Categories
Uncategorized

سمرہ بن جندب ؓ والی حدیث پر اعتراضات کا جواب

ابتدائیہ:

اس سلسلے میں پیش کی جانے والی احادیث صحیحہ چونکہ ان فرقہ پرستوں کے عقائد کو کلعدم قرار دیتی ہیں اس لئے ان لوگوں نے ان احادیث کے بارے میں لوگوں میں شکوک پھیلادئے ہیں اور چاہتے ہیں کہ کسی طرح لوگوں کی نگاہ میں بخاری کی ان احادیث کو مشتبہ بنا دیا جائے۔ لہذا ان شکوک کا کتاب اللہ کے حوالے سے کا مطالعہ کرتے ہیں۔

اس بارے  بیان کردہ  سمرۃ بن جندب رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی بخاری کی حدیث جس میں نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو انسانوں کی موت کے بعدسے قیامت کے دن تک ہونے والے عذاب (عذاب قبر) اور مومنوں اور شہداء کو قیامت تک عطا ہونے والی راحتیں دکھائی گئیں اور آپ  ؐ  کوآپکا اپنا وفات کے بعد ملنے والا مقام بھی دکھایا گیا، چونکہ یہ حدیث ان فرقہ پرستوں کے عقائد کو مکمل طور پر باطل قرار دیتی ہے اس لئے اس حدیث سے جان چھڑانے کے لئے لوگوں کوبہکایا جاتا ہے کہ:

اعتراض نمبر 1 :

۱۔ یہ محض ایک خواب تھا اور حقیقت میں ویسا ہی نہیں ہوتا جیسا کہ دیکھا جاتا ہے، جیسا کہ ابراہیم علیہ السلام نے دیکھا کہ وہ اپنے بیٹے کو ذبح کررہے ہیں لیکن انھوں نے ذبح نہیں کیا بلکہ صرف اسے لٹا دیا تھا۔ اسی طرح یوسف علیہ السلام نے خواب میں دیکھا کہ سورج چاند اور ستارے ان کو سجدہ کررہے ہیں لیکن ان کو انسانوں نے سجدہ کیا۔ اسی طرح بہت سے خوابوں میں جو دیکھا گیا بالکل وہی نہیں ہوا بلکہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے انکی تعبیر فرمائی۔

وضاحت:

انبیاء علیھم السلام کے خواب

عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ أَوَّلُ مَا بُدِئَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْوَحْيِ الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ فِي النَّوْمِ فَکَانَ لَا يَرَی رُؤْيَا إِلَّا جَائَتْ مِثْلَ فَلَقِ الصُّبْحِ

( عن عائشہ ؓ ، بخاری، بدء الوحی ، كَيْفَ كَانَ بَدْءُ الوَحْيِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ )

عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہیں کہ پہلے پہلے وحی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم پر اترنی شروع ہوئی وہ اچھے خواب تھے جو بحالت نیند آپ صلی اللہ علیہ و سلم دیکھتے تھے۔ چناچہ جب بھی آپ صلی اللہ علیہ و سلم خواب دیکھتے تو وہ صبح کی روشنی کی طرح ظاہرہوجاتا۔“

قرآن مجید میں نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو دکھائے گئے ایک خواب کیلئے فرمایا گیا:

لَـقَدْ صَدَقَ اللّٰهُ رَسُوْلَهُ الرُّءْيَا بِالْحَقِّ ۚ لَتَدْخُلُنَّ الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ اِنْ شَاۗءَ اللّٰهُ اٰمِنِيْنَ ۙ مُحَلِّقِيْنَ رُءُوْسَكُمْ وَمُقَصِّرِيْنَ ۙ لَا تَخَافُوْنَ ۭ فَعَلِمَ مَا لَمْ تَعْلَمُوْا فَجَــعَلَ مِنْ دُوْنِ ذٰلِكَ فَتْحًا قَرِيْبًا

(الفتح: 27)

”فی الواقع اللہ نے اپنے رسول کو سچا خواب دکھایا تھا جو ٹھیک ٹھیک حق کے مطابق تھا انشاء اللہ تم ضرور مسجدحرام میں پورے امن کے ساتھ داخل ہوگے اپنے سر منڈھواؤگے اور بال ترشواؤگے اور تمھیں کوئی خوف نہ ہوگا۔ وہ اس بات کو جانتا تھا جسکو تم نہیں جانتے تھے اس لئے وہ خواب پورا ہونے سے قبل اس نے یہ قریبی فتح تمکو عطا فرمادی۔“

اسی طرح احادیث میں نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے اور بھی کئی خوابوں کا تذکرہ ملتا ہے جنکی تعبیر دیکھے گئے کے مطابق تھی۔

نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا :

قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُرِيتُکِ قَبْلَ أَنْ أَتَزَوَّجَکِ مَرَّتَيْنِ رَأَيْتُ الْمَلَکَ يَحْمِلُکِ فِي سَرَقَةٍ مِنْ حَرِيرٍ فَقُلْتُ لَهُ اکْشِفْ فَکَشَفَ فَإِذَا هِيَ أَنْتِ فَقُلْتُ إِنْ يَکُنْ هَذَا مِنْ عِنْدِ اللَّهِ يُمْضِهِ ثُمَّ أُرِيتُکِ يَحْمِلُکِ فِي سَرَقَةٍ مِنْ حَرِيرٍ فَقُلْتُ اکْشِفْ فَکَشَفَ فَإِذَا هِيَ أَنْتِ فَقُلْتُ إِنْ يَکُ هَذَا مِنْ عِنْدِ اللَّهِ يُمْضِهِ

