Categories
Uncategorized

اللہ تعالیٰ کے حقوق و اختیارات میں شرک

ابتدائیہ :

شرک کی ایک قسم اللہ تعالیٰ کے حقوق و اختیار میں شرک کرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں پیدا کیا اور زندگی کا سارا ساماں صرف اسی نے ہی عطا کیا۔ مصیبت پریشانی ، بھوک افلاس، بیماری اور آزمائشوں سے وہی نکالتا ہے لیکن انسان دوسروں کی شکرگزاری کرتے ہوئے اس کیساتھ شرک کرتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :

﴿قُلۡ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحۡيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ ٱلۡعَٰلَمِينَ﴾

[الأنعام: 162]

’’ کہدو کہ بے شک میری صلواۃ ، میری قربانی ، میرا جینا اور مرنا ( سب ) اللہ رب العالمین ہی کے لئے ہے‘‘۔

بتایا گیا کہ ایک انسان کی زندگی بھر کا ہر ہرعمل صرف اللہ کے لئے ہے۔جو کچھ بھی وہ عبادات کرتا ہے وہ صرف اللہ تعالیٰ کے لئے ہوتی ہیں، جیسا کہ نبی ﷺ نے ہمیں تشہد میں بیٹھ کر پڑھنا سکھایا :

التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ

( بخاری، کتاب الاذان ، بَابُ التَّشَهُّدِ فِي الآخِرَةِ )

’’ اللہ ہی کے لئے ہیں میری قولی عبادتیں،میری جسمانی و میری مالی عبادات ‘‘۔

اس طرح ہم اپنے رب سے عہد کرتے ہیں کہ اے میرے مالک پکاروں گا تو صرف تجھے، دعائیں صرف تجھ سے ہوں گی۔زکواۃ ہو یا صدقات ، قربانی ہو یا دوسری مالی عبادتیں صرف ایک اللہ کے لئے ہوں گی کسی اور کے نام کی نذور ونیاز نہیں ہوگی۔میری صلاۃ، میرا صوم، حج و عمرہ صرف تیرے لئے ہوگا۔

﴿إِيَّاكَ نَعۡبُدُ وَإِيَّاكَ نَسۡتَعِينُ﴾

[الفاتحة: 4]

’’ ( اے اللہ ) ہم صرف تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد چاہتے ہیں ‘‘۔

بندگی بمعنیٰ غلامی ،کہ ہم اللہ کے غلام ہیں۔ اپنی مرضی چلانے کا ہمیں کوئی حق نہیں بلکہ جو کام جس طرح بیان کیا گیا ہے اسی طرح کیا جائے گا۔

﴿ ٓۚ۔ ۔ ۔ إِنِ ٱلۡحُكۡمُ إِلَّا لِلَّهِ ۔ ۔ ۔﴾

[الأنعام: 57]

’’ بے شک حکم تو صرف اللہ ہی کا ہے ‘‘۔

یعنی قوانین زندگی جو اللہ تعالیٰ نے مرتب فرما دئیے ہیں لازم ہے کہ ان معاملات میں صرف اللہ کا حکم مانا جائے۔ اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی کا بنایا ہوا دین ( طریقہ زندگی ) اپنا لینا شرک قرار دیا گیا ہے۔الغرض اللہ تعالیٰ کا یہ حق ہے کہ اب اس کے علاوہ نہ کسی کو پکارا جائے، نہ کسی سے

دعا کی جائے، قربانی ہو یا نذر ونیاز صرف اللہ کے نام کی ہو۔طریقہ زندگی صرف وہی اپنایا جائے جو اللہ کی طرف سے نازل کردہ ہے۔ اب جب کسی نے اللہ کا حق اس کے کسی بندے کو دیا تو اس نے اسے اللہ کے اس حق و اختیار میں شریک کردیا۔اب ہم ان موضوعات کو تفصیلی بیان کرتے ہیں

دعا اور پکار کا شرک :

نبی ﷺ نے فرمایا :

«إِنَّ الدُّعَاءَ هُوَ الْعِبَادَةُ» ثُمَّ قَرَأَ: {وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ}

( سنن ابن ماجہ ، کتاب الدعاء ، بَابُ فَضْلِ الدُّعَاءِ )

’’دعا ہی تو عبادت ہے، پھر یہ آیت پڑھی (وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُوْنِيْ اَسْتَجِبْ لَكُمْ اِنَّ الَّذِيْنَ يَسْتَكْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِيْ سَيَدْخُلُوْنَ جَهَنَّمَ دٰخِرِيْنَ ) ۔ مومن : 60 (اور تمہارے رب نے فرمایا مجھے پکارو، میں تمہاری دعا قبول کروں گا، بیشک جو لوگ میری عبادت سے سرکشی کرتے ہیں عنقریب وہ ذلیل ہو کر جہنم میں داخل ہوں گے)‘‘۔

اس حدیث سے واضح ہوا کہ دعا ہی اصل عبادت ہے، جب یہ عبادت اللہ کے بجائے کسی دوسرےکے لئے کی جائے گی تو شرک ہوگا۔ یعنی دعا اور پکار اللہ کا حق ہے کہ اسے غائبانہ پکارا جائے ،اس ہی سے مدد طلب کی جائے ، زندگی کی دوسری ضروریات کے لئے بھی صرف اس ہی سو سوال کیا جائے۔

جیسا کہ اس حدیث میں ہے :

عن ابن عباس، قال: كنت خلف رسول الله صلى الله عليه وسلم يوما، فقال: «يا غلام إني أعلمك كلمات، احفظ الله يحفظك، احفظ الله تجده تجاهك، إذا سألت فاسأل الله، وإذا استعنت فاستعن بالله، واعلم أن الأمة لو اجتمعت على أن ينفعوك بشيء لم ينفعوك إلا بشيء قد كتبه الله لك، ولو اجتمعوا على أن يضروك بشيء لم يضروك إلا بشيء قد كتبه الله عليك، رفعت الأقلام وجفت الصحف»

( ترمذی، أبواب صفة القيامة والرقائق والورع عن ﷺ)

’’ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں ایک دن رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سواری پر پیچھے تھا، آپ نے فرمایا:’’اے لڑکے! میں تمہیں چنداہم باتیں بتلارہاہوں: تم اللہ کے احکام کی حفاظت کر و،وہ تمہاری حفاظت فرمائے گا، تو تم اللہ کے حقوق کا خیال رکھو اسے تم اپنے سامنے پاؤ گے، جب تم کوئی چیز مانگو توصرف اللہ سے مانگو، جب تو مدد چاہو توصرف اللہ سے مدد طلب کرو، اور یہ بات جان لو کہ اگر ساری امت بھی جمع ہوکرتمہیں کچھ نفع پہنچانا چاہے تو وہ تمہیں اس سے زیادہ کچھ بھی نفع نہیں پہنچا سکتی جو اللہ نے تمہارے لیے لکھ دیا ہے، اور اگر وہ تمہیں کچھ نقصان پہنچانے کے لئے جمع ہوجائے تو اس سے زیادہ کچھ نقصان نہیں پہنچاسکتی جو اللہ نے تمہارے لئے لکھ دیا ہے، قلم اٹھالیے گئے اور (تقدیر کے)صحیفے خشک ہوگئے ہیں ‘‘۔

لیکن آج یہ امت قبروں پر جھکی پڑی ہے ، قبروں میں مدفون فوت شدہ شخصیات کو پکارا جارہا ہے، ان سے دعائیں کی جا رہی ہیں، سوال ان سے کیا جا رہا ہے۔سورہ فاطر میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :

﴿وَمَنۡ أَضَلُّ مِمَّن يَدۡعُواْ مِن دُونِ ٱللَّهِ مَن لَّا يَسۡتَجِيبُ لَهُۥٓ إِلَىٰ يَوۡمِ ٱلۡقِيَٰمَةِ وَهُمۡ عَن دُعَآئِهِمۡ غَٰفِلُونَ ۝ وَإِذَا حُشِرَ ٱلنَّاسُ كَانُواْ لَهُمۡ أَعۡدَآءٗ وَكَانُواْ بِعِبَادَتِهِمۡ كَٰفِرِينَ﴾

[الأحقاف: 5-6]

’’ اور اس سے بڑھ کر گمراہ کون ہوگا جو اللہ کے علاوہ ایسوں کو پکارے جو قیامت تک اس کی پکار نہیں سن سکتے، اور وہ ان کی دعاؤں سے بے خبر ہیں اور جب ( قیامت کے دن ) انسانوں کو جمع کیا جائے گا تو وہ ان کی عبادت کا انکار کردیں گے‘‘ْ

اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں اللہ کے علاوہ دوسروں کو پکارنے یا ان سے دعا کرنے کو ان کی عبادت قرار دیا اور بتایا کہ قیامت کے دن یہ افراد جنہیں آج یہ لوگ پکار رہے ہیں وہ اس کا انکار کر دیں گے کیونکہ وہ ان کی ان پکار و دعاؤں سے بے خبر ہیں۔ سورہ فاطر میں فرمایا:

﴿إِن تَدۡعُوهُمۡ لَا يَسۡمَعُواْ دُعَآءَكُمۡ وَلَوۡ سَمِعُواْ مَا ٱسۡتَجَابُواْ لَكُمۡۖ وَيَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِ يَكۡفُرُونَ بِشِرۡكِكُمۡۚ وَلَا يُنَبِّئُكَ مِثۡلُ خَبِيرٖ﴾ [فاطر: 14]

’’اگر تم انہیں پکارو (تو) وہ تمہاری پکار نہیں سن سکتے اور اگر (بالفرض) وہ سُن بھی لیں (تو) وہ تمہیں جواب نہیں دے سکتے اور قیامت کے دن وہ انکار کردیں گے تمہارے اس شرک کا اور نہیں (کوئی) خبر دے سکتا تمہیں ایک پوری طرح خبر رکھنے والے (اللہ) کی مانند ‘‘۔

واضح ہوا کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی اور کو پکارنا اور دعائیں کرنا اس کی عبادت اور اللہ کے حقوق میں شرک ہے۔ سورہ یونس میں فرمایا :

﴿وَلَا تَدۡعُ مِن دُونِ ٱللَّهِ مَا لَا يَنفَعُكَ وَلَا يَضُرُّكَۖ فَإِن فَعَلۡتَ فَإِنَّكَ إِذٗا مِّنَ ٱلظَّٰلِمِينَ﴾ [يونس: 106]

’’ اورمت پکارو اللہ کے علاوہ ایسوں کو جو نہ تمہیں فائدہ دے سکتے ہوں اور نہ ہی کوئی نقصان ، اگر تم نے ایسا کیا تو تم ظالموں ( مشرکوں ) میں سے ہو جاؤ گے ‘‘۔

﴿قُلۡ إِنَّمَآ أَدۡعُواْ رَبِّي وَلَآ أُشۡرِكُ بِهِۦٓ أَحَدٗ ﴾

[الجن: 20]

’’ کہدو کہ میں تو اپنے رب ہی کو پکارتا ہوں ، اس کیساتھ کسی کو شریک نہیں کرتا ‘‘۔

واضح ہوا کہ اللہ کے علاوہ کسی اور کو پکارنا ، اس سے دعائیں کرنا اللہ کے حق میں شرک ہے، نبی ﷺ نے فرمایا:

«مَنْ مَاتَ وَهْوَ يَدْعُو مِنْ دُونِ اللَّهِ نِدًّا دَخَلَ النَّارَ»

( بخاری ، کتاب التفسیر ا؛قرآن ، بَابُ قَوْلِهِ: {وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَتَّخِذُ مِنْ دُونِ اللَّهِ أَنْدَادًا يُحِبُّونَهُمْ كَحُبِّ اللَّهِ} )

‘‘ جو مرا اس حال میں کہ وہ پکارتا تھا اللہ کے علاوہ اس کےمدمقابل کو، جہنم میں داخل ہوگا ‘‘۔

اولادیں دینے والا صرف اللہ :

اللہ تعالیٰ کے علاوہ اس کائنات میں اور کوئی اختیار نہیں رکھتا کہ وہ کسی کو ضروریات زندگی میں سے کچھ دے سکے، یا اسے کسی بھی قسم کا نفع یا نقصان ہی پہنچا سکے۔ جبکہ لوگ کہیں محمد ﷺ کو پکارتےہوئے کہتے ہیں :

’’ بھر دو جھولی میری یا محمدؐ، لوٹ کے میں نہ جاؤں گا خالی ‘‘

اور کہیں نعرہ لگاتے ہیں :

’’ بابا شاہ جمال، پتر دے رتہ لال ‘‘

یہ سب کس کا بتایا ہوا طریقہ ہے ۔ کائنات میں اللہ تعالیٰ نے کس کو یہ اختیار دیا ہے کہ وہ کسی کو اولاد سے نواز سکے ؟ مالک فرماتا ہے:

﴿لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۭ يَخْلُقُ مَا يَشَاۗءُ ۭ يَهَبُ لِمَنْ يَّشَاۗءُ اِنَاثًا وَّيَهَبُ لِمَنْ يَّشَاۗءُ الذُّكُوْرَ ۝ اَوْ يُزَوِّجُهُمْ ذُكْرَانًا وَّاِنَاثًا ۚ وَيَجْعَلُ مَنْ يَّشَاۗءُ عَــقِـيْمًا ۭ اِنَّهٗ عَلِيْمٌ قَدِيْرٌ [الشورى: 49-50]

’’ اللہ ہی کے لئے ہے آسمانوں اور زمین کی بادشاہی، جو چاہے پیدا کرتا ہے، جسے چاہے بیٹیاں دیتا اور جسے چاہے بیٹے دیتا ہے۔ اور جسے چاہے ملا جلا کر دیتا ہے اور جسے چاہے بانجھ کردیتا ہے ، بے شک وہ ہے جاننے اور قدرت والا ‘‘۔

قسمتیں کھری کرنے والا صرف ایک اللہ :

قسمت ( تقدیر ) اللہ تعالیٰ نے بنائی اور نبی ﷺ نے ایک صحابی ؓ کے سوال پر فرمایا :

لَا بَلْ فِيمَا جَفَّتْ بِهِ الْأَقْلَامُ وَجَرَتْ بِهِ الْمَقَادِيرُ

( مسلم ، کتاب القدر ، بَابُ كَيْفِيَّةِ خَلْقِ الْآدَمِيِّ فِي بَطْنِ أُمِّهِ وَكِتَابَةِ رِزْقِهِ وَأَجَلِهِ وَعَمَلِهِ وَشَقَاوَتِهِ وَسَعَادَتِهِ )

’’ نہیں بلکہ ان سے متعلق ہیں جنہیں لکھ کر قلم خشک ہوچکے ہیں اور تقدیر جاری ہوچکی ہے‘‘۔

نبی ﷺ نے فرمایا :

إِنَّ أَحَدَكُمْ يُجْمَعُ خَلْقُهُ فِي بَطْنِ أُمِّهِ أَرْبَعِينَ يَوْمًا، ثُمَّ يَكُونُ عَلَقَةً مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ يَكُونُ مُضْغَةً مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ يَبْعَثُ اللَّهُ مَلَكًا فَيُؤْمَرُ بِأَرْبَعِ كَلِمَاتٍ، وَيُقَالُ لَهُ: اكْتُبْ عَمَلَهُ، وَرِزْقَهُ، وَأَجَلَهُ، وَشَقِيٌّ أَوْ سَعِيدٌ، ثُمَّ يُنْفَخُ فِيهِ الرُّوحُ، فَإِنَّ الرَّجُلَ مِنْكُمْ لَيَعْمَلُ حَتَّى مَا يَكُونُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الجَنَّةِ إِلَّا ذِرَاعٌ، فَيَسْبِقُ عَلَيْهِ كِتَابُهُ، فَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ، وَيَعْمَلُ حَتَّى مَا يَكُونُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ النَّارِ إِلَّا ذِرَاعٌ، فَيَسْبِقُ عَلَيْهِ الكِتَابُ، فَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ الجَنَّةِ

( بخاری، بداء الخلق، بَابُ ذِكْرِ المَلاَئِكَةِ )

’’ کہ تم میں سے ہر ایک کی پیدائش ماں کے پیٹ میں پوری کی جاتی ہے چالیس دن تک (نطفہ رہتا ہے) پھر اتنے ہی دنوں تک مضغہ گوشت رہتا ہے پھر اللہ تعالیٰ ایک فرشتہ کو چار باتوں کا حکم دے کر بھیجتا ہے اور اس سے کہا جاتا ہے کہ اس کا عمل اس کا رزق اور اس کی عمر لکھ دے اور یہ (بھی لکھ دے) کہ وہ بد بخت (جہنمی) ہے یا نیک بخت (جنتی) پھر اس میں روح پھونک دی جاتی ہے بیشک تم میں سے ایک آدمی ایسے عمل کرتا ہے کہ اس کے اور جنت کے درمیان (صرف) ایک گز کا فاصلہ رہ جاتا ہے کہ اس کا نوشتہ (تقدیر) غالب آجاتا ہے اور وہ دوزخیوں کے عمل کرنے لگتا ہے اور (ایک آدمی) ایسے عمل کرتا ہے کہ اس کے اور دوزخ کے درمیان (صرف) ایک گز کا فاصلہ رہ جاتا ہے کہ اتنے میں تقدیر (الٰہی) اس پر غالب آجاتی ہے اور وہ اہل جنت کے کام کرنے لگتا ہے‘‘۔

