرکین مکہ بھی نہ تھے، اگر مرزا غلام احمد قادیانی اُس دور میں ہوتا اور پھر مشرکین مکہ کے سامنے یہ دعوے کرتا تو شاید وہ اس کی درگت ہی بنا ڈالتے۔

اب جبکہ مرزا غلام احمد قادیانی کے نزدیک اللہ تعالی’ کا کوئی وقار نہ تھا اور سب سے اہم بنیادی اور عظیم عقیدے،عقیدہ توحید کا انکار کرنا بھی اس کے لیے آسان ہو گیا تھا تو  دیگر اسلامی عقائد کا انکار بھی اس کے لیے کوئی مسئلہ نہ رہا، چنانچہ اس نے صرف عقیدہ ختم نبوت ہی نہیں بلکہ ہر مقدس نظریے پر حملہ کر کے اللہ تعالیٰ  کا باغی بندہ ہونے کا ثبوت دیا، اس کی چند مثالیں دیکھنے سے پہلے عقیدہ ختم نبوت سے متعلق اللہ تعالیٰ  اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے فرامین ملاحظہ فرمائیں:

اللہ تعالی نے فرمایا:

مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَاۤ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَ لٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَ خَاتَمَ النَّبِيّٖنَ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيْمًاؒ۰۰۴۰

 [الأحزاب: 40]

“محمدؐ تمہارے مَردوں میں سے کسی کے باپ نہیں لیکن اللہ کے رسول اور نبیوں کے سلسلے کو ختم کرنے والے ہیں، اور اللہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے”۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

إِنَّ مَثَلِي وَمَثَلَ الْأَنْبِيَاءِ مِنْ قَبْلِي كَمَثَلِ رَجُلٍ بَنَى بَيْتًا فَأَحْسَنَهُ وَأَجْمَلَهُ إِلَّا مَوْضِعَ لَبِنَةٍ مِنْ زَاوِيَةٍ ، فَ0جَعَلَ النَّاسُ يَطُوفُونَ بِهِ وَيَعْجَبُونَ لَهُ وَيَقُولُونَ هَلَّا وُضِعَتْ هَذِهِ اللَّبِنَةُ ، قَالَ : فَأَنَا اللَّبِنَةُ وَأَنَا خَاتِمُ النَّبِيِّينَ

(صحیح بخاری:کتاب المناقب،باب خاتم النّبین)

’’بے شک میری اور مجھ سے پہلے انبیاء کی مثال ایسی ہے جیسے کسی شخص نے ایک گھر بنایا،اس کو بہت عمدہ اور آراستہ پیراستہ بنایا مگر ایک کونے میں ایک اینٹ کی جگہ چھوڑ دی،پس لوگ جوق در جوق آتے ہیں اور تعجب کرتے ہیں  اور یہ کہتے ہیں یہ اینٹ کیوں نہیں لگا دی گئی، آپ نے فرمایا:وہ اینٹ میں ہوں اور میں انبیاء کرام کا سلسلہ نبوت ختم کرنے والا ہوں “-

اور فرمایا:

كَانَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ تَسُوسُهُمُ الأَنْبِيَاءُ، كُلَّمَا هَلَكَ نَبِيٌّ خَلَفَهُ نَبِيٌّ، وَإِنَّهُ لاَ نَبِيَّ بَعْدِي، وَسَيَكُونُ خُلَفَاءُ فَيَكْثُرُونَ قَالُوا: فَمَا تَأْمُرُنَا؟ قَالَ: «فُوا بِبَيْعَةِ الأَوَّلِ فَالأَوَّلِ، أَعْطُوهُمْ حَقَّهُمْ، فَإِنَّ اللَّهَ سَائِلُهُمْ عَمَّا اسْتَرْعَاهُمْ

( صحیح بخاری،  کتاب  احادیث الانبیاء ، باب ذکر  عن بنی اسرائیل )

“بنی اسرائیل کی رہنمائی ان کے انبیاء کرام علیہ السلام کیا کرتے تھے، جب کسی نبی کی وفات ہو جاتی تھی تو اللہ تعالیٰ  کسی دوسرے نبی کو ان کا خلیفہ بنا دیتا تھا لیکن میرے بعد کوئی نبی نہیں، البتہ خلفاء ہوں گے اور بہت ہوں گے،صحابہ کرام نے عرض کیا،اُن کے متعلق آپ کیا حکم دیتے ہیں، آپ نے فرمایا ہر ایک کے بعد دوسرے کی بیعت پوری کرو اور ان کے حق اطاعت کو پورا کرو،اس لئے کہ اللہ تعالیٰ  اُن کی رعیت کے متعلق اُن سے سوال کرے گا “۔

اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ان فرامین سے بالکل واضح ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد قیامت تک کوئی نیا نبی کسی بھی حیثیت میں نہیں آئے گا، اس کے خلاف عقیدہ رکھنا کفر ہے۔

قیامت سے پہلے عیسی علیہ السلام کے نزول کا صحیح احادیث میں ذکر ہے لیکن ان کی یہ آمد کسی نبی کی حیثیت سے نہیں بلکہ عادل حکمران کی حیثیت سے ہو گی۔

نبی ﷺ نے فرمایا:

وَالَّذِی نَفْسِیْ بِیَدِہِ لَیُوْشِکَنَّ اِنْ یَنُزِلَ فِیْکُمْ ابنُ مَرْیَمَ حَکَمًا عَدْلاً ، فَیَکُسِرَ الصَّلِیْبَ وَ یَقْتُلَ الخِنْزِیْرَ ، وَ یَضَعَ الجَزْیَۃَ وَیَقْبُضَ المَالُ حَتَّی لَا یَقْبَلَہُ اَحَدً

  (بخاری: کتاب الانبیاء ۔باب نزول عیسیٰ بن مریم  ؑ)

” اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، عنقریب تمہارے مابین عیسیٰ بن مریم حاکم و عادل بن کر نزول فرمائیں گے، صلیب توڑیں گے ، خنزیر کو قتل کریں گے ، جزیہ ختم کریں گے ، اور مال کی اتنی فراوانی ہو گی کہ کوئی اس کو قبول نہ کرے گا”۔

مرزا قادیانی نے اللہ تعالیٰ اور   اس کے رسول ﷺ کے ان سب فرامین کا مذاق اڑاتےہوئے صرف ایک نبی نہیں بلکہ انبیاء ہونے کا دعویٰ کیا۔ ایک جھوٹے یعنی خود پر القا کیے ہوئے الہام کی تشریح کرتے ہوئے لکھتا ہے:

“مریم سے مریم اُمِ عیسیٰ مراد نہیں اور نہ آدم سے آدم ابوالبشر مراد ہے اور نہ احمد سے اس جگہ حضرت خاتم الانبیاء مراد ہیں، اور ایسا ہی ان الہامات کے تمام مقامات میں کہ جو موسیٰ اور  عیسیٰ اور داؤد وغیرہ نام بیان کیے گئے ہیں، ان ناموں سے بھی وہ انبیاء مراد نہیں  ہیں ہے بلکہ ہر جگہ یہی عاجز مراد ہے”.(مکتوبات احمدیہ۔ جلد اول۔صفحہ:82،83، بحوالہ : تذکرہ، وحی مقدس ورؤیا وکشوف، صفحہ: 55،56، طبع چہارم ۔مطبع ضیاءالاسلام پریس، ربوہ، پاکستان)

“خدا تعالیٰ نے مجھے تمام انبیاء ﷩کا مظہر ٹھہرایا ہے اور تمام نبیوں کے نام میری طرف منسوب کیے ہیں۔ میں آدم ہوں، میں شیث ہوں، میں نوح ہوں، میں ابراہیم ہوں، میں اسحق ہوں، میں اسمٰعیل ہوں ، میں یعقوب ہوں، میں یوسف ہوں، میں موسیٰ ہوں، میں داؤد ہوں ، میں عیسیٰ ہوں اور آنحضرت ﷺ کے نام کامیں مظہراتم ہوں یعنی ظلی طور پر محمدؑاور احمد ؑہوں”۔(حقیقت الوحی، حاشیہ، صفحہ: 73)

ثابت یہی ہوا کہ اُلوہیت کے جھوٹے دعوے کرنے والے شخص کے لیے اس سےکم تر جھوٹے دعوے کرنا بھی مشکل نہیں۔

قارئین! ایک مرد کا کہنا ہے کہ وہ اپنے ہی پیٹ سے پیدا ہوا ہے۔۔۔ یقیناً یہ جملہ پڑھ کر آپ کا خون کھول اٹھا ہو گا۔آپ اس بات کو نہایت بدترین ، لغو، بیہودہ اور واہیات قرار دے رہے ہوں گے اور شاید آپ اس تحریر کو مزید نہ پڑھنا چاہتے ہوں لیکن ٹھہریے ! اسے ضرور پڑھیے تاکہ آپ جان لیں کہ جب انسان اپنے ربّ کی نافرمانی کے راستے کو پسند کر لیتا ہے تو اللہ تعالیٰ کے فرمان؛  ثُمَّ رَدَدْنٰهُ اَسْفَلَ سٰفِلِيْنَ کے مصداق ، اسے بدترین پستی کی طرف دھکیل دیا جاتا ہے نعوذباللہ من ذالک۔ اپنے پیٹ سے پیدا ہونے کا دعویدارشخص یہی مرزا قادیانی ہے۔ وہ لکھتا ہے:

“…اس لیے گو اس نے براہین احمدیہ کے تیسرے حصہ میں میرا نام مریم رکھا پھر جیسا کہ براہین احمدیہ سے ظاہر ہےدو (2) برس تک صفت مریمت میں میں نے  پرورش پائی اور پردہ میں نشونما پا تا ر ہا پھر جب اس پر دو برس گزر گئےتو جیسا کہ  براہین احمدیہ کے حصہ چہارم صفحہ 496 میں درج ہے مریم کی طرح عیسیٰ کی روح مجھ میں نفخ کی گئی اور استعارہ کے رنگ میں مجھے حاملہ ٹھہرایا گیا اور آخر کئی مہینہ کے بعد جو دس مہینے سے زیادہ نہیں بذریعہ اس الہام کے جو سب سے آخر براہین احمدیہ کے حصہ چہارم صفحہ 556 میں درج ہے مجھے مریم سے عیسیٰ بنایا گیا پس اس طور سے میں ابن مریم ٹھہرا”۔  (کشتی نوح۔ صفحہ 50مطبع ضیاء الاسلام ، قادیان)

مرزا قادیانی ” اپنے درد زہ” کو بیان کرتا ہے کہ:

” خدا نے مجھے پہلے مریم کا خطاب دیا اور پھر نفخ روح کا الہام کیا۔ پھر بعد اس کے یہ الہام ہوا تھا فَاَجَاۗءَهَا الْمَخَاضُ اِلٰى جِذْعِ النَّخْلَةِ  ۚ قَالَتْ يٰلَيْتَنِيْ مِتُّ قَبْلَ ھٰذَا وَكُنْتُ نَسْيًا مَّنْسِيًّایعنی پھر مریم کو جو مراد اس عاجز سے ہے دردِزہ تنہ کھجورکی طرف لے آئی یعنی عوام الناس اور جاہلوں اور بے سمجھ علماء سے واسطہ پڑا”۔ (کشتی نوح صفحہ 51)

یہ شرمناک دعوے کرنے سے پہلے مرزا قادیانی نے اس بات کا لحاظ بھی نہ رکھا کہ خود اسی نے اپنے والد کا نام غلام مرتضیٰ بتایا ہے اور ( اس کے بیٹے مرزا بشیر کے بقول ) اس کی والدہ کا نام (مریم نہیں) بلکہ چراغ بی بی تھا۔(ملاحظہ کریں: کتاب البریہ، حاشیہ صفحہ 14 مطبع ضیاءالاسلام، قادیان/ سیرۃالمہدی حصہ اول صفحہ 8 روایت نمبر 10۔ از مرزا بشیر)

قارئین دیکھا آپ نے ! شرک کی گندگی میں لت پت انسان سے کوئی بھی دیگر جھوٹ کہہ دینابعید نہیں۔

          مرزا قادیانی جھوٹ گھڑنے کی ایک حیرت انگیز مشین تھا۔ اس سے جس قدر جھوٹ کی پیداوار ہوئی ہے اس کی مثال فرعون کے زمانے میں بھی نہ ملے گی۔ اس کی تحریک کا واضح مقصد یہ نظر آتا ہے کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے فرامین کا شدید منکر گروہ تیار کیا جائے جسے ان فرامین کا انکار کرنے میں ذرا سی بھی جھجھک یا شرم محسوس نہ ہو۔ قارئین یہ نہ سمجھیں کہ مرزا جھوٹ کی قباحت سے نا آشنا تھا کیونکہ وہ لکھتا ہے:

“جھوٹ بولنا اور گوہ کھانا ایک برابر ہے”۔ (حقیقت الوحی۔ صفحہ 206)

’’ ایسا آدمی جو ہر روز خدا پر جھوٹ بولتا ہے اور آپ ہی ایک بات  تراشتا ہے اور پھر کہتا ہے کہ  یہ خدا کی وحی ہے مجھ کو ہوئی ہے۔ ایسا بدذات انسان تو کتوں اور سؤروں اور بندروں سے بدتر ہوتا ہے۔ پھر کب ممکن ہے کہ خدا اس کی حمایت کرے”۔(ضمیمہ براہین احمدیہ صفحہ 126)

لہٰذا مرزا کی بدقسمتی تھی کہ وہ جان بوجھ کر اس بدترین کام یعنی جھوٹ گھڑنے اور پھیلانے کا کام کر کے پھر بغیر توبہ کیے دنیا سے رخصت ہو گیا۔

مرزا نے علی ہونے کا بھی دعویٰ کیا۔ وہ اہل تشیع کو مخاطب کرتے ہوئے کہتا ہے:

“پرانی خلافت کا جھگڑا چھوڑو۔ اب نئی خلافت لو۔ ایک زندہ علی تم میں موجود ہے اس کو چھوڑتے ہواور مردہ علی کی تلاش کرتے ہو”۔(ملفوظات، حصہ اوّل، ایڈیشن، 1988سنہ، صفحہ 400، مطبع ضیاء الاسلام ربوہ)

بیک وقت اِلٰہ کا مثل اور فرشتہ ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے لکھتا ہے:

” اور دانی ایل نبی نے اپنی کتاب میں میرا  نام میکائیل رکھا ہے اور عبرانی میں لفظی معنی میکائیل  کے ہیں خدا کی مانند”۔(اربعین، حاشیہ، صفحہ 71)

بیت اللہ ہونے کا دعویٰ:

” خدا نے اپنے الہامات میں میرا نام بیت اللہ بھی رکھا ہے”۔(تذکرہ، وحی مقدس…صفحہ 28)

قرآن جیسا ہونے کا دعویٰ:

مرزا قادیانی اپنا جھوٹا الہام بیان کرتا ہے کہ:

ما انا الّا کل قرآن      میں تو بس قرآن ہی کی طرح ہوں…”۔(تذکرہ۔ صفحہ 570)

نوح علیہ السلام ہونے کا دعویٰ ایک اور انداز سے:

’’اسی طرح براہین احمدیہ کے حصص سابقہ میں خدا تعالیٰ نے میرا نام نوح بھی رکھا ہے اور میری نسبت فرمایا ہے “وَلَا   تُخَاطِبْنِیْ  نِی الَّذِ یْنَ  ظَلَمُوْ ج اِنَّھُمْ مُّغْرَقُوْن” یعنی میری آنکھوں کے سامنے کشتی بنا اور ظالموں کی  شفاعت کے بارے میں مجھ سے کوئی بات نہ کر کہ میں ان کو غرق کروں گا۔(براہین احمدیہ ۔ حصہ پنجم۔ صفحہ 86)

جھوٹ پر جھوٹ کہنے کی ایک اور مثال:

مگر جس وقت حضرت مسیح کا بدن صلیب کی کیلوں سے توڑا گیا اس زخم اور شکست کے لیے تو خدا نے مرہم عیسیٰ طیار* کر دی تھی جس سے چند ہفتوں ہی میں حضرت عیسیٰ شفا پا کر اس ظالم ملک سے ہجرت کر کے کشمیر جنت نظیر کی طرف چلے آئے…اور یہ جو حدیثوں میں آیا ہے کہ مسیح حکم ہو کر آئے گا اور وہ اسلام کے تمام فرقوں پر حاکم عام ہو گا جس کا ترجمہ انگریزی میں گورنر جنرل ہے …سو ان حدیثوں سے صریح اور کھلے طور پرانگریزی حکومت کی تعریف ثابت ہوتی ہے کیونکہ وہ مسیح اسی سلطنت کے ماتحت پیدا ہوا ہے”۔ (تریاق القلوب۔ صفحہ 16، 17)

ایک ہی سانس میں کئی جھوٹ:

” جس روز وہ الہام مذکورہ بالا جس میں قادیان میں نازل ہونے کا ذکر ہے ہوا تھا اس روز کشفی طور پر میں نے دیکھا کہ میرے بھائی صاحب مرحوم غلام قادر میرے قریب بیٹھ کر بآواز بلند قرآن شریف پڑھ رہے ہیں اور پڑھتے پڑھتے انھوں نے ان فقرات کو پڑھا انا انزلناہ قریبا من القادیان   تو میں نے سن کر بہت تعجب کیا کہ کیا قادیان کا نام بھی قرآن شریف میں لکھا ہوا ہے۔ تب انھوں نے کہا دیکھو لکھا ہوا ہے۔ تب میں نے نظر ڈال کر جو دیکھا تو معلوم ہوا کہ فی الحقیقت قرآن شریف کے دائیں صفحہ میں شاید قریب نصف کے موقع پر یہ الہامی عبارت لکھی  ہوئی موجود ہے۔تب میں نے اپنے دل میں کہا کہ واقع طور پر قادیان کا نام قرآن شریف میں درج ہے اور میں نے کہا تین شہروں کا نام اعزاز کے ساتھ قرآن شریف میں درج کیا گیا ہے مکہ، مدینہ اور قادیان”(ازالہ اوبام صفحہ 76، 77)

صحابہ ؓ کی شان میں گستاخی کرتے ہوئے لکھتا ہے:

بعض نادان صحابی جن کو درایت سے  کچھ حصہ نہ تھا…(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم مندرجہ روحانی خزائین جلد 21 صفحہ 285)

” جو شخص قرآن شریف پر ایمان لاتا ہے، اسے چاہیے کہ ابو ہریرہ کے قول کو ردی متاع کی طرح پھینک دے” (ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص210 مندرجہ روحانی خزائین ج 21 ص 41)

مرزا قادیانی نے اسی طرح اپنی کتابوں اعجاز احمدی کے صفحہ 18 اور حقیقتہ الوحی کے صفحہ 34 پر صحابہ ؓ کے بارے میں اپنے خبث باطن کا اظہار کیا ہے نعوذ باللہ من ذالک۔

یہ مرزا قادیانی کی ہزاروں خرافات میں سے چند مثالیں تھیں ۔ اس بد بخت کی بہت سی خرافات کو تو نقل ہی نہیں کیا جا سکتا۔ اس نے اپنی کتابوں میں، نعوذ باللہ ، اللہ کے برگزیدہ و پاکباز نبی عیسیٰ علیہ السلام کی توہین کرتے ہوئے انہیں شرابی، بدکار، بدکاری کی تعلیم دینے والا، بدزبانی کرنے والا، جھوٹ بولنے والا، گالیاں دینے والا، علمی خیانت کا ارتکاب کرنے والا اور ذہنی مریض قرار دیا ہے۔ (ملاحظہ کریں: انجام آتھم صفحہ 5،6،7، کشتی نوح، حاشیہ، صفحہ 73 نسیم دعوت، صفحہ 29 نورالقرآن صفحہ 42)

دراصل یہ ساری خرابیاں مرزا قادیانی میں ہی موجود تھیں۔ ان خرابیوں کے ثبوت اللہ تعالیٰ نے خود اس کے اور اس کے پیروکاروں کے ہاتھوں تحاریر کی شکل میں ظاہر فرمائےہیں۔ مرزا قادیانی کو اپنا آپ مثلِ عیسیٰ کے طور پر منوانا تھا۔  عیسیٰ علیہ السلام کی پاکبازی ثابت کرنے والی آیات بدکردار مرزا قادیانی کو مثلِ عیسیٰ منوانے میں رکاوٹ تھیں لہٰذا اس کی شیطانی سوچ نے اس کا یہ حل نکالا کہ جھوٹے الزامات اور مکاشفوں کے ذریعے عیسیٰ ؑ کو  بھی اپنے جیسا بے حیا، جھوٹا اور بدکردار شخص باور کرایا جائے، ثم نعوذ باللہ۔ اللہ تعالیٰ کا کرنا دیکھیے کہ اللہ، اس کے رسولوں اور اس کے دین کا مذاق اڑانے والے مرزا قادیانی نے اپنی کتاب براہین احمدیہ، حصہ پنجم، صفحہ 97 پر ایک شعر میں اپنے آپ کو اس قدر شرمناک گالی دی ہے کہ اسے نقل کرنے کی ہم میں ہمت نہیں۔ اس طرح ظالم خود اپنے ہاتھوں اپنی ذلت کا سامان ترکہ میں چھوڑ گیا۔فَاعْتَبِرُوْا يٰٓاُولِي الْاَبْصَارِ

­­­­­­­­­­­­­­­­­­__________________________________________________________

*نوٹ: درج بالا قول میں ان  کے لکھے ہوئے لفظ طیار  سے غالباً تیار مراد ہے۔

Categories
Urdu Articles

حرمت خانہ کعبہ

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دیوبند ی مسلک کا یہ عقیدہ ہے کہ

’’.وہ حصہ زمین جو جناب رسول اﷲ کے اعضاء مبارکہ کومَس کیے ہوئے ہے علی الاطلاق افضل ہے۔ یہاں تک کہ کعبہ اور عرش وکرسی سے بھی افضل ہے۔‘‘

          یہ عقیدہ ان کی کتاب ‘‘اَلْمُھَنَّدُ عَلَی الْمُفَنَّدِ ’’میں بیان کیا گیا ہے ۔ یہ وہ کتاب ہے جو احمدرضاخاں بریلوی  کی کتاب ‘‘حُسّامُ الحَرَمَیْن علی منحر الکفر والمین’’ کے جواب میں لکھی گئی، جس میں دیوبندی عقائد لکھے گئے ہیں، اور ان پر اس وقت کے بڑے بڑے تمام دیوبندی علماء مثلاً خلیل احمدسہارنپوری (مصنف کتاب) ، اشرف علی تھانوی، مفتی کفایت اﷲ، وغیرہ نے مہر تصدیق ثبت کی ہے ۔

   جس کسی کے دل میں اﷲ کا ذرہ برابر بھی وقار ہوگا وہ اس باطل عقیدے کا فوراً رد کردے گا، لیکن توحید کے بلند بانگ دعوے کرنے والے ان مسلک پرستوں کے دل میں اﷲ کا کوئی وقار نہیں۔ کیا یہ لوگ اﷲ کے اس فرمان سے ناآشنا ہیں :

مَا لَكُمْ لَا تَرْجُوْنَ لِلّٰهِ وَقَارًاۚ۰۰۱۳

 (نوح: 13)

’’تمہیں کیا ہوگیا ہے ، تمہارے نزدیک اﷲ کا کوئی وقار نہیں ‘‘

    اس عقیدے میں اﷲتعالیٰ کی عظمت و کبریائی کی تنقیص کرتے ہوئے رسول اﷲ کو فوقیت دی گئی ہے ۔ عبد کو معبود سے ، مخلوق کو خالق سے بڑھاکر پیش کیا گیا ہے ۔ اﷲ تعالیٰ سے منسوب چیزوں کے مقابلے میں رسول  سے منسوب چیز کو افضل قرار دیا گیا ہے ، حالانکہ جس طرح اﷲ سے افضل تو کیا اس کے برابر بھی کوئی چیز نہیں، اسی طرح دوسروں سے منسوب کوئی شے بھی منسوب الیٰ اﷲسے افضل و اعلیٰ بلکہ برابر بھی نہیں ہوسکتی کہ یہی توحید باری تعالیٰ کا تقاضہ ہے:

لِلَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ مَثَلُ السَّوْءِ١ۚ وَ لِلّٰهِ الْمَثَلُ الْاَعْلٰى ١ؕ وَ هُوَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُؒ۰۰۶۰

       (النحل: 60)

’’ ان لوگوں کے لیے جو ایمان نہیں رکھتے آخرت پر ، بری مثال ہے اور اللہ کے لیے سب سے اعلی مثال ہے اور وہی بہت غالب ، خوب حکمت والا ہے‘‘۔

وَ لَمْ يَكُنْ لَّهٗ كُفُوًا اَحَدٌؒ۰۰۴

(الاخلاص :4)

’’ اس کا کوئی کفو (برابر و ہمسر) نہیں ‘‘۔

هَلْ تَعْلَمُ لَهٗ سَمِيًّاؒ

 (مریم :65)

’’ کیا تو جانتا ہے کسی کو اس کے نام کا ( اس کے جیسا)‘‘

لَيْسَ كَمِثْلِهٖ شَيْءٌ

(الشوریٰ :11)

’’ اس کی مثال جیسی (کائنات) میں کوئی چیز نہیں ‘‘

خانہ کعبہ کا کیا مقام ہے، اس بارے میں اللہ تعالیٰ کا بیان ملاحظہ فرمائیں :

اِنَّ اَوَّلَ بَيْتٍ وُّضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِيْ بِبَكَّةَ مُبٰرَكًا وَّ هُدًى لِّلْعٰلَمِيْنَۚ۰۰۹۶

(آل عمران :96)

’’بے شک پہلا گھر جو لوگوں کے لیے (بغرض عبادت) بنایا گیا وہی ہے جو مکہ میں ہے، بابرکت ہے اور جہانوں کے لیے موجب ہدایت ہے۔‘‘

جَعَلَ اللّٰهُ الْكَعْبَةَ الْبَيْتَ الْحَرَامَ قِيٰمًا لِّلنَّاسِ

  (المائدۃ :97)

’’اﷲ نے لوگوں کے قیام کے واسطے کعبہ کو حرمت والا گھر بنایا ۔‘‘

          یہی وہ عزت وشرف والا گھر ہے جسے آدم ؑ نے بنایا ، پھر نبی  کے جد امجد ابراہیم و اسماعیل علیہما السلامنے تعمیر کیا۔ یہی وہ گھر ہے جس کی طرف منہ کرکے فریضۂ صلوٰۃ ادا کرنے کا حکم دیا گیا  اور اس کا استقبال ادائیگی صلوٰۃ کی شرط لازم قرار دیا گیا ۔ یہی وہ مقام ہے جس کے طواف کے بغیر حج جیسی افضل ترین عبادت نہیں ہوتی ۔ نبیاور ان سے پہلے انبیاءعلیہم السلام نے اس کا طواف کیا، جہاں ادا کی جانے والی صلوٰۃ (اجروثواب میں) مسجد نبوی کی سوصلوٰۃ  اور دوسری مساجد کی ایک لاکھ صلوٰۃ  سے افضل ہے ۔لیکن مسلک پرستوں کی نظر میں شاید اس کی کوئی اہمیت نہیں ۔ کعبہ شعائراﷲ میں سے ہے جس کی توہین کفر اورتعظیم تقویٰ ہے:

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تُحِلُّوۡا شَعَآئِرَ اللہِ 

 (المائدۃ:2)

’’ مومنو! شعائر اﷲ کو حلال نہ سمجھو (ان کی بے حرمتی نہ کرو)۔‘‘

يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تُحِلُّوْا شَعَآىِٕرَ اللّٰهِ

  (الحج :32)

’’اور جو شعائر اﷲ کی تعظیم کرتا ہے تو یہ دل کے تقویٰ کی بات ہے‘‘

          اوپر دی گئی آیات و احادیث کی روشنی میں قبرنبوی کوخانہ کعبہ سے افضل جاننے کا عقیدہ ،کیا کعبے کی تنقیص و توہین نہیں کرتا ؟

انہوں نے نبی کی قبر کی مٹی کو اللہ کے عرش سے بھی افضل بیان کیا ہے ( استغفر اللہ )۔ قرآن مجید میں  عرش الہی کے بارے میں بیان کیا گیا:

اِنَّ رَبَّكُمُ اللّٰهُ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ فِيْ سِتَّةِ اَيَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ

 (الاعراف : 54/یونس :3)

’’بیشک تمہارا رب اﷲ ہے جس نے چھ دن میں آسمانوں اورزمین کو بنایا ، پھر عرش پر مستوی ہوگیا‘‘

ا سی طرح کا مضمون قرآن میں دوسری جگہوں پر بھی ہے :

اَلرَّحْمٰنُ عَلَى الْعَرْشِ اسْتَوٰى ۰۰۵

 (طٰہٰ :5)

’’وہ بڑا مہربان عرش پر مستوی ہوا ‘‘۔

هُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيْمِؒ

(التوبہ :129)

’’وہ بڑی عظمت والے عرش کا مالک ہے ‘‘۔

لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ رَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِيْمِ

( توبہ : 129 )

’’ اس بڑی عظمت والے عرش کے مالک کے علاوہ کوئی الٰہ نہیں ‘‘

لَوْ كَانَ فِيْهِمَاۤ اٰلِهَةٌ اِلَّا اللّٰهُ لَفَسَدَتَا١ۚ فَسُبْحٰنَ اللّٰهِ رَبِّ الْعَرْشِ عَمَّا يَصِفُوْنَ۰۰۲۲

 (الانبیاء :22)

’’اگر ان دونوں (زمین وآسمان) میں اﷲ کے علاوہ کوئی اور الٰہ ہوتا تو ضرور فساد ہوجاتا، سو اﷲ جو عرش کا مالک ہے پاک ہے اُن باتوں سے جو یہ بیان کرتے ہیں۔‘‘

          ان کے علاوہ بھی قرآن میں متعدد مقامات پر عرش الٰہی کی عظمت، بزرگی، عزت، تشریف، تعظیم، تکریم، تمجید، تمکنت و توقیرکا ذکر ہے ۔ عرش الٰہی کی فضیلت بخاری کی اس روایت سے بھی واضح ہوتی ہے کہ جس دن اﷲ کے (عرش کے) سائے کے سوا کوئی سایہ نہ ہوگا تو سات قسم کے اشخاص اس کے نیچے ہوں گے ۔عرش وہ جگہ ہے جس پر تمام کائنات کا خالق و مالک مستوی[1]ہے ۔ اس کی عظمت کا کیا کہنا ،لیکن دیوبندی حضرات نبی کی قبر کی مٹی کو اللہ کے عرش سے افضل قرار دیتے ہیں۔

زمین کے کسی ٹکڑے کی خواہ وہ قبر نبوی ہی کیوں نہ ہو ،اﷲ کے عرش سے کوئی نسبت ہو ہی نہیں سکتی چہ جائیکہ اس کو افضل قرار دیا جائے ۔ اب آئیے کرسی کی طرف جس کا ذکر آیت الکرسی میں ہے:

اللہ کی کرسی کی توہین :

وَسِعَ كُرْسِيُّهُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ١ۚ وَ لَا يَـُٔوْدُهٗ حِفْظُهُمَا

(البقرۃ :255)

’’تمام زمین اور آسمانوں پر اﷲ کی کرسی چھائی ہوئی ہے جن کی حفاظت اسے ذرا بھی دشوار نہیں‘‘

    کرسی سے مرادچارپایوں والی کوئی نشست ہرگز نہیں کیونکہ نعوذباﷲ اﷲ کا کوئی محدود مادّی جسم نہیں جو ایک محدود جگہ پر متمکن ہو ۔ ہم تو اس کی کرسی اور اس پر مستوی ہونے کا تصور و ادراک بھی نہیں کرسکتے ۔’کرسی‘‘سے مرادکرسی استویٰ کے ساتھ تمام کائنات کا کنٹرول ، قابو ، اختیار ، اقتدار اور نظمِ حکومت وغیرہ سب ہی کچھ ہے،کیونکہ زمین اور آسمان اور جو کچھ ان کے درمیان ہے، سب پر اس اکیلے اﷲ کی حکومت ہے ۔وہی اکیلا ان کا نظام چلارہا ہے ، اس کے امر کے سامنے ہر شے اور مخلوق عاجز ہے ، ہیچ ہے مگر ان مسلک پرستوں کے نزدیک قبر نبوی اﷲ کے اس لامحدود اختیار (یعنی کرسی) سے افضل ہے ۔ اس طرح غیراﷲ کی منسوبات کو اﷲ تعالیٰ کی منسوبات سے افضل قرار دے کر انہوں نے مخلوق کو خالق سے اور بندے کو آقا سے بڑھادیا ہے ۔


 

Categories
Urdu Articles

جادو کی حقیقت قرآن و حدیث کی روشنی میں

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

          إِنَّ الْحَمْدَ لِلَّهِ، نَحْمَدُهُ وَنَسْتَعِينُهُ، مَنْ يَهْدِهِ اللهُ فَلَا مُضِلَّ لَهُ، وَمَنْ يُضْلِلْ فَلَا هَادِيَ لَهُ، وَأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، أَمَّا بَعْدُ

          جب کوئی قوم قرآن و حدیث سے دور ہو جائے تو اس میں دوسرے باطل عقائد  کا زور بڑھ جاتا ہے۔ آج اس  کلمہ گو امت  میں بھی  بہت سے ایسے عقائد آگئے ہیں جو قرآن و حدیث کے صریحاً خلاف  ہیں، جیسا کہ  یہ عقیدہ کہ جادو کے زور سے کوئی جادوگر کسی کا ہونے والا رشتہ ختم کرا سکتا ہے، کسی کا کاروبار ختم کرسکتا ہے، کوئی اس کی وجہ سے  بیمار ہوسکتا ہے وغیرہ وغیرہ۔