( عن عائشہ ؓ ، بخاری کتاب النکاح ، بَابُ النَّظَرِ إِلَى المَرْأَةِ قَبْلَ التَّزْوِيجِ )

”اے عائشہ ؓ تم مجھے خواب میں دوبار دکھائی گئیں کہ ایک شخص ریشمی کپڑے میں تمہیں اٹھائے ہوئے کہہ رہا تھا کہ یہ تمہاری بیوی ہے۔“

کیا عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی بیوی نہیں بنیں؟

نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا :

عَنْ أَبِي مُوسَی أُرَاهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ رَأَيْتُ فِي الْمَنَامِ أَنِّي أُهَاجِرُ مِنْ مَکَّةَ إِلَی أَرْضٍ بِهَا نَخْلٌ فَذَهَبَ وَهَلِي إِلَی أَنَّهَا الْيَمَامَةُ أَوْ هَجَرُ فَإِذَا هِيَ الْمَدِينَةُ يَثْرِبُ

( عن ابی ہریرۃ ؓ ، بخاری، کتاب مناقب الانصار ، بَابُ هِجْرَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابِهِ إِلَى المَدِينَةِ )

”میں نے خواب میں دیکھا کہ اس زمین کی طرف ہجرت کررہا ہوں جہاں کھجور کے درخت ہیں۔ میرا خیال تھا کہ وہ یمامہ یا حجر ہے لیکن وہ مدینہ کی زمین تھی جس کا نام یثرب ہے۔“

اور نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے مدینہ ہی کی طرف ہجرت فرمائی۔

نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے لیلۃ القدر کیلئے فرمایا:

فَإِنِّي أُرِيتُ لَيْلَةَ الْقَدْرِ وَإِنِّي نُسِّيتُهَا وَإِنَّهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ فِي وِتْرٍ وَإِنِّي رَأَيْتُ کَأَنِّي أَسْجُدُ فِي طِينٍ وَمَائٍ وَکَانَ سَقْفُ الْمَسْجِدِ جَرِيدَ النَّخْلِ وَمَا نَرَی فِي السَّمَائِ شَيْئًا فَجَائَتْ قَزْعَةٌ فَأُمْطِرْنَا

( عن ابی سلمۃ ؓ ، بخاری ، کتاب الاذآن ، بَابُ السُّجُودِ عَلَى الأَنْفِ، وَالسُّجُودِ عَلَى الطِّينِ)

میں نے خواب میں دیکھا کہ میں پانی اور کیچڑ میں سجدہ کررہا ہوں۔“ صحابی ئرسول ؐ فرماتے ہیں ”یکایک بادل کا ایک ٹکڑا نمودار ہوا اور بارش ہونے لگی یہاں تک کہ مسجد کی چھت جو کھجور کی ٹہنیوں سے بنی ہوئی تھے ٹپکنے لگی اور صلواۃ ادا کی گئی تو میں نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم پانی اورکیچڑ میں سجدہ کررہے ہیں یہاں تک کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی پیشانی پر مجھے کیچڑ کا اثر دکھائی دیا۔“

نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے خواب میں دیکھا اور فرمایا :

نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي عُرِضُوا عَلَيَّ غُزَاةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ يَرْکَبُونَ ثَبَجَ هَذَا الْبَحْرِ مُلُوکًا عَلَی الْأَسِرَّةِ أَوْ مِثْلَ الْمُلُوکِ عَلَی الْأَسِرَّةِ

( عن انس بن مالک ؓ ، بخاری ، کتاب الجہاد و سیر ، بَابُ رُكُوبِ البَحْرِ )

میری امت کے کچھ لوگ اللہ کی راہ میں (جہاد کیلئے)سمندر میں سوار ہونگے۔“

نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا یہ خواب بھی جیسا دیکھا گیا ویسا ہی ظاہر ہوا۔

ابراہیم علیہ السلام کے خواب کا تذکرہ قرآن کریم میں اسطرح فرمایا گیا ہے:

فَلَمَّا بَلَــغَ مَعَهُ السَّعْيَ قَالَ يٰبُنَيَّ اِنِّىْٓ اَرٰى فِي الْمَنَامِ اَنِّىْٓ اَذْبَحُكَ فَانْظُرْ مَاذَا تَرٰى ۭ قَالَ يٰٓاَبَتِ افْعَلْ مَا تُــؤْمَرُ ۡ سَتَجِدُنِيْٓ اِنْ شَاۗءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰبِرِيْنَ ؁فَلَمَّآ اَسْلَمَا وَتَلَّهٗ لِلْجَبِيْنِ ؀وَنَادَيْنٰهُ اَنْ يّـٰٓاِبْرٰهِيْمُ ؀قَدْ صَدَّقْتَ الرُّءْيَا ۚ اِنَّا كَذٰلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِيْنَ ؁اِنَّ ھٰذَا لَهُوَ الْبَلٰۗــــؤُا الْمُبِيْنُ ؁وَفَدَيْنٰهُ بِذِبْحٍ عَظِيْمٍ ؁وَتَرَكْنَا عَلَيْهِ فِي الْاٰخِرِيْنَ ؀سَلٰمٌ عَلٰٓي اِبْرٰهِيْمَ

(الصفٰت: 102/109)