بتایا گیا کہ تقدیر لکھنے والا قلم خشک ہوگیا ہے یعنی اب تقدیر میں ردوبدل نہیں ہوگا، اس کا عمل بھی لکھ دیا جاتا ہے اور ساری زندگی میں اسے کیا کیا ملے گا وہ بھی لکھ دیا جاتا ہے، یہاں تک مرنے کے بعد جنت میں جائے گا یا جہنم میں یہ سب لکھ دیا جاتا ہے لیکن یہ قرآن و حدیث سے دور رہنے والا یہ کلمہ گو نعرہ لگاتے ہیں :

’’ امام بری ، امام بری میری قسمت کرو کھری ‘‘۔

سوچیں کہ اس کا سب کچھ تو اللہ نے لکھ ہی دیا تو پھر کس نے امام بری کو یہ اختیار دیا ہے کہ وہ لوگوں کی قسمتیں کھری کرے؟ مومن تو ہر حالت میں اللہ تعالیٰ پر توکل کرنے والا ہوتا ہے اور اس کا یقین ہوتا ہے کہ جو کچھ میرے رب نے میرے لئے لکھ دیا ہے وہی مجھے ملے گا :

﴿قُل لَّن يُصِيبَنَآ إِلَّا مَا كَتَبَ ٱللَّهُ لَنَا هُوَ مَوۡلَىٰنَاۚ وَعَلَى ٱللَّهِ فَلۡيَتَوَكَّلِ ٱلۡمُؤۡمِنُونَ﴾

[التوبة: 51]

‘‘ کہدو کہ نہیں پہنچے گا ہمیں کوئی نقصان مگر جو لکھ دیا ہے اللہ نے ہمارے لئے اور مومن تو اللہ ہی پر توکل کرتے ہیں ‘‘۔

اس کائنات میں کوئی ایسا نہیں کہ اللہ تعالیٰ کے لکھے کو رد کرسکے اور نہ ہی کوئی کسی کو اللہ کے لکھے سے بچا سکتا ہے۔

﴿قُلۡ مَن ذَا ٱلَّذِي يَعۡصِمُكُم مِّنَ ٱللَّهِ إِنۡ أَرَادَ بِكُمۡ سُوٓءًا أَوۡ أَرَادَ بِكُمۡ رَحۡمَةٗۚ وَلَا يَجِدُونَ لَهُم مِّن دُونِ ٱللَّهِ وَلِيّٗا وَلَا نَصِيرٗا﴾

[الأحزاب: 17]

’’ کہدو کہ کون ہے جو بچائے گا تمہیں اللہ سے اگر وہ ارادہ کرے تمہارے ساتھ برائی کا یا وہ ارادہ کرے تمہارے ساتھ اچھائی کا ، یہ لوگ نہیں پا سکتے اللہ کے علاوہ کوئی مددگار ‘‘۔

افسوس کے گمراہی کا شکار یہ کلمہ گو نعرہ لگاتا ہے :

اللہ پکڑے تو چھڑائے محمد ؐ ، محمد ؐ کی پکڑ سے کوئی چھڑا نہ سکے۔

مشکل کشا اور غوث الاعظم کون ؟

پوری کائنات کی مخلوق کو اللہ تعالیٰ نے بنایا، وہ صبح شام اس ہی کی تسبیح بیان کرتے ہیں، جب کسی کو کوئی تکلیف ہوتی ہے تو وہ اللہ ہی کو پکارتا ہے اور اللہ ہی اس کی پکار کو سنتا اور اس کی مشکل دور کرتا ہے۔ لیکن یہ کلمہ گواللہ کے ایک وفات شدہ ولی یعنی علیؓ کو ’’مشکل کشا‘‘ ( مشکلات کو دور کرنے والا ) اور دوسرے وفات شدہ بندے عبد القادر جیلانی کو ’’ غوث الاعظم ‘‘ ( کائنات کا سب سے بڑا پکاریں سننے والا، مدد کرنے والا ) سمجھتی ہے۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :

﴿وَإِن يَمۡسَسۡكَ ٱللَّهُ بِضُرّٖ فَلَا كَاشِفَ لَهُۥٓ إِلَّا هُوَۖ وَإِن يُرِدۡكَ بِخَيۡرٖ فَلَا رَآدَّ لِفَضۡلِهِۦۚ يُصِيبُ بِهِۦ مَن يَشَآءُ مِنۡ عِبَادِهِۦۚ وَهُوَ ٱلۡغَفُورُ ٱلرَّحِيمُ﴾

[يونس: 107]

’’ اور اگر اللہ تمہیں کسی مصیبت میں ڈالے تو کوئی اسے دور کرنے والا نہیں سوائے اس( اللہ ) کے، اور اگر وہ ارادہ کرے تمہارے ساتھ بھلائی کا تو کوئی اس کے فضل سے روکنے والا نہیں ، اپنے بندوں میں سے جس چاہے نوازتا ہے اور وہ بخشنے اور رحم فرمانے والا ہے‘‘۔

﴿أَمَّنْ يُجِيبُ الْمُضْطَرَّ إِذَا دَعَاهُ وَيَكْشِفُ السُّوءَ وَيَجْعَلُكُمْ خُلَفَاءَ الْأَرْضِ أَإِلَهٌ مَعَ اللَّهِ قَلِيلًا مَا تَذَكَّرُونَ﴾

[النمل: 62]

’’بھلا کون بے قرار کی التجا قبول کرتا ہے۔ جب وہ اس سے دعا کرتا ہے اور (کون اس کی) تکلیف کو دور کرتا ہے اور (کون) تم کو زمین میں (اگلوں کا) جانشین بناتا ہے (یہ سب کچھ اللہ کرتا ہے) تو کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور معبود بھی ہے؟ (ہرگز نہیں مگر) تم بہت کم غور کرتے ہو‘‘۔

سوچیں اللہ کے علاوہ کوئی ایسا ہے جو کسی مظلوم، محتاج ، بیمار، مفلوج یا گونگے کی سن سکتا ہو۔ وہ رب تو انسان کی شہ رگ سے زیادہ قریب اور دلوں کا حال جاننے والا ہے۔ اس کے بعد ان فوت شدہ بندوں کو اللہ کا یہ حق اور اختیار دے دیا جائے ، کیا یہ بدترین شرک نہیں؟

داتا اور گنج بخش :

الوہاب ( دینے والا ) ، یہ اللہ کی صفت ہے۔ یاد رہے کہ کائنات کی ہر ہر مخلوق کو اس کے علاوہ کوئی کچھ نہیں دیتا، لیکن افسوس لاہور میں مدفون اللہ کے ایک فوت شدہ بندے کو ’’ داتا ‘‘ ( دینے والا ) کہا اور سمجھا جاتا ہے اور ان کے متعلق یہ بھی گمان ہے کہ یہ ’’ گنج بخش ‘‘( خزانے بخشنے والا ) ہیں۔

﴿أَمَّنْ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَأَنْزَلَ لَكُمْ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَأَنْبَتْنَا بِهِ حَدَائِقَ ذَاتَ بَهْجَةٍ مَا كَانَ لَكُمْ أَنْ تُنْبِتُوا شَجَرَهَا أَإِلَهٌ مَعَ اللَّهِ بَلْ هُمْ قَوْمٌ يَعْدِلُونَ﴾

[النمل: 60]

’’بھلا کس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور (کس نے) تمہارے لئے آسمان سے پانی برسایا۔ (ہم نے) پھر ہم ہی نے اس سے سرسبز باغ اگائے۔ تمہارا کام تو نہ تھا کہ تم ان کے درختوں کو اگاتے۔ تو کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور بھی الٰہ ہے‘‘۔

﴿أَمَّنْ جَعَلَ الْأَرْضَ قَرَارًا وَجَعَلَ خِلَالَهَا أَنْهَارًا وَجَعَلَ لَهَا رَوَاسِيَ وَجَعَلَ بَيْنَ الْبَحْرَيْنِ حَاجِزًا أَإِلَهٌ مَعَ اللَّهِ بَلْ أَكْثَرُهُمْ لَا يَعْلَمُونَ﴾

[النمل: 61]

’’بھلا کس نے زمین کو قرار گاہ بنایا اور اس کے بیچ نہریں بنائیں اور اس کے لئے پہاڑ بنائے اور (کس نے) دو دریاؤں کے بیچ اوٹ بنائی (یہ سب کچھ اللہ نے بنایا) تو کیا اللہ کے ساتھ کوئی اورالٰہ بھی ہے؟ (ہرگز نہیں) بلکہ ان میں اکثرلوگ جانتے ہی نہیں‘‘۔

﴿يَٰٓأَيُّهَا ٱلنَّاسُ ٱذۡكُرُواْ نِعۡمَتَ ٱللَّهِ عَلَيۡكُمۡۚ هَلۡ مِنۡ خَٰلِقٍ غَيۡرُ ٱللَّهِ يَرۡزُقُكُم مِّنَ ٱلسَّمَآءِ وَٱلۡأَرۡضِۚ لَآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَۖ فَأَنَّىٰ تُؤۡفَكُونَ﴾ [فاطر: 3]

’’ اے انسانو ! یاد کرو اللہ کی نعمتوں کو جو اللہ نے تم پر کی ہیں، کیا اللہ کے علاوہ کوئی ایسا خالق بھی ہے جو تمہیں آسمانوں اور زمین سے رزق دیتا ہو، کوئی نہیں ہے الٰہ سوائے اس کے، پھر کہاں سے دھوکہ کھاتے ہو ‘‘۔

﴿ وَاٰتٰىكُمْ مِّنْ كُلِّ مَا سَاَلْتُمُوْهُ ۭ وَاِنْ تَعُدُّوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ لَا تُحْصُوْهَا ۭ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَظَلُوْمٌ كَفَّارٌ ﴾

[إبراهيم: 34]

’’ اور اس نے عطا فرمائی ہر وہ چیز جو تم نے اس سے مانگی اور اگر تم اللہ کی نعمتوں کوگنناچاہو تو کبھی شمار نہیں کرسکو گے، بے شک انسان بڑا ظالم نا شکرا ہے ‘‘۔

یہ آیات پڑھ لیں ، کیا اللہ کے علاوہ اور بھی کوئی دینے والا ہے ؟ پھر علی ہجویری کو داتا کیسے مان لیا گیا۔ صرف داتا ہی نہیں بلکہ انہیں گنج بخش بھی کہا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :

﴿ وَلِلَّهِ خَزَائِنُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَلَكِنَّ الْمُنَافِقِينَ لَا يَفْقَهُونَ﴾

[المنافقون: 7]

’’اور اللہ ہی مالک ہے زمین اور آسمانوں کے خزانوں کا لیکن یہ منافق نہیں سمجھتے۔ ‘‘

﴿لَهُ مَقَالِيدُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ يَشَاءُ وَيَقْدِرُ إِنَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ﴾

[الشورى: 12]

’’اسی کے پاس ہیں کنجیاں آسمانوں اور زمین (کے خزانوں) کی کھول دیتا ہے وہ رزق جس کے لیے چاہے اور نپا تلا دیتا ہے (جسے چاہے) ۔ بلاشبہ وہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے۔ ‘‘

﴿وَإِنْ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا عِنْدَنَا خَزَائِنُهُ وَمَا نُنَزِّلُهُ إِلَّا بِقَدَرٍ مَعْلُومٍ﴾

[الحجر: 21]

’’اور نہیں کوئی چیز (کائنات میں) مگر ہیں ہمارے پاس اس کے خزانے ہیں اور نہیں نازل کرتے ہم اسے مگر ایک مقرر مقدار میں‘‘۔

﴿قُلْ لَوْ أَنْتُمْ تَمْلِكُونَ خَزَائِنَ رَحْمَةِ رَبِّي إِذًا لَأَمْسَكْتُمْ خَشْيَةَ الْإِنْفَاقِ وَكَانَ الْإِنْسَانُ قَتُورًا﴾

[الإسراء: 100]

’’ان سے کہہ دیجیے اگر تم مالک ہوتے میرے رب کی رحمت کے خزانوں کے تو پھر ضرور روک لیتے تم انھیں خرچ ہونے کے ڈر سے۔ اور انسان تو بڑا ہی بخیل ہے ‘‘۔

﴿أَمْ عِنْدَهُمْ خَزَائِنُ رَحْمَةِ رَبِّكَ الْعَزِيزِ الْوَهَّابِ﴾

[ص: 9]

’’کیا ہیں ان کے پاس خزانے تیرے رب کی رحمت کے ،جو ہے زبردست اور بہت زیادہ عطا کرنے والا ؟‘‘

اللہ تعالیٰ نے واضح کردیا کہ اس نے کس کو خزانوں کا مالک نہیں بنایا بلکہ یہ اس کا اپنا اختیار ہے کہ جتنا چاہے نازل فرمائے اور یہ بھی اس کا اپنا اختیار ہے کہ جس کو جتنا چاہے زیادہ دے اورجس کو چاہے تو کم دے اور جسے چاہے نہ دے۔لہذا وہ ہی خزانوں کا مالک اور وہی خزانے

بخشنے والا ہے اس کے علاوہ اس پوری کائنات میں کسی اور متعلق یہ عقیدہ رکھنا کہ وہ خزانے بخشنے والا ہے یقیناً شرک ہے۔

ان سارے دلائل سے ثابت ہوا کہ ’’ داتا ‘‘ ( دینے والا ) ، ’’ گنج بخش ‘‘ ( خزانے بخشنےوالا) ، ’’ مشکل کشا ‘‘ ( مشکلات دور کرنے والا )، ‘‘ غوث الاعظم ‘‘ ( کائنات کا سب سے بڑا پکاریں سننے والا، مدد کرنے والا )،’’ غریب نواز ‘‘ غریبوں کو نوازنے والا، صرف ایک اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ اسی طرح اولادیں دینے والا، قسمتیں کھری کرنے والا،’’لجپال‘‘ ( عزت دینے والا ) بھی صرف ایک اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔

یاد رہے کہ یہ سا رے القابات انسانوں کے اپنے گھڑے ہوئے ہیں اللہ تعالیٰ نے قرآن و حدیث میں کسی کو ایسے اختیارات کا حامل نہیں بیان فرمایا :

﴿قُلۡ أَرَءَيۡتُمۡ شُرَكَآءَكُمُ ٱلَّذِينَ تَدۡعُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِ أَرُونِي مَاذَا خَلَقُواْ مِنَ ٱلۡأَرۡضِ أَمۡ لَهُمۡ شِرۡكٞ فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ أَمۡ ءَاتَيۡنَٰهُمۡ كِتَٰبٗا فَهُمۡ عَلَىٰ بَيِّنَتٖ مِّنۡهُۚ بَلۡ إِن يَعِدُ ٱلظَّٰلِمُونَ بَعۡضُهُم بَعۡضًا إِلَّا غُرُورًا﴾

[فاطر: 40]

’’ ( ان سے ) کہو، کیا تم نے دیکھا ہےاپنے ان شریکوں کو جنہیں تم پکارتے ہو اللہ کے علاوہ، مجھے دکھاؤ انہوں نے زمین میں کیا پیدا کیا ہے،یا ان کی آسمانوں میں کوئی شراکت داری ہے، کیا ہم نے انہیں کوئی تحریر دے دی ہے کہ جس پر یہ قائم ہیں، بلکہ یہ ظالم ایک دوسرے کوجھوٹ کے علاوہ کوئی وعدہ نہیں دیتے ‘‘۔

بتایا کہ کیا اللہ تعالیٰ نے قرآن و حدیث کے ذریعے انہیں بتادیا ہے کہ فلاں داتا ہے اور فلاں مشکل کشا۔پھر وہ کونسی بنیاد ہے کہ جس کی وجہ سے یہ ان فوت شدہ شخصیات کو ان القابات سے پکارتے ہیں۔ سورہ یوسف میں اللہ تعالیٰ نے فرما یا:

﴿مَا تَعۡبُدُونَ مِن دُونِهِۦٓ إِلَّآ أَسۡمَآءٗ سَمَّيۡتُمُوهَآ أَنتُمۡ وَءَابَآؤُكُم مَّآ أَنزَلَ ٱللَّهُ بِهَا مِن سُلۡطَٰنٍۚ إِنِ ٱلۡحُكۡمُ إِلَّا لِلَّهِ أَمَرَ أَلَّا تَعۡبُدُوٓاْ إِلَّآ إِيَّاهُۚ ذَٰلِكَ ٱلدِّينُ ٱلۡقَيِّمُ وَلَٰكِنَّ أَكۡثَرَ ٱلنَّاسِ لَا يَعۡلَمُونَ﴾

[يوسف: 40]

’’ جنہیں تم پکارتے ہو اس ( اللہ ) علاوہ، وہ کچھ نہیں ہیں مگر کچھ نام جو تم اور تمہارے باپ دادا نے گھڑ لئے ہیں، اللہ نے ان کے بارے میں کوئی دلیل نہیں نازل کی،( سن لو ) حکم ( اختیار ) صرف اللہ کا ہے اور اس نے حکم دیا ہے کہ بندگی کسی کی نہ کرو سوائے اس ( اللہ ) کے، یہی سیدھا دین ہے لیکن انسانوں کی اکثریت نہیں جانتی‘‘۔