          اس کے برعکس ایسے بھی لوگ  ہیں کہ جواحادیث کا انکار کرتے کرتے قرآن مجید کی آیات تک کا انکار کرجاتے ہیں۔ دراصل یہ سب  وہی گمراہی ہے جو کتاب  اللہ کی دوری کے باعث پیدا ہوئی ہے۔ذیل میں ہم کتاب اللہ سے اس موضوع پر دلائل دیتے ہیں :

قرآن مجید میں جادو کا ذکر :

وَ اتَّبَعُوْا مَا تَتْلُوا الشَّيٰطِيْنُ عَلٰى مُلْكِ سُلَيْمٰنَ١ۚ وَ مَا كَفَرَ سُلَيْمٰنُ وَ لٰكِنَّ الشَّيٰطِيْنَ كَفَرُوْا يُعَلِّمُوْنَ النَّاسَ السِّحْرَ١ۗ وَ مَاۤ اُنْزِلَ عَلَى الْمَلَكَيْنِ بِبَابِلَ هَارُوْتَ وَ مَارُوْتَ١ؕ وَ مَا يُعَلِّمٰنِ مِنْ اَحَدٍ حَتّٰى يَقُوْلَاۤ اِنَّمَا نَحْنُ فِتْنَةٌ فَلَا تَكْفُرْ١ؕ فَيَتَعَلَّمُوْنَ مِنْهُمَا مَا يُفَرِّقُوْنَ بِهٖ بَيْنَ الْمَرْءِ وَ زَوْجِهٖ١ؕ وَ مَا هُمْ بِضَآرِّيْنَ بِهٖ مِنْ اَحَدٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ يَتَعَلَّمُوْنَ مَا يَضُرُّهُمْ وَ لَا يَنْفَعُهُمْ١ؕ وَ لَقَدْ عَلِمُوْا لَمَنِ اشْتَرٰىهُ مَا لَهٗ فِي الْاٰخِرَةِ مِنْ خَلَاقٍ١ؕ۫ وَ لَبِئْسَ مَا شَرَوْا بِهٖۤ اَنْفُسَهُمْ١ؕ لَوْ كَانُوْا يَعْلَمُوْنَ۰۰۱۰۲

 [البقرة: 102] 

’’ اور وہ ان چیزوں کی پیروی کرنے لگے جو شیاطین سلیمان کی مملکت کا نام لے کر پڑھا کرتے تھے، حالانکہ سلیمان نے کفر نہیں کیا بلکہ شیاطین نے ہی کفر کیا تھا جو لوگوں کو جادو سکھاتے تھے، اور (وہ اس کے بھی پیچھے لگ گئے) جو بابل میں دو فرشتوں ہاروت وماروت پر اترا تھا۔ حالانکہ وہ دونوں کسی کو نہ سکھاتے تھے جب تک اسکو یہ نہ بتا دیتے کہ ہم تو محض آزمائش ہیں، لہذا تم (یہ سیکھ کر) کفر نہ کرو۔ پھر بھی لوگ ان سے وہ سیکھتے تھے جس کے ذریعے شوہر اور اس کی بیوی کے درمیان جدائی ڈال دیں، (حالانکہ) وہ اس سے کسی کو بھی بغیر اللہ کے حکم کے نقصان پہنچا ہی نہیں سکتے تھے۔ اور وہ ایسی چیز سیکھتے تھے جو انہیں نقصان ہی پہنچاتی، نفع نہ دیتی۔ اور وہ خوب جانتے تھے کہ جو اس کا خریدار بنا اس کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں، اور بہت ہی بری چیز ہے وہ جس کے بدلے انہوں نے خود کو بیچ ڈالا کاش وہ اس بات کو جان لیتے‘‘۔

قرآن مجید کی مندرجہ بالا آیت میں یہ بات بیان کی گئی ہے کہ بنی اسرائیل پہلے ہی ایک ایسی  قوم کا روپ دھار چکے تھے جو مکمل طور پر  دنیا پرست اور آخرت سے غافل ہو چکی تھی اور  دوسری طرف ان کے علماء و مشائخ اس صورتحال سے پورا فائدہ اٹھا رہے تھے۔لوگوں کو یہ پٹی پڑھاتے کہ سلیمان علیہ السلام کی شان و شوکت کا دارومدار جادو ٹونے وغیرہ ہی پر تھا(مَعَاذَ اللہِ) ، اور یہ اس کے ماہر ہیں۔ان کے اس باطل پروپیگنڈے کی قطعاً تردید کر دی گئی کہ سلیمان علیہ السلام نے یہ کفر نہیں کیا تم اس اتہام طرازی میں بالکل جھوٹے ہو کفر تو ان شیاطین نے کیا جو لوگوں کو سحر سکھاتے تھے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ان پر اتمام حجت کے لیے اور ان کی مغالعہ آرائیوں اور باطل پروپیگنڈوں کا مطلق ازالہ کر دینے کے مقصد سے دو فرشتوں ہاروت و ماروت کو بابل کے شہر میں بھیجا،اور وہ اس فن کے ماہر کی حیثیت سے ان کے گروہ میں شامل ہو گئے۔لیکن ان کا طریقہ کار ان پیشہ وروں سے بالکل ہی مختلف تھا، جو بھی ان کے پاس جادو سیکھنے آتا، وہ پہلے اس کو یہ بتاتے کہ ہم تمہارے لیے آزمائش ہیں، جادو کفر ہے تم اس کو سیکھ کر کفر نہ کرو۔ لیکن جب یہودی سیکھنے پر اصرار کرتے تو وہ ان کو سکھا دیتے۔قرآن بتاتا ہے کہ یہودی ان دونوں سے وہ جادو سیکھتے تھے جس کے ذریعے شوہر و بیوی میں تفرقہ ڈال دیں۔ لیکن یہ حقیقت بھی واضح کردی گئی کہ وہ اس کے ذریعے اللہ کے حکم کے بغیر کسی کو نقصان نہ پہنچا سکتے تھے، کیونکہ اسباب میں اثر تو بہرحال اللہ کے حکم ہی پر منحصر ہے۔اور وہ اس بات کو بھی خوب جان گئے تھے کہ اس(جادو) کو حاصل کرنے والے کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں، اور بہت ہی بری کمائی ہے جو انہوں نے اپنی جانوں کے لئے کی ہے،کاش وہ اس بات کو سمجھ لیتے!

یہاں اس بات کی وضاحت بھی ضروری ہے کہ قرآن نے جادو کا ذکر ایک شیطانی عمل کے طور پر کیا ہے۔اور احادیث سے اس کی وضاحت ہوتی ہے۔اس میں تو شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں کہ یہ شیطانی عمل ہے، اس کا کرنا ،کرانا،اس کا ذوق رکھنا گناہ کبیرہ بلکہ کفر و شرک ہے۔البتہ سحر کے محدود،وقتی اور تخیلاتی اثر کا ذکر قرآن و حدیث میں ملتا ہے،جو بہرحال اللہ کے اذن و مشیت ہی کے تابع ہے ۔اس کا مطلق انکار کرنا یا اس کے اثرات کو حد سے بڑھانا ،یہ دونوں انداز قرآن و حدیث کے انکار کے مترادف ہیں۔افسوس کی بات ہے کہ بعض مفسرین نے ایک طرف تو اسرائیلی روایات کی بنیاد پر جادو کے بارے میں بے شمار من گھڑت خرافات پیش کر دی ہیں، تو دوسری طرف منکرین قرآن و حدیث نے سحر کا مطلق انکار ہی  کر دیا ہے۔ہمیں اس کو اسی حد تک ماننا چاہئے جہاں تک قرآن و حدیث نے بیان کیا ہے۔

موسیٰ علیہ السلام اور جادوگروں کا واقعہ

قَالُوْا يٰمُوْسٰۤى اِمَّاۤ اَنْ تُلْقِيَ وَ اِمَّاۤ اَنْ نَّكُوْنَ نَحْنُ الْمُلْقِيْنَ۰۰۱۱۵قَالَ اَلْقُوْا١ۚ فَلَمَّاۤ اَلْقَوْا سَحَرُوْۤا اَعْيُنَ النَّاسِ وَ اسْتَرْهَبُوْهُمْ وَ جَآءُوْ بِسِحْرٍ عَظِيْمٍ۰۰۱۱۶وَ اَوْحَيْنَاۤ اِلٰى مُوْسٰۤى اَنْ اَلْقِ عَصَاكَ١ۚ فَاِذَا هِيَ تَلْقَفُ مَا يَاْفِكُوْنَۚ۰۰۱۱۷

 [الأعراف: 115-118]

’’ ( جادوگر ) کہنے لگے: اے موسیٰ ؑ تم ڈالتے  ہو یا ہم ( پہلے ) ڈالیں۔( موسی ٰ ؑ ) نے کہا  ( تم ) ڈالو، پھر جب انہوں نے ڈالیں ( لاٹھیاں اور رسیاں  ) تو لوگوں کی آنکھوں پر جادو کردیا اور انہیں خوب ڈرایا،اور ( وہ ) زبردست جادو لائے تھے۔ اور ہم نے موسیٰؑ کی طرف وحی کی کہ اپنا عصا ڈالو ، تو ایکدم وہ نگلنے لگا ان کے جھوٹ کو جو وہ لیکر آئے تھے،۔ پس حق ثابت ہوگیا اور باطل ہوگئے ان کے اعمال‘‘۔

سورہ یونس میں اس موقع کے لئے بیان کیا گیا :

وَ قَالَ فِرْعَوْنُ ائْتُوْنِيْ بِكُلِّ سٰحِرٍ عَلِيْمٍ۰۰۷۹فَلَمَّا جَآءَ السَّحَرَةُ قَالَ لَهُمْ مُّوْسٰۤى اَلْقُوْا مَاۤ اَنْتُمْ مُّلْقُوْنَ۰۰۸۰

[يونس: 79-81]

’’  اور کہا فرعون نے، ہر ماہر جادوگر کو میرے پاس لے آؤ،  جب آگئے جادو گر تو موسیٰ ؑ نے ( ان سے ) کہا ڈالو جو کچھ تم نے ڈالنا ہے۔ جب انہوں نے ڈالا تو موسیٰ ؑ نےکہا جو کچھ ( جادو ) جو تم لائے ہو  اللہ اسے عنقریب باطل کردے گا ، اللہ تعالیٰ مفسدین کے کام کو سنوارتا نہیں ‘‘۔

سورہ طٰہٰ میں فرمایا گیا :

قَالَ بَلْ اَلْقُوْا١ۚ فَاِذَا حِبَالُهُمْ وَ عِصِيُّهُمْ يُخَيَّلُ اِلَيْهِ مِنْ سِحْرِهِمْ اَنَّهَا تَسْعٰى۰۰۶۶فَاَوْجَسَ فِيْ نَفْسِهٖ خِيْفَةً مُّوْسٰى۰۰۶۷قُلْنَا لَا تَخَفْ اِنَّكَ اَنْتَ الْاَعْلٰى ۰۰۶۸وَ اَلْقِ مَا فِيْ يَمِيْنِكَ تَلْقَفْ مَا صَنَعُوْا١ؕ اِنَّمَا صَنَعُوْا كَيْدُ سٰحِرٍ١ؕ وَ لَا يُفْلِحُ السَّاحِرُ حَيْثُ اَتٰى ۰۰۶۹

 [طه: 66-69]

 ’’  ( موسیٰؑ  نے ) کہا  بلکہ تم ڈالو ، پھر  ان ( جادوگروں ) کے جادو کے اثرسے ان کی رسیاں اور لاٹھیاں  ( موسیٰ ؑ ) کے خیال میں آیا کہ  جیسے وہ دوڑ رہی ہوں۔ پس موسیٰ ؑ اپنے دل میں ڈر گیا۔ ہم ( اللہ ) نے فرمایا  ! ڈرو نہیں، تم ہی کامیاب ہوگے۔ اور پھینکو جو تمہارے  دائیں ہاتھ میں ہے یہ نگل جائے گا  جو انہوں نے بنایا ہے، یہ تو  جادوگروں کی ایک چال ہے، اور نہیں کامیاب ہوتا جادو گر جہاں بھی وہ آئے ‘‘۔

 پیش کردہ آیات کا خلاصہ یہ ہے کہ موسیٰ علیہ السلام اور جادو گروں کے مقابلے میں جادوگروں نے  ابتداء کی اور لوگوں کی آنکھوں پر جادو کردیا۔ اس جادو کی وجہ سے موسیٰ علیہ السلام اور لوگوں کو ایسا محسوس ہوا کہ گویا وہ لاٹھیاں اور رسیاں دوڑ رہی ہوں۔ یعنی وہ دوڑ نہیں رہی تھیں بلکہ صرف ایسا محسوس ہورہا تھا ۔( گویا ) جادو ان چیزوں پر نہیں  بلکہ لوگوں کی آنکھوں پر ہوا تھا۔ ان کے اس جادو کیوجہ سے خود موسیٰ ؑ السلام پر بھی اس کا اثر ہوا اور وہ ڈر گئے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ موسیٰ ؑ یہ سب جادوگروں کی چالیں ہیں اپنا عصا پھینکو، اور جب اسے پھینکا تو ان کی ساری بناوٹی  چیزوں  کو نگل گیا، اللہ تعالیٰ نے حقیقت بتا دی کہ ان لاٹھیوں اور رسیوں کی حیثیت کچرے کی ہے، انہوں نے جو انسانوں کی آنکھوں پر جادو کیا تھا صرف اس کی وجہ سے لوگ ڈر گئے تھے۔

کیا جادو گر ان لاٹھیوں اور رسیوں پر کیمیکل لگا کر لائے تھے :

          منکریں حدیث  لوگوں کو گمراہ کرتے ہیں کہ جادو کوئی چیز نہیں ہے بلکہ جادوگر ان لاٹھیوں اور رسیوں پرکیمیکل لگا کر لے آئے تھے جس کی وجہ سے انہوں نے  بھاگنا  شروع کردیا۔ یہاں وہ  سورہ طٰہٰ کی  آیت میں بیان کردہ ٹکڑا بھی پیش کرتے ہیں : إِنَّمَا صَنَعُواْ كَيۡدُ سَٰحِرٖۖ  ’’ جو انہوں نے بنایا ہے، یہ تو  جادوگروں کی ایک چال ہے ‘‘۔

  حقیقت  تو اللہ تعالیٰ نے اسی آیت میں بتا دی ہے :  فَإِذَا حِبَالُهُمۡ وَعِصِيُّهُمۡ يُخَيَّلُ إِلَيۡهِ مِن سِحۡرِهِمۡ أَنَّهَا تَسۡعَىٰ  ’’ پھر  ان ( جادوگروں ) کی رسیاں اور لاٹھیاں  جادو کے اثرسے ( موسیٰ ؑ ) کے خیال میں آیا کہ  جیسے وہ دوڑ رہی ہوں‘‘۔ یعنی وہ دوڑ نہیں رہی تھیں بلکہ لوگوں کو ایسا لگا کہ جیسے وہ دوڑ رہی ہوں۔واضح ہوا کہ ان لاٹھیوں اور رسیوں پر کوئی کیمیکل نہیں تھا اور نہ  ہی وہ دوڑ رہی تھیں۔ بلکہ  جادو تو لوگوں کی آنکھوں پر ہوا تھا: فَلَمَّآ أَلۡقَوۡاْ سَحَرُوٓاْ أَعۡيُنَ ٱلنَّاسِ وَٱسۡتَرۡهَبُوهُمۡ وَجَآءُو بِسِحۡرٍ عَظِيمٖ ’’ پھر جب انہوں نے ڈالیں ( لاٹھیاں ) تو لوگوں کی آنکھوں پر جادو کردیا اور انہیں خوب ڈرایا،اور ( وہ ) زبردست جادو لائے تھے‘‘۔ یعنی  جادو کسی چیز پر نہیں بلکہ انسانوں کی آنکھوں پر کیا گیا تھا۔نیز قرآن  جادو کا جو طریقہ بتاتا ہے   وہ اس طرح ہے:

وَ اتَّبَعُوْا مَا تَتْلُوا الشَّيٰطِيْنُ عَلٰى مُلْكِ سُلَيْمٰنَ

 ( سورہ البقرہ : 102 )

’’ اور وہ ان چیزوں کی پیروی کرنے لگے جو شیاطین سلیمان کی مملکت کا نام لے کر پڑھا کرتے تھے‘‘

 واضح ہوا کہ جادو کیمیکل لگانے کا نام نہیں بلکہ یہ ایک پڑھا جانے والا عمل ہے۔ یعنی جادوگروں نے کچھ پڑھ کر لوگوں کی آنکھوں پر جادو کردیا۔

جادوگر کبھی کامیاب نہیں ہوتا :

          وَلَا يُفۡلِحُ ٱلسَّاحِرُ حَيۡثُ أَتَىٰ ، ’’اور نہیں کامیاب ہوتا جادو گر جہاں بھی وہ آئے ‘‘۔

منکرین حدیث یہ پیش کرکے کہتے ہیں کہ قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جادوگر کامیاب نہیں ہوتا اور تم کہتے ہو کہ نبی ﷺ پر  جادو ہوگیا ! انہی آیات میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : فَأَوۡجَسَ فِي نَفۡسِهِۦ خِيفَةٗ مُّوسَىٰ ’’پس موسیٰ ؑ اپنے دل میں ڈر گیا‘‘۔ یعنی موسیٰ علیہ السلام پر ان کے جادو کا اثر ہوا اور وہ ڈر گئے۔ کیا موسیٰ علیہ السلام کا کچھ وقت کے لئے ڈر جانا جادوگروں کی کامیابی تھی؟ سوچیں ، موسیٰ علیہ السلام کا عصا ان کا سب کچھ نگل گیا، کون کامیاب ہوا جادو گر یا موسیٰ علیہ السلام۔

جس آیت کا یہ ذکر کر رہے ہیں عین اس سے اگلی آیت میں فرمایا گیا :

فَاُلْقِيَ السَّحَرَةُ سُجَّدًا قَالُوْۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ هٰرُوْنَ وَ مُوْسٰى۰۰۷۰

 [طه: 70]

 ’’  پس جادو گر سجدے میں گر گئے ، کہنے لگے ہم ایمان  لائے ہارون ؑ و موسیٰ ؑ کے رب پر‘‘۔

تو واضح ہوا کہ یہ  منکر حدیث نہیں بلکہ منکر قرآن بھی ہیں۔ کیونکہ وقتی طور پر جادو کا اثر ہونا  یہ ثابت کرتا ہے  کہ جادو  میں ( کچھ ) حقیقت ہے۔

اب ہم آتے ہیں نبیﷺ پر ہونے والے جادو کی طرف۔

عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ مَكَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَذَا وَكَذَا يُخَيَّلُ إِلَيْهِ أَنَّهُ يَأْتِي أَهْلَهُ وَلَا يَأْتِي، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ عَائِشَةُ:‏‏‏‏ فَقَالَ لِي ذَاتَ يَوْمٍ:‏‏‏‏ “يَا عَائِشَةُ إِنَّ اللَّهَ أَفْتَانِي فِي أَمْرٍ اسْتَفْتَيْتُهُ فِيهِ، ‏‏‏‏‏‏أَتَانِي رَجُلَانِ فَجَلَسَ أَحَدُهُمَا عِنْدَ رِجْلَيَّ وَالْآخَرُ عِنْدَ رَأْسِي، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ الَّذِي عِنْدَ رِجْلَيَّ لِلَّذِي عِنْدَ رَأْسِي، ‏‏‏‏‏‏مَا بَالُ الرَّجُلِ قَالَ:‏‏‏‏ مَطْبُوبٌ، ‏‏‏‏‏‏يَعْنِي مَسْحُورًا قَالَ:‏‏‏‏ وَمَنْ طَبَّهُ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ لَبِيدُ بْنُ أَعْصَمَ قَالَ:‏‏‏‏ وَفِيمَ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ فِي جُفِّ طَلْعَةٍ ذَكَرٍ فِي مُشْطٍ وَمُشَاقَةٍ تَحْتَ رَعُوفَةٍ فِي بِئْرِ ذَرْوَانَ”، ‏‏‏‏‏‏فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ “هَذِهِ الْبِئْرُ الَّتِي أُرِيتُهَا كَأَنَّ رُءُوسَ نَخْلِهَا رُءُوسُ الشَّيَاطِينِ وَكَأَنَّ مَاءَهَا نُقَاعَةُ الْحِنَّاءِ”، ‏‏‏‏‏‏فَأَمَرَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأُخْرِجَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ عَائِشَةُ:‏‏‏‏ فَقُلْتُ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏فَهَلَّا تَعْنِي تَنَشَّرْتَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ “أَمَّا اللَّهُ فَقَدْ شَفَانِي، ‏‏‏‏‏‏وَأَمَّا أَنَا فَأَكْرَهُ أَنْ أُثِيرَ عَلَى النَّاسِ شَرًّا”قَالَتْ:‏‏‏‏ وَلَبِيدُ بْنُ أَعْصَمَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي زُرَيْقٍ حَلِيفٌ لِيَهُودَ.

(صحیح البخاری: کتاب الادب، بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالعَدْلِ وَالإِحْسَانِ، ۔ ۔ ۔ )

’’ عائشہ ؓ  کا بیان ہے کہ نبیﷺ اتنے اتنے دنوں اس حال میں رہے کہ آپ کو خیال ہوتا تھا کہ اپنی بیوی کے پاس  سے ہو آئے ہیں، حالانکہ وہاں نہیں جاتے تھے، عائشہ ؓ    کا بیان ہے کہ آپ نے مجھ سے ایک دن فرمایا اے عائشہ اللہ نے مجھے وہ بات بتادی جو میں دریافت کرنا چاہتا تھا، میرے پاس دو آدمی آئے، ان میں سے ایک میرے پاؤں کے اور دوسرا میرے سر کے پاس بیٹھ گیا، جو میرے سر کے پاس بیٹھا تھا اس نے پاؤں کے پاس بیٹھنے والے سے پوچھا کہ اس شخص کو کیا ہوگیا ہے ؟ اس نے کہا مطبوب ہے یعنی اس پر جادو کیا گیا ہے، پوچھا کس نے جادو کیا ہے، کہا لبید بن اعصم نے پوچھا کس چیز میں ؟ کہا بالوں کو نر کھجور کے چھلکے میں ڈال کر ذروان کے کنویں میں ایک پتھر کے نیچے رکھ کر، چنانچہ نبیﷺ اس کنویں کے پاس تشریف لائے اور فرمایا کہ یہی وہ کنواں ہے، جو مجھے خواب میں دکھلایا گیا اس کے پاس کھجوروں کے درخت شیطان کے سروں کی طرح ہیں اور اس کا پانی مہندی کے نچوڑ کی طرح سرخ ہے، نبی ﷺنے اس کے نکالنے کا حکم دیا تو وہ نکال دیا گیا، عائشہؓ کا بیان ہے کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! پھر کیوں نہیں ؟ یعنی آپ نے اس کو مشتہر کیوں نہیں کیا، نبیﷺنے فرمایا اللہ تعالیٰ نے مجھے شفا دی اور میں ناپسند کرتا ہوں کہ لوگوں کے سامنے کسی کے شر کو مشتہر کردوں اور بیان کیا کہ لبید بن اعصم بنی زریق کا ایک فرد تھا جو یہود کے حلیف تھے‘‘۔

عَنْ عَائِشَةَ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ “سُحِرَ حَتَّى كَانَ يُخَيَّلُ إِلَيْهِ أَنَّهُ صَنَعَ شَيْئًا وَلَمْ يَصْنَعْهُ

(صحیح بخاری، کتاب الجزیہ، بَابٌ: هَلْ يُعْفَى عَنِ الذِّمِّيِّ إِذَا سَحَرَ )

عائشہ ؓروایت کرتے ہیں کہ آپ (ﷺ) پر جادو کیا گیا تھا اس کا اثریہ ہوا تھا کہ آپ (ﷺ) خیال فرماتے تھے کہ فلاں کام  کرچکے ہیں حالانکہ وہ کام آپ (ﷺ) نے انجام نہ دیا ہوتا۔

عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ “كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُحِرَ حَتَّى كَانَ يَرَى أَنَّهُ يَأْتِي النِّسَاءَ وَلَا يَأْتِيهِنَّ

(بخاری، کتاب الطب، بَابٌ: هَلْ يَسْتَخْرِجُ السِّحْرَ؟)

’’عائشہ ؓنے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺپر جادو کردیا گیا تھا اور اس کا آپ پر یہ اثر ہوا تھا آپ کو خیال ہوتا کہ آپ ازواج مطہرات میں سے کسی کے پاس گئے تھے حالانکہ آپ  نہیں گئے ہوتے تھے ‘‘۔

اس سے قبل ہم نےاحادیث سے واضح کیا تھا  کہ نبی ﷺ پر جادو ہوا تھا، اس جادو سے نبی ﷺ کی ذات پر صرف اسقدر اثر ہوا تھا کہ نبی ﷺ یہ سمجھتے تھے کہ وہ ازواج مطہرات کے پاس ہو آئے ہیں لیکن حقیقت میں وہ گئے بھی نہیں ہوتے تھے۔ اسی طرح یہ سمجھتے تھے کہ فلاں کام کرلیا ہے لیکن حقیقت میں وہ کیا نہیں ہوتا تھا۔ یعنی یہ جادو بھی ’’ تخیلاتی ‘‘ تھا۔

نبی ﷺ کے خیال  میں ایسا آتا تھا یعنی بالکل وہی معاملہ جو موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ  ہوا تھا کہ جب جادوگروں نے اپنی لاٹھیاں اور رسیاں  پھینکیں تو    ان کے خیالات میں بھی ایسا ہی آیا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :

يُخَيَّلُ إِلَيۡهِ مِن سِحۡرِهِمۡ أَنَّهَا تَسۡعَىٰ  ’’ان ( جادوگروں ) کے جادو کے اثرسے ( موسیٰ ؑ ) کے خیال میں آیا کہ  جیسے وہ دوڑ رہی ہوں‘‘۔

یعنی جادو کا اثر صرف خیالات تک ہے، نبی  ﷺ کا شعور ، صحیح اور غلط کے درمیان امتیاز کرنے والی قوت فیصلہ اس سے متاثر نہیں ہوئی تھی۔ گویا دین کے بارے میں قطعاً کوئی فرق نہیں پڑا تھا۔

دور سے کئے ہوئے جادو کا اثر کیسے ہوا ؟

          یہ بھی کہا جاتا ہے کہ موسیٰ علیہ السلام کو تو دھوکہ دیا گیا تھا، لیکن نبی ﷺ کے سامنے تو کوئی عمل کیا ہی نہیں گیا تو ان پر جادو کیسے ہوگیا؟ گویا یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ احادیث میں جھوٹ آیا ہے۔  سورہ فلق میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :

قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِۙ۰۰۱

’’ کہدو  کہ میں پناہ میں آتا ہوں صبح کے رب کی ‘‘۔

مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَۙ۰۰۲

’’ ہر اس چیز کے شر سے جو اس نے پیدا کی ‘‘۔

وَ مِنْ شَرِّ غَاسِقٍ اِذَا وَقَبَۙ۰۰۳

’’  اور اندھیری رات کے شر سے  جب وہ چھا جائے ‘‘۔

وَ مِنْ شَرِّ النَّفّٰثٰتِ فِي الْعُقَدِۙ۰۰۴

’’  اورگِرہوں میں پھونکنے  والیوں کے شر سے ‘‘۔

وَ مِنْ شَرِّ حَاسِدٍ اِذَا حَسَدَؒ۰۰۵

’’  اور حسد کرنے والے کے شر سے جب وہ حسد کرے ‘‘۔

          ان آیات میں کون کون سا شر بتایا گیا ہے، کیا یہ سارے کام انسان کے سامنے کئے جاتے ہیں ؟ کیا گرہوں میں پھونکنے  والیاں سامنے آکر یہ کام کرتی ہیں یا کوئی حسد کرنے والا سامنے بیٹھ کر حسد کرتا ہے ؟ سورہ الناس میں  فرمایا گیا :

مِنْ شَرِّ الْوَسْوَاسِ١ۙ۬ الْخَنَّاسِ۪ۙ۰۰۴الَّذِيْ يُوَسْوِسُ فِيْ صُدُوْرِ النَّاسِۙ۰۰۵مِنَ الْجِنَّةِ وَ النَّاسِؒ۰۰۶

[الناس: 4-6]

 ’’  وسوسہ ڈال کر پیچھے ہٹ جانے والے کے شر سے،  جو لوگوں کے دلوں میں وسوسہ ڈالتا ہے،  جنوں اور انسانوں میں سے ‘‘۔

سوچیں کیا  شیطان سامنے آکر ، انسان کو بتا کر اس کے دل میں وسوسہ ڈالتا ہے کہ اس کا اس کے اوپر اثر ہو۔ یہ ساری باتیں محض  شیطانی وسوسے ہی ہیں۔ یہ بھی یاد رہےکہ جادو یا کوئی بھی شر اس وقت تک اثر نہیں کرتا جب تک کہ اللہ کی مرضی نہ ہو۔

سورہ البقرہ میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا :

وَ مَا هُمْ بِضَآرِّيْنَ بِهٖ مِنْ اَحَدٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ

( البقرہ ؛ 102 )

’’ (حالانکہ) وہ اس سے کسی کو بھی بغیر اللہ کے حکم کے نقصان پہنچا ہی نہیں سکتے تھے‘‘۔

یعنی کوئی چاہے جو بھی کوشش کرتا رہے لیکن اللہ کی مرضی کے بغیر کوئی چیز اثر نہیں کرتی۔

کیا نبی ﷺ پر جادو ماننےوالاکافر ہو جائے گا؟

منکرین حدیث سورہ فرقان کی ایک آیت کا حصہ پیش کرتے ہیں :

وَقَالَ ٱلظَّٰلِمُونَ إِن تَتَّبِعُونَ إِلَّا رَجُلٗا مَّسۡحُورًا’’ اور ظالموں نے ( مومنوں سے ) کہا تم ایک سحر زدہ انسان کے پیچھے لگ گئے ہو ‘‘۔ اس بارے میں سیاق و سباق سے پڑھیں تو معلوم ہوتا ہے ان کافروں کا بس یہی ایک قول نہ تھا ۔ ملاحظہ فرمائیں سورہ الفرقان کی آیات۔

وَ قَالُوْا مَالِ هٰذَا الرَّسُوْلِ يَاْكُلُ الطَّعَامَ وَ يَمْشِيْ فِي الْاَسْوَاقِ١ؕ لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ اِلَيْهِ مَلَكٌ فَيَكُوْنَ مَعَهٗ نَذِيْرًاۙ۰۰۷

 [الفرقان: 7]

 ’’ اور کہتے ہیں کہ یہ کیسا رسول ہے کہ کھانا کھاتا ہے اور بازاروں میں چلتا ہے، کیوں نہیں نازل کیا گیا  کوئی فرشتہ  جو ان کے ساتھ ڈڑانے کے لئےہوتا ‘‘۔

اَوْ يُلْقٰۤى اِلَيْهِ كَنْزٌ اَوْ تَكُوْنُ لَهٗ جَنَّةٌ يَّاْكُلُ مِنْهَا١ؕ وَ قَالَ الظّٰلِمُوْنَ اِنْ تَتَّبِعُوْنَ اِلَّا رَجُلًا مَّسْحُوْرًا۰۰۸

 [الفرقان: 8]

’’ یا  اس کا کوئی خزانہ ہوتا یا اس کا کوئی باغ ہوتا  اس سے وہ کھاتا  اور ظالموں نے ( مومنوں سے ) کہا تم ایک سحر زدہ انسان کے پیچھے لگ گئے ہو ‘‘

سورہ بنی اسرائیل میں فرمایا گیا :

نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَا يَسْتَمِعُوْنَ بِهٖۤ اِذْ يَسْتَمِعُوْنَ اِلَيْكَ وَ اِذْ هُمْ نَجْوٰۤى اِذْ يَقُوْلُ الظّٰلِمُوْنَ اِنْ تَتَّبِعُوْنَ اِلَّا رَجُلًا مَّسْحُوْرًا۰۰۴۷

[الإسراء: 47]

’’  ہم خوب جانتے ہیں جب وہ آپ کی طرف کان لگاتے ہیں  توکِس بات پر لگاتے ہیں  اور جب یہ سرگوشی کرتے ہیں، جب یہ ظالم کہتے ہیں کہ   تم ایک سحر زدہ آدمی کی پیروی کر رہےہو‘‘۔

اُنْظُرْ كَيْفَ ضَرَبُوْا لَكَ الْاَمْثَالَ فَضَلُّوْا فَلَا يَسْتَطِيْعُوْنَ۠ سَبِيْلًا۰۰۴۸

 [الإسراء: 48]

’’  دیکھیں یہ آپ کے لئے کیسی مثالیں  بناتے ہیں ،  پس یہ گمراہ ہوگئے اور ہدایت نہیں پا سکتے ‘‘۔

منکرین  حدیث آیت کا ایک حصہ لیکر کہدیتے ہیں کہ جس نے نبی ﷺ پر جادو کا اثر مان لیا وہ کافر ہے، حالانکہ ان آیات میں صرف یہی معاملہ نہیں بلکہ ان کا اعتراض تو یہ بھی تھا کہ یہ نبی ﷺ کھانا بھی کھاتا ہے اور بازاروں میں چلتا پھرتا بھی ہے اور اس کے پاس کوئی خزانہ نہیں اور نہ ہی اس کے پاس کوئی باغ ہے۔ بتائیں کیا  جو یہ عقیدہ رکھے کہ نبی ﷺ انسانوں کی طرح کھاتےپیتے، چلتے تھے اور ان کے پاس نہ تو کوئی خزانہ تھا اور نہ ہی کوئی باغ تو  اس کا شمار کفار میں ہوگا؟ ہر گز  ، ہر گز نہیں ۔

