جواب : اسلام میں جو نظام بیان کیا گیا ہے اس میں تو بالغ لڑکے اور لڑکی کا ایک دوسرے سے ملنا ، بات کرنا جائز ہی نہیں۔ اسلام میں مکمل پردے کا حکم ہے۔ یہ جو آج کل بے حیائی ، فحاشی، نامحرموں کا ایک دوسرے سے ملنا ، بات کرنا ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ  ہمارے گھروں سے پردہ اٹھ گیا ہے۔ جب لڑکا یا لڑکی ایسے مسائل کا شکار ہو جاتے ہیں تو انہیں برا کہا جاتا ہے ، لیکن یہ کام تو خود لڑکی کے والدین کرتے ہیں، وہ اپنی لڑکی تک نا محرم کو رسائی دیتے ہیں تو بات اسقدر سنگین ہوتی ہے۔

بہرحال نکاح میں دونوں کی مرضی شامل ہونا چاہئیے ، اگر کسی لڑکی کا نکاح اس کی مرضی کے خلاف کردیا جاتا ہے تو وہ اپنا نکاح فسق کرا سکتی ہے۔