Categories
Uncategorized

عقیدہ عذاب قبر اور مسلک پرستں کی مغالطہ آرائیاں ( قبر )

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

یہ فرقہ پرست اسی دنیاوی قبر کو مرنے کے بعدملنے والے عذاب یا راحت کا مقام قرار دیتے ہیں،اور کہتے ہیں کہ اسے عذاب قبر کہا ہی اس وجہ سے جاتا ہے کہ یہ اسی قبر میں ہوتا ہے،مردہ تودفن ہی یہاں کیا جاتا ہے اور یہی دنیاوی قبر اس کا ٹھکانہ ہے قیامت تک ۔۔۔۔۔۔

اس بات سے توکسی کو انکار نہیں کہ انسانی مدفن کو قبرکہتے ہیں۔جہاں ایک انسان دفنایا جاتا ہے، وہ اس کی قبر ہی کہلاتی ہے۔ لیکن یہ عرفی قبر عذاب و راحت کا مقام نہیں بلکہ یہ توعالم بالا کا معاملہ ہے جو کہ قرآن و حدیث سے واضح ہے ۔

اس بات کی وضاحت کردینا ضروری ہے کہ ان فرقہ پرستوں کا یہ بھی ایک پُرفریب انداز ہے کہ یہ لوگ ’’ قبر‘‘ کے لغوی معانی پر اصرار کرتے ہیں تاکہ بھولے بھالے لوگوں کو دھوکہ دے سکیں اور اِس طرح اِن کو اپنے عقائدبرقرار رکھنی کی امید ہوتی ہے جس طرح برزخ کے لغوی معنی بیان کر کے انہوں نے لوگوں کو بے وقوف بنایا ہوا تھا لیکن جب قرآن و حدیث سے اس کے معنی بیان کیے گئے تو اصل حقیقت سامنے آگئی۔مگر دورخی دیکھیے کہ جب منکرین حدیث صوم وصلوٰۃ،حج و زکوٰۃ وغیرہ کے لغوی معنی سے اپنا باطل عقیدہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو یہی لوگ ان کی تردید میں اصطلاحی و شرعی معنی پر اصرار کرتے ہیں۔ طرفہ تماشہ دیکھیے کہ جو چیز ’’قبر‘‘ اور ’’برزخ‘ ‘ کی بحث میں ان کی اپنی دلیل بنتی ہے وہی صوم و صلوٰۃ،حج و زکوٰۃ کی بحث میں اپنے حریف کے حق میں باطل ہوجاتی ہے! پہلے لغت حق اور اصطلاح باطل تھی ، اب پرویزیوں کے سامنے اصطلاح حق اور لغت باطل قرار پائی!ایسے دوہرے معیار سے اﷲتعالیٰ نے یہ کہہ کر منع فرمایا ہے کہ

الَّذِيْنَ اِذَا اكْتَالُوْا عَلَى النَّاسِ يَسْتَوْفُوْنَٞۖ۰۰۲وَ اِذَا كَالُوْهُمْ اَوْ وَّ زَنُوْهُمْ يُخْسِرُوْنَؕ۰۰۳اَلَا يَظُنُّ اُولٰٓىِٕكَ اَنَّهُمْ مَّبْعُوْثُوْنَۙ۰۰۴

[المطففين: 1-4]

’’تباہی ان لوگوں کے لیے جو ناپ تول میں کمی کرتے ہیں؛ جو لوگوں سے ناپ کر لیں تو پورا لیں اور جب اُن کو ناپ کر یا تول کر دیں تو کم دیں۔ کیا یہ لوگ نہیں جانتے کہ اٹھائے بھی جائیں گے (یعنی) ایک بڑے (سخت) دن میں۔‘‘

صحیح بات یہ ہے کہ چاہے قبر ہو یا برزخ، صلوٰۃ ہو یا زکوٰۃ، ان کے جو معنی قرآن و حدیث کے مطابق ہوں، تو وہی ان کے اصطلاحی اور شرعی معنی قرار دئیے جائیں گے اور ماسوا کی کوئی حیثیت نہ ہوگی۔ جس طرح منکرین حدیث نے ان الفاظ کے لغوی معنی بیان کرکے گمراہی پھیلائی ہے ،اسی طرح یہ فرقہ پرست قبر کے لغوی معنی بیان کرکے شدید گمراہی پھیلارہے ہیں اور قبرِ ارضی کو ’’آخری آرامگاہ‘‘ قرار دے کر شرک کی بنیاد فراہم کررہے ہیں۔ صلوٰۃ کے متعدد لغوی معنی ہیں، مثلاً دعا، رحمت، برکت، تعریف، دوڑ میں دوسرے نمبر پر آنے والا گھوڑا،کولھے ہلانا۔ بعض’’ آزاد پسندوں‘‘ نے آخرالذکر معنی لے کر ورزش اور اچھل کودکرنے کو صلوٰۃ کا نام دے دیا ہے۔ کچھ منکرین حدیث اس کے لغوی معنی تسبیح اور دعا مانتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اﷲ سے مانگنے اور صرف اس کی تسبیح بیان کرنے سے ہی صلوٰۃ ادا ہوجاتی ہے۔ پرویز نے اس کے معنی ’’دوڑ میں دوسرے نمبر پر آنے والا گھوڑا ‘‘ لیے ہیں اور اپنے انداز میں اس کی تشریح کی ہے کہ صلوٰۃ دراصل اسلامی نظام کا نام ہے، جس طرح دوسرے نمبر والا گھوڑا پہلے نمبر والے گھوڑے کے پیچھے ہوتا ہے ،اسی طرح انسان کو ریاستی نظام اور حکومت کے

احکام کا تابع ہونا چاہیے اور جس نے ان قوانین کی تابعداری کی، اس نے صلوٰۃ ادا کر لی اوراس طرح حکمِ ربی اقیموا الصلوٰۃ کا مطلب ہوا کہ اس طرح کانظام قائم کرو۔کیااہلحدیث یہاں صلوٰۃ کے ان لغوی معانی پر اصرار کریں گے؟ آپ اندازہ لگائیں کہ صلوٰۃ کے اصطلاحی معنی ( کہ یہ ایک مخصوص عبادت ہے جو مسلمین پر فرض ہے اور اس کا ایک مخصوص طریقہ ہے) سے صرف نظر کر کے لوگ کس طرح لغت کی بھول بھلیوں میں گم ہوگئے اور خود بھی گمراہ ہوئے اور نہ جانے کتنوں کو گمراہ کیا۔یہ ساری بحث اس لیے پیش کی گئی ہے تاکہ یہ بات سمجھ میں آجائے کہ دین اسلام میں کسی بھی بات کی تشریح و تفسیر وہ مانی جائے گی جو قرآن و حدیث کے دیئے ہوئے متفقہ عقیدے کے مطابق ہو نہ کہ صرف اس کے لغوی معنی۔ہم صلوٰۃ کے وہی معنی کریں گے جو قرآن و حدیث سے ملتے ہیں کہ’’ فرض طریقہ عبادت‘‘ ،

’’رحمت‘‘، ’’ رحمت کی دعا‘‘۔ بالکل اسی طرح قبر کے بھی وہی معنی لیے جائیں گے جو قرآن و حدیث سے ملتے ہوں۔حدیث میں آتا ہے:

اِنَّمَا مَرَّ رَسُوْلُ اﷲِ ا عَلٰی یَھُوْدِیَّۃٍ یَبْکِی عَلَیْھَا اَھْلُھَا فَقَالَ اِنَّھُمْ لَیَبْکُوْنَ عَلَیْھَا وَ اِنَّھَا لَتُعَذَّبُ فِیْ قَبْرِھَا

(بخاری:کتاب الجنائز،باب قول یعذب المیت ببعض بکاء اھلہ علیہ)

’’نبی ﷺ ایک (فوت شدہ) یہودی عورت کے پاس سے گذرے اس کے گھر والے اس پر رو رہے تھے۔نبیﷺ نے فرمایا کہ یہ لوگ اس پر رو رہے ہیں اور اسے اس کی قبر میں عذاب دیا جارہا ہے‘‘۔

سوچنے کی بات ہے کہ ابھی وہ یہودی عورت اس زمینی،لغوی و عرفی قبر میں دفن بھی نہیں ہوئی اور اس پر عذاب ہونے کا مژدہ سنایا جارہا ہے، اوراس عذاب دیئے جانے کے مقام کا نام ’’ قبر‘‘ بتایاجارہا ہے۔

اس سے ثابت ہوا کہ جہاں کہیں مردے کے دفن کا ذکر ہو تو وہاں اس سے مراد یہی زمینی ، لغوی وعرفی قبر ہے،لیکن جہاں کہیں میت کوجزا و سزادیئے جانے کا بیان ہوتو وہاں ’’ قبر‘‘ کے اصطلاحی و شرعی معنی لیے جائیں گے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ زمینی قبر ہر مرنے والے کو نہیں ملتی لیکن قرآن ہر مرنے والے کو قبردیئے جانے کا اعلان فرماتا ہے۔اﷲتعالیٰ انسان کی تخلیق کو بیان کرنے کے بعد فرماتا ہے:

ثُمَّ اَمَاتَهٗ فَاَقْبَرَهٗۙ

(عبس : 21)

’’ پھر اس کو موت دی اور قبر دی‘‘

یعنی جس انسان کوبھی موت ملی ،اس کو قبر ملی۔

اب ذرا غور فرمایئے کہ یہ ارضی، لغوی وعرف عام والی قبر تو بدھ مت و ہندومت کے پیروکارکروڑہا انسانوں،آتش پرست مجوسی و پارسی مذاہب کے ماننے والوں، کمیونسٹ اور سوشلسٹ نظریات کی حامل قوموں کوتوملتی ہی نہیں کیونکہ ان میں مردے دفنانے کے بجائے اپنے اپنے طریقے کے مطابق ٹھکانے لگانے کا رواج ہے۔مختلف عذابات کا شکار ہوجانے والی قوموں کو بھی یہ ارضی قبر نصیب نہیں ہوئی مثلاًنوح علیہ السلام کی قوم کو یہ زمینی قبر نہیں مل سکی کہ طوفان میں ڈوب کرمر گئے(سورۃ نوح:۲۵)۔ لوط علیہ السلام کی قوم کو بھی نہیں ملی کہ ان پر آسمان سے

پتھربرسے اور ہلاک کردیئے گئے (الشعراء: ۱۷۰۔۱۷۳،وغیرہ)۔ موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں تباہ ہونے والی قوم فرعون کو بھی نہ مل سکی کہ دریا برد ہوگئی (الذٰریٰت:۴۰ وغیرہ)۔ مدین والوں کو اس ارضی قبر میں نہیں دفن کیا گیا بلکہ زلزلے نے ان سب کو ہلاک کرڈالا ( الاعراف:۹۱، وغیرہ)۔ ہودعلیہ السلام کی قوم عاد اس قبر میں دفن نہیں ہوئی بلکہ زوردار آندھیوں نے ان کو نیست ونابودکردیا( احقاف:۲۴،وغیرہ)۔ صالح علیہ السلام کی قومِ ثمود کو یہ قبریں نصیب نہیں ہوئیں بلکہ ایک زوردار چنگھاڑنے انہیں مارڈالا (ھود:۶۷،وغیرہ)۔۔۔نہ جانے کتنی ہی قومیں اس لغوی و عرفی ارضی قبر سے محروم رہیں تو کیا اﷲ کے قانون ثُمَّ أَمَاتَهُ فَأَقْبَرَهُ کاان قوموں پر اطلاق نہ ہوا؟

آیئے اس بارے میں ان فرقہ پرستوں کے عقائد کا جائزہ لیتے ہیں۔’’حضرت علامہ مفتی‘‘ جابر دامانوی صاحب قبر کی تعریف بیان کرتے ہیں:

’’وہ گڑھا جس میں مردے کو دفن کرتے ہیں‘‘، ’’ دفن کرنے کی جگہ‘‘ (خلاصہ الدین الخالص:صفحہ۴۵)

عذاب القبر کی تشریح اس طرح فرماتے ہیں:

’’عذاب القبر مرکب اضافی ہے، عذاب مضاف اور القبر مضاف الیہ جس کا مطلب ہے ’’قبر کا عذاب‘‘۔یعنی وہ عذاب جو قبر میں ہوتا ہے، اس مرکب ہی سے معلوم ہوتا ہے کہ عذاب قبر میں ہوتا ہے‘‘۔ (ایضاً، صفحہ ۲۱) ’’ میت کو قبر میں دفن کیا جاتا ہے اور یہاں وہ عذاب سے دوچار ہوتی ہے‘‘۔(ایضاً،صفحہ ۳۶)

انہوں نے قبر کی تشریح وہ جگہ کی ہے جہاں مردے کو دفن کیا جائے۔ ان کے بقول یہی وہ جگہ ہے جہاں مرنے والے کو عذاب دیا جاتا ہے یا وہ راحت سے مستفیض ہوتا ہے۔ان کے عقیدے کے مطابق چونکہ یہ عذاب اسی دنیاوی قبر میں ہوتا ہے اسی لیے اسے عذاب قبر کہا جاتا ہے۔ان اہلحدیثوں کا عقیدہ چونکہ قرآن و حدیث کے مطابق نہیں ،اس لیے حالات کے حوالے سے لمحہ لمحہ میں تبدیل ہوتا رہتاہے جس کی نشاندہی آگے کی جائے گی ۔ مزیدفرماتے ہیں:

’’موت کے بعد سے قیامت کے دن تک جو عذاب اﷲ کے نافرمان بندوں کو دیا جائے گا اسی کا نام عذاب القبر ہے‘‘۔ ( ایضاً،صفحہ ۲۱)

مفتی صاحب نے اس سے قبل فرمایا تھا:

’’یعنی وہ عذاب جو قبر میں ہوتا ہے‘‘اب کہتے ہیں ’’جو موت کے بعد سے دیا جاتا ہے وہ عذاب قبر ہے‘‘ (ملخص)

ان کے دونوں بیان آپ کے سامنے ہیں: ایک طرف کہتے ہیں کہ ’’قبر کا عذاب‘‘ ( یعنی اس زمینی قبر میں دفن ہوجانے کے بعد کا عذاب )،دوسری طرف کہتے ہیں کہ عذاب قبر مرتے ہی شروع ہو جاتا ہے۔ اب کوئی ان سے پوچھے کہ’’ حضرت‘‘ وہ کونسا مردہ ہے جو مرنے کے اگلے لمحے قبر میں اتار دیا جاتا ہو؟

مزید رقم طراز ہیں:

’’ حالانکہ عذاب کا یہ سلسلہ حالت نزع ہی سے جب کہ میت ابھی چارپائی پر ہی ہوتی ہے شروع ہوجاتا ہے‘‘۔ (ایضاً صفحہ ۲۲)

ان کی یہ بات بالکل غلط ہے کہ عذاب کا یہ سلسلہ حالت نزع سے ہی شروع ہو جاتا ہے، اس لیے کہ حالت نزع کی مار پیٹ روح نکالے جانے سے پہلے کی جاتی ہے اور وہ اسی دنیاوی جسم کے ساتھ ہوتی ہے یعنی زندہ کو مارا جاتا ہے جبکہ عذاب قبر صرف مردے کو ہوتا ہے۔حالت نزع روح قبض ہوتے ہی ختم ہوجاتی ہے ،اس کے بعد اس دنیاوی مردہ جسم کو مارنے کا کوئی عقیدہ کتاب اﷲ سے

ثابت نہیں۔ قرآن و حدیث کا دیا ہوا عقیدہ یہی ہے کہ عذاب قبر یا راحت قبر کا سلسلہ روح نکلتے ہی عالم برزخ ( جہنم یاجنت)میں شروع ہوتاہے۔یہ قرآن کے اس عقیدے کو کہاں لے جاتے ،اسی لیے مجبوراً قبول تو کرلیا کہ عذاب مرتے ہی شروع ہو جاتا ہے لیکن اس کو اسی دنیاوی جسم سےمنسوب کردیا!بایں ہمہ ان کا عقیدہ ثابت نہیں ہوتا کیونکہ ان کے بقول یہ’’قبر کا عذاب‘‘ہے،’’یعنی وہ عذاب جو قبر میں ہوتا ہے ‘‘، جبکہ مردہ تو ابھی ان کی اصطلاحی معروف قبر میں داخل ہی نہیں ہوا توپھر یہ عذاب قبر کیسے بن گیا؟

انہوں نے بڑے ’’عالمانہ‘‘ انداز میں عربی گرائمرکے ابتدائی قواعد کے سہارے اپنے زعم میں بڑا تیر مارا کہ ’’عذاب القبر مرکب اضافی ہے، عذاب مضاف اور القبر مضاف الیہ جس کا مطلب ہے قبر کا عذاب‘‘۔

آئیے ان کے اسی فارمولے کی بنیاد پر ان کے اپنے بیانات سے اس عذاب کی انواع کا تعین کرتے ہیں: ’’عذاب‘‘ مضاف، ’’سریر(چارپائی)‘‘ مضاف الیہ یہ بنا ’’عذاب السریر‘‘ یعنی ’’چار پائی پر ہونے والاعذاب‘‘؛ کوئی ڈوب کے مراتواس کے لیے ہے ’’ عذاب البحر‘‘یعنی ’’ سمندر میں ہونے والا عذاب‘‘؛ کسی کو شیر کھا گیا، اب شیر کے پیٹ میں ہوا ’’ عذاب الاسد‘‘۔۔۔۔۔۔ اپنی جھوٹی بات ثابت کرنے کے لیے کس طرح بچگانہ انداز میں عربی گرائمر کا سہارا لیا گیا تھا، لیکن ان کے اپنے لکھے نے ان کے جھوٹ کا پول کھول دیا!

اہلحدیث قبر کی ایک نئی تشریح کرتے ہیں :

اہلحدیثوں کا ہر ہر مفتی اور عالم انوکھا ہی ملے گا، اس سے قبل آپ مفتی جابر دامانوی کی قبر کے بارے میں پوسٹ پڑھ چکے ہوں گے کہ قبر سے مراد کھودا ہواگڑھا ہے ، اب ملاحظہ فرمائیے کہ اہلحدیث مفتی دامانوی صاحب اب کس طرح قلابازی کھاتے ہیں:

’’ ۔۔۔لیکن ظاہر ہے کہ اس انسان نے اسی زمین میں رہنا ہے اور قیامت کے دن بھی اسی زمین سے اس نے نکلنا ہے لہذا یہی زمین اس کی قبر اور مستقر ٹھہری۔قرآن کریم میں دو مقامات پر مستودع ( جہاں وہ سونپا جائے گا یعنی قبر) کے الفاظ بھی آئے ہیں۔دیکھئے(الانعام:۹۹اور ھود :۶)بلکہ ایک مقام پر دوٹوک الفاظ میں فرمایا گیا ہے: الم نجعل الارض کفا تا() احیاء و امواتا (مرسلات:۲۵،۲۶) ’’کیا ہم نے زمین کو سمیٹ کر رکھنے والی نہیں بنایا۔ زندوں کے لیے بھی اور مردوں کیلئے بھی۔‘‘ معلوم ہوا کہ انسان زندہ ہو یا مردہ اس نے زمین ہی میں رہنا ہے زندہ اس کی پیٹھ پر زندگی گذارتے ہیں اور مردہ اس کے پیٹ میں رہتے ہیں۔قبر کی اب اس سے زیادہ وضاحت اور تشریح ممکن نہیں ہے‘‘۔ ( عقیدہ عذاب قبر:صفحہ ۶۴،۶۵)

دیکھیے یہ اہلحدیث ہر ہر بات میں کس کس طرح کروٹ بدلتے ہیں ،اس کی مثال شاید ہی کہیں ملے۔انہی موصوف نے اپنی اسی کتاب میں قبر کی تشریح فرمائی تھی:

’’وہ گڑھا جس میں مردے کو دفن کرتے ہیں‘‘ ، ’’ دفن کرنے کی جگہ

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کسی عذاب سے ہلاک ہونے والی قوم جس کے لیے کسی نے بھی اس عرفی گڑھے کو نہیں کھودا، تو یہ زمین ان کی قبر کیسے بن گئی کیونکہ ان کی اپنی تشریح کے مطابق قبر

صرف اس گڑھے کا نام ہے جسے کھود کرکسی کو اس میں دفنایا جاتا ہے؟ اپنی اسی کتاب میں انہوں نے علمی اردو لغت جامع، فیروز اللغات اردو عربی،سورۃ التوبہ:۸۴،فاطر:۲۲،الحج:۷الانفطار:۴،العادیات: ۹،الممتحنہ: ۱۳، عبس :۱ ۲،۲۲،التکاثر:۲، یٰس:۵۱، کے حوالے سے بیان فرمایا تھا:

’’ اس آیت کے علاوہ سورۃ القمر آیت نمبر ۷ اور سورۃ المعارج آیت نمبر ۴۳ میں بھی اجداث کا لفظ آیا ہے۔اس طرح ان گیارہ مقامات پر قبر کا لفظ اسی معروف قبر کے لیے استعمال ہوا ہے کہ جو زمین میں بنائی جاتی ہے‘‘۔ (عقیدہ عذاب قبر،صفحہ ۴۶)

پھر نبی ﷺکی احادیث پیش کیں کہ: ان کو سجدہ گاہ نہ بنایا جائے، قبر پر کوئی عمارت نہ بنائی جائے اور ان کوزمین کے برابر کردیا جائے۔ ان احادیث کو بنیاد بناتے ہوئے تحریر کیا تھا:

اب کوئی ان موصوف سے پوچھے کہ’’ حضرت‘‘ اس بات کی وضاحت ضرور فرمادیں کہ’’ قبر‘‘ کی جو تعریف آپ نے پہلے فرمائی تھی وہ جھوٹ تھی یا اس ’’آٹومیٹک قبر‘‘ کا جو بیان اب داغا گیا ہے، یہ جھوٹ ہے؟ جیسا کہ اس سے قبل وضاحت کی جاچکی ہے کہ اس بات سے کسی کو انکار نہیں کہ یہ عرفی ارضی قبریں قبریں ہی ہیں کچھ اورنہیں۔ قرآن و حدیث کے بیان کے مطابق ہم ان کو قبر ہی مانتے ہیں۔ یہ قبرمحض ایک مردہ انسان کی لاش کو چھپانے کے لیے ہے اور اس کا طریقہ خود اﷲ تعالیٰ کا ہی بتایا ہوا ہے :

فَطَوَّعَتْ لَهٗ نَفْسُهٗ قَتْلَ اَخِيْهِ فَقَتَلَهٗ فَاَصْبَحَ مِنَ الْخٰسِرِيْنَ۰۰۳۰فَبَعَثَ اللّٰهُ غُرَابًا يَّبْحَثُ فِي الْاَرْضِ لِيُرِيَهٗ كَيْفَ يُوَارِيْ سَوْءَةَ اَخِيْهِ١ؕ قَالَ يٰوَيْلَتٰۤى اَعَجَزْتُ اَنْ اَكُوْنَ مِثْلَ هٰذَا الْغُرَابِ فَاُوَارِيَ سَوْءَةَ اَخِيْ١ۚ فَاَصْبَحَ مِنَ النّٰدِمِيْنَ

[المائدة: 30-31]

’’ آخر کار اس (قابیل)کے نفس نے اپنے بھائی(ہابیل) کا قتل اس کے لیے آسان کر دیا اور وہ اسے قتل کرکے ان لوگوں میں شامل ہوگیا جو نقصان اٹھانے والے ہیں۔پھر اﷲ نے ایک کوّا بھیجا جو زمین کھودنے لگا تاکہ اسے بتائے کہ اپنے بھائی کی لاش کیسے چھپائے، یہ دیکھ کر وہ کہنے لگا:افسوس مجھ پر، میں اس کوّے جیسا بھی نہ ہوسکا کہ اپنے بھائی کی لاش چھپانے کی تدبیر نکال لیتا، اس کے بعد وہ بہت نادم ہوا‘‘۔

قرآن کی اس آیت سے بالکل واضح ہے کہ یہ زمینی قبر صرف مردہ لاش کو چھپانے کے لیے ہے۔قرآن مجید و احادیث صحیحہ میں کہیں بھی اس دنیاوی زمینی عرفی قبر کو جزا و سزا کا مقام نہیں بیان کیا گیا۔ وہ تو یہ مسلک پرست ہیں کہ قرآن کی معنوی تحریف اور احادیث کی غیر شرعی تاویلات سے اسی کو یہ مقام ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ جزا و سزا کا تعلق صرف جنت اور جہنم سے ہے جس کے لیے عالم برزخ میں ملنے والے مقام کو’’ قبر‘‘ کے نام سے تعبیر کیا گیا ہے ۔چونکہ سورہ عبس کی مذکورہ آیت کا یہ کھلا انکارتو نہیں کرسکتے تھے ،لہٰذا ماننا پڑا کہ ہر انسان کے لیے قبرکا ملنا لازمی ہے۔ دوسری طرف واضح طور پر دکھائی دیتا ہے کہ یہ ارضی قبر ہر انسان کو نہیں ملتی۔اب ایک یہ صورت تھی کہ کسی طرح یہ ارضی قبر ہرانسان کو ملنا دکھادیا جائے۔ اس کے لیے منطقی چالوں اور جس فنی مہارت کی ضرورت تھی وہ ان اہلحدیثوں میں بدرجہ اتم موجود ہے ،لہٰذا اب قبر کی کچھ نئی تعریفیں بھی بیان کی جانے لگیں جو اس سے قبل بیان کی گئی قبر کی تعریفوں سے بالکل مختلف ہیں۔ پہلے کھودے جانے والی جگہ قبر تھی، اب اس کے لیے

کھودنے کی شرط بھی ختم کردی گئی۔ یہ کارنامہ بھی’’حضرت علامہ خاکی جان دامانوی صاحب‘‘ کے حصے میں آیا :

’’ اقبرہ کا مطلب ’’اس کو قبر میں رکھوادیا‘‘ اقبر اقبار سے جس کے معنی قبر میں رکھنے اور رکھوانے کے ہیں۔ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب ہ ضمیر واحد مذکر غائب ہے( لغات القرآن ج ۱ ص ۱۸۳)۔( عقیدہ عذاب قبر،صفحہ ۴۷)

اب غالباً اقبرہ کے معنی بھی بدل گئے اور قبر میں رکھوائے جانے کی یہ شرط بھی ختم ہوگئی!الغرض قرآن کی آیات اور احادیث صحیحہ سے جس قبر کی وضاحت کی جارہی تھی، کیاوہ یہی قبر ہے جو انہوں نے گھڑی ہے؟ کس نے کھودیں یہ قبریں اور کون ان میں دفنایا گیا؟ فرشتے ان سے سوال کرنے کس وقت آئے ؟۔۔۔۔۔۔ان کے عقیدے کے مطابق تو یہ مردہ لاشیں جوتیوں کی آواز بھی سنتی ہیں تو ان میں دفن ہونے والوں نے کب اورکن کی جوتیوں کی آواز سنی ؟ ان کی روحیں کب لوٹائی جاتی ہیں؟عذاب دینے والا فرشتہ تو گرز لیے کھڑا رہا ہوگا کہ کب یہ مٹی میں مل کر مٹی بنیں ،کب ان کی’’آٹو میٹک قبر‘‘ بنے اور کب میں ان کو عذاب دوں! یہ سب کچھ ہوجانے کے باوجود وہ مردے تو پھر بھی بچ نکلے جن کے جسم اس زمین میں گئے ہی نہیں جیسے آل فرعون کیونکہ ان کے دنیاوی جسم تو حنوط کرکے عجائب گھر کی زینت بنادئیے گئے ہیں! اہلحدیث مسلک پرست یقیناًاس بات کی وضاحت فرمائیں گے کہ ان فرعونیوں کی قبریں کہاں بنی ہیں؟ کیا ثم اماتہ فاقبرہ کے قانونِ الٰہی کا ان پراطلاق نہیں ہوا؟ اس حکم کے نفاذ میں کیا

کسی ایک کا بھی کوئی استثناء ہے؟ واضح ہوا کہ ان کے اس خود ساختہ عقیدے کی بنیاد محض منطق ہی ہے ،ورنہ خود ان کا اپنا لکھا ہوا اس کے برعکس ہے۔ہم نے ابتداء ہی میں اس بات کو واضح کردیا تھا کہ قبر کے بارے میں ان اہلحدیثوں کے عقائد بار بار بدلتے رہتے ہیں جس کی صرف ایک ہی وجہ ہے، وہ یہ کہ اگر ایک بات قرآن سے ثابت ہوگی تو وہ کبھی بھی نہیں تبدیل ہوگی ،لیکن وہ عقائد جن کی بنیاد محض مسلک پرستی ہوتواسی طرح لمحہ بہ لمحہ تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔ ان کا یہ کہنا کہ سورہ الانعام اور ھود میں مستودع آیا ہے جس کا مطلب ہے سونپے جانے والی جگہ، اسی طرح سورۂ مرسلات میں فرمایا گیا ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے اس زمین کو زندوں اور مردوں کو سمیٹنے والا بنایا ہے، تو یہ سورہ طٰہٰ کی آیت کی ہی تشریح ہے کہ

مِنْهَا خَلَقْنٰكُمْ وَ فِيْهَا نُعِيْدُكُمْ وَ مِنْهَا نُخْرِجُكُمْ تَارَةً اُخْرٰى۰۰۵۵

[طه: 55]

’’اسی سے ہم نے تم کو پیدا کیا ہے،اسی میں ہم تم کولوٹائیں گے اور اسی سے ہم تم کو نکالیں گے‘‘

مذکورہ آیات میں کسی قبر اور اس میں ملنے والے کسی عذاب یا راحت کا توکوئی ذکر ہی نہیں۔ موصوف کی مزید خامہ فرسائی ملاحظہ فرمائیں:

’’ البتہ جو لوگ جل کر راکھ ہوگئے یا فضلہ بن گئے تو وہ بھی آخر کار اپنی زمین والی قبر میں داخل ہو کر رہیں گے۔جیسا کہ قرآن کریم سے ثابت ہوچکا ہے‘‘۔ (عقیدہ عذاب قبر،صفحہ ۷۸)

کیسا کھلا دھوکہ دیا ہے کہ’’ قرآن سے ثابت ہو چکا ہے‘‘

حالانکہ قرآن میں ہر گز اس طرح کے کسی مقام کو قبر نہیں کہاگیابلکہ یہ صرف شیطان کا بہکاوا ہے کہ ان کو ہر چیز قبر دکھائی دے رہی ہے اور وہ بھی قرآن سے ’’ثابت‘‘! ذرا ہمیں بھی تو جل کر راکھ بنی ہوئی یا فضلہ بنی ہوئی لاش کی’’زمین والی قبر‘‘ دکھلائیں۔

ھاتوبرھانکم ان کنتم صادقین

ایک طرف تو ان مفتی صاحب نے ایک نئی قسم کی قبر کا عقیدہ دیا اور دوسری طرف ایک دوسرے مفتی صاحب یوں فرماتے ہیں:

’’ قاعدہ کلیہ کے طور پر یہی بات کہی جاسکتی ہے کہ انسان مرنے کے بعد قبر میں دفن ہوتا ہے۔ اگر آل فرعون یا قومِ نوح غرق ہو گئے یا اہل سبا پر سیلاب آیا یا دنیا بھر سے ایک قوم(ہندو) اپنے مردے کو دفن کرنے کے بجائے جلادیتی ہے تو یہ سب باتیں مستثنیات میں شمار ہوں گی، اور آج اگر کوئی چاہے توخود یہ اندازہ کرسکتا ہے کہ قبر میں دفن ہونے والوں کی تعداد ڈوبنے یا جلنے والوں کی تعداد سے بہت زیادہ ہے۔ لہٰذا عام قاعدہ کے طور پر جو بات کہی جاسکتی ہے وہ یہی ہے کہ’’ ثمّ اماتہ فاقبرہ‘‘ باقی سب استثناء کی صورتیں ہیں‘‘۔(روح،عذاب قبراور سماع موتیٰ،از عبد الرحمن کیلانی، صفحہ ۷۳)

ملاحظہ فرمایا کہ ایک اہلحدیث آٹومیٹک قبریں بنوا کر اس آیت کی تشریح کررہا ہے اور دوسرا اہلحدیث اس قبر کے نہ ملنے والے معاملے کو استثنائی صورت بیان کرتا ہے! کاش یہ دونوں اہلحدیث قرآن و حدیث کے دئیے ہوئے متفقہ عقیدے کو مان لیتے تو نہ ان کا آپس میں اس طرح تضادواختلاف ہوتا اور نہ ہی رسوائی ان کے فرقے کی مقدر بنتی۔ بل کذّبوا با لحقّ لمّا جاءھم فھم فی امر مریج

سابقہ پوسٹ کے حوالے سے ان کا یہ کہنا کہ یہ استثنائی معاملہ ہے ،کھلا دھوکہ ہے۔ مرنے کے بعد کی جزا و سزا کے جتنے بھی واقعا ت قرآن مجید میں بیان کیے گئے ہیں ،ان میں سے کسی میں بھی اس ارضی قبر میں جزا و سزا کا تصور نہیں ملتا۔حیرت کی بات ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے قرآن کریم میں سارے کے سارے استثنائی معاملات بیان فرما دئیے مگر وہ قاعدہ کلیہ کہیں بھی بیان نہ فرمایا جو آج ان اہلحدیثوں کے ایمان کی بنیاد بنا ہوا ہے!

قاعدہ کلیہ اس بات کو کہتے ہیں جو تمام انسانوں کے لیے یکساں ہو اور استثناء اسے کہا جاتا ہے جو اس قانون سے ہٹ کر قرآن و حدیث میں بیان کیا گیا ہو۔ اگر قرآن مجید میں مرنے کے بعد کی جزا و سزا کے بے شمار واقعات بیان کیے گئے ہوتے اور ان میں اسی ارضی قبر میں جزا وسزا کا تصور دیا گیا ہوتا تو وہ ایک قاعدہ کلیہ سمجھا جاتا ،اورفی الحال بیان کیے گئے متعدد قوموں کے واقعات پھر استثناء قرار پاتے،لیکن حیرت علم کے ان نام نہاد پہاڑوں اور سمندروں پر ہے کہ صرف یہی چند واقعات ہی توقرآن میں ملتے ہیں اور انہی کوانہوں نے استثناء قرار دے ڈالا! اس کا مطلب ہوا کہ قرآن میں مرنے کے بعد کی جزا و سزا کا قانون بیان ہی نہیں کیا گیا، جو کچھ ہے وہ محض استثنائی ہے!

مزید فرماتے ہیں کہ دنیا بھر سے ایک قوم ہندو اپنے مردے جلادیتی ہے، اور یہ استثناء ہے، یہ بھی

فرماتے ہیں کہ گنتی کر لی جائے کہ کس کی تعداد زیادہ ہے۔ دراصل یہ فرقہ وارانہ تعصب ہے ورنہ اﷲ نے تو ہر چیز کھول کھول کر بیان کردی ہے۔اگر یہ قرآن کا کلیہ مان لیں کہ مرنے والے کی روح (عالم برزخ میں) روک لی گئی ہے، اب عذاب و راحت کا معاملہ قیامت تک وہیں ہوگا، تو انہیں اِدھراُدھر بھٹکنے، متضاد باتیں بنانے اور مستثنیات کے چکر میں پھنسنے کی ضرورت نہ پڑے۔ان کی علمیت کے دعوے تو بڑے ہیں لیکن نام نہاد اہلحدیث علماء یہ بھی نہیں جانتے کہ اسلام میں کسی بھی چیز کی بنیاد اکثریت و جمہوریت نہیں بلکہ اﷲ تعالیٰ کی طرف سے نازل کردہ طریقہ کار ہے۔ ہمارا ایمان تواسی پر ہے۔ لیکن پھر بھی اگر بات شماریات کی ہی ہے تو دنیاکا سب سے بڑا ملک چین ہے جہاں مردوں کودفنایا نہیں جاتا؛ دوسرے نمبر پر بھارت کی اکثریت ہندؤں پر مشتمل ہے جو اپنے مردوں کو نذرآتش کردیتے ہیں؛ سری لنکا ،جاپان اور مشرق بعید کے کروڑوں افراد جو بدھ مت کے ماننے والے ہیں،اپنے مردے دفنائے بغیر ٹھکانے لگادیتے ہیں؛پھر کمیونسٹ وسوشلسٹ ممالک کے کروڑوں افراد میں بھی تدفین کا طریقہ نہیں ۔۔۔۔۔۔ کیا اتنی بڑی تعداد بھی استثنائی کہلائےگی؟کیا ان قوموں کے لیے عذاب قبر مؤخر کردیا گیا ہے؟ گویا کہ پھنسے تو بے چارے وہی پھنسے جو اﷲ تعالیٰ کے سکھائے ہوئے طریقے کے مطابق اپنے مردے دفناتے رہے اور وہ صاف چھوٹ گئے جوقبروں سے دور رہے!

کیا نبی ﷺنے اسی قبر کے لیے واضح یقین دہانی فرمائی ہے؟

رجسٹرڈجماعت المسلمین والے فرماتے ہیں:

غور فرمائیے کہ اﷲ کے رسول ؐ نے صحابہ سے ارشاد نہیں فرمایا’’ تم دفن تو اس ارضی قبرمیں کرنا، مردوں کو عذاب کسی فرضی قبر میں ہوتا ہے۔‘‘ بلکہ واضح طور پر یقین دہانی کرادی کہ عذاب اسی قبر میں ہوتا ہے جس میں مردوں کو دفنایا جاتا ہے لیکن ساری زندگی رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ و سلم نے کبھی کسی اور قبر کا ذکر ہی کیا اشارہ تک نہیں کیا اور نہ ہی صحابہؓ میں سے کسی ایک نے پوچھا کہ ان مردوں کا کیا بنے گا جو دفن نہیں کئے جاتے درندے جنکو لقمہ تر بنالیتے ہیں یا جن کو جلا دیا جاتا ہے‘‘۔ ( ارضی قبر یا فرضی قبر)

ایسی باتوں کی بنیاد محض جہالت اور قرآن فہمی کی بصیرت سے محرومی ہے۔ کتاب اﷲ میں رحمت، دعا اور ادائیگی صلوٰۃ کے لیے ایک ہی لفظ ’’ صلوٰۃ‘‘ استعمال ہوا ہے؛ کبھی کسی صحابی ؓ نے یہ نہیں پوچھا کہ یہاں صلوٰۃ کے کونسے معنی ہیں ؟ بلکہ قرآن وحدیث میں جہاں بھی لفظ صلوٰۃ آتا ہے، اس کے نفس مضمون سے اس کے معنی خود واضح ہوجاتے ہیں۔اسی طرح جہاں کہیں کسی کی تدفین یاقبر پر کسی کام کے منع کرنے کا حکم آتا ہے ،تو وہاں اس سے مراد یہ دنیاوی قبریں ہی ہیں، لیکن جہاں کہیں جزا وسزا کی بات بیان کی جاتی ہے تو اس سے مراد عالم برزخ ہی ہوتا ہے جس کی تفصیل بیان کی جاچکی ہے۔اب صحابہؓ نعوذباﷲان رجسٹرڈ جماعت المسلمین والوں کی طرح دین کی بصیرت سے محروم تو نہ تھے کہ قبر کے ہر ہر تذکرے پر سوال کرتے کہ یا رسول اﷲا یہ کونسی قبر ہے؟ ان کے سامنے تو قرآن کے بیان کردہ واضح ثبوت موجود تھے، یہی وجہ ہے کہ جب نبیﷺ نے وفات پا جانے والی یہودی عورت پر سے گذرتے ہوئے فرمایا :

’’یہ اس پر رو رہے ہیں اور یہ اپنی قبر میں عذاب دی جارہی ہے‘‘

تو صحابہ ؓ میں سے کسی نے بھی سوال نہیں کیا کہ یہ کونسی قبر ہے کہ ابھی تو یہ دفن بھی نہیں

ہوئی اور آپ فرمارہے ہیں کہ یہ اپنی قبر میں عذاب دی جارہی ہے؟نبی ﷺنے اپنے صاحبزادے کے لیے فرمایا :

’’جنت میں اس کے لیے ایک دودھ پلانے والی ہے‘‘

صحابہؓ میں سے کسی نے نہیں پوچھا کہ یا رسول اﷲصلی اللہ علیہ و سلم آپ نے تو انہیں یہاں زمین میں دفن کیا تھا، پھر انہیں جنت میں کیسے جزا دی جارہی ہے؟ ثابت ہوا کہ ان کا یہ کہنا کہ

’’تم دفن تو اس ارضی قبرمیں کرنا ،مردوں کو عذاب کسی فرضی قبر میں ہوتا ہے‘‘

قرآن و حدیث کے بتائے ہوئے طریقے کا انکار اور اپنے خود ساختہ عقیدے کا دفاع ہے۔اور صحابہ ؓ کے طرزعمل سے بظاہر استدلال کرنا اور اس کو بطور بنیاد پیش کرنا بھی ان کا ایک فریب ہے ورنہ انہیں صحابہ ؓ سے کیا نسبت؟صحابہ حقیقی مسلم تھے، ان کی طرح محض نام کے نہیں؛ جو اﷲکی بارگاہ میں مسلم رجسٹرڈ ہوئے تھے ، مشرکانہ عقائد رکھنے والے طواغیت کے یہاں نہیں ۔۔۔۔۔۔پھرنبی ﷺسے جھوٹ منسوب کرنے کی جسارت کرتے ہیں کہ:

’’بلکہ واضح طور پر یقین دہانی کرادی کہ عذاب اسی قبر میں ہوتا ہے جس میں مردوں کو دفنایا جاتا ہے‘‘۔

اب کوئی ان سے پوچھے کہ اس دنیاوی قبرمیں عذاب و راحت کی یقین دہانی ہے کہاں؟ذرا کوئی حوالہ تو دیں۔البتہ جنت اور جہنم میں اس جزا یا سزا کی زبانِ نبوت نے بارہا یقین دہانی کرائی۔ ملاحظہ فرمایئے کہ درج ذیل احادیث میں نبی ﷺ نے کتنے واضح انداز میں یہ’’ یقین دہانیاں‘‘ کرائی ہیں:

* مسجد نبوی کی تعمیر کے موقع پر وہاں موجود مشرکین کی قبریں نبیﷺ کے حکم پر کھود دی گئیں۔

(بخاری:کتاب الصلوٰۃ، باب ھل ینبش قبورمشرکی الجاہلیۃ۔۔۔)

کیا رسول اﷲا اس سے بھی بڑھ کر کوئی’’ یقین دہانی‘‘ کراسکتے تھے؟

اﷲ و رسول ﷺکے دشمن امیہ بن خلف کی لاش جس کے ٹکڑے ہوگئے تھے، یوں ہی زمین پر چھوڑ دی گئی اور اسے قبر میں دفن نہیں کیا۔

(بخاری:کتاب مناقب الانصار، باب ما لقی النبی ا و اصحابہ من المشرکین بمکۃ)

مرتد کاتب وحی کی لاش زمین نے دوبار دفن کرنے کے باوجود اگل دی، لیکن نبی ﷺ نے دوبارہ اسے قبر میں دفن کرنے کا حکم نہیں دیا۔

(بخاری:کتاب المناقب، علامات النبوۃ فی الاسلام، عن انس ؓ)

یہودی عورت اس زمینی قبر میں دفن نہیں ہوئی لیکن نبی ﷺ اس کے لیے قبر میں عذاب میں ہونے کا بیان فرماتے ہیں۔

(بخاری:کتاب الجنائز، باب قول النبی یعذب المیت ببعض بکاء اھلہ علیہ)

نبی ﷺ نے اپنے صاحب زادے کو زمینی قبر میں دفن کیا اور جنت میں ان کی جزا کا بیان فرمایا۔

(بخاری:کتاب الجنائز، باب ما قیل فی اولاد المسلمین)

بتایئے اور کتنی ’’یقین دہانیاں ‘‘کراتے نبی ﷺ!قرآن وحدیث کی اتنی صریح وضاحت کے بعد تو کسی بھی شک کی گنجائش نہیں رہتی۔

فبای حدیث بعدہ یومنون

کاش کہ یہ فرقہ پرست اپنی آنکھوں سے فرقہ اور مسلک پرستی کی عینک اتار دیں تاکہ راہ راست پاسکیں۔ سب کچھ دیکھ لینے اور پڑھ لینے کے بعد بھی اگر کوئی اندھا بنا رہے اور یہی کہتا رہے کہ

’’ساری زندگی رسول اﷲﷺنے کبھی کسی اورقبر کا ذکرہی کیا اشارہ تک نہیں کیا‘‘

تو اس میں عذاب دینے والے فرشتے کا کیا قصور۔ یہ لوگ اپنے دل کو مطمئن انہی جھوٹی تسلیوں پر کیے ہوئے ہیں کہ نبی ﷺ نے کسی اور قبر کی طرف اشارہ بھی نہیں کیا، حالانکہ قرآن و حدیث کا بیان واضح ہے۔ یہ نبی ﷺکی تعلیمات ہی تھیں کہ صحابہ کرام ؓاپنے مُردوں کو دفناتے اسی دنیاوی ارضی قبر میں تھے لیکن اسے عذاب و راحت کا مقام نہیں سمجھتے تھے۔ملاحظہ فرمائیے:

عَنْ اَنَسٍ قَالَ لَمَّا ثَقُلَ النَّبِیُّ ﷺ جَعَلَ یَتَغَشَّاہُ فَقَالَتْ فَاطِمَۃُ رَضِیَ اﷲُ عَنْھَا وَاکَرْبَ اَبَاہُ فَقَالَ لَھَا لَیْسَ عَلٰی اَبِیْکِ کَرْبٌ بَعْدَ الْیَوْمِ فَلَمَّا مَاتَ قَالَتْ یَا اَبَتَاہُ اَجَابَ رَبًّا دَعَاہُ یَااَبَتَاہُ مَنْ جَنَّۃُ الْفِرْدَوْسِ مَاْوَاہُ یَا اَبَتَاہُ اِلٰی جِبْرَءِیْلَ نَنْعَاہُ فَلَمَّا دُفِنَ قَالَتْ فَاطِمَۃُ رَضِیَ اﷲُ عَنَھَا یَا اَنَسُ اَطَابَتْ اَنْفُسُکُمْ اَنْ تَحْثُوْا عَلٰی رَسُوْلِ اﷲِ ا التُّرَابَ

(بخاری:کتاب المغازی، باب مرض النبی صلی اللہ علیہ و سلم و و فاتہ)

’’ انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ مرض کی شدت کی وجہ سے بیہوش ہو گئے۔فاطمہ ؓ کہنے لگیں افسوس میرے والد کو کتنی تکلیف ہے۔ نبیﷺنے فرمایا آج کے بعد نہیں ہو گی۔ پھر جب نبی ﷺ کی وفات ہو ئی تو فاطمہؓ نے کہا: اے ابا جان! آپ اپنے رب کے بلاوے پر چلے گئے، اے ابا جان! جنت الفردوس ہی آپ کا مقام ہے۔ ، ہم جبریل کو آپ کی وفات کی خبر سناتے ہیں۔ اور جب تدفین ہوگئی تو انہوں نے کہا اے انس! تم نے کیسے گوارا کر لیا کہ نبی ﷺ کو مٹی میں چھپا دو‘‘۔

کس قدر وضاحت موجود ہے اس روایت میں کہ ابھی نبی ﷺ کی وفات ہوئی ہے، آپ کی میت ابھی سامنے ہی موجود ہے ، فاطمہ ؓ گمان کر تی ہیں کہ ابھی جبریل کو بھی نبیﷺکی وفات کا علم نہ ہوا ہوگا اور عقیدہ یہ ہے کہ آپ ا اﷲ کے بلاوے پر اﷲ تعالیٰ کے پاس چلے گئے،جنت الفردوس میں اپنے مقام پر چلے گئے۔ یعنی صحابہؓ کا یہ عقیدہ تھا کہ نبی ﷺ کو وفات کے بعد ملنے والی جزا کا مقام یہ دنیاوی ارضی قبر نہیں بلکہ جنت الفردوس ہے۔ لہٰذا وہ لوگ غلطی پر ہیں جو یہ عقیدہ

رکھتے ہیں کہ نبی ﷺوفات کے بعداپنی مدینے والی قبر میں ہی قیام پذیرہیں اور وہاں پر پڑھا جانے والا درود خود سنتے ہیں، سلام سنتے ہیں، جواب دیتے ہیں، مصافحہ کرتے ہیں ۔۔۔۔۔۔

مزید یہ کہ نبیﷺ نے وفات سے قبل فاطمہ ؓسے فرمایا:

۔۔۔اَنِّیْ اَوَّلُ اَھْلِہٖ یَتْبَعُہٗ

’’۔۔۔ کہ میرے گھر والوں میں سے سب سے پہلے تم مجھ سے ملوگی‘‘۔

(بخاری۔کتاب المغازی۔باب مرض النبی ﷺ و وفاتہ)

اپنی ازواج سے فرمایا :

اَسْرَعُکُنَّ لَحَاقًا بِیَ اَطْوَلُکُنَّ یَدًا

(مسلم:کتاب الفضائل،فضائل زینب رضی اﷲ)

’’۔۔۔ تم میں سب سے پہلے مجھ سے وہ ملے گی جس کے ہاتھ زیادہ لمبے ہیں (یعنی جوصدقہ و خیرات زیادہ کرنے والی ہو جو کہ زینبؓ ثابت ہوئیں)‘‘۔

بتائیے کہ کیا فاطمہ و زینب رضی اللہ عنہما ،نبیﷺ کی اس مدینہ والی قبر میں دفن کی گئی ہیں یا وہ جنت میں نبیﷺسے ملی ہوں گی۔اب یہ مسلک پرست جواب دیں کہ اس بارے میں صحابہ کرام ؓ کا کیا عقیدہ تھا؟ صحابہ کرام ؓ جنہوں نے نبی ﷺکے اس فرمان کو روایت کیاہے،کو کیا معلوم نہیں تھا کہ نبیﷺ نے فاطمہؓ کہ لیے فرمایا ہے کہ گھر والوں میں سب سے پہلے وہ ان سے ملیں گی ؟اسی طرح زینبؓ کے متعلق مذکورہ فرمان کا بھی ان کو علم تھا۔ اگر (نعوذباﷲ من ذالک) ان کا عقیدہ یہ ہوتا کہ اسی دنیاوی ارضی قبر میں ہی میت کا قیام ہمیشہ رہتاہے اور یہیں اسے سب کچھ ملتا ہے توکیا و ہ ان کی تدفین نبی ﷺسے دورکرکے فرمانِ رسالت کی خلاف ورزی کرنے کی جسارت کرتے؟قرآن و حدیث کا علم تو ان مسلک پرستوں کو چھو کر

نہیں گزرا ،محض لوگوں کو گمراہ کرنے کے لیے ہانک لگا دی کہ

’’غور فرمائیے کہ اﷲ کے رسول ؐ نے صحابہ سے ارشاد نہیں فرمایا’’ تم دفن تو اس ارضی قبرمیں کرنا، مردوں کو عذاب کسی فرضی قبر میں ہوتا ہے‘‘۔

یخٰدعون (فریب دیتے ہیں ):

عقیدہ عذاب قبر کے بارے میں اب تک آپ فرقہ پرستوں کے قرآن میں معنوی تحریف کے انداز تو دیکھتے ہی چلے آئے ہیں اب ذرا دھوکہ دہی کا یہ انداز بھی دیکھیں۔فرقہ اہلحدیث کے معروف عالم قاری خلیل الرحمن صاحب فرماتے ہیں :

’’ الیوم تجزون عذاب الھون ( آج کے دن تم توہین آمیز عذاب کی طرف دھکیلے جاؤگے) کے الفاظ اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ جزا و سزا کا سلسلہ مرتے ہی قبر میں شروع ہوجاتا ہے چونکہ جنت اور دوزخ میں داخلہ قیامت کے دن حساب و کتاب کے بعد ہوگا اس لیے کافر میت سے روح نکالنے والے فرشتوں کا یہ کہنا کہ آج ہی

ذلت والے عذاب کی طرف منتقل کیے جاؤگے عذاب قبر پر واضح دلیل ہے‘‘۔ ( پہلا زینہ، از قاری خلیل الرحمن، صفحہ ۳۷)

خود ہی لکھا ،خود ہی پڑھا، خود ہی سمجھا ،اور خود ہی اسے دلیل بھی بنالیا۔ قرآن کی اس آیت کی یہ تشریح انہوں نے کس بنیاد پر کی ہے؟اپنے اکابرین کے لکھے کو چاٹتے رہیں گے تو قرآنی آیات کی اس سے بھی زیادہ گمراہ کن تشریح کریں گے ۔اگرچہ اس آیت میں قبر کا کوئی لفظ ہی نہیں ، لیکن کس انداز میں اس کی تشریح فرمادی کہ’’۔۔۔الفاظ اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ جزا و سزا کا سلسلہ مرتے ہی قبر میں شروع ہوجاتا ہے‘‘ ۔بہت اچھا استعمال کیا ہے انہوں نے قرآنی آیات کا! موصوف نے پوری بات بیان نہیں فرمائی،اس لیے کہ اگر بات پوری بیان کردی جائے تو پھر دجل و فریب کی گنجائش نہیں رہتی۔ ملاحظہ فرمائیں سورہ انعام کی یہ آیات:

ؕ وَ لَوْ تَرٰۤى اِذِ الظّٰلِمُوْنَ فِيْ غَمَرٰتِ الْمَوْتِ وَ الْمَلٰٓىِٕكَةُ بَاسِطُوْۤا اَيْدِيْهِمْ١ۚ اَخْرِجُوْۤا اَنْفُسَكُمْ١ؕ اَلْيَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذَابَ الْهُوْنِ بِمَا كُنْتُمْ تَقُوْلُوْنَ عَلَى اللّٰهِ غَيْرَ الْحَقِّ وَ كُنْتُمْ عَنْ اٰيٰتِهٖ تَسْتَكْبِرُوْنَ۠۝وَ لَقَدْ جِئْتُمُوْنَا فُرَادٰى كَمَا خَلَقْنٰكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍ وَّ تَرَكْتُمْ مَّا خَوَّلْنٰكُمْ وَرَآءَ ظُهُوْرِكُمْ١ۚ وَ مَا نَرٰى مَعَكُمْ شُفَعَآءَكُمُ الَّذِيْنَ زَعَمْتُمْ اَنَّهُمْ فِيْكُمْ شُرَكٰٓؤُا١ؕ لَقَدْ تَّقَطَّعَ بَيْنَكُمْ وَ ضَلَّ عَنْكُمْ مَّا كُنْتُمْ تَزْعُمُوْنَؒ۰۰۹۴

(الانعام: 93/94)

’’کاش تم ظالموں کواس حالت میں دیکھ سکو جب کہ وہ سکرات موت میں ہوتے ہیں اور فرشتے ہاتھ بڑھا بڑھا کر کہہ رہے ہوتے ہیں نکالو اپنی جانوں کو،آج تمہیں ان باتوں کی پاداش میں ذلت کا عذاب دیا جائے گا جو تم اﷲپرتہمت رکھ کر ناحق کہا کرتے تھے اور اس کی آیات کے مقابلے میں سرکشی دکھاتے تھے۔اور تم تن تنہا پہنچ گئے ہمارے پاس جیسا کہ ہم نے تمہیں پہلی بار پیدا کیا تھا اور چھوڑ آئے ہو اپنی پیٹھ پیچھے جو کچھ ہم نے تم کو عطاکیا تھا‘‘۔

پہلی آیت میں بتایا گیا کہ فرشتے روح قبض کرتے وقت ہی کافروں کو، اس فوری ملنے والے عذاب کا مژدہ سنادیتے ہیں۔ یہ مردہ اب قیامت تک کا یہ دور کہاں گذارے گااور کہاں اسے عذاب ہوگا ،اگلی ہی آیت میں اس کی تشریح ملتی ہے ۔ ربِ کائنات فرماتا ہے کہ تم تنہا اس ساری دنیا کو اپنی پیٹھ پیچھے چھوڑ کر ہمارے پاس پہنچ گئے۔یہ مردہ اب اﷲ کے پاس پہنچ گیا ہے، اس دنیا سے دور ایک دوسرے عالم میں جہاں اب اس کو قیامت تک رہنا ہے۔ اب معاملہ راحت کا ہو یا عذاب کاوہاں ہی سب کچھ ملے گا۔ انسان کی روح قبض ہوتے ہی اسکی آخرت شروع ہو جاتی ہے اور آخرت کے معاملہ کا تعلق اس زمین سے نہیں بلکہ آسمانوں سے ہے۔

قرآن کے اس فیصلے کے برخلاف اہلحدیث عقیدہ دیتے ہیں کہ

’’(آج کے دن تم توہین آمیز عذاب کی طرف دھکیلے جاؤگے) کے الفاظ اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ جزا و سزا کا سلسلہ مرتے ہی قبر میں شروع ہوجاتا ہے‘‘۔

انہوں نے سورہ انعام کی آیت ۹۳ پیش کرکے اس کی من مانی تشریح تو بیان کردی لیکن انہیں آیت ۹۴ نہیں دکھائی دی جس میں انہیں اس بات کی مکمل وضاحت مل جاتی کہ مرنے کے بعد یہ مردہ کہاں پہنچ جاتا ہے؟

مرتے ساتھ ہی انسان اﷲ کے پاس جاتا ہے یا اس دنیاوی قبر میں دفنادیا جاتا ہے؟

اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے تم ہمارے پاس پہنچ گئے۔ یہ کہتے ہیں کہ قبر میں دھکیل دیا جاتا ہے۔کہاں لکھا ہے قرآن میں کہ ’’ تم دھکیلے جاؤگے‘‘؟ قرآن کی آیات سے کھیلتے ہیں اور اس کے مفہوم کو یکسر بد ل ڈالتے ہیں !

اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے تم ہمارے پاس پہنچ گئے۔ یہ کہتے ہیں کہ قبر میں دھکیل دیا جاتا ہے۔کہاں لکھا ہے قرآن میں کہ ’’ تم دھکیلے جاؤگے‘‘؟ قرآن کی آیات سے کھیلتے ہیں اور اس کے مفہوم کو یکسر بد ل ڈالتے ہیں !

یخٰدعون ( فریب دیتے ہیں )

قرآن کی آیت میں زبردستی قبر کا لفظ شامل کرنا

اہلحدیثوں کے’’ نامور مفتی‘‘ خاکی جان دامانوی کا ایک اور عظیم کارنا مہ ملاحظہ فرمائیں ۔ موصوف ثم اماتہ فاقبرہ سے اپنا باطل عقیدہ ثابت کرنے کے لیے بیان کرتے ہیں:

’’ان آیات میں سے صرف ایک آیت سے برزخی قبر کا مفہوم کشید کیا گیا ہے۔اور وہ آیت یہ ہے: ثم اماتہ فاقبرہ ۔ ثم اذا شاء انشرہ (عبس:۲۱،۲۲) ’’پھر اسے موت دی اور قبر دی پھر جب چاہے گا اسے اٹھا کھڑے گا‘‘۔ اس سے یہ مفہوم اخذ کیا گیا ہے کہ ہر انسان کو اﷲ تعالی موت دیتا ہے اور پھر اسے قبر دیتا ہے اور چونکہ ہر انسان کو یہ معروف قبر نہیں ملتی کیونکہ کوئی جل کر راکھ بن جاتا ہے اور کسی کو جانور کھا کر فضلہ بنادیتا ہے لہٰذا ثابت ہوا کی ہر انسان کو برزخ میں قبر ملتی ہے اور یہی اس کی اصلی قبر ہے جسے برزخی قبر کہا جاتا ہے۔ لیکن یہ بات اس آیت کے سیاق کے خلاف ہے کیونکہ اگلی ہی آیت میں بتادیا گیا ہے کہ اﷲجب چاہے گا اس قبر سے اٹھائے گا اور ظاہر ہے کہ یہ انسان قیامت کے دن اس زمین والی قبر ہی سے اٹھایا جائے گا۔ قرآن کریم میں ایک دوسرے مقام پر ارشاد ہے: و ان اﷲ یبعث من فی القبور ( الحج:۷) ’’ اور بے شک اﷲ ان لوگوں کو جو قبروں میں ہیں(قیامت کے دن) اٹھائے گا‘‘۔ (عقیدہ عذاب قبر،صفحہ ۴۶،۴۷)

قرآن مجید میں اﷲ تعالیٰ نے یہودی علماء کا ذکر فرمایا ہے کہ

وَ اِنَّ مِنْهُمْ لَفَرِيْقًا يَّلْوٗنَ اَلْسِنَتَهُمْ بِالْكِتٰبِ لِتَحْسَبُوْهُ مِنَ الْكِتٰبِ وَ مَا هُوَ مِنَ الْكِتٰبِ١ۚ وَ يَقُوْلُوْنَ هُوَ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ وَ مَا هُوَ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ١ۚ وَ يَقُوْلُوْنَ عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ وَ هُمْ يَعْلَمُوْنَ۰۰۷۸

[آل عمران: 78]

’’ ان میں کچھ لوگ ایسے ہیں جو کتاب پڑھتے ہوئے اس طرح زبان کا الٹ پھیر کرتے ہیں کہ تم سمجھو کہ جو کچھ پڑھ رہے ہیں وہ کتاب ہی کی عبارت ہے،حالانکہ وہ کتاب کی عبارت نہیں ہوتی۔وہ کہتے ہیں کہ جو کچھ ہم پڑھ رہے ہیں یہ اﷲ کی طرف سے ہے، حالانکہ وہ اﷲ کی طرف سے نہیں ہوتا ، وہ جان بوجھ کر جھوٹی بات اﷲ کی طرف منسوب کردیتے ہیں‘‘۔

ثُمَّ اَمَاتَهٗ فَاَقْبَرَهٗۙ۰۰۲۱

کی اگلی آیت جس کامفتی موصوف نے حوالہ دیا ، وہ یہ ہے:

ثُمَّ اِذَا شَآءَ اَنْشَرَهٗؕ۰۰۲۲

’’ پھر جب چاہے گا اسے اٹھا کھڑا کرے گا‘‘

جس کو اپنی استدلال کی خراد پرچڑھاکرموصوف یہ عقیدہ کشیدکرتے ہیں کہ:

’’اگلی ہی آیت میں بتادیا گیا ہے کہ اﷲجب چاہے گا اس قبر سے اٹھائے گا‘‘

قارئین!مذکورہ آیت آپ کے سامنے ہے۔ آپ نے ملاحظہ فرمایا ہوگا کہ اس میں یہ الفاظ ’’ اس قبر سے اٹھائے گا‘‘ تو سِرے سے ہیں ہی نہیں۔ ثُمَّ اَمَاتَهٗ فَاَقْبَرَهٗۙمراد یہ ہے کہ یہ اﷲ تعالیٰ کے اختیار میں ہے کہ جب چاہے گا (قیامت برپا فرما کر) اسے اٹھادے گا۔ لیکن صرف اپنے باطل عقیدے کے لیے کس عیاری کے ساتھ ’’قبر‘‘ کا لفظ آیت کی تشریح میں شامل کردیا۔ ملاحظہ فرمایاان نام نہاد اہلحدیثوں کا طرز عمل ! اس سے قبل ایک دوسرے اہلحدیث خلیل الرحمن کی کتاب’’ پہلا زینہ‘‘ کا بھی ہم نے حوالہ دیا تھا کہ کس طرح سورہ انعام کی آیت میں انہوں نے ’’قبر‘‘ کا اضافہ کردیا تھا۔یہود کی اسی طرح کی حرکتوں کوقرآن میں یہ کہہ کر بتایا گیا ہے کہ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یحرفون الکلمہ عن مواضعہ! بایں ہمہ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا صرف وہی مردے زندہ کیے جائیں گے جو اس زمینی قبر میں دفن کیے جائیں؟ وہ جو اس قبر میں دفن ہی نہیں کیے گئے، کیا وہ نہیں اٹھائے جائیں گے؟ کیاآل فرعون و دیگر عذاب شدہ قومیں نہیں اٹھائی جائیں گی؟ اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے:

وَ الْمَوْتٰى يَبْعَثُهُمُ اللّٰهُ ثُمَّ اِلَيْهِ يُرْجَعُوْنَؐ

[الأنعام: 36]

’’رہے مردے، تو اﷲ ان کو اٹھائے گا پھر وہ اس کی ہی طرف پلٹائے جائیں گے‘‘۔

یعنی ہر مردہ اٹھا یا جائے گا، چاہے اسے یہ زمینی قبر ملے یا نہ ملے، سمندر میں ڈوب کر مرے یا جلا دیا جائے۔مگر یہ کہنا کہ ’’اس قبر سے اٹھائے گا‘‘ محض عیاری و دھوکہ دینا ہے۔

عذاب قبر کی تفصیل؛

اس سے قبل ہم نے فرقہ پرستوں کا عقیدہ بیان کیا تھا کہ وہ اسی زمینی قبرکو مرنے کے بعد جزا و سزا کا مقام قرار دیتے ہیں اور بقول ان کے اسی وجہ سے اسے عذاب قبر کہا جاتا ہے۔یہ سراسر جھوٹ ہے کیونکہ دنیا کی ایک بڑی اکثریت کو زمینی قبر نصیب ہی نہیں ہوتی، تو انہیں عذاب قبر کہاں ہوتا ہے؟مفتی دامانوی صاحب اپنی کتاب میں لکھتے ہیں:

’’ ان مختلف احادیث کا خلاصہ یہ ہے کہ عائشہؓ کو پہلی مرتبہ ایک یہودی عورت نے عذاب قبر کے متعلق بتایا لیکن انہوں نے اس کی تصدیق نہ کی۔ نبی صلی اﷲ علیہ و سلم نے بھی یہود کو جھوٹا قرار دیا بعد میں آپ صلی اللہ علیہ و سلم پر وحی بھیجی گئی اور آپﷺ کو عذاب القبر کے بارے میں بتایا گیا۔ اسی دن سورج گرہن لگ گیا اور آپ اکے بیٹے جناب ابراہیم رضی اﷲ عنہ کا انتقال بھی ہوگیا چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے اسی دن سورج گہن کی نماز صلوٰۃ الکسوف پڑھائی۔اور خطبہ دیا۔اور اسی خطبہ میں صحابہ کرا م ؓ کو عذاب القبر کی تفصیلات سے آگاہ کیا‘‘ (عقیدہ عذاب قبر،صفحہ ۳۶)

اہلحدیثوں کے بیان کے مطابق صلوٰۃ الکسوف کی روایات میں نبی ﷺ نے عذاب قبر کی تفصیلات سے پہلی مرتبہ آگاہ کیا، لہٰذا ضروری ہے کہ ان روایات کابھی جائزہ لے لیا جائے۔

صلوٰۃ الکسوف کی احادیث

۔۔۔ فَقُمْتُ حَتّٰی تَجَلاَّنِی الْغَشْیُ وَجَعَلْتُ اَصُبُّ فَوْقَ رَاْسِیْ مَاءً، فَلَمَّا انْصَرَفَ رَسُوْلُ اﷲِ ا حَمِدَاﷲَ وَاَثْنٰی عَلَیْہِ، ثُمَّ قَالَ مَامِنْ شَیْءٍ کُنْتُ لَمْ اَرَہُ اِلاَّ قَدْ رَایْتُہُ فِیْ مَقَامِیْ ھٰذَا حَتَّی الْجَنَّۃَ وَالنَّارَ وَلَقَدْ اُوْحِیَ اِلَیَّ اَنَّکُمْ تُفْتَنُوْنَ فِی الْقُبُوْرِ مِثْلَ اَوْ قَرِیْبًا مِّنْ فِتْنَۃِ الدَّجَّالِ لَآ اَدْرِیْ اَیَّ ذٰلِکَ قَالَتْ اَسْمَآءُ یُؤْتٰی اَحَدُکُمْ فَیُقَالُ لَہٗ مَاعِلْمُکَ بِھٰذَالرَّجُلِ فَاَمّا المُؤْمِنُ اَوِ الْمُوْقِنُ لَآ اَدْرِیْ اَیَّ ذٰلِکَ قَالَتْ اَسْمَآءُ فَیَقُوْلُ ھُوَ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اﷲِ جَآءَ نَا بِالْبَیِّنَاتِ وَالْھُدٰی فَاَجَبْنَا وَ اٰمَنَّا وَاتَّبَعْنَا فَیُقَالُ نَمْ صَالِحًا فَقَدْ عَلِمْنَا

اِنْ کُنْتَ لَمُؤْمِنًا وَ اَمَّا الْمُنَافِقُ اَوِ الْمُرْتَابُ لَآاَدْرِیْ اَیَّ ذٰلِکَ قَالَتْ اَسْمَآءُ فَیَقُوْلُ لَآاَدْرِیْ سَمِعْتُ النَّاسَ یَقُوْلُوْنَ شَیْءًا فَقُلْتُہٗ

(بخاری:کتاب الوضوء۔باب من لم یتوضا الا من الغشی المثقل)

’’ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ (اسماء ؓ سورج گرہن کی صلوٰۃ ادا کرنے کا واقعہ روایت کرتی ہیں کہ) ۔۔۔میں بھی کھڑی ہوگئی یہاں تک کہ(صلوٰۃ کی طوالت سے) مجھ پر غشی طاری ہونے لگی اورمیں اپنے سر پر پانی ڈالنے لگی۔جب رسول اﷲ ﷺ (صلوٰۃ سے) فارغ ہوئے تو اﷲ کی حمد و ثناء فرمائی، اس کے بعد فرمایا کہ جس چیز کو میں نے کبھی نہیں دیکھا تھا اس کو آج اسی جگہ دیکھ لیا یہاں تک کہ جنت و جہنم کوبھی۔ اور میری طرف وحی کی گئی کہ تم اپنی قبروں میں آزمائے جاؤگے دجال کے فتنے کی طرح یا اس کے قریب قریب۔۔۔ تم میں سے ہر ایک کولایا جائے گا اور اس سے کہا جائے گا کہ اس مرد کے متعلق کیا علم رکھتے ہو۔ مومن یا موقن( وہ کہتی ہیں)مجھے یاد نہیں، کہے گا وہ اﷲ کے رسول محمدﷺہیں جو ہمارے پاس کھلی نشانیاں اور ہدایت لے کر آئے ،ہم نے ان کی بات مانی اور ایمان لائے اور پیروی کی۔ا س سے کہا جائے گا سو جا ،اس لیے کہ ہم نے جان لیا ہے کہ تو مومن ہے۔ لیکن منافق یا شک کرنے والا کہے گا کہ مجھے نہیں معلوم، میں نے تو جولوگوں کو کہتے ہوئے سنا وہی میں نے کہا‘‘۔

حدیث کے الفاظ پر غور فرمائیے کہ یہ کونسا مقام ہے جس کے متعلق بتایا گیا کہ:

یوْ تٰی اَحَدُ کُمْ ’’پھر تم میں سے ہر ایک کولایا جائے گا‘‘

(یہ بات بھی قابل غور ہے کہ اہلحدیثوں نے اس حدیث کا ترجمہ بھی بدل ڈالا اور لکھا کہ’’ تم میں سے ہر ایک کے پاس پہنچیں گے‘‘!اگرچہ دیوبندی بھی ان کے ہم عقیدہ ہیں مگرکم ازکم اس علمی خیانت کی جرأت ان سے نہ ہوسکی، یہ بھی اہلحدیثوں کا ہی خاصہ ہے) قرآن و حدیث سے اس کی تشریح یہ ملتی ہے کہ ہر مرنے والے کی روح فرشتے قبض کرکے اﷲ تعالیٰ کے پاس لے جاتے ہیں:

وَ هُوَ الْقَاهِرُ فَوْقَ عِبَادِهٖ وَ يُرْسِلُ عَلَيْكُمْ حَفَظَةً١ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَآءَ اَحَدَكُمُ الْمَوْتُ تَوَفَّتْهُ رُسُلُنَا وَ هُمْ لَا يُفَرِّطُوْنَ۝ثُمَّ رُدُّوْۤا اِلَى اللّٰهِ مَوْلٰىهُمُ الْحَقِّ١ؕ اَلَا لَهُ الْحُكْمُ١۫ وَ هُوَ اَسْرَعُ الْحٰسِبِيْنَ۰۰۶۲

(الانعام:61/62)

’’اور وہ اپنے بندوں پر غالب ہے اور تم پر نگہبان بھیجتا ہے۔ یہاں تک کہ جب تم میں سے کسی کی موت آتی ہے تو ہمارے بھیجے ہوئے (فرشتے) اسکی روح قبض کر لیتے ہیں اور وہ کوئی کوتاہی نہیں کرتے۔ پھر تم پلٹائے جاتے ہو اﷲکی طرف جو تمھارا حقیقی مالک ہے ۔سن لو کہ حکم اسی کا ہے اور وہ بہت جلد ساب لینے والاہے‘‘۔

ؕ وَ لَوْ تَرٰۤى اِذِ الظّٰلِمُوْنَ فِيْ غَمَرٰتِ الْمَوْتِ وَ الْمَلٰٓىِٕكَةُ بَاسِطُوْۤا اَيْدِيْهِمْ١ۚ اَخْرِجُوْۤا اَنْفُسَكُمْ١ؕ اَلْيَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذَابَ الْهُوْنِ بِمَا كُنْتُمْ تَقُوْلُوْنَ عَلَى اللّٰهِ غَيْرَ الْحَقِّ وَ كُنْتُمْ عَنْ اٰيٰتِهٖ تَسْتَكْبِرُوْنَ۠۝وَ لَقَدْ جِئْتُمُوْنَا فُرَادٰى كَمَا خَلَقْنٰكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍ وَّ تَرَكْتُمْ مَّا خَوَّلْنٰكُمْ وَرَآءَ ظُهُوْرِكُمْ١ۚ وَ مَا نَرٰى مَعَكُمْ شُفَعَآءَكُمُ الَّذِيْنَ زَعَمْتُمْ اَنَّهُمْ فِيْكُمْ شُرَكٰٓؤُا١ؕ لَقَدْ تَّقَطَّعَ بَيْنَكُمْ وَ ضَلَّ عَنْكُمْ مَّا كُنْتُمْ تَزْعُمُوْنَؒ۰۰۹۴

(الانعام: 93/94)

’’کاش تم ظالموں کواس حالت میں دیکھ سکو جب کہ وہ سکرات موت میں ہوتے ہیں اور فرشتے ہاتھ بڑھا بڑھا کر کہہ رہے ہوتے ہیں نکالو اپنی جانوں کو،آج تمہیں ان باتوں کی پاداش میں ذلت کا عذاب دیا جائے گا جو تم

اﷲپرتہمت رکھ کر ناحق کہا کرتے تھے اور اس کی آیات کے مقابلے میں سرکشی دکھاتے تھے۔اور تم تن تنہا پہنچ گئے ہمارے پاس جیسا کہ ہم نے تمہیں پہلی بار پیدا کیا تھا اور چھوڑ آئے ہو اپنی پیٹھ پیچھے جو کچھ ہم نے تم کو عطاکیا تھا‘‘۔

عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَص قَالَ اِذَا خَرَجَتْ رُوْحُ الْمُؤْمِنِ تَلَقَّاھَا مَلَکَانِ یُصْعِدَانِھَا قَالَ حَمَّادٌ فَذَکَرَ مِنْ طِیْبِ رِیْحِھَا وَ ذَکَرَ الْمِسْکَ قَالَ وَ یَقُوْلُ اَھْلُ السَّمَآءِ رُوْحٌ طَیِّبَۃٌ جَآءَ تْ مِنْ قِبَلِ الْاَرْضِ صَلّی اﷲُ عَلَیْکِ وَ عَلٰی جَسَدٍ کُنْتِ تَعْمُرِیْنَہٗ فَیُنْطَلَقُ بِہٖ اِلٰی رَبِّہٖ عَزَّ وَ جَلَّ ثُمَّ یَقُوْلُ انْطَلِقُوْا بِہٖ اِلآی اٰخِرِ الْاَجَلِ قَالَ وَ اِنَّ الْکَافِرَ اِذَا خَرَجَتْ رُوْحُہٗ قَالَ حَمَّادٌ وَّ ذَکَرَ مِنْ نَتْنِھَا وَ ذَکَرَ لَعْنًا وَّ تَقُوْلُ اَھْلُ السَّمَآءِ رُوْحٌ خَبِیْثَۃٌ جَآءَ تْ مِنْ قِبَلِ الْاَرْضِ قَالَ فَیُقَالُ انْطَلِقُوْا بِہٖ اِلٰی اٰخِرِ الْاَجَلِ

(مسلم:کتاب الجنۃ و صفۃ نعیمھا، باب عرض المقعد علی المیت و عذاب القبر)

’’جب مومن کی روح اس کے بدن سے نکلتی ہے تو اس کے آگے آگے دو فرشتے جاتے ہیں ا س کو آسمان پر چڑھاتے ہیں۔ابوہریرۃ ؓ نے اس کی خوشبو اور مشک کا ذکر کیا اور کہا کہ آسمان والے ( فرشتے ) کہتے ہیں کوئی پاک روح ہے جو زمین سے آئی ہے۔ اﷲ تعالی تجھ پر رحمت کرے اور تیرے جسم پرجس کو تو نے آباد رکھا۔ پھر اس کو اس کے رب کے پاس لیجاتے ہیں وہ فرماتا ہے لے جاؤ اس کو آخری وقت تک کے لیے ۔اور جب کافر کی روح نکلتی ہے تو ابوہریرۃ ؓ نے اس پر لعنت کا ذکر کیا اور کہا کہ آسمان والے ( فرشتے ) کہتے ہیں کہ ناپاک روح ہے جو زمین سے آئی ہے پھر حکم ہوتا ہے لے جاؤ اس کو آخری وقت تک کے لیے‘‘۔

تویہ ہے وہ مقام کہ جہاں سارے کے سارے انسان مرنے کے بعدلے جائے جاتے ہیں۔اسماء رضی اﷲ کی بیان کردہ صلوٰۃ الکسوف کی حدیث، جس کے بارے میں اہلحدیثوں نے انکشاف فرمایا ہے کہ اس میں نبی صلی اﷲ علیہ و سلم نے پہلی دفعہ عذاب قبر کی تفصیلات سے آگاہ فرمایا،کا متن بھی اسی بات کو ثابت کرتا ہے۔

نبی ﷺ پر وحی نازل ہونے کے مختلف انداز تھے:کبھی فرشتے کے ذریعے پیغام آتا، کبھی دل میں القا کی جاتی ، کبھی خواب کے ذریعے اور کبھی وہ مناظر نبی ﷺکو دکھادیئے جاتے جن کے متعلق کچھ بتانا مقصودہوتا ۔چنانچہ اس حدیث میں وحی کایہی مؤخرالذکرانداز تھاکہ عذاب قبر کے مناظرنبی ﷺکو دکھائے گئے جس کا ثبوت قَدْ رَایْتُہُ( میں نے اسے دیکھا) کے الفاظ ہیں ۔عائشہ رضی اﷲ فرماتی ہیں:

۔۔۔فَقَالَ انِّیْ قَدْ رَأےْتُکُمْ تُفْتَنُوْنَ فِی اْلقُبُوْرِکَفِتْنَۃِ الدَّجَّالِ ۔۔۔ فَکُنْتُ اَسْمَعُ رَسُوْلَ اﷲِ بَعْدَ ذٰلِکَ یَتَعَوَّذُ مِنْ عَذَابِ النَّارِ وَ عَذَابِ الْقَبْرِ

(مسلم:کتاب الکسوف، باب ذکرعذاب القبر فی صلاۃ الخسوف)

۔۔۔ (نبی ﷺ نے صلوٰۃ الکسوف ادا فرمائی )پھر فرمایا:’’ میں نے یقیناًتم کو دیکھا کہ تم آزمائے جاتے ہو قبروں میں دجال کے فتنہ کی طرح‘‘ اس کے بعدمیں رسول اﷲﷺکوجہنم کے عذاب اور قبر کے عذاب سے پناہ مانگتے ہوئے سناکرتی‘‘۔

نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے کیا دیکھا :

اِنَّہُ عُرِضَ عَلَیَّ کُلُّ شَیْءٍ تُوْلَجُوْنَہُ، فَعُرِضَتْ عَلَیَّ الْجَنَّۃُ، حَتّٰی لَوْ تَنَاوَلْتُ مِنْھَا قِطْفًا اَخَذْتُہُ اَوْ قَالَ تَنَاوَلْتُ مِنْھَا قِطْفًا فَقَصُرَتْ یَدِیْ عَنْہُ وَعُرِضَتْ عَلَیَّ النَّارُ فَرَأیْتُ فِیْھَا امْرَأَۃً مِّنْ بَنِیْ اِسْرَاءِیْلَ تُعَذَّبُ فِیْ ھِرَّۃٍ لَّھَا، رَبَطَتْھَا فَلَمْ تُطْعِمْھَا وَلَمْ

تَدَعْھَا تَأْکُلُ مِنْ خَشَشِ الْاَرْضِ وَ رَأْیْتُ اَبَا ثُمَامَۃَ عَمْرَوبْنَ مَالِکٍ یَجُرُّ قُصْبَہُ فِیْ النَّارِ ۔۔۔

(مسلم:کتاب ا لکسوف، باب ما عرض علی النبیافی صلاۃ الکسوف من امرالجنۃ والنار)

’’ ۔۔۔ پھر فرمایا کہ جتنی بھی چیزیں جن میں تم جاؤگے میرے سامنے آئیں، اور جنت تو ایسی آئی کہ اگر میں اس میں سے ایک گچھا لینا چاہتا تو ضرور ہی لے لیتا؛ یا فرمایا کہ میں نے اس میں سے ایک گچھا لینا چاہا تو میرا ہاتھ نہ پہنچا۔اور جہنم میرے آگے آئی اور میں نے بنی اسرائیل کی ایک عورت کو دیکھا کہ ایک بلی کی وجہ سے اس کو عذاب ہورہا ہے کہ اس نے بلی کو باندھا ہوا تھا ،اسے نہ تو کھانے کو دیتی اور نہ اسے کھولتی کہ وہ زمین کے کیڑے مکوڑے کھالیتی۔اور جہنم میں ابو ثمامہ عمرو بن مالک کو دیکھا کہ جہنم میں اپنی آنتیں کھینچ رہا تھا۔۔۔۔۔۔‘‘

۔۔۔رَاَیْتُ جَھَنَّمَ یَحْطِمُ بَعْضُھَا بَعْضًا ۔۔۔وَ رَاَیْتُ عَمْرَوبْنَ عَامِرِ الْخُزَاعِیِّ یَجُرُّ قُصْبَہٗ فِی النَّارِ کاَنَ اَوَّلُ مَنْ سَیَّبَ السَّوَآءِبَ

)بخاری:کتاب التفسیر،تفسیرسورۃ المائدۃ، باب قولہ ماجعل اﷲ من بحیرۃ ولا سائبۃ ولاوصیلۃ ولاحام،عن عائشۃ وابی ھریرۃ رضی اﷲ

’’ میں نے جہنم کو دیکھا ،اس کا ایک حصہ دوسرے کو تباہ کر رہا تھا اور اس میں عمرو بن عامرلحی الخزاعی کو دیکھا، وہ ا پنی آنتیں کھینچ رہا تھا۔یہ وہ پہلا شخص تھا جس نے بتوں کے نام پر جانورچھوڑنے کی رسم ایجاد کی‘‘۔

بتائیے کہ یہ کونسی قبریں تھیں کہ جن میں نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے عذاب ہو تے ہوئے دیکھ کر عذاب قبر سے پناہ مانگی؟

یہ زمین میں بنی ہوئی قبریں تھیں یایہ جہنم میں ملنے والے وہ مقام ہیں جن میں ایک مرنے والا قیامت تک حسب انجام عذاب پائے گا۔

نبی ﷺنے جب غزوہ بدر میں مرنے والوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا:

هَلْ وَجَدْتُمْ وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا

’’کیا تم نے پالیا اپنے رب کاوعدہ‘‘

تو عائشہ رضی اﷲ نے اس کی تشریح فرمائی، راوی کہتے ہیں کہ اس کا مطلب یہ تھا کہ

حِیْنَ تَبَوّءُ وْا مَقَاعِدَھُمْ مِّنَ النَّارِ

’’ جب جہنم میں ان کو ٹھکانہ مل گیا ہوگا‘‘

)بخاری: کتاب المغازی،باب قتل ابی جہل، عن ھشام عن ابیہ(

نبی ﷺ کے اس فرمان سے اس بات کی یقینی وضاحت ہوگئی کہ وہ مقام جہاں مرنے والا قیامت تک عذاب یا راحت پاتاہے، وہی وہ مقام ہے جس کے لیے اﷲ تعالیٰ فرماتا ہی ثُمَّ اَمَاتَهٗ فَاَقْبَرَهٗۙ’’ پھر اسے موت دی قبر دی ‘‘۔

جیسا کہ قرآن مجید میں مرتے ہی قومِ نوح وازواجِ نوح و لوط علیہماالسلام کے جہنم میں دا خلے، اورآل فرعون کے جہنم پر پیش کیے جانے کا ذکر فرمایا گیا ہے،تو وہی تسلسل رسول اﷲا کی حدیث میں بھی پایا جاتا ہے۔ جہنم (آسمانوں) میں ہونے والے اس عذاب کو دیکھ کرنبی ﷺنے’’ عذاب قبر‘‘

سے پناہ مانگی ۔ یہی ہمارا ایمان ہے کہ عذاب قبر اس دنیاوی قبر میں نہیں بلکہ جہنم میں ہوتا ہے۔ یہی تشریح ہے نبیﷺ کی اس حدیث کی جس میں یہودی عورت کے متعلق بتایا گیاکہ

’’یہ لوگ اس پر رو رہے ہیں اور اسے اس کی قبر میں عذاب دیا جارہا ہے‘‘

چونکہ یہ سب آسمانوں میں ہوتا ہے اس لیے اﷲکی طرف سے دی جانے والی اس قبر کوبطور امتیاز اصطلا حاً اکثر مفسرین نے’’ برزخی قبر‘‘ کہہ دیا ہے ۔ صلوٰۃ الکسوف کی یہی وہ روایات ہیں جن کے متعلق خاکی جان دامانوی نے کہا تھا کہ ان میں نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے عذاب قبر کی تفصیلات بتائیں ۔ انہی روایات میں نبی ﷺکا یہ فرمان بھی نقل کیا گیا کہ:

’’ جتنی بھی چیزیں جن میں تم جاؤگے میرے سامنے آئیں، اور جنت تو ایسی آئی۔۔۔۔۔۔اور جہنم میرے آگے آئی ۔۔۔‘‘

لیکن نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے کسی طور بھی اس دنیاوی زمینی قبر کا ذکر نہیں فرمایا ،بلکہ جہنم میں ہونے والے عذاب دیکھ کر فرمایا:

’’ اور میں نے یقیناًتم کو دیکھا کہ تم آزمائے جاتے ہو قبروں میں دجال کے فتنے کی طرح‘‘

اور پھر عذاب قبر سے پناہ مانگی!

اسی طرح بخاری کی سمرہ بن جندب ؓ والی حدیث میں فرشتے رسول اﷲﷺسے کہتے ہیں :

یُفْعَلُ بِہٖ اِلٰیوْمِ الْقِیَامَۃِ ’’

یہ اس کے ساتھ قیامت تک ہوتا رہے گا‘‘

اوریہی بات نبی ﷺ صحابہؓ کو بتا تے ہیں ،لیکن یہ اہلحدیث اسے بھی عذاب قبر ماننے کو تیار نہیں ۔اب رسول اﷲﷺکی بات سے جن کے دلوں کو تکلیف پہنچ رہی ہو اورجوان کی کہی ہوئی بات کو ماننے کے لیے تیار نہیں، وہ کون ہیں؟

اب چاہے اپنا نام کوئی’’ حزب اﷲ‘‘ رکھے یا اپنے آپ کو اہلسنت و الجماعت کہلوائے، کوئی اپنا نام جماعت المسلمین (بھلے سے گول ۃ والی ’’جماعۃ المسلمین) رکھے یاتنظیم المسلمین،اپنے آپ کو توحیدی کہلوائے یا لاکھ اپنے آپ کو اہلحدیث کہتا پھرے،سب کے لیے اﷲ تعالیٰ کا ایک ہی فیصلہ ہے کہ

فَلَا وَ رَبِّكَ لَا يُؤْمِنُوْنَ حَتّٰى يُحَكِّمُوْكَ فِيْمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوْا فِيْۤ اَنْفُسِهِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَيْتَ وَ يُسَلِّمُوْا تَسْلِيْمًا۰۰۶۵

[النساء: 65]

’’ نہیں اے نبی (ﷺ) ! آپ کے رب کی قسم یہ کبھی مومن نہیں ہوسکتے جب تک کہ اپنے باہمی اختلافات میں یہ آپ کو اپنا فیصلہ کرنے والا نہ مان لیں، پھر جو کچھ آپ فیصلہ کریں اس پر اپنے دلوں میں بھی کوئی تنگی محسوس نہ کریں، بلکہ خوشی سے مان لیں۔ ‘‘

قارئین / سامعین ، ہم عالم برزخ میں ملنے والے اس مقام جسے نبی ﷺ نے ’’ قبر ‘‘ کا نام دیا ہے اصطلاحاً ’’ برزخی قبر ‘‘ کہتے ہیں،اس پر یہ فرقہ پرست کہتے ہیں کہ یہ نام تم نے خود گھڑا ہے۔ اگلی پوسٹ میں ہم ان شاء اللہ اس بات کو واضح کریں گے کہ ان فرقوں میں پہلے سے اس قبر کا عقیدہ موجود ہے۔

برزخی قبر اور اکابرین مسلک:

اکثر اہلحدیث اور دیوبندی بڑی شدومد کے ساتھ اس بات کو بیان کرتے ہیں کہ ’’ برزخی قبر ‘‘ کا کوئی وجود نہیں بلکہ یہ محض آپ لوگوں کی گھڑی ہوئی ایک بات ہے۔جدید فرقۂ اہلحدیث بنام جماعت المسلمین رجسٹرڈ والوں نے تو اس موضوع پر’’ارضی قبر و فرضی قبر‘‘ کے نام سے ایک کتاب بھی لکھ ڈالی ہے۔برزخی قبر کیا ہے، اس کی تفصیل اس سے قبل بیان کی جاچکی ہے۔ہم نے قرآن و حدیث کے بیان کے مطابق ہی اس کو اصطلاحاً برزخی قبر کہا ہے ورنہ یہ ہماری اختراع نہیں ہے بلکہ اس حقیقت کا اعتراف تومسلکی اکابرین بھی کرتے ہیں۔ اس حوالے سے ہم کچھ اقتباسات پیش کرتے ہیں، ملاحظہ فرمائیے:

محمد اسماعیل سلفی الحدیث فرماتے ہیں :

’’ اس قسم کی اور بہت سی آیات ہیں جن میں اس عذاب اور برزخ کا ثبوت ملتا ہے اور احادیث میں تو یہ موضوع اس کثرت اور صراحت سے آیا ہے کہ کسی دیانتدار آدمی کے لیے اس سے انکار کی گنجائش نہیں۔ قبر سے مراد برزخ ہے اس میں مجرموں کو عذاب ہوگا۔وہ قبر کے گڑھے میں دفن ہوں یا اسے کوئی جانور کھا جائے وہ ہی اسکی قبر ہوگی جس صورت میں بھی وہ عذاب یا خوشی محسوس کرے گا۔ قبر سے مراد گڑھا ہی نہیں بلکہ موت کے بعد جو ٹھکانہ ملا ہے وہ قبر ہے اور وہیں انسان کو عذاب یا خوشی کا احساس ہوگا۔ اسکو عذاب قبر یا برزخی زندگی سے تعبیر کیا گیا ہے‘‘۔ ( تبلیغی نصاب،از محمد اسماعیل سلفی ، صفحہ۴۱)

فضل الرحمن کلیم اہلحدیث نے لکھا ہے :

’’ عام لوگ صرف زمین کے گڑھے اور مٹی کے ڈھیر کو قبر سمجھتے ہیں لیکن یہ بات غلط ہے ورنہ کہنا پڑیگا کہ جن لوگوں کو زمین میں دفن ہونا نصیب نہیں ہوا وہ قبروں میں نہیں گئے‘‘۔ ( دعا کرنے کا اسلامی تصور، از فضل الرحمن کلیم اہلحدیث، صفحہ ۱۰۹) ’’ الغرض بہت سی لاشوں کو وہ جگہ نہیں ملتی جس کو ہمارے عرف میں قبر کہا جاتاہے۔ تو کیا یہ لوگ قبروں میں نہیں پہنچے اور ان کی کوئی قبر نہیں؟ ایسا کہنا غلط ہے کیونکہ مرنے والے ہر شخص کی نئی منزل قبر ہوتی ہے اور ہر شخص قبر میں جاتا ہے۔بات دراصل یہ ہے کہ قرآن مجید حدیث پاک میں جب لفظ قبر استعمال کیا جاتا ہے تو اس سے مراد صرف زمین کا گڑھا اور مٹی کا ڈھیر نہیں ہوتا بلکہ قبر سے مراد وہ مقام ہے جہاں مرنے کے بعد انسان کو ٹھہرنا نصیب ہوتا ہے لیکن اس مقام کی حقیقت انسان کی عقل و فکر سے باہر ہے۔اﷲ پاک نے اسکو انسان کے دنیوی حواس سے پوشیدہ رکھا ہے، چنانچہ جن لوگوں کو زمین میں دفن کیا جاتا ہے اور جن کی لاشیں دنیا میں ضائع ہوجاتی ہیں ان سب کو اﷲ پاک کسی جگہ ٹھہراتا ہے اور جس جگہ ٹہراتا ہے وہ ہی ان کی قبر ہے کیونکہ قبر کے معنی زمین کا گڑھا اور مٹی کا ڈھیر نہیں بلکہ عربی زبان میں میت کے ٹہرنے

کی جگہ کا نام قبرہے۔مفردات امام راغب میں ہے ’’ القبر مقر المیت‘‘ مرنے والے کی رہائش گاہ کا نام قبر ہے۔اگر قبر سے مراد صرف زمین کا گڑھا اور مٹی کا ڈھیر ہو تو قرآن مجید کی بہت سی آیات کا مفہوم بیان کرنا مشکل ہوجائے گا‘‘۔(ایضاً،صفحہ۱۱۰)

شبلی نعمانی صاحب نے لکھا ہے :

’’لیکن اس لفظ ’’ قبر‘‘ سے درحقیقت مقصود وہ خاک کا تودہ نہیں جس کے نیچے کسی مردہ کی ہڈیاں پڑی رہتی ہیں بلکہ وہ عالم ہے جس میں یہ مناظر پیش آتے ہیں اور وہ ارواح و نفوس کی دنیا ہے ماد ی عنا صر کی نہیں ہے‘‘۔(سیرۃ النبی ا، از علامہ شبلی نعمانی وعلامہ سید سلیمان ندوی،جلد۴، صفحہ ۳۶۰) ’’ بعض حدیثوں میں آنحضرت صلعم سے ان مٹی کی قبروں میں عذاب کے مشاہدات و مسموعات کا تذکرہ ہے تو ظاہر ہے کہ مادی زبان و منظر میں ان قوموں کے نزدیک جو مردوں کو گاڑتی ہیں اس میت کی یادگار اس دنیا میں اس کے اس مٹی کے ڈھیر کے سوا اور کیا ہے جس کی طرف اشارہ کیا جاسکے‘‘۔ ( ایضاً، صفحہ ۳۶۲)

ادریس کاندھلوی صاحب کا عقیدہ :

’’قبر میں مومنوں اور کافروں سے منکر و نکیر کا سوال حق ہے۔قبر سے وہ گڑھا مرادنہیں جس میں مردہ جسم دفن کیا جاتا ہے بلکہ عالم برزخ مراد ہے‘‘ ۔

( عقائد الاسلام ،از محمد ادریس کاندھلوی ،حصہ۱،صفحہ۵۸)

عبد الحق دہلوی صاحب فرماتے ہیں :

’’ان احادیث میں،اور جن میں کہ قبر کے اندر ثواب وعذاب ثابت ہے کچھ مخالفت نہیں،کیونکہ جب ثابت ہوا کہ قبر سے خاص وہ گڑھا مراد نہیں کہ جس میں جسم دفن کیا جاتا ہے بلکہ عالم برزخ مراد ہے۔خواہ کوئی پانی میں غرق ہو خواہ آگ میں جل جاوے تو اس کی وہی قبر ہے‘‘۔ (حقانی عقائد الاسلام ،از عبد الحق دہلوی،صفحہ۱۶۹)

اشرف علی تھانوی صاحب بیان کر گئے ہیں :

’’ کیا معنی کہ قبر سے مراد یہ محسوس گڑھا نہیں ہے۔کیونکہ کسی کو بھیڑیا کھا گیا،یا کوئی سمندر میں غرق ہوگیا یوں اس صورت میں چونکہ وہ زمین میں دفن نہیں ہوا اس لیے اس کو چاہیے کہ قبر کا عذاب نہ ہو،لیکن اب اشکال نہ رہا۔کیونکہ جو عالم مثال ہے وہیں اس کو عذاب قبر بھی ہوجائے گا۔ اشکال تو جب ہوتا جب قبر سے مراد یہ گڑھا ہوتا جس میں لاش دفن کی جاتی ہے ۔حالانکہ اصطلاح شریعت میں قبر گڑھے کو کہتے ہی نہیں بلکہ عالم مثال کو کہتے ہیں قبر‘‘۔

(اشرف الجواب ،از اشرف علی تھانوی ،صفحہ ۱۵۸)

اشاعت التوحید و السنۃ دیوبندی کا عقیدہ :

’’ نیز اگر قبر کے معنی گڑھے کے کریں تو بہت سی احادیث صحیحہ کا انکار لازم آئے گا یا کہنا پڑے گا کہ کافر اور مرتد بھی عذاب قبر سے محفوظ ہیں۔لاحول ولاقوۃ الا باﷲ ۔۔۔ اس تقریر سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ قبر اس گڑھے کا نام نہیں جسے لوگ اپنے ہاتھوں سے کسیوں کے ذریعے کھودکر اس میں میت کو دفن کرتے ہیں بلکہ قبر کسی اور چیز کا نام ہے جہاں جزا و سزا ہوتی ہے۔ہاں اس گڑھے کو عرفی قبر کہتے ہیں‘‘۔(الاقول المرضیہ فی الاحوال البرزخیہ،از محمد حسین نیلوی اشاعتی،صفحہ ۸۵)

بریلوی عالم شبیر حسن چشتی نے لکھا:

’’ قبر نام صرف اس گڑھے کا ہی نہیں ہے جس میں جسمِ میت دفن کردیا جاتا ہے۔ بلکہ قبر اس عالم کا نام ہے جہاں مرنے کے بعد انسان کا قیام قیامت تک رہے گا۔ اس لیے کوئی میت خواہ قبر میں دفن کردی جائے یا پانی

میں غرق کردی جائے یا آگ میں جلا کر اس کے اجزاء منتشر کردئیے جائیں یا صلیب پر لٹکادیا جائے۔ ہم خواہ اپنی آنکھوں سے عذاب یا ثواب برزخ کا مشاہدہ نہ کرسکیں مگر حقیقت یہ ہے کہ میت مرنے کے بعد خواہ کسی حالت میں کیوں نہ ہو۔ عذاب ثواب میں ضرور مبتلا ہوگی۔ جب ہم اپنے عالم شہادت کی بہت سی چیزیں اپنی آنکھوں سے مشاہدہ نہیں کرسکتے اور مشاہدہ نہ کرسکنے کے باوجود اس کے وجود کے قائل ہیں تو برزخ تو ایک عالم ہی دوسرا ہے۔ اس کا حال اگر ہمیں نظر نہ آئے تو اس سے یہ لازم نہیں کہ ہم اس عالم کے وجود سے ہی سراسر انکار کردیں یا اس کے عذاب و ثواب سے منکر بن جائیں‘‘۔(موت کے بعد کیا ہوگا؟ از علامہ شبیر حسن چشتی بریلوی، صفحہ۹۲،۹۳)

اہل تشیع عالم آیت اللہ العظمیٰ سید عبد الحسین کا بیان:

’’ مرحوم علامہ مجلسی فرمایا کرتے تھے احادیث کی ایک قسم ہے جس میں قبر کا نام لیا گیا ہے وہاں قبر سے مراد عالم برزخ ہے نہ کہ قبر جسمانی۔ اور یہ کہ جو روایت میں آیا ہے کہ خداوند عالم قبر مومن کو وسعت دیتا ہے اس سے برزخ کا عالم روحانی مراد ہے۔ قبر کی تاریکی و روشنی جسمانی نہیں ہے‘‘۔(برزخ،ازآیت اﷲ العظمیٰ سیدعبد الحسین اہل تشیع،صفحہ ۱۱۶)

مروجہ مسالک کے کچھ افراد کی کتابوں کے چنداقباسات صرف حوالتاً پیش کیے گئے ہیں تاکہ یہ بات واضح ہوجائے کہ ’’برزخی قبر‘‘ ہماری اختراع نہیں بلکہ ان کے بہت سے مفسرین کی اصطلاح ہے جو کہ بہت پہلے ہی اپنائی جا چکی ہے۔ ہماری ساری بحث تو محض کتاب اﷲ کی بنیاد پر ہے۔

جوتوں کی چاپ سننے والے روایت؛

قرآن و حدیث کا واضح بیان ہےکہ مرنے کے بعد ملنے والے عذاب قبر یا راحت قبر کا اس دنیا، اس مٹی کے جسم سے کوئی تعلق نہیں، جس کی تفصیل ہم پیش کر چکے ہیں لیکن مسلک پرست اپنے باطل عقیدے کے لیے بخاری کی یہ حدیث برھان قاطعہ کے طور پر پیش کرتے ہیں:

عَنِ النَّبِیِّ ا قَالَ الْعَبْدُ اِذَا وُضِعَ فِیْ قَبْرِہٖ وَ تُوُلِّیَ وَ ذَھَبَ اَصْحَابُہٗ حَتّٰی اَنَّہٗ لَیَسْمَعُ قَرْعَ نِعَالِھِمْ اَتَاہُ مَلَکَانِ فَاَقْعَدَاہُ فَیَقُوْلاَنِ لَہٗ مَاکُنْتَ تَقُوْلُ فِیْ ھٰذَا الرَّجُلِ مُحَمَّدٍ فَیَقُوْلُ اَشْھَدُ اَنَّہٗ عَبْدُاﷲِ وَ رَسُوْلُہٗ فَیُقَالُ انْظُرْ اِلیٰ مَقْعَدِکَ مِنَ النَّارِ اَبْدَلَکَ اﷲُ بِہٖ مَقْعَدًا مِّنَ الْجَنَّۃِ قَالَ النِّبِیُّ ا فَیَرَاھُمَا جَمِیْعًا وَّ اَمَّا الْکَافِرُ وَالْمُنَافِقُ فَیْقَالُ لاَ دَرَیْتَ وَ لاَ تَلَیْتَ ثُمَّ یُضْرَبُ بِمِطْرَقَۃٍ مِّنْ حَدِیْدٍ ضَرْبَۃً بَیْنَ اُذُنَیْہِ فَیُصِیْحُ صَیْحَۃً یَّسْمَعُھَا مَنْ یَّلِیْہِ اِلاَّ الثَّقَلَیْنِ

(بخاری:کتاب الجنائز، باب المیت یسمع خفق النعال)

’’نبی ﷺ نے فرمایا: بندہ جب اپنی قبر میں رکھ دیا گیا اور اس کا معاملہ اختتام کو پہنچ گیا اور اس کے ساتھی چلے گئے۔ یہاں تک کہ وہ یقینی طور ان(فرشتوں) کی جوتیوں کی آواز سنتا ہے کہ دو فرشتے آجاتے ہیں اس کو بٹھاتے ہیں اور وہ دونوں اس سے کہتے ہیں کہ تو کیا کہتا تھا اس شخص محمد ﷺکے بارے میں؟ وہ کہتا ہے کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ وہ ﷲ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ تو اس سے کہا جاتا ہے کہ تو جہنم میں اپنے ٹھکانے کی طرف دیکھ ﷲ تعالی نے اس کے بدلہ میں تجھے جنت کا ٹھکانہ عطا کیا ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا کہ پھر وہ ان دونوں چیزوں کو دیکھتا ہے اور کافر یا منافق کہتا ہے کہ مجھے کچھ نہیں معلوم، میں تو وہی کہتا تھا جو لوگ کہتے تھے، اس سے کہا جاتا ہے کہ تو نے سچی بات نہ جانی اور نہ جاننے والوں کی پیروی کی پھر اس کے دونوں کانوں کے درمیان لوہے کے ہتھوڑے سے ایسی ضرب لگائی جاتی ہے اور وہ چیخ مارتا ہے کہ جن و انس کے علاوہ ہر کوئی سنتا ہے‘‘۔

دراصل یہ حدیث صرف اس حد تک بیان کرتی ہے کہ مرنے کے بعد انسان سے سوال و جواب اور اس کی سزا و جزا کس قدر جلد شروع ہو جاتی ہے۔ رہا ان کا یہ کہنا کہ یہ زمینی قبر میں عذاب قبر پر دلیل ہے بالکل غلط بات ہے، ورنہ انہیں چند باتوں کا جواب دینا ہوگا۔

۱) کیا مرنے کے بعد سوال و جواب صرف انہی سے ہوتے ہیں جو اس زمینی قبر میں دفنائے جاتے ہیں؟

2) کیا مٹی سے بنا یہ مردہ جسم سنتا اور بولتا ہے؟

 

ان معاملات کے لئے ہم کتاب اللہ سے رجوع کرتے ہیں :

کیا مرنے کے بعد سوال و جواب صرف انہی سے ہوتے ہیں جو اس زمینی قبر میں دفنائے جاتے ہیں؟

ایک طویل حدیث میں نبیﷺ نے عذاب قبر کا آنکھوں دیکھا حال بیان کیا اور فرمایا:

۔ ۔ ۔ ۔ وَالنَّارَ وَلَقَدْ اُوْحِیَ اِلَیَّ اَنَّکُمْ تُفْتَنُوْنَ فِی الْقُبُوْرِ مِثْلَ اَوْ قَرِیْبًامِّنْ فِتْنَۃِ الدَّجَّالِ لَآ اَدْرِیْ اَیَّ ذٰلِکَ قَالَتْ اَسْمَآءُ یُؤْتٰی اَحَدُکُمْ فَیُقَالُ لَہٗ مَاعِلْمُکَ بِھٰذَالرَّجُلِ فَاَمّا المُؤْمِنُ اَوِ الْمُوْقِنُ لَآ اَدْرِیْ اَیَّ ذٰلِکَ قَالَتْ اَسْمَآءُ فَیَقُوْلُ ھُوَ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اﷲ جَآءَ نَا بِالْبَیِّنَاتِ وَالْھُدٰی فَاَجَبْنَا وَ اٰمَنَّا وَاتَّبَعْنَا فَیُقَالُ نَمْ صَالِحًا فَقَدْ عَلِمْنَااِنْ کُنْتَ لَمُؤْمِنًا وَ اَمَّا الْمُنَافِقُ اَوِ الْمُرْتَابُ لَآاَدْرِیْ اَیَّ ذٰلِکَ قَالَتْ اَسْمَآءُ فَیَقُوْلُ لَآاَدْرِیْ سَمِعْتُ النَّاسَ یَقُوْلُوْنَ شَیْءًا فَقُلْتُہٗ

(بخاری:کتاب الوضوء۔باب من لم یتوضا الا من الغشی المثقل)

’’صلاۃ الکسوف والی اسماء بنت ابو بکر صدیق کی طویل حدیث کا ایک حصہ ۔ ۔ ۔ ۔ ( نبی ﷺ نے فرمایا ): اور میری طرف وحی کی گئی کہ تم اپنی قبروں میں آزمائے جاؤگے دجال کے فتنے کی طرح یا اس کے قریب قریب۔۔۔ یُؤْتٰی اَحَدُکُمْ فَیُقَالُ تم میں سے ہر ایک کو لایا جائے گا اور اس سے کہا جائے گا کہ اس مرد کے متعلق کیا علم رکھتے ہو۔ مومن یا موقن(کہتی ہیں) مجھے یاد نہیں، کہے گا وہ ﷲ کے رسول محمدﷺ ہیں جو ہمارے پاس کھلی نشانیاں اور ہدایت لے کر آئے ،ہم نے ان کی بات مانی اور ایمان لائے اور پیروی کی۔ اس سے کہا جائے گا سو جا ،اس لیے کہ ہم نے جان لیا ہے کہ تو مومن ہے۔ لیکن منافق یا شک کرنے والا کہے گا کہ مجھے نہیں معلوم، میں نے تو جو لوگوں کو کہتے ہوئے سنا وہی میں نے کہا‘‘۔

واضح ہوا کہ سوال ہر ایک سے ہوتا ہے کوئی اس سے نہیں بچتا اور سوال وہی ہے جو پہلی اور دوسری حدیث میں بیان کیا گیا ہے کہ

’’ تم اس شخص ( محمد ﷺ ) بارے میں کیا کہتے ہو‘‘ یعنی دونوں احادیث ایک ہی معاملہ بیان کر رہی ہیں۔ عذاب قبر کی مفصل پوسٹ نمبر 7 میں ہم نے قرآن و حدیث دلائل پیش کردئیے ہیں کہ سوال و جواب روح سے ہوتا ہے اور ہر ایک سے ہوتا ہے جیسا کہ فرمایا گیا : تم میں سے ہر ایک کولایا جائے گا اور اس سے کہا جائے گا کہ اس مرد کے متعلق کیا علم رکھتے ہو۔

میت کا اٹھانا بٹھانا اس زمین کا معاملہ نہیں ، یہ سوال اس سے بھی ہوگا جو قبر میں دفنایا گیا ہو اور اس سے بھی جس کا جسم جل کر راکھ ہو گیا ہو۔ عالم برزخ میں سب کو اٹھایا بٹھایا جائے گا اور ، پھر جو اس حدیث میں کہا گیا کہ ’’ اور وہ چیخ مارتا ہے کہ جن و انس کے علاوہ ہر کوئی

سنتا ہے ‘‘، یہ بھی بالکل صحیح بات ہے عالم برزخ میں زندہ جن و انس تو ہوتے ہی نہیں کہ وہ اس چیخ کو سن سکیں۔

کیا مٹی سے بنا یہ مردہ جسم سنتا اور بولتا ہے؟

اگر یہ فرقہ پرست کہتے ہیں کہ نہیں یہ یہاں ہی کا معاملہ ہے اس زمین میں اسی جسم سے حساب لیا جاتا ہے تو پھر سوال یہ اٹھتا ہے کہ قرآن نے واضح انداز میں فرما دیا کہ مردے نہیں سنتے اس کا کیا ہوگا ؟ کیا قرآن کا انکار کردیا جائے !