           کوئی ان سے پوچھے کہ صرف ایک بات کیوں لے رہے ہو، پھر ان آیات کی ساری باتیں لو اور جو یہ عقیدہ رکھے اس پر کفر کا فتویٰ لگاؤ۔

نبی ﷺ کو سحر زدہ کیوں کہتے تھے؟

احادیث سے ثابت ہے کہ کفار نبی ﷺ کو صادق و امین کہا کرتے تھے، ان کی بہت عزت کیا کرتے تھے، لیکن انہیں ’’ سحر زدہ ‘‘  اسوقت کہا گیا جب انہوں نے حق مبنی سچی اور کھری دعوت توحید پیش کی۔ گویا وہ انکی  تبلیغ کیوجہ سے انہیں سحر زدہ ( سحر میں ڈوبا ہوا ) کہا کرتے تھے۔ موسیٰ علیہ السلام جب فرعون کے پاس دعوت حق دینے گئے تو اس نےبھی کہا :

وَ لَقَدْ اٰتَيْنَا مُوْسٰى تِسْعَ اٰيٰتٍۭ بَيِّنٰتٍ فَسْـَٔلْ بَنِيْۤ اِسْرَآءِيْلَ اِذْ جَآءَهُمْ فَقَالَ لَهٗ فِرْعَوْنُ اِنِّيْ لَاَظُنُّكَ يٰمُوْسٰى مَسْحُوْرًا۰۰۱۰۱قَالَ لَقَدْ عَلِمْتَ مَاۤ اَنْزَلَ هٰۤؤُلَآءِ اِلَّا رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ بَصَآىِٕرَ١ۚ وَ اِنِّيْ لَاَظُنُّكَ يٰفِرْعَوْنُ مَثْبُوْرًا۰۰۱۰۲

[الإسراء: 101-102]

’’اور ہم نے موسیٰ کو نو کھلی نشانیاں دیں تو بنی اسرائیل سے دریافت کرلو کہ جب وہ ان کے پاس آئے تو فرعون نے ان سے کہا کہ موسیٰ میں خیال کرتا ہوں کہ تم پر جادو کیا گیا ہے،انہوں نے کہا کہ تم یہ جانتے ہو کہ آسمانوں اور زمین کے پروردگار کے سوا ان کو کسی نے نازل نہیں کیا۔ (اور وہ بھی تم لوگوں کے) سمجھانے کو۔ اور اے فرعون میں خیال کرتا ہوں کہ تم ہلاک ہوجاؤ گے‘‘۔

موسیٰ علیہ السلام فرعون کے گھر ہی پلے بڑھے لیکن اس نے انہیں کبھی جادو زدہ نہیں سمجھا لیکن جب موسیٰ علیہ السلام نے انہیں دعوت حق دی تو اس نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ تم جادو زدہ ہو، یعنی یہ بڑی عجیب باتیں ہیں جو تم کر رہے ہو۔ بالکل یہی معاملہ نبی ﷺ کے ساتھ ہوا کہ جب دعوت حق دی تو ساری عزت چھوڑ کر انہیں جادو زدہ سمجھا گیا ۔

گویا یہ  اعتراض رسالت اور دعوت پر تھا  نہ کہ نبیﷺ کی جسمانی حالت پر۔ انہیں نبی ﷺ کی باتیں سحر زدہ لگتی تھیں  ۔یعنی منکرین  حدیث کا اعتراض بالکل غلط ہے  کفار کا وہ اعتراض نبی ﷺ کی ذات پر نہیں بلکہ ان کی رسالت پر تھا۔

          جادو زدہ کا مطلب  ہے کہ ایک ایسا انسان جو سدا سے جادو کے اثر میں ہو  اور اسے  خود یہ نہیں معلوم  ہو کہ وہ کیا بول رہا ہے جب کہ اوپر بیان کردہ احادیث سے یہ بات بالکل ثابت ہے کہ نبی ﷺ کی رسالت کے کسی کام میں کوئی فرق نہیں پڑا تھا بلکہ ان کے دماغ  میں صرف اتنا آتا تھا کہ یہ کام کرلیا ہے اور حقیقت میں وہ کیا نہ ہوتا یا نبی ﷺ خیال کرتے تھے کہ اپنی ا زواج سے ملکر آ گئے ہیں لیکن حقیقت میں وہ گئے ہی نہیں ہوتے تھے۔

اگر جادو مان لیا جائے تو پھر جادو گر نافع و ضار بن گیا :

          منکرین حدیث ایسے شوشے چھوڑتے رہتے ہیں کہ جس پر  انسان کو ہنسی آ جاتی ہے۔ ایک ڈاکٹر نے کسی مریض کو دوائی دی اور مریض اچھا ہوگیا، کیا اب ڈاکٹر ’’ نافع ‘‘ ( فائدہ دینے والا ) بن گیا ؟

ڈاکٹر نے انجکشن لگایا مریض مرگیا اب کیا ڈاکٹر کو ضا ر( نقصان پہنچانے والا ) کہیں گے ؟ کوئی بیماری انسان کی موت کا سبب بن سکتی ہے، لیکن کوئی اپنی مرضی سے کسی کو کوئی بیماری نہیں لگا سکتا۔ فرعون  موسیٰ علیہ السلام کی قوم کے بچوں کو قتل کراتا تھا ، اب کیا وہ لوگوں کو موت دینے والا کہلائے گا؟

ایک نے دوسرے کو گولی ماری دوسرا  مر گیا اب گولی مارنے والے کو ضا رسمجھا جائے گا۔ کیساعجیب  ہے ان کا انداز۔ جناب گولی مارنے والا گولی مارتا رہے وہ بندہ اسی وقت مرے گا جب اللہ کا حکم ہوگا ۔ جادوگر نہ کسی کو نفع دے سکتا ہے اور نہ ہی کوئی نقصان پہنچا سکتا ہے یہی بات تو سورہ بقرہ میں فرمائی گئی تھی :

وَ مَا هُمْ بِضَآرِّيْنَ بِهٖ مِنْ اَحَدٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ

] البقرة: 102]

’’ (حالانکہ) وہ اس سے کسی کو بھی بغیر اللہ کے حکم کے نقصان پہنچا ہی نہیں سکتے تھے‘‘۔

اللہ تعالیٰ نے کھل کر بتا دیا کہ جادو گر نہ نافع ہے اور نہ ضار بلکہ یہ صرف اللہ کی صفت ہے۔ جادوگر لاکھ عملیات کرتا رہے لیکں کسی کو نہ نفع دے سکتا ہے اور نہ نقصان۔ البتہ جادو گر نے عمل کیا اور اللہ تعالیٰ نے اس بندے کے لئے کچھ لکھ دیا ہے تو وہ اسے پہنچ کر رہے گا، اور پہنچے گا بھی  صرف  ’’ ذہن سوچ و پریشانی ‘‘ کی حد تک۔ ایسا نہیں کہ کسی کا بزنس تباہ ہو جائے گا، کسی کی شادی رک جائے گی۔ بلکہ ذہن اور اس کی وجہ سے ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ اسے بکری ہاتھی دکھائی دینے  لگے۔

قرآن و حدیث سے جادو کا وجود ثابت ہوتا ہے لہذا اسے برحق کہا جاتا ہے۔اس پر جواب ملتا ہے کہ   کیا آپ ابھی جادو کے ذریعے سے فلاں کام کرسکتے ہیں؟

اس سوال کا جواب تو یہ ہے کہ جادو اثر انداز ہوتا ہے ، اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر وقت ، ہر جگہ ، ہر کسی پر اثر انداز ہوجاتا ہے ۔  اوپر بتا دیا گیا ہے کہ یہ  صرف اللہ ہی کے حکم سے ہوتا ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے کسی کے لئے کوئی بات لکھ دی ہو اور جادو گر بھی اسی بات کے لئے کوشش کر رہا ہو تو اس کا جادو اثر انداز ہوگا ورنہ بالکل نہیں۔ اب ہم آتے ہیں اس طرف کہ جادو کیا ہے۔

جادو کیا ہے ؟

          قرآن و حدیث سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ جادو ایک شیطانی عمل ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :

وَ لَقَدْ عَلِمُوْا لَمَنِ اشْتَرٰىهُ مَا لَهٗ فِي الْاٰخِرَةِ مِنْ خَلَاقٍ١ؕ۫ وَ لَبِئْسَ مَا شَرَوْا بِهٖۤ اَنْفُسَهُمْ١ؕ لَوْ كَانُوْا يَعْلَمُوْنَ۰۰۱۰۲

 [البقرة: 102]

’’  ۔ ۔۔ اور وہ خوب جانتے تھے کہ جو اس کا خریدار بنا اس کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں، اور بہت ہی بری چیز ہے وہ جس کے بدلے انہوں نے خود کو بیچ ڈالا کاش وہ اس بات کو جان لیتے‘‘۔

 نبی ﷺ نے فرمایا :

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ “اجْتَنِبُوا السَّبْعَ الْمُوبِقَاتِ، ‏‏‏‏‏‏قَالُوا:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏وَمَا هُنَّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ الشِّرْكُ بِاللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏وَالسِّحْرُ، ‏‏‏‏‏‏وَقَتْلُ النَّفْسِ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلَّا بِالْحَقِّ، ‏‏‏‏‏‏وَأَكْلُ الرِّبَا، ‏‏‏‏‏‏وَأَكْلُ مَالِ الْيَتِيمِ، ‏‏‏‏‏‏وَالتَّوَلِّي يَوْمَ الزَّحْفِ، ‏‏‏‏‏‏وَقَذْفُ الْمُحْصَنَاتِ الْمُؤْمِنَاتِ الْغَافِلَاتِ

(صحیح البخاری: کتاب الوصایا، بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {إِنَّ الَّذِينَ يَأْكُلُونَ أَمْوَالَ اليَتَامَى ظُلْمًا، إِنَّمَا يَأْكُلُونَ فِي بُطُونِهِمْ نَارًا وَسَيَصْلَوْنَ سَعِيرًا}

ابوہریرہؓ نبیﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ (ﷺ) نے فرمایا سات ہلاک کرنے والی باتوں سے دور رہو۔ لوگوں نے پوچھا یا رسول اللہﷺ وہ کونسی باتیں ہیں فرمایا اللہ کے ساتھ شرک کرنا اور جادو کرنا اور اس جان کا ناحق مارنا جس کو اللہ تعالیٰ نے حرام کیا ہے اور سود کھانا اور یتیم کا مال کھانا اور جہاد سے فرار یعنی بھاگنا اور پاک دامن بھولی بھالی مومن عورتوں پر زنا کی تہمت لگانا۔

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ “مَنِ اقْتَبَسَ عِلْمًا مِنَ النُّجُومِ، ‏‏‏‏‏‏اقْتَبَسَ شُعْبَةً مِنَ السِّحْرِ زَادَ مَا زَادَ

 (سنن ابو داؤد: کتاب الطب، باب في النجوم)

’’ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺنے فرمایا کہ جس نے علم نجوم کا کچھ حصہ سیکھا اس نے جادو کا ایک حصہ سیکھا ( جو حرام ہے) اور جتنا زیادہ (علم نجوم) سیکھا اتنا ہی زیادہ (سحر) سیکھا‘‘۔

واضح ہوا کہ سحر سیکھنا، سکھانا، کرنا سب حرام ہے۔

Categories
Urdu Articles

عقیدہ عذاب قبر اور مسلک پرستوں کی مغالطہ آرائیاں ’’ قبر ‘‘

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

یہ فرقہ پرست اسی دنیاوی قبر کو مرنے کے بعدملنے والے عذاب یا راحت کا مقام قرار دیتے ہیں،اور کہتے ہیں کہ اسے عذاب قبر کہا ہی اس وجہ سے جاتا ہے کہ یہ اسی قبر میں ہوتا ہے،مردہ تودفن ہی یہاں کیا جاتا ہے اور یہی دنیاوی قبر اس کا ٹھکانہ ہے قیامت تک ۔۔۔۔۔۔

اس بات سے توکسی کو انکار نہیں کہ انسانی مدفن کو قبرکہتے ہیں۔جہاں ایک انسان دفنایا جاتا ہے، وہ اس کی قبر ہی کہلاتی ہے۔ لیکن یہ عرفی قبر عذاب و راحت کا مقام نہیں بلکہ یہ توعالم بالا  کا معاملہ ہے جو کہ قرآن و حدیث سے واضح ہے ۔

اس بات کی وضاحت کردینا ضروری ہے کہ ان فرقہ پرستوں کا یہ بھی ایک پُرفریب انداز ہے کہ یہ لوگ ’’ قبر‘‘ کے لغوی معانی پر اصرار کرتے ہیں تاکہ بھولے بھالے لوگوں کو دھوکہ دے سکیں اور اِس طرح اِن کو اپنے عقائدبرقرار رکھنی کی امید ہوتی ہے جس طرح برزخ کے لغوی معنی بیان کر کے انہوں نے لوگوں کو بے وقوف بنایا ہوا تھا لیکن جب قرآن و حدیث سے اس کے معنی بیان کیے گئے تو اصل حقیقت سامنے آگئی۔مگر دورخی دیکھیے کہ جب منکرین حدیث صوم وصلوٰۃ،حج و زکوٰۃ وغیرہ کے لغوی معنی سے اپنا باطل عقیدہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو یہی لوگ ان کی تردید میں اصطلاحی و شرعی معنی پر اصرار کرتے ہیں۔ طرفہ تماشہ دیکھیے کہ جو چیز ’’قبر‘‘ اور ’’برزخ‘ ‘ کی بحث میں ان کی اپنی دلیل بنتی ہے وہی صوم و صلوٰۃ،حج و زکوٰۃ کی بحث میں اپنے حریف کے حق میں باطل ہوجاتی ہے! پہلے لغت حق اور اصطلاح باطل تھی ، اب پرویزیوں کے سامنے اصطلاح حق اور لغت باطل قرار پائی!ایسے دوہرے معیار سے اﷲتعالیٰ نے یہ کہہ کر منع فرمایا ہے کہ

الَّذِيْنَ اِذَا اكْتَالُوْا عَلَى النَّاسِ يَسْتَوْفُوْنَٞۖ۰۰۲وَ اِذَا كَالُوْهُمْ اَوْ وَّ زَنُوْهُمْ يُخْسِرُوْنَؕ۰۰۳اَلَا يَظُنُّ اُولٰٓىِٕكَ اَنَّهُمْ مَّبْعُوْثُوْنَۙ۰۰۴

 [المطففين: 1/4]


’’تباہی ان لوگوں کے لیے جو ناپ تول میں کمی کرتے ہیں؛ جو لوگوں سے ناپ کر لیں تو پورا لیں اور جب اُن کو ناپ کر یا تول کر دیں تو کم دیں۔ کیا یہ لوگ نہیں جانتے کہ اٹھائے بھی جائیں گے (یعنی) ایک بڑے (سخت) دن میں۔‘‘

صحیح بات یہ ہے کہ چاہے قبر ہو یا برزخ، صلوٰۃ ہو یا زکوٰۃ، ان کے جو معنی قرآن و حدیث کے مطابق ہوں، تو وہی ان کے اصطلاحی اور شرعی معنی قرار دئیے جائیں گے اور ماسوا کی کوئی حیثیت نہ ہوگی۔ جس طرح منکرین حدیث نے ان الفاظ کے لغوی معنی بیان کرکے گمراہی پھیلائی ہے ،اسی طرح یہ فرقہ پرست قبر کے لغوی معنی بیان کرکے شدید گمراہی پھیلارہے ہیں اور قبرِ ارضی کو ’’آخری آرامگاہ‘‘ قرار دے کر شرک کی بنیاد فراہم کررہے ہیں۔
صلوٰۃ کے متعدد لغوی معنی ہیں، مثلاً دعا، رحمت، برکت، تعریف، دوڑ میں دوسرے نمبر پر آنے والا گھوڑا،کولھے ہلانا۔ بعض’’ آزاد پسندوں‘‘ نے آخرالذکر معنی لے کر ورزش اور اچھل کودکرنے کو صلوٰۃ کا نام دے دیا ہے۔ کچھ منکرین حدیث اس کے لغوی معنی تسبیح اور دعا مانتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اﷲ سے مانگنے اور صرف اس کی تسبیح بیان کرنے سے ہی صلوٰۃ ادا ہوجاتی ہے۔ پرویز نے اس کے معنی ’’دوڑ میں دوسرے نمبر پر آنے والا گھوڑا ‘‘ لیے ہیں اور اپنے انداز میں اس کی تشریح کی ہے کہ صلوٰۃ دراصل اسلامی نظام کا نام ہے، جس طرح دوسرے نمبر والا گھوڑا پہلے نمبر والے گھوڑے کے پیچھے ہوتا ہے ،اسی طرح انسان کو ریاستی نظام اور حکومت کے احکام کا تابع ہونا چاہیے اور جس نے ان قوانین کی تابعداری کی، اس نے صلوٰۃ ادا کر لی اوراس طرح حکمِ ربی اقیموا الصلوٰۃ کا مطلب ہوا کہ اس طرح کانظام قائم کرو۔کیااہلحدیث یہاں صلوٰۃ کے ان لغوی معانی پر اصرار کریں گے؟ آپ اندازہ لگائیں کہ صلوٰۃ کے اصطلاحی معنی ( کہ یہ ایک مخصوص عبادت ہے جو مسلمین پر فرض ہے اور اس کا ایک مخصوص طریقہ ہے) سے صرف نظر کر کے لوگ کس طرح لغت کی بھول بھلیوں میں گم ہوگئے اور خود بھی گمراہ ہوئے اور نہ جانے کتنوں کو گمراہ کیا۔یہ ساری بحث اس لیے پیش کی گئی ہے تاکہ یہ بات سمجھ میں آجائے کہ دین اسلام میں کسی بھی بات کی تشریح و تفسیر وہ مانی جائے گی جو قرآن و حدیث کے دیئے ہوئے متفقہ عقیدے کے مطابق ہو نہ کہ صرف اس کے لغوی معنی۔ہم صلوٰۃ کے وہی معنی کریں گے جو قرآن و حدیث سے ملتے ہیں کہ’’ فرض طریقہ عبادت‘‘ ،

’’رحمت‘‘، ’’ رحمت کی دعا‘‘۔ بالکل اسی طرح قبر کے بھی وہی معنی لیے جائیں گے جو قرآن و حدیث سے ملتے ہوں۔حدیث میں آتا ہے:

اِنَّمَا مَرَّ رَسُوْلُ اﷲِ ا عَلٰی یَھُوْدِیَّۃٍ یَبْکِی عَلَیْھَا اَھْلُھَا فَقَالَ اِنَّھُمْ لَیَبْکُوْنَ عَلَیْھَا وَ اِنَّھَا لَتُعَذَّبُ فِیْ قَبْرِھَا


(بخاری:کتاب الجنائز،باب قول یعذب المیت ببعض بکاء اھلہ علیہ)


’’نبی ﷺ ایک (فوت شدہ) یہودی عورت کے پاس سے گذرے اس کے گھر والے اس پر رو رہے تھے۔نبیﷺ نے فرمایا کہ یہ لوگ اس پر رو رہے ہیں اور اسے اس کی قبر میں عذاب دیا جارہا ہے‘‘۔

سوچنے کی بات ہے کہ ابھی وہ یہودی عورت اس زمینی،لغوی و عرفی قبر میں دفن بھی نہیں ہوئی اور اس پر عذاب ہونے کا مژدہ سنایا جارہا ہے، اوراس عذاب دیئے جانے کے مقام کا نام ’’ قبر‘‘ بتایاجارہا ہے۔

اس سے ثابت ہوا کہ جہاں کہیں مردے کے دفن کا ذکر ہو تو وہاں اس سے مراد یہی زمینی ، لغوی وعرفی قبر ہے،لیکن جہاں کہیں میت کوجزا و سزادیئے جانے کا بیان ہوتو وہاں ’’ قبر‘‘ کے اصطلاحی و شرعی معنی لیے جائیں گے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ زمینی قبر ہر مرنے والے کو نہیں ملتی لیکن قرآن ہر مرنے والے کو قبردیئے جانے کا اعلان فرماتا ہے۔اﷲتعالیٰ انسان کی تخلیق کو بیان کرنے کے بعد فرماتا ہے:

ثُمَّ اَمَاتَهٗ فَاَقْبَرَهٗۙ

(عبس : 21)

 ’’ پھر اس کو موت دی اور قبر دی‘‘


یعنی جس انسان کوبھی موت ملی ،اس کو قبر ملی۔

اب ذرا غور فرمایئے کہ یہ ارضی، لغوی وعرف عام والی قبر تو بدھ مت و ہندومت کے پیروکارکروڑہا انسانوں،آتش پرست مجوسی و پارسی مذاہب کے ماننے والوں، کمیونسٹ اور سوشلسٹ نظریات کی حامل قوموں کوتوملتی ہی نہیں کیونکہ ان میں مردے دفنانے کے بجائے اپنے اپنے طریقے کے مطابق ٹھکانے لگانے کا رواج ہے۔مختلف عذابات کا شکار ہوجانے والی قوموں کو بھی یہ ارضی قبر نصیب نہیں ہوئی مثلاًنوح علیہ السلام کی قوم کو یہ زمینی قبر نہیں مل سکی کہ طوفان میں ڈوب کرمر گئے(سورۃ نوح:۲۵)۔ لوط علیہ السلام  کی قوم کو بھی نہیں ملی کہ ان پر آسمان سے پتھربرسے اور ہلاک کردیئے گئے (الشعراء: ۱۷۰۔۱۷۳،وغیرہ)۔ موسیٰ علیہ السلام  کے زمانے میں تباہ ہونے والی قوم فرعون کو بھی نہ مل سکی کہ دریا برد ہوگئی (الذٰریٰت:۴۰ وغیرہ)۔ مدین والوں کو اس ارضی قبر میں نہیں دفن کیا گیا بلکہ زلزلے نے ان سب کو ہلاک کرڈالا ( الاعراف:۹۱، وغیرہ)۔ ہودعلیہ السلام کی قوم عاد اس قبر میں دفن نہیں ہوئی بلکہ زوردار آندھیوں نے ان کو نیست ونابودکردیا( احقاف:۲۴،وغیرہ)۔ صالح علیہ السلام کی قومِ ثمود کو یہ قبریں نصیب نہیں ہوئیں بلکہ ایک زوردار چنگھاڑنے انہیں مارڈالا (ھود:۶۷،وغیرہ)۔۔۔نہ جانے کتنی ہی قومیں اس لغوی و عرفی ارضی قبر سے محروم رہیں تو کیا اﷲ کے قانون ثُمَّ أَمَاتَهُ فَأَقْبَرَهُ  کاان قوموں پر اطلاق نہ ہوا؟

 آیئے اس بارے میں ان فرقہ پرستوں کے عقائد کا جائزہ لیتے ہیں۔’’حضرت علامہ مفتی‘‘ جابر دامانوی صاحب قبر کی تعریف بیان کرتے ہیں:

’’وہ گڑھا جس میں مردے کو دفن کرتے ہیں‘‘، ’’ دفن کرنے کی جگہ‘‘ 
(خلاصہ الدین الخالص:صفحہ۴۵)

عذاب القبر کی تشریح اس طرح فرماتے ہیں:

’’عذاب القبر مرکب اضافی ہے، عذاب مضاف اور القبر مضاف الیہ جس کا مطلب ہے ’’قبر کا عذاب‘‘۔یعنی وہ عذاب جو قبر میں ہوتا ہے، اس مرکب ہی سے معلوم ہوتا ہے کہ عذاب قبر میں ہوتا ہے‘‘۔ (ایضاً، صفحہ ۲۱)


’’ میت کو قبر میں دفن کیا جاتا ہے اور یہاں وہ عذاب سے دوچار ہوتی ہے‘‘۔(ایضاً،صفحہ ۳۶) 

انہوں نے قبر کی تشریح وہ جگہ کی ہے جہاں مردے کو دفن کیا جائے۔ ان کے بقول یہی وہ جگہ ہے جہاں مرنے والے کو عذاب دیا جاتا ہے یا وہ راحت سے مستفیض ہوتا ہے۔ان کے عقیدے کے مطابق چونکہ یہ عذاب اسی دنیاوی قبر میں ہوتا ہے اسی لیے اسے عذاب قبر کہا جاتا ہے۔ان اہلحدیثوں کا عقیدہ چونکہ قرآن و حدیث کے مطابق نہیں ،اس لیے حالات کے حوالے سے لمحہ لمحہ میں تبدیل ہوتا رہتاہے جس کی نشاندہی آگے کی جائے گی ۔ مزیدفرماتے ہیں:

’’موت کے بعد سے قیامت کے دن تک جو عذاب اﷲ کے نافرمان بندوں کو دیا جائے گا اسی کا نام عذاب القبر ہے‘‘۔ ( ایضاً،صفحہ ۲۱)

مفتی صاحب نے اس سے قبل فرمایا تھا:

’’یعنی وہ عذاب جو قبر میں ہوتا ہے‘‘اب کہتے ہیں ’’جو موت کے بعد سے دیا جاتا ہے وہ عذاب قبر ہے‘‘ (ملخص)

ان کے دونوں بیان آپ کے سامنے ہیں: ایک طرف کہتے ہیں کہ ’’قبر کا عذاب‘‘ ( یعنی اس زمینی قبر میں دفن ہوجانے کے بعد کا عذاب )،دوسری طرف کہتے ہیں کہ عذاب قبر مرتے ہی شروع ہو جاتا ہے۔ اب کوئی ان سے پوچھے کہ’’ حضرت‘‘ وہ کونسا مردہ ہے جو مرنے کے اگلے لمحے قبر میں اتار دیا جاتا ہو؟

مزید رقم طراز ہیں:

’’ حالانکہ عذاب کا یہ سلسلہ حالت نزع ہی سے جب کہ میت ابھی چارپائی پر ہی ہوتی ہے شروع ہوجاتا ہے‘‘۔ (ایضاً صفحہ ۲۲)

ان کی یہ بات بالکل غلط ہے کہ عذاب کا یہ سلسلہ حالت نزع سے ہی شروع ہو جاتا ہے، اس لیے کہ حالت نزع کی مار پیٹ روح نکالے جانے سے پہلے کی جاتی ہے اور وہ اسی دنیاوی جسم کے ساتھ ہوتی ہے یعنی زندہ کو مارا جاتا ہے جبکہ عذاب قبر صرف مردے کو ہوتا ہے۔حالت نزع روح قبض ہوتے ہی ختم ہوجاتی ہے ،اس کے بعد اس دنیاوی مردہ جسم کو مارنے کا کوئی عقیدہ کتاب اﷲ سے ثابت نہیں۔ قرآن و حدیث کا دیا ہوا عقیدہ یہی ہے کہ عذاب قبر یا راحت قبر کا سلسلہ روح نکلتے ہی عالم برزخ ( جہنم یاجنت)میں شروع ہوتاہے۔یہ قرآن کے اس عقیدے کو کہاں لے جاتے ،اسی لیے مجبوراً قبول تو کرلیا کہ عذاب مرتے ہی شروع ہو جاتا ہے لیکن اس کو اسی دنیاوی جسم سےمنسوب کردیا!بایں ہمہ ان کا عقیدہ ثابت نہیں ہوتا کیونکہ ان کے بقول یہ’’قبر کا عذاب‘‘ہے،’’یعنی وہ عذاب جو قبر میں ہوتا ہے ‘‘، جبکہ مردہ تو ابھی ان کی اصطلاحی معروف قبر میں داخل ہی نہیں ہوا توپھر یہ عذاب قبر کیسے بن گیا؟ 

انہوں نے بڑے ’’عالمانہ‘‘ انداز میں عربی گرائمرکے ابتدائی قواعد کے سہارے اپنے زعم میں بڑا تیر مارا کہ ’’عذاب القبر مرکب اضافی ہے، عذاب مضاف اور القبر مضاف الیہ جس کا مطلب ہے قبر کا عذاب‘‘۔

آئیے ان کے اسی فارمولے کی بنیاد پر ان کے اپنے بیانات سے اس عذاب کی انواع کا تعین کرتے ہیں: ’’عذاب‘‘ مضاف، ’’سریر(چارپائی)‘‘ مضاف الیہ یہ بنا ’’عذاب السریر‘‘ یعنی ’’چار پائی پر ہونے والاعذاب‘‘؛ کوئی ڈوب کے مراتواس کے لیے ہے ’’ عذاب البحر‘‘یعنی ’’ سمندر میں ہونے والا عذاب‘‘؛ کسی کو شیر کھا گیا، اب شیر کے پیٹ میں ہوا ’’ عذاب الاسد‘‘۔۔۔۔۔۔ اپنی جھوٹی بات ثابت کرنے کے لیے کس طرح بچگانہ انداز میں عربی گرائمر کا سہارا لیا گیا تھا، لیکن ان کے اپنے لکھے نے ان کے جھوٹ  کا پول کھول دیا!

اہلحدیث قبر کی ایک نئی تشریح کرتے ہیں :


اہلحدیثوں کا ہر ہر مفتی اور عالم انوکھا ہی ملے گا، اس سے قبل آپ  مفتی جابر دامانوی کی قبر  کے بارے میں پوسٹ پڑھ چکے ہوں گے کہ قبر سے مراد  کھودا ہواگڑھا ہے ، اب ملاحظہ فرمائیے کہ اہلحدیث مفتی دامانوی صاحب اب کس طرح قلابازی کھاتے ہیں:

’’ ۔۔۔لیکن ظاہر ہے کہ اس انسان نے اسی زمین میں رہنا ہے اور قیامت کے دن بھی اسی زمین سے اس نے نکلنا ہے لہذا یہی زمین اس کی قبر اور مستقر ٹھہری۔قرآن کریم میں دو مقامات پر مستودع ( جہاں وہ سونپا جائے گا یعنی قبر) کے الفاظ بھی آئے ہیں۔دیکھئے(الانعام:۹۹اور ھود :۶)بلکہ ایک مقام پر دوٹوک الفاظ میں فرمایا گیا ہے: الم نجعل الارض کفا تا() احیاء و امواتا (مرسلات:۲۵،۲۶) ’’کیا ہم نے زمین کو سمیٹ کر رکھنے والی نہیں بنایا۔ زندوں کے لیے بھی اور مردوں کیلئے بھی۔‘‘ معلوم ہوا کہ انسان زندہ ہو یا مردہ اس نے زمین ہی میں رہنا ہے زندہ اس کی پیٹھ پر زندگی گذارتے ہیں اور مردہ اس کے پیٹ میں رہتے ہیں۔قبر کی اب اس سے زیادہ وضاحت اور تشریح ممکن نہیں ہے‘‘۔ ( عقیدہ عذاب قبر:صفحہ ۶۴،۶۵) 

دیکھیے یہ اہلحدیث ہر ہر بات میں کس کس طرح کروٹ بدلتے ہیں ،اس کی مثال شاید ہی کہیں ملے۔انہی موصوف نے اپنی اسی کتاب میں قبر کی تشریح فرمائی تھی: 

’’وہ گڑھا جس میں مردے کو دفن کرتے ہیں‘‘ ، ’’ دفن کرنے کی جگہ‘‘

اور اب فر ما رہے ہیں کہ

’’قبر کی اب اس سے زیادہ وضاحت اور تشریح ممکن نہیں ہے‘‘۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کسی عذاب سے ہلاک ہونے والی قوم جس کے لیے کسی نے بھی اس عرفی گڑھے کو نہیں کھودا، تو یہ زمین ان کی قبر کیسے بن گئی کیونکہ ان کی اپنی تشریح کے مطابق قبر صرف اس گڑھے کا نام ہے جسے کھود کرکسی کو اس میں دفنایا جاتا ہے؟ اپنی اسی کتاب میں انہوں نے علمی اردو لغت جامع، فیروز اللغات اردو عربی،سورۃ التوبہ:۸۴،فاطر:۲۲،الحج:۷الانفطار:۴،العادیات: ۹،الممتحنہ: ۱۳، عبس :۱ ۲،۲۲،التکاثر:۲، یٰس:۵۱، کے حوالے سے بیان فرمایا تھا: 

’’ اس آیت کے علاوہ سورۃ القمر آیت نمبر ۷ اور سورۃ المعارج آیت نمبر ۴۳ میں بھی اجداث کا لفظ آیا ہے۔اس طرح ان گیارہ مقامات پر قبر کا لفظ اسی معروف قبر کے لیے استعمال ہوا ہے کہ جو زمین میں بنائی جاتی ہے‘‘۔ (عقیدہ عذاب قبر،صفحہ ۴۶)

پھر نبی ﷺکی احادیث پیش کیں کہ: ان کو سجدہ گاہ نہ بنایا جائے، قبر پر کوئی عمارت نہ بنائی جائے اور ان کوزمین کے برابر کردیا جائے۔ ان احادیث کو بنیاد بناتے ہوئے تحریر کیا تھا:

’’ ان احادیث کے مطالعے سے معلوم ہوا کہ قبروں سے مراد یہی ارضی قبریں ہیں ‘‘۔ (ایضاً صفحہ ۴۹)

اب کوئی ان موصوف سے پوچھے کہ’’ حضرت‘‘ اس بات کی وضاحت ضرور فرمادیں کہ’’ قبر‘‘ کی جو تعریف آپ نے پہلے فرمائی تھی وہ جھوٹ تھی یا اس ’’آٹومیٹک قبر‘‘ کا جو بیان اب داغا گیا ہے، یہ جھوٹ ہے؟


جیسا کہ اس سے قبل وضاحت کی جاچکی ہے کہ اس بات سے کسی کو انکار نہیں کہ یہ عرفی ارضی قبریں قبریں ہی ہیں کچھ اورنہیں۔ قرآن و حدیث کے بیان کے مطابق ہم ان کو قبر ہی مانتے ہیں۔ یہ قبرمحض ایک مردہ انسان کی لاش کو چھپانے کے لیے ہے اور اس کا طریقہ خود اﷲ تعالیٰ کا ہی بتایا ہوا ہے :

