Categories
Uncategorized

قبر پرستی کا شرک

امت مسلمہ کی اکثریت کا یہ حال ہے کہ یہ قبروں پر جھکی پڑی ہے۔ مُردوں کو زندہ اور مافوق الاسباب اختیارات کا حامل سمجھ کر پکارا جا رہا ہے، ان سے دعائیں کی جا رہی ہیں۔ انہیں ’’ داتا ‘‘ ( دینے والا )، ’’ دستگیر ‘‘ ( ہاتھ تھامنے والا )، ’’ گنج بخش ‘‘( خزانے بخشنے والا )،’’ مشکل کشا ‘‘ ( مخلوق کی مشکلات حل کرنے والا )،’’ غوث الاعظم ‘‘ ( کائنات کا سب سے بڑا پکاریں سننے والا اور مدد کرنے والا )، ’’ غریب نواز ‘‘ ( غریبوں کو نوازنے والا) کہہ کر پکارا جا رہا ہے۔ اسی طرح ان کے متعلق عقائد ہیں کہ یہ اولاد دیتے ہیں یا ان کے توسل سے اولاد ملتی ہے، یہ قسمتیں کھری ( اچھی ) کردیتے ہیں، یہ اقتدار دلا دیتے ہیں۔

یعنی وہ فوت شدہ لوگ جنہیں اللہ تعالیٰ نے مردہ قرار دیا ہے ، ان سے یہ قوم اس قدر ڈرتی ہے کہ بہت لوگوں کا عقیدہ ہے کہ اگر ان کے یوم پیدائش کو نہیں منایا، ان کے نام کی نذر ونیاز نہ دی تو یہ ناراض ہو جائیں گے۔ پھر ہماری زندگی تنگ ہو جائے گی، یہی وجہ ہے کہ لاہور کے باہر سے آنے والے اس عقیدے کے حامل سب سے پہلے ان کی قبرپر حاضری دیتے ہیں اور مشہور ہے کہ ’’ پہلے داتا کو سلام کرلو‘‘۔ ان مُردوں سے ڈراور خوف لوگوں پر اس قدر حاوی ہے کہ ایک خاتون بازار میں سب جگہ دوپٹے کے ہوش کے بغیر چلی جا رہی ہوتی ہے لیکن جہاں کوئی قبر آئی تو فوراً سر پر دوپٹہ لے لیتی ہےکہ حضرت ننگے سر نہ دیکھ لیں۔ اسی طرح ویگن ڈارئیور سارے راستے بیہودہ گانے چلاتا ہے آتا ہے لیکن جہاں کہیں قبر دیکھی تو گانا بند کردیتا ہے کہ حضرت جی ناراض ہو جائیں گے۔

افسوس زندہ و جاوید رب کا ڈر اور خوف نہیں رہا، خواتین بازاروں میں سر عام عجیب ترین لباس میں گھومتی ہیں، گاڑیوں والے ہر جگہ اپنے گانے جاری رکھتے ہیں، یہ کلمہ گو ساری دنیا کی بد اعمالیاں کرتا ہے ، اسے اپنے رب کی موجودگی کا احساس نہیں ہوتا لیکن جہاں قبر دکھائی دے جائے یہ حواس باختہ ہو جاتا ہے۔ بڑے بڑے سیاسی اور مذہبی لیڈراپنی الیکشن مہم کا آغاز کسی مزار سے کرتےہیں کہ ’’بابا کی رحمت ‘‘ اور ’’ مدد ‘‘ سےانہیں اقتدار نصیب ہو جائے۔ اندازہ لگائیں کہ مُردوں سے ڈر و خوف اور اس کو حاصل اختیارات کے عقائد کا کیا عالم ہوگیا ہے۔

قبر پرستی کس قوم کا عمل تھا؟

قبر پرستی نبی ﷺ سے قبل بھی موجود تھی اور یہ طرز عمل ہے ہی یہودیوں اور عیسائیوں کا۔نبی ﷺ نے فرمایا :

عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ: «لَعَنَ اللَّهُ اليَهُودَ وَالنَّصَارَى، اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسْجِدًا»، قَالَتْ: وَلَوْلاَ ذَلِكَ لَأَبْرَزُوا قَبْرَهُ غَيْرَ أَنِّي أَخْشَى أَنْ يُتَّخَذَ مَسْجِدًا

( بخاری، کتاب الجنائز، بَابُ مَا يُكْرَهُ مِنَ اتِّخَاذِ المَسَاجِدِ عَلَى القُبُورِ )

’’عائشہ ؓ روایت کرتی ہیں کہ نبی ﷺ نے جس مرض میں وفات پائی، اس میں فرمایا کہ اللہ یہود و نصاری پر لعنت کرے انہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کوعبادت گاہ بنالیا۔ عائشہ ؓنے بیان کیا کہ اگر ایسا نہ ہوتا تو آپ کی قبر ظاہر کردی جاتی، مگر مجھے ڈر ہے کہ کہیں عبادت گاہ نہ بنالی جائے‘‘۔

حَدَّثَنِي جُنْدَبٌ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ أَنْ يَمُوتَ بِخَمْسٍ أَلَا وَإِنَّ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ كَانُوا يَتَّخِذُونَ قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ وَصَالِحِيهِمْ مَسَاجِدَ، أَلَا فَلَا تَتَّخِذُوا الْقُبُورَ مَسَاجِدَ، إِنِّي أَنْهَاكُمْ عَنْ ذَلِكَ»

( مسلم ، کتاب المساجد و مواضع الصلاۃ ، بَابُ النَّهْيِ عَنْ بِنَاءِ الْمَسَاجِدِ، عَلَى الْقُبُورِ وَاتِّخَاذِ الصُّوَرِ فِيهَا وَالنَّهْيِ عَنِ اتِّخَاذِ الْقُبُورِ مَسَاجِدَ )

’’جندب ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے آپ کی وفات سے پانچ دن پہلے سناکہ تم سے پہلے لوگوں نے اپنے نبیوں اور نیک لوگوں کی قبروں کو عبادت گاہ بنا لیا تھا تم قبروں کو عبادت گاہ نہ بنانا میں تمہیں اس سے منع کرتا ہوں‘‘۔

عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ المُؤْمِنِينَ، أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ، وَأُمَّ سَلَمَةَ ذَكَرَتَا كَنِيسَةً رَأَيْنَهَا بِالحَبَشَةِ فِيهَا تَصَاوِيرُ، فَذَكَرَتَا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «إِنَّ أُولَئِكَ إِذَا كَانَ فِيهِمُ الرَّجُلُ الصَّالِحُ فَمَاتَ، بَنَوْا عَلَى قَبْرِهِ مَسْجِدًا، وَصَوَّرُوا فِيهِ تِلْكَ الصُّوَرَ، فَأُولَئِكَ شِرَارُ الخَلْقِ عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ القِيَامَةِ»

( بخاری، کتاب الصلاۃ، هَلْ تُنْبَشُ قُبُورُ مُشْرِكِي الجَاهِلِيَّةِ، وَيُتَّخَذُ مَكَانُهَا مَسَاجِدَ )

’’عائشہ ؓ روایت کرتی ہیں کہ ام حبیبہ ؓ اور ام سلمہ ؓنے ایک گرجا، حبش میں دیکھا تھا، اس میں تصویریں تھیں، انہوں نے نبیﷺ سے اس کا ذکر کیا آپ نے فرمایا کہ ان لوگوں میں جب کوئی نیک مرد ہوتا اور وہ مرجاتا تو اس کی قبر پر عبادت گاہ بنا لیتے اور اس میں یہ تصویریں بنا دیتے، یہ لوگ اللہ کے نزدیک قیامت کے دن بدترین خلق ہوں گے‘‘۔

واضح ہوا کہ وفات شدہ افراد کی قبر پر مزار بنا کر اسے عبادت گاہ بنایا یہودیوں اور عیسائیوں کا طرز عمل تھا۔ یہ اپنے وفات شدہ انبیاء و نیک لوگوں کی قبروں کو عبادت گاہ بنا لیا کرتے تھے۔ عائشہ ؓ کا بیان بھی آپ نے اوپر پڑھ لیا ہوگا کہ ’’ کہ اگر ایسا نہ ہوتا تو آپ کی قبر ظاہر کردی جاتی، مگر مجھے ڈر ہے کہ کہیں عبادت گاہ نہ بنالی جائے‘‘۔ یعنی اس بات کا خدشہ تھا کہ یہودیوں اور عیسائیوں کی طرح قبروں کو عبادت گاہ بنانے کا کام اس امت میں بھی شروع نہ ہو جائے۔

ہر پوجی جانے والی چیز ’’ بت ‘‘ کہلاتی ہے:

اللَّهُمَّ لاَ تَجْعَلْ قَبْرِي وَثَناً يُعْبَدُ. اشْتَدَّ غَضَبُ اللهِ عَلَى قَوْمٍ اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ

(الموطا لامام مالک، الصلاۃ، باب جامع الصلاۃ(

“یا اللہ!میری قبر کو بت نہ بنانا جسے لوگ پوجنا شروع کر دیں۔ ان لوگوں پر اللہ کا سخت غضب اور قہر نازل ہوا جنہوں نے انبیاء کی قبروں کو سجدہ گاہیں بنالیا۔”

بت پرستی ہو یا قبر پرستی ان کے پیچھے شخصیات ہوتی ہیں :

جیسا کہ اوپر بیان کردہ احادیث سے ثابت ہوتا ہے کہ جن کی قبریں بنائی جاتی تھیں وہ انبیاء علیہ السلام یا قوم کے نیک لوگ ہوتے تھے۔ بالکل اسی طرح پوجے جانے والے ’’ بت ‘‘ بھی شخصیات ہی سے منسوب ہوتے تھے۔ نبی ﷺ نے فرمایا :

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، «صَارَتِ الأَوْثَانُ الَّتِي كَانَتْ فِي قَوْمِ نُوحٍ فِي العَرَبِ بَعْدُ أَمَّا وَدٌّ كَانَتْ لِكَلْبٍ بِدَوْمَةِ الجَنْدَلِ، وَأَمَّا سُوَاعٌ كَانَتْ لِهُذَيْلٍ، وَأَمَّا يَغُوثُ فَكَانَتْ لِمُرَادٍ، ثُمَّ لِبَنِي غُطَيْفٍ بِالْجَوْفِ، عِنْدَ سَبَإٍ، وَأَمَّا يَعُوقُ فَكَانَتْ لِهَمْدَانَ، وَأَمَّا نَسْرٌ فَكَانَتْ لِحِمْيَرَ لِآلِ ذِي الكَلاَعِ، أَسْمَاءُ رِجَالٍ صَالِحِينَ مِنْ قَوْمِ نُوحٍ، فَلَمَّا هَلَكُوا أَوْحَى الشَّيْطَانُ إِلَى قَوْمِهِمْ، أَنِ انْصِبُوا إِلَى مَجَالِسِهِمُ الَّتِي كَانُوا يَجْلِسُونَ أَنْصَابًا وَسَمُّوهَا بِأَسْمَائِهِمْ، فَفَعَلُوا، فَلَمْ تُعْبَدْ، حَتَّى إِذَا هَلَكَ أُولَئِكَ وَتَنَسَّخَ العِلْمُ عُبِدَتْ»

( بخاری، کتاب تفسیر القرآن ، بَابُ {وَدًّا وَلاَ سُواعًا، وَلاَ يَغُوثَ وَيَعُوقَ} )

’’ابن عباس ؓ روایت کرتے ہیں کہ وہ بت جو قوم نوح میں تھے وہی عرب میں اس کے بعد پوجے جانے لگے ” ود ” قوم کلب کا بت تھا جو دومتہ الجندل میں تھا اور ” سواع ” ہذیل کا اور ” یغوث ” مراد کا پھر بنی عطیف کا سبا کے پاس جوف میں تھا اور ” یعوق ” ہمدان کا اور ” نسر ” حمیر کا ” جوذی ” الکلاع کے خاندان سے تھا یہ قوم نوح (علیہ السلام) کے نیک لوگوں کے نام تھے جب ان نیک لوگوں نے وفات پائی تو شیطان نے ان کی قوم کے دل میں یہ بات ڈال دی کہ ان کے بیٹھنے کی جگہ میں جہاں وہ بیٹھا کرتے تھے بت نصب کردیں اور اس کا نام ان (بزرگوں) کے نام پر رکھ دیں چنانچہ ان لوگوں نے ایسا ہی کیا لیکن اس کی عبادت نہیں کی تھی یہاں تک کہ جب وہ لوگ بھی مرگئے اور اس کا علم جاتا رہا تو ان کی عبادت کی جانے لگی۔ ‘‘

ابن  عباس ؓ سے روایت ہے :

إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا قَدِمَ أَبَى أَنْ يَدْخُلَ البَيْتَ وَفِيهِ الآلِهَةُ، فَأَمَرَ بِهَا فَأُخْرِجَتْ، فَأَخْرَجُوا صُورَةَ إِبْرَاهِيمَ، وَإِسْمَاعِيلَ فِي أَيْدِيهِمَا الأَزْلاَمُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «قَاتَلَهُمُ اللَّهُ، أَمَا وَاللَّهِ لَقَدْ عَلِمُوا أَنَّهُمَا لَمْ يَسْتَقْسِمَا بِهَا قَطُّ». فَدَخَلَ البَيْتَ، فَكَبَّرَ فِي نَوَاحِيهِ، وَلَمْ يُصَلِّ فِيهِ

( بخاری ،  کتاب الحج ، بَابُ مَنْ كَبَّرَ فِي نَوَاحِي الكَعْبَةِ )

’’ کہ جب نبیﷺ  کعبہ کے پاس آئے تو اندر جانے سے انکار کردیا اور اس میں بت رکھے ہوئے تھے۔ ان کے نکالنے کا حکم دیا، چنانچہ  وہ نکال دئیے گئے۔ لوگوں نے ابراہیم (علیہ السلام) اور اسماعیل (علیہ السلام) کے بت بھی نکال دئیے کہ ان دونوں کے ہاتھ میں پانسے تھے۔ رسول اللہ ﷺنے فرمایا۔ اللہ تعالیٰ ان مشرکوں کو برباد کرے، واللہ وہ لوگ جانتے ہیں ان دونوں نے کبھی پانسے نہیں پھینکے، پھر خانہ کعبہ میں داخل ہوئے اور اس کے اطراف (کونوں) میں تکبیر کہی اورصلاۃ نہیں ادا کی‘‘۔

مشرکین نے مریم صدیقہ کی بھی تصویر بنائی ہوئی تھی :

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ البَيْتَ، فَوَجَدَ فِيهِ صُورَةَ إِبْرَاهِيمَ، وَصُورَةَ مَرْيَمَ، فَقَالَ «أَمَا لَهُمْ، فَقَدْ سَمِعُوا أَنَّ المَلاَئِكَةَ لاَ تَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ صُورَةٌ، هَذَا إِبْرَاهِيمُ مُصَوَّرٌ، فَمَا لَهُ يَسْتَقْسِمُ»

( بخاری، کتاب احادیث الانبیاء، بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {وَاتَّخَذَ اللَّهُ إِبْرَاهِيمَ خَلِيلًا} )

’’ابن عباس ؓسے روایت کرتے ہیں کہ نبی ﷺ کعبہ میں داخل ہوئے تو وہاں ابراہیم ؑ اور مریم صدیقہ  ؒ  کی تصویریں دیکھیں تو نبی ﷺ نے فرمایا کہ قریش کو کیا ہوگیا حالانکہ وہ سن چکے تھے کہ فرشتے ایسے گھر میں داخل نہیں ہوتے جہاں کوئی تصویر ہو یہ ابراہیم  علیہ السلام کی تصویر بنائی گئی پھر وہ بھی پانسہ پھینکتے ہوئے‘‘۔

اپنی قوم کے جس فرد کو وہ نیک سمجھتے تھے اس کے نام کے بھی بت بناتے تھے:

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، فِي قَوْلِهِ: {اللَّاتَ وَالعُزَّى}] «كَانَ اللَّاتُ رَجُلًا يَلُتُّ سَوِيقَ الحَاجِّ»

( بخاری،  کتاب التفسیر القرآن، بَابُ {أَفَرَأَيْتُمُ اللَّاتَ وَالعُزَّى}

’’ابن عباس ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ لات اس شخص ِکا نام ہے  جو حاجیوں کے لئے ستو گھولتا تھا‘‘۔

واضح ہوا کہ کھڑا بت ہو یا قبر کی شکل میں لیٹا بت، دراصل عبادت کسی شخصیت کی ہو رہی ہوتی ہے۔

ان افراد کو الٰہ سمجھ کر پکارا جاتا ہے:

یہ بات تو واضح ہو چکی ہے کہ بت  پرستی ہو یا قبر پرستی دراصل یہ  شخصیت پرستی ہوتی ہے یعنی مرنے کے بعد ان شخصیات کے بت بنا لئے جاتے ہیں اور وہاں ان کو  پکارا جاتا ہے ان سے دعائیں کی جاتی ہیں۔ لیکن ایسا کیوں ؟ قرآن و حدیث ہمیں بتاتے ہیں :

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: كَانَ الْمُشْرِكُونَ يَقُولُونَ: لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ، قَالَ: فَيَقُولُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَيْلَكُمْ، قَدْ قَدْ» فَيَقُولُونَ: إِلَّا شَرِيكًا هُوَ لَكَ، تَمْلِكُهُ وَمَا مَلَكَ، يَقُولُونَ هَذَا وَهُمْ يَطُوفُونَ بِالْبَيْتِ

(  مسلم ، کتاب الحج ، بَابُ التَّلْبِيَةِ وَصِفَتِهَا وَوَقْتِهَا )

’’ابن عباس ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ مشرکین کہتے تھے لبیک لا شریک لک      ( اے اللہ میں حاضر ہوں تیرا کوئی شریک نہیں)۔( راوی نے کہا ) رسول ﷺ  نے ارشاد فرمایا  ہلاکت ہو تمہارے لئے اس سے آگے نہ کہو، مگر مشرکین کہتے: مگر وہ شریک ہے جس کا  مالک تو ہی ہے  وہ مالک نہیں، یہ کہتے اور بیت اللہ کا طواف کرتے۔‘‘

یعنی مشرک اللہ کیساتھ اپنے ان نیک افراد کو بھی ان صفات و اختیارات کا حامل سمجھا کرتے تھے جو اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہیں، لیکن ساتھ یہ بھی عقیدہ تھا  کہ یہ کسی چیز کے مالک نہیں بلکہ مالک اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ وہی عقیدہ جو آج عوام کو دیا گیا ہے کہ یہ  صفات و اختیارات بابا جی کے                       ’’ ذاتی  ‘‘نہیں ’’ عطائی ‘‘ ہیں۔ یعنی  ذاتی طور پر  یہ کسی چیز کے مالک نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں یہ عطا کیا گیا ہے۔ قرآن مجید میں اس بارے میں بتایا گیا:

﴿وَقَالُوا لَا تَذَرُنَّ آلِهَتَكُمْ وَلَا تَذَرُنَّ وَدًّا وَلَا سُوَاعًا وَلَا يَغُوثَ وَيَعُوقَ وَنَسْرًا﴾

[نوح: 23]

’’ اور کہنے لگے ، مت چھوڑنا اپنے معبودوں کو ، اور مت چھوڑنا ود،سواع، یغوث، یعوق اور نسر کو ‘‘

قرآن بتاتا ہے کہ وہ فوت شدہ نیک افراد کو اپنا ’’ الٰہ ‘‘ سمجھتے تھے۔ الٰہ کے معنی ہیں :

’’ الٰہ ‘‘ کے معنی کہ وہ جو اس کائنات کا خالق اور رب ( پالنہار،  یعنی زندگی سے لیکر موت تک کی اور اس کے بعد کی ہر ہر چیز دینے والا ہو)،۔
  • جو ایک مخلوق کو پیدا کرکے بار بار اس مخلوق کو پیدا کر رہا ہو۔ ( جیسے نسل انسان ایک تسلسل سے چل رہی ہے )۔
  • جو مخلوق کی زندگی اور موت پر قادر ہو۔
  • جو زندہ و جاوید ہو۔ ( یعنی جسے کبھی موت نہ آنی ہو )۔
  • جو مشرق سے لیکر مغرب تک ہر چیز کا مالک ہو۔
  • رزاق ( یعنی ہر چیز دینے والا، اس میں  صرف  کھانے  پینے کی چیز نہیں ہوتی بلکہ ہر وہ چیز جو اللہ کی طرف عطا کی جائے وہ رزق  کہلاتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ اللہ سے دعا کرتے تھے : :” اللهم ارزقني شهادة في سبيلك‘‘ (صحیح بخاری: کتاب فضائل المدینۃباب كراهية النبي ﷺ أن تعرى المدينة)    ’’اے اللہ! مجھے اپنے راستے میں شہادت عطا فرما ‘‘.
  • مشکل کشا، یعنی تمام مخلوق کی مشکلات کو دور کرنے والا۔
  • غوث الاعظم ، کائنات کا سب سے بڑا مخلوق کی پکاریں سننے والا ان کی مدد کرنے والا۔
  • جو کہ غیب اور دکھائی دینے والی ہر چیز کا علم رکھتا ہو۔
  • جس کو پکارا جائے، جس سے غائبانہ مدد مانگی جائے۔
  • جو اس پورے سسٹم پر قدرت رکھتا ہو، سورج، چاند، ہر چیز اس کے کنٹرول میں ہو۔
  • جو اولاد دینے پر تنہا قادر ہو۔
  • جو خشکی و تری میں انسانوں کو راستہ دکھانے والا ہو۔
  • جس کی عبادت کی جائے۔
  • جس پر توکل کیا جائے۔

جیسا کہ ما قبل بیان کردہ حدیث سے ثابت ہے کہ  یہی بت عرب میں بھی پوجے جانے لگے۔ یعنی ان شخصیات کو الٰہ سمجھا گیا یہی وجہ تھی کہ جب نبی ﷺ نے اکیلے ایک ’’ الٰہ ‘‘ ’’ اللہ تعالیٰ ‘‘ کی طرف دعوت دی تو وہ نہ مانے حالانکہ وہ اللہ تعالیٰ کو اپنا الٰہ یعنی خالق، پالنہار، قوتوں اور اختیارات کا مالک سمجھتے  تھے۔

ان فوت شدہ حضرات سے دعا کرنے کو ان کی عبادت کیوں قرار دیا گیا۔

قرآن و حدیث  سے ثابت ہے کہ اوپر بیان کردہ  الٰہ والی   یہ صفات صرف اللہ تعالیٰ کے لئے مختص ہیں۔ جب کوئی کسی کو ان صفات کا حامل سمجھتا ہے تو گویا وہ اسے ’’ الٰہ ‘‘بنا رہا  ہوتا ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا :

إِنَّ الدُّعَاءَ هُوَ الْعِبَادَةُ» ثُمَّ قَرَأَ: {وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ}

( سنن ابن ماجہ ،  کتاب الدعاء ، بَابُ فَضْلِ الدُّعَاءِ )

’’دعا ہی تو عبادت ہے، پھر یہ آیت پڑھی (وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُوْنِيْ اَسْتَجِبْ لَكُمْ اِنَّ الَّذِيْنَ يَسْتَكْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِيْ سَيَدْخُلُوْنَ جَهَنَّمَ دٰخِرِيْنَ ) ۔  (اور تمہارے رب نے فرمایا مجھے پکارو، میں تمہاری دعا قبول کروں گا، بیشک جو لوگ میری عبادت سے سرکشی کرتے ہیں عنقریب وہ ذلیل ہو کر جہنم  میں داخل ہوں گے)‘‘۔

اس حدیث سے واضح ہوا کہ دعا ہی اصل عبادت ہے، جب یہ عبادت اللہ کی  بجائے کسی دوسرےکے  لئے کی جائے گی تو شرک ہوگا۔ یعنی دعا اور پکار اللہ کا حق ہے کہ اسے غائبانہ پکارا جائے ،اس ہی سے مدد طلب کی جائے ، زندگی کی دوسری ضروریات  کے لئے بھی صرف اس ہی سے سوال کیا جائے۔

جیسا کہ نبی ﷺ نے فرمایا :

إِذَا سَأَلْتَ فَاسْأَلِ اللَّهَ، وَإِذَا اسْتَعَنْتَ فَاسْتَعِنْ بِالل

( ترمذی،  أبواب صفة القيامة والرقائق والورع عن ﷺ)

’’ جب تم کوئی چیز مانگو توصرف اللہ سے مانگو، جب تو مدد چاہےتوصرف اللہ سے مدد طلب کرو ‘‘۔

اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں نبی ﷺ سے  کہلوا دیا کہ

﴿قُلۡ إِنَّمَآ أَدۡعُواْ رَبِّي وَلَآ أُشۡرِكُ بِهِۦٓ أَحَدٗ ﴾

[الجن: 20]

’’ کہدو کہ میں تو اپنے رب ہی کو پکارتا ( دعا کرتا ) ہوں ، اس کیساتھ کسی کو شریک نہیں کرتا ‘‘۔

﴿وَلَا تَدۡعُ مِن دُونِ ٱللَّهِ مَا لَا يَنفَعُكَ وَلَا يَضُرُّكَۖ فَإِن فَعَلۡتَ فَإِنَّكَ إِذٗا مِّنَ ٱلظَّٰلِمِينَ﴾

[يونس: 106]

’’ اور مت پکارو اللہ کے علاوہ کسی کو جو نہ تمہیں نقصان پہنچا سکتا ہے اور نہ ہی کوئی نفع  اور اگر تم نے ایسا کیا توظالموں ( مشرکوں ) میں سے ہو جاؤ گے۔‘‘

ثابت ہوا کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی  سے غائبانہ دعا کرنا، اسے پکارنا، اسے مافوق الاسباب اختیارات والا سمجھ کر  اس سے سوال کرنا یہ سب اس کی عبادت یعنی اللہ تعالیٰ کیساتھ شرک ہے۔

سب سے زیادہ گمراہ کون ؟

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :

﴿وَمَنۡ أَضَلُّ مِمَّن يَدۡعُواْ مِن دُونِ ٱللَّهِ مَن لَّا يَسۡتَجِيبُ لَهُۥٓ إِلَىٰ يَوۡمِ ٱلۡقِيَٰمَةِ وَهُمۡ عَن دُعَآئِهِمۡ غَٰفِلُونَ ۝   وَإِذَا حُشِرَ ٱلنَّاسُ كَانُواْ لَهُمۡ أَعۡدَآءٗ وَكَانُواْ بِعِبَادَتِهِمۡ كَٰفِرِينَ﴾

[الأحقاف: 5-6]

’’ اور اس سے بڑھ کر گمراہ کون ہوگا جو اللہ کے علاوہ ایسوں کو پکارے جو قیامت تک اس کی پکار نہیں سن سکتے، اور وہ ان کی دعاؤں سے بے خبر ہیں اور جب ( قیامت کے دن ) انسانوں کو جمع کیا جائے گا تو وہ  ان کی عبادت کا انکار کردیں گے‘‘ْ۔

بتایا گیا کہ  لوگ ایسوں کو پکار تے  ہیں  جو قیامت تک ان کی پکار نہیں سن سکتے ( کیونکہ مردہ سنتا ہی نہیں ) تو یہ لوگ  گمراہ ترین لوگ ہیں، اس آیت میں مزید فرمایا گیا کہ انہیں پکار کر جو یہ ان کی عبادت کر رہے ہیں تو قیامت کے دن  ( جنہیں آج  پکارا جا رہا ہے ) ان کی اس عبادت کا انکار کردیں گے۔

 کیا مردہ جسم سنتا  ہے ؟

اوپر بیان کردہ سورہ احقاف کی آیت میں بھی یہی بیان کیا گیا کہ  جنہیں پکارا جا رہا ہے وہ ان کی پکاروں سے غافل ہیں اورسورہ فاطر میں فرمایا:

﴿إِن تَدۡعُوهُمۡ لَا يَسۡمَعُواْ دُعَآءَكُمۡ وَلَوۡ سَمِعُواْ مَا ٱسۡتَجَابُواْ لَكُمۡۖ وَيَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِ يَكۡفُرُونَ بِشِرۡكِكُمۡۚ وَلَا يُنَبِّئُكَ مِثۡلُ خَبِيرٖ﴾

[فاطر: 14]

’’اگر تم  انہیں پکارو (تو) وہ تمہاری پکار نہیں سن سکتے اور اگر (بالفرض) وہ سُن بھی لیں (تو) وہ تمہیں  جواب نہیں دے سکتے اور قیامت کے دن وہ انکار کردیں گے تمہارے اس شرک کا اور نہیں (کوئی) خبر دے  سکتا تمہیں ایک پوری طرح  خبر رکھنے والے (اللہ) کی مانند ‘‘۔

اللہ تعالیٰ مزید فرماتا ہے :

﴿إِنَّمَا يَسۡتَجِيبُ ٱلَّذِينَ يَسۡمَعُونَۘ وَٱلۡمَوۡتَىٰ يَبۡعَثُهُمُ ٱللَّهُ ثُمَّ إِلَيۡهِ يُرۡجَعُونَ﴾

[الأنعام: 36]

’’ صرف وہی لوگ(دعوت حق)قبول کرتے ہیں جو سنتے ہیں، اور رہے مردے تو انہیں اللہ ہی اٹھائے گا پھر وہ اُسی کی طرف لوٹائے جائیں گے ۔‘‘

یعنی مردے اس لئے قبول نہیں کرسکتے کیونکہ وہ سنتے ہی نہیں۔مزید آیت :

﴿إِنَّكَ لَا تُسۡمِعُ ٱلۡمَوۡتَىٰ وَلَا تُسۡمِعُ ٱلصُّمَّ ٱلدُّعَآءَ إِذَا وَلَّوۡاْ مُدۡبِرِينَ﴾

[النمل: 80]

’’ بے شک آپ مردوں کو نہیں سنا سکتے اور نہ ہی بہروں کو جب وہ پیٹھ پھیر کر بھاگ رہے ہوں۔‘‘

ثابت ہوا کہ مردہ جسم نہیں سنتا۔

فوت شدہ کی عبادت کیوں کی جاتی ہے:

اللہ تعالیٰ نے بتایا کہ  ان فوت شدہ انبیاء علیہم السلام اور نیک افراد کی بندگی اس لئے کی جاتی تھی کہ انہیں اللہ تک رسائی کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے، جیسا کہ آجکل عقیدہ ہےکہ یہ اللہ کے چہیتے ہیں اللہ تک ہماری بات پہنچا دیتے ہیں اور اللہ سے منوا لیتے ہیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے مکمل طور پر اس بات کا رد کردیا کہ آسمانوں یا زمین میں کون ایسا ہے جو  اللہ تعالیٰ سے سفارش کر سکے، یعنی کوئی وسیلہ نہیں۔

یہ عقیدہ کہ کوئی اللہ کا چہیتا ہے اور اللہ سے منوالیتا ہے قرآن کے بیان کا  بھر پورانکار ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :

﴿۔ ۔ ۔  وَمَا كَانَ ٱللَّهُ لِيُعۡجِزَهُۥ مِن شَيۡءٖ فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَلَا فِي ٱلۡأَرۡضِۚ إِنَّهُۥ كَانَ عَلِيمٗا قَدِيرٗا﴾

[فاطر: 44]

’’  ۔ ۔  اور آسمانوں اور زمین میں ایسی کوئی چیز نہیں جو اللہ کو عاجز کرسکے۔، وہ سب کچھ جانتا اور قدرت والا ہے۔‘‘

قرآن سے ثابت ہوگیا کہ اس کائنات میں کوئی بھی ایسا نہیں جو اللہ تک سفارشی ہو یا  اسےعاجز کردے۔

واضح ہوا کہ اللہ  تعالیٰ کے علاوہ کسی اور کو پکارنا اور دعائیں کرنا اس کی عبادت اور اللہ کے حقوق میں شرک ہے۔ سورہ یونس میں فرمایا :

﴿وَلَا تَدۡعُ مِن دُونِ ٱللَّهِ مَا لَا يَنفَعُكَ وَلَا يَضُرُّكَۖ فَإِن فَعَلۡتَ فَإِنَّكَ إِذٗا مِّنَ ٱلظَّٰلِمِينَ﴾

[يونس: 106]

’’ اورمت پکارو ( دعا کرو )  اللہ کے علاوہ ایسوں کو جو نہ تمہیں فائدہ دے سکتے ہوں اور نہ ہی کوئی نقصان ، اگر تم نے ایسا کیا تو تم ظالموں ( مشرکوں ) میں سے ہو جاؤ گے ‘‘۔

واضح ہوا  کہ   دعا صرف اللہ تعالیٰ سے کرنی ہے جب دوسرے کسی فوت شدہ سے کی جائے گی تو وہ ’’ شرک ‘‘ ہوگا ۔  لوگ صرف دعا ہی نہیں کرتے بلکہ وہاں ماتھا بھی ٹیکتے ہیں، ان سے ڈرتے اور خوف بھی کھاتے ہیں ، ان کی خوشنودی اور شکرانے کے لئے  جانور بھی ذبح کرتے اور ان کے نام کی نذر ونیاز بھی کرتے ہیں۔ اس طرح  مزید کئی  قسم کے شرک میں مبتلا ہو جاتے ہیں ۔اسی وجہ سے فوت شدہ افراد  سے دعا کرنے، انہیں پکارنے، ان کو مافوق الاسباب اختیارات کا حامل سمجھنے  اور ان کے نام کی نذر و نیاز دینے کو ان کی  عبادت بیان کیا گیا ہے ۔

شکرگزاری میں شرک :

جیسا کہ ہر انسان جانتا ہے کہ تمام تر نعمتیں دینے والی صرف ایک اللہ کی ذات ہے۔ کسی مسلم سے یہ بات کہی جائے کہ ہندو کسی شخصیت کے  بت کے سامنے کھڑے ہو کر بیٹے کا سوال کرتا ہے اور اسے بیٹا مل بھی جاتا ہے تو بتائیں یہ بیٹا اللہ نے دیا یا اس بت نے دیا ؟ سب ایک ہی جواب دیتے ہیں کہ ’’ اللہ نے دیا ‘‘، لیکن وہ ہندو یہ عقیدہ رکھتا ہے کہ بت کی  وجہ سے ملا اس لئےوہ جاکر اس بت کا شکرادا کرتا ہے۔ یہی حال اس کلمہ گو قوم کا ہے قبر پر جاکر یا پیر صاحب سے دعائیں کرا کر بیٹا طلب کرتے ہیں، اور جب بیٹا مل جاتا ہے تو جاکر اس کا شکریہ ادا کرتے ہیں، قبروں پر چادر چڑھاتے ہیں اور پھر اس کا نام’’ پیراں دتہ ‘‘،’’ غوث دتہ ‘‘ رسول دتہ ‘‘ رکھ دیتے ہیں۔ یہ مشرکین کا طریقہ کار ہے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :

﴿قُلْ مَنْ يُّنَجِّيْكُمْ مِّنْ ظُلُمٰتِ الْبَرِّ وَالْبَحْرِ تَدْعُوْنَهٗ تَضَرُّعًا وَّخُفْيَةً ۚ لَىِٕنْ اَنْجٰىنَا مِنْ هٰذِهٖ لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الشّٰكِرِيْنَ    ؀  قُلِ اللّٰهُ يُنَجِّيْكُمْ مِّنْهَا وَمِنْ كُلِّ كَرْبٍ ثُمَّ اَنْتُمْ تُشْرِكُوْنَ﴾

[الأنعام: 63-64]

’’پوچھو (ان سے) ! کون بچاتا ہے تم کو صحرا اور سمندر کی تاریکیوں  سے جب تم پکارتے ہو اس کو گڑ گڑا کر اور چپکے چپکے کہ اگر بچالے وہ ہم کو، اس بلا سے تو ہم ضرور ہوں گے شکر گزار۔ کہہ دو ! اللہ ہی نجات دیتا ہے تم کو اس سے اور ہر تکلیف سے پھر بھی تم شرک کرتے ہو‘‘۔

﴿وَمَا بِكُمْ مِّنْ نِّعْمَةٍ فَمِنَ اللّٰهِ ثُمَّ اِذَا مَسَّكُمُ الضُّرُّ فَاِلَيْهِ تَجْــــَٔــرُوْنَ ؀ ثُمَّ اِذَا كَشَفَ الضُّرَّ عَنْكُمْ اِذَا فَرِيْقٌ مِّنْكُمْ بِرَبِّهِمْ يُشْرِكُوْنَ ﴾

[النحل: 53-54]

’’اور جو تمہیں حاصل ہےہر  قسم کی نعمت سو وہ اللہ ہی کی عطا کردہ ہے پھر جب پہنچتی ہے تمہیں تکلیف تو اسی کے آگے فریاد کرتے ہو۔ پھر جب دور کرتا ہے وہ تکلیف تم سے تو یکایک ایک گروہ تم میں سے اپنے رب کے ساتھ شرک کرنے لگتا ہے‘‘۔

یہ ہے وہ معاملہ کہ سب کچھ اللہ دیتا ہے اور پھر شکرانہ قبر والوں کا ادا کیا جاتا ہے۔ ایسا طریقہ عرب میں بھی تھا ۔

حدثنا يحيى بن موسى البلخي، حدثنا عبد الرزاق، أخبرنا معمر، عن ثابت، عن أنس، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «لا عقر في الإسلام»، قال عبد الرزاق: «كانوا يعقرون عند القبر بقرة أو شاة»

( سنن ابی داؤد ، کتاب الجنائز، باب: كراهية الذبح عند القبر)

انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا۔ اسلام میں عقر نہیں ہے۔ عبدالرزاق نے کہا کہ زمانہ جاہلیت میں لوگ قبروں کے پاس جا کر گائے یابکری ذبح کیا کرتے تھے۔ (اس کا نام عقر ہے)

﴿حُرِّمَتۡ عَلَيۡكُمُ ٱلۡمَيۡتَةُ وَٱلدَّمُ وَلَحۡمُ ٱلۡخِنزِيرِ وَمَآ أُهِلَّ لِغَيۡرِ ٱللَّهِ بِهِۦ وَٱلۡمُنۡخَنِقَةُ وَٱلۡمَوۡقُوذَةُ وَٱلۡمُتَرَدِّيَةُ وَٱلنَّطِيحَةُ وَمَآ أَكَلَ ٱلسَّبُعُ إِلَّا مَا ذَكَّيۡتُمۡ وَمَا ذُبِحَ عَلَى ٱلنُّصُبِ وَأَن تَسۡتَقۡسِمُواْ بِٱلۡأَزۡلَٰمِۚ ذَٰلِكُمۡ فِسۡقٌۗ ٱلۡيَوۡمَ يَئِسَ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ مِن دِينِكُمۡ فَلَا تَخۡشَوۡهُمۡ وَٱخۡشَوۡنِۚ ٱلۡيَوۡمَ أَكۡمَلۡتُ لَكُمۡ دِينَكُمۡ وَأَتۡمَمۡتُ عَلَيۡكُمۡ نِعۡمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ ٱلۡإِسۡلَٰمَ دِينٗاۚ فَمَنِ ٱضۡطُرَّ فِي مَخۡمَصَةٍ غَيۡرَ مُتَجَانِفٖ لِّإِثۡمٖ فَإِنَّ ٱللَّهَ غَفُورٞ رَّحِيمٞ﴾

[المائدة: 3]

’’تم پر حرام کیا گیا مرداراور ( بہتا ہوا) خون، سؤر کا گوشت اور ہر وہ چیز جو غیر اللہ سے منسوب کر دی جائے اور وہ جانور جو گلا گھٹ کر مر گیا ہواور جو چوٹ کھا کر مرا ہواور جو بلندی سے گر کر مرا ہواور جو سینگ لگ کر مرا ہو، اور جس کو درندے نے (پھاڑ) کھایا ہو، مگر یہ کہ تم اس کو (مرنے سے پہلے ہی) ذبح کر لو اور (وہ جانور) جو آستانے پر ذبح کیا گیا ہو، اور یہ (تم پر حرام ہے) کہ پانسوں سے قسمت معلوم کرو۔ یہ تمہارے لیے گناہ کے کام ہیں۔ آج وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا ہے تمہارے دین سے مایوس ہو گئےہیں، تو تم ان سے نہ ڈرو، مجھ سے ہی ڈرتے رہو۔ آج کے دن میں نے تمہارا دین تمہارے لیے مکمل کر دیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دی اور تمہارے لیے دین اسلام کو پسند کیا۔ پھر جو کوئی بھوک میں بے بس ہو جائے( بشرطیکہ) گناہ کی طرف مائل نہ ہو تو اللہ مغفرت کرنے والا رحم کرنے والا ہے۔ ‘‘

﴿وَجَعَلُواْ لِلَّهِ مِمَّا ذَرَأَ مِنَ ٱلۡحَرۡثِ وَٱلۡأَنۡعَٰمِ نَصِيبٗا فَقَالُواْ هَٰذَا لِلَّهِ بِزَعۡمِهِمۡ وَهَٰذَا لِشُرَكَآئِنَاۖ فَمَا كَانَ لِشُرَكَآئِهِمۡ فَلَا يَصِلُ إِلَى ٱللَّهِۖ وَمَا كَانَ لِلَّهِ فَهُوَ يَصِلُ إِلَىٰ شُرَكَآئِهِمۡۗ سَآءَ مَا يَحۡكُمُونَ﴾

[الأنعام: 136]

’’اور جو کھیتی اور مویشی اللہ نے پیدا کیے تھے اِن لوگوں نے اُن میں اللہ کے لیے ایک حصہ مقرر کیا اور (دوسروں کا حصہ بھی رکھا) پھر اپنے گمان (باطل) سے کہا کہ یہ اللہ کا ہے اور یہ ہمارے( ٹھہرائے ہوئے) شریکوں کا۔ پھر جو ان کے شرکا کا (حصہ) ہوتا ہے اُس میں سے تو اللہ کی طرف نہیں پہنچتا، لیکن جو اللہ کا (حصہ) ہوتا ہے اُس میں سے ان کے شرکا کو پہنچ جاتا ہے، کیسا بُرا فیصلہ کرتے تھے یہ لوگ۔‘‘

مشرک لوگ اللہ کی دی ہوئی کھیتیوں اور مویشیوں میں اللہ کا حصہ تو بہت تنگ دلی کیساتھ نکالتے تھے لیکن  خودساختہ معبودوں کا حصہ خوب فراخ دلی سے نکالتے تھے۔

﴿وَقَالُواْ هَٰذِهِۦٓ أَنۡعَٰمٞ وَحَرۡثٌ حِجۡرٞ لَّا يَطۡعَمُهَآ إِلَّا مَن نَّشَآءُ بِزَعۡمِهِمۡ وَأَنۡعَٰمٌ حُرِّمَتۡ ظُهُورُهَا وَأَنۡعَٰمٞ لَّا يَذۡكُرُونَ ٱسۡمَ ٱللَّهِ عَلَيۡهَا ٱفۡتِرَآءً عَلَيۡهِۚ سَيَجۡزِيهِم بِمَا كَانُواْ يَفۡتَرُونَ﴾

[الأنعام: 138]

’’اور وہ کہتے ہیں کہ یہ مویشی اور کھیتی ممنوع ہیں، اِن کو اُن کے گمان کے مطابق کوئی نہ کھائے سوائے اس کے جس کو وہ چاہیں، اور بعض چوپائے( ایسے ہیں) جن کی پیٹھ (سواری وغیرہ کے لیے) حرام کر دی گئی ہیں اور بعض مویشی ایسے ہیں جن پر( ذبح کے وقت) وہ اللہ کا نام نہیں لیتے، اللہ پر جھوٹ باندھتے ہوئے۔ اللہ انہیں ان افترار  پردازیوں کا جو وہ کر رہے ہیں عنقریب بدلہ دے گا۔ ‘‘

﴿وَقَالُواْ مَا فِي بُطُونِ هَٰذِهِ ٱلۡأَنۡعَٰمِ خَالِصَةٞ لِّذُكُورِنَا وَمُحَرَّمٌ عَلَىٰٓ أَزۡوَٰجِنَاۖ وَإِن يَكُن مَّيۡتَةٗ فَهُمۡ فِيهِ شُرَكَآءُۚ سَيَجۡزِيهِمۡ وَصۡفَهُمۡۚ إِنَّهُۥ حَكِيمٌ عَلِيمٞ﴾

[الأنعام: 139]

