قرآن میں اللہ کا حکم ہے کہ
مَنْ كَانَ مَرِيضًا أَوْ عَلَى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِنْ أَيَّامٍ أُخَرَ۔۔۔۔(البقرۃ: 185)
ترجمہ: تم میں سے جومریض ہو یا سفر پر ہو، تو وہ دیگر ایّام میں اس گنتی کو پورا کرے
لہٰذا بیماری یا سفر میں چھوٹ جانے والے صیام کی گنتی بعد میں پوری کرنی ہوگی۔ اگر موت تک وہ گنتی پوری نہ ہوسکی، تو حدیث کے مطابق میت کے وارثین اُس کی جانب سے اُس کا فدیہ دیں گے۔
جبکہ دائمی مریض، یا ایسے بوڑھے افراد جو اب صوم رکھنے کی طاقت نہ رکھتے ہوں وہ فدیہ دینگے. دیگر تمام طرح کی صورتوں میں قضاء ہونے والے صوم کی گنتی بعد میں پوری کی جائے گی.
واضح رہے کہ حمل اور رضاعت دائمی امراض کے زمرے میں نہیں آتے، اور ان کی بھی قضا بعد میں پوری کرنا ہوگی ہوگی.