فَطَوَّعَتْ لَهٗ نَفْسُهٗ قَتْلَ اَخِيْهِ فَقَتَلَهٗ فَاَصْبَحَ مِنَ الْخٰسِرِيْنَ۰۰۳۰فَبَعَثَ اللّٰهُ غُرَابًا يَّبْحَثُ فِي الْاَرْضِ لِيُرِيَهٗ كَيْفَ يُوَارِيْ سَوْءَةَ اَخِيْهِ١ؕ قَالَ يٰوَيْلَتٰۤى اَعَجَزْتُ اَنْ اَكُوْنَ مِثْلَ هٰذَا الْغُرَابِ فَاُوَارِيَ سَوْءَةَ اَخِيْ١ۚ فَاَصْبَحَ مِنَ النّٰدِمِيْنَ

[المائدة: 30-31]


’’ آخر کار اس (قابیل)کے نفس نے اپنے بھائی(ہابیل) کا قتل اس کے لیے آسان کر دیا اور وہ اسے قتل کرکے ان لوگوں میں شامل ہوگیا جو نقصان اٹھانے والے ہیں۔پھر اﷲ نے ایک کوّا بھیجا جو زمین کھودنے لگا تاکہ اسے بتائے کہ اپنے بھائی کی لاش کیسے چھپائے، یہ دیکھ کر وہ کہنے لگا:افسوس مجھ پر، میں اس کوّے جیسا بھی نہ ہوسکا کہ اپنے بھائی کی لاش چھپانے کی تدبیر نکال لیتا، اس کے بعد وہ بہت نادم ہوا‘‘۔


قرآن کی اس آیت سے بالکل واضح ہے کہ یہ زمینی قبر صرف مردہ لاش کو چھپانے کے لیے ہے۔قرآن مجید و احادیث صحیحہ میں کہیں بھی اس دنیاوی زمینی عرفی قبر کو جزا و سزا کا مقام نہیں بیان کیا گیا۔ وہ تو یہ مسلک پرست ہیں کہ قرآن کی معنوی تحریف اور احادیث کی غیر شرعی تاویلات سے اسی کو یہ مقام ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ جزا و سزا کا تعلق صرف جنت  اور جہنم سے ہے جس کے لیے عالم برزخ میں ملنے والے مقام کو’’ قبر‘‘ کے نام سے تعبیر کیا گیا ہے ۔چونکہ سورہ عبس کی مذکورہ آیت کا یہ کھلا انکارتو نہیں کرسکتے تھے ،لہٰذا ماننا پڑا کہ ہر انسان کے لیے قبرکا ملنا لازمی ہے۔ دوسری طرف واضح طور پر دکھائی دیتا ہے کہ یہ ارضی قبر ہر انسان کو نہیں ملتی۔اب ایک یہ صورت تھی کہ کسی طرح یہ ارضی قبر ہرانسان کو ملنا دکھادیا جائے۔ اس کے لیے منطقی چالوں اور جس فنی مہارت کی ضرورت تھی وہ ان اہلحدیثوں میں بدرجہ اتم موجود ہے ،لہٰذا اب قبر کی کچھ نئی تعریفیں بھی بیان کی جانے لگیں جو اس سے قبل بیان کی گئی قبر کی تعریفوں سے بالکل مختلف ہیں۔ پہلے کھودے جانے والی جگہ قبر تھی، اب اس کے لیے کھودنے کی شرط بھی ختم کردی گئی۔ یہ کارنامہ بھی’’حضرت علامہ خاکی جان دامانوی صاحب‘‘ کے حصے میں آیا :

’’ اقبرہ کا مطلب ’’اس کو قبر میں رکھوادیا‘‘ اقبر اقبار سے جس کے معنی قبر میں رکھنے اور رکھوانے کے ہیں۔ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب ہ ضمیر واحد مذکر غائب ہے( لغات القرآن ج ۱ ص ۱۸۳)۔( عقیدہ عذاب قبر،صفحہ ۴۷)

اب غالباً اقبرہ کے معنی بھی بدل گئے اور قبر میں رکھوائے جانے کی یہ شرط بھی ختم ہوگئی!الغرض قرآن کی آیات اور احادیث صحیحہ سے جس قبر کی وضاحت کی جارہی تھی، کیاوہ یہی قبر ہے جو انہوں نے گھڑی ہے؟ کس نے کھودیں یہ قبریں اور کون ان میں دفنایا گیا؟ فرشتے ان سے سوال کرنے کس وقت آئے ؟۔۔۔۔۔۔ان کے عقیدے کے مطابق تو یہ مردہ لاشیں جوتیوں کی آواز بھی سنتی ہیں تو ان میں دفن ہونے والوں نے کب اورکن کی جوتیوں کی آواز سنی ؟ ان کی روحیں کب لوٹائی جاتی ہیں؟عذاب دینے والا فرشتہ تو گرز لیے کھڑا رہا ہوگا کہ کب یہ مٹی میں مل کر مٹی بنیں ،کب ان کی’’آٹو میٹک قبر‘‘ بنے اور کب میں ان کو عذاب دوں! یہ سب کچھ ہوجانے کے باوجود وہ مردے تو پھر بھی بچ نکلے جن کے جسم اس زمین میں گئے ہی نہیں جیسے آل فرعون کیونکہ ان کے دنیاوی جسم تو حنوط کرکے عجائب گھر کی زینت بنادئیے گئے ہیں! اہلحدیث مسلک پرست یقیناًاس بات کی وضاحت فرمائیں گے کہ ان فرعونیوں کی قبریں کہاں بنی ہیں؟ کیا ثم اماتہ فاقبرہ کے قانونِ الٰہی کا ان پراطلاق نہیں ہوا؟ اس حکم کے نفاذ میں کیاکسی ایک کا بھی کوئی استثناء ہے؟ 


واضح ہوا کہ ان کے اس خود ساختہ عقیدے کی بنیاد محض منطق ہی ہے ،ورنہ خود ان کا اپنا لکھا ہوا اس کے برعکس ہے۔ہم نے ابتداء ہی میں اس بات کو واضح کردیا تھا کہ قبر کے بارے میں ان اہلحدیثوں کے عقائد بار بار بدلتے رہتے ہیں جس کی صرف ایک ہی وجہ ہے، وہ یہ کہ اگر ایک بات قرآن سے ثابت ہوگی تو وہ کبھی بھی نہیں تبدیل ہوگی ،لیکن وہ عقائد جن کی بنیاد محض مسلک پرستی ہوتواسی طرح لمحہ بہ لمحہ تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔ 
ان کا یہ کہنا کہ سورہ الانعام اور ھود میں مستودع آیا ہے جس کا مطلب ہے سونپے جانے والی جگہ، اسی طرح سورۂ مرسلات میں فرمایا گیا ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے اس زمین کو زندوں اور مردوں کو سمیٹنے والا بنایا ہے، تو یہ سورہ طٰہٰ کی آیت کی ہی تشریح ہے کہ

مِنْهَا خَلَقْنٰكُمْ وَ فِيْهَا نُعِيْدُكُمْ وَ مِنْهَا نُخْرِجُكُمْ تَارَةً اُخْرٰى۰۰۵۵

 [طه: 55]


’’اسی سے ہم نے تم کو پیدا کیا ہے،اسی میں ہم تم کولوٹائیں گے اور اسی سے ہم تم کو نکالیں گے‘‘

مذکورہ آیات میں کسی قبر اور اس میں ملنے والے کسی عذاب یا راحت کا توکوئی ذکر ہی نہیں۔
موصوف کی مزید خامہ فرسائی ملاحظہ فرمائیں:

’’ البتہ جو لوگ جل کر راکھ ہوگئے یا فضلہ بن گئے تو وہ بھی آخر کار اپنی زمین والی قبر میں داخل ہو کر رہیں گے۔جیسا کہ قرآن کریم سے ثابت ہوچکا ہے‘‘۔ (عقیدہ عذاب قبر،صفحہ ۷۸)

کیسا کھلا دھوکہ دیا ہے کہ’’ قرآن سے ثابت ہو چکا ہے‘‘

حالانکہ قرآن میں ہر گز اس طرح کے کسی مقام کو قبر نہیں کہاگیابلکہ یہ صرف شیطان کا بہکاوا ہے کہ ان کو ہر چیز قبر دکھائی دے رہی ہے اور وہ بھی قرآن سے ’’ثابت‘‘! ذرا ہمیں بھی تو جل کر راکھ بنی  ہوئی یا فضلہ بنی ہوئی  لاش کی’’زمین والی قبر‘‘ دکھلائیں۔

ھاتوبرھانکم ان کنتم صادقین


ایک طرف تو ان مفتی صاحب نے ایک نئی قسم کی قبر کا عقیدہ دیا اور دوسری طرف ایک دوسرے مفتی صاحب یوں فرماتے ہیں:

’’ قاعدہ کلیہ کے طور پر یہی بات کہی جاسکتی ہے کہ انسان مرنے کے بعد قبر میں دفن ہوتا ہے۔ اگر آل فرعون یا قومِ نوح غرق ہو گئے یا اہل سبا پر سیلاب آیا یا دنیا بھر سے ایک قوم(ہندو) اپنے مردے کو دفن کرنے کے بجائے جلادیتی ہے تو یہ سب باتیں مستثنیات میں شمار ہوں گی، اور آج اگر کوئی چاہے توخود یہ اندازہ کرسکتا ہے کہ قبر میں دفن ہونے والوں کی تعداد ڈوبنے یا جلنے والوں کی تعداد سے بہت زیادہ ہے۔ لہٰذا عام قاعدہ کے طور پر جو بات کہی جاسکتی ہے وہ یہی ہے کہ’’ ثمّ اماتہ فاقبرہ‘‘ باقی سب استثناء کی صورتیں ہیں‘‘۔(روح،عذاب قبراور سماع موتیٰ،از عبد الرحمن کیلانی، صفحہ ۷۳) 

ملاحظہ فرمایا کہ ایک اہلحدیث آٹومیٹک قبریں بنوا کر اس آیت کی تشریح کررہا ہے اور دوسرا اہلحدیث اس قبر کے نہ ملنے والے معاملے کو استثنائی صورت بیان کرتا ہے! کاش یہ دونوں اہلحدیث قرآن و حدیث کے دئیے ہوئے متفقہ عقیدے کو مان لیتے تو نہ ان کا آپس میں اس طرح تضادواختلاف ہوتا اور نہ ہی رسوائی ان کے فرقے کی مقدر بنتی۔ بل کذّبوا با لحقّ لمّا جاءھم فھم فی امر مریج


ان کا یہ کہنا کہ یہ استثنائی معاملہ ہے ،کھلا دھوکہ ہے۔ مرنے کے بعد کی جزا و سزا کے جتنے بھی واقعا ت قرآن مجید میں بیان کیے گئے ہیں ،ان میں سے کسی میں بھی اس ارضی قبر میں جزا و سزا کا تصور نہیں ملتا۔حیرت کی بات ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے قرآن کریم میں سارے کے سارے استثنائی معاملات بیان فرما دئیے مگر وہ قاعدہ کلیہ کہیں بھی بیان نہ فرمایا جو آج ان اہلحدیثوں کے ایمان کی بنیاد بنا ہوا ہے!

قاعدہ کلیہ اس بات کو کہتے ہیں جو تمام انسانوں کے لیے یکساں ہو اور استثناء اسے کہا جاتا ہے جو اس قانون سے ہٹ کر قرآن و حدیث میں بیان کیا گیا ہو۔ اگر قرآن مجید میں مرنے کے بعد کی جزا و سزا کے بے شمار واقعات بیان کیے گئے ہوتے اور ان میں اسی ارضی قبر میں جزا وسزا کا تصور دیا گیا ہوتا تو وہ ایک قاعدہ کلیہ سمجھا جاتا ،اورفی الحال بیان کیے گئے متعدد قوموں کے واقعات پھر استثناء قرار پاتے،لیکن حیرت علم کے ان نام نہاد پہاڑوں اور سمندروں پر ہے کہ صرف یہی چند واقعات ہی توقرآن میں ملتے ہیں اور انہی کوانہوں نے استثناء قرار دے ڈالا! اس کا مطلب ہوا کہ قرآن میں مرنے کے بعد کی جزا و سزا کا قانون بیان ہی نہیں کیا گیا، جو کچھ ہے وہ محض استثنائی ہے!


مزید فرماتے ہیں کہ دنیا بھر سے ایک قوم ہندو اپنے مردے جلادیتی ہے، اور یہ استثناء ہے، یہ بھی فرماتے ہیں کہ گنتی کر لی جائے کہ کس کی تعداد زیادہ ہے۔ دراصل یہ فرقہ وارانہ تعصب ہے ورنہ اﷲ نے تو ہر چیز کھول کھول کر بیان کردی ہے۔اگر یہ قرآن کا کلیہ مان لیں کہ مرنے والے کی روح (عالم برزخ میں) روک لی گئی ہے، اب عذاب و راحت کا معاملہ قیامت تک وہیں ہوگا، تو انہیں اِدھراُدھر بھٹکنے، متضاد باتیں بنانے اور مستثنیات کے چکر میں پھنسنے کی ضرورت نہ پڑے۔ان کی علمیت کے دعوے تو بڑے ہیں لیکن نام نہاد اہلحدیث علماء یہ بھی نہیں جانتے کہ اسلام میں کسی بھی چیز کی بنیاد اکثریت و جمہوریت نہیں بلکہ اﷲ تعالیٰ کی طرف سے نازل کردہ طریقہ کار ہے۔ ہمارا ایمان تواسی پر ہے۔ لیکن پھر بھی اگر بات شماریات کی ہی ہے تو دنیاکا سب سے بڑا ملک چین ہے جہاں مردوں کودفنایا نہیں جاتا؛ دوسرے نمبر پر بھارت کی اکثریت ہندؤں پر مشتمل ہے جو اپنے مردوں کو  نذرآتش کردیتے ہیں؛ سری لنکا ،جاپان اور مشرق بعید کے کروڑوں افراد جو بدھ مت کے ماننے والے ہیں،اپنے مردے دفنائے بغیر ٹھکانے لگادیتے ہیں؛پھر کمیونسٹ وسوشلسٹ ممالک کے کروڑوں افراد میں بھی تدفین کا طریقہ نہیں ۔۔۔۔۔۔ کیا اتنی بڑی تعداد بھی استثنائی کہلائےگی؟کیا ان قوموں کے لیے عذاب قبر مؤخر کردیا گیا ہے؟ گویا کہ پھنسے تو بے چارے وہی پھنسے جو اﷲ تعالیٰ کے سکھائے ہوئے طریقے کے مطابق اپنے مردے دفناتے رہے اور وہ صاف چھوٹ گئے جوقبروں سے دور رہے! 


کیا نبی ﷺنے اسی قبر کے لیے واضح یقین دہانی فرمائی ہے؟

رجسٹرڈجماعت المسلمین والے فرماتے ہیں:


’’غور فرمائیے کہ اﷲ کے رسول ؐ نے صحابہ سے ارشاد نہیں فرمایا’’ تم دفن تو اس ارضی قبرمیں کرنا، مردوں کو عذاب کسی فرضی قبر میں ہوتا ہے۔‘‘ بلکہ واضح طور پر یقین دہانی کرادی کہ عذاب اسی قبر میں ہوتا ہے جس میں مردوں کو دفنایا جاتا ہے لیکن ساری زندگی رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ و سلم نے کبھی کسی اور قبر کا ذکر ہی کیا اشارہ تک نہیں کیا اور نہ ہی صحابہؓ میں سے کسی ایک نے پوچھا کہ ان مردوں کا کیا بنے گا جو دفن نہیں کئے جاتے درندے جنکو لقمہ تر بنالیتے ہیں یا جن کو جلا دیا جاتا ہے‘‘۔ ( ارضی قبر یا فرضی قبر)


ایسی باتوں کی بنیاد محض جہالت اور قرآن فہمی کی بصیرت سے محرومی ہے۔ کتاب اﷲ میں رحمت، دعا اور ادائیگی صلوٰۃ کے لیے ایک ہی لفظ ’’ صلوٰۃ‘‘ استعمال ہوا ہے؛ کبھی کسی صحابی ؓ نے یہ نہیں پوچھا کہ یہاں صلوٰۃ کے کونسے معنی ہیں ؟ بلکہ قرآن وحدیث میں جہاں بھی لفظ صلوٰۃ آتا ہے، اس کے نفس مضمون سے اس کے معنی خود واضح ہوجاتے ہیں۔اسی طرح جہاں کہیں کسی کی تدفین یاقبر پر کسی کام کے منع کرنے کا حکم آتا ہے ،تو وہاں اس سے مراد یہ دنیاوی قبریں ہی ہیں، لیکن جہاں کہیں جزا وسزا کی بات بیان کی جاتی ہے تو اس سے مراد عالم برزخ ہی ہوتا ہے جس کی تفصیل بیان کی جاچکی ہے۔اب صحابہؓ نعوذباﷲان رجسٹرڈ جماعت المسلمین والوں کی طرح دین کی بصیرت سے محروم تو نہ تھے کہ قبر کے ہر ہر تذکرے پر سوال کرتے کہ یا رسول اﷲا یہ کونسی قبر ہے؟ ان کے سامنے تو قرآن کے بیان کردہ واضح ثبوت موجود تھے، یہی وجہ ہے کہ جب نبیﷺ نے وفات پا جانے والی یہودی عورت پر سے گذرتے ہوئے فرمایا :

’’یہ اس پر رو رہے ہیں اور یہ اپنی قبر میں عذاب دی جارہی ہے‘‘


تو صحابہ ؓ میں سے کسی نے بھی سوال نہیں کیا کہ یہ کونسی قبر ہے کہ ابھی تو یہ دفن بھی نہیں ہوئی اور آپ فرمارہے ہیں کہ یہ اپنی قبر میں عذاب دی جارہی ہے؟نبی ﷺنے اپنے صاحبزادے کے لیے فرمایا :

’’جنت میں اس کے لیے دودھ پلانے والی ہے‘‘


صحابہؓ  میں سے کسی نے نہیں پوچھا کہ یا رسول اﷲصلی اللہ علیہ و سلم آپ نے تو انہیں یہاں زمین میں دفن کیا تھا، پھر انہیں جنت میں کیسے جزا دی جارہی ہے؟ ثابت ہوا کہ ان کا یہ کہنا کہ

’’تم دفن تو اس ارضی قبرمیں کرنا ،مردوں کو عذاب کسی فرضی قبر میں ہوتا ہے‘‘


قرآن و حدیث کے بتائے ہوئے طریقے کا انکار اور اپنے خود ساختہ عقیدے کا دفاع ہے۔اور صحابہ ؓ کے طرزعمل سے بظاہر استدلال کرنا اور اس کو بطور بنیاد پیش کرنا بھی ان کا ایک فریب ہے ورنہ انہیں صحابہ ؓ سے کیا نسبت؟صحابہ حقیقی مسلم تھے، ان کی طرح محض نام کے نہیں؛ جو اﷲکی بارگاہ میں مسلم رجسٹرڈ ہوئے تھے ، مشرکانہ عقائد رکھنے والے طواغیت کے یہاں نہیں ۔۔۔۔۔۔پھرنبی ﷺسے جھوٹ منسوب کرنے کی جسارت کرتے ہیں کہ:

’’بلکہ واضح طور پر یقین دہانی کرادی کہ عذاب اسی قبر میں ہوتا ہے جس میں مردوں کو دفنایا جاتا ہے‘‘۔ 


اب کوئی ان سے پوچھے کہ اس دنیاوی قبرمیں عذاب و راحت کی یقین دہانی ہے کہاں؟ذرا کوئی حوالہ تو دیں۔البتہ جنت  اور جہنم  میں اس جزا یا سزا کی زبانِ نبوت نے بارہا یقین دہانی کرائی۔

ملاحظہ فرمایئے کہ درج ذیل احادیث میں نبی ﷺ نے کتنے واضح انداز میں یہ’’ یقین

دہانیاں‘‘ کرائی ہیں:


* مسجد نبوی کی تعمیر کے موقع پر وہاں موجود مشرکین کی قبریں نبیﷺ کے حکم پر کھود دی گئیں۔

(بخاری:کتاب الصلوٰۃ، باب ھل ینبش قبورمشرکی الجاہلیۃ۔۔۔)

کیا رسول اﷲا اس سے بھی بڑھ کر کوئی’’ یقین دہانی‘‘ کراسکتے تھے؟


 اﷲ و رسول ﷺکے دشمن امیہ بن خلف کی لاش جس کے ٹکڑے ہوگئے تھے، یوں ہی زمین پر چھوڑ دی گئی اور اسے قبر میں دفن نہیں کیا۔


(بخاری:کتاب مناقب الانصار، باب ما لقی النبی ا و اصحابہ من المشرکین بمکۃ)


 مرتد کاتب وحی کی لاش زمین نے دوبار دفن کرنے کے باوجود اگل دی، لیکن نبی ﷺ نے دوبارہ اسے قبر میں دفن کرنے کا حکم نہیں دیا۔


(بخاری:کتاب المناقب، علامات النبوۃ فی الاسلام، عن انس ؓ)


یہودی عورت اس زمینی قبر میں دفن نہیں ہوئی لیکن نبی ﷺ اس کے لیے قبر میں عذاب میں ہونے کا بیان فرماتے ہیں۔


(بخاری:کتاب الجنائز، باب قول النبی یعذب المیت ببعض بکاء اھلہ علیہ)

نبی ﷺ نے اپنے صاحب زادے کو زمینی قبر میں دفن کیا اور جنت میں ان کی جزا کا بیان فرمایا۔ 


(بخاری:کتاب الجنائز، باب ما قیل فی اولاد المسلمین)


بتایئے اور کتنی ’’یقین دہانیاں ‘‘کراتے نبی ﷺ!قرآن وحدیث کی اتنی صریح وضاحت کے بعد تو کسی بھی شک کی گنجائش نہیں رہتی۔

فبای حدیث بعدہ یومنون 
کاش کہ یہ فرقہ پرست اپنی آنکھوں سے فرقہ اور مسلک پرستی کی عینک اتار دیں تاکہ راہ راست پاسکیں۔ سب کچھ دیکھ لینے اور پڑھ لینے کے بعد بھی اگر کوئی اندھا بنا رہے اور یہی کہتا رہے کہ

’’ساری زندگی رسول اﷲﷺنے کبھی کسی اورقبر کا ذکرہی کیا اشارہ تک نہیں کیا‘‘


تو اس میں عذاب دینے والے فرشتے کا کیا قصور۔ یہ لوگ اپنے دل کو مطمئن انہی جھوٹی تسلیوں پر کیے ہوئے ہیں کہ نبی ﷺ نے کسی اور قبر کی طرف اشارہ بھی نہیں کیا، حالانکہ قرآن و حدیث کا بیان واضح ہے۔ یہ نبی ﷺکی تعلیمات ہی تھیں کہ صحابہ کرام  ؓاپنے مُردوں کو دفناتے اسی دنیاوی ارضی قبر میں تھے لیکن اسے عذاب و راحت کا مقام نہیں سمجھتے تھے۔ملاحظہ فرمائیے:


عَنْ اَنَسٍ قَالَ لَمَّا ثَقُلَ النَّبِیُّ ﷺ جَعَلَ یَتَغَشَّاہُ فَقَالَتْ فَاطِمَۃُ رَضِیَ اﷲُ عَنْھَا وَاکَرْبَ اَبَاہُ فَقَالَ لَھَا لَیْسَ عَلٰی اَبِیْکِ کَرْبٌ بَعْدَ الْیَوْمِ فَلَمَّا مَاتَ قَالَتْ یَا اَبَتَاہُ اَجَابَ رَبًّا دَعَاہُ یَااَبَتَاہُ مَنْ جَنَّۃُ الْفِرْدَوْسِ مَاْوَاہُ یَا اَبَتَاہُ اِلٰی جِبْرَءِیْلَ نَنْعَاہُ فَلَمَّا دُفِنَ قَالَتْ فَاطِمَۃُ رَضِیَ اﷲُ عَنَھَا یَا اَنَسُ اَطَابَتْ اَنْفُسُکُمْ اَنْ تَحْثُوْا عَلٰی رَسُوْلِ اﷲِ ا التُّرَابَ


(بخاری:کتاب المغازی، باب مرض النبی صلی اللہ علیہ و سلم و و فاتہ) 


’’ انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ مرض کی شدت کی وجہ سے بیہوش ہو گئے۔فاطمہ ؓ کہنے لگیں افسوس میرے والد کو کتنی تکلیف ہے۔ نبیﷺنے فرمایا آج کے بعد نہیں ہو گی۔ پھر جب نبی ﷺ کی وفات ہو ئی تو فاطمہؓ نے کہا: اے ابا جان! آپ اپنے رب کے بلاوے پر چلے گئے، اے ابا جان! جنت الفردوس  ہی آپ کا مقام ہے۔ ، ہم جبریل کو آپ کی وفات کی خبر سناتے ہیں۔ اور جب تدفین ہوگئی تو انہوں نے کہا اے انس! تم نے کیسے گوارا کر لیا کہ نبی ﷺ کو مٹی میں چھپا دو‘‘۔


کس قدر وضاحت موجود ہے اس روایت میں کہ ابھی نبی ﷺ کی وفات ہوئی ہے، آپ کی میت ابھی سامنے ہی موجود ہے ، فاطمہ ؓ گمان کر تی ہیں کہ ابھی جبریل کو بھی نبیﷺکی وفات کا علم نہ ہوا ہوگا اور عقیدہ یہ ہے کہ آپ ا اﷲ کے بلاوے پر اﷲ تعالیٰ کے پاس چلے گئے،جنت الفردوس میں اپنے مقام پر چلے گئے۔ یعنی صحابہؓ کا یہ عقیدہ تھا کہ نبی ﷺ کو وفات کے بعد ملنے والی جزا کا مقام یہ دنیاوی ارضی قبر نہیں بلکہ جنت الفردوس ہے۔ لہٰذا وہ لوگ غلطی پر ہیں جو یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ نبی ﷺوفات کے بعداپنی مدینے والی قبر میں ہی قیام پذیرہیں اور وہاں پر پڑھا جانے والا درود خود سنتے ہیں، سلام سنتے ہیں، جواب دیتے ہیں، مصافحہ کرتے ہیں ۔۔۔۔۔۔


مزید یہ کہ نبیﷺ نے وفات سے قبل فاطمہ ؓسے فرمایا:


۔۔۔اَنِّیْ اَوَّلُ اَھْلِہٖ یَتْبَعُہٗ


’’۔۔۔ کہ میرے گھر والوں میں سے سب سے پہلے تم مجھ سے ملوگی‘‘۔


(بخاری۔کتاب المغازی۔باب مرض النبی ﷺ و وفاتہ)


اپنی ازواج سے فرمایا :


اَسْرَعُکُنَّ لَحَاقًا بِیَ اَطْوَلُکُنَّ یَدًا


(مسلم:کتاب الفضائل،فضائل زینب رضی اﷲ)


’’۔۔۔ تم میں سب سے پہلے مجھ سے وہ ملے گی جس کے ہاتھ زیادہ لمبے ہیں (یعنی جوصدقہ و خیرات زیادہ کرنے والی ہو جو کہ زینبؓ ثابت ہوئیں)‘‘۔


بتائیے کہ کیا فاطمہ و زینب رضی اللہ عنہما ،نبیﷺ کی اس مدینہ والی قبر میں دفن کی گئی ہیں یا وہ جنت میں نبیﷺسے ملی ہوں گی۔اب یہ مسلک پرست جواب دیں کہ اس بارے میں صحابہ کرام ؓ کا کیا عقیدہ تھا؟ صحابہ کرام ؓ جنہوں نے نبی ﷺکے اس فرمان کو روایت کیاہے،کو کیا معلوم نہیں تھا کہ نبیﷺ نے فاطمہؓ کہ لیے فرمایا ہے کہ گھر والوں میں سب سے پہلے وہ ان سے ملیں گی ؟اسی طرح زینبؓ کے متعلق مذکورہ فرمان کا بھی ان کو علم تھا۔ اگر (نعوذباﷲ من ذالک) ان کا عقیدہ یہ ہوتا کہ اسی دنیاوی ارضی قبر میں ہی میت کا قیام ہمیشہ رہتاہے اور یہیں اسے سب کچھ ملتا ہے توکیا و ہ ان کی تدفین نبی ﷺسے دورکرکے فرمانِ رسالت کی خلاف ورزی کرنے کی جسارت کرتے؟قرآن و حدیث کا علم تو ان مسلک پرستوں کو چھو کر

 نہیں گزرا ،محض لوگوں کو گمراہ کرنے کے لیے ہانک لگا دی کہ

’’غور فرمائیے کہ اﷲ کے رسول ؐ نے صحابہ سے ارشاد نہیں فرمایا’’ تم دفن تو اس ارضی قبرمیں کرنا، مردوں کو عذاب کسی فرضی قبر میں ہوتا ہے‘‘۔ 

یخٰدعون (فریب دیتے ہیں ):

عقیدہ عذاب قبر کے بارے میں  اب تک آپ فرقہ پرستوں کے قرآن میں معنوی تحریف کے انداز تو دیکھتے ہی چلے آئے ہیں اب ذرا دھوکہ دہی کا یہ انداز بھی دیکھیں۔فرقہ اہلحدیث کے معروف عالم قاری  خلیل الرحمن صاحب فرماتے ہیں :

’’ الیوم تجزون عذاب الھون ( آج کے دن تم توہین آمیز عذاب کی طرف دھکیلے جاؤگے) کے الفاظ اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ جزا و سزا کا سلسلہ مرتے ہی قبر میں شروع ہوجاتا ہے چونکہ جنت اور دوزخ میں داخلہ قیامت کے دن حساب و کتاب کے بعد ہوگا اس لیے کافر میت سے روح نکالنے والے فرشتوں کا یہ کہنا کہ آج ہی ذلت والے عذاب کی طرف منتقل کیے جاؤگے عذاب قبر پر واضح دلیل ہے‘‘۔ ( پہلا زینہ، از قاری خلیل الرحمن، صفحہ ۳۷)

خود ہی لکھا ،خود ہی پڑھا، خود ہی سمجھا ،اور خود ہی اسے دلیل بھی بنالیا۔ قرآن کی اس آیت کی یہ تشریح انہوں نے کس بنیاد پر کی ہے؟اپنے اکابرین کے لکھے کو چاٹتے رہیں گے تو قرآنی آیات کی اس سے بھی زیادہ گمراہ کن تشریح کریں گے ۔اگرچہ اس آیت میں قبر کا کوئی لفظ ہی نہیں ، لیکن کس انداز میں اس کی تشریح فرمادی کہ’’۔۔۔الفاظ اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ جزا و سزا کا سلسلہ مرتے ہی قبر میں شروع ہوجاتا ہے ‘‘۔بہت اچھا استعمال کیا ہے انہوں نے قرآنی آیات کا! موصوف نے پوری بات بیان نہیں فرمائی،اس لیے کہ اگر بات پوری بیان کردی جائے تو پھر دجل و فریب کی گنجائش نہیں رہتی۔ ملاحظہ فرمائیں سورہ انعام کی یہ آیات:

ؕ وَ لَوْ تَرٰۤى اِذِ الظّٰلِمُوْنَ فِيْ غَمَرٰتِ الْمَوْتِ وَ الْمَلٰٓىِٕكَةُ بَاسِطُوْۤا اَيْدِيْهِمْ١ۚ اَخْرِجُوْۤا اَنْفُسَكُمْ١ؕ اَلْيَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذَابَ الْهُوْنِ بِمَا كُنْتُمْ تَقُوْلُوْنَ عَلَى اللّٰهِ غَيْرَ الْحَقِّ وَ كُنْتُمْ عَنْ اٰيٰتِهٖ تَسْتَكْبِرُوْنَ۠۝وَ لَقَدْ جِئْتُمُوْنَا فُرَادٰى كَمَا خَلَقْنٰكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍ وَّ تَرَكْتُمْ مَّا خَوَّلْنٰكُمْ وَرَآءَ ظُهُوْرِكُمْ١ۚ وَ مَا نَرٰى مَعَكُمْ شُفَعَآءَكُمُ الَّذِيْنَ زَعَمْتُمْ اَنَّهُمْ فِيْكُمْ شُرَكٰٓؤُا١ؕ لَقَدْ تَّقَطَّعَ بَيْنَكُمْ وَ ضَلَّ عَنْكُمْ مَّا كُنْتُمْ تَزْعُمُوْنَؒ۰۰۹۴

(الانعام: 93/94)

’’کاش تم ظالموں کواس حالت میں دیکھ سکو جب کہ وہ سکرات موت میں ہوتے ہیں اور فرشتے ہاتھ بڑھا بڑھا کر کہہ رہے ہوتے ہیں نکالو اپنی جانوں کو،آج تمہیں ان باتوں کی پاداش میں ذلت کا عذاب دیا جائے گا جو تم اﷲپرتہمت رکھ کر ناحق کہا کرتے تھے اور اس کی آیات کے مقابلے میں سرکشی دکھاتے تھے۔اور تم تن تنہا پہنچ گئے ہمارے پاس جیسا کہ ہم نے تمہیں پہلی بار پیدا کیا تھا اور چھوڑ آئے ہو اپنی پیٹھ پیچھے جو کچھ ہم نے تم کو عطاکیا تھا‘‘۔

پہلی آیت میں بتایا گیا کہ فرشتے روح قبض کرتے وقت ہی کافروں کو، اس فوری ملنے والے عذاب کا مژدہ سنادیتے ہیں۔ یہ مردہ اب قیامت تک کا یہ دور کہاں گذارے گااور کہاں اسے عذاب ہوگا ،اگلی ہی آیت میں اس کی تشریح ملتی ہے ۔ ربِ کائنات فرماتا ہے کہ تم تنہا اس ساری دنیا کو اپنی پیٹھ پیچھے چھوڑ کر ہمارے پاس پہنچ گئے۔یہ مردہ اب اﷲ کے پاس پہنچ گیا ہے، اس دنیا سے دور  ایک دوسرے عالم میں جہاں اب اس کو قیامت تک رہنا ہے۔ اب معاملہ راحت کا ہو یا عذاب کاوہاں ہی سب کچھ ملے گا۔ انسان کی روح قبض ہوتے ہی اسکی آخرت شروع ہو جاتی ہے اور آخرت کے معاملہ کا تعلق اس زمین سے نہیں بلکہ آسمانوں سے  ہے۔ 

قرآن کے اس فیصلے کے برخلاف اہلحدیث عقیدہ دیتے ہیں کہ

’’(آج کے دن تم توہین آمیز عذاب کی طرف دھکیلے جاؤگے) کے الفاظ اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ جزا و سزا کا سلسلہ مرتے ہی قبر میں شروع ہوجاتا ہے‘‘۔


انہوں نے سورہ انعام کی آیت ۹۳ پیش کرکے اس کی من مانی تشریح تو بیان کردی لیکن انہیں آیت ۹۴ نہیں دکھائی دی جس میں انہیں اس بات کی مکمل وضاحت مل جاتی کہ مرنے کے بعد یہ مردہ کہاں پہنچ جاتا ہے؟

مرتے ساتھ ہی انسان اﷲ کے پاس جاتا ہے یا اس دنیاوی قبر میں دفنادیا جاتا ہے؟

اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے تم ہمارے پاس پہنچ گئے۔ یہ کہتے ہیں کہ قبر میں دھکیل دیا جاتا ہے۔کہاں لکھا ہے قرآن میں کہ ’’ تم دھکیلے جاؤگے‘‘؟ قرآن کی آیات سے کھیلتے ہیں اور اس کے مفہوم کو یکسر بد ل ڈالتے ہیں !