’’اور وہ کہتے ہیں جو (بچے) ان چوپایوں کے پیٹوں میں ہیں وہ خاص ہمارے مردوں کے لیے ہیں، اور ہماری بیویوں پر حرام ہیں۔ اور اگر وہ (بچہ )مرا ہوا ہو تو اس میں یہ سب شریک ہو سکتے ہیں۔ عنقریب اللہ ان کو ان کی (گھڑی ہوئی) باتوں کی سزا دے گا، وہ حکمت والا(سب کچھ) جاننے والا ہے ۔‘‘

﴿وَمِنَ ٱلۡإِبِلِ ٱثۡنَيۡنِ وَمِنَ ٱلۡبَقَرِ ٱثۡنَيۡنِۗ قُلۡ ءَآلذَّكَرَيۡنِ حَرَّمَ أَمِ ٱلۡأُنثَيَيۡنِ أَمَّا ٱشۡتَمَلَتۡ عَلَيۡهِ أَرۡحَامُ ٱلۡأُنثَيَيۡنِۖ أَمۡ كُنتُمۡ شُهَدَآءَ إِذۡ وَصَّىٰكُمُ ٱللَّهُ بِهَٰذَاۚ فَمَنۡ أَظۡلَمُ مِمَّنِ ٱفۡتَرَىٰ عَلَى ٱللَّهِ كَذِبٗا لِّيُضِلَّ ٱلنَّاسَ بِغَيۡرِ عِلۡمٍۚ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يَهۡدِي ٱلۡقَوۡمَ ٱلظَّٰلِمِينَ﴾

[الأنعام: 144]

’’اور اونٹ (کی جنس) میں سے دو اور گائے (کی جنس)میں دو،(ان سے) کہو کہ کیا اُس نے دونوں نر حرام کیے یا دونوں مادائیں یا وہ (بچے) جو اِن ماداؤں کے رحموں میں ہیں۔ کیا تم اس وقت موجود تھے جب اللہ نے یہ حکم دیا تھا۔ پھر اُس سے بڑا ظالم کون ہو گا جو اللہ پر جھوٹ باندھے تاکہ بغیر علم کے لوگوں کو گمراہ کرے۔ یقیناً اللہ ظالم لوگوں کو سیدھی راہ نہیں دکھاتا ‘‘۔

عَنْ سَعِيدِ بْنِ المُسَيِّبِ، قَالَ: ” البَحِيرَةُ: الَّتِي يُمْنَعُ دَرُّهَا لِلطَّوَاغِيتِ، فَلاَ يَحْلُبُهَا أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ، وَالسَّائِبَةُ: كَانُوا يُسَيِّبُونَهَا لِآلِهَتِهِمْ لاَ يُحْمَلُ عَلَيْهَا شَيْءٌ ” قَالَ: وَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «رَأَيْتُ عَمْرَو بْنَ عَامِرٍ الخُزَاعِيَّ يَجُرُّ قُصْبَهُ فِي النَّارِ، كَانَ أَوَّلَ مَنْ سَيَّبَ السَّوَائِبَ» وَالوَصِيلَةُ: النَّاقَةُ [ص:55] البِكْرُ، تُبَكِّرُ فِي أَوَّلِ نِتَاجِ الإِبِلِ، ثُمَّ تُثَنِّي بَعْدُ بِأُنْثَى، وَكَانُوا يُسَيِّبُونَهَا لِطَوَاغِيتِهِمْ، إِنْ وَصَلَتْ إِحْدَاهُمَا بِالأُخْرَى لَيْسَ بَيْنَهُمَا ذَكَرٌ، وَالحَامِ: فَحْلُ الإِبِلِ يَضْرِبُ الضِّرَابَ المَعْدُودَ، فَإِذَا قَضَى ضِرَابَهُ وَدَعُوهُ لِلطَّوَاغِيتِ، وَأَعْفَوْهُ مِنَ الحَمْلِ، فَلَمْ يُحْمَلْ عَلَيْهِ شَيْءٌ وَسَمَّوْهُ الحَامِيَ

( بخاری، کتاب تفسیر القرآن ، بَابُ {مَا جَعَلَ اللَّهُ مِنْ بَحِيرَةٍ وَلاَ سَائِبَةٍ، وَلاَ وَصِيلَةٍ وَلاَ حَامٍ )

’’سعید بن مسیّب روایت کرتے ہیں انھوں نے بیان کیا کہ بحیرہ اس اونٹنی کو کہا جاتا ہے جس کو کفار کسی طاغوت کی نذر کرکے آزاد چھوڑ دیتے تھے اور اس کا دودھ نہ دوہتے تھے اور سائبہ وہ اونٹنی ہےجووہ ان کے الٰہوں  کی نذر کی جاتی اور جس پر کوئی سواری نہ کی جاتی تھی اور نہ اس سے کوئی کام لیتے تھے ابن مسیّب کا بیان ہے کہ ابوہریرہؓ نے کہا کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا کہ میں نے عمرو بن عامرخزاعی کو دوزخ میں جلتے ہوئے دیکھا اس کی انتڑیاں باہر نکلی ہوئی تھیں اور وہ ان کو گھسیٹتا تھا یہ وہ آدمی ہے جس نے سب سے پہلے بتوں کے نام پر اونٹنی کو چھوڑا تھا اور وصیلہ اس اونٹنی کو کہتے ہیں جو پہلی اور دوسری مرتبہ میں مادہ جنے اور اس کو بت کے نام پر چھوڑ دیا جائے (یعنی متصل دو دفعہ مادہ جنے) جن کے درمیان نر نہ ہو اور حام اس اونٹ کو کہتے ہیں جس کیلئے کفار کہتے تھے کہ اگر اس سے ہماری اونٹنی کے دس یا بیس (مقررہ تعداد) بچے پیدا ہوں تو ہمارے لیے ہوں گے اور اگر زائد ہوں تو ہمارے بتوں کے لیے ہوں گے پھر جو زائد ہوتے ہیں ان کو بتوں کے نام پر چھوڑ دیتے اور اس سے کچھ کام نہیں لیا کرتے تھے ‘‘۔

قرآن و حدیث سے واضح ہوا کہ وہ اپنے الٰہوں کے نام کی نذر و نیاز کیا کرتے تھے۔

اپنی امت کے لئے نبی ﷺ کا فرمان :

حَدَّثَنِي جُنْدَبٌ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ أَنْ يَمُوتَ بِخَمْسٍ أَلَا وَإِنَّ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ كَانُوا يَتَّخِذُونَ قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ وَصَالِحِيهِمْ مَسَاجِدَ، أَلَا فَلَا تَتَّخِذُوا الْقُبُورَ مَسَاجِدَ، إِنِّي أَنْهَاكُمْ عَنْ ذَلِكَ»

( مسلم ، کتاب المساجد و مواضع الصلاۃ ، بَابُ النَّهْيِ عَنْ بِنَاءِ الْمَسَاجِدِ، عَلَى الْقُبُورِ وَاتِّخَاذِ الصُّوَرِ فِيهَا وَالنَّهْيِ عَنِ اتِّخَاذِ الْقُبُورِ مَسَاجِدَ )

’’جندب ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے آپ  کی وفات  سے پانچ دن پہلے سناکہ تم سے پہلے لوگوں نے اپنے نبیوں اور نیک لوگوں کی قبروں کو عبادت گاہ بنا لیا تھا تم قبروں کو عبادت گاہ نہ بنانا میں تمہیں اس سے منع کرتا ہوں‘‘۔

ایسے ہی معاملات کی بیخ کنی کے لئے نبی ﷺ نے  سب سے پہلے قبروں کی زیارت سے منع فرما  یا لیکن بعد میں اس کی اجازت دی۔عبد اللہ بن بریدہ ؓ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا :

نَهَيْتُكُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ، فَزُورُوهَا

(فِي أَوَّلِ الْإِسْلَامِ، وَبَيَانِ نَسْخِهِ وَإِبَاحَتِهِ إِلَى مَتَى شَاءَ )

’’ میں نے تمہیں قبروں کی زیارت کرنے سے منع کیا تھا تو اب تم قبروں کی زیارت کرلیا کرو‘‘۔

دوسری روایات میں قبروں کی زیارت کی وجہ بھی ملتی ہے:

فَزُورُوا الْقُبُورَ فَإِنَّهَا تُذَكِّرُ الْمَوْتَ»

(مسلم كِتَابُ الْجَنَائِزِ بَابُ اسْتِئْذَانِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي زِيَارَةِ قَبْرِ أُمِّهِ)

’’پس قبور کی زیارت کیا کرو کیونکہ وہ تمہیں موت یاد کراتی ہیں‘‘۔

گویا قبروں پر جانے کی اجازت صرف اس لئے دی گئی تھی کہ انسان کو وہاں جا کر اپنی موت یاد آئے۔

قبر کے بارے میں نبی ﷺ کے فرامین:

عَنْ أَبِي الْهَيَّاجِ الْأَسَدِيِّ، قَالَ: قَالَ لِي عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ: أَلَا أَبْعَثُكَ عَلَى مَا بَعَثَنِي عَلَيْهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ «أَنْ لَا تَدَعَ تِمْثَالًا إِلَّا طَمَسْتَهُ وَلَا قَبْرًا مُشْرِفًا إِلَّا سَوَّيْتَهُ»

( مسلم ، کتاب الجنائز۔ بَابُ الْأَمْرِ بِتَسْوِيَةِ الْقَبْرِ )

’’ ابو لہیاج اسدی  ( حيان بن الحصين) روایت کرتے ہیں کہ علیؓ نے فرمایا : کیا میں تمہیں اس کام کے لئے نہ بھیجوں کہ جس کام کے لئے نبی ﷺ نے مجھے بھیجا تھا ، کہ  کسی تصویرکو مٹائے بغیر نہ چھوڑوں اور قبر کو  زمین کے برابر کردوں ‘‘۔

أَنَّ ثُمَامَةَ بْنَ شُفَيٍّ، حَدَّثَهُ قَالَ: كُنَّا مَعَ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ بِأَرْضِ الرُّومِ بِرُودِسَ، فَتُوُفِّيَ صَاحِبٌ لَنَا، فَأَمَرَ فَضَالَةُ بْنُ عُبَيْدٍ بِقَبْرِهِ فَسُوِّيَ، ثُمَّ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَأْمُرُ بِتَسْوِيَتِهَا»

( مسلم ، کتاب الجنائز۔ بَابُ الْأَمْرِ بِتَسْوِيَةِ الْقَبْرِ )

’’ ثمامہ بن شقی کہتے ہیں کہ ہم روم میں فضالۃ بن عبید ؓ کیساتھ تھے، ہمارے ایک ساتھی کی وفات ہو گئی، تو فضالہؓ نے ہمیں حکم دیا کہ  قبر ( زمین کے ) برابر کردی جائے اور فرمایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو حکم دیتے ہوئے سنا زمین کے برابر کردینے کا ‘‘۔

عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: «نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُجَصَّصَ الْقَبْرُ، وَأَنْ يُقْعَدَ عَلَيْهِ، وَأَنْ يُبْنَى عَلَيْهِ»

( مسلم کتاب الجنائز )

’’جابر ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے منع فرمایا ہے  کہ قبر کو پکا کیا جائے، اس پر ( مجاور بنکر ) بیٹھا جائے، اور اس پر کوئی عمارت بنائی جائے۔‘‘

ایک طرف تو نبی ﷺ نے سب سے پہلے مسلمین کو  قبروں پر جانے سے منع کردیا ، پھر اجازت دی بھی تو اس لئے کہ انسان کو وہاں جانے سے اسے اپنی موت یاد آئے کہ میرا انجام کیا ہونا ہے اور اس سے اس کے دل میں دنیا سے بے رغبتی پیدا ہو، اور دوسرے طرف نبی ﷺ نے یہود و نصاریٰ کے طرز عمل کے خلاف قبر کو پکا  کرنے ، اس پر کسی قسم کی کوئی عمارت بنانے ،اس پر مجاور بن کر بیٹھنے سے منع فرمایا بلکہ قبر کو زمین کے برابر کرنے کا حکم دیا ۔ یعنی نبی ﷺ قبر سے وابستہ ہر قسم کی محبت اور عقائد کو ختم  کردینا چاہتے تھے۔ الحمد للہ صحابہ کرام ؓ نے رسول اللہ ﷺ کے فرامین پر عمل کیا اور قبر پرستی کے شرک سے دور رہے۔نبی ﷺ نے اس بات کو بھی بیان کیا تھا کہ ان کی امت بھی یہود و نصاریٰ کے نقش قدم پر چلے گی :

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «لَتَتَّبِعُنَّ سَنَنَ مَنْ قَبْلَكُمْ شِبْرًا بِشِبْرٍ، وَذِرَاعًا بِذِرَاعٍ، حَتَّى لَوْ سَلَكُوا جُحْرَ ضَبٍّ لَسَلَكْتُمُوهُ»، قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ: اليَهُودَ، وَالنَّصَارَى قَالَ: «فَمَنْ»

( بخاری ،  کتاب الاحادیث الانبیاء ، بَابُ مَا ذُكِرَ عَنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ )

’’ابوسعید ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا تم لوگ اپنے سے پہلے لوگوں کی لازمی پیروی کرو گے ،ایک ایک بالشت اور ایک ایک گز (یعنی ذرا سا بھی فرق نہ ہوگا) حتیٰ کہ اگر وہ لوگ کسی گوہ کے سوراخ میں داخل ہوئے ہوں گے تو تم بھی داخل ہو گے ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ یہود و نصاری کی ؟آپ نے فرمایا پھر اور کون ۔‘‘

چنانچہ بعد میں بالکل ایسا ہی ہوا جیسا کہ اس سے قبل یہود و نصاریٰ کا عمل تھا۔ اس مضمون کی ابتداء ہی میں ہم نے بتایا کہ کس طرح ان مُردوں کو زندہ سمجھ کر  اللہ تعالیٰ کی صفات ،حقوق و اختیارات میں شریک کیا جا رہا ہے ۔ یہ مر جانے والا تو اب قیامت تک کےلئے مردہ ہے :

﴿ثُمَّ إِنَّكُمْ بَعْدَ ذَلِكَ لَمَيِّتُونَ؁ ثُمَّ إِنَّكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ تُبْعَثُونَ؁﴾

[المؤمنون: 15-16]

’’ پھر اس ( زندگی) کے بعد تمہیں موت آجاتی ہے ، پھر تم قیامت کے دن اٹھائے جاؤگے ‘‘

مرتے ہی انسان کا مٹی سے بنا یہ جسم تو بے شعور ہو جاتا ہے :

﴿أَمْوَاتٌ غَيْرُ أَحْيَاءٍ  وَمَا يَشْعُرُونَ أَيَّانَ يُبْعَثُونَ﴾

[النحل: 21]

’’مردہ ہیں زندگی کی رمق نہیں، اور نہیں شعور رکھتے کہ کب اٹھائے جائیں گے‘‘۔

اور پھر رفتہ رفتہ  اس کی لاش  گل سڑ جاتی اور مٹی میں ملکر مٹی بن جاتی ہے  :

نبی ﷺ نے فرمایا:

«كُلُّ ابْنِ آدَمَ يَأْكُلُهُ التُّرَابُ، إِلَّا عَجْبَ الذَّنَبِ مِنْهُ، خُلِقَ وَفِيهِ يُرَكَّبُ»

(صحیح  مسلم: کتاب الفتن و اشراط ساعۃ۔ بَابُ مَا بَيْنَ النَّفْخَتَيْنِ)

ہر ابن آدم  کو مٹی کھا جاتی ہے سوائے عجب الذنب کے، اسی پر اسے پہلے بنایا گیا تھا اور اسی پردوبارہ بنایا جائیگا۔“

اور قرآن میں اللہ تعالیٰ نے یہ بھی بتایا ہے کہ مٹی کے جسموں کو کھانےکے پورے عمل سے بھی پروردگار لمحہ بہ لمحہ آگاہ ہوتا ہے۔

﴿قَدْ عَلِمْنَا مَا تَنْقُصُ الْأَرْضُ مِنْهُمْ  وَعِنْدَنَا كِتَابٌ حَفِيظٌ﴾

[ق: 4]

”مٹی انکے جسموں سے جو کھا رہی ہے وہ ہمارے علم میں ہے۔“

نبی ﷺ نے مزید فرمایا :

۔ ۔ ۔  «ثُمَّ يُنْزِلُ اللَّهُ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَيَنْبُتُونَ كَمَا يَنْبُتُ البَقْلُ، لَيْسَ مِنَ الإِنْسَانِ شَيْءٌ إِلَّا يَبْلَى، إِلَّا عَظْمًا وَاحِدًا وَهُوَ عَجْبُ الذَّنَبِ، وَمِنْهُ يُرَكَّبُ الخَلْقُ يَوْمَ القِيَامَةِ»

(صحیح البخاری: کتاب تفسیر القرآن، بَابُ {يَوْمَ يُنْفَخُ فِي الصُّورِ فَتَأْتُونَ أَفْوَاجًا} [النبأ: 18]: زُمَرًا)

’’۔ ۔ ۔ پھر (   اس وقفہ کے بعد)  اللہ تعالی آسمان سے بارش برسائے گا اور لوگ اس سے ایسے اُگ پڑینگے جیسے سبزہ اُگتا ہے۔ انسان کے جسم کی کوئی چیز ایسی نہیں ہے جو برباد نہ ہو جائے سوا ئے”عجب الذنب‘‘ کے اور اسی پر انسانی جسم کو قیامت کے دن پھر بنایا جائے گا“۔

اب جب یہ جسم ہی نہ رہا تو یہ سننے گا کہاں  سے ،  دیکھے گا کہاں سے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :

﴿إِنَّ ٱلَّذِينَ تَدۡعُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِ عِبَادٌ أَمۡثَالُكُمۡۖ فَٱدۡعُوهُمۡ فَلۡيَسۡتَجِيبُواْ لَكُمۡ إِن كُنتُمۡ صَٰدِقِينَ﴾

[الأعراف: 194]

’’  اے لوگو  ! اللہ کے سوا جنہیں تم پکارتے ہو  وہ یقیناً تم ہی جیسے بندے ہیں ، انہیں پکار دیکھو ،  یہ تمہاری پکار کا جواب تو دیں ؟  اگر تم انہیں پکارنے میں حق بجانب ہو ‘‘۔

﴿أَلَهُمۡ أَرۡجُلٞ يَمۡشُونَ بِهَآۖ أَمۡ لَهُمۡ أَيۡدٖ يَبۡطِشُونَ بِهَآۖ أَمۡ لَهُمۡ أَعۡيُنٞ يُبۡصِرُونَ بِهَآۖ أَمۡ لَهُمۡ ءَاذَانٞ يَسۡمَعُونَ بِهَاۗ قُلِ ٱدۡعُواْ شُرَكَآءَكُمۡ ثُمَّ كِيدُونِ فَلَا تُنظِرُونِ﴾

[الأعراف: 195]

’’ کیا ان کے پاؤں  ہیں جن سے یہ چل سکیں  یا ان کے ہاتھ ہیں جن سے یہ پکڑ سکیں ، یا ان کی آنکھیں ہیں جن سے یہ دیکھ سکیں، اور کان ہیں جن سے یہ سن سکیں  ان سے کہدو کہ اپنے بنائے ہوئے تمام شریکوں کو بلا لو  اور پھر سب ملکر میرے خلاف کوئی  چال چل دیکھو  اور مجھے مہلت نہ دو ‘‘۔

اس امت میں دوبارہ قبر پرستی کیسے  آگئی:

کتاب اللہ کی بات واضح  ہے  کہ انسان کی موت کے وقت اس کے جسم سے روح نکال لی جاتی ہے ، یہ جسم بے شعور ہو جاتا ہے اور رفتہ رفتہ گل سڑ کر مٹی میں ملکر مٹی بن جاتا ہے۔ سورہ زمر آیت  ۴۲ میں اللہ تعالیٰ نے اس بات کو واضح کردیا کہ مرنے والے کی روح روک لی جاتی ہے اور سورہ ٔالمومنوں کی آیت نمبر  ۱۰۰  میں یہ بتادیا گیا کہ اب روح اور اس دنیا کے درمیان  برزخ ( ایک آڑ ) ہے ۔ یعنی یہ روح اب قیامت سے قبل اس دنیا، اس مردہ جسم میں نہیں آسکتی۔ لیکن احمد بن حنبل نے عقیدہ دیا:

۔۔۔وأن اللَّه كلم مُوسَى تكليما وأتخذ إِبْرَاهِيم خليلا الصراط حق والميزان حق والأنبياء حق وَعِيسَى بْن مريم رَسُول اللَّهِ وكلمته والإيمان بالحوض والشفاعة والإيمان بمنكر ونكير وعذاب القبر والإيمان بملك الموت يقبض الأرواح ثم ترد فِي الإجساد فِي القبور فيسألون عَنِ الإيمان والتوحيد۔۔۔ )طبقات حنابلہ: جلد 1؛ باب المیم؛ ذکر مفارید حرف المیم و مثانیھا؛ مسدد بن مسرھد بن مسریل البصری حدث عن ابی سعید یحیی بن سعید القطان و بشر؛ صفحہ 342-345 الناشر: دار المعرفة – بيروت) ’’۔۔۔اور اللہ نے موسیٰ سے کلام کیا، اور ابراہیم کو اپنا خلیل بنایا، صراط حق ہے، اور میزان حق ہے، انبیاء حق ہیں، اور عیسیٰ ابن مریم رسول اللہ اور کلمۃ اللہ ہیں، اور حوض پر ایمان لانا، اور شفاعۃ پر، اور منکر نکیر پر، اور عذاب قبر پر، اور اس بات پر ایمان لانا کہ جب ملک الموت روحوں کو قبض کرتے ہیں پھر ان کو جسموں میں واپس لوٹا دیتے ہیں، پھر اُن سے ایمان اور توحید کے بارے میں سوال کیا جاتا ہے۔۔۔‘‘

یہ عقیدہ آج بھی  سعودی حکومت کی طرف سے شائع کی جانے  کتاب الصلوٰۃ میں باقاعدگی سے چھپتا ہے۔

اسی سلسلے کے ابن تیمیہ  فرما گئے ہیں :

فَهَذِهِ النُّصُوصُ وَأَمْثَالُهَا تُبَيِّنُ أَنَّ الْمَيِّتَ يَسْمَعُ فِي الْجُمْلَةِ كَلَامَ الْحَيِّ وَلَا يَجِبُ أَنْ يَكُونَ السَّمْعُ لَهُ دَائِمًا ، بَلْ قَدْ يَسْمَعُ فِي حَالٍ دُونَ حَالٍ كَمَا قَدْ يُعْرَضُ لِلْحَيِّ فَإِنَّهُ قَدْ يَسْمَعُ أَحْيَانًا خِطَابَ مَنْ يُخَاطِبُهُ ، وَقَدْ لَا يَسْمَعُ لِعَارِضٍ يَعْرِضُ لَهُ ، وَهَذَا السَّمْعُ سَمْعُ إدْرَاكٍ ، لَيْسَ يَتَرَتَّبُ عَلَيْهِ جَزَاءٌ ، وَلَا هُوَ السَّمْعُ الْمَنْفِيُّ بِقَوْلِهِ  { إنَّك لَا تُسْمِعُ (  ابن تیمیہ ،  فتویٰ الکبریٰ ، جزء 3، صفحہ 412 )’’پس یہ نصوص اور اس طرح کی امثال واضح کرتی ہیں کہ بے شک میّت زندہ کا کلام سنتی ہے اور یہ واجب نہیں آتا کہ یہ سننا دائمی ہو بلکہ یہ سنتی ہے حسب حال جیسے  زندہ سے پیش آتا ہے پس بے شک کبھی کبھی یہ سنتی ہے مخاطب کرنے والے کا خطا ب، .. اور یہ سننا ادراک کے ساتھ ہے  اور یہ سننا الله کے قول  { إنَّك لَا تُسْمِعُ الْمَوْتَى}  کے منافی نہیں جس سے مراد قبروں اور الِامْتِثَالِ  (تمثیلوں) کاسننا ہے.‘‘

مزید فرمایا:

“مشہور اور مستفیض احادیث سے ثابت ہے کہ مردہ اپنے اہل و عیال اور دوستوں کے اعمال کو جانتا ہے جو ان کو دنیا میں پیش آتے ہیں۔اور یہ حالات اس پر پیش کیے جاتے ہیں اور احادیث میں یہ بھی آتا ہے کہ وہ دیکھتا بھی ہے اور جو کچھ اس کے پاس کیا جاتا ہے اسکو جانتا بھی ہے۔اگر وہ کاروائی اچھی ہو تو اس سے خوش ہوتا ہے اگر وہ بری ہو تو اس کو اس سے رنج پہنچتا ہے اور مردوں کو روحیں اجتماعات بھی کرتی ہیں۔لیکن صرف اعلی روحیں ادنی کی طرف نازل ہوتی ہیں اس کے برعکس کی نہیں۔{الفتاوی الکبری:ابن تیمیہ،جلد 4،صفحہ 446/447}

اسی مسلک کے  ابن قیم فرماتے ہیں:

“… بَلْ تُعَادُالرُّوْحُ اِلَیْهِ اِعَادَۃً غَیْرَ اِعَادَةِ الْمِاْلُوْفَةِ فِي الدُّنْيَا يُسْئَلُ وَيُمْتَحَنُ فِيْ قَبْرِه فَهٰذَا حَقُّ وَنَفْيِهِ خَطَاٌ….” “… جس میں روح بدن کی طرف لوٹائی جائے لیکن یہ اعادہ دنیا کی معہ ود زندگی کے اعادہ کے علاوہ ہو تا کہ قبر میں اس سے سوال اور امتحان ہو سکے تو ایسی حیات حق ہے اور اس کی نفی غلط ۔۔۔۔”(کتاب الروح صفحہ ٥٢، ابن قیم ، بحوالہ تسکین الصدور صفحہ ١٢٧)

دیوبندی عالم سرفراز خان صاحب اپی کتاب میں ابن قیم کا حوالہ دیتے ہیں :

ترجمہ: تحقیق کہ آنحضرتٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے  اپنے  امتیوں کے لیئے یہ مشروع قرار دیا ہے کہ وہ جب اہل قبور کو سلام کریں تو ان  سےایسے انداز سے سلام کریں جیسے مخاطب سے کیا جاتا ہے اور یہ خطاب ان سے ہے جو سنتے اور سمجھتے ہیں اگر ایسا نہ ہوتا تو یہ خطاب معدوم اور جماعت سے ہوتا حالانکہ سلف صالحین کا اسی پر اجماع ہے اور تواتر کے ساتھ ان سے یہ خبریں منقول ہیں کہ مردہ اس زندہ کو آواز سے پہچانتا ہے جو اس کی زیارت کے لیئے آتا ہے اور مردہ کو اس سے خوشی بھی ہوتی ہے۔.(ترجمہ مولانا سرفراز خان صفدر ،کتاب روح مولف ابن قیم حنبلی صفہ 5)

قرآن و حدیث کے مقابلے میں دئیے گئے ایسے ہی عقائد تھے کہ قبر میں مدفون وہ  مردہ جسے اللہ کی کتاب نے قیامت تک کے لئے مردہ قرار دیا تھا  وہ روح لوٹائے جانے کے  من گھڑت عقیدے کے بعد  یہ زندہ سمجھا جانے لگا۔ بات صرف سوال و جواب تک محدود نہ تھی بلکہ بتایا گیا کہ یہ قبر کا مردہ  اپنی قبر پرآنے والے کی آواز بھی پہچانتا ہے۔  آواز ہی نہیں پہنچانتا بلکہ ابن تیمیہ نے بتایا کہ وہ اپنے اہل و عیال  اور دوستوں کے دنیاوی اعمال بھی جانتا ہے۔ اپنی  قبر پر آنے والوں کو دیکھتا بھی ہے اور ان کے اعمال کی وجہ سے خوش  اور غمزدہ بھی ہوتا ہے۔

ایک طرف کتاب اللہ  ہے اور دوسری طرف کتب علماء ہیں۔  فرقوں کے علماء نے لوگوں سے کہا کہ تم قرآن  نہیں سمجھ سکتے بس طوطے کی طرح قرآن  پڑھتے رہو۔افسوس کہ  یہ کلمہ قرآن و حدیث سے دور ہوگیا اور اسے پھر فرقے کی کتب پڑھنے کو دی گئیں۔ قرآن کی جگہ  ’’ فضائل اعمال ‘‘ ، ’’ فیضان مدینہ ‘‘، ’’ فتویٰ نذریہ ‘‘ و دیگر کتب  نے لے لی، اسلام کے بجائے فرقہ پڑھا دیا گیا اور  یوں کلمہ گو مسلم سے فرقہ پرست بن گیا۔پھر یہ امت یہود و نصاریٰ کے نقش پر چلنے لگی۔ قبریں زمین سے بلند کی جانے لگیں، کچی قبریں پکی ہونے لگیں۔پھر مزار بنے انہیں ’’ روضے ‘‘ اور ’’ دربار ‘‘ کا نام دیا گیا ۔ آج  انہی کے نام کی جے جے کار ہے، انہیں زندہ سمجھ کر پکارا جا رہا ہے ان کی قبریں عبادت گاہیں بنا دی گئی ہیں۔  اللہ تعالیٰ کی صفات میں انہیں شریک  کردیا گیا ہے، کسی کو داتا  کا لقب دیا گیا تو کوئی غوث الاعظم کہلایا ہے، کوئی قسمتیں کھری کرنے والا سمجھا گیا ہے تو غریب نواز کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ کوئی ان سے رزق کا سوال کرتا ہے ، کوئی صحت کا اور کوئی اولاد مانگتا ہے ۔ رب کائنات نے فرما دیا :

يٰٓاَيُّہَا النَّاسُ ضُرِبَ مَثَلٌ فَاسْتَمِعُوْا لَہٗ۰ۭ اِنَّ الَّذِيْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللہِ لَنْ يَّخْلُقُوْا ذُبَابًا وَّلَوِ اجْتَمَعُوْا لَہٗ۰ۭ وَاِنْ يَّسْلُبْہُمُ الذُّبَابُ شَـيْـــــًٔـا لَّا يَسْتَنْقِذُوْہُ مِنْہُ ۰ۭ ضَعُفَ الطَّالِبُ وَالْمَطْلُوْبُ۝۷۳

( الحج : 73)

 

’’لوگو، ایک مثال دی جاتی ہے، غور سے سنو۔ جنہیں تم اللہ کے علاوہ پکارتے ہو وہ سب مل کر بھی ایک مکھی پیدا نہیں کرسکتے۔ بلکہ اگر مکھی ان سے کوئی چیز چھین لے جائے تو وہ اسے چھڑا بھی نہیں سکتے۔ مدد چاہنے والے بھی کمزور اور جن سے مدد چاہی جاتی ہے وہ بھی کمزور۔‘‘

کتنے کمزور ہیں یہ مانگنے والے اور  کتنی کمزور ہیں جن سے  مانگا جا رہا ہے۔

Categories
Uncategorized

اللہ کے علاوہ کسی اور کو عالم الغیب سمجھنا شرک ہے۔

‘‘ غیب ‘‘ چھپی ہوئی چیز کو کہتے ہیں۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے ہمارے جسم کو جو خصوصیات ( حواس خمسہ ) دی ہیں ان کو بروئےکار لاتے ہوئے ہم کچھ بھی معلوم کرسکیں اس کے علاوہ سب کچھ ہمارے لئے غیب ہے۔خیر اب اللہ تعالیٰ نے انسان کو ایسی ٹیکنالوجی سے نواز دیا ہے کہ وہ بڑی بڑی دوربینوں یا کیمروں کے مدد سے دور دور کی چیزیں یا سمندر کی گہرائی میں موجود مخلوقات کوبھی دیکھنے لگے ہیں، اسی طرح ایکسرے یا الٹرا ساؤنڈ کے ذریعے جسم کے اندر کے اعضاء کا کچھ حال بھی معلوم کرلیتے ہیں۔ یہ سارا معاملہ ماتحت الاسباب یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ اسباب کے ذریعے ہوتا ہے۔

اس کے برعکس مافوق الاسباب، یعنی کسی تخلیق شدہ چیز کی مدد کے بغیر کسی چیز کو دیکھ لینا، اس کا حال جان لینا ’’ علم الغیب ‘‘ کہلاتا ہے اور اس کاعلم رکھنے والا ’’ عالم الغیب ‘‘ کہلاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کائنات کی ہر ہر چیز کا خالق ہے تو ظاہر ہے اس سے کوئی چیز چھپ ہی نہیں سکتی، اور وہ ہی عالم الغیب ہے ۔لیکن افسوس کہ قرآن و حدیث سے دوری کی وجہ سے اس امت میں ایسےگمراہ کن عقائد آ گئے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ دوسرے بھی ’’ عالم الغیب ‘‘ سمجھے جاتے ہیں۔ گویا جو اللہ تعالیٰ کی صفت ہے اس کی مخلوق بھی اسی صفت کی حامل ہے اور یہ عقیدہ ’’ شرک فی الصفات ‘‘ ہے۔

یہ مضمون اسی جذبے کی تحت لکھا جا رہا ہے کہ فرقہ پرست مولوی ، مفتی اور پیر صاحبان نے اس عقیدے کے حوالے سے امت میں جو گمراہی پھیلائی ہے اس کا سدباب کیا جا سکے اور کلمہ گو اس بارے میں حقیقت جان کر اس شرکیہ عقیدے سے بچ سکے ۔

عالم الغیب صرف اللہ تعالیٰ کی صفت ہے :

﴿۞وَعِندَهُۥ مَفَاتِحُ ٱلۡغَيۡبِ لَا يَعۡلَمُهَآ إِلَّا هُوَۚ وَيَعۡلَمُ مَا فِي ٱلۡبَرِّ وَٱلۡبَحۡرِۚ وَمَا تَسۡقُطُ مِن وَرَقَةٍ إِلَّا يَعۡلَمُهَا وَلَا حَبَّةٖ فِي ظُلُمَٰتِ ٱلۡأَرۡضِ وَلَا رَطۡبٖ وَلَا يَابِسٍ إِلَّا فِي كِتَٰبٖ مُّبِينٖ﴾

[الأنعام: 59]

’’ اور غیب کی کنجیاں اُس کے پاس ہیں،اُن کو اُس کے سوا کوئی نہیں جانتا اور بر و بحر میں جو کچھ بھی ہے وہ اُسے جانتا ہے۔ اور کوئی پتا نہیں گرتا مگر اُسے اُس کا علم ہوتا ہے، اور زمین کے اندھیروں میں کوئی دانہ ہو یا کوئی تر یا خشک چیز سب ایک کھلی کتاب میں موجود ہے ‘‘۔

﴿۔ ۔ ۔ ۔ ۔عَٰلِمُ ٱلۡغَيۡبِ وَٱلشَّهَٰدَةِۚ وَهُوَ ٱلۡحَكِيمُ ٱلۡخَبِيرُ﴾

[الأنعام: 73]

’’۔ ۔ ۔ اور وہ پوشیدہ اور ظاہر سب کا جاننے والا ہے، وہ انتہائی دانا اور خوب باخبر ہے ‘‘۔

﴿أَلَمۡ يَعۡلَمُوٓاْ أَنَّ ٱللَّهَ يَعۡلَمُ سِرَّهُمۡ وَنَجۡوَىٰهُمۡ وَأَنَّ ٱللَّهَ عَلَّٰمُ ٱلۡغُيُوبِ﴾

[التوبة: 78]

’’ کیا انہیں معلوم نہیں کہ اللہ ان کے پوشیدہ امور اور سرگوشیوں تک سے آگاہ ہے اور یہ کہ اللہ غیب کا جاننے والا ہے ‘‘۔

﴿قُل لَّا يَعۡلَمُ مَن فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِ ٱلۡغَيۡبَ إِلَّا ٱللَّهُۚ وَمَا يَشۡعُرُونَ أَيَّانَ يُبۡعَثُونَ﴾

[النمل: 65]

’’ کہہ دیجیے، اللہ کے سوا آسمانوں اور زمین میں کوئی غیب کا علم نہیں رکھتا اور وہ یہ بھی نہیں جانتے کہ وہ کب اٹھائے جائیں گے ‘‘۔

﴿إِنَّ ٱللَّهَ عِندَهُۥ عِلۡمُ ٱلسَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ ٱلۡغَيۡثَ وَيَعۡلَمُ مَا فِي ٱلۡأَرۡحَامِۖ وَمَا تَدۡرِي نَفۡسٞ مَّاذَا تَكۡسِبُ غَدٗاۖ وَمَا تَدۡرِي نَفۡسُۢ بِأَيِّ أَرۡضٖ تَمُوتُۚ إِنَّ ٱللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرُۢ﴾

[لقمان: 34]

’’ بیشک قیامت کا علم اللہ ہی کے پاس ہے، اور وہی بارش اتارتا ہے اور وہ جانتا ہے جو کچھ رحموں میں پلتا ہے اور کوئی متنفس نہیں جانتا کہ کل وہ کیا کمائی کرے گا اور نہ کسی شخص کو یہ خبر ہے کہ وہ کس زمین میں مرے گا، بیشک اللہ ہی سب کچھ جاننے والا اور باخبر ہے ‘‘

﴿إِنَّ ٱللَّهَ عَٰلِمُ غَيۡبِ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِۚ إِنَّهُۥ عَلِيمُۢ بِذَاتِ ٱلصُّدُورِ﴾

[فاطر: 38]

’’ بیشک اللہ ہی آسمانوں اور زمین کی پوشیدہ باتوں کا جاننے والا ہے، وہ توسینوں کے بھیدوں تک سے واقف ہے ‘‘۔

قرآن مجید کی ان آیات سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ’’ عالم الغیب ‘‘ صرف اور صرف تنہا اللہ تعالیٰ ہی کی ذات ہے ،اس کی ساری مخلوق میں کوئی بھی عالم الغیب نہیں۔

اللہ تعالیٰ رسولوں کو غیب کی اطلاع دیتا ہے :

سورہ آل عمران میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا :

﴿مَّا كَانَ ٱللَّهُ لِيَذَرَ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ عَلَىٰ مَآ أَنتُمۡ عَلَيۡهِ حَتَّىٰ يَمِيزَ ٱلۡخَبِيثَ مِنَ ٱلطَّيِّبِۗ وَمَا كَانَ ٱللَّهُ لِيُطۡلِعَكُمۡ عَلَى ٱلۡغَيۡبِ وَلَٰكِنَّ ٱللَّهَ يَجۡتَبِي مِن رُّسُلِهِۦ مَن يَشَآءُۖ فَ‍َٔامِنُواْ بِٱللَّهِ وَرُسُلِهِۦۚ وَإِن تُؤۡمِنُواْ وَتَتَّقُواْ فَلَكُمۡ أَجۡرٌ عَظِيم﴾

[آل عمران: 179]

’’ (یاد رکھو ! ) اللہ مومنوں کو اس حالت میں نہیں چھوڑنے والا جس میں کہ تم اس وقت ہو جب تک کہ وہ ناپاک ( عناصر ) کو پاک لوگوں سے الگ نہ کر دے ، اور اللہ تمہیں غیب کی باتوں سے بھی مطلع نہیں کیا کرتا ، البتہ وہ اپنے رسولوں میں جسے چاہتا ہے ( اس مقصد کے لیے ) منتخب کر لیتا ہے ، لہٰذا تم اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان رکھو اور اگر تم ایمان لاؤ اور تقویٰ کی روش اختیار کرو تو تمہارے لیے اجر عظیم ہے‘‘۔

یعنی عام افراد کو اللہ تعالیٰ غیب کی باتیں نہیں بتاتا بلکہ اپنے رسولوں میں سے جسے چاہے اور جس قدر چاہے غیب کی اطلاع دیتا ہے۔ گویا انبیاء علیہ السلام ایسی صفات کے حامل نہیں ہوتے کہ اپنے تئیں غیب کا پتہ چلالیں بلکہ اللہ انہیں غیب کی اطلاع دیتا ہے۔ فرشتوں کیساتھ بھی یہی معاملہ ہے کہ جس قدر اللہ تعالیٰ چاہتا ہے انہیں بتا دیتا ہے۔ سورہ بقرہ میں جہاں انسان کی تخلیق کا ذکر ہےوہاں اللہ تعالیٰ نے فرمایا :

﴿وَعَلَّمَ ءَادَمَ ٱلۡأَسۡمَآءَ كُلَّهَا ثُمَّ عَرَضَهُمۡ عَلَى ٱلۡمَلَٰٓئِكَةِ فَقَالَ أَنۢبِ‍ُٔونِي بِأَسۡمَآءِ هَٰٓؤُلَآءِ إِن كُنتُمۡ صَٰدِقِينَO قَالُواْ سُبۡحَٰنَكَ لَا عِلۡمَ لَنَآ إِلَّا مَا عَلَّمۡتَنَآۖ إِنَّكَ أَنتَ ٱلۡعَلِيمُ ٱلۡحَكِيمُ﴾

[البقرة: 31-32]

’’ اور اللہ نے آدم کو تمام (اشیاء کے) نام سکھائے اور پھر ان (اشیاء) کو فرشتوں کے سامنے پیش کیا اور فرمایا کہ مجھے تم ان سب کے نام بتاؤ اگر تم سچے ہو۔ انہوں نے کہا کہ تو پاک ہے ہمیں کچھ نہیں معلوم سوائے اس کے جو تو نے سکھایا ہے، اور تمام علم وحکمت والا بس تو ہی ہے‘‘۔

کیا جنات بھی عالم الغیب ہوتے ہیں ؟

﴿فَلَمَّا قَضَيۡنَا عَلَيۡهِ ٱلۡمَوۡتَ مَا دَلَّهُمۡ عَلَىٰ مَوۡتِهِۦٓ إِلَّا دَآبَّةُ ٱلۡأَرۡضِ تَأۡكُلُ مِنسَأَتَهُۥۖ فَلَمَّا خَرَّ تَبَيَّنَتِ ٱلۡجِنُّ أَن لَّوۡ كَانُواْ يَعۡلَمُونَ ٱلۡغَيۡبَ مَا لَبِثُواْ فِي ٱلۡعَذَابِ ٱلۡمُهِينِ﴾

[سبأ: 14]

’’ پھر جب ہم نے اس ( سلیمان ؑ) پر موت کا فیصلہ نافذ کردیا تو جنوں کو ان کی موت کا معلوم ہی نہیں ہوا سوائے اس گھن کے کیڑے کے جو ان کے عصا کو کھاتا رہا، سو (اس کے نتیجے میں) جب وہ گرپڑے تو جنوں پر یہ حقیقت کھل گئی کہ اگر وہ غیب کے جاننے والے ہوتے تو اس ذلت کے عذاب میں مبتلا نہ رہتے‘‘۔

کیا انبیاء علیہم السلام عالم الغیب ہوتے ہیں ؟

﴿ذَلِكَ مِنْ أَنْبَاءِ الْغَيْبِ نُوحِيهِ إِلَيْكَ وَمَا كُنْتَ لَدَيْهِمْ إِذْ يُلْقُونَ أَقْلَامَهُمْ أَيُّهُمْ يَكْفُلُ مَرْيَمَ وَمَا كُنْتَ لَدَيْهِمْ إِذْ يَخْتَصِمُونَ﴾

[آل عمران: 44]

’’یہ غیب کی خبریں ہیں جو ہم وحی کے ذریعے تمہارے پاس بھیج رہے ہیں۔ اور تم ان کے پاس نہیں تھے جب وہ ( بطور قرعہ اندازی) اپنے قلم ڈال رہے تھے ( یہ طے کرنے کے لئے) کہ مریم کا کفیل کون ہو اور تم ان کے پاس نہ تھے جب وہ جھگڑ رہے تھے‘‘۔

﴿يَوْمَ يَجْمَعُ اللَّهُ الرُّسُلَ فَيَقُولُ مَاذَا أُجِبْتُمْ قَالُوا لَا عِلْمَ لَنَا إِنَّكَ أَنْتَ عَلَّامُ الْغُيُوبِ﴾

[المائدة: 109]

’’ اس دن (کا تصور کرو) جب کہ اللہ رسولوں کو جمع کرے گا، پھر ان سے کہے گا کہ تمہیں کیا جواب ملا تھا، وہ کہیں گے ہمیں کچھ علم نہیں، پوشیدہ باتوں کا تو ہی خوب جاننے والا ہے۔ ‘‘۔