یعنی اللہ تعالیٰ نے تو اس بارے میں کوئی دلیل نازل نہیں فرمائی کہ فلاں ’’ غریب نواز ‘‘ ہے یا فلاں ’’ غوث الاعظم ‘‘، یہ تو تم نے خود اور تمہارے باپ دادا کے بنائے ہوئے خود ساختہ نام ہیں۔ اس آیت میں اس بات کو بھی واضح کردیا کہ اللہ کے علاوہ بندگی ( عبادت ) کسی کی نہیں ہوگی یعنی کوئی بھی اللہ کی صفات کا حامل نہیں سمجھا جائے گا، دعائیں اور پکاریں، نذر ونیاز، الغرض کسی بھی قسم کی زبانی، بدنی اور مالی عبادات کسی اور کے لئے نہیں ہوں گی۔

شکرگزاری میں شرک :

جیسا کہ ہر انسان جانتا ہے کہ تمام تر نعمتیں دینے والی صرف ایک اللہ کی ذات ہے۔ کسی مسلم سے یہ بات کہی جائے کہ ہندو بت کے سامنے کھڑے ہو کر بیٹے کا سوال کرتا ہے اور اسے بیٹا مل بھی جاتا ہے تو بتائیں یہ بیٹا اللہ نے دیا یا اس بت نے دیا ؟ سب ایک ہی جواب دیتے ہیں کہ ’’ اللہ نے دیا ‘‘، لیکن وہ ہندو یہ عقیدہ رکھتا ہے کہ بت کیوجہ سے ملا اس لئےوہ جاکر اس بت کا شکرادا کرتا ہے۔ یہی حال اس کلمہ گو قوم کا ہے قبر پر جاکر یا پیر صاحب سے دعائیں کرا کر بیٹا طلب کرتے ہیں، اور جب بیٹا مل جاتا ہے تو جاکر اس کا شکریہ ادا کرتے ہیں، قبروں پر چادر چڑھاتے ہیں اور پھر اس کا نام’’ پیران دتہ ‘‘،’’ غوث دتہ ‘‘ رسول دتہ ‘‘ رکھ دیتے ہیں۔ یہ مشرکین کا طریقہ کار ہے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :

﴿هُوَ الَّذِيْ خَلَقَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ وَّجَعَلَ مِنْهَا زَوْجَهَا لِيَسْكُنَ اِلَيْهَا ۚ فَلَمَّا تَغَشّٰىهَا حَمَلَتْ حَمْلًا خَفِيْفًا فَمَرَّتْ بِهٖ ۚ فَلَمَّآ اَثْقَلَتْ دَّعَوَا اللّٰهَ رَبَّهُمَا لَىِٕنْ اٰتَيْتَنَا صَالِحًا لَّنَكُوْنَنَّ مِنَ الشّٰكِرِيْنَ ؀فَلَمَّآ اٰتٰىهُمَا صَالِحًا جَعَلَا لَهٗ شُرَكَاۗءَ فِيْمَآ اٰتٰىهُمَا ۚ فَتَعٰلَى اللّٰهُ عَمَّا يُشْرِكُوْنَ﴾

[الأعراف: 189-190]

’’وہی تو ہے جس نے پیدا کیا تم کو ایک جان سے اور بنایا اسی میں سے اس کا جوڑا تاکہ سکون حاصل کرے وہ اس کے پاس۔ پھر جب ڈھانک لیا مرد نے عورت کو تو اٹھا لیا اس نے ہلکا سا بوجھ پھر وہ لیے پھری اسے پھر جب وہ بوجھل ہوگئی تو دونوں نے دعا کی اللہ سے جو ان کا رب ہے کہ اگر عطا فرمائے تو ہمیں اچھّا اور سالم بچّہ تو ضرور ہوں گے ہم تیرے شکر گزار۔ پھر جب دیا اللہ نے ان دونوں کو صحیح وسالم بچّہ تو ٹھہرانے لگے وہ اللہ کے شریک (دوسروں کو) اس نعمت میں جو عطا کی تھی ان کو اللہ نے پس بلندو برتر ہے اللہ کی ذات ان سے جن کو یہ اس کا شریک ٹھہراتے ہیں‘‘۔

﴿قُلْ مَنْ يُّنَجِّيْكُمْ مِّنْ ظُلُمٰتِ الْبَرِّ وَالْبَحْرِ تَدْعُوْنَهٗ تَضَرُّعًا وَّخُفْيَةً ۚ لَىِٕنْ اَنْجٰىنَا مِنْ هٰذِهٖ لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الشّٰكِرِيْنَ ؀ قُلِ اللّٰهُ يُنَجِّيْكُمْ مِّنْهَا وَمِنْ كُلِّ كَرْبٍ ثُمَّ اَنْتُمْ تُشْرِكُوْنَ﴾

[الأنعام: 63-64]

’’پوچھو (ان سے) ! کون بچاتا ہے تم کو صحرا اور سمندر کی تاریکیوں سے جب تم پکارتے ہو اس کو گڑ گڑا کر اور چپکے چپکے کہ اگر بچالے وہ ہم کو، اس بلا سے تو ہم ضرور ہوں گے شکر گزار۔ کہہ دو ! اللہ ہی نجات دیتا ہے تم کو اس سے اور ہر تکلیف سے پھر بھی تم شرک کرتے ہو‘‘۔

﴿وَمَا بِكُمْ مِّنْ نِّعْمَةٍ فَمِنَ اللّٰهِ ثُمَّ اِذَا مَسَّكُمُ الضُّرُّ فَاِلَيْهِ تَجْــــَٔــرُوْنَ ؀ ثُمَّ اِذَا كَشَفَ الضُّرَّ عَنْكُمْ اِذَا فَرِيْقٌ مِّنْكُمْ بِرَبِّهِمْ يُشْرِكُوْنَ ٥٤﴾

[النحل: 53-54]

’’اور جو تمہیں حاصل ہےہر قسم کی نعمت سو وہ اللہ ہی کی عطا کردہ ہے پھر جب پہنچتی ہے تمہیں تکلیف تو اسی کے آگے فریاد کرتے ہو۔ پھر جب دور کرتا ہے وہ تکلیف تم سے تو یکایک ایک گروہ تم میں سے اپنے رب کے ساتھ شرک کرنے لگتا ہے‘‘۔

یاد رکھیں سب کچھ اسی ایک رب نے دیا ہے اس لئے کسی اور کی شکر گزاری ہر گز نہیں ہونا چاہئیے، سورہ بقرہ میں مالک فرماتا ہے:

﴿يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ كُلُواْ مِن طَيِّبَٰتِ مَا رَزَقۡنَٰكُمۡ وَٱشۡكُرُواْ لِلَّهِ إِن كُنتُمۡ إِيَّاهُ تَعۡبُدُونَ﴾

[البقرة: 172]

’اے ایمان والو، ہم نے جو پاکیزہ اشیاء تمہیں دی ہیں انہیں کھاؤ اور اللہ کا شکر کرو اگر تم صرف اسی کی عبادت کرتے ہو‘‘۔

بتایا کہ اگر تم اللہ ہی کی عبادت کرتے ہو تو تمام نعمتوں کے ملنے پر شکر بھی صرف اللہ کا ادا کرو، گویا جو کسی دوسرے کا شکر ادا کرتا ہے تو وہ اس کی عبادت کر رہا ہوتا ہے۔ اللہ کے علاوہ کس اور کے نام پر دی جانے والی کوئی بھی چیز اللہ تعالیٰ کو اس قدر ناپسند ہے کہ اس نے مومنوں پر اسے حرام کردیا اور قرآن مجید میں چار جگہ اس کا ذکر فرمایا۔

﴿إِنَّمَا حَرَّمَ عَلَيۡكُمُ ٱلۡمَيۡتَةَ وَٱلدَّمَ وَلَحۡمَ ٱلۡخِنزِيرِ وَمَآ أُهِلَّ بِهِۦ لِغَيۡرِ ٱللَّهِۖ فَمَنِ ٱضۡطُرَّ غَيۡرَ بَاغٖ وَلَا عَادٖ فَلَآ إِثۡمَ عَلَيۡهِۚ إِنَّ ٱللَّهَ غَفُورٞ رَّحِيمٌ﴾

[البقرة: 173]

’’ اس نے حرام کیا تم پر مردار، ( بہتا ہوا ) خون، سور کا گوشت اور ہر وہ چیز جو غیر اللہ سے منسوب کردی گئی ہو، البتہ جو شخص محض مجبوری میں ، بغاوت و نافرمانی میں نہیں، اس میں سے کھا لے تو اس پر کوئی گناہ نہیں، یقینا ً اللہ تعالیٰ بہت ہی معاف کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے‘‘۔

غیر اللہ سے مراد ، اللہ تعالیٰ کے علاوہ۔ یعنی اللہ کے علاوہ کوئی بھی انسان، جن یا فرشتہ۔ جیسا کہ آجکل یہ کلمہ گو 12 ربیع الاول کو نبی ﷺ کا یوم پیدائش مناتے اور ان کے نام کی نذر و نیاز کرتے ہیں۔ حسین ؓ کے نام کی سبیلیں لگائی جاتی ہیں اور علیٰ ؓ کے نام کا کھچڑا بنایا جاتا ہے۔ کہیں ہر ماہ کی گیارہ تاریخ کو عبد القادر جیلانی کے نام کی نیازیں دی جاتی ہیں اور کہیں 22 رجب کو امام جعفر کے نام کے کونڈے بھر جاتے ہیں۔

یہاں ایک بات اور بھی قابل غور ہے کہ کیا جن سے یہ لوگ دعائیں کر رہے، سوال کر رہے ہوتے ہیں کیا وہ بھی اس بات پر قادر ہیں کہ ان کی بات پوری کرسکیں ۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ اپنے انبیاء کے بارے میں بھی واضح اعلان کر رہا ہے کہ وہ اپنے یا کسی اور کے نفع و نقصان کا اختیار نہیں رکھتے :

﴿قُلْ لَا أَمْلِكُ لِنَفْسِي نَفْعًا وَلَا ضَرًّا إِلَّا مَا شَاءَ اللَّهُ ط وَلَوْ كُنْتُ أَعْلَمُ الْغَيْبَ لَاسْتَكْثَرْتُ مِنَ الْخَيْرِ وَمَا مَسَّنِيَ السُّوءُ ج إِنْ أَنَا إِلَّا نَذِيرٌ وَبَشِيرٌ لِقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ﴾

[الأعراف: 188]

’’( اے نبی ؐ ) کہہ دیجیے نہیں میں اختیار رکھتا اپنی جان کے لیے کسی نفع کا اور نہ کسی نقصان کا مگر جو اللہ چاہے اور اگر میں جانتا ہوتا غیب کو یقینا میں بہت حاصل کرلیتا بھلائی سے اور نہ پہنچتی مجھے کبھی کوئی تکلیف ،نہیں ہوں میں مگر ایک ڈرانے والا اور خوشخبری دینے والا ، اس قوم کے لیے جو ایمان رکھتے ہیں‘‘۔

﴿قُلۡ إِنِّي لَآ أَمۡلِكُ لَكُمۡ ضَرّٗاً وَّلَا رَشَدٗا﴾

[الجن: 21]

’’( اے نبی ؐ )کہدا کہ میں تمہارے لئے کسی قسم کے نقصان یا بھلائی کا اختیار نہیں رکھتا‘‘۔

دیکھیں کس وضاحت کیساتھ بیان کردیا گیا کہ نبی ﷺ نہ اپنی ذات کے لئے کسی بھی قسم کے نفع و نقصان کا اختیار رکھتے ہیں اور نہ دوسرے انسانوں کے لئے۔مزید فرمایا گیا :

﴿إِنَّ ٱلَّذِينَ تَدۡعُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِ عِبَادٌ أَمۡثَالُكُمۡۖ فَٱدۡعُوهُمۡ فَلۡيَسۡتَجِيبُواْ لَكُمۡ إِن كُنتُمۡ صَٰدِقِينَ﴾

[الأعراف: 194]

’’بیشک وہ لوگ جنہیں تم پکارتے ہو اللہ کے علاوہ ،وہ تو بندے ہیں تمہاری طرح، سو تم پکارو انہیں پھر چاہیے کہ وہ جواب دیں تمہیں اگر تم سچے ہو ‘‘

یعنی اگر تمہارا یہ کہنا کہ بالکل صحیح ہے کہ یہ مردے تمہاری سنتے ہیں تو بتاؤ تمہیں جواب کیوں نہیں ملتا۔ اگلی ہی آیت میں بتا دیا کہ یہ جواب کیوں نہیں دے سکتے :

﴿اَلَهُمْ اَرْجُلٌ يَّمْشُوْنَ بِهَآ ۡ اَمْ لَهُمْ اَيْدٍ يَّبْطِشُوْنَ بِهَآ ۡ اَمْ لَهُمْ اَعْيُنٌ يُّبْصِرُوْنَ بِهَآ ۡ اَمْ لَهُمْ اٰذَانٌ يَّسْمَعُوْنَ بِهَا ۭقُلِ ادْعُوْا شُرَكَاۗءَكُمْ ثُمَّ كِيْدُوْنِ فَلَا تُنْظِرُوْنِ﴾

[الأعراف: 195]

’’کیا ان کے پاؤں ہیں، جن سے وہ چلتے ہوں یا ان کے ہاتھ ہیں جن سے پکڑتے ہوں، یا ان کی آنکھیں ہیں جن سے دیکھتے ہوں یا ان کے کان ہیں جن سے سنتے ہوں ؟ آپ ان سے کہئے کہ اپنے سارے شریکوں کو بلاؤ اور میرا جو کچھ بگاڑ سکتے ہو بگاڑو اور مجھے مہلت بھی نہ دو

﴿وَٱلَّذِينَ يَدۡعُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِ لَا يَخۡلُقُونَ شَيۡ‍ٔٗا وَهُمۡ يُخۡلَقُونَ ؀أَمۡوَٰتٌ غَيۡرُ أَحۡيَآءٖۖ وَمَا يَشۡعُرُونَ أَيَّانَ يُبۡعَثُونَ﴾

[النحل: 20-21]

’’ اور لوگ جنہیں پکارتے ہیں اللہ کے علاوہ ( انہوں نے ) کوئی چیز نہیں پیدا کی بلکہ وہ خود پیدا کے گئے ہیں، مردہ ہیں، زندگی کی رمق بھی نہیں، اور انہیں تو یہ شعور بھی نہیں کہ کب زندہ کرکے اٹھائے جائیں گے‘‘۔

﴿يُولِجُ ٱلَّيۡلَ فِي ٱلنَّهَارِ وَيُولِجُ ٱلنَّهَارَ فِي ٱلَّيۡلِ وَسَخَّرَ ٱلشَّمۡسَ وَٱلۡقَمَرَۖ كُلّٞ يَجۡرِي لِأَجَلٖ مُّسَمّٗىۚ ذَٰلِكُمُ ٱللَّهُ رَبُّكُمۡ لَهُ ٱلۡمُلۡكُۚ وَٱلَّذِينَ تَدۡعُونَ مِن دُونِهِۦ مَا يَمۡلِكُونَ مِن قِطۡمِيرٍ﴾

[فاطر: 13]

’’ ( وہ رب ) داخل کرتا ہے رات کو دن میں اور داخل کرتا ہے دن کو رات میں، اور مسخر کر رکھا ہے سورج اور چاند، چلے جارہے ہیں سب ایک طے شدہ وقت تک کے لئے ،یہی ہے تمہارا رب اسی کی باشاہی ہے اور لوگ جنہیں پکارتے ہیں اس ( اللہ ) کے علاوہ، وہ قطمیر کے بھی مالک نہیں‘‘۔

بتایا کہ وہ رب جو تمہیں ایک ایک نعمت سےنواز رہا ہے وہ ہر ہر چیز کا خالق ہے اور دوسرےکسی بھی چیز کے خالق نہیں بلکہ مخلوق ہیں۔ یعنی وہ مختار کیسے بن گئے وہ تو خود ہر ہر بات میں اللہ کے محتاج ہیں۔ اور تمہارا رب تو وہ ہے جو کائنات کا سارا نظام چلا رہا ہے، ہر چیز پر اس کی بادشاہی ہے ، یہ سارا نظام شمسی اسی نے قائم کیا ہے اور اس رب کو چھوڑ کر جنہیں تم اپنی فریادوں کے لئے پکار رہے ہیں وہ تو قطمیر ( کھجور کی گھٹلی پر چڑھا ہوا غلاف ) کے بھی مالک نہیں۔

﴿أَفَمَن يَخۡلُقُ كَمَن لَّا يَخۡلُقُۚ أَفَلَا تَذَكَّرُونَ﴾

[النحل: 17]

’’ کیا جو پیدا کرتا ہے اس طرح ہو سکتا ہے جو کچھ نہیں پیدا کرتے،کیا تم غور و فکر نہیں کرتے ‘‘۔