یخٰدعون  ( فریب دیتے ہیں )

قرآن کی آیت میں زبردستی قبر کا لفظ شامل کرنا

اہلحدیثوں کے’’ نامور مفتی‘‘ خاکی جان دامانوی کا ایک اور عظیم کارنا مہ ملاحظہ فرمائیں ۔ موصوف ثم اماتہ فاقبرہ سے اپنا باطل عقیدہ ثابت کرنے کے لیے بیان کرتے ہیں:

’’ان آیات میں سے صرف ایک آیت سے برزخی قبر کا مفہوم کشید کیا گیا ہے۔اور وہ آیت یہ ہے: ثم اماتہ فاقبرہ ۔ ثم اذا شاء انشرہ (عبس:۲۱،۲۲)
’’پھر اسے موت دی اور قبر دی پھر جب چاہے گا اسے اٹھا کھڑے گا‘‘۔
اس سے یہ مفہوم اخذ کیا گیا ہے کہ ہر انسان کو اﷲ تعالی موت دیتا ہے اور پھر اسے قبر دیتا ہے اور چونکہ ہر انسان کو یہ معروف قبر نہیں ملتی کیونکہ کوئی جل کر راکھ بن جاتا ہے اور کسی کو جانور کھا کر فضلہ بنادیتا ہے لہٰذا ثابت ہوا کی ہر انسان کو برزخ میں قبر ملتی ہے اور یہی اس کی اصلی قبر ہے جسے برزخی قبر کہا جاتا ہے۔ لیکن یہ بات اس آیت کے سیاق کے خلاف ہے کیونکہ اگلی ہی آیت میں بتادیا گیا ہے کہ اﷲجب چاہے گا اس قبر سے اٹھائے گا اور ظاہر ہے کہ یہ انسان قیامت کے دن اس زمین والی قبر ہی سے اٹھایا جائے گا۔ قرآن کریم میں ایک دوسرے مقام پر ارشاد ہے:
و ان اﷲ یبعث من فی القبور ( الحج:۷)
’’ اور بے شک اﷲ ان لوگوں کو جو قبروں میں ہیں(قیامت کے دن) اٹھائے گا‘‘۔ 
(عقیدہ عذاب قبر،صفحہ ۴۶،۴۷)


قرآن مجید میں اﷲ تعالیٰ نے یہودی علماء کا ذکر فرمایا ہے کہ 

وَ اِنَّ مِنْهُمْ لَفَرِيْقًا يَّلْوٗنَ اَلْسِنَتَهُمْ بِالْكِتٰبِ لِتَحْسَبُوْهُ مِنَ الْكِتٰبِ وَ مَا هُوَ مِنَ الْكِتٰبِ١ۚ وَ يَقُوْلُوْنَ هُوَ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ وَ مَا هُوَ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ١ۚ وَ يَقُوْلُوْنَ عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ وَ هُمْ يَعْلَمُوْنَ۰۰۷۸

[آل عمران: 78]


’’ ان میں کچھ لوگ ایسے ہیں جو کتاب پڑھتے ہوئے اس طرح زبان کا الٹ پھیر کرتے ہیں کہ تم سمجھو کہ جو کچھ پڑھ رہے ہیں وہ کتاب ہی کی عبارت ہے،حالانکہ وہ کتاب کی عبارت نہیں ہوتی۔وہ کہتے ہیں کہ جو کچھ ہم پڑھ رہے ہیں یہ اﷲ کی طرف سے ہے، حالانکہ وہ اﷲ کی طرف سے نہیں ہوتا ، وہ جان بوجھ کر جھوٹی بات اﷲ کی طرف منسوب کردیتے ہیں‘‘۔


ثُمَّ اَمَاتَهٗ فَاَقْبَرَهٗۙ۰۰۲۱

کی اگلی آیت جس کامفتی موصوف نے حوالہ دیا ، وہ  یہ ہے:

ثُمَّ اِذَا شَآءَ اَنْشَرَهٗؕ۰۰۲۲

’’ پھر جب چاہے گا اسے اٹھا کھڑا کرے گا‘‘


جس کو اپنی استدلال کی خراد پرچڑھاکرموصوف یہ عقیدہ کشیدکرتے ہیں کہ:

’’اگلی ہی آیت میں بتادیا گیا ہے کہ اﷲجب چاہے گا اس قبر سے اٹھائے گا‘‘

قارئین!مذکورہ آیت آپ کے سامنے ہے۔ آپ نے ملاحظہ فرمایا ہوگا کہ اس میں یہ الفاظ ’’ اس قبر سے اٹھائے گا‘‘ تو سِرے سے ہیں ہی نہیں۔ ثُمَّ اَمَاتَهٗ فَاَقْبَرَهٗۙ سےمراد یہ ہے کہ یہ اﷲ تعالیٰ کے اختیار میں ہے کہ جب چاہے گا  (قیامت برپا فرما کر)  اسے اٹھادے گا۔ لیکن صرف اپنے باطل عقیدے کے لیے کس عیاری کے ساتھ ’’قبر‘‘ کا لفظ آیت کی تشریح میں شامل کردیا۔ ملاحظہ فرمایاان نام نہاد اہلحدیثوں کا طرز عمل ! اس سے قبل ایک دوسرے اہلحدیث خلیل الرحمن کی کتاب’’ پہلا زینہ‘‘ کا بھی ہم نے حوالہ دیا تھا کہ کس طرح سورہ انعام کی آیت میں انہوں نے ’’قبر‘‘ کا اضافہ کردیا تھا۔یہود کی اسی طرح کی حرکتوں کوقرآن میں یہ کہہ کر بتایا گیا ہے کہ  ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یحرفون الکلمہ عن مواضعہ!
بایں ہمہ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا صرف وہی مردے زندہ کیے جائیں گے جو اس زمینی قبر میں دفن کیے جائیں؟ وہ جو اس قبر میں دفن ہی نہیں کیے گئے، کیا وہ نہیں اٹھائے جائیں گے؟ کیاآل فرعون و دیگر عذاب شدہ قومیں نہیں اٹھائی جائیں گی؟ اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے:

وَ الْمَوْتٰى يَبْعَثُهُمُ اللّٰهُ ثُمَّ اِلَيْهِ يُرْجَعُوْنَؐ

[الأنعام: 36]

’’رہے مردے، تو اﷲ ان کو اٹھائے گا پھر وہ اس کی ہی طرف پلٹائے جائیں گے‘‘۔

یعنی ہر مردہ اٹھا یا جائے گا، چاہے اسے یہ زمینی قبر ملے یا نہ ملے، سمندر میں ڈوب کر مرے یا جلا دیا جائے۔مگر یہ کہنا کہ ’’اس قبر سے اٹھائے گا‘‘ محض عیاری و دھوکہ دینا ہے۔

عذاب قبر کی تفصیل؛

اس سے قبل ہم نے فرقہ پرستوں کا عقیدہ بیان کیا تھا کہ وہ  اسی زمینی قبرکو مرنے کے بعد  جزا و سزا کا مقام قرار دیتے ہیں اور بقول ان کے اسی وجہ سے اسے عذاب قبر کہا جاتا ہے۔یہ سراسر جھوٹ ہے کیونکہ دنیا کی ایک بڑی اکثریت کو زمینی قبر نصیب ہی نہیں ہوتی، تو انہیں عذاب قبر کہاں ہوتا ہے؟مفتی دامانوی صاحب اپنی کتاب میں لکھتے ہیں:

’’ ان مختلف احادیث کا خلاصہ یہ ہے کہ عائشہؓ کو پہلی مرتبہ ایک یہودی عورت نے عذاب قبر کے متعلق بتایا لیکن انہوں نے اس کی تصدیق نہ کی۔ نبی صلی اﷲ علیہ و سلم نے بھی یہود کو جھوٹا قرار دیا بعد میں آپ صلی اللہ علیہ و سلم پر وحی بھیجی گئی اور آپﷺ کو عذاب القبر کے بارے میں بتایا گیا۔ اسی دن سورج گرہن لگ گیا اور آپ اکے بیٹے جناب ابراہیم رضی اﷲ عنہ کا انتقال بھی ہوگیا چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے اسی دن سورج گہن کی نماز صلوٰۃ الکسوف پڑھائی۔اور خطبہ دیا۔اور اسی خطبہ میں صحابہ کرا م ؓ کو عذاب القبر کی تفصیلات سے آگاہ کیا‘‘ (عقیدہ عذاب قبر،صفحہ ۳۶) 

اہلحدیثوں کے بیان کے مطابق صلوٰۃ الکسوف کی روایات میں نبی ﷺ  نے عذاب قبر کی تفصیلات سے پہلی مرتبہ آگاہ کیا، لہٰذا ضروری ہے کہ ان روایات کابھی جائزہ لے لیا جائے۔
صلوٰۃ الکسوف کی احادیث

۔۔۔ فَقُمْتُ حَتّٰی تَجَلاَّنِی الْغَشْیُ وَجَعَلْتُ اَصُبُّ فَوْقَ رَاْسِیْ مَاءً، فَلَمَّا انْصَرَفَ رَسُوْلُ اﷲِ ا حَمِدَاﷲَ وَاَثْنٰی عَلَیْہِ، ثُمَّ قَالَ مَامِنْ شَیْءٍ کُنْتُ لَمْ اَرَہُ اِلاَّ قَدْ رَایْتُہُ فِیْ مَقَامِیْ ھٰذَا حَتَّی الْجَنَّۃَ وَالنَّارَ وَلَقَدْ اُوْحِیَ اِلَیَّ اَنَّکُمْ تُفْتَنُوْنَ فِی الْقُبُوْرِ مِثْلَ اَوْ قَرِیْبًا مِّنْ فِتْنَۃِ الدَّجَّالِ لَآ اَدْرِیْ اَیَّ ذٰلِکَ قَالَتْ اَسْمَآءُ یُؤْتٰی اَحَدُکُمْ فَیُقَالُ لَہٗ مَاعِلْمُکَ بِھٰذَالرَّجُلِ فَاَمّا المُؤْمِنُ اَوِ الْمُوْقِنُ لَآ اَدْرِیْ اَیَّ ذٰلِکَ قَالَتْ اَسْمَآءُ فَیَقُوْلُ ھُوَ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اﷲِ جَآءَ نَا بِالْبَیِّنَاتِ وَالْھُدٰی فَاَجَبْنَا وَ اٰمَنَّا وَاتَّبَعْنَا فَیُقَالُ نَمْ صَالِحًا فَقَدْ عَلِمْنَا اِنْ کُنْتَ لَمُؤْمِنًا وَ اَمَّا الْمُنَافِقُ اَوِ الْمُرْتَابُ لَآاَدْرِیْ اَیَّ ذٰلِکَ قَالَتْ اَسْمَآءُ فَیَقُوْلُ لَآاَدْرِیْ سَمِعْتُ النَّاسَ یَقُوْلُوْنَ شَیْءًا فَقُلْتُہٗ


(بخاری:کتاب الوضوء۔باب من لم یتوضا الا من الغشی المثقل)

’’ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ (اسماء ؓ سورج گرہن کی صلوٰۃ ادا کرنے کا واقعہ روایت کرتی ہیں کہ) ۔۔۔میں بھی کھڑی ہوگئی یہاں تک کہ(صلوٰۃ کی طوالت سے) مجھ پر غشی طاری ہونے لگی اورمیں اپنے سر پر پانی ڈالنے لگی۔جب رسول اﷲ ﷺ (صلوٰۃ سے) فارغ ہوئے تو اﷲ کی حمد و ثناء فرمائی، اس کے بعد فرمایا کہ جس چیز کو میں نے کبھی نہیں دیکھا تھا اس کو آج اسی جگہ دیکھ لیا یہاں تک کہ جنت و جہنم کوبھی۔ اور میری طرف وحی کی گئی کہ تم اپنی قبروں میں آزمائے جاؤگے دجال کے فتنے کی طرح یا اس کے قریب قریب۔۔۔ تم میں سے ہر ایک کولایا جائے گا اور اس سے کہا جائے گا کہ اس مرد کے متعلق کیا علم رکھتے ہو۔ مومن یا موقن( وہ کہتی ہیں)مجھے یاد نہیں، کہے گا وہ اﷲ کے رسول محمدﷺہیں جو ہمارے پاس کھلی نشانیاں اور ہدایت لے کر آئے ،ہم نے ان کی بات مانی اور ایمان لائے اور پیروی کی۔ا س سے کہا جائے گا سو جا ،اس لیے کہ ہم نے جان لیا ہے کہ تو مومن ہے۔ لیکن منافق یا شک کرنے والا کہے گا کہ مجھے نہیں معلوم، میں نے تو جولوگوں کو کہتے ہوئے سنا وہی میں نے کہا‘‘۔


حدیث کے الفاظ پر غور فرمائیے کہ یہ کونسا مقام ہے جس کے متعلق بتایا گیا کہ:


یوْ تٰی اَحَدُ کُمْ ’’پھر تم میں سے ہر ایک کولایا جائے گا‘‘


(یہ بات بھی قابل غور ہے کہ اہلحدیثوں نے اس حدیث کا ترجمہ بھی بدل ڈالا اور لکھا کہ’’ تم میں سے ہر ایک کے پاس پہنچیں گے‘‘!اگرچہ دیوبندی بھی ان کے ہم عقیدہ ہیں مگرکم ازکم اس علمی خیانت کی جرأت ان سے نہ ہوسکی،  یہ بھی اہلحدیثوں کا ہی خاصہ ہے)

قرآن و حدیث سے اس کی تشریح یہ ملتی ہے کہ ہر مرنے والے کی روح فرشتے قبض کرکے اﷲ تعالیٰ کے پاس لے جاتے ہیں:

وَ هُوَ الْقَاهِرُ فَوْقَ عِبَادِهٖ وَ يُرْسِلُ عَلَيْكُمْ حَفَظَةً١ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَآءَ اَحَدَكُمُ الْمَوْتُ تَوَفَّتْهُ رُسُلُنَا وَ هُمْ لَا يُفَرِّطُوْنَ۝ثُمَّ رُدُّوْۤا اِلَى اللّٰهِ مَوْلٰىهُمُ الْحَقِّ١ؕ اَلَا لَهُ الْحُكْمُ١۫ وَ هُوَ اَسْرَعُ الْحٰسِبِيْنَ۰۰۶۲

 (الانعام:61/62)

’’اور وہ اپنے بندوں پر غالب ہے اور تم پر نگہبان بھیجتا ہے۔ یہاں تک کہ جب تم میں سے کسی کی موت آتی ہے تو ہمارے بھیجے ہوئے (فرشتے) اسکی روح قبض کر لیتے ہیں اور وہ کوئی کوتاہی نہیں کرتے۔ پھر تم پلٹائے جاتے ہو اﷲکی طرف جو تمھارا حقیقی مالک ہے ۔سن لو کہ حکم اسی کا ہے اور وہ بہت جلد ساب لینے والاہے‘‘۔

ؕ وَ لَوْ تَرٰۤى اِذِ الظّٰلِمُوْنَ فِيْ غَمَرٰتِ الْمَوْتِ وَ الْمَلٰٓىِٕكَةُ بَاسِطُوْۤا اَيْدِيْهِمْ١ۚ اَخْرِجُوْۤا اَنْفُسَكُمْ١ؕ اَلْيَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذَابَ الْهُوْنِ بِمَا كُنْتُمْ تَقُوْلُوْنَ عَلَى اللّٰهِ غَيْرَ الْحَقِّ وَ كُنْتُمْ عَنْ اٰيٰتِهٖ تَسْتَكْبِرُوْنَ۠۝وَ لَقَدْ جِئْتُمُوْنَا فُرَادٰى كَمَا خَلَقْنٰكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍ وَّ تَرَكْتُمْ مَّا خَوَّلْنٰكُمْ وَرَآءَ ظُهُوْرِكُمْ١ۚ وَ مَا نَرٰى مَعَكُمْ شُفَعَآءَكُمُ الَّذِيْنَ زَعَمْتُمْ اَنَّهُمْ فِيْكُمْ شُرَكٰٓؤُا١ؕ لَقَدْ تَّقَطَّعَ بَيْنَكُمْ وَ ضَلَّ عَنْكُمْ مَّا كُنْتُمْ تَزْعُمُوْنَؒ۰۰۹۴

(الانعام: 93/94)

’’کاش تم ظالموں کواس حالت میں دیکھ سکو جب کہ وہ سکرات موت میں ہوتے ہیں اور فرشتے ہاتھ بڑھا بڑھا کر کہہ رہے ہوتے ہیں نکالو اپنی جانوں کو،آج تمہیں ان باتوں کی پاداش میں ذلت کا عذاب دیا جائے گا جو تم اﷲپرتہمت رکھ کر ناحق کہا کرتے تھے اور اس کی آیات کے مقابلے میں سرکشی دکھاتے تھے۔اور تم تن تنہا پہنچ گئے ہمارے پاس جیسا کہ ہم نے تمہیں پہلی بار پیدا کیا تھا اور چھوڑ آئے ہو اپنی پیٹھ پیچھے جو کچھ ہم نے تم کو عطاکیا تھا‘‘۔


عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَؓ قَالَ اِذَا خَرَجَتْ رُوْحُ الْمُؤْمِنِ تَلَقَّاھَا مَلَکَانِ یُصْعِدَانِھَا قَالَ حَمَّادٌ فَذَکَرَ مِنْ طِیْبِ رِیْحِھَا وَ ذَکَرَ الْمِسْکَ قَالَ وَ یَقُوْلُ اَھْلُ السَّمَآءِ رُوْحٌ طَیِّبَۃٌ جَآءَ تْ مِنْ قِبَلِ الْاَرْضِ صَلّی اﷲُ عَلَیْکِ وَ عَلٰی جَسَدٍ کُنْتِ تَعْمُرِیْنَہٗ فَیُنْطَلَقُ بِہٖ اِلٰی رَبِّہٖ عَزَّ وَ جَلَّ ثُمَّ یَقُوْلُ انْطَلِقُوْا بِہٖ اِلآی اٰخِرِ الْاَجَلِ قَالَ وَ اِنَّ الْکَافِرَ اِذَا خَرَجَتْ رُوْحُہٗ قَالَ حَمَّادٌ وَّ ذَکَرَ مِنْ نَتْنِھَا وَ ذَکَرَ لَعْنًا وَّ تَقُوْلُ اَھْلُ السَّمَآءِ رُوْحٌ خَبِیْثَۃٌ جَآءَ تْ مِنْ قِبَلِ الْاَرْضِ قَالَ فَیُقَالُ انْطَلِقُوْا بِہٖ اِلٰی اٰخِرِ الْاَجَلِ 


(مسلم:کتاب الجنۃ و صفۃ نعیمھا، باب عرض المقعد علی المیت و عذاب القبر)


’’جب مومن کی روح اس کے بدن سے نکلتی ہے تو اس کے آگے آگے دو فرشتے جاتے ہیں ا س کو آسمان پر چڑھاتے ہیں۔ابوہریرۃ ؓ نے اس کی خوشبو اور مشک کا ذکر کیا اور کہا کہ آسمان والے ( فرشتے ) کہتے ہیں کوئی پاک روح ہے جو زمین سے آئی ہے۔ اﷲ تعالی تجھ پر رحمت کرے اور تیرے جسم پرجس کو تو نے آباد رکھا۔ پھر اس کو اس کے رب کے پاس لیجاتے ہیں وہ فرماتا ہے لے جاؤ اس کو آخری وقت تک کے لیے ۔اور جب کافر کی روح نکلتی ہے تو ابوہریرۃ ؓ نے اس پر لعنت کا ذکر کیا اور کہا کہ آسمان والے ( فرشتے ) کہتے ہیں کہ ناپاک روح ہے جو زمین سے آئی ہے پھر حکم ہوتا ہے لے جاؤ اس کو آخری وقت تک کے لیے‘‘۔ 

تویہ ہے وہ مقام کہ جہاں سارے کے سارے انسان مرنے کے بعدلے جائے جاتے ہیں۔اسماء رضی اﷲ کی بیان کردہ صلوٰۃ الکسوف کی حدیث، جس کے بارے میں اہلحدیثوں نے انکشاف فرمایا ہے کہ اس میں نبی صلی اﷲ علیہ و سلم نے پہلی دفعہ عذاب قبر کی تفصیلات سے آگاہ فرمایا،کا متن بھی اسی بات کو ثابت کرتا ہے۔


نبی ﷺ پر وحی نازل ہونے کے مختلف انداز تھے:کبھی فرشتے کے ذریعے پیغام آتا، کبھی دل میں القا کی جاتی ، کبھی خواب کے ذریعے اور کبھی وہ مناظر نبی  ﷺکو دکھادیئے جاتے جن کے متعلق کچھ بتانا مقصودہوتا ۔چنانچہ اس حدیث میں وحی کایہی مؤخرالذکرانداز تھاکہ عذاب قبر کے مناظرنبی ﷺکو دکھائے گئے جس کا ثبوت قَدْ رَایْتُہُ( میں نے اسے دیکھا) کے الفاظ ہیں ۔عائشہ رضی اﷲ فرماتی ہیں:


۔۔۔فَقَالَ انِّیْ قَدْ رَأےْتُکُمْ تُفْتَنُوْنَ فِی اْلقُبُوْرِکَفِتْنَۃِ الدَّجَّالِ ۔۔۔ فَکُنْتُ اَسْمَعُ رَسُوْلَ اﷲِ بَعْدَ ذٰلِکَ یَتَعَوَّذُ مِنْ عَذَابِ النَّارِ وَ عَذَابِ الْقَبْرِ 


(مسلم:کتاب الکسوف، باب ذکرعذاب القبر فی صلاۃ الخسوف)


۔۔۔ (نبی  ﷺ نے صلوٰۃ الکسوف ادا فرمائی )پھر فرمایا:’’ میں نے یقیناًتم کو دیکھا کہ تم آزمائے جاتے ہو قبروں میں دجال کے فتنہ کی طرح‘‘ اس کے بعدمیں رسول اﷲﷺکوجہنم کے عذاب اور قبر کے عذاب سے پناہ مانگتے ہوئے سناکرتی‘‘۔

نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے کیا دیکھا :


اِنَّہُ عُرِضَ عَلَیَّ کُلُّ شَیْءٍ تُوْلَجُوْنَہُ، فَعُرِضَتْ عَلَیَّ الْجَنَّۃُ، حَتّٰی لَوْ تَنَاوَلْتُ مِنْھَا قِطْفًا اَخَذْتُہُ اَوْ قَالَ تَنَاوَلْتُ مِنْھَا قِطْفًا فَقَصُرَتْ یَدِیْ عَنْہُ وَعُرِضَتْ عَلَیَّ النَّارُ فَرَأیْتُ فِیْھَا امْرَأَۃً مِّنْ بَنِیْ اِسْرَاءِیْلَ تُعَذَّبُ فِیْ ھِرَّۃٍ لَّھَا، رَبَطَتْھَا فَلَمْ تُطْعِمْھَا وَلَمْ تَدَعْھَا تَأْکُلُ مِنْ خَشَشِ الْاَرْضِ وَ رَأْیْتُ اَبَا ثُمَامَۃَ عَمْرَوبْنَ مَالِکٍ یَجُرُّ قُصْبَہُ فِیْ النَّارِ ۔۔۔


(مسلم:کتاب ا لکسوف، باب ما عرض علی النبیافی صلاۃ الکسوف من امرالجنۃ والنار)


’’ ۔۔۔ پھر فرمایا کہ جتنی بھی چیزیں جن میں تم جاؤگے میرے سامنے آئیں، اور جنت تو ایسی آئی کہ اگر میں اس میں سے ایک گچھا لینا چاہتا تو ضرور ہی لے لیتا؛ یا فرمایا کہ میں نے اس میں سے ایک گچھا لینا چاہا تو میرا ہاتھ نہ پہنچا۔اور جہنم میرے آگے آئی اور میں نے بنی اسرائیل کی ایک عورت کو دیکھا کہ ایک بلی کی وجہ سے اس کو عذاب ہورہا ہے کہ اس نے بلی کو باندھا ہوا تھا ،اسے نہ تو کھانے کو دیتی اور نہ اسے کھولتی کہ وہ زمین کے کیڑے مکوڑے کھالیتی۔اور جہنم میں ابو ثمامہ عمرو بن مالک کو دیکھا کہ جہنم میں اپنی آنتیں کھینچ رہا تھا۔۔۔۔۔۔‘‘ 


۔۔۔رَاَیْتُ جَھَنَّمَ یَحْطِمُ بَعْضُھَا بَعْضًا ۔۔۔وَ رَاَیْتُ عَمْرَوبْنَ عَامِرِ الْخُزَاعِیِّ یَجُرُّ قُصْبَہٗ فِی النَّارِ کاَنَ اَوَّلُ مَنْ سَیَّبَ السَّوَآءِبَ 


)بخاری:کتاب التفسیر،تفسیرسورۃ المائدۃ، باب قولہ ماجعل اﷲ من بحیرۃ ولا سائبۃ ولاوصیلۃ ولاحام،عن عائشۃ وابی ھریرۃ رضی اﷲ)


’’ میں نے جہنم کو دیکھا ،اس کا ایک حصہ دوسرے کو تباہ کر رہا تھا اور اس میں عمرو بن عامرلحی الخزاعی کو دیکھا، وہ ا پنی آنتیں کھینچ رہا تھا۔یہ وہ پہلا شخص تھا جس نے بتوں کے نام پر جانورچھوڑنے کی رسم ایجاد کی‘‘۔

بتائیے کہ یہ کونسی قبریں تھیں کہ جن میں نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے عذاب ہو تے ہوئے دیکھ کر عذاب قبر سے پناہ مانگی؟

 یہ زمین میں بنی ہوئی قبریں تھیں یایہ جہنم میں ملنے والے وہ مقام ہیں جن میں ایک مرنے والا قیامت تک حسب انجام عذاب پائے گا۔

نبی ﷺنے جب غزوہ بدر میں مرنے والوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا: 

هَلْ وَجَدْتُمْ وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا

’’کیا تم نے پالیا اپنے رب کاوعدہ‘‘


تو عائشہ رضی اﷲ نے اس کی تشریح فرمائی، راوی کہتے ہیں کہ اس کا مطلب یہ تھا  کہ 

حِیْنَ تَبَوّءُ وْا مَقَاعِدَھُمْ مِّنَ النَّارِ

 ’’ جب جہنم میں ان کو ٹھکانہ مل گیا ہوگا‘‘


(بخاری: کتاب المغازی،باب قتل ابی جہل، عن ھشام عن ابیہ)


نبی ﷺ کے اس فرمان سے اس بات کی یقینی وضاحت ہوگئی کہ وہ مقام جہاں مرنے والا قیامت تک عذاب یا راحت پاتاہے، وہی وہ مقام ہے جس کے لیے اﷲ تعالیٰ فرماتا ہی ثُمَّ اَمَاتَهٗ فَاَقْبَرَهٗۙ’’ پھر اسے موت دی قبر دی ‘‘۔


جیسا کہ قرآن مجید میں مرتے ہی قومِ نوح وازواجِ نوح و لوط علیہماالسلام کے جہنم میں دا خلے، اورآل فرعون کے جہنم پر پیش کیے جانے کا ذکر فرمایا گیا ہے،تو وہی تسلسل رسول اﷲا کی حدیث میں بھی پایا جاتا ہے۔ جہنم (آسمانوں) میں ہونے والے اس عذاب کو دیکھ کرنبی ﷺنے’’ عذاب قبر‘‘ سے پناہ مانگی ۔ یہی ہمارا ایمان ہے کہ عذاب قبر اس دنیاوی قبر میں نہیں بلکہ جہنم  میں ہوتا ہے۔ یہی تشریح ہے نبیﷺ کی اس حدیث کی جس میں یہودی عورت کے متعلق بتایا گیاکہ

’’یہ لوگ اس پر رو رہے ہیں اور اسے اس کی قبر میں عذاب دیا جارہا ہے‘‘


چونکہ یہ سب آسمانوں  میں ہوتا ہے اس لیے اﷲکی طرف سے دی جانے والی اس قبر کوبطور امتیاز اصطلا حاً اکثر مفسرین نے’’ برزخی قبر‘‘ کہہ دیا ہے ۔ 
صلوٰۃ الکسوف کی یہی وہ روایات ہیں جن کے متعلق خاکی جان دامانوی نے کہا تھا کہ ان میں نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے عذاب قبر کی تفصیلات بتائیں ۔ انہی روایات میں نبی ﷺکا یہ فرمان بھی نقل کیا گیا کہ: 


’’ جتنی بھی چیزیں جن میں تم جاؤگے میرے سامنے آئیں، اور جنت تو ایسی آئی۔۔۔۔۔۔اور جہنم میرے آگے آئی ۔۔۔‘‘


لیکن نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے کسی طور بھی اس دنیاوی زمینی قبر کا ذکر نہیں فرمایا ،بلکہ جہنم میں ہونے والے عذاب دیکھ کر فرمایا:


’’ اور میں نے یقیناًتم کو دیکھا کہ تم آزمائے جاتے ہو قبروں میں دجال کے فتنے کی طرح‘‘


اور پھر عذاب قبر سے پناہ مانگی!