﴿قُلْ لَا أَقُولُ لَكُمْ عِنْدِي خَزَائِنُ اللَّهِ وَلَا أَعْلَمُ الْغَيْبَ وَلَا أَقُولُ لَكُمْ إِنِّي مَلَكٌ إِنْ أَتَّبِعُ إِلَّا مَا يُوحَى إِلَيَّ قُلْ هَلْ يَسْتَوِي الْأَعْمَى وَالْبَصِيرُ أَفَلَا تَتَفَكَّرُونَ﴾

[الأنعام: 50]

’’ (اےنبی ﷺان سے) کہو”میں تم سے یہ نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں، اور نہ میں غیب جانتا ہوں اور نہ میں تم سے یہ کہتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں۔ میں تو صرف اس وحی کی پیروی کرتا ہوں جو میری طرف آتی ہے۔ کہو کہ کیا نابینا اور بینا برابر ہوتے ہیں! کیا تم فکر نہیں کرتے‘‘۔

﴿يَسْأَلُونَكَ عَنِ السَّاعَةِ أَيَّانَ مُرْسَاهَا قُلْ إِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ رَبِّي لَا يُجَلِّيهَا لِوَقْتِهَا إِلَّا ۔ ۔ ﴾

[الأعراف: 187]

’’پوچھتے ہیں آپ سے قیامت کے بارے میں کہ کب ہے اس کا واقع ہونا ، کہہ دیجیے درحقیقت اس کا علم تو میرے رب کے پاس ہے نہیں ظاہر کرتا اسے اس کے وقت پر مگر ۔ ۔‘‘۔

﴿قُلْ لَا أَمْلِكُ لِنَفْسِي نَفْعًا وَلَا ضَرًّا إِلَّا مَا شَاءَ اللَّهُ وَلَوْ كُنْتُ أَعْلَمُ الْغَيْبَ لَاسْتَكْثَرْتُ مِنَ الْخَيْرِ وَمَا مَسَّنِيَ السُّوءُ إِنْ أَنَا إِلَّا نَذِيرٌ وَبَشِيرٌ لِقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ﴾

[الأعراف: 188]

’’( اے نبی ﷺ )کہہ دیجیے نہیں میں اختیار رکھتا اپنی جان کے لیے کسی نفع کا اور نہ کسی نقصان کا مگر جو اللہ چاہے اور اگر میں جانتا ہوتا غیب کو تو یقینا میں حاصل کرلیتا بہت بھلائی سے اور نہ پہنچتی مجھے کبھی کوئی تکلیف نہیں ہوں میں مگر ایک ڈرانے والا اور خوشخبری دینے والا اس قوم کے لیے جو ایمان رکھتے ہیں‘‘۔

﴿وَمِمَّنْ حَوْلَكُمْ مِنَ الْأَعْرَابِ مُنَافِقُونَ وَمِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ مَرَدُوا عَلَى النِّفَاقِ لَا تَعْلَمُهُمْ نَحْنُ نَعْلَمُهُمْ سَنُعَذِّبُهُمْ مَرَّتَيْنِ ثُمَّ يُرَدُّونَ إِلَى عَذَابٍ عَظِيمٍ﴾

[التوبة: 101]

’’اور بعض ان میں سے جو تمہارے اردگرد دیہاتیوں میں سے منافق ہیں بعض اہل مدینہ میں سے بھی جو اڑے ہوئے ہیں نفاق پر، آپ نہیں جانتے انہیں ، ہم جانتے ہیں انہیں عنقریب ہم عذاب دیں گے انہیں دو مرتبہ پھر وہ لوٹائے جائیں گے بہت بڑے عذاب کی طرف‘‘۔

﴿تِلْكَ مِنْ أَنْبَاءِ الْغَيْبِ نُوحِيهَا إِلَيْكَ مَا كُنْتَ تَعْلَمُهَا أَنْتَ وَلَا قَوْمُكَ مِنْ قَبْلِ هَذَا فَاصْبِرْ إِنَّ الْعَاقِبَةَ لِلْمُتَّقِينَ﴾

[هود: 49]

’’یہ غیب کی خبروں میں سے ہےجنہیں ہم وحی کرتے ہیں آپ کی طرف، اس سے پہلےآپ انہیں نہیں جانتے تھے اور نہ آپ کی قوم ، تو آپ صبر کریں بیشک اچھا انجام متقین کے لیے ہے‘‘۔

﴿نَحْنُ نَقُصُّ عَلَيْكَ أَحْسَنَ الْقَصَصِ بِمَا أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ هَذَا الْقُرْآنَ وَإِنْ كُنْتَ مِنْ قَبْلِهِ لَمِنَ الْغَافِلِينَ﴾

[يوسف: 3]

’’ہم بیان کر رہے ہیں تمہارے سامنے (اے نبی ﷺ) بہترین قصّہ، اسی ذریعہ سے جس سے ہم نے وحی کیا ہے تم پر یہ قرآن اور اگرچہ تھے تم اس سے پہلے بالکل بے خبر‘‘ ۔

احادیث سے نبیﷺ کے عالم الغیب نہ ہونے پر دلائل :

نبی ﷺ کی زوجہ عائشہ ؓ پر تہمت لگائی گئی اور نبی ﷺ ایک ماہ تک پریشان رہے اور لوگوں سے اپنی زوجہ کے بارے میں مشورے کرتے رہے ۔ ایک ماہ بعد جب اللہ تعالیٰ کی طرف وحی ( اطلاع غیب ) ہوئی تو انہیں ان کی زوجہ کی پاکدامنی کے بارے میں بتایا گیا۔ ( بخاری ، مسلم و دیگر کتب احادیث )۔

سوچیں اگر نبی ﷺ عالم الغیب ہوتے تو پہلے دن ہی فرما دیتے کہ یہ سب جھوٹ ہے اور عائشہ ؓ پاکدامن ہیں لیکن ایسا نہ ہوا۔

اسی طرح زعل ،ذکوان، عصیہ اور بنولحیان نے نبی ﷺ کے پاس آکر اس بات کا دعویٰ کیا کہ وہ اسلام قبول کرچکے ہیں۔ انہوں نے نبی ﷺ سے اپنی قوم کے لئے مدد کی درخواست کی۔ نبی ﷺ نے ستر ایسے صحابہ ؓ کو ان کے ساتھ بھیجا جنہیں قراء کہا جاتا تھا ۔ یہ لوگ دن میں لکڑیاں جمع کرتے تھے اور راتوں کو صلوٰۃ ادا کرتے تھے۔ جب وہ بیر معونہ کے مقام پر پہنچے تو انہوں نے ان سب صحابہ ؓ کو شہید کردیا ۔ ( بخاری و مسلم )۔

اگر نبی ﷺ عالم الغیب ہوتے تو .انہیں پہلے ہی سے خبر ہوتی کہ یہ قبائل جھوٹ بول رہے ہیں اور یہ میرے صحابہ ؓ کو لیجا کر شہید کردیں گے ۔

عائشہ ؓ فرماتی ہیں :

وَمَنْ حَدَّثَكَ أَنَّهُ يَعْلَمُ الغَيْبَ، فَقَدْ كَذَبَ، وَهُوَ يَقُولُ: لاَ يَعْلَمُ الغَيْبَ إِلَّا اللَّهُ

( بخاری ، کتاب التحید ، بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {عَالِمُ الغَيْبِ فَلاَ يُظْهِرُ عَلَى غَيْبِهِ أَحَدًا} )

’’ اور جو شخص تم سے کہے کہ آپ( ّ نبی ﷺ ) غیب جانتے ہیں تو وہ جھوٹا ہے اللہ فرماتا ہے کہ غیب کا علم اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔

أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ” إِنَّكُمْ تَخْتَصِمُونَ إِلَيَّ، وَلَعَلَّ بَعْضَكُمْ أَلْحَنُ بِحُجَّتِهِ مِنْ بَعْضٍ، فَمَنْ قَضَيْتُ لَهُ بِحَقِّ أَخِيهِ شَيْئًا، بِقَوْلِهِ: فَإِنَّمَا أَقْطَعُ لَهُ قِطْعَةً مِنَ النَّارِ فَلاَ يَأْخُذْهَا “

( بخاری ، کتاب الشھادت ، بَابُ مَنْ أَقَامَ البَيِّنَةَ بَعْدَ اليَمِينِ )

’’رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تم میرے پاس پاس مقدمہ لے کر آتے ہو اور شاید تم میں سے کوئی شخص دلیل پیش کرنے میں دوسرے سے زیادہ چست ہو اور میں اس کو اس کے بھائی کے حق میں سے اس کے کہنے کے سبب سے کچھ دلا دوں تو وہ آگ کا ٹکڑا ہے جو میں اسے دے رہا ہوں وہ اسے نہ لے‘‘۔

گویا نبی ﷺ نے فرما دیا کہ میں عالم الغیب نہیں، مجھے حقیقت کا علم نہیں ہوتا، صرف تم لوگوں کی باتیں سن کر کسی ایک کے حق میں فیصلہ دے دیتا ہوں۔

ام العلاء ؓ جنہوں نے نبی ﷺ سے بیعت کی تھی فرماتی ہیں :

أَنَّهُ اقْتُسِمَ المُهَاجِرُونَ قُرْعَةً فَطَارَ لَنَا عُثْمَانُ بْنُ مَظْعُونٍ، فَأَنْزَلْنَاهُ فِي أَبْيَاتِنَا، فَوَجِعَ وَجَعَهُ الَّذِي تُوُفِّيَ فِيهِ، فَلَمَّا تُوُفِّيَ وَغُسِّلَ وَكُفِّنَ فِي أَثْوَابِهِ، دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْكَ أَبَا السَّائِبِ، فَشَهَادَتِي عَلَيْكَ: لَقَدْ أَكْرَمَكَ اللَّهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَمَا يُدْرِيكِ أَنَّ اللَّهَ قَدْ أَكْرَمَهُ؟» فَقُلْتُ: بِأَبِي أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَمَنْ يُكْرِمُهُ اللَّهُ؟ فَقَالَ: «أَمَّا هُوَ فَقَدْ جَاءَهُ اليَقِينُ، وَاللَّهِ إِنِّي لَأَرْجُو لَهُ الخَيْرَ، وَاللَّهِ مَا أَدْرِي، وَأَنَا رَسُولُ اللَّهِ، مَا يُفْعَلُ بِي» قَالَتْ: فَوَاللَّهِ لاَ أُزَكِّي أَحَدًا بَعْدَهُ أَبَدًا حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ مِثْلَهُ. وَقَالَ نَافِعُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ عُقَيْلٍ مَا يُفْعَلُ بِهِ. وَتَابَعَهُ شُعَيْبٌ، وَعَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، وَمَعْمَرٌ

( بخاری، کتاب الجنائز ، بَابُ الدُّخُولِ عَلَى المَيِّتِ بَعْدَ المَوْتِ إِذَا أُدْرِجَ فِي أَكْفَانِهِ )

’’ کہ مہاجرین نے انصار کی تقسیم کا قرعہ ڈالا ہمارے حصہ میں عثمان بن مظعون ؓ آئے، ہم نے ان کو اپنے گھر میں اتارا اور ان کو بیماری لاحق ہوگئی جس میں انہوں نے وفات پائی اور نہلا کر کفن پہنائے گئے تو رسول اللہﷺتشریف لائے، میں نے کہا اے ابوالسائب تم پر اللہ کی رحمت ہو تمہارے متعلق میری شہادت ہے کہ اللہ نے تمہیں معزز بنایا، نبیﷺنے فرمایا کہ تمہیں کس چیز نے بتایا ؟ میں نے کہا یا رسول اللہﷺ میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں، پھر کون ہے جس کو اللہ تعالیٰ معزز بنائے گا، آپ نے فرمایا ان پر موت آئی ہے واللہ میں اس کے لیے خیر کا امیدوار ہوں واللہ میں یقین کے ساتھ نہیں جانتا ہوں حالانکہ میں اللہ کا رسول ہوں کہ میرے ساتھ کیا کیا جائے گا۔ ام

علاء ؓنے کہا کہ واللہ میں نے اس کے بعد کسی کے متعلق کبھی بھی پاک ہونے کی شہادت نہیں دی‘‘۔

خالد بن زکوان سے روایت ہے:

قَالَتِ الرُّبَيِّعُ بِنْتُ مُعَوِّذِ ابْنِ عَفْرَاءَ، جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَخَلَ حِينَ بُنِيَ عَلَيَّ، فَجَلَسَ عَلَى فِرَاشِي كَمَجْلِسِكَ مِنِّي، فَجَعَلَتْ جُوَيْرِيَاتٌ لَنَا، يَضْرِبْنَ بِالدُّفِّ وَيَنْدُبْنَ مَنْ قُتِلَ مِنْ آبَائِي يَوْمَ بَدْرٍ، إِذْ قَالَتْ إِحْدَاهُنَّ: وَفِينَا نَبِيٌّ يَعْلَمُ مَا فِي غَدٍ، فَقَالَ: «دَعِي هَذِهِ، وَقُولِي بِالَّذِي كُنْتِ تَقُولِينَ»

( بخاری ، کتاب النکاح )

’’ربیع بنت معوذ ؓ نے بتایا کہ نبی ﷺ شب زفاف کے بعد میرے گھر میں تشریف لائے اور میرے بستر پر اس طرح بیٹھ گئے جیسے تم بیٹھے ہو اس وقت کئی لڑکیاں دف بجا کر مقتولین بدر کی شان میں قصیدہ خوانی کر رہی تھیں۔ آخر ان میں ایک لڑکی یہ گانے لگی کہ ہم میں ایک ایسا نبی تشریف لایا ہے جو یہ جانتا ہے کہ کل کیا ہوگانبی ﷺنے فرمایا یہ مت کہو بلکہ جو پہلے کہہ رہی تھیں وہی کہو ‘‘۔

یعنی نبی ﷺ نے ایسی بات پسند نہیں فرمائی جس میں انہیں عالم الغیب سمجھا جائے ۔

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَضْحًى أَوْ فِطْرٍ إِلَى المُصَلَّى، ثُمَّ انْصَرَفَ، فَوَعَظَ النَّاسَ، وَأَمَرَهُمْ بِالصَّدَقَةِ، فَقَالَ: «أَيُّهَا النَّاسُ، تَصَدَّقُوا»، فَمَرَّ عَلَى النِّسَاءِ، فَقَالَ: «يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ، تَصَدَّقْنَ، فَإِنِّي رَأَيْتُكُنَّ أَكْثَرَ أَهْلِ النَّارِ» فَقُلْنَ: وَبِمَ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «تُكْثِرْنَ اللَّعْنَ، وَتَكْفُرْنَ العَشِيرَ، مَا رَأَيْتُ مِنْ نَاقِصَاتِ عَقْلٍ وَدِينٍ، أَذْهَبَ لِلُبِّ الرَّجُلِ الحَازِمِ، مِنْ إِحْدَاكُنَّ، يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ» ثُمَّ انْصَرَفَ، فَلَمَّا صَارَ إِلَى مَنْزِلِهِ، جَاءَتْ زَيْنَبُ، امْرَأَةُ ابْنِ مَسْعُودٍ، تَسْتَأْذِنُ عَلَيْهِ، فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَذِهِ زَيْنَبُ، فَقَالَ: «أَيُّ الزَّيَانِبِ؟» فَقِيلَ: امْرَأَةُ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: «نَعَمْ، ائْذَنُوا لَهَا» فَأُذِنَ لَهَا۔۔۔

( بخاری ، کتاب الزکاۃ ِ بَابُ الزَّكَاةِ عَلَى الأَقَارِبِ )

’’ ابوسعیدخدری ؓ سے روایت کیا ہے، انھوں نے کہا کہ رسول اللہﷺعیدالفطر یا عیدالاضحی کے دن عیدگاہ کی طرف تشریف لے گئے، پھر صلوٰۃ سے فارغ ہوئے تو لوگوں کو نصیحت کی اور ان کو صدقہ کا حکم دیا، تو آپ نے فرمایا اے لوگو ! صدقہ کرو، پھر عورتوں کے پاس پہنچے اور فرمایا : اے عورتوں کی جماعت تم خیرات کرو، اس لیے کہ مجھےجہنمیوں میں عورتوں کی کثرت دکھلائی گی ہے۔ عورتوں نے کہا ایسا کیوں یا رسول اللہ (ﷺ) ؟ آپ نے فرمایا : تم لعن طعن زیادہ کرتی ہو، شوہروں کی نافرمانی کرتی ہو، اے عورتو ! میں نے تم سے زیادہ دین اور عقل میں ناقص کسی کو نہیں دیکھا۔ جو بڑے بڑے ہوشیاروں کی عقل کم کردے، پھر آپ گھر واپس ہوئے، جب گھر پہنچے، تو ابن مسعود کی بیوی زینب ؓ آئیں اور اندر آنے کی اجازت مانگی، آپ سے کہا گیا یا رسول اللہ (ﷺ) یہ زینب ( آئی ) ہے۔ آپ نے فرمایا : کون زینب ؟ کہا گیا کہ ابن مسعود کی بیوی، آپ نے فرمایا : اچھا اجازت دو ، انھیں اجازت دی گئی ۔ ۔ ۔ ‘‘۔

ملاحظہ فرمایا کہ دروازےپر آئی ہوئی صحابیہ ؓ کا نبی ﷺ کو علم نہیں کہ کون آیا ہے ۔

پیش کردہ احادیث سے بھی یہی ثابت ہوا کہ نبی ﷺ عالم الغیب نہیں تھے۔

اب ہم ان مغالطہ آرئیوں کی طرف آتے ہیں جو علماء فرقہ نے اس بارے میں پھیلائی ہیں۔

اَلَمْ تَرَ كَيْفَ کے حوالے سے نبی ﷺ کو عالم الغیب سمجھنا :

قرآن و حدیث کے اس بیان سے واضح ہے کہ اس پوری کائنات میں صرف اللہ تعالیٰ ہی کی ذات ’’ عالم الغیب ‘‘ ہے اس کے علاوہ کسی دوسرے کو اس صفت کا حامل سمجھنا اللہ کی صفت میں شرک ہے۔ لیکن علماء فرقہ جنہوں نے خلاف قرآن و حدیث یہ عقیدہ دیا ہے کلمہ گو کر گمراہ کرنے کی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں اور سورہ فیل کی پہلی آیت : اَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِاَصْحٰبِ الْفِيْلِ ’’ کیا تم نے نہیں دیکھا کہ تمہارے رب نے ہاتھی والوں کیساتھ کیا کیا ‘‘، پیش کرکے کہتے ہیں کہ قرآن خود بتا رہا ہے کہ نبی ﷺ اس وقت بھی موجود تھے اور دیکھ رہے تھے، گویا نبی ﷺ عالم الغیب ہیں۔

حقیقت تو ہ ہے کہ یہ سب فریب کاری ہے قرآن میں اللہ تعالیٰ نے فرما دیا کہ اللہ کے علاوہ اور کوئی عالم الغیب ہے ہی نہیں۔ اس طرح سب سے پہلے تو یہ عقیدہ رکھنا قرآن کا انکار ہوگیا۔ دوسری بات اَلَمْ تَرَ كَيْفَ ایک ادبی فقرہ ہے جس سے مراد ہے ’’کیا تم نہیں جانتے‘‘۔جیسے کوئی کسی نوجوان سے کہے کہ کیا تم نے نہیں دیکھا کہ پاکستان بننے پر کتنی قتل وغارت ہوئی تو اس سے مراد یہ ہو گی کہ کیا تم نہیں جانتے کہ پاکستان بننے پر کتنی قتل و غارت ہوئی تھی ۔جیسے سورہ يسين آیت نمبر 31 میں الله کافروں مشرکوں سے فرما رہا ہے :

﴿أَلَمۡ يَرَوۡاْ كَمۡ أَهۡلَكۡنَا قَبۡلَهُم مِّنَ ٱلۡقُرُونِ أَنَّهُمۡ إِلَيۡهِمۡ لَا يَرۡجِعُونَ﴾

[يس: 31]

’کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ ان سے پہلے بہت سی قوموں کو ہم نے غارت کر دیا کہ وہ اب ان کی طرف لوٹ کر نہیں آئیں گی‘‘۔

یہاں بھی کفار کے دیکھنے سے مراد دراصل ان کا جاننا ہی ہے کہ “کیا وہ کفار نہیں جانتے کہ ان سے پہلے بہت سی قوموں کو ہم نے غارت کر دیا کہ وہ اب ان کی طرف لوٹ کر نہیں آئیں گی۔یہاں کسی طرح ان کو حاظر ناظر یا عالم الغیب نہیں سمجھا جا سکتا ۔ اللہ تعالیٰ مزید فرماتا ہے :

﴿أَوَلَمْ يَرَ الَّذِينَ كَفَرُوا أَنَّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ كَانَتَا رَتْقًا فَفَتَقْنَاهُمَا وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَاءِ كُلَّ شَيْءٍ حَيٍّ أَفَلَا يُؤْمِنُونَ﴾

[الأنبياء: 30]

’’اور کیا نہیں دیکھا ان لوگوں نے جنہوں نے کفر کیا کہ بیشک آسمان اور زمین دونوں تھے (آپس میں) ملے ہوئے تو ہم نے الگ کردیا ان دونوں کو اور ہم نے بنائی پانی سے ہر زندہ چیز تو کیا وہ ایمان نہیں لاتے ‘‘۔

﴿أَوَلَمْ يَرَ الْإِنْسَانُ أَنَّا خَلَقْنَاهُ مِنْ نُطْفَةٍ فَإِذَا هُوَ خَصِيمٌ مُبِينٌ﴾

[يس: 77]

’’اور (بھلا ) کیا انسان نے نہیں دیکھا (غور کیا ) کہ بیشک ہم نے اسے پیدا کیا ہے ایک قطرے سے تو اچانک وہ صریح جھگڑالو (بن بیٹھا ) ہے۔

﴿فَأَمَّا عَادٌ فَاسْتَكْبَرُوا فِي الْأَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ وَقَالُوا مَنْ أَشَدُّ مِنَّا قُوَّةً أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّ اللَّهَ الَّذِي خَلَقَهُمْ هُوَ أَشَدُّ مِنْهُمْ قُوَّةً وَكَانُوا بِآيَاتِنَا يَجْحَدُونَ﴾

[فصلت: 15]

’’اور رہے عاد تو انہوں نے تکبر کیا زمین میں ناحق اور انہوں نے کہا کون زیادہ سخت ہے ہم سے قوت میں اور(بھلا) کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ بیشک اللہ جس نے پیدا کیا انہیں وہ زیادہ سخت ہے ان سے قوت میں اور ہماری آیات کا وہ انکار کرتے تھے‘‘َ

قرآن مجید کی ان آیات نے کھول کھول کر واضح کردیا کہ اَلَمْ تَرَ كَيْفَ سے مراد یہ نہیں کہ نبیﷺ اس وقت وہاں موجود تھے یا وہ عالم الغیب ہیں ، بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ اے نبی ﷺ کیا تمہیں یہ خبر نہیں پہنچی کہ جس کو سارا عرب جانتا ہے ۔ اَلَمْ تَرَ كَيْفَ سے مراد وہاں حاضر و ناظر کے لئے جاتے ہیں ۔ جبکہ اس سے مراد دو باتیں ہوتی ہیں ایک تو اپنی آنکھوں سے دیکھنا یعنی بصری انداز، جبکہ دوسرا انداز قلبی ہوتا ہے کہ تم یقینا ً اس پر ایمان لاتے ہو کہ ایسا ہی ہے جیسا کہ تمہیں بتایا گیا۔ یہاں مراد موجود ہونا یا عالم الغیب ہونا نہیں بلکہ کا جاننا ہے۔ یعنی سارا عرب اس بات کو ایسے جانتا تھا کہ جیسے ہر ایک نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہو۔

کیا قیامت کے دن نبی ﷺ کی گواہی ان کے عالم الغیب ہونے کا ثبوت ہے ؟

سورہ بقرہ کی ایک آیت بھی اس بارے میں پیش کی جاتی ہے کہ نبی ﷺ قیامت کے دن لوگوں پر گواہی دیں گے، تو اس کا مطلب وہ ہمیشہ سے اور ہر جگہ حاضر و ناظر اور عالم الغیب ہیں جب ہی تو گواہی دیں گے۔

وضاحت :

مولوی حضرات کا یہ طریقہ کار ہے کہ وہ آیت پیش نہیں کرتے بلکہ زبانی ہی سنا کر لوگوں کو گمراہ کر دیتے ہیں کہ قرآن میں یہ آیا ہے۔ سورہ بقرہ آیت نمبر ۱۴۳ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :

﴿وَكَذَٰلِكَ جَعَلۡنَٰكُمۡ أُمَّةٗ وَسَطٗا لِّتَكُونُواْ شُهَدَآءَ عَلَى ٱلنَّاسِ وَيَكُونَ ٱلرَّسُولُ عَلَيۡكُمۡ شَهِيدٗاۗ وَمَا جَعَلۡنَا ٱلۡقِبۡلَةَ ٱلَّتِي كُنتَ عَلَيۡهَآ إِلَّا لِنَعۡلَمَ مَن يَتَّبِعُ ٱلرَّسُولَ مِمَّن يَنقَلِبُ عَلَىٰ عَقِبَيۡهِۚ وَإِن كَانَتۡ لَكَبِيرَةً إِلَّا عَلَى ٱلَّذِينَ هَدَى ٱللَّهُۗ وَمَا كَانَ ٱللَّهُ لِيُضِيعَ إِيمَٰنَكُمۡۚ إِنَّ ٱللَّهَ بِٱلنَّاسِ لَرَءُوفٞ رَّحِيمٞ﴾

[البقرة: 143]

’اور اسی طرح ہم نے تم کو امت وسط (بہترین امت) بنایا ہے تاکہ تم لوگوں پر گواہ بنو اور رسول تم پر گواہ ہوں اور وہ قبلہ جس پر تم پہلے تھے ہم نے صرف اس لئے مقرر کیا تھا تاکہ ہم دیکھ لیں کہ کون رسول کی پیروی کرتا ہے اور کون الٹا پھر جاتا ہے، اور ہرچند کہ یہ بات دشوار تھی مگر ان پر نہیں جن کو اللہ نے ہدایت دی ہے۔ اللہ تمہارے ایمان کو ضائع نہیں کرے گا۔ بےشک اللہ لوگوں پر شفیق ورحیم ہے‘‘۔

اس آیت کو پڑھیں نبی ﷺ سے پہلے ’’ گواہی ‘‘ کون دے گا ؟ اللہ نے فرمایا کہ نبی ﷺ کی یہ امت گواہی دے گی اور رسول اللہ ﷺ اس امت پر گواہ ہوں گے۔ اگر اس سے حاضر و ناظر اور عالم الغیب کے معنیٰ لئے جاتے ہیں تو پھر تو یہ ساری کی ساری امت ’’ حاضر و ناظر اور عالم الغیب ‘‘ ہے کیونکہ نبی ﷺ سے پہلے یہ امت سابقہ امتوں پر گواہی دے گی، لیکن ایسی بات ہر گز نہیں۔ نبی ﷺ نے اس آیت کی جو تشریح فرمائی وہ اس طرح ہے :

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الخُدْرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِﷺ: ” يُدْعَى نُوحٌ يَوْمَ القِيَامَةِ، فَيَقُولُ: لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ يَا رَبِّ، فَيَقُولُ: هَلْ بَلَّغْتَ؟ فَيَقُولُ: نَعَمْ، فَيُقَالُ لِأُمَّتِهِ: هَلْ بَلَّغَكُمْ؟ فَيَقُولُونَ: مَا أَتَانَا مِنْ نَذِيرٍ، فَيَقُولُ: مَنْ يَشْهَدُ لَكَ؟ فَيَقُولُ: مُحَمَّدٌ وَأُمَّتُهُ، فَتَشْهَدُونَ أَنَّهُ قَدْ بَلَّغَ: {وَيَكُونَ الرَّسُولُ عَلَيْكُمْ شَهِيدًا}، فَذَلِكَ قَوْلُهُ جَلَّ ذِكْرُهُ: {وَكَذَلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطًا لِتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ وَيَكُونَ الرَّسُولُ عَلَيْكُمْ شَهِيدًا}” وَالوَسَطُ: العَدْلُ۔

( بخاری، کتاب تفسیر القرآن، بَابُ قَوْلِهِ تَعَالَى: {وَكَذَلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطًا لِتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ وَيَكُونَ الرَّسُولُ عَلَيْكُمْ شَهِيدًا} )

’’ابو سعد خدری ؓسے روایت ہے کہ رسولﷺ نے فرمایا کہ قیامت کے روز نوح علیہ السلام کو بلایا جائے گا،وہ آکر کہیں گے۔”اے رب میں حاضر ہوں”۔اللہ تعالیٰ فرمائے گا “کیا تم نے ہمارے احکامات کو پہنچا دیا تھا” وہ کہیں گے کہ “جی ہاں”۔ پھر ان کی امت سے پوچھا جائے” کیا انہوں نے تم کو دین پہنچایا تھا” وہ کہیں گے کہ “ہمارے پاس کوئی ڈرانے والا نہیں آیا”۔اللہ تعالیٰ نوح علیہ السلام سے فرمائے گا کہ تمہارا گواہ کون ہے،وہ کہیں گے کہ محمدﷺ اور ان کی امت۔اس وقت وہ (نبیﷺ کے امتی) گواہی دیں گے کہ بے شک نوح علیہ السلام نے احکامات پہنچا دیے تھے اور رسولﷺ ان پر گواہی دیں گے۔اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کا یہی مطلب ہے‘‘۔

واضح ہوا کہ گواہی دینے کا مطلب یہ ہے کہ ہمیں قرآن مجید کہ ذریعے بتا دیا گیا کہ نوح علیہ السلام نے رات دن اپنی قوم کو اللہ کی طرف دعوت دی اور اس کا پیغام پہنچادیا ( نوح : 5 )۔اللہ کی بات یقینا ً سچی ہے ہم گواہی دیں گے کہ نوح علیہ السلام نے اپنی قوم کے سامنے اللہ کا پیغام بیان فرما دیا تھا اور رسول اللہ ﷺ ہمارے اس بیان پر گواہی دیں گے ۔ کیا اس سے اس امت یا نبی ﷺ کا عالم الغیب ہونا ثابت ہوتا ہے ؟ کلمہ طیبہ لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ بھی اس بات کی دلیل ہے کہ نہ ہم نے اللہ تعالیٰ کو دیکھا اور نہ محمد ﷺ کو اور نہ ہم نے وحی نازل ہوتے دیکھی ، یہ بن دیکھے گواہی ہے۔

سورہ تکویر کی آیت سے نبی ﷺ کو عالم الغیب ثابت کرنا :

سورہ تکویر کی آیت نمبر 24 پیش کی جاتی ہے : ﴿وَمَا هُوَ عَلَى ٱلۡغَيۡبِ بِضَنِينٖ﴾ [التكوير: 24] ’’ وہ غیب کے معاملہ میں بخیل نہیں ہے ‘‘۔اس آیت کو پیش کرکے کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ فرما رہا ہے کہ نبی محمد ﷺ غیب کی باتیں چھپاتے نہیں بلکہ کھول کر بتاتے ہیں۔ اگر وہ نہیں بتاتے تو ہمیں جنت و جہنم کا علم کیسے ہوتا۔ گویا وہ عالم الغیب ہیں۔

وضاحت :

قرآن و حدیث کے پیش کردے دلائل سے یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ عالم الغیب صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے، اور وہ اپنے رسولوں میں سے جسے چاہے جتنی چاہے غیب کی اطلاع دے دیتا ہے۔ نبی ﷺ کو جو باتیں بتائی گئیں ان کے متعلق یہ بتایا جا رہا ہے کہ نبی ﷺ اللہ کی طرف سے دی گئی اطلاع غیب میں سے کچھ چھپا نہیں لیتے بلکہ وہ من و عن اسے انسانوں تک پہنچا دیتے ہیں۔ لیکن گمراہ فرقوں نے اپنے باطل عقیدے کو ثابت کرنے کے لئے اسے دوسرا رخ دے دیا۔

احادیث کے حوالے سے پھیلائی گئی غلط فہمیاں:

احادیث کے حوالے سے بیان کیا جاتا ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ ( امامت کرتے ہوئے ) میں تمہیں پیچھے سے دیکھ رہا ہوتا ہوں۔ حالانکہ اس سے بھی مراد اللہ تعالیٰ کی طرف سے دکھایا جانا ہوتا ہے۔اس حدیث سے تو یہ ثابت ہو رہا ہےکہ نبی ﷺ اپنی پیٹھ پیچھے نہیں دیکھتے تھے۔

عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ: أَنَّ رَجُلًا اطَّلَعَ مِنْ جُحْرٍ فِي دَارِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَحُكُّ رَأْسَهُ بِالْمِدْرَى فَقَالَ: «لَوْ عَلِمْتُ أَنَّكَ تَنْظُرُ، لَطَعَنْتُ بِهَا فِي عَيْنِكَ، إِنَّمَا جُعِلَ الإِذْنُ مِنْ قِبَلِ الأَبْصَارِ»

( بخاری، کتاب اللباس ، بَابُ الِامْتِشَاطِ ٌ )

’’ سھیل بن سعد ؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے نبیﷺ کی دیوار کے ایک سوراخ سے گھر کے اندر جھانکا ، نبیﷺ اس وقت اپنا سر کنگھے سے کھجلا رہے تھے ۔پھر ( معلوم ہونے پر نبی ﷺ) نے فرمایا : اگر مجھے معلوم ہوتا کہ تم جھانک رہے ہو تو میں تمہاری آنکھ پھوڑ دیتا۔بے شک اذن ( اجازت ) لینا تو اسی کے لیے ہے کہ آدمی کی نظر ( کسی کے ) ستر پر نہ پڑے‘‘۔

یہ حدیث اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ نبی ﷺ اپنے پیچھے سے نہیں دیکھتے تھے۔

مزید یہ حدیث بھی پڑھیں :

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْصَرَفَ مِنْ صَلَاةٍ جَهَرَ فِيهَا بِالْقِرَائَةِ فَقَالَ هَلْ قَرَأَ مَعِي مِنْکُمْ أَحَدٌ آنِفًا فَقَالَ رَجُلٌ نَعَمْ أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي أَقُولُ مَا لِي أُنَازَعُ الْقُرْآنَ فَانْتَهَی النَّاسُ عَنْ الْقِرَائَةِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا جَهَرَ فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْقِرَائَةِ حِينَ سَمِعُوا ذَلِکَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

( مؤطا امام مالک،کتاب الصلاۃ ، باب ترك القراءة خلف الإمام فيما جهر فيه )

’’ابوہریرہ ؓ روایت ہے کہ رسول اللہﷺ ایک دن جہری ( بلند آواز )صلوٰۃ سے فارغ ہوئے ،پھر فرمایا کیا تم میں سے کسی نے میرے ساتھ کلام اللہ پڑھا تھا ؟ ایک شخص بول اٹھا کہ ہاں میں نے یا رسول اللہﷺ۔فرمایا جب ہی میں کہتا تھا اپنے دل میں کیا ہوا ہے مجھ سےکلام اللہ چھینا جاتا ہے ۔ کہا ابن شہاب یا ابوہریرہ ؓنے تب لوگوں نے قرآت کرنا بند کردی جہری صلوٰۃ میں جب سے یہ بات سنی نبی ﷺ سے ۔‘‘

اس سے بھی یہ واضح ہوا کہ نبی ﷺ کو امامت کرتے ہوئے پیچھے نہیں دکھائی دیتا تھا ورنہ معلوم ہی نہیں کرتے بلکہ فرماتے کہ : اے فلاں تم میرے پیچھے قرآن نہ پڑھا کرو۔ بات وہی ہے کہ ’’ میں اپنے پیچھے دیکھتا ہوں ‘‘ سے مراد اللہ تعالیٰ کی طرف سے غیب کی اطلاع دے دینا ہوتا تھا۔ غیب کی باتیں کبھی خواب میں بھی بتائی گئیں کبھی نبی ﷺ کو مسجد کی دیوار پر ہی جنت و جہنم دکھا دی گئی اور کبھی فرشتے کام کرتے ہوئے دکھا دئیے جاتے تھے۔ ملاحظہ فرمائیں یہ حدیث:

عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَجُلًا جَاءَ فَدَخَلَ الصَّفَّ وَقَدْ حَفَزَهُ النَّفَسُ، فَقَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ، فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاتَهُ قَالَ: «أَيُّكُمُ الْمُتَكَلِّمُ بِالْكَلِمَاتِ؟» فَأَرَمَّ الْقَوْمُ، فَقَالَ: «أَيُّكُمُ الْمُتَكَلِّمُ بِهَا؟ فَإِنَّهُ لَمْ يَقُلْ بَأْسًا» فَقَالَ رَجُلٌ: جِئْتُ وَقَدْ حَفَزَنِي النَّفَسُ فَقُلْتُهَا، فَقَالَ: «لَقَدْ رَأَيْتُ اثْنَيْ عَشَرَ مَلَكًا يَبْتَدِرُونَهَا، أَيُّهُمْ يَرْفَعُهَا»

( مسلم ، کتاب المساجد و مواضع الصلاۃ ، بَابُ مَا يُقَالُ بَيْنَ تَكْبِيرَةِ الْإِحْرَامِ وَالْقِرَاءَةِ )

’’انس ؓ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی آیا اور صف میں داخل ہوگیا اور اس کا سانس پھول رہا تھا اس نے کہا الْحَمْدُ لِلَّهِ حَمْدًا کَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَکًا فِيهِ، جب رسول اللہ ﷺ صلوٰۃ سے فارغ ہوئے تو فرمایا کہ تم میں سےصلوٰۃ میں یہ کلمات کہنے والا کون ہے لوگ خاموش رہے آپ نے دوبارہ فرمایا کہ تم میں سے یہ کلمات کہنے والا کون ہے اس نے کوئی غلط بات نہیں کہی تو ایک آدمی نے عرض کیا کہ میں آیا تو میرا سانس پھول رہا تھا تب میں نے یہ کلمات کہے آپ نے فرمایا کہ میں نے بارہ فرشتوں کو دیکھا کہ جو ان کلمات کو اوپر لے جانے کے لیے جھپٹ رہے تھے‘‘۔

سورہ آل عمران کی آیت کی اصلی تشریح سامنے آ گئی کہ اللہ تعالیٰ اپنے انبیاء میں سے جسے چاہے جس قدر چاہے غیب کی اطلاع دے دیتا ہے۔ نبی ﷺ کو وہ بارہ فرشتے دکھا دئیےگئے جو ان کلمات کو اللہ تعالیٰ کے پاس لیجانے کی جلدی کر رہے تھے لیکن وہ شخص نہیں بتایا گیا جس نے یہ الفاظ ادا کئے تھے۔

کمزور عقائد رکھنے والے اپنے پیروں کے بارے میں بھی یہ کہتے ہیں کہ وہ عالم الغیب ہیں اور ان کی بتائی ہوئی کافی باتیں عملا ً پوری ہوئی ہیں۔

وضاحت :

: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: إِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ” إِذَا قَضَى اللَّهُ الأَمْرَ فِي السَّمَاءِ، ضَرَبَتِ المَلاَئِكَةُ بِأَجْنِحَتِهَا خُضْعَانًا لِقَوْلِهِ، كَأَنَّهُ سِلْسِلَةٌ عَلَى صَفْوَانٍ، فَإِذَا فُزِّعَ عَنْ قُلُوبِهِمْ قَالُوا: مَاذَا قَالَ رَبُّكُمْ؟ قَالُوا لِلَّذِي قَالَ: الحَقَّ، وَهُوَ العَلِيُّ الكَبِيرُ، فَيَسْمَعُهَا مُسْتَرِقُ السَّمْعِ، وَمُسْتَرِقُ السَّمْعِ هَكَذَا بَعْضُهُ فَوْقَ بَعْضٍ – وَوَصَفَ سُفْيَانُ بِكَفِّهِ فَحَرَفَهَا، وَبَدَّدَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ – فَيَسْمَعُ الكَلِمَةَ فَيُلْقِيهَا إِلَى مَنْ تَحْتَهُ، ثُمَّ يُلْقِيهَا الآخَرُ إِلَى مَنْ تَحْتَهُ، حَتَّى يُلْقِيَهَا عَلَى لِسَانِ السَّاحِرِ أَوِ الكَاهِنِ، فَرُبَّمَا أَدْرَكَ الشِّهَابُ قَبْلَ أَنْ يُلْقِيَهَا، وَرُبَّمَا أَلْقَاهَا قَبْلَ أَنْ يُدْرِكَهُ، فَيَكْذِبُ مَعَهَا مِائَةَ كَذْبَةٍ، فَيُقَالُ: أَلَيْسَ قَدْ قَالَ لَنَا يَوْمَ كَذَا وَكَذَا: كَذَا وَكَذَا، فَيُصَدَّقُ بِتِلْكَ الكَلِمَةِ الَّتِي سَمِعَ مِنَ السَّمَاءِ “

( بخاری، کتاب تفسیر القرآن ، بَابُ {حَتَّى إِذَا فُزِّعَ عَنْ قُلُوبِهِمْ قَالُوا،، مَاذَا قَالَ رَبُّكُمْ؟ قَالُوا: الحَقَّ وَهُوَ العَلِيُّ

’’ رسول اللہﷺنے فرمایا کہ جب اللہ تعالیٰ آسمان پر کسی بات کا فیصلہ کرتا ہے تو فرشتے اللہ تعالیٰ کے فیصلہ کو سن کر جھکتے ہوئے عاجزی کرتے ہوئے اپنے بازو پھڑپھڑاتے ہیں۔ اللہ کا فرمان انہیں اس طرح سنائی دیتا ہے جیسے صاف چکنے پتھر پر زنجیر چلانے سے آواز پیدا ہوتی ہے۔ پھر جب ان کے دلوں سے گھبراہٹ دور ہو جاتی ہے تو وہ آپس میں پوچھتے ہیں کہ تمہارے رب نے کیا فرمایا؟ وہ کہتے ہیں کہ حق بات کا حکم فرمایا اور وہ بہت اونچا، سب سے بڑا ہے پھر ان کی یہی گفتگو چوری چھپے سننے والے شیطان سن بھاگتے ہیں، شیطان آسمان کے نیچے اوپر ہوتے ہیں، سفیان نے اس موقع پر ہتھیلی کو موڑ کر انگلیاں الگ الگ کر کے شیاطین کے جمع ہونے کی کیفیت بتائی کہ اس طرح شیطان ایک کے اوپر ایک رہتے ہیں۔ پھر وہ شیاطین کوئی ایک کلمہ سن لیتے ہیں اور اپنے نیچے والے کو بتاتے ہیں۔ اس طرح وہ کلمہ ساحر یا کاہن تک پہنچتا ہے۔ کبھی تو ایسا ہوتا ہے کہ اس سے پہلے کہ وہ یہ کلمہ اپنے سے نیچے والے کو بتائیں آگ کا گولا انہیں آ دبوچتا ہے اور کبھی ایسا ہوتا ہے کہ جب وہ بتا لیتے ہیں تو آگ کا انگارا ان پر پڑتا ہے، اس کے بعد کاہن اس میں سو جھوٹ ملا کر لوگوں سے بیان کرتا ہے ( ایک بات جب اس کاہن کی صحیح ہو جاتی ہے تو ان کے ماننے والوں کی طرف سے ) کہا جاتا ہے کہ کیا اسی طرح ہم سے فلاں دن کاہن نے نہیں کہا تھا، اسی ایک کلمہ کی وجہ سے جو آسمان پر (شیاطین نے) سنا تھا کاہنوں اور ساحروں کی بات کو لوگ سچا جاننے لگتے ہیں۔‘‘

قرآن مجید میں بھی اس بارے میں فرمایا گیا ہے :

﴿هَلۡ أُنَبِّئُكُمۡ عَلَىٰ مَن تَنَزَّلُ ٱلشَّيَٰطِينُOتَنَزَّلُ عَلَىٰ كُلِّ أَفَّاكٍ أَثِيمٖO يُلۡقُونَ ٱلسَّمۡعَ وَأَكۡثَرُهُمۡ كَٰذِبُونَ﴾

[الشعراء: 221-223]

’’ کیا میں تمہیں بتاؤں کہ شیاطین کس پر اترتے ہیں۔ وہ ہر جھوٹے بد کردار پر اترتے ہیں۔ جو کان لگا کر سنتے ہیں اور اکثر ان میں جھوٹ بولنے والے ہیں۔‘‘