”جب وہ لڑکا اسکے ساتھ دوڑدھوپ کرنے کی عمر کو پہنچ گیا تو (ایک روز) ابراہیم ٌ نے اس سے کہا ’’بیٹا خواب میں دیکھتا ہوں کہ میں تجھے ذبح کررہا ہوں اب تو بتا تیراکیا خیال ہے؟“اس نے کہا ”ا با جان جو کچھ آپکو حکم دیا جارہا ہے اسے کرڈالیے انشاء اللہ آپ مجھے صا بر وں میں پائیں گے“ آخرکار جب ان دونوں نے سر تسلیم خم کردیا اور ابراہیم ؑ نے بیٹے کو ماتھے کے بل گرا دیا اور ہم نے ندا دی ”اے ابرہیم تو نے خواب سچا کر دکھایا“ ہم نیکی کرنے والوں کو ایسی ہی جزا دیتے ہیں۔ یقینا یہ ایک کھلی آزمائش تھی۔ اور ہم نے ایک بڑی قربانی فدیے میں دیکر اسے چھڑا لیا اور اسکی تعریف و توصیف ہمیشہ کیلئے بعد کی نسلوں میں چھوڑ دی۔ سلام ہو ابراہیم پر۔ہم نیکی کرنے والوں کو ایسی ہی جزا دیا کرتے ہیں۔“

ان لوگوں کا یہ کہنا درست نہیں کہ خواب ہوبہو اسی طرح کا نہیں ہوتا بلکہ ملتا جلتا ہوتا ہے۔ یعنی نعوذباللہ اللہ تعالی اپنے رسولوں پر جو وحی کرتا ہے بالکل ویسی ہی نہیں ہوتی۔کس قدر سچے ہوتے تھے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے خواب کہ کیچڑ میں سجدہ کرتے ہوئے دکھایا ہے اور دور دور تک بادل کا نام و نشان تک نہیں تھا لیکن یکایک بادل آتا ہے اور بارش ہو جاتی ہے۔ یہ لوگ خواہ کچھ بھی کہتے رہیں ہمارے لئے قرآن میں کی گئی اللہ کی تصدیق کافی ہے کہ ”اے ابراہیم تو نے خواب سچا کر دکھایا“۔

اوپر بیان کی گئی آیات نے وضاحت فرمادی کہ اللہ تعالی کو ابراہیم علیہ السلام کے بیٹے کا ذبح ہونا مطلوب نہیں تھا بلکہ یہ انکی آزمائش کی گئی تھی کہ وہ اللہ کے حکم پر کس قدر عمل کرنے والے ہیں انکے بیٹے نے بھی یہ نہیں کہا کہ اے والد صاحب جو کچھ خواب میں دیکھا جائے وہی کرناضروری نہیں ہوتا بلکہ اس سے ملتا جلتا ہوتا ہے اس خواب کا مطلب محض یہ ہے کہ آپ کوئی چیز اللہ کی راہ میں قربان کرینگے بلکہ ا نھوں نے فرمایا کہ اے میرے والد آپ وہی کریں جسکا آپکو حکم دیا گیا ہے۔

اس تفصیل سے یہ بات ثابت ہوئی کہ انبیاء علیہم السلام کے خواب سچے اور وحی کی ہی ایک صورت ہوتے ہیں، اسی لئے اسماعیل علیہ السلام نے اپنے والد ابراہیم علیہ السلام سے کہا کہ آپ کو جو حکم دیا گیا ہے آپ وہ کیجئے۔

نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے کچھ خواب ایسے بھی ہیں جن کی انھوں نے تعبیر بیان فرمائی ہے، مثلاًدودھ پیتا دیکھا اور اسکی تعبیر’’علم“ فرمائی، اسی طرح قمیص گھسٹتی ہوئی دیکھی اور اسکی تعبیر’’دین‘‘ اورپریشان عورت خواب میں دیکھی تواسکی تعبیر”وبا“ بیان فرمائی۔اسی طرح یوسف علیہ السلام کو جوخواب دکھایا گیا تھا اسکا بیان قرآن مجید میں اسطرح کیا گیا ہے:

وَرَفَعَ اَبَوَيْهِ عَلَي الْعَرْشِ وَخَرُّوْا لَهٗ سُجَّدًا ۚ وَقَالَ يٰٓاَبَتِ هٰذَا تَاْوِيْلُ رُءْيَايَ مِنْ قَبْلُ ۡ قَدْ جَعَلَهَا رَبِّيْ حَقًّا ۔

(یوسف:100)

اس نے والدین کو اٹھا کرتخت پر بٹھایا اور سب اسکے آگے سجدے میں جھک گئے۔ یوسف ؑ نے کہاابا جان یہ تعبیر ہے اس خواب کی جو میں نے دیکھا تھا میرے رب نے اسے حقیقت بنا دیا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔“

انبیاء علیہم السلام کو خواب کے ذریعے مستقبل میں ہونے والے واقعات سے بھی آگاہ کیا جاتا تھا اور حال کی بھی خبر دی جاتی تھی اور اسی طرح احکامات بھی دیے جاتے تھے۔ نبی صلی اللہ علیہ و سلم اور یوسف علیہ السلام نے خود ہی ایسے دیکھے گئے خوابوں کی وضاحت فرمادی کہ اس سے مراد یہ معاملہ ہے تو اس بارے میں تو کوئی دوسری بات کہنا ہی گمراہی ہے لیکن اگر انھوں نے اپنے کسی خواب کے متعلق بیان ہی نہیں کیا کہ اس سے مراد فلاں معاملہ ہے تو اسے جوں کا توں مان لینا ہی ایمان ہے۔نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے خواب کا تعین اپنے طرف سے کرنا کہ اس سے مراد وہ نہیں جو دیکھا گیا ہے بلکہ کچھ اور ہے، بہت بڑی جسارت ہے ایساکہنے والا انبیاء کے خوابوں کے وحی ہونے کا منکر ہے۔

اعتراض نمبر 2:

۲۔ یہ لوگ کہتے ہیں کہ خواب میں نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو عمر رضی اللہ تعالی عنہ کا محل دکھایا گیا جبکہ وہ ابھی زمین پر ہی زندہ تھے، اسی طرح رمیصا ء رضی اللہ تعالی عنہا کو جنت میں دکھایا گیا اور بلال رضی اللہ تعالی عنہ کے قدموں کی آواز سنائی گئی۔گویا کہ ا س کی تعبیر دکھائے جانے والے سے مختلف تھی۔

وضاحت:

کم فہم شخص بھی یہ بات آسانی سے سمجھ سکتا ہے کہ جب تینوں زندہ ہیں تو انکو جنت میں دکھایا جانا یا انکا محل دکھایاجانا محض اللہ تعالی کی طرف سے ان لوگوں کیلئے بشارت ہے۔ اور یہ کہنا کہ یہ خواب بھی ہوبہو ویسا نہیں ہوا جیسا دیکھا گیا تھا انتہائی کم علمی کی بات ہے۔ ہمارا ایمان ہے کہ ان افراد کی موت کے بعد ایسا ہی ہوا ہوگا جیسا نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو دکھایا گیا تھا۔

اعتراض نمبر 3 :

۳۔ اس حدیث کے حوالے سے یہ بھی کہا جاتا ہے کہ عمر، بلال اور رمیصاء رضی اللہ تعالی عنہم ابھی زمین پر زندہ تھے تو اس کا مطلب ہے کہ خواب میں کوئی عارضی یا تمثیلی جسم بنا کر دکھائے گئے اسی طرح سمرۃ بن جندب رضی اللہ تعالی عنہ والی حدیث میں دکھائے گئے جسم تمثیلی و عارضی تھے اور یہ کہ اس حدیث میں صرف یہ بتایا گیا ہے کہ قیامت کے بعد جھوٹے کو کیسے عذاب ہوگا، سود خوار کو کیا عذاب ملے گا۔

وضاحت:

ہوسکتا ہے کہ عمر رضی اللہ تعالی عنہ وغیرہ کے یہ جسم تمثیلی ہوں یا یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالی نے خواب میں وہ منظر دکھایا ہو جب یہ لوگ اپنی وفات کے بعد جنت میں داخل کردئیے جائیں گے جیسا کہ اللہ تعالی نے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو اللہ تعالی کی راہ میں جہاد کیلئے سمندری سفر کرنے والوں کو دکھا دیا جبکہ ان میں وہ لوگ بھی تھے کہ جو اسوقت تک پیدا ہی نہیں ہوئے تھے۔لیکن اس حدیث کو بنیاد بنا کر یہ لوگ سمرۃ بن جندب رضی اللہ تعالی عنہ والی حدیث کے بارے میں کسی کو کیسے گمراہ کرسکتے ہیں کیونکہ اس میں دکھائے جانے والے افراد فوت شدہ ہیں جیسا کہ فرشتوں نے کہا: أَمَّا الَّذِي رَأَيْتَهُ يُشَقُّ شِدْقُهُ فَکَذَّابٌ يُحَدِّثُ بِالْکَذْبَةِ فَتُحْمَلُ عَنْهُ حَتَّی تَبْلُغَ الْآفَاقَ”وہ شخص جھوٹا تھا جھوٹی باتیں بیان کرتا تھا اور اس بات کو لوگ لے اڑتے تھے یہاں تک کہ ہر طرف اسکا چرچا ہوتا تھا“، الْقِيَامَةِ وَالَّذِي رَأَيْتَهُ يُشْدَخُ رَأْسُهُ فَرَجُلٌ عَلَّمَهُ اللَّهُ الْقُرْآنَ فَنَامَ عَنْهُ بِاللَّيْلِ وَلَمْ يَعْمَلْ فِيهِ بِالنَّهَارِ”یہ وہ شخص تھا کہ جس کو اللہ تعالی نے قرآن کا علم دیا تھا لیکن وہ راتوں کو قرآن سے غافل سوتا رہا اور دن میں اسکے مطابق عمل نہ کیا“، وہ زنا کار تھے، وہ سود خور تھا۔ اسی طرح بتایا گیا کہ وہ ابراہیم علیہ السلام تھے، یہ شہداء کے گھر ہیں۔

بتائیے یہ افراد جن کو اسوقت عذاب دیا جارہا تھا کیا اس دنیا میں زندہ تھے یا دنیا سے جانے کے بعد یہ عذاب ہورہا تھا؟ اسی طرح جزا پانے والوں میں ابراہیم علیہ السلام مومنین اور شہداء تھے۔ کیا ابراہیم علیہ السلام اور شہداء بھی اسوقت دنیا میں زندہ تھے؟دراصل یہ مقام تو ہے ہی موت سے ہمکنار ہو جانے والوں کا۔ جب نبی صلی اللہ علیہ و سلم فرشتوں سے فرماتے ہیں کہ ”مجھے چھوڑ دو کہ میں اپنے گھر میں داخل ہوجاؤں“ توفرشتے جواب دیتے ہیں ”ابھی آپؐ کی عمر کا کچھ حصہ باقی ہے جس کو آپ ؐنے پورا نہیں کیا ہے جب آپ ؐا س کو پورا کرلیں گے تواپنے اسی گھر میں آجائنگے“۔

معلوم ہوا کہ یہ مقام بھی فرضی نہیں بلکہ حقیقی ہے اور ملنے والی جزا و سزا بھی فرضی نہیں دکھائی جارہی بلکہ حقیقی ہے جیسا کہ فرشتوں نے کہا یفعل بہ الیٰ یوم القیامۃ ”یہ اسکے ساتھ قیامت تک ہوتا رہیگا“۔