اسی طرح بخاری کی سمرہ بن جندب ؓ والی حدیث میں فرشتے رسول اﷲﷺسے کہتے ہیں :
یُفْعَلُ بِہٖ اِلٰیوْمِ الْقِیَامَۃِ       ’’ یہ اس کے ساتھ قیامت تک ہوتا رہے گا‘‘

اوریہی بات نبی ﷺ صحابہؓ  کو بتا تے ہیں ،لیکن یہ اہلحدیث اسے بھی عذاب قبر ماننے کو تیار نہیں ۔اب رسول اﷲﷺکی بات سے جن کے دلوں کو تکلیف پہنچ رہی ہو اورجوان کی کہی ہوئی بات کو ماننے کے لیے تیار نہیں، وہ کون ہیں؟

اب چاہے اپنا نام کوئی’’ حزب اﷲ‘‘ رکھے یا اپنے آپ کو اہلسنت و الجماعت کہلوائے، کوئی اپنا نام جماعت المسلمین (بھلے سے گول ۃ والی ’’جماعۃ المسلمین) رکھے یاتنظیم المسلمین،اپنے آپ کو توحیدی کہلوائے یا لاکھ اپنے آپ کو اہلحدیث کہتا پھرے،سب کے لیے اﷲ تعالیٰ کا ایک ہی فیصلہ ہے کہ

فَلَا وَ رَبِّكَ لَا يُؤْمِنُوْنَ حَتّٰى يُحَكِّمُوْكَ فِيْمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوْا فِيْۤ اَنْفُسِهِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَيْتَ وَ يُسَلِّمُوْا تَسْلِيْمًا۰۰۶۵

[النساء: 65]

’’ نہیں اے نبی (ﷺ) ! آپ کے رب کی قسم یہ کبھی مومن نہیں ہوسکتے جب تک کہ اپنے باہمی اختلافات میں یہ آپ کو اپنا فیصلہ کرنے والا نہ مان لیں، پھر جو کچھ آپ فیصلہ کریں اس پر اپنے دلوں میں بھی کوئی تنگی محسوس نہ کریں، بلکہ خوشی سے مان لیں۔ ‘‘


قارئین / سامعین ،  ہم عالم  برزخ میں ملنے والے اس مقام جسے نبی ﷺ نے ’’ قبر ‘‘ کا نام دیا ہے اصطلاحاً ’’ برزخی قبر ‘‘ کہتے ہیں،اس پر یہ فرقہ پرست کہتے ہیں کہ یہ نام تم نے  خود گھڑا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ان فرقوں میں  پہلے سے اس   قبر کا  عقیدہ موجود ہے۔

برزخی  قبر اور اکابرین مسلک:

اکثر اہلحدیث اور دیوبندی بڑی شدومد کے ساتھ اس بات کو بیان کرتے ہیں کہ ’’ برزخی قبر ‘‘ کا کوئی وجود نہیں بلکہ یہ محض آپ لوگوں کی گھڑی ہوئی ایک بات ہے۔جدید فرقۂ اہلحدیث بنام جماعت المسلمین رجسٹرڈ والوں نے تو اس موضوع پر’’ارضی قبر و فرضی قبر‘‘ کے نام سے ایک کتاب بھی لکھ ڈالی ہے۔برزخی قبر کیا ہے، اس کی تفصیل اس سے قبل بیان کی جاچکی ہے۔ہم نے قرآن و حدیث کے بیان کے مطابق ہی اس کو اصطلاحاً برزخی قبر کہا ہے ورنہ یہ ہماری اختراع نہیں ہے بلکہ اس حقیقت کا اعتراف تومسلکی اکابرین بھی کرتے ہیں۔ اس حوالے سے ہم کچھ اقتباسات پیش کرتے ہیں، ملاحظہ فرمائیے:

محمد اسماعیل سلفی الحدیث فرماتے ہیں :

’’ اس قسم کی اور بہت سی آیات ہیں جن میں اس عذاب اور برزخ کا ثبوت ملتا ہے اور احادیث میں تو یہ موضوع اس کثرت اور صراحت سے آیا ہے کہ کسی دیانتدار آدمی کے لیے اس سے انکار کی گنجائش نہیں۔ قبر سے مراد برزخ ہے اس میں مجرموں کو عذاب ہوگا۔وہ قبر کے گڑھے میں دفن ہوں یا اسے کوئی جانور کھا جائے وہ ہی اسکی قبر ہوگی جس صورت میں بھی وہ عذاب یا خوشی محسوس کرے گا۔ قبر سے مراد گڑھا ہی نہیں بلکہ موت کے بعد جو ٹھکانہ ملا ہے وہ قبر ہے اور وہیں انسان کو عذاب یا خوشی کا احساس ہوگا۔ اسکو عذاب قبر یا برزخی زندگی سے تعبیر کیا گیا ہے‘‘۔
( تبلیغی نصاب،از محمد اسماعیل سلفی ، صفحہ۴۱)

فضل الرحمن کلیم اہلحدیث نے لکھا ہے :

’’ عام لوگ صرف زمین کے گڑھے اور مٹی کے ڈھیر کو قبر سمجھتے ہیں لیکن یہ بات غلط ہے ورنہ کہنا پڑیگا کہ جن لوگوں کو زمین میں دفن ہونا نصیب نہیں ہوا وہ قبروں میں نہیں گئے‘‘۔ ( دعا کرنے کا اسلامی تصور، از فضل الرحمن کلیم اہلحدیث، صفحہ ۱۰۹)


’’ الغرض بہت سی لاشوں کو وہ جگہ نہیں ملتی جس کو ہمارے عرف میں قبر کہا جاتاہے۔ تو کیا یہ لوگ قبروں میں نہیں پہنچے اور ان کی کوئی قبر نہیں؟ ایسا کہنا غلط ہے کیونکہ مرنے والے ہر شخص کی نئی منزل قبر ہوتی ہے اور ہر شخص قبر میں جاتا ہے۔بات دراصل یہ ہے کہ قرآن مجید حدیث پاک میں جب لفظ قبر استعمال کیا جاتا ہے تو اس سے مراد صرف زمین کا گڑھا اور مٹی کا ڈھیر نہیں ہوتا بلکہ قبر سے مراد وہ مقام ہے جہاں مرنے کے بعد انسان کو ٹھہرنا نصیب ہوتا ہے لیکن اس مقام کی حقیقت انسان کی عقل و فکر سے باہر ہے۔اﷲ پاک نے اسکو انسان کے دنیوی حواس سے پوشیدہ رکھا ہے، چنانچہ جن لوگوں کو زمین میں دفن کیا جاتا ہے اور جن کی لاشیں دنیا میں ضائع ہوجاتی ہیں ان سب کو اﷲ پاک کسی جگہ ٹھہراتا ہے اور جس جگہ ٹہراتا ہے وہ ہی ان کی قبر ہے کیونکہ قبر کے معنی زمین کا گڑھا اور مٹی کا ڈھیر نہیں بلکہ عربی زبان میں میت کے ٹہرنے کی جگہ کا نام قبرہے۔مفردات امام راغب میں ہے ’’ القبر مقر المیت‘‘ مرنے والے کی رہائش گاہ کا نام قبر ہے۔اگر قبر سے مراد صرف زمین کا گڑھا اور مٹی کا ڈھیر ہو تو قرآن مجید کی بہت سی آیات کا مفہوم بیان کرنا مشکل ہوجائے گا‘‘۔(ایضاً،صفحہ۱۱۰)

 شبلی نعمانی صاحب نے لکھا ہے :

’’لیکن اس لفظ ’’ قبر‘‘ سے درحقیقت مقصود وہ خاک کا تودہ نہیں جس کے نیچے کسی مردہ کی ہڈیاں پڑی رہتی ہیں بلکہ وہ عالم ہے جس میں یہ مناظر پیش آتے ہیں اور وہ ارواح و نفوس کی دنیا ہے ماد ی عنا صر کی نہیں ہے‘‘۔(سیرۃ النبی ا، از علامہ شبلی نعمانی وعلامہ سید سلیمان ندوی،جلد۴، صفحہ ۳۶۰)
’’ بعض حدیثوں میں آنحضرت صلعم سے ان مٹی کی قبروں میں عذاب کے مشاہدات و مسموعات کا تذکرہ ہے تو ظاہر ہے کہ مادی زبان و منظر میں ان قوموں کے نزدیک جو مردوں کو گاڑتی ہیں اس میت کی یادگار اس دنیا میں اس کے اس مٹی کے ڈھیر کے سوا اور کیا ہے جس کی طرف اشارہ کیا جاسکے‘‘۔ ( ایضاً، صفحہ ۳۶۲)

ادریس کاندھلوی صاحب کا عقیدہ :

’’قبر میں مومنوں اور کافروں سے منکر و نکیر کا سوال حق ہے۔قبر سے وہ گڑھا مرادنہیں جس میں مردہ جسم دفن کیا جاتا ہے بلکہ عالم برزخ مراد ہے‘‘ ۔( عقائد الاسلام ،از محمد ادریس کاندھلوی ،حصہ۱،صفحہ۵۸)

عبد الحق دہلوی صاحب  فرماتے ہیں :

’’ان احادیث میں،اور جن میں کہ قبر کے اندر ثواب وعذاب ثابت ہے کچھ مخالفت نہیں،کیونکہ جب ثابت ہوا کہ قبر سے خاص وہ گڑھا مراد نہیں کہ جس میں جسم دفن کیا جاتا ہے بلکہ عالم برزخ مراد ہے۔خواہ کوئی پانی میں غرق ہو خواہ آگ میں جل جاوے تو اس کی وہی قبر ہے‘‘۔ (حقانی عقائد الاسلام ،از عبد الحق دہلوی،صفحہ۱۶۹)

اشرف علی تھانوی صاحب بیان کر گئے ہیں :

’’ کیا معنی کہ قبر سے مراد یہ محسوس گڑھا نہیں ہے۔کیونکہ کسی کو بھیڑیا کھا گیا،یا کوئی سمندر میں غرق ہوگیا یوں اس صورت میں چونکہ وہ زمین میں دفن نہیں ہوا اس لیے اس کو چاہیے کہ قبر کا عذاب نہ ہو،لیکن اب اشکال نہ رہا۔کیونکہ جو عالم مثال ہے وہیں اس کو عذاب قبر بھی ہوجائے گا۔ اشکال تو جب ہوتا جب قبر سے مراد یہ گڑھا ہوتا جس میں لاش دفن کی جاتی ہے ۔حالانکہ اصطلاح شریعت میں قبر گڑھے کو کہتے ہی نہیں بلکہ عالم مثال کو کہتے ہیں قبر‘‘۔ (اشرف الجواب ،از اشرف علی تھانوی ،صفحہ ۱۵۸)

اشاعت التوحید و السنۃ دیوبندی کا عقیدہ :

’’ نیز اگر قبر کے معنی گڑھے کے کریں تو بہت سی احادیث صحیحہ کا انکار لازم آئے گا یا کہنا پڑے گا کہ کافر اور مرتد بھی عذاب قبر سے محفوظ ہیں۔لاحول ولاقوۃ الا باﷲ ۔۔۔ اس تقریر سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ قبر اس گڑھے کا نام نہیں جسے لوگ اپنے ہاتھوں سے کسیوں کے ذریعے کھودکر اس میں میت کو دفن کرتے ہیں بلکہ قبر کسی اور چیز کا نام ہے جہاں جزا و سزا ہوتی ہے۔ہاں اس گڑھے کو عرفی قبر کہتے ہیں‘‘۔(الاقول المرضیہ فی الاحوال البرزخیہ،از محمد حسین نیلوی اشاعتی،صفحہ ۸۵)

بریلوی عالم شبیر حسن چشتی نے لکھا:

’’ قبر نام صرف اس گڑھے کا ہی نہیں ہے جس میں جسمِ میت دفن کردیا جاتا ہے۔ بلکہ قبر اس عالم کا نام ہے جہاں مرنے کے بعد انسان کا قیام قیامت تک رہے گا۔ اس لیے کوئی میت خواہ قبر میں دفن کردی جائے یا پانی میں غرق کردی جائے یا آگ میں جلا کر اس کے اجزاء منتشر کردئیے جائیں یا صلیب پر لٹکادیا جائے۔ ہم خواہ اپنی آنکھوں سے عذاب یا ثواب برزخ کا مشاہدہ نہ کرسکیں مگر حقیقت یہ ہے کہ میت مرنے کے بعد خواہ کسی حالت میں کیوں نہ ہو۔ عذاب ثواب میں ضرور مبتلا ہوگی۔ جب ہم اپنے عالم شہادت کی بہت سی چیزیں اپنی آنکھوں سے مشاہدہ نہیں کرسکتے اور مشاہدہ نہ کرسکنے کے باوجود اس کے وجود کے قائل ہیں تو برزخ تو ایک عالم ہی دوسرا ہے۔ اس کا حال اگر ہمیں نظر نہ آئے تو اس سے یہ لازم نہیں کہ ہم اس عالم کے وجود سے ہی سراسر انکار کردیں یا اس کے عذاب و ثواب سے منکر بن جائیں‘‘۔(موت کے بعد کیا ہوگا؟ از علامہ شبیر حسن چشتی بریلوی، صفحہ۹۲،۹۳)

اہل تشیع  عالم آیت اللہ العظمیٰ سید عبد الحسین کا  بیان:

’’ مرحوم علامہ مجلسی فرمایا کرتے تھے احادیث کی ایک قسم ہے جس میں قبر کا نام لیا گیا ہے وہاں قبر سے مراد عالم برزخ ہے نہ کہ قبر جسمانی۔ اور یہ کہ جو روایت میں آیا ہے کہ خداوند عالم قبر مومن کو وسعت دیتا ہے اس سے برزخ کا عالم روحانی مراد ہے۔ قبر کی تاریکی و روشنی جسمانی نہیں ہے‘‘۔(برزخ،ازآیت اﷲ العظمیٰ سیدعبد الحسین اہل تشیع،صفحہ ۱۱۶)

مروجہ مسالک کے کچھ افراد کی کتابوں کے چنداقباسات صرف حوالتاً پیش کیے گئے ہیں تاکہ یہ بات واضح ہوجائے کہ ’’برزخی قبر‘‘ ہماری اختراع نہیں  بلکہ  ان کے بہت سے مفسرین کی اصطلاح ہے  جو کہ بہت پہلے  ہی اپنائی جا چکی ہے۔ ہماری ساری بحث تو محض کتاب اﷲ کی بنیاد پر ہے۔

جوتوں کی چاپ سننے والے روایت؛

قرآن و حدیث کا واضح بیان  ہےکہ مرنے کے بعد ملنے والے عذاب قبر یا راحت قبر کا اس دنیا، اس مٹی کے جسم سے کوئی تعلق نہیں، جس کی تفصیل ہم پیش کر چکے ہیں لیکن مسلک پرست اپنے باطل عقیدے کے لیے بخاری کی یہ حدیث برھان قاطعہ کے طور پر پیش کرتے ہیں:

عَنِ النَّبِیِّ ا قَالَ الْعَبْدُ اِذَا وُضِعَ فِیْ قَبْرِہٖ وَ تُوُلِّیَ وَ ذَھَبَ اَصْحَابُہٗ حَتّٰی اَنَّہٗ لَیَسْمَعُ قَرْعَ نِعَالِھِمْ اَتَاہُ مَلَکَانِ فَاَقْعَدَاہُ فَیَقُوْلاَنِ لَہٗ مَاکُنْتَ تَقُوْلُ فِیْ ھٰذَا الرَّجُلِ مُحَمَّدٍ فَیَقُوْلُ اَشْھَدُ اَنَّہٗ عَبْدُاﷲِ وَ رَسُوْلُہٗ فَیُقَالُ انْظُرْ اِلیٰ مَقْعَدِکَ مِنَ النَّارِ اَبْدَلَکَ اﷲُ بِہٖ مَقْعَدًا مِّنَ الْجَنَّۃِ قَالَ النِّبِیُّ ا فَیَرَاھُمَا جَمِیْعًا وَّ اَمَّا الْکَافِرُ وَالْمُنَافِقُ فَیْقَالُ لاَ دَرَیْتَ وَ لاَ تَلَیْتَ ثُمَّ یُضْرَبُ بِمِطْرَقَۃٍ مِّنْ حَدِیْدٍ ضَرْبَۃً بَیْنَ اُذُنَیْہِ فَیُصِیْحُ صَیْحَۃً یَّسْمَعُھَا مَنْ یَّلِیْہِ اِلاَّ الثَّقَلَیْنِ

(بخاری:کتاب الجنائز، باب المیت یسمع خفق النعال)

’’نبی ﷺ نے فرمایا: بندہ جب اپنی قبر میں رکھ دیا گیا اور اس کا معاملہ اختتام کو پہنچ گیا اور اس کے ساتھی چلے گئے۔ یہاں تک کہ وہ یقینی طور ان(فرشتوں) کی جوتیوں کی آواز سنتا ہے کہ دو فرشتے آجاتے ہیں اس کو بٹھاتے ہیں اور وہ دونوں اس سے کہتے ہیں کہ تو کیا کہتا تھا اس شخص محمد ﷺکے بارے میں؟ وہ کہتا ہے کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ وہ ﷲ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ تو اس سے کہا جاتا ہے کہ تو جہنم میں اپنے ٹھکانے کی طرف دیکھ ﷲ تعالی نے اس کے بدلہ میں تجھے جنت کا ٹھکانہ عطا کیا ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا کہ پھر وہ ان دونوں چیزوں کو دیکھتا ہے اور کافر یا منافق کہتا ہے کہ مجھے کچھ نہیں معلوم، میں تو وہی کہتا تھا جو لوگ کہتے تھے، اس سے کہا جاتا ہے کہ تو نے سچی بات نہ جانی اور نہ جاننے والوں کی پیروی کی پھر اس کے دونوں کانوں کے درمیان لوہے کے ہتھوڑے سے ایسی ضرب لگائی جاتی ہے اور وہ چیخ مارتا ہے کہ جن و انس کے علاوہ ہر کوئی سنتا ہے‘‘۔

دراصل یہ حدیث صرف اس حد تک بیان کرتی ہے کہ  مرنے کے بعد انسان سے سوال و جواب اور اس کی سزا و جزا کس قدر جلد شروع ہو جاتی ہے۔ رہا ان کا یہ کہنا کہ یہ زمینی قبر میں عذاب قبر پر دلیل ہے بالکل غلط بات ہے، ورنہ انہیں چند باتوں کا جواب دینا ہوگا۔

۱)       کیا مرنے کے بعد سوال و جواب صرف انہی سے ہوتے ہیں جو اس زمینی قبر میں دفنائے جاتے ہیں؟

2)      کیا مٹی سے بنا یہ مردہ جسم سنتا اور بولتا ہے؟

ان معاملات کے لئے ہم کتاب اللہ سے رجوع کرتے ہیں :

کیا مرنے کے بعد سوال و جواب صرف انہی سے ہوتے ہیں جو اس زمینی قبر میں دفنائے جاتے ہیں؟

ایک طویل حدیث میں نبیﷺ نے عذاب قبر کا آنکھوں دیکھا حال بیان کیا اور فرمایا:

۔ ۔ ۔ ۔ وَالنَّارَ وَلَقَدْ اُوْحِیَ اِلَیَّ اَنَّکُمْ تُفْتَنُوْنَ فِی الْقُبُوْرِ مِثْلَ اَوْ قَرِیْبًامِّنْ فِتْنَۃِ الدَّجَّالِ لَآ اَدْرِیْ اَیَّ ذٰلِکَ قَالَتْ اَسْمَآءُ یُؤْتٰی اَحَدُکُمْ فَیُقَالُ لَہٗ مَاعِلْمُکَ بِھٰذَالرَّجُلِ فَاَمّا المُؤْمِنُ اَوِ الْمُوْقِنُ لَآ اَدْرِیْ اَیَّ ذٰلِکَ قَالَتْ اَسْمَآءُ فَیَقُوْلُ ھُوَ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اﷲ جَآءَ نَا بِالْبَیِّنَاتِ وَالْھُدٰی فَاَجَبْنَا وَ اٰمَنَّا وَاتَّبَعْنَا فَیُقَالُ نَمْ صَالِحًا فَقَدْ عَلِمْنَااِنْ کُنْتَ لَمُؤْمِنًا وَ اَمَّا الْمُنَافِقُ اَوِ الْمُرْتَابُ لَآاَدْرِیْ اَیَّ ذٰلِکَ قَالَتْ اَسْمَآءُ فَیَقُوْلُ لَآاَدْرِیْ سَمِعْتُ النَّاسَ یَقُوْلُوْنَ شَیْءًا فَقُلْتُہٗ

(بخاری:کتاب الوضوء۔باب من لم یتوضا الا من الغشی المثقل)

’’صلاۃ الکسوف والی اسماء بنت ابو بکر صدیق کی طویل حدیث کا  ایک حصہ ۔ ۔ ۔ ۔ ( نبی ﷺ نے فرمایا ): اور میری طرف وحی کی گئی کہ تم اپنی قبروں میں آزمائے جاؤگے دجال کے فتنے کی طرح یا اس کے قریب قریب۔۔۔  یُؤْتٰی اَحَدُکُمْ فَیُقَالُ تم میں سے ہر ایک کو لایا جائے گا اور اس سے کہا جائے گا کہ اس مرد کے متعلق کیا علم رکھتے ہو۔ مومن یا موقن(کہتی ہیں) مجھے یاد نہیں، کہے گا وہ ﷲ کے رسول محمدﷺ ہیں جو ہمارے پاس کھلی نشانیاں اور ہدایت لے کر آئے ،ہم نے ان کی بات مانی اور ایمان لائے اور پیروی کی۔ اس سے کہا جائے گا سو جا ،اس لیے کہ ہم نے جان لیا ہے کہ تو مومن ہے۔ لیکن منافق یا شک کرنے والا کہے گا کہ مجھے نہیں معلوم، میں نے تو جو لوگوں کو کہتے ہوئے سنا وہی میں نے کہا‘‘۔

واضح ہوا کہ سوال ہر ایک سے ہوتا ہے کوئی اس سے نہیں بچتا اور سوال وہی ہے جو پہلی اور دوسری حدیث میں بیان کیا گیا ہے کہ

’’ تم اس شخص ( محمد ﷺ ) بارے میں کیا کہتے ہو‘‘ یعنی دونوں احادیث ایک ہی معاملہ بیان کر رہی ہیں۔ عذاب قبر کی مفصل پوسٹ نمبر 7 میں ہم نے قرآن و حدیث دلائل پیش کردئیے ہیں کہ سوال و جواب روح سے ہوتا ہے اور ہر ایک سے ہوتا ہے جیسا کہ فرمایا گیا : تم میں سے ہر ایک کولایا جائے گا اور اس سے کہا جائے گا کہ اس مرد کے متعلق کیا علم رکھتے ہو۔

میت کا اٹھانا بٹھانا اس زمین کا معاملہ نہیں ، یہ سوال اس سے بھی ہوگا جو قبر میں دفنایا گیا ہو اور اس سے بھی جس کا جسم جل کر راکھ ہو گیا ہو۔ عالم برزخ میں سب کو اٹھایا بٹھایا جائے گا اور ، پھر جو اس حدیث میں کہا گیا کہ  ’’ اور وہ چیخ مارتا ہے کہ جن و انس کے علاوہ ہر کوئی سنتا ہے ‘‘، یہ بھی بالکل صحیح بات ہے عالم برزخ میں زندہ جن و انس تو ہوتے ہی نہیں کہ وہ اس چیخ کو سن سکیں۔

کیا مٹی سے بنا یہ مردہ جسم سنتا اور بولتا ہے؟

اگر یہ فرقہ پرست کہتے ہیں کہ نہیں یہ یہاں ہی کا معاملہ ہے اس زمین میں اسی جسم سے حساب لیا جاتا ہے تو پھر سوال یہ اٹھتا ہے کہ قرآن نے واضح انداز میں فرما دیا کہ مردے نہیں سنتے اس کا کیا ہوگا ؟ کیا قرآن کا انکار کردیا جائے !

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :

اِنَّمَا يَسْتَجِيْبُ الَّذِيْنَ يَسْمَعُوْنَ١ؔؕ وَ الْمَوْتٰى يَبْعَثُهُمُ اللّٰهُ ثُمَّ اِلَيْهِ يُرْجَعُوْنَؐ

[الأنعام: 36]

’’بات تو وہی مانیں گے جو سنتے سمجھتے ہیں رہے یہ مردے تو اللہ ان کو اٹھائے گا پھر یہ اسی کی طرف لوٹائے جائیں گے ‘‘۔

يُوْلِجُ الَّيْلَ فِي النَّهَارِ وَ يُوْلِجُ النَّهَارَ فِي الَّيْلِ١ۙ وَ سَخَّرَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ١ۖٞ كُلٌّ يَّجْرِيْ لِاَجَلٍ مُّسَمًّى١ؕ ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمْ لَهُ الْمُلْكُ١ؕ وَ الَّذِيْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ مَا يَمْلِكُوْنَ مِنْ قِطْمِيْرٍؕ۰۰۱۳اِنْ تَدْعُوْهُمْ لَا يَسْمَعُوْا دُعَآءَكُمْ١ۚ وَ لَوْ سَمِعُوْا مَا اسْتَجَابُوْا لَكُمْ١ؕ وَ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ يَكْفُرُوْنَ بِشِرْكِكُمْ١ؕ وَ لَا يُنَبِّئُكَ مِثْلُ خَبِيْرٍؒ۰۰۱۴

[فاطر: 13-14]

’’ اور لوگ جنہیں پکارتے ہیں اللہ کے علاوہ ( وہ ) ایک قطمیر ( کھجور کی گھٹلی پر چڑھا ہوا غلاف ) کے بھی مالک نہیں، اگر تم انہیں پکارو یہ تمہاری پکار نہیں سنتے، اور اگر کہیں سن بھی لیں تو تمہارے کسی کام نہیں آ سکتے، اور قیامت کے دن تمہارے شرک کا انکار کریں گے، اور تمہیں اس کی خبر دینے والا کوئی نہیں سوا ( اللہ ) سب کچھ جاننے والے کے۔‘‘

اللہ تعالیٰ نے اس فعل کو گمراہ ترین فعل فرمایا :

وَ مَنْ اَضَلُّ مِمَّنْ يَّدْعُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَنْ لَّا يَسْتَجِيْبُ لَهٗۤ اِلٰى يَوْمِ الْقِيٰمَةِ وَ هُمْ عَنْ دُعَآىِٕهِمْ غٰفِلُوْنَ۰۰۵

[الأحقاف: 5]

’’ اور اس شخص سے بڑھ کر گمراہ کون ہو سکتا ہے جو اللہ کے سوا ان لوگوں کو پکارتا ہے جو قیامت تک اس کی داد رسی نہیں کر سکتے۔ وہ تو ان کی پکار ہی سے غافل ہیں۔‘‘

سننے کی نفی  کے ساتھ ساتھ قرآن مردے کے بولنے کی بھی نفی کرتا ہے، ملاحظہ فرمائیں :

وَ لَوْ اَنَّنَا نَزَّلْنَاۤ اِلَيْهِمُ الْمَلٰٓىِٕكَةَ وَ كَلَّمَهُمُ الْمَوْتٰى وَ حَشَرْنَا عَلَيْهِمْ كُلَّ شَيْءٍ قُبُلًا مَّا كَانُوْا لِيُؤْمِنُوْۤا اِلَّاۤ اَنْ يَّشَآءَ اللّٰهُ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ يَجْهَلُوْنَ۰۰۱۱۱

[الأنعام: 111]

’’اور اگر ہم ان کے پاس فرشتوں کو بھیج دیتے اور ان سے مردے باتیں کرنے لگتے اور ہم تمام موجودات کو ان کے پاس ان کی آنکھوں کے روبرو ﻻ کر جمع کر دیتے ہیں تب بھی یہ لوگ ہرگز ایمان نہ ﻻتے ہاں اگر اللہ ہی چاہے تو اور بات ہے لیکن ان میں زیاده لوگ جہالت کی باتیں کرتے ہیں۔‘‘

وَ لَوْ اَنَّ قُرْاٰنًا سُيِّرَتْ بِهِ الْجِبَالُ اَوْ قُطِّعَتْ بِهِ الْاَرْضُ اَوْ كُلِّمَ بِهِ الْمَوْتٰى ١ؕ بَلْ لِّلّٰهِ الْاَمْرُ جَمِيْعًا١ؕ اَفَلَمْ يَايْـَٔسِ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْۤا اَنْ لَّوْ يَشَآءُ اللّٰهُ لَهَدَى النَّاسَ جَمِيْعًا١ؕ وَ لَا يَزَالُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا تُصِيْبُهُمْ بِمَا صَنَعُوْا قَارِعَةٌ اَوْ تَحُلُّ قَرِيْبًا مِّنْ دَارِهِمْ حَتّٰى يَاْتِيَ وَعْدُ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُخْلِفُ الْمِيْعَادَؒ۰۰۳۱

[الرعد: 31]

’’اگر (بالفرض) کسی قرآن (آسمانی کتاب) کے ذریعے پہاڑ چلا دیئے جاتے یا زمین ٹکڑے ٹکڑے کر دی جاتی یا مردوں سے باتیں کرا دی جاتیں (پھر بھی وه ایمان نہ ﻻتے)، بات یہ ہے کہ سب کام اللہ کے ہاتھ میں ہے، تو کیا ایمان والوں کو اس بات پر دل جمعی نہیں کہ اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو تمام لوگوں کو ہدایت دے دے۔ کفار کو تو ان کے کفر کے بدلے ہمیشہ ہی کوئی نہ کوئی سخت سزا پہنچتی رہے گی یا ان کے مکانوں کے قریب نازل ہوتی رہے گی تاوقتیکہ وعدہٴ الٰہی آپہنچے۔ یقیناً اللہ تعالیٰ وعده خلافی نہیں کرتا۔‘‘

سننے اور بولنے کے بعد دیکھیں قرآن بتاتا ہے کہ مردہ کسی قسم کا کوئی شعور ہی نہیں رکھتا :

اَوْ كَالَّذِيْ مَرَّ عَلٰى قَرْيَةٍ وَّ هِيَ خَاوِيَةٌ عَلٰى عُرُوْشِهَا١ۚ قَالَ اَنّٰى يُحْيٖ هٰذِهِ اللّٰهُ بَعْدَ مَوْتِهَا١ۚ فَاَمَاتَهُ اللّٰهُ مِائَةَ عَامٍ ثُمَّ بَعَثَهٗ١ؕ قَالَ كَمْ لَبِثْتَ١ؕ قَالَ لَبِثْتُ يَوْمًا اَوْ بَعْضَ يَوْمٍ١ؕ قَالَ بَلْ لَّبِثْتَ مِائَةَ عَامٍ فَانْظُرْ اِلٰى طَعَامِكَ وَ شَرَابِكَ لَمْ يَتَسَنَّهْ١ۚ وَ انْظُرْ اِلٰى حِمَارِكَ وَ لِنَجْعَلَكَ اٰيَةً لِّلنَّاسِ وَ انْظُرْ اِلَى الْعِظَامِ كَيْفَ نُنْشِزُهَا ثُمَّ نَكْسُوْهَا لَحْمًا١ؕ فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهٗ١ۙ قَالَ اَعْلَمُ اَنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ۰۰۲۵۹

 [البقرة: 259]

’’یا اس شخص کے مانند کہ جس کا گزر اس بستی پر ہوا جو چھت کے بل اوندھی پڑی ہوئی تھی، وه کہنے لگا اس کی موت کے بعد اللہ تعالیٰ اسے کس طرح زنده کرے گا؟ تو اللہ تعالی نے اسے  سو سال کے لئے موت دے دی، پھر اسے اٹھایا، پوچھا کتنی مدت تجھ پر گزری؟ کہنے لگا ایک دن یا دن کا کچھ حصہ، فرمایا بلکہ تو سو سال تک رہا، پھر اب تو اپنے کھانے پینے کو دیکھ کہ بالکل خراب نہیں ہوا اور اپنے گدھے کو بھی دیکھ، ہم تجھے لوگوں کے لئے ایک نشانی بناتے ہیں تو دیکھ کہ ہم ہڈیوں کو کس طرح اٹھاتے ہیں، پھر ان پر گوشت چڑھاتے ہیں، جب یہ سب ظاہر ہو چکا تو کہنے لگا میں جانتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے۔‘‘

سورہ نحل میں فرمایا :

اَمْوَاتٌ غَيْرُ اَحْيَآءٍ١ۚ وَ مَا يَشْعُرُوْنَ١ۙ اَيَّانَ يُبْعَثُوْنَؒ۰۰۲۱

 [النحل: 21]

’’مردہ ہیں، زندگی کی رمق نہیں،  اور نہیں شعور رکھتے کہ کب اٹھائے جائیں گے‘‘۔

معلوم ہوا کہ مردہ جسم نہ سنتا ہے ، نہ بولتا ہے اور نہ ہی کسی قسم کا شعور رکھتا ہے تو اس سے سوال و جواب کیسے ؟اسے جزا و عذاب دینا کیسا  ؟ یہ سارا معاملہ جنت و جہنم کا ہے جہاں ہر ایک کی روح جاتی ہے اور اسے ایک جسم دیا جاتا ہے اسی مجموعے سے سوال و جواب  ہوتا اور اسی کو راحت قبر یا عذاب  قبر کا نام دیا جاتا ہے۔

ہندو، کمیونسٹ، سوشلسٹ اپنے مردے جلا دیتے ہیں؟ پارسی مجوسی اپنے مردے پرندوں کو کھلا دیتے ہیں سوچیں اگر اسی زمین پر سوال و جواب اور عذاب و راحت ملتا ہے تو یہ سب تو اس سے بچ گئے، مارے تو وہ بیچارے گئے جو اپنے مردے  اس زمین میں دفن کرتے ہیں۔ البتہ اس بات کی  بھی کوئی ضمانت  نہیں ہے کہ  جس مردہ جسم کو یہ چھ فٹ  کی قبر  ملتی بھی ہے  اس کا مردہ جسم قیامت تک اس قبر  تک محدود رہے ۔ کیڑے مکوڑے کھا کھا کر اسے اس قبر سے دور نہیں لے جائیں گے۔

 جیسا کہ  پہلے بتایا کہ مسلک پرست اس  حدیث کو کس طرح برہان قاطعہ کے طور پیش کرتے ہیں لیکن حقیقت کیا ہے وہ آپ کو پچھلی پوسٹ میں اندازہ ہوگیا ہوگا۔  اس پوسٹ میں ہم آپ کو یہ دکھانا چاہتے ہیں کہ حقیقت میں ان کا قرآن و حدیث سے کتنا تعلق ہے اور ان کے کتنے منہ ہیں۔قرآن و حدیث مردے کے سماع کی مکمل نفی کرتے ہیں لیکن یہ مسلک پرست جوتیوں کی چاپ سننے کی جو توجیہات اس موقف کے خلاف پیش کرتے ہیں ،وہ اس طرح ہیں:

’’۔۔۔ان آیات مذکورہ کے سوا اور بھی آیات ہیں جن سے مردوں کا عدم سماع ثابت ہوتاہے اور بجز حدیث قرع نعال سے مردوں کا ایک خاص وقت میں سننا ثابت ہوتا ہے جس وقت مردہ قبر میں نکیرین کے سوال کے جواب دینے کے لیے زندہ کردیا جاتا ہے اور اس وقت مردہ مردہ نہیں رہتا‘‘۔ (فتاوئے نذیریہ،ازمیاں نذیر حسین، بانی فرقہ اہلحدیث، حصہ اوّل، صفحہ ۶۷۰)

’’البتہ اس حدیث کے جواب میں اشکال واقع ہوتا ہے کہ مردہ واپس جانے والوں کی جوتیوں کی آواز بھی سنتا ہے تو اس کو بھی اوّل وقت کے ساتھ مخصوص کیا گیا ہے کہ جب منکر و نکیر قبر میں سوال کرنے کے لیے آتے ہیں اس وقت روح لوٹائی جاتی ہے اس وقت سن بھی لیتا ہے‘‘۔( ایضاً صفحہ ۶۷۲)

دوسرا اہلحدیث مفتی کہتا ہے:

’’سوال و جواب کے وقت روح کو بھی قبر کی طرف لوٹایا جاتا ہے‘‘۔ 
(عقیدہ عذاب قبر،از ابو جابر عبد اﷲ دامانوی ، صفحہ ۲۷)

عالم فرقہ  عبد الرحمن کیلانی فرماتے ہیں:

’’اب مشکل یہ ہے کہ مردہ کے جوتوں کی چاپ سننے کا واقعہ بخاری کے علاوہ بھی دوسری کتب صحاح میں جہاں بھی مذکور ہے تو ساتھ ہی منکر نکیر کے آنے اور سوال و جواب کا ذکر شروع ہوجاتا ہے۔گویا منکر و نکیر کے آنے سے تھوڑی دیر پہلے اس کی روح علیّن یا سجّین سے لوٹا کر اسے ہوش میں لایا جاتا ہے،تاکہ سوالوں کا جواب دے سکے‘‘۔ ( روح،عذاب قبر اور سماع موتیٰ، از عبد الرحمن کیلانی، صفحہ ۵۱)