یعنی انہوں نے خالق و مخلوق کا فرق ہی ختم کردیا ۔اللہ سے بھی دعائیں جو اس کائنات کا تنہا خالق ، اس کائنات کا پورا نظام چلانے والا، ہر قسم کا رزق پیدا کرنے والا اور ان سے بھی دعائیں ان سے بھی خوف جو کچھ نہیں پیدا کرتے۔ سوچیں انسانوں میں سے کیا کسی نے اناج کا ایک دانہ بھی پیدا کیا ؟ کیا کسی نے سمندر، یہ ہوائیں بنائیں کہ اس کا ان پر کنٹرول ہو اور وہ تمہیں اس سے بچا سکے۔غور و فکر کرو اور خالق و مخلوق کے فرق کو پہچانو۔ یہ سب کچھ اللہ نے دیا ہے اس لئے اس ہی کا حق ہے کہ شکر گزاری اسی کی جائے۔ دوسروں کی حیثیت بھی سامنے آ چکی ہے کہ وہ ان تمام کاموں میں سے ایک کام بھی کرنے کا اختیار نہیں رکھتے ۔اب انہیں اللہ کی اس صفت میں برابر کردینا اور سمجھنا کہ ان کاموں میں وہ بھی اختیار رکھتے ہیں شرک فی اختیار ہے۔

کتنا عجیب معاملہ ہے کہ کوئی ٹیم جیت کر آتی ہے تو علی ہجویری کی قبر پر حاضری دیتی ہے، سوچیں عزت اور کامیابی دینے والا کون ہے؟ کسی کو اقتدار ملتا ہے تو وہ آکر قبر پر پھول کی چادر چڑھاتا ہے جیسے اقتدر دینے والی اللہ کی ذات نہیں یہ دفن شدہ شخصیت ہے ۔ مذہب کے نام پر جمہوریت اپنانے والی جماعتیں اپنی الیکشن مہم کا آغاز مردہ افراد کی قبروں کی زیارت سے شروع کرتی ہیں۔یہ سب مشرکانہ اعمال ہیں، اللہ ان سے بچا کر رکھے۔

وسیلے کا شرک:

سورہ یونس میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :

﴿وَيَعۡبُدُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِ مَا لَا يَضُرُّهُمۡ وَلَا يَنفَعُهُمۡ وَيَقُولُونَ هَٰٓؤُلَآءِ شُفَعَٰٓؤُنَا عِندَ ٱللَّهِۚ قُلۡ أَتُنَبِّ‍ُٔونَ ٱللَّهَ بِمَا لَا يَعۡلَمُ فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَلَا فِي ٱلۡأَرۡضِۚ سُبۡحَٰنَهُۥ وَتَعَٰلَىٰ عَمَّا يُشۡرِكُونَ﴾

[يونس: 18]

’’ اور بندگی کرتے ہیں اللہ کے علاوہ ان کی جو نہ انہیں نقصان پہنچا سکتے ہیں اور نہ انہیں کوئی فائدہ، اور کہتے ہیں کہ یہ ہمارے سفارشی ہیں اللہ کے پاس، (ان سے ) کہدو کہ اللہ کو ایسی خبر دیتے ہو جو وہ نہیں جانتا آسمانوں میں اور نہ زمین میں، پاک ہے اور بلند ہے وہ ان کے اس شرک سے ‘‘۔

مشرکین مکہ کا یہی طریقہ کار تھا۔ انہوں خانہ کعبہ میں انبیاء علیہ السلام، مریم صدیقہ اور ان لوگوں کے بت رکھے ہوئے تھے جنہیں وہ نیک و صالح سمجھا کرتے تھے۔( بخاری ، کتاب الحج ) ( بخاری، کتاب التفسیر القرآن)۔ جیسا کہ اس آیت میں فرمایا کہ وہ ان کی عبادت کیا کرتے تھے۔ یعنی انہیں پکارتے تھے، ان سے دعائیں کیا کرتے تھے، ان کے نام کی نذر و نیاز کیا کرتے تھےجیسا کہ ایک حدیث میں نبی ﷺ نےفرمایا :

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا فَرَعَ وَلَا عَتِيرَةَ وَالْفَرَعُ أَوَّلُ النِّتَاجِ کَانُوا يَذْبَحُونَهُ لِطَوَاغِيتِهِمْ وَالْعَتِيرَةُ فِي رَجَبٍ

( بخاری، کتاب العقیقہ ، بَابُ الفَرَعِ )

’’ ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبیﷺ نے فرمایا نہ تو فرع اور نہ ہی عتیرہ کوئی چیز ہے اور فرع اونٹنی کے سب سے پہلے بچے کو کہتے ہیں جو مشرکین اپنے طاغوتوں کے نام پر ذبح کرتے تھے اور عتیرہ اس قربانی کو کہتے ہیں جو رجب میں کی جائے‘‘۔

نبی ﷺ نے فرمایا کہ وہ اپنے طاغوتوں ( وہ انسان جو اللہ کے بندوں کو اللہ کے نازل کردہ سے گمراہ کرے، یا اس سے روکے) کے نام پر قربانی کیا کرتے تھے۔ ایک اور حدیث میں ہے :

عن أنس، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «لا عقر في الإسلام»، قال عبد الرزاق: «كانوا يعقرون عند القبر بقرة أو شاة»

( سنن ابی داؤد ، کتاب الجنائز، باب: كراهية الذبح عند القبر)

انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا۔ اسلام میں عقر نہیں ہے۔ عبدالرزاق نے کہا کہ زمانہ جاہلیت میں لوگ قبروں کے پاس جا کر گائے یابکری ذبح کیا کرتے تھے۔ (اس کا نام عقر ہے)

تو یہ تھی ان کی عبادت اور فوت شدہ لوگوں کی شکر گزاری یا خوشنودی حاصل کرنے کا طریقہ۔ یہ سب کیوں تھا ؟ للہ تعالیٰ فرماتا ہے :

﴿أَلَا لِلَّهِ ٱلدِّينُ ٱلۡخَالِصُۚ وَٱلَّذِينَ ٱتَّخَذُواْ مِن دُونِهِۦٓ أَوۡلِيَآءَ مَا نَعۡبُدُهُمۡ إِلَّا لِيُقَرِّبُونَآ إِلَى ٱللَّهِ زُلۡفَىٰٓ ۔ ۔ ۔﴾

[الزمر: 3]

’’ خبردار دین خالص ( خالص عبادت ) اللہ ہی کے لئے ہے، جن لوگوں نے اللہ کے علاوہ دوسروں کو کارساز بنا لیا ہے ( وہ کہتے ہیں ) ہم ان کی بندگی نہیں کرتے مگر اس لئے کہ وہ ہمیں اللہ کے قریب کردیں ۔ ۔ ‘‘

واضح ہوا کہ اللہ کے علاوہ جن جن کی یہ بندگی کرتے تھے وہ محض اس لئے تھی کہ وہ انہیں اللہ کے قریب کردیں ، ہماری دعائیں اللہ تک پہنچا دیں جیسا کہ سورہ یونس کی آیت نمبر 18 میں ان کا عقیدہ بیان کیا گیا اور اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے اسے شرک قرار دیا۔ وہ شرک اس لئے کہ لِلَّهِ ٱلدِّينُ ٱلۡخَالِصُۚ دین خالص صرف اللہ کےلئے ہے، عبادت صرف اللہ کے لئےہے کسی اور کے لئےنہیں۔ جب کسی دوسرے سے دعا کی جائے یا دوسرے کے واسطے اور وسیلے سے دعا کی جائے تو یہ عبادت میں شرک ہو جائے گا اور یوں شرک فی الحقوق اللہ ہوگا۔مشرکانہ دور کا یہ مشرکانہ عقیدہ اس امت میں بھی آ گیا اور اللہ تعالیٰ کو دعاؤں میں واسطے اور وسیلے دئیے جانے لگے۔

اس میں سوچنے کی بات یہ ہے کہ

1) کیا اللہ تعالیٰ کچھ دیر کے لئے سو جاتا ہے ، کیا اللہ تعالیٰ براہ رست نہیں سن سکتا ؟کہ کوئی دوسرا سن کر اللہ تعالیٰ کو بعد میں بتائے( نعوذوباللہ )۔

2) کیا فوت شدہ افراد یا کوئی پیر ایسا بھی ہے کہ جس کی بات اللہ تعالیٰ نہیں ٹال سکتا ؟

3) کیا فوت شدہ انسان اسقدر طاقت ور ہیں کہ دنیا میں ہر ایک پکارنے والے کی پکار سن لیتے ہیں ؟

قرآنی دلائل بتاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ براہ راست سنتا ہے بلکہ اللہ تعالیٰ انسان کو اسی کا بات کا حکم دیتا ہے :

﴿وَقَالَ رَبُّكُمُ ٱدۡعُونِيٓ أَسۡتَجِبۡ لَكُمۡۚ إِنَّ ٱلَّذِينَ يَسۡتَكۡبِرُونَ عَنۡ عِبَادَتِي سَيَدۡخُلُونَ جَهَنَّمَ دَاخِرِينَ﴾ [المومن: 60]

’’ اور تمہارا رب فرماتا ہے کہ مجھے پکارو میں تمہاری دعائیں قبول کروں گا ، بے شک جو لوگ تکبر کرتے ہیں میری عبادت سے، عنقریب ذلیل ہو کر جہنم میں داخل ہوں گے ‘‘۔

﴿وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌۖ أُجِيبُ دَعۡوَةَ ٱلدَّاعِ إِذَا دَعَانِۖ فَلۡيَسۡتَجِيبُواْ لِي وَلۡيُؤۡمِنُواْ بِي لَعَلَّهُمۡ يَرۡشُدُونَ١٨٦﴾ [البقرة: 186]

’اور (اے نبی!) جب میرے بندے تم سے میرے بارے میں پوچھیں تو تم انہیں بتا دو کہ میں قریب ہی ہوں، پکارنے والا جب مجھے پکارتا ہے تو میں اس کی پکار سن کر قبول کرتا ہوں، تو انہیں چاہئے کہ میرا حکم مانیں، اور مجھ پر ہی ایمان رکھیں تاکہ راہ ہدایت پائیں‘ ‘۔

اللہ تعالیٰ نے تو براہ راست دعا کرنے کا حکم فرمایا ہے کہ براہ راست مجھے پکارو اور فرمایا جب میرا بندہ مجھے پکارتا ہے تو اسی وقت میں اس کی پکار سن کر قبول فرما لیتا ہوں ، تو پھر کسی کے وسیلےسے دعائیں کیوں ؟ یہاں لوگوں کو گمراہ کیا جاتا ہے کہ جب کسی آفیسر کے پاس جانا ہوتا ہے تو پہلے چپراسی کے پاس جاتے ہو، پھر وہ تمہاری درخواست لیکر جاتا ہے پھر آفیسر سے ملاقات ہوتی ہے۔ اسی طرح پہلے ان فوت شدہ کی خوشنودی حاصل کرو یہ تمہاری التجائیں اللہ تک پہنچادیں گے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :

﴿فَلَا تَضۡرِبُواْ لِلَّهِ ٱلۡأَمۡثَالَۚ إِنَّ ٱللَّهَ يَعۡلَمُ وَأَنتُمۡ لَا تَعۡلَمُونَ﴾

[النحل: 74]

’’ پس اللہ کے لئے مثالیں نہ بیان کرو ، اللہ جاننے والا ہے اور تم نہیں جانتے ‘‘۔

بتا گیا کہ انسانوں والی مثالیں اللہ کے لئے نہیں بیان کرو، انسان تو ایک کمرے میں رہ کر دوسرے کمرے کا حال نہیں جانتا لیکن تمہارا رب تو کائنات کے چپے چپے سے واقف ہے۔

﴿أَلَآ إِنَّهُمۡ يَثۡنُونَ صُدُورَهُمۡ لِيَسۡتَخۡفُواْ مِنۡهُۚ أَلَا حِينَ يَسۡتَغۡشُونَ ثِيَابَهُمۡ يَعۡلَمُ مَا يُسِرُّونَ وَمَا يُعۡلِنُونَۚ إِنَّهُۥ عَلِيمُۢ بِذَاتِ ٱلصُّدُورِ﴾

[هود: 5]

’’ آگاہ رہو کہ یہ اپنےسینوں کو موڑ لیتے ہیں تاکہ اللہ سے چھپے رہیں اور جب یہ اپنے آپ کو کپڑوں سے ڈھانکتے ہیں ، وہ جانتا ہے جو وہ چھپاتا ہے اور جو وہ ظاہر کرتے ہیں، بے شک وہ خوب جاننے والا ہے سینوں کی باتوں کو‘‘۔

﴿وَلَقَدۡ خَلَقۡنَا ٱلۡإِنسَٰنَ وَنَعۡلَمُ مَا تُوَسۡوِسُ بِهِۦ نَفۡسُهُۥۖ وَنَحۡنُ أَقۡرَبُ إِلَيۡهِ مِنۡ حَبۡلِ ٱلۡوَرِيدِ﴾

[ق: 16]

’’ اور ہم نے انسان کو بنایا ہے اور ہم جانتے ہیں اس کے دل میں کیا وسوسے اٹھتے ہیں اور ہم اس کی شہہ رگ سے زیادہ قریب ہیں‘‘۔

﴿أَلَمۡ تَرَ أَنَّ ٱللَّهَ يَعۡلَمُ مَا فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَمَا فِي ٱلۡأَرۡضِۖ مَا يَكُونُ مِن نَّجۡوَىٰ ثَلَٰثَةٍ إِلَّا هُوَ رَابِعُهُمۡ وَلَا خَمۡسَةٍ إِلَّا هُوَ سَادِسُهُمۡ وَلَآ أَدۡنَىٰ مِن ذَٰلِكَ وَلَآ أَكۡثَرَ إِلَّا هُوَ مَعَهُمۡ أَيۡنَ مَا كَانُواْۖ ثُمَّ يُنَبِّئُهُم بِمَا عَمِلُواْ يَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِۚ إِنَّ ٱللَّهَ بِكُلِّ شَيۡءٍ عَلِيمٌ٧﴾ [المجادلة: 7]

’’ کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ جاننے والا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور زمین میں، نہیں ہوتی کوئی سرگوشی تین ( افراد ) کی لیکن چوتھا وہ ہوتا ہے، نہ پانچ کی لیکن چھٹا وہ ہوتا ہے، نہ اس سے کم اور نہ اس سے زیادہ جہاں کہیں بھی وہ ہوں مگر وہ ان کے ساتھ ہوتا ہے ، پھر جو کچھ بھی انہوں نےکیا وہ قیامت کے دن انہیں بتا دے گا، بے شک وہ ہر چیز سے باخبر ہے‘‘۔

﴿۞وَعِندَهُۥ مَفَاتِحُ ٱلۡغَيۡبِ لَا يَعۡلَمُهَآ إِلَّا هُوَۚ وَيَعۡلَمُ مَا فِي ٱلۡبَرِّ وَٱلۡبَحۡرِۚ وَمَا تَسۡقُطُ مِن وَرَقَةٍ إِلَّا يَعۡلَمُهَا وَلَا حَبَّةٖ فِي ظُلُمَٰتِ ٱلۡأَرۡضِ وَلَا رَطۡبٖ وَلَا يَابِسٍ إِلَّا فِي كِتَٰبٖ مُّبِينٖ﴾

[الأنعام: 59]

’’اور اس ( اللہ ) ہی کے پاس ہیں غیب کی کنجیاں، کوئی نہیں جانتا سوائے اس کے، وہ جانتا ہے ہے جو کچھ خشکی میں ہے اور جو تری میں ہے، اور نہیں گرتا پتوں میں سےکوئی مگر اس کے علم میں ہوتا ہے اور نہیں ہے کوئی دانہ زمین کے ان اندھیروں میں مگر وہ کھلی کتاب میں موجود ہے ‘‘۔

کیا اتنے عظیم رب کے لئے کسی ایسے وسیلےکی ضرورت ہے کہ وہ اس تک ہماری بات پہنچائے ؟

کیا ( نعوذوباللہ ) اللہ تعالیٰ کچھ دیر کے لئے سو جاتا ہے کہ کوئی دوسرا سن کر اللہ تعالیٰ کو بعد میں بتائے۔

آیت الکرسی میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :

﴿ٱللَّهُ لَآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ ٱلۡحَيُّ ٱلۡقَيُّومُۚ لَا تَأۡخُذُهُۥ سِنَةٞ وَلَا نَوۡمٞۚ لَّهُۥ مَا فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَمَا فِي ٱلۡأَرۡضِۗ مَن ذَا ٱلَّذِي يَشۡفَعُ عِندَهُۥٓ إِلَّا بِإِذۡنِهِۦۚ يَعۡلَمُ مَا بَيۡنَ أَيۡدِيهِمۡ وَمَا خَلۡفَهُمۡۖ وَلَا يُحِيطُونَ بِشَيۡءٖ مِّنۡ عِلۡمِهِۦٓ إِلَّا بِمَا شَآءَۚ وَسِعَ كُرۡسِيُّهُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضَۖ وَلَا يَ‍ُٔودُهُۥ حِفۡظُهُمَاۚ وَهُوَ ٱلۡعَلِيُّ ٱلۡعَظِيمُ﴾