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :

اِنَّمَا يَسْتَجِيْبُ الَّذِيْنَ يَسْمَعُوْنَ١ؔؕ وَ الْمَوْتٰى يَبْعَثُهُمُ اللّٰهُ ثُمَّ اِلَيْهِ يُرْجَعُوْنَؐ

[الأنعام: 36]

’’بات تو وہی مانیں گے جو سنتے سمجھتے ہیں رہے یہ مردے تو اللہ ان کو اٹھائے گا پھر یہ اسی کی طرف لوٹائے جائیں گے ‘‘۔

يُوْلِجُ الَّيْلَ فِي النَّهَارِ وَ يُوْلِجُ النَّهَارَ فِي الَّيْلِ١ۙ وَ سَخَّرَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ١ۖٞ كُلٌّ يَّجْرِيْ لِاَجَلٍ مُّسَمًّى١ؕ ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمْ لَهُ الْمُلْكُ١ؕ وَ الَّذِيْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ مَا يَمْلِكُوْنَ مِنْ قِطْمِيْرٍؕ۰۰۱۳اِنْ تَدْعُوْهُمْ لَا يَسْمَعُوْا دُعَآءَكُمْ١ۚ وَ لَوْ سَمِعُوْا مَا اسْتَجَابُوْا لَكُمْ١ؕ وَ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ يَكْفُرُوْنَ بِشِرْكِكُمْ١ؕ وَ لَا يُنَبِّئُكَ مِثْلُ خَبِيْرٍؒ۰۰۱۴

[فاطر: 13-14]

’’ اور لوگ جنہیں پکارتے ہیں اللہ کے علاوہ ( وہ ) ایک قطمیر ( کھجور کی گھٹلی پر چڑھا ہوا غلاف ) کے بھی مالک نہیں، اگر تم انہیں پکارو یہ تمہاری پکار نہیں سنتے، اور اگر کہیں سن بھی لیں تو تمہارے کسی کام نہیں آ سکتے، اور قیامت کے دن تمہارے شرک کا انکار کریں گے، اور تمہیں اس کی خبر دینے والا کوئی نہیں سوا ( اللہ ) سب کچھ جاننے والے کے۔‘‘

اللہ تعالیٰ نے اس فعل کو گمراہ ترین فعل فرمایا :

وَ مَنْ اَضَلُّ مِمَّنْ يَّدْعُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَنْ لَّا يَسْتَجِيْبُ لَهٗۤ اِلٰى يَوْمِ الْقِيٰمَةِ وَ هُمْ عَنْ دُعَآىِٕهِمْ غٰفِلُوْنَ۰۰۵

[الأحقاف: 5]

’’ اور اس شخص سے بڑھ کر گمراہ کون ہو سکتا ہے جو اللہ کے سوا ان لوگوں کو پکارتا ہے جو قیامت تک اس کی داد رسی نہیں کر سکتے۔ وہ تو ان کی پکار ہی سے غافل ہیں۔‘‘

سننے کی نفی کے ساتھ ساتھ قرآن مردے کے بولنے کی بھی نفی کرتا ہے، ملاحظہ فرمائیں :

وَ لَوْ اَنَّنَا نَزَّلْنَاۤ اِلَيْهِمُ الْمَلٰٓىِٕكَةَ وَ كَلَّمَهُمُ الْمَوْتٰى وَ حَشَرْنَا عَلَيْهِمْ كُلَّ شَيْءٍ قُبُلًا مَّا كَانُوْا لِيُؤْمِنُوْۤا اِلَّاۤ اَنْ يَّشَآءَ اللّٰهُ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ يَجْهَلُوْنَ۰۰۱۱۱

[الأنعام: 111]

’’اور اگر ہم ان کے پاس فرشتوں کو بھیج دیتے اور ان سے مردے باتیں کرنے لگتے اور ہم تمام موجودات کو ان کے پاس ان کی آنکھوں کے روبرو ﻻ کر جمع کر دیتے ہیں تب بھی یہ لوگ ہرگز ایمان نہ ﻻتے ہاں اگر اللہ ہی چاہے تو اور بات ہے لیکن ان میں زیاده لوگ جہالت کی باتیں کرتے ہیں۔

وَ لَوْ اَنَّ قُرْاٰنًا سُيِّرَتْ بِهِ الْجِبَالُ اَوْ قُطِّعَتْ بِهِ الْاَرْضُ اَوْ كُلِّمَ بِهِ الْمَوْتٰى ١ؕ بَلْ لِّلّٰهِ الْاَمْرُ جَمِيْعًا١ؕ اَفَلَمْ يَايْـَٔسِ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْۤا اَنْ لَّوْ يَشَآءُ اللّٰهُ لَهَدَى النَّاسَ جَمِيْعًا١ؕ وَ لَا يَزَالُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا تُصِيْبُهُمْ بِمَا صَنَعُوْا قَارِعَةٌ اَوْ تَحُلُّ قَرِيْبًا مِّنْ دَارِهِمْ حَتّٰى يَاْتِيَ وَعْدُ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُخْلِفُ الْمِيْعَادَؒ۰۰۳۱

[الرعد: 31]

’’اگر (بالفرض) کسی قرآن (آسمانی کتاب) کے ذریعے پہاڑ چلا دیئے جاتے یا زمین ٹکڑے ٹکڑے کر دی جاتی یا مردوں سے باتیں کرا دی جاتیں (پھر بھی وه ایمان نہ ﻻتے)، بات یہ ہے کہ سب کام اللہ کے ہاتھ میں ہے، تو کیا ایمان والوں کو اس بات پر دل جمعی نہیں کہ اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو تمام لوگوں کو ہدایت دے دے۔ کفار کو تو ان کے کفر کے بدلے ہمیشہ ہی کوئی نہ کوئی سخت سزا پہنچتی رہے گی یا ان کے مکانوں کے قریب نازل ہوتی رہے گی تاوقتیکہ وعدہٴ الٰہی آپہنچے۔ یقیناً اللہ تعالیٰ وعده خلافی نہیں کرتا۔‘

سننے اور بولنے کے بعد دیکھیں قرآن بتاتا ہے کہ مردہ کسی قسم کا کوئی شعور ہی نہیں رکھتا :

اَوْ كَالَّذِيْ مَرَّ عَلٰى قَرْيَةٍ وَّ هِيَ خَاوِيَةٌ عَلٰى عُرُوْشِهَا١ۚ قَالَ اَنّٰى يُحْيٖ هٰذِهِ اللّٰهُ بَعْدَ مَوْتِهَا١ۚ فَاَمَاتَهُ اللّٰهُ مِائَةَ عَامٍ ثُمَّ بَعَثَهٗ١ؕ قَالَ كَمْ لَبِثْتَ١ؕ قَالَ لَبِثْتُ يَوْمًا اَوْ بَعْضَ يَوْمٍ١ؕ قَالَ بَلْ لَّبِثْتَ مِائَةَ عَامٍ فَانْظُرْ اِلٰى طَعَامِكَ وَ شَرَابِكَ لَمْ يَتَسَنَّهْ١ۚ وَ انْظُرْ اِلٰى حِمَارِكَ وَ لِنَجْعَلَكَ اٰيَةً لِّلنَّاسِ وَ انْظُرْ اِلَى الْعِظَامِ كَيْفَ نُنْشِزُهَا ثُمَّ نَكْسُوْهَا لَحْمًا١ؕ فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهٗ١ۙ قَالَ اَعْلَمُ اَنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ۰۰۲۵۹

[البقرة: 259]

’’یا اس شخص کے مانند کہ جس کا گزر اس بستی پر ہوا جو چھت کے بل اوندھی پڑی ہوئی تھی، وه کہنے لگا اس کی موت کے بعد اللہ تعالیٰ اسے کس طرح زنده کرے گا؟ تو اللہ تعالی نے اسے سو سال کے لئے موت دے دی، پھر اسے اٹھایا، پوچھا کتنی مدت تجھ پر گزری؟ کہنے لگا ایک دن یا دن کا کچھ حصہ، فرمایا بلکہ تو سو سال تک رہا، پھر اب تو اپنے کھانے پینے کو دیکھ کہ بالکل خراب نہیں ہوا اور اپنے گدھے کو بھی دیکھ، ہم تجھے لوگوں کے لئے ایک نشانی بناتے ہیں تو دیکھ کہ ہم ہڈیوں کو کس طرح اٹھاتے ہیں، پھر ان پر گوشت چڑھاتے ہیں، جب یہ سب ظاہر ہو چکا تو کہنے لگا میں جانتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے۔‘‘

سورہ نحل میں فرمایا :

اَمْوَاتٌ غَيْرُ اَحْيَآءٍ١ۚ وَ مَا يَشْعُرُوْنَ١ۙ اَيَّانَ يُبْعَثُوْنَؒ۰۰۲۱

[النحل: 21]

’’مردہ ہیں، زندگی کی رمق نہیں، اور نہیں شعور رکھتے کہ کب اٹھائے جائیں گے‘‘۔

معلوم ہوا کہ مردہ جسم نہ سنتا ہے ، نہ بولتا ہے اور نہ ہی کسی قسم کا شعور رکھتا ہے تو اس سے سوال و جواب کیسے ؟اسے جزا و عذاب دینا کیسا ؟ یہ سارا معاملہ جنت و جہنم کا ہے جہاں ہر ایک کی روح جاتی ہے اور اسے ایک

جسم دیا جاتا ہے اسی مجموعے سے سوال و جواب ہوتا اور اسی کو راحت قبر یا عذاب قبر کا نام دیا جاتا ہے۔

ہندو، کمیونسٹ، سوشلسٹ اپنے مردے جلا دیتے ہیں؟ پارسی مجوسی اپنے مردے پرندوں کو کھلا دیتے ہیں سوچیں اگر اسی زمین پر سوال و جواب اور عذاب و راحت ملتا ہے تو یہ سب تو اس سے بچ گئے، مارے تو وہ بیچارے گئے جو اپنے مردے اس زمین میں دفن کرتے ہیں۔ البتہ اس بات کی بھی کوئی ضمانت نہیں ہے کہ جس مردہ جسم کو یہ چھ فٹ کی قبر ملتی بھی ہے اس کا مردہ جسم قیامت تک اس قبر تک محدود رہے ۔ کیڑے مکوڑے کھا کھا کر اسے اس قبر سے دور نہیں لے جائیں گے۔

جیسا کہ پہلے بتایا کہ مسلک پرست اس حدیث کو کس طرح برہان قاطعہ کے طور پیش کرتے ہیں لیکن حقیقت کیا ہے وہ آپ کو پچھلی پوسٹ میں اندازہ ہوگیا ہوگا۔ اس پوسٹ میں ہم آپ کو یہ دکھانا چاہتے ہیں کہ حقیقت میں ان کا قرآن و حدیث سے کتنا تعلق ہے اور ان کے کتنے منہ ہیں۔قرآن و حدیث مردے کے سماع کی مکمل نفی کرتے ہیں لیکن یہ مسلک پرست جوتیوں کی چاپ سننے کی جو توجیہات اس موقف کے خلاف پیش کرتے ہیں ،وہ اس طرح ہیں:

’’۔۔۔ان آیات مذکورہ کے سوا اور بھی آیات ہیں جن سے مردوں کا عدم سماع ثابت ہوتاہے اور بجز حدیث قرع نعال سے مردوں کا ایک خاص وقت میں سننا ثابت ہوتا ہے جس وقت مردہ قبر میں نکیرین کے سوال کے جواب دینے کے لیے زندہ کردیا جاتا ہے اور اس وقت مردہ مردہ نہیں رہتا‘‘۔ (فتاوئے نذیریہ،ازمیاں نذیر حسین، بانی فرقہ اہلحدیث، حصہ اوّل، صفحہ ۶۷۰)

’’البتہ اس حدیث کے جواب میں اشکال واقع ہوتا ہے کہ مردہ واپس جانے والوں کی جوتیوں کی آواز بھی سنتا ہے تو اس کو بھی اوّل وقت کے ساتھ مخصوص کیا گیا ہے کہ جب منکر و نکیر قبر میں سوال کرنے کے لیے آتے ہیں اس وقت روح لوٹائی جاتی ہے اس وقت سن بھی لیتا ہے‘‘۔

( ایضاً صفحہ ۶۷۲)

دوسرا اہلحدیث مفتی کہتا ہے:

’’سوال و جواب کے وقت روح کو بھی قبر کی طرف لوٹایا جاتا ہے‘‘۔ (عقیدہ عذاب قبر،از ابو جابر عبد اﷲ دامانوی ، صفحہ ۲۷)

عالم فرقہ عبد الرحمن کیلانی فرماتے ہیں:

’’اب مشکل یہ ہے کہ مردہ کے جوتوں کی چاپ سننے کا واقعہ بخاری کے علاوہ بھی دوسری کتب صحاح میں جہاں بھی مذکور ہے تو ساتھ ہی منکر نکیر کے آنے اور سوال و جواب کا ذکر شروع ہوجاتا ہے۔گویا منکر و نکیر کے آنے سے تھوڑی دیر پہلے اس کی روح علیّن یا سجّین سے لوٹا کر اسے ہوش میں لایا جاتا ہے،تاکہ سوالوں کا جواب دے سکے‘‘۔ ( روح،عذاب قبر اور سماع موتیٰ، از عبد الرحمن کیلانی، صفحہ ۵۱)

اس مسئلے پر اہل تشیع بھی ان کے ہم عقیدہ ہیں:

’’۔۔۔ احادیث معتبرہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ قبر میں سوال و جواب اور فشارِ قبر اسی بدن اصلی سے جو دنیا میں تھا متعلق ہوگا اور روح تمام بدن یا جسم کے کچھ حصے میں ( یعنی سینے تک، یا کمر تک جیسا کہ احادیث میں ہے) پلٹائی جاتی ہے تاکہ میت کو خطاب سوال کے سمجھنے اور جواب دینے پر قدرت حاصل ہوجائے‘‘۔ (معاد،ازآیت اﷲ عبد الحسین، صفحہ ۴۰،۴۱)

بحیثیت ایک مومن ہمارا عقیدہ ہے کہ اﷲ کے سچے رسول محمدﷺ کسی صورت میں بھی قرآن کے بیان کردہ عقیدے کے انکار میں کوئی بات کہہ ہی نہیں سکتے تھے۔ لیکن بانی فرقہ اہلحدیث ، فرماتے ہیں:

’’ان آیات مذکورہ کے سوا اور بھی آیات ہیں جن سے مردوں کا عدم سماع ثابت ہوتاہے اور بجز حدیث قرع نعال سے مردوں کا ایک خاص وقت میں سننا ثابت ہوتا ہے‘‘

غورکیجیے !خود تسلیم کرتے ہیں کہ قرآن سے مردے کا عدم سماع ثابت ہے۔ جب قرآن سے مردے کا عدم سماع ثابت ہے تو پھر کیسے یہ عقیدہ رکھا جا سکتا ہے کہ نبیﷺ کی حدیث سے مردے کا سماع ثابت ہو جائے گا! سوال جواب ،اٹھانا بٹھانا یہ سارا معاملہ عالم برزخ کا ہے، اس زمینی قبر سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔قرآن و حدیث کے دلائل پر تو ان کا دل مطمئن ہوتا ہی نہیں ،لیکن کیا اپنے ہی فرقے کے ’’عالم‘‘ کے اس اعترافِ حقیقت کو بھی جھٹلا دیں گے۔ ملاحظہ فرمایئے:

’’میت کے لئے قدموں کی آواز اپنے اندر یہ عبرت ناک حکمت لئے ہوئے ہے کہ ہائے اس بے چارے کو یکہ و تنہا چھوڑ کر سب چلے گئے ۔۔۔اتنا خیال رہنا چاہیے کہ اس سماع کا مردے کے دفن شدہ جسم سے کوئی تعلق نہیں جیسا کہ اکثر اہل دیوبند کاخیال ہے۔ ورنہ اسکو بٹھانے، قبر کو کشادہ کرنے یا پسلیوں کے آرپار ہونے ننانوے سانپوں کے ڈسنے اور عذاب و ثواب کے دیگر احوال کو بھی جسمانی حقیقت پر معمول کرنا پڑیگا مگر اس کا قائل ہونا مشکل ہے۔ روزمرہ کا تجربہ اسکی تغلیط کرتا ہے جیسا کہ آگے چل کر واضح ہوگا‘‘۔( قبر پرستی اور سماع موتیٰ،از محمد قاسم خواجہ،صفحہ ۷۲)

’’ جہاں تک قبر میں فرشتوں کے آنے، روح کو لوٹانے ،میت کو بٹھانے ،سوال و جواب کرنے، قبر کو کشادہ یا تنگ یا عذاب و ثواب کا تعلق ہے، تو گذارش ہے کہ یہاں قبر سے مراد یہ مٹی کی قبر نہیں ،یہ کوئی اور جہاں ہے جسے آپ عالم ارواح یا عالم مثال یا عالم برزخ کہہ سکتے ہیں‘‘۔

(کراچی کا عثمانی مذہب، از محمد قاسم خواجہ ، اہلحدیث صفحہ ۸۷)

’’یہ ساری مصیبت اس لئے کھڑی ہوئی ہے کہ برزخی احوال کے بارے میں بیان شدہ احادیث کو دنیوی احوال پر منطبق کر لیا گیا ہے‘‘۔ (ایضاً صفحہ ۸۹)

دیکھیں ،اﷲ تعالیٰ نے کس انداز میں خود انہی کے قلم سے قرآن و حدیث کی سچی بات نکلوادی، لیکن یہ ان کے چہرے کا دوسرارخ ہے۔

اپنی دوسری کتاب میں یہی موصوف فتعاد روحہ فی جسد اور انہ یسمع قرع نعالھم کی روایات کو بنیاد بناتے ہوئے اپنا دوسرا رخ دکھاتے ہیں:

’’۔۔۔ یہ دونوں حدیثیں یکساں طور پر بظاہر قبر کی زندگی پر دلالت کرتی ہیں۔‘‘ (کراچی کا عثمانی مذہب:صفحہ ۴۶)

نبی ﷺکے خچرکے بدکنے والی روایت کی بنیاد پر لکھتے ہیں:

’’اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان قبروں کے بیچ میں ضرور کچھ ہوتا ہے۔۔۔‘‘(ایضاًصفحہ ۵۶)

مزید فرماتے ہیں:

’’ ابو سعید خدریؓ کی جنازہ والی روایت مذکورہ بالاسے یہ بھی معلوم ہوا کہ مٹی کی قبر کے ساتھ میت کا گہرا تعلق ہے‘‘۔( ایضاًصفحہ ۵۷)

دو ٹہنیوں والی حدیث کی بناء پر انہوں نے استخراج کیا ہے کہ

اس سے معلوم ہوا کہ حضورؐ نے مٹی کی قبروں سے عذاب محسوس فرمایا اور تخفیف کے لیے مٹی کی قبروں پر ہی شاخیں گاڑدیں‘‘۔ (ایضاً)

ایک اور روایت لکھ کر کہتے ہیں:

’’ معلوم ہوا زمین کو جزا و سزا میں کچھ دخل ہے‘‘۔(ایضاً)

بریلویانہ انداز میں مزید خامہ فرسائی فرماتے ہیں:

’’ میں پوچھتا ہوں قبرستان میں کچھ نہیں ہوتا تو وہاں جاکر دعا اور استغفار کا کیا مطلب؟‘‘ (صفحہ ۵۸)

ع بدلتا ہے رنگ آسمان کیسے کیسے!

ملاحظہ فرمائی ان کی ذو الوجہین شخصیت! کیسے دورخے ہیں! زبان کی ایک کروٹ سے کچھ کہتے ہیں اوردوسری سے کچھ! ایک طرف جوتیوں کی چاپ سننے والی روایت کے بارے میں کہتے ہیں کہ یہاں قبر سے مراد مٹی کی قبر نہیں،یہ کوئی اور جہاں ہے ۔دوسری طرف کہتے ہیں کہ’’ یہ قبر میں زندگی پر دلالت کرتی ہے‘‘!ایک طرف کہتے ہیں :’’ معلوم ہوا زمین کو جزا و سزا میں کچھ دخل ہے‘‘، دوسری طرف ان کا بیان ہے کہ ’’یہ ساری مصیبت اس لئے کھڑی ہوئی ہے کہ برزخی احوال کے بارے میں بیان شدہ احادیث کو دنیوی احوال پر منطبق کر لیا گیا ہے‘‘۔ اس موقع پر قرآن کی یہ آیت ان پرپوری طرح صادق آتی ہے کہ

يُخٰدِعُوْنَ اللّٰهَ وَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا١ۚ وَ مَا يَخْدَعُوْنَ اِلَّاۤ اَنْفُسَهُمْ وَ مَا يَشْعُرُوْنَؕ۰۰۹

[البقرة: 9]

’’اللہ کو اور ایمان والوں کو دھوکا دیتے ہیں، حالانکہ وہ خود اپنے آپ کو دھوکہ دے رہے ہیں اور وہ اس کا شعور نہیں رکھتے ‘‘

دراصل پہلے ڈاکٹر عثمانی رحمہ اللہ کے قرآن و حدیث پر مبنی دلائل کو رد کرنا تھا کیونکہ وہ ان کے فرقے کوباطل پرست ثابت کر رہے تھے،اس لیے لفاظی کرتے ہوئے زبانِ مسموم سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ اسی زمینی قبر میں سب کچھ ہوتا ہے۔ پھرجب بات ہوئی اپنے حریف حنفیوں کو ہرانے کی، تو خود وہی سب کچھ لکھ ڈالاجو ڈاکٹر صاحب رحمۃ اﷲعلیہ نے قرآن و حدیث سے ثابت کیا تھا۔شاید یہ لوگ دوغلا پن کسی اور چیز کو کہتے ہیں؟

یہ سب قبر کے اس مردے کو لازمی زندہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کیونکہ احمد بن حنبل نے لکھ دیا کہ روح لوٹا دی جاتی ہے، ابن تیمیہ اور ابن قیم نے اس کوشعور و ادراک والا بیان کردیا اسی لئے تو

بانی فرقہ اہلحدیث فرماتے ہیں :’’۔۔۔ اس وقت مردہ مردہ نہیں رہتا‘‘اس پر ہم صرف قرآن کی یہ آیت ہی پڑھ سکتے ہیں کہ:

قُلْ بِئْسَمَا يَاْمُرُكُمْ بِهٖۤ اِيْمَانُكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَ

[البقرة: 93]

)’’ ان سے) کہو کہ تمہارا ایمان تو تمہیں بہت ہی برا حکم دے رہا ہے،اگر تم (واقعی) مومن ہو‘

جانور عذاب قبر سنتے ہیں :

الحمد للہ اس مالک کا صد لاکھ کرم کہ جس نے اپنے نازل کردہ کے ذریعے بات کو واضح کردیا کہ انسان کی وفات کے اگلے لمحے ہی اس کی آخرت شروع اور اس کی روح کوجنت میں راحت ملنا یا جہنم میں عذاب شروع ہوجاتا ہے۔ لیکن افسوس کہ فرقوں سے وابستہ ان مسلک پرستوں نے قرآن و حدیث کے خلاف عقائد دے کر اس معاملے کو مشتبہ بنانے کی کوشش کی اور مختلف احادیث کے غلط معنی بیان کرکے اس دنیاوی قبر میں عذاب ثابت کرنے کی کوشش کی۔

اسی کوشش میں احادیث کے مختلف الفاظ کو پکڑ کر اپنے فرقے کے عقیدے کو ثابت کرنے کی کوشش کی، جیسا کہ بیان کیا جاتا ہے کہ عذاب اسی زمینی قبر میں ہوتا ہے اور اسے چوپائے بھی سنتے ہیں۔ لہذا ضرورت ہے کہ ان معاملات کی حقیقت لوگوں کے سامنے واضح کی جائے۔

اس بارے میں حدیث پیش کی جاتی ہے:

عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: دَخَلَتْ عَلَيَّ عَجُوزَانِ مِنْ عُجُزِ يَهُودِ المَدِينَةِ، فَقَالَتَا لِي: إِنَّ أَهْلَ القُبُورِ يُعَذَّبُونَ فِي قُبُورِهِمْ، فَكَذَّبْتُهُمَا، وَلَمْ أُنْعِمْ أَنْ أُصَدِّقَهُمَا، فَخَرَجَتَا، وَدَخَلَ عَلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ لَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ عَجُوزَيْنِ، وَذَكَرْتُ لَهُ، فَقَالَ: «صَدَقَتَا، إِنَّهُمْ يُعَذَّبُونَ عَذَابًا تَسْمَعُهُ البَهَائِمُ كُلُّهَا» فَمَا رَأَيْتُهُ بَعْدُ فِي صَلاَةٍ إِلَّا تَعَوَّذَ مِنْ عَذَابِ القَبْرِ

( بخاری ، کتاب الدعوات ، بَابُ التَّعَوُّذِ مِنْ عَذَابِ القَبْرِ )

’’عائشہ ؓ کہتی ہیں، کہ میرے پاس یہود مدینہ کی دو بوڑھی عورتیں آئیں ان دونوں نے مجھ سے کہا، کہ قبر والے اپنی قبروں میں عذاب دیئے جاتے ہیں تو میں نے ان کی تکذیب کی اور اچھا نہیں سمجھا کہ ان کی تصدیق کروں، چنانچہ وہ دونوں چلی گئیں، پھر میرے پاس نبی ﷺتشریف لائے، میں نے آپ سے عرض کیا کہ یا رسول اللہ دو بوڑھی عورتیں آئی تھیں اور آپ سے سارا واقعہ بیان کیا۔ آپ نے فرمایا ان دونوں نے ٹھیک کہا، بیشک (لوگ) قبروں میں عذاب دیئے جاتے ہیں جنہیں تمام چوپائے سنتے ہیں، چنانچہ اس کے بعد میں نے آپ کو ہر صلاۃ میں عذاب قبر سے پناہ مانگتے ہوئے دیکھا۔‘‘

انس ؓ بیان کرتے ہیں :

عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ عَلَى بَغْلَةٍ شَهْبَاءَ، فَمَرَّ عَلَى حَائِطٍ لِبَنِي النَّجَّارِ، فَإِذَا هُوَ بِقَبْرٍ يُعَذَّبُ صَاحِبُهُ، فَحَاصَتِ الْبَغْلَةُ، فَقَالَ: ” لَوْلَا أَنْ لَا تَدَافَنُوا، لَدَعَوْتُ اللهَ أَنْ يُسْمِعَكُمْ عَذَابَ الْقَبْرِ “

( مسند احمد، مسند المکثرین من الصحابہ، مسند انس بن مالک ؓ )

’’انس بن مالکؓ سے مروی کہ ایک مرتبہ نبیﷺ اپنے سفید خچر پر سوار مدینہ منورہ میں بنو نجار کے کسی باغ سے گذرے، وہاں کوئی قبر تھی ، قبر والے کو عذاب ہو رہا تھا ، ، چنانچہ خچر بدک گیا، نبیﷺ نے فرمایا اگر تم لوگ اپنے مردوں کو دفن کرنا چھوڑ نہ دیتے تو میں اللہ سے یہ دعاء کرتا کہ وہ تمہیں بھی عذاب قبر کی آواز سنادے۔‘‘

اسی حوالے سے مختلف الفاظ کیساتھ انس ؓ یہ حدیث بھی بیان کرتے ہیں:

أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ قَالَ: مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحَائِطٍ لِبَنِي النَّجَّارِ، فَسَمِعَ صَوْتًا مِنْ قَبْرٍ فَقَالَ: ” مَتَى مَاتَ صَاحِبُ هَذَا الْقَبْرِ؟ ” قَالُوا: مَاتَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ. فَقَالَ: ” لَوْلَا أَنْ لَا تَدَافَنُوا، لَدَعَوْتُ اللهَ أَنْ يُسْمِعَكُمْ عَذَابَ الْقَبْرِ “أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ قَالَ: مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحَائِطٍ لِبَنِي النَّجَّارِ، فَسَمِعَ صَوْتًا مِنْ قَبْرٍ فَقَالَ: ” مَتَى مَاتَ صَاحِبُ هَذَا الْقَبْرِ؟ ” قَالُوا: مَاتَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ. فَقَالَ: ” لَوْلَا أَنْ لَا تَدَافَنُوا، لَدَعَوْتُ اللهَ أَنْ يُسْمِعَكُمْ عَذَابَ الْقَبْرِ “

( مسند احمد، مسند المکثرین من الصحابہ، مسند انس بن مالک ؓ )

’’ انس ؓ سے روایت ہے کہ ہم گزرے بنو نجار کے باغ سے، ایک آواز سنی، نبیﷺ نے فرمایا یہ کیا؟ ، ہم نے جواب دیا ایک شخص کی قبر ہے جو جاہلیت میں مرا، نبی ﷺ نے فرمایا: اگر تم لوگ اپنے مردوں کو دفن کرنا چھوڑ نہ دیتے تو میں اللہ سے یہ دعاء کرتا کہ وہ تمہیں بھی عذاب قبر کی آواز سنادے۔‘‘

ان روایات سے دو باتیں سامنے آتی ہیں :

1) چوپائے عذاب قبر سنتے ہیں۔

2) ’’اگر تم لوگ اپنے مردوں کو دفن کرنا چھوڑ نہ دیتے تو میں اللہ سے یہ دعاء کرتا کہ وہ تمہیں بھی عذاب قبر کی آواز سنادے۔‘‘

یہ فرقہ پرست۔ ۔ ۔ ’’قبر والے اپنی قبروں میں عذاب دئیے جاتے ہیں ،ایسا عذاب جسے جانور سنتے ہیں ‘‘۔ ۔ ۔ پیش کرکے یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ عذاب قبر اسی دنیاوی زمینی قبر میں ہوتا ہے ۔ بخاری کی روایت میں یہ الفاظ پڑھ کر تو یہ گویا پاگل ہی ہو جاتے ہیں کہ ان کا جھوٹا عقیدہ تو اب ثابت ہوہی ہوگیا۔ حقیقت یہ ہے کہ یہودی عورتوں کی آمد اور صلوٰۃ الکسوف کی روایات عائشہ رضی اﷲسے چارطرق سے آئی ہیں۔ تین طرق سے آنی والی روایات میں یہ الفاظ نہیں ملتے۔ البتہ مسروق رحمۃ اﷲعلیہ کے طرق سے آنے والی بعض روایات میں مختلف تبدیلیوں کے ساتھ یہ الفاظ ملتے ہیں۔ اس واقعہ کی تمام تر روایات جمع کر لی جائیں تو بھی کسی ایک سے یہ ثابت نہ ہوگا کہ نبی ﷺ کا اشارہ اسی زمینی قبر کی طرف ہے۔ اگرعذاباً تسمعہ البھآئم ’’ ایسا عذاب جو چوپائے بھی سنتے ہیں ‘‘ کی بنیاد پر کوئی عقیدہ بنایا جائے گا تو اس کا تعلق اسی دنیاوی زمینی قبر سے ہوگا یا پھراس مقام سے جہاں نبیﷺ نے یہ عذاب ہوتے ہوئے خوددیکھے؟

یہاں ہم دو طویل احادیث سے چند حوالے پیش کر رہے ہیں کہ نبیﷺ نے تو خود عذاب قبر ہوتے دیکھا، کیا دیکھا اور کہاں دیکھا، ملاحظہ فرمائیں :

عمرو بن لحی وہ شخص تھا کہ جس نے عرب میں بتوں کے نام پر جانور چھوڑنے کی رسم رائج کی تھی، نبی ﷺ نے اسکے متعلق فرمایا:

رَأَيْتُ جَهَنَّمَ يَحْطِمُ بَعْضُهَا بَعْضًا وَرَأَيْتُ عَمْرًا يَجُرُّ قُصْبَهُ وَهْوَ أَوَّلُ مَنْ سَيَّبَ السَّوَائِبَ

( عن عائشہ ؓ ، بخاری، کتاب العمل فی الصلاۃ ، بَابُ إِذَا انْفَلَتَتْ الدَّابَّةُ فِي الصَّلاَةِ)

”میں نے جہنم کو دیکھا کہ اسکا ایک حصہ دوسرے کو برباد کر رہا تھا اور اس میں عمرو بن لحی کو دیکھا وہ اپنی آنتیں کھینچ رہا تھا۔“”میں نے جہنم کو دیکھا کہ اسکا ایک حصہ دوسرے کو برباد کر رہا تھا اور اس میں عمرو بن لحی کو دیکھا وہ اپنی آنتیں کھینچ رہا تھا۔“

ابو ثمامۃ عمرو بن دینار کیلئے فرمایا

وَرَأَيْتُ أَبَا ثُمَامَةَ عَمْرَو بْنَ مَالِکٍ يَجُرُّ قُصْبَهُ فِي النَّارِ

( عن جابر بن عبد اللہ ؓ ، مسلم ، کتاب الکسوف ، باب ما عرض على النبي صلى الله عليه وسلم في صلاة الكسوف من أمر الجنة والنار)

”اور میں نے دیکھا ابو ثمامۃ کو جہنم میں اپنی آنتیں کھینچ رہا تھا۔“

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «عُذِّبَتِ امْرَأَةٌ فِي هِرَّةٍ حَبَسَتْهَا حَتَّى مَاتَتْ جُوعًا، فَدَخَلَتْ فِيهَا النَّارَ» قَالَ: فَقَالَ: وَاللَّهُ أَعْلَمُ: «لاَ أَنْتِ أَطْعَمْتِهَا وَلاَ سَقَيْتِهَا حِينَ حَبَسْتِيهَا، وَلاَ أَنْتِ أَرْسَلْتِهَا، فَأَكَلَتْ مِنْ خَشَاشِ الأَرْضِ»

( عن عبد اللہ بن عمر ؓ ، بخاری، کتاب المساقاۃ ، بَابُ فَضْلِ سَقْيِ المَاءِ )

”ایک عورت جہنم میں داخل کردی گئی ا س وجہ سے کہ اس نے بلی کو باندھ کے رکھا ہو ا تھا نہ اسکو کھانے کیلئے کچھ دیا اور نہ ہی اسکو کھلا چھوڑا کہ وہ کیڑے وغیرہ کھا لیتی یہاں تک کہ وہ مر گئی۔“

بخاری میں بیان کردہ سمرہ بن جندب والی طویل حدیث کاکچھ حصہ:

’’ ۔ ۔ ۔ ۔ نبی ﷺ نے ( دونوں فرشتوں سے )فرمایا میں نے ان سے کہا تم دونوں مجھے رات بھر گھماتے رہے ہو اب بتاؤ کہ میں نے جو کچھ دیکھا وہ سب کیا ہے؟ دونوں نے کہا بہتر وہ جس کو آپؐ نے دیکھا کہ اسکے گلپھڑے پھاڑے جارہے تھے وہ کذاب تھا جھوٹی باتیں بیان کرتا تھا اور لوگ اس بات کو لے اڑتے تھے یہاں تک کہ ہر طرف اسکا چرچا ہوتا تھا فَيُصْنَعُ بِهِ إِلَی يَوْمِ الْقِيَامَةِ تو اسکے ساتھ جو آپ ؐ نے ہوتے دیکھا وہ قیامت تک ہوتا رہیگا

اور جسکو آ پؐ نے دیکھا کہ اسکا سر کچلا جارہا تھا یہ وہ شخص تھا کہ جسکو اللہ تعالی نے قرآن کا علم دیا تھا لیکن وہ رات کو قرآن سے غافل سوتا رہا اور دن میں اسکے مطابق عمل نہ کیا يُفْعَلُ بِهِ إِلَی يَوْمِ الْقِيَامَةِ یہ عمل اسکے ساتھ قیامت تک ہوتا رہیگا۔ اور جنکو آپؐ نے نقب میں دیکھا وہ زناکار تھے اور جسکو آپؐ نے نہر میں دیکھا وہ سود خور تھا ۔

( عن سمرۃ بن جندب ؓ، بخاری، کتاب الجنائز ، بَابُ مَا قِيلَ فِي أَوْلاَدِ المُشْرِكِينَ )

ملاحظہ فرمایا : نبی ﷺ عذاب قبر تو جہنم میں ہوتے دیکھ رہے ہیں اور عقیدہ یہ دیں گے کہ اس زمینی قبر میں ہوتا ہے؟ اللہ تعالیٰ آل فرعون، قوم نوح علیہ السلام ، ازواج لوط و نوح علیہما السلام کو قرآن میں جہنم میں عذاب ہونے کا عقیدہ بیان کر رہا ہے اور جانوروں کو زمینی قبر کا عذاب سنوائے گا ؟

فَاِنَّهَا لَا تَعْمَى الْاَبْصَارُ وَ لٰكِنْ تَعْمَى الْقُلُوْبُ الَّتِيْ فِي الصُّدُوْرِ

[الحج: 46]

’’بات یہ ہے کہ آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں بلکہ وہ دل جو سینے میں ہیں وہ اندھے ہوتے ہیں‘‘۔

قرآن اور حدیث کا پورا بیان پڑھ جائیے مرنے کے بعد صرف روح کو ملنے والی جزا یا سزا کا بیان ہے کہیں بھی اس جسم کو ملنے والی جزا یا سزا کا بیان نہیں، بلکہ بتایا گیا کہ یہ جسم تو گل سڑ جاتا ہے ، لیکن افسوس کہ ان کے دل ہی اندھے ہوگئے اور امت میں غلط عقائد پھیلا کر اپنے فرقے

کا دفاع تو کر رہے ہیں لیکن ساتھ ہی اپنی آخرت بھی تباہ کر رہے ہیں ۔ کیا اللہ تعالیٰ جہنم میں ہونے والا عذاب یہاں سنا نہیں سکتا ؟ یہ حدیث ملاحظہ فرمائیے۔

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذْ سَمِعَ وَجْبَةً، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَدْرُونَ مَا هَذَا؟» قَالَ: قُلْنَا: اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: «هَذَا حَجَرٌ رُمِيَ بِهِ فِي النَّارِ مُنْذُ سَبْعِينَ خَرِيفًا، فَهُوَ يَهْوِي فِي النَّارِ الْآنَ، حَتَّى انْتَهَى إِلَى قَعْرِهَا»

( مسلم، الجنتہ و صفۃ نعیمھا و اھلھا )

’’ ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کیساتھ تھے کہ ایک گڑگراہٹ کی آواز سنائی دی تو نبیﷺ نے فرمایا کہ تم جانتے ہو یہ کیا ہے ؟ ہم نے عرض کیا اللہ اور اس کا رسول ہی زیادہ جانتے ہیں، نبیﷺ نے فرمایا : یہ ایک پتھر ہے جو کہ ستر سال قبل جہنم میں پھینکا گیا تھا ، وہ لگاتار جہنم میں گر رہا تھا یہاں تک اب وہ تہہ میں پہنچا ہے‘‘۔

جس طرح جہنم میں پھینکے جانے والے پتھر کی آواز نبی ﷺ اور صحابہ ؓ کو سنوا دی گئی اسی طرح نبیﷺ کو عالم برزخ میں ہونے والے عذاب کی آواز بھی سنوادی جاتی ہوگی، جب نبی ﷺ کو عذاب قبر دیکھایا جا سکتا ہے تو کیا سنوایا نہیں جا سکتا، اسی طرح جانوروں کو سنوایا جاتا ہوگا لیکن ان دنیاوی قبروں سے اس کا کوئی تعلق نہیں ورنہ ہم دیکھتے ہیں کہ قبرستانوں میں چوپائے چرپھر رہے ہوتے ہیں لیکن کوئی ڈرکر بھاگتا نہیں۔

رہا خچر کا بدکناوہ بھی ایک معجزہ ہوگا ورنہ نبیﷺ کا خچر تو روز ہی وہاں سے گزرتا ہوگا اور دنیا بھر میں خچر بھی خوب گھوم پھر رہے ہوتے ہیں کوئی بدک کر بھاگتا نہیں۔ ان کی یہ بات بالکل جھوٹی ہے کہ نبیﷺ کا اشارہ ان دنیاوی قبروں کی طرف تھا، خچر کا بدکنا اور جانوروں کا عذاب قبر سننا جو’’ بنو نجار ‘‘ کے باغ کے حوالے سے پیش کیا گیا ہے۔ فَمَرَّ عَلَى حَائِطٍ لِبَنِي النَّجَّارِ’’ پس بنو نجار کے ایک باغ سے گزرے ‘‘۔ اب اسی بنو نجار کے باغ کا یہ واقعہ بھی پڑھیں :

عَنْ اَنَسٍ قَالَ قَدِمَ النَّبِیُّا الْمَدِیْنَۃَ ۔۔۔ وَ کَانَ یُحِبُّ اَنْ یُّصَلِّی حَیْثُ اَدْرَکَتْہُ الصَّلٰوۃُ وَ یُصَلِّی فِیْ مَرَابِضِ الْغَنَمِ وَ اَنَّہٗٓ اَمَرَ بِبِنَآءِ الْمَسْجِدِفَاَرْسَلَ اِلٰی مَلَاءِ بَنِی النَّجَّارِ فَقَالَ یَا بَنِی النَّجَّارِ ثَامِنُوْنِیْ بِحَآءِطِکُمْ ھٰذَا قَالُوْا لاَ وَاللّٰہِ لاَ نَطْلُبُ ثَمَنَہٗ اِلاَّ اِلَی اﷲِ عَزَّ وَ جَلَّ قَالَ اَنَسٌ فَکَانَ فِیْہِ مَآ اَقُوْلُ لَکُمْ قُبُوْرِ الْمُشْرِکِیْنَ وَفِیْہِ خَرِبٌ وَّ فِیْہِ نَخْلٌ فَاَمَرَ النَّبِیُّا بِقُبُوْرِ الْمُشْرِکِیْنَ فَنُبِشَتْ ثُمَّ بِالْخَرِبِ فَسُوِّیَتْ وَ بِالنَّخْلِ فَقُطِعَ فَصَفُّوْاالنَّخْلَ قِبْلَۃَ الْمَسْجِدِ وَ جَعَلُوْا عِضَادَتَیْہِ الْحِجَارَۃَ …

(بخاری:کتاب الصلوٰۃ ، باب ھل تنبش قبور مشرکی الجاھلیۃ و یتخذ مکانھا مساجد)

انس ؓ فرماتے ہیں کہ جب نبی ﷺ مدینہ تشریف لائے ۔۔۔۔۔۔آپ پسندکرتے کہ جس جگہ صلوٰۃ کا وقت آجائے وہیں اسے ادا فرمالیں،اور آپ بکریاں باندھنے کی جگہ بھی صلوٰۃ ادا کرلیتے تھے۔ اور ( جب) آپ نے مسجد کی تعمیر کا حکم دیاتو بنو نجار کے لوگوں کو بلوایا اور فرمایا کہ اے بنو نجار! اپنا یہ باغ تم میرے ہاتھ فروخت کردو ۔ انہوں نے عرض کیا کہ اﷲ کی قسم ہم اس کی قیمت نہیں لیں گے مگر اﷲ عزوجل سے۔انس ؓ کہتے ہیں کہ اس باغ میں یہ چیزیں تھیں جو میں تم کو بتاتا ہوں: مشرکین کی قبریں تھیں،کچھ کھنڈر تھا اور اس میں کھجور کے درخت تھے۔ پھرنبی ﷺنے حکم فرمایا تومشرکین کی قبریں کھود دی گئیں،کھنڈر کو برابر کردیا گیا اور درختوں کو کاٹ ڈالا گیا اور ان کو مسجد کے قبلے کی طرف نصب کردیا گیا اور پتھروں سے ان کی بندش کردی گئی۔۔۔‘‘۔

دیکھا آپ نے نبیﷺ اور صحابہ کا عقیدہ یہ کہ زمینی قبریں صرف جسم چھپانے کے لئے ہیں عذاب یا راحت کا مقام نہیں۔ مشرکین کی وہی قبریں کھود دی گئیں

جس کی طرف اشارہ کرکے یہ مسلک پرست اسی زمینی قبر میں عذاب کا ڈرامہ رچاتے ہیں۔

یہ علماء کرام و مفتیان سب کچھ جانتے ہیں کہ نبیﷺ نے اس باغ کی قبروں کیساتھ کیا عمل کیا لیکن اسے چھپاتے ہیں بیان وہ کرتے ہیں جن سے ان کا اپنا عقیدہ ثابت ہوسکے، لیکن پورے سرمایہ حدیث میں ایک بھی ایسی صحیح حدیث نہیں پیش کرسکتے جس میں یہ بتایا گیا ہو کہ اسی زمینی قبر کے اندر عذاب ہوتا ہے۔

اب رہا معاملہ نبی ﷺ کے اس فرمان کا کہ : ’’اگر تم لوگ اپنے مردوں کو دفن کرنا چھوڑ نہ دیتے تو میں اللہ سے یہ دعاء کرتا کہ وہ تمہیں بھی عذاب قبر کی آواز سنادے۔‘‘ تو عرض ہے کہ صحابہ ؓ اپنے دیکھنے اور سننے سے زیادہ نبیﷺ کے بیان پر یقین رکھتے تھے۔ انہیں عذاب القبر کی ہولناکی کا یقینا ً علم تھا اور اس سے پناہ بھی مانگا کرتے تھے لیکن پھر بھی اپنے مردوں کو دفنانا نہیں چھوڑا تھا کیونکہ انہیں علم تھا کہ وہ قومیں جنہیں کوئی دفنانہ سکا وہ بھی عذاب القبر سے نہ بچ سکیں۔

واضح ہوا کہ نبیﷺ کا یہ فرمان اسی طرح جانوروں کو سنوایا جاتا ہوگا لیکن ان دنیاوی قبروں سے اس کا کوئی تعلق نہیں ورنہ ہم دیکھتے ہیں کہ قبرستانوں میں چوپائے چرپھر رہے ہوتے ہیں لیکن کوئی ڈرکر بھاگتا نہیں۔

ستر اژدھے والی روایت سے عذاب قبر ثابت کرنا:

فرقہ پرستوں کا معاملہ ہی عجیب ہے، یہ دین کو دین سمجھ کر نہیں بلکہ مقابلہ بازی کا میدان سمجھ کر لڑتے ہیں۔ کتاب اللہ سے بات واضح ہے کہ مرنے کے بعد سے لیکر قیامت تک کا سارا معاملہ آسمانوں پر ہوتا ہے ۔ یہ جسم تو گل سڑ جاتا ہے لہذا اس قبر سے عذاب و راحت کا کوئی تعلق نہیں۔ لیکن فرقہ پرستوں نے اب اسے قبول نہیں کرنا بلکہ فرقے کے لئے جنگ لڑنی ہے ورنہ فرقہ ہی جھوٹا قرار پائے گا لہذا ضعیف روایات کا سہارا لیتے ہیں۔ ایک روایت زیل میں پیش کی جا رہی ہے جس کی متعلق محدث بیان کرتے ہیں:

[حكم الألباني] : ضعيف جد

یعنی اس کی سند یقینی ضعیف ہے، لیکن فرقے کی عزت کی خاطر اسے بھی دلیل بنا لیا گیا، ملاحظہ فرمائیں :

عن أبي سعيد، قال: دخل رسول الله صلى الله عليه وسلم مصلاه فرأى ناسا كأنهم يكتشرون قال: أما إنكم لو أكثرتم ذكر هاذم اللذات لشغلكم عما أرى، فأكثروا من ذكر هاذم اللذات الموت، فإنه لم يأت على القبر يوم إلا تكلم فيه فيقول: أنا بيت الغربة وأنا بيت الوحدة، وأنا بيت التراب، . . . . . . . . . . فأدخل بعضها في جوف بعض قال: ويقيض الله له

سبعين تنينا لو أن واحدا منها نفخ في الأرض ما أنبتت شيئا ما بقيت الدنيا فينهشنه ويخدشنه حتى يفضى به إلى الحساب قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إنما القبر روضة من رياض الجنة أو حفرة من حفر النار.