اس مسئلے پر اہل تشیع بھی ان کے ہم عقیدہ ہیں:

’’۔۔۔ احادیث معتبرہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ قبر میں سوال و جواب اور فشارِ قبر اسی بدن اصلی سے جو دنیا میں تھا متعلق ہوگا اور روح تمام بدن یا جسم کے کچھ حصے میں ( یعنی سینے تک، یا کمر تک جیسا کہ احادیث میں ہے) پلٹائی جاتی ہے تاکہ میت کو خطاب سوال کے سمجھنے اور جواب دینے پر قدرت حاصل ہوجائے‘‘۔ (معاد،ازآیت اﷲ عبد الحسین، صفحہ ۴۰،۴۱)

بحیثیت ایک مومن ہمارا عقیدہ ہے کہ اﷲ کے سچے رسول محمدﷺ  کسی صورت میں بھی قرآن کے بیان کردہ عقیدے کے انکار میں کوئی بات کہہ ہی نہیں سکتے تھے۔ لیکن بانی فرقہ اہلحدیث ، فرماتے ہیں:

’’ان آیات مذکورہ کے سوا اور بھی آیات ہیں جن سے مردوں کا عدم سماع ثابت ہوتاہے اور بجز حدیث قرع نعال سے مردوں کا ایک خاص وقت میں سننا ثابت ہوتا ہے‘‘

غورکیجیے !خود تسلیم کرتے ہیں کہ قرآن سے مردے کا عدم سماع ثابت ہے۔ جب قرآن سے مردے کا عدم سماع ثابت ہے تو پھر کیسے یہ عقیدہ رکھا جا سکتا ہے کہ نبیﷺ  کی حدیث سے مردے کا سماع ثابت ہو جائے گا! سوال جواب ،اٹھانا بٹھانا یہ سارا معاملہ عالم برزخ کا ہے، اس زمینی قبر سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔قرآن و حدیث کے دلائل پر تو ان کا دل مطمئن ہوتا ہی نہیں ،لیکن کیا اپنے ہی فرقے کے ’’عالم‘‘ کے اس اعترافِ حقیقت کو بھی جھٹلا دیں گے۔ ملاحظہ فرمایئے:

’’میت کے لئے قدموں کی آواز اپنے اندر یہ عبرت ناک حکمت لئے ہوئے ہے کہ ہائے اس بے چارے کو یکہ و تنہا چھوڑ کر سب چلے گئے ۔۔۔اتنا خیال رہنا چاہیے کہ اس سماع کا مردے کے دفن شدہ جسم سے کوئی تعلق نہیں جیسا کہ اکثر اہل دیوبند کاخیال ہے۔ ورنہ اسکو بٹھانے، قبر کو کشادہ کرنے یا پسلیوں کے آرپار ہونے ننانوے سانپوں کے ڈسنے اور عذاب و ثواب کے دیگر احوال کو بھی جسمانی حقیقت پر معمول کرنا پڑیگا مگر اس کا قائل ہونا مشکل ہے۔ روزمرہ کا تجربہ اسکی تغلیط کرتا ہے جیسا کہ آگے چل کر واضح ہوگا‘‘۔( قبر پرستی اور سماع موتیٰ،از محمد قاسم خواجہ،صفحہ ۷۲)


’’ جہاں تک قبر میں فرشتوں کے آنے، روح کو لوٹانے ،میت کو بٹھانے ،سوال و جواب کرنے، قبر کو کشادہ یا تنگ یا عذاب و ثواب کا تعلق ہے، تو گذارش ہے کہ یہاں قبر سے مراد یہ مٹی کی قبر نہیں ،یہ کوئی اور جہاں ہے جسے آپ عالم ارواح یا عالم مثال یا عالم برزخ کہہ سکتے ہیں‘‘۔(کراچی کا عثمانی مذہب، از محمد قاسم خواجہ ، اہلحدیث صفحہ ۸۷)

’’یہ ساری مصیبت اس لئے کھڑی ہوئی ہے کہ برزخی احوال کے بارے میں بیان شدہ احادیث کو دنیوی احوال پر منطبق کر لیا گیا ہے‘‘۔ (ایضاً صفحہ ۸۹)

دیکھیں ،اﷲ تعالیٰ نے کس انداز میں خود انہی کے قلم سے قرآن و حدیث کی سچی بات نکلوادی، لیکن یہ ان کے چہرے کا دوسرارخ ہے۔

اپنی دوسری کتاب میں یہی موصوف فتعاد روحہ فی جسد اور انہ یسمع قرع نعالھم کی روایات کو بنیاد بناتے ہوئے اپنا دوسرا رخ دکھاتے ہیں:

’’۔۔۔ یہ دونوں حدیثیں یکساں طور پر بظاہر قبر کی زندگی پر دلالت کرتی ہیں۔‘‘ (کراچی کا عثمانی مذہب:صفحہ ۴۶)

نبی ﷺکے خچرکے بدکنے والی روایت کی بنیاد پر لکھتے ہیں:

’’اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان قبروں کے بیچ میں ضرور کچھ ہوتا ہے۔۔۔‘‘(ایضاًصفحہ ۵۶)

مزید فرماتے ہیں:

’’ ابو سعید خدریؓ کی جنازہ والی روایت مذکورہ بالاسے یہ بھی معلوم ہوا کہ مٹی کی قبر کے ساتھ میت کا گہرا تعلق ہے‘‘۔( ایضاًصفحہ ۵۷)

دو ٹہنیوں والی حدیث کی بناء پر انہوں نے استخراج کیا ہے کہ

’’ اس سے معلوم ہوا کہ حضورؐ نے مٹی کی قبروں سے عذاب محسوس فرمایا اور تخفیف کے لیے مٹی کی قبروں پر ہی شاخیں گاڑدیں‘‘۔ (ایضاً)

ایک اور روایت لکھ کر کہتے ہیں:

’’ معلوم ہوا زمین کو جزا و سزا میں کچھ دخل ہے‘‘۔(ایضاً)

بریلویانہ انداز میں مزید خامہ فرسائی فرماتے ہیں:

’’ میں پوچھتا ہوں قبرستان میں کچھ نہیں ہوتا تو وہاں جاکر دعا اور استغفار کا کیا مطلب؟‘‘ (صفحہ ۵۸)

ع بدلتا ہے رنگ آسمان کیسے کیسے!

ملاحظہ فرمائی ان کی ذو الوجہین شخصیت! کیسے دورخے ہیں! زبان کی ایک کروٹ سے کچھ کہتے ہیں اوردوسری سے کچھ! ایک طرف جوتیوں کی چاپ سننے والی روایت کے بارے میں کہتے ہیں کہ یہاں قبر سے مراد مٹی کی قبر نہیں،یہ کوئی اور جہاں ہے ۔دوسری طرف کہتے ہیں کہ’’ یہ قبر میں زندگی پر دلالت کرتی ہے‘‘!ایک طرف کہتے ہیں :’’ معلوم ہوا زمین کو جزا و سزا میں کچھ دخل ہے‘‘، دوسری طرف ان کا بیان ہے کہ ’’یہ ساری مصیبت اس لئے کھڑی ہوئی ہے کہ برزخی احوال کے بارے میں بیان شدہ احادیث کو دنیوی احوال پر منطبق کر لیا گیا ہے‘‘۔ اس موقع پر قرآن کی یہ آیت ان پرپوری طرح صادق آتی ہے کہ

يُخٰدِعُوْنَ اللّٰهَ وَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا١ۚ وَ مَا يَخْدَعُوْنَ اِلَّاۤ اَنْفُسَهُمْ وَ مَا يَشْعُرُوْنَؕ۰۰۹

 [البقرة: 9]

’’اللہ کو اور ایمان والوں کو دھوکا دیتے ہیں، حالانکہ وہ خود اپنے آپ کو دھوکہ دے رہے ہیں اور وہ اس کا شعور نہیں رکھتے ‘‘


دراصل پہلے ڈاکٹر عثمانی رحمہ اللہ کے قرآن و حدیث پر مبنی دلائل کو رد کرنا تھا کیونکہ وہ ان کے فرقے کوباطل پرست ثابت کر رہے تھے،اس لیے لفاظی کرتے ہوئے زبانِ مسموم سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ اسی زمینی قبر میں سب کچھ ہوتا ہے۔ پھرجب بات ہوئی اپنے حریف حنفیوں کو ہرانے کی، تو خود وہی سب کچھ لکھ ڈالاجو ڈاکٹر صاحب رحمۃ اﷲعلیہ نے قرآن و حدیث سے ثابت کیا تھا۔شاید یہ لوگ دوغلا پن کسی اور چیز کو کہتے ہیں؟

یہ سب قبر کے اس مردے کو لازمی زندہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کیونکہ احمد بن حنبل نے لکھ دیا کہ روح لوٹا دی جاتی ہے، ابن تیمیہ  اور ابن قیم نے اس کوشعور و ادراک والا بیان کردیا اسی لئے تو بانی فرقہ اہلحدیث فرماتے ہیں :’’۔۔۔ اس وقت مردہ مردہ نہیں رہتا‘‘اس پر ہم صرف قرآن کی یہ آیت ہی پڑھ سکتے ہیں کہ:

قُلْ بِئْسَمَا يَاْمُرُكُمْ بِهٖۤ اِيْمَانُكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَ

 [البقرة: 93]


)’’ ان سے) کہو کہ تمہارا ایمان تو تمہیں بہت ہی برا حکم دے رہا ہے،اگر تم (واقعی) مومن ہو‘‘ 

جانور عذاب قبر سنتے ہیں :

الحمد للہ اس مالک کا صد لاکھ کرم کہ جس نے اپنے نازل کردہ  کے ذریعے بات کو واضح کردیا  کہ انسان کی وفات کے  اگلے لمحے ہی اس کی آخرت شروع اور  اس کی روح کوجنت میں راحت ملنا یا جہنم میں  عذاب شروع ہوجاتا ہے۔  لیکن افسوس کہ فرقوں سے وابستہ ان مسلک پرستوں نے  قرآن و حدیث کے خلاف عقائد دے کر اس معاملے کو مشتبہ بنانے کی کوشش کی اور مختلف احادیث کے غلط معنی  بیان کرکے اس دنیاوی قبر میں عذاب ثابت کرنے  کی کوشش کی۔

          اسی کوشش میں احادیث کے مختلف الفاظ کو پکڑ کر اپنے فرقے کے عقیدے کو ثابت کرنے کی کوشش کی، جیسا کہ بیان کیا جاتا ہے کہ عذاب اسی زمینی قبر میں ہوتا ہے اور اسے چوپائے بھی سنتے ہیں۔ لہذا ضرورت ہے کہ ان معاملات کی حقیقت لوگوں کے سامنے واضح کی جائے۔

اس بارے میں حدیث پیش کی جاتی ہے:

عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: دَخَلَتْ عَلَيَّ عَجُوزَانِ مِنْ عُجُزِ يَهُودِ المَدِينَةِ، فَقَالَتَا لِي: إِنَّ أَهْلَ القُبُورِ يُعَذَّبُونَ فِي قُبُورِهِمْ، فَكَذَّبْتُهُمَا، وَلَمْ أُنْعِمْ أَنْ أُصَدِّقَهُمَا، فَخَرَجَتَا، وَدَخَلَ عَلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ لَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ عَجُوزَيْنِ، وَذَكَرْتُ لَهُ، فَقَالَ: «صَدَقَتَا، إِنَّهُمْ يُعَذَّبُونَ عَذَابًا تَسْمَعُهُ البَهَائِمُ كُلُّهَا» فَمَا رَأَيْتُهُ بَعْدُ فِي صَلاَةٍ إِلَّا تَعَوَّذَ مِنْ عَذَابِ القَبْرِ

( بخاری ، کتاب الدعوات ، بَابُ التَّعَوُّذِ مِنْ عَذَابِ القَبْرِ )

’’عائشہ ؓ  کہتی ہیں، کہ میرے پاس یہود مدینہ کی دو بوڑھی عورتیں آئیں ان دونوں نے مجھ سے کہا، کہ قبر والے اپنی قبروں میں عذاب دیئے جاتے ہیں تو میں نے ان کی تکذیب کی اور اچھا نہیں سمجھا کہ ان کی تصدیق کروں، چنانچہ وہ دونوں چلی گئیں، پھر میرے پاس نبی ﷺتشریف لائے، میں نے آپ سے عرض کیا کہ یا رسول اللہ دو بوڑھی عورتیں آئی تھیں اور آپ سے سارا واقعہ بیان کیا۔ آپ نے فرمایا ان دونوں نے ٹھیک کہا، بیشک (لوگ) قبروں میں عذاب دیئے جاتے ہیں جنہیں تمام چوپائے سنتے ہیں، چنانچہ اس کے بعد میں نے آپ کو ہر صلاۃ میں عذاب قبر سے پناہ مانگتے ہوئے دیکھا۔‘‘

انس ؓ بیان کرتے ہیں :

عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ عَلَى بَغْلَةٍ شَهْبَاءَ، فَمَرَّ عَلَى حَائِطٍ لِبَنِي النَّجَّارِ، فَإِذَا هُوَ بِقَبْرٍ يُعَذَّبُ صَاحِبُهُ، فَحَاصَتِ الْبَغْلَةُ، فَقَالَ: ” لَوْلَا أَنْ لَا تَدَافَنُوا، لَدَعَوْتُ اللهَ أَنْ يُسْمِعَكُمْ عَذَابَ الْقَبْرِ “

 ( مسند احمد، مسند المکثرین من الصحابہ، مسند انس بن مالک ؓ )

’’انس بن مالکؓ سے مروی کہ ایک مرتبہ نبیﷺ اپنے سفید خچر پر سوار مدینہ منورہ میں بنو نجار کے کسی باغ سے گذرے، وہاں کوئی قبر تھی ، قبر والے کو عذاب ہو رہا تھا ، ، چنانچہ خچر بدک گیا، نبیﷺ نے فرمایا اگر تم لوگ اپنے مردوں کو دفن کرنا چھوڑ نہ دیتے تو میں اللہ سے یہ دعاء کرتا کہ وہ تمہیں بھی عذاب قبر کی آواز سنادے۔‘‘

اسی حوالے سے  مختلف الفاظ کیساتھ  انس ؓ یہ حدیث بھی بیان کرتے ہیں:

أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ قَالَ: مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحَائِطٍ لِبَنِي النَّجَّارِ، فَسَمِعَ صَوْتًا مِنْ قَبْرٍ فَقَالَ: ” مَتَى مَاتَ صَاحِبُ هَذَا الْقَبْرِ؟ ” قَالُوا: مَاتَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ. فَقَالَ: ” لَوْلَا أَنْ لَا تَدَافَنُوا، لَدَعَوْتُ اللهَ أَنْ يُسْمِعَكُمْ عَذَابَ الْقَبْرِ “

  ( مسند احمد، مسند المکثرین من الصحابہ، مسند انس بن مالک ؓ )

’’ انس ؓ سے روایت ہے کہ  ہم گزرے بنو نجار کے باغ سے، ایک آواز سنی، نبیﷺ نے فرمایا یہ کیا؟ ، ہم نے جواب دیا  ایک شخص  کی قبر ہے جو جاہلیت میں مرا، نبی ﷺ نے فرمایا: اگر تم لوگ اپنے مردوں کو دفن کرنا چھوڑ نہ دیتے تو میں اللہ سے یہ دعاء کرتا کہ وہ تمہیں بھی عذاب قبر کی آواز سنادے۔‘‘

ان روایات سے دو باتیں سامنے آتی ہیں :

 یہ فرقہ پرست۔ ۔ ۔   ’’قبر والے اپنی قبروں میں عذاب دئیے جاتے ہیں ،ایسا عذاب جسے جانور سنتے ہیں ‘‘۔ ۔ ۔ پیش کرکے یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ عذاب قبر اسی دنیاوی زمینی قبر میں ہوتا ہے ۔ بخاری کی روایت میں یہ الفاظ پڑھ کر تو یہ گویا پاگل ہی ہو جاتے ہیں کہ ان کا جھوٹا عقیدہ تو اب ثابت ہوہی ہوگیا۔ حقیقت یہ ہے کہ یہودی عورتوں کی آمد اور صلوٰۃ الکسوف کی روایات عائشہ رضی اﷲسے چارطرق سے آئی ہیں۔ تین طرق سے آنی والی روایات میں یہ الفاظ نہیں ملتے۔ البتہ مسروق رحمۃ اﷲعلیہ کے طرق سے آنے والی بعض روایات میں مختلف تبدیلیوں کے ساتھ یہ الفاظ ملتے ہیں۔ اس واقعہ کی تمام تر روایات جمع کر لی جائیں تو بھی کسی ایک سے یہ ثابت نہ ہوگا کہ نبی ﷺ کا اشارہ اسی زمینی قبر کی طرف ہے۔ اگرعذاباً تسمعہ البھآئم ’’ ایسا عذاب جو چوپائے بھی سنتے ہیں ‘‘ کی بنیاد پر کوئی عقیدہ بنایا جائے گا تو اس کا تعلق اسی دنیاوی زمینی قبر سے ہوگا یا پھراس مقام سے جہاں نبیﷺ نے یہ عذاب ہوتے ہوئے خوددیکھے؟

یہاں ہم  دو طویل احادیث  سے چند حوالے پیش کر رہے ہیں کہ نبیﷺ نے تو خود عذاب قبر ہوتے دیکھا، کیا دیکھا اور کہاں دیکھا، ملاحظہ فرمائیں :

عمرو بن لحی وہ شخص تھا کہ جس نے عرب میں بتوں کے نام پر جانور چھوڑنے کی رسم رائج کی تھی، نبی ﷺ نے اسکے متعلق فرمایا:

 رَأَيْتُ جَهَنَّمَ يَحْطِمُ بَعْضُهَا بَعْضًا وَرَأَيْتُ عَمْرًا يَجُرُّ قُصْبَهُ وَهْوَ أَوَّلُ مَنْ سَيَّبَ السَّوَائِبَ

( عن عائشہ ؓ ، بخاری، کتاب العمل فی الصلاۃ ، بَابُ إِذَا انْفَلَتَتْ الدَّابَّةُ فِي الصَّلاَةِ)

”میں نے جہنم کو دیکھا کہ اسکا ایک حصہ دوسرے کو برباد کر رہا تھا اور اس میں عمرو بن لحی کو دیکھا وہ اپنی آنتیں کھینچ رہا تھا۔“

ابو ثمامۃ عمرو بن دینار کیلئے فرمایا

وَرَأَيْتُ أَبَا ثُمَامَةَ عَمْرَو بْنَ مَالِکٍ يَجُرُّ قُصْبَهُ فِي النَّارِ

( عن جابر بن عبد اللہ ؓ ، مسلم ، کتاب الکسوف ، باب ما عرض على النبي صلى الله عليه وسلم في صلاة الكسوف من أمر الجنة والنار)

”اور میں نے دیکھا ابو ثمامۃ کو جہنم میں اپنی آنتیں کھینچ رہا تھا۔“

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «عُذِّبَتِ امْرَأَةٌ فِي هِرَّةٍ حَبَسَتْهَا حَتَّى مَاتَتْ جُوعًا، فَدَخَلَتْ فِيهَا النَّارَ» قَالَ: فَقَالَ: وَاللَّهُ أَعْلَمُ: «لاَ أَنْتِ أَطْعَمْتِهَا وَلاَ سَقَيْتِهَا حِينَ حَبَسْتِيهَا، وَلاَ أَنْتِ أَرْسَلْتِهَا، فَأَكَلَتْ مِنْ خَشَاشِ الأَرْضِ»

( عن عبد اللہ بن عمر ؓ ، بخاری، کتاب المساقاۃ ، بَابُ فَضْلِ سَقْيِ المَاءِ )

”ایک عورت جہنم میں داخل کردی گئی ا س وجہ سے کہ اس نے بلی کو باندھ کے رکھا ہو ا تھا نہ اسکو کھانے کیلئے کچھ دیا اور نہ ہی اسکو کھلا چھوڑا کہ وہ کیڑے وغیرہ کھا لیتی یہاں تک کہ وہ مر گئی۔“

بخاری میں بیان کردہ سمرہ بن جندب والی طویل حدیث کاکچھ حصہ:

’’ ۔ ۔ ۔ ۔ نبی ﷺ نے  ( دونوں فرشتوں سے )فرمایا میں نے ان سے کہا تم دونوں مجھے رات بھر گھماتے رہے ہو اب بتاؤ کہ میں نے جو کچھ دیکھا  وہ سب کیا ہے؟ دونوں نے کہا بہتر وہ جس کو آپؐ نے دیکھا کہ اسکے گلپھڑے پھاڑے جارہے تھے وہ کذاب تھا جھوٹی باتیں بیان کرتا تھا اور لوگ اس بات کو لے اڑتے تھے یہاں تک کہ ہر طرف اسکا چرچا ہوتا تھا       فَيُصْنَعُ بِهِ إِلَی يَوْمِ الْقِيَامَةِ تو اسکے ساتھ جو آپ ؐ نے ہوتے دیکھا وہ قیامت تک ہوتا رہیگا

اور جسکو آ پؐ نے دیکھا کہ اسکا سر کچلا جارہا تھا یہ وہ شخص تھا کہ جسکو اللہ تعالی نے قرآن کا علم دیا تھا لیکن وہ رات کو قرآن سے غافل سوتا رہا اور دن میں اسکے مطابق عمل نہ کیا  يُفْعَلُ بِهِ إِلَی يَوْمِ الْقِيَامَةِ  یہ عمل اسکے ساتھ قیامت تک ہوتا رہیگا۔ اور جنکو آپؐ نے نقب میں دیکھا وہ زناکار تھے اور جسکو آپؐ نے نہر میں دیکھا وہ سود خور تھا ۔      ( عن سمرۃ بن جندب ؓ، بخاری، کتاب الجنائز ، بَابُ مَا قِيلَ فِي أَوْلاَدِ المُشْرِكِينَ )


ملاحظہ فرمایا : نبی ﷺ عذاب قبر تو جہنم میں ہوتے دیکھ رہے ہیں اور عقیدہ یہ دیں گے کہ اس زمینی قبر میں ہوتا ہے؟  اللہ تعالیٰ  آل فرعون، قوم نوح علیہ السلام ، ازواج لوط و نوح علیہما السلام کو قرآن میں جہنم میں عذاب ہونے کا عقیدہ بیان کر رہا ہے اور  جانوروں کو زمینی قبر کا عذاب سنوائے گا ؟

فَاِنَّهَا لَا تَعْمَى الْاَبْصَارُ وَ لٰكِنْ تَعْمَى الْقُلُوْبُ الَّتِيْ فِي الصُّدُوْرِ

 [الحج: 46]

’’بات یہ ہے کہ آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں بلکہ وہ دل جو سینے میں ہیں وہ اندھے ہوتے ہیں‘‘۔

قرآن اور حدیث کا پورا بیان پڑھ جائیے مرنے کے بعد صرف روح کو ملنے والی جزا یا سزا کا بیان ہے کہیں بھی اس جسم کو ملنے والی جزا یا سزا کا بیان نہیں، بلکہ بتایا   گیا کہ یہ جسم تو گل سڑ جاتا ہے ، لیکن افسوس کہ  ان کے دل ہی اندھے ہوگئے اور امت  میں غلط عقائد پھیلا کر اپنے فرقے کا دفاع تو کر رہے ہیں لیکن  ساتھ ہی اپنی آخرت بھی تباہ کر رہے ہیں ۔ کیا اللہ تعالیٰ جہنم میں ہونے والا عذاب یہاں سنا نہیں سکتا ؟ یہ حدیث ملاحظہ فرمائیے۔

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذْ سَمِعَ وَجْبَةً، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَدْرُونَ مَا هَذَا؟» قَالَ: قُلْنَا: اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: «هَذَا حَجَرٌ رُمِيَ بِهِ فِي النَّارِ مُنْذُ سَبْعِينَ خَرِيفًا، فَهُوَ يَهْوِي فِي النَّارِ الْآنَ، حَتَّى انْتَهَى إِلَى قَعْرِهَا» 

   ( مسلم،  الجنتہ و صفۃ نعیمھا و اھلھا )

’’ ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کیساتھ تھے کہ ایک گڑگراہٹ کی آواز سنائی دی تو نبیﷺ نے فرمایا کہ تم جانتے ہو  یہ کیا ہے ؟ ہم نے عرض کیا اللہ اور اس کا رسول ہی زیادہ جانتے ہیں، نبیﷺ نے فرمایا : یہ ایک پتھر ہے جو کہ ستر سال قبل جہنم میں پھینکا گیا تھا ، وہ لگاتار جہنم میں گر رہا تھا یہاں تک اب وہ تہہ میں پہنچا ہے‘‘۔

       جس طرح جہنم میں پھینکے جانے والے پتھر کی آواز نبی ﷺ اور صحابہ ؓ کو سنوا دی گئی اسی طرح نبیﷺ کو عالم برزخ میں ہونے والے عذاب کی آواز بھی سنوادی جاتی ہوگی، جب نبی ﷺ کو  عذاب قبر دیکھایا جا سکتا ہے تو کیا سنوایا نہیں جا سکتا، اسی طرح جانوروں کو سنوایا جاتا ہوگا لیکن ان دنیاوی قبروں سے اس کا کوئی تعلق نہیں ورنہ ہم دیکھتے ہیں کہ قبرستانوں میں چوپائے چرپھر رہے ہوتے ہیں لیکن کوئی ڈرکر بھاگتا نہیں۔

          رہا خچر کا بدکناوہ بھی ایک معجزہ ہوگا ورنہ نبیﷺ کا خچر تو روز ہی وہاں سے گزرتا ہوگا اور دنیا بھر میں خچر بھی خوب گھوم پھر رہے ہوتے ہیں کوئی بدک کر بھاگتا نہیں۔ ان کی یہ بات بالکل جھوٹی ہے کہ نبیﷺ کا اشارہ ان دنیاوی قبروں کی طرف تھا، خچر کا بدکنا اور جانوروں کا عذاب قبر سننا  جو’’ بنو نجار ‘‘ کے باغ کے حوالے سے پیش کیا گیا ہے۔ فَمَرَّ عَلَى حَائِطٍ لِبَنِي النَّجَّارِ’’  پس بنو نجار کے ایک باغ سے گزرے ‘‘۔ اب اسی بنو نجار  کے باغ کا یہ واقعہ بھی پڑھیں :

عَنْ اَنَسٍ قَالَ قَدِمَ النَّبِیُّا الْمَدِیْنَۃَ ۔۔۔ وَ کَانَ یُحِبُّ اَنْ یُّصَلِّی حَیْثُ اَدْرَکَتْہُ الصَّلٰوۃُ وَ یُصَلِّی فِیْ مَرَابِضِ الْغَنَمِ وَ اَنَّہٗٓ اَمَرَ بِبِنَآءِ الْمَسْجِدِفَاَرْسَلَ اِلٰی مَلَاءِ بَنِی النَّجَّارِ فَقَالَ یَا بَنِی النَّجَّارِ ثَامِنُوْنِیْ بِحَآءِطِکُمْ ھٰذَا قَالُوْا لاَ وَاللّٰہِ لاَ نَطْلُبُ ثَمَنَہٗ اِلاَّ اِلَی اﷲِ عَزَّ وَ جَلَّ قَالَ اَنَسٌ فَکَانَ فِیْہِ مَآ اَقُوْلُ لَکُمْ قُبُوْرِ الْمُشْرِکِیْنَ وَفِیْہِ خَرِبٌ وَّ فِیْہِ نَخْلٌ فَاَمَرَ النَّبِیُّا بِقُبُوْرِ الْمُشْرِکِیْنَ فَنُبِشَتْ ثُمَّ بِالْخَرِبِ فَسُوِّیَتْ وَ بِالنَّخْلِ فَقُطِعَ فَصَفُّوْاالنَّخْلَ قِبْلَۃَ الْمَسْجِدِ وَ جَعَلُوْا عِضَادَتَیْہِ الْحِجَارَۃَ …


(بخاری:کتاب الصلوٰۃ ، باب ھل تنبش قبور مشرکی الجاھلیۃ و یتخذ مکانھا مساجد)


’’انس ؓ فرماتے ہیں کہ جب نبی ﷺ مدینہ تشریف لائے ۔۔۔۔۔۔آپ پسندکرتے کہ جس جگہ صلوٰۃ کا وقت آجائے وہیں اسے ادا فرمالیں،اور آپ بکریاں باندھنے کی جگہ بھی صلوٰۃ ادا کرلیتے تھے۔ اور ( جب) آپ نے مسجد کی تعمیر کا حکم دیاتو بنو نجار کے لوگوں کو بلوایا اور فرمایا کہ اے بنو نجار! اپنا یہ باغ تم میرے ہاتھ فروخت کردو ۔ انہوں نے عرض کیا کہ اﷲ کی قسم ہم اس کی قیمت نہیں لیں گے مگر اﷲ عزوجل سے۔انس ؓ کہتے ہیں کہ اس باغ میں یہ چیزیں تھیں جو میں تم کو بتاتا ہوں: مشرکین کی قبریں تھیں،کچھ کھنڈر تھا اور اس میں کھجور کے درخت تھے۔ پھرنبی ﷺنے حکم فرمایا تومشرکین کی قبریں کھود دی گئیں،کھنڈر کو برابر کردیا گیا اور درختوں کو کاٹ ڈالا گیا اور ان کو مسجد کے قبلے کی طرف نصب کردیا گیا اور پتھروں سے ان کی بندش کردی گئی۔۔۔‘‘۔

دیکھا آپ نے نبیﷺ اور صحابہ کا عقیدہ یہ کہ زمینی قبریں صرف جسم چھپانے کے لئے ہیں عذاب یا راحت کا مقام نہیں۔ مشرکین کی وہی قبریں کھود دی گئیں جس کی طرف اشارہ کرکے یہ مسلک پرست اسی زمینی قبر میں عذاب کا  ڈرامہ رچاتے ہیں۔

 یہ  علماء کرام و مفتیان سب کچھ جانتے ہیں کہ نبیﷺ نے اس باغ کی قبروں کیساتھ کیا عمل کیا لیکن اسے چھپاتے ہیں بیان وہ کرتے ہیں جن سے ان کا اپنا عقیدہ ثابت ہوسکے، لیکن پورے سرمایہ حدیث میں ایک بھی ایسی صحیح حدیث نہیں پیش کرسکتے جس میں یہ بتایا گیا ہو کہ اسی زمینی قبر کے اندر عذاب ہوتا ہے۔

       اب رہا معاملہ نبی ﷺ کے اس فرمان کا  کہ : ’’اگر تم لوگ اپنے مردوں کو دفن کرنا چھوڑ نہ دیتے تو میں اللہ سے یہ دعاء کرتا کہ وہ تمہیں بھی عذاب قبر کی آواز سنادے۔‘‘  تو عرض ہے کہ صحابہ ؓ  اپنے دیکھنے اور سننے سے زیادہ نبیﷺ کے بیان پر یقین رکھتے تھے۔ انہیں عذاب القبر کی ہولناکی کا  یقینا ً علم تھا اور اس سے پناہ بھی مانگا کرتے تھے لیکن  پھر بھی اپنے مردوں کو دفنانا نہیں چھوڑا تھا کیونکہ انہیں علم تھا کہ وہ قومیں جنہیں کوئی دفنانہ سکا وہ بھی عذاب القبر سے نہ بچ سکیں۔ 

واضح ہوا کہ نبیﷺ کا یہ فرمان اسی طرح جانوروں کو سنوایا جاتا ہوگا لیکن ان دنیاوی قبروں سے اس کا کوئی تعلق نہیں ورنہ ہم دیکھتے ہیں کہ قبرستانوں میں چوپائے چرپھر رہے ہوتے ہیں لیکن کوئی ڈرکر بھاگتا نہیں۔

ستر اژدھے والی روایت سے عذاب قبر ثابت کرنا:

فرقہ پرستوں کا معاملہ ہی عجیب ہے، یہ دین کو دین سمجھ کر نہیں بلکہ مقابلہ بازی کا میدان سمجھ کر لڑتے ہیں۔ کتاب اللہ سے بات واضح  ہے کہ  مرنے کے بعد سے لیکر قیامت تک کا سارا معاملہ آسمانوں پر ہوتا ہے ۔ یہ جسم تو گل سڑ جاتا ہے لہذا اس قبر سے عذاب و راحت کا کوئی تعلق نہیں۔ لیکن فرقہ پرستوں نے اب اسے قبول نہیں کرنا بلکہ فرقے کے لئے جنگ لڑنی ہے ورنہ فرقہ ہی جھوٹا قرار پائے گا لہذا ضعیف روایات کا سہارا لیتے ہیں۔ ایک روایت زیل میں پیش کی جا رہی ہے جس کی متعلق محدث بیان کرتے ہیں:

[حكم الألباني] : ضعيف جد

یعنی اس کی سند یقینی ضعیف ہے، لیکن فرقے کی عزت کی خاطر اسے بھی دلیل بنا لیا گیا، ملاحظہ فرمائیں :

عن أبي سعيد، قال: دخل رسول الله صلى الله عليه وسلم مصلاه فرأى ناسا كأنهم يكتشرون قال: أما إنكم لو أكثرتم ذكر هاذم اللذات لشغلكم عما أرى، فأكثروا من ذكر هاذم اللذات الموت، فإنه لم يأت على القبر يوم إلا تكلم فيه فيقول: أنا بيت الغربة وأنا بيت الوحدة، وأنا بيت التراب، . . . . . . . . . . فأدخل بعضها في جوف بعض قال: ويقيض الله له سبعين تنينا لو أن واحدا منها نفخ في الأرض ما أنبتت شيئا ما بقيت الدنيا فينهشنه ويخدشنه حتى يفضى به إلى الحساب قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إنما القبر روضة من رياض الجنة أو حفرة من حفر النار.