[البقرة: 255]

’’اللہ (ہی معبود) ہے اسکے سوا کوئی الٰہ نہیں، وہ زندہ اور قائم رکھنے والا ہے ،اسے نہ اونگھ آتی ہے اور نہ نیند۔ اسی کے لیے ہے جو آسمانوں اور زمین میں ہے،کون ہے جو بغیر اس کی اجازت کے سفارش کر سکے، جو کچھ انکے آگے اور پیچھے ہے وہ سب جانتا ہے ، اور لوگ اسکے علم میں سے کسی چیز کا احاطہ نہیں کر سکتے مگر جتنا وہ چاہے۔اس کی کرسی زمین و آسماں پر چھائی ہوئی ہے، اور ان کی نگرانی اس کو تھکاتی نہیں، وہ اعلیٰ مرتبہ اور عظیم ہے‘‘۔

اب بتائیں اللہ کے علاوہ اس کائنات میں کون ایسا ہے جو کسی بھی لمحے نہ کہیں جاتا ہے، نہ سوتا ہے اور نہ اسے نیند آتی ہے۔ کائنات کی ہر ہر لمحے کی خبر اسے ہے ، ہر ہر مخلوق کا حال اسے معلوم ہے۔ کون بھوکا ہے، کون بیمار ہے، کسے کس چیز کی حاجت ہے اسے ہر چیز کا علم ہے ۔ اس کے مقابلے میں جن انسانوں کو اس کا وسیلہ بنانے کا کہا جا رہا ہے تو وہ تو اپنی زندگی میں دیوار کے پار کی چیز نہیں دیکھ سکتے تھے، دور کی آواز نہیں سن سکتے تھے اور اب تو وہ مر چکے ہیں۔ قرآن و حدیث کے بیان کے مطابق ان کا جسم سڑگل گیا ہوگا۔ نہ ان کے کان ہیں کہ وہ اس سے سنیں اورنہ آنکھیں کہ اس سے دیکھیں اور نہ ہی ان کے اختیار میں کوئی چیز ہے اور نہ وہ کسی چیز کے مالک ہیں۔

یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اللہ ہماری نہیں سنتا اور ان ( بزرگوں ) کی ٹالتا نہیں۔ قرآن میں اللہ نے بتا دیا کہ جب پکارنے والا مجھے پکارتا ہے اسی وقت سنتا اور قبول فرماتا ہوں۔ پھر یہ بھی سامنے آ گیا کہ اللہ ہر چیز سے باخبر ہے اور جنہیں انسان اس کا وسیلہ بنانے کا کہتے ہیں وہ تو مردہ ہیں جو نہ سن سکتے ہیں، نہ جان سکتے ہیں انہیں تو خود اپنے حال کا بھی علم نہیں اور نہ یہ شعور ہے کہ کب زندہ کرکے اٹھائے جائیں گے۔ اب آخری بات کہ کیا کائنات میں کوئی ایسا بھی ہے جو اللہ کےسامنے مچل جائے اور اپنے بات منوا لے۔ مالک کائنات فرماتا ہے :

﴿۔ ۔ ۔ ۔ وَمَا كَانَ ٱللَّهُ لِيُعۡجِزَهُۥ مِن شَيۡءٖ فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَلَا فِي ٱلۡأَرۡضِۚ إِنَّهُۥ كَانَ عَلِيمٗا قَدِيرٗا﴾

[فاطر: 44]

’’ اور اللہ کو تو آسمانوں کی یا زمین کی کوئی چیز بھی عاجز نہیں کرسکتی۔ بلاشبہ وہ سب کچھ جاننے والا اور قدرت والا ہے ‘‘۔

واضح ہو گیا کہ کائنات میں کوئی ایسی چیز نہیں کہ وہ مچل کر اللہ کو عاجز کردے اور اللہ اس کی بات ماننےپر مجبور ہو جائے، یہ سب جھوٹ ہے۔ بھلا کیا مقابلہ خالق و مخلوق کا، ایک رزق دینے والا اور دوسرے رزق لینے والےہیں ، ایک جس نے ساری کائنات کو بنایاہے اور ایک وہ جس نے ایک درخت کا ایک پتہ بھی نہ بنایا ۔ سفارش تو ہمیشہ کم اختیار والا زیادہ اختیار والے کو کرتا ہے،

زیادہ علم والا کم علم والے کو سفارش کرتا ہے۔ جب کائنات میں اللہ کے علاوہ کوئی دوسرا ذرہ برابر اختیار ہی نہیں رکھتا تو وہ سفارش کیسے کرے گا۔ اسی طرح کسی کا علم اللہ سے بڑھ کر ہے ہی نہیں کہ جسکی وہ اللہ کو خبر دے سکے۔ بھلا جو ایک ایک لمحے اللہ کا محتاج ہو اور اب مر بھی چکا ہوتو وہ اللہ کے سامنے مچل اور ضد کرسکتا ہے ؟ ( کبھی بھی نہیں )

ان سارے دلائل سے ثابت ہوا کہ عبادت یعنی دعا براہ راست اللہ تعالیٰ سے کرنی چاہئیے یہی اس کا حق ہے جب انسان اس میں کوئی وسیلہ بناتا ہے تو اللہ تعالیٰ نے سورہ یونس آیت نمبر 18 میں اس فعل کو شرک قرار دیا۔

اللہ تعالیٰ کے ناموں کا وسیلہ :

اللہ تعالیٰ نے قرآن میں دعا کرنے کا طریقہ بتایا :

﴿وَلِلَّهِ ٱلۡأَسۡمَآءُ ٱلۡحُسۡنَىٰ فَٱدۡعُوهُ بِهَا﴾

[الأعراف: 180]

’’ اور اللہ کے بہترین نام ہیں، ان کے ذریعے اس سے دعا کرو ‘‘

﴿قُلِ ٱدۡعُواْ ٱللَّهَ أَوِ ٱدۡعُواْ ٱلرَّحۡمَٰنَۖ أَيّٗا مَّا تَدۡعُواْ فَلَهُ ٱلۡأَسۡمَآءُ ٱلۡحُسۡنَىٰۚ۔ ۔ ۔ ﴾

[الإسراء: 110]

‘‘ ( اے نبی ﷺ ) کہدیں: تم پکارو اللہ کو یا پکارو رحمٰن کو، کسی بھی نام سے تم پکارو ( یہ ) سب اللہ کے بہترین نام ہیں ‘‘۔

معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کو دعا میں اس کے بہترین ناموں کا واسطہ یا وسیلہ دیا جا سکتا ہے۔ دعا کریں ’’ یا رحمٰن ‘‘ اے رحم فرمانے والے مجھے پر رحم فرما۔ ’’یا رزاق ‘‘ اے بہترین رزق دینے والے مجھے اچھےسے اچھا رزق عطا فرما ۔

زندہ شخص کا وسیلہ بنانا :

احایث سے وسیلہ کے کچھ معاملات ثابت ہوتے ہیں کہ جیسے صحابہ ؓ نبی ﷺ سےدعا کی درخواست کرتے تھے۔ لیکن جب نبی ﷺ کی وفات ہوگئی تو انہوں نے نبی ﷺ کے وسیلے سے دعا نہیں کی بلکہ نبی ﷺ کے چچا عباس ؓ سے (نبی ﷺ کی نگاہ میں جو ان کا مقام تھا اس وجہ سے ) کرائی۔

عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الخَطَّابِ، كَانَ إِذَا قَحَطُوا اسْتَسْقَى بِالعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ المُطَّلِبِ فَقَالَ: «اللَّهُمَّ إِنَّا كُنَّا نَتَوَسَّلُ إِلَيْكَ بِنَبِيِّنَا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَسْقِينَا، وَإِنَّا نَتَوَسَّلُ إِلَيْكَ بِعَمِّ نَبِيِّنَا فَاسْقِنَا» قَالَ: فَيُسْقَوْنَ

( بخاری، كتاب أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم، بَابُ ذِكْرِ العَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ المُطَّلِبِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ )

’’انس بن مالک ؓ روایت کرتے ہیں کہ جب لوگ قحط میں مبتلا ہوتے تو عمر بن خطابؓ، عباس ؓ بن عبدالمطلب کے وسیلہ سے دعا کرتے اور فرماتے کہ اے اللہ ہم تیرے پاس تیرے نبی ﷺ کا وسیلہ لے کر آیا کرتے تھے تو ،تو ہمیں سیراب کرتا تھا اب ہم لوگ اپنے نبی کے چچاعباس ؓ کا وسیلہ لے کر آئے ہیں ہمیں سیراب کر، راوی کا بیان ہے کہ لوگ سیراب کئے جاتے یعنی بارش ہوجاتی ‘‘۔

اس موقع پر عباس ؓ نے الفاظ کہے وہ اس طرح سے تھے :

أَنَّ الْعَبَّاسَ لَمَّا اسْتَسْقَى بِهِ عُمَرُ قَالَ اللَّهُمَّ إِنَّهُ لَمْ يَنْزِلْ بَلَاءٌ إِلَّا بِذَنْبٍ وَلَمْ يُكْشَفْ إِلَّا بِتَوْبَةٍ وَقَدْ تَوَجَّهَ الْقَوْمُ بِي إِلَيْكَ لِمَكَانِي مِنْ نَبِيِّكَ وَهَذِهِ أَيْدِينَا إِلَيْكَ بِالذُّنُوبِ وَنَوَاصِينَا إِلَيْكَ بِالتَّوْبَةِ فَاسْقِنَا الْغَيْثَ فَأَرْخَتِ السَّمَاءُ مِثْلَ الْجِبَالِ حَتَّى أَخْصَبَتِ الْأَرْضَ وَعَاشَ النَّاسُ

( الكتاب: فتح الباري شرح صحيح البخاري ۔المؤلف: أحمد بن علي بن حجر ، جزء 2، صفحہ 497 )

’’ جب عمر رضی اللہ نے عباس رضی اللہ عنہ سے بارش کے لئے دعا کروائی تو انہوں نے کہا: اے اللہ نہیں نازل ہوتی کوئی بلاء مگر گناہ کے سبب اور نہیں دور ہوتی مگر توبہ سے ۔ میری اس قوم نے تیرے نبی ﷺکے نزدیک میرے مقام کی وجہ سے میری توجہ تیری طرف کی ہے اور ہمارے یہ گناہ آلود ہاتھ تیری طرف توبہ کے لئے اکھٹے ہوئے ہیں ، پس ہم پر بارش برسا۔ پس آسمان سے پانی پہاڑ کی طرح کثرت سے برسا یہاں تک کہ زمین زرخیز ہو گئی اور لوگ جی اٹھے‘‘۔

معلوم ہوا کہ کسی زندہ شخص سے دعا کرنا بھی وسیلہ کہلاتا ہے جو کہ جائز وسیلہ ہے،یعنی کسی مومن متقی شخص سے دعا کی درخواست کی جائے اور وہ اللہ سے اس کے لئے دعا کرے۔ انس ؓ بیان کرتے ہیں :

عن أنس بن مالك، قال: كنت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم جالسا في الحلقة، ورجل قائم يصلي، فلما ركع وسجد فتشهد، ثم قال في دعائه: اللهم إني أسألك بأن لك الحمد، لا إله إلا أنت المنان، يا بديع السماوات والأرض، يا ذا الجلال والإكرام، يا حي يا قيوم، إني أسألك، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: ” أتدرون بما دعا الله؟ ” قال: فقالوا: الله ورسوله أعلم، قال: ” والذي نفسي بيده، لقد دعا الله باسمه الأعظم، الذي إذا دعي به أجاب، وإذا سئل به أعطى “

( مسند احمدِ ، مسند المكثرين من الصحابة، مسند أنس بن مالك ؓ )

’’انسؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی ﷺ کے ساتھ حلقے میں بیٹھا ہوا تھا اور ایک آدمی کھڑا صلواۃ ادا کر رہا تھا، رکوع و سجود کے بعد جب وہ بیٹھا تو تشہد میں اس نے یہ دعا پڑھی (اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِأَنَّ لَكَ الْحَمْدَ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ الْحَنَّانُ بَدِيعَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ يَا حَيُّ يَا قَيُّومُ إِنِّي أَسْأَلُكَ ) ” اے اللہ ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کیونکہ تمام تعریفیں تیرے لئے ہی ہیں، تیرے علاوہ کوئی معبود نہیں، نہایت احسان کرنے والا ہے، آسمان و زمین کو بغیر نمونے کے پیدا کرنے والا

ہے اور بڑے جلال اور عزت والا ہے۔ اے زندگی دینے والے اے قائم رکھنے والے ! میں تجھ سے ہی سوال کرتا ہوں “۔ نبی ﷺنے فرمایا تم جانتے ہو کہ اس نے کیا دعاء کی ہے ؟ صحابہ ؓ نے عرض کیا اللہ اور اس کے رسول ﷺہی زیادہ جانتے ہیں۔ نبی ﷺ نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے اس نے اللہ سے اس کے اس اسم اعظم کے ذریعے دعاء مانگی ہے کہ جب اس کے ذریعے سے دعاء مانگی جائے تو اللہ اسے ضرور قبول کرتا ہے اور جب اس کے ذریعے سوال کیا جائے تو وہ ضرور عطاء کرتا ہے ‘‘۔

اپنے اعمال کا وسیلہ :

عبد اللہ بن عمر ؓ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے سابقہ دور کے چند افراد کے بارے میں ایک حدیث بیان کی :

عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ خَرَجَ ثَلَاثَةُ نَفَرٍ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ قَالَ فَقُلْتُ مَا أَسْتَهْزِئُ بِکَ وَلَکِنَّهَا لَکَ اللَّهُمَّ إِنْ کُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي فَعَلْتُ ذَلِکَ ابْتِغَائَ وَجْهِکَ فَافْرُجْ عَنَّا فَکُشِفَ عَنْهُمْ

( بخاری ، کتاب البیوع، بَابُ إِذَا اشْتَرَى شَيْئًا لِغَيْرِهِ بِغَيْرِ إِذْنِهِ فَرَضِيَ )

’’ ابن عمر ؓ نبی ﷺسے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا کہ تین آدمی جا رہے تھے تو بارش ہونے لگی وہ تینوں پہاڑ کی ایک غار میں داخل ہوگئے ایک چٹان اوپر سے گری اور غار کا منہ بند ہوگیا ایک نے دوسرے سے کہا کہ اللہ سے کسی ایسے اچھے عمل کا واسطہ دے کر دعا کرو جو تم نے کیا ہو ان میں سے ایک نے کہا اے میرے اللہ میرے ماں باپ بہت بوڑھے تھے چناچہ میں باہر جاتا اور جانور چراتا تھا پھر واپس آکر دودھ دوھ کر اپنے ماں باپ کے پاس لاتا جب وہ پی لیتے تو میں بیوی بچوں اور گھر والوں کو پلاتا ایک رات مجھے دیر ہوگئی میں آیا تو دونوں سو گئے تھے مجھے نا گوار ہوا کہ میں انہیں جگاؤں اور بچے میرے پاؤں کے پاس بھوک کے مارے رو رہے تھے طلوع فجر تک میری حالت یہی رہی اے اللہ اگر تو یہ جانتا ہے کہ میں نے صرف تیری رضا مندی کے لئے کیا ہے تو پتھر مجھ سے کچھ ہٹا دے تاکہ ہم آسمان تو دیکھ سکیں پتھر کچھ ہٹ گیا پھر دوسرے آدمی نے کہا اے اللہ میں اپنی ایک چچا زاد بہن سے بےانتہا محبت کرتا تھا جس قدر ایک مرد عورتوں سے محبت کرتا ہے لیکن اس نے کہا تم اپنا مقصد مجھ سے حاصل نہیں کرسکتے جب تک کہ تم سو دینار نہ دے دو چناچہ میں نے محنت کر کے سو دینار جمع کئے جب میں اس کی دونوں ٹانگوں کے درمیان بیٹھا تو اس نے کہا اللہ سے ڈر مہر ناجائز طور پر نہ توڑ میں کھڑا ہوگیا اور اسے چھوڑ دیا اے اللہ اگر تو جانتا ہے کہ میں نے صرف تیری رضا کے لئے ایسا کیا تو اس پتھر کو کچھ ہٹا دے وہ پتھر دو تہائی ہٹ گیا پھر تیسرے آدمی نے کہا یا اللہ میں نے ایک مزدور ایک فرق جوار کے عوض کام پر لگایا جب میں اسے دینے لگا تو اس نے لینے سے انکار کردیا میں نے اس جوار کو کھیت میں بودیا یہاں تک کہ میں نے اس سے گائے بیل اور چرواہا خریدا پھر وہ شخص آیا اور کہا اے اللہ کے بندے تو مجھے میرا حق دیدے میں نے کہا ان گایوں بیلوں اور چرواہے کے پاس جا اور انہیں لے لے یہ تیرے ہیں اس نے کہا کیا تم مذاق کرتے ہو میں نے اس سے کہا میں تجھ سے مذاق نہیں کر رہا وہ تیرے ہی ہیں اے میرے اللہ اگر تو جانتا ہے کہ میں نے صرف تیری خوشنودی کے لئے ایسا کیا تو یہ پتھر ہم سے ہٹا دے چناچہ وہ پتھر ان سے ہٹ گیا‘‘۔

