اس معاملے میں اگر تمام احادیث کو یکجا کیا جائے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ صلوٰۃ کے بعد اجتماعی طور پر ہاتھ اٹھا کر دعا کرنا تو بدعت کے زمرے میں آتا ہے۔ اور صلوٰۃ کے بعد ہاتھ اٹھا کر دعا کرنے کی تمام احادیث ضعیف ہیں، اور صحیح ا حادیث سے صلوٰۃ کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا مختلف تسبیحات و اذکار پڑھنا تو ثابت لیکن ہاتھ اٹھا کر دعا کرنا ؛ نا تو کسی صحیح حدیث کے مطابق نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل سے ثابت ہے اور نا ہی صحابہ اکرام کے۔ اور ہمیں حکم یہی دیا گیا ہے کہ صلوٰۃ اُسی طرح قائم کی جائے جیسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے۔ لہٰذا صلوٰۃ کے بعد ہاتھ اٹھا کر دعا کرنا بدعت کے زمرے میں ہی شمار کیا جائے گا۔
جبکہ صلوۃ کے علاوہ دیگر بہت سے مواقع پر اللہ کے نبی سے انفرادی طور پر ہاتھ اٹھا کر دعا کرنا تو ثابت ہے لہٰذا کوئی شخص کبھی انفرادی طور پر ہاتھ اٹھا کر دعا کرلے تو اس کو بدعت نہیں قرار دیا جا سکتا، مگر اجتماعی دعا تو ان مواقعوں پر بھی ثابت نہیں.
١.حج کے موقعے پر کعبہ کو دیکھ کر دعا کرنا
٢.ایک شخص کا اپنے والد کے لئے دعا کی درخواست کرنا.
٣.اللہ کے نبی کا خالد بن ولید کی ہاتھوں ہونے والے قتل سے لاتعلقی کا اظہارِ کرتے ہوئے دعا کرنا.
اور دیگر بہت سے واقعات میں دعا کرنا