( ترمذی،  أبواب صفة القيامة والرقائق والورع عن رسول الله ﷺ )

’’ ابوسعید ؓ  سے روایت ہے کہ نبیﷺ اپنے مصلی پر تشریف لائے تو کچھ لوگوں کو ہنستے ہوئے دیکھا تو آپ نے فرمایا اگر تم لذتوں کو ختم کرنے والی چیز کو یاد کرتے تو تمہیں اس بات کی فرصت نہ ملتی جو میں دیکھ رہا ہوں لہذا لذتوں کو قطع کرنے والی موت کو زیادہ یاد کرو کوئی قبر ایسی نہیں جو روزانہ اس طرح نہ پکارتی ہو کہ غربت کا گھر ہوں میں تنہائی کا گھر ہوں میں مٹی کا گھر ہوں اور میں کیڑوں کا گھر ہوں پھر جب اس میں کوئی مومن بندہ دفن کیا جاتا ہے تو وہ اسے ( مَرْحَبًا وَأَهْلًا) کہہ کر خوش آمدید کہتی ہے پھر کہتی ہے کہ میری پیٹھ پر جو لوگ چلتے ہیں تو مجھے ان سب میں محبوب تھا اب تجھے میرے سپرد کردیا گیا ہے تو اب تو میرے حسن سلوک دیکھے گا پھر وہ اس کے لئے حدنگاہ تک کشادہ ہوجاتی ہے اور اس کے لئے جنت کا درواز کھول دیا جاتا ہے اور جب گنہگار یا کافر آدمی دفن کیا جاتا ہے قبر اسے خوش آمدید نہیں کہتی بلکہ (لَا مَرْحَبًا وَلَا أَهْلًا) کہتی ہے پھر کہتی ہے کہ میری پیٹھ پر چلنے والوں میں تم سب سے زیادہ مغبوض شخص تھے آج جب تمہیں میرے سپرد کیا گیا ہے تو تم میری بدسلوکی بھی دیکھو گے پھر وہ اسے اس زور سے بھینچتی ہے کہ اس کی پسلیاں ایک دوسری میں گھس جاتی ہیں راوی کہتے ہیں کہ پھر رسول اللہ ﷺنے اپنی انگلیاں ایک دوسری میں داخل کر کے دکھائیں پھر آپ  نے فرمایا کہ اس کے بعد اس پر ستر اژدھے مقرر کر دئیے جاتے ہیں اگر ان میں سے ایک زمین پر ایک مرتبہ پھونک مار دے تو اس پر کبھی کوئی چیز نہ اگے پھر وہ اسے کاٹتے ہیں اور نوچتے رہتے ہیں یہاں تک کہ اسے حساب و کتاب کے لئے اٹھایا جائے گا پھر آپ نے فرمایا قبر جنت کے باغوں میں سے ایک باغ یا جہنم کے گڑھوں میں سے ایک گڑھا ہے ‘‘۔

یہ انہی فرقہ پرستوں کا دل گردہ ہے کہ  اللہ تعالیٰ کے بیان کردہ کو ضعیف روایات کے ذریعے رد کرنے کی کوشش کریں، ہم تو ایسے فعل سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں۔ اس روایت کے الفاظ پر غور کریں :

’’اس کے لئے حدنگاہ تک کشادہ ہوجاتی ہے ‘‘

’’پھر وہ اسے اس زور سے بھینچتی ہے کہ اس کی پسلیاں ایک دوسری میں گھس جاتی ہیں‘‘

’’اس کے بعد اس پر ستر اژدھے مقرر کر دئیے جاتے ہیں اگر ان میں سے ایک زمین پر ایک مرتبہ پھونک مار دے تو اس پر کبھی کوئی چیز نہ اگے ‘‘

کیا یہ باتیں اس زمینی قبر کے لئے ممکن دکھائی دیتی ہیں البتہ عالم برزخ میں ملنے والی قبر کے لئے یہ بات ممکن ہے۔ اس کے ان الفاظ پر غور کریں : اگر ان میں سے ایک زمین پر ایک مرتبہ پھونک مار دے تو اس پر کبھی کوئی چیز نہ اگے ‘‘

یعنی اس زمین کا معاملہ ہی نہیں ورنہ اب تک  تو بے حساب  کافر و مشرک مر چکے ہوں گے اور ایسے اژ دھوں کی بڑی تعداد ان قبروں میں ہوگی لیکن الحمد للہ چارہ،سبزیاں، فروٹ ، غلہ سب ہی کچھ اگ رہا ہے اس زمین پر، گویا بات اس زمین کی ہے ہی نہیں۔

مزید اس جملے کو پڑھیں :

إنما القبر روضة من رياض الجنة أو حفرة من حفر النار.

’’ قبر جنت کے باغوں میں سے ایک باغ یا جہنم کے گڑھوں میں سے ایک گڑھا ہے ۔‘‘

اس میں یہ نہیں کہا گیا کہ دنیاوی قبر جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے یا جہنم کے گڑھوںمیں سے ایک گڑھا ہے بلکہ فرمایا گیا  قبر جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے یعنی جنت میں بے حساب باغ ہیں اس بندے کی قبر جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے۔ قبر جہنم کے گڑھوں میں سے ایک گڑھا ہے ، یعنی جہنم میں بے حساب گڑھے ہیں اور ان میں سے ایک گڑھا اس کی قبر ہے۔

یہی بات قرآن میں بیان کردی گئی ہے کہ مرنے والے کی روح قبض ہوتے ہی جنت یا جہنم میں داخل کردی جاتی ہے۔

الَّذِيْنَ تَتَوَفّٰىهُمُ الْمَلٰٓىِٕكَةُ ظَالِمِيْۤ اَنْفُسِهِمْ١۪ فَاَلْقَوُا السَّلَمَ مَا كُنَّا نَعْمَلُ مِنْ سُوْٓءٍ١ؕ بَلٰۤى اِنَّ اللّٰهَ عَلِيْمٌۢ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ۰۰۲۸فَادْخُلُوْۤا اَبْوَابَ جَهَنَّمَ خٰلِدِيْنَ فِيْهَا١ؕ فَلَبِئْسَ مَثْوَى الْمُتَكَبِّرِيْنَ۰۰۲۹

( النحل :28- 29 )

’’ ان نفس پر ظلم کرنے والوں کی جب فرشتے روح قبض کرتے ہیں تو اس موقع پر لوگ بڑی فرمانبرداری کے بول بولتے ہیں کہ ہم تو کوئی برا کام نہیں کرتے تھے۔، ( فرشتے  جواب دیتے ہیں ) ، یقینا اللہ  جانتا ہے جو کچھ تم کیا کرتے تھے۔پس داخل ہو جاو جہنم کے دروازوں میں جہاں تمہیں ہمیشہ رہنا ہے، پس برا ہی ٹھکانہ ہے  متکبرین  کے لئے۔‘‘

الَّذِيْنَ تَتَوَفّٰىهُمُ الْمَلٰٓىِٕكَةُ طَيِّبِيْنَ١ۙ يَقُوْلُوْنَ سَلٰمٌ عَلَيْكُمُ١ۙ ادْخُلُوا الْجَنَّةَ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ

(  النحل :32 )

’’ جب فرشتے پاک ( نیک ) لوگوں کی روحیں قبض کرتے ہیں تو کہتے ہیں : تم پر سلامتی ہو داخل ہو جاؤ جنت میں اپنے ان اعمال کیوجہ سے جو تم کرتے تھے۔‘‘

یہی  بات نبی ﷺ نے بیان فرمائی :

إِنَّمَا مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَی يَهُودِيَّةٍ يَبْکِي عَلَيْهَا أَهْلُهَا فَقَالَ إِنَّهُمْ لَيَبْکُونَ عَلَيْهَا وَإِنَّهَا لَتُعَذَّبُ فِي قَبْرِهَا

( عن عائشہ ؓ ، کتاب الجنائز ، بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يُعَذَّبُ المَيِّتُ بِبَعْضِ بُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ» إِذَا كَانَ النَّوْحُ مِنْ سُنَّتِهِ “)

’’نبی صلی اللہ علیہ و سلم ایک (فوت شدہ)یہودی عورت کے پاس سے گذرے اسکے گھر والے اس پر رو رہے تھے۔ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا  ”یہ لوگ اس پر رو رہے ہیں اور اسے اسکی قبر میں عذاب دیا جارہا ہے۔“

ابھی یہودی عورت  اس زمینی قبر میں دفن بھی نہیں ہوئی اس کے گھر والے اس پر رو رہے ہیں اور نبی ﷺ فرما رہے ہیں :

یہ لوگ اس پر رو رہے ہیں اور اسے اسکی قبر میں عذاب دیا جارہا ہے۔“

واضح ہوا کہ یہ سارا معاملہ اس زمینی قبر میں نہیں عالم برزخ میں ملنے والی قبر میں ہوتا ہے۔

سبز ٹہنیوں والی روایت:

مرنے کے بعد ہونے والے عذاب قبر کا معاملہ مکمل طور پر عالم بالا  سے ہے جیسا کہ ہم نے اپنی  پوسٹس میں کتاب اللہ سے دلائل دیکر ثابت کرچکے ہیں۔ فرقہ پرست اپنے فرقے کی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں اس لئے کوشش کرتے ہیں کہ کسی بھی طرح قرآن و حدیث کے دئیے ہوئے عقیدے کے مقابلے میں ان کے فرقے کا عقیدہ ثابت ہو جائے۔لہذا ایک صحیح حدیث پیش کرکے لوگوں کو باور کراتے ہیں  ہیں کہ اس حدیث سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ عذاب قبر اسی زمینی قبر میں ہوتا ہے، لہذا ہم اس حدیث کا مطالعہ کرتے ہیں:

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى قَبْرَيْنِ فَقَالَ: «إِنَّهُمَا لَيُعَذَّبَانِ وَمَا يُعَذَّبَانِ مِنْ كَبِيرٍ» ثُمَّ قَالَ: «بَلَى أَمَّا أَحَدُهُمَا فَكَانَ يَسْعَى بِالنَّمِيمَةِ، وَأَمَّا أَحَدُهُمَا فَكَانَ لاَ يَسْتَتِرُ مِنْ بَوْلِهِ» قَالَ: ثُمَّ أَخَذَ عُودًا رَطْبًا، فَكَسَرَهُ بِاثْنَتَيْنِ، ثُمَّ غَرَزَ كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا عَلَى قَبْرٍ، ثُمَّ قَالَ: «لَعَلَّهُ يُخَفَّفُ عَنْهُمَا مَا لَمْ يَيْبَسَا»

( بخاری،  کتاب الجنائز ، بَابُ عَذَابِ القَبْرِ مِنَ الغِيبَةِ وَالبَوْلِ )

’’ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ دو قبروں کے پاس سے گذرے تو فرمایا کہ ان دونوں کو عذاب ہو رہا ہے اور کسی بڑے معاملہ کے سبب عذاب نہیں ہو رہا، ان میں سے ایک  تو اپنے پیشاب سے نہیں بچتا تھا اوردوسرا  چغل خوری کرتا تھا، پھر ایک تر شاخ منگوائی اور اس کے دو ٹکڑے کئے پھر  ہر قبر پر ایک گاڑ دیا ، پھر فرمایا کہ شاید کہ اللہ تعالیٰ ان کے عذاب میں تخفیف کردے، جب تک کہ یہ خشک نہ ہوں۔‘‘

اس حدیث سے یہ فرقہ پرست زمینی قبر میں عذاب بیان کرتے ہیں حالانکہ کہیں بھی اس کا ذکر نہیں۔ نبیﷺ نے فرمایا : إِنَّهُمَا لَيُعَذَّبَانِ ’’ ان دونوں کو عذاب ہو رہا ہے ‘‘۔ یعنی یہ نہیں فرمایا کہ اس قبر میں عذاب ہو رہا ہے بلکہ فرمایا کہ یہ دونوں عذاب دئیے جا رہے ہیں۔ عذاب کہاں ہوتا ہے یہ پہلے ہی ہم اپنی پوسٹس میں کتاب اللہ کے دلائل سے پیش کرچکے ہیں کہ مرتے ہی انسان کی روح کو جنت یا جہنم میں داخل کردیا جاتا ہے جہاں اسے جزا یا سزا ملنا شروع ہو جاتی ہے۔

اس حدیث میں تو دراصل یہ بتایا گیا : وَمَا يُعَذَّبَانِ مِنْ كَبِيرٍ ’’ کسی بڑے معاملے کے سبب عذاب نہیں ہو رہا  ‘‘۔  بَلَى أَمَّا أَحَدُهُمَا فَكَانَ يَسْعَى بِالنَّمِيمَةِ، وَأَمَّا أَحَدُهُمَا فَكَانَ لاَ يَسْتَتِرُ مِنْ بَوْلِهِ ’’ ان میں سے ایک  تو اپنے پیشاب سے نہیں بچتا تھا اوردوسرا  چغل خوری کرتا تھا ‘‘  یعنی اصل تعلیم تو یہ تھی کہ چھوٹے گناہ پر بھی عذاب ہوگا۔ اور یہی بات نبیﷺ نے عائشہ ؓ سے فرمائی تھی کہ اے عائشہ  کم تر گناہوں کو بھی حقیر نہ جانو۔

       اب رہا یہ سوال کہ نبی ﷺ نے ان قبروں  کے پاس سے گزرتے ہوئے یہ بات کیوں کی۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ نہ وہاں کسی آواز کے سنائے  جانے کا ذکر ہے اور نہ ہی دکھائےجانے کا  بلکہ یقینا ً یہ بات نبی ﷺ پر وحی ہوئی ہوگی۔ اللہ تعالیٰ نے یہ بتایا ہوگا کہ یہ وہ دو افراد ہیں جو یہ برا کام کرتے تھے اس وجہ سے انہیں عذاب قبر ہو رہا ہے۔  اب اس سے  یہ کیسے ثابت ہوا کہ ان قبروں میں عذاب ہو رہا تھا۔ رہی یہ بات کہ نبی ﷺ نے ان قبروں پر ٹہنیاں کیوں ڈالیں۔ تو عرض ہے کہ یہ دعا کا ایک انداز تھا۔ نبی ﷺ نے فرمایا :  لَعَلَّهُ يُخَفَّفُ عَنْهُمَا مَا لَمْ يَيْبَسَا، شاید کہ اللہ تعالیٰ ان کے عذاب میں تخفیف کردے، جب تک کہ یہ خشک نہ ہوں۔ یعنی  معاملہ یہ نہیں تھا کہ ان کی وجہ سے ان قبروں میں ہونے والا عذاب قبر رک جائے گا ، بلکہ یہ  شاید کا لفظ استعمال کیا گیا اور یہ انداز بھی دعائیہ ہی ہے۔

مزید اگر آپ کے محلے میں کسی کو پھانسی ہو  رہی ہو  اور آپ کا کوئی دوست آتا ہے،آپ اسے بتاتے ہیں کہ اس گھر میں رہنے والے کو آج  پھانسی ہوگی، تو وہ سمجھ جائے گا کہ  پھانسی گھر میں نہیں بلکہ جیل میں ہوئی ہوگی ،لیکن آپ اسے جیل لیجا کر نہیں دکھائیں گے بلکہ اس کے گھر کی طرف اشارہ کرکے اسے بتائیں گے کہ  اس گھر والے کو آج پھانسی دی جائے گی۔ یہی انداز اس حدیث میں نبی ﷺ کا ہے کہ یہ دونوں عذاب دئیے جا رہے ہیں اور مرنے کے بعد عذاب صرف جہنم میں ہوتا ہے جس کی تفصیل اس مضمون میں بیان کردی گئی ہے۔

کیا یہ زمینی قبر آخرت کی پہلی منزل ہے؟


اپنے اس عقیدے کو ثابت کرنے کے لیے یہ مسلک پرست ایک روایت پیش کرتے ہیں کہ عثمان    ؓنے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے سنا ہے کہ: ’’ قبر آخرت کی سیڑھیوں میں سے پہلی سیڑھی ہے جو اس سے پھسل گیا وہ پھر آگے نہیں بچ سکتا اور جو یہاں کامیاب ہوگیا، پہلے زینہ پر اس نے قدم جمادیا اور ثابت قدم ہوگیا اب وہ کامیابی سے چلتا چلا جائے گا‘‘۔( پہلا زینہ، از قاری خلیل الرحمن اہلحدیث، صفحہ ۱۹)


کتاب الزہدمیں فظاعۃ القبرکے باب کے تحت یہ روایت نقل کرکے خود امام ترمذی نے اس کی غرابت کو تسلیم کیا ہے جسے انہوں نے ہشام بن یوسف کے علاوہ کسی سے نہیں سنا۔مزید یہ کہ اس کے ایک راوی عبداﷲبن بحیرابووائل القاص الصنعانی پرمحدثین نے جرح کی ہے جو قصہ گو کے لقب سے جانا جاتا تھا اورعجیب و غریب باتیں بیان کرتاتھا۔ ابن حبان نے اس کوضعیف کہا ہے اور بتایا ہے کہ یہ عجائبات کو ایسے بیان کرتا جیسے اس کا معمول ہو ، جس سے حجت پکڑنا جائز نہیں؛ اور یہ عبداﷲبن بجیربن ریسان نہیں ہے جو ثقہ ہے(تہذیب التہذیب: جلد ۵، صفحہ ۱۵۴/میزان الاعتدال:جلد۲، صفحہ ۳۹۵)۔ مجروح راوی کی ایک غریب روایت کو قرآن و احادیثِ صحیحہ کے مقابلے میں پیش کرنا ان نام نہاد اہلحدیثوں کوہی شایاں ہے۔لیکن یہ غریب اور مجروح روایت بھی ان کے کسی کام کی نہیں بلکہ یہ خودانہی کے عقیدے کو باطل ٹھہراتی ہے۔قرآن میں ہے:
ثم اماتہ فاقبرہ ’’پھر اسے موت دی اور قبر دی‘‘
یہی بات اس روایت میں بھی ملتی ہے کہ ہر مرنے والے کی اگلی اور پہلی منزل ’’قبر‘‘ ہے۔اس’’ قبر‘‘ سے کون سا مقام مراد ہے، یہ بات قرآن و حدیث کے حوالے سے تفصیلاً بیان کی جاچکی ہے۔ اس روایت کے وہ معنی جو یہ اہلحدیث بیان کرنا چاہتے ہیں، کسی طرح بھی ثابت نہیں ہوسکتے کیونکہ اس روایت میں یہ نہیں کہا گیا کہ صرف دفن کیے جانے والوں کی پہلی منزل قبر ہے بلکہ یہ بات ہر انسان کے لیے بیان کی گئی ہے خواہ یہ ارضی عرفی قبر اسے ملے یا نہیں۔ ورنہ قوم نوح کی پہلی منزل کون سی ہے؟آل فرعون کی پہلی منزل کون سی ہے؟ ہندؤں ،پارسیوں، بدھوں، سوشلسٹوں و کمیونسٹوں کی پہلی منزل کون سی ہے؟ ۔۔۔ جو کچھ قرآن کی مذکورہ آیت میں بیان کیا گیا تھا، اسی بات کی تصدیق یہ روایت بھی کرتی ہے۔ اور یہ کونسا مقام ہے، اس کی وضاحت صلوٰۃ الکسوف والی روایت میں ہوگئی کہ یُوْ تٰی اَحَدُ کُمْ ’’تم میں سے ہر ایک کولایا جائے گا‘‘
یعنی وہی مقام جہاں ہرشخص مرنے کے بعدلایاجاتا ہے یعنی عالم برزخ، کوئی زمینی گڑھا نہیں۔ ہر انسان کے لیے موت لازمی ہے اور ہر مرنے والے کے لیے قبر لازمی ہے۔

اہلحدیثوں کے نزدیک نبی ﷺ کے علم کی حیثیت :

مفتی دامانوی اہلحدیث لکھتے ہیں:

’’ان مختلف احادیث کا خلاصہ یہ ہے کہ عائشہ صدیقہؓ کوپہلی مرتبہ ایک یہودی عورت نے عذاب القبر کے متعلق بتایا لیکن انہوں نے اس کی تصدیق نہ کی۔نبی ا نے بھی یہود کو جھوٹا قرار دیا بعد میں آپ ا پر وحی بھیجی گئی اور آپ اکو عذاب القبر کے بارے میں بتایا گیا۔ اسی دوران سورج کو گہن لگ گیا اور آپ ﷺکے بیٹے ابراہیم رضی اﷲ عنہ کا انتقال بھی ہوگیا چنانچہ آپ انے اسی دن سورج گہن کی نماز صلوٰۃ الکسوف پڑھائی۔اورپھر خطبہ دیا۔اور اس خطبہ میں صحابہ کرامؓ کو عذاب القبر کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔اور یہ دس ہجری کا واقعہ ہے گویا نبی ا کی زندگی کے واقعات میں سے آخری دنوں کا واقعہ ہے۔پھر ہر نماز کے بعد برابر عذاب القبر سے پناہ مانگنے لگے اور صحابہ کرام کو بھی اس سلسلہ کی دعا سکھائی اور انہیں حکم دیا کہ وہ بھی ہر نماز کے آخر میں عذاب القبر سے پناہ مانگا کریں۔ معراج کا واقعہ نبی صلی اﷲ علیہ و سلم کی مکی زندگی میں پیش آچکا تھا اور معراج میں آپ ا کو نافرمان انسانوں کو عذاب دینے کے کچھ مشاہدات بھی کرائے گئے تھے جیسا کہ خواب میں آپ ا نے کچھ نافرمانوں کو مبتلائے عذاب دیکھا تھا ان واقعات کا تعلق عام عذاب سے ہے خاص عذاب القبر سے نہیں اور یہ احادیث بتا رہی ہیں کہ عذاب القبر ایک بالکل الگ شے ہے۔جیسا کہ ان احادیث کے مطالعے سے یہ حقیقت الم نشرح ہوتی ہے معلوم ہوا کہ عذاب القبر اور عذاب جہنم دونوں الگ الگ حقیقتیں ہیں جن پر ایمان رکھنا ضروری ہے‘‘ ۔ (عقیدہ عذاب قبر، صفحہ۳۶)

مفتی موصوف نے اپنی اسی کتاب کے صفحہ ۲۱ سے۲۶ تک قرآن مجید کی مختلف آیات عذابِ قبر کے اثبات میں پیش کی ہیں ۔وہاں انہوں نے سورۃ الانعام، المومن، یونس،نوح،الفجر،یٰس کی آیات کا حوالہ دیا ہے۔ اس کے علاوہ قرآن کی تفاسیر لکھنے والے اہلحدیثوں نے بھی ان آیات کو عذاب قبر پر دلیل بنایا ہے۔ یہ ساری سورتیں مکی دور کی ہیں۔فرقہ اہلحدیث کے عالموں کا علم تو اتنا’’ کامل‘‘ ہے کہ انہیں پتہ ہے کہ ان آیات سے عذاب قبر ثابت ہوتا ہے، لیکن وہ ذات جس کے قلب پر قرآن نازل ہوا ، جو اس کی تشریح کے لیے بھیجے گئے تھے ،ان کو سالہا سال تک یہ نہیں معلوم تھا کہ عذاب قبر کیا ہے اور ان آیات میں کیا بیان کیاگیا ہے! کتنی بدترین گستاخی ہے شان رسالت میں کہ نبوت کے تیرہ سال مکہ میں گزر گئے لیکن نبی  ﷺکو یہ معلوم نہ ہوسکا کہ اﷲ تعالیٰ نے سورۃالانعام،المومن،یونس، نوح، الفجر، ےٰس کی آیات میں کیا بیان فرمایا ہے!سورۃ ابراہیم بھی مکی سورہ ہے اور اس کی آیت ۲۷: یثبت اﷲالذین امنو بالقول الثابت فی الحیوٰۃ الدنیا و فی الاخرۃ کے بارے میں نے فرمایا کہ یہ قبرمیں سوال و جواب ہی کے بارے میں ہے (بخاری:کتاب الجنائز، باب ماجآء فی عذاب القبر/کتاب التفسیر، سورۃ ابراہیم)۔ نبوت کے دس سال مدینہ میں گزر گئے ،لیکن (نعوذباﷲ!) عقیدہ عذاب قبر کی بابت کچھ جانتے ہی نہ تھے! بقول ان کے، دس ہجری میں، زندگی کے آخری ایام میں، اﷲ تعالیٰ نے صلوٰۃ الکسوف کے موقع پر کو عذاب قبر سے آگاہ فرمایا!اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے:

وَ اَنْزَلْنَاۤ اِلَيْكَ الذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَيْهِمْ وَ لَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُوْنَ

 [النحل: 44]


’’اور ہم نے تم پر کتاب نازل کی ہے تاکہ جو (احکام) لوگوں کی طرف نازل ہوئے ہیں، ان کی ان کے لیے وضاحت کردو‘‘ ۔


اب ذرا مفتی صاحب  بتائیں کہ اس آیت کا کیا مطلب ہے؟ بقول ان کے، نبیﷺ توان فرامین کے متعلق لا علم ہی رہے جو ان مذکورہ آیات میں بیان کیے گئے تھے، تو پھر آپ اان کی تشریح وتوضیح کس طرح فرماتے ہونگے؟ کیا سالہا سال تک یہ آیات یونہی بلا معنی تلاوت کی جاتی رہیں! وہ تو بقول ان ’’کامل علم والوں ‘‘کے،

 ’’بعد میں آپؐ پر وحی بھیجی گئی اور آپ ؐ کو عذاب القبر کے بارے میں بتایا گیا‘‘!
آپ دیکھیں کہ اپنے باطل عقیدے کو ثابت کرنے کے لیے کیا کیا انداز اپنائے جا رہے ہیں! اﷲ کے عذاب سے کیسی بے خوفی ہے!  سے محبت کے دعوے کی قلعی خود ان کی تحریروں نے اتار دی ہے۔ فرماتے ہیں کہ ’’عا ئشہ صدیقہؓ کوپہلی مرتبہ ایک یہودی عورت نے عذاب القبر کے متعلق بتایا لیکن انہوں نے اس کی تصدیق نہ کی۔نبی صلی اﷲ علیہ و سلم نے بھی یہود کو جھوٹا قرار دیا‘‘یعنی (معاذاﷲ!)یہ ایک حتمی بات ہے کہ نبیﷺ عذاب قبر کا کوئی عقیدہ رکھتے ہی نہیں تھے،اسی لیے جب یہود نے عذاب قبر کی بابت بتایا تو نے ان کے اس عقیدے کی وجہ سے انہیں جھوٹا قرار دیا۔ ایک طرف تویہ انداز، دوسری طرف انہیں خیال آیا کہ نبی ا کو خواب میں بھی تو عذاب قبر کے مناظر دکھائے گئے تھے، ان کا کیا کیا جائے؟ لہٰذاہانک لگا دی کہ وہ ’’عام عذاب‘‘ ہے۔واہ خوب ایمان بنایا ہے حدیث نبوی  ﷺپر! ایسے ہی حدیث حدیث کی رٹ لگائے رکھتے ہیں۔
علامہ صاحب نے نبی ﷺ کے علم کے بارے میں جو بہتان گھڑا ہے، اس کی بنیاد مسند احمد کی یہ روایت ہے:


عَنْ عَاءِشَۃَ رَضِیَ اﷲُ عَنْھَا قَالَتْ اَنَّ یَھُوْدِیَۃَ کَانَتْ تَخْدَمُھَا فَلاَ تَصْنَعْ عَاءِشَۃُ رَضِیَ اﷲُ عَنْھَا اِلَیْھَا شَیْءًا مِّنَ الْمَعْرُوْفِ اِلاَّ قَالَتْ لَھَا الْیَھُوْدِیَۃُ:وَقَاکِ اﷲُ عَذَابَ الْقَبْرِ، قَالَتْ: فَدَخَلَ رَسُوْلُ اﷲِ ا عَلَیَّ فَقُلْتُ: یَارَسُوْلَ اﷲِ ھَلْ لِلْقَبْرِ عَذَابٌ قَبْلَ یَوْمِ الْقِیَامَۃِ؟ قَالَ: لاَ، وَ عَمَّ ذَاکَ؟ قَالَتْ: ھٰذِہِ الْیَھُوْدِیَۃُ، لاَ عَلَی اللّٰہِ عَزَّ وَ جَلَّ کَذِبَ، لاَ عَذَابَ دُوْنَ یَوْمِ الْقِیَامَۃِ ۔۔۔

 (مسنداحمد:۶/۸۱، حدیث السیدۃ عائشۃ:۲۳۹۹۹)


’’ عائشہ رضی اﷲ روایت کرتی ہیں کہ ایک یہودیہ آپ کی خدمت کیا کرتی تھی۔ انہوں نے یہودیہ سے اس کے سوا کوئی بھلائی کی بات نہیں پائی کہ اس نے(ایک دفعہ) ان سے کہا: اﷲ تجھے عذاب قبر سے بچائے۔عائشہ رضی اﷲفرماتی ہیں کہ اس کے بعد رسول اﷲﷺمیرے پاس تشریف لائے تومیں نے عرض کیا کہ اے اﷲ کے رسول! کیا قیامت سے قبل قبر میں بھی عذاب ہوگا؟ رسول اﷲ ا نے فرمایا: نہیں، تم سے کس نے کہا؟ بتایا کہ اس یہودیہ نے۔ فرمایا: اﷲعزوجل نے جھوٹ نہیں کہا، روز قیامت سے پہلے کوئی عذاب نہیں۔۔۔‘‘


ڈاکٹرعثمانی رحمۃ اﷲعلیہ نے اپنی تحریر’’موازنہ مسنداحمدبن حنبل و صحیح البخاری‘‘ میں متعدد مثالوں سے ثابت کیا کہ مسنداحمد کی روایات صحیح بخاری کی ضدہوتی ہیں۔ مذکورہ روایت بھی ایسی ہی ایک مثال ہے کیونکہ بخاری نے اس کو اس طرح روایت کیا ہے:


عَنْ عَاءِشَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّا اَنَّ یَھُوْدِیَۃً جَآءَ تْ تَساَلُھَا فَقَالَتْ لَھَا اَعَاذَکِ اﷲُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ فَسَالَتْ عَاءِشَۃُ رَسُوْلَ اﷲِ ا اَیُعَذَّبُ النَّاسُ فِیْ قُبُوْرِھِمْ فَقَالَ رَسُوْلُ اﷲِ ا عَآ ءِذًا بِاﷲِ مِنْ ذَالِکَ 


(بخاری:کتاب الصلٰوۃ، کتاب الکسوف،باب التعوذمن عذاب القبر فی الکسوف)


’’ام المؤمنین عائشہ رضی اﷲ روایت کرتی ہیں کہ ایک یہودیہ ان سے مانگنے آئی اور ان کو دعا دی کہ اﷲ تجھے عذاب قبر سے بچائے۔ عائشہ رضی اﷲ نے رسول اﷲ اسے پوچھا: کیا لوگوں کو ان کی قبروں میں بھی عذاب ہوتا ہے؟ تورسول اﷲ ﷺنے فرمایا:میں ا ﷲ تعالیٰ کی اس سے پناہ مانگتا ہوں‘‘۔


دیگرروایات میں فرمان رسول ا نقل کیا گیاہے کہ:
نَعَمْ عَذَابُ الْقَبْرِ: ’’ ہاں عذاب قبر ہے‘‘۔
نَعَمْ عَذَابُ قَبْرٍ حَقٌ : ’’ہاں عذاب قبربر حق ہے‘‘۔


(بخاری:کتاب الجنائز،باب ماجاء فی عذاب قبر)


موصوف نے خود اپنی ایک دوسری کتاب میں اسی سلسلے کی ایک روایت بیان کی ہے :
’’عائشہ رضی اﷲ بیان کرتی ہیں کہ مدینہ کی دو بوڑھی یہودی عورتیں میرے پاس آئیں اور انہوں نے مجھ سے کہا : ان اھل القبور یعذبون فی قبورھم (بے شک قبر والے اپنی قبروں میں عذاب دئیے جاتے ہیں) عائشہؓ نے فرمایا کہ میں نے ان کی اس بات کو جھٹلادیا اور اچھا نہیں سمجھا کہ ان کی تصدیق کروں ۔پس وہ عورتیں چلی گئیں اور نبی صلی اﷲ علیہ و سلم میرے پاس آئے، میں نے ان عورتوں کا اور ان کی گفتگو کا ذکر کیا۔ پس نبی صلی اﷲ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا:


صَدَقَتَا، إِنَّهُمْ يُعَذَّبُونَ عَذَابًا تَسْمَعُهُ البَهَائِمُ كُلُّهَا’’ ان دونوں عورتوں نے سچ کہا بے شک وہ (قبروں میں) عذاب دیئے جاتے ہیں کہ جنہیں تمام چوپائے سنتے ہیں‘‘۔(دعوت قرآن کے نام پر قرآن و حدیث سے انحراف،صفحہ ۱۰۹)

ملا حظہ فرمایا موصوف کا دوغلا پن! جب اپنا باطل عقیدہ ثابت کرنا تھا تو کی اِس حدیث کو بنیاد بنالیا، اور جب دل نے اس بات کی ٹھانی کہ یہ ثابت کیا جائے کہ سالہا سال تک عذاب قبر کے بارے میں نبیﷺ کو کوئی علم ہی نہ تھا، تو صحیحین بلکہ صحا ح ستہ کی روایات کی مخالف روایت کو بنیاد بنا کر وہ لکھ گئے جس کا تصور یہود و نصاریٰ بھی نہیں کرسکتے!

یہ مسلمان ہیں جنہیں دیکھ کر شرمائیں یہود

ان کی ایسی باتوں سے اندازہ ہو سکتا ہے کہ ان کے نزدیک نبیﷺ کا کیا مقام تھا۔