( ترمذی، أبواب صفة القيامة والرقائق والورع عن رسول الله ﷺ )

’’ ابوسعید ؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ اپنے مصلی پر تشریف لائے تو کچھ لوگوں کو ہنستے ہوئے دیکھا تو آپ نے فرمایا اگر تم لذتوں کو ختم کرنے والی چیز کو یاد کرتے تو تمہیں اس بات کی فرصت نہ ملتی جو میں دیکھ رہا ہوں لہذا لذتوں کو قطع کرنے والی موت کو زیادہ یاد کرو کوئی قبر ایسی نہیں جو روزانہ اس طرح نہ پکارتی ہو کہ غربت کا گھر ہوں میں تنہائی کا گھر ہوں میں مٹی کا گھر ہوں اور میں کیڑوں کا گھر ہوں پھر جب اس میں کوئی مومن بندہ دفن کیا جاتا ہے تو وہ اسے ( مَرْحَبًا وَأَهْلًا) کہہ کر خوش آمدید کہتی ہے پھر کہتی ہے کہ میری پیٹھ پر جو لوگ چلتے ہیں تو مجھے ان سب میں محبوب تھا اب تجھے میرے سپرد کردیا گیا ہے تو اب تو میرے حسن سلوک دیکھے گا پھر وہ اس کے لئے حدنگاہ تک کشادہ ہوجاتی ہے اور اس کے لئے جنت کا درواز کھول دیا جاتا ہے اور جب گنہگار یا کافر آدمی دفن کیا جاتا ہے قبر اسے خوش آمدید نہیں کہتی بلکہ (لَا مَرْحَبًا وَلَا أَهْلًا) کہتی ہے پھر کہتی ہے کہ میری پیٹھ پر چلنے والوں میں تم سب سے زیادہ مغبوض شخص تھے آج جب تمہیں میرے سپرد کیا گیا ہے تو تم میری بدسلوکی بھی دیکھو گے پھر وہ اسے اس زور سے بھینچتی ہے کہ اس کی پسلیاں ایک دوسری میں گھس جاتی ہیں راوی کہتے ہیں کہ پھر رسول اللہ ﷺنے اپنی انگلیاں ایک دوسری میں داخل کر کے دکھائیں پھر آپ نے فرمایا کہ اس کے بعد اس پر ستر اژدھے مقرر کر دئیے جاتے ہیں اگر ان میں سے ایک زمین پر ایک مرتبہ پھونک مار دے تو اس پر کبھی کوئی چیز نہ اگے پھر وہ اسے کاٹتے ہیں اور نوچتے رہتے ہیں یہاں تک کہ اسے حساب و کتاب کے لئے اٹھایا جائے گا پھر آپ نے فرمایا قبر جنت کے باغوں میں سے ایک باغ یا جہنم کے گڑھوں میں سے ایک گڑھا ہے ‘‘۔

یہ انہی فرقہ پرستوں کا دل گردہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے بیان کردہ کو ضعیف روایات کے ذریعے رد کرنے کی کوشش کریں، ہم تو ایسے فعل سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں۔ اس روایت کے الفاظ پر غور کریں :

’’اس کے لئے حدنگاہ تک کشادہ ہوجاتی ہے ‘‘

’’پھر وہ اسے اس زور سے بھینچتی ہے کہ اس کی پسلیاں ایک دوسری میں گھس جاتی ہیں‘‘

’’اس کے بعد اس پر ستر اژدھے مقرر کر دئیے جاتے ہیں اگر ان میں سے ایک زمین پر ایک مرتبہ پھونک مار دے تو اس پر کبھی کوئی چیز نہ اگے ‘‘

کیا یہ باتیں اس زمینی قبر کے لئے ممکن دکھائی دیتی ہیں البتہ عالم برزخ میں ملنے والی قبر کے لئے یہ بات ممکن ہے۔ اس کے ان الفاظ پر غور کریں : اگر ان میں سے ایک زمین پر ایک مرتبہ پھونک مار دے تو اس پر کبھی کوئی چیز نہ اگے ‘‘

یعنی اس زمین کا معاملہ ہی نہیں ورنہ اب تک تو بے حساب کافر و مشرک مر چکے ہوں گے اور ایسے اژ دھوں کی بڑی تعداد ان قبروں میں ہوگی لیکن الحمد للہ چارہ،سبزیاں، فروٹ ، غلہ سب ہی کچھ اگ رہا ہے اس زمین پر، گویا بات اس زمین کی ہے ہی نہیں۔

مزید اس جملے کو پڑھیں :

إنما القبر روضة من رياض الجنة أو حفرة من حفر النار.

’’ قبر جنت کے باغوں میں سے ایک باغ یا جہنم کے گڑھوں میں سے ایک گڑھا ہے ۔‘‘

اس میں یہ نہیں کہا گیا کہ دنیاوی قبر جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے یا جہنم کے گڑھوںمیں سے ایک گڑھا ہے بلکہ فرمایا گیا قبر جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے یعنی جنت میں بے حساب باغ ہیں اس بندے کی قبر جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے۔ قبر جہنم کے گڑھوں میں سے ایک گڑھا ہے ، یعنی جہنم میں بے حساب گڑھے ہیں اور ان میں سے ایک گڑھا اس کی قبر ہے۔

یہی بات قرآن میں بیان کردی گئی ہے کہ مرنے والے کی روح قبض ہوتے ہی جنت یا جہنم میں داخل کردی جاتی ہے۔

الَّذِيْنَ تَتَوَفّٰىهُمُ الْمَلٰٓىِٕكَةُ ظَالِمِيْۤ اَنْفُسِهِمْ١۪ فَاَلْقَوُا السَّلَمَ مَا كُنَّا نَعْمَلُ مِنْ سُوْٓءٍ١ؕ بَلٰۤى اِنَّ اللّٰهَ عَلِيْمٌۢ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ۰۰۲۸فَادْخُلُوْۤا اَبْوَابَ جَهَنَّمَ خٰلِدِيْنَ فِيْهَا١ؕ فَلَبِئْسَ مَثْوَى الْمُتَكَبِّرِيْنَ۰۰۲۹

( النحل :28- 29 )

’’ ان نفس پر ظلم کرنے والوں کی جب فرشتے روح قبض کرتے ہیں تو اس موقع پر لوگ بڑی فرمانبرداری کے بول بولتے ہیں کہ ہم تو کوئی برا کام نہیں کرتے تھے۔، ( فرشتے جواب دیتے ہیں ) ، یقینا اللہ جانتا ہے جو کچھ تم کیا کرتے تھے۔پس داخل ہو جاو جہنم کے دروازوں میں جہاں تمہیں ہمیشہ رہنا ہے، پس برا ہی ٹھکانہ ہے متکبرین کے لئے۔‘‘

الَّذِيْنَ تَتَوَفّٰىهُمُ الْمَلٰٓىِٕكَةُ طَيِّبِيْنَ١ۙ يَقُوْلُوْنَ سَلٰمٌ عَلَيْكُمُ١ۙ ادْخُلُوا الْجَنَّةَ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ

( النحل :32 )

’’ جب فرشتے پاک ( نیک ) لوگوں کی روحیں قبض کرتے ہیں تو کہتے ہیں : تم پر سلامتی ہو داخل ہو جاؤ جنت میں اپنے ان اعمال کیوجہ سے جو تم کرتے تھے۔‘‘

یہی بات نبی ﷺ نے بیان فرمائی :

إِنَّمَا مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَی يَهُودِيَّةٍ يَبْکِي عَلَيْهَا أَهْلُهَا فَقَالَ إِنَّهُمْ لَيَبْکُونَ عَلَيْهَا وَإِنَّهَا لَتُعَذَّبُ فِي قَبْرِهَا

سُنَّتِهِ “)أَهْلِهِ عَلَيْهِ» إِذَا كَانَ النَّوْحُ مِنْ ( عن عائشہ ؓ ، کتاب الجنائز ، بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يُعَذَّبُ المَيِّتُ بِبَعْضِ بُكَاءِ

’’نبی صلی اللہ علیہ و سلم ایک (فوت شدہ)یہودی عورت کے پاس سے گذرے اسکے گھر والے اس پر رو رہے تھے۔ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ”یہ لوگ اس پر رو رہے ہیں اور اسے اسکی قبر میں عذاب دیا جارہا ہے۔“

ابھی یہودی عورت اس زمینی قبر میں دفن بھی نہیں ہوئی اس کے گھر والے اس پر رو رہے ہیں اور نبی ﷺ فرما رہے ہیں :

یہ لوگ اس پر رو رہے ہیں اور اسے اسکی قبر میں عذاب دیا جارہا ہے۔“

واضح ہوا کہ یہ سارا معاملہ اس زمینی قبر میں نہیں عالم برزخ میں ملنے والی قبر میں ہوتا ہے۔

سبز ٹہنیوں والی روایت:

مرنے کے بعد ہونے والے عذاب قبر کا معاملہ مکمل طور پر عالم بالا سے ہے جیسا کہ ہم نے اپنی پوسٹس میں کتاب اللہ سے دلائل دیکر ثابت کرچکے ہیں۔ فرقہ پرست اپنے فرقے کی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں اس لئے کوشش کرتے ہیں کہ کسی بھی طرح قرآن و حدیث کے دئیے ہوئے عقیدے کے مقابلے میں ان کے فرقے کا عقیدہ ثابت ہو جائے۔لہذا ایک صحیح حدیث پیش کرکے لوگوں کو باور کراتے ہیں ہیں کہ اس حدیث سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ عذاب قبر اسی زمینی قبر میں ہوتا ہے، لہذا ہم اس حدیث کا مطالعہ کرتے ہیں:

( بخاری، کتاب الجنائز ، بَابُ عَذَابِ القَبْرِ مِنَ الغِيبَةِ وَالبَوْلِ )

’’ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ دو قبروں کے پاس سے گذرے تو فرمایا کہ ان دونوں کو عذاب ہو رہا ہے اور کسی بڑے معاملہ کے سبب عذاب نہیں ہو رہا، ان میں سے ایک تو اپنے پیشاب سے نہیں بچتا تھا اوردوسرا چغل خوری کرتا تھا، پھر ایک تر شاخ منگوائی اور اس کے دو ٹکڑے کئے پھر ہر قبر پر ایک گاڑ دیا ، پھر فرمایا کہ شاید کہ اللہ تعالیٰ ان کے عذاب میں تخفیف کردے، جب تک کہ یہ خشک نہ ہوں۔‘‘

اس حدیث سے یہ فرقہ پرست زمینی قبر میں عذاب بیان کرتے ہیں حالانکہ کہیں بھی اس کا ذکر نہیں۔ نبیﷺ نے فرمایا : إِنَّهُمَا لَيُعَذَّبَانِ ’’ ان دونوں کو عذاب ہو رہا ہے ‘‘۔ یعنی یہ نہیں فرمایا کہ اس قبر میں عذاب ہو رہا ہے بلکہ فرمایا کہ یہ دونوں عذاب دئیے جا رہے ہیں۔ عذاب کہاں ہوتا ہے یہ پہلے ہی ہم اپنی پوسٹس میں کتاب اللہ کے دلائل سے پیش کرچکے ہیں کہ مرتے ہی انسان کی روح کو جنت یا جہنم میں داخل کردیا جاتا ہے جہاں اسے جزا یا سزا ملنا شروع ہو جاتی ہے۔

اس حدیث میں تو دراصل یہ بتایا گیا : وَمَا يُعَذَّبَانِ مِنْ كَبِيرٍ ’’ کسی بڑے معاملے کے سبب عذاب نہیں ہو رہا ‘‘۔ بَلَى أَمَّا أَحَدُهُمَا فَكَانَ يَسْعَى بِالنَّمِيمَةِ، وَأَمَّا أَحَدُهُمَا فَكَانَ لاَ يَسْتَتِرُ مِنْ بَوْلِهِ ’’ ان میں سے ایک تو اپنے پیشاب سے نہیں بچتا تھا اوردوسرا چغل خوری کرتا تھا ‘‘ یعنی اصل تعلیم تو یہ تھی کہ چھوٹے گناہ پر بھی عذاب ہوگا۔ اور یہی بات نبیﷺ نے عائشہ ؓ سے فرمائی تھی کہ اے عائشہ کم تر گناہوں کو بھی حقیر نہ جانو۔

اب رہا یہ سوال کہ نبی ﷺ نے ان قبروں کے پاس سے گزرتے ہوئے یہ بات کیوں کی۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ نہ وہاں کسی آواز کے سنائے جانے کا ذکر ہے اور نہ ہی دکھائےجانے کا بلکہ یقینا ً یہ بات نبی ﷺ پر وحی ہوئی ہوگی۔ اللہ تعالیٰ نے یہ بتایا ہوگا کہ یہ وہ دو افراد ہیں جو یہ برا کام کرتے تھے اس وجہ سے انہیں عذاب قبر ہو رہا ہے۔ اب اس سے یہ کیسے ثابت ہوا کہ ان قبروں میں عذاب ہو رہا تھا۔ رہی یہ بات کہ نبی ﷺ نے ان قبروں پر ٹہنیاں کیوں ڈالیں۔ تو عرض ہے کہ یہ دعا کا ایک انداز تھا۔ نبی ﷺ نے فرمایا : لَعَلَّهُ يُخَفَّفُ عَنْهُمَا مَا لَمْ يَيْبَسَا، شاید کہ اللہ تعالیٰ ان کے عذاب میں تخفیف کردے، جب تک کہ یہ خشک نہ ہوں۔ یعنی معاملہ یہ نہیں تھا کہ ان کی وجہ سے ان قبروں میں ہونے والا عذاب قبر رک جائے گا ، بلکہ یہ شاید کا لفظ استعمال کیا گیا اور یہ انداز بھی دعائیہ ہی ہے۔

مزید اگر آپ کے محلے میں کسی کو پھانسی ہو رہی ہو اور آپ کا کوئی دوست آتا ہے،آپ اسے بتاتے ہیں کہ اس گھر میں رہنے والے کو آج پھانسی ہوگی، تو وہ سمجھ جائے گا کہ پھانسی گھر

میں نہیں بلکہ جیل میں ہوئی ہوگی ،لیکن آپ اسے جیل لیجا کر نہیں دکھائیں گے بلکہ اس کے گھر کی طرف اشارہ کرکے اسے بتائیں گے کہ اس گھر والے کو آج پھانسی دی جائے گی۔ یہی انداز اس حدیث میں نبی ﷺ کا ہے کہ یہ دونوں عذاب دئیے جا رہے ہیں اور مرنے کے بعد عذاب صرف جہنم میں ہوتا ہے جس کی تفصیل اس مضمون میں بیان کردی گئی ہے۔

اہلحدیثوں کے نزدیک نبی ﷺ کے علم کی حیثیت :

مفتی دامانوی اہلحدیث لکھتے ہیں:

’’ان مختلف احادیث کا خلاصہ یہ ہے کہ عائشہ صدیقہؓ کوپہلی مرتبہ ایک یہودی عورت نے عذاب القبر کے متعلق بتایا لیکن انہوں نے اس کی تصدیق نہ کی۔نبی ا نے بھی یہود کو جھوٹا قرار دیا بعد میں آپ ا پر وحی بھیجی گئی اور آپ اکو عذاب القبر کے بارے میں بتایا گیا۔ اسی دوران سورج کو گہن لگ گیا اور آپ ﷺکے بیٹے ابراہیم رضی اﷲ عنہ کا انتقال بھی ہوگیا چنانچہ آپ انے اسی دن سورج گہن کی نماز صلوٰۃ الکسوف پڑھائی۔اورپھر خطبہ دیا۔اور اس خطبہ میں صحابہ کرامؓ کو عذاب القبر کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔اور یہ دس ہجری کا واقعہ ہے گویا نبی ا کی زندگی کے واقعات میں سے آخری دنوں کا واقعہ ہے۔پھر ہر نماز کے بعد برابر عذاب القبر سے پناہ مانگنے لگے اور صحابہ کرام کو بھی اس سلسلہ کی دعا سکھائی اور انہیں حکم دیا کہ وہ بھی ہر نماز کے آخر میں عذاب القبر سے پناہ مانگا کریں۔ معراج کا واقعہ نبی صلی اﷲ علیہ و سلم کی مکی زندگی میں پیش آچکا تھا اور معراج میں آپ ا کو نافرمان انسانوں کو عذاب دینے کے کچھ مشاہدات بھی کرائے گئے تھے جیسا کہ خواب میں آپ ا نے کچھ نافرمانوں کو مبتلائے عذاب دیکھا تھا ان واقعات کا تعلق عام عذاب سے ہے خاص عذاب القبر سے نہیں اور یہ احادیث بتا رہی ہیں کہ عذاب القبر ایک بالکل الگ شے ہے۔جیسا کہ ان احادیث کے مطالعے سے یہ حقیقت الم نشرح ہوتی ہے معلوم ہوا کہ عذاب القبر اور عذاب جہنم دونوں الگ الگ حقیقتیں ہیں جن پر ایمان رکھنا ضروری ہے‘‘ ۔ (عقیدہ عذاب قبر، صفحہ۳۶)

مفتی موصوف نے اپنی اسی کتاب کے صفحہ ۲۱ سے۲۶ تک قرآن مجید کی مختلف آیات عذابِ قبر کے اثبات میں پیش کی ہیں ۔وہاں انہوں نے سورۃ الانعام، المومن، یونس،نوح،الفجر،یٰس کی آیات کا حوالہ دیا ہے۔ اس کے علاوہ قرآن کی تفاسیر لکھنے والے اہلحدیثوں نے بھی ان آیات کو عذاب قبر پر دلیل بنایا ہے۔ یہ ساری سورتیں مکی دور کی ہیں۔فرقہ اہلحدیث کے عالموں کا علم تو اتنا’’ کامل‘‘ ہے کہ انہیں پتہ ہے کہ ان آیات سے عذاب قبر ثابت ہوتا ہے، لیکن وہ ذات جس کے قلب پر قرآن نازل ہوا ، جو اس کی تشریح کے لیے بھیجے گئے تھے ،ان کو سالہا سال تک یہ نہیں معلوم تھا کہ عذاب قبر کیا ہے اور ان آیات میں کیا بیان کیاگیا ہے! کتنی بدترین گستاخی ہے شان رسالت میں کہ نبوت کے تیرہ سال مکہ میں گزر گئے لیکن نبی ﷺکو یہ معلوم نہ ہوسکا کہ اﷲ تعالیٰ نے سورۃالانعام،المومن،یونس، نوح، الفجر، ےٰس کی آیات میں کیا بیان فرمایا ہے!سورۃ ابراہیم بھی مکی سورہ ہے اور اس کی آیت ۲۷: یثبت اﷲالذین امنو بالقول الثابت فی الحیوٰۃ الدنیا و فی الاخرۃ کے بارے میں نے فرمایا کہ یہ قبرمیں سوال و جواب ہی کے بارے میں ہے (بخاری:کتاب الجنائز، باب ماجآء فی عذاب القبر/کتاب التفسیر، سورۃ ابراہیم)۔ نبوت کے دس سال مدینہ میں گزر گئے ،لیکن (نعوذباﷲ!) عقیدہ عذاب قبر کی بابت کچھ جانتے ہی نہ تھے! بقول ان کے، دس ہجری میں، زندگی کے آخری ایام میں، اﷲ تعالیٰ نے صلوٰۃ الکسوف کے موقع پر کو عذاب قبر سے آگاہ فرمایا!اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے:

وَ اَنْزَلْنَاۤ اِلَيْكَ الذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَيْهِمْ وَ لَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُوْنَ

[النحل: 44]

’’اور ہم نے تم پر کتاب نازل کی ہے تاکہ جو (احکام) لوگوں کی طرف نازل ہوئے ہیں، ان کی ان کے لیے وضاحت کردو‘‘ ۔

اب ذرا مفتی صاحب بتائیں کہ اس آیت کا کیا مطلب ہے؟ بقول ان کے، نبیﷺ توان فرامین کے متعلق لا علم ہی رہے جو ان مذکورہ آیات میں بیان کیے گئے تھے، تو پھر آپ اان کی تشریح وتوضیح کس طرح فرماتے ہونگے؟ کیا سالہا سال تک یہ آیات یونہی بلا معنی تلاوت کی جاتی رہیں! وہ تو بقول ان ’’کامل علم والوں ‘‘کے،

’’بعد میں آپؐ پر وحی بھیجی گئی اور آپ ؐ کو عذاب القبر کے بارے میں بتایا گیا‘‘! آپ دیکھیں کہ اپنے باطل عقیدے کو ثابت کرنے کے لیے کیا کیا انداز اپنائے جا رہے ہیں! اﷲ کے عذاب سے کیسی بے خوفی ہے! سے محبت کے دعوے کی قلعی خود ان کی تحریروں نے اتار دی ہے۔ فرماتے ہیں کہ ’’عا ئشہ صدیقہؓ کوپہلی مرتبہ ایک یہودی عورت نے عذاب القبر کے متعلق بتایا لیکن انہوں نے اس کی تصدیق نہ کی۔نبی صلی اﷲ علیہ و سلم نے بھی یہود کو جھوٹا قرار دیا‘‘یعنی (معاذاﷲ!)یہ ایک حتمی بات ہے کہ نبیﷺ عذاب قبر کا کوئی عقیدہ رکھتے ہی نہیں تھے،اسی لیے جب یہود نے عذاب قبر کی بابت بتایا تو نے ان کے اس عقیدے کی وجہ سے انہیں جھوٹا قرار دیا۔ ایک طرف تویہ انداز، دوسری طرف انہیں خیال آیا کہ نبی ا کو خواب میں بھی تو عذاب قبر کے مناظر دکھائے گئے تھے، ان کا کیا کیا جائے؟ لہٰذاہانک لگا دی کہ وہ ’’عام عذاب‘‘ ہے۔واہ خوب ایمان بنایا ہے حدیث نبوی ﷺپر! ایسے ہی حدیث حدیث کی رٹ لگائے رکھتے ہیں۔ علامہ صاحب نے نبی ﷺ کے علم کے بارے میں جو بہتان گھڑا ہے، اس کی بنیاد مسند احمد کی یہ روایت ہے

عَنْ عَاءِشَۃَ رَضِیَ اﷲُ عَنْھَا قَالَتْ اَنَّ یَھُوْدِیَۃَ کَانَتْ تَخْدَمُھَا فَلاَ تَصْنَعْ عَاءِشَۃُ رَضِیَ اﷲُ عَنْھَا اِلَیْھَا شَیْءًا مِّنَ الْمَعْرُوْفِ اِلاَّ قَالَتْ لَھَا الْیَھُوْدِیَۃُ:وَقَاکِ اﷲُ عَذَابَ الْقَبْرِ، قَالَتْ: فَدَخَلَ رَسُوْلُ اﷲِ ا عَلَیَّ فَقُلْتُ: یَارَسُوْلَ اﷲِ ھَلْ لِلْقَبْرِ عَذَابٌ قَبْلَ یَوْمِ الْقِیَامَۃِ؟ قَالَ: لاَ، وَ عَمَّ ذَاکَ؟ قَالَتْ: ھٰذِہِ الْیَھُوْدِیَۃُ، لاَ عَلَی اللّٰہِ عَزَّ وَ جَلَّ کَذِبَ، لاَ عَذَابَ دُوْنَ یَوْمِ الْقِیَامَۃِ ۔۔۔

(مسنداحمد:۶/۸۱، حدیث السیدۃ عائشۃ:۲۳۹۹۹)

’’ عائشہ رضی اﷲ روایت کرتی ہیں کہ ایک یہودیہ آپ کی خدمت کیا کرتی تھی۔ انہوں نے یہودیہ سے اس کے سوا کوئی بھلائی کی بات نہیں پائی کہ اس نے(ایک دفعہ) ان سے کہا: اﷲ تجھے عذاب قبر سے بچائے۔عائشہ رضی اﷲفرماتی ہیں کہ اس کے بعد رسول اﷲﷺمیرے پاس تشریف لائے تومیں نے عرض کیا کہ اے اﷲ کے رسول! کیا قیامت سے قبل قبر میں بھی عذاب ہوگا؟ رسول اﷲ ا نے فرمایا: نہیں، تم سے کس نے کہا؟ بتایا کہ اس یہودیہ نے۔ فرمایا: اﷲعزوجل نے جھوٹ نہیں کہا، روز قیامت سے پہلے کوئی عذاب نہیں۔۔۔‘‘

ڈاکٹرعثمانی رحمۃ اﷲعلیہ نے اپنی تحریر’’موازنہ مسنداحمدبن حنبل و صحیح البخاری‘‘ میں متعدد مثالوں سے ثابت کیا کہ مسنداحمد کی روایات صحیح بخاری کی ضدہوتی ہیں۔ مذکورہ روایت بھی ایسی ہی ایک مثال ہے کیونکہ بخاری نے اس کو اس طرح روایت کیا ہے:

عَنْ عَاءِشَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّا اَنَّ یَھُوْدِیَۃً جَآءَ تْ تَساَلُھَا فَقَالَتْ لَھَا اَعَاذَکِ اﷲُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ فَسَالَتْ عَاءِشَۃُ رَسُوْلَ اﷲِ ا اَیُعَذَّبُ النَّاسُ فِیْ قُبُوْرِھِمْ فَقَالَ رَسُوْلُ اﷲِ ا عَآ ءِذًا بِاﷲِ مِنْ ذَالِکَ

(بخاری:کتاب الصلٰوۃ، کتاب الکسوف،باب التعوذمن عذاب القبر فی الکسوف)

’’ام المؤمنین عائشہ رضی اﷲ روایت کرتی ہیں کہ ایک یہودیہ ان سے مانگنے آئی اور ان کو دعا دی کہ اﷲ تجھے عذاب قبر سے بچائے۔ عائشہ رضی اﷲ نے رسول اﷲ اسے پوچھا: کیا لوگوں کو ان کی قبروں میں بھی عذاب ہوتا ہے؟ تورسول اﷲ ﷺنے فرمایا:میں ا ﷲ تعالیٰ کی اس سے پناہ مانگتا ہوں‘‘۔

دیگرروایات میں فرمان رسول ا نقل کیا گیاہے کہ:

نَعَمْ عَذَابُ الْقَبْرِ: ’’ ہاں عذاب قبر ہے‘‘۔ نَعَمْ عَذَابُ قَبْرٍ حَقٌ : ’’ہاں عذاب قبربر حق ہے‘‘۔

(بخاری:کتاب الجنائز،باب ماجاء فی عذاب قبر)

موصوف نے خود اپنی ایک دوسری کتاب میں اسی سلسلے کی ایک روایت بیان کی ہے : ’’عائشہ رضی اﷲ بیان کرتی ہیں کہ مدینہ کی دو بوڑھی یہودی عورتیں میرے پاس آئیں اور انہوں نے مجھ سے کہا : ان اھل القبور یعذبون فی قبورھم (بے شک قبر والے اپنی قبروں میں عذاب دئیے جاتے ہیں) عائشہؓ نے فرمایا کہ میں نے ان کی اس بات کو جھٹلادیا اور اچھا نہیں سمجھا کہ ان کی تصدیق کروں ۔پس وہ عورتیں چلی گئیں اور نبی صلی اﷲ علیہ و سلم میرے پاس آئے، میں نے ان عورتوں کا اور ان کی گفتگو کا ذکر کیا۔ پس نبی صلی اﷲ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا:

صَدَقَتَا، إِنَّهُمْ يُعَذَّبُونَ عَذَابًا تَسْمَعُهُ البَهَائِمُ كُلُّهَا

ان دونوں عورتوں نے سچ کہا بے شک وہ (قبروں میں) عذاب دیئے جاتے ہیں کہ جنہیں تمام چوپائے سنتے ہیں‘‘۔(دعوت قرآن کے نام پر قرآن و حدیث سے انحراف،صفحہ ۱۰۹)

ملا حظہ فرمایا موصوف کا دوغلا پن! جب اپنا باطل عقیدہ ثابت کرنا تھا تو کی اِس حدیث کو بنیاد بنالیا، اور جب دل نے اس بات کی ٹھانی کہ یہ ثابت کیا جائے کہ سالہا سال تک عذاب قبر کے بارے میں نبیﷺ کو کوئی علم ہی نہ تھا، تو صحیحین بلکہ صحا ح ستہ کی روایات کی مخالف روایت کو بنیاد بنا کر وہ لکھ گئے جس کا تصور یہود و نصاریٰ بھی نہیں کرسکتے!

یہ مسلمان ہیں جنہیں دیکھ کر شرمائیں یہود

ان کی ایسی باتوں سے اندازہ ہو سکتا ہے کہ ان کے نزدیک نبیﷺ کا کیا مقام تھا۔

Categories
Uncategorized

عقیدہ عذاب قبر اور مسلک پرستوں کی مغالطہ آرائیاں ( جسم )

بسم اللہ الرحمن الرحیم

کس قدر افسوس کی بات ہے کہ یہ کلمۂ توحید پڑھنے والی امت بری طرح خبیث مرض شرک میں مبتلا ہوکر ہر سو اﷲکے عذاب سے دوچار ہے۔ قبرپرستی کے شرک کا دارومدار عودروح، حیات فی القبر اور سماع موتیٰ کے باطل نظریات ہی پر ہے، اورانہی نظریات کی پرزور تائیدیہ ماہرینِ فن اپنی تحریروں میں کرتے رہے ہیں۔ خلاف قرآن عقائد کو بڑے ہی شاطرانہ انداز میں پیش کرتے ہیں اور اپنے بچاؤ اور اکابرین کے دفاع کے لیے قرآنی آیات کی معنوی تحریف اور غلط تاویل میں ذرا بھی جھجک محسوس نہیں کرتے۔ اس سے قبل ہم نے ’’ عالم برزخ ‘‘اور ’’ روح ‘‘ کے موضوعات پر بحث کرتے ہوئے ان ماہرین کی کارستانیوں کو قرآن اور صحیح احادیث کے آئینہ میں دکھایا تھا ۔ اب ’’بے روح جسدعنصری‘‘کے بارے میں پیداکردہ غلط فہمیوں پر بحث کی جائے گی اور اِن شاء اﷲ تعالیٰ ان کے کتمان کا پردہ چاک کرکے حقائق کو قرآن و حدیث کی روشنی میں واضح کیا جائے گا۔

جسد بے روح کو عذاب

کتاب اﷲ سے جب اس بات کی وضاحت ہوگئی کہ مرنے کے بعد ملنے والی سزا یا جزا کا مقام یہ زمین نہیں بلکہ یہ سارا معاملہ عالمِ برزخ میں ہوتا ہے تو پھر اس عقیدے کا تصور ہی نہیں رہتا کہ اس سزا یا جزا میں یہ دنیاوی جسم بھی شامل ہوتا ہے،لیکن ان مسلک پرستوں کا عقیدہ ہے کہ

’’ اہل سنت و الجماعۃ کا عذاب قبر کے بارے میں یہ عقیدہ ہے کہ عذاب جسم اور روح دونوں کو ہوتا ہے۔ مرنے کے بعد روح جنت یا جہنم میں داخل کردی جاتی ہے جبکہ جسم اپنی قبر میں عذاب یا ثواب سے ہمکنار ہوتا ہے‘‘۔(خلاصہ الدین الخالص از ابوجابر عبد اﷲ دامانوی، صفحہ ۲۵)

ان کا یہ عقیدہ یکسر قرآن و حدیث کا انکار ہے۔جزا و سزا اُس کے لیے ہے جو اس کا شعور و ادراک رکھتا ہو۔ روح اور اس جسم کے اتصال کا نام زندگی ہے، زندگی کے اس دور میں یہ جسم شعور و ادراک رکھتا ہے۔ لیکن جب اس جسم سے روح نکال لی جاتی ہے تو اس مردہ جسم کے تمام حواس قیامت تک کے لیے سلب کر لیے جاتے ہیں۔سورۂ فاطر میں فرمایا گیا:

﴿وَمَا يَسْتَوِي الْأَعْمَى وَالْبَصِيرُ ؁ وَلَا الظُّلُمَاتُ وَلَا النُّورُ ؁ وَلَا الظِّلُّ وَلَا الْحَرُورُ ؁ وَمَا يَسْتَوِي الْأَحْيَاءُ وَلَا الْأَمْوَاتُ ﴾

[فاطر: 19-22]

’’ اندھا اور آنکھوں والا برابر نہیں۔نہ تاریکیاں اور روشنی یکساں ہے۔نہ چھاؤں اور دھوپ ایک جیسی ہے ،اور نہ زندہ اور مردہ برابر ہیں‘‘۔

قرآن کی اس آیت نے اس بات کو مکمل طور پر واضح کردیا کہ جس طرح اندھا دیکھنے والے کی،روشنی تاریکی کی اور دھوپ سائے کی ضد ہے، اسی طرح مردہ جسم ایک زندہ جسم کی ضد ہے،یعنی ان دونوں کی کیفیت یکساں نہیں۔ باالفاظ دیگر مردہ جسم زندہ جسم کی طرح دیکھنے، سننے، بولنے، تکلیف اور آرام کو محسوس کرنے والا نہیں ہوتا بلکہ ان صفات سے عاری ہوتا ہے۔ ہر انسان

زندگی اور موت کے مراحل سے گزرتا ہے۔آ یئے قرآن و حدیث کی روشنی میں اس بات کوبغور دیکھیں کہ زندگی اور موت کے دور میں انسانی جسم کی کیا کیفیت ہوتی ہے؟

زندگی اور موت

﴿الَّذِي خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيَاةَ لِيَبْلُوَكُمْ أَيُّكُمْ أَحْسَنُ عَمَلًا وَهُوَ الْعَزِيزُ الْغَفُورُ﴾

[الملك: 2]

’’وہی جس نے موت اور زندگی کوپیدا کیا تا کہ آزمائے کہ تم میں سے کون اچھے کام کرنے والا ہے‘‘۔

زندگی کا دور

اسی آزمائشی دور کے لیے فرمایا:

﴿وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ﴾

[الذاريات: 56]

اور نہیں پیدا کیا ہم نے انسانوں اور جنوں کو مگر اپنی بندگی کے لیے‘‘۔

﴿إِنَّا خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ مِنْ نُطْفَةٍ أَمْشَاجٍ نَبْتَلِيهِ فَجَعَلْنَاهُ سَمِيعًا بَصِيرًا﴾

[الإنسان: 2]

ہم نے انسان کو مخلوط نطفہ سے پیدا کیا تاکہ اسے آزمائیں اس لیے ہم نے اس کو سننے اور دیکھنے والا بنایا۔‘‘

﴿ وَجَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَالْأَبْصَارَ وَالْأَفْئِدَةَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ﴾

[النحل: 78]

’’ اور اس نے تمہیں کان اور آنکھیں دیں اور دل تاکہ تم شکرگذار بنو۔‘‘

اﷲ تعالیٰ نے انسان کے لیے موت اور زندگی کا جو نظام مرتب فرمایا ہے یہ انسان کی آزمائش اور پھر اس کی جزا و سزا پر مبنی ہے۔اس آزمائشی دور میں انسان کو شعور و ادراک سے نوازا تاکہ یہ اپنے مقصد تخلیق کو سمجھے۔باصلاحیت انسانی اعضاء عطا فرمائے اور دیکھنے، سننے، بولنے، سمجھنے اور سونگھنے کے حواس سے ا س کونوازا تا کہ حق بندگی اداکرسکے۔ زندگی کے اس دور کے بعد اس کو موت آجاتی ہے۔

﴿ثُمَّ إِنَّكُمْ بَعْدَ ذَلِكَ لَمَيِّتُونَ ؁ ثُمَّ إِنَّكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ تُبْعَثُونَ﴾

[المؤمنون: 15-16]

’’ پھر اس کے بعد تم کوموت آجائے گی، پھر تم قیامت کے دن اٹھائے جاؤ گے‘‘۔

اس جسدِ عنصری پر موت کا یہ دور اب قیامت تک چلے گا، پھر روز قیامت اس جسم کی دوبارہ تخلیق کی جائے گی اور اس میں روح لوٹاکر اﷲ تعالیٰ اسے اٹھا کھڑا کرے گا۔آئیے دیکھیں کہ موت کے اس دور کے بارے میں کتاب اﷲ کیافرماتی ہے:

موت کا مفہوم

﴿وَاللَّاتِي يَأْتِينَ الْفَاحِشَةَ مِنْ نِسَائِكُمْ فَاسْتَشْهِدُوا عَلَيْهِنَّ أَرْبَعَةً مِنْكُمْ فَإِنْ شَهِدُوا فَأَمْسِكُوهُنَّ فِي الْبُيُوتِ حَتَّى يَتَوَفَّاهُنَّ الْمَوْتُ أَوْ يَجْعَلَ اللَّهُ لَهُنَّ سَبِيلًا﴾

[النساء: 15]

’’ اور تمہاری عورتوں میں سے جوکوئی بدکاری کی مرتکب ہوں تو ان پر اپنے میں سے چار کی گواہی لاؤ اور اگر وہ گواہی دیں تو ان عورتوں کو گھر میں قید رکھو یہاں تک کہ موت ان کامعاملہ پورا کردے یا اﷲ ان کے لیے کوئی سبیل نکال دے‘‘۔

مریم صدیقہ کے بارے میں بیان کیا گیا:

﴿فَأَجَاءَهَا الْمَخَاضُ إِلَى جِذْعِ النَّخْلَةِ قَالَتْ يَا لَيْتَنِي مِتُّ قَبْلَ هَذَا وَكُنْتُ نَسْيًا مَنْسِيًّا﴾

[مريم: 23]

’’پھر دردِزہ ان کو کھجور کے تنے کے پاس لے آیا، کہنے لگیں کہ کاش اس سے پہلے میں مرجاتی اور بے نام و نشان ہوجاتی‘‘۔

بخاری کی ایک روایت میں آتا ہے کہ وفات سے قبل نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو بہت تکلیف تھی، فاطمہ رضی اﷲ کہنے لگیں کہ افسوس میرے والد کو بہت تکلیف ہے ۔اس پر نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا:

لَیْسَ عَلٰی اَبِیکِ کَرْبٌ بَعْدَ الْیَوْمِ

(بخاری:کتاب المغازی،باب مرض النبی ا و وفاتہٖ۔۔۔)

’’ آج کے بعد تمہارے والد کو کوئی تکلیف نہیں ہوگی‘‘۔

ابو طلحہ ؓ کا بیٹا وفات پا گیا، ان کے گھر آنے سے قبل ان کی زوجہ ام سُلَیم رضی اﷲ نے اسے غسل دینے کے بعدکفنا کر ایک طرف رکھ دیا۔ ابو طلحہ ؓ جب رات کو واپس آئے تو بیٹے کے متعلق پوچھا ۔ان کی زوجہ نے کہا:

قَدْ ھَدَأَ نَفْسُہٗ

( بخاری:کتاب الجنائز،باب من لم یظھر حزنہ عند المصیبۃ)

’’ اس کی طبیعت کو سکون ہے ‘‘

ابن منظور لسان ا لعرب میں قرآنی آیات کے حوالے دے کر اس کی تشریح اس طرح کرتے ہیں:

’’ الموت، السکون: اور ہر وہ جو رک جائے، وہ مرگیا،اور مرگئی آگ موت میں یعنی ٹھنڈی ہوگئی اس کی راکھ پھر نہ باقی رہا اس کی چنگاریوں میں سے کچھ۔ اور مرگئی گرمی اور سردی اور مرگئی ہوا۔ یعنی ٹھہر گئی اور ساکن ہوگئی….اور انہی اقسام میں ہے قوتِ حس کا ختم ہوجانا۔ جیسے کہ اﷲ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ’’اے کاش اس سے پہلے میں مرگئی ہوتی‘‘۔ (لسان العرب)

کتاب اﷲ سے موت کا یہی مفہوم ملتا ہے کہ موت ایک ایسی کیفیت کا نام ہے جو زندگی کا خاتمہ کردینے والی، بے نام و نشان اور پر سکون ٹھہر جانے والی ہو۔یعنی جس میں کسی قسم کا کوئی شعور،ادراک اور حس وحرکت باقی نہیں رہتی۔ یہی اﷲ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ وَمَا يَسْتَوِي الْأَحْيَاءُ وَلَا الْأَمْوَاتُ’’ مردہ اور زندہ برابر نہیں‘‘۔ ایک طرف تو قرآن زندہ انسان کے لیے شعور و ادراک رکھنے والا، سننے اور بولنے والا بیان فرماتا ہے اور دوسری طرف مردے کو زندہ کی ضد قرار دیتے ہوئے اسے شعور و ادراک سے عاری بیان فرماتا ہے۔اس آزمائشی دور کے امتحان میں پوری طرح کامیابی حاصل کرنے کے لیے جو احساس و شعور بخشا گیا تھا، جس طرح ان اوصاف سے نوزا گیا تھا، موت کے اس دور میں ان سب کو واپس لے لیا گیا ہے۔ پہلے یہ انسان بنایا گیا تھا اب یہ مردہ گل رہا ہے، پہلے یہ مٹی سے بنایا گیا تھا اب مٹی میں مل رہا ہے۔پہلے یہ زندہ لوگوں کی باتوں کا جواب دیتا تھا، پیروں سے چلتا تھا، ہاتھوں سے کام کرتا تھا،آنکھوں سے دیکھتا اور کانوں سے سنتا تھا لیکن اب اس کے لیے بیان کیا گیا :

﴿أَمْوَاتٌ غَيْرُ أَحْيَاءٍ وَمَا يَشْعُرُونَ أَيَّانَ يُبْعَثُونَ﴾

[النحل: 21]

’’مردے ہیں، ان میں زندگی کی رمق تک نہیں، اورانہیں یہ بھی شعو ر نہیں کہ کب دوبارہ زندہ کیے جائیں گے

نبی صلی اللہ علیہ و سلم جب غزوہ بدر کے اختتام پر کنویں پر جاکر مشرکین کے قتل ہوجانے والے سرداروں کو نام بنام پکارنے لگے تو عمرؓنے عرض کیا:

یَا رَسُوْلَ اﷲِ مَا تُکَلِّمَ مِنْ اَجْسَادٍ لاَّ اَروَاحَ لَھَا

( بخاری:کتاب المغازی،باب قتل ابی جہل)

’’ اے اﷲ کے رسول !آپ ایسے جسموں سے خطاب کررہے ہیں جن میں روح نہیں‘‘۔

یہی بات قرآن و حدیث سے ثابت ہے کہ زندگی کے دور میں اس جسم اور روح کا اتصال ہوتا ہے اسی لیے یہ جسم شعور و ادراک رکھتا ہے، لیکن جب اس جسم سے روح نکل جاتی ہے تو یہ جسم بے شعور ہوجاتا ہے۔اسی لیے مردہ جسم کو زندہ جسم کی ضد قرار دیا۔

کیا حالت موت میں عذاب ہوتا ہے؟

فرقہ پرستوں کا عقیدہ ہے کہ حالت موت میں بھی اس جسم پر عذاب ہوتا ہے، اس بارے میں کتاب اللہ سے دلائل پیش کئے جاتے ہیں تاکہ ان کے عقیدے کی حقیقت سب کے سامنے آ جائے۔اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے:

﴿وَإِذَا أُلْقُوا مِنْهَا مَكَانًا ضَيِّقًا مُقَرَّنِينَ دَعَوْا هُنَالِكَ ثُبُورًا ؁ لَا تَدْعُوا الْيَوْمَ ثُبُورًا وَاحِدًا وَادْعُوا ثُبُورًا كَثِيرًا﴾

[الفرقان: 13-14]

’’ جب یہ(کفار) جہنم میں تنگ جگہ پر ڈالے جائیں گے تو موت کو پکاریں گے (جواب ملے گا) آج ایک نہیں بہت سی موتوں کو پکارو‘‘۔

﴿وَنَادَوْا يَا مَالِكُ لِيَقْضِ عَلَيْنَا رَبُّكَ قَالَ إِنَّكُمْ مَاكِثُونَ﴾

[الزخرف: 77]

’’ اور وہ آوازیں دیں گے : اے مالک(داروغہ جہنم) تمہارا رب ہمارا کام تمام ہی کردے (یعنی ہمیں موت ہی دیدے )وہ کہے گا:(نہیں) تمہیں (ہمیشہ اسی حالت) میں رہناہے‘‘۔

﴿يَا لَيْتَهَا كَانَتِ الْقَاضِيَةَ﴾

[الحاقة: 27]

’’(وہ کہیں گے)اے کاش موت (ہمیشہ کے لیے)میرا کام کرچکی ہوتی‘‘۔

﴿ يَا لَيْتَنِي كُنْتُ تُرَابًا﴾

[النبأ: 40]

’’(اور تمنا کریں گے) اے کاش میں مٹی ہوگیا ہوتا۔‘‘

نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا:

اِذَا صَارَاَھْلُ الْجَنَّۃِ اِلٰی الْجَنَّۃِ ، وَصَارَ اَھْلُ الْنَّارِ اِلٰی الْنَّارِ، اُتِیَ بِا لْمَوْتِ حَتّٰی یُجْعَلَ بَیِنَ الْجَنَّّۃِ وَ الْنَّارِ ثُمّ یُذْبَحُ ثُمَّ یُنَادِیْ مُنَادٍ :یَّآ اَھْلَ الْجَنَّۃِ لَا مَوْتَ، وَ یَا اَھْلَ الْنَّارَ ، لَا مَوْتَ، فَیَزْدَادُ اَھْلَ الْجَنَّۃِ فَرَحًا اِلٰی فَرَحِھِمْ، وَیَزْدَادُ اَھْلَ الْنَّارِ حُزْنَا اِلٰی حُزْنِھِمْ

(مسلم:کتاب الجنۃ و صفۃ نعیمھا واھلھا باب جھنم)

’’جب جنت والے جنت میں چلے جائیں گے اور جہنم والے جہنم میں تو موت لائی جائے گی اور جنت اور جہنم کے درمیان اسے ذبح کردیا جائے گا ، پھر ایک پکارنے والا پکارے گا اے جنت والو! اب کوئی موت نہیں ہے، اور اے جہنم والو! اب کوئی موت نہیں ہے۔یہ سن کر جنت والوں کو خوشی پر خوشی حاصل ہوگی اورجہنم والوں کے رنج میں اضافہ ہوجائے گا‘‘۔

یُنَادِیْ مُنَادٍ اَنَّ لَکُمْ اَنْ تَصِحُّوْا فَلاَ تَسْقَمُوْٓا اَبَدًا وَّ اَنَّ لَکُمْ اَنْ تَحْیَوْا فَلاَ تَمُوْتُوْٓا اَبَدًا وَّ اَنَّ لَکُمْ اَنْ تَشِبُّوْا فَلاَ تَھْرَمُوْٓا اَبَدًا وَّ اَنَّ لَکُمْ اَنْ تَنْعَمُوْا فَلاَ تَبْأَسُوْا اَبَدًا۔۔۔۔۔۔

(مسلم:کتاب الجنۃ و صفۃ نعیمھا واھلھ)

’’ایک پکارنے والا (جنتیوں کو) پکارے گا:تمہارے لیے یہ طے کردیا گیا ہے کہ تم صحت مند رہو گے اور کبھی بیمار نہ پڑوگے، اور یہ کہ تم زندہ رہوگے اور تمہیں کبھی موت نہ آئے گی، اور یہ کہ تم ہمیشہ جوان رہوگے اور کبھی بوڑھے نہ ہوگے ، اور یہ کہ تم عیش و چین میں رہوگے اور کبھی کوئی رنج نہ ہوگا ۔۔۔۔۔۔‘‘

کیا وجہ ہے کہ کفار جب جہنم میں ڈالیں جائیں گے تو موت کی تمنا کریں گے؟ موت کو پکاریں گے؟قرآن بیان کرتا ہے:

﴿وَالَّذِينَ كَفَرُوا لَهُمْ نَارُ جَهَنَّمَ لَا يُقْضَى عَلَيْهِمْ فَيَمُوتُوا وَلَا يُخَفَّفُ عَنْهُمْ مِنْ عَذَابِهَا﴾

[فاطر: 36]

’’جن لوگوں نے کفر کیا ان کے لیے جہنم کی آگ ہے، ان کا معاملہ پورا نہ کیا جائے گا کہ ان کو موت آ جائے ،نہ ان کے عذاب میں کمی کی جائے گی‘‘۔

قرآن نے بتایا کہ عذاب سے بچنے کی دو ہی صورتیں ہیں: ایک یہ کہ ان کو موت آجائے یا پھر اﷲ تعالیٰ ان کے عذاب میں کمی فرمادے۔یہی وجہ ہے کہ جب موت کو ذبح کرکے یہ اعلان کردیا جائے گا کہ اب کوئی موت نہیں تو جہنمیوں کا رنج بڑھ جائے گا کیونکہ موت ہی وہ چیز تھی کہ جس سے ان کو اپنے عذاب کے ختم ہونے کی امید تھی؛ اور دوسری طرف جنتی خوش ہو جائیں گے کہ اب کوئی چیز ایسی نہیں کہ ہم کو اس بھر پور جزا سے محروم کرسکے۔

قرآن و حدیث سے واضح ہوا کہ موت کے اس دور میں اس جسم کا جزا و سزا سے کوئی تعلق نہیں بلکہ یہ تو وہ کیفیت ہے کہ جس کی وجہ سے یہ دنیاوی جسم جزا وسزا سے دور رہتا ہے۔

قرآن و حدیث کے دیئے ہوئے عقیدے کے مقابلے میں یہ مسلک پرست حالت موت میں عذاب و راحت کا عقیدہ رکھتے ہیں اور اس کی وجہ یہی بتاتے ہیں کہ اس مردہ جسم میں شعور و ادراک باقی رہتا ہے۔ چنانچہ لکھتے ہیں:

’’اور اموات کے احساس و شعور سے کسے انکار ہے؟ اگر ان میں احساس شعور نہ ہو تو قبر کا عذاب کیسے ہوسکتا ہے اور اموات جنت کے فوائد سے کیسے مستفید ہوسکتے ہیں؟‘‘ (روح عذاب قبر اور سماع موتیٰ،از عبد الرحمن کیلانی ( اہلحدیث )،صفحہ۱۲۰)

حقیقت یہ ہے کہ ان مسلکی علماء کے تحت الشعور میں اﷲ کا دیا ہوا عقیدہ موجود ہے، لیکن اس کا انکار اس لیے ضروری ہے کہ ان کے فرقے کا عقیدہ اس کے خلاف ہے۔ مندرجہ بالا تحریر عبد الرحمن کیلانی صاحب نے ڈاکٹر عثمانی رحمۃ اﷲعلیہ کے قرآن و حدیث پر مبنی دلائل کو جھٹلانے کے لیے لکھی ہے، ورنہ جب بات دیگر مسلک والوں کو نیچا دکھانے کی ہوتی ہے تو یہی موصوف ان پر اس طرح برستے ہیں:

’’اور یہی وہ بنیاد ہے جس کی طبقہ صوفیا کو ضرورت تھی۔ لیکن قرآن ان کی ایک ایک بات کی پرزور تردید کرتا ہے۔ وہ کیا ہے کہ یہ دور موت کا دور ہے زندگی کا دور نہیں قبروں میں پڑے ہوئے لوگ مردہ ہیں نہ ان میں شعور ہے نہ یہ سن سکتے ہیں، نہ جواب دے سکتے ہیں۔ اب دو ہی راستے ہیں یا تو ان اماموں اور بزرگوں کی روایات اور اقوال اور مکاشفات کو مان لیجئے اور قرآن سے دستبردار ہو جائیے ورنہ ان سب خرافات سے دست بردار ہونا پڑے گا‘‘۔ ( ایضاً: صفحہ ۵۶)

اوریوں بالآخر اہلحدیثوں نے خود ہی اپنے اوپر قرآن سے دستبرداری کا فتویٰ چسپاں کر ڈالا!

کیسے دو چہرے ہیں ان کے جب ڈاکٹر عثمانی رحمۃ اﷲعلیہ کی تحریر کو رد کر نے اور اپنا باطل عقیدہ ثابت کرنے کی ٹھانی تو قرآن و حدیث کے دلائل کو رد کرتے ہوئے’’شہادت زُور‘‘ کا روّیہ اپنا یااور کہا کہ مردہ میں احساس و شعور ہوتا ہے،اور جب دوسرے مسلک والوں کو ہرانے کی بات ہوئی تو قرآن و حدیث کے انہی دلائل کو بنیاد بناتے ہوئے مردوں کو احساس و شعور سے عاری بتایا اور اس کے خلاف عقیدہ رکھنے پران پر قرآن سے دستبرداری کا فتویٰ نافذ فرما دیا۔یہ ہے شان خود کو اہلحدیث کہنے والوں کی!

مرا ہوا انسان اللہ کے نزدیک کیا حیثیت رکھتا ہے

فرقہ اہلحدیث کا ہر عالم و مفتی نئی نئی کہانیاں سناتا ہے۔ قاری خلیل اہلحدیث کے اس فرقے سے ہیں جو مرنے کے بعد روح لوٹائے جانے والی روایات کو ضعیف قرار دیتا ہے، لیکن عقیدہ وہی ہے کہ اللہ تعالیٰ اس مردہ جسم کو عذاب دیتا ہے ، چنانچہ لکھتے ہیں :

’’پہلی بات تو یہ ہے کہ کسی چیز کا بے جان ہونا صرف ہمارے لیے ہے۔ اﷲ سبحانہ و تعالیٰ کے لیے کوئی چیزبے جان نہیں ہے۔۔۔‘‘۔ (پہلا زینہ ،از قاری خلیل اہلحدیث، صفحہ ۵۴)

اس سے قبل ایک دوسرے اہلحدیث کا بیان بھی آپ کی نظروں سے گزرا اور اب ان موصوف کا یہ

بیان بھی آپ کے سامنے ہے۔یہ لوگ اپنے آپ کو قرآن و حدیث پر چلنے والا بیان کرتے ہیں لیکن کیاان کی اس طرح کی تحریروں میں آپ کوقرآن و حدیث کی کوئی دلیل نظر آتی ہے؟یہ ساری باتیں آخر لفاظی تک ہی کیوں محدود ہیں؟ اپنے ان عقائد کے ثبوت میں کتاب اﷲ کا کوئی حوالہ کیوں نہیں دیا جاتا؟دراصل عقیدہ پہلے سے بنا ہوا ہے اور کسی صورت میں قرآن و حدیث سے ثابت نہیں ہورہا ،اس لیے اب اس طرح کی منطق سے کام نہ لیا جائے تو پھر کیا کیا جائے۔ قرآن و حدیث سے ان کی اس منطق کا جواب دینا ہر گز مشکل نہیں لیکن ہم بات صرف اس مردہ جسم تک ہی محدود رکھتے ہیں۔

مرا ہوا یہ انسان اﷲ تعالیٰ کے نزدیک بے جان ہے یا جاندار؟

اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے:

أَمْوَاتٌ غَيْرُ أَحْيَاءٍ

[النحل: 21]

’’مردہ ہیں،ان میں زندگی کی رمق تک نہیں‘‘۔

﴿إِنَّمَا يَسْتَجِيبُ الَّذِينَ يَسْمَعُونَ وَالْمَوْتَى يَبْعَثُهُمُ اللَّهُ ثُمَّ إِلَيْهِ يُرْجَعُونَ﴾

[الأنعام: 36]

’’حقیقت یہ ہے کہ (دعوت حق) پر لبیک وہی کہتے ہیں جو سنتے ہیں، رہے مردے تو اﷲ ان کو اٹھائے گا پھر وہ اسی کی طرف پلٹائے جائیں گے‘‘۔

﴿إِنَّكَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتَى ﴾

[النمل: 80]

’’ (اے نبی ﷺ) بے شک تم مردوں کو نہیں سنا سکتے‘‘۔

﴿ إِنَّ اللَّهَ يُسْمِعُ مَنْ يَشَاءُ وَمَا أَنْتَ بِمُسْمِعٍ مَنْ فِي الْقُبُورِ﴾

[فاطر: 22]

’’بے شک اﷲ جسے چاہے سنا سکتا ہے اور تم انہیں نہیں سنا سکتے جو قبروں میں ہیں‘‘۔

﴿وَلَوْ أَنَّ قُرْآنًا سُيِّرَتْ بِهِ الْجِبَالُ أَوْ قُطِّعَتْ بِهِ الْأَرْضُ أَوْ كُلِّمَ بِهِ الْمَوْتَى ﴾

[الرعد: 31]

’’اگر کوئی قرآن ایسا ہوتا ہے کہ ( اس کی تاثیر) سے پہاڑ چلنے لگتے یا زمین پھٹ جاتی یا مردے کلام کرنے لگتے‘‘۔

﴿وَلَوْ أَنَّنَا نَزَّلْنَا إِلَيْهِمُ الْمَلَائِكَةَ وَكَلَّمَهُمُ الْمَوْتَى وَحَشَرْنَا عَلَيْهِمْ كُلَّ شَيْءٍ قُبُلًا مَا كَانُوا لِيُؤْمِنُوا إِلَّا أَنْ يَشَاءَ اللَّهُ وَلَكِنَّ أَكْثَرَهُمْ يَجْهَلُونَ﴾

[الأنعام: 111]

’’اور اگر ہم ان پر فرشتے بھی اتاردیتے اور مُردے بھی ان سے گفتگو کرنے لگتے اورہم سب چیزوں کو ان کے سامنے لاموجود بھی کردیتے تو بھی یہ ایمان نہ لاتے ۔ مگریہ کہ اﷲایسا چاہتا۔لیکن ان کے اکثرلوگ جاہل ہیں۔‘‘

ان تمام آیات میں اﷲ تعالیٰ مر جانے والوں کو مردہ و بے جان کہہ رہا ہے جو نہ سن سکیں اور نہ بات کرسکیں اور یہ ایک کلیہ ہے جو ناقابل ردّ ہے، لیکن یہ مسلک پرست فرماتے ہیں کہ اﷲ کے لیے کوئی چیزبے جان نہیں۔

اب اگر اﷲ کے نزدیک یہ مرجانے والے بے جان نہیں تو قیامت کے دن اﷲ کسے زندہ کرکے اٹھائے گا؟

 

یہ مسلکی علماء، لوگوں کو اس قسم کی مشکوک باتوں میں الجھا کر اپنے خود ساختہ عقیدے کے لیے راہ ہموار کرنا چاہتے ہیں۔اب یہ انہی کا ظرف ہے کہ اﷲ تعالیٰ کے فرامین کو اپنی تحریروں سے رد کرنے کی کوشش کریں!

’’ قیامت کے دن کے معاملہ کو اس مردہ جسم پر تھوپ دینا

شروع سے لیکر اب تک آپ مختلف فرقوں کے علما ء اور خاص کر فرقہ اہلحدیث کے علما ء کی خلاف قرآن و حدیث تحریریں پڑھتے چلے آ رہے ہیں کہ کس طرح زبردستی اسی مردہ جسم پر عذاب ہونے کا عقیدہ ٹھونسنا چاہتے ہیں، اب ہم ان کے بہت ہی بڑے عالم علامہ بدیع الدین شاہ راشدی کی تحریر پیش کر رہے ہیں۔ ان سے ایک سوال کیا گیا تو سوال و جواب دونوں ملاحظہ فرمائیں:

’’کہتے ہیں کہ مردہ جسم بے حس ہوتا ہے، اس کو تکلیف کا کوئی احساس نہیں ہو سکتا، پس اس کو عذا ب دینے کا کیا فائدہ؟ الجواب: یہ ان کا اﷲ کی قدرت پر اعتراض ہے۔ دیکھو!زبان کو اﷲ نے کلام کرنے کی طاقت دی ہے، مگر کسی اور عضو کا بولنا معقول نہیں، لیکن قیامت کے دن انسان کے دوسرے اعضاء بھی بولنے لگیں گے۔جیسا کہ ارشاد ہے: ’’ ہم آج کے دن ان کے منہ پر مہر لگادیں گے اور انکے ہاتھ ہم سے باتیں کرینگے اور ان کے پاؤں گواہیاں دینگے ان کاموں کی جو وہ کرتے تھے۔۔۔ اب غور کریں کہ ہاتھ،پاؤں،کانوں،آنکھوں اور چمڑیوں میں بولنے کی طاقت نہیں، جب زبان بند ہوتی ہے،تو یہ سارے اعضا ء بولنے سے عاجز ہوتے ہیں، اور مشاہدہ میں آیا ہے کہ جوگونگا ہوتاہے،تو اس کا کوئی دوسرا عضو بات نہیں کرسکتا، مگر اﷲ نے چاہا تو ان سے یہ کام لے لیا‘‘(عذاب قبر کی حقیقت، از بدیع الدین شاہ راشدی،صفحہ ۱۴،۱۵)

اس کو کہتے ہیں پوچھو کھیت کی تو سنائے کھلیان کی! یہاں دلیل درکار ہے اس مردہ گل سڑ جانے والے دنیاوی جسم کے شعور و ادراک کی اورمثا ل پیش کی جا رہی ہے ان جسموں کی کہ جن میں

دوبارہ تخلیق کے بعد روح ڈال دی جائے گی۔جس جسم میں روح موجود ہو اس کے شعور و ادراک سے کسے انکار ہے؟ رہی بات کہ جسم کے دوسرے اعضاء بولیں گے اور گواہی دیں گے تویہ معاملہ صرف یوم آخرت یعنی حساب کتاب کے لیے بیان فرمایا گیا ہے جبکہ نظام بالکل ہی مختلف ہوگا۔اس معاملے میں بھی ہمارا ایمان صرف اسی حد تک ہوگا ،کسی اور موقع کے لیے اس بات کو دلیل بنانامحض جہالت ہے۔یہی راشدی صاحب مزید فرماتے ہیں:

’’چنانچہ نوح علیہ السلام کی قوم کے لیے فرمایا:۔۔۔۔۔۔یہ لوگ بہ سبب اپنے گناہوں کے ڈبودئے گئے اور جہنم میں پہنچادیئے گئے اور اﷲ کے سوا اپنا مدد گار انہوں نے نہ پایا‘‘۔ اب سوال یہ ہے کہ یہاں ماضی کے صیغے ہیں، جن میں گذری ہوئی باتوں کا ذکر ہے، جب ڈوب کر مرگئے اور بے حس ہوگئے پھر کیونکر ان کو آگ میں ڈالا گیا؟‘‘۔(ایضاً :صفحہ ۱۷)

کیسی مہر لگی ہے ان پر کہ قرآن کی آیت پیش کرتے ہیں اور عقیدہ اس کے خلاف رکھتے ہیں!قرآن و حدیث کا دیا ہوا عقیدہ تو یہ ہے کہ یہ جسم مٹی سے بنا ہے، مرنے کے بعد مٹی میں جاتاہے، روح جنت یا جہنم(عالم برزخ) میں پہنچادی جاتی ہے اوراسے ایک دوسرا جسم دیا جاتا ہے ،روح اور اُس جسم کایہ مجموعہ قیامت تک حسب انجام سزا یا جزا سے نوازا جاتا ہے،قیامت کے دن ان گلے سڑے دنیاوی جسموں کی دوبارہ تخلیق کی جائے گی،ان میں روح لوٹا دی جائے گی اور پھر انہیں حسب انجام جنت یا جہنم میں داخل کیا جائے گا۔ بدیع الدین راشدی صاحب ان اہلحدیثوں کے صف اوّل کے عالم مانے جاتے ہیں جن کے بارے میں ایک دوسرے اہلحدیث ’’عالم‘‘ یہ مبالغہ آرائی کرتے ہیں کہ

ناصرالسنۃ النبویۃ، ناصرالعقیدۃ السلفیۃ، قامع البدعۃ، المجاھد لاعلاء کلمۃ اﷲ، الصلب فی النسبۃ، الملازم للعبادۃ، العالم الفاضل، المحدث الفقیۃ ، رئیس المحققین، العلامۃ الشیخ السیدبدیع الدین الشاہ السندی الراشدی ۔۔۔(ہدایۃ المستفید:ج ۱ص۱۰۰ بحوالہ حدیث اور اہلحدیث:ص ۱۳۴)

یعنی موصوف سنت نبوی کے محافظ و مددگار ہیں،اسلاف کے عقیدے کی حفاظت کرنے والے ہیں، بدعات کو ختم کرنے والے، اﷲکے کلمے کو بلند کرنے والے مجاہد ہیں، نسباً بزرگ و برتر ہیں، عبادت کو لازم کیے ہوئے ہیں، عالم و فاضل ہیں، محدث و فقیہ ہیں، تحقیق کرنے والوں کے سربراہ ہیں، بہت بڑے عالم ہیں۔۔۔

مگرحیف کہ ان ’’صفات‘‘ کے مالک عقیدہ یہ دیتے ہیں کہ’’ڈبودیئےگئے اور جہنم میں پہنچادیئے گئے‘‘ اور کہتے ہیں کہ’’جب ڈوب کر مرگئے اور بے حس ہوگئے پھر کیونکر ان کو آگ میں ڈالا گیا؟‘‘

یعنی ثابت کررہے ہیں کہ یہی دنیاوی جسم جہنم میں داخل کردیئےگئےاور اگر یہ جسم اگر بے حس تھے تو ان کو جہنم میں عذاب کے لیے کیوں داخل کیا گیا؟ کیا شہداء کو اڑنے والے جسموں کا ملنا، ان کے علم میں نہیں؟ کیا شہداء کی اﷲتعالیٰ سے درخواست کہ ان کی روحوں کو دنیاوی جسموں میں لوٹادیا جائے، انہیں یاد نہیں!ان پیرجھنڈاصاحب کوایسے ہی اتنے بڑے بڑے القابات دے ڈالے گئے! قیامت سے قبل ان دنیاوی جسموں کے جہنم یا جنت میں داخل کیے جانے کا تو عقیدہ کتاب اﷲ دیتی ہی نہیں ،پھر یہ اہلحدیثوں کے ایمان کا حصہ کیسے بن گیا؟ سچ ہے اکابرپرستی قلب پر ایسا پردہ ڈال دیتی ہے کہ حق کو باطل اور باطل کو حق ثابت کرنے میں لگے رہتے ہیں۔واقعی جس کو اﷲ

ہدایت نہ دے اس کو کوئی ہدایت نہیں دے سکتا۔ ان پیر صاحب کا بیان ایک طرف، ایک دوسرے اہلحدیث اسی بابت فرماتے ہیں:

’’سورہ نوح کی اس آیت سے معلوم ہوا کہ پانی میں جسم غرق ہوئے اور جہنم میں جسموں کو نہیں بلکہ ان کی روحوں کو داخل کیا گیا۔البتہ جسم بھی روح کے ساتھ عذاب میں شریک ہیں۔جیسا کہ عذاب قبر کی احادیث سے یہ مسئلہ واضح ہے اور ہمارے لیے عذاب کے ان اثرات کو دیکھنا اور محسوس کرنا ناممکن ہے کیونکہ یہ غیب کا معاملہ ہے جسے حواس محسوس کرنے سے قاصر ہیں‘‘۔(عقیدہ عذاب قبر، از ابوجابر عبد اﷲ دامانوی، صفحہ۲۵)

ایک اہلحدیث ’’عالم‘‘ کہتا ہے کہ دنیاوی جسم ہی آگ میں داخل کردیئے گئے، دوسر ا اہلحدیث’’ مفتی‘‘ کہتا ہے کہ جسم جہنم میں نہیں داخل کیے گئے بلکہ روح جہنم میں گئی جس کو وہاں عذاب ہورہا ہے اور جسم بھی اس کے ساتھ شریک ہے۔

کیسے شریک ہے ؟ قرآن و حدیث سے کوئی دلیل نہ دے سکے تو وہی پرانا اندازکہ یہ غیب یا برزخ کا معاملہ ہے ۔ سوال یہ ہے کہ یہ عقیدہ قرآن و حدیث میں کہاں ملتا ہے کہ مرنے والے کو دو عذاب ہوتے ہیں:روح کو علیحدہ اور جسم کو علیحدہ۔قرآن کی ایک ہی آیت ،دونوں مفتیان ایک ہی فرقے کے ماننے والے،مگر عقائد میں اتنا فرق کیوں! صرف اور صرف اس وجہ سے کہ قرآن و حدیث کا دیا ہوا عقیدہ چھوڑ کر اپنے اکابرین کا عقیدہ اپنا لیا گیا ہے۔ جب کتاب اﷲ سے تمسک ختم ہو جائے، اس بنیاد کوہی ترک کر دیا جائے جو اسلام کی بنیاد ہے تو پھراسی طرح ایک کچھ کہے گا اور دوسرا کچھ۔فاعتبروا یا اولی الابصار

اﷲ تعالیٰ نے قرآن مجید میں نوح کی قوم ،آل فرعون، نوح و لوط علیہما السلام کی بیویوں کے مرنے کے بعد جہنم میں داخلے کا بیان فرمایا اور ان کے دنیاوی جسموں کا کوئی ذکر نہ کیا لیکن ان مفتیوں کے علم کی داد دیجیے کہ ان کو پتہ چل گیا کہ ’’البتہ جسم بھی روح کے ساتھ عذاب میں شریک ہیں ‘‘۔ نبی ﷺنے عمرو بن لحی اورابو ثمامہ عمر و بن دینار کے جہنم میں عذاب ہونے کا ذکر فرمایا لیکن ان کے ان دنیاوی جسموں کا ذکر نہ کیا ۔ اب نا معلوم ’’کون ‘‘ہے جو ان کو وحی کردیتا ہے کہ ۔۔۔۔۔۔؟وان الشیطین لیؤحون الی اولیاءھم

سوال یہ ہے کہ اس طرح کی تمام باتیں ہمارے ایمان کا حصہ کیسے بنیں کہ تمام کائنات اﷲ کی تسبیح بیان کرتی ہے، پتھربولیں گے، پتھرکپڑے لے کر بھاگ سکتا ہے، نبی ﷺکے سامنے کھجور کاکٹا ہوا تنا رویا،اﷲ کے حکم سے آگ ٹھنڈی ہوگئی، اﷲ کے حکم سے قیامت کے دن انسانی اعضاء گواہی دیں گے ۔۔۔۔۔۔صرف اور صرف اس وجہ سے کہ یہ ساری باتیں قرآن و حدیث بیان کرتے ہیں۔اگر قرآن و حدیث سے یہ بات ثابت ہوتی کہ مردہ جسم شعور رکھتا ہے یا اسی کو عذاب ہوتا ہے، تو ہم سب سے پہلے اس پر ایمان لاتے چاہے ہماری عقل اس کو قبول کرتی یا نہیں، لیکن جب اس بارے میں کتاب اﷲ سے اس قسم کا عقیدہ ملتا ہی نہیں تو محض قیاس و گمان پر ایمان کیسا؟اہلحدیثوں کے نزدیک تو ویسے بھی قیاس شجرممنوعہ ہے! آل فرعون کے حوالے سے بھی یہ مسلک پرست لوگوں کو گمراہ کرتے ہیں لہٰذا ضروری ہے کہ لوگوں کے سامنے اس کی حقیقت بھی بیان کی جائے۔ اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے:

﴿فَوَقَاهُ اللَّهُ سَيِّئَاتِ مَا مَكَرُوا وَحَاقَ بِآلِ فِرْعَوْنَ سُوءُ الْعَذَابِ ؁ النَّارُ يُعْرَضُونَ عَلَيْهَا غُدُوًّا وَعَشِيًّا وَيَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ أَدْخِلُوا آلَ فِرْعَوْنَ أَشَدَّ الْعَذَابِ﴾

[غافر: 45-64]

’’آخر کار ان لوگوں نے جو بری چالیں (اس مومن کے خلاف) چلیں،اﷲ نے سب سے اس کو بچا لیا اور آل فرعون خود بدترین عذاب کے پھیرے میں آگئے۔جہنم کی آگ ہے جس پر صبح و شام وہ پیش کیے جاتے ہیں اور جب قیامت برپا ہوگی(توحکم ہوگاکہ)آل فرعون کو شدید تر عذاب میں داخل کردو‘‘۔

اب ملاحظہ فرمایئے اہلحدیث کیا فرماتے ہیں:

’’صبح و شام تمام فرعونی آگ پر پیش کئے جاتے ہیں لیکن مصر کے عجائب گھر میں آج بھی فرعون کی لاش موجود ہے اور کبھی بھی مصری پریشان نہیں ہوئے کہ صبح و شام لاش کہاں غائب ہوجاتی ہے۔۔۔۔ اس لیے کہ فرعون کی لاش وہاں سے کبھی غائب نہیں ہوتی لیکن اﷲ سبحانہ و تعالیٰ کا قرآن کریم سچا ہے وہ یقیناًبلا ناغہ آگ پر پیش ہوتا ہے لیکن اس پیشی کو بھی برزخ میں رکھا گیا یعنی ہمارے اور ان کے درمیان پردہ حائل کردیا گیا ہے جس کی وجہ سے ہم ان کے ساتھ ہونے والے سلوک کو دیکھنے سے قاصر ہیں‘‘۔ (پہلا زینہ، از قاری خلیل الرحمن اہلحدیث، صفحہ۸۱)

کہتے ہیں ہمارے اور ان کے درمیان پردۂ برزخ ہے اس لیے ان کے ساتھ جو ہو رہا ہے وہ ہمیں دکھائی نہیں دے رہایعنی عذاب اسی مردہ جسم پر ہو رہا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ اس دنیاوی جسم پر عذاب ہونے کاتذکرہ ہی نہیں ہے بلکہ فرمایا گیا ہے کہ جہنم کی آگ پر یہ فرعونی پیش کیے جاتے ہیں ۔ یہی قانون کتاب اﷲ اور احادیث رسول میں بیان کیا گیا ہے کہ روحوں کو( دوسرے جسموں میں ڈال کر) جہنم کی آگ پر پیش کیا جاتا ہے۔ رہا پردۂ برزخ ، تو اس کی وضاحت پچھلے مضمون میں بیان کی جاچکی ہے، یہ ڈرامہ اب مزید نہیں چل سکتا۔

ذرا دوسرے مفتی صاحب کا فتویٰ بھی دیکھ لیں:

’’اﷲ تعالیٰ نے فرعون کی لاش کو عبرت کے لیے محفوظ فرمادیا جیسا کہ کاتب وحی جسے زمین نے اپنے اندر جگہ نہیں دی اور دفن کے بعد زمین نے اسے باہر اگل دیا۔(صحیح بخاری)اب اگرچہ ان لاشوں پر عذاب کے کوئی اثرات ہمیں نظر نہیں آتے جیسا کہ قبض روح کے وقت مرنے والے پر عذاب یا پٹائی کا کوئی اثر ہم نہیں دیکھتے اور عذاب قبر کی واضح احادیث جن میں دفن کے بعد میت کے مبتلائے عذاب ہونے کا ذکر موجود ہے (اور جن کا بیان تفصیل سے عنقریب کیا جائے گا ان شاء اﷲالعزیز) لیکن ان تمام معاملات کا تعلق پردہ غیب سے ہے اس لیے ہم اس پر ایمان لاتے ہیں اور کیفیت کو اﷲ تعالیٰ کے سپرد کرتے ہیں۔ اس آیت میں آل فرعون صبح و شام جس آگ پر پیش کئے جارہے ہیں وہی عذاب قبر ہے،اور قیامت کے دن جس اشدالعذاب میں داخل ہوں گے اس سے جہنم کاعذاب مراد ہے جس میں روح اور جسم دونوں کے ساتھ داخل ہوں گے‘‘۔ (عقیدہ عذاب قبر، از ابو جابر عبداﷲ دامانوی، صفحہ ۳،۲۴)

سورہ انفال اور سورہ محمد کے حوالے سے اس سے قبل تشریح کردی گئی ہے کہ فرشتے زندہ انسان کی روح قبض کرتے وقت اسے مارتے ہیں، مردہ جسم پر مارنے کا کوئی بیان ان آیات میں نہیں ملتا ،لہٰذا اس کو دلیل بنانا محض گمراہی اور لوگوں کو دھوکہ دینا ہے۔ یہ خود بھی گمراہ ہوئے اور نہ جانے کتنوں کو گمراہ کیا ہے۔

مفتی صاحب نے اپنے فرقے کے عقیدے کو بچانے کے لیے پردۂ غیب کا بہانہ توتراش لیا لیکن قرآن کے اس بیان کو کہاں لے جائیں گے کہ النَّارُ يُعْرَضُونَ عَلَيْهَا غُدُوًّا وَعَشِيًّا ’’جہنم کی آگ ہے جس پر صبح و شام وہ پیش کیے جاتے ہیں‘‘یعنی عذاب یہاں نہیں ہو رہا بلکہ جہنم میں ہو رہا ہے ۔ اب موصوف کیسے تسلیم کرلیں کہ یہ جہنم کاتذکرہ ہے کیونکہ اگر یہ بات تسلیم کرلی جائے تو ظاہر ہے ان کے جھوٹ کا بھانڈہ پھوٹ جائے گا۔ لہٰذا مفتی صاحب نے النّار ’’جہنم کی آگ ‘‘ کے معنی ہی بدل ڈالے کہ نہ رہے گا بانس اور نہ بجے گی بانسری! چنانچہ لکھتے ہیں:’’اس آیت میں آل فرعون صبح و شام جس آگ پر پیش کئے جارہے ہیں وہی عذاب قبر ہے‘‘

ملاحظہ فرمایا کہ کس طرح انہوں نے کمال فنکاری دکھاتے ہوئے اسے ’’ جس آگ‘‘ کہہ ڈالا! کوئی ان مفتی صاحب سے پوچھے کہ قرآن و حدیث میں بے شمار جگہ النّارکا لفظ آیا ہے، کیا معنی ہیں النّار کے؟ یہ کافر و مشرک ’’جس آگ‘‘ میں عذاب دیئے جاتے ہیں یا جہنم کی آگ میں! یہ ہے ان مسلک پرستوں کا انداز!

کیا یہ بدترین علمی خیانت نہیں؟ کیا اپنے فرقے کے عقیدے کے دفاع کے لیے قرآن مجید کے الفاظ کے معنی و مفہوم بدل دینا جائز ہے؟

سڑے گلے جسم پر عذاب ہونا

اہلحدیث حضرات احادیث صحیحہ کی غلط تشریحات کرکے اسی قبر اور جسم پر عذاب ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔قبرپرٹہنیاں گاڑنے والی حدیثِ بخاری پیش کرکے عبد الرحمن کیلانی صاحب دعویٰ کرتے ہیں کہ:

’’آپ ؐ نے اسی قبر پر ہری ڈالی گاڑی جس میں جسم مدفون تھے اور فرمایا کہ شاید اس سے عذاب ہلکا ہو۔ یہ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ جسم بھی عذاب سے متاثر ہوتا ہے۔‘‘ (روح،عذاب قبر اورسماع موتیٰ،صفحہ۷۱)

وضاحت: :

نبی ﷺ نے یہ نہیں فرمایا کہ ان قبروں میں عذاب ہو رہا ہے۔ اگر ان قبروں میں عذاب ہونے کا بیان ہوتا تو بالکل واضح تھا کہ انہی دنیاوی جسموں کو عذاب ہورہا ہے۔ اس کے برعکس نبیﷺ نے تو فرمایا کہ ان قبر والوں کو عذاب ہورہا ہے،یعنی جو ان قبروں میں دفن ہوئے تھے ان کو عذاب ہورہا ہے۔یہ عذاب کہاں ہوتا ہے؟ قرآن و حدیث سے بالکل واضح کردیا گیا ہے۔رہا ان موصوف کا یہ کہنا کہ چونکہ اسی قبر پر ہری شاخیں گاڑی تھیں اس کا مطلب ہے کہ اسی جسم کو عذاب ہورہا تھا، تو یہ محض اپنے گمراہ کن عقیدے کا استخراج ہے۔مشرکین عرب بھی اپنے مردے دفنایا کرتے تھے: عمرو بن لحی اور ابو ثمامہ عمرو بن دینار کے اسی دنیاوی قبر میں دفنائے جانے کے باوجود نبی ﷺ نے ان دونوں کے جہنم میں عذاب دیئے جانے کا ذکر فرمایا۔ اسی طرح خود نبی ﷺ نے اپنے فرزند کی وفات پر جنت میں اس کے لیے ایک دودھ پلانے والی کا ذکر فرمایا۔اس قبر میں دفن کیے جانے کے باوجود نبی ﷺنے صرف جنت میں ملنے والی راحت کا ذکر فرمایا، اس دنیاوی جسم کے بارے میں کچھ بھی نہ کہا؟ کہتے بھی کیسے کہ آپ توقرآن کی تشریح کرنے کے لیے تشریف لائے تھے۔ وہ تویہ مسلک پرست ہیں جو آپ کی احادیث سے اُن باتوں کوکشیدکرنے کی کوشش کرتے ہیں جن سے قرآن کا تضاد ثابت ہو اور جو اِ ن میں ہوں بھی نہیں۔ ایک طرف تو رسول اﷲﷺ کا بیان ہے، دوسری طرف ہے محض گمان ۔ اب ایمان کس پر ہوگا؟ حدیث پر یا نام نہاداہلحدیثوں پر؟

ان کے استدلال کی جولانیاں دیکھیے۔ فرماتے ہیں:

’’ابوہریرہؓ کہتے ہیں کہ:ایک کالا مرد (یاکالی عورت) مسجد میں جھاڑو دیا کرتا تھا۔ وہ مرگیا اور رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ و سلم کو اس کے مرنے کی خبر نہ ہوئی۔۔۔پھر آپؐ اس کی قبر پر آئے اور اس پر نمازِ جنازہ پڑھی۔‘‘یہ حدیث بھی اپنے مضمون میں صاف ہے کہ (۱)قبر سے مراد یہی زمینی گڑھا ہے ورنہ آپ ؐ اس کی قبر پر کیوں تشریف لے گئے؟(۲) یہ کہ قبر پر آکر دعائے استغفار کرنے یا نماز جنازہ پڑھنے سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ اس قبر میں جو جسم پڑا ہے اس کا عذاب و ثوابِ قبر سے تعلق ضرور ہے۔‘‘ ( صفحہ ۷۲)

نبیﷺنے کالے مرد یا کالی عورت کی وفات کے بعد اس کی قبر پر صلوٰۃ ا لمیت ادا فرمائی۔ اہلحدیثوں کو اس عمل سے بھی دنیاوی جسم پر عذاب یا راحت کی خوشبو آگئی حالانکہ یہ تو نہایت سادہ اور عام سی بات ہے کہ صلوٰۃ ا لمیت ادا کرتے وقت میت سامنے رکھتے ہیں۔مذکورہ احادیث کے متن سے پتہ چلتا ہے کہ اس عورت یا مرد کی وفات رات کو ہوئی تھی، صحابہؓ نے نبیﷺ کو جگانامناسب نہ سمجھا اور اس کی ایسے ہی تدفین کردی۔نبی ﷺ نے معلوم ہونے پر اس کی قبر پر جاکر صلواۃ ا لمیت ادا کی۔ نبیﷺ کے اس عمل سے ان مسلک پرستوں کی تسلی نہ ہوسکی، شاید ان کے ذہن میں ہو کہ قبر سے لاش کو باہر نکال کر صلوٰۃ ا لمیت ادا کرنی چاہیے تھی! اب چونکہ ایسا نہیں کیا گیا بلکہ قبر میں مدفون میت پر ہی صلوٰۃ ادا کردی گئی تو اس سے اسی دنیاوی جسم پر عذاب یا راحت کا عقیدہ کشید کرلیا گیا!اس سے قبل انہی موصوف کا یہ فتوی بھی ہم پیش کرچکے ہیں:

’’اور یہی وہ بنیاد ہے جس کی طبقہ صوفیا کو ضرورت تھی۔ لیکن قرآن ان کی ایک ایک بات کی پرزور تردید کرتا ہے۔ وہ کیا ہے کہ یہ دور موت کا دور ہے زندگی کا دور نہیں قبروں میں پڑے ہوئے لوگ مردہ ہیں نہ ان میں شعور ہے نہ یہ سن سکتے ہیں، نہ جواب دے سکتے ہیں۔ اب دو ہی راستے ہیں یا تو ان اماموں اور بزرگوں کی روایات اور اقوال اور مکاشفات کو مان لیجئے اور قرآن سے دستبردار ہو جائیے ورنہ ان سب خرافات سے دست بردار ہونا پڑے گا‘‘۔ ( ایضاً: صفحہ ۵۶)

اب اہلحدیث صاحبان اس بات کا فیصلہ فرمائیں کہ ان کے ان عالم صاحب کا کونسا فتوی سچا ہے اور کونسا جھوٹا، اور وہ قرآن سےدستبردارہوتے ہیں یا اپنے اکابرین کے باطل عقائد سے؟

!کیا سڑ گل جانے اور مٹی بن جانے والے جسم پر عذاب ہوتا ہے؟

﴿إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا بِآيَاتِنَا سَوْفَ نُصْلِيهِمْ نَارًا كُلَّمَا نَضِجَتْ جُلُودُهُمْ بَدَّلْنَاهُمْ جُلُودًا غَيْرَهَا لِيَذُوقُوا الْعَذَابَ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَزِيزًا حَكِيمًا﴾

[النساء: 56]

’’اور جن لوگوں نے ہماری آیات سے انکار کیا، ان کو ہم عنقریب جہنم میں داخل کریں گے۔ جب ان کی کھالیں گل جائیں گی تو ہم دوسری کھالوں سے بدل دیں گے تاکہ عذاب کا مزہ چکھتے رہیں۔ بے شک اﷲغالب ہے، حکمت والا ہے‘‘۔

یہ ہے قرآن و حدیث کا دیا ہوا عقیدہ کہ اﷲ تعالیٰ دنیا کے گل سڑجانے والے ناقص و ناپائیدار بدن کو عذاب نہیں دیتا(نہ مرنے کے بعد، نہ قیامت کے بعد) بلکہ اس کے لیےقرآن و حدیث کا دیا ہوا عقیدہ تو یہ ہے کہ مٹی کا یہ جسم سڑ گل جاتا اور مٹی میں مل کر مٹی ہو جاتا ہے۔اب جو جسم باقی ہی نہ رہے تو اس کے شعور و ادراک کا کیا مطلب! لیکن ان فرقہ پرستوں نے امت میں عقیدہ پھیلایا ہے :

’’ہاں کبھی کبھی مرنے کے بعد اس جسد عنصری پر بھی عذاب و ثواب کے آثار نمایاں ہوتے ہیں۔بندوں کی عبرت و رغبت کے لیے اور اس عالم امثال میں بغیر تعلق روح کے حیات بسیط کے ساتھ عذاب و ثواب ہوتا ہے جس کو ہم محسوس نہیں کرسکتے اور اس عذاب و ثواب کے لیے اس جسم کا صورت نوعی میں باقی رہنا بھی ضروری نہیں اگر لاکھوں ذرات بن کر ہزاروں قسم کے تغیر و تبدل حاصل کرکے کچھ بھی ہوجائے پر حیات بسیط میں عذاب و ثواب کا محل بن سکتا ہے‘‘۔(الاقوال المرضیہ فی الاحوال البرزخیہ، از محمد حسین نیلوی اشاعتی، صفحہ ۴۴)

’’برزخ میں روح اور روحانی زندگی اصل ہے جسم اس کے تابع ہوکر اس کی نعمت و مصیبت کے اثرات قبول کرتا ہے خواہ وہ اپنی ہئیت پر ہو یا بکھر جائے‘‘۔ (عالم برزخ، از قاری محمد طیب دیوبندی، صفحہ۵)

’’اب کوئی کہے کہ مردہ مٹی ہوجاتا ہے۔جسم گل سڑ جاتا ہے پھر اس میں زندگی کے کوئی آثارنہیں ہوتے تو پھر ایک مردہ جسم کو عذاب کیسے ممکن ہے؟ یہ بات سمجھ میں آئے یا نہ آئے لیکن عذاب ہوتا ہے کیونکہ الصادق الامین جناب محمد رسول اﷲ ﷺ جن کی زبان سے زیادہ سچی زبان کائنات میں کسی کی نہیں ہے جن کی زبان پر اﷲ سبحانہ و تعالیٰ کی وحی جاری ہوتی ہے انہوں نے خبر دی ہے کہ قبر میں عذاب ہوتا ہے لہٰذا ہوتا ہے‘‘۔ ( پہلا زینہ ، از قاری خلیل الرحمن اہلحدیث، صفحہ ۸۲)

ان شاء اﷲ تعالیٰ قبر کے موضوع پر قرآن و حدیث سے دلائل دے کر ان فرقہ پرستوں کے گمراہ کن عقیدے کی بھی قلعی اتاری جائے گی۔ فی الوقت ہم صرف گل سڑ جانے والے مردہ دنیاوی جسم پر بحث کرتے ہیں۔ ان لوگو ں نے یہی عقیدہ گھڑاہے کہ چاہے دنیاوی جسم گل سڑ کر مٹی کے ذرات میں تبدیل ہو جائے، عذاب تو بہرحال اسی کو ہوتا ہے۔حدیث پر عمل کرنے کے دعویداروں کو ہم حدیث سے ہی دلیل دیتے ہیں جو ان کے اس باطل استدلال کے تاروپودبکھیردیتی ہے۔ نبی ﷺنے فرمایا:

۔۔۔فَاِذَا رَجَلٌ جَالِسٌ وَرَجَلٌ قَاءِمٌ بِیَدِہِ (قال بعض اصحابنا عن موسیٰ) کَلُوْبً مِنْ حَدِیْدٍ یُدْخِلُہٗ فِی شِدْقِہٖ حَتّٰی یَبْلُغَ قَفَاہُ ثُمَّ یَفْعَلُ بِشِدْقِہِ الْاَخَرِ مِثْلَ ذٰلِکَ وَیَلْتَءِمُ شِدْقُہٗ ھٰذَا فَیَعُوْدُفَیَصْنَعُ مِثْلَہٗ فَقُلْتُ مَا ھٰذَا قَالَ اِنْطَلِقْ فَانْطَلَقْْنَا حَتّٰی اَتَیْنَا عَلٰی رَجُلٍ مُّضْطَجِعٍ عَلٰی قَفَاہُ وَرَجُلٌ قَاءِمٌ عَلٰی رَاْسِہٖ بِفِھْرٍ اَوْ صَخْرَۃٍ فَیَشْدَخُ بِہَا رَاْسَہٗ فَاِذَا ضَرَبَہٗ تَدْھَدَہُ الْحَجَرُ فَانْطَلَقَ اِلَیْہِ لِیَاْخُذَہٗ فَلَا یَرْجِعُ اِلٰی ھٰذَا حَتّٰی ےَلْتءِمَ رَاْسُہٗ وَ عَادَ رَاْسُہٗ کَمَا ھُوَ فَعَادَ اِلَیِْہِ فَضَرَبَہٗ۔۔۔

(بخاری:کتاب الجنائز، باب بغیرعنوان، عن سمرۃ بن جندب ؓ)

’’۔۔۔۔۔۔(میں دیکھتا کیا ہوں کہ) ایک شخص بیٹھا ہوا ہے اور ایک شخص کھڑا ہے اور اس کے ہاتھ میں لوہے کاآنکڑاہے وہ اس کو بیٹھے ہوئے شخص کے گال میں داخل کرکے گال کو گردن تک پھاڑ ڈالتا ہے پھر اس کے دوسرے گال کے ساتھ یہی عمل کرتا ہے۔ پھر گال جڑ جاتے ہیں اور وہ (کھڑا ہوا) شخص(بیٹھے ہوئے)کے ساتھ دوبارہ یہی معاملہ کرتا ہے۔ میں نے پوچھا کہ یہ کیا ہے۔ کہا آگے چلیے۔ہم چلے یہاں تک کہ ایسے شخص کے پاس پہنچے جو اپنی گدی کے بل لیٹا ہوا تھا اور اس کے سر پر ایک دوسرا شخص پتھر لیے کھڑا ہوا تھا اور پتھر مار کر اس کا سر پھاڑ رہا تھا۔ پتھر سر پر پڑنے کے بعد ایک طرف لڑھک جاتا تھا اور پتھر مارنے والا اس کو اٹھانے کے لیے جاتا اور اس درمیان میں کہ وہ پھر واپس آئے ،سر پھر جڑ جاتا اور ویسے ہی ہوجاتا تھا کہ جیسا پہلے تھا۔ اب پھر وہ پہلے کی طرح پتھر کو سر پر مارتا ہے ۔ ۔ ۔ ‘‘

چونکہ عذاب قبربھی عذاب آخرت ہی ہے یعنی مرنے کے بعد دیا جانے والا عذاب اوروقوع قیامت کے بعد دیا جانے والا عذاب دونوں عذاب آخرت ہی کی شکلیں ہیں،چنانچہ جس طرح مذکورہ بالا حدیث میں مرنے کے بعد ایسے جسم پرعذاب ہوتا دکھایا گیا جوکٹنے، پھٹنے، جلنے کے بعد دوبارہ پہلے کی طرح ہوجاتا ہے تاکہ عذاب کا مزہ برابرچکھتا رہے، اسی طرح قرآن میں قیامت کے بعد دیئے جانے والے عذاب کے لیے بھی بتایا گیا کہ یہ بھی ایسے جسم کو دیا جائے گا جوکٹنے ،پھٹنے، جلنے کے بعدپہلے کی طرح درست حالت میں ہوجائے تاکہ برابرعذاب بھگتا رہے:

﴿إِنَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ بِ‍َٔايَٰتِنَا سَوۡفَ نُصۡلِيهِمۡ نَارٗا كُلَّمَا نَضِجَتۡ جُلُودُهُم بَدَّلۡنَٰهُمۡ جُلُودًا غَيۡرَهَا ﴾

[النساء: 56]

’’اور جن لوگوں نے ہماری آیات سے انکار کیا، ان کو ہم عنقریب جہنم میں داخل کریں گے۔ جب ان کی کھالیں گل جائیں گی تو ہم دوسری کھالوں سے بدل دیں گے‘‘۔

اللہ تعالیٰ آخرت کے عذاب میں پائیدار جسم عطا کرتا ہے کہ اگر اس عذاب کی وجہ سے جسم کا کوئی حصہ جل کر بے شعور ہو جاتا ہے تو اس کو بدل دیا جاتا ہے؛ کٹ یا پھٹ جاتا ہے تو اس کو دوبارہ سے بنا دیا جاتا ہے۔ یہ کیوں ہوتا ہے ؟ لِيَذُوقُوا الْعَذَابَ ’’ تاکہ عذاب کا مزہ چکھتے رہیں‘‘۔

یعنی کھال جل کر بے حس ہوجائے تو اسے دوبارہ بنا دیا جاتا ہے کہ وہ عذاب کو محسوس کر سکے؛ جسم کا کوئی حصہ عذاب کی وجہ سے کٹ پھٹ جائے تو اسے دوبارہ بنا دیا جاتا ہے تاکہ وہ مکمل طور پر عذاب کی اذیت بھگت سکے۔گویا عذاب ایسے جسم کو دیا جاتا ہے جو شعور و ادراک اور احساس رکھنے والا ہو، جس سے دنیاوی جسم تو روح نکل جانے کے بعد محروم ہوجاتا ہے۔

علم کے ان نام نہاد پہاڑوں اور سمندروں سے اچھا عقیدہ تو اس قصاب کا ہے جو بکرا ذبح کرتا ہے تو اس کی کھال اس وقت تک نہیں اتارتا جب تک اس کا تڑپنا ختم نہیں ہوجاتا؛ بار بار چھری مار کر دیکھتا ہے کہ اس میں شعور و ادرا ک تو نہیں ہے۔ جب اس بکرے میں بالکل حرکت نہیں رہتی تو سمجھ لیتا ہے کہ اس کی روح نکل گئی ہے، احساس و شعور کا خاتمہ ہو گیا ہے،تو پھر اس کی کھال بھی اتارتا ہے اوراس کا گوشت بھی کاٹتا ہے۔ یہ’’ علماء دین‘‘،’’حضرت و علامہ‘‘ عقیدہ دیتے ہیں کہ دنیاوی جسم خوا ہ مٹی ہو جائے ،ذرات میں تبدیل ہوجائے ،تب بھی اسے عذاب کا احساس ہوتا ہے جبکہ قرآن عقیدہ دیتا ہے کہ مٹی ہونے والے جسم کو تو عذاب ہی نہیں دینا۔ اسی لیے:

﴿۔ ۔ ۔ يَدَاهُ وَيَقُولُ ٱلۡكَافِرُ يَٰلَيۡتَنِي كُنتُ تُرَٰبَۢا﴾

[النبأ: 40]

’’ ۔ ۔ ۔ کافر (اس دن عذاب سے بچنے کے لیے) خواہش کرے گا کہ کاش میں مٹی ہو جاتا‘‘

یعنی مٹی میں مل کرمٹی بن جانا ، فنا ہو جانا،عذاب سے بچ جانے کی صورت ہے ۔ ان مسلک پرستوں کے کس کس عقیدے کو قرآن و حدیث کی کسوٹی پر پرکھا جائے، ان کی کتب میں تو ایک انبار لگا ہواہے باطل و من گھڑت عقائد و اعمال کا!

جماعت المسلین کے مسعود بی ایس اور اہلحدیثوں کا انوکھا فارمولا

رجسٹرڈجماعت المسلمین اور اہلحدیثوں کا ایک انوکھا فارمولا

ایک طرف تو یہ عقیدہ دیا گیا کہ اس گل سڑ جانے والے دنیاوی جسم پر ہی عذاب ہوتا ہے چاہے گل سڑ جائے تو دوسری طرف ان اہلحدیثوں کے بڑے بڑے’’ علماء ‘‘اور انہی کے ہم مسلک نام نہادجماعت المسلمین والے عقیدہ دیتے ہیں کہ وہ افراد جو جلادیئے جاتے، ڈوب کر مرجاتے یا درندوں کا شکار

بن جاتے ہیں ،یعنی وہ جن کے جسم اس زمینی قبر میں دفن نہیں ہوتے اور یونہی پڑے پڑے گل سڑ جاتے اور مٹی مٹی ہوجاتے ہیں، ان کے ساتھ بالکل انوکھے انداز کا معاملہ کیا جاتا ہے۔اپنے اس باطل عقیدے کو ثابت کرنے کے لیے یہ لوگ بخاری کی حدیث پیش کرتے ہیں کہ پچھلی امتوں میں سے ایک شخص کے مرنے کا وقت آیا تو اس نے اپنی اولاد کو وصیت کی کہ

’’جب میں مر جاؤں تو مجھے جلادینا اور پیس ڈالنا اس کے بعد مجھے(یعنی میری راکھ کو) اڑادینا، کیونکہ اﷲ کی قسم اگر اﷲ تعالیٰ مجھ پر قابو پالے گا تو مجھے ایسا عذاب دے گا جو اس نے کسی کو نہ دیا ہوگا۔چنانچہ جب وہ مر گیا تو اس کے بیٹوں نے اسی طرح کیا۔ پس اﷲ تعالیٰ نے زمین کو حکم دیا کہ اس شخص کے جس قدر ذرات تجھ میں ہیں جمع کر۔ زمین نے جمع کردیئے اور وہ شخص صحیح و سالم کھڑا ہوگیا۔ اﷲ تعالیٰ نے فرمایا تجھے اس حرکت پر جو تو نے کی ہے، کس چیز نے آمادہ کیا؟ اس نے عرض کیا :اے میرے رب! تیرے خوف نے۔پھر اﷲ تعالیٰ نے اسے معاف کردیا۔‘‘

(بخاری:کتاب الانبیاء، باب ماذکرعن اسرائیل)

اس حدیث کو بنیاد بنا کررجسٹرڈجماعت المسلمین والے فرماتے ہیں:

’’دوسرا اشکال: جس شخص کو شیر نے کھالیا اس کی ارضی قبر کہاں بنی کہ اس میں عذاب ہو۔جواب: یہ سوال بھی عقل کی بنیاد پر کیا گیا ہے۔ہماری عقل کی رسائی بڑی محدود ہے اور اﷲ تعالیٰ کی قدرت لا محدود ہے لہٰذا اس قسم کا سوال لغو ہے۔قیامت کے روز اﷲ تعالیٰ اس مردہ کو اس کے اصلی جسم کے ساتھ زندہ کرے گا تو کیا وہ اس شخص کو اصلی جسم کے ساتھ اس دن زندہ نہیں کرسکتا جس دن وہ دفن کیا گیا تھا یا جس دن اُسے شیر نے کھایا تھا۔‘‘۔۔۔ ’’اس حدیث سے ثابت ہوا کہ اﷲ تعالیٰ تمام ذرات کو جمع کرکے دوبارہ پیدا کرسکتا ہے تو پھر اشکال دور ہوگیا کہ شیر کے کھائے ہوئے کی قبر کہاں بنے گی۔ شیر کا کھایا ہوا بھی اسی جسم کے ساتھ زندہ کیا جاسکتا ہے اور پھر اس کو اس کی قبر میں رکھا جا سکتا ہے‘‘۔(تفسیر قرآن عزیز:تفسیر سورہ ابراہیم از مسعود بی ایس سی،رجسٹرڈ جماعت المسلمین، جلد۵، صفحہ ۶۶۴)

اہلحدیث ’’عالم ‘‘محمد قاسم صاحب اسی حدیث کو بنیاد بناتے ہو ئے فرماتے ہیں:

’’اس سے معلوم ہوا کہ اﷲ تعالیٰ نے قبل از قیامت بکھرے ہوئے جسمانی ذرات کو مجتمع فرما کر ان میں جان ڈال دی‘‘۔ ( کراچی کا عثمانی مذہب: صفحہ ۵۶)

یعنی لوٹ پھیر کربات وہی ان اﷲ علی کل شیءٍ قدیر کی ہوئی!مسلک پرستوں کے نادر عقائد میں بار بار اسی چیز کا اعادہ ہے۔ نا معلوم کس دین کو انہوں نے اختیار کیا ہے کہ ان کا کوئی عقیدہ قرآن و سنت سے ثابت ہی نہیں ہوتا ، محض اﷲ تعالیٰ کی قدرت کابارباربہانہ کرناپڑتا ہے(مگر اس پر بھی مااناعلیہ و اصحابی کا منہ بھربھرکر دعویٰ کرنے سے باز نہیں آتے یعنی ان خلافِ قرآن و حدیث عقائد رکھنے کے باوجود دعویٰ کرتے ہیں کہ یہ لوگ اسی راستے پر ہیں جس پر اﷲکے رسول ااور صحابہ ؓتھے!) روح کا معاملہ ہوتا ہے تورجسٹرڈ جماعت المسلمین والے کہتے ہیں:

’’جو خالقِ کائنات سورۂحدید میں فرماتا ہے کہ لوہا آسمان سے نازل کیا گیا ہے اور پھر اسے زمین کی تہہ سے نکلوادے تو اس کے لیے کیا بعید ہے کہ کہ وہ قبر میں روح لوٹا کر مردے کو زندہ کردے‘‘

اب جسم کا معاملہ زیر بحث ہے تو پھروہی بریلوی انداز میں باطل عقیدے کے دفاع میں بہانے کے طورپر اﷲ تعالیٰ کی’’ قدرت‘‘ کا سہارا لیا گیاہے۔ رجسٹرڈجماعت المسلمین والے دراصل مسلک اہلحدیث ہی کو اپنائے ہوئے ہیں۔ اہلحدیثوں نے اگر احمد بن حنبل، ابن تیمیہ اور ابن قیم کے دین کو قبول کیا ہوا ہے، تو یہ بھی اسی مذہب کے پیروکار ہیں۔ اسی وجہ سے ان دونوں کے عقائد میں مکمل ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔یہ ان معنوں میں اپنے متقدمین کی ترقی یافتہ شکل ہیں کہ اپنا نام انہوں نے ان سے ہٹ کر’’مسلمین‘‘ رکھ لیا ہے ورنہ باقی سب کچھ وہی ہے۔ ان کے اس بیان کا اگر کتاب اﷲ سے تقابل کیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ یہ قرآن و حدیث کا کھلا انکار ہے۔مالک کائنات فرماتا ہے:

﴿وَضَرَبَ لَنَا مَثَلًا وَنَسِيَ خَلْقَهُ قَالَ مَنْ يُحْيِي الْعِظَامَ وَهِيَ رَمِيمٌ ؁ قُلْ يُحْيِيهَا الَّذِي أَنْشَأَهَا أَوَّلَ مَرَّةٍ وَهُوَ بِكُلِّ خَلْقٍ عَلِيمٌ﴾

[يس: 78-79]

’’اور ( انسان) ہمارے بارے میں مثالیں بیان کرنے لگا اور اپنی پیدائش کو بھول گیا اور کہنے لگاکہ (جب ہماری) ہڈیاں بوسیدہ ہوجائیں گی توکون ان کو زندہ کرے گا؟ کہدو کہ وہی(اﷲ) زندہ کرے گا جس نے ان کو پہلی بار پیدا کیا تھا اور وہ ہر قسم کا پیدا کرنا جانتاہے‘‘۔

﴿قَدْ عَلِمْنَا مَا تَنْقُصُ الْأَرْضُ مِنْهُمْ ﴾

﴿[ق: 4]

﴿ ”مٹی انکے جسموں سے جو کھا رہی ہے وہ ہمارے علم میں ہے۔“

﴿أَفَعَيِينَا بِالْخَلْقِ الْأَوَّلِ بَلْ هُمْ فِي لَبْسٍ مِنْ خَلْقٍ جَدِيدٍ﴾

[ق: 15]

”کیا ہم پہلی مرتبہ پیدا کر کے تھک گئے ہیں بلکہ یہ دوبارہ پیدا کیے جانے پر شک میں پڑے ہوئے ہیں۔“

نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا

۔۔۔لَیْسَ مِنَ الْاِنْسَانِ شَیْءٌ اِلَّا یَبْلٰی اِلَّا عَظْمًا وَّاحِدًَا وَّ ھُوَ عَجَبُ الْذَّنَبِ وَمِنْہُ یُرَکَّبُ الْخَلْقُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ

(بخاری: کتاب التفسیر، تفسیر سورۃ عم یتسآلون)

’’انسان کے جسم کی کوئی چیز ایسی نہیں ہے جو برباد نہ ہو جائے سوائے ایک ہڈی ’’عجب الذنب‘‘کے اور اسی پر انسانی جسم کو قیامت کے دن پھر بنایا جائے گا‘‘۔

تقابل ملاحظہ فرمایا ،اﷲ کے فرمان اور ان کے دیئے ہوئے عقیدے کا! مالک فرماتا ہے کہ یہ انسانی جسم مرنے کے بعدگل سڑ کر مٹی میں مل جاتا ہے اور زمین ان کے جسموں سے جو کچھ کھارہی

ہے وہ ہمارے علم میں ہے ۔یعنی کتاب اﷲ کاعقیدہ یہی ہے کہ فی الوقت یہ جسم گل رہے ہیں، لیکن انہیں قیامت کے دن دوبارہ بنایا جائے گا ۔ مگر قرآن کی تفسیر لکھنے والے مسلک پرست کہتے ہیں:

’’۔۔۔تو کیا وہ اس شخص کو اصلی جسم کے ساتھ اس دن زندہ نہیں کرسکتا جس دن وہ دفن کیا گیا تھا یا جس دن اُسے شیر نے کھایا تھا‘‘

ملاحظہ فرما یارجسٹرڈ جماعت مسلمین والوں کا عقیدہ کس قدر قرآن و حدیث کے ’’مطابق‘‘ ہے! اﷲ تبارک و تعالیٰ تو ہر کام کرسکتا ہے،لیکن جب مالک فرمائے کہ ابھی یہ جسم گل سڑ رہے ہیں اور قیامت کے دن انہیں دوبارہ بنایا جائے گا،تو اس کے انکار میں عقیدہ گھڑنے والا کون؟’’ مسلم ‘‘کے معنی اطاعت کرنے والے کے ہوتے ہیں،تو قرآن وحدیث کے خلاف عقیدہ رکھنے والی یہ رجسٹرڈ جماعت المسلمین کس کے’’ مسلم‘‘ ہے؟ اﷲ کے ’’مسلم ‘‘توایسے نہیں ہوتے۔ یہ صفت تو اﷲ نے مسلموں کی نہیں بلکہ کافروں کی بیان فرمائی ہے کہ اﷲ ایک بات کا علان کرتا ہے اور وہ اس کا انکار کرتے ہوئے دوسرا عقیدہ بنالیتے ہیں ۔اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے:

﴿ وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ فَأُولَئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ﴾

[المائدة: 44]

’’جو لوگ اﷲ کے نازل کردہ کے مطابق فیصلہ نہ کریں وہی کافر ہیں‘‘۔

انہوں نے ایک مخصوص و استثنائی واقعہ کو بنیاد بنا کر قرآن و حدیث کے دیئے ہوئے عقیدے کامکمل انکار کر ڈالا! یا تو ان کو قرآن وحدیث کا علم ہی نہیں یا پھر ان کے نزدیک ان کی کوئی وقعت نہیں۔ قرآن وحدیث نے اس بارے میں بالکل واضح عقیدہ دیا لیکن نام نہاداہلحدیثوں کی طرح

رجسٹرڈجماعت المسلمین والوں نے بھی اسے شاید اس لیے کوئی اہمیت نہیں دی کہ یہ تو ۱۴سو سال پراناہے، لہٰذااب کوئیlatestعقیدہ لانا چاہیے جس میں کوئی کشش ہو ،کوئی نئی بات ہو کہ جس کی وجہ سے ان کوکچھ سمجھا جائے ورنہ اگر یہی پرانا عقیدہ اب بھی جاری رہا تولوگوں پررفتہ رفتہ حقیقت کھل رہی ہے جس سے ان کے جھوٹے سمجھے جانے کاقوی امکان ہے!نیز یہ کہ بات انہوں نے محض اشکالی نہیں رکھی، بلکہ دوٹوک فیصلہ فرمادیا کہ:

’’۔۔۔تو پھر اشکال دور ہوگیا کہ شیر کے کھائے ہوئے کی قبر کہاں بنے گی۔ شیر کا کھایا ہوا بھی اسی جسم کے ساتھ زندہ کیا جاسکتا ہے اور پھر اس کو اس کی قبر میں رکھا جا سکتا ہے‘‘

یعنی اب یہ کسی قسم کے اشکال کی بات ہی نہیں ہے بلکہ ایسا ہی ہوتا ہے کہ اس کا جسم دوبارہ بنا دیا جاتا ہے اور اسے قبر بھی مل جاتی ہے۔چہ خوب ! ہم نے مسعود بی ایس سی صاحب کی یہ ’’زرین تحریر‘‘ ان کی وفات کے بعد پڑھی۔کاش ان کی زندگی میں ہی یہ نظروں سے گذرجاتی تو بھاگتے ہوئے ان کے پاس جاکر اس قبرستان کا پتہ معلوم کرلیتے جس میں جل کرخاک ہوجانے والے، درندوں کانوالہ بن کرموت کا شکارہونے والے، مرنے کے بعدجلادیئے جانے والے یا جن کے جسموں کو پرندوں کو کھلا دیا جاتا ہے،دفن کیے جاتے ہیں۔ویسے ہو سکتا ہے کی وہ اپنے عمی مقلدین کو اس کا پتہ بتا گئے ہوں۔ اﷲ کے فرمان کے خلاف، انہوں نے یہ فوری طور پر جسموں کے دوبارہ بنائے جانے کا عقیدہ گھڑتو لیا، لیکن بات پھر بھی ادھوری ہی رہی کیونکہ ان مسلک پرستوں کا تو یہی عقیدہ ہے کہ اس زمینی قبر میں ہی عذاب ہوتا اور یہیں راحت ملتی ہے۔لیکن ان مذکورہ مُردوں کی تو قبریں ہی نہیں ہوتیں؟ لیکن اس کے باوجودمسعود صاحب فرماگئے ہیں:

’’۔۔۔اور پھر اس کو اس کی قبر میں رکھا جا سکتا ہے‘‘

تو ان کی قبرکہاں بنتی ہے؟ کہاں واقع ہے ایسا قبرستان؟

کون انہیں دفناتا ہے اور وہ کس کی جوتیوں کی آواز سنتے ہیں؟

یہ ہیں مفسر قرآن!

اہلحدیثون کی طرف سے لکھی گئیں تفاسیر کا حال

اس سے قبل ہم نے مودودی صاحب کی لکھی ہوئی تفسیر’’تفہیم القرآن‘‘ کا بھی حوالہ دیا تھا۔وہاں بھی آپ نے ملاحظہ فرمایا ہوگا کہ کس انداز میں قرآنی آیات کے ترجمے اور تفسیر میں ،قرآن کے دیئےہوئے عقیدے کا رد کیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ عقیدہ ایصال ثواب اور خلیفہ فی الارض کے موضوع پر بھی مودودی صاحب نے قرآن کے موقف کو بدل ڈالا جو کہ فی الحال ہمارا موضوع سخن نہیں۔

اب ہم آپ کے سامنے اہلحدیثوں کی تحریر کردہ تفاسیر کے کچھ حوالے پیش کرتے ہیں جن سے آپ کو بخوبی اندازہ ہوجائے گا کہ آیا یہ تفاسیر قرآن کے دیئے ہوئے عقیدے کی وضاحت کرتی ہیں یا ان میں صرف اپنے مسلک کا دفاع کیا جاتاہے۔

اہلحدیثوں کی ایک تفسیر ’’ احسن البیان‘‘، دارالسلام،ریاض،سعودی عرب سے شائع ہوئی ہے۔قرآنی آیات کا اردو ترجمہ’’ خطیب الہند مولانا محمد جونا گڑھی‘‘ نے کیا، حاشیہ’’حافظ صلاح الدین صاحب ‘‘نے لکھا اور نظرثانی’’ مولانا صفی الرحمن مبارکپوری صاحب ‘‘نے فرمائی ہے۔ مفسر صاحب سورہ مومنون کی آیت نمبر ۱۰۰ کی تفسیر میں اپنے فرقے کے عقیدے کی وکالت کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

’’ دو چیزوں کے درمیان حجاب اور آڑ کو برزخ کہا جاتا ہے۔ دنیا کی زندگی اور آخرت کی زندگی کے درمیان وقفہ ہے، اسے یہاں برزخ سے تعبیر کیا گیا ہے۔کیوں کہ مرنے کے بعد انسان کا تعلق دنیا کی زندگی سے ختم ہو جاتا ہے اور آخرت کی زندگی کا آغاز اس وقت ہوگا جب تمام انسانوں کو دوبارہ زندہ کیا جائے گا۔ یہ درمیانی زندگی، جو قبر میں یا پرندے کے پیٹ میں یا جلائے ڈالنے کی صورت میں مٹی کے ذرات میں گزرتی ہے،برزخ کی زندگی ہے۔انسان کا یہ وجود جہاں بھی اور جس شکل میں بھی ہوگا۔بظاہر وہ مٹی میں مل کرمٹی بن چکا ہوگا، یا راکھ بنا کر ہواؤں میں اڑادیا یا دریاؤں میں بہا دیا گیا ہوگا۔یا کسی جانور کی خوارک بن گیا ہوگا، مگر اﷲ تعالیٰ سب کو ایک نیا وجود عطا فرماکر میدان محشر میں جمع فرمائے گا‘‘۔ (صفحہ ۸۲۵)

فرماتے ہیں :

’’دنیا کی زندگی اور آخرت کی زندگی کے درمیان وقفہ ہے، اسے یہاں برزخ سے تعبیر کیا گیا ہے‘‘

یہ ’’ارشاد‘‘پڑھتے ہی ہمارے ذہن میں اس تفسیر کے اندرونی سرورق پر لکھا ہوا یہ جملہ گھوم گیا کہ ’’ صحیح احادیث کی روشنی میں ایک مختصر مگر جامع تفسیر‘‘۔ جس کسی نے یہ جملہ پڑھا ہوگا تو اسے پڑھتے ہی مرعوب ہو گیا ہوگا کہ مفسر نے بڑی محنت سے ایک ایک صحیح حدیث کا مطالعہ کرکے یہ تفسیر لکھی ہے۔ لیکن سورہ مومنون کی مذکورہ آیت کی یہ تفسیر پڑھتے ہی ان کی محنت کی قلعی کھل گئی۔ان کا یہ بیان صحیح حدیث کے بالکل خلاف ہے۔ ملاحظہ فرمایئے:

عَنْ عَاءِشَۃَ قَالَتْ تُوَفِّیَ النَّبِیُّ ا فِیْ بَیْتِیْ وَ فِیْ یَوْمِیْ وَ بَیْنَ سَحْرِیْ وَ نَحْرِیْ وَ کَانَتْ اِحْدَانَا تُعَوِّذُہٗ بِدُعَآءٍ اِذَامَرِضَ فَذَھَبْتُ اُعَوِّذُہٗ فَرَفَعَ رَاْسَہٗ اِلَی السَّمَآءِ وَ قَالَ فِی الرَّفِیْقِ الْاَعْلٰی فِی الرَّفِیْقِ الْاَعْلٰی وَ مَرَّ عَبْدُالرَّحْمٰنِ بْنُ اَبِیْ بَکْرٍ وَّ فِیْ یَدِہٖ جَرِیْدَۃٌ رَطْبَۃٌ فَنَظَرَ اِلَیْہِ النَّبِیُّ ا فَظَنَنْتُ اَنَّ لَہٗ بِھَا حَاجَۃً فَاَخَذْتُھَا فَمَضَغْتُ رَاْسَھَا وَ نَفضْتُھَا فَدَفَعْتُھَا اِلَیْہِ فَاسْتُنَّ بِھَا کَاَحْسَنِ مَاکَانَ مُسْتَنَّا ثُمَّ نَاوَلْنِیْھَا فَسَقَطَتْ یَدُہٗ اَوْ سَقَطَتْ مِنْ یَّدِہٖ فَجَمَعَ اﷲُ بَیْنَ رِیْقِیْ وَ رِیْقِہٖ فِیْ اٰخِرِ یَوْمٍ مِنَ الدُّنْیَا وَ اَوَّلِ یَوْمٍ مِّنَ الْاٰخِرَۃِ

( بخاری: کتاب المغازی، باب مرض النبی ا ووفاتہ ۔۔۔)

’’عائشہ رضی اﷲ فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی وفات میرے گھرمیں، میری باری کے دن، میرے حلق اور سینے کے درمیان (سررکھے ہوئے) ہوئی۔ہم لوگ نبیﷺ کے مرض میں دعا کرکے پناہ مانگا کرتے۔ میں آپ کے لیے دعا کرنے لگی۔آپ نے اپنا سرآسمان کی طرف اٹھایا اور کہا:فِی الرَّفِیْقِ الْاَعْلٰی فِی الرَّفِیْقِ الْاَعْلٰی۔ (اتنے میں میرے بھائی) عبدالرحمن بن ابی بکرادھرآنکلے۔ ان کے ہاتھ میں ایک تازہ شاخ تھی۔ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے مسواک کی طرف دیکھا تو میں سمجھ گئی کہ آپ اس کی خواہش رکھتے ہیں۔ میں نے مسواک لی اوراس کا سراچباکر نرم کرکے ، صاف کرکے جھاڑکر نبی ﷺ کو دے دی۔ آپ نے بہت اچھی طرح سے اس کو دانتوں پر پھیرا۔پھراس کو میری طرف بڑھایا تو آپ کا ہاتھ ڈھلک گیا یا مسواک آپ کے ہاتھ سے گر گئی۔ (

اﷲ کا فضل تھاکہ) اس نے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے دنیا میں آ خری دن اور آخرت کے پہلے دن میرا لعاب آپ کے لعاب کے ساتھ ملادیا‘‘۔

یہی بات قرآن مجید میں بھی فرمائی گئی کہ جب فرشتے ظالموں کی روح قبض کرتے ہیں تو کہتے ہیں:

فَادْخُلُوْٓا اَبْوَابَ جَهَنَّمَ خٰلِدِيْنَ فِيْهَا ۭ فَلَبِئْسَ مَثْوَى الْمُتَكَبِّرِيْنَ

( النحل :28- 29 )

’’ پس داخل ہو جاو جہنم کے دروازوں میں جہاں تمہیں ہمیشہ رہنا ہے، پس برا ہی ٹھکانہ ہے متکبرین کے لئے۔‘‘

نیک لوگوں کی روح قبض کرتے ہوئے کہتے ہیں :

يَقُوْلُوْنَ سَلٰمٌ عَلَيْكُمُ ۙ ادْخُلُوا الْجَنَّةَ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ

( النحل :32 )

’’ تو کہتے ہیں : تم پر سلامتی ہو داخل ہو جاو جنت میں اپنے ان اعمال کیوجہ سے جو تم کرتے تھے۔‘‘

اس کو دوسری جگہ اس طرح بیان کیا گیا ہے کہ:

﴿يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ ۔۔۔ ﴾

[إبراهيم: 27]

” اللہ تعالی ایمان والوں کو اس قول ِثابت پر دنیا اور آخرت میں ثابت قدم رکھتا ہے۔۔۔ “

سرکشوں کی روح قبض کرتے ہوئے کہتے ہیں:

الیوم تجزون عذاب الھون

(الانعام:93)

’’آج تمہیں ذلت کا عذا ب د یا جائے گا‘‘۔

ایک شخص کو اس کی قوم والوں نے ایمان کی دعوت دینے پر شہیدکردیا اﷲ تعالی نے اس کا تذکرہ اس طرح فرمایا:

قیل ادخل الجنۃ قال یلیت قومی یعلمون بما غفرلی ربی و جعلنی من المکرمین

(یٰس:26/27)

’’ اس سے کہا گیا داخل ہو جا جنت میں، کہنے لگا کاش میری قوم کو معلوم ہو جائے کہ اﷲ نے مجھے بخش دیا اور عزت داروں میں شامل کردیا‘‘

قرآن و حدیث سے یہی بات واضح ہے کہ دنیا کی زندگی کے بعد انسان کا اگلا لمحہ آخرت میں ہوتا ہے۔ اِدھر دنیاوی زندگی کا خاتمہ ہوااُدھر آخرت کی زندگی شروع ہوگئی۔ اس کے درمیان کوئی وقفہ نہیں۔ عذاب قبر کوئی علیحدہ عذاب نہیں بلکہ یہ تو آخرت کے عذاب ہی کا ایک حصہ ہے۔اور یہی بات اس تفسیرکے شروع میں سورۃ البقرۃ کی آیت کے حوالے سے موجود ہے جس میں یہ تسلیم کیا گیا ہے کہ یہ آخرت کی زندگی کا حصہ ہے۔

موصوف کی دوسری کاریگری ملاحظہ فرمائیے۔سورہ مومن کی آیت نمبر ۴۵ میں اﷲ تعالیٰ آل فرعون پرہونے والے عذاب کا ذکر فرماتا ہے کہ

النّار یعرضون علیھا غدوًّا وّ عشیا

’’جہنم کی آگ ہے جس پر صبح و شام وہ پیش کیے جاتے ہیں‘‘

قرآن کی اس آیت میں النّاربیان کیا گیا ہے جس کے معنی ’’ جہنم کی آگ‘‘ ہیں۔قرآن کا یہ بیان چونکہ فرقہ اہلحدیث کے باطل عقیدے کو رد کر رہا تھا چنانچہ اس کا ترجمہ اس طرح کیا گیا:

’’آگ ہے جس کے سامنے یہ ہر صبح شام لائے جاتے ہیں‘‘۔(صفحہ ۱۰۹)

جس کی تفسیر انہوں نے اس طرح بیان کی :

’’اس سے بالکل واضح ہے کہ عرض علی النار کا معاملہ،جو صبح و شام ہوتا ہے،قیامت سے پہلے کا ہے اور قیامت سے پہلے برزخ یا قبر ہی کی زندگی ہے۔قیامت والے دن ان کو قبر سے نکال کر سخت عذاب یعنی جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ آل فرعون سے مراد فرعون،اس کی قوم اور اس کے سارے پیروکار ہیں۔یہ کہنا کہ ہمیں تو قبر میں مردہ آرام سے پڑا نظر آتا ہے، اسے اگر عذاب ہو تو اس طرح نظر نہ آئے۔لغو ہے کیونکہ عذاب کے لیے یہ ضروری نہیں کہ ہمیں نظر بھی آئے۔اﷲ تعالیٰ ہر طرح عذاب دینے پر قادر ہے۔ کیا ہم دیکھتے نہیں ہیں کہ خواب میں ایک شخص نہایت المناک مناظر دیکھ کر سخت کرب و اذیت محسوس کرتا ہے۔ لیکن دیکھنے والوں کو ذرا محسوس نہیں ہوتا کہ یہ خوابیدہ شخص شدید تکلیف سے دوچار ہے۔ اس مشاہدے کے باوجود عذاب قبر کا انکار، محض ہٹ دھرمی اور بے جاتحکم ہے‘‘۔ (ایضاً)

ملاحظہ فرمائی قرآنی آیت کی یہ’’نادر‘‘ تفسیرکہ النّار’’جہنم کی آگ‘‘ کو ’’آگ‘‘ بنا ڈالا! جیسا کہ اس سے قبل اہلحدیث مفتی دامانوی کی کتاب کا حوالہ بھی دیا جا چکا ہے کہ انہوں النّار کو ’’جس آگ‘‘ لکھا تھا۔ مفتی دامانوی نے تومحض ایک کتاب لکھتے ہوئے یہ خیانت کی تھی، لیکن یہ تو قرآن کی تفسیر لکھی جا رہی ہے،تفسیر میں ایسی بدترین خیانت!! اپنے فرقے کا عقیدہ بچانے کے لیے پہلے مترجم نے ترجمے میں خیانت کی اور پھر مفسر صاحب نے قرآن کی آیت کا مفہوم بدل ڈالا اور عقیدہ دیا کہ یہ اسی زمین پر عذاب دیئے جارہے ہیں۔ اورپھرعدم تقلید کے لاکھ دعووں کے باوجوداپنے اکابرین کی تقلید میں وہی کیلانی صاحب والا خیالی فلسفہ دے ڈالا کہ عذاب قبر خواب کی مانند ہے۔موصوف سے کوئی پوچھے کہ کیا مردے بھی خواب دیکھا کرتے ہیں؟کیا ان کا جسم صحیح و

سالم ہوتاہے؟ کیا ان میں بھی زندوں کی طرح شعور و ادراک ہوتا ہے؟ذرا اپنا یہ کاغذی فلسفہ قرآن و حدیث سے تو ثابت کر دکھائیں۔ کاش کوئی انہیں قرآن کی یہ آیت کھول کر دکھائے کہ آل فرعون خواب نہیں دیکھ رہے بلکہ جہنم کی آگ پر ان کی پیشی کاہی ذکر ہے۔ اہلحدیثوں کی ایک اور تفسیر’’ تیسیر القرآن‘‘ کا حال بھی کچھ اس سے مختلف نہیں۔اس تفسیر کے مقدمہ میں لکھا ہے:

اردو کی تمام تفاسیر میں یہ پہلی تفسیر ہے جس میں تفسیر کے لیے سب سے زیادہ قرآن ہی کی دیگر آیات اور صحیح احادیث پہ اعتماد کیا گیاہے‘‘۔(مقدمہ)

قرآن وفات پا جانے والوں کے لیے اموات غیر احیاء ’’ مردہ ہیں، جان کی رمق تک نہیں‘‘ بیان فرماتا ہے۔اب ذرا اس تفسیر کی یہ تحریر ملاحظہ فرمائیں:

’برزخ۔ روک،پردہ،اوٹ۔ اس میں ایک لمبی مدت بھی شامل ہے۔ برزخ میں انسان اہل دنیا اور اہل عقبیٰ دونوں سے اوٹ میں ہوتا ہے اور یہ موت کا زمانہ ہے۔اور اس زمانہ میں موت کے اثرات غالب ہوتے ہیں۔ تاہم زندگی کے بھی کچھ اثرات ہوتے ہیں۔جس کی وجہ سے عذاب و ثواب ہوتا ہے مگر قیامت کے عذاب کی نسبت ہلکا ہوتا ہے‘‘۔(تیسیر القرآن اردو،صفحہ۳۵۹)

ان کی یہ تفسیر پڑھ کر زبان پر یکدم سورہ بقرہ کی آیت رواں ہوگئی کہ

افتؤمنون ببعض الکتٰب و تکفون ببعض ج فما جزآء من یّفعل ذٰلک منکم الّا خزی فی الحیٰوۃ الدّنیا ج و یوم القیٰمۃ یردون الیٰ اشدّ العذاب و ما اﷲ بغافل عمّا تعملون

( البقرۃ: 85)

’’کیا تم (اﷲکی) کتاب کے بعض حصے کو مانتے ہو اور بعض کا انکار کردیتے ہو؟پس تم میں سے جوایسا کرے گا تواس کا بدلہ اس کے سوا اور کیا ہوسکتا ہے کہ دنیا کی زندگی میں ذلت و رسوائی ہواورقیامت کے روز اسے شدید عذاب میں دھکیل دیا جائے۔ اور اﷲتمہارے اعمال سے غافل نہیں۔

قرآن پر ایمان کا دعویٰ اور یہ انداز کہ کچھ باتیں مانی جائیں اور کچھ کا انکار! قرآن فرمائے کہ ان میں زندگی کی رمق تک نہیں،اور قرآن کی تفسیر میں یہ بیان کریں کہ موت کے اس دور میں زندگی کے بھی کچھ اثرات ہوتے ہیں۔کیا اسی کو قرآن پر ایمان کہتے ہیں؟ انہوں نے موت کے اس دور میں بھی’’ زندگی کے کچھ اثرات‘‘ کا جو ذکر کیا ہے تو وہ ان کی مجبوری ہے۔اگر قرآن کی بات مان لی جائے تو پھر کس طرح اس خلافِ قرآن عقیدے کا دفاع ہوگا کہ زندگی، شعور و ادراک و حواس سے عاری یہ گل سڑجانے والے بے جان لاشے سلام سن لیتے ہیں، جواب دیتے ہیں، فرشتے ان سے سوال و جواب کرتے ہیں، اور انہی جسموں پر عذاب ہوتا یا ان کو راحت سے نوازا جاتا ہے ۔ اب اپنے فرقہ کا عقیدہ بچانا ہے تو چاہے کتابیں لکھی جائیں یا قرآن کی تفسیر ،کچھ نہ کچھ ہیر پھیر تو بالآخرکرنا ہی پڑے گا!

قارئین! ان تفاسیر کی ایک جھلک آپ کے سامنے پیش کی ہے۔کیا یہ تفاسیر انسانیت کو وہ راہ دکھاتی ہیں جو قرآن و حدیث کی اصل ہے۔ دراصل یہ تفا سیر مختلف مسالک اور مکاتب فکر کے

نکتہ ہائے نظر کو توپرزور انداز میں پیش کرتی ہیں لیکن ان میں ا س اصل دعوت کا فقدان ہے جس نے ڈیڑھ ہزار سال قبل ایمان لانے والوں کی فکر و نظر میں انقلا ب برپا کرکے ان کو منصب جہاں بانی کا اہل بنادیا تھا! فی الحقیقت ان مفسرین نے تو اصلاح احوال کے بجائے امت کو کتاب اﷲ کی ہدایت سے محروم کر کے ان کے عقائد بگاڑنے ہی میں مؤثر کردار ادا کیا ہے،لہٰذا ایسی تفاسیر سے تو بہتر تھا کہ قرآن و حدیث کو ان کے اپنے حال پر ہی چھوڑ دیا جاتا۔

اب ان شاء اللہ تعالیٰ ’’ قبر ‘‘ کے بارے میں فرقہ پرستوں کے عقائد کا قرآن مجید سے موازنہ پیش کریں گے۔

Categories
Uncategorized

عقیدہ عذاب قبر اور مسلک پرستوں کی مغالطہ آرئیاں ( عالم برزخ )

بسم اللہ الرحمن الرحیم

آج اکثر اذہان اس بارے خلش کا شکار نظر آتے ہیں کہ ’عالم برزخ‘ کیا ہے؟

ہم کوشش کریں گے قرآن و حدیث کی روشنی میں اس مسئلے کو وضاحت کے ساتھ بیان کیا جائے، اور اس کام کو مختصر قطعات کی صورت میں سلسلہ وار عوام الناس کے سامنے پیش کیا جاتا رہے، تاکہ ضخیم متن کا مطالعہ طبیعتوں پر گراں بھی نہ گزرے۔

اس سلسلے میں ہم جہاں قرآن و حدیث کی روشنی میں اصل مسئلے کی وضاحت کریں گے وہیں مختلف مسالک کے علماء و مفتیان کی تصانیف سے کچھ اقتباسات بھی مع حوالہ پیش کیے جائیں گے (ان شاء اللہ) تاکہ اس ضمن میں پھیلے ہوئے مختلف و متضاد عقائد و نظریات و شروحات بھی عوام الناس کے سامنے لائی جا سکیں، اور یہ سمجھایا جا سکے کہ آج کے پیشہ ور مشائخ کس انداز میں قرآن و حدیث کے مجموعی موقف کے خلاف اپنا ایک الگ دین اسلام کے لیبل سے امت کے اندر داخل کر چکے ہیں۔

مسلک اہلحدیث کے ایک مفتی سورہ المومنون کی آیت نمبر 99/100 کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’ اس آیت میں برزخ کودنیا اور آخرت کے درمیان ایک آڑ قرار دیا گیا ہے یعنی مرنے والوں پر اب جو حالات قیامت تک گذریں گے انہیں دیکھنا اور جاننا ہمارے بس سے باہر ہے کیونکہ اﷲ تعالیٰ نے ہمارے اور ان کے درمیان ایک پردہ حائل کردیا ہے یہی وجہ ہے کہ میت پر قبر میں جو حالات گذرتے ہیں ہم ان کا مشاہدہ نہیں کرسکتے۔‘‘ ( خلاصہ الدین الخالص،صفحہ نمبر۴۴۔۴۵،از ابو جابر دامانوی اہلحدیث)

احناف اور اہل حدیث مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے بیشتر افراد نے اپنی کتابوں میں برزخ کی یہی تشریح بیان کی ہے۔ اہل تشیع بھی اسی عقیدے کے حامل ہیں۔ ملاحظہ فرمائیے:

’’ برزخ کا لغوی معنی ہے۔ پردہ،حائل جو دو چیزوں کے درمیان ہوتا ہے، اور وہ دونوں کو باہم ملنے نہیں دیتا۔ مثلاً کھاری اور میٹھے پانی کا سمندری حصہ جس میں دونوں موجیں مارتے ہیں۔ لیکن قدرت نے دونوں کے درمیان ایک مانع اور لطیف پردہ قرار دیا ہے کہ ایک دوسرے کو ختم نہیں کرسکتا اسی کو برزخ کہتے ہیں، لیکن اصطلاحاً برزخ وہ عالم ہے جسے خداوند عالمین نے دنیا اور آخرت کے درمیان قرار دیا ہے، اس طرح کہ وہ دونوں اپنی اپنی صفت اور اپنی اپنی حدوں میں باقی رہیں۔برزخ امور دنیوی و اخروی کے درمیان ایک عالم ہے۔‘‘(معاد، صفحہ ۵۱، از آیت اﷲ سید عبد الحسین، اہل تشیع)

ان حضرات کے بیانات سے واضح ہوتا ہے کہ ان کے نزدیک ’’برزخ‘‘ کا مطلب’’ پردہ‘‘ ہے، اوریہ پردہ ’’زندہ انسانوں‘‘ اور ’’ مرنے والوں ‘‘ کے درمیان ہے۔ نیز یہ ’’برزخ‘‘ دنیا اور آخرت کے درمیان ہے۔آئیے اس بارے میں کتاب اﷲ سے رجوع کریں۔

کیا’’برزخ‘‘ سے مراد’’پردہ‘‘ ہے؟

کتاب ا ﷲ کا جواب:

وَ هُوَ الَّذِيْ مَرَجَ الْبَحْرَيْنِ هٰذَا عَذْبٌ فُرَاتٌ وَّ هٰذَا مِلْحٌ اُجَاجٌ١ۚ وَ جَعَلَ بَيْنَهُمَا بَرْزَخًا وَّ حِجْرًا مَّحْجُوْرًا

[الفرقان: 53]

’’ اور وہی تو ہے جس نے دو دریاؤں کو ملا دیا ایک کا پانی میٹھا ہے پیاس بجھانے والا اور دوسرے کا کھاری اورکڑوا،اور بنا دی دونوں کے درمیان برزخ ( آڑ) اور مضبوط اوٹ۔‘‘

مَرَجَ الْبَحْرَيْنِ يَلْتَقِيٰنِۙ۞بَيْنَهُمَا بَرْزَخٌ لَّا يَبْغِيٰنِۚ۞

[الرحمن: 19-20]

’’ اس نے دو دریا رواں کئے جو آپس میں ملتے ہیں۔ دونوں کے درمیان برزخ (آڑ) ہے کہ وہ (اپنی حدسے)تجاوز نہیں کرتے۔‘‘

اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ دو دریا ایک ساتھ بہہ رہے ہیں، ایک کا پانی میٹھا ہے اور دوسرے کا کھار ی ،اﷲ تعالیٰ نے ان کے درمیان ایسی آڑ قائم کردی ہے کہ یہ آپس میں مل نہیں پاتے بلکہ اپنی اپنی حدود ہی میں بہتے رہتے ہیں۔اگر یہ لوگ برزخ کے معنیٰ صرف ایک ایسے پردے کے کرتے ہیں کہ جس کے پار کچھ نہ دکھائی دے تو یہ کسی طرح بھی قرآن کریم کی ان آیات کے مطابق ہرگز نہ ہوگا،ان آیات کا مفہوم ہر گز یہ نہیں ہے کہ یہ دونوں دریاؤں کے پانی ایک دوسرے کو دیکھ نہیں پاتے بلکہ اس میں بیان کردہ بات یہ ہے کہ ان دونوں پانیوں کے درمیان ایک ایسی مضبوط آڑ ہے کہ میٹھا پانی ہرگز کھارے پانی کے دریا میں داخل نہیں ہوسکتا اور اسی طرح کھارا پانی میٹھے پانی کے دریا میں داخل نہیں ہو سکتا، گویا ’’برزخ‘‘ کے معنیٰ ایسی

’’ آڑ‘‘ کے ہیں جو دو چیزوں کو باہم ملنے نہ دے۔

سوچنے کی بات یہ ہے کہ قرآن اسے ایک ’’ آڑ ‘‘ قرار دیتا ہے لیکن فرقوں کے ان شیوخ کے مطابق ’’ ایک ایسا پردہ کے جس کے پار کی چیز نہ دکھائ دے‘‘۔ اب اس فرق کا اگر بغور مطالعہ کیا جائے تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ یہ مردے کو اس دنیاوی قبر میں زندہ قرار دینے کی پہلی کڑی ہے۔۔۔۔۔ آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا!

جب عوام الناس سوال کرتے ہیں کہ ’’حضرت اگر اسی دنیاوی جسم پر عذاب ہوتا ہے تو ہمیں نظر کیوں نہیں آتا؟‘‘ تو بتاتے ہیں کہ اب مردے اور ہمارے درمیان برزخ حائل ہوگئی اس لئے ہمیں نہیں دکھائی دیتا، لیکن یہ ایک بہت بڑا جھوٹ ہے برزخ کے معنی ہر گز ایک ایسے پردے کے نہیں کہ جس کی وجہ سے آر پار کی چیز نہ دکھائی دے بلکہ جیسا کہ اوپر قرآن کی آیات سے واضح ہوا کہ برزخ کے معنی ایک ایسی آڑ کے ہیں جو دوچیزوں کو ملنے نہ دے۔ اب ہم ان کے عقائد کو قرآن و حدیث کی کسوٹی پر پرکھتے ہیں :

کیا یہ پردہ ’’زندہ انسانوں‘‘ اور’’ مرنے والوں‘‘ کے درمیان ہے؟

قرآن کا جواب:

وَ هُوَ الْقَاهِرُ فَوْقَ عِبَادِهٖ وَ يُرْسِلُ عَلَيْكُمْ حَفَظَةً١ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَآءَ اَحَدَكُمُ الْمَوْتُ تَوَفَّتْهُ رُسُلُنَا وَ هُمْ لَا يُفَرِّطُوْنَ۝ثُمَّ رُدُّوْۤا اِلَى اللّٰهِ مَوْلٰىهُمُ الْحَقِّ١ؕ اَلَا لَهُ الْحُكْمُ١۫ وَ هُوَ اَسْرَعُ الْحٰسِبِيْنَ

(الانعام:61/62)

’’اور وہ اپنے بندوں پر غالب ہے اور تم پر نگہبان بھیجتا ہے۔ یہاں تک کہ جب تم میں سے کسی کی موت آتی ہے تو ہمارے بھیجے ہوئے (فرشتے) اسکی روح قبض کر لیتے ہیں اور وہ کوئی کوتاہی نہیں کرتے۔ پھر تم پلٹائے جاتے ہو اﷲکی طرف جو تمھارا حقیقی مالک ہے ۔سن لو کہ حکم اسی کا ہے اور وہ بہت جلد ساب لینے والاہے‘‘۔

یعنی فرشتے روح قبض کرکے اسے اللہ تعالیٰ کے پاس لیجاتے ہیں۔مزید دیکھیے :

حَتّٰۤى اِذَا جَآءَ اَحَدَهُمُ الْمَوْتُ قَالَ رَبِّ ارْجِعُوْنِۙ۞لَعَلِّيْۤ اَعْمَلُ صَالِحًا فِيْمَا تَرَكْتُ كَلَّا١ؕ اِنَّهَا كَلِمَةٌ هُوَ قَآىِٕلُهَا١ؕ وَ مِنْ وَّرَآىِٕهِمْ بَرْزَخٌ اِلٰى يَوْمِ يُبْعَثُوْنَ۞

[المؤمنون: 99-100]

’’یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی کی موت آتی ہے تو کہتا ہے کہ اے میر ے رب مجھے واپس لوٹا دے تا کہ میں نیک عمل کروں اس میں جسے چھوڑ آیا ہوں۔( اﷲ تعالی فرماتا ہے) ہر گز نہیں یہ تو ایک بات ہے جو وہ کہہ رہا ہے اور ان کے پیچھے برزخ حائل ہے قیامت کے دن تک۔‘‘

جب فرشتے ظالموں کی روحیں قبض کرتے ہیں:

ؕ وَ لَوْ تَرٰۤى اِذِ الظّٰلِمُوْنَ فِيْ غَمَرٰتِ الْمَوْتِ وَ الْمَلٰٓىِٕكَةُ بَاسِطُوْۤا اَيْدِيْهِمْ١ۚ اَخْرِجُوْۤا اَنْفُسَكُمْ١ؕ اَلْيَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذَابَ الْهُوْنِ بِمَا كُنْتُمْ تَقُوْلُوْنَ عَلَى اللّٰهِ غَيْرَ الْحَقِّ وَ كُنْتُمْ عَنْ اٰيٰتِهٖ تَسْتَكْبِرُوْنَ۠۝وَ لَقَدْ جِئْتُمُوْنَا فُرَادٰى كَمَا خَلَقْنٰكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍ وَّ تَرَكْتُمْ مَّا خَوَّلْنٰكُمْ وَرَآءَ ظُهُوْرِكُمْ١ۚ وَ مَا نَرٰى مَعَكُمْ شُفَعَآءَكُمُ الَّذِيْنَ زَعَمْتُمْ اَنَّهُمْ فِيْكُمْ شُرَكٰٓؤُا١ؕ لَقَدْ تَّقَطَّعَ بَيْنَكُمْ وَ ضَلَّ عَنْكُمْ مَّا كُنْتُمْ تَزْعُمُوْنَؒ۞

(الانعام: 93/94)

’’کاش تم ظالموں کواس حالت میں دیکھ سکو جب کہ وہ سکرات موت میں ہوتے ہیں اور فرشتے ہاتھ بڑھا بڑھا کر کہہ رہے ہوتے ہیں نکالو اپنی جانوں کو،آج تمہیں ان باتوں کی پاداش میں ذلت کا عذاب دیا جائے گا جو تم اﷲپرتہمت رکھ کر ناحق کہا کرتے تھے اور اس کی آیات کے مقابلے میں سرکشی دکھاتے تھے۔اور تم تن تنہا پہنچ گئے ہمارے پاس جیسا کہ ہم نے تمہیں پہلی بار پیدا کیا تھا اور چھوڑ آئے ہو اپنی پیٹھ پیچھے جو کچھ ہم نے تم کو عطاکیا تھا‘‘۔

سورہ ٔالمومنون کی مذکورہ بالا آیت میں اﷲ تعالیٰ نے اسی بات کو بیان فرمایا ہے کہ مرنے والے کی روح کسی اور عالم میں پہنچ کر واپس بھیجے جانے کی درخواست کرتی ہے کہ ’’ مجھے واپس لوٹا دے‘‘۔ کہاں لوٹا دے؟سورہ انعام کی آیت اس بات کی مکمل وضاحت کر دیتی ہے ’’جو کچھ ہم نے تمکو عطا کیا تھا وہ سب اپنی پیٹھ پیچھے چھوڑ آئے ہو‘‘، یعنی یہ دنیا، یہ جسم، یہ تمام نعمتیں۔ گویا مرنے والے کی روح ان سب کو چھوڑ کر چلے جانے کے بعد اب ان کی طرف واپسی کی درخواست کرتی ہے تو اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ’’ہر گز نہیں، یہ تو ایک بات ہے جو وہ کہہ رہا ہے اور انکے پیچھے برزخ (آڑ) حائل ہے قیامت کے دن تک‘‘۔ تو یہ آڑ کس کے درمیان حائل ہے؟ قرآن بتاتا ہے کہ یہ آڑ مرنے والے کی روح اور ان سب چیزوں( یعنی دنیا،اس کی نعمتیں اور اسکے جسم) کے درمیان ہے جو وہ چھوڑ کرگئی ہے ۔

آج تمام مشہور مسالک اسی بات کے دعویدار ہیں کہ ان کا ہر عقیدہ و عمل قرآن و حدیث کے مطابق ہے ،لیکن جب قرآن و حدیث سے تقابل کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ کتاب اﷲتو ’’برزخ‘‘ مرنے والے کی روح اور دنیا اوراسکے مردہ جسم کے درمیان بتاتی ہے، لیکن شیوخ کی تصانیف

اسے زندہ انسانوں اورمردوں کے جسم کے درمیان قرار دیتی ہیں !کیا یہ قرآن پر ایمان ہے یا اس کا انکار۔

اس بارے میں ان لوگوں نے ایک خود ساختہ عقیدہ بنا لیا ہے کہ یہ زمینی قبر ’’ آخرت‘‘ کا مقام ہے اور زندہ انسانوں کا تعلق دنیا سے ہے، اور اﷲ تعالیٰ نے اس دنیا و آخرت کے درمیان برزخ حائل کردی ہے اسی وجہ سے اب ہم سے اس مردہ جسم پر ہونے والے تمام حالات مخفی ہیں۔ ان کا یہ عقیدہ جھوٹ ہے اور کسی بھی طور کتاب اللہ سے اس کی کوئی دلیل نہیں ملتی۔ کتاب اﷲ سے اس مسئلے کی وضاحت ہوچکی ہے کہ ’’برزخ‘‘ کے معنی ’’پردہ‘‘ نہیں بلکہ ’’ آڑ ‘‘ ہیں،لہذا ان کا یہ عقیدہ بھی ان کے دوسرے عقائد کی طرح محض خود ساختہ و من گھڑت ہے۔

کیا روح قبض ہونے کا وقت برزخی دور ہے؟

اس سے قبل ہم نے کتاب اللہ کا حوالہ دیکر سمجھایا تھا کہ برزخ کے معنی پردہ نہیں بلکہ ’’ آڑ ‘‘ ہے جو دو چیزوں کو باہم ملنے نہ دے۔ فرقہ پرست اپنے منگھڑت عقائد ثابت کرنے کے لئے اسے پردہ قرار دیتے ہیں۔انسان کی موت کے وقت اس کی روح قبض کرنے کیلئے فرشتے آتے ہیں،ان مسلک پرستوں نے اس وقت کو بھی برزخ سے تعبیر کردیا ہے، چناچہ ایک اہلحدیث عالم صاحب لکھتے ہیں:

برزخ میں فرشتوں کا مارنا ارشاد ہوتا ہے:

ولو ترٰی اذ یتوفیٰ الذین کفروا الملائکۃ یضربون و جوھھم و ادبارھم و ذوقوا عذاب الحریق (پ۱۰ سورہ انفال آیت ۵۰)  کاش تم اس وقت کافروں کی حالت دیکھو جب فرشتے ان کی جان نکالتے ہیں اور ان کے مونہوں اور پشتوں پر چوٹیں لگاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ چکھو عذاب آگ کا۔ اس آیت پر بعض حضرات نے یہ تفسیری نوٹ لکھا ہے کہ فرشتے لوہے کی گرزوں کو آگ میں سرخ کرکے گنہگاروں کو مارتے ہیں اور ان سے جو زخم پیدا ہوتا ہے اس میں آگ پیدا ہوتی ہے اور سوزش ہوتی ہے فرشتے مارتے ہوئے بولتے ہیں کہ عذاب دوزخ کو چکھو۔‘‘ ( دعا کرنے کا اسلامی تصور، صفحہ نمبر ۱۲۱۔از فضل الرحمن کلیم اہلحدیث)

جماعت المسلمین مسعود بی ایس سی والے سورہ ٔ محمد کی آیت پیش کرتے ہیں:

’’ اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے ’’ اسوقت کافروں کی کیا کیفیت ہوگی جب فرشتے ان کی روح قبض کرینگے اور انکے چہروں اور پیٹھوں پر مارتے جائینگے‘‘ ( محمد ۲۷) ‘‘

اس کی تشریح میں اپنی علمیت کا بھر پور مظاہرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’ جس طرح ارضی قبر میں عذاب ہوتا ہے وہ ہمیں دکھائی نہیں دیتا جبکہ لاش قبر میں پوشیدہ ہوتی ہے اسی طرح جب فرشتے کافروں کی جان نکالتے ہیں اور انھیں مارتے ہیں تو پاس بیٹھنے والوں کو کچھ نظرنہیں آتا پھر بستر پر لیٹے ہوئے کی پیٹھ پر مارنا تو بالکل ہی سمجھ سے بالاتر ہے لیکن ضروری نہیں کہ جو نظر نہ آئے اسکا وجودہی نہ ہو۔ نہ نظر آتے ہوئے بھی ہمارا پختہ ایمان ہوتا ہے مثلاً اﷲ تعالیٰ کوہم نہیں دیکھ سکتے موسیٰ علیہ السلام سے بھی تو اﷲ تعالیٰ نے فرمایا تھا لن ترانی ( اعراف ۱۴۳) اے موسیٰ ؑ تم مجھے ہرگز نہیں دیکھ سکتے اسی طرح شیاطین وغیرہ ہمیں نہیں دکھائی دیتے۔ کافر کی جان نکالتے وقت فرشتے اسے مارتے ہیں لیکن فرشتے نظر نہیں آتے اسی طرح انسان کو خواب میں تکلیف پہنچتی ہے وہ چیختا چلاتا ہے لیکن پاس بیٹھنے والوں کو کچھ نظر نہیں آتا بتائیے کیسی برزخ ہے؟‘‘ ( ارضی قبر یا فرضی قبر، صفحہ نمبر ۲۵)

ایک اور اہلحدیث بھی اس مسئلے پر یوں قلم طرازی فرماتے ہیں:

’’ وہ ان کے چہروں پر بھی مارتے ہیں اور ان کی پیٹھ پر بھی مارتے ہیں۔ اب فرشتے اس کے منہ اور پیٹھ پر مار مار کر اس کی روح کو نکال کر لے جاتے ہیں تو کیا آج تک کسی زندہ نے مرنے والے کے جسم پر عزرائیل کے تھپڑوں کا نشان دیکھا ہے…؟…اب چونکہ قرآن کریم نے کہا ہے اس لئے سمجھ میں آئے یا نہ آئے اس پر ایمان لانا ضروری ہے یہی معاملہ عذاب قبر کا ہے حالانکہ وہ ابھی زندہ ہوتا ہے صرف مرنے کے قریب ہوتا ہے لیکن اپنے ساتھ ہونے والے واقعات کو وہ بتانے سے قاصر ہے اور لواحقین دیکھنے سے قاصر ہیں اسی کا نام ’’ آڑ اور پردہ‘‘ ہے جسے قرآن نے لفظ ’’ برزخ‘‘ سے تعبیر فرمایاہے۔‘‘ (پہلا زینہ ، صفحہ نمبر۱۱۷۔۱۱۸ ، ازقاری خلیل الرحمن اہلحدیث)

فرقہ پرستوں کے ان بیانات سے جو صورت حال سامنے آتی ہے وہ اس طرح ہے:

۱۔انسان کی روح قبض کرنے کا معاملہ برزخی ہے ، ہمارے اور مردے کے درمیان برزخ حائل ہو جاتی ہے۔

۲۔اسی وجہ سے فرشتوں کے مارنے کے نشانات ہم کو نظر نہیں آتے۔

آئیے کتاب اﷲ سے رجوع کریں:

کیا روح قبض کرنے کا وقت برزخی دور ہے؟

کتاب اللہ

وَ هُوَ الْقَاهِرُ فَوْقَ عِبَادِهٖ وَ يُرْسِلُ عَلَيْكُمْ حَفَظَةً١ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَآءَ اَحَدَكُمُ الْمَوْتُ تَوَفَّتْهُ رُسُلُنَا وَ هُمْ لَا يُفَرِّطُوْنَ۝ثُمَّ رُدُّوْۤا اِلَى اللّٰهِ مَوْلٰىهُمُ الْحَقِّ١ؕ اَلَا لَهُ الْحُكْمُ١۫ وَ هُوَ اَسْرَعُ الْحٰسِبِيْنَ۞

[الأنعام: 61-62]

”اور وہ اپنے بندوں پر غالب ہے اور تم پر نگہبان بھیجتا ہے۔ یہاں تک کہ جب تم میں سے کسی کی موت آتی ہے تو ہمارے بھیجے ہوئے (فرشتے) اسکی روح قبض کر لیتے ہیں اور وہ کوئی کوتاہی نہیں کرتے۔ پھر تم پلٹائے جاتے ہو اللہ کی طرف جو تمھارا حقیقی مالک ہے سن لو کہ حکم اسی کا ہے اور وہ بہت جلد حساب لینے والاہے۔“

اس آیت میں فرشتوں کے ذریعے روح قبض کرانے اور پھر اﷲ کی طرف پلٹائے جانے کا ذکر ہے، برزخ کا کوئی ذکر نہیں۔

نبی صلی اﷲ علیہ و سلم نے فرمایا:

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: «إِذَا خَرَجَتْ رُوحُ الْمُؤْمِنِ تَلَقَّاهَا مَلَكَانِ يُصْعِدَانِهَا» – قَالَ حَمَّادٌ: فَذَكَرَ مِنْ طِيبِ رِيحِهَا وَذَكَرَ الْمِسْكَ – قَالَ: ” وَيَقُولُ أَهْلُ السَّمَاءِ: رُوحٌ طَيِّبَةٌ جَاءَتْ مِنْ قِبَلِ الْأَرْضِ، صَلَّى الله عَلَيْكِ وَعَلَى جَسَدٍ كُنْتِ تَعْمُرِينَهُ، فَيُنْطَلَقُ بِهِ إِلَى رَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ، ثُمَّ يَقُولُ: انْطَلِقُوا بِهِ إِلَى آخِرِ الْأَجَلِ “، قَالَ: ” وَإِنَّ الْكَافِرَ إِذَا خَرَجَتْ رُوحُهُ – قَالَ حَمَّادٌ

وَذَكَرَ مِنْ نَتْنِهَا، وَذَكَرَ لَعْنًا – وَيَقُولُ أَهْلُ السَّمَاءِ رُوحٌ: خَبِيثَةٌ جَاءَتْ مِنْ قِبَلِ الْأَرْضِ. قَالَ فَيُقَالُ: انْطَلِقُوا بِهِ إِلَى آخِرِ الْأَجَلِ “، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: فَرَدَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَيْطَةً كَانَتْ عَلَيْهِ، عَلَى أَنْفِهِ، هَكَذَا

( مسلم۔ کتاب الجنۃ و صفتہ،باب عرض مقعد المیت)

’’ إِذَا خَرَجَتْ رُوحُ الْمُؤْمِنِ تَلَقَّاهَا مَلَكَانِ يُصْعِدَانِهَا جب مومن کی روح اس کے بدن سے نکلتی ہے تو اسکے آگے آگے دو فرشتے جاتے ہیں ا س کو آسمان پر چڑھاتے ہیں۔ابوہریرۃ ؓ نے اس کی خوشبو اور مشک کا ذکر کیا اور کہا کہ آسمان والے ( فرشتے ) کہتے ہیں : رُوحٌ طَيِّبَةٌ جَاءَتْ مِنْ قِبَلِ الْأَرْضِ کوئی پاک روح ہے جو زمین سے آئی ہے۔ اﷲ تعالی تجھ پر رحمت کرے اور تیرے جسم پر جس کو تو نے آباد رکھا۔ پھر اس کو اسکے رب کے پاس لیجاتے ہیں وہ فرماتا ہے لیجاؤ اس کو آخری وقت تک کیلئے ۔اور جب کافر کی روح نکلتی ہے تو ابوہریرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ نے اس پر لعنت کا ذکر کیا اور کہا کہ آسمان والے ( فرشتے ) کہتے ہیں رُوحٌ خَبِيثَةٌ جَاءَتْ مِنْ قِبَلِ الْأَرْضِ کہ ناپاک روح ہے جو زمین سے آئی ہے پھر حکم ہوتا ہے لیجاؤ اس کو آخری وقت تک کیلئے۔‘‘

مالک کائنا ت فرماتا ہے:

وَ لَقَدْ جِئْتُمُوْنَا فُرَادٰى كَمَا خَلَقْنٰكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍ وَّ تَرَكْتُمْ مَّا خَوَّلْنٰكُمْ وَرَآءَ ظُهُوْرِكُمْۚ

[الأنعام: 94]

’’ (اللہ تعالیٰ فرماتا ہے) اور تم تن تنہا پہنچ گئے ہمارے پاس جیسا کہ ہم نے تمہیں مرتبہ پیدا کیا تھا، اور چھوڑ آئے ہو اپنی پیٹھ کے پیچھے جو کچھ ہم نے تمہیں عطا کیا تھا ‘‘۔

مذکورہ بالا آیت اور حدیث سے پتہ چلاکہ فرشتے اس روح کو آسمانوں میں لے جاتے اور اس کو ربِ کائنات کے سامنے پیش کرتے ہیں،وہاں اس روح سے اﷲ تعالیٰ کلام فرماتا ہے، یہاں تک کسی بھی آیت یا حدیث میں برزخ کا کوئی ذکر نہیں ۔

پھر سورہ مومنون میں اس بات کا ذکر کیا گیا ہے کہ جب روح اﷲ تعالیٰ کے پاس چلی جاتی ہے تو مرنے والا اپنے رب سے کیا درخواست کرتا ہے۔

حَتّٰۤى اِذَا جَآءَ اَحَدَهُمُ الْمَوْتُ قَالَ رَبِّ ارْجِعُوْنِۙ۞لَعَلِّيْۤ اَعْمَلُ صَالِحًا فِيْمَا تَرَكْتُ كَلَّا١ؕ اِنَّهَا كَلِمَةٌ هُوَ قَآىِٕلُهَا١ؕ وَ مِنْ وَّرَآىِٕهِمْ بَرْزَخٌ اِلٰى يَوْمِ يُبْعَثُوْنَ۞

[المؤمنون: 99-100]

’’یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی کی موت آتی ہے تو کہتا ہے کہ اے میر ے رب مجھے واپس لوٹا دے تا کہ میں نیک عمل کروں اس میں جسے چھوڑ آیا ہوں۔( اﷲ تعالی فرماتا ہے) ہر گز نہیں یہ تو ایک بات ہے جو وہ کہہ رہا ہے اور ان کے پیچھے برزخ حائل ہے قیامت کے دن تک۔‘‘

اب جب روح اﷲ تعالیٰ کے پاس پہنچ کر دنیا میں واپس بھیجے جانے کی درخواست کرتی ہے تویہاں اﷲ تعالیٰ’’ برزخ‘‘ کا ذکر فرماتا ہے کہ دنیا میں واپس جانے کی بات ہرگز ممکن نہیں کیونکہ ان مرنے والوں کے پیچھے اب برزخ ’’آڑ‘‘ہے قیامت کے دن تک کےلئے۔تو گویا برزخ کا معاملہ اسوقت شروع ہوتا ہے جب روح آسمانوں سے اس دنیا میں واپس آنا چاہتی ہے۔

اگر یہ اپنے عقیدے میں سچے ہیں تو قرآن یا حدیث پیش کریں کہ یہ ’’ آڑ ‘‘ یعنی برزخ زندہ اور مردہ انسانوں کے درمیان ہے، برزخ کا ذکر ہی صرف اسوقت آیا ہے جب روح واپس اس دنیا میں آنے کی درخواست کرتی ہے۔

ان کے اس جھوٹے عقیدے کہ اب ہمارے اور مردے کے درمیان چونکہ ’’پردہ‘‘ آگیا ہے اس لیے اب مردے کو جو مارا پیٹا جارہا ہے وہ ہمیں نہیں دکھائی دیتا کو بھی قرآن و حدیث کی کسوٹی پر پرکھ لیتے ہیں۔ ۔ یہ کہتے ہیں دکھائی نہیں دیتا اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :

كَلَّاۤ اِذَا بَلَغَتِ التَّرَاقِيَۙ۞ وَقِيلَ مَنۡۜ رَاقٖ۞ وَ قِيْلَ مَنْ١ٚ رَاقٍۙ۞ وَّ ظَنَّ اَنَّهُ الْفِرَاقُۙ وَ الْتَفَّتِ السَّاقُ بِالسَّاقِۙ۞ اِلٰى رَبِّكَ يَوْمَىِٕذِ ا۟لْمَسَاقُ

[القيامة: 26-30]

’’ ہر گز نہیں جب روح گلے تک پہنچ جائے اور کہا جائے کون ہے جھاڑپھونک کرنے والا۔ اور اس نے جان لیا کہ اب جدائی کا وقت ہے اور پنڈلی سے پنڈلی مل جائے، اس دن تجھے اپنے رب کی طرف جانا ہے۔‘‘

وَلَكِنْ إِذَا شَخَصَ الْبَصَرُ ۔وَحَشْرَجَ الصَّدْرُ ۔ وَاقْشَعَرَّ الْجِلْدُ فَعِنْدَ ذَلِكَ مَنْ أَحَبَّ لِقَاءَ اللهِ

( عن ابی ہریرہ ؓ ، نسائی ، کتاب الجنائز، فیمن احب لقاء اللہ )

فَلَوْ لَاۤ اِذَا بَلَغَتِ الْحُلْقُوْمَۙ۞ وَ اَنْتُمْ حِيْنَىِٕذٍ تَنْظُرُوْنَۙ

[الواقعة: 83-84]

’’ اور جب روح گلے میں آپہنچتی ہے اور تم اس حالت کو دیکھ رہے ہوتے ہو۔‘‘

دیکھا آپ نے ان فرقہ پرست علماء کو کس طرح اللہ کے بیان کے خلاف عقیدہ بنایا اور اس کا پرچار کرتے ہیں۔مالک فرماتا ہے کہ تم اس حالت کو دیکھ رہے ہوتے ہو اور یہ اتنے بڑے بڑے عالم کہتے ہیں ہمارے اور اس کے درمیان پردہ ہے۔

فبای حدیثٍ بعدہ یومنون’’تو پھر اس ( یعنی اﷲ کی) بات کے بعد کس بات پر ایمان لاؤ گے‘‘؟؟

نہ معلوم یہ کیسا پردہ ہے کہ مرنے والے کی سانس ٹوٹ رہی ہے ہم دیکھتے ہیں، پنڈلیاںآپس میں مل رہی ہیں ہمیں دکھائی دے رہی ہیں، آنکھیں پتھرا رہی ہیں ہم سے نہیں چھپی ہوئی، سب کچھ ہی تو نظر آتا ہے، نہیں نظر آتا ہے تو فرشتے نظر نہیں آتے، ان کا مارنا نہیں دکھائی دیتا ،روح قبض کرنا نہیں دکھا ئی دیتا، تو یہ برزخ ہے یا غیب کا معاملہ ہے؟ جماعت المسلمین والے اپنے آ پ کو

قرآن و حدیث کا چمپئن سمجھتے ہیں لیکن ان کو ’’غیب‘‘ اور ’’ برزخ‘‘ کا فرق بھی معلوم نہیں، یہ کور چشمی ہے یا تجاہل عارفانہ!

یہ علماء فرقہ اگر فرشتوں کے نہ دکھائی دینے کو ’’ برزخ‘‘ قرار دیتے ہیں تو پھر اس دنیا میں اتنی برزخیں ہیں کہ ان کا شمار ممکن نہیں، خود اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے کہ انسان جب بھی کوئی کام کرتا ہے تو جو اس کے دائیں بائیں (فرشتے)بیٹھے ہیں وہ اسے لکھ لیتے ہیں، حدیث میں آتا ہے کہ فرشتے مسجد میں بیٹھنے والوں کیلئے دعا کرتے ہیں، جمعہ کے دن صلوٰۃ کیلئے آنے والوں کے نام رجسٹر میں لکھتے ہیں، اﷲ تعالیٰ کے ذکر کی محفلوں پر اس طرح چھا جاتے ہیں کہ آسمان تک قطار بنا لیتے ہیں، تو اب ہر طرف برزخ ہی برزخ ہے، گھر میں برزخ، بازاروں میں برزخ، مسجدوں میں برزخ ،محفلوں میں برزخ ،ہے کوئی جگہ خالی ان برزخوں سے؟کیا خوب علمی بصیرت پائی ہے ان حضرات نے !

فرشتوں کی مار کے نشان کیوں نہیں دکھائی دیتے:

اب ہم ان آیات کا مطالعہ کرتے ہیں کہ جو ان علما ءکی طرف سے پیش کی جاتی ہیں کہ سورہ انفال اور سورہ محمد میں جو روح قبض کرتے وقت فرشتوں کے روح قبض کرنے کا بیان ہے تو اس میں ہے کہ فرشتے مارتے بھی ہیں ۔لہذا یہ علماء عوام کو دھوکہ دیتے ہیں کہ ہمیں مار کے نشان کیوں نہیں دکھائی دیتے۔

فَكَيْفَ اِذَا تَوَفَّتْهُمُ الْمَلٰٓىِٕكَةُ يَضْرِبُوْنَ وُجُوْهَهُمْ وَ اَدْبَارَهُمْ۞

[محمد: 27]

’’ پھر کیا ہوگا جب فرشتے ان کی روحیں قبض کریں گے ان کے منہ اور پیٹھوں پر مارتے ہوئے۔‘‘

وَ لَوْ تَرٰۤى اِذْ يَتَوَفَّى الَّذِيْنَ كَفَرُوا١ۙ الْمَلٰٓىِٕكَةُ يَضْرِبُوْنَ وُجُوْهَهُمْ وَ اَدْبَارَهُمْ١ۚ وَ ذُوْقُوْا عَذَابَ الْحَرِيْقِ۞

[الأنفال: 50]

’’کاش تم اس وقت کافروں کی حالت دیکھو جب فرشتے ان کی روح نکالتے ہیں اور ان کے مونہوں اورپیٹھوں پر چوٹیں لگاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ چکھو جلنے کا عذاب۔‘‘

اپنی ہر ہر کتاب میں دیوبندی اور اہلحدیث علماء نے بڑا شور مچایا ہے کہ کیوں نہیں دکھائی دیتے یہ نشان، ماسٹرجی کے مارے ہوئے کا نشان تو تین دن تک رہتا ہے اور عزرائیل کی مار کا نشان؟ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

وضاحت :

صرف اپنے جھوٹے عقیدے کو ثابت کرنے کے لئے یہ شور مچایا گیا ہے ورنہ قرآن و حدیث میں کہیں بھی نہیں لکھا کہ ان کے مارنے سے نشان پڑ جاتے ہیں، جب لکھا ہی نہیں تو اسے بنیاد بنانا کیسا ؟ان سارے مفتیان و علماء سے سوال ہے کہ ان آیتوں میں یہ کہاں لکھاہے کہ قبض روح کے وقت فرشتوں کے مارنے سے نشان پڑ جاتے ہیں؟ آخر کیوں یہ جھوٹ گھڑتے اور اسے پھیلاتےہیں!

آمَنَ الرَّسُولُ بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْهِ مِنْ رَبِّهِ [البقرة: 285]

’’ ایمان لاتا ہے اﷲ کا رسول اس پر جو کچھ اس کے رب کی طرف سے نازل کیا گیا ہے اور مومن بھی‘‘۔

ہمارا ایمان تو اُسی حد تک ہے کہ جتنا اﷲ تعالیٰ نے فرمادیا ہے، قرآن و حدیث میں قبض روح کے موقع کیلئے جب اس طرح کی کوئی بات نہیں بیان کی گئی کہ اس سے نشان پڑ جاتے ہیں تومحض اپنی عقل کو بنیاد بنا کر اس پر ایک خود ساختہ عقیدہ گھڑ لینا ایمان والوں کے شایان شان نہیں۔ رہا فرشتوں اور ان کی مار کا نہ دکھائی دینا تو اس سےقبل پوسٹ میں اس کی وضاحت کردی گئی کہ یہ ’’ غیب ‘‘ کا معاملہ ہے ’’برزخ ‘‘ کا نہیں۔ہاں اگر فرشتوں کے مارنے سے جسم پر کوئی زخم بنتا ہے تو انسانوں کو بھی دکھائی دیتا ہے ، ملاحظہ فرمائیں یہ حدیث ۔

ایک غزوہ کے موقع پر اﷲ تعالیٰ نے مومنوں کی مدد کیلئے فرشتوں کو نازل فرمایا،فرشتے نے جب ایک کافر کو کوڑا مارا تو اس کی آواز بھی سنائی دی اور اس کی مار کا نشان بھی صحابی ؓ کو دکھائی دیا، ملاحظہ ہو:

…اِبْنِ عَبَاسٍ قَالَ بَیْنَمَا رَجُلٌ مِنْ الْمُسْلِمَیْنَ یَوْمَئِذٍ یَشْتَدُّ فِیْ اَثَرِ مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ اَمَامَہٗ اِذْ سَمِعَ ضَرْبَۃً بِالسَّوْطِ فَوْقَہٗ وَ صَوْتَ الْفَارِسِ یَقُوْلُ اَقْدِمْ حَیْزُوْمُ فَنَظَرَ اِلَی الْمُشْرِکِ اَمَامَہٗ فَخَرَّ مُسْتَلْقِیًا فَنَظَرَ اِلَیْہِ فَاِذَا ھُوْ قَدْ خُطِمَ اَنْفُہٗ وَ شُقَّ وَجْھُہُ کَضَرْبَۃِ السَّوْطِ فَاخْضَرَّ ذٰلِکَ اَجْمَعَُ …

(مسلم ۔کتاب الجہاد و سیر،باب المداد بالملائکۃ…الغنائم )

’’ ابن عباس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔ اس روز ایک مسلم ایک کافر کا پیچھا کررہا تھا جو اس کے آگے تھا اتنے میں کوڑے کی آواز آئی اوپر سے ایک سوار کی آواز آئی وہ کہتا تھا بڑھو اے حیزوم، پھر جو دیکھا تو وہ کافر مسلم کے سامنے چت گر پڑا،مسلم نے اس کو دیکھا تو اس کی ناک پرنشان تھا اور اس کا منہ پھٹ گیا تھا جیسے کوئی کوڑا مارتا ہے اور وہ سبز ہوگیا تھا ( یعنی زہر پھیل گیا تھا) پھر وہ مسلم نبی ؓ کے پاس آیا اور قصہ بیان کیا، نبی ؓ نے فرمایا تم نے سچ کہا یہ مدد تیسرے آسمان سے آئی تھی۔‘‘

ملاحظہ فرمایا کہ نہ مارنے والا دکھائی دیا اور نہ کوڑا لیکن انسانی جسم پر جو نشان پڑا وہ نظر آگیا! وہ کافر مر گیا، یعنی ان فرقہ پرستوں کے عقیدے کے مطابق ’’برزخ‘‘ کا خود ساختہ عجیب و غریب پردہ، زندہ اور مردہ کے درمیان آگیا لیکن پھر بھی صحابی ؓ کو وہ نشان نظر آ گیا!اس کے علاوہ اور بھی احادیث میں اس بات کا ثبوت ملتا ہے کہ فرشتوں نے میت کے ساتھ جو کچھ کیا وہ صحابی کو دکھائی دیا، حتیٰ کہ ایک حدیث میں اسی طرح کا ایک واقعہ ایک مشرک کے حوالے سے بھی بیان کیا گیا ہے۔

اب ہم آتے ہیں ان کی دوسری دلیل کی طرف وَذُوقُوا عَذَابَ الْحَرِيقِ چکھو جلنے کا عذاب‘‘۔

’’فرشتے لوہے کی گرزوںکو آگ میں سرخ کرکے گنہگاروں کو مارتے ہیں اور ان سے جو زخم پیدا ہوتا ہے اس میں آگ پیدا ہوتی ہے اور سوزش ہوتی ہے فرشتے مارتے ہوئے بولتے ہیں کہ عذاب دوزخ کو چکھو۔‘‘ ( دعا کرنے کا اسلامی تصور، صفحہ نمبر ۱۲۱۔از فضل الرحمن کلیم اہلحدیث)

قرآن کی کسی آیت کے من مانے معنی اخذ کرلینا انہی فرقہ پرستوں کا کام ہے۔ ’’چکھو جلنے کا عذاب‘‘ سے یہ بات اخذ کرلی گئی ہے کہ یہی جسم اوریہاں ہی جلایا جاتا ہے، جس کا کوئی قرینہ نہیں ۔ قرآن کریم کی دوسری آیات اس کی مکمل تشریح کردیتی ہیں:

فرشتے ظالموں کی روح قبض کرتے ہوئے کہتے ہیں:

فَادْخُلُوْۤا اَبْوَابَ جَهَنَّمَ خٰلِدِيْنَ فِيْهَا١ؕ فَلَبِئْسَ مَثْوَى الْمُتَكَبِّرِيْنَ۞

[النحل: 29]

’’داخل ہو جاؤ جہنم کے دروازوں میں جہاں تمکو ہمیشہ رہنا ہے۔‘‘

فرشتے جب پاک لوگوں کی روح قبض کرتے ہیں تو کہتے ہیں:

يَقُوْلُوْنَ سَلٰمٌ عَلَيْكُمُ١ۙ ادْخُلُوا الْجَنَّةَ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ۞

[النحل: 32]

’’تم پر سلامتی ہو داخل ہو جاؤجنت میں ان اعمال کی وجہ سے جو تم کرتے تھے۔‘‘

اب بتائیے کہ کیا جہنم اس مرنے والے کے بستر کے ساتھ ہی ہوتی ہے کہ فرشتے کہتے ہیں کہ داخل ہو جاؤ جہنم کے دروازوں میں، یا جنت اس کے بالکل قریب ہوتی ہے کہ فرشتے کہتے ہیں داخل ہو جاؤجنت میں۔ اس بیان کا مطلب یہ ہے کہ اِدھر اس دارالعمل میں اس کی زندگی کا آخری لمحہ ختم ہوا اوراُدھر آخرت کا آغاز ہوگیا۔’’چکھو جلنے کا عذاب‘‘ جہنم ( عالم برزخ) میں دئیے جانے والے عذاب کیلئے ہے ،مرنے کے بعد کی جزا و سزا اس دنیامیں اور اس جسم کیساتھ ملنے کا کوئی تصور قرآن و حدیث میں ملتاہی نہیں۔ لہذا ان کی یہ دلیل بالکل بودی ہے قرآن و حدیث اس طرح کی کوئی بات نہیں بیان کرتے۔

قرآن کی معنوی تحریف:

اس سے قبل تین پوسٹس میں ہم فرقہ پرستوں کی ’’ برزخ ‘‘ کے بارے میں غلط تشریحات کا ذکر کر چکے ہیں اور یہ بات بالکل واضح ہو چکی ہے کہ انہوں نے برزخ کے وہ معنی بیان کئے ہیں جو کتاب اللہ میں بیان کردہ معنی کے بالکل خلاف ہیں۔برزخ کی اسی تشریح میں آل فرعون کو ہونے والے عذاب کو بھی شامل کرلیا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے :

’’ النار یعرضون علیھا غدواً و عشیاً صبح شام تمام فرعونی آگ پر پیش کئے جاتے ہیں لیکن مصر کے عجائب گھر میں آج بھی فرعون کی لاش موجود ہے اور کبھی بھی مصری پریشان نہیں ہوئے کہ صبح و شام لاش کہاں غائب ہوجاتی ہے۔اس لئے کہ فرعون کی لاش وہاں سے غائب نہیں ہوتی لیکن اﷲ سبحانہ و تعالیٰ کا قرآن کریم سچا ہے وہ یقینا بلاناغہ آگ پر پیش ہوتا ہے لیکن اس پیشی کو بھی برزخ میں رکھا گیا یعنی ہمارے اور ان کے درمیان پردہ حائل کردیا گیا جس کی وجہ سے ہم انکے ساتھ ہونے والے سلوک کو دیکھنے سے قاصر ہیں۔ اب کوئی یہ اعتراض کرے کہ جب ہمیں وہ پیش ہوتے ہوئے نظر نہیں آتے تو پھر ہم کیسے مان لیں؟ تو اس کے جواب میں ہم اتنا عرض کریں گے کہ وہ پیش ہوتے ہیں کیونکہ قرآن کہتا ہے وہ کس طرح پیش ہوتے ہیں ہم اس کیفیت کو نہیں جانتے اور نہ ہی جاننے پر مکلف ہیں۔‘‘ ( پہلا زینہ، صفحہ نمبر ۸۱۔۸۲، از قاری خلیل الرحمن اہلحدیث)

وضاحت :

دراصل عقیدہ تو پہلے سے بنا ہوا ہے، جو جس فرقے سے وابستہ ہے اس کا عقیدہ اپنے فرقے کے اکابرین کے اقوال پر مبنی ہے، اب لوگ اس کا ثبوت کتاب ﷲ سے مانگتے ہیں تو یہ بات ان کیلئے ممکن ہی نہیں۔ پھر جب ان کے سامنے قرآن و حدیث کی بیان کردہ کوئی بات رکھی جاتی ہے تو یہ فرقہ پرست اس کی وضاحت بھی نہیں کرپاتے اس لئے کہ ان کے تو عقائد ہیں ہی خلاف ِقرآن و

حدیث۔ اب یہ اس طرح کا طرز عمل اختیار نہ کریں تو اور کیا کریں،۔ان کے پاس ایک ہی جواب ہوتا ہے کہ ’’ جی بس اب مردے اور ہمارے درمیان برزخ آگئی، آگے ہمیں کچھ نہیں معلوم‘‘۔

حالانکہ صاف اور سمجھ میں آنے والی بات تو یہ ہے کہ آل فرعون پر ہونے والے عذاب کا تعلق اس دنیا اور یہاں موجود مردہ لاشوں سے بالکل نہیں ،بلکہ یہ تو جہنم کی آگ پر پیش کیے جاتے ہیں ۔

قرآن بتاتا ہے :

اَلنَّارُ يُعْرَضُوْنَ عَلَيْهَا غُدُوًّا وَّ عَشِيًّا

[مومن: 46]

’’جہنم کی آگ ہے جس پر وہ صبح و شام پیش کیے جاتے ہیں‘‘

اپنے باطل عقیدے کو چھپانے کے لئے اہلحدیث عالم قاری خلیل الرحمن نے اَلنَّارُ کا ترجمہ ’’ آگ ‘‘ کردیا تاکہ ان کے مقلدین کو معلوم نہ ہو کہ یہاں اَلنَّارُ سے مراد ’’جہنم کی آگ ‘‘ ہے۔ کیونکہ اگر صحیح ترجمہ کردیتے تو ہر کوئی سمجھ جاتا کہ یہ دنیا کا معاملہ نہیں بلکہ عالم برزخ یعنی جہنم میں دئیے جانے والا عذاب ہے۔ اہلحدیث مفتی عبد اللہ جابر دامانوی لکھتے ہیں :

’’ ۔ ۔ ۔ اس آیت میں آل فرعون صبح و شام جس آگ پر پیش کئے جارہے ہیں وہی عذاب قبر ہے‘‘ )عقیدہ عذاب قبر، از ابو جابر عبداﷲ دامانوی، صفحہ ۳،۲۴(

یقینا آپ لوگوں نے علماء فرقہ کا اصل چہرہ دیکھ لیا ہوگا کہ اپنے فرقے کے عقیدے کا تحفظ کرنے کے لئے یہ کیا کچھ کر سکتے ہیں۔ کیا یہ قرآن کی معنوی تحریف نہیں؟ خود بدلتے نہیں قرآن کو بدل دیتے ہیں قرآن و حدیث سے ہٹ کر عقائد رکھنے والے یہ فرقہ پرست اس دنیاوی قبر کو بھی برزخ قرار دیتے ہیں،ملاحظہ فرمائیں،عالم فرقہ اہلحدیث فرماتےہیں :

’’ پھر اس پر مو ت آتی ہے یعنی قبر کی زندگی یا برزخی زندگی شروع ہو جاتی ہے۔ ‘‘ ( روح،عذا ب قبر اور سماع موتیٰ، صفحہ ۱۸، از مولانا عبدالرحمن کیلانی اہلحدیث)

شیعہ افراد عقیدہ رکھتے ہیں :

’’ برزخ اس عالم دنیا کے پردے میں ہے۔ ممکن ہے بعض افراد کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہو کہ عالم برزخ اس طول و تفصیل کے ساتھ کہاں واقع ہے؟ یقینا ہماری عقل اس حد تک نہیں پہنچتی کہ ہم اسے سمجھ سکیں۔ ہم بس اتنا ہی کہیں گے کہ عالم برزخ اس عالم دنیا سے پردہ اور غیب میں ہے اور اسے سمجھنے کیلئے روایات میں بہت سی تشبیہیں وارد ہیں۔ مثلاً یہ کہ ’’ یہ دنیا مع اپنی زمینوں، آسمانوں وغیرہ کے عالم برزخ کے مقابلے میں ایسی ہی ہے جیسے ناپیداکنار صحرا و بیاباں میں ایک مختصر سا حلقہ ہو، جب تک انسان دنیا میں رہتا ہے وہ ریشم کے کیڑے کی طرح یا اس بچے کی طرح جو شکم مادر میں ہو محدود ہوتا ہے۔ جب وہ مرتا ہے تو آزاد ہوجاتا ہے۔ یہ ضرور ہے کہ وہ بظاہر رہتا ہے ہی اسی دنیا میں اور کہیں جاتا نہیں ہے لیکن اب اس کی محدودیت باقی نہیں رہ جاتی، اس کیلئے زمان ومکان کی کوئی قید نہیں رہ جاتی، کیونکہ یہ قیدیں اسی دنیا تک محدود ہیں جو عالم مادہ و طبیعت ہے۔‘‘( معاد، صفحہ ۷۸۔۷۹، از آیت اﷲ سید عبد الحسین اہل تشیع)

احمد رضا خان بریلوی کہتے ہیں:

’’اسی لئے علمافرماتے ہیں دنیا کو برزخ سے وہی نسبت ہے جو رحم مادر کو دنیا سے پھر برزخ کو آخرت سے یہی نسبت ہے جو د نیا کو برزخ سے اب اس سے برزخ و دنیا کے علوم و ادراکات میں فرق سمجھ لیجئے وہی نسبت چاہیے جو علم جنین کو علم اہل دنیا سے واقعی روح طائر ہے اور بدن قفس اور علم پرواز پنجرے میں پرند کی پرفشانی کتنی ہاں جب کھڑکی سے باہر آیا اس وقت اس کی جولانیاں قابل دید ہیں۔‘‘ (روحوں کی دنیا۔صفحہ ۳۸، از احمد رضا خان بریلوی)

ان مسلک پرستوں کی اکثریت اسی عقیدے کی حامل ہے،قاری محمد طیب دیوبندی نے تو اپنی کتاب ’’عالم برزخ‘‘ میں متعدد جھوٹے چشم دید واقعات بیان کر کے اسی بات کو ثابت کرنے کی کوشش کی ہے، یہاں تک کچھ واقعات کا تعلق انہوں نے صحابہ ؓ سے بھی جوڑ دیا ہے لیکن حوالہ کسی بھی حدیث کا نہیں دیا۔ اس طرح ان سب کی تحریروں میں عذاب قبر کے حوالے سے حیات فی القبر کے سلسلے میں انکے مشترکہ عقیدے کی جھلک نمایاں طور پر نظر آتی ہے۔ دراصل ان لوگوں کے پاس قرآن و احادیث صحیحہ کو چھوڑ کر اپنے خود ساختہ عقائدکیلئے بہت سارے دلائل ہیں اور یہ سب موضوع و منکر روایات یا جھوٹے افسانوی واقعات پر مبنی ہیں انہی کو ثابت کرنے کیلئے قرآن کریم کی آیات اور احادیث صحیحہ کی غلط تشریحات کی جاتی ہیں جسکی مثالیں ابھی آپ کے سامنے آچکی ہیں اور کئی ابھی آگے آئیں گی۔ اوپر بیان کردہ فرقہ پرستوں کے بیانات سے آپ نے جان لیا ہوگا کہ یہ لوگ اسی زمینی قبر کو ’’ برزخ ‘‘ثابت کر رہے ہیں، یا اس قبر کی زندگی کو ’’ برزخی زندگی ‘‘ کہہ رہے ہیں۔ جبکہ قرآن تو کہتا ہے :

اَمْوَاتٌ غَيْرُ اَحْيَآءٍ١ۚ وَ مَا يَشْعُرُوْنَ١ۙ اَيَّانَ يُبْعَثُوْنَؒ

[النحل: 21]

’’مردہ ہیں زندگی کی رمق نہیں، اور نہیں شعور رکھتے کہ کب اٹھائے جائیں گے‘‘۔

وَ فِي السَّمَآءِ رِزْقُكُمْ وَ مَا تُوْعَدُوْنَ

[الذاريات: 22]

’’تمہارا رزق اور جس چیز کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے آسمان میں ہے‘‘۔

قرآن میں اللہ تعالیٰ فرما رہا ہے کہ دنیا میں مرجانے والے یہ جسم، انہیں موت آ چکی ہے ، ان میں زندگی کی رمق نہیں، پھر نہ معلوم کیسے اس زمینی قبر میں ’’ برزخی زندگی ‘‘ کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرما دیا ہے کہ مرنے کے بعدکا وہ وعدہ جو تم سے کیا گیا ہے وہ آسمانوں میں ہے ،یعنی تم جنت میں داخل کئے جاؤگے یا جہنم میں۔ اس بارے میں ہمارے مضمون ’’عقیدہ عذاب قبر ‘‘کے ابتدائی حصے کا مطالعہ کریں کہ انسان کی آخرت کب شروع ہوتی ہے۔

عالم برزخ کسے کہتے ہیں؟

عذاب قبر کی پوسٹس اور ’’ روح ‘‘ والی پوسٹس میں قرآن و حدیث سے اس بات کی وضاحت ہو چکی ہے کہ جب روح اﷲ تعالیٰ کے پاس پہنچ کر دنیا میں واپس بھیجے جانے کی درخواست کرتی ہے تویہاں اﷲ تعالیٰ’’ برزخ‘‘ کا ذکر فرماتا ہے کہ دنیا واپس جانے کی بات ہرگز ممکن نہیں کیونکہ ان مرنے والوں کے پیچھے اب برزخ ہے قیامت کے دن تک کیلئے، یعنی اب یہ روح واپس دنیا کی طرف پلٹنا چاہے تو دنیا اور اسکے درمیان ایک آڑ ( برزخ) آگئی ہے ، اب یہ قیامت کے دن تک’’ برزخ‘‘کے اس پار ہی رہیں گے، اسی حوالے سے اسے اصطلاحاً ’’ عالم برزخ‘‘ کہا جاتا ہے ۔

کتاب اﷲ ہمیں یہ بتاتی ہے کہ انسانی زندگی کے دو ادوار ہیں، ایک عمل کا دور اور دوسرا اس کی جزا و سزا کا دور، انسانیت سے اﷲ تعالیٰ کا یہی وعدہ ہے کہ اگر مسلم بن کر واپس لوٹے تو جزا کا وعدہ ہے اور حالت کفر میں واپس لوٹنے والوں سے صرف اور صرف سزا کا وعدہ ہے، اس وعدے کے پورے ہونے کا مقام کونسا ہے،قرآن ہمیں بتاتا ہے:

وَ فِي السَّمَآءِ رِزْقُكُمْ وَ مَا تُوْعَدُوْنَ

[الذاريات: 22]

’’تمہارا رزق اور جس چیز کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے آسمان میں ہے‘‘۔

رسول اﷲ ﷺ نے بھی ہمیں یہی عقیدہ دیا ہے، ملاحظہ فرمائیے:

مَا مِنْ عَبْدٍ یَمُوْتُ لَہٗ عِنْدَ ﷲِ خَیْرٌ یَّسُرُّہٗ اَنْ یَرْجِعَ اِلَی الدُّنْیَا وَمَا فِیْھَا اِلَّا الشَّھِیْدَ لِمَا یَرٰی مِنْ فَضْلِ الشَّھَادَۃِ فَاِنَّہٗ یَسُرُّہٗ اَنْ یَّرْجِعُ اِلَی الدُّنْیَا فَیُقْتَلُ مَرَّۃً اُخْرٰی…

عن انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ ۔بخاری۔کتاب الجہاد و السیر۔ باب الحور العین و صفتھن)

’’بندوں میں سے جو کوئی مرتا ہے اور اس کیلئے اﷲ کے پاس کچھ خیر ہے تو نہیں چاہتا کہ دنیا کی طرف لوٹ آئے اگرچہ اس کو دنیا کی ہر چیز دے دی جائے، سوائے شہید کے کہ اس نے شہادت کی فضیلت دیکھ لی ہوتی ہے لہذا وہ چاہتا ہے کہ دنیا کی طرف لوٹ آئے اور دوبارہ اﷲ کی راہ میں قتل کیا جائے…‘‘۔

یہاں بھی یہ فرقہ پرست لوگوں کو دھوکہ دینے کیلئے کہتے ہیں کہ اسی قبر میں اس کو سب کچھ ملتا ہے، اسی قبر میں جنت سے یاجہنم سے کھڑکی کھول دی جاتی ہے ، یہی مقا مِ آخرت ہے جہاں سے مرنے والا واپس نہیں آنا چاہتا ، ان کے اس جھوٹ کا جواب بھی حدیث میں ملتا ہے، ملاحظہ فرمائیے:

مَا اَحَدٌ یَّدْ خُلُ الْجَنَّۃَ یُحِبُّ اَنْ یَرْجِعَ اِلَی الدُّنْیَا وَلَہٗ مَا عَلَی الْاَرْضِ مِنْ شَیئٍ اِلَّا الشَّھَیْدُ…

( بخاری، کتاب الجہاد و السیر، باب تمتی المجاھد۔۔۔الی الدنیا)

’’کوئی بھی شخص ایسا نہیں کہ جو جنت میں داخل کیے جانے کے بعد دنیا میں دوبارہ آنا پسند کرے، خواہ اسے ساری دنیا مل جائے سوائے شہیدکے ۔ ۔ ‘‘

قَالَ لَقَدْ رَاَیْتُ رَجُلاً یَتَقَلَّبْ فِیْ الْجَنَّۃِ شَجَرَۃٍ قَطَعَھَا مِنْ ظَھْرِ الطَّرِیْقِ کَنَتْ تُوْذِی النَّاسَ

( مسلم، کتاب البرو الصلہ والاداب،باب فضل ازالۃ…الطریق)

ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ میں نے جنت میں ایک شخص کو آرام کرتے ہوئے دیکھا جس نے ایک درخت کو راہ سے کاٹ دیا تھا جس سے انسانوں کو تکلیف ہوتی تھی۔‘‘

قرآن و حدیث نے وضاحت کردی کہ مرنے کے بعد جزا یا سزا اس دنیا میں نہیں ملتی، بلکہ ایسی جگہ ملتی ہے جو اس دنیا سے باہر ہے۔لہذا ان کا یہ عقیدہ کہ یہی زمینی قبر برزخ ہے جھوٹا قرار پاتا ہے۔

شہید اس دنیا کی طرف واپس آنا چاہتا ہے اس لئے کہ شہادت پر جو اس کا استقبال ہوتا ہے اور جس طرح وہ نوازا جاتا ہے اس کی یہی خواہش ہوتی ہے کہ اس ناقابل بیان جزا کو دوبارہ حاصل کرے۔ یہ شہید کہاں ہوتے ہیں ،کتاب اﷲ بیان کرتی ہے:

ؕ بَلْ اَحْيَآءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُوْنَۙ

’’بلکہ اپنے رب کے پاس زندہ ہیں،رزق پاتے ہیں۔‘‘

نبی صلی ﷲ علیہ و سلم نے شہداء کے مقام کے بارے میں بیان فرمایا:

اَرْوَاحُھُمْ فِیْ جَوْفِ طَیْرٍ خُضْرٍ لَھَا ……قَالُوْا یَا رَبْ نُرِیْدُ اَنْ تَرُدَّ اَرْوَاحَنَا فِیْ اَجْسَادِنَا حَتّٰی نُقْتَلَ فِیْ سَبِیْلِکَ مَرَّۃٌ اُخْرٰی فَلَمَّا رَأَیٰ اَنْ لَیْسَ لَھُمْ حَاجَۃٌ تُرِکَوْااَرْوَاحُھُمْ فِیْ جَوْفِ طَیْرٍ خُضْرٍ لَھَا ……قَالُوْا یَا رَبْ نُرِیْدُ اَنْ تَرُدَّ اَرْوَاحَنَا فِیْ اَجْسَادِنَا حَتّٰی نُقْتَلَ فِیْ سَبِیْلِکَ مَرَّۃٌ اُخْرٰی فَلَمَّا رَأَیٰ اَنْ لَیْسَ لَھُمْ حَاجَۃٌ تُرِکَوْا

(مسلم۔ کتاب الاماراۃ۔باب فی ارواح شھدء۔۔۔۔یرزقون)

’’ شہداء کی روحیں سبز اڑنے والے پرندوں کے جسموں میں ہیں اور ان کیلئے قندیلیں عرشِ الہی سے لٹکی ہوئی ہیں وہ جنت میں جہاں چاہے گھومتے پھرتے ہیں اور پھر ان قندیلوں میں آکر بسیرا کرتے ہیں۔ ان کی طرف انکے رب نے جھانکا اور ارشاد فرمایا کہ تمھیں کسی اور چیز کی خواہش ہے ۔ شہداء نے جواب دیا کہ اب ہم کس چیز کی خواہش کرسکتے ہیں ، جبکہ ہمارا حال یہ ہے کہ ہم جنت میں جہاں چاہیں مزے کریں۔ اﷲ تعالی نے اس طرح تین بار ان سے یہی دریافت کیا اور شہداء نے دیکھا کہ جب تک وہ کسی خواہش کا اظہار نہ کرینگے انکا رب ان سے برابر پو چھتا رہے گا تو انہوں نے کہا کہ مالک ہماری تمنّا یہ ہے کہ ہماری روحوں کو پھر ہمارے جسموں میں واپس لوٹا دیا جائے اور ہم دوسری بار تیری راہ میں شہید کئے جائیں۔ اب کہ مالک نے دیکھ لیا کہ انہیں کسی اور چیز کی خواہش نہیں ہے تو پھر ان سے پوچھنا چھوڑ دیا

بات کھل کر سامنے آ گئی کہ فوت شدہ افراد کی جزا و سزا کا اس دنیا، زمینی قبریا مٹی کے اس جسم سے کوئی تعلق نہیں۔

اب ہم آتے ہیں سمرہ بن جندب ؓ کی طویل روایت کی طرف جسے ہم عذاب قبر کی پوسٹس میں مکمل بیان کرچکے ہیں۔

وَالدَّارُ الْاَوْلیٰ الَّتِیْ دَخَلَتْ دَارُعَآمَّۃِ الْمُوْمِنِیْنَ وَاَمَّا ھٰذِہِ الدَّارُ فَدَارُ الشُّھَدَائِ……اِنَّہٗ بَقِیَ لَکَ عُمُرٌ لَمْ تَسْتَکْمِلْہُ فَلَوِ اسْتَکْمَلْتَ اَتَیْتَ مَنْزِلُکَ۔

( بخاری ۔ کتاب الجنائز)

’…… وہ پہلا گھر جس میں آپ ﷺ داخل ہوے تھے عام مومنین کا گھرتھا اور یہ شہداء کے گھر ہیں اور میں جبرائیل ہوں اور یہ میرے ساتھی میکائیل ہیں آپؐ ذرا اپنا سر اوپر اٹھائیے۔ میں نے اپنا سر اٹھایا تو میں نے اپنے سر کے اوپر ایک بادل سا دیکھا ان دونوں نے کہا یہ آپؐ کا گھر ہے۔ میں نے کہا کہ مجھے چھوڑدوکہ میں اپنے گھر میں داخل ہوجاؤں ان دونوں نے کہا کہ ابھی آپؐ کی عمر کا کچھ حصہ باقی ہے جس کو آپ ؐ نے پورانہیں کیاجب آپ اس کو پورا کرلیں گے تو اپنے اس گھر میں آجائیں گے‘‘ ۔

اسی طرح سورہ مومنون کی آیت نمبر ۱۰۰ میں بھی اسی بات کا تذکرہ ہے کہ فاسق لوگوں کی روحیں مرنے کے بعدجب ا ﷲ تعالیٰ کے پاس پہنچائی جاتی ہیں تو حقیقت سامنے آجانے کے بعد ا ﷲ تعالیٰ سے اس دنیا میں بھیجے جانے کی درخواست کرتی ہیں۔موت کے بعد کی سزا اس دنیا میں نہیں ملتی بلکہ اس کا مقام جہنم بیان کیا گیا ہےجیسا کہ آ ل فرعون ( المومن: 46)، نوح و لوط علیہما السلام کی بیویاں ( تحریم: 11) نو ح علیہ السلام کی قوم (نوح:25) ۔ غزوہ بدر کے موقع پرنبی ﷺ نے قتل ہوجانے والے کفار کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا: فھل وجدتم ما وعد ربکم حقا’’پھر کیا تم نے پوری طرح پا لیا اس وعدے کو جو تمہارے رب نے تم سے کیا تھا‘‘ ۔ عا ئشہ ؓ نے قرآنی آیات پڑھ کر اس

کی تشریح فرمائی کہ یہاں سننا مراد نہیں ہے بلکہ جاننا مرادہے ،یعنی نبیﷺ نے یہ فرمایا کہ جو میں تم سے کہا کرتا تھا اب تمکو پتہ چل گیا ہوگا کہ وہ سب سچ تھا تو عائشہ ؓ کی قرآنی آیات پڑھنے سے مراد یہ تھی حین تبوؤا مقاعدھم من النار ’’ کہ جب جہنم میں انکو اپناٹھکانہ مل گیا ہوگا (تب انھوں نے اچھی طرح جان لیا)‘‘۔(بخاری۔کتاب المغازی ۔ باب قتل ابی جھل)

انسانوں کی موت کے بعد ان پرہونے والے عذاب بھی نبی ﷺ کو دکھائے گئے۔نبی ﷺ نےصحابہ کرام رضی اﷲ تعالیٰ عنہم کو بتایا:

فَاِذَا رَجَلٌ جَالِسٌ وَّ رَجَلٌ قَائِمٌ بِیَدِہٖ ……فَقُلْتُ مَا ھٰذَا…

( بخاری ۔ کتاب الجنائز)

’’…میں دیکھتا کیا ہوں کہ ایک شخص بیٹھا ہوا ہے اور ایک شخص کھڑا ہے اور اسکے ہاتھ میں لوہے کا آنکڑا ہے وہ اس کو بیٹھے ہوئے شخص کے گلپھڑے میں داخل کرکے گلپھڑ ے کو گردن تک پھاڑ ڈالتا ہے پھر اسکے دوسرے گلپھڑے کیساتھ یہی عمل کرتا ہے پھر گلپھڑے جڑ جاتے اور پھر وہ (کھڑا ہوا) شخص (بیٹھے ہوئے) کیساتھ دوبارہ یہی معاملہ کرتا ہے۔ نبی صلی ﷲ علیہ و سلم نے فرمایا میں نے ان سے پوچھا یہ کیا ہے ؟ ان دونوں نے کہا کہ آگے چلئے، پس ہم چلے یہاں تک کہ ایسے شخص کے پاس پہنچے جو اپنی گدی کے بل لیٹا ہوا تھا اور اسکے سر پر ایک دوسرا شخص پتھر لئے کھڑا ہوا تھا اور پتھر مار کر اسکا سر پھاڑ رہا تھا۔ پتھرسر پر پڑنے کے بعد ایک طرف لڑھک جاتا تھا اور پتھر مارنے والا اس کو اٹھانے کیلئے جاتا اور اس درمیان میں کہ وہ پھر واپس آئے سر پھر جڑ جاتا اور ویسے ہی ہوجاتا کہ جیسا پہلے تھا۔ اب پھر وہ پہلے کی طرح پتھر کو سر پر مارتا۔(یہ دیکھ کر) نبی صلی اﷲ علیہ و سلم نے فرمایا کہ میں نے ان سے پوچھا کہ یہ کون ہے؟ ان دونوں نے کہا کہ آگے چلئے۔ ہم چلے اور تنورکی شکل کے نقب کے پاس آئے اس نقب کے اوپر کا حصہ تنگ اور نیچے کا وسیع تھا اور اس میں آگ جل رہی تھی اس نقب کے اندر برہنہ مرد اور عورتیں تھیں۔ جب آگ تیز ہوتی تو وہ اوپر اٹھتے اور باہر نکلنے کے قریب ہو جاتے اور جب ہلکی ہوتی تو نیچے واپس چلے جاتے۔ نبی صلی ﷲ علیہ و سلم فرماتے ہیں کہ میں نے کہا یہ کیا ہورہا ہے ؟ ان دونوں نے کہا آگے چلئے۔ ہم چلے یہاں تک کہ ایک نہر پر آئے جو خون سے بھری ہوئی تھی اور اس میں ایک شخص کھڑا تھا اور نہر کے کنارے ایک اور شخص کھڑا ہوا تھا جس کے سامنے پتھر پڑے ہوئے تھے۔ جب نہر والا شخص آگے بڑھتااور باہر نکلنا چاہتا تو باہر والا اسکے منہ پر پتھر مارتا اور اسے واپس اس کی جگہ لوٹا دیتا۔ نبی صلی اﷲ علیہ و سلم نے فرمایا کہ میں نے کہا یہ سب کیا ہے…؟

فرشتوں نے بتایا :

اَمَّا الَّذِی رَاَیْتَہٗ یُشَقُّ شِدْقُہٗ فَکَذَّابٌ تُحَدِّثُ بِالْکَذِبَۃِ فَتُحْمَلُ……وَالَّذِیْ رَأَیْتَہٗ فِیْ الْنَّھْرِ اٰکِلُوْا الرِّبْوَا … ( ایضاً) ’……’

وہ جس کو آپ ؐ نے دیکھا کہ اسکے گلپھڑے پھاڑے جارہے تھے وہ کذاب تھا جھوٹی باتیں بیان کرتا تھا اور لوگ اس بات کو لے اڑتے تھے یہاں تک کہ ہر طرف اسکا چرچا ہوتا تھا تو اسکے ساتھ جو آپ ٔ نے ہوتے دیکھا وہ قیامت تک ہوتا ر ہے گا اورجن کو آ پ ؐ نے دیکھا کہ اسکا سر کچلا جارہا تھا یہ وہ شخص تھا کہ جس کو اﷲ تعالیٰ نے قرآن کا علم دیا تھا لیکن وہ رات کو قرآن سے غافل سوتا رہا اور دن میں اسکے مطابق عمل نہ کیا یہ عمل اسکے ساتھ قیامت تک ہوتا رہیگا۔ اور جس کو آپ صلی ا ﷲ علیہ و سلم نے نقب میں دیکھا وہ زناکار تھے اور جس کو آپ ؐ نے نہر میں دیکھا وہ سود خور تھا…‘‘

یہ کونسا عذاب ہے کہ فرشتے بتا رہے ہیں کہ ’’ قیامت تک ہوتا رہے گا ‘‘، یہ کہاں ہو رہا ہے ؟ زنا کاروں کی قبریں دنیا بھر میں پھیلی ہوئی ہیں پھر یہ مقام کونسا ہے کہ زناکار ایک ہی تنور میں یعنی ایک ہی جگہ عذاب دئیے جارہے ہیں۔کتاب ا ﷲ کےدلائل سے واضح ہوا کہ’’ عالم برزخ‘‘ کا اس ’’عالم

دنیا‘‘ سے تعلق نہیں۔ قرآن و حدیث کے اور بھی دلائل اس سلسلے میں پیش کیے جاسکتے ہیں لیکن طوالت کی وجہ سے صرف انہی دلائل پر اکتفا کیا جاتا

ہے ۔ ماننے والوں کیلئے تو یہی بہت ہے اور نہ ماننے والوں کیلئے تو اگر پورا قرآن بھی پیش کردیا جائے تو وہ نہ مانیں گے۔اب یہ باتیں ذہن میں رکھیں :

1: روح جب اللہ تعالیٰ کے پاس عرش الٰہی پر چلی جاتی ہے اور واپسی کی درخواست کرتی ہے تو ’’ برزخ ‘‘ کا ذکر کیا گیا کہ یہ قیامت تک واپس دنیا نہیں جا سکتیں، یعنی قیامت تک برزخ کے پار رہیں گی اسی مناسبت سے اسے ’’ عالم برزخ ‘‘ یعنی آڑ کے پیچھے کا عالم کہتے ہیں، یہ صرف قیامت تک کے لئے ہے۔ 2:اس دور میں روح کو داخل کئے جانے کا مقام جنت یا جہنم بتایا گیا لہذا اسے جنت اور جہنم ہی کہا جائے گا۔اس دور میں یہ مٹی کا بنا جسم نہیں ہوتا بلکہ احادیث سے ایک دوسرے جسم کا عندیہ ملتا ہے۔ 3 : واضح ہوا کہ یہ زمینی قبریں نہ ہی آخرت کا مقام ہیں اور نہ یہ برزخی ٹھکانے ہیں کیونکہ برزخ ( ایک آڑ )کا ذکر تو قرآن نے وہاں کیا ہے جب یہ روح واپس اس دنیا کی طرف آنا چاہتی ہے، یعنی برزخ کسی مقام کا نام نہیں بلکہ صرف ایک آڑ ہے۔

کیا ہمارے قبرستان عالم آخرت میں ہیں ؟

عذاب قبر کے معاملے کا تعلق آخرت سے ہے ، اور جیسا کہ کتاب ا ﷲ کے دلائل سے ثابت ہے کہ آخرت کی جزا و سزا کا مقام یہ دنیا نہیں بلکہ آسمانوں میں ہے۔اب جو یہ عقیدہ رکھے کہ آخرت کی جزا و سزا اس دنیا میں ملتی ہے وہ قرآن و حدیث پر ایمان رکھنے والا ہے یا اس کا کفر کررہا ہے؟ سوچیں ! دنیا والوں کے بنائے ہوئے ان قبرستانوں میں پائی جانے والی یہ قبریں عالم دنیا میں ہیں یا عالم آخرت میں؟ افسوس صد افسوس شیطان نے کیسا گمراہ کردیا ہے!

برزخ کے بارے میں ہر فرقے میں یہ تصور پایا جاتا ہے کہ زندوں کی رسائی وہاں ممکن نہیں، اور یہی حقیقت ہے۔اب اگر یہی قبر ’’برزخ‘‘ ہے تو پھر نبیﷺ نے جابر بن عبداﷲ رضی اللہ عنہ کو کیسے یہ اجازت دے دی کہ وہ اپنے والد کی’’برزخ‘‘ میں داخل ہوجائیں اور ان کا جسم وہاں سے نکال کر ان کی ایک دوسری ’’برزخ‘‘ بنا دیں، اس لیے کہ جابر رضی اللہ عنہ نے نبیﷺ کی اجازت سے اپنے والد کا جسم اس قبر سے نکال کر دوسری جگہ دفنا دیا تھا جہاں وہ ایک دوسرے صحابی رضی اللہ عنہ کے ساتھ دفن کئے گئے تھے۔( بخاری، کتاب الجنائز،ھل یخرج المیت۔۔۔لعلہ)

اسی طرح نبیﷺ نے مدینہ میں مشرکین کی قبریں کھدوادیں(بخاری۔کتاب العمرۃ ۔ باب حرم مدینہ)۔یعنی یہ بات زندہ انسانوں کی دسترس میں ہے کہ وہ جب چاہیں کوئی قبر کھود کر میت کی برزخ میں حائل ہو جائیں، کتنے پوسٹ مارٹم ہوتے ہیں جن میں مردہ اجسام کو یا ان کے مختلف حصوں کو کیمیائی تجربے کے لیے قبر سے نکال لیا جاتا ہے۔ کیانبی ﷺ کو معلوم نہ تھا کہ یہ قبر ’’برزخ‘‘ ہے، ورنہ وہ کیسے کسی زندہ کو اجازت دے دیتے کہ وہ وفات پاجانے والوں کی برزخ میں داخل ہوجائیں ،اور صرف داخل ہی نہ ہوں بلکہ انکے مردہ جسم کو اس برزخ سے باہر بھی نکال لائیں۔ پھر ان کی ایک نئی برزخ بھی بنادی جائے۔ گویا نبیﷺ کو وہ علم نہ تھا جو ان علماء فرقہ کو ہے ۔

پھر ان سے پوچھا جائے کہ جن کی قبریں نہیں بنتیں، جو قومیں اپنے مردوں کو جلا دیتی ہیں اور جو ڈوب کر مرجائیں ان کی ’’برزخ‘‘ کہاں ہے؟ تو پھر اُسی خودساختہ عقیدے کی قوالی سنائی جاتی ہے کہ ہمارے اور مردے کے درمیان’’ برزخ‘‘ہے۔

ایک طرف تو مردہ کی قبر برزخ ہے، یعنی یہاں برزخ ایک ’’مقام‘‘ ہے، اور جہاں مردہ اس قبر میں دفن نہ ہو وہاں برزخ ہمارے اور مردہ کے درمیان آجاتی ہے ، یعنی برزخ یہاں ’’پردہ‘‘ بن جاتی ہے اور جب روح کے حوالے سے بات ہو تو علییں و سجین کو برزخ بنا دیا جاتا ہے۔گویا ان مسلک پرستوں کے عقائد بے پیندے کے لوٹے کی طرح ہیں کہ کبھی ادھر کبھی ادھر۔

ذرا سوچئیے کہ ایک شخص کی لاش شیروں نے کھالی باقی بچا ہوا گوشت بھیڑیوں نے کھایا، ہڈیوں سے لگا ہوا گوشت گِدھوں نے کھایا باقی ذرات چونٹیوں نے کھا لیے، ہڈیاں کتوں نے کھالیں۔ اب اس کی ’’برزخ‘‘ شیروں کا پیٹ ہے یا بھیڑیوں کا پیٹ، گِدھوں،چیونٹیوں کا پیٹ ہے یا کتوں کا؟یا بیک وقت اس کی بہت ساری ’’ برزخیں‘‘ ہیں؟ پھر ان سب نے کھا کر اسے فضلہ بناکر نکال دیا، ’’برزخ‘‘ ختم ہوگئی؟ پھر سؤروں نے اس گندگی کو کھایا، ایک نئی ’’برزخ‘‘ بن گئی؟

عمارت گر گئی، بم پھٹ گیا، جہاز کا حادثہ ہوگیا یا زلزلہ آگیا کسی کی ٹانگ کسی کے ہاتھ کے ساتھ دفن ہوئی، کسی کادھڑ کسی کے سر کے ساتھ دفن ہوا، ’’الف‘‘ کی ’’برزخ‘‘ میں’’ ب‘‘ کی ’’برزخ‘‘ شامل ہو گئی!

قرآن و حدیث کی بات خواہ کچھ بھی ہو ان کا عقیدہ یہی ہے کہ اسی زمیں میں سب کچھ ہوتا ہے اور اپنے اس باطل عقیدے کو ثابت کرنے کیلئے یہ لوگ سورۃ الاعراف آیت نمبر ۲۵ اور سورۃ طٰہٰ آیت نمبر ۵۵ پیش کرتے ہیں ۔ لہذا ضروری ہے کہ ان آیات کی تشریح لوگوں کے سامنے لائی جائےکہ کیا قرآن مجید میں مرنے کے بعد عذاب و راحت کا مقام یہ زمین بتایا گیاہے؟

قَالَ فِيْهَا تَحْيَوْنَ وَ فِيْهَا تَمُوْتُوْنَ وَ مِنْهَا تُخْرَجُوْنَؒ۞

[الأعراف: 25]

فرمایا:اسی میں تم کو جینا ہے اور اسی میں تم کو مرنا ہے اور اسی میں سے تم کو نکالا جائے گا۔‘‘

مِنْهَا خَلَقْنٰكُمْ وَ فِيْهَا نُعِيْدُكُمْ وَ مِنْهَا نُخْرِجُكُمْ تَارَةً اُخْرٰى۞

[طه: 55]

’’اسی سے ہم نے تم کو پیدا کیا ہے،اسی میں ہم تم کو لوٹائیں گے اور اسی سے ہم تم کو نکالیں گے‘‘۔

ان دونوں آیات کو یہ فرقہ پرست اپنے اس باطل عقیدے کی دلیل کے طور پر پیش کرتے ہیں حالانکہ ان دونوں آیات میں سے کسی میں بھی مرنے کے بعد کی جزا و سزا کا کوئی ذکر نہیں۔ جماعت المسلمین والے فرماتے ہیں:

معلوم ہوا کہ زمین میں موت آئیگی اور زمین ہی سے نکالا جائے گا یہ دونوں چیزیں واضح طور پر اعلان کررہی ہیں کہ مرنے کے بعدجو کچھ ہوگا وہ زمین ہی میں ہوگا۔…مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونے کے درمیانی وقت کے سلسلے میں کسی جگہ کا کوئی ذکرنہیں۔زمین میں مرنا اور زمین سے بروز قیامت اٹھایا جانا یہ تسلسل بتا رہا ہے کہ درمیانی وقفہ کیلئے کوئی اور جگہ نہیں۔‘‘ (ارضی قبر یا فرضی قبر)

ان دونوں آیات کا خلاصہ یہ ہے کہ انسان اسی مٹی سے بنایا گیا ہے ، اسی زمین پر یہ اپنی زندگی گذارے گا ، موت کے بعد اسی مٹی میں لوٹایا جائے گا پھر قیامت کے دن اسی مٹی سے نکالا جائے گا۔اب اس کے بعد یہ کہنا کہ’’ یہ دونوں چیزیں واضح طور پر اعلان کررہی ہیں کہ مرنے کے بعد جو کچھ ہوگا وہ زمین ہی میں ہوگا‘‘، محض اپنے باطل عقیدے کا استخراج ہے ورنہ ان آیات میں ایسی کوئی بات ہرگز نہیں۔قرآن و حدیث نے عقیدہ فراہم کیا ہے کہ مرنے کے بعد یہ ہوگا کہ یہ جسم اس مٹی میں جانے کے بعد سڑ گل جاتا اور مٹی میں ملکر مٹی ہوجاتا ہے اور قیامت کے دن اﷲ تعالیٰ ان جسموں کی دوبارہ تخلیق فرمائے گا۔یہ تو ہے کتاب اﷲ کا بیان لیکن جو کچھ جماعت المسلمین والے بیان کر رہے ہیں ،اس سے اگر ان کی مراد مرنے کے بعد کی جزا و سزا ہے تو پھر آخر اﷲ کو کیا حجاب تھا اس بات کو بیان کرنے میں!

حیرت ہے کہ ا ﷲتعالیٰ مٹی سے بنایا جانا بیان کررہا ہے، مٹی میں لوٹایا جانا بیان کررہا ہے ،قیامت کے دن اسی زمین سے نکالا جانا بیان کررہا ہے اور نہیں بیان کررہا توان کا گھڑا ہوا عقیدہ نہیں بیان کررہا !لیکن ان کے علم کا عروج بھی ملاحظہ فرمائیں کہ ایک بات ا ﷲ تعالیٰ نے بیان تو کی نہیں لیکن انہوں نے اس چھپی ہوئی بات کو سمجھ بھی لیا، اس پر ایمان بھی بنالیا ،اور اس کی تبلیغ بھی شروع کردی! جب ان سب باتوں کا کتاب اﷲ میں کوئی ذکر نہیں تو سمجھ نہیں آتا کہ ان باتوں کی تعلیم انہوں نے کہاں سے حاصل کی ہے۔ بہرحال شیطان انسان کا ازلی دشمن ہے اور اس نے اپنا پورا زور لگایا ہوا ہے کہ کسی طرح بھی اس انسان کو بہکا کر ا ﷲ کے بتائے ہوئے راستہ سے دور کردے۔

درمیانی وقفہ:

فرماتے ہیں’’مرنا اور زمین سے بروز قیامت اٹھایا جانا یہ تسلسل بتا رہا ہے کہ درمیانی وقفہ کیلئے کوئی اور جگہ نہیں۔‘‘

قارئیں ملاحظہ فرمایا کہ ان کا قرآن و حدیث سے کس قدر تعلق ہے؟ اس سے پہلے اس بات کی وضاحت ہوچکی ہے کہ دنیا سے واپسی کا اگلا لمحہ آخرت کا پہلا لمحہ ہوتا ہے۔ اِدھر روح قبض ہوتی ہے اُدھراس کا داخلہ جنت یا جہنم (عالم برزخ)میں ہوتا ہے تو قرآن کے اس بیان کے بعد ’’ درمیانی وقفہ‘‘ کا سوال کیسے پیدا ہوتا ہے؟ راحت قبر یا عذابِ قبرکوئی علیحدہ چیز نہیں بلکہ قیامت کے بعد ملنے والی جزا یا سزا کا تسلسل ہی ہے ۔ ان نام نہاد علماء کو اتنا بھی نہیں معلوم کے کوئی درمیانی وقفہ نہیں ہے ادھر روح قبض ہوئی اور اُدھر جنت یا جہنم میں راحت یا عذاب شروع۔

اس سے قبل ہم نے دیو بندیوں کی ایک کتاب ’’ عالم برزخ‘‘ کا حوالہ بھی دیاہے ، یہ کتاب ان کے بڑے نامی گرامی عالم قاری محمد طیب جو کہ دار العلوم دیو بند کے مہتمم تھے کی تحریر کردہ ہے۔ اس کتاب میں انہوں نے قرآن کریم کی آیات کی من مانی تشریح، موضوع و منکر روایات اور جھوٹے چشم دید واقعات سے اس زمینی قبر ہی کو عذاب کا مرکز اور برزخ قراردینے کی ہر ممکن کوشش کی ہے، لیکن ساتھ ہی یہ بھی لکھ گئے:

’’ اسی طرح برزخ والے دنیا والوں کے احوال بھی معلوم کرنے کے خواہشمند رہتے ہیں جیسے نبض حدیث نبوی صلی اﷲ علیہ و سلم مرنے کے بعد روح کے عالم برزخ میں پہنچتے ہی میت کے اعزہ و احباب اس کے اردگرد جمع ہوجاتے ہیں۔‘‘ ( عالم برزخ، از قاری محمد طیب دیوبندی، صفحہ نمبر ۷)

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان کے نزدیک تو ’’انسان کی روح قبض کرنے کا وقت‘‘ اور ’’اس کے دفنانے کی جگہ ‘‘ برزخ ہے، یا بقول ان کے اگر نہیں دفنایا گیا تو’’ ہمارے اور اس مردہ کے درمیان ‘‘برزخ ہے تو اب یہ ’’عالم برزخ‘‘ کہاں سے آگیا؟

’’الف‘‘ کراچی میں مرا، ان کے عقیدے کے مطابق اس کی برزخ کراچی کے کسی قبرستان میں ہے، ’’ب‘‘ امریکہ میں ڈوب کر مرا چنانچہ اس کی ’’ برزخ‘‘ امریکہ کے سمندر میں ہوگی،’’ ت‘‘ افریقہ کے جنگل میں مرا گویا اس کی برزخ افریقہ کے جنگل میں بسنے والے درندے کے پیٹ ہیں۔ تو اب ’’عالم برزخ‘‘ میں ان سب کی روحیں کہاں سے آگئیں؟ان لوگوں نے تو کتابیں لکھ لکھ کر امت میں یہی عقیدہ پھیلایا ہے کہ یہی قبر اس مردے کی برزخ ہے، یہاں ہی اس کی روح لوٹائی جاتی ہے، یہاں ہی اس کو عذاب دیا جاتا یا راحت ملتی ہے ، تو اب ان سب کی روحیں ’’ عالم برزخ‘‘ میں کیا کرنے گئی ہیں؟؟؟

حقیقت یہ ہے کہ ان سب کے تحت الشعور میں کتاب اﷲ کا دیا ہوا عقیدہ ’’ عالم برزخ‘‘ موجود ہے باقی یہ ساری لڑائی محض اپنے فرقے کو بچانے کیلئے ہے۔یہ حق جانتے ہیں لیکن اس کو چھپاتے اور باطل کو پھیلاتے ہیں، اس لیے کہ ان کے فرقے کے بڑے یہ باتیں لکھ گئے ہیں ان کو کہاں لے کر جائیں!

کیا ہر مرنے والے کی برزخ علیحدہ ہے؟

اب ہم برزخ کے حوالے سے ایک اہم موضوع پر بات کر رہے ہیں اور آپ کے سامنے ان فرقہ پرستوں کے ایک باطل عقیدے کی حقیقت کتاب اللہ کی روشنی میں بیان کر رہے ہیں، آپ اسے پڑھیں اور اندازہ لگائیں کہ انہوں نے کس انداز میں امت کو گمراہ کیا ہے۔ یہ تو آپ کو معلوم ہی ہے کہ ان کا عقائد حالات کے حساب سے بدلتے رہتے ہیں ، کبھی برزخ کو پردہ اور کبھی قبر بنا دیتے ہیں۔ یعنی ہر فرد کی علیحدہ برزخ بنا دیتے ہیں، آئیے اس مسئلہ پر کتاب اللہ کا بیان دیکھیں۔

اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے

وَ مِنْ وَّرَآىِٕهِمْ بَرْزَخٌ اِلٰى يَوْمِ يُبْعَثُوْنَ

ان سب مرنے والوں ‘ ‘ کے پیچھے ’ ’ برزخ ‘‘ ہے اٹھائے جانے والے دن تک‘‘۔

[ وَ مِنْ وَّرَآىِٕهِمْ: اور ان سب کے پیچھے سے ] [بَرْزَخٌ:ایک آڑ ] [ اِلٰى يَوْمِ:دن تک ] [يُبْعَثُوْنَ :وہ سب اٹھائے جائیں گے ]

اﷲ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ ’’ان سب مرنے والوں‘‘ کے پیچھے ’’ برزخیں‘‘ ہیں، بلکہ فرمایا کہ ان سب مرنے والوں کے پیچھے صرف ایک ’’ برزخ ‘‘ ہے۔

سب کے لئے ایک ہی برزخ کا اعلان ہے۔ برزخ نہ کوئی پردہ ہے، اور نہ ہی کوئی مقام بلکہ یہ ایک آڑ ہے۔جو دنیا میں سب سے پہلے مرا اور جو آج مرا ان سب کے لئے ایک ہی ’’ برزخ ‘‘ یعنی آڑ ہے۔ سب مرنے والوں کی روحیں جو اللہ تعالیٰ کے پاس ہیں اب دنیا میں واپس آنا چاہیں تو نہیں آ سکتیں کیونکہ ان کے اور دنیا کے درمیاں ایک آڑ ہے جو قیامت تک انہیں دنیا میں نہیں آنے دے گی۔ اور جیسے ہی قیامت کا دن برپا ہوگا، یہ آڑ ختم ہو جائے گی، یہ جسم دوبارہ سے بنا دئیے جائیں گے اور ان کی روحیں ان میں ڈالدی جائیں گی۔

قرآنی آیات پڑھیں :

فَوَقٰىهُ اللّٰهُ سَيِّاٰتِ مَا مَكَرُوْا وَ حَاقَ بِاٰلِ فِرْعَوْنَ سُوْٓءُ الْعَذَابِۚ۝ اَلنَّارُ يُعْرَضُوْنَ عَلَيْهَا غُدُوًّا وَّ عَشِيًّا١ۚ وَ يَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ١۫ اَدْخِلُوْۤا اٰلَ فِرْعَوْنَ اَشَدَّ الْعَذَابِ

[المومن: 45-46]

’’پس اللہ نے اس ( موسیٰ ؑ )کو ان کی چالوں سے محفوظ رکھا، اور آل فرعون کو بدترین عذاب نے گھیر لیا ،جہنم کی آگ ہے جس پر وہ صبح و شام پیش کیے جاتے ہیں، اور جس دن قیامت قائم ہوگی تو حکم ہوگا کہ آل فرعون کو شدید تر عذاب میں داخل کردو ‘‘۔

بتائیں فرعونیوں کی علیحدہ علیحدہ ’’ برزخیں ‘‘ ہیں یا سب ایک ہی جگہ عذاب دئیے جا رہے ہیں۔

مِمَّا خَطِيْٓـٰٔتِهِمْ۠ اُغْرِقُوْا فَاُدْخِلُوْا نَارًا١ۙ۬ فَلَمْ يَجِدُوْا لَهُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَنْصَارًا

[نوح: 25]

”(نوح ؑکی قوم والے) اپنی خطاؤں کی بناء پر ڈبو دیے گے اور آگ میں داخل کردیے گےتو انھوں نے اللہ کے علاوہ کسی کو اپنا مددگار نہ پایا۔“

ساری قوم نوح ؑ ایک ہی جگہ جہنم میں عذاب دی جارہی ہے ان کی علیحدہ علیحدہ برزخیں نہیں بیان کی گئیں۔

قارئین / سامعین ! آ پ کے سامنے یہ حقیقت کھل کر آگئی ہوگی کہ اللہ تعالیٰ نے تمام مرنے والوں کے لئے ایک ہی برزخ ( آڑ ) کا اعلان فرمایا ہے یہ نہیں کہ ابھی کسی کی روح قبض ہو رہی ہے

تو یہ’’ برزخ’’ پردہ بن گئی،پھر اسے قبر میں دفن کیا گیا تو اب اس کی ’’ برزخ ‘‘ قبر بن گئی، پھر اس کی روح کا سوال ہوا تو ’’ علیین و سجین ‘‘ اس کی ’’ برزخ ‘‘ بن گئے۔

آپ کی سمجھ میں آ گیا ہوگا کہ برزخ جسے اللہ تعالی نے ’’آڑ‘‘ بیان کیا ہے ، یہ لوگ اس کے معنی ’’ پردہ ‘‘ کیوں کرتے ہیں۔ اس لئے کہ ان کے عقائد کتاب اللہ کے مطابق نہیں ،اب یہ مجبور ہیں کہ اگر قرآن کی غلط تشریحات نہ کریں اور قرآن کی بات مانیں تو فرقہ بدنام ، اپنے سارے مفتی و عالم بدنام۔لہذا ایسا کرنا پڑتا ہے۔

 کیا برزخ کوئی تیسرا مقام ہے ؟

دیوبندیوں کے ایک بڑے عالم اشرف علی تھانوی صاحب عالم برزخ کے بارے میں فرماتے ہیں:

’’ اور عالم مثال کا اثبات کرتا ہوں۔ سو سمجھ لیجئے کہ یہ ثابت ہے اشارات ِنصوص سے۔ اور اشارات تو میں نے احتیاطاً کہہ دیا ہے ورنہ وہ اشارات بمنزلہ صراحت کے ہیں تو گویا بالتصریح یہ بات ثابت ہے کہ علاوہ شہادت یعنی دنیا کے اور عالم غیب یعنی آخرت کے ان دونوں کے درمیان میں ایک اور بھی عالم ہے جس کو عالم مثال کہتے ہیں جو من وجہ مشابہ ہے عالم شہادت کے اور من وجہ مشابہ ہے عالم غیب کے یعنی وہ برزخ ہے درمیان دنیا اور آخرت کے اور اس عالم کے ماننے سے ہزاروں اشکالات قرآن و حدیث کے حل ہوجاتے ہیں۔…… تو جس وقت انسان مرتا ہے پہلے اس عالم مثال ہی میں جاتا ہے۔ وہاں ایک آسمان بھی ہے مشابہ دنیا کے آسمان کے اور ایک زمین بھی ہے مشابہ دنیا کی زمین کے۔ اور ایک جسم بھی ہے مشابہ اس جسم کے لیکن وہ بھی ہے جسم ہی۔ تو مرنے کے بعد تو روح کے لئے ایک جسم مثالی ہوگا اور آخرت میں جو جسم ہوگا وہ یہی ہوگا جو دنیا میں ہے۔‘‘ ( اشرف الجواب،صفحہ ۶۰۶۔۶۰۷، از محمد اشرف علی تھانوی)

وضاحت :

عالم برزخ کی جوتشریح قرآن و حدیث سے ملتی ہے وہ ہے’’ آڑ کے پیچھے کا عالم‘‘، یہ عالم دنیا اور آخرت کے علاوہ ایک تیسرا عالم ہے اس کا کوئی ثبوت قرآن و حدیث سے نہیں ملتا۔قرآن و حدیث میں جہاں مرنے والے کیلئے قیامت تک اس عالم میں رہنے کا ذکر ہے وہاں اس کے ثواب و عذاب کی جگہ جنت ،جہنم بیان کی گئی ہے جسے نبیﷺ نے قبر کا نام سے بھی موسوم کیا ہے۔کتاب اللہ سے صرف یہی معلوم ہوتا ہے کہ مرنے کے بعد انسان کی روح یہاں داخل کی جاتی ہے اسے ایک عارضی جسم دیا جاتا ہے ، روح و عارضی جسم ( جسے اشرف علی تھانوی صاحب نے مثالی جسم کہا ہے )کا وہ مجموعہ قیامت تک جزا یا سزا پاتا رہے گا۔ البتہ قیامت کے دن سارے انسان اپنے انہی دنیاوی جسموں کے ساتھ ہمیشہ ہمیشہ کیلئے ان جنتوں یا جہنم میں داخل کیے جائیں گے۔

اہل تشیع نے بھی اسے ’’بہشت برزخ‘‘ بیان کیا ہے،سورہ یٰس میں بیان کیے گئے واقعے اور جنت میں داخلے کے حکم پر فرماتے ہیں:

’’پس یہاں پر جو پروردگار عالم فرماتا ہے کہ ’’حکم ہوا جا بہشت میں‘‘ امام فرماتے ہیں بہشت یعنی بہشت برزخی اور ایک دوسری روایت میں جنت دنیوی سے تعبیر کیا گیا ہے یعنی بہشت قیامت سے نچلے درجے کی۔‘‘ (برزخ،صفحہ۱۰۱،آیت اﷲ العظمیٰ سید عبد الحسین اہل تشیع) ’’برھوت جہنم برزخی کا مظہر ہے۔‘‘ ( ایضاً،صفحہ ۱۱۰)

قرآن و حدیث میں کہیں بھی اس جنت کو برزخی جنت یا دنیوی جنت اور جہنم کو برزخی جہنم نہیں بیان کیا، بلکہ اسے جنت یا جہنم کہا گیا ۔ غزوہ احد کے شہدا تو ایسی جنت میں داخل کیے گئے ہیں کہ جس میں عرش الہی سے قندیلیں لٹکی ہوئی ہیں۔اسی طرح غزوۂ بدر کے موقع پر شہید ہونے والے حارثہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کیلئے فرمایا کہ جنتوں کی تعداد تو بہت ہے اور وہ تو جنت الفردوس میں ہیں۔

لہذا یہ عقیدہ رکھنا کہ عالم برزخ جنت و جہنم کے علاوہ کوئی اور تیسرامقام ہے بالکل غلط ہے۔

برزخ اور عالم برزخ کے حوالے سے پھیلائی گئی مغالطہ آرئیوں کی حقیقت قرآن و حدیث کی روشنی میں آپ کے سامنے بیان کردی گئی کہ یہ سب ذہنی خلفشار اور فرقوں کے اکابرین کے دئیے ہوئے فتاویٰ کی اطاعت کا نتیجہ ہے جسے یہ منہج سلف کا نام دیتے ہیں۔برزخ اور عالم برزخ کے حوالے سے پھیلائی گئی مغالطہ آرئیوں کی حقیقت قرآن و حدیث کی روشنی میں آپ کے سامنے بیان کردی گئی کہ یہ سب ذہنی خلفشار اور فرقوں کے اکابرین کے دئیے ہوئے فتاویٰ کی اطاعت کا نتیجہ ہے جسے یہ منہج سلف کا نام دیتے ہیں۔

Categories
Uncategorized

عقیدہ عذاب قبر اور مسلک پرستوں کی مغالطہ آ رئیاں۔ ( روح )

بسم اللہ الرحمن الرحیم

ہم نے عذاب قبر کے بارے میں قرآن و حدیث سے جو دلائل دئیے اس میں واضح تھا کہ روح نکلتے ہی یہ انسانی جسم ہر قسم کے شعور سے عاری ہوجاتا ہے، اب اس پر کسی طرح کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔ اور پھر رفتہ رفتہ مٹی سے بنا یہ جسم سڑ گل کر مٹی میں ملکر مٹی بن جاتا ہے۔ گویا اس جسم کا وجود ہی نہیں رہتا تو اس پر عذاب قبر کیسا ؟

ہم نے قرآن و حدیث کا متفقہ عقیدہ بیان کیا تھا کہ مرنے کے بعد سے قیامت کے دن تک جزا یا عذاب کا معاملہ اس جسم کیساتھ نہیں بلکہ روح کیساتھ ہوتا ہے۔لیکن فرقہ پرستوں نے امت میں عقیدہ پھیلایا کہ مرنے کے بعد روح پلٹ کر اس جسم میں آجاتی ہے، اسی لئے یہ جسم فرشتوں کے سوالات کے جواب دیتا ہے اور پھر اسے یہاں ہی نوازا جاتا یا عذاب دیا جاتا ہے۔ ان کی ان باتوں کو ہم قرآن و حدیث کی کسوٹی پر پرکھتے ہیں۔لہذاسب سے پہلے ہم ’’قبض روح ‘‘ کے بارے میں قرآن و حدیث کا بیان پیش کرتے ہیں:

اَللّٰهُ يَتَوَفَّى الْاَنْفُسَ حِيْنَ مَوْتِهَا وَ الَّتِيْ لَمْ تَمُتْ فِيْ مَنَامِهَا١ۚ فَيُمْسِكُ الَّتِيْ قَضٰى عَلَيْهَا الْمَوْتَ وَ يُرْسِلُ الْاُخْرٰۤى اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى١ؕ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّقَوْمٍ يَّتَفَكَّرُوْنَ۠

[الزمر: 42]

”اللہ روحوں کو قبض کرلیتا ہے انکی موت کے وقت اور جنکی موت نہیں آئی انکی سوتے وقت، پھر جس پر موت کافیصلہ ہوتا ہے اسکی روح روک لیتا ہے اور دوسری ارواح کو چھوڑ دیتا ہے ایک مقررہ وقت تک کیلئے۔ اس میں نشانیاں ہیں ان لوگوں کیلئے جو غور و فکر کرتے ہیں۔

وَ هُوَ الْقَاهِرُ فَوْقَ عِبَادِهٖ وَ يُرْسِلُ عَلَيْكُمْ حَفَظَةً١ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَآءَ اَحَدَكُمُ الْمَوْتُ تَوَفَّتْهُ رُسُلُنَا وَ هُمْ لَا يُفَرِّطُوْنَ۝ثُمَّ رُدُّوْۤا اِلَى اللّٰهِ مَوْلٰىهُمُ الْحَقِّ١ؕ اَلَا لَهُ الْحُكْمُ١۫ وَ هُوَ اَسْرَعُ الْحٰسِبِيْنَ۰۰۶۲

(الانعام:61/62)

’’اور وہ اپنے بندوں پر غالب ہے اور تم پر نگہبان بھیجتا ہے۔ یہاں تک کہ جب تم میں سے کسی کی موت آتی ہے تو ہمارے بھیجے ہوئے (فرشتے) اسکی روح قبض کر لیتے ہیں اور وہ کوئی کوتاہی نہیں کرتے۔ پھر تم پلٹائے جاتے ہو اﷲکی طرف جو تمھارا حقیقی مالک ہے ۔سن لو کہ حکم اسی کا ہے اور وہ بہت جلد ساب لینے والاہے‘‘۔

ؕ وَ لَوْ تَرٰۤى اِذِ الظّٰلِمُوْنَ فِيْ غَمَرٰتِ الْمَوْتِ وَ الْمَلٰٓىِٕكَةُ بَاسِطُوْۤا اَيْدِيْهِمْ١ۚ اَخْرِجُوْۤا اَنْفُسَكُمْ١ؕ اَلْيَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذَابَ الْهُوْنِ بِمَا كُنْتُمْ تَقُوْلُوْنَ عَلَى اللّٰهِ غَيْرَ الْحَقِّ وَ كُنْتُمْ عَنْ اٰيٰتِهٖ تَسْتَكْبِرُوْنَ۠

[الأنعام: 93]

”کاش تم ظالموں کو اس حالت میں دیکھ سکو جبکہ وہ سکرات موت میں ہوتے ہیں اور فرشتے ہاتھ بڑھا بڑھا کر کہہ رہے ہوتے ہیں نکالو اپنی روحوں کو آج تمھیں ان باتوں کی پاداش میں ذلت کا عذاب دیا جائیگا جو تم اللہ پر تہمت رکھ کر نا حق کہا کرتے تھے اور اسکی آیات کے مقابلے میں سرکشی دکھاتے تھے۔“

وَ لَقَدْ جِئْتُمُوْنَا فُرَادٰى كَمَا خَلَقْنٰكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍ وَّ تَرَكْتُمْ مَّا خَوَّلْنٰكُمْ وَرَآءَ ظُهُوْرِكُمْۚ

[الأنعام: 94]

’’ (اللہ تعالیٰ فرماتا ہے) اور تم تن تنہا پہنچ گئے ہمارے پاس جیسا کہ ہم نے تمہیں مرتبہ پیدا کیا تھا، اور چھوڑ آئے ہو اپنی پیٹھ کے پیچھے جو کچھ ہم نے تمہیں عطا کیا تھا ‘‘۔

یعنی روح قبض ہوتے ہیں اللہ تعالیٰ کے پاس پہنچ جاتی ہے۔ مزید پڑھیں :

حَتّٰۤى اِذَا جَآءَ اَحَدَهُمُ الْمَوْتُ قَالَ رَبِّ ارْجِعُوْنِۙ۰۰۹۹لَعَلِّيْۤ اَعْمَلُ صَالِحًا فِيْمَا تَرَكْتُ كَلَّا١ؕ اِنَّهَا كَلِمَةٌ هُوَ قَآىِٕلُهَا١ؕ وَ مِنْ وَّرَآىِٕهِمْ بَرْزَخٌ اِلٰى يَوْمِ يُبْعَثُوْنَ۰۰۱۰۰

[المؤمنون: 99-100]

’’یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی کی موت آتی ہے تو کہتا ہے کہ اے میر ے رب مجھے واپس لوٹا دے تا کہ میں نیک عمل کروں اس میں جسے چھوڑ آیا ہوں۔( اﷲ تعالی فرماتا ہے) ہر گز نہیں یہ تو ایک بات ہے جو وہ کہہ رہا ہے اور ان کے پیچھے برزخ حائل ہے قیامت کے دن تک۔‘‘

ان آیا ت کاخلاصہ یہ ہے کہ جب کسی کی موت آتی ہے تو اللہ تعالی فرشتوں کے ذریعے اسکی روح قبض کراتاہے اور وہ روح اللہ تعالی کی طرف لیجائی جاتی ہے۔ جو روح اس دنیا سے چلی جاتی ہے وہ اب قیامت سے پہلے واپس نہیں آسکتی کیونکہ اسکے اور دنیا کے درمیان قیامت تک کے لیے اللہ کی قائم کی ہوئی آڑ (برزخ) حائل ہوگئی ہے۔

حدیث نبوی ﷺ

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ إِذَا خَرَجَتْ رُوحُ الْمُؤْمِنِ تَلَقَّاهَا مَلَکَانِ يُصْعِدَانِهَا قَالَ حَمَّادٌ فَذَکَرَ مِنْ طِيبِ رِيحِهَا وَذَکَرَ الْمِسْکَ قَالَ وَيَقُولُ أَهْلُ السَّمَائِ رُوحٌ طَيِّبَةٌ جَائَتْ مِنْ قِبَلِ الْأَرْضِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْکِ وَعَلَی جَسَدٍ کُنْتِ تَعْمُرِينَهُ فَيُنْطَلَقُ بِهِ إِلَی رَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ ثُمَّ يَقُولُ انْطَلِقُوا بِهِ إِلَی آخِرِ الْأَجَلِ قَالَ وَإِنَّ الْکَافِرَ إِذَا خَرَجَتْ رُوحُهُ قَالَ حَمَّادٌ وَذَکَرَ مِنْ نَتْنِهَا وَذَکَرَ لَعْنًا وَيَقُولُ أَهْلُ السَّمَائِ رُوحٌ خَبِيثَةٌ جَائَتْ مِنْ قِبَلِ الْأَرْضِ قَالَ فَيُقَالُ انْطَلِقُوا بِهِ إِلَی آخِرِ الْأَجَلِ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ فَرَدَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَيْطَةً کَانَتْ عَلَيْهِ عَلَی أَنْفِهِ هَکَذَا

( مسلم۔ کتاب الجنۃ و صفتہ،باب عرض مقعد المیت)

’’ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ جب کسی مومن کی روح نکلتی ہے تو دو فرشتے اسے لے کر اوپر چڑھتے ہیں تو آسمان والے کہتے ہیں کہ پاکیزہ روح زمین کی طرف سے آئی ہے اللہ تعالیٰ تجھ پر اور اس جسم پر کہ جسے تو آباد رکھتی تھی رحمت نازل فرمائے پھر اس روح کو اللہ عزوجل کی طرف لے جایا جاتا ہے پھر اللہ فرماتا ہے کہ تم اسے آخری وقت تک کے لئے لےجاؤ، آپ ؐ نے فرمایا کافر کی روح جب نکلتی ہے تو آسمان والے کہتے ہیں کہ خبیث روح زمین کی طرف سے آئی ہے پھر اسے کہا جاتا ہے کہ اسے آخری وقت تک کے لئےلے جاؤ، ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی چادر اپنی ناک مبارک پر اس طرح لگالی تھی (کافر کی روح کی بدبو ظاہر کرنے کے لئےآپ ؐ نے ایسا فرمایا)‘‘۔

قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ” كَانَ رَجُلَانِ فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ مُتَوَاخِيَيْنِ، فَكَانَ أَحَدُهُمَا يُذْنِبُ، وَالْآخَرُ مُجْتَهِدٌ فِي الْعِبَادَةِ، فَكَانَ لَا يَزَالُ الْمُجْتَهِدُ يَرَى الْآخَرَ عَلَى الذَّنْبِ فَيَقُولُ: أَقْصِرْ، فَوَجَدَهُ يَوْمًا عَلَى ذَنْبٍ فَقَالَ لَهُ: أَقْصِرْ، فَقَالَ: خَلِّنِي وَرَبِّي أَبُعِثْتَ عَلَيَّ رَقِيبًا؟ فَقَالَ: وَاللَّهِ لَا يَغْفِرُ اللَّهُ لَكَ، أَوْ لَا يُدْخِلُكَ اللَّهُ الْجَنَّةَ، فَقَبَضَ أَرْوَاحَهُمَا، فَاجْتَمَعَا عِنْدَ رَبِّ الْعَالَمِينَ فَقَالَ لِهَذَا الْمُجْتَهِدِ: أَكُنْتَ بِي عَالِمًا، أَوْ كُنْتَ عَلَى مَا فِي يَدِي قَادِرًا؟ وَقَالَ لِلْمُذْنِبِ: اذْهَبْ فَادْخُلِ الْجَنَّةَ بِرَحْمَتِي، وَقَالَ لِلْآخَرِ: اذْهَبُوا بِهِ إِلَى النَّارِ ” قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَتَكَلَّمَ بِكَلِمَةٍ أَوْبَقَتْ دُنْيَاهُ وَآخِرَتَهُ

( سنن ابی داؤد، کتاب الادب،بَابٌ فِي النَّهْيِ عَنِ البَغْيِ؛ حكم الألباني: صحيح)

’’ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ بنی اسرائیل میں دو آدمی ایک دوسرے کے لگے (برابر) کے تھے۔ ان دونوں میں سے ایک تو گناہ گار تھا اور دوسرا عبادت میں کوشش کرنے والا تھا۔ عبادت کی جدوجہد میں لگے رہنے والا ہمیشہ دوسرے کو گناہ کرتا ہی دیکھتا تھا اور اسے کہتا تھا کہ ان گناہوں سے رک جا۔ ایک روز اس نے اسے کوئی گناہ کرتے ہوئے پایا تو اس سے کہا کہ اس گناہ سے رک جا تو گناہ گار نے کہا کہ مجھے میرے رب کے ساتھ چھوڑ دے۔ کیا تو مجھ پر نگران بنا کر بھیجا گیا ہے ؟ اس نے کہا کہ اللہ کی قسم اللہ تعالیٰ تیری مغفرت نہیں کریں گے یا کہا کہ اللہ تجھے جنت میں داخل نہیں کرے گا پھر ان دونوں کی روحیں قبض کی گئیں تو دونوں کی روحیں رب العالمین کے سامنے جمع ہوئیں تو اللہ نے عابد سے فرمایا کہ کیا تو اس چیز پر جو میرے قبضہ قدرت میں ہے قادر ہے ؟ اور گناہ گار سے فرمایا کہ جا جنت میں داخل ہو جا میری رحمت کی بدولت اور دوسرے (عابد) کے لئے فرمایا کہ اسے جہنم کی طرف لے جاؤ، ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے اس عابد نے ایسا کلمہ کہہ دیا جس نے اس کی دنیا و آخرت دونوں تباہ کردیں۔‘‘

أَنَّ أَبَاهُ کَعْبَ بْنَ مَالِکٍ کَانَ يُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّمَا نَسَمَةُ الْمُؤْمِنِ طَيْرٌ يَعْلَقُ فِي شَجَرِ الْجَنَّةِ حَتَّی يَرْجِعَهُ اللَّهُ إِلَی جَسَدِهِ يَوْمَ يَبْعَثُهُ

(موطا امام مالک ، کتاب الجنائز، باب: جامع الجنائز)

’’ کعب بن مالک سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مومن کی روح ایک اڑنے والے جسم میں جنت کے درخت سےوابستہ رہتی ہے یہاں تک کہ اللہ جل جلالہ پھر اس کو لوٹا دے گا اس کے بدن کی طرف اٹھائے جانے والے دن‘‘ ۔

قرآن و حدیث کے اس بیان سے واضح ہوا کہ وفات کے موقع پر قبض کی جانے والی روح اب قیامت سے پہلے اس دنیا و جسم میں نہیں لوٹائی جائے گی۔

فرقہ اہلحدیث کے بانی میاں نذیر احمد دہلوی فرماتے ہیں :

’’ جب منکر و نکیر قبر میں سوال کرنے کیلئے آتے ہیں اس وقت روح لوٹائی جاتی ہے۔‘‘( فتاوے نذیریہ حصہ اول،صفحہ ۶۷۲، فتاویٰ شیخ الکل فی الکل سید نذیر حسین دہلوی اہلحدیث)

قبر میں روح کا لوٹایا جانا ہی قبر میں زندگی کی بنیاد بنتا ہے، پھر جب ایک مرتبہ یہ عقیدہ ایمان کی بنیاد بن گیا تو اب یہ قبر والے چاہے تھوڑی دیر کیلئے زندہ سمجھے جائیں یا ہمیشہ کیلئے، دونوں صورتوں میں قرآن کا انکار اور شرک کی بنیاد ہے، اس لیے کہ کوئی بھی قبر پرجاکر ،اس کو مردہ سمجھ کر نہیں پکارتا۔ اسلام کے نام پر بنے ہوئے تقریباً تمام ہی مسالک اس ’’عود روح‘‘( مرنے کے بعد روح کا لوٹایا جانا ) کے عقیدے کے حامل ہیں ۔اس سے قبل سورہ مومنون کی آیت نمبر ۹۹۔۱۰۰ کا مکمل خلاصہ آپ کی نظر سے گذر چکا ہے کہ جو روح ﷲ تعالیٰ کے پاس چلی جاتی ہے وہ قیامت سے قبل اس دنیا میں ہرگز واپس نہیں آسکتی۔ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ قرآن کی بات ہی حرف آخر مانی جاتی اور اسی کے مطابق ایمان بنایا جاتا لیکن ان مسلک پرستوں کا بڑا عجیب معاملہ ہے، جب چاہتے ہیں دوسرے فرقے کی بات کو قرآن کے دلائل دے کر ان پر کفر کی مہر ثبت کردیتے ہیں حالانکہ خود بھی اسی عقیدے کے حامل ہوتے ہوئے قرآن کا انکار کر رہے ہوتے ہیں۔

ملاحظہ فرمائیے فرقہ اہلحدیث کے ایک مایہ ناز مفتی، اہل سنت و الجماعت کے خلاف کتاب لکھتے ہوئے اپنے اوپر ہی قرآن کے مخالف ہونے کی گواہی ثبت فرماتے ہیں:

’’جو مر گیا وہ قیامت تک جب تک کہ حشر برپا نہ کیا جائے مردہ یامیت کہلائے گا۔ قیامت کے دن ہی مردے زندہ ہونگے جیسا کہ ارشاد ہے وَاذِاالنُّفُوْسُ زُوِّجَتْ (تکویر) اور جس دن کہ روحوں کا بدن سے دوبارہ رشتہ جوڑدیا جائے گا۔ پھر یہ کیسے ممکن ہو سکتا ہے کہ وہ دن آنے سے پہلے روحیں بدن میں واپس لوٹ جائیں اگر ہم نے ایسا ہونا تسلیم کر لیا تو اس سے مخالفت قرآن لازم آئے گی ( عذاب قبر کا معاملہ دوسرا ہے اور ہم بھی اس کے قائل ہیں) اور قرآن کی مخالفت تو وہی کرسکتے ہیں جو حیات الانبیاء کا خود ساختہ عقیدہ رکھتے ہیں‘‘۔ ( وفات الا نبیاء صفحہ 42،از علامہ سعید بن عزیز یوسف زئی اہلحدیث)

قارئین ! ملاحظہ فرمایا ان کا فرمانا کہ جو یہ عقیدہ رکھے کہ قیامت سے قبل اس جسم میں روح لوٹادی جاتی ہے وہ مخالف قرآن، یعنی قرآن کا انکاری ہے۔لیکن کفر کے اس فتویٰ کا نفاذ انہوں نے جماعت اہل سنت پرکیا اور اہلحدیثوں کو یہ کہہ کر بچا لیا ہے کہ ’’ عذاب قبر کا معاملہ دوسرا ہے اور ہم بھی اس کے قائل ہیں ‘ ‘۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ’’ روح لوٹائے جانے ‘‘ کا عقیدہ رکھنا کفر ہے ،تو عذاب قبر کیلئے یہ عقیدہ کیسے عین قرآن پر ایمان کہلائے گا۔ قرآ ن میں کہیں اس بات کو بیان کیا گیا ہے کہ روح قیامت تک نہیں لوٹائی جائے گی لیکن عذاب قبرکیلئے!

حیرت ہے ایک ہی عقیدہ ! ایک پر قرآن کے مخالف یعنی کفر کا فتویٰ اور دوسراقرآن پر ایمان کا دعویدار؟ حقیقت یہ ہے کہ جب ا ﷲ تعالیٰ نے قرآن کریم میں اس بات کو بیان فرمادیا کہ مرنے والے کی یہ روح اب قیامت سے قبل اس دنیا اس جسم میں نہیں لوٹائی جائے گی تو چاہے کوئی بار بار یا ہمیشہ کیلئے روح کے لوٹائے جانے کا عقیدہ رکھے یاصرف سوال و جواب کے لیے، ہر صورت میں قرآن کا انکار ہے۔غور طلب بات یہ ہے کہ ان کا یہ کہنا کہ ’’عذاب قبر کا معاملہ دوسرا ہے اور ہم بھی اس کے قائل ہیں ‘‘کس بنیاد پر ہے؟ قرآن مجید اور احادیث نبوی ﷺ سے تو اس کی وضاحت ہو چکی ہے کہ مرنے والے کی یہ روح اب قیامت تک اس دنیا و جسم میں واپس نہیں آئے گی لیکن احمد بن حنبل فرماتے ہیں :

’’ منکر نکیر، عذاب قبر، ملک الموت کے ارواح قبض کرنے، پھر ارواح کے قبروں کے اندر جسموں میں لوٹائے جانے پر ایمان لانا ضروری ہے، اور اس پر بھی ایمان لانا ضروری ہے کہ قبر میں ایمان و توحید کے بارے میں سوال ہوتا ہے۔‘‘ ( طبقات حنابلہ جز اوّل صفحہ 344)

واضح ہوا کہ ان کا یہ کہنا کہ جو قیامت سے پہلے ان جسموں میں روح لوٹانے کا عقیدہ رکھتا ہے وہ تو قرآن کا انکار ہے ، بالکل صحیح اور عین قرآن و حدیث کے مطابق ہے ،لیکن عذاب قبر اور سوال جواب کے لئے ارواح کا لوٹا دینا احمد بن حنبل کے دئیے ہوئے عقیدے کے مطابق ہے۔اسی لئے بانی فرقہ اہلحدیث میاں نذیر احمد دہلوی فرماتے ہیں :’’ جب منکر و نکیر قبر میں سوال کرنے کیلئے آتے اس وقت روح لوٹائی جاتی ہے۔‘‘

( فتاویٰ نذیریہ حصہ اول،صفحہ ۶۷۲، فتاویٰ شیخ الکل فی الکل سید نذیر حسین دہلوی اہلحدیث)

ایک اہلحدیث مفتی فرماتے ہیں :

’’مرنے کے بعد روح جنت یا جہنم میں داخل کردی جاتی ہے جبکہ جسم اپنی قبر میں عذاب یا ثواب سے ہمکنار ہوتا رہتا ہے اور یہی عقیدہ کتاب و سنت سے ثابت ہے۔ اس لئے کہ اگر روح جسم میں واپس آجائے تو پھر یہ عذاب مردہ کو نہیں بلکہ زندہ کو ہواجبکہ احادیث صحیحہ وضاحت کرتی ہیں کہ عذاب قبر میت(مردہ) کو ہوتا ہے۔ البتہ سوال و جواب کیلئے میت کی طرف روح کو کچھ دیر کیلئے لوٹایا جاتا ہے اور یہ استثنائی حالت ہے‘‘۔۔۔۔ ( عقیدہ عذاب قبر، صفحہ۷۲۔۷۳، از ابوجابرعبد اﷲ دامانوی)

وضاحت :

تمام معاملات کیلئےا ﷲ تعالیٰ نے ایک قانون و کلیہ مقرر فرمایا ہے جوسب انسانوں کیلئے یکساں ہے، لیکن کچھ ایسے معاملات ہوتے ہیں جن کو استثنائی کہا جاتا ہے، مثلاً دنیا میں پیدا ہونے والے ہر بچہ کا باپ ہوتا ہے لیکن عیسیٰ علیہ السلام بغیر باپ کے پیدا ہوئے ، قرآن نے ایک طرف قانونِ عام بیان کیا تو دوسری طرف عیسیٰ علیہ السلام کے استثناء کا بھی ذکر کردیا ہے۔ قرآن کے بیان کیے ہوئے قانون و کلئیے سے ہٹ کر صرف وہی بات استثنائی مانی جاسکتی ہے جس کا ذکر قرآن و احادیث ِصحیحہ میں ہو، یہ نہیں کہ اب جو چاہے ا ﷲ تعالیٰ کی طرف سے بیان کئے گئے اس قانون کے خلاف ایک عقیدہ گھڑ لے اور پھر اس کو استثناء کا نام دے ڈالے۔ یہ لوگ براء بن عازب ؓ سے منسوب ایک ضعیف روایت کو حدیث کہہ کر یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ روح واپس لوٹا دی جاتی ہے۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ تصور کیا جاسکتا ہے کہ نبیﷺ کی کوئی بات قرآن مجید کے دئیے ہوئے عقیدے کا انکار کرے ؟ نہیں ہرگز نہیں بلکہ نبیﷺ تو قرآن کے بیان کردہ عقائد و احکامات کی تشریح ہی کیلئے مبعوث فرمائے گئے تھے ۔ اب جب قرآن قیامت سے قبل روح کے نہ لوٹائے جانے کا عقیدہ دیتا ہے تو پھرکیسے ممکن ہے کہ کوئی حدیث اس کے خلاف بیان کرے ۔ لیکن اہلحدیث ایسا کرتے ہیں۔

حدیث کو بنیاد بنا کر کتاب اللہ کے دئیے ہوئے عقیدے کا انکار کرنا۔

سابقہ موضوع کو جاری رکھتے ہوئے ہم آ گے چلتے ہیں اور وہی سوال کرتے ہیں کہ کیا یہ تصور کیا جاسکتا ہے کہ نبیﷺ کی کوئی بات قرآن مجید کے دئیے ہوئے عقیدے کا انکار کرے ؟ نہیں ہرگز نہیں بلکہ نبیﷺ تو قرآن کے بیان کردہ عقائد و احکامات کی تشریح ہی کیلئے مبعوث فرمائے گئے تھے ۔ اب جب قرآن قیامت سے قبل روح کے نہ لوٹائے جانے کا عقیدہ دیتا ہے تو پھرکیسے ممکن ہے کہ کوئی حدیث اس کے خلاف بیان کرے ۔

لیکن اہلحدیث ضعیف اور موضوع روایات سے اپنا عقیدہ ثابت کرنیکی کوشش کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ جیسا نبی ﷺنے قرآن کے دئیے ہوئے عقیدے کے برعکس مردہ مچھلی کو جائز قرار دے دیا اسی طرح قرآن کے دئیے ہوئے عقیدے کے برعکس نبی ﷺ کی حدیث سے ( نعوذوباﷲ )روح کا واپس لوٹایا جانا بھی ثابت ہے۔اپنے اس فعل کی توجیہ یہ لوگ اس طرح پیش کرتے ہیں:

’’قرا ٓن کریم کی اس آیت سے واضح ہوا کہ مردہ (یعنی جو حلال جانور اپنی طبعی موت مر جائے) حرام ہے۔ اور اب کسی بھی مردہ کو کھانے کی اجازت نہیں ہے کیونکہ وہ حرام ہے۔لیکن حدیث میں ہے:…’’سمندر کا پانی پاک ہے اور اس کا ’’مردہ‘‘ (مچھلی) حلال ہے۔‘‘ اس حدیث سے ثابت ہوا کہ مچھلی مردہ ہے لیکن اس کا کھانا حلال ہے۔ اگرچہ بظاہر یہ حدیث قرآن کریم کے خلاف ہے لیکن جب قرآن و حدیث میں بظاہر تضاد ہوگا تو ان میں تطبیق کی جائے گی۔ اگرچہ مردہ حرام ہے لیکن مچھلی مردہ ہونے کے بادجود بھی حلال ہے کیونکہ یہ ایک استثنائی صورت ہے۔‘‘ (عقیدہ عذاب قبر، صفحہ ۱۵۔۱۶، از ابو جابر عبد اﷲ دامانوی)

شاید کثرت سے لوگوں کو یہ بات معلوم نہیں ہوگی کہ ان مولوی حضرات کو منطق پڑھائی جاتی ہے جس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ جب اپنی کوئی بات قرآن و حدیث سے ثابت نہ ہو رہی ہو تو اس کو اس طرح الجھا کر پیش کیا جائے کہ دوسرے لوگ جن کے پاس قرآن و حدیث کا اتنا علم نہ ہو ان مولویوں کی باتوں میں الجھ کر رہ جائیں۔ یہی انداز یہاں بھی اپنایا گیا ہے۔ جو آیت انہوں نے

پیش کی ہے اس میں خشکی یعنی زمین کے جانوروں کا ذکر ہے کہ اگر ان میں سے کوئی اپنی طبعی موت مر جائے یعنی تم نے اسے شکار کرکے ذبح نہ کیا ہو تو یہ حرام ہے تم اسے نہ کھانا۔ لیکن مولوی صاحب کا کارنامہ دیکھیں خشکی کے جانوروں کے لئے بیان کردہ قانون کو پانی کی مخلوق سے ٹکرا دیا۔ پانی کے جانوروں کے لئےاللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

اُحِلَّ لَكُمْ صَيْدُ الْبَحْرِ وَ طَعَامُهٗ [المائدة: 96] ’’ حلال کردیا ہے تمہارے لیے سمندر کا شکار اور اس کا کھانا۔‘‘

یعنی اس آیت میں سمندر سے شکار کئے جانے والے اور اس سے حاصل ہونے والے کھانے کے رزق کے حلال ہونے کا ذکر ہے ۔ شکار تو وہ ہے جو انسان کسی نا کسی انداز میں خود پکڑتا ہے لیکن طعامہ سے کیا مراد ہے۔طعامہ سے مراد وہ رزق ہے جو سمندر خود باہر پھینک دیتا ہے یعنی مردہ۔ حدیث میں ہے کہ ایک سفر میں صحابہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہم نے مردہ حالت میں پائی جانے والی ایک بڑی مچھلی کھائی اور اس کا گوشت نبی ﷺ کیلئے بھی لیکر آئے۔ اسی طرح اگر مچھلی کے شکار کیلئے جال یا کانٹا و غیرہ لگایا جاتا ہے تو اس سے شکار ہونے والی کافی مچھلیاں بھی مردہ حالت میں پانی سے نکالی جاتی ہیں۔ خشکی کے شکار کیلئے اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے :

يَسْـَٔلُوْنَكَ مَا ذَاۤ اُحِلَّ لَهُمْ١ؕ قُلْ اُحِلَّ لَكُمُ الطَّيِّبٰتُ١ۙ وَ مَا عَلَّمْتُمْ مِّنَ الْجَوَارِحِ مُكَلِّبِيْنَ تُعَلِّمُوْنَهُنَّ مِمَّا عَلَّمَكُمُ اللّٰهُ١ٞ فَكُلُوْا مِمَّاۤ اَمْسَكْنَ عَلَيْكُمْ وَ اذْكُرُوا اسْمَ اللّٰهِ عَلَيْهِ١۪ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَرِيْعُ الْحِسَابِ