مزید یہ کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے صرف خواب میں ہی عذاب قبر ہوتے ہوئے نہیں دیکھا بلکہ صلواۃ الکسوف کے موقع پر بھی آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے اس قسم کے عذاب کے مناظردیکھے۔ اسی طرح دیگراحادیث میں بھی فوت شدہ افراد کیلئے جزا وسزاکا بیان کیا گیا ہے۔

مزید یہ کہنا کہ یہ سب جو دکھایا گیا ہے وہ قیامت کے بعد کے عذاب ہیں کہ جھوٹے کو ایسے عذاب ہوگا اور زناکاروں کو اسطرح، محض فریب کاری ہے۔ فرشتے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے

کہہ رہے ہیں کہ ”یہ اسکے ساتھ قیامت تک ہوتا رہے گا“ اور یہی بات نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بیان فرمائی کہ یہ عذاب ا س کو قیامت تک ہوتا ر ہے گا یعنی قیامت کے دن ختم ہوجائے گا۔ اور یہ لوگ ہیں کہ دعویٰ تو نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے امتی ہونے کا کرتے ہیں لیکن رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی بات کو رد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ عذاب قیامت کے دن سے شروع ہوگا۔بتائیے کسقدر تضاد ہے، اسے ایمان کہا جائے یا کفر؟

پھر انکا یہ کہنا کہ”جیسا دیکھا جاتا ہے بالکل ویسا ہی نہیں ہوتا بلکہ ملتا جلتا ہوتا ہے“، یہ کس کی تشریح ہے کیا نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ایسا فرمایا ہے؟ ”ملتا جلتا ہوگا“ سے کیا مراد ہے؟ عمر رضی اللہ تعالی عنہ کو محل نہیں ملیگاکچھ اور ملے گا؟بلال رضی اللہ تعالی عنہ کیا جنت میں قدموں پر نہیں چلیں گے؟جھوٹے شخص کا منہ نہیں ناک چیری جائیگی؟

اعتراض نمبر 4

4۔ یہ فرقہ پرست کہتے ہیں ”اس حدیث میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ”مجھے ارض مقدس لے گئے“۔زمین کالفظ بتا رہا ہے کہ اسی زمین کی بات ہے۔ اکثر علماء نے اس سے مرادبیت المقدس لیا ہے اور کسی نے شام کی زمین“۔

وضاحت:

اللہ تعالی قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ جب اللہ سے ڈرنے والے جنت میں داخل کئے جا ئیں گے:

وَقَالُوا الْحـَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْ صَدَقَنَا وَعْدَهٗ وَاَوْرَثَنَا الْاَرْضَ نَـتَبَوَّاُ مِنَ الْجَــنَّةِ حَيْثُ نَشَاۗءُ ۚفَنِعْمَ اَجْرُ الْعٰمِلِيْنَ

(الزمر: 74)

”اور وہ کہیں گے اللہ کا شکر ہے کہ جس نے ہم سے اپنے وعدے کو سچا کر دکھایا اور ہمیں زمین کا وارث بنا دیا ہم جنت میں جس جگہ چاہیں رہیں“۔

قرآن کی آیت نے وضاحت کردی کہ جنت کی زمین کو بھی ”ارض“ کہا گیا ہے۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ ان سب فرقوں کا عقیدہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم مدینہ والی قبر میں زندہ ہیں اس حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا مقام دکھایا گیا ہے اور فرشتوں نے یہی کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم اپنی دنیاوی زندگی پوری کر کے اپنے اس مقام میں آجائیں گے۔ عالم برزخ کی بجائے اگر یہ لوگ ارض مقدس سے مراد بیت المقدس لیتے ہیں تو پھر نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو مدینہ والی قبر کی بجائے بیت المقدس میں زندہ کیو ں نہیں مانتے؟ ملاحظہ فرمایا انکے عقائد کا تضاد! اسی طرح انکا عقیدہ ہے کہ ہر شخص مرنے کے بعد اپنی اسی ارضی قبر میں عذاب و جزا کا دور گذارتا ہے جو کہ دنیا بھر میں پھیلی ہوئی ہیں۔ جبکہ اس حدیث کی رو سے یہ وہ جگہ ہے جہاں موت سے ہمکنار ہونے والا ہر شخص جاتا ہے اور وہاں ہی اسکو قیامت تک کا یہ دور گذارنا ہوتا ہے۔اگر یہ فرقہ پرست اس جگہ کو عالم برزخ کے بجائے بیت المقدس قرار دیتے ہیں تو پھر انکا عقیدہ ہونا چاہیے کہ ہر شخص مرنے کے بعد اس ارضی قبر کی بجائے بیت المقدس میں عذاب دیا جاتا ہے۔ پھر یہ عذاب قبر کہاں رہا عذاب بیت المقدس بن گیا!