واضح ہوا کہ یہ غیب کے جاننے والے نہیں ہوتے بلکہ شیاطین آسمان دنیا سے کچھ سن گن لے لیتے ہیں جو شیاطین من الانس کے کانوں میں وہ باتیں ڈالدیتے ہیں اور وہ اس کیساتھ بڑھا چڑھا کر لوگوں میں بیان کردیتے ہیں۔ وہ بات جو پہلے ہی سے اللہ کی طرف سے حکم دی گئی تھی سچی ثابت ہو جاتی ہے تو لوگ اس ’’ پیر ‘‘ کوعالم الغیب سمجھنے لگتے ہیں۔

الحمد للہ علم الغیب کا موضوع اختتام کو پہنچا ، اللہ تعالیٰ ہم سب کو کتاب اللہ پڑھنے، سمجھنے اور عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

Categories
Uncategorized

کیا تعویذ شرک ہے ؟

تعویذ کا لفظ باب تفعیل کا مصدر ہے جس کے لغوی معنی ’’ پناہ لینے ‘‘ کے ہیں، اصطلاح میں ہر اس چیز کو تعویذ کہتے ہیں جو رفع و دفع آفات و مشکلات کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔

سوچنے کی بات یہ ہےکہ وہ کونسی ذات ہے جو تمام مخلوق اور امور پر مکمل اختیار رکھتی اور کسی کو پناہ دے سکتی ہے؟ ظاہر ہے کہ صرف اللہ تعالیٰ کی ذات۔ مشرکین عرب کا بھی یہی عقیدہ تھا۔

﴿قُلۡ مَنۢ بِيَدِهِۦ مَلَكُوتُ كُلِّ شَيۡءٖ وَهُوَ يُجِيرُ وَلَا يُجَارُ عَلَيۡهِ إِن كُنتُمۡ تَعۡلَمُونَO سَيَقُولُونَ لِلَّهِۚ قُلۡ فَأَنَّىٰ تُسۡحَرُونَ﴾

[المؤمنون: 88-89]

’’ان سے پوچھو کون ہے وہ جس کے ہاتھ میں ہے اقتدار ہر چیز کا اور وہ پناہ دیتا ہے اور کوئی پناہ نہیں دے سکتا اس کے مقابلے میں اگر تم جانتے ہو ؟ وہ ضرور کہیں گے کہ اللہ۔ کہو پھر کہاں سے دھوکہ کھا رہے ہو تم ؟‘‘

واضح ہوا کہ اس کائنات میں پناہ دینے والی صرف ایک ہی ذات ہے یعنی اللہ تعالیٰ۔

توکل صرف اللہ تعالیٰ پر ہونا چاہئیے :

﴿اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ وَعَلَى اللَّهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُونَ﴾

[التغابن: 13]

اللہ وہ ہے کہ نہیں نہیں الٰہ ( معبود ) سوائے اس کے ، پس ایمان داروں کو چاہئیے کہ اسی پر توکل کریں ۔ ‘‘

﴿إِنْ يَنْصُرْكُمُ اللَّهُ فَلَا غَالِبَ لَكُمْ وَإِنْ يَخْذُلْكُمْ فَمَنْ ذَا الَّذِي يَنْصُرُكُمْ مِنْ بَعْدِهِ وَعَلَى اللَّهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُونَ﴾

[آل عمران: 160]

’’اگر اللہ تمہاری مدد کرے تو تم پر کوئی غالب نہیں آسکتا اور اگر وہ چھوڑدے تمہیں (تو) پھر کون ہے وہ جو تمہاری مدد کرسکے اس کے بعد،پس اللہ پر ہی پس بھروسہ کرنا چاہیے مومنوں کو‘‘۔

﴿قُلْ لَنْ يُصِيبَنَا إِلَّا مَا كَتَبَ اللَّهُ لَنَا هُوَ مَوْلَانَا وَعَلَى اللَّهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُونَ﴾

[التوبة: 51]

’’کہہ دیجیے ہرگز نہیں پہنچے گا ہمیں کوئی نقصان مگر جو لکھ دیا ہے اللہ نے ہمارے لیے وہ ہمارا رب ہے، اور اللہ پر ہی بھروسہ کریں ایمان والے‘‘۔

﴿وَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ وَكَفَى بِاللَّهِ وَكِيلًا﴾

[الأحزاب: 3]

’’ اور اللہ پر توکل کریں اور اللہ کافی ہے بطور کارساز ‘‘۔

اہل ایمان کا بھروسہ تو اللہ ہی کی ذات پر ہوتا ہے، ان کا ایمان ہوتا ہے کہ ساری دنیا اگر ہمیں نقصان پہنچانا چاہے تو ہمیں ذرا بھی نقصان نہیں پہنچ سکتا الا یہ کہ اللہ چاہے۔ اس لئے کہ وہ جانتے ہیں کہ تمام مخلوق اللہ کی پیدا کی ہوئی ہے، تمام مخلوق کا پالنہار اللہ تعالیٰ ہے، تمام مخلوق پرکنٹرول اللہ کا چلتا ہے۔سمندر کے طوفان کو کوئی کنٹرول نہیں کرسکتا سوائے اللہ کے۔ بیماری میں شفاء کوئی نہیں دے سکتا سوائے اللہ کے، اسی طرح دنیا کے تمام امور میں مختار کل اللہ تعالیٰ ہے۔

اب کوئی ایمان کا دعویٰ بھی کرے اور اس بات پر بھی اسکا ایمان ہو کہ کوئی دوسری چیز بھی مجھے غائبانہ اور مافوق الاسباب نقصان سے بچا سکتی یا مجھے فائدہ دے سکتی ہے تو یہ گویا اس نے اس چیز کو اللہ کی صفات کے برابر کردیا اور اسی لئے نبی ﷺ نے تعویذ کو شرک قرار دیا کہ اسے لٹکانے والا اب اللہ پر توکل سے نکل گیا، اب اس کا توکل اس چیز پر ہوگیا جو اس نے لٹکائی ہے۔ آج کے کلمہ گو کی اکثریت بھی اسی شرک میں مبتلا ہے۔ کسی کے گلے میں تعویذ ہے تو کسی کے بازو پر ’’ اما م ضامن ‘‘ ( یعنی امام کی وجہ سے کوئی مصیبٹ نہیں پہنچے گی)۔کسی نےکالا دھاگہ باندھا ہوا ہے تو کسی نے پیلا او رکوئی کڑے پہنے ہوئے ہے اور کوئی چھلے پر ایمان بنائے بیٹھا ہے۔ کسی نے گھر پر مردہ گائے کی کھوپڑی لگا رکھی ہے تو کسی نے گاڑی کے نیچے بچے کی پرانی جوتی باندھی ہوئی ہے۔

الغرض کہ ان چیزوں پر اس کلمہ گو کا توکل ہوگیا ہےکہ یہ چیزیں مجھے مصیبت، پریشانی یا بیماری سے بچا لیں گی۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

﴿قُلۡ مَن يُنَجِّيكُم مِّن ظُلُمَٰتِ ٱلۡبَرِّ وَٱلۡبَحۡرِ تَدۡعُونَهُۥ تَضَرُّعٗا وَخُفۡيَةٗ لَّئِنۡ أَنجَىٰنَا مِنۡ هَٰذِهِۦ لَنَكُونَنَّ مِنَ ٱلشَّٰكِرِينَO قُلِ ٱللَّهُ يُنَجِّيكُم مِّنۡهَا وَمِن كُلِّ كَرۡبٖ ثُمَّ أَنتُمۡ تُشۡرِكُونَ﴾

[الأنعام: 63-64]

’’پوچھو (ان سے) ! کون بچاتا ہے تم کو صحرا اور سمندر کی تاریکیوں سے جب تم پکارتے ہو اس کو گڑ گڑا کر اور چپکے چپکے کہ اگر بچالے وہ ہم کو، اس بلا سے تو ہم ضرور ہوں گے شکر گزار۔ کہہ دو ! اللہ ہی نجات دیتا ہے تم کو اس سے اور ہر تکلیف سے پھر بھی تم شرک کرتے ہو‘‘۔

واضح ہوا مکمل اختیار صرف اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے اس کے علاوہ نہ کوئی کسی کو مافوق الاسباب نفع دے سکتا ہے اور نہ ہی کوئی نقصان۔ لہذا کلمہ گو کسی بھی صورت میں اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی اور چیز پرنہ توکل کرے گا نہ اس سے کسی قسم کے نفع و نقصان کی امید رکھے گا۔

نبی ﷺ نے تعویذ اور دھاگوں کو شرک قرار دیا:

عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنِ النَّبِيِّ عَلَيْهِ السَّلَامُ قَالَ: «مَنْ عَلَّقَ التَّمَائِمَ وَعَقَدَ الرُّقَى فَهُوَ عَلَى شُعْبَةٍ مِنَ الشِّرْكِ»

( مصنف ابن ابی شیبہ ، کتاب الطب، في تعليق التمائم والرقى، جزء 5، صفحہ 336 )

’’عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ ، نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : ” جس نے تعویذلٹکایا اور ڈوراباندھا تو یہ شرک کے ایک عمل پر ہے۔‘‘

عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْبَلَ إِلَيْهِ رَهْطٌ فَبَايَعَ تِسْعَةً وَأَمْسَكَ عَنْ وَاحِدٍ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ بَايَعْتَ تِسْعَةً وَتَرَكْتَ هَذَا قَالَ إِنَّ عَلَيْهِ تَمِيمَةً فَأَدْخَلَ يَدَهُ فَقَطَعَهَا فَبَايَعَهُ وَقَالَ مَنْ عَلَّقَ تَمِيمَةً فَقَدْ أَشْرَكَ

( مسند احمد ، مسند الشاميين ، حديث عقبة بن عامر الجهني )

’’عقبہ بن عامر ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبیﷺکی خدمت میں (دس آدمیوں کا) ایک وفد حاضر ہوا، نبیﷺنے ان میں سے نو آدمیوں کو بیعت کرلیا اور ایک سے ہاتھ روک لیا، انہوں نے پوچھا یا رسول اللہ ! (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ نے نو کو بیعت کرلیا اور اس شخص کو چھوڑ دیا ؟ نبی ﷺ نے فرمایا اس نے تعویذ پہن رکھا ہے، یہ سن کر اس نے گریبان میں ہاتھ ڈال کر اس تعویذ کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا اور نبی ﷺنے اس سے بھی بیعت لے لی اور فرمایا جس نے تعویذ لٹکایاہے اس نے شرک کیا۔‘‘

عَنْ قَيْسِ بْنِ السَّكَنِ الْأَسَدِيِّ، قَالَ: دَخَلَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَى امْرَأَةٍ فَرَأَى عَلَيْهَا حِرْزًا مِنَ الْحُمْرَةِ فَقَطَعَهُ قَطْعًا عَنِيفًا ثُمَّ قَالَ: إِنَّ آلَ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ الشِّرْكِ أَغْنِيَاءُ وَقَالَ: كَانَ مِمَّا حَفِظْنَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «أَنَّ الرُّقَى وَالتَّمَائِمَ وَالتَّوْلِيَةَ مِنَ الشِّرْكِ»

(مستدرک حاکم 4/241 كِتَابُ الطِّبِّ وَأَمَّا حَدِيثُ مَيْسَرَةَ بْنِ حَبِيبٍ)

’’ عبد اللہ بن مسعود ؓ نے اپنی زوجہ کے گلے میں ایک دھاگہ دیکھا سرخ باوا کے لئے، تو انہوں نے وہ توڑ ڈالا، پھر فرمایا: عبد اللہ کےگھر والے شرک سے بے خبر ہیں، اور فرمایا جو ہم نے سنا نبی ﷺ سے کہ دم ، تعویذ اور تولہ ( محبت کا تعویذ ) سب شرک ہیں ‘‘۔ ( بعد میں غیر مشرکانہ الفاظ والے دم کی اجازت دے دی گئی)

ان احادیث سے یہ بات مکمل طور پر واضح ہے کہ ’’ تعویذ ‘‘ شرک ہے، لیکن مولوی و مفتیان نے امت کو بیوقوف بنایا ہے کہ ’’ قرآنی تعویذ ‘‘ جائز ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ لوگ اس مشرکانہ حرام کام کے پیسے وصول کرتے ہیں، یہ ان کی کمائی کا ذریعہ بنا ہوا ہے۔ دیکھیں نبی ﷺ نے آئے ہوئے ان دس افراد میں سے نو سے بیعت لے لی اور دسواں یہ کہہ کر چھوڑ دیا : إِنَّ عَلَيْهِ تَمِيمَةً ’’اس نے تعویذ پہن رکھا ہے‘‘۔ نبی ﷺ نے یہ نہیں پوچھا کہ کتاب اللہ کا تعویذ تو نہیں ؟ بلکہ صاف فرمایا کہ اس نے تعویذ پہن رکھا ہے۔ یہاں عربی لفظ تَمِيمَةً بیان ہوا ہے اور عربی قاعدہ یہ ہے کہ جب کسی اسم پر تنوین ( دو زبر، یا دو زیر، یز دو پیش ) ہو تو اسم عام ہوتا ہے، یعنی ہر قسم کا تعویذ۔ لہذا یہ بات واضح ہے کہ ہر قسم کا تعویذ شرک ہے۔

یہ کہنا کہ قرآن کا تعویذ جائز ہے تو کیا اب اللہ تعالیٰ کے علاوہ قرآنی آیات پر بھی توکل کیا جا سکتا ہے؟ انہیں غائبانہ اور ما فوق الاسباب نفع و نقصان پہچانے والا سمجھا جا سکتا ہے ؟ قرآن مجید انسانوں کی ہدایت کے لئے بھیجا ہے گیا ہے، اسے پڑھنے اور ہدایت حاصل کرنے سے دل سے کفر و شرک نکل جاتا ہے لیکن اس کی آیات نفع یا نقصان پہنچانے والی بنا کر نہیں بھیجی گئیں۔ اگر واقعی ایسا ہے تو یہ مولوی حضرات کشمیر،فلسطین ، برما یا ان علاقوں میں کیوں نہیں بھجوادیتے جہاں اسلام کے نام لیواؤں پر زندگی تنگ کردی گئی ہے جہاں ان کی خواتین کی عصمت دری کی جا رہی ہے۔

اگر واقعی ایسا ہے تو مولوی اور مفتی صاحبان ، بیماری یا دل کا دورہ پڑنےپر ہسپتال کیوں داخل ہوتے ہیں ’’ قرآنی تعویذ ‘‘ سے علاج کیوں نہیں کرتے۔ در حقیقت یہ سب دوسروں کو بیوقوف بنا کر مال بٹورنے کے لئے ہے۔

دوسری بات کہ عربی میں تعویذ کے لئے تَمِيمَةً کا لفظ بیان کیا جاتا ہے، جبکہ ’’ دم ‘‘ کے لئے الرُّقَى کا لفظ استعمال ہوتا ہے، لیکن یہ علماء سو ء الرُّقَى کا ترجمہ ‘‘ تعویذ‘‘ کرتے ہیں اور لوگوں کو کتب احادیث میں دکھاتے ہیں کہ یہ دیکھو خود نبی ﷺ نے تعویذ کیا ہے اور اس کا حکم بھی دیا ہے۔ دیکھیں کیسا جگرا ہے ان کاکہ نبیﷺ کے بیان کردہ مشرکانہ کام کو جائز دکھا کر حرام کما رہے ہیں۔

ایک بات اور بھی کہی جاتی ہے کہ جب انسان بیمار ہوتا ہے تو آخر دوائی بھی تو استعمال کرتا ہے، تو کیا دوائی پر توکل نہیں کیا جاتا؟ کیا یہ شرک نہیں۔

﴿وَإِذَا مَرِضۡتُ فَهُوَ يَشۡفِينِ﴾

[الشعراء: 80]

’’ ( ابراہیم ؑ نے کہا )اور جب میں بیمار پڑتا ہوں تو ( اللہ ) مجھے شفا دیتا ہے‘‘۔

نبی ﷺ نے فرمایا :

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أَنْزَلَ اللَّهُ دَائً إِلَّا أَنْزَلَ لَهُ شِفَائً

( بخاری ، کتاب الطب ، بَابُ مَا أَنْزَلَ اللَّهُ دَاءً إِلَّا أَنْزَلَ لَهُ شِفَاءً )

’’ ابو ھریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے جو بھی بیماری اتاری ہے اس کی شفاء ( دوا ) بھی نازل کی ہے‘‘۔

تَدَاوَوْا عِبَادَ اللَّهِ، فَإِنَّ اللَّهَ لَمْ يَضَعْ دَاءً إِلَّا وَضَعَ مَعَهُ شِفَاءً، إِلَّا الْهَرَمَ

(مصنف ابن ابی شیبہ ، کتاب الطب ، مَنْ رَخَّصَ فِي الدَّوَاءِ وَالطِّبِّ )

’’اے اللہ کے بندو ! دوائی استعمال کرو، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے بڑھاپے کے سوا کوئی بھی بیماری نہیں اتاری مگر یہ کہ اس کے ساتھ شفاء بھی نازل کی ہے۔ “

لِكُلِّ دَاءٍ دَوَاءٌ، فَإِذَا أُصِيبَ دَوَاءُ الدَّاءِ بَرَأَ بِإِذْنِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ

( مسلم ، کتاب السلام، بَابُ لِكُلِّ دَاءٍ دَوَاءٌ وَاسْتِحْبَابِ التَّدَاوِي )

’’ ہر بیماری کی دوا ہوتی ہے، جب بیمار کو وہ دوا پہنچ جائے تو اللہ کے حکم سے وہ بیماری دور ہو جاتی ہے ‘‘۔

قرآن و احادیث کے اس بیان سے ثابت ہوا کہ بیماری میں دوا استعمال کرنا عین شریعت کے مطابق ہے اور اس میں توکل دوا پر نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ پر ہی ہوتا ہے ، اور شفاء اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتی ہے۔ ایک ہی قسم کی دوا کسی مریض کو اچھا کردیتی ہے اور کس کو اس سے شفاء نہیں ملتی۔

ایک روایت پیش کی جاتی ہے کہ عبد اللہ بن عمرو ؓ العاص اپنے بچوں کے گلے میں تعویذ ڈالا کرتے تھے۔

وضاحت :

مؤطا امام مالک اور دیگر کتب میں اس بارےمیں جو روایت ملتی ہے وہ اس طرح ہے :

قال لرسول الله صلى الله عليه وسلم: إني أروع في منامي، فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم: «قل أعوذ بكلمات الله التامة، من غضبه وعقابه، وشر عباده، ومن همزات الشياطين وأن يحضرون»

( مؤطا امام مالک ، کتاب الشعر، باب ما يؤمر به من التعوذ )

’’ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اگر کوئی نیند میں ڈر جائے تو یہ دعا پڑھے أَعُوذُ بِکَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّاتِ مِنْ غَضَبِهِ وَعِقَابِهِ وَشَرِّ عِبَادِهِ وَمِنْ هَمَزَاتِ الشَّيَاطِينِ وَأَنْ يَحْضُرُونِ فَإِنَّهَا لَنْ تَضُرَّهُ وَکَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ يُلَقِّنُهَا مَنْ بَلَغَ مِنْ وَلَدِهِ وَمَنْ لَمْ يَبْلُغْ مِنْهُمْ کَتَبَهَا فِي صَکٍّ ثُمَّ عَلَّقَهَا فِي عُنُقِهِ (یعنی۔ میں اللہ کے غضب، عقاب، اس کے بندوں کے فساد، شیطانی وساوس اور ان (شیطانوں) کے ہمارے پاس آنے سے اللہ کے پورے کلمات کی پناہ مانگتا ہوں) ۔‘‘

روایت صرف اتنی ہے اور کافی کتب الحدیث میں آئی ہے لیکن یہی روایت جب دوسرے راوی سے آئی تو اس میں راوی نے ان الفاظ کا اضافہ کردیا :

وكان عبد الله بن عمرو يعلمهن من عقل من بنيه، ومن لم يعقل كتبه فأعلقه عليه

( ترمذی، ابواب الدعوات)

’’ اور عبد اللہ بن عمرو ؓ العاص یہ دعا اپنے بالغ بچوں کو سکھایا کرتے تھے اور نابالغ بچوں کے لئے لکھ کر ان کے گلے میں ڈال دیا کرتے تھے‘‘۔

البانی اس بارے میں کہتے ہیں :

حسن دون قوله وكان عبد الله

(المسند الموضوعي الجامع للكتب العشرة ، لمؤلف: صهيب عبد الجبار ، جزٔ 15 صفحہ 97 )

’’کہ یہ روایت حسن ہے سوائے عبد اللہ کے قول کے‘‘۔

عبد اللہ والا قول کیا ہے : يعلمهن من عقل من بنيه، ومن لم يعقل كتبه فأعلقه عليه یہ دعا اپنے بالغ بچوں کو سکھایا کرتے تھے اور نابالغ بچوں کے لئے لکھ کر ان کے گلے میں ڈال دیا کرتے تھے‘‘۔

دوسری بات یہ ہے کہ جس میں بچوں کو سکھانے اور نابالغوں کے گلے میں ڈالنے کا ذکر ہے تو اسے روایت کرنے والے محدث امام ترمذی خود اسے ’’ حسن غریب ‘‘ قرار دیتے ہیں۔ مسند احمد میں جہاں یہ روایت بیان ہوئی ہے تو محقق شعيب الأرنؤوط فرماتے ہیں: ’’ یہ سند ضعیف ہے اور ( راوی ) محمد بن اسحاق ’’ مد لس ‘‘ ہے اور ’’ عن عن ‘‘ کیساتھ روایت کر رہا ہے ‘‘۔ ( یعنی اس تدلیس کرنے والے راوی جو اپنی طرف سے بڑھا چڑھا کر بیان کرتا ہے کی وجہ سے یہ سند ضعیف ہے )۔ ( مسند احمد ط الرسالۃ ، باب : مسند عبد اللہ بن عمرو بن العاص ؓ، الجز: 11 ، صفحہ : 296 )

واضح ہوا کہ عبد اللہ کا یہ قول ثابت نہیں کہ جس میں تعویذ بنا کر لٹکانے کا ذکر ہے۔ لیکن مولوی و مفتی صاحبان کی تو یہ کمائی کا ذریعہ ہے، جہاں امامت، خطابت، تعلیم القرآن کے ذریعے قرآنی آیات پر اجرت، تنخواہ، ہدیہ لیا جا رہا ہے وہاں قرآن ہی کی آیات کا تعویذ جائز کرکے کمائی کا ایک ذریعہ تلاش کرلیا گیا ہے۔ حرام کی اس کمائی کے شوقین کو اس سے کوئی مطلب نہیں کہ کوئی تعویذ پہن کر مشرک بن جاتا ہے اور اس حالت میں موت سے ہمکنار ہونے پر ہمیشہ کی جہنم میں چلا جاتا ہے انہیں تو بس کمائی چاہئیے خواہ کیسے بھی ملے۔

اللہ کے بندو ! زبان نبوت ﷺ نے تعویذ کو شرک قرار دیا ہے اور شرک پر موت کی صورت میں اس انسان پر ہمیشہ کے لئے جنت حرام ہے یعنی وہ کبھی جنت کی خوشبو بھی نہ سونگھ سکے گا بلکہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے جہنم کی آگ میں جلتا رہے گا۔ وہ آگ ہے کہ جو کبھی نہیں بجھے گی، جہاں پینے کو پیپ ملے گی اور سالہاسال گزر جائیں گے لیکن نہ موت آئے گی کہ اس عذاب کا خاتمہ ہو جائے اور نہ ہی اس پر عذاب کم کیا جائے گا۔ بات چند سال کی نہیں بھائیوں، بلکہ اربوں اور کھربوں سال کے بعد بھی موت نہیں، کوئی سنوائی نہیں۔ اس لئے آج اپنے آپ کو کفر و شرک سے بچا لیں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو ہدایت سے نوازے۔

Categories
Uncategorized

جادو کی حقیقت قرآن و حدیث کی روشنی میں

جب کوئی قوم قرآن و حدیث سے دور ہو جائے تو اس میں دوسرے باطل عقائد کا زور بڑھ جاتا ہے۔ آج اس کلمہ گو امت میں بھی بہت سے ایسے عقائد آگئے ہیں جو قرآن و حدیث کے صریحاً خلاف ہیں، جیسا کہ یہ عقیدہ کہ جادو کے زور سے کوئی جادوگر کسی کا ہونے والا رشتہ ختم کرا سکتا ہے، کسی کا کاروبار ختم کرسکتا ہے، کوئی اس کی وجہ سے بیمار ہوسکتا ہے وغیرہ وغیرہ۔

اس کے برعکس ایسے بھی لوگ ہیں کہ جواحادیث کا انکار کرتے کرتے قرآن مجید کی آیات تک کا انکار کرجاتے ہیں۔ دراصل یہ سب وہی گمراہی ہے جو کتاب اللہ کی دوری کے باعث پیدا ہوئی ہے۔ذیل میں ہم کتاب اللہ سے اس موضوع پر دلائل دیتے ہیں :

قرآن مجید میں جادو کا ذکر :

﴿وَٱتَّبَعُواْ مَا تَتۡلُواْ ٱلشَّيَٰطِينُ عَلَىٰ مُلۡكِ سُلَيۡمَٰنَۖ وَمَا كَفَرَ سُلَيۡمَٰنُ وَلَٰكِنَّ ٱلشَّيَٰطِينَ كَفَرُواْ يُعَلِّمُونَ ٱلنَّاسَ ٱلسِّحۡرَ وَمَآ أُنزِلَ عَلَى ٱلۡمَلَكَيۡنِ بِبَابِلَ هَٰرُوتَ وَمَٰرُوتَۚ وَمَا يُعَلِّمَانِ مِنۡ أَحَدٍ حَتَّىٰ يَقُولَآ إِنَّمَا نَحۡنُ فِتۡنَةٞ فَلَا تَكۡفُرۡۖ فَيَتَعَلَّمُونَ مِنۡهُمَا مَا يُفَرِّقُونَ بِهِۦ بَيۡنَ ٱلۡمَرۡءِ وَزَوۡجِهِۦۚ وَمَا هُم بِضَآرِّينَ بِهِۦ مِنۡ أَحَدٍ إِلَّا بِإِذۡنِ ٱللَّهِۚ وَيَتَعَلَّمُونَ مَا يَضُرُّهُمۡ وَلَا يَنفَعُهُمۡۚ وَلَقَدۡ عَلِمُواْ لَمَنِ ٱشۡتَرَىٰهُ مَا لَهُۥ فِي ٱلۡأٓخِرَةِ مِنۡ خَلَٰقٖۚ وَلَبِئۡسَ مَا شَرَوۡاْ بِهِۦٓ أَنفُسَهُمۡۚ لَوۡ كَانُواْ يَعۡلَمُونَ﴾

[البقرة: 102]

’’ اور وہ ان چیزوں کی پیروی کرنے لگے جو شیاطین سلیمان کی مملکت کا نام لے کر پڑھا کرتے تھے، حالانکہ سلیمان نے کفر نہیں کیا بلکہ شیاطین نے ہی کفر کیا تھا جو لوگوں کو جادو سکھاتے تھے، اور (وہ اس کے بھی پیچھے لگ گئے) جو بابل میں دو فرشتوں ہاروت وماروت پر اترا تھا۔ حالانکہ وہ دونوں کسی کو نہ سکھاتے تھے جب تک اسکو یہ نہ بتا دیتے کہ ہم تو محض آزمائش ہیں، لہذا تم (یہ سیکھ کر) کفر نہ کرو۔ پھر بھی لوگ ان سے وہ سیکھتے تھے جس کے ذریعے شوہر اور اس کی بیوی کے درمیان جدائی ڈال دیں، (حالانکہ) وہ اس سے کسی کو بھی بغیر اللہ کے حکم کے نقصان پہنچا ہی نہیں سکتے تھے۔ اور وہ ایسی چیز سیکھتے تھے جو انہیں نقصان ہی پہنچاتی، نفع نہ دیتی۔ اور وہ خوب جانتے تھے کہ جو اس کا خریدار بنا اس کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں، اور بہت ہی بری چیز ہے وہ جس کے بدلے انہوں نے خود کو بیچ ڈالا کاش وہ اس بات کو جان لیتے‘‘۔

قرآن مجید کی مندرجہ بالا آیت میں یہ بات بیان کی گئی ہے کہ بنی اسرائیل پہلے ہی ایک ایسی قوم کا روپ دھار چکے تھے جو مکمل طور پر دنیا پرست اور آخرت سے غافل ہو چکی تھی اور دوسری طرف ان کے علماء و مشائخ اس صورتحال سے پورا فائدہ اٹھا رہے تھے۔لوگوں کو یہ پٹی پڑھاتے کہ سلیمان علیہ السلام کی شان و شوکت کا دارومدار جادو ٹونے وغیرہ ہی پر تھا(مَعَاذَ اللہِ) ، اور یہ اس کے ماہر ہیں۔ان کے اس باطل پروپیگنڈے کی قطعاً تردید کر دی گئی کہ سلیمان علیہ السلام نے یہ کفر نہیں کیا تم اس اتہام طرازی میں بالکل جھوٹے ہو کفر تو ان شیاطین نے کیا جو لوگوں کو سحر سکھاتے تھے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ان پر اتمام حجت کے لیے اور ان کی مغالعہ آرائیوں اور باطل پروپیگنڈوں کا مطلق ازالہ کر دینے کے مقصد سے دو فرشتوں ہاروت و ماروت کو بابل کے شہر میں بھیجا،اور وہ اس فن کے ماہر کی حیثیت سے ان کے گروہ میں شامل ہو گئے۔لیکن ان کا طریقہ کار ان پیشہ وروں سے بالکل ہی مختلف تھا، جو بھی ان کے پاس جادو سیکھنے آتا، وہ پہلے اس کو یہ بتاتے کہ ہم تمہارے لیے آزمائش ہیں، جادو کفر ہے تم اس کو سیکھ کر کفر نہ کرو۔ لیکن جب یہودی سیکھنے پر اصرار کرتے تو وہ ان کو سکھا دیتے۔قرآن بتاتا ہے کہ یہودی ان دونوں سے وہ جادو سیکھتے تھے جس کے ذریعے شوہر و بیوی میں تفرقہ ڈال دیں۔ لیکن یہ حقیقت بھی واضح کردی گئی کہ وہ اس کے ذریعے اللہ کے حکم کے بغیر کسی کو نقصان نہ پہنچا سکتے تھے، کیونکہ اسباب میں اثر تو بہرحال اللہ کے حکم ہی پر منحصر ہے۔اور وہ اس بات کو بھی خوب جان گئے تھے کہ اس(جادو) کو حاصل کرنے والے کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں، اور بہت ہی بری کمائی ہے جو انہوں نے اپنی جانوں کے لئے کی ہے،کاش وہ اس بات کو سمجھ لیتے!

یہاں اس بات کی وضاحت بھی ضروری ہے کہ قرآن نے جادو کا ذکر ایک شیطانی عمل کے طور پر کیا ہے۔اور احادیث سے اس کی وضاحت ہوتی ہے۔اس میں تو شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں کہ یہ شیطانی عمل ہے، اس کا کرنا ،کرانا،اس کا ذوق رکھنا گناہ کبیرہ بلکہ کفر و شرک ہے۔البتہ سحر کے محدود،وقتی اور تخیلاتی اثر کا ذکر قرآن و حدیث میں ملتا ہے،جو بہرحال اللہ کے اذن و مشیت ہی کے تابع ہے ۔اس کا مطلق انکار کرنا یا اس کے اثرات کو حد سے بڑھانا ،یہ دونوں انداز قرآن و حدیث کے انکار کے مترادف ہیں۔افسوس کی بات ہے کہ بعض مفسرین نے ایک طرف تو اسرائیلی روایات کی بنیاد پر جادو کے بارے میں بے شمار من گھڑت خرافات پیش کر دی ہیں، تو دوسری طرف منکرین قرآن و حدیث نے سحر کا مطلق انکار ہی کر دیا ہے۔ہمیں اس کو اسی حد تک ماننا چاہئے جہاں تک قرآن و حدیث نے بیان کیا ہے۔

موسیٰ علیہ السلام اور جادوگروں کا واقعہ

﴿قَالُواْ يَٰمُوسَىٰٓ إِمَّآ أَن تُلۡقِيَ وَإِمَّآ أَن نَّكُونَ نَحۡنُ ٱلۡمُلۡقِينَ١Oقَالَ أَلۡقُواْۖ فَلَمَّآ أَلۡقَوۡاْ سَحَرُوٓاْ أَعۡيُنَ ٱلنَّاسِ وَٱسۡتَرۡهَبُوهُمۡ وَجَآءُو بِسِحۡرٍ عَظِيمٖO وَأَوۡحَيۡنَآ إِلَىٰ مُوسَىٰٓ أَنۡ أَلۡقِ عَصَاكَۖ فَإِذَا هِيَ تَلۡقَفُ مَا يَأۡفِكُونَO فَوَقَعَ ٱلۡحَقُّ وَبَطَلَ مَا كَانُواْ يَعۡمَلُونَ﴾

[الأعراف: 115-118]

’’ ( جادوگر ) کہنے لگے: اے موسیٰ ؑ تم ڈالتے ہو یا ہم ( پہلے ) ڈالیں۔( موسی ٰ ؑ ) نے کہا ( تم ) ڈالو، پھر جب انہوں نے ڈالیں ( لاٹھیاں اور رسیاں ) تو لوگوں کی آنکھوں پر جادو کردیا اور انہیں خوب ڈرایا،اور ( وہ ) زبردست جادو لائے تھے۔ اور ہم نے موسیٰؑ کی طرف وحی کی کہ اپنا عصا ڈالو ، تو ایکدم وہ نگلنے لگا ان کے جھوٹ کو جو وہ لیکر آئے تھے،۔ پس حق ثابت ہوگیا اور باطل ہوگئے ان کے اعمال‘‘۔

سورہ یونس میں اس موقع کے لئے بیان کیا گیا :

﴿وَقَالَ فِرۡعَوۡنُ ٱئۡتُونِي بِكُلِّ سَٰحِرٍ عَلِيمٖO فَلَمَّا جَآءَ ٱلسَّحَرَةُ قَالَ لَهُم مُّوسَىٰٓ أَلۡقُواْ مَآ أَنتُم مُّلۡقُونَO فَلَمَّآ أَلۡقَوۡاْ قَالَ مُوسَىٰ مَا جِئۡتُم بِهِ ٱلسِّحۡرُۖ إِنَّ ٱللَّهَ سَيُبۡطِلُهُۥٓ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يُصۡلِحُ عَمَلَ ٱلۡمُفۡسِدِينَ﴾

[يونس: 79-81]

’’ اور کہا فرعون نے، ہر ماہر جادوگر کو میرے پاس لے آؤ، جب آگئے جادو گر تو موسیٰ ؑ نے ( ان سے ) کہا ڈالو جو کچھ تم نے ڈالنا ہے۔ جب انہوں نے ڈالا تو موسیٰ ؑ نےکہا جو کچھ ( جادو ) جو تم لائے ہو اللہ اسے عنقریب باطل کردے گا ، اللہ تعالیٰ مفسدین کے کام کو سنوارتا نہیں ‘‘۔

سورہ طٰہٰ میں فرمایا گیا :

﴿قَالَ بَلۡ أَلۡقُواْۖ فَإِذَا حِبَالُهُمۡ وَعِصِيُّهُمۡ يُخَيَّلُ إِلَيۡهِ مِن سِحۡرِهِمۡ أَنَّهَا تَسۡعَىٰO فَأَوۡجَسَ فِي نَفۡسِهِۦ خِيفَةٗ مُّوسَىٰOقُلۡنَا لَا تَخَفۡ إِنَّكَ أَنتَ ٱلۡأَعۡلَىٰO وَأَلۡقِ مَا فِي يَمِينِكَ تَلۡقَفۡ مَا صَنَعُوٓاْۖ إِنَّمَا صَنَعُواْ كَيۡدُ سَٰحِرٖۖ وَلَا يُفۡلِحُ ٱلسَّاحِرُ حَيۡثُ أَتَىٰ﴾

[طه: 66-69]

’’ ( موسیٰؑ نے ) کہا بلکہ تم ڈالو ، پھر ان ( جادوگروں ) کے جادو کے اثرسے ان کی رسیاں اور لاٹھیاں ( موسیٰ ؑ ) کے خیال میں آیا کہ جیسے وہ دوڑ رہی ہوں۔ پس موسیٰ ؑ اپنے دل میں ڈر گیا۔ ہم ( اللہ ) نے فرمایا ! ڈرو نہیں، تم ہی کامیاب ہوگے۔ اور پھینکو جو تمہارے دائیں ہاتھ میں ہے یہ نگل جائے گا جو انہوں نے بنایا ہے، یہ تو جادوگروں کی ایک چال ہے، اور نہیں کامیاب ہوتا جادو گر جہاں بھی وہ آئے ‘‘۔

پیش کردہ آیات کا خلاصہ یہ ہے کہ موسیٰ علیہ السلام اور جادو گروں کے مقابلے میں جادوگروں نے ابتداء کی اور لوگوں کی آنکھوں پر جادو کردیا۔ اس جادو کی وجہ سے موسیٰ علیہ السلام اور لوگوں کو ایسا محسوس ہوا کہ گویا وہ لاٹھیاں اور رسیاں دوڑ رہی ہوں۔ یعنی وہ دوڑ نہیں رہی تھیں بلکہ صرف ایسا محسوس ہورہا تھا ۔( گویا ) جادو ان چیزوں پر نہیں بلکہ لوگوں کی آنکھوں پر ہوا تھا۔ ان کے اس جادو کیوجہ سے خود موسیٰ ؑ السلام پر بھی اس کا اثر ہوا اور وہ ڈر گئے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ موسیٰ ؑ یہ سب جادوگروں کی چالیں ہیں اپنا عصا پھینکو، اور جب اسے پھینکا تو ان کی ساری بناوٹی چیزوں کو نگل گیا، اللہ تعالیٰ نے حقیقت بتا دی کہ ان لاٹھیوں اور رسیوں کی حیثیت کچرے کی ہے، انہوں نے جو انسانوں کی آنکھوں پر جادو کیا تھا صرف اس کی وجہ سے لوگ ڈر گئے تھے۔

کیا جادو گر ان لاٹھیوں اور رسیوں پر کیمیکل لگا کر لائے تھے :

منکریں حدیث لوگوں کو گمراہ کرتے ہیں کہ جادو کوئی چیز نہیں ہے بلکہ جادوگر ان لاٹھیوں اور رسیوں پرکیمیکل لگا کر لے آئے تھے جس کی وجہ سے انہوں نے بھاگنا شروع کردیا۔ یہاں وہ سورہ طٰہٰ کی آیت میں بیان کردہ ٹکڑا بھی پیش کرتے ہیں : إِنَّمَا صَنَعُواْ كَيۡدُ سَٰحِرٖۖ ’’ جو انہوں نے بنایا ہے، یہ تو جادوگروں کی ایک چال ہے ‘‘۔

حقیقت تو اللہ تعالیٰ نے اسی آیت میں بتا دی ہے : فَإِذَا حِبَالُهُمۡ وَعِصِيُّهُمۡ يُخَيَّلُ إِلَيۡهِ مِن سِحۡرِهِمۡ أَنَّهَا تَسۡعَىٰ ’’ پھر ان ( جادوگروں ) کی رسیاں اور لاٹھیاں جادو کے اثرسے ( موسیٰ ؑ ) کے خیال میں آیا کہ جیسے وہ دوڑ رہی ہوں‘‘۔ یعنی وہ دوڑ نہیں رہی تھیں بلکہ لوگوں کو ایسا لگا کہ جیسے وہ دوڑ رہی ہوں۔واضح ہوا کہ ان لاٹھیوں اور رسیوں پر کوئی کیمیکل نہیں تھا اور نہ ہی وہ دوڑ رہی تھیں۔ بلکہ جادو تو لوگوں کی آنکھوں پر ہوا تھا: فَلَمَّآ أَلۡقَوۡاْ سَحَرُوٓاْ أَعۡيُنَ ٱلنَّاسِ وَٱسۡتَرۡهَبُوهُمۡ وَجَآءُو بِسِحۡرٍ عَظِيمٖ ’’ پھر جب انہوں نے ڈالیں ( لاٹھیاں ) تو لوگوں کی آنکھوں پر جادو کردیا اور انہیں خوب ڈرایا،اور ( وہ ) زبردست جادو لائے تھے‘‘۔ یعنی جادو کسی چیز پر نہیں بلکہ انسانوں کی آنکھوں پر کیا گیا تھا۔نیز قرآن جادو کا جو طریقہ بتاتا ہے وہ اس طرح ہے:

وَٱتَّبَعُواْ مَا تَتۡلُواْ ٱلشَّيَٰطِينُ عَلَىٰ مُلۡكِ سُلَيۡمَٰنَۖ

( سورہ البقرہ : 102 )

’’ اور وہ ان چیزوں کی پیروی کرنے لگے جو شیاطین سلیمان کی مملکت کا نام لے کر پڑھا کرتے تھے‘‘

واضح ہوا کہ جادو کیمیکل لگانے کا نام نہیں بلکہ یہ ایک پڑھا جانے والا عمل ہے۔ یعنی جادوگروں نے کچھ پڑھ کر لوگوں کی آنکھوں پر جادو کردیا۔

جادوگر کبھی کامیاب نہیں ہوتا :

وَلَا يُفۡلِحُ ٱلسَّاحِرُ حَيۡثُ أَتَىٰ ، ’’اور نہیں کامیاب ہوتا جادو گر جہاں بھی وہ آئے ‘‘۔ منکرین حدیث یہ پیش کرکے کہتے ہیں کہ قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جادوگر کامیاب نہیں ہوتا اور تم کہتے ہو کہ نبی ﷺ پر جادو ہوگیا ! انہی آیات میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : فَأَوۡجَسَ فِي نَفۡسِهِۦ خِيفَةٗ مُّوسَىٰ ’’پس موسیٰ ؑ اپنے دل میں ڈر گیا‘‘۔ یعنی موسیٰ علیہ السلام پر ان کے جادو کا اثر ہوا اور وہ ڈر گئے۔ کیا موسیٰ علیہ السلام کا کچھ وقت کے لئے ڈر جانا جادوگروں کی کامیابی تھی؟ سوچیں ، موسیٰ علیہ السلام کا عصا ان کا سب کچھ نگل گیا، کون کامیاب ہوا جادو گر یا موسیٰ علیہ السلام۔

جس آیت کا یہ ذکر کر رہے ہیں عین اس سے اگلی آیت میں فرمایا گیا :

﴿فَأُلۡقِيَ ٱلسَّحَرَةُ سُجَّدٗا قَالُوٓاْ ءَامَنَّا بِرَبِّ هَٰرُونَ وَمُوسَىٰ﴾

[طه: 70]

’’ پس جادو گر سجدے میں گر گئے ، کہنے لگے ہم ایمان لائے ہارون ؑ و موسیٰ ؑ کے رب پر‘‘۔

تو واضح ہوا کہ یہ منکر حدیث نہیں بلکہ منکر قرآن بھی ہیں۔ کیونکہ وقتی طور پر جادو کا اثر ہونا یہ ثابت کرتا ہے کہ جادو میں ( کچھ ) حقیقت ہے۔

نبی ﷺ پر جادو کی حقیقت:

عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: مَكَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَذَا وَكَذَا يُخَيَّلُ إِلَيْهِ أَنَّهُ يَأْتِي أَهْلَهُ وَلَا يَأْتِي، قَالَتْ عَائِشَةُ: فَقَالَ لِي ذَاتَ يَوْمٍ: “يَا عَائِشَةُ إِنَّ اللَّهَ أَفْتَانِي فِي أَمْرٍ اسْتَفْتَيْتُهُ فِيهِ، أَتَانِي رَجُلَانِ فَجَلَسَ أَحَدُهُمَا عِنْدَ رِجْلَيَّ وَالْآخَرُ عِنْدَ رَأْسِي، فَقَالَ الَّذِي عِنْدَ رِجْلَيَّ لِلَّذِي عِنْدَ رَأْسِي، مَا بَالُ الرَّجُلِ قَالَ: مَطْبُوبٌ، يَعْنِي مَسْحُورًا قَالَ: وَمَنْ طَبَّهُ ؟ قَالَ: لَبِيدُ بْنُ أَعْصَمَ قَالَ: وَفِيمَ ؟ قَالَ: فِي جُفِّ طَلْعَةٍ ذَكَرٍ فِي مُشْطٍ وَمُشَاقَةٍ تَحْتَ رَعُوفَةٍ فِي بِئْرِ ذَرْوَانَ”، فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: “هَذِهِ الْبِئْرُ الَّتِي أُرِيتُهَا كَأَنَّ رُءُوسَ نَخْلِهَا رُءُوسُ الشَّيَاطِينِ وَكَأَنَّ مَاءَهَا نُقَاعَةُ الْحِنَّاءِ”، فَأَمَرَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأُخْرِجَ، قَالَتْ عَائِشَةُ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَهَلَّا تَعْنِي تَنَشَّرْتَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: “أَمَّا اللَّهُ فَقَدْ شَفَانِي، وَأَمَّا أَنَا فَأَكْرَهُ أَنْ أُثِيرَ عَلَى النَّاسِ شَرًّا”قَالَتْ: وَلَبِيدُ بْنُ أَعْصَمَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي زُرَيْقٍ حَلِيفٌ لِيَهُودَ.