اس سے معلوم ہوا کہ انسان اپنے ذاتی اعمال کا وسیلہ بھی دے سکتا ہے کہ اے مالک میں میرےیہ اعمال صرف تیری رضا کے لئے تھے ، مالک انہیں قبول فرما اور ان کی وجہ سے مجھے اس تکلیف سے نکال دے۔

اس بارے میں فرقہ پرستوں کی مغالطہ آ رائیاں :

اس بارے میں فرقہ پرستوں نے امت میں غلط اور مشرکانہ عقائد داخل کردئیے ہیں۔ سب سے پہلے تو قرآن مجید کی ایک آیت پیش کرکے اس سے مردوں کو وسیلہ بنانے کا عقیدہ دیا جاتا ہے لہذا سب سے پہلے اس کو سمجھیں ۔

﴿يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ ٱتَّقُواْ ٱللَّهَ وَٱبۡتَغُوٓاْ إِلَيۡهِ ٱلۡوَسِيلَةَ وَجَٰهِدُواْ فِي سَبِيلِهِۦ لَعَلَّكُمۡ تُفۡلِحُونَ﴾ [المائدة: 35]

’’اے ایمان والو ! اللہ سے ڈرو اور اس کی قربت کا ذریعہ تلاش کرو ، اور جہاد ( جدوجہد ) کرو اس کی راہ میں تاکہ فلاح پا جاؤ‘‘۔

فرقہ پرست یہاں لوگوں کو دھوکہ دیتے ہیں اور عربی لفظ ’’ وسیلہ ‘‘ کا اردو ترجمہ نہیں کرتے اس سے لوگ دھوکہ کھا جاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے خود اللہ کی طرف’’ وسیلہ‘‘ بمعنی’’ ذریعہ‘‘ پکڑنے کا حکم دیا ہے۔عربی لفظ ’’ وسیلہ ‘‘ کے معنی ہیں ’’ قربت ‘‘ یعنی اے ایمان والو ! اللہ سے ڈرو اور اس کی قربت کا ذریعہ تلاش کرو۔ مزید اسی آیت میں اللہ کی قربت کا ذریعہ بھی بتا دیا گیا کہ وَجَٰهِدُواْ فِي سَبِيلِهِۦ اللہ کی راہ میں جدوجہد کرو۔ یعنی اپنی جان، اپنا مال ، وقت ، جسم اللہ کی راہ میں لگاؤ۔ اللہ تعالیٰ نے تمہیں ایمان سے نوازا ہے تو تم اپنی زندگیوں کو اللہ کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق ڈھال لو۔ اب اس کی تبلیغ کے لئے نکلو اور پھر شاید جہاد بالسیف کا بھی وقت آ جائے تو اللہ کی راہ میں کافروں اور مشرکوں کو قتل کرو یا اپنی جان اللہ کی راہ میں لٹا دو۔

حدیث میں وسیلہ کا بیان ملتا ہے اور فرقہ پرست اپنے مقلدین کو گمراہ کرتے ہیں کہ خود نبی ﷺ نے وسیلے کی دعا سکھائی ہے۔ حدیث میں آتا ہے :

عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ” مَنْ قَالَ حِينَ يَسْمَعُ النِّدَاءَ: اللَّهُمَّ رَبَّ هَذِهِ الدَّعْوَةِ التَّامَّةِ، وَالصَّلاَةِ القَائِمَةِ آتِ مُحَمَّدًا الوَسِيلَةَ وَالفَضِيلَةَ، وَابْعَثْهُ مَقَامًا مَحْمُودًا الَّذِي وَعَدْتَهُ، حَلَّتْ لَهُ شَفَاعَتِي يَوْمَ القِيَامَةِ “

(بخاری كِتَابُ الأَذَانِ بَابُ الدُّعَاءِ عِنْدَ النِّدَاءِ)

’’جابر بن عبداللہ﷜ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :”جو شخص اذان سنتے وقت یہ دعا پڑھے ( اللَّهُمَّ رَبَّ هَذِهِ الدَّعْوَةِ التَّامَّةِ، وَالصَّلاَةِ القَائِمَةِ آتِ مُحَمَّدًا الوَسِيلَةَ وَالفَضِيلَةَ، وَابْعَثْهُ مَقَامًا مَحْمُودًا الَّذِي وَعَدْتَهُ ) تو اس کے لئےقیامت کے دن میری شفاعت حلال ہو گی”۔

عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِذَا سَمِعْتُمُ الْمُؤَذِّنَ، فَقُولُوا مِثْلَ مَا يَقُولُ ثُمَّ صَلُّوا عَلَيَّ، فَإِنَّهُ مَنْ صَلَّى عَلَيَّ صَلَاةً صَلَّى الله عَلَيْهِ بِهَا عَشْرًا، ثُمَّ سَلُوا اللهَ لِيَ الْوَسِيلَةَ، فَإِنَّهَا مَنْزِلَةٌ فِي الْجَنَّةِ، لَا تَنْبَغِي إِلَّا لِعَبْدٍ مِنْ عِبَادِ اللهِ، وَأَرْجُو أَنْ أَكُونَ أَنَا هُوَ، فَمَنْ سَأَلَ لِي الْوَسِيلَةَ حَلَّتْ لَهُ الشَّفَاعَةُ»

(مسلم كِتَابُ الصَّلَاةِ بَابُ الْقَوْلِ مِثْلَ قَوْلِ الْمُؤَذِّنِ لِمَنْ سَمِعَهُ، ثُمَّ يُصَلِّي عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ يَسْأَلُ لهُ الْوَسِيلَةَ)

“عبد اللہ بن عمرو بن العاص ؓ سے مروی ہے کہ انہوں نے سنا نبی ﷺ کو کہتے ہوئے : جب تم مؤذن سے سنو توکہو جیسے مؤذن کہتا ہے پھر میرے لئے رحمت کی دعا کرو ( درود )،جو شخص مجھ پر ایک مرتبہ درود بھیجے گا’ اﷲاس پر دس بار درود بھیجے گا۔ پھر میرے لیے اﷲ سے وسیلہ مانگو کیونکہ وسیلہ جنت میں ایک مقام ہے جو بندگان اﷲ میں سے کسی ایک بندہ کیلئے بنایاگیا ہے اور مجھے امید ہے کہ وہ بندہ میں ہوں ۔لہٰذا جو شخص میرے لئے وسیلہ کا سوال کرے گا اس کیلئے میری شفاعت حلال ہوگئی” ۔

واضح ہوا کہ ’’ وسیلہ ‘‘ جنت الفردوس میں ایک اعلیٰ مقام ہے اور نبی ﷺ نے فرمایا کہ مؤذن جو الفاظ کہتا ہے تم بھی وہی کہو، پھر میرے لئے رحمت کی دعا ( درود ) کرو، اور پھر میرے لئے وسیلے کی دعا کرو، یعنی جودعا نبی ﷺ نے سکھائی ہے وہ کرو۔

فرقہ پرست اس بارے میں کافی ضعیف  اس بارے میں ایک روایت بیان کی جاتی ہے کہ آدم علیہ السلام نے محمد ﷺ کے وسیلے سے دعا مانگی۔ اس روایت کی سندی حیثیت تو اوپر دئیے گئے لنک میں موجود ہے یہاں ہم اس کے متن پر بات کرتے ہیں۔

نبی ﷺ کو دعا میں وسیلہ بنانا

دیوبندی تبلیغی جماعت کی فضائل اعمال میں ایک روایت درج کی گئی ہے کہ آدم علیہ السلام نے نبیﷺ کے وسیلے سے دعا مانگی تو اللہ نے اسے قبول فرمایا اور انہیں معاف فرمایا۔ اس بارے میں بیان کردہ مختلف روایات کا ملخص یہ ہے :

’’آدم علیہ السلام سے جو گناہ ہوا اس کی سزا کی پاداش میں انہیں جنت سے نکال کر زمین پر بھیجا گیا۔وہ اس زمین پر روتے رہے اور اللہ تعالیٰ سے اس گناہ کی معافی مانگتے رہے، آخر کار جب نبیﷺ کے وسیلے دعا مانگی تو اللہ تعالیٰ نے انہیں معاف کردیا‘‘۔

بقول ان لوگوں کے آدم علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی اس کے الفاظ یہ تھے :

’’میں محمدؐ کے وسیلہ سے تجھ سے مغفرت کا خواستگار ہوں ۔ اللہ تعالیٰ نے پوچھا: اے آدم ؑ! تم محمدﷺ کے متعلق کیسے جانتے ہو، حالانکہ میں نے تو اسے ابھی پیدا ہی نہیں کیا؟ عرض کیا: اے اللہ! جب تو نے مجھے اپنے ہاتھ سے پیدا کیا اور مجھ میں روح پھونکی تو میں نے اپنا سراُٹھایا اور عرش کے پایوں پر لکھا ہوا دیکھا تھا: لا إلہ إلا اﷲ محمد رسول اﷲ تو میں سمجھ گیا کہ جس کو تو نے اپنے نام کے ساتھ ملا رکھا ہے، کائنات میں اس سے برتر کوئی نہیں ہوسکتا تو اللہ نے فرمایا: میں نے تجھے معاف کردیا اور اگر محمدؐ نہ ہوتے تو میں تجھے اور نہ کائنات پیدا ہی نہ کرتا۔‘‘

ان کے اس بیان سے ثابت ہوا:

آدم علیہ السلام اور بی بی حوا کو سزا کی بنأ پر زمین پر بھیجا گیا۔

· انہوں نے اپنے الفاظ میں اللہ تعالیٰ سے دعا کی تو انہیں زمین پر معاف کردیا گیا۔

یہ عقیدہ سراسر قرآن کے خلاف ہے کیونکہ قرآن سے واضح ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں سزا کے طور پر زمین پر نہیں بھیجا بلکہ زمین پر بھیجنے سے قبل ہی معاف کردیا تھا:

﴿فَاَكَلَا مِنْهَا فَبَدَتْ لَهُمَا سَوْاٰتُهُمَا وَطَفِقَا يَخْصِفٰنِ عَلَيْهِمَا مِنْ وَّرَقِ الْجَنَّةِ وَعَصٰٓى اٰدَمُ رَبَّهٗ فَغَوٰى ؁ ثُمَّ اجْتَبٰىهُ رَبُّهٗ فَتَابَ عَلَيْهِ وَهَدٰى ؁ قَالَ اهْبِطَا مِنْهَا جَمِيْعًۢا بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ ۚ فَاِمَّا يَاْتِيَنَّكُمْ مِّنِّيْ هُدًى ڏ فَمَنِ اتَّبَعَ هُدَايَ فَلَا يَضِلُّ وَلَا يَشْقٰي﴾

[طه: 121-123]

 

 

’’ چنانچہ ان دونوں نے اس درخت سے کھا لیا تو ان کے ستر عیاں ہو گئے اور وہ جنت کے پتوں کو اپنے اوپر لگانے لگے۔ آدم نے اپنے رب کی نافرمانی کی پس وہ راہ سے بہک گیا۔ پھر اس کے رب نے اسے برگزیدہ کیا ،اسے معاف کیا اور ہدایت دی۔ فرمایا: تم دونوں ( انسان اور شیطان ) یہاں سے اتر جاو ، تم ایک دوسرے کے دشمن ہو ۔ پھر جب تمہارے پاس میرے طرف سے ہدایت پہنچے ، تو جس نے اس کی پیروی کی تو وہ نہ بہکے گا اور اور نہ ہی تکلیف میں پڑے گا۔‘‘

قرآن مجید میں بیان کردیا گیا کہ آدم علیہ السلام نے معافی مانگی، اللہ تعالیٰ نے انہیں معاف کیا اور انہیں ہدایت دے کر اس زمین پر بھیجا۔ اس کے بعد اس بات کا تصور ہی نہیں رہتا کہ انہوں نے زمین پر آکر اپنی اس خطا کی دوبارہ معافی ہوگی ۔مزید دیکھیں قرآن کس واضح انداز میں بیان کرتا ہے کہ یہ معافی کس وقت مانگی گئی۔

﴿فَدَلّٰىهُمَا بِغُرُوْرٍ ۚ فَلَمَّا ذَاقَا الشَّجَرَةَ بَدَتْ لَهُمَا سَوْاٰتُهُمَا وَطَفِقَا يَخْصِفٰنِ عَلَيْهِمَا مِنْ وَّرَقِ الْجَنَّةِ ۭوَنَادٰىهُمَا رَبُّهُمَآ اَلَمْ اَنْهَكُمَا عَنْ تِلْكُمَا الشَّجَرَةِ وَاَقُلْ لَّكُمَآ اِنَّ الشَّيْطٰنَ لَكُمَا عَدُوٌّ مُّبِيْنٌ ؀ قَالَا رَبَّنَا ظَلَمْنَآ اَنْفُسَنَا ۫وَاِنْ لَّمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِيْنَ ؀ قَالَ اهْبِطُوْا بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ ۚ وَلَكُمْ فِي الْاَرْضِ مُسْتَقَرٌّ وَّمَتَاعٌ اِلٰي حِيْنٍ﴾

[الأعراف: 22-24]

’’ پھر ( شیطان ) نے ان دونوں کو دھوکے سے اپنی طرف مائل کرلیا ، پس جب انہوں نے اس درخت کو چکھا تو شرمگاہیں ایک دوسرے کے سامنے کھل گئیں اور وہ اپنے اوپر جنت کے پتے ڈھاپنے لگے، تو ان کے رب نے انہیں پکارا اور کہا کہ کہ کیا میں نے تمہیں اس درخت سے منع نہیں کیا تھا اور کہا تھا کہ یہ شیطان تمہارا کھلا دشمن ہے۔دونوں نے کہا : ’’اے ہمارے رب ہم دونوں نے اپنے اوپر ظلم کیا، اگر تو ہمیں معاف نہیں کرے گا اور ہم رحم نہیں کرے گا تو یقینا ہم زبردست نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو جائیں گے‘‘۔ ( اللہ تعالیٰ نے )کہا نکل جاؤ ، تم ( انسان و شیطان ) ایک دوسرے کے دشمن ہو، اور تمہارے لئے ایک خاص وقت تک کے لئے زمین پر ٹہرنا اور فائدہ اٹھانا ہے ۔‘‘

واضح ہوا کہ یہ معافی اسی وقت مانگی گئی تھی کہ جب یہ خطا سرزد ہوئی تھی، معافی قبول کرنے کے بعد انہیں زمین پر بھیجا گیا۔

قرآن میں مزید بیان کیا گیا:

﴿وَقُلْنَا يٰٓاٰدَمُ اسْكُنْ اَنْتَ وَزَوْجُكَ الْجَنَّةَ وَكُلَامِنْهَا رَغَدًا حَيْثُ شِـئْتُمَـا ۠ وَلَا تَـقْرَبَا ھٰذِهِ الشَّجَرَةَ فَتَكُوْنَا مِنَ الظّٰلِمِيْنَ ؀فَاَزَلَّهُمَا الشَّيْطٰنُ عَنْهَا فَاَخْرَجَهُمَا مِمَّا كَانَا فِيْهِ ۠ وَقُلْنَا اھْبِطُوْا بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ ۚ وَلَكُمْ فِى الْاَرْضِ مُسْـتَقَرٌّ وَّمَتَاعٌ اِلٰى حِيْنٍ ؀فَتَلَـقّيٰٓ اٰدَمُ مِنْ رَّبِّهٖ كَلِمٰتٍ فَتَابَ عَلَيْهِ ۭ اِنَّهٗ ھُوَ التَّوَّابُ الرَّحِيْمُ ؀قُلْنَا اھْبِطُوْا مِنْهَا جَمِيْعًا ۚ فَاِمَّا يَاْتِيَنَّكُمْ مِّـنِّىْ ھُدًى فَمَنْ تَبِعَ ھُدَاىَ فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا ھُمْ يَحْزَنُوْنَ ؀وَالَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَكَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَآ اُولٰۗىِٕكَ اَصْحٰبُ النَّارِ ۚ ھُمْ فِيْهَا خٰلِدُوْنَ ﴾

[البقرة: 35-39]

’’ اور ہم نے کہا: اے آدم تم اور تمہاری بیوی جنت میں رہو اور جہاں سے جو چاہے کھاؤ مگر اس درخت کے قریب نہ جانا ورنہ تم ظالموں میں سے ہو جاؤ گے۔ لیکن شیطان نے انہیں بہکا کر وہاں سے نکلوا دیا جہاں وہ تھے، ہم نے کہا : تم دونوں نکل جاؤ تم ایک دوسرے کے دشمن ہو اور ایک خاص مدت تک تمہارے لئے زمین پر ٹہرنا اور فائدہ اٹھانا ہے ۔ آدم نے اپنے رب سے کچھ کلمات سیکھ لیے (اور توبہ واستغفار کی ) تو اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرما لی، بے شک وہ بہت زیادہ توبہ قبول کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔ ہم نے کہا : نکل جاؤ تم سب ، پھر جب میری ہدایت تم تک پہنچے تو جس نے اس ہدایت کی پیروی کی اس کے لئے کوئی خوف نہیں اور نا ہی وہ غمزدہ ہوگا۔ اور وہ لوگ جنہوں نے ہماری آیات کا کفر کیا اور انہیں جھٹلایا تو وہ جہنمی ہیں ،جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے۔‘‘