قرآن و حدیث میں انبیا ء و شہداء جنتوں میں موجود بیان کئے گئے ہیں اور اس حدیث میں انبیاء و شہداء بھی دکھائے گئے ہیں تو کیا انکا عقیدہ ہے کہ جنت بھی بیت المقدس میں ہے۔

جب کتاب اللہ کے بجائے منطق کو ایمان کی اساس بنایا جائے تو پھر انسان اسی طرح گمراہ ہوجایاکرتا ہے۔

اعتراض نمبر 5 :

5  کہا جاتا ہے کہ کیا آدم علیہ السلام سے لیکر اسوقت تک صرف ایک ہی جھوٹا مرا تھا جو اسکو عذاب دیا جارہا تھا اور اسی طرح ایک ہی عالم قرآن اور ایک ہی سود خور؟

وضاحت:

یہ لوگ اسے قیامت کے بعد ہونے والا عذا ب قرار دیتے ہیں تو کیا ازل سے لیکر ابد تک صرف ایک ہی جھوٹا مرے گا، ایک ہی قرآن کا بے عمل عالم اور ایک ہی سود خور؟

اس حدیث میں تو اس بات کی وضاحت ہے کہ مرنے کے بعد انسان کہاں جاتا ہے، اور یہ کہ موت سے ہمکنار ہوتے ہی اسکی آ خرت شروع ہوجاتی ہے جو کچھ دنیا میں کرکے آیا ہے اب اسکے مطابق ا س کو جزا و سزا ملنی شروع ہوجاتی ہے اور یہ کہ برزخ کا یہ دور قیامت تک چلے گا۔ ایک ہی رات میں ساری دنیا کے تمام افراد کے عذاب نہیں دکھائے گئے، بلکہ چند نمونے دکھائے گئے ہیں۔

اعتراض نمبر 6 :

6اس حدیث میں فرمایا گیا ہے کہ اللہ تعالی نے انکی روحوں کو سبز اڑنے والے جسموں میں ڈالدیا ہے جبکہ اس حدیث میں تو شہداء انسانی روپ میں دکھائے گئے ہیں۔

وضاحت:

صرف غزوہ احد کے شہداء کیلئے فرمایا گیا ہے کہ اللہ تعالی نے انکی روحوں کو سبز اڑنے والے جسموں میں ڈالدیا، دنیا کے تمام شہداء کے لیے نہیں، جیسا کہ غزوہ مؤتہ کے شہداء میں صرف جعفر بن ابی طالب رضی اللہ تعالی عنہ کیلئے اُڑنے والے جسم کا ذکر ہے۔

اعتراض نمبر 7 :

7 کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی حدیث ہے کہ جنت میں سب لوگ جوان ہوں گے لیکن اس حدیث میں تو بچے، جوان اور بوڑھے دکھائے گئے ہیں۔

وضاحت:

دراصل یہ سب جہالت کی باتیں ہیں جنکے ذریعے یہ لوگوں کو صراط مستقیم سے ہٹانا چاہتے ہیں اس حدیث میں جو بیان کیا گیا ہے وہ سارا برزخی دور ہے اور جب قیامت کے بعد لوگ جنت میں داخل کئے جا ئیں گے تو سب جوانی کی حا لت میں ہونگے۔ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنے فرزند کیلئے فرمایا کہ ”جنت میں انکے لئے ایک دودھ پلانے والی ہے“،نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا یہ بیان تو اس برزخی دور کے لیے ہے ورنہ کیا جنت میں بھی وہ ایک دودھ پیتا بچہ ہونگے؟

اعتراض نمبر 8 :

8 ۔ پھر یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اس حدیث میں قرآن کے ایک عالم کا عذاب دکھایا گیا ہے جبکہ اسوقت تک تو قرآن نازل ہورہا تھا پس ثابت ہوا کہ یہ قیامت کے بعد کے عذاب ہیں۔

وضاحت:

اللہ تعالی کی نازل کردہ تمام کتابیں قرآن ہی تھیں انہیں بھی قرآن ہی کہا گیا ہے۔اللہ تعالی فرماتا ہے:

كَمَآ اَنْزَلْنَا عَلَي الْمُقْتَسِمِيْنَ ۔ ۔ الَّذِيْنَ جَعَلُوا الْقُرْاٰنَ عِضِيْنَ

(لحجر:90/91 )

”یہ اسی طرح کی تنبیہ ہے جیسی ہم نے ان تفرقہ پردازوں کی طرف بھیجی تھی جنہوں نے قرآن کو ٹکڑے ٹکڑ ے کرڈالاتھا“۔

بخاری میں روایت ملتی ہے :

عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ هُمْ أَهْلُ الْکِتَابِ جَزَّئُوهُ أَجْزَائً فَآمَنُوا بِبَعْضِهِ وَکَفَرُوا بِبَعْضِهِ

( عن ابن عباس ؓ ، بخاری، تفسیر القرآن ، بَابُ قَوْلِهِ: {الَّذِينَ جَعَلُوا القُرْآنَ عِضِينَ} [الحجر: 91])

’’عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما فرماتے ہیں کہ”وہ اہل کتاب ہی ہیں جنہوں نے ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا تھابعض حصوں پر ایمان لائے اور بعض کا کفر کیا“۔

حدیث میں آتاہے :

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: خُفِّفَ عَلَى دَاوُدَ القِرَاءَةُ، فَكَانَ يَأْمُرُ بِدَابَّتِهِ لِتُسْرَجَ، فَكَانَ يَقْرَأُ قَبْلَ أَنْ يَفْرُغَ – يَعْنِي – القُرْآنَ

( عن ابی ہریرۃ ؓ ، بخاری، کتاب تفسیر القرآن ، بَابُ قَوْلِهِ: {وَآتَيْنَا دَاوُدَ زَبُورًا} )

”داؤد علیہ السلام پر قرآن کی قرأت اتنی آسان ہو گئی تھی کہ آپ گھوڑاکسنے کا حکم دیتے اور اس سے قبل قرآن پڑھ کر فارغ ہوجاتے“۔

معلوم ہواکہ جس کے متعلق فرشتوں نے بتایا کہ وہ قرآن کا عالم تھا تو وہ گذشتہ کتب آسمانی میں سے کسی کا عالم تھا۔

اعتراض نمبر 9 :

۹۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ انبیاء و شہداء کیلئے تو کتاب اللہ یہ بیان کرتی ہے کہ وہ جنت میں داخل کر دئیے جاتے ہیں لیکن اس حدیث میں تو عام مومن بھی جنت میں دکھائے گئے ہیں اور فاسق جہنم میں۔ اسطرح یہ حدیث کتاب اللہ کے بیان کا انکار کرتی ہے۔

وضاحت:

دراصل عذاب یا راحت قبر کے معاملے کا تعلق آخرت سے ہے، جو کچھ ایک انسان کوقیامت کے بعد ملنا ہے یہ اسی کا ایک تسلسل اور ایک حصہ ہے۔

اعتراض نمبر 10 :

۱۰۔آخر میں کہنے لگتے ہیں کیا اللہ ظالم ہے کہ ایسے جسموں (برزخی جسموں) کو سزا دے جنہوں نے یہ قصور ہی نہیں کئے ہوں۔

وضاحت:

اللہ تعالی فرماتا ہے:

اِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا بِاٰيٰتِنَا سَوْفَ نُصْلِيْهِمْ نَارًا ۭ كُلَّمَا نَضِجَتْ جُلُوْدُھُمْ بَدَّلْنٰھُمْ جُلُوْدًا غَيْرَھَا لِيَذُوْقُوا الْعَذَابَ ۭ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَزِيْزًا حَكِيْمًا

(النساء:56)

جن لوگوں نے ہماری آیات کو جھٹلایاانہیں ہم ضرور آگ میں ڈالیں گے اور جب ان کی کھالیں جل جائیں گی توہم ا ن کو دوسری کھالوں سے بدل د یں گے کہ وہ عذاب کا مزہ چکھتے رہیں“

نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی حدیث کے بارے میں شکوک پھیلانے والے یہ لوگ اب جواب دیں کہ نئی بنائی جانے والی ان کھالوں نے کونسے گناہ کئے ہونگے کہ انکو جلایا جائیگا؟ مزید ان سے پوچھا جائے کہ شہداء نے زخم کونسے جسموں پر کھائے تھے؟ حمزہ، انس بن نضر اور عبداللہ بن عمرو بن حرام رضی اللہ تعالی عنہم نے کونسے جسموں پر زخم کھائے تھے؟ اللہ تعالی نے کیوں ان جسموں کو نواز دیا جنہوں نے جہاد میں حصہ ہی نہیں لیا تھا؟ قرآن و حدیث کے مقابلے میں عقل کے گھوڑے دوڑانے کی بجائے سمعنا و اطعنا کا انداز اختیار کریں۔ چونکہ اور چناچہ، اگر و مگر، کیوں اور کیسے منکروں اور فاسقوں کا وطیرہ ہے۔

اعتراض نمبر 11 :

۱۱۔ اہلحدیثوں کے ایک بڑے مفتی اس حدیث کے بارے میں بیان فرماتے ہیں:

”آپ ﷺ کو نافرمان انسانوں کو عذاب دینے کے کچھ مشاہدات بھی کرائے گئے تھے جیسا کہ خواب میں آپ ﷺ نے کچھ نافرمانوں کومبتلائے عذاب دیکھا تھا ان واقعات کا تعلق عام عذاب سے ہے خاص عذاب القبر سے نہیں اور یہ احادیث بتارہی ہیں کہ عذاب القبر ایک بالکل الگ شے ہے جیسا کہ ان احادیث کے مطالعہ سے یہ حقیقت الم نشرح ہوتی ہے معلوم ہوا کہ عذاب القبر اور عذاب جہنم دونوں الگ الگ حقیقتیں ہیں جن پر ایمان رکھنا ضروری ہے۔…………میت کو قبر مین دفن کیا جاتا ہے اور اور وہ یہاں عذاب قبر سے دوچار ہوتی ہے۔ اور جب قیامت قائم ہوگی تو پھر عذاب قبر کا سلسلہ ختم ہوجائے گا اور صرف عذاب جہنم باقی رہ جائے گا اور پھر جسم و روح کے مجموعے (مکمل انسان) کو جہنم میں داخل کردیا جائے گا۔ڈاکٹر موصوف جس چیز کو”برزخی قبر“سے تعبیر کرتے ہیں وہ یہی عذاب جہنم ہے کہ جس سے انہیں مغالطہ ہوا ہے یا وہ مغالطہ دے رہے ہیں اور اس عذاب کا ان کو اقرار ہے مگر عذاب قبر کے وہ انکاری ہیں اور وہ اسی عذاب جہنم کوعذاب قبر ثابت کرنے کے درپے ہیں اور اسکے لئے انہیں صحیح بخاری اور مسلم تک کی احادیث سے انکار کرنا پڑ رہا ہے۔“(عقیدہ عذاب قبر، صفحہ ۶۳۔۷۳،از ابوجابر عبد اللہ دامانوی)

وضاحت:

اپنی اس تحریر میں انہوں جو باتیں بیان کی ہیں وہ یہ ہیں کہ چونکہ یہ عذاب اس قبر میں نہیں ہورہا تو یہ عذاب قبر نہیں بلکہ جہنم میں دیا جانے والا عام عذاب ہے،دوسری بات یہ ہے کہ مرنے کے بعد ایک انسان کو دو عذاب ہوتے ہیں ایک اس کی روح کو دوسرا اس کے جسم کو۔روح کو جہنم میں اور جسم کو اس قبر میں۔برزخی قبر کوئی چیز نہیں ہے یہ صرف عذاب جہنم ہے جس کو عذاب قبر کہا جارہا ہے۔

سوال یہ ہے کہ مرنے کے بعد ہونے والا عذاب”عذاب قبر“ ہے یا”عذاب جہنم“؟

قرآن کریم میں مرنے کے بعد ہونے والے عذاب کی بابت جتنی بھی آیات آئی ہیں ان سب میں جہنم کا ہی لفظ بیان کیا گیا ہے، اسی طرح صلوٰۃ الکسوف کی تمام احادیث میں بھی عذاب کا مقام جہنم ہی بیان کیا گیا ہے جب کہ عمرو بن لحی اور ابو ثمامہ دونوں کا تعلق مشرکین مکہ ہی سے تھا جو اپنے مردے دفن کیا کرتے تھے۔اب چونکہ اس عذاب کے لئے قرآن و حدیث دونوں میں ایک ہی مقام یعنی جہنم بیان کیا جارہا تھا اوراس سے ان کے باطل عقیدے کی پول کھل رہی تھی کہ اسی جسم کے ساتھ اور اسی قبر میں عذاب ہوتا ہے تو اس لئے انہوں نے ایک نیا عقیدہ تخلیق کیا ہے کہ مرنے کے بعد ہونے والے عذاب کے دو حصے کرڈالے روح کو جہنم میں اور جسم کو یہاں اس قبر میں!حیرت کی بات ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنے فرزند ابراہیم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اسی قبر میں دفن کرنے کے باوجود اس جسم اور اس قبر کے بارے میں کوئی وضاحت نہ فرمائی بلکہ صرف جنت میں ان کو ملنے والی راحت کا ذکر رمایا،اسی طرح عمرو بن لحی و ابو ثمامہ۔ بالکل اسی طرح قرآن مجید میں بیان کئے گئے واقعات میں کہیں بھی یہ عقیدہ نہیں دیا گیا کہ آل فرعون کی روحوں کو وہاں عذاب ہو رہا ہے اور جسموں کو یہاں۔پھر آخر ان کے اس عقیدے کی بنیاد کیا ہے؟

بخاری میں بیان کردہ یہودی عورت والی روایت کے بارے میں بھی اسی قسم کی باتیں بیان کی جاتی ہیں لہذاضروری ہے کہ اسکی بھی ضاحت کردی جائے۔

یہودی عورت والی روایت اور فرقہ پرستوں کی غلط تشریحات

بخاری و دیگر کتب احادیث میں ایک حدیث بیان کی گئی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم ایک (فوت شدہ)یہودی عورت کے پاس سے گذرے اسکے گھر والے اس پر رو رہے تھے۔ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا یہ لوگ اس پر رو رہے ہیں اور اسے اسکی قبر میں عذاب دیا جارہا ہے۔یہ حدیث اس مقام و قبر کی مکمل وضاحت کرتی ہے کہ جہاں ایک فوت شدہ انسان کو جزا و سزا دی جاتی ہے۔ اس صحیح حدیث سے جان چھڑانے کیلئے انھوں نے یہ انداز اختیار کیا ہے کہ ”لتعذب“کا ترجمہ مستقبل میں کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اسکا ترجمہ اسطرح کیا جائیگا کہ ”اسکو عذاب دیا جائے گا اسکی قبر میں“ یعنی جب دفن ہو جائیگی۔

وضاحت:

جس طرح اردو میں ماضی، حال اور مستقبل کے علیحدہ علیحدہ صیغے ہوتے ہیں اس طرح عربی میں ماضی اور مضارع کا صیغہ ہوتا ہے۔ مضارع کے صیغے میں حال اور مستقبل دونوں زمانے ہوتے ہیں، لیکن سیا ق و سباق سے صحیح زمانے کا تعین کرلیا جاتا ہے۔

اس حدیث میں ”یبکون“ (رو رہے ہیں) بھی مضارع کا صیغہ ہے لیکن اسکا ترجمہ یہ لوگ ”رو رہے ہوں گے“ نہیں کرتے۔ ایک ہی جملے میں دو الفاظ مضارع کے صیغے میں ہیں لیکن ایک کا ترجمہ حال میں کررہے ہیں اور دوسرے کا مستقبل میں۔ اگر اس حدیث کے ان الفاظ ا”مستقبل“ میں

ترجمہ لیا جائیگا تو وہ اس طرح ہوگا ”یہ لوگ اس پر رو ر ئیں گے اور اس پر عذاب ہوگا اسکی قبر میں“۔ان دونوں صیغوں کا ترجمہ یا تو حال میں ہوگا یا پھرمستقبل میں ایک کا حال میں اور دوسرے کا مستقبل میں کرنا محض اپنے باطل عقیدے کے تحفظ کی ہی کوشش ہے۔ اس حدیث کادرست ترجمہ وہ ہے جو ہم نے لکھا ہے اور یہی ترجمہ کتب احادیث کا اردو ترجمہ کرنے والوں کے ترجمہ میں لکھاہوا ہے۔ مگرچونکہ یہ حدیث انکے جھوٹے عقائد کے خلا ف جاتی ہے تو یہ سٹپٹا گئے ہیں کہ اپنے باطل عقیدے کا دفاع کیسے کریں؟

اسی حدیث کے بارے میں یہ بات بھی کہی جاتی ہے کہ نسائی میں بھی یہ حدیث آئی ہے اور وہاں نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے قبر سے گزرنے کا ذکر ہے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ حدیث بخاری و مسلم یا نسائی میں جہاں بھی آئی ہے اس میں نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے قبر پر سے گذرنے کا ذکر کہیں بھی نہیں۔ نسائی کی جس حدیث کا یہ لوگ حوالہ دیتے ہیں وہ یہ روایت نہیں بلکہ ایک دوسری روایت ہے اور اس میں کسی یہودی عورت کا کوئی ذکر نہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *