عورت کے اعتکاف کرنے کے حوالے سے احادیث میں بہت زیادہ تفصیلات نہیں ملتی چند روایات سے یہ تو پتا چلتا ہے کہ ازواج المطہرات نے اللہ کے نبی ﷺ کی زندگی میں ایک سال مسجد خیمے لگائے جنہیں اکھڑوا دیا گیا اور بعد از وفات بھی لیکن یہ تفصیل موجود نہیں کہ ان کہ اس عمل کو دیگر صحابیات نے اپنایا ہو. مساجد میں اعتکاف کیا ہو اور گھر میں اعتکاف کی تو کوئی ایک دلیل بھی موجود نہیں اگر ایسا ہوتا کہ عورتیں مساجد میں اعتکاف کرتیں تو اس پر کثیر روایات ہوتیں اس لئے اس عورت کو چاہیے کہ وہ اپنے گھر والوں کی ضروریات کو پورا کرے اور بقایا وقت گھر میں رہتے ہوئے عبادت کرے اسے گھر یا مسجد میں اعتکاف کرنے کی ضرورت نہیں.