قرآن کے فرمان سے واضح ہوا کہ آدم علیہ السلام سےخطا ہوئی اور ان دونوں نے اسی وقت اللہ سےکچھ کلمات سیکھے اور اللہ تعالیٰ سے توبہ کی ۔ توبہ کے الفاظ بھی سورہ اعراف میں بیان کردئیے گئے ہیں :

قَالَا رَبَّنَا ظَلَمْنَآ اَنْفُسَنَا ۫وَاِنْ لَّمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِيْنَ

( اعراف: 23 )

’’دونوں نے کہا اے ہمارے رب،ہم نے ظلم کیا اپنی جانوں پر اور اگر تو نے ہمیں معا ف نہ کیا اور ہم پر رحم نہ فرمایا تو ہم پر تو ضرور خسارہ پانے والوں میں سے ہو جائیں گے‘‘۔

اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کی توبہ کو قبول فرمایا ، اور پھر اپنے طے شدہ نظام کے تحت انسان اور شیطان کو زمین پر بھیج دیا اور ساتھ ہی اس بات کی بھی ہدایت کردی کہ یاد رکھنا شیطان تمہارا کھلا دشمن ہے، اب میری طرف سے ہدایات پہنچیں گی جس کسی نے ان ہدایات کی پیروی کی تو واپسی پر اس کے لئے کسی قسم کا کوئی خوف و غم نہیں ہوگا ، برخلاف اس کے اللہ کی آیات کا کفر کرنے اور انہیں جھٹلانے والا جہنمی ہے جہاں وہ ہمیشہ رہے گا۔

قرآن کی لاریب آیات سے اس قسم کی جھوٹی روایات اور اس پر ایمان بنانے والوں کے جھوٹے عقائد کی مکمل نفی ہو جاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو سزا کے طور پر زمین پر بھیجا تھا۔ بلکہ واضح انداز میں بیان ہے کہ انہیں معاف فرما کر ، ہدایات دے کر زمین پر بھیجا گیا، ساتھ ہی قرآن میں ان کی توبہ کے الفاظ بھی بیان کردئیے گئے۔

صحابہ کرام ؓ نے نبی ﷺ زندگی میں ان کے وسیلےسے دعا کی لیکن ان کی وفات کے بعد ایسا کبھی نہ ہوا۔نبی ﷺ کے وسیلے سے دعا کرنے کا مطلب یہ ہوا کہ ان کی زندگی میں ان سے دعا کی درخواست کی جاتی تھی، وہ اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے تھے، اور اللہ تعالیٰ بارش نازل فرما دیتا تھا۔ اب جب نبی ﷺ کی وفات ہو گئی تو عمر ؓ نے نبی ﷺکے چچا عباس ؓ کے ذریعے اللہ تعالیٰ سے بارش کی دعا کی۔

پیش کردہ دلائل سے یہی ثابت ہوا کہ دعا کرنا ایک عبادت ہے اور یہ صرف اللہ سے کی جائے اور اس دعا میں کسی کا واسطہ یا وسیلہ دے کر اسے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک نہ کیا جائے۔

اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی اور کی اطاعت:

﴿ٱتَّخَذُوٓاْ أَحۡبَارَهُمۡ وَرُهۡبَٰنَهُمۡ أَرۡبَابٗا مِّن دُونِ ٱللَّهِ وَٱلۡمَسِيحَ ٱبۡنَ مَرۡيَمَ وَمَآ أُمِرُوٓاْ إِلَّا لِيَعۡبُدُوٓاْ إِلَٰهٗا وَٰحِدٗاۖ لَّآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَۚ سُبۡحَٰنَهُۥ عَمَّا يُشۡرِكُونَ﴾

[التوبة: 31]

’’ انہوں نے اپنے عالموں اور پیروں کو اپنا رب بنا لیا اللہ کے سواء اور عیسیٰ ابن مریم کو بھی ، حالانکہ انہیں جوحکم دیا گیا تھا ( یہ تھا ) کہ نہیں عبادت کریں کسی کی بھی سوائے الٰہ واحد کے، کوئی نہیں ہے الٰہ سوائے اس ( اللہ ) کے، پاک ہے اس سے وہ جو شریک بناتےہیں ‘‘۔

اس آیت میں بتایا گیا کہ دین میں اللہ کے علاوہ کسی اور کا حکم ماننا اسے رب بنانا اور اس کی عبادت کرنا ہے۔ یہ حق صرف اللہ تعالیٰ کا ہے کہ حکم صرف اسی کا چلے گاْ اس کے حکم کے سامنے کسی اور کا حکم نہیں مانا جائے گا۔ اگر کوئی دین کے معاملات میں اللہ کے مقابلے میں اپنے عالموں،مولویوں، خطیبوں، مفتیوں کا حکم مانتا ہے تو گویا وہ ان کی بندگی کرتا ہے ، یعنی یہ شرک فی الحقوق ہوگیا کیونکہ بندگی ، کہنا ماننا، اطاعت کرنا یہ صرف اللہ کا حق ہے۔ سورہ النساء میں فرمایا گیا :

﴿وَمَآ أَرۡسَلۡنَا مِن رَّسُولٍ إِلَّا لِيُطَاعَ بِإِذۡنِ ٱللَّهِۚ ﴾

[النساء: 64]

’’ ہم نے جو بھی رسول بھیجا ہے، اس لئے بھیجا ہے کہ اس کی اطاعت کی جائے اللہ کے حکم سے

واضح ہوا کہ نبی ﷺ کی اطاعت بھی اللہ کے حکم سے ہے۔ نبی ﷺ تو وہی دین لیکر آئے تھے جو اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں نازل فرمایا تھا۔ نبی ﷺ کی بعثت کا مقصد ہی یہی تھا کہ وہ انسانوں کو قرآن پڑھ کر سنائیں، اللہ کے احکامات کی ان کے سامنے تشریح کریں۔ اس کے علاوہ اللہ تعالیٰ نے اولی الامر کی اطاعت کا بھی حکم دیا لیکن ان کی اطاعت صرف قرآن و حدیث کے تحت ہے۔( النساء: 59 ) انہیں دین میں کسی قسم کی کمی بیشی کا اختیار نہیں۔علماء کی ایسی اطاعت جو قرآن و حدیث کی حدود سے باہر ہو تو انہیں رب بنانا ہے جیسا کہ اوپر آیت میں بیان ہوا ہے۔ اس بارے میں ایک حدیث بھی ملتی ہے ،عدی بن حاتم ؓ فرماتے ہیں :

۔ ۔ ۔ سمعته يقرأ في سورة براءة: {اتخذوا أحبارهم ورهبانهم أربابا من دون الله} [التوبة: 31]، قال: «أما إنهم لم يكونوا يعبدونهم، ولكنهم كانوا إذا أحلوا لهم شيئا استحلوه، وإذا حرموا عليهم شيئا حرموه»

( ترمذی ، ابواب تفسیر القرآن ، باب: ومن سورة التوبة ، روایتہ حسن )

۔ ۔ ۔ میں نےنبی ﷺ کو سورہ برأت کی یہ آیات پڑھتے ہوئے سنا (اِتَّخَذُوْ ا اَحْبَارَهُمْ وَرُهْبَانَهُمْ اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ )( التوبہ : 31) (انہوں نے اپنے عالموں اورپیروں کو اللہ کے سوا اپنا رب بنالیا ہے) ۔ پھر آپ نے فرمایا کہ وہ لوگ ان کی عبادت نہیں کرتے تھے لیکن اگر وہ (علماء اور درویش) ان کے لئے کوئی چیز حلال قرار دیتے تو وہ بھی اسے حلال سمجھتے اور اسی طرح ان کی طرف سے حرام کی گئی چیز کو حرام سمجھتے‘‘۔

یہی ہے وہ شرک جو آج اس امت میں پھیلا ہوا ہے۔ کلمہ گو فرقوں میں بٹ کر صرف اپنے اپنے فرقوں کے علماء کی اطاعت کر رہے ہیں۔ کوئی اپنے عالم و مفتی سے نہیں پوچھتا کہ جو بات آپ بیان کر رہے ہیں وہ قرآن و حدیث میں کہاں ہے بس انہیں اپنا رب بنایا ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں چار جگہ ’’ غیر اللہ ‘‘ کے نام کی نذر و نیاز کو حرام قرار دیا۔ لیکن کچھ فرقوں کے علماء نے اسے کھل کر حلال قرار دیا اور ان فرقوں کے مقلد اسے ثواب کا کام سمجھ کر کھاتے ہیں۔ ایسے بھی عالم ہیں کہ جنہوں نے اللہ کی بات ’’ لغیر اللہ ‘‘ کا مذاق بنایا، کہتے ہیں کہ جو ہم ’’اللہ کے غیر‘‘ کے نام تھوڑی کھا رہے ہیں ہم تو اللہ کے’’ اپنے نبی‘‘ اور’’ اپنے ولی‘‘ کے نام کا کھا رہے ہیں۔حالانکہ ’’غیر اللہ ‘‘ سے مراد ’’اللہ کےعلاوہ‘‘ ہے۔کہیں کسی مولوی نے فلسفہ چھاڑا کہ اگر کوئی چیز اللہ کے علاوہ کسی اور نام کی کردی گئی تو وہ کیسے حرام ہوگئی۔ کہتے ہیں کیا ’’ یوسف کی گائے ‘‘ حرام ہوگئی ؟ الغرض کہ انہوں نے اللہ کے حکم کے خلاف لوگوں کو حرام کھانے پر لگایا ہوا ہے اور کہتے ہیں کہ صرف ’’ بت ‘‘ کے نام کا کھانا حرام ہے۔اللہ تعالیٰ نے سورہ الحج میں فرمایا :

﴿۔ ۔ ۔ هُوَ سَمَّىٰكُمُ ٱلۡمُسۡلِمِينَ مِن قَبۡلُ وَفِي هَٰذَا۔ ۔ ۔﴾

[الحج: 78]

’’ اسی ( اللہ ) نے تمہارا نام مسلمین رکھا، اس سے پہلے بھی اور اس ( قرآن ) میں بھی ‘‘۔

مسلمین جمع کا صیغہ ہے اور اس کا واحد ’’ مسلم ‘‘ ہے۔یہ ہے وہ نام و پہچان جو اللہ تعالیٰ نے ہر دور میں ایمان لانے والوں کو دی۔لیکن صد افسوس کہ امت فرقوں اور گروہوں میں تقسیم ہوگئی اور

اپنی اپنی پہچان بھی تبدیل کرلی۔ آج کوئی مالکی ہے ، کوئی حنفی، شافعی اور کوئی حنبلی۔ یہ نام کس نے دئیے ہیں؟ کیا اللہ اور رسول اللہ ﷺ کے دئیے ہوئے نام ہیں؟ آج ان کی پہچان دیوبندی ، بریلوی ، سنی، شیعہ، اہلحدیث، سلفی ہے۔ کہاں سے آئے یہ نام ؟ یہ کس کی اطاعت ہے۔ اللہ اور رسول اللہ کی اطاعت تو ہر گز نہیں بلکہ اپنے فرقے کے علماء و مفتیان کی اطاعت ہے جسے اللہ تعالیٰ نے انہیں رب بنالینا قرار دیا ہے۔ اب یہ اللہ کے علاوہ ان کی بندگی کر رہےہیں سو یہ اللہ کے حق میں شرک ہے۔

دین اسلام کے علاوہ کوئی دوسرا دین اپنانا بھی شرک ہے:

اسی طرح سورہ الشوریٰ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :

﴿أَمۡ لَهُمۡ شُرَكَٰٓؤُاْ شَرَعُواْ لَهُم مِّنَ ٱلدِّينِ مَا لَمۡ يَأۡذَنۢ بِهِ ٱللَّهُۚ وَلَوۡلَا كَلِمَةُ ٱلۡفَصۡلِ لَقُضِيَ بَيۡنَهُمۡۗ وَإِنَّ ٱلظَّٰلِمِينَ لَهُمۡ عَذَابٌ أَلِيمٞ﴾

[الشورى: 21]

’’ کیا ان کے ایسے بھی شریک ہیں کہ جنہوں نے ان کے لئے دین کا ایسا طریقہ مقرر کیا ہو کہ جس کی اللہ نے اجازت نہیں دی اور اگر فیصلے کی بات طے شدہ نہ ہوتی تو ان کا فیصلہ ( ابھی ہی ) کردیا گیا ہوتا۔ اور یقینا ً ایسے ظالموں کے لئے درد ناک عذاب ہے ‘‘۔

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اس بات کو شرک قرار دیا ہے کہ ایک انسان اللہ کے بنائے ہوئے نظام زندگی ( دین ) کے مقابلے میں ایسا دین قبول کرلے جس کی اللہ کی طرف سے اجازت نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک ہی دین نازل فرمایا گیا ہے،اور وہ ’’ اسلام ‘‘ ہے۔

شَرَعَ لَکُمۡ مِّنَ الدِّیۡنِ مَا وَصّٰی بِہٖ نُوۡحًا وَّ الَّذِیۡۤ اَوۡحَیۡنَاۤ اِلَیۡکَ وَ مَا وَصَّیۡنَا بِہٖۤ اِبۡرٰہِیۡمَ وَ مُوۡسٰی وَ عِیۡسٰۤی اَنۡ اَقِیۡمُوا الدِّیۡنَ وَ لَا تَتَفَرَّقُوۡا فِیۡہِ ؕ

(الشوریٰ :13)

’’تمہارے لئے دین کا وہی طریقہ مقرر کیا ہے جس کا حکم نوح کو دیا تھا اور جسے (اے محمدﷺ ) ہم نے تمہاری طرف وحی کیا ہے، اور جس کا حکم ہم ابراہیم اور عیسیٰ کو دے چکے ہیں کہ اس دین کو قائم کرو اور اس میں متفرق نہ ہونا‘‘۔

﴿إِنَّ ٱلدِّينَ عِندَ ٱللَّهِ ٱلۡإِسۡلَٰمُۗ وَمَا ٱخۡتَلَفَ ٱلَّذِينَ أُوتُواْ ٱلۡكِتَٰبَ إِلَّا مِنۢ بَعۡدِ مَا جَآءَهُمُ ٱلۡعِلۡمُ بَغۡيَۢا بَيۡنَهُمۡۗ وَمَن يَكۡفُرۡ بِ‍َٔايَٰتِ ٱللَّهِ فَإِنَّ ٱللَّهَ سَرِيعُ ٱلۡحِسَابِ﴾

[آل عمران: 19]

’’ بلا شبہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک دین تو اسلام ہی ہے، اور اہل کتاب نے علم آ جانے کے بعد بھی آپس میں ضد و عناد کے سبب اختلاف کیا اور جو اللہ تعالیٰ کی آیات کا انکار کرے تو اللہ جلد ہی حساب لینے والا ہے‘‘۔

﴿وَمَن يَبۡتَغِ غَيۡرَ ٱلۡإِسۡلَٰمِ دِينٗا فَلَن يُقۡبَلَ مِنۡهُ وَهُوَ فِي ٱلۡأٓخِرَةِ مِنَ ٱلۡخَٰسِرِينَ﴾

[آل عمران: 85]

’’ اور جو کوئی اسلام کے علاوہ کسی اور دین کا طالب ہوگا تو وہ اس سے ہر گز قبول نہ کیا جائے گا اور وہ آخرت میں نقصان اٹھانے والوں میں ہوگا ‘‘۔

بیان کردہ آیات سے جو بات سامنے آتی ہے وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک ہی نظام زندگی نازل ہوا ہے ، جس کا نام ‘‘ اسلام ‘‘ ہے۔یہی تمام انبیاء علیہم السلام کا دین تھا۔انسان کو اس دین کے علاوہ کسی اور دین کو اپنانے سے منع کیا گیا ہے اور بتایا کہ جس کسی نے دین اسلام کے علاوہ کوئی اور نظام قبول کیا تو وہ ہر گز قبول نہیں کیا جائے گا اور وہ آخرت میں بہت خسارے میں ہوگا۔ سورہ شوریٰ کی آیت نمبر 21 میں اس بات کو بھی واضح کردیا گیا کہ اللہ کے علاوہ کسی اور کے دین کو قبول کرلینا اس کو اللہ کا شریک بنا دینا ہے۔ یہ شرک فی الحقوق ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا حق ہے کہ اس کا نازل کردہ دین ہوبہو اپنایا جائے جب انسان کسی اور کا بنایا ہوا نظام اپناتا ہے تو وہ اللہ کے اس حق میں شرک کردیتا ہے۔ مودودی صاحب سورہ شوریٰ آیت نمبر 21 کی تشریح میں لکھتے ہیں :