(صحیح البخاری: کتاب الادب، بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالعَدْلِ وَالإِحْسَانِ، ۔ ۔ ۔ )v

’’ عائشہ ؓ کا بیان ہے کہ نبیﷺ اتنے اتنے دنوں اس حال میں رہے کہ آپ کو خیال ہوتا تھا کہ اپنی بیوی کے پاس سے ہو آئے ہیں، حالانکہ وہاں نہیں جاتے تھے، عائشہ ؓ کا بیان ہے کہ آپ نے مجھ سے ایک دن فرمایا اے عائشہ اللہ نے مجھے وہ بات بتادی جو میں دریافت کرنا چاہتا تھا، میرے پاس دو آدمی آئے، ان میں سے ایک میرے پاؤں کے اور دوسرا میرے سر کے پاس بیٹھ گیا، جو میرے سر کے پاس بیٹھا تھا اس نے پاؤں کے پاس بیٹھنے والے سے پوچھا کہ اس شخص کو کیا ہوگیا ہے ؟ اس نے کہا مطبوب ہے یعنی اس پر جادو کیا گیا ہے، پوچھا کس نے جادو کیا ہے، کہا لبید بن اعصم نے پوچھا کس چیز میں ؟ کہا بالوں کو نر کھجور کے چھلکے میں ڈال کر ذروان کے کنویں میں ایک پتھر کے نیچے رکھ کر، چنانچہ نبیﷺ اس کنویں کے پاس تشریف لائے اور فرمایا کہ یہی وہ کنواں ہے، جو مجھے خواب میں دکھلایا گیا اس کے پاس کھجوروں کے درخت شیطان کے سروں کی طرح ہیں اور اس کا پانی مہندی کے نچوڑ کی طرح سرخ ہے، نبی ﷺنے اس کے نکالنے کا حکم دیا تو وہ نکال دیا گیا، عائشہؓ کا بیان ہے کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! پھر کیوں نہیں ؟ یعنی آپ نے اس کو مشتہر کیوں نہیں کیا، نبیﷺنے فرمایا اللہ تعالیٰ نے مجھے شفا دی اور میں ناپسند کرتا ہوں کہ لوگوں کے سامنے کسی کے شر کو مشتہر کردوں اور بیان کیا کہ لبید بن اعصم بنی زریق کا ایک فرد تھا جو یہود کے حلیف تھے‘‘۔

عَنْ عَائِشَةَ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: “سُحِرَ حَتَّى كَانَ يُخَيَّلُ إِلَيْهِ أَنَّهُ صَنَعَ شَيْئًا وَلَمْ يَصْنَعْهُ

(صحیح بخاری، کتاب الجزیہ، بَابٌ: هَلْ يُعْفَى عَنِ الذِّمِّيِّ إِذَا سَحَرَ )

عائشہ ؓروایت کرتے ہیں کہ آپ (ﷺ) پر جادو کیا گیا تھا اس کا اثریہ ہوا تھا کہ آپ (ﷺ) خیال فرماتے تھے کہ فلاں کام کرچکے ہیں حالانکہ وہ کام آپ (ﷺ) نے انجام نہ دیا ہوتا۔

عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: “كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُحِرَ حَتَّى كَانَ يَرَى أَنَّهُ يَأْتِي النِّسَاءَ وَلَا يَأْتِيهِنَّ”

(بخاری، کتاب الطب، بَابٌ: هَلْ يَسْتَخْرِجُ السِّحْرَ؟)

’’عائشہ ؓنے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺپر جادو کردیا گیا تھا اور اس کا آپ پر یہ اثر ہوا تھا آپ کو خیال ہوتا کہ آپ ازواج مطہرات میں سے کسی کے پاس گئے تھے حالانکہ آپ نہیں گئے ہوتے تھے ‘‘۔

نبی ﷺ پر جادو ہونے کی حقیقت

ان احادیث سے واضح ہوا کہ نبی ﷺ پر جادو ہوا تھا، اس جادو سے نبی ﷺ کی ذات پر صرف اسقدر اثر ہوا تھا کہ نبی ﷺ یہ سمجھتے تھے کہ وہ ازواج مطہرات کے پاس ہو آئے ہیں لیکن حقیقت میں وہ گئے بھی نہیں ہوتے تھے۔ اسی طرح یہ سمجھتے تھے کہ فلاں کام کرلیا ہے لیکن حقیقت میں وہ کیا نہیں ہوتا تھا۔ یعنی یہ جادو بھی ’’ تخیلاتی ‘‘ تھا۔ نبی ﷺ کے خیال میں ایسا آتا تھا یعنی بالکل وہی معاملہ جو موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ ہوا تھا کہ جب جادوگروں نے اپنی لاٹھیاں اور رسیاں پھینکیں تو يُخَيَّلُ إِلَيۡهِ مِن سِحۡرِهِمۡ أَنَّهَا تَسۡعَىٰ ’’ان ( جادوگروں ) کے جادو کے اثرسے ( موسیٰ ؑ ) کے خیال میں آیا کہ جیسے وہ دوڑ رہی ہوں‘‘۔ یعنی جادو کا اثر صرف خیالات تک ہے، آپ ﷺ کی عقل اور صحیح اور غلط کے درمیان امتیاز کرنے والی قوت فیصلہ اس سے متاثر نہیں ہوئی تھی۔ گویا دین کے بارے میں قطعاً کوئی فرق نہیں پڑا تھا۔

دور سے کئے ہوئے جادو کا اثر کیسے ہوا ؟

یہ بھی کہا جاتا ہے کہ موسیٰ علیہ السلام کو تو دھوکہ دیا گیا تھا، لیکن نبی ﷺ کے سامنے تو کوئی عمل کیا ہی نہیں گیا تو ان پر جادو کیسے ہوگیا؟ گویا یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ احادیث میں جھوٹ آیا ہے۔ سورہ فلق میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :

﴿قُلۡ أَعُوذُ بِرَبِّ ٱلۡفَلَقِ﴾

[الفلق: 1]

’’ کہدو کہ میں پناہ میں آتا ہوں صبح کے رب کی ‘‘۔

﴿مِن شَرِّ مَا خَلَقَ﴾

[الفلق: 2]

’’ ہر اس چیز کے شر سے جو اس نے پیدا کی ‘‘۔

﴿وَمِن شَرِّ غَاسِقٍ إِذَا وَقَبَ﴾

[الفلق: 3]

’’ اور اندھیری رات کے شر سے جب وہ چھا جائے ‘‘۔

﴿وَمِن شَرِّ ٱلنَّفَّٰثَٰتِ فِي ٱلۡعُقَدِ﴾

[الفلق: 4]

’’ اورگِرہوں میں پھونکنے والیوں کے شر سے ‘‘۔

﴿وَمِن شَرِّ حَاسِدٍ إِذَا حَسَدَ﴾

[الفلق: 5]

’’ اور حسد کرنے والے کے شر سے جب وہ حسد کرے ‘‘۔

ان آیات میں کون کون سا شر بتایا گیا ہے، کیا یہ سارے کام انسان کے سامنے کئے جاتے ہیں ؟ کیا گرہوں میں پھونکنے والیاں سامنے آکر یہ کام کرتی ہیں یا کوئی حسد کرنے والا سامنے بیٹھ کر حسد کرتا ہے ؟ سورہ الناس میں فرمایا گیا :

﴿مِن شَرِّ ٱلۡوَسۡوَاسِ ٱلۡخَنَّاسِOٱلَّذِي يُوَسۡوِسُ فِي صُدُورِ ٱلنَّاسِO مِنَ ٱلۡجِنَّةِ وَٱلنَّاسِ﴾

[الناس: 4-6]

’’ وسوسہ ڈال کر پیچھے ہٹ جانے والے کے شر سے، جو لوگوں کے دلوں میں وسوسہ ڈالتا ہے، جنوں اور انسانوں میں سے ‘‘۔

سوچیں کیا شیطان سامنے آکر ، انسان کو بتا کر اس کے دل میں وسوسہ ڈالتا ہے کہ اس کا اس کے اوپر اثر ہو۔ یہ ساری باتیں محض شیطانی وسوسے ہی ہیں۔ یہ بھی یاد رہےکہ جادو یا کوئی بھی شر اس وقت تک اثر نہیں کرتا جب تک کہ اللہ کی مرضی نہ ہو۔ سورہ البقرہ میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا :

ۦۚ وَمَا هُم بِضَآرِّينَ بِهِۦ مِنۡ أَحَدٍ إِلَّا بِإِذۡنِ ٱللَّهِۚ

]البقرة: 102]

’’ (حالانکہ) وہ اس سے کسی کو بھی بغیر اللہ کے حکم کے نقصان پہنچا ہی نہیں سکتے تھے‘‘۔

یعنی کوئی چاہے جو بھی کوشش کرتا رہے لیکن اللہ کی مرضی کے بغیر کوئی چیز اثر نہیں کرتی۔

کیا نبی ﷺ پر جادو ماننےوالاکافر ہو جائے گا؟

منکرین حدیث سورہ فرقان کی ایک آیت کا حصہ پیش کرتے ہیں :

وَقَالَ ٱلظَّٰلِمُونَ إِن تَتَّبِعُونَ إِلَّا رَجُلٗا مَّسۡحُورًا’’ اور ظالموں نے ( مومنوں سے ) کہا تم ایک سحر زدہ انسان کے پیچھے لگ گئے ہو ‘‘۔ اس بارے میں سیاق و سباق سے پڑھیں تو معلوم ہوتا ہے ان کافروں کا بس یہی ایک قول نہ تھا ۔ ملاحظہ فرمائیں سورہ الفرقان کی آیات۔

﴿وَقَالُواْ مَالِ هَٰذَا ٱلرَّسُولِ يَأۡكُلُ ٱلطَّعَامَ وَيَمۡشِي فِي ٱلۡأَسۡوَاقِ لَوۡلَآ أُنزِلَ إِلَيۡهِ مَلَكٞ فَيَكُونَ مَعَهُۥ نَذِيرًا﴾

[الفرقان: 7]

’’ اور کہتے ہیں کہ یہ کیسا رسول ہے کہ کھانا کھاتا ہے اور بازاروں میں چلتا ہے، کیوں نہیں نازل کیا گیا کوئی فرشتہ جو ان کے ساتھ ڈڑانے کے لئے ہوتا ‘‘۔

﴿أَوۡ يُلۡقَىٰٓ إِلَيۡهِ كَنزٌ أَوۡ تَكُونُ لَهُۥ جَنَّةٞ يَأۡكُلُ مِنۡهَاۚ وَقَالَ ٱلظَّٰلِمُونَ إِن تَتَّبِعُونَ إِلَّا رَجُلٗا مَّسۡحُورًا﴾

[الفرقان: 8]

’’ یا اس کا کوئی خزانہ ہوتا یا اس کا کوئی باغ ہوتا اس سے وہ کھاتا اور ظالموں نے ( مومنوں سے ) کہا تم ایک سحر زدہ انسان کے پیچھے لگ گئے ہو ‘‘

سورہ بنی اسرائیل میں فرمایا گیا :

﴿نَّحۡنُ أَعۡلَمُ بِمَا يَسۡتَمِعُونَ بِهِۦٓ إِذۡ يَسۡتَمِعُونَ إِلَيۡكَ وَإِذۡ هُمۡ نَجۡوَىٰٓ إِذۡ يَقُولُ ٱلظَّٰلِمُونَ إِن تَتَّبِعُونَ إِلَّا رَجُلٗا مَّسۡحُورًا﴾﴿نَّحۡنُ أَعۡلَمُ بِمَا يَسۡتَمِعُونَ بِهِۦٓ إِذۡ يَسۡتَمِعُونَ إِلَيۡكَ وَإِذۡ هُمۡ نَجۡوَىٰٓ إِذۡ يَقُولُ ٱلظَّٰلِمُونَ إِن تَتَّبِعُونَ إِلَّا رَجُلٗا مَّسۡحُورًا﴾

[الإسراء: 47]

’’ ہم خوب جانتے ہیں جب وہ آپ کی طرف کان لگاتے ہیں توکِس بات پر لگاتے ہیں اور جب یہ سرگوشی کرتے ہیں، جب یہ ظالم کہتے ہیں کہ تم ایک سحر زدہ آدمی کی پیروی کر رہےہو‘‘۔

﴿ٱنظُرۡ كَيۡفَ ضَرَبُواْ لَكَ ٱلۡأَمۡثَالَ فَضَلُّواْ فَلَا يَسۡتَطِيعُونَ سَبِيلٗا﴾

[الإسراء: 48]

’’ دیکھیں یہ آپ کے لئے کیسی مثالیں بناتے ہیں ، پس یہ گمراہ ہوگئے اور ہدایت نہیں پا سکتے

منکرین حدیث آیت کا ایک حصہ لیکر کہدیتے ہیں کہ جس نے نبی ﷺ پر جادو کا اثر مان لیا وہ کافر ہے، حالانکہ ان آیات میں صرف یہی معاملہ نہیں بلکہ ان کا اعتراض تو یہ بھی تھا کہ یہ نبی ﷺ کھانا بھی کھاتا ہے اور بازاروں میں چلتا پھرتا بھی ہے اور اس کے پاس کوئی خزانہ نہیں اور نہ ہی اس کے پاس کوئی باغ ہے۔ بتائیں کیا جو یہ عقیدہ رکھے کہ نبی ﷺ انسانوں کی طرح کھاتےپیتے، چلتے تھے اور ان کے پاس نہ تو کوئی خزانہ تھا اور نہ ہی کوئی باغ تو اس کا شمار کفار میں ہوگا؟ ہر گز ، ہر گز نہیں ۔

کوئی ان سے پوچھے کہ صرف ایک بات کیوں لے رہے ہو، پھر ان آیات کی ساری باتیں لو اور جو یہ عقیدہ رکھے اس پر کفر کا فتویٰ لگاؤ۔

نبی ﷺ کو سحر زدہ کیوں کہتے تھے؟

احادیث سے ثابت ہے کہ کفار نبی ﷺ کو صادق و امین کہا کرتے تھے، ان کی بہت عزت کیا کرتے تھے، لیکن انہیں ’’ سحر زدہ ‘‘ اسوقت کہا گیا جب انہوں نے حق مبنی سچی اور کھری دعوت توحید پیش کی۔ گویا وہ انکی تبلیغ کیوجہ سے انہیں سحر زدہ ( سحر میں ڈوبا ہوا ) کہا کرتے تھے۔ موسیٰ علیہ السلام جب فرعون کے پاس دعوت حق دینے گئے تو اس نےبھی کہا :

﴿وَلَقَدْ آتَيْنَا مُوسَى تِسْعَ آيَاتٍ بَيِّنَاتٍ فَاسْأَلْ بَنِي إِسْرَائِيلَ إِذْ جَاءَهُمْ فَقَالَ لَهُ فِرْعَوْنُ إِنِّي لَأَظُنُّكَ يَا مُوسَى مَسْحُورًا ؀ قَالَ لَقَدْ عَلِمْتَ مَا أَنْزَلَ هَؤُلَاءِ إِلَّا رَبُّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ بَصَائِرَ وَإِنِّي لَأَظُنُّكَ يَا فِرْعَوْنُ مَثْبُورًا﴾

[الإسراء: 101-102]

’اور ہم نے موسیٰ کو نو کھلی نشانیاں دیں تو بنی اسرائیل سے دریافت کرلو کہ جب وہ ان کے پاس آئے تو فرعون نے ان سے کہا کہ موسیٰ میں خیال کرتا ہوں کہ تم پر جادو کیا گیا ہے،انہوں نے کہا کہ تم یہ جانتے ہو کہ آسمانوں اور زمین کے پروردگار کے سوا ان کو کسی نے نازل نہیں کیا۔ (اور وہ بھی تم لوگوں کے) سمجھانے کو۔ اور اے فرعون میں خیال کرتا ہوں کہ تم ہلاک ہوجاؤ گے‘‘۔

موسیٰ علیہ السلام فرعون کے گھر ہی پلے بڑھے لیکن اس نے انہیں کبھی جادو زدہ نہیں سمجھا لیکن جب موسیٰ علیہ السلام نے انہیں دعوت حق دی تو اس نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ تم جادو زدہ ہو، یعنی یہ بڑی عجیب باتیں ہیں جو تم کر رہے ہو۔ بالکل یہی معاملہ نبی ﷺ کے ساتھ ہوا کہ جب دعوت حق دی تو ساری عزت چھوڑ کر انہیں جادو زدہ سمجھا گیا ۔ گویا یہ اعتراض رسالت اور دعوت پر تھا کہ جو کچھ یہ کہہ رہا ہے ( نبی ﷺ اور فرعون کے دربار میں موسیٰ علیہ السلام ) یہ باتیں کسی جادو زدہ کی لگتی ہیں۔ بالکل ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کوئی ان کے منہ سے یہ بات نکلوا رہا ہے۔ یعنی منکرین حدیث کا اعتراض بالکل غلط ہے کفار کا وہ اعتراض نبی ﷺ کی ذات پر نہیں بلکہ ان کی رسالت پر تھا۔

جادو زدہ کا مطلب ہے کہ ایک ایسا انسان جو سدا سے جادو کے اثر میں ہو اور اسے خود یہ نہیں معلوم ہو کہ وہ کیا بول رہا ہے جب کہ اوپر بیان کردہ احادیث سے یہ بات بالکل ثابت ہے کہ نبی ﷺ کی رسالت کے کسی کام میں کوئی فرق نہیں پڑا تھا بلکہ ان کے دماغ میں صرف اتنا آتا تھا کہ یہ کام کرلیا ہے اور حقیقت میں وہ کیا نہ ہوتا یا نبی ﷺ خیال کرتے تھے کہ اپنی ا زواج سے ملکر آ گئے ہیں لیکن حقیقت میں وہ گئے ہی نہیں ہوتے تھے۔

اگر جادو مان لیا جائے تو پھر جادو گر نافع و ضار بن گیا :

منکرین حدیث ایسے شوشے چھوڑتے رہتے ہیں کہ جس پر انسان کو ہنسی آ جاتی ہے۔ ایک ڈاکٹر نے کسی مریض کو دوائی دی اور مریض اچھا ہوگیا، کیا اب ڈاکٹر ’’ نافع ‘‘ ( فائدہ دینے والا ) بن گیا ؟

ڈاکٹر نے دوا دی مریض صحیح ہوگیا تو کیا ڈاکٹر کو نافع ( نفع دینے والا ) سمجھا جائے گا؟ڈاکٹر نے انجکشن لگایا مریض مرگیا اب کیا ڈاکٹر کو ضا ر( نقصان پہنچانے والا ) کہیں گے ؟ کوئی بیماری انسان کی موت کا سبب بن سکتی ہے، لیکن کوئی اپنی مرضی سے کسی کو کوئی بیماری نہیں لگا سکتا۔ فرعون موسیٰ علیہ السلام کی قوم کے بچوں کو قتل کراتا تھا ، اب کیا وہ لوگوں کو موت دینے والا کہلائے گا؟

ایک نے دوسرے کو گولی ماری دوسرا مر گیا اب گولی مارنے والے کو ضا رسمجھا جائے گا۔ کیساعجیب ہے ان کا انداز۔ جناب گولی مارنے والا گولی مارتا رہے وہ بندہ اسی وقت مرے گا جب اللہ کا حکم ہوگا ۔ جادوگر نہ کسی کو نفع دے سکتا ہے اور نہ ہی کوئی نقصان پہنچا سکتا ہے یہی بات تو سورہ بقرہ میں فرمائی گئی تھی :

وَمَا هُم بِضَآرِّينَ بِهِۦ مِنۡ أَحَدٍ إِلَّا بِإِذۡنِ ٱللَّهِۚ

] البقرة: 102]

’’ (حالانکہ) وہ اس سے کسی کو بھی بغیر اللہ کے حکم کے نقصان پہنچا ہی نہیں سکتے تھے‘‘۔

اللہ تعالیٰ نے کھل کر بتا دیا کہ جادو گر نہ نافع ہے اور نہ ضار بلکہ یہ صرف اللہ کی صفت ہے۔ جادوگر لاکھ عملیات کرتا رہے لیکں کسی کو نہ نفع دے سکتا ہے اور نہ نقصان۔ البتہ جادو گر نے عمل کیا اور اللہ تعالیٰ نے اس بندے کے لئے کچھ لکھ دیا ہے تو وہ اسے پہنچ کر رہے گا، اور پہنچے گا بھی صرف ’’ ذہن سوچ و پریشانی ‘‘ کی حد تک۔ ایسا نہیں کہ کسی کا بزنس تباہ ہو جائے گا، کسی کی شادی رک جائے گی۔ بلکہ ذہن اور اس کی وجہ سے ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ اسے بکری ہاتھی دکھائی دینے لگے۔

قرآن و حدیث سے جادو کا وجود ثابت ہوتا ہے لہذا اسے برحق کہا جاتا ہے۔اس پر جواب ملتا ہے کہ کیا آپ ابھی جادو کے ذریعے سے فلاں کام کرسکتے ہیں؟

جادو اثر انداز ہوتا ہے ، اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر وقت ، ہر جگہ ، ہر کسی پر اثر انداز ہوجاتا ہے ۔ اوپر بتا دیا گیا ہے کہ یہ صرف اللہ ہی کے حکم سے ہوتا ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے کسی کے لئے کوئی بات لکھ دی ہو اور جادو گر بھی اسی بات کے لئے کوشش کر رہا ہو تو اس کا جادو اثر انداز ہوگا ورنہ بالکل نہیں۔

جادو کیا ہے ؟

قرآن و حدیث سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ جادو ایک شیطانی عمل ہے۔

۔ ۔ ۔ وَلَقَدۡ عَلِمُواْ لَمَنِ ٱشۡتَرَىٰهُ مَا لَهُۥ فِي ٱلۡأٓخِرَةِ مِنۡ خَلَٰقٖۚ وَلَبِئۡسَ مَا شَرَوۡاْ بِهِۦٓ أَنفُسَهُمۡۚ لَوۡ كَانُواْ يَعۡلَمُونَ

[البقرة: 102]

’’ ۔ ۔۔ اور وہ خوب جانتے تھے کہ جو اس کا خریدار بنا اس کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں، اور بہت ہی بری چیز ہے وہ جس کے بدلے انہوں نے خود کو بیچ ڈالا کاش وہ اس بات کو جان لیتے‘‘۔

نبی ﷺ نے فرمایا :

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: “اجْتَنِبُوا السَّبْعَ الْمُوبِقَاتِ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَا هُنَّ، قَالَ: الشِّرْكُ بِاللَّهِ، وَالسِّحْرُ، وَقَتْلُ النَّفْسِ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلَّا بِالْحَقِّ، وَأَكْلُ الرِّبَا، وَأَكْلُ مَالِ الْيَتِيمِ، وَالتَّوَلِّي يَوْمَ الزَّحْفِ، وَقَذْفُ الْمُحْصَنَاتِ الْمُؤْمِنَاتِ الْغَافِلَاتِ

(صحیح البخاری: کتاب الوصایا، بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {إِنَّ الَّذِينَ يَأْكُلُونَ أَمْوَالَ اليَتَامَى ظُلْمًا، إِنَّمَا يَأْكُلُونَ فِي بُطُونِهِمْ نَارًا وَسَيَصْلَوْنَ سَعِيرًا}

[النساء: 10])

ابوہریرہؓ نبیﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ (ﷺ) نے فرمایا سات ہلاک کرنے والی باتوں سے دور رہو۔ لوگوں نے پوچھا یا رسول اللہﷺ وہ کونسی باتیں ہیں فرمایا اللہ کے ساتھ شرک کرنا اور جادو کرنا اور اس جان کا ناحق مارنا جس کو اللہ تعالیٰ نے حرام کیا ہے اور سود کھانا اور یتیم کا مال کھانا اور جہاد سے فرار یعنی بھاگنا اور پاک دامن بھولی بھالی مومن عورتوں پر زنا کی تہمت لگانا۔

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: “مَنِ اقْتَبَسَ عِلْمًا مِنَ النُّجُومِ، اقْتَبَسَ شُعْبَةً مِنَ السِّحْرِ زَادَ مَا زَادَ

(سنن ابو داؤد: کتاب الطب، باب في النجوم)

’’ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺنے فرمایا کہ جس نے علم نجوم کا کچھ حصہ سیکھا اس نے جادو کا ایک حصہ سیکھا ( جو حرام ہے) اور جتنا زیادہ (علم نجوم) سیکھا اتنا ہی زیادہ (سحر) سیکھا‘‘۔

واضح ہوا کہ سحر سیکھنا، سکھانا، کرنا سب حرام ہے۔

Categories
Uncategorized

وسیلے کا شرک

سورہ یونس میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :

﴿وَيَعۡبُدُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِ مَا لَا يَضُرُّهُمۡ وَلَا يَنفَعُهُمۡ وَيَقُولُونَ هَٰٓؤُلَآءِ شُفَعَٰٓؤُنَا عِندَ ٱللَّهِۚ قُلۡ أَتُنَبِّ‍ُٔونَ ٱللَّهَ بِمَا لَا يَعۡلَمُ فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَلَا فِي ٱلۡأَرۡضِۚ سُبۡحَٰنَهُۥ وَتَعَٰلَىٰ عَمَّا يُشۡرِكُونَ﴾

[يونس: 18]

’’ اور بندگی کرتے ہیں اللہ کے علاوہ ان کی جو نہ انہیں نقصان پہنچا سکتے ہیں اور نہ  انہیں کوئی فائدہ، اور کہتے ہیں کہ یہ ہمارے سفارشی ہیں اللہ کے پاس، (ان سے ) کہدو کہ اللہ کو ایسی خبر دیتے ہو جو وہ نہیں جانتا آسمانوں  میں اور نہ زمین میں، پاک ہے اور بلند ہے  وہ ان کے اس شرک سے ‘‘۔

مشرکین مکہ کا یہی طریقہ کار تھا۔ انہوں خانہ کعبہ میں انبیاء علیہ السلام، مریم صدیقہ اور ان لوگوں کے بت رکھے ہوئے تھے جنہیں وہ نیک  و صالح سمجھا کرتے تھے۔( بخاری ،  کتاب الحج ) ( بخاری،  کتاب التفسیر القرآن)۔ جیسا کہ اس آیت میں فرمایا کہ وہ ان کی عبادت کیا کرتے تھے۔  یعنی انہیں پکارتے تھے، ان سے دعائیں کیا کرتے تھے، ان کے نام کی نذر و نیاز کیا کرتے تھےجیسا کہ ایک حدیث میں نبی ﷺ نےفرمایا :

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا فَرَعَ وَلَا عَتِيرَةَ وَالْفَرَعُ أَوَّلُ النِّتَاجِ کَانُوا يَذْبَحُونَهُ لِطَوَاغِيتِهِمْ وَالْعَتِيرَةُ فِي رَجَبٍ

( بخاری، کتاب العقیقہ ، بَابُ الفَرَعِ )

’’ ابوہریرہ  ؓ کہتے ہیں کہ نبیﷺ نے فرمایا نہ تو فرع اور نہ ہی عتیرہ کوئی چیز ہے اور فرع اونٹنی کے سب سے پہلے بچے کو کہتے ہیں جو مشرکین اپنے طاغوتوں کے نام پر ذبح کرتے تھے اور عتیرہ اس قربانی کو کہتے ہیں جو رجب میں کی جائے‘‘۔

نبی ﷺ نے فرمایا کہ وہ اپنے طاغوتوں ( وہ انسان جو  اللہ کے بندوں کو  اللہ کے نازل کردہ  سے گمراہ کرے، یا اس سے روکے) کے نام پر قربانی کیا کرتے تھے۔ ایک اور حدیث میں ہے :

عن أنس، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «لا عقر في الإسلام»، قال عبد الرزاق: «كانوا يعقرون عند القبر بقرة أو شاة»

( سنن ابی داؤد ، کتاب الجنائز، باب: كراهية الذبح عند القبر)

’’انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا۔ اسلام میں عقر نہیں ہے۔ عبدالرزاق نے کہا کہ زمانہ جاہلیت میں لوگ قبروں کے پاس جا کر گائے یابکری ذبح کیا کرتے تھے‘‘۔ (اس کا نام عقر ہے)

تو یہ تھی ان کی عبادت اور فوت شدہ لوگوں کی شکر گزاری یا خوشنودی حاصل کرنے کا طریقہ۔ یہ سب کیوں تھا ؟ للہ تعالیٰ فرماتا ہے :

﴿أَلَا لِلَّهِ ٱلدِّينُ ٱلۡخَالِصُۚ وَٱلَّذِينَ ٱتَّخَذُواْ مِن دُونِهِۦٓ أَوۡلِيَآءَ مَا نَعۡبُدُهُمۡ إِلَّا لِيُقَرِّبُونَآ إِلَى ٱللَّهِ زُلۡفَىٰٓ ۔ ۔ ۔﴾

[الزمر: 3]

’’ خبردار دین خالص  ( خالص عبادت ) اللہ ہی کے لئے ہے، جن لوگوں نے اللہ کے علاوہ دوسروں کو کارساز بنا لیا ہے ( وہ کہتے ہیں ) ہم ان کی بندگی نہیں کرتے مگر اس لئے کہ  وہ ہمیں اللہ کے قریب کردیں ۔ ۔  ‘‘

واضح ہوا کہ اللہ کے علاوہ جن جن کی یہ بندگی کرتے تھے وہ محض اس لئے تھی کہ وہ انہیں اللہ کے قریب کردیں ، ہماری دعائیں اللہ تک پہنچا دیں جیسا کہ سورہ یونس کی آیت نمبر 18 میں ان کا عقیدہ بیان کیا گیا  اور اللہ سبحانہ و تعالیٰ  نے اسے شرک قرار دیا۔ وہ شرک اس لئے کہ   لِلَّهِ ٱلدِّينُ ٱلۡخَالِصُۚ دین خالص صرف اللہ کےلئے ہے، عبادت صرف اللہ کے لئےہے کسی اور کے لئےنہیں۔ جب کسی دوسرے سے دعا کی جائے یا دوسرے کے واسطے اور وسیلے  سے دعا  کی جائے تو  یہ عبادت میں شرک ہو جائے گا اور یوں شرک فی الحقوق اللہ ہوگا۔مشرکانہ دور کا یہ مشرکانہ عقیدہ اس امت میں بھی آ گیا اور  اللہ تعالیٰ کو دعاؤں میں واسطے اور وسیلے دئیے جانے لگے۔

اس میں سوچنے کی بات یہ ہے کہ

  • کیا اللہ تعالیٰ کچھ دیر کے لئے سو جاتا ہے ، کیا اللہ تعالیٰ براہ رست نہیں سن سکتا ؟کہ کوئی دوسرا سن کر اللہ تعالیٰ کو بعد میں بتائے( نعوذوباللہ )۔
  • کیا فوت شدہ افراد یا کوئی پیر ایسا بھی ہے کہ جس کی بات اللہ تعالیٰ نہیں ٹال سکتا ؟
  • کیا فوت شدہ انسان اسقدر طاقت ور ہیں کہ دنیا میں ہر ایک پکارنے والے کی پکار سن لیتے ہیں ؟

قرآنی دلائل بتاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ براہ راست سنتا ہے بلکہ اللہ تعالیٰ  انسان کو اسی کا بات کا حکم دیتا ہے :

﴿وَقَالَ رَبُّكُمُ ٱدۡعُونِيٓ أَسۡتَجِبۡ لَكُمۡۚ إِنَّ ٱلَّذِينَ يَسۡتَكۡبِرُونَ عَنۡ عِبَادَتِي سَيَدۡخُلُونَ جَهَنَّمَ دَاخِرِينَ﴾

[المومن: 60]

’’ اور تمہارا رب فرماتا ہے کہ مجھے پکارو میں تمہاری دعائیں قبول کروں گا  ، بے شک جو لوگ تکبر کرتے ہیں میری عبادت سے، عنقریب  ذلیل ہو کر جہنم میں داخل ہوں گے ‘‘۔

﴿وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌۖ أُجِيبُ دَعۡوَةَ ٱلدَّاعِ إِذَا دَعَانِۖ فَلۡيَسۡتَجِيبُواْ لِي وَلۡيُؤۡمِنُواْ بِي لَعَلَّهُمۡ يَرۡشُدُونَ﴾

[البقرة: 186]

’’اور (اے نبی!) جب میرے بندے تم سے میرے بارے میں پوچھیں تو تم انہیں بتا دو کہ میں قریب ہی ہوں، پکارنے والا جب مجھے پکارتا ہے تو میں اس کی پکار سن کر قبول کرتا ہوں، تو انہیں چاہئے کہ میرا حکم مانیں، اور مجھ پر ہی ایمان رکھیں تاکہ راہ ہدایت پائیں‘ ‘۔

اللہ تعالیٰ نے تو  براہ راست دعا کرنے کا حکم فرمایا ہے کہ براہ راست مجھے پکارو اور فرمایا جب میرا بندہ مجھے پکارتا ہے تو اسی وقت میں اس کی پکار  سن کر قبول فرما لیتا ہوں ، تو پھر کسی کے وسیلےسے دعائیں کیوں ؟ یہاں لوگوں کو گمراہ کیا جاتا ہے کہ  جب کسی آفیسر کے پاس جانا ہوتا ہے تو پہلے چپراسی کے پاس جاتے ہو، پھر وہ تمہاری درخواست  لیکر جاتا ہے پھر آفیسر سے ملاقات ہوتی ہے۔ اسی طرح پہلے ان فوت شدہ کی خوشنودی حاصل کرو یہ تمہاری  التجائیں اللہ تک پہنچادیں گے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :

﴿فَلَا تَضۡرِبُواْ لِلَّهِ ٱلۡأَمۡثَالَۚ إِنَّ ٱللَّهَ يَعۡلَمُ وَأَنتُمۡ لَا تَعۡلَمُونَ﴾

[النحل: 74]

’’ پس اللہ کے لئے مثالیں  نہ بیان کرو ، اللہ جاننے والا ہے اور تم نہیں جانتے ‘‘۔

بتا گیا کہ انسانوں والی مثالیں اللہ کے لئے نہیں بیان کرو، انسان تو ایک کمرے میں رہ کر دوسرے کمرے کا حال نہیں جانتا لیکن  تمہارا رب تو کائنات کے چپے چپے سے واقف ہے۔

﴿أَلَآ إِنَّهُمۡ يَثۡنُونَ صُدُورَهُمۡ لِيَسۡتَخۡفُواْ مِنۡهُۚ أَلَا حِينَ يَسۡتَغۡشُونَ ثِيَابَهُمۡ يَعۡلَمُ مَا يُسِرُّونَ وَمَا يُعۡلِنُونَۚ إِنَّهُۥ عَلِيمُۢ بِذَاتِ ٱلصُّدُورِ﴾

[هود: 5]

’’ آگاہ رہو کہ یہ اپنےسینوں کو موڑ لیتے ہیں  تاکہ اللہ سے چھپے رہیں  اور جب یہ اپنے آپ کو کپڑوں سے ڈھانکتے ہیں ، وہ جانتا ہے  جو وہ چھپاتا ہے اور جو وہ ظاہر کرتے ہیں، بے شک وہ خوب جاننے والا ہے سینوں کی باتوں کو‘‘۔

﴿وَلَقَدۡ خَلَقۡنَا ٱلۡإِنسَٰنَ وَنَعۡلَمُ مَا تُوَسۡوِسُ بِهِۦ نَفۡسُهُۥۖ وَنَحۡنُ أَقۡرَبُ إِلَيۡهِ مِنۡ حَبۡلِ ٱلۡوَرِيدِ﴾

[ق: 16]

’’ اور ہم نے انسان کو بنایا ہے اور ہم جانتے ہیں اس کے دل میں کیا وسوسے اٹھتے ہیں اور ہم اس کی شہہ رگ سے زیادہ قریب ہیں‘‘۔

﴿أَلَمۡ تَرَ أَنَّ ٱللَّهَ يَعۡلَمُ مَا فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَمَا فِي ٱلۡأَرۡضِۖ مَا يَكُونُ مِن نَّجۡوَىٰ ثَلَٰثَةٍ إِلَّا هُوَ رَابِعُهُمۡ وَلَا خَمۡسَةٍ إِلَّا هُوَ سَادِسُهُمۡ وَلَآ أَدۡنَىٰ مِن ذَٰلِكَ وَلَآ أَكۡثَرَ إِلَّا هُوَ مَعَهُمۡ أَيۡنَ مَا كَانُواْۖ ثُمَّ يُنَبِّئُهُم بِمَا عَمِلُواْ يَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِۚ إِنَّ ٱللَّهَ بِكُلِّ شَيۡءٍ عَلِيمٌ﴾

[المجادلة: 7]

’’ کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ جاننے والا ہے  جو کچھ آسمانوں میں ہے اور زمین میں،  نہیں ہوتی کوئی سرگوشی تین ( افراد ) کی لیکن چوتھا وہ ہوتا ہے، نہ پانچ کی لیکن چھٹا وہ ہوتا ہے، نہ اس سے کم اور نہ اس سے زیادہ جہاں کہیں بھی وہ ہوں  مگر وہ  ان کے ساتھ ہوتا ہے ، پھر جو کچھ بھی  انہوں نےکیا وہ قیامت کے دن انہیں بتا دے گا، بے شک  وہ ہر چیز سے باخبر ہے‘‘۔

﴿وَعِندَهُۥ مَفَاتِحُ ٱلۡغَيۡبِ لَا يَعۡلَمُهَآ إِلَّا هُوَۚ وَيَعۡلَمُ مَا فِي ٱلۡبَرِّ وَٱلۡبَحۡرِۚ وَمَا تَسۡقُطُ مِن وَرَقَةٍ إِلَّا يَعۡلَمُهَا وَلَا حَبَّةٖ فِي ظُلُمَٰتِ ٱلۡأَرۡضِ وَلَا رَطۡبٖ وَلَا يَابِسٍ إِلَّا فِي كِتَٰبٖ مُّبِينٖ﴾

[الأنعام: 59]

’’اور اس ( اللہ ) ہی کے پاس ہیں غیب کی کنجیاں، کوئی نہیں جانتا سوائے اس کے، وہ جانتا ہے ہے جو کچھ خشکی میں ہے اور جو تری میں ہے، اور نہیں گرتا پتوں میں سےکوئی مگر اس کے علم میں ہوتا ہے اور  نہیں ہے کوئی دانہ زمین کے ان اندھیروں میں  مگر وہ  کھلی کتاب میں موجود ہے ‘‘۔

کیا اتنے عظیم رب کے لئے کسی ایسے وسیلےکی ضرورت ہے کہ وہ اس تک ہماری بات پہنچائے ؟

کیا ( نعوذوباللہ ) اللہ تعالیٰ کچھ دیر کے لئے سو جاتا ہے کہ کوئی دوسرا سن کر اللہ تعالیٰ کو بعد میں بتائے۔

آیت الکرسی  میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :

﴿ٱللَّهُ لَآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ ٱلۡحَيُّ ٱلۡقَيُّومُۚ لَا تَأۡخُذُهُۥ سِنَةٞ وَلَا نَوۡمٞۚ لَّهُۥ مَا فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَمَا فِي ٱلۡأَرۡضِۗ مَن ذَا ٱلَّذِي يَشۡفَعُ عِندَهُۥٓ إِلَّا بِإِذۡنِهِۦۚ يَعۡلَمُ مَا بَيۡنَ أَيۡدِيهِمۡ وَمَا خَلۡفَهُمۡۖ وَلَا يُحِيطُونَ بِشَيۡءٖ مِّنۡ عِلۡمِهِۦٓ إِلَّا بِمَا شَآءَۚ وَسِعَ كُرۡسِيُّهُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضَۖ وَلَا يَ‍ُٔودُهُۥ حِفۡظُهُمَاۚ وَهُوَ ٱلۡعَلِيُّ ٱلۡعَظِيمُ﴾

[البقرة: 255]

’’اللہ (ہی معبود) ہے اسکے سوا کوئی الٰہ  نہیں، وہ زندہ اور قائم رکھنے والا ہے ،اسے نہ اونگھ آتی ہے اور نہ نیند۔ اسی کے لیے ہے جو آسمانوں اور زمین میں ہے،کون ہے جو بغیر اس کی اجازت کے سفارش کر سکے، جو کچھ انکے آگے اور پیچھے ہے وہ سب جانتا ہے ، اور لوگ اسکے علم میں سے کسی چیز کا احاطہ نہیں کر سکتے مگر جتنا وہ چاہے۔اس کی کرسی زمین و آسماں پر چھائی ہوئی ہے، اور ان کی نگرانی اس کو تھکاتی نہیں، وہ اعلیٰ مرتبہ اور عظیم ہے‘‘۔

اب بتائیں اللہ کے علاوہ اس کائنات میں کون ایسا ہے جو کسی بھی لمحے نہ کہیں جاتا ہے، نہ سوتا ہے اور نہ اسے نیند آتی ہے۔ کائنات کی ہر ہر لمحے کی خبر اسے ہے ، ہر ہر مخلوق کا حال اسے معلوم ہے۔ کون بھوکا ہے، کون بیمار ہے، کسے کس چیز کی حاجت ہے اسے ہر چیز کا علم ہے ۔ اس کے مقابلے میں جن انسانوں کو اس کا وسیلہ بنانے کا کہا جا رہا ہے تو وہ تو اپنی زندگی میں دیوار کے پار کی چیز نہیں دیکھ سکتے تھے، دور کی آواز نہیں سن سکتے تھے اور اب تو  وہ مر چکے ہیں۔ قرآن و حدیث کے بیان کے مطابق ان کا جسم سڑگل گیا ہوگا۔ نہ ان کے کان ہیں کہ وہ اس سے سنیں اورنہ آنکھیں کہ اس سے دیکھیں اور نہ ہی ان  کے اختیار میں کوئی چیز ہے اور نہ وہ کسی چیز کے مالک ہیں۔

یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اللہ ہماری نہیں سنتا اور ان ( بزرگوں ) کی ٹالتا نہیں۔ قرآن میں اللہ نے بتا دیا کہ جب پکارنے والا مجھے پکارتا ہے اسی وقت سنتا اور قبول فرماتا ہوں۔ پھر یہ بھی سامنے آ گیا کہ اللہ ہر چیز سے باخبر ہے اور جنہیں انسان اس کا وسیلہ بنانے کا کہتے ہیں وہ تو مردہ ہیں جو نہ سن سکتے ہیں، نہ جان سکتے ہیں انہیں تو خود اپنے حال کا بھی علم نہیں اور نہ یہ شعور ہے کہ کب زندہ کرکے اٹھائے جائیں گے۔ اب آخری بات کہ کیا کائنات میں کوئی ایسا بھی ہے جو اللہ کےسامنے مچل جائے اور اپنے بات منوا لے۔ مالک کائنات فرماتا ہے :

﴿۔ ۔ ۔ ۔ وَمَا كَانَ ٱللَّهُ لِيُعۡجِزَهُۥ مِن شَيۡءٖ فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَلَا فِي ٱلۡأَرۡضِۚ إِنَّهُۥ كَانَ عَلِيمٗا قَدِيرٗا﴾

[فاطر: 44]

’’ اور اللہ کو تو آسمانوں کی یا زمین کی کوئی چیز بھی عاجز نہیں کرسکتی۔ بلاشبہ وہ سب کچھ جاننے والا اور قدرت والا ہے ‘‘۔

واضح ہو گیا کہ کائنات میں کوئی ایسی چیز نہیں کہ وہ مچل کر اللہ کو عاجز کردے اور اللہ اس کی بات ماننےپر مجبور ہو جائے، یہ سب جھوٹ ہے۔ بھلا کیا مقابلہ خالق و مخلوق کا، ایک رزق دینے والا اور دوسرے رزق لینے والےہیں ، ایک  جس نے ساری کائنات کو بنایاہے  اور ایک وہ جس نے ایک درخت کا ایک پتہ بھی نہ بنایا ۔ سفارش تو  ہمیشہ کم اختیار والا زیادہ اختیار والے کو کرتا ہے، زیادہ علم والا کم علم والے کو سفارش کرتا ہے۔ جب کائنات میں  اللہ کے علاوہ کوئی دوسرا ذرہ برابر اختیار ہی نہیں رکھتا تو وہ سفارش کیسے کرے گا۔ اسی طرح کسی کا علم اللہ سے بڑھ کر ہے ہی نہیں کہ جسکی وہ اللہ کو  خبر دے سکے۔ بھلا جو ایک ایک لمحے اللہ کا محتاج ہو اور اب مر بھی چکا ہوتو   وہ اللہ کے سامنے مچل اور ضد کرسکتا ہے ؟ ( کبھی بھی نہیں )

ان سارے دلائل سے ثابت ہوا کہ عبادت یعنی دعا براہ راست اللہ تعالیٰ سے کرنی چاہئیے یہی اس کا حق ہے جب انسان اس میں کوئی وسیلہ بناتا ہے تو  اللہ تعالیٰ نے سورہ یونس آیت نمبر 18 میں اس فعل کو شرک قرار دیا۔

اللہ تعالیٰ کے ناموں کا وسیلہ :

اللہ تعالیٰ نے قرآن میں دعا کرنے کا طریقہ بتایا :

﴿وَلِلَّهِ ٱلۡأَسۡمَآءُ ٱلۡحُسۡنَىٰ فَٱدۡعُوهُ بِهَا﴾

[الأعراف: 180]

’’ اور اللہ کے بہترین نام ہیں، ان کے ذریعے  اس سے دعا کرو ‘‘

﴿قُلِ ٱدۡعُواْ ٱللَّهَ أَوِ ٱدۡعُواْ ٱلرَّحۡمَٰنَۖ أَيّٗا مَّا تَدۡعُواْ فَلَهُ ٱلۡأَسۡمَآءُ ٱلۡحُسۡنَىٰۚ۔ ۔ ۔ ﴾

[الإسراء: 110]

’’ ( اے نبی ﷺ ) کہدیں:  تم پکارو اللہ کو یا پکارو رحمٰن کو، کسی بھی  نام سے تم پکارو ( یہ ) سب اللہ کے بہترین نام ہیں ‘‘۔

معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کو دعا میں اس کے بہترین ناموں کا واسطہ یا وسیلہ دیا جا سکتا ہے۔ دعا کریں ’’ یا رحمٰن ‘‘ اے رحم فرمانے والے مجھے پر رحم فرما۔ ’’یا  رزاق ‘‘ اے بہترین رزق دینے والے مجھے اچھےسے اچھا رزق عطا فرما ۔

زندہ شخص  کا وسیلہ بنانا :

احایث سے وسیلہ کے کچھ معاملات ثابت ہوتے ہیں کہ جیسے صحابہ ؓ  نبی ﷺ  سےدعا کی درخواست کرتے تھے۔ لیکن جب نبی ﷺ کی وفات ہوگئی تو انہوں نے نبی ﷺ کے وسیلے سے دعا نہیں کی بلکہ نبی ﷺ کے چچا عباس ؓ سے (نبی ﷺ کی نگاہ میں جو ان کا مقام تھا اس وجہ سے )  کرائی۔

عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الخَطَّابِ، كَانَ إِذَا قَحَطُوا اسْتَسْقَى بِالعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ المُطَّلِبِ فَقَالَ: «اللَّهُمَّ إِنَّا كُنَّا نَتَوَسَّلُ إِلَيْكَ بِنَبِيِّنَا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَسْقِينَا، وَإِنَّا نَتَوَسَّلُ إِلَيْكَ بِعَمِّ نَبِيِّنَا فَاسْقِنَا» قَالَ: فَيُسْقَوْنَ

( بخاری، كتاب أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم،   بَابُ ذِكْرِ العَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ المُطَّلِبِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ )

’’انس بن مالک ؓ  روایت کرتے ہیں کہ جب لوگ قحط میں مبتلا ہوتے تو عمر بن خطابؓ، عباس ؓ بن عبدالمطلب کے وسیلہ سے دعا کرتے اور فرماتے کہ اے اللہ ہم تیرے پاس تیرے نبی ﷺ کا وسیلہ لے کر آیا کرتے تھے تو ،تو ہمیں سیراب کرتا تھا اب ہم لوگ اپنے نبی کے چچاعباس ؓ  کا وسیلہ لے کر آئے ہیں ہمیں سیراب کر، راوی کا بیان ہے کہ لوگ سیراب کئے جاتے یعنی بارش ہوجاتی ‘‘۔

اس موقع پر عباس ؓ نے الفاظ کہے وہ اس طرح سے تھے :

أَنَّ الْعَبَّاسَ لَمَّا اسْتَسْقَى بِهِ عُمَرُ قَالَ اللَّهُمَّ إِنَّهُ لَمْ يَنْزِلْ بَلَاءٌ إِلَّا بِذَنْبٍ وَلَمْ يُكْشَفْ إِلَّا بِتَوْبَةٍ وَقَدْ تَوَجَّهَ الْقَوْمُ بِي إِلَيْكَ لِمَكَانِي مِنْ نَبِيِّكَ وَهَذِهِ أَيْدِينَا إِلَيْكَ بِالذُّنُوبِ وَنَوَاصِينَا إِلَيْكَ بِالتَّوْبَةِ فَاسْقِنَا الْغَيْثَ فَأَرْخَتِ السَّمَاءُ مِثْلَ الْجِبَالِ حَتَّى أَخْصَبَتِ الْأَرْضَ وَعَاشَ النَّاسُ

( الكتاب: فتح الباري شرح صحيح البخاري ۔المؤلف: أحمد بن علي بن حجر ، جزء 2، صفحہ 497 )

’’ جب عمر رضی اللہ نے عباس رضی اللہ عنہ سے بارش کے لئے دعا کروائی تو انہوں نے کہا: اے اللہ نہیں نازل ہوتی کوئی بلاء مگر گناہ کے سبب اور نہیں دور ہوتی مگر توبہ سے ۔ میری اس قوم نے تیرے نبی  ﷺکے نزدیک میرے مقام کی وجہ سے میری توجہ تیری طرف کی ہے اور ہمارے یہ گناہ آلود ہاتھ تیری طرف توبہ کے لئے اکھٹے ہوئے ہیں ، پس ہم پر بارش برسا۔ پس آسمان سے پانی پہاڑ کی طرح کثرت سے برسا یہاں تک کہ زمین زرخیز ہو گئی اور لوگ جی اٹھے‘‘۔

معلوم ہوا کہ کسی زندہ شخص سے دعا کرنا بھی وسیلہ کہلاتا ہے جو کہ جائز وسیلہ ہے،یعنی کسی مومن متقی شخص سے دعا کی درخواست کی جائے اور وہ اللہ سے اس کے لئے دعا کرے۔  انس ؓ بیان کرتے ہیں :

عن أنس بن مالك، قال: كنت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم جالسا في الحلقة، ورجل قائم يصلي، فلما ركع وسجد فتشهد، ثم قال في دعائه: اللهم إني أسألك بأن لك الحمد، لا إله إلا أنت المنان، يا بديع السماوات والأرض، يا ذا الجلال والإكرام، يا حي يا قيوم، إني أسألك، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: ” أتدرون بما دعا الله؟ ” قال: فقالوا: الله ورسوله أعلم، قال: ” والذي نفسي بيده، لقد دعا الله باسمه الأعظم، الذي إذا دعي به أجاب، وإذا سئل به أعطى “

( مسند احمدِ  ، مسند المكثرين من الصحابة،   مسند أنس بن مالك ؓ )

’’انسؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی ﷺ کے ساتھ حلقے میں بیٹھا ہوا تھا اور ایک آدمی کھڑا صلواۃ ادا کر رہا تھا، رکوع و سجود کے بعد جب وہ بیٹھا تو تشہد میں اس نے یہ دعا پڑھی (اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِأَنَّ لَكَ الْحَمْدَ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ الْحَنَّانُ بَدِيعَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ يَا حَيُّ يَا قَيُّومُ إِنِّي أَسْأَلُكَ ) ” اے اللہ ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کیونکہ تمام تعریفیں تیرے لئے ہی ہیں، تیرے علاوہ کوئی معبود نہیں، نہایت احسان کرنے والا ہے، آسمان و زمین کو بغیر نمونے کے پیدا کرنے والا ہے اور بڑے جلال اور عزت والا ہے۔ اے زندگی دینے والے اے قائم رکھنے والے ! میں تجھ سے ہی سوال کرتا ہوں “۔ نبی ﷺنے فرمایا تم جانتے ہو کہ اس نے کیا دعاء کی ہے ؟ صحابہ ؓ  نے عرض کیا اللہ اور اس کے رسول ﷺہی زیادہ جانتے ہیں۔ نبی ﷺ نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے اس نے اللہ سے اس کے اس اسم اعظم کے ذریعے دعاء مانگی ہے کہ جب اس کے ذریعے سے دعاء مانگی جائے تو اللہ اسے ضرور قبول کرتا ہے اور جب اس کے ذریعے سوال کیا جائے تو وہ ضرور عطاء کرتا ہے ‘‘۔

اپنے اعمال کا وسیلہ :

عبد اللہ بن عمر ؓ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے سابقہ دور کے چند افراد کے بارے میں ایک حدیث بیان کی :

عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ خَرَجَ ثَلَاثَةُ نَفَرٍ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ قَالَ فَقُلْتُ مَا أَسْتَهْزِئُ بِکَ وَلَکِنَّهَا لَکَ اللَّهُمَّ إِنْ کُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي فَعَلْتُ ذَلِکَ ابْتِغَائَ وَجْهِکَ فَافْرُجْ عَنَّا فَکُشِفَ عَنْهُمْ

( بخاری ، کتاب البیوع، بَابُ إِذَا اشْتَرَى شَيْئًا لِغَيْرِهِ بِغَيْرِ إِذْنِهِ فَرَضِيَ )

’’ ابن عمر ؓ     نبی ﷺسے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا کہ تین آدمی جا رہے تھے تو بارش ہونے لگی وہ تینوں پہاڑ کی ایک غار میں داخل ہوگئے ایک چٹان اوپر سے گری اور غار کا منہ بند ہوگیا ایک نے دوسرے سے کہا کہ اللہ سے کسی ایسے اچھے عمل کا واسطہ دے کر دعا کرو جو تم نے کیا ہو ان میں سے ایک نے کہا اے میرے اللہ میرے ماں باپ بہت بوڑھے تھے چناچہ میں باہر جاتا اور جانور چراتا تھا پھر واپس آکر دودھ دوھ کر اپنے ماں باپ کے پاس لاتا جب وہ پی لیتے تو میں بیوی بچوں اور گھر والوں کو پلاتا ایک رات مجھے دیر ہوگئی میں آیا تو دونوں سو گئے تھے مجھے نا گوار ہوا کہ میں انہیں جگاؤں اور بچے میرے پاؤں کے پاس بھوک کے مارے رو رہے تھے طلوع فجر تک میری حالت یہی رہی اے اللہ اگر تو یہ جانتا ہے کہ میں نے صرف تیری رضا مندی کے لئے کیا ہے تو پتھر مجھ سے کچھ ہٹا دے تاکہ ہم آسمان تو دیکھ سکیں پتھر کچھ ہٹ گیا پھر دوسرے آدمی نے کہا اے اللہ میں اپنی ایک چچا زاد بہن سے بےانتہا محبت کرتا تھا جس قدر ایک مرد عورتوں سے محبت کرتا ہے لیکن اس نے کہا تم اپنا مقصد مجھ سے حاصل نہیں کرسکتے جب تک کہ تم سو دینار نہ دے دو چناچہ میں نے محنت کر کے سو دینار جمع کئے جب میں اس کی دونوں ٹانگوں کے درمیان بیٹھا تو اس نے کہا اللہ سے ڈر مہر ناجائز طور پر نہ توڑ میں کھڑا ہوگیا اور اسے چھوڑ دیا اے اللہ اگر تو جانتا ہے کہ میں نے صرف تیری رضا کے لئے ایسا کیا تو اس پتھر کو کچھ ہٹا دے وہ پتھر دو تہائی ہٹ گیا پھر تیسرے آدمی نے کہا یا اللہ میں نے ایک مزدور ایک فرق جوار کے عوض کام پر لگایا جب میں اسے دینے لگا تو اس نے لینے سے انکار کردیا میں نے اس جوار کو کھیت میں بودیا یہاں تک کہ میں نے اس سے گائے بیل اور چرواہا خریدا پھر وہ شخص آیا اور کہا اے اللہ کے بندے تو مجھے میرا حق دیدے میں نے کہا ان گایوں بیلوں اور چرواہے کے پاس جا اور انہیں لے لے یہ تیرے ہیں اس نے کہا کیا تم مذاق کرتے ہو میں نے اس سے کہا میں تجھ سے مذاق نہیں کر رہا وہ تیرے ہی ہیں اے میرے اللہ اگر تو جانتا ہے کہ میں نے صرف تیری خوشنودی کے لئے ایسا کیا تو یہ پتھر ہم سے ہٹا دے چناچہ وہ پتھر ان سے ہٹ گیا‘‘۔

اس سے معلوم ہوا کہ انسان اپنے ذاتی اعمال کا وسیلہ بھی دے سکتا ہے کہ اے مالک میں میرےیہ اعمال صرف تیری رضا کے لئے تھے ، مالک انہیں قبول فرما اور ان کی وجہ سے مجھے اس تکلیف سے نکال دے۔

اس بارے میں فرقہ پرستوں کی مغالطہ آ رائیاں :

اس بارے میں فرقہ پرستوں نے امت میں غلط اور مشرکانہ عقائد داخل کردئیے ہیں۔ سب سے پہلے تو قرآن مجید کی ایک آیت پیش کرکے اس سے مردوں کو وسیلہ بنانے کا عقیدہ دیا جاتا ہے لہذا سب سے پہلے اس کو سمجھیں ۔

﴿يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ ٱتَّقُواْ ٱللَّهَ وَٱبۡتَغُوٓاْ إِلَيۡهِ ٱلۡوَسِيلَةَ وَجَٰهِدُواْ فِي سَبِيلِهِۦ لَعَلَّكُمۡ تُفۡلِحُونَ﴾

[المائدة: 35]

’’اے ایمان والو ! اللہ سے ڈرو اور اس کی قربت کا ذریعہ تلاش کرو ، اور جہاد ( جدوجہد ) کرو اس کی راہ میں تاکہ فلاح پا جاؤ‘‘۔

فرقہ پرست یہاں لوگوں کو دھوکہ دیتے ہیں اور عربی لفظ  ’’ وسیلہ ‘‘ کا اردو ترجمہ نہیں کرتے اس سے لوگ دھوکہ کھا جاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے خود اللہ کی طرف’’ وسیلہ‘‘ بمعنی’’ ذریعہ‘‘ پکڑنے کا حکم دیا ہے۔عربی لفظ ’’ وسیلہ ‘‘ کے معنی ہیں ’’ قربت ‘‘ یعنی اے ایمان والو !  اللہ سے ڈرو اور اس کی قربت کا ذریعہ تلاش کرو۔  مزید اسی آیت میں اللہ کی قربت کا ذریعہ بھی بتا دیا گیا کہ وَجَٰهِدُواْ فِي سَبِيلِهِۦ   اللہ کی راہ میں جدوجہد کرو۔ یعنی اپنی جان، اپنا   مال ، وقت ، جسم اللہ کی راہ میں لگاؤ۔ اللہ تعالیٰ نے تمہیں ایمان سے نوازا ہے تو تم اپنی زندگیوں کو اللہ کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق ڈھال لو۔ اب اس کی تبلیغ کے لئے نکلو اور پھر شاید جہاد بالسیف کا بھی وقت آ جائے تو اللہ کی راہ میں کافروں اور مشرکوں کو قتل کرو یا اپنی جان اللہ کی راہ میں لٹا دو۔

حدیث میں وسیلہ کا بیان ملتا ہے اور فرقہ پرست اپنے مقلدین کو گمراہ کرتے ہیں کہ خود نبی ﷺ نے  وسیلے کی دعا سکھائی ہے۔ حدیث میں آتا ہے :

عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ” مَنْ قَالَ حِينَ يَسْمَعُ النِّدَاءَ: اللَّهُمَّ رَبَّ هَذِهِ الدَّعْوَةِ التَّامَّةِ، وَالصَّلاَةِ القَائِمَةِ آتِ مُحَمَّدًا الوَسِيلَةَ وَالفَضِيلَةَ، وَابْعَثْهُ مَقَامًا مَحْمُودًا الَّذِي وَعَدْتَهُ، حَلَّتْ لَهُ شَفَاعَتِي يَوْمَ القِيَامَةِ “

(بخاری كِتَابُ الأَذَانِ بَابُ الدُّعَاءِ عِنْدَ النِّدَاءِ)

’’جابر بن عبداللہؓ  روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :”جو شخص اذان سنتے وقت یہ دعا پڑھے ( اللَّهُمَّ رَبَّ هَذِهِ الدَّعْوَةِ التَّامَّةِ، وَالصَّلاَةِ القَائِمَةِ آتِ مُحَمَّدًا الوَسِيلَةَ وَالفَضِيلَةَ، وَابْعَثْهُ مَقَامًا مَحْمُودًا الَّذِي وَعَدْتَهُ ) تو اس کے لئےقیامت کے دن میری شفاعت  حلال ہو گی”۔

عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِذَا سَمِعْتُمُ الْمُؤَذِّنَ، فَقُولُوا مِثْلَ مَا يَقُولُ ثُمَّ صَلُّوا عَلَيَّ، فَإِنَّهُ مَنْ صَلَّى عَلَيَّ صَلَاةً صَلَّى الله عَلَيْهِ بِهَا عَشْرًا، ثُمَّ سَلُوا اللهَ لِيَ الْوَسِيلَةَ، فَإِنَّهَا مَنْزِلَةٌ فِي الْجَنَّةِ، لَا تَنْبَغِي إِلَّا لِعَبْدٍ مِنْ عِبَادِ اللهِ، وَأَرْجُو أَنْ أَكُونَ أَنَا هُوَ، فَمَنْ سَأَلَ لِي الْوَسِيلَةَ حَلَّتْ لَهُ الشَّفَاعَةُ»

(مسلم  كِتَابُ الصَّلَاةِ بَابُ الْقَوْلِ مِثْلَ قَوْلِ الْمُؤَذِّنِ لِمَنْ سَمِعَهُ، ثُمَّ يُصَلِّي عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ يَسْأَلُ لهُ الْوَسِيلَةَ)

“عبد اللہ بن عمرو بن العاص ؓ سے مروی ہے کہ انہوں نے سنا نبی ﷺ کو کہتے ہوئے : جب تم مؤذن سے سنو توکہو جیسے مؤذن کہتا ہے پھر میرے لئے رحمت کی دعا کرو ( درود )،جو شخص مجھ پر ایک مرتبہ درود بھیجے گا’ اﷲاس پر دس بار درود بھیجے گا۔ پھر میرے لیے اﷲ سے وسیلہ مانگو کیونکہ وسیلہ جنت میں ایک مقام  ہے جو بندگان اﷲ میں سے کسی ایک بندہ کیلئے بنایاگیا ہے اور مجھے امید ہے کہ وہ بندہ میں ہوں ۔لہٰذا جو شخص میرے لئے وسیلہ کا سوال کرے گا اس کیلئے میری شفاعت حلال ہوگئی” ۔

واضح ہوا کہ ’’ وسیلہ ‘‘ جنت الفردوس میں ایک اعلیٰ مقام ہے اور نبی ﷺ نے فرمایا کہ مؤذن جو الفاظ کہتا ہے تم بھی وہی کہو، پھر میرے لئے رحمت کی دعا ( درود ) کرو، اور پھر میرے لئے وسیلے کی دعا کرو، یعنی جودعا نبی ﷺ نے سکھائی ہے وہ کرو۔

فرقہ پرست اس بارے میں کافی ضعیف روایات بیان کرتے ہیں ، جس کی مکمل تفصیل ہمارے مضمون ’’ وسیلہ کے بارے میں بیان کردہ روایات کی حقیقت ‘‘ میں پڑھی جا سکتی ہے۔  اس بارے میں ایک روایت بیان کی جاتی ہے کہ آدم علیہ السلام نے محمد ﷺ کے وسیلے سے دعا مانگی۔ اس روایت کی سندی حیثیت تو اوپر دئیے گئے لنک میں موجود ہے یہاں ہم اس کے متن پر بات کرتے ہیں۔

نبی ﷺ کو دعا میں وسیلہ بنانا

دیوبندی تبلیغی جماعت کی فضائل اعمال میں ایک روایت درج کی گئی ہے کہ  آدم علیہ السلام نے نبی کے وسیلے سے دعا مانگی  تو اللہ نے اسے قبول فرمایا اور انہیں معاف فرمایا۔ اس بارے میں بیان کردہ مختلف روایات کا ملخص یہ ہے :

’’آدم علیہ السلام سے جو گناہ ہوا اس کی سزا کی پاداش میں انہیں جنت سے نکال کر زمین پر بھیجا گیا۔وہ اس زمین پر روتے رہے اور اللہ تعالیٰ سے اس گناہ کی معافی مانگتے رہے، آخر کار جب نبی کے وسیلے دعا مانگی تو اللہ تعالیٰ نے انہیں معاف کردیا‘‘۔

بقول ان لوگوں کے آدم علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی  اس کے الفاظ یہ تھے :

’’میں محمدؐ کے وسیلہ سے تجھ سے مغفرت کا خواستگار ہوں ۔ اللہ تعالیٰ نے پوچھا: اے آدم ؑ! تم محمد کے متعلق کیسے جانتے ہو، حالانکہ میں نے تو اسے ابھی پیدا ہی نہیں کیا؟ عرض کیا: اے اللہ! جب تو نے مجھے اپنے ہاتھ سے پیدا کیا اور مجھ میں روح پھونکی تو میں نے اپنا سراُٹھایا اور عرش کے پایوں پر لکھا ہوا دیکھا تھا: لا إلہ إلا اﷲ محمد رسول اﷲ تو میں سمجھ گیا کہ جس کو تو نے اپنے نام کے ساتھ ملا رکھا ہے، کائنات میں اس سے برتر کوئی نہیں ہوسکتا تو اللہ نے فرمایا: میں نے تجھے معاف کردیا اور اگر محمدؐ نہ ہوتے تو میں تجھے اور نہ کائنات  پیدا ہی نہ کرتا۔‘‘

ان کے اس بیان سے ثابت ہوا:

  • آدم علیہ السلام اور بی بی حوا کو سزا کی بنأ پر زمین پر بھیجا گیا۔
  • انہوں نے  اپنے الفاظ میں اللہ تعالیٰ سے دعا کی تو  انہیں زمین پر معاف کردیا گیا۔

یہ عقیدہ سراسر قرآن کے خلاف ہے کیونکہ قرآن سے واضح ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں سزا کے طور پر زمین پر نہیں بھیجا بلکہ  زمین پر بھیجنے سے قبل ہی معاف کردیا تھا:

﴿فَاَكَلَا مِنْهَا فَبَدَتْ لَهُمَا سَوْاٰتُهُمَا وَطَفِقَا يَخْصِفٰنِ عَلَيْهِمَا مِنْ وَّرَقِ الْجَنَّةِ وَعَصٰٓى اٰدَمُ رَبَّهٗ فَغَوٰى       ؁       ثُمَّ اجْتَبٰىهُ رَبُّهٗ فَتَابَ عَلَيْهِ وَهَدٰى        ؁ قَالَ اهْبِطَا مِنْهَا جَمِيْعًۢا بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ  ۚ فَاِمَّا يَاْتِيَنَّكُمْ مِّنِّيْ هُدًى ڏ فَمَنِ اتَّبَعَ هُدَايَ فَلَا يَضِلُّ وَلَا يَشْقٰي﴾

[طه: 121-123]

’’ چنانچہ ان دونوں نے اس درخت سے کھا لیا  تو ان کے ستر عیاں ہو گئے اور وہ جنت کے  پتوں کو اپنے اوپر لگانے لگے۔ آدم نے اپنے رب کی نافرمانی کی پس وہ راہ سے بہک گیا۔ پھر اس کے رب نے اسے برگزیدہ کیا ،اسے معاف کیا اور ہدایت دی۔ فرمایا: تم دونوں ( انسان اور شیطان ) یہاں سے اتر جاو ، تم ایک دوسرے کے دشمن ہو ۔ پھر جب  تمہارے پاس میرے طرف سے ہدایت پہنچے ، تو جس نے اس کی پیروی کی تو وہ نہ  بہکے گا اور اور نہ ہی تکلیف میں پڑے گا۔‘‘

قرآن مجید میں بیان کردیا گیا کہ آدم علیہ السلام نے معافی مانگی، اللہ تعالیٰ نے انہیں معاف کیا اور انہیں ہدایت دے کر اس زمین پر بھیجا۔ اس کے بعد اس بات کا تصور ہی نہیں رہتا کہ انہوں نے زمین پر آکر اپنی اس خطا کی دوبارہ معافی ہوگی ۔مزید دیکھیں قرآن کس واضح انداز میں بیان کرتا ہے کہ یہ  معافی کس وقت مانگی گئی۔

﴿فَدَلّٰىهُمَا بِغُرُوْرٍ ۚ فَلَمَّا ذَاقَا الشَّجَرَةَ بَدَتْ لَهُمَا سَوْاٰتُهُمَا وَطَفِقَا يَخْصِفٰنِ عَلَيْهِمَا مِنْ وَّرَقِ الْجَنَّةِ  ۭوَنَادٰىهُمَا رَبُّهُمَآ اَلَمْ اَنْهَكُمَا عَنْ تِلْكُمَا الشَّجَرَةِ وَاَقُلْ لَّكُمَآ اِنَّ الشَّيْطٰنَ لَكُمَا عَدُوٌّ مُّبِيْنٌ          ؀  قَالَا رَبَّنَا ظَلَمْنَآ اَنْفُسَنَا    ۫وَاِنْ لَّمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِيْنَ        ؀  قَالَ اهْبِطُوْا بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ ۚ وَلَكُمْ فِي الْاَرْضِ مُسْتَقَرٌّ وَّمَتَاعٌ اِلٰي حِيْنٍ﴾

[الأعراف: 22-24]

’’ پھر ( شیطان ) نے ان دونوں کو دھوکے سے اپنی طرف مائل کرلیا ، پس جب انہوں نے اس درخت کو چکھا تو شرمگاہیں ایک دوسرے کے سامنے کھل گئیں اور وہ اپنے اوپر جنت کے پتے ڈھاپنے لگے، تو ان کے رب نے انہیں پکارا اور کہا کہ کہ کیا میں نے تمہیں اس درخت سے منع نہیں کیا تھا اور کہا تھا کہ یہ شیطان تمہارا کھلا دشمن ہے۔دونوں نے کہا :  ’’اے ہمارے رب ہم دونوں نے اپنے اوپر ظلم کیا، اگر تو ہمیں معاف نہیں کرے گا اور ہم رحم نہیں کرے گا تو یقینا ہم زبردست نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو جائیں گے‘‘۔ ( اللہ تعالیٰ نے )کہا نکل جاؤ  ، تم ( انسان و شیطان ) ایک دوسرے کے دشمن ہو، اور تمہارے لئے ایک خاص وقت تک کے لئے زمین پر ٹہرنا اور فائدہ اٹھانا ہے ۔‘‘   

واضح ہوا کہ یہ معافی اسی وقت مانگی گئی تھی کہ جب یہ خطا سرزد ہوئی تھی، معافی قبول کرنے کے بعد انہیں زمین پر بھیجا گیا۔

قرآن میں مزید بیان کیا گیا:

﴿وَقُلْنَا يٰٓاٰدَمُ اسْكُنْ اَنْتَ وَزَوْجُكَ الْجَنَّةَ وَكُلَامِنْهَا رَغَدًا حَيْثُ شِـئْتُمَـا       ۠  وَلَا تَـقْرَبَا ھٰذِهِ الشَّجَرَةَ فَتَكُوْنَا مِنَ الظّٰلِمِيْنَ        ؀فَاَزَلَّهُمَا الشَّيْطٰنُ عَنْهَا فَاَخْرَجَهُمَا مِمَّا كَانَا فِيْهِ     ۠ وَقُلْنَا اھْبِطُوْا بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ   ۚ   وَلَكُمْ فِى الْاَرْضِ مُسْـتَقَرٌّ وَّمَتَاعٌ اِلٰى حِيْنٍ        ؀فَتَلَـقّيٰٓ اٰدَمُ مِنْ رَّبِّهٖ كَلِمٰتٍ فَتَابَ عَلَيْهِ    ۭ   اِنَّهٗ ھُوَ التَّوَّابُ الرَّحِيْمُ       ؀قُلْنَا اھْبِطُوْا مِنْهَا جَمِيْعًا    ۚ  فَاِمَّا يَاْتِيَنَّكُمْ مِّـنِّىْ ھُدًى فَمَنْ تَبِعَ ھُدَاىَ فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا ھُمْ يَحْزَنُوْنَ   ؀وَالَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَكَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَآ اُولٰۗىِٕكَ اَصْحٰبُ النَّارِ   ۚ   ھُمْ فِيْهَا خٰلِدُوْنَ  ﴾

[البقرة: 35-39]

’’ اور ہم نے کہا: اے آدم تم اور تمہاری بیوی  جنت میں رہو اور جہاں سے جو چاہے کھاؤ مگر اس درخت کے قریب نہ جانا ورنہ تم ظالموں میں سے ہو جاؤ گے۔ لیکن شیطان نے انہیں بہکا کر وہاں سے نکلوا دیا جہاں وہ تھے، ہم نے کہا : تم دونوں نکل جاؤ تم ایک دوسرے کے دشمن ہو اور ایک خاص مدت تک تمہارے لئے زمین پر ٹہرنا اور فائدہ اٹھانا ہے ۔ آدم نے اپنے رب سے کچھ کلمات سیکھ لیے (اور توبہ واستغفار کی ) تو اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرما لی، بے شک وہ بہت زیادہ توبہ قبول کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔ ہم نے کہا : نکل جاؤ تم سب ، پھر جب میری ہدایت تم تک پہنچے تو جس نے اس ہدایت کی پیروی کی اس کے لئے کوئی خوف نہیں اور نا ہی وہ  غمزدہ ہوگا۔ اور وہ لوگ جنہوں نے ہماری آیات کا کفر کیا اور انہیں جھٹلایا تو وہ جہنمی ہیں ،جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے۔‘‘

قرآن کے فرمان سے واضح ہوا کہ آدم علیہ السلام سےخطا ہوئی اور ان دونوں نے اسی وقت اللہ سےکچھ کلمات سیکھے اور اللہ تعالیٰ سے توبہ کی ۔ توبہ کے الفاظ بھی سورہ اعراف میں بیان کردئیے گئے ہیں :

قَالَا رَبَّنَا ظَلَمْنَآ اَنْفُسَنَا    ۫وَاِنْ لَّمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِيْنَ

( اعراف: 23 )

’’دونوں نے کہا اے ہمارے رب،ہم نے ظلم کیا اپنی جانوں پر اور اگر  تو نے ہمیں معا ف نہ کیا اور ہم پر رحم نہ فرمایا تو ہم پر تو ضرور خسارہ پانے والوں میں سے ہو جائیں گے‘‘۔

اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کی توبہ کو قبول فرمایا ، اور پھر اپنے طے شدہ نظام کے تحت انسان اور شیطان کو زمین پر بھیج دیا اور ساتھ ہی اس بات کی بھی ہدایت کردی کہ یاد رکھنا شیطان تمہارا کھلا دشمن ہے، اب میری طرف سے ہدایات پہنچیں گی جس کسی نے ان ہدایات کی پیروی کی تو واپسی پر اس کے لئے کسی قسم کا کوئی خوف و غم نہیں ہوگا ، برخلاف اس کے اللہ کی آیات کا کفر کرنے اور انہیں جھٹلانے والا جہنمی ہے جہاں وہ ہمیشہ رہے گا۔

قرآن کی لاریب آیات سے اس  قسم کی جھوٹی روایات اور  اس پر ایمان بنانے والوں کے جھوٹے عقائد کی مکمل نفی ہو جاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو سزا کے طور پر زمین پر بھیجا تھا۔ بلکہ  واضح انداز میں بیان ہے کہ انہیں معاف فرما کر ، ہدایات دے کر زمین پر بھیجا گیا، ساتھ ہی قرآن میں ان کی توبہ کے الفاظ بھی بیان کردئیے گئے۔

صحابہ کرام ؓ نے نبی ﷺ زندگی میں ان کے وسیلےسے  دعا کی لیکن ان کی وفات کے بعد ایسا کبھی نہ ہوا۔نبی ﷺ کے وسیلے سے دعا کرنے کا مطلب یہ ہوا کہ ان کی زندگی میں ان سے دعا کی درخواست کی جاتی تھی، وہ اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے تھے، اور اللہ تعالیٰ بارش نازل فرما دیتا تھا۔ اب جب نبی ﷺ کی وفات ہو گئی تو عمر ؓ نے نبی ﷺکے چچا عباس ؓ کے ذریعے اللہ تعالیٰ سے بارش کی دعا کی۔

پیش کردہ دلائل سے یہی ثابت ہوا کہ دعا کرنا ایک عبادت ہے اور یہ صرف اللہ سے کی جائے اور اس دعا میں کسی کا واسطہ یا وسیلہ دے کر اسے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک نہ کیا جائے۔

Categories
Uncategorized

تعارف

عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «بدأ الإسلام غريبا، وسيعود كما بدأ غريبا، فطوبى للغرباء»

( مسلم کتاب الایمان ، باب؛ باب بيان أن الإسلام بدأ غريبا وسيعود غريبا، وأنه يأرز بين المسجدين )

’’ ابوہریرہ ؓفرماتے ہیں کہ رسولﷺنے فرمایا ابتداء میں اسلام غریب (اجنبی) تھا اور عنقریب پھر غیر معروف ہوجائے گا پس خوشخبری ہے اجنبی  بن جانے والوں کے لئے۔ ‘‘

آج سے تقریبا 1400 سال قبل نبی ﷺ نے اپنی قوم کے سامنے الٰہ واحد کی دعوت رکھی۔ وہ قوم اللہ کو مانتی تھی  لیکن اسلام ان کے لئے اجنبی تھا۔ اسلام ایک اللہ (الٰہ واحد) کی بات کرتا ہے کہ اس کائنات میں اللہ تعالیٰ کے علاوہ  کوئی الٰہ نہیں ( لا الٰہ الا اللہ )۔ ان کا عقیدہ تھا کہ  زمین اور آسمان کا خالق اللہ تعالیٰ ہے جو زبردست اور  ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے (  لقمان : 25 ، الزخرف : 9 ) ۔  وہ اللہ تعالیٰ کو رازق بھی مانتے تھے اور یہ بھی ان کا عقیدہ تھا کہ دیکھنے اور سننے  کی طاقت بھی اسی کی دی ہوئی ہے اور یہ کہ تمام تر معاملات  اسی کے کنٹرول میں ہیں ( یونس: 31 ، مومنون ـ 84/89 ، العنکبوت : 61/63)۔

اس وقت کے مشرک دعا بھی اللہ ہی سے کیا کرتے تھے (  الانعام : 40/41 ، 63/64 ) وہ صلوة (نماز) بھی ادا کرتے تھے ( مسلم،  کتاب فضائل الصحابہ ؓ  )، صوم بھی رکھا کرتے تھے( مسلم، کتاب  الصیام، بَابُ صَوْمِ يَوْمِ عَاشُورَاءَ )، صدقہ و  خیرات بھی کیا کرتے تھے (  بخاری، کتاب البیوع ) یہاں تک کہ حج بھی کیا کرتے تھے اور اس میں ( اللھم لبیک )  کی تلبیہ بھی پڑھا کرتے تھے۔

ان عقائد و اعمال کے باوجود نبی ﷺ نے فرمایا کہ’’ اسلام اجنبی تھا‘‘ یعنی اسے کوئی جانتا نہ تھا۔ اسلام کی بنیاد دراصل لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ ہے۔ یعنی صرف ایک الٰہ ، اس کائنات کا صرف ایک خالق، ایک رب ہے ( جو پالتا ہے، جو ہر چیز دیتا ہے ، جس کے علاوہ کسی اور کا حکم نہیں ماننا چاہئیے)۔ جو داتائی ، اور دستگیری کے منصب پر فائز ہے۔ ساری کائنات کی تقدیرجسکے حکم سے ہے اور اس میں کوئی تبدیلی نہیں کر سکتا۔ وہ اکیلا  ہے جو اولادیں دیتا ، بیماری میں شفاء اور تنگ دستی میں فراوانی عطا فرماتا ہے۔

یہ تھی  اسلام کی وہ  دعوت جو ان کے لئے اجنبی تھی۔ انہوں نے تو  اپنی قوم کے صالح انسان یعنی لات کا بت بنا رکھا تھا، وہ لات اور عزیٰ کو پکارتے تھے ( بخاری،  کتاب التفسیر القرآن ) انبیاء علیہم السلام کے بت بنا رکھے تھے ( بخاری ،  کتاب الحج )ان سے فال معلوم کیا کرتے تھے۔ ’’ ھبل  ‘‘ سے وہ غائبانہ مدد مانگا کرتے تھے( بخاری، کتاب الجہاد و السیر)۔انبیاء علیہم السلام اور دیگرنیک لوگوں کی قبروں کو عبادت گاہ بنا کر وہاں  ان کی عبادت کرتے تھے( مسلم، کتاب المساجد  )۔ الغرض کہ انہوں نے بتوں سے منسوب  شخصیات کو اپنا ’’ الٰہ ‘‘ بنایا ہوا تھا۔ نبی ﷺ نے ان کے سامنے  بیان کیا  کہ ’’لا الٰہ الا اللہ ‘‘ْ  یعنی  اللہ کے علاوہ کوئی الٰہ نہیں۔ کو ئی خالق نہیں، کوئی پالنہار نہیں، کوئی اولاد دینے والا نہیں، کوئی بگڑیاں بنانے والا نہیں، کوئی ایسا نہیں کہ جس کا حکم مانا جائے، کہ جسے غائبانہ پکارا جائے جس سے مدد مانگی جائے،  جس کا شکرانہ ادا کیا جائے،صرف ایک ’’ الٰہ ‘‘ جو اللہ تعالیٰ ہے۔

یہی فرق تھا اسلام اور ان کے عقائد میں کہ اسلام صرف ایک الٰہ کی بات کرتا ہے اور وہ اللہ کیساتھ اوروں کو بھی الٰہ مانتے تھے۔ بس اسلام اجنبی ہوگیا۔ باپ دادا کے مذہب کو قائم رکھنے کے لئے اس وقت کے  مذہبی اکابرین نے بڑا پروپیگنڈا کیا لیکن جنہیں اللہ تعالیٰ نے قلب سلیم دیا تھا انہوں نے اسلام  قبول کیا اور پھر ایک وقت آیا کہ اسلام کے ماننے والوں کی بڑی تعداد ہوگئی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اقتدار بھی بخش دیا۔

آج پھر اسلام اجنبی ہوگیا ہے،  اللہ کے ساتھ ساتھ دوسروں کو بھی داتا ،دستگیر، مشکل کشا، حاجت روا، بگڑیاں بنانے والا، غوث اور غوث الاعظم سمجھا جا رہا ہے۔ یہ قوم فرقوں میں تقسیم ہوگئی، ہر فرقے کا اپنا علیحدہ مذہب وجود میں آگیا ہے۔ اس مذہب میں نماز، روزہ، حج اور زکوٰۃ بھی ہے لیکن عقائد میں شرک کی  ملاوٹ ہوگئی ہے۔  قرآن و حدیث میں موجود اُسی’’ اجنبی اسلام‘‘ کو روشناس کرانے کے لئے یہ ویب بنائی گئی کہ کاش یہ کلمہ گو اس کلمے کے  معنی سمجھ جائیں ، اپنے عقائد قرآن اور احادیث کے مطابق کرلیں تاکہ اللہ تعالیٰ کی پکڑ اور اس کے عذاب سے بچ جائیں۔

اس سلسلے میں ہماری گزارش ہے کہ سب سےپہلے ہماری ویب کے مضمون ’’ لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ ‘‘ کا مطالعہ ضرور کریں، اور دوسری گزارش یہ کہ اس ویب میں جہاں کہیں بھی کوئی غلطی یا خلاف قرآن و حدیث  کوئی بات محسوس کریں توہمیں لازمی مطلع فرما کر ہماری اصلاح فرما دیں۔ شکریہ

Categories
Uncategorized

کیا نبی ﷺ کی ازواج کا شمار اہل بیت میں ہوتا ہے ؟

Categories
Uncategorized

اسفل سافلین

﴿لَقَدۡ خَلَقۡنَا ٱلۡإِنسَٰنَ فِيٓ أَحۡسَنِ تَقۡوِيمٖ     ثُمَّ رَدَدۡنَٰهُ أَسۡفَلَ سَٰفِلِينَ﴾

[التين: 4-5]

“یقیناً ہم نے انسان کو بہترین ساخت پر پیدا کیا ، پھر اس کو سب نیچوں سے نیچے درجے کی طرف پھیر دیا”۔

اللہ تعالیٰ نے انسان کو بہترین طریقے سے پیدا کیا، نہایت عمدہ شکل و صورت اور پیکر عطا فرمایا اور اعلیٰ صلاحیتوں سے نوازا۔ اس کو دیگر مخلوقات پر فضیلت دی، عقل و دانش عطا کی ، صحیح و غلط ، حق و باطل اور اچھے برے میں تمیز کرنے کی بھی صلاحیت دی۔ اولاد آدم کے لیے منصوبہ الہٰی خلافت ارضی عطا کرنے کا تھا اس لئے  اس کو امتحان سے گزارنا ضروری تھا چنانچہ اس کو فکر و عمل کی آزادی دی گئی۔ حق و باطل دونوں راستے دکھا کر اس کو اختیار دیا گیاکہ اللہ کی دی ہوئی سوجھ بوجھ استعمال کرے اور پورے شعور کے ساتھ اپنے لیے راہ عمل منتخب کر لے۔ اسی پر اس کے انجام کا دارومدار رکھا گیا۔ مقصد امتحان کے تحت شیطان کو مہلت تو دی گئی کہ وہ وسوسہ اندازی کر کے انسان کو ورغلانے کی کوشش کرے اور اللہ کی نافرمانی و سرکشی پر اکسائے، اس کے ساتھ ساتھ ہر دور میں شیطانی ترغیبات اور وسوسہ اندازی کے مقابلے میں انبیاء ؑ  کو انسانوں کی ہدایت و رہنمائی کے لیے مبعوث کیا جاتا رہا، یہاں تک  کہ آخری رسول محمد ﷺ کو مبعوث فرما کر دینِ حق کو قرآن و حدیث کی شکل میں قیامت تک کے لیے محفوظ کر دیا گیا۔

ہر نبی نے اپنی قوم کو صحیح راستہ بتایا ، الٰہ  واحد کی بندگی کی دعوت دی اعمال صالحہ کی ترغیب دی اور برائیوں سے باز رہنے کی تلقین کی۔ ان کو بد انجامی سے ڈرایا اور اللہ کے عذاب کا خوف دلایا۔ اب جن سمجھدار لوگوں نے اپنے نبی کی بات کو غور سے سنا اور اللہ کی دی ہوئی عقل کو استعمال کر کے دعوتِ حق کو قبول کیا تو وہ راہ راست پا گئے اور دین اسلام میں داخل ہو گئے۔ پھر اللہ کی توفیق سے وہ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے احکام کی تعمیل کرتے ہوئے ہی زندگی گزارتے رہے اور تقویٰ کی صفات سے متصف یہ خوش نصیب لوگ احسن تقویم ہی پر زندگی گزارنے کے بعد اپنے ربّ سے ملاقی ہوتے ہوئے جنت کی لازوال نعمتوں میں ہمیشہ کے لیے داخل کر دیے جائیں گے۔ اعلیٰ اوصاف کے حامل یہ لوگ خلافت ارضی کے اہل تھے اور ان کا معاشرہ بھی امن و سکون اور عدل و انصاف کے اصولوں پر قائم تھا۔ خیرالقرون کا دور صحیح معنوں میں اس کا بہترین نمونہ تھا جب انسانی تاریخ کا ایک روشن باب رقم ہوا۔

اس کے برعکس خواہش نفس کے دنیا دار  بندے نے چند روزہ زندگی کی دلفریبی اور رنگینی میں غرق ہو کر آخرت فراموشی کی روش اختیار کی، اپنے دشمن شیطان لعین کی پیروی کرتے ہوئے دعوتِ حق کا انکار کیا اور نبی کی مخالفت کی اور کفرو شرک پر جمے رہنے کو ہی ترجیح دی۔ پھر وہ دوسروں کو بھی ورغلانے لگا اور اپنی سرکشی کی روش کو ہی درست قرار دینے لگا ]ابراہیم: 3، یونس: 7،8[۔ ایسے بدبختوں کو اسی راستے پر ڈھیل دی جاتی ہے اور گمراہی میں بھٹکنےکے لیے چھوڑ دیا جاتا ہے۔ چناچہ وہ خباثت میں گرتے چلے جاتے ہیں ، یہاں تک کہ ہر قسم کی گراوٹ، حرص و طمع ، لالچ و خودغرضی، بغض و عداوت، فتنہ و فساد میں تمام مخلوقات سے نیچے گر جاتے ہیں، اور أَسۡفَلَ سَٰفِلِينَ ہو کر رہ جاتے ہیں! اس آخری امت میں بھی ایسے قساوت قلبی کےشکار احبارورہبان اور ان طاغوتوں کے پرستاروں کی طویل فہرست ہےجن کے چشم کشا واقعات و ملفوظات پر مشتمل کتابوں سے کتب خانے بھرے ہوئے ہیں۔

انہوں نے مکشوفات و الہامات اور کرامات کی شکل میں بے شمار خلافِ قرآن عقائد امت میں پھیلا دیے۔ ان کے بزرگ ،علم غیب رکھنے، متصرف فی الامور ہونے اور موت حیات پر قادر ہونے کے دعوے دار تھے، نعوذوباللہ من ذالک  ایسے ہی ایک صوفی منش ، مرزا غلام احمد قادیانی نے بھی ” مکشوفات الہامات” کی سیڑھی  پر چڑھ کر جاہل انسانوں کے ایک گروہ ” جماعت احمدیہ” کے بانی و امام  ہونے کا اعزاز حاصل کر لیا۔ مرزا غلام احمد قادیانی کو اکثر لوگ عقیدۂ ختم نبوت کے منکر کے طور پر جانتے ہیں لیکن یہ بد قسمت شخص صرف اسی عقیدے کا ہی منکر نہیں بلکہ توحید باری تعالیٰ کا بھی منکر تھا۔

اللہ تعالیٰ ہی زندہ کرنے اور موت دینے پر قادر ہے۔ اس کی اس صفت میں کوئی اس کا شریک نہیں:

﴿ٱللَّهُ ٱلَّذِي خَلَقَكُمۡ ثُمَّ رَزَقَكُمۡ ثُمَّ يُمِيتُكُمۡ ثُمَّ يُحۡيِيكُمۡۖ هَلۡ مِن شُرَكَآئِكُم مَّن يَفۡعَلُ مِن ذَٰلِكُم مِّن شَيۡءٖۚ سُبۡحَٰنَهُۥ وَتَعَٰلَىٰ عَمَّا يُشۡرِكُونَ﴾

[الروم: 40]

” اللہ تعالیٰ وہ ہے جس نے تمہیں پیدا کیا پھر تمہیں روزی دی پھر تمہیں موت دیتا ہے پھر تمہیں (قیامت کے دن) زندہ کرے گا۔ بتاؤ تمہارے شریکوں میں سے کوئی بھی ایسا ہے جو ان کاموں میں سے کچھ بھی کر سکتا ہو۔ اللہ تعالیٰ پاک اور برتر ہے ہر اس شرک سے جو یہ لوگ کرتے ہیں۔”

﴿إِنَّ ٱللَّهَ لَهُۥ مُلۡكُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِۖ يُحۡيِۦ وَيُمِيتُۚ وَمَا لَكُم مِّن دُونِ ٱللَّهِ مِن وَلِيّٖ وَلَا نَصِيرٖ﴾

[التوبة: 116]

“یقیناً اللہ ہی کے لیے آسمانوں اور زمین کی بادشاہی ہے، وہی زندہ کرتا ہے اور وہی مارتا ہے، اور نہیں ہے تمہارے لیے اللہ کے سوا کوئی دوست (کارساز) اور نہ کوئی مددگار”۔

مرزا قادیانی نے اللہ تعالیٰ کی ان صفات میں اس کے بے مثال ہونے کا انکار کرتے ہوئے خود بھی زندہ کرنے اور موت دینے پر قادر ہونے کا دعویٰ کیا۔ ساتھ ہی اللہ رب العزت پر یہ جھوٹ بھی گھڑ لیا کہ اسے یہ قدرت اللہ ہی نے عطا کی ہے۔نعوذ باللہ وہ لکھتا ہے:

و اعطیت صفۃ الافناء و الاحیاء من ربّ الفعّال

“مجھ کو فانی کرنے اور زندہ کرنے کی صفت دی گئی ہے اور یہ صفت خدا تعالیٰ کی طرف سے مجھ کو ملی ہے”(خطبہ الہامیہ: صفحہ 55،56)

صرف اللہ تعالیٰ ہی وہ ذات ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا فرمایا اور مٹی سے انسان کی تخلیق فرمائی۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

﴿اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَجَعَلَ الظُّلُمٰتِ وَالنُّوْرَ ڛ ثُمَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا بِرَبِّهِمْ يَعْدِلُوْنَهُوَ الَّذِيْ خَلَقَكُمْ مِّنْ طِيْنٍ ثُمَّ قَضٰٓى اَجَلًا  ۭ وَاَجَلٌ مُّسَمًّى عِنْدَهٗ ثُمَّ اَنْتُمْ تَمْتَرُوْنَ ۝وَهُوَ اللّٰهُ فِي السَّمٰوٰتِ وَفِي الْاَرْضِ  ۭ يَعْلَمُ سِرَّكُمْ وَجَهْرَكُمْ وَيَعْلَمُ مَا تَكْسِبُوْنَ﴾

[الأنعام: 1-3]

” تما م تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں جس نے  آسمانوں اور زمین کو پیدا کیااور تاریکیوں کو اور نور کو بنایا پھر بھی کافر لوگ (دوسروں کو) اپنے رب کے برابر قرار دیتے ہیں۔ وہ ایسا ہے جس نے تم کو مٹی سے بنایا پھر موت آنے کا ایک وقت معین کیا اور ایک (دوسرا) معین وقت (قیام قیامت)خاص اللہ ہی کے نزدیک ہے،پھر بھی تم شک کرتے ہواور وہ اللہ ہی (معبود برحق) ہے آسمانوں میں اور زمین   میں وہ تمہارے پوشیدہ (احوال) کو اور تمہارے ظاہر کو

بھی جانتا ہے اور تم جو کچھ عمل کرتے ہو اسکو جانتا ہے‘‘۔

اس کے برعکس اپنی جان کے دشمن مرزاء قادیانی کے دعوے ہیں  کہ زمین و آسمان کا موجد  اور مٹی سے انسانوں کی پیدائش کرنے والی ذات وہ خود ہے ۔اپنے  جھوٹ کے پلندے سے جھوٹے الہام اور جھوٹے کشف نکال کر کہتا ہے:

“ورایتی فی المنام عین اللہ و تیقنت اننی ھو”

“میں نے خواب میں دیکھا کہ میں خود خدا ہوں، مجھے یقین ہو گیا کہ بے شک میں وہی ہوں”     (حوالہ:آئینہ کمالات اسلام، صفحہ 564،مطبع ریاض ھند،قادیان)

میں نے اپنے ایک کشف میں دیکھا کہ میں خود خدا ہوں اور یقین کر لیا کہ وہی ہوں ۔میرے رب نے مجھے پکڑا اور ایسا پکڑا کہ میں بالکل اس میں محو ہو گیا اور میں نے دیکھا کہ اس کی قدرت اور قوت مجھے میں جوش مارتی اور اس کی الوہیت مجھ میں موجزن ہے  ۔ حضرت عزت کے خیمے میرے دل کے چاروں طرف لگائے گئے اور سلطان جبروت نے میرے دل کو پیس ڈالا۔ سو نہ تو میں ہی رہا اور نہ میری کوئی تمنا ہی باقی رہی ۔میری اپنی عمارت گر گئی اور ربّ العالمین کی عمارت نظر آنے لگی اور الوہیت بڑے زور کے ساتھ مجھ پر غالب ہوئی ۔الوہیت میری رگوں اور پٹھوں میں سرایت کر گئی ۔اور میں اس وقت یقین کرتا تھا کہ میرے اعضا نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے اعضا ہے ۔خدا تعالیٰ میرے  وجود میں داخل ہو گیا اور میرا غضب اور حلم اور تلخی اور شیرینی اور حرکت اور سکون سب اسی کا ہو گیا۔اور اس حالت میں یوں کہہ رہا تھا کہ ہم ایک نیا نظام اور نیا آسمان اور نئی زمین چاہتے ہیں ۔سو میں نے پہلے تو آسمان اور زمین کو اجمالی صورت میں پیدا کیا جس میں کوئی ترتیب و تفریق نہ تھی۔پھر میں نے منشاء حق کے موافق اس کی ترتیب و تفریق کی اور میں دیکھتا تھا کہ میں اس کے خلق پر قادر ہوں _پھر میں نے آسمان دنیا کو پیدا کیا اور کہا: اِنَّا زَیَّنَّا السَّمَآءَ الدُّنْیَا بِمَصَابِيْحَ پھر میں نے کہا:ہم اب انسان کو مٹی کے خلاصے سے پیدا کریں گے _پھر میری حالت کشف سے الہام کی طرف منتقل ہو گئی اور میری زبان پر جاری ہوا  ۔ ۔أردتُ أن أستخلف فخلقتُ آدم. انا خلقنا الانسان فی احسن تقویم(حوالہ” کتاب البریہ:صفحہ 85 تا 87،مطبع ضیاء الاسلام،قادیان)

مرزا غلام احمد قادیانی نے اللہ تعالی’ کی ذات کے شرک میں بھی اپنا  حصہ ڈالا ہے۔چنانچہ معاذ اللہ، اللہ تعالی’ کو عورت یعنی ماں اور خود کو اس کے دودھ پیتے بچے کے مثل قرار دیتے ہوئے لکھتا ہے:

ابتدا سے تیرے ہی سایہ میں میرے دن کٹے             گود میں تیری رہا میں مثل طفل شیر خوار

(براہین احمدیہ،حصہ پنجم،صفحہ 127)

ایک اور جگہ اپنا شیطانی الہام لکھتا ہے:

’’انت منی بمنزلة توحیدی و تفریدی،انت منی بمنزلة عرشی،انت منی بمنزلة ولدی” ’’تو مجھ سے میری توحید و تفرید کی طرح ہے۔ تو مجھ سے میرے عرش کی طرح ہے۔تو مجھ سے میرے بیٹے کی طرح ہے‘‘۔( تذکرہ: وحی مقدس ور ویا و کشوف،صفحہ:442)

اللہ کی پناہ!اللہ تعالیٰ نے ایسے دعووں پر شدید غصے کا اظہار فرمایا ہے اور انہیں اللہ سبحان و تعالیٰ کو گالی دینے کے مترادف قرار دیا ہے:

وَ قَالُوا اتَّخَذَ الرَّحۡمٰنُ  وَلَدًا ۝  لَقَدۡ  جِئۡتُمۡ شَیۡئًا اِدًّا۝  تَکَادُ السَّمٰوٰتُ یَتَفَطَّرۡنَ مِنۡہُ وَ تَنۡشَقُّ الۡاَرۡضُ وَ تَخِرُّ الۡجِبَالُ ہَدًّا۝  اَنۡ دَعَوۡا لِلرَّحۡمٰنِ وَلَدًا ۝  وَ مَا یَنۡۢبَغِیۡ لِلرَّحۡمٰنِ اَنۡ یَّتَّخِذَ وَلَدًا ۝  اِنۡ کُلُّ مَنۡ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ  اِلَّاۤ اٰتِی الرَّحۡمٰنِ  عَبۡدًا ۝  لَقَدۡ اَحۡصٰہُمۡ وَ عَدَّہُمۡ عَدًّا ۝  وَ کُلُّہُمۡ اٰتِیۡہِ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ فَرۡدًا ﴿﴾

( مریم : 88 تا 90 )

“ان کا قول ہے کہ اللہ رحمن نے بیٹا بنایا، یقیناً تم بہت بھاری چیز (زبان پر) لائے ہو، قریب ہے کہ اس قول کی وجہ سے آسمان پھٹ جائیں اور زمین شق ہو جائے اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہو جائیں کہ وہ رحمن کی اولاد ثابت کرنے بیٹھے، رحمن کی شان کے لائق نہیں کہ وہ اولاد رکھے، آسمان و زمین میں جو بھی ہیں سب کے سب اللہ کے غلام بن کر ہی آنے والے ہیں، ان سب کو گھیر کر رکھا ہے اور سب کو پوری طرح گن بھی رکھا ہے،یہ سارے کے سارے قیامت کے دن اکیلے اس کے پاس حاضر ہونے والے ہیں‘‘ْ۔

وَ قَالُوا اتَّخَذَ الرَّحۡمٰنُ وَلَدًا سُبۡحٰنَہٗ ؕ بَلۡ  عِبَادٌ مُّکۡرَمُوۡنَ۝ لَا یَسۡبِقُوۡنَہٗ بِالۡقَوۡلِ وَ ہُمۡ بِاَمۡرِہٖ یَعۡمَلُوۡنَ  ۝ یَعۡلَمُ مَا بَیۡنَ اَیۡدِیۡہِمۡ  وَ مَا خَلۡفَہُمۡ وَ لَا یَشۡفَعُوۡنَ ۙ اِلَّا لِمَنِ ارۡتَضٰی وَ ہُمۡ مِّنۡ خَشۡیَتِہٖ مُشۡفِقُوۡنَ ۝  وَمَنۡ یَّقُلۡ مِنۡہُمۡ اِنِّیۡۤ اِلٰہٌ مِّنۡ دُوۡنِہٖ فَذٰلِکَ نَجۡزِیۡہِ جَہَنَّمَ ؕ کَذٰلِکَ نَجۡزِی الظّٰلِمِیۡنَ ﴿﴾

(الأنبياء 26 تا 29)

“وہ (مشرک لوگ) کہتے ہیں کہ رحمن  نے ( کسی کو ) بیٹا بنا لیا ،(حالانکہ) اس کی ذات پاک ہے، بلکہ وہ سب اس کے باعزت بندے ہیں، کسی بات میں اللہ پر پیش دستی نہیں کرتے بلکہ اس کے فرمان پر کار بند ہیں،وہ (اللہ) ان کے آگے پیچھے کے تمام امور سے واقف ہے وہ (فرشتے) کسی کی بھی شفارش نہیں کرتے بجز ان کے جن سے اللہ خوش ہو وہ تو خود ہیبت الہی’ سے لرزاں و ترساں ہیں، اگر ان میں سے کوئی بھی کہہ دے کہ اللہ کے سوا میں معبود ہوں تو ہم اسے جہنم کی سزا دیں گے، ہم ظالموں کو اسی طرح سزا دیتے ہیں،‘‘۔

لَنۡ یَّسۡتَنۡکِفَ الۡمَسِیۡحُ اَنۡ یَّکُوۡنَ عَبۡدًا لِّلّٰہِ وَ لَا الۡمَلٰٓئِکَۃُ الۡمُقَرَّبُوۡنَ ؕ وَ مَنۡ یَّسۡتَنۡکِفۡ عَنۡ عِبَادَتِہٖ وَ یَسۡتَکۡبِرۡ فَسَیَحۡشُرُہُمۡ اِلَیۡہِ جَمِیۡعًا ﴿﴾

(النساء:178)

“مسیح (عیسی علیہ السلام) کو اللہ کا بندہ ہونے میں کوئی ننگ و عار ہرگز ہو ہی نہیں سکتا اور نہ مقرب فرشتوں کو،اس کی بندگی سے جو بھی ننگ و عار کرے اور تکبر و انکار کرے،اللہ تعالی’ ان سب کو اکٹھا اپنی طرف جمع کرے گا “-

حدیث قدسی میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ” قَالَ اللَّهُ: كَذَّبَنِي ابْنُ آدَمَ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ ذَلِكَ، وَشَتَمَنِي وَلَمْ يَكُنْ لَهُ ذَلِكَ، أَمَّا تَكْذِيبُهُ إِيَّايَ أَنْ يَقُولَ: إِنِّي لَنْ أُعِيدَهُ كَمَا بَدَأْتُهُ، وَأَمَّا شَتْمُهُ إِيَّايَ أَنْ يَقُولَ: اتَّخَذَ اللَّهُ وَلَدًا، وَأَنَا الصَّمَدُ الَّذِي لَمْ أَلِدْ وَلَمْ أُولَدْ، وَلَمْ يَكُنْ لِي كُفُؤًا أَحَدٌ «(لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُؤًا أَحَدٌ)» كُفُؤًا وَكَفِيئًا وَكِفَاءً وَاحِدٌ “

( بخاری،  کتاب تفسیر القرآن ، بَابُ قَوْلِهِ: {اللَّهُ الصَّمَدُ} )

’’ رسول اللہ ﷺ نے  فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :  ابن آدم نے مجھے جھٹلایا، اگرچہ یہ اس کے لئے زیبا نہ تھا ۔ اور اس نے مجھے گالی دی، حالانکہ یہ اس کے لئے زیبا نہ تھا۔  اور مجھے اس کا جھٹلانا تو یہ  کہنا ہے کہ میں اسے دوبارہ زندہ نہیں کروں گا جیسا کہ میں نے پہلی بار پیدا کیا، اور مجھے اس کا گالی دینا  یہ کہنا ہے کہ اللہ نے  بیٹا بنا لیا ہے۔ حالانکہ میں بے نیاز ہوں  کہ نہ میں نے کسی کو جنا  اور نہ میں جنا گیا،  اور نہ کوئی میرا ہمسر ہے (  نہ اس نے کسی کو جنا  اور نہ وہ جنا گیا  اور نہ کوئی اس کا ہمسر ہے )‘‘۔

﴿يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ إِنَّمَا ٱلۡمُشۡرِكُونَ نَجَس  ۔ ۔ ۔ ﴾

[التوبة: 28]

’’اے ایمان والو! مشرکین نجس و پلید ہیں “-

﴿وَإِذۡ قَالَ لُقۡمَٰنُ لِٱبۡنِهِۦ وَهُوَ يَعِظُهُۥ يَٰبُنَيَّ لَا تُشۡرِكۡ بِٱللَّهِۖ إِنَّ ٱلشِّرۡكَ لَظُلۡمٌ عَظِيم﴾

[لقمان: 13]

’’اور وہ وقت یاد کرو جب لقمان نے اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے کہا تھا کہ اے میرے بیٹے !اللہ کے ساتھ شرک نہ کرنا،یقیناً شرک ظلمِ عظیم ہے ‘‘۔

﴿۔ ۔ ۔  إِنَّهُۥ مَن يُشۡرِكۡ بِٱللَّهِ فَقَدۡ حَرَّمَ ٱللَّهُ عَلَيۡهِ ٱلۡجَنَّةَ وَمَأۡوَىٰهُ ٱلنَّارُۖ وَمَا لِلظَّٰلِمِينَ مِنۡ أَنصَارٍ﴾

[المائدة: 72]

“جس نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرایا اُس پر اللہ نے جنت حرام کر دی اور اس کا ٹھکانہ جہنم ہے اور ایسے ظالموں کا کوئی مددگار نہیں “۔

﴿إِنَّ ٱللَّهَ لَا يَغۡفِرُ أَن يُشۡرَكَ بِهِۦ وَيَغۡفِرُ مَا دُونَ ذَٰلِكَ لِمَن يَشَآءُۚ وَمَن يُشۡرِكۡ بِٱللَّهِ فَقَدِ ٱفۡتَرَىٰٓ إِثۡمًا عَظِيمًا﴾

[النساء: 48]

“اللہ شرک کو ہرگز معاف نہیں کرتا، اس کےسوا دوسرے گناہوں کو وہ جس کے لیے چاہتا ہے معاف کر دیتا ہے، اللہ کے ساتھ جس نے بھی کسی اور کو شریک ٹھہرایا اُس نے بہت بڑا بہتان باندھا”۔

اللہ تعالیٰ کے ان فرامین کی بنا پر تو مرزا غلام احمد قادیانی کو ایک پاک انسان قرار دینا بھی جائز نہیں چہ جائیکہ اسے نبی مانا جائے لیکن حیرت ہے اس کے اندھے مقلدین پر کہ پھر بھی اس شخص کو نبی مانتے ہیں!

اللہ کے سچے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

الْإِيمَانُ بِضْعٌ وَسِتُّونَ شُعْبَةً ، وَالْحَيَاءُ شُعْبَةٌ مِنَ الْإِيمَان

(صحیح مسلم:کتاب الایمان، باب: بیان عدد شعب الایمان)

’’ایمان کی ستر سے کچھ زیادہ شاخیں ہیں اور حیا بھی ایمان کی ایک شاخ ہے‘‘۔

لیکن جب انسان پر حیا کی چادر کا کوئی ٹکڑا بھی باقی نہیں رہتا تو پھر وہ جو بھی جھوٹا دعوی چاہے، کر سکتا ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

إِنَّ مِمَّا أَدْرَكَ النَّاسُ مِنْ كَلَامِ النُّبُوَّةِ إِذَا لَمْ تَسْتَحْيِ فَافْعَلْ مَا شِئْتَ

( صحیح بخاری:کتاب الادب،باب: إِذَا لَمْ تَسْتَحْيِ فَافْعَلْ مَا شِئْتَ)

’’بلاشبہ قدیم کلام نبوت میں سے جو کچھ لوگوں نے حاصل کیا اس میں یہ بھی ہے کہ “جب تو حیا نہیں کرتا تو جو چاہتا ہے کر گزر‘‘۔

مرزا غلام احمد قادیانی کے پاس بھی جب حیا کا ذرّہ باقی نہ رہا تو وہ اپنے ربّ کے سامنے زبان درازی پر اُتر آیا، وہ اپنی حیثیت بھول گیا کہ وہ خالق نہیں مخلوق ہے، اپنے رب کے سامنے اس قدر زبان دراز تو مشرکین مکہ بھی نہ تھے، اگر مرزا غلام احمد قادیانی اُس دور میں ہوتا اور پھر مشرکین مکہ کے سامنے یہ دعوے کرتا تو شاید وہ اس کی درگت ہی بنا ڈالتے۔

اب جبکہ مرزا غلام احمد قادیانی کے نزدیک اللہ تعالی’ کا کوئی وقار نہ تھا اور سب سے اہم بنیادی اور عظیم عقیدے،عقیدہ توحید کا انکار کرنا بھی اس کے لیے آسان ہو گیا تھا تو  دیگر اسلامی عقائد کا انکار بھی اس کے لیے کوئی مسئلہ نہ رہا، چنانچہ اس نے صرف عقیدہ ختم نبوت ہی نہیں بلکہ ہر مقدس نظریے پر حملہ کر کے اللہ تعالیٰ  کا باغی بندہ ہونے کا ثبوت دیا، اس کی چند مثالیں دیکھنے سے پہلے عقیدہ ختم نبوت سے متعلق اللہ تعالیٰ  اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے فرامین ملاحظہ فرمائیں:

اللہ تعالی نے فرمایا:

﴿مَّا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَآ أَحَدٖ مِّن رِّجَالِكُمۡ وَلَٰكِن رَّسُولَ ٱللَّهِ وَخَاتَمَ ٱلنَّبِيِّ‍ۧنَۗ وَكَانَ ٱللَّهُ بِكُلِّ شَيۡءٍ عَلِيمٗا﴾ [

[الأحزاب: 40]

“محمدؐ تمہارے مَردوں میں سے کسی کے باپ نہیں لیکن اللہ کے رسول اور نبیوں کے سلسلے کو ختم کرنے والے ہیں، اور اللہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے”۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

إِنَّ مَثَلِي وَمَثَلَ الْأَنْبِيَاءِ مِنْ قَبْلِي كَمَثَلِ رَجُلٍ بَنَى بَيْتًا فَأَحْسَنَهُ وَأَجْمَلَهُ إِلَّا مَوْضِعَ لَبِنَةٍ مِنْ زَاوِيَةٍ ، فَجَعَلَ النَّاسُ يَطُوفُونَ بِهِ وَيَعْجَبُونَ لَهُ وَيَقُولُونَ هَلَّا وُضِعَتْ هَذِهِ اللَّبِنَةُ ، قَالَ : فَأَنَا اللَّبِنَةُ وَأَنَا خَاتِمُ النَّبِيِّينَ

(صحیح بخاری:کتاب المناقب،باب خاتم النّبین)

’’بے شک میری اور مجھ سے پہلے انبیاء کی مثال ایسی ہے جیسے کسی شخص نے ایک گھر بنایا،اس کو بہت عمدہ اور آراستہ پیراستہ بنایا مگر ایک کونے میں ایک اینٹ کی جگہ چھوڑ دی،پس لوگ جوق در جوق آتے ہیں اور تعجب کرتے ہیں  اور یہ کہتے ہیں یہ اینٹ کیوں نہیں لگا دی گئی، آپ نے فرمایا:وہ اینٹ میں ہوں اور میں انبیاء کرام کا سلسلہ نبوت ختم کرنے والا ہوں “-

اور فرمایا:

كَانَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ تَسُوسُهُمُ الأَنْبِيَاءُ، كُلَّمَا هَلَكَ نَبِيٌّ خَلَفَهُ نَبِيٌّ، وَإِنَّهُ لاَ نَبِيَّ بَعْدِي، وَسَيَكُونُ خُلَفَاءُ فَيَكْثُرُونَ قَالُوا: فَمَا تَأْمُرُنَا؟ قَالَ: «فُوا بِبَيْعَةِ الأَوَّلِ فَالأَوَّلِ، أَعْطُوهُمْ حَقَّهُمْ، فَإِنَّ اللَّهَ سَائِلُهُمْ عَمَّا اسْتَرْعَاهُمْ

( صحیح بخاری،  کتاب  احادیث الانبیاء ، باب ذکر  عن بنی اسرائیل )

“بنی اسرائیل کی رہنمائی ان کے انبیاء کرام علیہ السلام کیا کرتے تھے، جب کسی نبی کی وفات ہو جاتی تھی تو اللہ تعالیٰ  کسی دوسرے نبی کو ان کا خلیفہ بنا دیتا تھا لیکن میرے بعد کوئی نبی نہیں، البتہ خلفاء ہوں گے اور بہت ہوں گے،صحابہ کرام نے عرض کیا،اُن کے متعلق آپ کیا حکم دیتے ہیں، آپ نے فرمایا ہر ایک کے بعد دوسرے کی بیعت پوری کرو اور ان کے حق اطاعت کو پورا کرو،اس لئے کہ اللہ تعالیٰ  اُن کی رعیت کے متعلق اُن سے سوال کرے گا “۔

اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ان فرامین سے بالکل واضح ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد قیامت تک کوئی نیا نبی کسی بھی حیثیت میں نہیں آئے گا، اس کے خلاف عقیدہ رکھنا کفر ہے۔

قیامت سے پہلے عیسی علیہ السلام کے نزول کا صحیح احادیث میں ذکر ہے لیکن ان کی یہ آمد کسی نبی کی حیثیت سے نہیں بلکہ عادل حکمران کی حیثیت سے ہو گی۔

نبی ﷺ نے فرمایا:

وَالَّذِی نَفْسِیْ بِیَدِہِ لَیُوْشِکَنَّ اِنْ یَنُزِلَ فِیْکُمْ ابنُ مَرْیَمَ حَکَمًا عَدْلاً ، فَیَکُسِرَ الصَّلِیْبَ وَ یَقْتُلَ الخِنْزِیْرَ ، وَ یَضَعَ الجَزْیَۃَ وَیَقْبُضَ المَالُ حَتَّی لَا یَقْبَلَہُ اَحَدً

(بخاری: کتاب الانبیاء ۔باب نزول عیسیٰ بن مریم  ؑ)

” اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، عنقریب تمہارے مابین عیسیٰ بن مریم حاکم و عادل بن کر نزول فرمائیں گے، صلیب توڑیں گے ، خنزیر کو قتل کریں گے ، جزیہ ختم کریں گے ، اور مال کی اتنی فراوانی ہو گی کہ کوئی اس کو قبول نہ کرے گا”۔

مرزا قادیانی نے اللہ تعالیٰ اور   اس کے رسول ﷺ کے ان سب فرامین کا مذاق اڑاتےہوئے صرف ایک نبی نہیں بلکہ انبیاء ہونے کا دعویٰ کیا۔ ایک جھوٹے یعنی خود پر القا کیے ہوئے الہام کی تشریح کرتے ہوئے لکھتا ہے:

“مریم سے مریم اُمِ عیسیٰ مراد نہیں اور نہ آدم سے آدم ابوالبشر مراد ہے اور نہ احمد سے اس جگہ حضرت خاتم الانبیاء مراد ہیں، اور ایسا ہی ان الہامات کے تمام مقامات میں کہ جو موسیٰ اور  عیسیٰ اور داؤد وغیرہ نام بیان کیے گئے ہیں، ان ناموں سے بھی وہ انبیاء مراد نہیں  ہیں ہے بلکہ ہر جگہ یہی عاجز مراد ہے”      (مکتوبات احمدیہ۔ جلد اول۔صفحہ:82،83، بحوالہ : تذکرہ، وحی مقدس ورؤیا وکشوف، صفحہ: 55،56، طبع چہارم ۔مطبع ضیاءالاسلام پریس، ربوہ، پاکستان)

“خدا تعالیٰ نے مجھے تمام انبیاء علیہ السلام کا مظہر ٹھہرایا ہے اور تمام نبیوں کے نام میری طرف منسوب کیے ہیں۔ میں آدم ہوں، میں شیث ہوں، میں نوح ہوں، میں ابراہیم ہوں، میں اسحق ہوں، میں اسمٰعیل ہوں ، میں یعقوب ہوں، میں یوسف ہوں، میں موسیٰ ہوں، میں داؤد ہوں ، میں عیسیٰ ہوں اور آنحضرت ﷺ کے نام کامیں مظہراتم ہوں یعنی ظلی طور پر محمدؑاور احمد ؑہوں”۔(حقیقت الوحی، حاشیہ، صفحہ: 73)

ثابت یہی ہوا کہ اُلوہیت کے جھوٹے دعوے کرنے والے شخص کے لیے اس سےکم تر جھوٹے دعوے کرنا بھی مشکل نہیں۔

قارئین! ایک مرد کا کہنا ہے کہ وہ اپنے ہی پیٹ سے پیدا ہوا ہے۔۔۔ یقیناً یہ جملہ پڑھ کر آپ کا خون کھول اٹھا ہو گا۔آپ اس بات کو نہایت بدترین ، لغو، بیہودہ اور واہیات قرار دے رہے ہوں گے اور شاید آپ اس تحریر کو مزید نہ پڑھنا چاہتے ہوں لیکن ٹھہریے ! اسے ضرور پڑھیے تاکہ آپ جان لیں کہ جب انسان اپنے ربّ کی نافرمانی کے راستے کو پسند کر لیتا ہے تو اللہ تعالیٰ کے فرمان؛  ثُمَّ رَدَدْنٰهُ اَسْفَلَ سٰفِلِيْنَکے مصداق ، اسے بدترین پستی کی طرف دھکیل دیا جاتا ہے نعوذباللہ من ذالک۔ اپنے پیٹ سے پیدا ہونے کا دعویدارشخص یہی مرزا قادیانی ہے۔ وہ لکھتا ہے:

“…اس لیے گو اس نے براہین احمدیہ کے تیسرے حصہ میں میرا نام مریم رکھا پھر جیسا کہ براہین احمدیہ سے ظاہر ہےدو (2) برس تک صفت مریمت میں میں نے  پرورش پائی اور پردہ میں نشونما پا تا ر ہا پھر جب اس پر دو برس گزر گئےتو جیسا کہ  براہین احمدیہ کے حصہ چہارم صفحہ 496 میں درج ہے مریم کی طرح عیسیٰ کی روح مجھ میں نفخ کی گئی اور استعارہ کے رنگ میں مجھے حاملہ ٹھہرایا گیا اور آخر کئی مہینہ کے بعد جو دس مہینے سے زیادہ نہیں بذریعہ اس الہام کے جو سب سے آخر براہین احمدیہ کے حصہ چہارم صفحہ 556 میں درج ہے مجھے مریم سے عیسیٰ بنایا گیا پس اس طور سے میں ابن مریم ٹھہرا”۔  (کشتی نوح۔ صفحہ 50مطبع ضیاء الاسلام ، قادیان)

مرزا قادیانی ” اپنے درد زہ” کو بیان کرتا ہے کہ:

” خدا نے مجھے پہلے مریم کا خطاب دیا اور پھر نفخ روح کا الہام کیا۔ پھر بعد اس کے یہ الہام ہوا تھا فَاَجَاۗءَهَا الْمَخَاضُ اِلٰى جِذْعِ النَّخْلَةِ  ۚ قَالَتْ يٰلَيْتَنِيْ مِتُّ قَبْلَ ھٰذَا وَكُنْتُ نَسْيًا مَّنْسِيًّایعنی پھر مریم کو جو مراد اس عاجز سے ہے دردِزہ تنہ کھجورکی طرف لے آئی یعنی عوام الناس اور جاہلوں اور بے سمجھ علماء سے واسطہ پڑا”۔ (کشتی نوح صفحہ 51)

یہ شرمناک دعوے کرنے سے پہلے مرزا قادیانی نے اس بات کا لحاظ بھی نہ رکھا کہ خود اسی نے اپنے والد کا نام غلام مرتضیٰ بتایا ہے اور ( اس کے بیٹے مرزا بشیر کے بقول ) اس کی والدہ کا نام (مریم نہیں) بلکہ چراغ بی بی تھا۔(ملاحظہ کریں: کتاب البریہ، حاشیہ صفحہ 14 مطبع ضیاءالاسلام، قادیان/ سیرۃالمہدی حصہ اول صفحہ 8 روایت نمبر 10۔ از مرزا بشیر)

قارئین دیکھا آپ نے ! شرک کی گندگی میں لت پت انسان سے کوئی بھی دیگر جھوٹ کہہ دینابعید نہیں۔

مرزا قادیانی جھوٹ گھڑنے کی ایک حیرت انگیز مشین تھا۔ اس سے جس قدر جھوٹ کی پیداوار ہوئی ہے اس کی مثال فرعون کے زمانے میں بھی نہ ملے گی۔ اس کی تحریک کا واضح مقصد یہ نظر آتا ہے کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے فرامین کا شدید منکر گروہ تیار کیا جائے جسے ان فرامین کا انکار کرنے میں ذرا سی بھی جھجھک یا شرم محسوس نہ ہو۔ قارئین یہ نہ سمجھیں کہ مرزا جھوٹ کی قباحت سے نا آشنا تھا کیونکہ وہ لکھتا ہے:

“جھوٹ بولنا اور گوہ کھانا ایک برابر ہے”۔ (حقیقت الوحی۔ صفحہ 206)

’’ ایسا آدمی جو ہر روز خدا پر جھوٹ بولتا ہے اور آپ ہی ایک بات  تراشتا ہے اور پھر کہتا ہے کہ  یہ خدا کی وحی ہے مجھ کو ہوئی ہے۔ ایسا بدذات انسان تو کتوں اور سؤروں اور بندروں سے بدتر ہوتا ہے۔ پھر کب ممکن ہے کہ خدا اس کی حمایت کرے”۔(ضمیمہ براہین احمدیہ صفحہ 126)

لہٰذا مرزا کی بدقسمتی تھی کہ وہ جان بوجھ کر اس بدترین کام یعنی جھوٹ گھڑنے اور پھیلانے کا کام کر کے پھر بغیر توبہ کیے دنیا سے رخصت ہو گیا۔

مرزا نے علی ؓ  ہونے کا بھی دعویٰ کیا۔ وہ اہل تشیع کو مخاطب کرتے ہوئے کہتا ہے:

“پرانی خلافت کا جھگڑا چھوڑو۔ اب نئی خلافت لو۔ ایک زندہ علی تم میں موجود ہے اس کو چھوڑتے ہواور مردہ علی کی تلاش کرتے ہو”۔(ملفوظات، حصہ اوّل، ایڈیشن، 1988سنہ، صفحہ 400، مطبع ضیاء الاسلام ربوہ)

بیک وقت اِلٰہ کا مثل اور فرشتہ ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے لکھتا ہے:

” اور دانی ایل نبی نے اپنی کتاب میں میرا  نام میکائیل رکھا ہے اور عبرانی میں لفظی معنی میکائیل  کے ہیں خدا کی مانند”۔(اربعین، حاشیہ، صفحہ 71)

بیت اللہ ہونے کا دعویٰ:

” خدا نے اپنے الہامات میں میرا نام بیت اللہ بھی رکھا ہے”۔(تذکرہ، وحی مقدس…صفحہ 28)

قرآن جیسا ہونے کا دعویٰ:

مرزا قادیانی اپنا جھوٹا الہام بیان کرتا ہے کہ:

ما انا الّا کلقرآن      میں تو بس قرآن ہی کی طرح ہوں…”۔ (تذکرہ۔ صفحہ 570)

نوح علیہ السلام ہونے کا دعویٰ ایک اور انداز سے:

’’اسی طرح براہین احمدیہ کے حصص سابقہ میں خدا تعالیٰ نے میرا نام نوح بھی رکھا ہے اور میری نسبت فرمایا ہے “وَلَا   تُخَاطِبْنِیْ  نِی الَّذِ یْنَ  ظَلَمُوْ ج اِنَّھُمْ مُّغْرَقُوْن” یعنی میری آنکھوں کے سامنے کشتی بنا اور ظالموں کی  شفاعت کے بارے میں مجھ سے کوئی بات نہ کر کہ میں ان کو غرق کروں گا۔(براہین احمدیہ ۔ حصہ پنجم۔ صفحہ 86)

جھوٹ پر جھوٹ کہنے کی ایک اور مثال:

مگر جس وقت حضرت مسیح کا بدن صلیب کی کیلوں سے توڑا گیا اس زخم اور شکست کے لیے تو خدا نے مرہم عیسیٰ طیار* کر دی تھی جس سے چند ہفتوں ہی میں حضرت عیسیٰ شفا پا کر اس ظالم ملک سے ہجرت کر کے کشمیر جنت نظیر کی طرف چلے آئے…اور یہ جو حدیثوں میں آیا ہے کہ مسیح حکم ہو کر آئے گا اور وہ اسلام کے تمام فرقوں پر حاکم عام ہو گا جس کا ترجمہ انگریزی میں گورنر جنرل ہے …سو ان حدیثوں سے صریح اور کھلے طور پرانگریزی حکومت کی تعریف ثابت ہوتی ہے کیونکہ وہ مسیح اسی سلطنت کے ماتحت پیدا ہوا ہے”۔ (تریاق القلوب۔ صفحہ 16، 17)

ایک ہی سانس میں کئی جھوٹ:

” جس روز وہ الہام مذکورہ بالا جس میں قادیان میں نازل ہونے کا ذکر ہے ہوا تھا اس روز کشفی طور پر میں نے دیکھا کہ میرے بھائی صاحب مرحوم غلام قادر میرے قریب بیٹھ کر بآواز بلند قرآن شریف پڑھ رہے ہیں اور پڑھتے پڑھتے انھوں نے ان فقرات کو پڑھا انا انزلناہ قریبا من القادیان   تو میں نے سن کر بہت تعجب کیا کہ کیا قادیان کا نام بھی قرآن شریف میں لکھا ہوا ہے۔ تب انھوں نے کہا دیکھو لکھا ہوا ہے۔ تب میں نے نظر ڈال کر جو دیکھا تو معلوم ہوا کہ فی الحقیقت قرآن شریف کے دائیں صفحہ میں شاید قریب نصف کے موقع پر یہ الہامی عبارت لکھی  ہوئی موجود ہے۔تب میں نے اپنے دل میں کہا کہ واقع طور پر قادیان کا نام قرآن شریف میں درج ہے اور میں نے کہا تین شہروں کا نام اعزاز کے ساتھ قرآن شریف میں درج کیا گیا ہے مکہ، مدینہ اور قادیان”

(ازالہ اوبام صفحہ 76، 77)

صحابہ ؓ کی شان میں گستاخی کرتے ہوئے لکھتا ہے:

بعض نادان صحابی جن کو درایت سے  کچھ حصہ نہ تھا…(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم مندرجہ روحانی خزائین جلد 21 صفحہ 285)

” جو شخص قرآن شریف پر ایمان لاتا ہے، اسے چاہیے کہ ابو ہریرہ کے قول کو ردی متاع کی طرح پھینک دے”(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص210 مندرجہ روحانی خزائین ج 21 ص 41)

مرزا قادیانی نے اسی طرح اپنی کتابوں اعجاز احمدی کے صفحہ 18 اور حقیقتہ الوحی کے صفحہ 34 پر صحابہؓ کے بارے میں اپنے خبث باطن کا اظہار کیا ہے نعوذ باللہ من ذالک۔

یہ مرزا قادیانی کی ہزاروں خرافات میں سے چند مثالیں تھیں ۔ اس بد بخت کی بہت سی خرافات کو تو نقل ہی نہیں کیا جا سکتا۔ اس نے اپنی کتابوں میں، نعوذ باللہ ، اللہ کے برگزیدہ و پاکباز نبی عیسیٰ علیہ السلام  کی توہین کرتے ہوئے انہیں شرابی، بدکار، بدکاری کی تعلیم دینے والا، بدزبانی کرنے والا، جھوٹ بولنے والا، گالیاں دینے والا، علمی خیانت کا ارتکاب کرنے والا اور ذہنی مریض قرار دیا ہے۔ (ملاحظہ کریں: انجام آتھم صفحہ 5،6،7، کشتی نوح، حاشیہ، صفحہ 73 نسیم دعوت، صفحہ 29 نورالقرآن صفحہ 42)

دراصل یہ ساری خرابیاں مرزا قادیانی میں ہی موجود تھیں۔ ان خرابیوں کے ثبوت اللہ تعالیٰ نے خود اس کے اور اس کے پیروکاروں کے ہاتھوں تحاریر کی شکل میں ظاہر فرمائےہیں۔ مرزا قادیانی کو اپنا آپ مثلِ عیسیٰ کے طور پر منوانا تھا۔  عیسیٰ علیہ السلام کی پاکبازی ثابت کرنے والی آیات بدکردار مرزا قادیانی کو مثلِ عیسیٰ منوانے میں رکاوٹ تھیں لہٰذا اس کی شیطانی سوچ نے اس کا یہ حل نکالا کہ جھوٹے الزامات اور مکاشفوں کے ذریعے عیسیٰ ؑ کو  بھی اپنے جیسا بے حیا، جھوٹا اور بدکردار شخص باور کرایا جائے، ثم نعوذ باللہ۔ اللہ تعالیٰ کا کرنا دیکھیے کہ اللہ، اس کے رسولوں اور اس کے دین کا مذاق اڑانے والے مرزا قادیانی نے اپنی کتاب براہین احمدیہ، حصہ پنجم، صفحہ 97 پر ایک شعر میں اپنے آپ کو اس قدر شرمناک گالی دی ہے کہ اسے نقل کرنے کی ہم میں ہمت نہیں۔ اس طرح ظالم خود اپنے ہاتھوں اپنی ذلت کا سامان ترکہ میں چھوڑ گیا۔فَاعْتَبِرُوْا يٰٓاُولِي الْاَبْصَارِ

Categories
Uncategorized

دینی امور پر اجرت

ابتدائیہ

﴿وَإِنَّ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ لَمَنْ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَمَا أُنْزِلَ إِلَيْكُمْ وَمَا أُنْزِلَ إِلَيْهِمْ خَاشِعِينَ لِلَّهِ لَا يَشْتَرُونَ بِآيَاتِ اللَّهِ ثَمَنًا قَلِيلًا  أُولَئِكَ لَهُمْ أَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ  إِنَّ اللَّهَ سَرِيعُ الْحِسَابِ﴾

[آل عمران: 199]

’’اہل کتاب میں بھی کچھ لوگ ایسے ہیں جو اللہ پر ایمان رکھتے  ہیں، اس کتاب پر ایمان لاتے ہیں جو تمہاری طرف بھیجی گئی ہے اوراُس کتاب پربھی ایمان رکھتے ہیں جو اس سے پہلے خود ان کی طرف بھیجی گئی تھی، اللہ کے آگے جھکے ہوئے ہیں، اور اللہ کی آیات کو تھوڑی سی قیمت پر بیچ نہیں دیتے ان کا اجر ان کے رب کے پاس ہے اور اللہ حساب چکانے میں دیر نہیں لگاتا۔‘‘

اللہ تعالی نے اس آیت میں ان لوگوں کا  ذکر بہت اچھے انداز میں بیان کیا ہے کہ جو اللہ کی آیات پر دنیاوی اجر نہیں لیتے بلکہ فرمایا کہ ان کا اجر ان کے رب کے پاس ہے۔ یعنی دین کاموں کے اجر آخرت کے لئے ہے دنیا کے لئے نہیں۔قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :

﴿وَآمِنُوا بِمَا أَنْزَلْتُ مُصَدِّقًا لِمَا مَعَكُمْ وَلَا تَكُونُوا أَوَّلَ كَافِرٍ بِهِ  وَلَا تَشْتَرُوا بِآيَاتِي ثَمَنًا قَلِيلًا وَإِيَّايَ فَاتَّقُونِ﴾

[البقرة: 41]

’’اور ایمان لاؤ (اس کتاب) پر جو میں نے نازل کی تصدیق کرنے والی ہے اس کی جو تمہارے پاس ہے (تورات و انجیل) اور مت بنو پہلے انکار کرنے والے اس کے اور مت بیچو میری آیتوں کو تھوڑی قیمت میں اور صرف مجھ ہی سے پس تم ڈرو‘‘۔

﴿۔ ۔ ۔  فَلَا تَخْشَوُا النَّاسَ وَاخْشَوْنِ وَلَا تَشْتَرُوا بِآيَاتِي ثَمَنًا قَلِيلًا  وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ فَأُولَئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ

[المائدة: 44]

’’تم لوگوں سے نہ ڈرو بلکہ مجھ سے ڈرو اور میری آیات کوتھوڑے معاوضے پر مت بیچو، جو لوگ اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلہ نہ کریں وہی کافر ہیں۔‘‘

ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ’’ میری آیات ‘‘ کو  ’’ ذریعہ معاش نہ بنا لو‘‘،اور فرمایا کہ جو اللہ کے نازل کردہ کے مطابق فیصلہ نہ کریں ’’وہی کافر ‘‘ ہیں۔ یعنی یہ جو حکم دیا گیا ہے کہ قرآن مجید کی آیات نہ بیچ ڈالو یہ اللہ کا حکم ہے ، اور جو اس کے خلاف فیصلہ کریں یعنی اس کمائی کو جائز قرار دیں پس وہی کافر ہیں۔ اللہ تعالیٰ مزید فرماتا ہے:

﴿إِنَّ الَّذِينَ يَكْتُمُونَ مَا أَنْزَلَ اللَّهُ مِنَ الْكِتَابِ وَيَشْتَرُونَ بِهِ ثَمَنًا قَلِيلًا  أُولَئِكَ مَا يَأْكُلُونَ فِي بُطُونِهِمْ إِلَّا النَّارَ وَلَا يُكَلِّمُهُمُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا يُزَكِّيهِمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ﴾

[البقرة: 174]

’’بے شک  جو لوگ اُن احکام کو چھپاتے ہیں جو اللہ نے اپنی کتاب میں ناز ل کیے ہیں اوراس  (قرآن) کے ذریعے تھوڑا معاوضہ کماتے ہیں، وہ دراصل اپنے پیٹ میں جہنم کی  آگ ڈالتے ہیں، قیامت کے دن اللہ ہرگز ان سے بات نہ کرے گا، نہ انہیں پاک کرےگا، اور اُن کے لیے دردناک عذاب ہے‘‘۔

اس آیت میں دو معاملات بیان کئے گئے ہیں،  اول وہ لوگ جو اللہ کے نازل کردہ احکامات کو چھپاتے ہیں اور دوم وہ لوگ جو اس قرآن کے ذریعے کماتے ہیں، یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے پیٹوں میں جہنم کی آگ ڈال رہے ہیں یعنی قرآن مجید پر یہ کمائی درحقیقت جہنم کی آگ ہے۔ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ایسے افراد سے بات تک نہیں کرے گا یعنی ان پر بہت ہی غضب ناک ہوگا۔ انہیں پاک بھی نہیں کیا جائے گا کیونکہ جنت میں صرف پاک لوگ ہی جائیں گے۔

قارئین و سامعین  گرامی !  کتنے واضح  انداز میں اللہ تعالیٰ نے یہ بتا دیا کہ قرآن پر اجرت لینا حرام، اپنے پیٹوں میں جہنم کی آگ ڈالنا ہے اور جو لوگ یہ کام فی سبیل للہ کرتے ہیں ، آخرت میں اللہ تعالیٰ کے پاس اس کا بھرپور اجر پائیں گے۔

گویا  امامت،تعلیم القرآن پر اجرت مکمل طور پر حرام ہے۔

نبی ﷺ نے فرمایا :

عن عبد الرحمن بن شبل الأنصاري، أن معاوية قال له: إذا أتيت فسطاطي فقم فأخبر ما سمعت من رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: ” اقرءوا القرآن، ولا تغلوا فيه، ولا تجفوا عنه، ولا تأكلوا به، ولا تستكثروا به

( مسند احمد،  مسند المكيين ، حدیث عبد الرحمن بن شبل ؓ)

’’عبد الرحمن بن شبلؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا قرآن پڑھو اور اس میں غلو نہ کرو اور اس سے اعراض نہ کرو اس کو ذریعہ معاش نہ بناؤ اور نہ ہی اس سے بہت سے دنیاوی فائدے حاصل کرو۔‘‘

عن سهل بن سعد الساعدي، قال: خرج علينا رسول الله صلى الله عليه وسلم يوما ونحن نقترئ، فقال: «الحمد لله كتاب الله واحد، وفيكم الأحمر وفيكم الأبيض وفيكما لأسود، اقرءوه قبل أن يقرأه أقوام يقيمونه كما يقوم السهم يتعجل أجره ولا يتأجله»

( ابو داؤد،  أبواب تفريع استفتاح الصلاة، باب ما يجزئ الأمي والأعجمي من القراءة )

’’ سہل بن سعد بن ساعدی ؓ سے روایت ہے کہ ایک دن رسول اﷲﷺہمارے پاس تشریف لاۓ اس حال میں کہ ہم قرآن کی تلاوت کر رہے تھے یہ دیکھ کر آپؐ نے فرمایا الحمدﷲ کتابﷲ پڑھنے والے سرخ بھی ہیں‛ سفید بھی ہیں‛ کالے بھی ہیں قرآن پڑھو عنقریب ایسی قومیں آئیں گی جو قرآن کے زیرزبر کو ایسے سیدھا کریں گی جیسے تیر کو سیدھا کیا جاتا ہے لیکن قرآن کے اجر میں جلدی کریں گے اور اس کو آخرت پر نہ رکھیں گے۔‘‘

عن عثمان بن أبي العاص قال: قلت: يا رسول الله، اجعلني إمام قومي. فقال: «أنت إمامهم، واقتد بأضعفهم، واتخذ مؤذنا لا يأخذ على أذانه أجرا»

( سنن النسائی،  کتاب الاذان ، اتخاذ المؤذن الذي لا يأخذ على أذانه أجرا )

’’ عثمان بن ابی العاصؓ سے روایت ہے کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ مجھے اپنی قوم کا امام بنا دیجئے آپ ؐ نے فرمایا (ٹھیک ہے) تم ان کے امام ہو لیکن کمزور مقتدیوں کا خیال رکھنا۔ اور مؤذن ایسا شخص مقرر کرنا جو اذان پر اجرت نہ لے۔‘‘

عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، قَالَ: عَلَّمْتُ نَاسًا مِنْ أَهْلِ الصُّفَّةِ الْكِتَابَ، وَالْقُرْآنَ فَأَهْدَى إِلَيَّ رَجُلٌ مِنْهُمْ قَوْسًا فَقُلْتُ: لَيْسَتْ بِمَالٍ وَأَرْمِي عَنْهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، لَآتِيَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَأَسْأَلَنَّهُ فَأَتَيْتُهُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، رَجُلٌ أَهْدَى إِلَيَّ قَوْسًا مِمَّنْ كُنْتُ أُعَلِّمُهُ الْكِتَابَ وَالْقُرْآنَ، وَلَيْسَتْ بِمَالٍ وَأَرْمِي عَنْهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ، قَالَ: «إِنْ كُنْتَ تُحِبُّ أَنْ تُطَوَّقَ طَوْقًا مِنْ نَارٍ فَاقْبَلْهَا»           

(المستدرک علی الصحیحین للحاکم ، کتاب البیوع، وَأَمَّا حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ )

’’ عبادہ بن صامت  ؓسے روایت ہے کہ وہ فرماتے ہیں کہ میں نے اہل صفہ کے کچھ لوگوں کو قرآن مجید  اور کتاب اللہ کی تعلیم دی ان میں سے ایک شخص نے مجھے ایک کمان ہدیہ دی۔ میں نے کہا کہ اس کی مالیت تو کچھ نہیں اور میں اس سے اللہ کی راہ میں تیر اندازی کروں گا (مقصد یہ کہ اس ہدیہ کے قبول کرنے کا خیال تھا اس واسطے کہ اس کی مالیت تو کچھ خاص نہیں تھی کہ اس کو تعلیم کا معاوضہ خیال کرتا اور نیت یہ تھی کہ اس کے ذریعہ اللہ کے راستہ میں تیر اندازی کروں گا) میں اس کے بارے میں رسول اللہﷺ کے پاس جاؤں گا اور سوال کروں گا، چنانچہ میں نبی ﷺ کے پاس گیا اور کہا کہ یا رسول ﷺایک آدمی نے مجھے کمان ہدیہ کی ہے ان میں سے کہ جنہیں کتاب اللہ اور قرآن کی تعلیم دیتا ہوں اور اس کمان کی کچھ مالیت بھی نہیں ہے اور اس کے ذریعہ میں اللہ کے راستہ میں تیر اندازی کروں گا، نبیﷺ نے فرمایا کہ اگر تجھے یہ بات پسند ہے کہ تیرے گلے میں آگ کا طوق ڈالا جائے تو اسے قبول کر لے۔‘‘

عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:  «من تعلم علما مما يبتغى به وجه الله، لا يتعلمه إلا ليصيب به عرضا من الدنيا، لم يجد عرف الجنة يوم القيامة»

( صحیح ابن حبان ،  کتاب العلم ، ذكر وصف العلم الذي يتوقع دخول النار في القيامة لمن طلبه )

’’ ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا کہ جس شخص نے وہ علم کہ جس سے اللہ تبارک تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کی جاتی ہے اس لئے سیکھا کہ اس کے ذریعہ اسے دنیا کا کچھ مال و متاع مل جائے تو ایسا شخص جنت کی خوشبو کو بھی نہیں پا سکے گا قیامت کے دن۔ ‘‘

قرآن اور احادیث نبوی ﷺ سے ثابت ہوا کہ

قرآن مجید کی آیات  پر  اجرت لینا،

اس پر تحفہ لینا،

اس کے ذریعے کسی اور قسم کا فائدہ اٹھانا       ،

اپنے پیٹوں میں جہنم کی آگ ڈالنا ہے۔

اللہ کے حکم کا کفر،

اورنبی ﷺ کے حکم کا کفرہے۔

اسی طرح اذان کی اجرت سے بھی منع کردیا گیا ہے۔

دینی امور پر اجرت لینے پر سارے فرقوں کا اتفاق ہے۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ فرقوں کا سارا کنٹرل ان کے مفتی اور مولوی کے ہاتھ میں ہوتا ہے ، اور یہ اپنی کمائی کسی  بھی طور چھوڑنے پر تیار نہیں، انہوں دین کو پیشہ بنا رکھا ہے۔

اس سے  قبل ہم نے  قرآن و حدیث  کے دلائل سے اس بات کو واضح کیا تھا کہ دینی امور پر اجرت  کا لینا جائز نہیں اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ ﷺ نے اس سے منع فرمایا ہے۔ اب چونکہ فرقوں کا سارا کنٹرول انہی دین فرشوں کے ہاتھ میں ہوتا ہے اس لئے یہ اپنے اندھے مقلدین کو گمراہ کرنے کی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں اور  اپنی ناجائز کمائی حلال قرار دینے کے لئے امت میں طرح طرح سے شکوک ڈالتے ہیں۔ چنانچہ کچھ فرقوں کے علماء  کہتے ہیں کہ   ان قرآنی آیات کا ہر گز یہ مقصد نہیں کہ  قرآن پر  اجرت منع ہے بلکہ قرآن ہی کی آیات بعض دوسری آیات کی تفصیل بیان کرتی ہیں۔ اس بارے میں وہ مندرجہ ذیل آیت پیش کرتے ہیں :

﴿إِنَّ الَّذِينَ يَكْتُمُونَ مَا أَنْزَلَ اللَّهُ مِنَ الْكِتَابِ وَيَشْتَرُونَ بِهِ ثَمَنًا قَلِيلًا  أُولَئِكَ مَا يَأْكُلُونَ فِي بُطُونِهِمْ إِلَّا النَّارَ وَلَا يُكَلِّمُهُمُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا يُزَكِّيهِمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ   ۝ أُولَئِكَ الَّذِينَ اشْتَرَوُا الضَّلَالَةَ بِالْهُدَى وَالْعَذَابَ بِالْمَغْفِرَةِ  فَمَا أَصْبَرَهُمْ عَلَى النَّارِ﴾

[البقرة: 174-175]

’’بے شک  جو لوگ اُن احکام کو چھپاتے ہیں جو اللہ نے اپنی کتاب میں ناز ل کیے ہیں اوراس  (قرآن) کے ذریعے تھوڑا معاوضہ کماتے ہیں، وہ دراصل اپنے پیٹ میں جہنم کی  آگ ڈالتے ہیں، قیامت کے دن اللہ ہرگز ان سے بات نہ کرے گا، نہ انہیں پاک کرےگا، اور اُن کے لیے دردناک عذاب ہے۔ یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہدایت کے بدلے گمراہی خرید لی ہے اور  ( اللہ  کی طرف سے ) مغفرت کے بدلے ( اللہ کا ) عذاب، سو دیکھو یہ کس قدر صبر کرنے والے ہیں جہنم کی آگ پر۔‘‘

﴿وَإِذۡ أَخَذَ ٱللَّهُ مِيثَٰقَ ٱلَّذِينَ أُوتُواْ ٱلۡكِتَٰبَ لَتُبَيِّنُنَّهُۥ لِلنَّاسِ وَلَا تَكۡتُمُونَهُۥ فَنَبَذُوهُ وَرَآءَ ظُهُورِهِمۡ وَٱشۡتَرَوۡاْ بِهِۦ ثَمَنٗا قَلِيلٗاۖ فَبِئۡسَ مَا يَشۡتَرُونَ﴾

[آل عمران: 187]

’’ اور جب اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں سے پختہ عہد لیا تھا جو کتاب دیئے گئے کہ وہ لوگوں کے سامنے کتاب کو وضاحت سے بیان کریں گے اور اسے چھپائیں گے نہیں۔ پھر انہوں نے کتاب کو پس پشت ڈال دیا اور اسے تھوڑی سی قیمت کے عوض بیچ ڈالا۔ کتنی بری ہے وہ قیمت جو وہ وصول کر رہے ہیں‘‘۔

ان آیات  کو پیش کرکے کہا جاتا ہے کہ  جب دین کو چھپا لیا جائے اور اس پر اجرت لی جائے تو یہ اسوقت یہ حرام ہے ورنہ یہ جائز ہے۔

وضاحت :

بے شک ایسا کرکے اس پر اجرت لینا تو کھلا حرام ہے لیکن یہ مفتیان بھی اس امت کیساتھ وہی کھیل رہے ہیں جو کہ قوم یہود کے علماء نے کھیلا تھا کہ  اللہ کے نازل کردہ  میں سے بہت چھپا لیا کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اس قسم کے افراد کی  اس روش سے اسی وقت آگاہ کردیا تھا۔ مالک کائنات فرماتا ہے :

﴿يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ إِنَّ كَثِيرٗا مِّنَ ٱلۡأَحۡبَارِ وَٱلرُّهۡبَانِ لَيَأۡكُلُونَ أَمۡوَٰلَ ٱلنَّاسِ بِٱلۡبَٰطِلِ وَيَصُدُّونَ عَنسَبِيلِ ٱللَّهِۗ ۔ ۔ ۔﴾

[التوبة: 34]

’’اے ایمان والو، بے شک علماء اور پیروں کی اکثریت   لوگوں کا مال باطل  طریقے سے کھاتی ہے  اور انہیں اللہ کی راہ سے روک دیتی ہے ۔ ۔ ۔‘‘

اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی بتا دیا تھا کہ یہ لوگوں کا  مال باطل طریقے سے کھاتے ہیں تو اللہ کی وہ بات صادق آئی اور آج  یہ بات ہمارے سامنے کھل کر آچکی ہے کہ یہ مولوی، یہ پیر اور مفتیان کس کس طرح دین پر کمائی کر رہے ہیں۔  کہیں امامت پر اجرت ہے، کہیں تعلیم القرآن پر اجرت، کہیں قرآن کا تعویذ لکھ کر کما رہے ہیں  اور کہیں ایصال ثواب کی بدعات پر مبنی رسومات ایجاد کرکے وہاں پوری پوری ٹیم لیجا کر ختم قرآن کی فیس لے رہے ہیں۔ کہیں مولوی صاحب کو ختم  پر بلایا جاتا ہے اور ہاتھ اٹھا اٹھا کر دعا کرکے تر مال اور ہدیہ حاصل کرتے ہیں تو  اب کہیں ’’ قرآن سے روحانی علاج ‘‘ شروع کردیا ہے۔ کہیں اذان پر اجرت ہے تو کہیں  درس و تدریس پرجانے کا ہدیہ۔ الغرض کہ دین کو کمائی کا ذریعہ بنا ڈالا ہے۔

مفتی صاحبان جو یہ دو آیات پیش کررہے ہیں تو دین پر اجرت کے بارے میں  قرآن میں صرف یہ دو آیات نہیں ہیں بلکہ کثرت سے وہ آیات بھری پڑی ہیں جن میں اجرت پر انکار ثابت ہوتا ہے۔ مفتی صاحبان وہ آیات لوگوں کے سامنے آنے ہی نہیں دیتے بلکہ اسے چھپا لیتے ہیں۔ملاحظہ فرمائیں اس کی چند مثالیں:

نوح علیہ السلام نے اپنی قوم سے کہا :

﴿وَمَآ أَسۡ‍َٔلُكُمۡ عَلَيۡهِ مِنۡ أَجۡرٍۖ إِنۡ أَجۡرِيَ إِلَّا عَلَىٰ رَبِّ ٱلۡعَٰلَمِينَ﴾

[الشعراء: 109]

’’اور نہیں میں سوال کرتا تم سے اس پر کسی اجرت کا، نہیں ہے میری اجرت مگر جہانوں کے رب کے ذمے‘‘ ۔

﴿وَيَٰقَوۡمِ لَآ أَسۡ‍َٔلُكُمۡ عَلَيۡهِ مَالًاۖ إِنۡ أَجۡرِيَ إِلَّا عَلَى ٱللَّهِۚ﴾

[هود: 29]

’’اور اے میری قوم ! میں نہیں مانگتا تم سے اس پر کوئی مال، نہیں ہے میرا اجر مگر اللہ پر ‘‘

ھود علیہ اسلام نے فرمایا میرا اجر ﷲ کے ذمہ ہے۔

﴿وَمَآ أَسۡ‍َٔلُكُمۡ عَلَيۡهِ مِنۡ أَجۡرٍۖ إِنۡ أَجۡرِيَ إِلَّا عَلَىٰ رَبِّ ٱلۡعَٰلَمِينَ﴾

[الشعراء: 127]

’’اور نہیں میں سوال کرتا تم سے اس پر کسی اجرت کا، نہیں ہے میری اجرت مگر جہانوں کے رب کے ذمے‘‘ ۔

﴿يَٰقَوۡمِ لَآ أَسۡ‍َٔلُكُمۡ عَلَيۡهِ أَجۡرًاۖ إِنۡ أَجۡرِيَ إِلَّا عَلَى ٱلَّذِي فَطَرَنِيٓۚ أَفَلَا تَعۡقِلُونَ﴾

[هود: 51]

’’اے میری قوم ! نہیں میں مانگتا تم سے اس پر کوئی اجر، نہیں ہے میرا اجر مگر اس پر جس نے مجھے پیدا کیا تو کیا تم سمجھتے نہیں ہو‘‘

لوط علیہ اسلام نےفرمایا میرا اجر ﷲ کے ذمہ ہے۔

﴿وَمَآ أَسۡ‍َٔلُكُمۡ عَلَيۡهِ مِنۡ أَجۡرٍۖ إِنۡ أَجۡرِيَ إِلَّا عَلَىٰ رَبِّ ٱلۡعَٰلَمِينَ﴾

[الشعراء: 164]

’’اور نہیں میں مانگتا تم سے اس (تبلیغ) پر کوئی اجرت ، نہیں ہے میری اجرت مگر رب العالمین کے ذمے ‘‘۔

شعیب علیہ اسلام نے فرمایا میرا اجر ﷲ کے ذمہ ہے۔

﴿وَمَآ أَسۡ‍َٔلُكُمۡ عَلَيۡهِ مِنۡ أَجۡرٍۖ إِنۡ أَجۡرِيَ إِلَّا عَلَىٰ رَبِّ ٱلۡعَٰلَمِينَ﴾

[الشعراء: 180]

’’اور نہیں میں مانگتا تم سے اس (تبلیغ) پر کوئی اجرت ، نہیں ہے میری اجرت مگر رب العالمین کے ذمے‘‘ ۔

سورہ یٰسن میں اللہ تعالیٰ نے ایک بنیاد بیان فرمائی کہ ہدایت پر کون ہے :

اتَّبِعُوۡا مَنۡ لَّا یَسْـَٔلُكُمْ اَجْرًا وَّ ہُمۡ مُّہۡتَدُوۡنَ

(یٰسٓ :21)

’’ رسولوں کی اتباع کرو جو تم سے کوئی اجر نہیں مانگتے اور جو ہدایت یافتہ ہیں۔‘‘

نبی ﷺ سے کہلوایا :

قُلۡ  لَّاۤ  اَسْـَٔلُكُمْ عَلَیۡہِ  اَجْرًا ؕ اِنْ  ہُوَ  اِلَّا ذِكْرٰی لِلْعٰلَمِیۡنَ

(الانعام: 90)

’’ (اے نبی ﷺ!) کہدو کہ میں تم سے اس (قرآن) پر اجرت نہیں مانگتا ، یہ تو تمام عالم کے لیے نصیحت ہے ۔‘‘

قُلْ مَا سَاَلْتُكُمۡ مِّنْ اَجْرٍ فَہُوَ لَكُمْ ؕ اِنْ اَجْرِیَ  اِلَّا عَلَی اللہِ

(سبا :47)

’’ (اے نبی ﷺ!) کہدو کہ میں نے (دین پر) تم سے کچھ اجرت مانگی ہو تو وہ تمہاری، میرا اجر تو اﷲ کے ذمہ ہے اور وہ ہر چیز سے باخبر ہے ‘‘۔

انبیاء علیہ السلام بھی اپنے ہاتھوں سے کمانے والے تھے :

عَنِ النَّبِیِّا قَالَ مَا بَعَثَ اللّٰہُ نَبِیًّا اِلَّا رَعَی الْغَنَمَ فَقَالَ اَصْحَابُہٗ وَ اَنْتَ فَقَالَ نَعَمْ کُنْتُ اَرْعَاھَاعَلٰی قَرَارِْ یطَ لِاَھْلِ مَکَّۃَ

(بخاری: کتاب الاجارۃ، باب رعی الغنم علی قراریط )

’’ نبی ﷺنے فرمایا کہ اﷲ تعالیٰ نے کوئی نبی ایسا نہیں بھیجا جس نے بکریاں نہ چَرائیں ہوں۔ صحابہؓ نے پوچھا اور آپ نے بھی؟ فرمایا کہ ہاں، میں بھی مکہ والوں کی بکریاں چند قیراط کی اجرت پر چَرایا کرتا تھا‘‘۔

اسی طرح انبیاء علیہ السلام مختلف کام کیا کرتے تھے:

اِنَّ دَاوٗدَ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ لَا یَاْکُلُ اِلَّامِنْ عَمَلِ یَدِہٖ

(بخاری: کتاب البیوع، باب کسب الرجل عملِہ بیدہٖ)

’’ اﷲ کے نبی داؤ د علیہ الصلوٰۃ و السلام صرف اپنے ہاتھ سے کام کرکے روزی حاصل کرتے تھے ۔‘‘

کَانَ زَکَرِیَّا نَجَّارًا

(مسلم:کتاب الفضائل،باب فضائل زکریا ؑ)

’’ زکریا  ؑ بڑھئی تھے ۔‘‘

اب دیکھیں صحابہ ؓ  کا کردار:

عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَتَاهُ رِعْلٌ وَذَكْوَانُ وَعُصَيَّةُ وَبَنُو لَحْيَانَ فَزَعَمُوا أَنَّهُمْ قَدْ أَسْلَمُوا وَاسْتَمَدُّوهُ عَلَى قَوْمِهِمْ ، فَأَمَدَّهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَبْعِينَ مِنْ الْأَنْصَارِ ، قَالَ : أَنَسٌ كُنَّا نُسَمِّيهِمْ الْقُرَّاءَ يَحْطِبُونَ بِالنَّهَارِ وَيُصَلُّونَ بِاللَّيْلِ فَانْطَلَقُوا بِهِمْ حَتَّى بَلَغُوا بِئْرَ مَعُونَةَ غَدَرُوا بِهِمْ وَقَتَلُوهُمْ ، فَقَنَتَ شَهْرًا يَدْعُو عَلَى رِعْلٍ وَذَكْوَانَ وَبَنِي لَحْيَانَ ، قَالَ : قَتَادَةُ ، وَحَدَّثَنَا أَنَسٌ أَنَّهُمْ قَرَءُوا بِهِمْ قُرْآنًا أَلَا بَلِّغُوا عَنَّا قَوْمَنَا بِأَنَّا قَدْ لَقِيَنَا رَبَّنَا فَرَضِيَ عَنَّا وَأَرْضَانَا ، ثُمَّ رُفِعَ ذَلِكَ بَعْدُ

( بخاری،کتاب الجہاد و السیر، بَابُ العَوْنِ بِالْمَدَدِ )

’’نبی کریم ﷺ کی خدمت میں رعل ‘ ذکوان ‘ عصیہ اور بنو لحیان قبائل کے کچھ لوگ آئے اور یقین دلایا کہ وہ لوگ اسلام لا چکے ہیں اور انہوں نے اپنی کافر قوم کے مقابل امداد اور تعلیم و تبلیغ کے لیے آپ سے مدد چاہی۔ تو نبیﷺنے ستر انصاریوں کو ان کے ساتھ کر دیا۔ انسؓ نے بیان کیا ‘ کہ ہم انہیں قاری کہا کرتے تھے۔ وہ لوگ دن میں جنگل سے لکڑیاں جمع کرتے اور رات میں صلوٰۃ ادا کرتے  رہتے۔ یہ لوگ  ان قبیلہ والوں کے ساتھ چلے گئے ‘ لیکن جب بئرمعونہ پر پہنچے تو قبیلہ والوں نے ان صحابہ ؓ کے ساتھ دغا کی اور انہیں شہید کر ڈالا۔ نبیﷺ نے ایک مہینہ تک  ( صلوٰۃ میں )  قنوت پڑھی اور رعل و ذکوان اور بنو لحیان کے لیے بددعا کرتے رہے۔ قتادہ نے کہا کہ ہم سے انس ؓ نے کہا کہ  ( ان شہداء کے بارے میں )  قرآن مجید میں ہم یہ آیت یوں پڑھتے رہے ”ہاں! ہماری قوم  ( مسلمین )  کو بتا دو کہ ہم اپنے رب سے جا ملے۔ اور وہ ہم سے راضی ہو گیا ہے اور ہمیں بھی اس نے خوش کیا ہے۔“ پھر یہ آیت منسوخ ہو گئی تھی‘‘۔

قرآن و حدیث کے دلائل سے ثابت ہوا کہ کسی بھی حالت میں قرآن مجید پر اجرت نہیں لی جا سکتی۔  فرقے کے مفتیان و علماء خود ان سب باتوں کو چھپاتے ہیں، لوگوں کے سامنے یہ سب بیان نہیں کرتے تاکہ لوگ حقیقت جان کر ہمیں  مال دینا نہ بند کردیں، لہذا اب ان پر بھی ان دونوں آیات کا نفاذ ہوتا ہے جو یہ بہانہ تراشنے کے لئے بیان کرتے ہیں۔ اس طرح انہوں نے وہی کام کیا جو مالک قرآن مجید میں فرماتا ہے :

﴿ٱشۡتَرَوۡاْ بِ‍َٔايَٰتِ ٱللَّهِ ثَمَنٗا قَلِيلٗا فَصَدُّواْ عَن سَبِيلِهِۦٓۚ إِنَّهُمۡ سَآءَ مَا كَانُواْ يَعۡمَلُونَ﴾

[التوبة: 9]

’’انہوں نے اللہ کی آیات کو تھوڑی سی قیمت پر بیچ دیا پھر (لوگوں کو) اللہ کی راہ سے روک دیا۔ بہت برے ہیں وہ کام جو وہ کر رہے ہیں‘‘۔

بالکل آج یہی ماحول ہے کہ ہر ہر فرقےنے ’’ دین پر اجرت ‘‘ پر اتفاق کیا ہوا ہے اور باقی ہر ہر مسئلے پر ان کا اختلاف ہے، بہر حال ان میں بھی کچھ لوگ ایسے ہیں جو اجرت نہیں لیتے لیکن ان کی تعداد بمشکل ایک دو فیصد ہی ہوگی۔

اپنےاس حرام فعل کو حلال ثابت کرنےکے لئے یہ  بخاری کی ایک حدیث بھی پیش کرتے ہیں، لہذا اس کا مطالعہ بھی کرتے ہیں۔

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ أَبِي المُتَوَكِّلِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ نَاسًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَوْا عَلَى حَيٍّ مِنْ أَحْيَاءِ العَرَبِ فَلَمْ يَقْرُوهُمْ، فَبَيْنَمَا هُمْ كَذَلِكَ، إِذْ لُدِغَ سَيِّدُ أُولَئِكَ، فَقَالُوا: هَلْ مَعَكُمْ مِنْ دَوَاءٍ أَوْ رَاقٍ؟ فَقَالُوا: إِنَّكُمْ لَمْ تَقْرُونَا، وَلاَ نَفْعَلُ حَتَّى تَجْعَلُوا لَنَا جُعْلًا، فَجَعَلُوا لَهُمْ قَطِيعًا مِنَ الشَّاءِ، فَجَعَلَ يَقْرَأُ بِأُمِّ القُرْآنِ، وَيَجْمَعُ بُزَاقَهُ وَيَتْفِلُ، فَبَرَأَ فَأَتَوْا بِالشَّاءِ، فَقَالُوا: لاَ نَأْخُذُهُ حَتَّى نَسْأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلُوهُ فَضَحِكَ وَقَالَ: «وَمَا أَدْرَاكَ أَنَّهَا رُقْيَةٌ، خُذُوهَا وَاضْرِبُوا لِي بِسَهْمٍ»

( بخاری، کتاب  الطب، بَابُ الرُّقَى بِفَاتِحَةِ الكِتَابِ )

’’ابوسعیدخدری ؓ کہتے ہیں کہ نبیﷺ کے صحابہ میں سے چند لوگ عرب کے کسی قبیلہ کے پاس پہنچے، اس قبیلہ کے لوگوں نے ان کی ضیافت نہیں کی، وہ لوگ وہیں تھے کہ اس قبیلہ کے سردار کو سانپ نے ڈس لیا، تو انہوں نے پوچھا کہ تمہارے پاس کوئی دوا یا کوئی دم کرنے والا ہے، تو ان لوگوں نے کہا کہ تم نے ہماری مہمان داری نہیں کی اس لئے ہم کچھ نہیں کریں گے، جب تک کہ تم لوگ ہمارے لئے کوئی چیز متعین نہ کروگے، اس پر ان لوگوں نے چند بکریوں کا دینا منظور کیا،پھر  ابو سعید خدری ؓ  نے سورہ فاتحہ پڑھنا شروع کی اور تھوک جمع کرکے اس پر ڈال دیا، تو وہ آدمی تندرست ہوگیا، وہ آدمی بکریاں لے کر آیا تو انہوں ( صحابہ ؓ ) نے کہا کہ ہم یہ نہیں لیتے جب تک کہ نبیﷺ سے اس کے متعلق دریافت نہ کرلیں، چنانچہ ان لوگوں نے نبی ﷺسے اس کے متعلق دریافت کیا تو آپ ہنس پڑے، فرمایا کہ تمہیں کیسے معلوم ہوا کہ سورہ فاتحہ دم ہے، تم اس کو لے لو اور ایک حصہ میرا بھی اس میں لگا و۔

یہ خصوصی معاملہ اس وقت پیش آیا تھا جب صحابہ کرامؓ کی جماعت کا گزر ایک قبیلے والوں پر ہوا جنہوں نے اس جماعت کی میزبانی کرنے سے انکار کردیا۔ایسی صورتحال کے لیے نبی ﷺ نے صحابہ کرام کو اس بات کی تعلیم دی ہوئی تھی کہ اگر کوئی قبیلہ ان کی ضیافت نہ کرے تووہ کسی طور سے حق ضیافت وصول کرلیں کیونکہ اس دور میں آج کل کی طرح ہوٹلوں وغیرہ کا رواج نہیں تھا۔

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَزِيدُ، عَنْ أَبِي الخَيْرِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ: قُلْنَا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّكَ تَبْعَثُنَا، فَنَنْزِلُ بِقَوْمٍ لاَ يَقْرُونَا، فَمَا تَرَى فِيهِ؟ فَقَالَ لَنَا: «إِنْ نَزَلْتُمْ بِقَوْمٍ   فَأُمِرَ لَكُمْ بِمَا يَنْبَغِي لِلضَّيْفِ فَاقْبَلُوا، فَإِنْ لَمْ يَفْعَلُوا، فَخُذُوا مِنْهُمْ حَقَّ الضَّيْفِ»

( بخاری، کتاب المظالم و غضب ، بَابُ قِصَاصِ المَظْلُومِ إِذَا وَجَدَ مَالَ ظَالِمِهِ )

اِنَّ اَحَقَّ مَا اَخَذْتُمْ عَلَیْہِ اَجْراً کِتَابُ اللّٰہِ

’’عقبہ بن عامر سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ ہم نے نبیﷺسے عرض کیا کہ آپ  ہمیں دوسری جگہ بھیجتے ہیں تو ہم ایسی قوم میں اترتے ہیں جو ہماری مہمانداری نہیں کرتے اس کے متعلق آپ  کیا فرماتے ہیں ؟ نبی ﷺنے ہم سے فرمایا کہ اگر تم کسی قوم کے پاس اترو اور وہ تمہارے لئے مناسب طور پر مہمانداری کا حکم دیں تو خیر ورنہ تم ان سے مہمانی کا حق وصول کرو‘‘۔

اس قبیلے نے اس جماعت کی ضیافت سے انکار کیاتواﷲ تعالیٰ نے اس قبیلے کے سردار کو کسی زہریلی چیز سے ڈسوا دیا۔جب وہ قبیلے والے صحابہ  کرام ؓ کے پاس آئے تو اُن کے طرز عمل کی نشاندہی کی گئی جیسا کہ روایت میں ہے۔ اس سے اس بات کی مکمل وضاحت ہوگئی کہ صحابہؓ نے یہ معاملہ محض اس بنیاد پر کیا تھا کہ قبیلے والوں نے حق ضیافت ادا نہیں کیا تھا ۔چنانچہ سور ہ فاتحہ کا دم کیا گیا اور اﷲ تعالیٰ نے ان کے سردار کو شفا عطا فرمادی ،قبیلے والے حسب وعدہ بکریاں لے آئے۔اب صحابہ کرام ؓ کو تردد ہو ا ۔ یہ تردد اسی وجہ سے ہوا کہ اللہ اوراس کے رسول ا قرآن پر اجرت کو حرام ٹھہراتے تھے ۔ چنانچہ انہوں نے اس سلسلے میں یہ طے کیا کہ یہ معاملہ پہلے نبیﷺ کے سامنے پیش کیا جائے۔نبیﷺنے ان سے کہا کہ تمہیں کیسے معلوم کہ ’’ فاتحہ ‘‘ ایک دم ہے  ( یعنی ایسی کوئی تعلیم نہیں دی گئی تھی )، پھر فرمایا کہ اس میں میرا بھی حصہ لگاو‘‘۔

اگر نبیﷺ اسے ’’اجرت‘‘ یا ’’کمائی‘‘ سمجھتے تو کسی طور پر بھی اس کی تقسیم اور اس میں اپناحصہ نکالنے کا حکم نہ دیتے کیونکہ ’’اجرت‘‘ یا’’ کمائی ‘‘ توعمل کرنے والے کی ہوتی ہے، وہ کسی میں تقسیم نہیں ہوتی۔

قبیلہ والوں نے صحابہ سے دریافت کیا کہ کیا تمہارے پاس کاٹے کی دوا ہے یا تمہارے اندر کوئی ایسا ہے جو کاٹے کے منتر سے واقف ہو اور دم کر سکتا ہو۔ صحابہ نے جواب دیا کہ ’’ ہاں‘‘۔ مگر تم لوگ وہ ہو جنہوں نے ہماری میزبانی کرنے سے انکار کردیا ہے اس لیے ہم اس وقت تک تمہارے سردار پر ’’دم‘‘ نہ کریں گے جب تک تم ہمیں اُس کی اجرت دینے کا وعدہ نہ کرو۔‘‘ان علماء سو نے جو  نے اپنی حرام کمائی کو حق ثابت کرنے کے لیے جو تانے بانے ملانے کی کوشش کی تھی،اس حدیث کے واضح الفاظ نے سر راہ اس کا شیرازہ بکھیر دیا۔

اِنَّ اَحَقَّ مَا اَخَذْتُمْ عَلَیْہِ اَجْراً کِتَابُ اللّٰہِ

اسی واقعہ کی ایک اور روایت ابن عباس رضی اﷲ عنہما سے بھی آتی ہے۔ما قبل بیان کردہ روایت ابو سعید خدری ؓسے مروی ہے جو کہ خود اس قافلے میں شامل تھے،اور ترمذی کی بیان کردہ روایت کے مطابق دم کرنے والے بھی وہ خود ہی تھے، مگر یہ حدیث جس کو روایت کرنے والاصحابی وہ ہے جو خود اس میں سفر میں شامل تھا اور جو اس پورے واقعے کا عینی شاہد اور مرکزی کردار رہا،ان فرقہ پرستوں کے نزدیک اُس روایت سے کم تر ہے جو دوسرے ایسے صحابی سے مروی ہے جو اس واقعے کے گواہ نہیں کہ اس مہم میں شریک سفر نہ تھے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اُس روایت میں ایک ایسا جملہ ہے جس کے ذریعے ان پیشہ وروں نے اپنی ’’حرام‘‘ کمائی کو جائز ٹھہرایا ہوا ہے۔ ابن عباس رضی اﷲ عنہما کی محولہ روایت میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ جب قبیلے کا سردارٹھیک ہوگیا اور صحابہ کو حسب وعدہ بکریاں دے دی گئیں
فَکَرِھُوْاذٰلِکَ وَقَالُوْا اَخَذْتَ عَلٰی کِتَابَ اﷲِ اَجْراً
’’ انہوں نے اسے لینے میں کراہیت کی اور کہا تم نے کتاب اﷲ پر اجرت لی ہے‘‘
حَتّٰی قَدِمُوْا الْمَدِیِنَۃِ فَقَالُوْا یَا رَسُوْلَ اﷲِ اَخَذَ عَلٰی کِتَابِ اﷲِ اَجْراً
’’ یہاں تک  کہ وہ مدینہ پہنچے ،تو انہوں نے کہا اے اﷲ کے رسول ا انہوں نے کتاب اﷲ پر اجرلیا ہے‘‘
رسول اﷲ ﷺنے فرمایا:
اِنَّ اَحَقَّ مَا اَخَذَتُمْ عَلَیہِ اَجْراً کِتَابُ اﷲِ
’’ جن چیزوں پر تم اجر لیتے ہو ان میں سب سےحقدار کتاب اﷲ ہے‘‘
(بخاری:کتاب الطب،باب الشرط فی الرقیۃ۔۔۔)

اس واقعے کے بارے میں تمام کتب حدیث بشمول صحیح بخاری میں جتنی بھی روایات بیان کی گئی ہیں ،سوائے اس منفرد روایت کے کسی میں بھی یہ الفاظ نہیں ملتے۔ یہی وہ جملہ ہے جس پرمفتی و مولوی اور ان  کے ہم قبیل اسلاف نے ایک جھوٹی عمارت کھڑی کرنے کی کوشش کی ہے۔ ہر معاملے میں قرآن و حدیث ایک متفقہ عقیدہ دیتا ہے۔ اگر کبھی کسی آیت یا حدیث کے الفاظ سے بظاہر کسی اور آیت یا حدیث کا انکار ہو رہا ہو تواس کی تاویل کتاب اﷲکے دئیے ہوئے مؤقف کے مطابق کی جاتی ہے۔اس بارے میں قرآن و حدیث کا یہی بیان ہے کہ اﷲ کی آیات کو بیچا نہ جائے، اس کوکسی انداز میں بھی کمائی کا ذریعہ نہ بنایا جائے، اس کے عوض کسی قسم کا کوئی تحفہ نہ لیا جائے اور نہ کوئی دوسرا دنیاوی فائدہ اٹھایا جائے، اذان فی سبیل اﷲ دی جائے، اس پر کوئی معاوضہ نہ دیا لیا جائے، دینی علم کو صرف اﷲ کی رضا کے لیے سیکھا جائے،جس کسی نے اسے دنیا کمانے کے لیے سیکھا تواس پر جنت کی خوشبو بھی حرام ہے۔

یہ سار ی باتیں ہمیں رسول اﷲ ﷺ کے ذریعے ہی پہنچی ہیں۔ اب کیا اس بات کا تصور کیا جا سکتا ہے کہ اﷲ کے رسول ﷺ اس کے خلاف بھی کوئی بات فرما دیں گے! رسول اﷲﷺ کے اس فرمان کو اسی انداز میں قبول کیا جائے گا کہ جس انداز میں خود انہوں نے اس پر عمل کیا ہوگا۔جبکہ نبی ﷺ سے زیادہ اللہ تعالیٰ کے حکم کو جو سورہ الانعام آیت نمبر 90 میں ہے عمل کرنے والا اور کون ہو سکتا ہے:

﴿أُوْلَٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ هَدَى ٱللَّهُۖ فَبِهُدَىٰهُمُ ٱقۡتَدِهۡۗ قُل لَّآ أَسۡ‍َٔلُكُمۡ عَلَيۡهِ أَجۡرًاۖ إِنۡ هُوَ إِلَّا ذِكۡرَىٰ لِلۡعَٰلَمِينَ﴾

[الأنعام: 90]

’’یہی لوگ ایسے تھے جن کو اللہ تعالٰی نے ہدایت کی تھی  سو آپ بھی ان ہی کے طریق پر چلیئے  آپ کہہ دی