کیا عقل قرآن پر مقدم ہو سکتی ہے؟

عقل قرآن پر مقدم نہیں ہو سکتی، کیونکہ اللہ کا کلام ہی اصل ہدایت ہے اورعقل کا کام صرف اس کو سمجھنا اور قبول کرنا ہے۔

وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَلَا مُؤْمِنَةٍ إِذَا قَضَى اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَمْرًا أَنْ يَكُونَ لَهُمُ الْخِيَرَةُ مِنْ أَمْرِهِمْ ۗ وَمَنْ يَعْصِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ ضَلَّ ضَلَالًا مُبِينًا

اور کسی مؤمن مرد یا عورت کے لیے یہ بات جائز نہیں کہ جب اللہ اور اس کا رسول کسی بات کا فیصلہ کر دیں تو پھر ان کے اپنے معاملے میں ان کو اختیار باقی رہے، اور جو اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے وہ کھلی گمراہی میں پڑ گیا۔
(الأحزاب: 36)

عقل ایک اللہ کا عطیہ ہے لیکن اگر یہ وحی کے تابع نہ رہے تو غرور و کبر میں لے جاتی ہے۔ ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے فیصلے کے آگے سر جھکا دیا جائے، نہ کہ عقل کو ان پر حاکم بنایا جائے۔ بنی اسرائیل نے جب عقل کے گھمنڈ میں اللہ کے احکام پر سوالات کیے، بار بار چون و چرا کی، تو ذلت اور مغضوب علیہم قرار پائے۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ وحی کے آگے اپنی رائے کو مقدم کرنا ہلاکت ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا
تَرَكْتُ فِيكُمْ أَمْرَيْنِ لَنْ تَضِلُّوا مَا إِنْ تَمَسَّكْتُمْ بِهِمَا: كِتَابَ اللَّهِ وَسُنَّةَ نَبِيِّهِ
میں تمہارے درمیان دو چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں، جب تک انہیں تھامے رہو گے ہرگز گمراہ نہ ہوگے اللہ کی کتاب اور اس کے نبی کی سنت۔
(موطأ مالك، حدیث: 1594)

توحید کا تقاضا یہ ہے کہ قرآن اور سنت کو آخری اتھارٹی مانا جائے۔ عقل روشنی ہے، لیکن وحی کے تابع رہ کر۔ جوعقل کو قرآن پر مقدم کرتا ہے وہ دراصل اپنی خواہشات کو معبود بنا لیتا ہے۔

تلاش کریں