’’ اس آیت میں شرکاء سے مراد ، ظاہر بات ہے کہ وہ شریک نہیں ہیں جن سے لوگ دعائیں مانگتے ہیں، یا جن کی نذر و نیاز چڑھاتے ہیں ،یا جن کے آگے پوچا پاٹ کے مراسم ادا کرتے ہیں۔ بلکہ لا محالہ ان سے مراد وہ انسان ہیں جن کو لوگوں نے شریک فی الحکم ٹھہرا لیا ہے ، جن کے سکھائے ہوئے افکار و عقائد اور نظریات اور فلسفوں پر لوگ ایمان لاتے ہیں ، جن کی دی ہوئی قدروں کو مانتے ہیں، جن کے پیش کئے ہوئے اخلاقی اصولوں اور تہذیب و ثقافت کے معیاروں کو قبول کرتے ہیں، جن کے مقرر کئے ہوئے قوانین اور طریقوں اور ضابطوں کو اپنے مذہبی مراسم اور عبادات میں، اپنی شخصی زندگی میں ، اپنی معاشرت میں ،اپنے تمدن میں ، اپنے کاروبار اور لین دین میں ، اپنی عدالتوں میں اور اپنی سیاست اور حکومت میں اس طرح اختیارر کرتے ہیں کہ گویا یہی وہ شریعت ہے جس کی پیروی ان کو کرنی چاہئیے۔ یہ ایک پوراکا پورا دین ہے جو اللہ رب العالمین کی تشریع کے خلاف ہے، اور اس کے اذن( sanction ) کے بغیر ایجاد کرنے والوں نے ایجاد کیا اور ماننے والوں نے مان لیا۔ اور یہ ویسا ہی شرک ہے جیسے غیر اللہ کو سجدہ کرنا اور غیر اللہ سے دعائیں مانگنا شرک ہے ‘‘۔ ( تفہیم القرآن، جلد چہارم، صفحہ 499 ، حاشیہ نمبر 38)۔

مزید لکھتے ہیں :

’’ یعنی اللہ کے مقابلہ میں یہ ایسی سخت جسارت ہے کہ اگر فیصلہ قیامت پر نہ اٹھا رکھا گیا ہوتا تو دنیا ہی میں ہراس شخص پر عذاب نازل کردیا جاتا جس نے اللہ کا بندہ ہوتے ہوئے ، اللہ کی زمین پر خود اپنا دین جاری کیا،اور وہ سب لوگ بھی تباہ کردئیے جاتے جنہوں نے اللہ کے دین کو چھوڑ کر دوسروں کے بنائے ہوئے دین کو قبول کیا‘‘۔( تفہیم القرآن، جلد چہارم، صفحہ 500، حاشیہ نمبر 39)۔

موجودہ دور کے حوالے سے دیکھا جائے تو اللہ کے نازل کردہ دین کے مقابلے میں کافی دین اختیار کرلئے گئے ہیں۔ جیسے تصوف، جمہوریت، سوشلزم، کمیونزم، کیپٹل ازم ، تمام فرقہ وارانہ مذاہب جیسے مالکی ، حنفی، شافعی، حنبلی، مذہب اہلحدیث وغیرہ۔

تصوف :

لوگ تصوف کو اسلام کا ایک حصہ سمجھتے ہیں حالانکہ یہ مذہب کلی طور پر اللہ تعالیٰ کی توحید کا مکمل انکاری ہے۔ دین اسلام اللہ کی ذات کے بارے میں بیان کرتا ہے ۔

﴿ قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌ ﴾[الإخلاص] ’’ کہدو کہ اللہ یکتا ہے‘‘

﴿ وَلَمْ يَكُنْ لَّهٗ كُفُوًا اَحَدٌ﴾[الإخلاص:] ’’اور نہ ہی کوئی ایک اس کا ہمسر ہے ‘‘

﴿ لَيۡسَ كَمِثۡلِهِۦ شَيۡء ﴾ [الشورى: 11] ’’ اس کی مثال جیسی (کائنات) میں کوئی چیز نہیں ‘‘

حلول

حلول سے مرادکوئی انسان کوئی عبادت اور ریاضت کرکے نفس کی صفائی اور روح کی بالیدگی پیدا کر لے تو اللہ کی ذات اس کے اندر حلول کر جاتی ہے ۔

2۔ وحدۃالوجود

وحدت الوجود کے فلسفے کا سادہ الفاظ میں مطلب یہ ہے کہ صرف اور صرف ایک ہی وجود ہے اور وہ ہے اللہ تعالی۔ اس کی ذات کے علاوہ کوئی اور وجود نہیں پایا جاتا ہے۔ اگر اس بات کو مان لیا جائے تو پھر خالق و مخلوق میں کوئی فرق باقی نہیں رہتا بلکہ انسان، حیوانات،نباتات، بے جان اشیاء، حتی کہ غلاظت اور شیطان بھی نعوذ باللہ، اللہ تعالی ہی کے وجود کا حصہ قرار پاتے ہیں۔

3۔ وحدۃالشہود

وحدۃالشہود سے مراد “ایک دیکھنا ہے”یعنی چاروں طرف” تو ہی تو “ہے والا معاملہ ہو جاتا ہے- یعنی مشاہدے میں جتنی بھی چیزیں ہیں سب نعوذ باللہ اللہ کی ذات ہے۔ اور اسی کو فنا فی اللہ کہا جاتا ہے یعنی اللہ کی ذات میں فنا ہوجانا۔

جمہوریت :

جمہوریت اللہ کے نازل کردہ دین کے متوازی ایک دین ہے جس میں بے شمار آیات و احادیث کا انکار ہوتا ہے۔ جمہوریت کے بنیادی اصول ہی دین اسلام کے کھلے مخالف ہیں ۔

جمہوریت سے مراد ایسا نظام حکومت ہے جس میں عوام کے چنے ہوئے نمائندوں کی اکثریت رکھنے والی سیاسی جماعت حکومت چلاتی ہے اور عوام کے سامنے جوابدہ ہوتی ہے۔ سابق امریکی صدر ابراھم لنکن نے جمہوریت کی تعریف ان الفاظ میں کی ہے:’’عوام کی حکومت۔ عوام کے ذریعے۔ عوام کیلئے۔“

جبکہ بحیثیت ایک مسلم ہم نے اللہ سے عہد کیا ہوتا ہے کہ

﴿قُلۡ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحۡيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ ٱلۡعَٰلَمِينَ﴾

[الأنعام: 162]

’’ کہدو کہ میری صلواۃ ، میری قربانی ، میرا جینا اور میرا مرنا ( سب ) اللہ رب العالمین ہی کے لئے ہے‘‘۔

یعنی جو کچھ بھی ہم نے کرنا ہے تو وہ اللہ ہی کے لئے کرنا ہے۔ ہم کوئی حکومت بھی چلائیں تو اللہ کے ڈر اور خوف سے جیسے خلفائے راشدین نے عوام کی خاطر نہیں اللہ کی رضا کے حصول کے لئے حکومت کی۔ہر حالت میں حکم صرف االلہ تعالیٰ کا چلے گا ۔

﴿ ٓۚ۔ ۔ ۔ إِنِ ٱلۡحُكۡمُ إِلَّا لِلَّهِ ۔ ۔ ۔﴾

[الأنعام: 57]

’’ حکم تو صرف اللہ ہی کا ہے ‘‘۔

حکم سے مراد زندگی کا سارا طریقہ کار اس کے مرتب کئےہوئے نظام کے تحت ہوگا۔ لوگ کہتے ہیں کہ ہماری جمہوریت میں یہ بات طے ہے کہ حکم صرف اللہ کا مانا جائے گا۔ افسوس کے یہ صرف ایک زبانی دعویٰ ہے۔ جمہوریت کا سارا نظام وہی چل رہا ہے جو اس کی بنیاد ہے۔ اسلام میں کہیں بھی اکثریتی فیصلے کو ماننا بیان نہیں کیا گیا بلکہ اسلام میں دلیل پر فیصلہ ہوتا ہے اور وہ دلیل قرآن و حدیث سے ہونا لازمی ہے۔

اسلام میں کہیں ووٹنگ نہیں، کوئی انتخاب نہیں، اسلام میں گروہ بندی کو شرک قرار دیا گیا ہے یعنی کوئی پارٹی بازی نہیں۔ خواتین کی ذمہ داریاں ان کے گھروں تک ہیں انہیں حکومتی معاملات میں شرکت کی کوئی اجازت نہیں اور نہ ہی کوئی خاتون سربراہ مملکت بن سکتی ہے جبکہ جمہوریت میں یہ سب کچھ ہے۔مختصراً یہ ایک علیحدہ دین ہے اور جیسا کہ مودودی صاحب نے لکھا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ وہ لوگ جنہیں اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں قرآن و حدیث کا علم دیا تھا انہیں چاہئیے تھا کہ وہ ان حکمرانوں کو یہ سب بتاتے تاکہ وہ حق جان لیتے اور اپنی اصلاح کریتے ، لیکن مذہبی سیاسی لوگوں نے خود اقتدار کی لالچ میں یہ سب چھپا یا ہی نہیں بلکہ خود اس میں شامل ہوگئے اور اس طرح اللہ کےحق میں شرک کردیا۔

فرقہ وارانہ مذاہب :

فرقہ وارانہ مذاہب کو اپنانا بھی اسی شرک کے زمرے میں آتا ہے۔ بحیثیت ایک مسلم ہمارا اللہ ایک، ہمارا رسول محمد ﷺ، ہمارا قرآن ایک، احادیث صحیحہ ایک ہی ہیں تو یہ فرقے کیسے ؟ دراصل قرآن و حدیث سے اختلاف کرکے ہی علیحدہ فرقہ بنتا ہے۔ اللہ تعالی فرماتا ہے :

﴿وَلَا تَكُونُواْ كَٱلَّذِينَ تَفَرَّقُواْ وَٱخۡتَلَفُواْ مِنۢ بَعۡدِ مَا جَآءَهُمُ ٱلۡبَيِّنَٰتُۚ وَأُوْلَٰٓئِكَ لَهُمۡ عَذَابٌ عَظِيم﴾

[آل عمران: 105]

’’ اور تم ان لوگوں کی طرح نہ ہو جانا جنہوں نے اپنے پاس واضح نشانیاں آ جانے کے بعد تفرقہ ڈالا اور آپس میں اختلاف کرنے لگے اور یہی لوگ ہیں جن کے لئے بہت بڑا عذاب ہے ‘‘۔

﴿وَمَا تَفَرَّقُوٓاْ إِلَّا مِنۢ بَعۡدِ مَا جَآءَهُمُ ٱلۡعِلۡمُ بَغۡيَۢا بَيۡنَهُمۡۚ وَلَوۡلَا كَلِمَةٞ سَبَقَتۡ مِن رَّبِّكَ إِلَىٰٓ أَجَلٖ مُّسَمّٗى لَّقُضِيَ بَيۡنَهُمۡۚ وَإِنَّ ٱلَّذِينَ أُورِثُواْ ٱلۡكِتَٰبَ مِنۢ بَعۡدِهِمۡ لَفِي شَكّٖ مِّنۡهُ مُرِيبٖ﴾

[الشورى: 14]

” یہ فرقہ فرقہ نہیں ہوئے لیکن اس کے بعد کہ ان کے پاس ( ان کے رب کی طرف سے)علم آچکا تھا ، آپس میں بغض و عناد کے سبب ، اور اگر (اے نبی ﷺ) آپ کے رب کی(فیصلے کی) بات مقررہ وقت تک کے لئے پہلے طے نہ ہوچکی ہوتی تو یقیناً ان کا فیصلہ ہو چکا ہوتا ۔”

یعنی اختلاف اس وقت ہوا جب اللہ کی طرف سے ہدایات پہنچ چکی تھیں۔ آج بھی اللہ کی طرف سے قرآن و احادیث صحیحہ کی صورت میں ہدایات پہنچی ہوئی ہیں لیکن ان ہدایات سے اختلاف کیا گیا۔

ان فرقہ وارانہ مذاہب میں اسلام کے ساتھ ساتھ اسلام کے خلاف باتیں اور عقائد شامل ہیں۔سورہ الروم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :

﴿۞مُنِيبِينَ إِلَيۡهِ وَٱتَّقُوهُ وَأَقِيمُواْ ٱلصَّلَوٰةَ وَلَا تَكُونُواْ مِنَ ٱلۡمُشۡرِكِينَ٣١ مِنَ ٱلَّذِينَ فَرَّقُواْ دِينَهُمۡ وَكَانُواْ شِيَعٗاۖ كُلُّ حِزۡبِۢ بِمَا لَدَيۡهِمۡ فَرِحُونَ﴾

[الروم: 31-32]

” اللہ کی طرف رجوع کرتے رہو اور اسی سے ڈرو اور صلوٰۃ قائم کرو اور مشرکوں میں سے نہ ہو جانا۔ ان لوگوں میں سے جنہوں نے اپنے دین میں فرقے بنالئے اور گروہوں میں بٹ گئے ، ہر گروہ ااس چیز میں مگن ہے جو اس کے پاس ہے۔”

اللہ تعالیٰ نے بتا دیا تھا کہ فرقہ اور گروہ بندی مشرکوں کا عمل ہے تم اس شرک میں شامل نہ ہو جانا لیکن علم رکھنے والے علماء نے اس امت کو فرقوں اور گروہوں میں تقسیم کر کے اس امت کی اجتماعیت کو پارہ پارہ ہی نہیں کردیا بلکہ انہیں شرک میں ملوث کردیا۔ جیسا کہ اس سے قبل بھی بیان کیا جا چکا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں ’’ مسلمین ‘‘ کا نام دیا:

﴿ ۔ ۔ ۔ هُوَ سَمَّىٰكُمُ ٱلۡمُسۡلِمِينَ مِن قَبۡلُ وَفِي هَٰذَا ۔ ۔ ۔﴾

[الحج: 78]

’’اس ( اللہ ) نے تمہارا نام مسلمین رکھ دیا ہے اس سے قبل بھی اور اس ( قرآن ) میں بھی ‘‘

اللہ تعالیٰ کا یہ حکم قرآن میں موجود تھا اور اس بات کی قطعاً کوئی ضرورت نہ تھی کہ ہم اس نام و پہچان کے علاوہ کوئی اور نام و پہچان رکھتے۔ لیکن جب لوگوں کا کتاب اللہ سے اختلاف ہوا تو اپنی پہچان علیحدہ بنانا پڑی اور اب یہ امت اپنے آپ کو سنی، شیعہ، دیوبندی، بریلوی ، اہلحدیث، سلفی اور نہ جانے کن کن ناموں سے متعارف کراتی ہے۔ کیا قرآن و حدیث سے اختلاف، اپنا علیحدہ نام و پہچان، اپنا علیحدہ گروہ اللہ کے حکم کا انکار نہیں؟ اب ان گروہوں میں رہ کر اللہ کی اطاعت نہیں ہو رہی بلکہ جو کچھ فرقوں کے علما و مفتیان نے کہہ دیا اس کی اطاعت ہو رہی ہے۔

قرآن سورہ زمر آیت 46 اور سورہ المومنون آیت 100 میں اللہ تعالیٰ نے فرما دیا کہ مرنے والے کی روح اب قیامت سے قبل اس دنیا میں واپس نہیں آئے گی لیکن کثرت سے فرقوں کا عقیدہ ہے کہ روح واپس اس قبر اور بدن میں لوٹا دی جاتی ہے۔

قرآن سورہ یونس آیت نمبر 18 میں فوت شدہ افراد کو اللہ تک وسیلہ بنانا شرک قرار دیا گیا ہے لیکن کچھ فرقوں میں یہ بڑا ثواب کا کام ہے۔

قرآن مجید میں چار جگہ غیر اللہ کے نام کی نذر ونیاز حرام قرر دی گئی ہے لیکن کچھ فرقوں میں یہ ثواب سمجھی جاتی ہے۔

اللہ تعالیٰ نے بتا دیا کہ فوت شدہ افراد اب مردہ ہیں اور قیامت تک مردہ رہیں گے، نہ سن سکتے ہیں ، نہ دیکھ سکتے ہیں، لیکن فرقوں میں عقیدہ پایا جاتا ہے کہ یہ زندہ ہیں۔

نبی ﷺ نے یہود و نصاریٰ پر لعنت فرمائی کہ انہوں نے اپنے انبیاء و نیک لوگوں کی قبروں کو عبادت گاہ بنالیا اور فرمایا میں تمہیں اس سے منع کرتا ہوں، لیکن کچھ فرقوں میں مزار بنانا اسے پوچنا عین عبادت ہے۔

یہ چند باتیں مثال کے طور پر بیان کی گئی ہیں لیکن حقیقت یہی ہے کہ قرآن و حدیث سے اختلاف کرتے ہوئے یہ فرقے اور گروہ بنے اور انہوں نے کچھ اسلام کو اپنایا اور کچھ اس کے انکار کو یعنی یہ وہ خالص دین نہیں جو کہ اللہ کی طرف سے نازل کیا گیا تھا، لہذا ایسے مذاہب کو بالکل نہیں اپنانا چاہئیے۔

اسی طرح سوشلزم ، کمیونزم دین اسلام کے خلاف ہیں اور اللہ کا فیصلہ سامنے ہے کہ ’’جس نے اسلام کے علاوہ کوئی اور دین اپنایا تو وہ اس سے قبول نہیں کیا جائے گا اور وہ آخرت میں خسارہ پانے والوں یعنی جہنم میں جانے والوں میں ہوگا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *