Categories
Uncategorized

عقیدہ عذاب قبر اور مسلک پرستوں کی مغالطہ آرائیاں ( روح )

ہم نے عذاب قبر کے بارے میں قرآن و حدیث سے جو دلائل دئیے اس میں واضح تھا کہ روح نکلتے ہی یہ انسانی جسم ہر قسم کے شعور سے عاری ہوجاتا ہے، اب اس پر کسی طرح کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔ اور پھر رفتہ رفتہ مٹی سے بنا یہ جسم سڑ گل کر مٹی میں ملکر مٹی بن جاتا ہے۔ گویا اس جسم کا وجود ہی نہیں رہتا تو اس پر عذاب قبر کیسا ؟

ہم نے قرآن و حدیث کا متفقہ عقیدہ بیان کیا تھا کہ مرنے کے بعد سے قیامت کے دن تک جزا یا عذاب کا معاملہ اس جسم کیساتھ نہیں بلکہ روح کیساتھ ہوتا ہے۔لیکن فرقہ پرستوں نے امت میں عقیدہ پھیلایا کہ مرنے کے بعد روح پلٹ کر اس جسم میں آجاتی ہے، اسی لئے یہ جسم فرشتوں کے سوالات کے جواب دیتا ہے اور پھر اسے یہاں ہی نوازا جاتا یا عذاب دیا جاتا ہے۔ ان کی ان باتوں کو ہم قرآن و حدیث کی کسوٹی پر پرکھتے ہیں۔لہذاسب سے پہلے ہم ’’قبض روح ‘‘ کے بارے میں قرآن و حدیث کا بیان پیش کرتے ہیں:

﴿اللَّهُ يَتَوَفَّى الْأَنْفُسَ حِينَ مَوْتِهَا وَالَّتِي لَمْ تَمُتْ فِي مَنَامِهَا فَيُمْسِكُ الَّتِي قَضَى عَلَيْهَا الْمَوْتَ وَيُرْسِلُ الْأُخْرَى إِلَى أَجَلٍ مُسَمًّى إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَاتٍ لِقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ﴾

[الزمر: 42]

”اللہ روحوں کو قبض کرلیتا ہے انکی موت کے وقت اور جنکی موت نہیں آئی انکی سوتے وقت، پھر جس پر موت کافیصلہ ہوتا ہے اسکی روح روک لیتا ہے اور دوسری ارواح کو چھوڑ دیتا ہے ایک مقررہ وقت تک کیلئے۔ اس میں نشانیاں ہیں ان لوگوں کیلئے جو غور و فکر کرتے ہیں۔

﴿وَهُوَ الْقَاهِرُ فَوْقَ عِبَادِهِ وَيُرْسِلُ عَلَيْكُمْ حَفَظَةً حَتَّى إِذَا جَاءَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ تَوَفَّتْهُ رُسُلُنَا وَهُمْ لَا يُفَرِّطُونَ ؀ ثُمَّ رُدُّوا إِلَى اللَّهِ مَوْلَاهُمُ الْحَقِّ أَلَا لَهُ الْحُكْمُ وَهُوَ أَسْرَعُ الْحَاسِبِينَ﴾

[الأنعام: 61-62]

”اور وہ اپنے بندوں پر غالب ہے اور تم پر نگہبان بھیجتا ہے۔ یہاں تک کہ جب تم میں سے کسی کی موت آتی ہے تو ہمارے بھیجے ہوئے (فرشتے) اسکی روح قبض کر لیتے ہیں اور وہ کوئی کوتاہی نہیں کرتے۔ پھر تم پلٹائے جاتے ہو اللہ کی طرف جو تمھارا حقیقی مالک ہے سن لو کہ حکم اسی کا ہے اور وہ بہت جلد حساب لینے والاہے۔“

وَلَوْ تَرَى إِذِ الظَّالِمُونَ فِي غَمَرَاتِ الْمَوْتِ وَالْمَلَائِكَةُ بَاسِطُو أَيْدِيهِمْ أَخْرِجُوا أَنْفُسَكُمُ الْيَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذَابَ الْهُونِ بِمَا كُنْتُمْ تَقُولُونَ عَلَى اللَّهِ غَيْرَ الْحَقِّ وَكُنْتُمْ عَنْ آيَاتِهِ تَسْتَكْبِرُونَ﴾

[الأنعام: 93]

”کاش تم ظالموں کو اس حالت میں دیکھ سکو جبکہ وہ سکرات موت میں ہوتے ہیں اور فرشتے ہاتھ بڑھا بڑھا کر کہہ رہے ہوتے ہیں نکالو اپنی روحوں کو آج تمھیں ان باتوں کی پاداش میں ذلت کا عذاب دیا جائیگا جو تم اللہ پر تہمت رکھ کر نا حق کہا کرتے تھے اور اسکی آیات کے مقابلے میں سرکشی دکھاتے تھے۔“

﴿وَلَقَدۡ جِئۡتُمُونَا فُرَٰدَىٰ كَمَا خَلَقۡنَٰكُمۡ أَوَّلَ مَرَّةٖ وَتَرَكۡتُم مَّا خَوَّلۡنَٰكُمۡ وَرَآءَ ظُهُورِكُمۡۖ ۔ ۔ ۔﴾

[الأنعام: 94]

’’ (اللہ تعالیٰ فرماتا ہے) اور تم تن تنہا پہنچ گئے ہمارے پاس جیسا کہ ہم نے تمہیں مرتبہ پیدا کیا تھا، اور چھوڑ آئے ہو اپنی پیٹھ کے پیچھے جو کچھ ہم نے تمہیں عطا کیا تھا ‘‘۔

یعنی روح قبض ہوتے ہیں اللہ تعالیٰ کے پاس پہنچ جاتی ہے۔ مزید پڑھیں :

﴿حَتَّى إِذَا جَاءَ أَحَدَهُمُ الْمَوْتُ قَالَ رَبِّ ارْجِعُونِ ؀ لَعَلِّي أَعْمَلُ صَالِحًا فِيمَا تَرَكْتُ كَلَّا إِنَّهَا كَلِمَةٌ هُوَ قَائِلُهَا ﴾

[المؤمنون: 99-100]

’’یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی کی موت آتی ہے تو کہتا ہے کہ اے میر ے رب مجھے واپس لوٹا دے تا کہ میں نیک عمل کروں اس میں جسے چھوڑ آیا ہوں۔( اﷲ تعالی فرماتا ہے) ہر گز نہیں یہ تو ایک بات ہے جو وہ کہہ رہا ہے اور ان کے پیچھے برزخ حائل ہے قیامت کے دن تک۔‘‘

ان آیا ت کاخلاصہ یہ ہے کہ جب کسی کی موت آتی ہے تو اللہ تعالی فرشتوں کے ذریعے اسکی روح قبض کراتاہے اور وہ روح اللہ تعالی کی طرف لیجائی جاتی ہے۔ جو روح اس دنیا سے چلی جاتی ہے وہ اب قیامت سے پہلے واپس نہیں آسکتی کیونکہ اسکے اور دنیا کے درمیان قیامت تک کے لیے اللہ کی قائم کی ہوئی آڑ (برزخ) حائل ہوگئی ہے۔

حدیث نبوی ﷺ

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ إِذَا خَرَجَتْ رُوحُ الْمُؤْمِنِ تَلَقَّاهَا مَلَکَانِ يُصْعِدَانِهَا قَالَ حَمَّادٌ فَذَکَرَ مِنْ طِيبِ رِيحِهَا وَذَکَرَ الْمِسْکَ قَالَ وَيَقُولُ أَهْلُ السَّمَائِ رُوحٌ طَيِّبَةٌ جَائَتْ مِنْ قِبَلِ الْأَرْضِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْکِ وَعَلَی جَسَدٍ کُنْتِ تَعْمُرِينَهُ فَيُنْطَلَقُ بِهِ إِلَی رَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ ثُمَّ يَقُولُ انْطَلِقُوا بِهِ إِلَی آخِرِ الْأَجَلِ قَالَ وَإِنَّ الْکَافِرَ إِذَا خَرَجَتْ رُوحُهُ قَالَ حَمَّادٌ وَذَکَرَ مِنْ نَتْنِهَا وَذَکَرَ لَعْنًا وَيَقُولُ أَهْلُ السَّمَائِ رُوحٌ خَبِيثَةٌ جَائَتْ مِنْ قِبَلِ الْأَرْضِ قَالَ فَيُقَالُ انْطَلِقُوا بِهِ إِلَی آخِرِ الْأَجَلِ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ فَرَدَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَيْطَةً کَانَتْ عَلَيْهِ عَلَی أَنْفِهِ هَکَذَا

( مسلم۔ کتاب الجنۃ و صفتہ،باب عرض مقعد المیت)

’’ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ جب کسی مومن کی روح نکلتی ہے تو دو فرشتے اسے لے کر اوپر چڑھتے ہیں تو آسمان والے کہتے ہیں کہ پاکیزہ روح زمین کی طرف سے آئی ہے اللہ تعالیٰ تجھ پر اور اس جسم پر کہ جسے تو آباد رکھتی تھی رحمت نازل فرمائے پھر اس روح کو اللہ عزوجل کی طرف لے جایا جاتا ہے پھر اللہ فرماتا ہے کہ تم اسے آخری وقت تک کے لئے لےجاؤ، آپ ؐ نے فرمایا کافر کی روح جب نکلتی ہے تو آسمان والے کہتے ہیں کہ خبیث روح زمین کی طرف سے آئی ہے پھر اسے کہا جاتا ہے کہ اسے آخری وقت تک کے لئےلے جاؤ، ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی چادر اپنی ناک مبارک پر اس طرح لگالی تھی (کافر کی روح کی بدبو ظاہر کرنے کے لئےآپ ؐ نے ایسا فرمایا)‘‘۔

قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ” كَانَ رَجُلَانِ فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ مُتَوَاخِيَيْنِ، فَكَانَ أَحَدُهُمَا يُذْنِبُ، وَالْآخَرُ مُجْتَهِدٌ فِي الْعِبَادَةِ، فَكَانَ لَا يَزَالُ الْمُجْتَهِدُ يَرَى الْآخَرَ عَلَى الذَّنْبِ فَيَقُولُ: أَقْصِرْ، فَوَجَدَهُ يَوْمًا عَلَى ذَنْبٍ فَقَالَ لَهُ: أَقْصِرْ، فَقَالَ: خَلِّنِي وَرَبِّي أَبُعِثْتَ عَلَيَّ رَقِيبًا؟ فَقَالَ: وَاللَّهِ لَا يَغْفِرُ اللَّهُ لَكَ، أَوْ لَا يُدْخِلُكَ اللَّهُ الْجَنَّةَ، فَقَبَضَ أَرْوَاحَهُمَا،

فَاجْتَمَعَا عِنْدَ رَبِّ الْعَالَمِينَ فَقَالَ لِهَذَا الْمُجْتَهِدِ: أَكُنْتَ بِي عَالِمًا، أَوْ كُنْتَ عَلَى مَا فِي يَدِي قَادِرًا؟ وَقَالَ لِلْمُذْنِبِ: اذْهَبْ فَادْخُلِ الْجَنَّةَ بِرَحْمَتِي، وَقَالَ لِلْآخَرِ: اذْهَبُوا بِهِ إِلَى النَّارِ ” قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَتَكَلَّمَ بِكَلِمَةٍ أَوْبَقَتْ دُنْيَاهُ وَآخِرَتَهُ

( سنن ابی داؤد، کتاب الادب،بَابٌ فِي النَّهْيِ عَنِ البَغْيِ؛ حكم الألباني: صحيح)

’’ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ بنی اسرائیل میں دو آدمی ایک دوسرے کے لگے (برابر) کے تھے۔ ان دونوں میں سے ایک تو گناہ گار تھا اور دوسرا عبادت میں کوشش کرنے والا تھا۔ عبادت کی جدوجہد میں لگے رہنے والا ہمیشہ دوسرے کو گناہ کرتا ہی دیکھتا تھا اور اسے کہتا تھا کہ ان گناہوں سے رک جا۔ ایک روز اس نے اسے کوئی گناہ کرتے ہوئے پایا تو اس سے کہا کہ اس گناہ سے رک جا تو گناہ گار نے کہا کہ مجھے میرے رب کے ساتھ چھوڑ دے۔ کیا تو مجھ پر نگران بنا کر بھیجا گیا ہے ؟ اس نے کہا کہ اللہ کی قسم اللہ تعالیٰ تیری مغفرت نہیں کریں گے یا کہا کہ اللہ تجھے جنت میں داخل نہیں کرے گا پھر ان دونوں کی روحیں قبض کی گئیں تو دونوں کی روحیں رب العالمین کے سامنے جمع ہوئیں تو اللہ نے عابد سے فرمایا کہ کیا تو اس چیز پر جو میرے قبضہ قدرت میں ہے قادر ہے ؟ اور گناہ گار سے فرمایا کہ جا جنت میں داخل ہو جا میری رحمت کی بدولت اور دوسرے (عابد) کے لئے فرمایا کہ اسے جہنم کی طرف لے جاؤ، ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے اس عابد نے ایسا کلمہ کہہ دیا جس نے اس کی دنیا و آخرت دونوں تباہ کردیں۔‘‘

أَنَّ أَبَاهُ کَعْبَ بْنَ مَالِکٍ کَانَ يُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّمَا نَسَمَةُ الْمُؤْمِنِ طَيْرٌ يَعْلَقُ فِي شَجَرِ الْجَنَّةِ حَتَّی يَرْجِعَهُ اللَّهُ إِلَی جَسَدِهِ يَوْمَ يَبْعَثُهُ

’’ کعب بن مالک سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مومن کی روح ایک اڑنے والے جسم میں جنت کے درخت سےوابستہ رہتی ہے یہاں تک کہ اللہ جل جلالہ پھر اس کو لوٹا دے گا اس کے بدن کی طرف اٹھائے جانے والے دن‘‘ ۔

قرآن و حدیث کے اس بیان سے واضح ہوا کہ وفات کے موقع پر قبض کی جانے والی روح اب قیامت سے پہلے اس دنیا و جسم میں نہیں لوٹائی جائے گی۔

فرقہ اہلحدیث کے بانی میاں نذیر احمد دہلوی فرماتے ہیں :

’’ جب منکر و نکیر قبر میں سوال کرنے کیلئے آتے ہیں اس وقت روح لوٹائی جاتی ہے۔‘‘ ( فتاوے نذیریہ حصہ اول،صفحہ ۶۷۲، فتاویٰ شیخ الکل فی الکل سید نذیر حسین دہلوی اہلحدیث)

قبر میں روح کا لوٹایا جانا ہی قبر میں زندگی کی بنیاد بنتا ہے، پھر جب ایک مرتبہ یہ عقیدہ ایمان کی بنیاد بن گیا تو اب یہ قبر والے چاہے تھوڑی دیر کیلئے زندہ سمجھے جائیں یا ہمیشہ کیلئے، دونوں صورتوں میں قرآن کا انکار اور شرک کی بنیاد ہے، اس لیے کہ کوئی بھی قبر پرجاکر ،اس کو مردہ سمجھ کر نہیں پکارتا۔ اسلام کے نام پر بنے ہوئے تقریباً تمام ہی مسالک اس ’’عود روح‘‘( مرنے کے بعد روح کا لوٹایا جانا ) کے عقیدے کے حامل ہیں ۔اس سے قبل سورہ مومنون کی آیت نمبر ۹۹۔۱۰۰ کا مکمل خلاصہ آپ کی نظر سے گذر چکا ہے کہ جو روح ﷲ تعالیٰ کے پاس چلی جاتی ہے وہ قیامت سے قبل اس دنیا میں ہرگز واپس نہیں آسکتی۔ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ قرآن کی بات ہی حرف آخر مانی جاتی اور اسی کے مطابق ایمان بنایا جاتا لیکن ان مسلک پرستوں کا بڑا عجیب معاملہ ہے، جب چاہتے ہیں دوسرے فرقے کی بات کو قرآن کے دلائل دے کر ان پر کفر کی مہر ثبت کردیتے ہیں حالانکہ خود بھی اسی عقیدے کے حامل ہوتے ہوئے قرآن کا انکار کر رہے ہوتے ہیں۔ ملاحظہ فرمائیے فرقہ اہلحدیث کے ایک مایہ ناز مفتی، اہل سنت و الجماعت کے خلاف کتاب لکھتے ہوئے اپنے اوپر ہی قرآن کے مخالف ہونے کی گواہی ثبت فرماتے ہیں:

’’جو مر گیا وہ قیامت تک جب تک کہ حشر برپا نہ کیا جائے مردہ یامیت کہلائے گا۔ قیامت کے دن ہی مردے زندہ ہونگے جیسا کہ ارشاد ہے وَاذِاالنُّفُوْسُ زُوِّجَتْ (تکویر) اور جس دن کہ روحوں کا بدن سے دوبارہ رشتہ جوڑدیا جائے گا۔ پھر یہ کیسے ممکن ہو سکتا ہے کہ وہ دن آنے سے پہلے روحیں بدن میں واپس لوٹ جائیں اگر ہم نے ایسا ہونا تسلیم کر لیا تو اس سے مخالفت قرآن لازم آئے گی ( عذاب قبر کا معاملہ دوسرا ہے اور ہم بھی اس کے قائل ہیں) اور قرآن کی مخالفت تو وہی کرسکتے ہیں جو حیات الانبیاء کا خود ساختہ عقیدہ رکھتے ہیں‘‘۔ ( وفات الا نبیاء صفحہ 42،از علامہ سعید بن عزیز یوسف زئی اہلحدیث)

قارئین ! ملاحظہ فرمایا ان کا فرمانا کہ جو یہ عقیدہ رکھے کہ قیامت سے قبل اس جسم میں روح لوٹادی جاتی ہے وہ مخالف قرآن، یعنی قرآن کا انکاری ہے۔لیکن کفر کے اس فتویٰ کا نفاذ انہوں نے جماعت اہل سنت پرکیا اور اہلحدیثوں کو یہ کہہ کر بچا لیا ہے کہ ’’ عذاب قبر کا معاملہ دوسرا ہے اور ہم بھی اس کے قائل ہیں ‘ ‘۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ’’ روح لوٹائے جانے ‘‘ کا عقیدہ رکھنا کفر ہے ،تو عذاب قبر کیلئے یہ عقیدہ کیسے عین قرآن پر ایمان کہلائے گا۔ قرآ ن میں کہیں اس بات کو بیان کیا گیا ہے کہ روح قیامت تک نہیں لوٹائی جائے گی لیکن عذاب قبرکیلئے!

حیرت ہے ایک ہی عقیدہ ! ایک پر قرآن کے مخالف یعنی کفر کا فتویٰ اور دوسراقرآن پر ایمان کا دعویدار؟ حقیقت یہ ہے کہ جب ا ﷲ تعالیٰ نے قرآن کریم میں اس بات کو بیان فرمادیا کہ مرنے والے کی یہ روح اب قیامت سے قبل اس دنیا اس جسم میں نہیں لوٹائی جائے گی تو چاہے کوئی بار بار یا ہمیشہ کیلئے روح کے لوٹائے جانے کا عقیدہ رکھے یاصرف سوال و جواب کے لیے، ہر صورت میں قرآن کا انکار ہے۔غور طلب بات یہ ہے کہ ان کا یہ کہنا کہ ’’عذاب قبر کا معاملہ دوسرا ہے اور ہم بھی اس کے قائل ہیں ‘‘کس بنیاد پر ہے؟ قرآن مجید اور احادیث نبوی ﷺ سے تو اس کی وضاحت ہو چکی ہے کہ مرنے والے کی یہ روح اب قیامت تک اس دنیا و جسم میں واپس نہیں آئے گی لیکن احمد بن حنبل فرماتے ہیں :

’’ منکر نکیر، عذاب قبر، ملک الموت کے ارواح قبض کرنے، پھر ارواح کے قبروں کے اندر جسموں میں لوٹائے جانے پر ایمان لانا ضروری ہے، اور اس پر بھی ایمان لانا ضروری ہے کہ قبر میں ایمان و توحید کے بارے میں سوال ہوتا ہے۔‘‘ ( طبقات حنابلہ جز اوّل صفحہ 344)

واضح ہوا کہ ان کا یہ کہنا کہ جو قیامت سے پہلے ان جسموں میں روح لوٹانے کا عقیدہ رکھتا ہے وہ تو قرآن کا انکار ہے ، بالکل صحیح اور عین قرآن و حدیث کے مطابق ہے ،لیکن عذاب قبر اور سوال جواب کے لئے ارواح کا لوٹا دینا احمد بن حنبل کے دئیے ہوئے عقیدے کے مطابق ہے۔اسی لئے بانی فرقہ اہلحدیث میاں نذیر احمد دہلوی فرماتے ہیں :’’ جب منکر و نکیر قبر میں سوال کرنے کیلئے آتے اس وقت روح لوٹائی جاتی ہے۔‘‘ ( فتاویٰ نذیریہ حصہ اول،صفحہ ۶۷۲، فتاویٰ شیخ الکل فی الکل سید نذیر حسین دہلوی اہلحدیث)

ایک اہلحدیث مفتی فرماتے ہیں :

’’مرنے کے بعد روح جنت یا جہنم میں داخل کردی جاتی ہے جبکہ جسم اپنی قبر میں عذاب یا ثواب سے ہمکنار ہوتا رہتا ہے اور یہی عقیدہ کتاب و سنت سے ثابت ہے۔ اس لئے کہ اگر روح جسم میں واپس آجائے تو پھر یہ عذاب مردہ کو نہیں بلکہ زندہ کو ہواجبکہ احادیث صحیحہ وضاحت کرتی ہیں کہ عذاب قبر میت(مردہ) کو ہوتا ہے۔ البتہ سوال و جواب کیلئے میت کی طرف روح کو کچھ دیر کیلئے لوٹایا جاتا ہے اور یہ استثنائی حالت ہے‘‘۔۔۔۔ ( عقیدہ عذاب قبر، صفحہ۷۲۔۷۳، از ابوجابرعبد اﷲ دامانوی)

وضاحت :

تمام معاملات کیلئےا ﷲ تعالیٰ نے ایک قانون و کلیہ مقرر فرمایا ہے جوسب انسانوں کیلئے یکساں ہے، لیکن کچھ ایسے معاملات ہوتے ہیں جن کو استثنائی کہا جاتا ہے، مثلاً دنیا میں پیدا ہونے والے ہر بچہ کا باپ ہوتا ہے لیکن عیسیٰ علیہ السلام بغیر باپ کے پیدا ہوئے ، قرآن نے ایک طرف قانونِ عام بیان کیا تو دوسری طرف عیسیٰ علیہ السلام کے استثناء کا بھی ذکر کردیا ہے۔ قرآن کے بیان کیے ہوئے قانون و کلئیے سے ہٹ کر صرف وہی بات استثنائی مانی جاسکتی ہے جس کا ذکر قرآن و احادیث ِصحیحہ میں ہو، یہ نہیں کہ اب جو چاہے ا ﷲ تعالیٰ کی طرف سے بیان کئے گئے اس قانون کے خلاف ایک عقیدہ گھڑ لے اور پھر اس کو استثناء کا نام دے ڈالے۔ یہ لوگ براء بن عازب ؓ سے منسوب ایک ضعیف روایت کو حدیث کہہ کر یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ روح واپس لوٹا دی جاتی ہے۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ تصور کیا جاسکتا ہے کہ نبیﷺ کی کوئی بات قرآن مجید کے دئیے ہوئے عقیدے کا انکار کرے ؟ نہیں ہرگز نہیں بلکہ نبیﷺ تو قرآن کے بیان کردہ عقائد و احکامات کی تشریح ہی کیلئے مبعوث فرمائے گئے تھے ۔ اب جب قرآن قیامت سے قبل روح کے نہ لوٹائے جانے کا عقیدہ دیتا ہے تو پھرکیسے ممکن ہے کہ کوئی حدیث اس کے خلاف بیان کرے ۔ لیکن اہلحدیث ایسا کرتے ہیں۔

حدیث کو بنیاد بنا کر کتاب اللہ کے دئیے ہوئے عقیدے کا انکار کرنا :

اہلحدیثوں کا یہ وطیرہ ہے کہ وہ ضعیف اور موضوع روایات سے اپنا عقیدہ ثابت کرنیکی کوشش کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ جیسا نبی ﷺنے قرآن کے دئیے ہوئے عقیدے کے برعکس مردہ مچھلی کو جائز قرار دے دیا اسی طرح قرآن کے دئیے ہوئے عقیدے کے برعکس نبی ﷺ کی حدیث سے ( نعوذوباﷲ )روح کا واپس لوٹایا جانا بھی ثابت ہے۔اپنے اس فعل کی توجیہ یہ لوگ اس طرح پیش کرتے ہیں:

’’قرا ٓن کریم کی اس آیت سے واضح ہوا کہ مردہ (یعنی جو حلال جانور اپنی طبعی موت مر جائے) حرام ہے۔ اور اب کسی بھی مردہ کو کھانے کی اجازت نہیں ہے کیونکہ وہ حرام ہے۔لیکن حدیث میں ہے:…’’سمندر کا پانی پاک ہے اور اس کا ’’مردہ‘‘ (مچھلی) حلال ہے۔‘‘ اس حدیث سے ثابت ہوا کہ مچھلی مردہ ہے لیکن اس کا کھانا حلال ہے۔ اگرچہ بظاہر یہ حدیث قرآن کریم کے خلاف ہے لیکن جب قرآن و حدیث میں بظاہر تضاد ہوگا تو ان میں تطبیق کی جائے گی۔ اگرچہ مردہ حرام ہے لیکن مچھلی مردہ ہونے کے بادجود بھی حلال ہے کیونکہ یہ ایک استثنائی صورت ہے۔‘‘ (عقیدہ عذاب قبر، صفحہ ۱۵۔۱۶، از ابو جابر عبد اﷲ دامانوی)

شاید کثرت سے لوگوں کو یہ بات معلوم نہیں ہوگی کہ ان مولوی حضرات کو منطق پڑھائی جاتی ہے جس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ جب اپنی کوئی بات قرآن و حدیث سے ثابت نہ ہو رہی ہو تو اس کو اس طرح الجھا کر پیش کیا جائے کہ دوسرے لوگ جن کے پاس قرآن و حدیث کا اتنا علم نہ ہو ان مولویوں کی باتوں میں الجھ کر رہ جائیں۔ یہی انداز یہاں بھی اپنایا گیا ہے۔ جو آیت انہوں نے پیش کی ہے اس میں خشکی یعنی زمین کے جانوروں کا ذکر ہے کہ اگر ان میں سے کوئی اپنی طبعی موت مر جائے یعنی تم نے اسے شکار کرکے ذبح نہ کیا ہو تو یہ حرام ہے تم اسے نہ کھانا۔ لیکن مولوی صاحب کا کارنامہ دیکھیں خشکی کے جانوروں کے لئے بیان کردہ قانون کو پانی کی مخلوق سے ٹکرا دیا۔ پانی کے جانوروں کے لئےاللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

﴿أُحِلَّ لَكُمْ صَيْدُ الْبَحْرِ وَطَعَامُهُ ﴾

[المائدة: 96]

’’ حلال کردیا ہے تمہارے لیے سمندر کا شکار اور اس کا کھانا۔‘‘

یعنی اس آیت میں سمندر سے شکار کئے جانے والے اور اس سے حاصل ہونے والے کھانے کے رزق کے حلال ہونے کا ذکر ہے ۔ شکار تو وہ ہے جو انسان کسی نا کسی انداز میں خود پکڑتا ہے لیکن طعامہ سے کیا مراد ہے۔طعامہ سے مراد وہ رزق ہے جو سمندر خود باہر پھینک دیتا ہے یعنی مردہ۔ حدیث میں ہے کہ ایک سفر میں صحابہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہم نے مردہ حالت میں پائی جانے والی ایک بڑی مچھلی کھائی اور اس کا گوشت نبی ﷺ کیلئے بھی لیکر آئے۔ اسی طرح اگر مچھلی کے شکار کیلئے جال یا کانٹا و غیرہ لگایا جاتا ہے تو اس سے شکار ہونے والی کافی مچھلیاں بھی مردہ حالت میں پانی سے نکالی جاتی ہیں۔ خشکی کے شکار کیلئے اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے :

﴿يَسْأَلُونَكَ مَاذَا أُحِلَّ لَهُمْ قُلْ أُحِلَّ لَكُمُ الطَّيِّبَاتُ وَمَا عَلَّمْتُمْ مِنَ الْجَوَارِحِ مُكَلِّبِينَ تُعَلِّمُونَهُنَّ مِمَّا عَلَّمَكُمُ اللَّهُ فَكُلُوا مِمَّا أَمْسَكْنَ عَلَيْكُمْ وَاذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهِ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ سَرِيعُ الْحِسَابِ﴾

[المائدة: 4]

’’ کہو کہ تم پر حلال کردی گئی ہیں پاک چیزیں اور جو سدھا رکھے ہیں تم نے شکاری جانور، شکار پر دوڑانے کیلئے کہ سکھاتے ہو ان کو وہ طریقہ جو سکھایا ہے تم کو اﷲ نے۔ سو کھاؤ اس میں سے جو پکڑ کر لائیں تمہارے لیے اور اس پر اﷲ کا نام لو اور اﷲ سے ڈرتے رہو۔‘‘

قرآن مجید نے خشکی کے شکار پرا ﷲ کا نام لینے کا حکم فرمایا اور احادیث نبوی ﷺ سے اس کی مکمل تشریح ملتی ہے کہ یہ شکار اسی وقت حلال ہوگا کہ جب ان کوا ﷲ کا نام لے کر ذبح کیا جائے۔اس کے برعکس سمندری شکار کیلئے قرآن میں اس قسم کا کوئی حکم نہیں دیا گیا بلکہ اسے حلال بیان کیا ،اور حدیث سے اس کی تشریح مل گئی کہ اس کا مردار بھی حلال ہے۔

حدیث تو قرآن مجید کے احکامات کی تشریح و توضیح کرتی ہے نہ کہ اس کا انکار۔ یہ عقیدہ رکھنا کہ احادیث قرآن کے احکامات کے انکار میں کوئی عقیدہ دے سکتی ہیں اور وہ استثنائی معاملہ ہے من گھڑت اور اپنے باطل عقیدے کا دفاع ہے ۔ ان کا جھوٹ سامنے آ چکا ہے قرآن اور حدیث دونوں ہی پانی کے مردار کو جائز قرار دیتے ہیں لیکن اپنے باطل عقیدے ’’ روح لوٹا دی جاتی ہے ‘‘ کو ثابت کرنے کے لئے لوگوں کو دھوکہ دیا کہ حدیث قرآن کےانکار میں بھی بیان کرسکتی ہے چنانچہ قرآن روح لوٹانے کے عقیدے سے منع کرتا ہے لیکن حدیث اسے ثابت کرتی ہے۔استغفر اللہ من ذالک

ان کی تحریر کےاس جملے پر بھی غور فرمائیں ، کہتے ہیں : ’’ ۔ اگرچہ بظاہر یہ حدیث قرآن کریم کے خلاف ہے لیکن جب قرآن و حدیث میں بظاہر تضاد ہوگا تو ان میں تطبیق کی جائے گی۔ ‘‘ قارئین ! قرآن کا ایک ایک حرف لاریب ہے۔ اگر کہیں قرآن و حدیث میں تطبیق کرنی پڑے گی تو کیا لاریب قرآن کا دیا ہوا عقیدہ بدل دیا جائے گا ؟ نعوذبااللہ وہ قرآن جس کے ایک ایک حرف کی حفاظت کی گارنٹی دی گئی ہے اس کی بات بدل دی جائے گی !

اہلحدیث عالم نے خود اپنے فرقے کا پول کھول دیا

اہلحدیث حضرات قرآن و حدیث کے اس متفقہ عقیدے کو غلط ثابت کرنے کے لئے براء بن عازب ؓ کی روایت پیش کرتے ہیں لیکن کثرت سے محدثین نے اس بات کو واضح کیا کہ’’ اعادہ روح‘‘ کو ثابت کرنے کیلئے پیش کی جانے والی یہ روایات موضوع و من گھڑت ہیں ( اس کی مکمل تفصیل طلب کرنے پر دی جا سکتی ہے ) لیکن اہلحدیثوں کی طرف سے اس کی شدید مخالفت کی گئی اور انہیں صحیح ثابت کرنے کیلئے پورا زور لگادیا گیا۔ اس بارے میں حقیقت پر مبنی تمام تردلائل تو یہ جھٹلاتے چلے گئے مگر اپنے ہی فرقے والوں کی بات یہ کیسے جھٹلا سکیں گے، ملاحظہ فرمائیے ان کے اپنے فرقے کے مفتی صاحب کی تحریر :

’’ قبر میں روح کا جسم میں لوٹایا جانا یا اس کا تعلق جسم سے قائم کردینا صحیح احادیث سے قطعاً ثابت نہیں ہے۔ ویسے بھی روح جسم میں موجود ہو پھر بھی وہ مردہ کہلائے، یہ لوگوں کی عقل کے مردہ ہونے کا ثبوت ہے اس مردہ عقل پر جس قدر ماتم کریں کم ہے۔‘‘ ( پہلا زینہ، صفحہ ۴۸، از خلیل الرحمٰن جاوید اہلحدیث)

’’…… لہذا مرنے کے بعد قیامت تک روح واپس اس جسم میں نہیں ڈالی جاتی اور نہ ہی تعلق قائم کیا جاتا ہے اور جو لوگ اعادہ روح کا عقیدہ رکھتے ہیں وہ سخت غلطی پر ہیں۔ ان کے پاس اس کی کوئی دلیل نہیں ہے۔ سوائے چند ضعیف یا موضوع روایا ت کے۔‘‘ ( ایضاً ، صفحہ 71)

( اہلحدیث عالم قاری خلیل الرحمن صاحب کا اس بارے میں ایک انٹرویو یو ٹیوب پر بھی موجود ہے )

اہلحدیثوں نے تو سارا زور اسی بات پر لگایا ہوا تھا کہ ہمارے فرقے کے بانی میاں نذیر سمیت سارے فرقہ والوں کا یہ عقیدہ احادیث صحیحہ سے ثابت ہے لیکن اب تو خودانہی کے ایک اہلحدیث علامہ نے اعتراف کرلیا ہے کہ اعادہ روح کا عقیدہ کسی صحیح حدیث سے ثابت نہیں اورانہی کے ’’ شیخ الحدیث و رئیس ‘‘عبد الرحمن شاھین نے اس کتاب کا مقدمہ لکھ کران باتوں کی تصدیق بھی فرمادی۔چنانچہ اب یہ کہے بغیر چارہ نہیں رہا کہ

دل کے پھپھولے جل اٹھے سینے کے داغ سے، اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے ۔

ان لوگوں کو چاہیے کہ ان دونوں افراد کو فوراً اپنے فرقے سے نکال دیں اس لیے کہ انہوں نے تو اس ساری قدو کاوش کا پول ہی کھول کر رکھ دیا ہے جو آج تک اہلحدیث اپنے اس باطل عقیدے کو ’’احادیث صحیحہ‘‘ سے ثابت کرنے کیلئے کرتے رہے ہیں۔

اسی قبیل کا ایک اور گروہ اعادہ روح کے بارے میں لوگوں کو اس طرح گمراہ کرتا ہے:

’’ جو خالقِ کائنات سورہ ٔحدید میں فرماتا ہے کہ لوہا آسمان سے نازل کیا گیا ہے اور پھر اسے زمین کی تہہ سے نکلوادے تو اس کیلئے کیا بعید ہے کہ کہ وہ قبر میں روح لوٹا کر مردے کو زندہ کردے۔‘‘ ( ارضی قبر یا فرضی قبر، جماعت المسلمین)

گویا اس بات کا تو انہوں نے اعتراف کر ہی لیا کہ قرآن و حدیث مرنے کے بعد قبر میں روح لوٹائے جانے کا کوئی عقیدہ فراہم نہیں کرتے اس لیے بات اب انہوں نےا ﷲ کی قدرت کی ہے۔ان کی خدمت میں عرض ہے کہ یہاں بات اﷲ کیلئے ’’ بعید‘‘ اور ’’قریب‘‘ کی نہیں ہورہی، بلکہ بات ہو رہی ہے اﷲ تعالیٰ کی طرف سے وضع کردہ اصول و قوانین کی جس کیلئے قرآن و حدیث کی محکم و واضح دلیل سے کام چلے گا منطق یا اﷲ کیلئے’’ ممکن‘‘ اور’’ نا ممکن‘‘ سے نہیں ۔ایمان تو اس چیز پر لانا ہے جو اﷲ تعالیٰ نے نازل فرمایا ہے، یہ نہیں کہ محض اکابرین کے ا قوال پر اپنا عقیدہ بنا لیا پھر وہ کتاب اﷲ سے ثابت نہ ہوسکے تو کہہ دیا جائے کہ ان ﷲ علیٰ کل شئیٍ قدیر ۔

اگر ایمان کی یہی بنیاد ہے تو پھر قادیانیوں کو کیوں کافر کہا جاتا ہے؟کیا اﷲ تعالیٰ کیلئے یہ ممکن نہیں کہ وہ غلام احمد کو نبی بنادے؟لیکن قادیانی کافر ہیں، اس لیے کہ ا ﷲ تعالیٰ نے فرمادیا کہ محمد ﷺ کے بعد اب کوئی نبی نہیں آنے والا۔ اب جو کوئی نبوت کا دعویٰ کرے وہ بھی کافر اور جو اس کو نبی مانے وہ بھی کافر ۔اس میں اﷲ تعالیٰ کیلئے ’’بعید ‘‘ اور ’’ قریب‘‘ کی کوئی اہمیت نہیں۔ روح کیلئے مالکِ کائنات کا فیصلہ واضح ہے کہ موت کے بعد یہ قیامت سے قبل نہیں لوٹائی جائے گی ،اب جو یہ عقیدہ رکھے کہ روح اس قبر میں لوٹادی جاتی ہے … تووہ کو ن ہوگا؟ خود ہی فیصلہ کرلیں۔

جب کوئی اللہ کی کتاب کو ماننے کا دعوی بھی کرے اور ساتھ ہی اپنے فرقے کے بڑوں کی تحریروں پر بھی ایمان لائے تو اس کا کیا حال ہوتا ہے ملاحظہ فرمائیں۔

جب کتاب اللہ پر ایمان نہ ہو تو انسان کیسے گمراہ ہوتا ہے۔

اس سے قبل ہم نے فرقہ اہلحدیث کے علماء کے کچھ احوال آپ کے سامنے پیش کئے تھے، اب ان کے ایک مفتی کا حال اور پیش کر رہے ہیں ، دیکھیں کہ جو کتاب اللہ کی دلیل سے ہٹ جائے تو پھر اسے دنیا میں کہیں سے دلیل نہیں مل سکتی ۔اب جبکہ انکا عقیدہ ہے ہی خلاف قرآن و حدیث ،اس لیے مجبوراً بار بار، موقع اور حالات کے حوالے سے اپنے عقیدے کو تبدیل کرنا پڑتا ہے۔ اہلحدیث مفتی ابو جابر عبد اﷲ دامانوی کی کل ۹۶ صفحے پر مبنی کتاب ’’ عقیدہ عذاب قبر ‘‘ ہے، اس مختصر سی کتا ب میں روح کے بارے میں کیاکیا بیان ہوا ہے ملاحظہ فرمائیے :

’’روح اور جسم کی جدائی کا نام موت ہے اور قیامت تک روح اور جسم میں جدائی رہے گی اور جب قیامت برپا ہوگی تو روح کو دوبارہ جسم میں داخل کردیا جائے گا۔۔۔‘‘ ( عقیدہ عذاب قبر، صفحہ۷۲۔۷۳، از ابوجابرعبد اﷲ دامانوی)

سورہ الزمر کی آیت نمبر ۴۲ پیش کرکے کہتے ہیں:

’’اس آیت میں جہاں بے شمار موتوں اوربے شمار زندگیوں کا تذکرہ ہے وہاں ’’ اعادہ روح‘‘ کا بھی تذکرہ موجود ہے جو ہر شخص کے بیدار ہونے پر اس کی طرف ہوتا ہے لہذا جن لوگوں کا یہ قول ہے کہ قیامت سے پہلے اعادہ روح نہیں ہوتا تو ان کا یہ قول بلا دلیل و برہان ہے۔‘‘ ( ایضاً، صفحہ ۸۳)

مزید دیکھیں :

’’مرنے کے بعد روح جنت یا جہنم میں داخل کردی جاتی ہے جبکہ جسم اپنی قبر میں عذاب یا ثواب سے ہمکنار ہوتا رہتا ہے اور یہی عقیدہ کتاب و سنت سے ثابت ہے۔ اس لئے کہ اگر روح جسم میں واپس آجائے تو پھر یہ عذاب مردہ کو نہیں بلکہ زندہ کو ہواجبکہ احادیث صحیحہ وضاحت کرتی ہیں کہ عذاب قبر میت(مردہ) کو ہوتا ہے۔ البتہ سوال و جواب کیلئے میت کی طرف روح کو کچھ دیر کیلئے لوٹایا جاتا ہے اور یہ استثنائی حالت ہے‘‘۔( ایضاً صفحہ ۲۵)

اب پھر موقف تبدیل ہوا، فرماتے ہیں :

’’اس حدیث سے ثابت ہوا کہ مومن کی روح جنت میں رہتی ہے اورقیامت کے دن ہی اسے اس کے جسم کی طرف لوٹایا جائے گا‘‘۔( ایضاً صفحہ ۷۳)

یہ بھی دیکھیں

’’پس ثابت ہوا کہ اعادہ روح الی القبر کا عقیدہ احادیث صحیحہ سے ثابت ہے اور عذاب القبراور اعادہ روح الی القبر دو الگ الگ مسئلے نہیں بلکہ اعادہ روح کا تعلق بھی عذاب القبر ہی سے ہے ۔‘‘ (ایضاً صفحہ ۷۱)

اب دوبارہ پھر سابقہ عقیدہ ، لکھتے ہیں :

’’ ان دلائل سے واضح طور پر ثابت ہو جاتا ہے کہ مومن کی روح جنت میں عیش و آرام کرتی ہے، وہاں کی نعمتیں کھاتی ہے، پرندوں کی طرح اڑتی پھرتی ہے۔ اور دوسری طرف کافر و مشرک اور منافق کی روح جہنم میں رہتی ہے اور عذاب سے دوچار ہوتی رہتی ہے۔‘‘ (ایضاً صفحہ ۷۴)

اب دوبارہ قرآن و حدیث کا انکار ، کرتے ہیں:

’’ پھر (کافر کی روح کو) آسمان سے پھینک دیا جاتا ہے پھر وہ روح قبر میں پہنچ جاتی ہے۔‘‘ ( ایضاً صفحہ ۸۱)

بک رہا ہوں جنوں میں کیا کیا                                        کچھ نہ سمجھے اﷲ کرے کوئی

ملاحظہ فرمایا کہ جب انسان کا عقیدہ کتاب ا ﷲ کی بجائے کسی اور بنیاد پر ہو تو کیسی کیسی قلابازیاں کھانی پڑتی ہیں۔ پہلے کہتے ہیں کہ روح قیامت تک اس جسم میں واپس نہیں آسکتی ، پھر کہتے ہیں کہ جو لوگ کہتے ہیں کہ قیامت سے پہلے اعادہ روح نہیں ہوتا ان کا یہ قول بلا دلیل ہے۔ یعنی خود ہی ایک بات بیان کرتے ہیں اور اپنے کہے کو غلط بھی کہتے ہیں۔ قبر میں روح لوٹائے جانے کو استثنائی مسئلہ قرار دیتے ہیں اور پھر خود ہی کہتے ہیں کہ اعادہ روح اور عذاب قبر الگ الگ مسئلے نہیں بلکہ یہ ایک ہی مسئلہ ہے یعنی اب یہ استثنائی مسئلہ بھی نہیں رہا بلکہ عذاب قبر کا حصہ بن گیا۔پھر ایک طرف کہتے ہیں کہ کافر کی روح قیامت تک جہنم میں رہے گی تو دوسری طرف کہتے ہیں اس کی روح آسمان سے پھینک دی جاتی ہے اور وہ قبر میں آجاتی ہے۔

یہ سب اسی لئے کہ کتاب اللہ کے مقابلے میں اپنے سلف و امام کے اقوال پر ایمان بنا لیا۔ان عالم صاحب کی اس تحریر کو پڑھیں ، عقل پر ماتم کرنے کا دل چاہتا ہے :

’’ اور پھر یہ تفریق روا رکھنا کہ دنیا میں ہر روز انسان مرے اور ہر روز اس کی روح اس کی طرف لوٹائی جائے اور اس سے کئی زندگیاں اورکئی موتیں مراد نہ ہوں۔ اورآخرت و برزخ میں اگر ایک مرتبہ اس کی طرف روح لوٹ آئے تو یہ بات قرآن کے خلاف قرار پا جائے؟‘‘ ( عقیدہ عذاب قبر، صفحہ۸۴، از ابوجابرعبد اﷲ دامانوی)

گویا اگر کوئی شخص یہ کہنے لگے کہ ہرمردہ ایک مرتبہ بولتا بھی ہے، سنتا اور چلتا پھرتا بھی توہے تواس سے قرآن و حدیث کا کوئی کفر نہ ہوگا، اس لیے کہ خود اﷲ تعالیٰ قرآن مجیدمیں اس کا تذکرہ فرماتا ہے کہ ہم نے انسان کو سننے اور بولنے والا بنایا ہے، یہ انسان ساری زندگی سنتا اور بولتا رہا ہے، اب اگر صرف ایک بار کیلئے یہ کہہ دیا جائے کہ یہ مرنے کے بعد بھی سنتا، بولتا اور زندگی کے دوسرے امور انجام دیتا ہے تو پھر کفر کیسا؟

قارئین و سامعین ! ملاحظہ فرمایا اہلحدیث حضرات کا طرز عمل ! سورۃ الزمر کی آیت نمبر ۴۲ خود انہوں نے پیش کی ہے، اس آیت میں موت سے ہمکنار ہونے والوں کی روح کے بارے میں ا ﷲ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ جس کیلئے موت کا فیصلہ کرتا ہے اس کی روح روک لیتا ہے،اور سورہ مومنون کی آیت نمبر ۹۹۔۱۰۰ میں فرمایا گیا کہ مرنے والے کی یہ روح اب قیامت سے قبل واپس نہیں لوٹ سکتی۔ لیکن جو عقیدہ زندہ انسانوں کیلئے دیا گیا اس کو وفات پا جانے والوں کیلئے دلیل بنا کر قرآن کی بات رد کر دی گئی اور بڑے فخریہ انداز میں کہا ’’تو یہ بات قرآن کے خلاف قرار پا جائے؟‘‘۔

بالکل جناب ، قرآن کے بھی خلاف ہوگا اور احادیث کے بھی۔ جب اللہ فرما دے کہ اب روح نہیں لوٹائی جائے گی تو اسی پر ایمان بنانا ہوگا ورنہ خود آپ کے دوسرے مفتی علامہ سعید بن عزیز یوسف زئی اپنی کتاب ’’ وفات الانبیاء ‘‘ میں لکھ گئے ہیں کہ یہ قرآن کا انکار ہوگا۔ آپ اللہ کی بات تو مانتے نہیں اپنے مفتی ہی کی مان لیں۔:

روح کے بارے میں فرقہ پرستوں کی خود ساختہ کہانیاں

اہلحدیث مفتی عبد اللہ جابر دامانوی صاحب عرف خاکی جان کی تحریروں کا تو آپ کو سابقہ پوسٹ میں علم ہو ہی گیا ہوگا کہ روح کے بارے میں پانچ پانچ عقیدے بیان کر گئے ہیں ،اب ایک اور اہلحدیث عالم کی تحریر ملاحظہ فرمائیں کہ روح کے بارے میں کس طرح ایک اور عقیدے کو ’’جنم‘‘ دیا۔ عبد الرحمن کیلانی صاحب لکھتے ہیں

’’روح کی دو قسمیں ہوتی ہیں ایک روح حیوانی جس کا تعلق گردش خون سے ہوتا ہے جب تک گردش خون برقرار ررہتی ہے یہ روح بھی موجود ہوگی۔ گردش رک جائے تو روح ختم ہوجاتی ہے یا نکل جاتی ہے۔

دوسری قسم کی روح نفسانی ہوتی ہے جسے روح انسانی بھی کہہ سکتے ہیں۔ روح کی یہ قسم وہ ہے جو دوران خواب سیر کرتی ہے۔ روح کی یہ قسم یا روح کا حصہ جب انسان کے جسم کو چھوڑ دیتا ہے تو انسان کے حواس خمسہ کی کارکردگی میں نمایاں کمی واقع ہوجاتی ہے۔ نیند کے دوران قوت باصرہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ان روحوں میں سے کوئی ایک مر جائے تو دوسری خو د بخود ختم ہو جاتی ہے‘‘ ( روح عذاب قبر اور سماع موتیٰ،صفحہ۱۴۔۱۵، از عبد الرحمن کیلانی )

وضاحت :

روح کے بارے میں ﷲ تعالیٰ فرماتا ہے:

﴿وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الرُّوحِ قُلِ الرُّوحُ مِنْ أَمْرِ رَبِّي وَمَا أُوتِيتُمْ مِنَ الْعِلْمِ إِلَّا قَلِيلًا﴾

[الإسراء: 85]

’’ اور یہ تم سے روح کے بارے میں سوال کرتے ہیں، کہدو کہ روح میرے رب کے حکم سے ہے اور( اس بارے میں) تم کو بہت کم علم دیا گیا ہے۔‘‘

اﷲ تعالیٰ نے تو دو روحوں کا کوئی علم نہیں دیابلکہ فرمایا کہ تم کو روح کے بارے میں بہت کم علم دیا گیا ہے، توروح کے بارے میں یہ اضافی علم کہاں سے القا ہوا ہے؟؟؟

من یکن الشیطٰن لہٗ قریناً فسآء قرینا               ’’اور جس کا ساتھی شیطان ہوا تو وہ بہت برا ساتھی ہے‘‘۔

جب ان کی طرف سے بے پرکی بیان کی ہوئی باتوں پر پکڑ کی گئی تو فرماتے ہیں:

’’ یہ اوراس قبیل کے دوسرے اعتراضات میں عام غلطی جو ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ بات تو کرتے ہیں روح اور عالم برزخ کی، اور اسے پرکھنا چاہتے ہیں انسانی عقل اور محسوسات سے، حالانکہ یہ بات اصولاً غلط ہے۔ کیونکہ ارشاد رباری تعالیٰ ہے کہ روح کے متعلق انسان کو بہت تھوڑا علم دیا گیا ہے۔ تو پھر اس تھوڑے سے علم کی بنیاد پر ایک نظریہ قائم کرنا، پھر اس نظریہ میں عقیدہ کا رنگ بھر دینا پھر اس میں اتنا متشدد اور متعصب ہوجانا کہ جو شخص اس نظریہ کے خلاف بات کرے اسے کافر و مشرک کے القاب دے ڈالنا، آخر یہ کہاں کی دانشمندی ہے؟‘‘ ( ایضاً صفحہ ۹۹۔۱۰۰)

غالباً اسی کو کہتے ہیں الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے ۔اﷲ تعالیٰ کے دئیے ہوئے تھوڑے سے علم کے مقابلے میں دو روحوں کا عقیدہ رکھنا اور روح کے قبر میں لوٹائے جانے کا عقیدہ رکھنا اہلحدیثوں کا طریقہ کار ہے، مومن تو صرف اس بات پر ایمان رکھتے ہیں جو اﷲ اوراسکے رسول صلی ﷲ علیہ و سلم کی طرف سے بیان کی گئی ہو۔پہلے خود ایک عقیدہ گھڑا اور پھیلایا اور جب کتاب اﷲ سے اس کا ثبوت مانگا گیا تو کہتے ہیں یہ روح اور عالم برزخ کی بات ہے ،انسانی عقل پر اسے نہیں پرکھاجاسکتا،کیونکہ اﷲ تعالیٰ نے اس بارے میں بہت کم علم دیا ہے۔لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اہلحدیثوں کی عقل میں یہ سب کیسے آگیا؟ ان کا استاد کون ہے، جس نے ان کو یہ سارا علم دے ڈالا جو ھدیً للناس یعنی قرآن کریم میں نہیں ہے۔ پھر یہی دو روح کا باطل فلسفہ آگے بڑھتا ہے اور فرماتے ہیں :

’’خواب میں اس روحِ نفسانی کی شکل و صورت بالکل ویسی ہوتی ہے جیسے بستر پر پڑے ہوئے( سوئے ہوئے) اس کے قالب کی ہوتی ہے۔ اور خواب میں جب روحیں آپس میں ملتی ہیں تو اس شکل و صورت کی ہم آہنگی کے واسطے سے ایک دوسرے سے متعارف ہوتی ہیں۔ ضروری نہیں کہ ان ہی روحوں کی آپس میں ملاقات ہو جو اس دنیا میں زندہ کہلاتے ہیں۔ یہ ملاقات ان لوگوں سے بھی ہوسکتی ہے جو اس جہاں سے رحلت کرچکے یا مر چکے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔خواب میں روح راحت و اَلم یعنی ثواب و عذاب سے دوچار ہوتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ان ہر دو اقسام کی روحوں کے بارے میں یہ بات بھی ملحوظ رکھنی چاہیے کہ ایک قسم کی روح کے خاتمہ سے دوسری قسم کی روح از خود ختم ہوجاتی ہے۔ اس کی مثال یوں سمجھئے کہ ایک شخص سویا ہوا کوئی خواب دیکھ رہا ہے کہ کسی دوسرے شخص نے اُسے سوتے میں قتل کردیا تو روح نفسانی خواہ کہیں بھی سیر کرتی ہوگی۔ اب یہ دوبارہ اس جسم میں داخل نہیں ہوگی بلکہ ا ﷲ تعالیٰ اسے وہیں قبض کرلے گا۔ اس کے برعکس صورت یہ ہے کہ اگرا ﷲ تعالیٰ کسی انسان کی روح نفسانی کو خواب میں قبض کرلیں تو بستر پر سونے والا آدمی بغیر کسی حادثہ یا بیماری کے مر جائے گا۔‘‘ (ایضاً صفحہ ۳۳۔۳۴)

ان کی تحریروں سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ کتاب و سنت کی تعلیمات کے مطابق علماء دین کی نہیں بلکہ کسی معروف سفلی عملیات کے نام نہاد پروفیسر صاحبان کی تحریریں ہیں۔ان کی ان باتوں کا کیا جواب دیا جائے ۔ اگر ان کی بے تکی بیان کی ہوئی ایک ایک بات کا جواب دیا جائے تو پھر کتب کا ایک انبار لگ جائے گا۔ اب تو انہوں نے اﷲ تعالیٰ کو جواب دینا ہے کہ یہ دو روحوں کا عقیدہ، زندہ کی روحوں کا مُردوں کی روحوں سے ملنے کا عقیدہ ، ایک روح کے خاتمے سے دوسری روح کے از خود ختم ہو جانے کا عقیدہ، کہاں سے ملا؟ قارئین / سامعین آپ کے سامنے ان باتوں کو لانے کا مقصد یہ ہے کہ آپ لوگ اندازہ لگا لیں کہ فرقہ اہلحدیث نے کتاب اللہ کیساتھ کیا کھیل کھیلا ہے، کس طرح اللہ کے بیان کو مسخ کرنے کی کوشش کی ہے۔

تقریباً یہی عقیدہ دیوبندی عالم قاری محمد طیب نے اپنی کتاب ’’ عالم برزخ‘‘ کے صفحہ نمبر ۲۶ پر پیش کیا ہے اور بتایا کہ زندہ افراد کی روح حالت نیند میں گھومتی پھرتی ہے اور وفات شدہ فرد کی روح سے ملاقات بھی کرتی ہے یہاں تک کہ ایک وفات شدہ صحابی کی روح نے ایک زندہ صحابی کی روح کو یہ بھی بتادیا کہ میرے گھر میں فلاں جگہ پیسے رکھے ہوئے ہیں۔

ایک اور اہلحدیث قاری خلیل الرحمن نے ’’پہلا زینہ‘‘ کے صفحہ نمبر۴۹۔۵۰ پر کسی حاجی عبد الستار میمن کا واقعہ بیان کر کے اس بات کو ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ فیمسک التی قضیٰ علیہ الموت کا مطلب یہ ہے کہ روح سوتے ہوئےا ﷲ تعالیٰ کے پاس چلی جاتی ہے اور اگر اس کی موت کا فیصلہ ہو جائے تو وہ روح پھر وہاں روک لی جاتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ قرآن و حدیث سے یہ عقیدہ ثابت ہی نہیں کہ حالت نیند میں روح جسم سے نکال لی جاتی ہے ۔ آئیے قرآن و حدیث کا مطالعہ کریں کہ کیا موت کے وقت روح قبض ہونا اور نیند کے وقت قبض روح ایک جیسا ہے؟

حالت نیند اور موت میں قبض روح کا فرق

اس سے قبل ہم نے فرقہ اہلحدیث اور دیوبند کے علماء کے بیانات کا ذکر کیا تھا کہ وہ کہتے ہیں کہ حالت نیند میں روح جسم سے نکل کر چلی جاتی ہے اور اس دوران دوسرے زندہ و مُردہ افراد کی روحوں سے ملاقات بھی کرتی ہے اور اس طرح ایک دوسرے کے حالات بھی جان لیتے ہیں۔یہ سب بدترین جھوٹ اور اللہ کے بیان کردہ کو جھٹلانا ہے۔ زیل میں ہم کتاب اللہ کے دلائل سے اس کا موازنہ پیش کر رہے ہیں کہ حالت نیند و روح میں روح قبض کرنے میں کیا فرق ہے۔

قرآن و حدیث میں مرنے والے کی روح کا قبض ہونے کا بیان:

﴿وَهُوَ الْقَاهِرُ فَوْقَ عِبَادِهِ وَيُرْسِلُ عَلَيْكُمْ حَفَظَةً حَتَّى إِذَا جَاءَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ تَوَفَّتْهُ رُسُلُنَا وَهُمْ لَا يُفَرِّطُونَ ؀ ثُمَّ رُدُّوا إِلَى اللَّهِ مَوْلَاهُمُ الْحَقِّ أَلَا لَهُ الْحُكْمُ وَهُوَ أَسْرَعُ الْحَاسِبِينَ﴾

[الأنعام: 61-62]

”اور وہ اپنے بندوں پر غالب ہے اور تم پر نگہبان بھیجتا ہے۔ یہاں تک کہ جب تم میں سے کسی کی موت آتی ہے تو ہمارے بھیجے ہوئے (فرشتے) اسکی روح قبض کر لیتے ہیں اور وہ کوئی کوتاہی نہیں کرتے۔ پھر تم پلٹائے جاتے ہو اللہ کی طرف جو تمھارا حقیقی مالک ہے سن لو کہ حکم اسی کا ہے اور وہ بہت جلد حساب لینے والاہے۔“

﴿وَٱلنَّٰزِعَٰتِ غَرۡقٗا ؀ وَٱلنَّٰشِطَٰتِ نَشۡطٗا ؀ وَٱلسَّٰبِحَٰتِ سَبۡحٗا ؀ فَٱلسَّٰبِقَٰتِ سَبۡقٗا﴾

[النازعات: 1-4]

’’ان (فرشتوں) کی قسم جو ڈوب کر کھینچ لیتے ہیں ، اور ان کی جو بند بند کھولنے والے ہیں ، اور ان کی جو (کائنات میں) تیزی سے تیرتے پھرتے ہیں ، پھر دوڑ کر آگے بڑھنے والوں کی قسم

وَلَوْ تَرَى إِذِ الظَّالِمُونَ فِي غَمَرَاتِ الْمَوْتِ وَالْمَلَائِكَةُ بَاسِطُو أَيْدِيهِمْ أَخْرِجُوا أَنْفُسَكُمُ ۔ ۔ ﴾

[الأنعام: 93]

”کاش تم ظالموں کو اس حالت میں دیکھ سکو جبکہ وہ سکرات موت میں ہوتے ہیں اور فرشتے ہاتھ بڑھا بڑھا کر کہہ رہے ہوتے ہیں نکالو اپنی روحوں کو ۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘

مرنے والے کی روح یہ جسم و دنیا سب کچھ چھوڑ کرا ﷲ تعالیٰ کے پاس چلی جاتی ہے۔

( الانعام: 94)

﴿كَلَّآ إِذَا بَلَغَتِ ٱلتَّرَاقِيَ ؀ وَقِيلَ مَنۡۜ رَاقٖ ؀ وَظَنَّ أَنَّهُ ٱلۡفِرَاقُ ؀ وَٱلۡتَفَّتِ ٱلسَّاقُ بِٱلسَّاقِ ؀ إِلَىٰ رَبِّكَ يَوۡمَئِذٍ ٱلۡمَسَاقُ﴾ [القيامة: 26-30]

’’ ہر گز نہیں ، جب روح گلے تک پہنچ جائے ، اور کہا جائے کہ کوئی جھاڑ پھونک کرنے والا ہے ؟ اور( یقین ہوجاتا ہے) کہ یہی جدائی کا وقت ہے، اور پنڈلی سے پنڈلی مل جائے ، آج تیرے پروردگار کی طرف جانا ہے‘‘۔

﴿فَلَوْلَا إِذَا بَلَغَتِ الْحُلْقُومَ ؀ وَأَنْتُمْ حِينَئِذٍ تَنْظُرُونَ﴾

[الواقعة: 83-84]

’’ اور جب روح گلے میں آپہنچتی ہے اور تم اس حالت کو دیکھ رہے ہوتے ہو۔‘‘

نبی صلی ا ﷲ علیہ و سلم نے فرمایا:

إن الروح إذا قبض تبعه البصر

( ام سلمۃ ؓ، مسلم ، کتاب الجنائز ، باب في إغماض الميت والدعاء له إذا حضر )

’’ …جب روح قبض کی جاتی ہے تو بصارت اس کے پیچھے نکل جاتی ہے‘‘۔

المؤمن يموت بعرق الجبين

( سنن نسائی ، کتاب الجنائز ، باب : علامۃ موت المومن )

’’ مومن مرتا ہے پیشانی کے پسینے سے ‘‘

عائشہؓ نے موت کی تشریح اس طرح فرمائی:

ولكن إذا طمح البصر، وحشرج الصدر، واقشعر الجلد فعند ذلك من أحب لقاء الله

( عن ابی ہریرہ ؓ ، نسائی ، کتاب الجنائز، فیمن احب لقاء اللہ )

…جب بینائی مٹ جائے اور چھاتی میں دم آجائے اور بدن کے روئیں کھڑے ہوجائیں ،یہ ہے کہ جو اﷲ سے ملنا پسند کرے۔ ۔‘‘

کتاب اﷲ کے ان دلائل سے ثابت ہوا کہ:

٭ مرتے وقت روح قبض کرنے کیلئے فرشتے بھیجے جاتے ہیں۔

٭ فرشتے انسانوں کے جسم سے مختلف انداز میں روح نکالتے ہیں۔

٭ فرشتے روح نکال کر اﷲ تعالیٰ کی طرف لے جاتے ہیں۔

٭ موت کے وقت روح گلے تک آپہنچتی ہے۔

٭ روح کے جسم سے اخراج پر پنڈلی سے پنڈلی مل جاتی ہے۔

٭ جسم سے روح نکلتے ہی بصارت بھی جسم سے نکل جاتی ہے۔

٭ روح سارے جسم سے نکلتی ہوئی چھاتی میں آتی ہے، رواں رواں کھڑا ہو جاتا ہے، پیشانی پر پسینہ آجاتا ہے۔

حالت سکرات میں واقع ہونے والے اسی قسم کے معاملات عام مشاہدہ میں آتے ہیں۔

حالت ِنیند میں روح کا قبض ہونا:

﴿اللَّهُ يَتَوَفَّى الْأَنْفُسَ حِينَ مَوْتِهَا وَالَّتِي لَمْ تَمُتْ فِي مَنَامِهَا فَيُمْسِكُ الَّتِي قَضَى عَلَيْهَا الْمَوْتَ وَيُرْسِلُ الْأُخْرَى إِلَى أَجَلٍ مُسَمًّى إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَاتٍ لِقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ﴾

[الزمر: 42]

”اللہ روحوں کو قبض کرلیتا ہے انکی موت کے وقت اور جنکی موت نہیں آئی انکی سوتے وقت، پھر جس پر موت کافیصلہ ہوتا ہے اسکی روح روک لیتا ہے اور دوسری ارواح کو چھوڑ دیتا ہے ایک مقررہ وقت تک کیلئے۔ اس میں نشانیاں ہیں ان لوگوں کیلئے جو غور و فکر کرتے ہیں‘‘۔

﴿وَهُوَ ٱلَّذِي يَتَوَفَّىٰكُم بِٱلَّيۡلِ وَيَعۡلَمُ مَا جَرَحۡتُم بِٱلنَّهَارِ ثُمَّ يَبۡعَثُكُمۡ فِيهِ لِيُقۡضَىٰٓ أَجَلٞ مُّسَمّٗىۖ ثُمَّ إِلَيۡهِ مَرۡجِعُكُمۡ ثُمَّ يُنَبِّئُكُم بِمَا كُنتُمۡ تَعۡمَلُونَ﴾

[الأنعام: 60]

’’ وہی ( اللہ ) ہی تو ہے جو تمہاری روحیں قبض کرلیتا ہے رات کو اور جانتا ہے جو کچھ تم کماتے ہو دن میں، پھر وہ تم کو اٹھا دیتا ہے اسی میں، تاکہ تم طے شدہ وقت پورا کرلو۔ پھر تم نے اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے، پھر وہ تمہیں بتا دے گا تم ( دنیا میں ) کیا کرتے تھے‘‘۔

نبی صلی اﷲ علیہ و سلم نے فرمایا :

ِإنَّ اللَّهَ قَبَضَ أَرْوَاحَكُمْ حِينَ شَاءَ، وَرَدَّهَا عَلَيْكُمْ حِينَ شَاءَ

( عن ابی قتادۃ، بخاری، کتاب بخاری، کتاب الصلاۃ ، بَابُ الأَذَانِ بَعْدَ ذَهَابِ الوَقْتِ)

’’ اﷲ تعالیٰ جب چاہتا ہےتمہاری روحوں کوقبض کرلیتا ہے اور جب چاہتا ہے انہیں لوٹا دیتا ہے‘‘۔

کتاب اﷲ سے نیند میں روح قبض کئے جانے کیلئے نہ تو کسی فرشتے کو بھیجے جانے کا ذکر ملتا ہے اور نا ہی جسم سے روح کے اخراج اور اسے اﷲ تعالیٰ کے پاس لے جانے کا کوئی عقیدہ ملتا ہے۔موت کے وقت جب روح اس جسم سے نکال لی جاتی ہے تو یہ جسم مردہ لاش بن جاتا ہے ، بصارت فوراً ہی جسم سے نکل جاتی اور دیگر تمام حواس بھی قیامت تک کیلئے ختم ہوجاتے ہیں، اس کے برخلاف سوتے ہوئے شخص کا جسم مردہ نہیں ہوتا سانس چل رہی ہوتی ہے ، کھانا ہضم ہوتا ہے،موسم کی گرمی و سردی کو بھی محسوس کرتا ہے، کچھ حواس معطل ،کچھ نیم معطل اور کچھ کام کررہے ہوتے ہیں اسی حوالہ سے نیندکو موت سے مشابہت دی جاتی ہے۔اب جس روح کے جسم سے نکلنے کا کوئی عقیدہ قرآن و حدیث سے ثابت ہی نہیں اورنہ یہ ثابت ہے کہ یہ روح اﷲ تعالیٰ کے پاس لے جائی جاتی ہے تو اس روح کا واپس جسم میں لوٹایا جانا کیسا؟

موت کے وقت جسم سے روح کے اخراج کی وجہ سے تمام حواس قیامت تک کیلئے ختم ہوجاتے ہیں لیکن حالت نیند میں ایسا نہیں ہوتا اس سے قیاس کیا جاتا ہے کہ یہ توفیٰ یعنی’’ رو ح کا قبضے میں لے لینا‘‘جسم کے اندر ہی ہوتا ہے جس کی وجہ سے کچھ حواس معطل، کچھ نیم معطل اور کچھ کام کررہے ہوتے ہیں نیز کتاب اﷲ سے اس روح کے جسم سے اخراج کا کوئی ثبوت نہ ملنا اس قیاس کو مزید تقویت دیتا ہے۔ حالت نیند میں جب روح قبض کی جاتی ہے تو اسے موت سے تشبیہ تو ضرور دی گئی ہے لیکن سویا ہوا یہ انسان زندہ ہی کہلاتا ہے، مردہ یا مرا ہوا نہیں ہوتااور جب روح چھوڑ دی جاتی ہے یعنی جب اس کا قبض ہونا ختم ہو جاتا ہے تو اس کے تمام حواس کام کرنے لگتے ہیں۔یہی بات اللہ تعالیٰ نے فرمائی کہ وہ تمہیں اٹھا دیتا ہے اسی میں،یعنی اس دنیا ، اس گھر و بستر پر۔ جبکہ جس کی روح نکال لی جاتی ہے وہ قیامت کے دن زمین سے اٹھایا جائے گا۔

اندازہ لگائیں کہ جو بات قرآن و حدیث میں کہیں بیان ہی نہیں ہوئی کہ سوتے وقت جسم سے روح نکل جاتی ہے اس پر انہوں نے عقیدہ بنا لیا ، اور اسے بنیاد بنا کر مشہور اہلحدیث عالم کیلانی صاحب نے دیو مالا کی کہانیاں گھڑ لیں کہ انسان کی دو روحیں ہوتی ہیں، ایک جسم میں رہتی ہے دوسری گھومتی پھرتی ہے، ایک مرے تو دوسری ایسی ہو جائے گی۔ کہیں سے لگتا ہے کہ یہ کسی قرآن و حدیث کے عالم کی تحریریں ہیں ؟

دیوبندیوں کے بڑے عالم قاری طیب تو مردہ افراد کی روحوں سے زندہ افراد کی روح سے ملاقات بھی کرا رہے ہیں، جبکہ بچے بچے کو معلوم ہے کہ جو روح اللہ کے پاس چلی جائے وہ قیامت سے قبل اس دنیا میں نہیں آئے گی، اب دیوبندی ہی جواب دیں گے کہ مرے ہوئے افراد کی روحوں سے کیسے ملاقات ہو جاتی ہے۔

قرآن و حدیث سے یہ سب واضح ہے لیکن پھر فرقہ پرست ایسا عقیدہ کیوں رکھتے ہیں؟ اللہ کے نازل کردہ قانون کے جھٹلانے کے لئے یہ جنگ کیوں لڑی جا رہی ہے۔

نیند میں جسم سے روح کے اخراج کا عقیدہ کیوں گھڑا گیا

اس سے قبل ہم نے قرآن و حدیث سے ا ن کے خود ساختہ عقیدے کا قرآن و حدیث سے تضاد پیش کیا تھا کہ سوتے ہوئے جسم سے روح کے اخراج کی کوئی دلیل نہیں ملتی، لیکن انہوں نے یہ عقیدہ کیوں رکھا ہوا ہے ؟ اللہ کے نازل کردہ قانون کے جھٹلانے کے لئے یہ جنگ کیوں لڑی جا رہی ہے۔ ملاحظہ فرمائیں خود ان کی تحریر سے :

’’ نیز جس طرح خواب میں روح راحت و اَلم سے دوچار ہوتی ہے۔ اور کبھی کبھی اس کے اثرات بدن پر بھی نمودار ہوجاتے ہیں۔ اسی طرح اس عرصہ موت میں رُوح کو عذاب و ثواب ہوتا ہی ہے،تاہم اس ملاقات کے دوران اس کے اثرات جسم یا اس کے ذرّات پر بھی وارد ہوتے ہیں۔یہی عذاب و ثواب کی حقیقت ہے۔‘‘ (روح،عذاب قبر اور سماع موتیٰ،صفحہ ۳۶، از عبدالرحمن کیلانی اہلحدیث)

مزید فرماتے ہیں :

’’ عالم برزخ کا تھوڑا بہت تصور،جتنا کہ اس عالم ِدنیا میں ممکن ہے، خواب اور اس کے کوائف و واردات میں غور و فکر کرنے سے حاصل ہوجاتا ہے کیونکہ نیند بھی زندگی اور موت کے درمیان برزخ ہے اور اسی لئے نیند کو موت سے تعبیر کیا گیا ہے۔فرق صرف یہ ہے کہ نیند میں چونکہ زندگی کے آثار غالب ہوتے ہیں اس لئے قرآن نے اس دور کو زندگی سے تعبیر کیا ہے اور برزخ میں چونکہ موت کے اثرات غالب ہوتے ہیں اس لئے قرآن نے اسے موت سے تعبیر کیا ہے۔ اگرچہ اس میں بھی زندگی کے کچھ نہ کچھ آثار پائے جاتے ہیں اور اسی لئے اس موت کے دور کو برزخی زندگی بھی کہہ دیا جاتا ہے۔‘‘ (ایضاً صفحہ ۹۹)

قرآن و حدیث کے خلاف بنایا گیا، یہ ہے وہ عقیدہ جس کیلئے یہ ساری جنگ لڑی جاتی ہے ۔ اسی عقیدے کو ثابت کرنے کیلئے کبھی دو روحوں کا عقیدہ دیا جاتا ہے اور کبھی ’’نیند‘‘ کو زندگی اور موت کے درمیان ’’ برزخ ‘‘ بنا دیا جاتا ہے۔ اگر ان کی ان مفروضہ باتوں پر یقین بھی کرلیا جائے ،تو جب بھی عذاب قبر کے بارے میں ان کا دیا ہوا یہ عقید ہ باطل ہی قرار پائے گا۔ اس لیے کہ انسان ابھی زندہ ہے،اس کے تمام حواس کام کررہے ہیں، دل دھڑک رہا اور سانس چل رہی ہے،دماغ بھی موجود ہے اور شعور بھی رکھتا ہے۔ اس لیے خواب دیکھنا اوراس کے اثرات جسم پر مرتب ہونا کوئی عجیب بات نہیں،لیکن جب مرنے کے بعد انسان کا یہ جسم بے جان وبے شعور ہوجاتا اورسڑنے گلنے لگتا ہے اورآخرکار مٹی میں مل کر مٹی بن جاتا ہے، جب یہ سوچنے اور سمجھنے والا دماغ ہی نہیں رہتا اور نہ احساس کرنے والا یہ جسم۔اب روح کا تعلق قائم کس سے ہوگا؟کون خواب دیکھے گا؟؟ کون اس کا ادراک کرے گا؟؟؟ثابت ہوا کہ یہ سب محض کاغذی فلسفہ ہے، اس سے زیادہ اس کی کوئی اہمیت نہیں۔ حیرت ہے ان کے پیچھے چلنے افراد پر کہ وہ کس طرح اندھے بن کر اپنے علماء کے پیچھے چل رہے ہیں۔ ایک جگہ اہلحدیث علماء اس قبر میں عذاب ہونے کا عقیدہ دیتے ہیں اور یہاں یہ عالم صاحب فرما رہے ہیں ’’ اسی طرح اس عرصہ موت میں رُوح کو عذاب و ثواب ہوتا ہی ہے،تاہم اس ملاقات کے دوران اس کے اثرات جسم یا اس کے ذرّات پر بھی وارد ہوتے ہیں ‘‘۔ یعنی اب فرما رہے ہیں کہ عذاب جسم کو نہیں ہوتا بلکہ رُوح کو ہوتا ہے اور جب رُوح جب اپنے جسم سے آکر ملاقات کرتی ہے تو عذاب کے وہ اثرات اس جسم پر بھی ہو جاتے ہیں۔ ان کی ان باتوں پر قرآن کی یہ آیت یاد آ جاتی ہے :

﴿وَمِنْهُمْ أُمِّيُّونَ لَا يَعْلَمُونَ الْكِتَابَ إِلَّا أَمَانِيَّ وَإِنْ هُمْ إِلَّا يَظُنُّونَ﴾

[البقرة: 78]

’’اور ان میں ایسے بھی بے پڑھے لکھے ہیں جو کتاب اﷲ کا علم نہیں رکھتے سوائے اپنی ذاتی خواہشات کے اور وہ محض گمان پر چل رہے ہیں‘‘۔

اہلحدیث دوسرے فرقوں کے لوگوں پر قرآن کی آیات کے حوالے سے بڑے فتوے لگاتے ہیں کہ یہ لوگ قرآن کا انکار کرتے ہوئے ان مردوں کو زندہ سمجھتے اور ان سے دعائیں کرتے ہیں حالانکہ یہ زندہ نہیں مردہ ہیں۔ لیکن کیا کریں کہ اپنے فرقہ کے عقیدے کو ثابت کرنے کیلئے یہ کہنے پر مجبور ہیں:’’اگرچہ اس میں بھی زندگی کے کچھ آثار پائے جاتے ہیں اور اسی لئے اس موت کے دور کو برزخی زندگی بھی کہہ دیا جاتا ہے ‘‘۔ دیکھا آپ نے! رب کائنات فرماتا ہے اموات غیر احیاء ’’ مردہ ہیں زندگی کی رمق نہیں‘‘ اہلحدیث کہتے ہیں’’ اس میں بھی زندگی کے کچھ آثار پائے جاتے ہیں‘‘ ایک طرف کتاب اﷲ ہے اور دوسری طرف یہ کتب علماء!

ایک منٹ ! یہ بات تو انہوں نے اپنے فرقے کے باطل عقیدے کو سچ ثابت کرنے کئے لئے بیان کی تھی ورنہ اہلسنت و الجماعت کے خلاف لکھتے ہیں :

’’اور یہی وہ بنیاد ہے جس کی طبقہ صوفیا کو ضرورت تھی۔ لیکن قرآن ان کی ایک ایک بات کی پرزور تردید کرتا ہے۔ وہ کیا ہے کہ یہ دور موت کا دور ہے زندگی کا دور نہیں قبروں میں پڑے ہوئے لوگ مردہ ہیں نہ ان میں شعور ہے نہ یہ سن سکتے ہیں، نہ جواب دے سکتے ہیں۔ اب دو ہی راستے ہیں یا تو ان اماموں اور بزرگوں کی روایات اور اقوال اور مکاشفات کو مان لیجئے اور قرآن سے دستبردار ہو جائیے ورنہ ان سب خرافات سے دست بردار ہونا پڑے گا‘‘۔(روح عذاب قبر اور سماع موتیٰ،از عبد الرحمن کیلانی اہلحدیث ،صفحہ۵۶ )

اللہ اکبر ! دیکھا آپ نے ان اہلحدیث عالم کی تضاد بیانی، جب اللہ کے بیان کردہ عذاب قبر کے عقیدے کو رد کرنا ہوا تو فرماتے ہیں:’’ اور برزخ میں چونکہ موت کے اثرات غالب ہوتے ہیں اس لئے قرآن نے اسے موت سے تعبیر کیا ہے۔ اگرچہ اس میں بھی زندگی کے کچھ نہ کچھ آثار پائے جاتے ہیں‘‘، اور جب اہل سنت و الجماعت والوں کے عقیدے کو جھوٹا ثابت کرنے کی ٹھانی تو لکھا : ’’ وہ کیا ہے کہ یہ دور موت کا دور ہے زندگی کا دور نہیں قبروں میں پڑے ہوئے لوگ مردہ ہیں نہ ان میں شعور ہے نہ یہ سن سکتے ہیں، نہ جواب دے سکتے ہیں۔ ‘‘

یوں اہلحدیث عالم صاحب نے خود اپنے بارے میں قرآن سے دستبرداری کا اعلان کردیا۔

قرآن مجید ہر انسان کیلئے دوموتیں اور دو زندگیوں کا عقیدہ فراہم کرتا ہے۔جسم میں روح کا آنا، یعنی جسم اور روح کا اتصال ’’زندگی‘‘ کہلاتا ہے۔ قرآن کے دئیے ہوئے اس عقیدے کے خلاف مرنے کے بعد واپس روح کا اس جسم میں لوٹائے جانے کا عقیدہ ایک تیسری زندگی کا عقیدہ فراہم کرتا ہے، جو ﷲ کے بتائے ہوئے قانون کا انکار ہے اور ایسا عقیدہ رکھنے والا یقیناً کفر کا مرتکب ہوتا ہے۔اب یہ فتویٰ جب ان فرقہ پرستوں پر نافذ ہونے لگا تو لوگوں کو دھوکہ دینے کیلئے انہوں نے ایک اورڈھونگ رچایا اور قرآن مجید میں نیند کیلئے روح قبض کرنے اور پھر اسے چھوڑ دینے کے بیان کو بنیاد بنا کر کہتے ہیں کہ:

’’ اس آیت سے ثابت ہوا کہ اﷲ تعالیٰ ہر اس شخص پر جو رات کو سوتا ہے موت طاری فرما دیتا ہے اور صبح کے وقت اسے دوبارہ زندہ کردیتا ہے اور اس طرح وہ شخص قیامت سے پہلے بے شمار موتیں اور بے شمارزندگیاں حاصل کرلیتا ہے۔……دنیا کی زندگی میں روزانہ ’’اعادہ روح‘‘ ہوتا ہے لیکن کسی شخص نے آج تک ان دلائل سے یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا کہ اس سے کئی زندگیاں اور کئی موتیں مراد ہیں۔‘‘ (عقیدہ عذاب قبر،صفحہ ۸۲۔۸۳،از ابوجابر عبداﷲ دامانوی اہلحدیث)

کیا ظلم ہے ، کس طرح لوگوں کو دھوکہ دیکر انہیں خلاف قرآن و حدیث عقیدے پر لایا جا رہا ہے ، خود نہیں بدلتے بلکہ قرآن کو بدلنے کی کوشش کرتے ہیں۔ قرآن کی آیت کا بغور مطالعہ فرمائیں اور اندازہ لگائیں کہ کس گھناؤنے انداز میں اس آیت کو اپنے باطل عقیدے کے بھینٹ چڑھانے کی کوشش کی ہے:

﴿وَهُوَ الَّذِي يَتَوَفَّاكُمْ بِاللَّيْلِ وَيَعْلَمُ مَا جَرَحْتُمْ بِالنَّهَارِ ثُمَّ يَبْعَثُكُمْ فِيهِ لِيُقْضَى أَجَلٌ مُسَمًّى ثُمَّ إِلَيْهِ مَرْجِعُكُمْ ثُمَّ يُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ﴾

[الأنعام: 60]

’’اور وہی تو ہے جو سوتے ہوئے تمہاری روحوں کو قبض کر لیتا ہے اور جانتا ہے جو کچھ تم دن میں کماتے ہو،پھر وہ وہ تمہیں اٹھا دیتا ہے اسی میں تاکہ طے شدہ وقت پورا کرلو،پھر تمہیں اسی کی طرف جانا ہے ،پھر وہ تمہیں بتادیگا کہ تم کیا کرتے رہے ہو‘‘۔

اس آیت میں ’’ موت طاری ‘‘ کردینے کا کوئی ذکر ہی نہیں،بلکہ’’ قبض روح‘‘ برائے’’ نیند‘‘ ہے جو کہ موت ہر گز نہیں۔اس سے بالکل اگلی آیت میں موت کا ذکر ہے اور ساتھ ہی اس بات کا بھی بیان ہے کہ موت کیلئے قبض روح کے بعد ’’ روح‘‘ اﷲ تعالیٰ کے پاس لے جائی جاتی ہے؛

﴿وَهُوَ الْقَاهِرُ فَوْقَ عِبَادِهِ وَيُرْسِلُ عَلَيْكُمْ حَفَظَةً حَتَّى إِذَا جَاءَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ تَوَفَّتْهُ رُسُلُنَا وَهُمْ لَا يُفَرِّطُونَ ؀ ثُمَّ رُدُّوا إِلَى اللَّهِ مَوْلَاهُمُ الْحَقِّ أَلَا لَهُ الْحُكْمُ وَهُوَ أَسْرَعُ الْحَاسِبِينَ﴾

[الأنعام: 61-62]

”اور وہ اپنے بندوں پر غالب ہے اور تم پر نگہبان بھیجتا ہے۔ یہاں تک کہ جب تم میں سے کسی کی موت آتی ہے تو ہمارے بھیجے ہوئے (فرشتے) اسکی روح قبض کر لیتے ہیں اور وہ کوئی کوتاہی نہیں کرتے۔ پھر تم پلٹائے جاتے ہو اللہ کی طرف جو تمھارا حقیقی مالک ہے سن لو کہ حکم اسی کا ہے اور وہ بہت جلد حساب لینے والاہے۔“

لیکن انہوں نے زندگی کے دور کیلئے بیان کردہ ’’ قبض روح‘‘ کو موت قرار دے دیا، اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ جو لوگ موت کے بعد ’’روح لوٹائے جانے کو تیسری زندگی قرار دیتے ہیں‘‘، انکا عقیدہ غلط ہے۔ یعنی پہلے زندگی کے اس دور کو موت بیان کیا اور پھر فرما دیا کہ دیکھو روح واپس لوٹا دی جاتی ہے۔

غور فرمائیے کہ کیا زندگی کے دور کی کوئی بات موت کے بعد کے دور کیلئے دلیل بن سکتی ہے؟ جب کہ نہ اسمیں روح جسم سے نکالی جاتی ہو اور نہ واپس لوٹائی جاتی ہو!

حیرت ہوتی ہے ان کے قرآن پر ایمان کے دعوے کی ! کس طرح آیات کا مفہوم کو توڑ مڑوڑ کر پیش کرتے ہیں۔

دو موتیں دو زندگیاں قرآن و حدیث کی روشنی میں

ہم نے اہلحدیث مفتی کے حوالے سے بیان کیا تھا کہ یہ لوگ نیند کو بھی ’’ موت ‘‘ کہتے ہیں حالانکہ وہ موت نہیں بلکہ زندگی کا دور ہوتا ہے۔ اسے بنیاد بنا کر یہ بار بار زندگی اور بار بار موت کا عقیدہ اس لئے دیتے ہیں کہ مرنے کے بعد اس جسم میں روح واپس آجانے کا عقیدہ ثابت کرسکیں، جبکہ قرآن و احادیث صحیحہ اس کا مکمل انکار کرتی ہے۔ اگر اس زمینی قبر میں روح واپس آجائے تو یہ انسان کی ایک اور زندگی شمار ہوگی، برخلاف اس کے کتاب اللہ ہر انسان کے لئے صرف دو موتیں اور دو زندگیوں کا عقیدہ فراہم کرتی ہے۔اللہ تعالی فرماتا ہے :

﴿كَيْفَ تَكْفُرُونَ بِاللَّهِ وَكُنْتُمْ أَمْوَاتًا فَأَحْيَاكُمْ ثُمَّ يُمِيتُكُمْ ثُمَّ يُحْيِيكُمْ ثُمَّ إِلَيْهِ تُرْجَعُونَ﴾

[البقرة: 28]

’’ تم کیسے اللہ کا کفر کرتے ہو تم مرے ہوئے تھے اللہ نے تمہیں زندہ کیا، پھر وہ تمہیں موت دیتا ہے ،پھر تمہیں زندہ کرے گا اور پھر تم اسی کی طرف لوٹائے جاؤگے۔ ‘‘

اس آیت میں انسانی زندگی کے چار ادوار بیان کئے گئے ہیں جو ہر انسان کے لئے ہیں۔ سورہ المومن میں اس کا دوبارہ ذکر کیا گیا :

﴿قَالُوا رَبَّنَا أَمَتَّنَا اثْنَتَيْنِ وَأَحْيَيْتَنَا اثْنَتَيْنِ فَاعْتَرَفْنَا بِذُنُوبِنَا فَهَلْ إِلَى خُرُوجٍ مِنْ سَبِيلٍ﴾

[غافر: 11]

’’وہ کہیں گے اے ہمارے رب واقعی تو نے ہم کو دو مرتبہ موت بھی دے دی اور دو مرتبہ زندگی بھی بخش دی سو ہم نے اعتراف کرلیا اپنے گناہوں کا تو کیا اب نکلنے کی کوئی صورت ہوسکتی ہے؟‘‘

واضح ہوا کہ ہر انسان کے لئے یہ چار مراحل لازم ہیں :

۱: پہلی موت

۲: پہلی زندگی

۳: دوسری موت

۴: دوسری زندگی

اللہ تعالی نے پہلی انسانی زندگی سے قبل ایک موت کا ذکر فرمایا ہے، سورہ اعراف میں فرمایا گیا

﴿وَإِذْ أَخَذَ رَبُّكَ مِنْ بَنِي آدَمَ مِنْ ظُهُورِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ وَأَشْهَدَهُمْ عَلَى أَنْفُسِهِمْ أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ قَالُوا بَلَى شَهِدْنَا أَنْ تَقُولُوا يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِنَّا كُنَّا عَنْ هَذَا غَافِلِينَ﴾

[الأعراف: 172]

’’ اور جب تمہارے رب نے اولاد آدم کی پشت سے ان کی اولاد کو نکالا اور ان سے ان ہی کے متعلق اقرار لیا کہ کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟ سب نے جواب دیا کیوں نہیں! ہم سب گواہ بنتے ہیں ۔ تاکہ تم لوگ قیامت کے روز یوں نہ کہو کہ ہمیں اس کی خبر نہیں تھی۔‘‘

حدیث نبوی ﷺ :

عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «الأَرْوَاحُ جُنُودٌ مُجَنَّدَةٌ فَمَا تَعَارَفَ مِنْهَا ائْتَلَفَ، وَمَا تَنَاكَرَ مِنْهَا اخْتَلَفَ»

( بخاری ، کتاب الاحادیث الانبیاء ، بَابٌ: الأَرْوَاحُ جُنُودٌ مُجَنَّدَةٌ )

’’عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا روحیں مجتمع جماعتیں تھیں جن کا ایک دوسرے سے تعارف ہوا ان میں محبت ہوگئی اور جن کا تعارف نہیں ہوا ان میں اختلاف رہے گا۔ ‘‘

معلوم ہوا کہ انسانی روحیں موجود تھیں، لیکن اللہ تعالی نےاسے موت کا دور بیان فرمایا۔

پہلی زندگی :

پہلی موت کے اس دور کے بعد انسانی کی پہلی زندگی کا دور آتا ہے ، مالک کائنات فرماتا ہے :

﴿وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ مِنْ سُلَالَةٍ مِنْ طِينٍ ؀ ثُمَّ جَعَلْنَاهُ نُطْفَةً فِي قَرَارٍ مَكِينٍ ؀ ثُمَّ خَلَقْنَا النُّطْفَةَ عَلَقَةً فَخَلَقْنَا الْعَلَقَةَ مُضْغَةً فَخَلَقْنَا الْمُضْغَةَ عِظَامًا فَكَسَوْنَا الْعِظَامَ لَحْمًا ثُمَّ أَنْشَأْنَاهُ خَلْقًا آخَرَ فَتَبَارَكَ اللَّهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ ؀ ثُمَّ إِنَّكُمْ بَعْدَ ذَلِكَ لَمَيِّتُونَ ؀ ثُمَّ إِنَّكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ تُبْعَثُونَ﴾

[المؤمنون: 12-16]

’’ اور ہم نے انسان کو مٹی کے خلاصے سے پیدا کیا ہے ،پھر اس کو اس کو مضبوط (اور محفوظ) جگہ میں نطفہ بنا کر رکھا،پھر نطفے کو لوتھڑا بنایا پھر لوتھڑے کی بوٹی بنائی پھر بوٹی کی ہڈیاں بنائیں پھر ہڈیوں پر گوشت (پوست) چڑھایا پھر اس کو نئی صورت میں بنا دیا تو اللہ جو سب سے بہتر بنانے والا ہے بڑا بابرکت ہے،پھر اس کے بعد تم مر جاؤگے،پھر تم قیامت کے دن اٹھائے جاؤ گے ۔‘‘

﴿الَّذِي أَحْسَنَ كُلَّ شَيْءٍ خَلَقَهُ وَبَدَأَ خَلْقَ الْإِنْسَانِ مِنْ طِينٍ ؀ ثُمَّ جَعَلَ نَسْلَهُ مِنْ سُلَالَةٍ مِنْ مَاءٍ مَهِينٍ ؀ ثُمَّ سَوَّاهُ وَنَفَخَ فِيهِ مِنْ رُوحِهِ وَجَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَالْأَبْصَارَ وَالْأَفْئِدَةَ قَلِيلًا مَا تَشْكُرُونَ﴾

[السجدة: 7-9]

’’ جس نے ہر چیز کو بہترین صورت میں بنایا اور انسان کی تخلیق مٹی سے کی، اور پھر اس کی نسل ایک حقیر پانی سے چلائی، پھر اسے (رحم مادر میں ) درست کیا اور اپنی روح پھونکی اور تمہارے کان، آنکھیں اور دل بنائے ، تم لوگ کم ہی شکرگزار ہوتے ہو۔‘‘

قال عبد الله حدثنا رسول الله صلی الله عليه وسلم وهو الصادق المصدوق قال إن أحدکم يجمع خلقه في بطن أمه أربعين يوما ثم يکون علقة مثل ذلک ثم يکون مضغة مثل ذلک ثم يبعث الله ملکا فيؤمر بأربع کلمات ويقال له اکتب عمله ورزقه وأجله وشقي أو سعيد ثم ينفخ فيه الروح فإن الرجل منکم ليعمل حتی ما يکون بينه وبين الجنة إلا ذراع فيسبق عليه کتابه فيعمل بعمل أهل النار ويعمل حتی ما يکون بينه وبين النار إلا ذراع فيسبق عليه الکتاب فيعمل بعمل أهل الجنة

(بخاری ، کتاب بداء الخلق ، بَابُ ذِكْرِ المَلاَئِكَةِ )

’’عبداللہ ؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا اور وہ صادق و مصدوق تھے کہ تم میں سے ہر ایک کی پیدائش ماں کے پیٹ میں پوری کی جاتی ہے چالیس دن تک (نطفہ رہتا ہے) پھر اتنے ہی دنوں تک مضغہ گوشت رہتا ہے پھر اللہ تعالیٰ ایک فرشتہ کو چار باتوں کا حکم دے کر بھیجتا ہے اور اس سے کہا جاتا ہے کہ اس کا عمل اس کا رزق اور اس کی عمر لکھ دے اور یہ (بھی لکھ دے) کہ وہ بد بخت (جہنمی) ہے یا نیک بخت (جنتی) پھر اس میں روح پھونک دی جاتی ہے بیشک تم میں سے ایک آدمی ایسے عمل کرتا ہے کہ اس کے اور جنت کے درمیان (صرف) ایک گز کا فاصلہ رہ جاتا ہے کہ اس کا نوشتہ (تقدیر) غالب آجاتا ہے اور وہ دوزخیوں کے عمل کرنے لگتا ہے اور (ایک آدمی) ایسے عمل کرتا ہے کہ اس کے اور جہنم کے درمیان (صرف) ایک گز کا فاصلہ رہ جاتا ہے کہ اتنے میں تقدیر (الٰہی) اس پر غالب آجاتی ہے اور وہ اہل جنت کے کام کرنے لگتا ہے۔ ‘‘

قرآن و حدیث کے بیان سے واضح ہوا کہ انسان کی پہلی موت کا دور وہ ہے کہ جب روح موجود ہوتی ہے اور مگر یہ انسانی جسم نہیں ہوتا، یعنی جسم اور روح کی جدائی کا دور ہی موت کادور کہلاتا ہے۔ اس دور کے بعد انسان کی زندگی کا پہلا دور شروع ہوتا ہے، جب یہ انسانی جسم بنایا جاتا اور اس میں اس کی روح ڈال دی جاتی ہے۔گویا روح اور مٹی سے بنے اس انسانی جسم کے مل جانے کو ’’زندگی ‘‘ کہتے ہیں، اور اس دور کا اختتام انسان کی موت پر ہوتا ہے۔

انسان کی دوسری موت:

ابتداء میں قرآن و حدیث کابیان پیش کیا گیا ہے کہ موت کے وقت فرشتے اس جسم سے روح نکال لیتے ہیں اور وہ روح اللہ تعالیٰ کے پاس لیجائی جاتی ہے اور اللہ کا فرمان ہے کہ اب یہ روح قیامت سے پہلے اس جسم میں واپس نہیں لوٹائی جائے گی یعنی اب قیامت تک یہ موت کا دور ہے جیسا کہ سورہ المومنون میں بیان کیا گیا :

﴿ثُمَّ إِنَّكُمْ بَعْدَ ذَلِكَ لَمَيِّتُونَ ؀ ثُمَّ إِنَّكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ تُبْعَثُو﴾

[المؤمنون: 15-16]

’’ پھر اس ( زندگی) کے بعد تمہیں موت آجاتی ہے ، پھر تم قیامت کے دن اٹھائے جاؤگے ‘‘۔

انسان کی دوسری زندگی:

اوپر بیان کردہ سورہ المومنون کی آیت نمبر 16 کےمطابق اب یہ انسان قیامت کے دن زندہ کیا جائے گا۔اس بارے میں قرآن و حدیث میں یہی بیان ملتا ہے کہ اللہ تعالی قیامت کے دن ان سڑے گلے جسموں کو دوبارہ بنا کر انہیں زندہ کرے گا اور پھر انسانیت کا فیصلہ ہوگا،اور انہیں جنت یا جہنم میں داخل کیا جائے گا،اب انہیں جو زندگی ملے گی اس کا کبھی خاتمہ نہیں ہوگا۔

اب اگر یہ عقیدہ رکھ لیا جائے کہ مرنے کے بعد قبض شدہ روح واپس اس جسم میں آجاتی ہے تو یہ انسان کی تیسری زندگی کہلائے گی کیونکہ زندگی اسی دور کو کہا گیا ہے کہ جب مٹی کے اس جسم اور روح کا اتصال ہو۔

یہ عقیدہ قرآن و حدیث کا کھلا انکار ہے کیونکہ قرآن اس دور کو موت کا دور کہتا ہے تیسری زندگی کا نہیں۔

کفار کی ارواح کے لئے آسمانی کا دروازہ نہ کھلنا۔

قرآن و حدیث کا متفقہ عقیدہ ہے کہ مرنے والے کی روح قیامت سے قبل اس زمین پر نہیں آئے گی۔ لیکن فرقہ پرست ہر لمحے اس تاک میں رہتے ہیں کہ اللہ کے دئیے ہوئے عقیدے کو کسی طرح جھٹلا دیں ورنہ ان کے فرقے کا عقیدہ جھوٹا قرار پائے گا۔ لہذا اپنا جھوٹا عقیدہ صحیح ثابت کرنے کی کوشش کرنے کے لئے یہ آیت پیش کرتے ہیں :

﴿إِنَّ الَّذِينَ كَذَّبُوا بِآيَاتِنَا وَاسْتَكْبَرُوا عَنْهَا لَا تُفَتَّحُ لَهُمْ أَبْوَابُ السَّمَاءِ وَلَا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ حَتَّى يَلِجَ الْجَمَلُ فِي سَمِّ الْخِيَاطِ وَكَذَلِكَ نَجْزِي الْمُجْرِمِينَ﴾

[الأعراف: 40]

’’بیشک ! جن لوگوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا اور ان کے مقابلہ میں تکبر کیا ‘ ان کے لیے آسمان کے دروازے ہرگز نہیں کھولے جائیں گے اور وہ جنت میں داخل نہیں ہوں گے ‘ یہاں تک کہ گھس جائے اونٹ سوئی کے ناکے میں۔ ہم اسی طرح مجرموں کو بدلہ دیتے ہیں‘‘۔

اس آیت سے یہ ثابت کرتے ہیں کہ کفار کی روحوں کے لئے آسمان کے دروازے نہیں کھولے جائیں گے اور ساتھ ایک خلاف قرآن و حدیث ضعیف روایت کا بھی حوالہ دیتے ہیں کہ اس کی روح آسمان سے پھینک دی جاتی ہے اور وہ اس قبر میں آ جاتی ہے ۔ جب کہ اس آیت میں اس قسم کا کوئی بیان ہی نہیں، بلکہ بتایا گیا ہے کہ کفار کبھی بھی جنت میں داخل نہ ہو سکیں گے، ان پر آسمان سے رحمت کے دروازے نہیں کھولے جائیں گے ، جیسا کہ سورہ الاعراف ہی میں فرمایا گیا :

﴿وَلَوْ أَنَّ أَهْلَ الْقُرَى آمَنُوا وَاتَّقَوْا لَفَتَحْنَا عَلَيْهِمْ بَرَكَاتٍ مِنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ وَلَكِنْ كَذَّبُوا فَأَخَذْنَاهُمْ بِمَا كَانُوا يَكْسِبُونَ﴾

[الأعراف: 96]

’’اگر بستیوں کے لوگ ایمان لاتے اور تقویٰ کی روش اختیار کرتے تو ہم ان پر آسمان اور زمین سے برکتوں کے دروازے کھول دیتے لیکن انھوں نے جھٹلایا تو ہم نے ان کی کرتوتوں کی پاداش میں ان کو پکڑ لیا۔ ‘‘

یہ لوگ سورہ اعراف کی آیت نمبر 40 تو پیش کردیتے ہیں لیکن اس کے بعد کی آیت نہیں بیان کرتے، ورنہ معاملہ ہی صاف ہو جائے، ملاحظہ فرمائیں :

﴿إِنَّ الَّذِينَ كَذَّبُوا بِآيَاتِنَا وَاسْتَكْبَرُوا عَنْهَا لَا تُفَتَّحُ لَهُمْ أَبْوَابُ السَّمَاءِ وَلَا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ حَتَّى يَلِجَ الْجَمَلُ فِي سَمِّ الْخِيَاطِ وَكَذَلِكَ نَجْزِي الْمُجْرِمِينَ ؀ لَهُمْ مِنْ جَهَنَّمَ مِهَادٌ وَمِنْ فَوْقِهِمْ غَوَاشٍ وَكَذَلِكَ نَجْزِي الظَّالِمِينَ﴾

[الأعراف: 40-41]

’’بیشک ! جن لوگوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا اور ان کے مقابلہ میں تکبر کیا ‘ ان کے لیے آسمان کے دروازے ہرگز نہیں کھولے جائیں گے اور وہ جنت میں داخل نہیں ہوں گے ‘یہاں تک کہ گھس جائے اونٹ سوئی کے ناکے میں۔ ہم اسی طرح مجرموں کو بدلہ دیتے ہیں۔ ان کے لئے بچھونا بھی جہنم کا ہوگا اور اوپر سے اوڑھنا بھی جہنم کا اور ہم ظالموں کو ایسے ہی سزا دیا کرتے ہیں‘‘۔

یعنی یہاں بات جنت کے داخلے کی ہو رہی ہے۔ آسمان کے دروازے سے مراد رحمت کے دروازے، جنت کے دروازے ہیں ۔

رہا کافروں کی روح کاآسمان پر جانا تو وہ قرآن و حدیث دونوں سے ثابت ہے :

﴿وَهُوَ الْقَاهِرُ فَوْقَ عِبَادِهِ وَيُرْسِلُ عَلَيْكُمْ حَفَظَةً حَتَّى إِذَا جَاءَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ تَوَفَّتْهُ رُسُلُنَا وَهُمْ لَا يُفَرِّطُونَ ؀ ثُمَّ رُدُّوا إِلَى اللَّهِ مَوْلَاهُمُ الْحَقِّ أَلَا لَهُ الْحُكْمُ وَهُوَ أَسْرَعُ الْحَاسِبِينَ﴾

[الأنعام: 61-62]

”اور وہ اپنے بندوں پر غالب ہے اور تم پر نگہبان بھیجتا ہے۔ یہاں تک کہ جب تم میں سے کسی کی موت آتی ہے تو ہمارے بھیجے ہوئے (فرشتے) اسکی روح قبض کر لیتے ہیں اور وہ کوئی کوتاہی نہیں کرتے۔ پھر تم پلٹائے جاتے ہو اللہ کی طرف جو تمھارا حقیقی مالک ہے سن لو کہ حکم اسی کا ہے اور وہ بہت جلد حساب لینے والاہے۔“

﴿الَّذِينَ تَتَوَفَّاهُمُ الْمَلَائِكَةُ ظَالِمِي أَنْفُسِهِمْ فَأَلْقَوُا السَّلَمَ مَا كُنَّا نَعْمَلُ مِنْ سُوءٍ بَلَى إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ ؀ فَادْخُلُوا أَبْوَابَ جَهَنَّمَ خَالِدِينَ فِيهَا فَلَبِئْسَ مَثْوَى الْمُتَكَبِّرِينَ﴾

[النحل: 28-29]

’’ ان نفس پر ظلم کرنے والوں کی جب فرشتے روح قبض کرتے ہیں تو اس موقع پر لوگ بڑی فرمانبرداری کے بول بولتے ہیں کہ ہم تو کوئی برا کام نہیں کرتے تھے۔، ( فرشتے جواب دیتے ہیں ) ، یقینا اللہ جانتا ہے جو کچھ تم کیا کرتے تھے۔پس داخل ہو جاو جہنم کے دروازوں میں جہاں تمہیں ہمیشہ رہنا ہے، پس برا ہی ٹھکانہ ہے متکبرین کے لئے۔‘‘

﴿وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَى عَلَى اللَّهِ كَذِبًا أَوْ قَالَ أُوحِيَ إِلَيَّ وَلَمْ يُوحَ إِلَيْهِ شَيْءٌ وَمَنْ قَالَ سَأُنْزِلُ مِثْلَ مَا أَنْزَلَ اللَّهُ وَلَوْ تَرَى إِذِ الظَّالِمُونَ فِي غَمَرَاتِ الْمَوْتِ وَالْمَلَائِكَةُ بَاسِطُو أَيْدِيهِمْ أَخْرِجُوا أَنْفُسَكُمُ الْيَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذَابَ الْهُونِ بِمَا كُنْتُمْ تَقُولُونَ عَلَى اللَّهِ غَيْرَ الْحَقِّ وَكُنْتُمْ عَنْ آيَاتِهِ تَسْتَكْبِرُونَ ؀وَلَقَدْ جِئْتُمُونَا فُرَادَى كَمَا خَلَقْنَاكُمْ أَوَّلَ مَرَّةٍ وَتَرَكْتُمْ مَا خَوَّلْنَاكُمْ وَرَاءَ ظُهُورِكُمْ ۔ ۔ ۔ ۔﴾

[الأنعام: 93-94]

”کاش تم ظالموں کو اس حالت میں دیکھ سکو جبکہ وہ سکرات موت میں ہوتے ہیں اور فرشتے ہاتھ بڑھا بڑھا کر کہہ رہے ہوتے ہیں نکالو اپنی روحوں کو آج تمھیں ان باتوں کی پاداش میں ذلت کا عذاب دیا جائیگا جو تم اللہ پر تہمت رکھ کر نا حق کہا کرتے تھے اور اسکی آیات کے مقابلے میں سرکشی دکھاتے تھے۔ اور تم تن تنہا پہنچ گئے ہمارے پاس جیسا کہ ہم نے تمہیں پہلی مرتبہ پیدا کیا تھا اور چھوڑ آئے ہو جو کچھ ہم نے تمہیں عطا کیا تھا اپنی پیٹھ کے پیچھے ، اور ۔ ۔ ۔ ۔ “

﴿حَتَّى إِذَا جَاءَ أَحَدَهُمُ الْمَوْتُ قَالَ رَبِّ ارْجِعُونِ ؀ لَعَلِّي أَعْمَلُ صَالِحًا فِيمَا تَرَكْتُ كَلَّا إِنَّهَا كَلِمَةٌ هُوَ قَائِلُهَا وَمِنْ وَرَائِهِمْ بَرْزَخٌ إِلَى يَوْمِ يُبْعَثُونَ﴾

[المؤمنون: 99-100]

’’یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی کی موت آتی ہے تو کہتا ہے کہ اے میر ے رب مجھے واپس لوٹا دے تا کہ میں نیک عمل کروں اس میں جسے چھوڑ آیا ہوں۔( اﷲ تعالی فرماتا ہے) ہر گز نہیں یہ تو ایک بات ہے جو وہ کہہ رہا ہے اور ان کے پیچھے برزخ حائل ہے قیامت کے دن تک۔‘‘

قرآن مجید کی ان آیات نےکھلے انداز میں بیان کردیا کہ کافروں کی روحیں فرشتے قبض کرکے اللہ تعالیٰ کے پاس لیجاتے ہیں۔ آئیے دیکھیں اللہ تعالیٰ کا عرش کہاں ہے ۔

اللہ تعالی کا عرش کہاں ہے ؟

عن عبادة بن الصامت، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: في الجنة مائة درجة ما بين كل درجتين كما بين السماء والأرض، والفردوس أعلاها درجة ومنها تفجر أنهار الجنة الأربعة، ومن فوقها يكون العرش، فإذا سألتم الله فسلوه الفردوس.

( ترمذی ، ابواب صفتہ الجنۃ ، باب ما جاء في صفة درجات الجنة)

’’عبادہ بن صامت ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا جنت میں سو درجے ہیں اور ہر دو درجوں کے درمیان آسمان و زمین جتنا فاصلہ ہے۔ جنت الفردوس سب سے اوپر والا درجہ ہے۔ جنت کی چاروں نہریں اسی سے نکلتی ہیں اور اس کے اوپر عرش ہے۔ لہذا اگر تم اللہ سے جنت مانگو تو جنت الفردوس مانگا کرو‘‘۔

واضح ہوا کہ اللہ تعالیٰ کا عرش آسمانوں میں جنت الفردوس سے بھی اوپر ہے۔ سورہ انعام میں اللہ تعالی کافر کی روح نکالنے کا ذکر فرماتا ہے اور پھر اگلی آیت میں ہے :

وَلَقَدْ جِئْتُمُونَا فُرَادَى كَمَا خَلَقْنَاكُمْ أَوَّلَ مَرَّةٍ

’’ تم تن تنہا پہنچ گئے ہمارے پاس جیسا کہ ہم نے تمہیں پہلی مرتبہ پیدا کیا تھا‘‘۔

یعنی کافر کی روح بھی آسمانوں میں عرش پر اللہ کے پاس جا تی ہے، مزید یہ احادیث پڑھ لیں :

حدیث نبوی ﷺ

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ إِذَا خَرَجَتْ رُوحُ الْمُؤْمِنِ تَلَقَّاهَا مَلَکَانِ يُصْعِدَانِهَا قَالَ حَمَّادٌ فَذَکَرَ مِنْ طِيبِ رِيحِهَا وَذَکَرَ الْمِسْکَ قَالَ وَيَقُولُ أَهْلُ السَّمَائِ رُوحٌ طَيِّبَةٌ جَائَتْ مِنْ قِبَلِ الْأَرْضِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْکِ وَعَلَی جَسَدٍ کُنْتِ تَعْمُرِينَهُ فَيُنْطَلَقُ بِهِ إِلَی رَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ ثُمَّ يَقُولُ انْطَلِقُوا بِهِ إِلَی آخِرِ الْأَجَلِ قَالَ وَإِنَّ الْکَافِرَ إِذَا خَرَجَتْ رُوحُهُ قَالَ حَمَّادٌ وَذَکَرَ مِنْ نَتْنِهَا وَذَکَرَ لَعْنًا وَيَقُولُ أَهْلُ السَّمَائِ رُوحٌ خَبِيثَةٌ جَائَتْ مِنْ قِبَلِ الْأَرْضِ قَالَ فَيُقَالُ انْطَلِقُوا بِهِ إِلَی آخِرِ الْأَجَلِ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ فَرَدَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَيْطَةً کَانَتْ عَلَيْهِ عَلَی أَنْفِهِ هَکَذَا

( مسلم۔ کتاب الجنۃ و صفتہ،باب عرض مقعد المیت)

’’ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ جب کسی مومن کی روح نکلتی ہے تو دو فرشتے اسے لے کر اوپر چڑھتے ہیں تو آسمان والے کہتے ہیں کہ پاکیزہ روح زمین کی طرف سے آئی ہے اللہ تعالیٰ تجھ پر اور اس جسم پر کہ جسے تو آباد رکھتی تھی رحمت نازل فرمائے پھر اس روح کو اللہ عزوجل کی طرف لے جایا جاتا ہے پھر اللہ فرماتا ہے کہ تم اسے آخری وقت تک کے لئے لےجاؤ، آپ ؐ نے فرمایا کافر کی روح جب نکلتی ہے تو آسمان والے کہتے ہیں کہ خبیث روح زمین کی طرف سے آئی ہے پھر اسے کہا جاتا ہے کہ اسے آخری وقت تک کے لئےلے جاؤ، ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی چادر اپنی ناک مبارک پر اس طرح لگالی تھی (کافر کی روح کی بدبو ظاہر کرنے کے لئےآپ ؐ نے ایسا فرمایا)‘‘۔

نبیﷺ نے مزید فرمایا:

مَا مِنْ عَبْدٍ یَمُوْتُ لَہٗ عِنْدَاﷲِ خَیْرٌ یَّسُرُّہٗ اَنْ یَرْجِعَ اِلَی الدُّنْیَا وَمَا فِیْھَا اِلَّا الشَّھِیْدَ لِمَا یَرٰی مِنْ فَضْلِ الشَّھَادَۃِ فَاِنَّہٗ یَسُرُّہٗ اَنْ یَّرْجِعُ اِلَی الدُّنْیَا فَیُقْتَلُ مَرَّۃً اُخْرٰی…

( عن انس بن مالک ، بخاری، کتاب الجھاد و السیر ، بَابُ الحُورِ العِينِ، وَصِفَتِهِنَّ يُحَارُ فِيهَا الطَّرْفُ، شَدِيدَةُ سَوَادِ العَيْنِ، شَدِيدَةُ بَيَاضِ العَيْنِ)

”بندوں میں سے جو کوئی مرتا ہے اور اس کے لئے اللہ کے پاس کچھ خیر ہے تو نہیں چاہتا کہ دنیا کی طرف لوٹ آئے اگرچہ اسکو دنیا کی ہر چیز دے دی جائے، مگر سوائے شہید کہ اس نے شہادت کی فضیلت دیکھ لی ہوتی ہے لہذا وہ چاہتا ہے کہ دنیا کی طرف لوٹ آئے اور دوبارہ اللہ کی راہ میں قتل کیا جائے۔“

یعنی موت سےہمکنار ہونے والا اس دنیا اس زمین پر ہوتا ہی نہیں بلکہ آسمانوں میں ہوتا ہے اور یہی بات سورہ المومنوں کی آیت میں بھی بتائی گئی کہ کافر کی روح اللہ کے پاس جا کر کہتی ہے :

قَالَ رَبِّ ارْجِعُونِ ؀ لَعَلِّي أَعْمَلُ صَالِحًا فِيمَا تَرَكْتُ

’’ کہتا ہے کہ اے میر ے رب مجھے واپس لوٹا دے تا کہ میں نیک عمل کروں اس میں جسے چھوڑ آیا ہوں‘‘

اس بارے میں انڈیا سے بھیجی گئی ایک تقریر میں اہلحدیث مقرر نے روح آسمان سے پھینکے جانے کے لئے یہ آیت بھی پڑھی:

﴿حُنَفَاءَ لِلَّهِ غَيْرَ مُشْرِكِينَ بِهِ وَمَنْ يُشْرِكْ بِاللَّهِ فَكَأَنَّمَا خَرَّ مِنَ السَّمَاءِ فَتَخْطَفُهُ الطَّيْرُ أَوْ تَهْوِي بِهِ الرِّيحُ فِي مَكَانٍ سَحِيقٍ﴾

[الحج: 31]

’’صرف ایک اللہ کے ہو کر اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرا ‘ اور جو شخص اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرائے تو گویا وہ ایسا ہے جیسے آسمان سے گر پڑے اور اس کو مردار خور پرندے اچک کرلے جائیں یا ہوا کسی دور جگہ اڑا کر پھینک دے‘‘۔

افسوس کہ کیسا دھوکہ دیتے ہیں اپنے مقلدین کو کہ اس طرح روح پھینک دی جاتی ہے، اس آیت میں تو اللہ تعالیٰ نے شرک کرنے والے کی بربادی بیان فرمائی ہے کہ کس طرح یہ برباد ہو جائے گا کہ گویا اس کے چیتھڑے اڑ جائیں گے اور ان عالم صاحب نے اسےآسمان سے روح پھینکنے کے معنی میں بیان کر ڈالا۔ کیا اس عالم کو اس آیت کے معنی نہیں معلوم ہوں گے ؟

﴿يُخَادِعُونَ اللَّهَ وَالَّذِينَ آمَنُوا وَمَا يَخْدَعُونَ إِلَّا أَنْفُسَهُمْ وَمَا يَشْعُرُونَ﴾ [البقرة: 9]’’وہ اللہ تعالیٰ اور ایمان والوں کو دھوکا دیتے ہیں، لیکن دراصل وہ خود اپنے آپ کو دھوکا دے رہے ہیں مگر سمجھتے نہیں۔‘‘

قرآن سے عود روح ثابت کرنا

اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں ایک قانون بتا دیا کہ مرنے والے کی روح اب قیامت سے پہلے اس جسم میں واپس نہیں آئے گی اور یہ کہ مر جانے والا اب قیامت تک کے لئے مردہ ہے اس میں زندگی کی رمق نہیں۔لیکن فرقہ پرست قرآن و حدیث میں بیان کردہ استثنائی معاملات کو بنیاد بنا کر اس سے اپنا باطل عقیدہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں جبکہ خود ان کا عقیدہ ہے کہ

’’۔۔۔ہرگز نہیں کیونکہ یہ استثنائی صورت ہے اورمخصوص ہے اسے عموم پر منطبق نہیں کیا جاسکتا جس طرح عام فارمولے سے جو مستثنیٰ ہو اسے باقی چیزوں پر قیاس نہیں کرسکتے۔۔۔‘‘۔ ( پہلا زینہ ،از قاری خلیل اہلحدیث، صفحہ ۵۳)

لیکن حالات کی مجبوری کے تحت استثنائی معاملات کو بنیاد بنانے پر مجبور ہو جاتے ہیں، زیل میں ہم وہ قرآنی آیات پیش کر رہے ہیں جسے یہ فرقہ پرست پیش کرتے ہیں :

موسیٰ علیہ السلام کی قوم کے افراد کے لئے فرمایا گیا:

﴿ثُمَّ بَعَثْنَاكُمْ مِنْ بَعْدِ مَوْتِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ﴾

[البقرة: 56]

’’ پھر تمہیں دوبارہ اٹھا دیا تمہاری موت کے بعد تاکہ تم شکر گزار بنو ‘‘

موسیٰ علیہ السلام کی قوم سے گائے ذبح کرائی گیا، اس کے بعد فرمایا:

﴿وَإِذْ قَتَلْتُمْ نَفْسًا فَادَّارَأْتُمْ فِيهَا وَاللَّهُ مُخْرِجٌ مَا كُنْتُمْ تَكْتُمُونَ ؀ فَقُلْنَا اضْرِبُوهُ بِبَعْضِهَا كَذَلِكَ يُحْيِي اللَّهُ الْمَوْتَى وَيُرِيكُمْ آيَاتِهِ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ﴾

[البقرة: 72-73]

’’ اور جب تم نے قتل کیا ایک شخص کو، اور باہم جھگڑنے لگے تھے اس بارے میں ،اور اللہ ظاہر کرنے والا تھا اس (بات) کو جو تم چھپا رہے تھے۔ لہٰذا ہم نے کہا : ضرب لگاؤ مقتول کو اس گائے کے کسی ٹکڑے سے (دیکھو ! ) اسی طرح زندہ کرے گا اللہ مردوں کو اور دکھاتا ہے وہ تم کو اپنی نشانیاں تاکہ تم سمجھ جاؤ۔‘‘

﴿أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ خَرَجُوا مِنْ دِيَارِهِمْ وَهُمْ أُلُوفٌ حَذَرَ الْمَوْتِ فَقَالَ لَهُمُ اللَّهُ مُوتُوا ثُمَّ أَحْيَاهُمْ إِنَّ اللَّهَ لَذُو فَضْلٍ عَلَى النَّاسِ وَلَكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَشْكُرُونَ﴾

[البقرة: 243]

’’ کیا نہیں آپ نے دیکھا ان لوگوں کو جو نکلے اپنے گھروں سے اس حال میں کہ وہ ہزاروں (کی تعداد میں) تھے موت کے ڈر سے تو کہا اللہ نے ان سے (کہ) تم مرجاؤ ( چناچہ وہ وہیں مرگئے) پھر (اللہ نے) ا نہیں زندہ کیا بیشک اللہ یقینا فضل کرنے والا ہے لوگوں پر اور لیکن اکثر لوگ شکرادا نہیں کرتے۔ ‘‘

﴿أَوْ كَالَّذِي مَرَّ عَلَى قَرْيَةٍ وَهِيَ خَاوِيَةٌ عَلَى عُرُوشِهَا قَالَ أَنَّى يُحْيِي هَذِهِ اللَّهُ بَعْدَ مَوْتِهَا فَأَمَاتَهُ اللَّهُ مِائَةَ عَامٍ ثُمَّ بَعَثَهُ قَالَ كَمْ لَبِثْتَ قَالَ لَبِثْتُ يَوْمًا أَوْ بَعْضَ يَوْمٍ قَالَ بَلْ لَبِثْتَ مِائَةَ عَامٍ فَانْظُرْ إِلَى طَعَامِكَ وَشَرَابِكَ لَمْ يَتَسَنَّهْ وَانْظُرْ إِلَى حِمَارِكَ وَلِنَجْعَلَكَ آيَةً لِلنَّاسِ وَانْظُرْ إِلَى الْعِظَامِ كَيْفَ نُنْشِزُهَا ثُمَّ نَكْسُوهَا لَحْمًا فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهُ قَالَ أَعْلَمُ أَنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ﴾

[البقرة: 259]

’’ یا اس (شخص) کی طرح جو گزرا ایک بستی کے قریب سے اس حال میں کہ وہ گری پڑی تھی اپنی چھتوں پر اس نے کہا کیسے زندہ (آباد) کرے گا اسے اللہ اس کی موت کے بعد۔ تو اللہ نے سو سال تک کے لئے موت دے دی،پھر اس نے ا سے زندہ کیا (اور) کہا کتنی دیر تم ٹھہرے رہے ہو اس نے کہا میں ٹھہرا رہا ہوں ایک دن یا دن کا بعض حصہ فرمایا بلکہ تم ٹھہرے رہے ہو سو سال (تک) پس دیکھ اپنے کھانے اور اپنے پینے کی طرف وہ باسی نہیں ہوا ، اور دیکھ اپنے گدھے کی طرف اور (یہ اس لیے کیا ہے) تاکہ ہم بنائیں تجھے ایک نشانی لوگوں کے لیے اور دیکھ (گدھے کی) ہڈیوں کی طرف کیسے ہم ا سے جوڑتے ہیں پھر (کس طرح) ہم چڑھاتے ہیں ان پر گوشت (پوست) پس جب واضح ہوچکا اس پر (تو) کہا میں جانتا ہوں کہ بیشک اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔ ‘‘

ان آیات کو پیش کرکے کہا جاتا ہے کہ دیکھو اللہ تعالیٰ نے ان کی موت کے بعد بھی ان کی روحیں واپس ان کے جسموں میں ڈالدیں، اسی طرح روح قبر میں لوٹا دی جاتی ہے۔حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے روح کے بارے میں ایک قانون بیان فرمایا ہے :

﴿وَهُوَ الْقَاهِرُ فَوْقَ عِبَادِهِ وَيُرْسِلُ عَلَيْكُمْ حَفَظَةً حَتَّى إِذَا جَاءَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ تَوَفَّتْهُ رُسُلُنَا وَهُمْ لَا يُفَرِّطُونَ ؀ ثُمَّ رُدُّوا إِلَى اللَّهِ مَوْلَاهُمُ الْحَقِّ أَلَا لَهُ الْحُكْمُ وَهُوَ أَسْرَعُ الْحَاسِبِينَ﴾

[الأنعام: 61-62]

”اور وہ اپنے بندوں پر غالب ہے اور تم پر نگہبان بھیجتا ہے۔ یہاں تک کہ جب تم میں سے کسی کی موت آتی ہے تو ہمارے بھیجے ہوئے (فرشتے) اسکی روح قبض کر لیتے ہیں اور وہ کوئی کوتاہی نہیں کرتے۔ پھر تم پلٹائے جاتے ہو اللہ کی طرف جو تمھارا حقیقی مالک ہے سن لو کہ حکم اسی کا ہے اور وہ بہت جلد حساب لینے والاہے۔“

﴿اللَّهُ يَتَوَفَّى الْأَنْفُسَ حِينَ مَوْتِهَا وَالَّتِي لَمْ تَمُتْ فِي مَنَامِهَا فَيُمْسِكُ الَّتِي قَضَى عَلَيْهَا الْمَوْتَ وَيُرْسِلُ الْأُخْرَى إِلَى أَجَلٍ مُسَمًّى إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَاتٍ لِقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ﴾

[الزمر: 46]

”اللہ روحوں کو قبض کرلیتا ہے انکی موت کے وقت اور جنکی موت نہیں آئی انکی سوتے وقت، پھر جس پر موت کافیصلہ ہوتا ہے اسکی روح روک لیتا ہے اور دوسری ارواح کو چھوڑ دیتا ہے ایک مقررہ وقت تک کیلئے۔ اس میں نشانیاں ہیں ان لوگوں کیلئے جو غور و فکر کرتے ہیں۔

﴿حَتَّى إِذَا جَاءَ أَحَدَهُمُ الْمَوْتُ قَالَ رَبِّ ارْجِعُونِ ؀ لَعَلِّي أَعْمَلُ صَالِحًا فِيمَا تَرَكْتُ كَلَّا إِنَّهَا كَلِمَةٌ هُوَ قَائِلُهَا وَمِنْ وَرَائِهِمْ بَرْزَخٌ إِلَى يَوْمِ يُبْعَثُونَ﴾

[المؤمنون: 99-100]

’’یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی کی موت آتی ہے تو کہتا ہے کہ اے میر ے رب مجھے واپس لوٹا دے تا کہ میں نیک عمل کروں اس میں جسے چھوڑ آیا ہوں۔( اﷲ تعالی فرماتا ہے) ہر گز نہیں یہ تو ایک بات ہے جو وہ کہہ رہا ہے اور ان کے پیچھے برزخ حائل ہے قیامت کے دن تک۔‘‘

روح کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا وضع کردہ قانون یہی ہے کہ موت کے وقت فرشتے روح قبض کرکے اللہ تعالیٰ کے پاس لیجاتے ہیں، اللہ تعالیٰ ان روحوں کو روک لیتا ہے اور دنیا اور ان روحوں کے درمیان ایک آڑ بنا دی جاتی ہے جس کی وجہ سے فوت شدہ کی روحیں قیامت تک اب اس دنیا میں نہیں آ سکتیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ مالک ہے وہ جو چاہے کرسکتا ہے ۔ یعنی جو کام اللہ تعالیٰ خود اپنے وضع کردہ قانون سے ہٹ کر کرے تو وہ استثناء کہلائے گا۔ اور ہمارے لئے استثناء وہی ہے جو اللہ نے قرآن مجید یا حدیث صحیحہ کے ذریعے ہم تک پہنچا دئیے۔ دیکھیں انسانوں کی پیدائش کے بارے میں فرمایا گیا :

﴿يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاكُمْ مِنْ ذَكَرٍ وَأُنْثَى ﴾

[الحجرات: 13]

’’ا ے لوگوہم نے تمہیں ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا‘‘۔

یہ قانون سارے انسانوں کیلئے بیان کیا گیا ہے اور کوئی استثناء نہیں لیکن سورۂ آل عمران کی آیت کے ذریعے ابو البشر آدم علیہ السلام کے لئے فرمایا:

﴿ خَلَقَهُ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ قَالَ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ﴾

[آل عمران: 59]

’’ ہم نے اسے مٹی سے بنا پھر اسے حکم دیا کہ ہوجا تو وہ ہوگیا‘‘۔

قر آن کے اس بیان نے واضح کردیا کہ آدم علیہ السلام کی پیدائش قانون عام سے ہٹ کر ہے ،یعنی یہ ایک استثنائی معاملہ ہے۔ اسی طرح عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش کے ذکر کیلئے یہ نہیں فرمایا گیا کہ ہم نے اسے قانون عام سے ہٹ کر پیدا فرمایا ہے بلکہ اﷲ کا بیان ہی اس معاملے کو قانون عام سے مستثنیٰ قرار دے رہا ہے۔

﴿إِذْ قَالَتِ الْمَلَائِكَةُ يَا مَرْيَمُ إِنَّ اللَّهَ يُبَشِّرُكِ بِكَلِمَةٍ مِنْهُ اسْمُهُ الْمَسِيحُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ وَجِيهًا فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَمِنَ الْمُقَرَّبِينَ ؀ وَيُكَلِّمُ النَّاسَ فِي الْمَهْدِ وَكَهْلًا وَمِنَ الصَّالِحِينَ ؀ قَالَتْ رَبِّ أَنَّى يَكُونُ لِي وَلَدٌ وَلَمْ يَمْسَسْنِي بَشَرٌ قَالَ كَذَلِكِ اللَّهُ يَخْلُقُ مَا يَشَاءُ إِذَا قَضَى أَمْرًا فَإِنَّمَا يَقُولُ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ ؀ وَيُعَلِّمُهُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَالتَّوْرَاةَ وَالْإِنْجِيلَ﴾

[آل عمران: 45-48]

’’ اور جب فرشتوں نے کہا: اے مریم بے شک اللہ تم کو اپنی طرف سے ایک کلمہ کی بشارت دیتا ہے اس کا نام عیسیٰ ابن مریم ہے دنیا اور آخرت میں وہ عزت دار ہے اور نیکوکاروں میں سے ہے۔ مریم نے عرض کیا: اے رب میرا بچہ کیونکر ہوگا، مجھے تو کسی بشر نے چھوا تک نہیں۔ فرمایا اس طرح اللہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے۔ جب وہ کسی کا م کے کرنے کا ارادہ کرلیتا ہے تو اس سے صرف اتنا کہتا ہے ہو جا پس وہ ہوجاتا ہے‘‘۔

معلوم ہوا کہ اللہ جو کرنا چاہے صرف اسے حکم دیتا ہے تو وہ کام ہو جاتا ہے اس کے لئے کسی قانون کی کوئی اہمیت نہیں۔ اسی طرح اللہ نے جس کی چاہا مرنے کے بعد بھی روح لوٹا دی۔ گویا یہ معاملات اس قانون سے مستثنیٰ تھے۔ لہذا ان استثنائی معاملات کو قانون نہیں سمجھا جا سکتا جیسا کہ ان فرقہ پرستوں نے اپنے باطل عقیدے کے اثبات میں انہیں پیش کرنا شروع کردیا۔یاد رکھیں کہ ہم اپنی طرف سے کسی چیز کو استثناء نہیں کہہ سکتے بلکہ استثناء صرف وہی ہوگا جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے قرآن و حدیث کے ذریعے کردیا ہو۔ لہذا ان کا یہ عقیدہ کہ مرنے والے کی روح قیامت سے قبل اس جسم میں لوٹا دی جاتی ہے مکمل طور پر منگھڑت ہے۔

علیین و سجین کیا ہیں؟

آپ نے ابھی تک فرقہ پرستوں کے بڑے بڑے معاملات دیکھے۔ لیکن اب ایسا بھی معاملہ دیکھیں کہ جس میں کھل کر اللہ کی کتاب سے اختلاف ہی نہیں بلکہ انکار کیا گیا ہے۔ فرقہ والے ایک طرف یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ روح جنت یا جہنم میں ہوتی ہے دوسری طرف فرماتے ہیں کہ روح لوٹا دی جاتی ہے اور یہ بھی کہتے ہیں کہ مر جانے والوں کی روحوں کا مسکن علیین و سجین ہیں۔ آئیے دیکھیں ان کا اللہ سے اختلاف۔

کتاب اللہ

﴿كَلَّا إِنَّ كِتَابَ الْفُجَّارِ لَفِي سِجِّينٍ ؀ وَمَا أَدْرَاكَ مَا سِجِّينٌ ؀ كِتَابٌ مَرْقُومٌ﴾

[المطففين: 7-9]

’’ ہر گز نہیں فاجروں کے اعمال نامے سجین میں ہیں، اور تم کیا جانو کہ سجین کیا ہے،وہ ایک کتاب ہے لکھی ہوئی۔‘‘

﴿كَلَّا إِنَّ كِتَابَ الْأَبْرَارِ لَفِي عِلِّيِّينَ ؀ وَمَا أَدْرَاكَ مَا عِلِّيُّونَ ؀ كِتَابٌ مَرْقُومٌ ؀ يَشْهَدُهُ الْمُقَرَّبُونَ﴾

[المطففين: 18-21 ]

’’ہر گز نہیں بے شک نیک لوگوں کا اعمال نامہ علیین میں ہے، اور تم کیا جانو کہ علیین کیا ہے، ایک کتاب ہے لکھی ہوئی، اس کی نگہداشت مقرب(فرشتے) کرتے ہیں۔‘‘

قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ سجین فاجروں یعنی گناہ گاروں کے اعمال نامے کی کتاب ہے ، اسی طرح علیین نیک لوگوں کے اعمال ناموں کی کتاب ۔ یعنی جو لوگ مر جاتے ہیں ان کاریکارڈ کسی کتاب میں لکھ دیا جاتا ہے، جو نیک ہوتے ہیں ان کے اعمال جس کتاب میں لکھے جاتے ہیں اسے ’’ علیین ‘‘ کہتے ہیں اور گناہ گاروں کا ریکارڈ جس کتاب میں لکھا جاتا ہے اسے ’’ سجین ‘‘ کہتے ہیں۔لیکن فرقہ اہلحدیث والوں کو اللہ کی اس بات سے اختلاف ہے۔فرماتے ہیں :

’’ہمیں اس نظریہ سے بھی اختلاف ہے کیونکہ جہاں کہیں بھی یہ رجسٹر اندراجات ہونگے وہ کوئی مقام ہی ہوگا۔ پھر جہاں قرآن میں علیین کا ذکر آیا ہے وہاں کتاب مرقوم کے ساتھ یشھدہ المقربون کے الفاظ بھی موجود ہیں۔

یعنی جس مقام پر اہل جنت کا یہ رجسٹر ہے وہاں مقرب لوگ( مرے ہوئے نیک لوگ یا مقرب فرشتے) بھی موجود ہوتے ہیں۔ اسی طرح جہاں سجین کا ذکر آیا ہے وہاں کتاب مرقوم کے ساتھ ویل یومئذٍ للمکذبین کے الفاظ بھی آئے ہیں یعنی اس میں اندراج کے دن ہی سے ان جھٹلانے والوں کی ہلاکت کا دور شروع ہو جاتا ہے۔اندریں صورت حال علیین اور سجین مقام نہیں تو اور کیا ہے؟ وہ ایسے مقامات ہیں جہاں صرف اھل جنتہ اور اھل النار کے نام ہی رجسٹر نہیں کئے جاتے ،بلکہ وہی مقام ان روحوں کا اصل مستقر بھی قرار پاتا ہے۔ اور انہی مقامات پر وہ عرصہ برزخ میں عذاب و ثواب سے تاقیامت دوچار ہوتے رہیں گے۔‘‘ (روح عذاب قبر سماع موتی، از مولانا عبد الرحمن کیلانی اہلحدیث،صفحہ ۹۳۔۹۴)

ملاحظہ فرمائی اہلحدیث عالم صاحب کی تشریح کہ کس طرح اﷲ کی بات کو بدل ڈالا، مالک فرماتا ہے ’’ ایک لکھی ہوئی کتاب ہے‘‘یہ فرماتے ہیں ’’مقام‘‘ ہے۔ فرماتے ہیں ہمیں اس نظریہ سے اختلاف ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

ان کا یہ اختلاف کس سے ہے ؟ ؟ انکا یہ اختلاف صرف اور صرف اﷲ تعالیٰ سے ہے، اس لیے کہ علیین و سجین ’’ لکھی ہوئی کتاب‘‘ ہونے کا عقیدہ و نظریہ مالکِ کائنات ہی نے دیا ہے کسی انسان نے نہیں۔

یہاں ایک بات اور کہ ابھی تک اہلحدیث’’ برزخ ‘‘ کو ایسا پردہ قرار دیتے تھے کہ جس کے پار کی چیز نہ دکھائی دے، پھر دیگر مفتیان فرقہ اور خود انہوں نے ’’ زمینی قبر ‘‘ کو برزخ قرار دیا تھا اب فرماتے ہیں کہ علیین و سجین بھی برزخ ہے۔

اہلحدیثو ! کتنی برزخیں ہیں، کہاں کہاں عذاب ہوتا ہے کوئی تعداد ہے؟

بار بار عقائد کا گھڑنا محض اس لئے ہے کہ انہوں نے قرآن کی بات چھوڑ دی، اب ان کے پاس اپنے عقائد کے لئے کوئی بنیاد نہیں، سوائے ان کی اپنی گمراہی کے۔

پھر اپنی غلط بات کو صحیح ثابت کرنے کے لیے کہتے ہیں کہ کتاب مرقوم کے ساتھ یشھدہ المقربون کے الفاظ بھی موجود ہیں۔۔۔وہاں مقرب لوگ( مرے ہوئے نیک لوگ یا مقرب فرشتے) بھی موجود ہوتے ہیں۔‘‘

وضاحت :

’’یشھد‘‘ جب ’’ہ‘‘ کی ضمیر کے ساتھ آتا ہے تو اس کا مطلب ہوتا ہے معائنہ کرنا، دیکھنا ۔ اس آیت کا مطلب یہی ہے کہ اس کی نگہداشت مقرب(فرشتے) کرتے ہیں، لیکن انہوں نے اس کا مطلب’’۔وہاں مقرب لوگ( مرے ہوئے نیک لوگ یا مقرب فرشتے) بھی موجود ہوتے ہیں‘‘بنا ڈالا ۔ یہ ان کی مجبوری ہے کیونکہ اگر علیین و سجین میں انسانوں کی حاضری ثابت نہ کر سکے تو ان کے فرقے کاعقیدہ ہی خلاف قرآ ن قرار پائے گا۔

اب اگر علیین کے بارے میں ان کا یہ من گھڑت موقف صحیح بھی فرض کرلیا جائے تو سجین کے بارے میں تو یشھدہ المقربون ’’ اس کی نگہداشت مقرب(فرشتے)کرتے ہیں‘‘کے الفاظ نہیں آتے، تو کیا صرف علیین ہی میں مرنے والے جاتے ہیں سجین میں نہیں جاتے؟ نیک لوگوں کو تو بقول آپ کے علیین میں قیامت تک راحت ملتی رہے گی لیکن سجین والوں کا کوئی تو مقام بتادو جس کیساتھ یشھدہ المقربون کے الفاظ آتے ہوں تاکہ پتہ چلے کہ یہ لوگ یہاں داخل کیے جاتے ہیں؟

سجین کیلئے کہتے ہیں: ’’اسی طرح جہاں سجین کا ذکر آیا ہے وہاں کتاب مرقوم کے ساتھ ویل یومئذٍ للمکذبین کے الفاظ بھی آئے ہیں یعنی اس میں اندراج کے دن ہی سے ان جھٹلانے والوں کی ہلاکت کا دور شروع ہو جاتا ہے‘‘۔ استغفر اللہ ، استغفر اللہ

ملاحظہ فرمائی ان اہلحدیث عالم کی دیدہ دلیری،’’ یومئذٍ ‘‘ کا ترجمہ ’’ اندراج کا دن‘‘ کیا ہے ،جبکہ اس سورہ کی ابتداء ہی میں اس کی وضاحت موجود ہے کہ یہ قیامت کے دن کی بات ہو رہی ہے، اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے:

﴿أَلَا يَظُنُّ أُولَئِكَ أَنَّهُمْ مَبْعُوثُونَ ؀ لِيَوْمٍ عَظِيمٍ ؀ يَوْمَ يَقُومُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ ؀ كَلَّا إِنَّ كِتَابَ الْفُجَّارِ لَفِي سِجِّينٍ ؀ وَمَا أَدْرَاكَ مَا سِجِّينٌ ؀ كِتَابٌ مَرْقُومٌ ؀ وَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِلْمُكَذِّبِينَ ؀ الَّذِينَ يُكَذِّبُونَ بِيَوْمِ الدِّينِ﴾

[المطففين: 4-11]

’’ کیا انہیں اپنے مرنے کے بعد جی اٹھنے کا خیال نہیں ۔ اس عظیم دن کیلئے۔جس دن سب لوگ رب العالمین کے سامنے کھڑے ہوں گے۔ یقیناً بد کاروں کا نامہ اعمال سجین میں ہے۔تجھے کیا معلوم سجین کیا ہے۔ (یہ تو) لکھی ہوئی کتاب ہے۔ اس دن جھٹلانے والوں کی بڑ ی خرابی ہے۔جو جزا و سزا کے دن کو جھٹلاتے رہے‘‘۔ (تفسیراحسن البیان، ترجمہ: خطیب الہند مولانا محمد جونا گڑھی اہلحدیث)

ہم نے خود ترجمہ نہیں کیا بلکہ اسی فرقے کے ایک عالم کا ترجمہ دیا ہے تاکہ یہ لوگ یہ نہ کہہ سکیں کہ ترجمہ غلط کیا ہے۔ اب بتائیے کہ اس سورہ میں یَوْمَئِذٍ سے مراد کونسا دن ہے؟ مرنے کے بعد جی اٹھنے کا دن کونسا ہوتا ہے؟ رب العالمین کے سامنے کھڑے ہونے کا دن کونسا کہلاتا ہے؟ ’’ عظیم دن‘‘ سے مراد قیامت کا دن ہے یا کسی ایک انسان کی موت اور سجین میں اس کے اندراج کا دن؟

یہ ہے اہلحدیثوں کا طریقہ واردات:

اللہ تعالیٰ نے اسے’’ قیامت کا دن ‘‘بیان کیا اور اہلحدیث عالم نے فرقے کا عقیدہ بچانے کے لئے اسے ’’ اندارج کا دن ‘‘ یعنی انسان کی موت کا دن بیان کردیا۔

یہاں قرآن کی یہ آیت یاد آ جاتی ہے :

﴿أَفَتَطْمَعُونَ أَنْ يُؤْمِنُوا لَكُمْ وَقَدْ كَانَ فَرِيقٌ مِنْهُمْ يَسْمَعُونَ كَلَامَ اللَّهِ ثُمَّ يُحَرِّفُونَهُ مِنْ بَعْدِ مَا عَقَلُوهُ وَهُمْ يَعْلَمُونَ﴾[البقرة: 75]’’ کیا تم یہ توقع رکھتے ہو کہ یہ (بنی اسرائیل) تمہاری بات مان لیں گے (اور ایمان لے آئیں گے) حالانکہ ان لوگوں میں ایک ایسا گروہ رہا ہے جو کلام الله کو سن کر جانتے بوجھتے، علم کے باوجود، اس کو بدل ڈالا کرتے ہیں۔‘‘

بالکل وہی طرز عمل ہے ان کا کہ سب کچھ جاننے کے بعد اس کوبدل دیتے ہیں۔

یہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ یہاں یَوْمَئِذٍ سے مرادکونسا دن ہے، لیکن تحریف اس لیے ضروری ہے کہ اگر علیین و سجین محض اعمالناموں کی کتاب ہی ثابت ہوجائیں تو ہمارا فرقہ گمراہ کہلائے گا!سوچنے کی بات یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے انہیں اعمال ناموں کی کتاب فرما دیا تو اب اسے ماننے میں کیا دشواری اور کیوں اسے کوئی مقام بتایا جا رہاہے، خود ایک اہلحدیث مفتی صاحب کے قلم سے :

’’ سلف صالحین نے علیین و سجین کو اعمال ناموں کے دفتر کے علاوہ روحوں کا جو مسکن کہا ہے تو ان کی یہ بات بالکل بے دلیل نہیں بلکہ اس کی پشت پر کچھ احادیث و آثار موجود ہیں جن سے علیین و سجین کی کچھ وضاحت سامنے آتی ہے۔ چنانچہ ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ:رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا:ان اھل الجنتہ یسرون اھل علیین۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔( مسند احمد۔جلد ۳۔صفحہ ۶۱)

’’ بے شک جنتی علین والوں کو اس طرح دیکھیں گے جیسا تم چمکدار ستارے کو آسمان کے کنارے پر دیکھتے ہو ۔ بے شک ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان ( اہل علیین ) میں سے ہیں اور دونوں آرام دہ مقام پر ہونگے‘‘( الدین الخالص قسط اول ، صفحہ ۱۴۷، از ابو جابر دامانوی اہلحدیث)

بات سمجھ آگئی ہوگی کہ اللہ کی بات کیوں نہیں مانی جا رہی اس لئے کہ سلف صالحین نے اللہ کی بات سے ہٹ کر دوسرا عقیدہ دیا ہے۔

اب ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ قرآن و حدیث کا دیا ہوا عقیدہ ہی اختیار کیا جاتا لیکن اب اپنے فرقے کے سلف کے اس عقیدے کو بچانے کیلئے قرآن کے مقابلے میں ضعیف روایت پیش کی گئی ہے۔

وضاحت :

یہ روایت دو اسناد سے آتی ہے اور دونوں ہی انتہا درجے کی ضعیف ہیں۔ پہلی سند میں عطیہ کوفی ہے جو خود کہتا ہے کہ کہ وہ کلبی کذاب سے تدیس کرتے وقت اس کو ابو سعید کہتا ہے تاکہ لوگ یہ گمان کریں کہ یہ ابو سعید خدری رضی اﷲ تعالیٰ عنہ صحابی رسول ہیں۔دوسری سند میں مجالد بن سعید ہے، بخاری نے اس سے کوئی روایت نہیں لی، مسلم نے اس سے صرف کتاب الطلاق میں ایک روایت بیان کی ہے اور وہ بھی وہ روایت ہے جسے اس کے علاو ہ اور راوی بھی بیان کررہے ہیں۔ محدثین نے اس پر جرح کی ہے۔

پھر اگر اس روایت کے متن پر غور کیا جائے تو بھی اس سے ان کا عقیدہ تو ہر گز ثابت نہیں ہوتا۔اس روایت کا یہ جملہ بغور پڑھیں ’’بے شک جنتی علیین والوں کو اس طرح دیکھیں گے جیسا تم چمکدار ستارے کو آسمان کے کنارے پر دیکھتے ہو‘‘ گویا جنتی علیحدہ ہیں اور علیین والے علیحدہ۔ ابھی تک تو یہ لوگ یہی عقیدہ دیتے چلے آئے ہیں نیک روحیں علیین میں رہتی ہیں اور یہ برزخی معاملہ ہے، حیرت ہے کہ اگر برزخ ہے تو کیا وہ قیامت کے بعد بھی باقی رہے گی!قرآن تو برزخ صرف قیامت کے دن تک کیلئے بیان کرتا ہے۔پھر جنتی علیین والوں کو دیکھیں گے تو نیک لوگ جنت میں ہوں گے یا علیین میں؟ اور پھر فرماتے ہیں ’’بے شک ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان ( اہل علیین ) میں سے ہیں‘‘، اس طرح ثابت کرتے ہیں کہ کوئی مقام ہے جہاں ابوبکر و عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہما ہوں گے ۔ حالانکہ طریقہ یہ ہے کہ اگر کسی صحیح حدیث کا متن قرآن سے بظاہر ٹکراتا ہوا محسوس ہو تو اس حدیث کی تاویل قرآن کے مطابق کی جائے گی نہ کہ اپنے خود ساختے عقیدے کو اس سے اخذ کیا جائے۔ اسی طرح اگر اس حدیث کو صحیح بھی مان لیا جائے تو اس کی تاویل اس طرح کی جائے گی کہ ابو بکر و عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہما ان لوگوں میں سے ہیں جن کے اعمالنامے علیین ( لکھی ہوئی کتاب) میں ہیں۔

یاد رکھیں کہ قرآن کا ایک ایک حرف لاریب ہے عقیدہ اس ہی کے مطابق بنانا ہوگا، ضعیف روایت کی بنیاد بنا کر قرآن کا دیا ہوا عقیدہ رد کردینا کفر کے مترادف ہے۔ پیروی سلف یا فرقے کے عالم کے دئیے ہوئے عقیدےکی نہیں ہوگی ایسے ہی معاملے کے لئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ انہوں نے اپنے علماء کو اپنا رب بنا لیا ہے یعنی اطاعت اللہ کی کرنا تھی کہنا اللہ کا ماننا تھا لیکن انہوں نے اللہ کے بیان کردہ کے مقابلے میں دوسرے کا مانا اور یہ شرک فی الاطاعت ہے۔ اب جب عقیدہ انہوں نے سلف و صالحین کے اقوال پر بنا لیا ہے  تو اب کوئی ان اہلحدیثوں سے پوچھے کہ ایک انسان کی کتنی روحیں ہوتی ہیں، بقول ان کے ایک جنت یا جہنم میں ہوتی ہے، ایک علیین یا سجین میں ہوتی ہے، اورایک قبر میں لوٹا دی جاتی ہے۔

’’ روح کا جسم ‘‘

روح کے بارے میں ایک عقیدہ یہ بھی پھیلایا گیا ہے ۔سورہ محمد کی آیت نمبر66کاترجمہ و تشریح مودودی صاحب اس طرح فرماتے ہیں:

’’پھر اس وقت کیا حال ہوگا جب فرشتے ان کی روحیں قبض کریں گے اور ان کے منہ اورپیٹھوں پر مارتے ہوئے انھیں لے جائیں گے؟ ۳۷؎یہ آیت بھی اُن آیات میں سے ہے جو عذاب برزخ ( یعنی عذاب قبر) کی تصریح کرتی ہیں۔ اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ موت کے وقت کفار و منافقین پر عذاب شروع ہوجاتا ہے۔‘‘ ( تفہیم القراآن جلدپپنجم صفحہ۲۸)

اشاعت التوحید و السنۃ والے بھی اسی عقیدے کے علمبردار ہیں:

’’ اس آیت سے جہاں یہ ثابت ہوتا ہے کہ گنہگاروں پر موت کے بعد ہی سے عذاب شروع ہوجاتا ہے وہاں یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ کہ یہ مار ان کے منہ اور پیٹھ پر پڑتی ہے مگر یہ منہ اور پیٹھ وہ نہیں ہے جو بے جان لاشے کی صورت میں ہمارے سامنے ہے بلکہ اس آیت میں کافر کی روح کو جانور سے تشبیہ دی گئی ہے کہ جس طرح جانور کو تیز ہنکاتے وقت کبھی آگے(منہ پر) اور کبھی پیچھے (پیٹھ پر) مارتے ہیں، اسی طرح گویا کافر روح کو فرشتے زبردستی مارتے ہوئے اور ہنکاتے ہوئے لے چلیں گے، اور کہیں گے کہ چلو عذاب کا مزہ چکھو۔‘‘ (الاقوال المرضیہ فی الاحوال البرزخیہ صفحہ ۱۱۹، از محمد حسین نیلوی)

مودودی صاحب اور محمد حسین نیلوی صاحب نے سورہ محمد کے حوالے سے جو بات بیان کی ہے وہ سراسر قرآن کی اس آیت کے خلاف ہے، اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے:

﴿فَكَيْفَ إِذَا تَوَفَّتْهُمُ الْمَلَائِكَةُ يَضْرِبُونَ وُجُوهَهُمْ وَأَدْبَارَهُمْ﴾

[محمد: 27]

’’ پھر کیا ہوگا جب فرشتے ان کی روحیں قبض کریں گے ان کے منہ اور پیٹھوں پر مارتے ہوئے۔‘‘

ﷲ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ ان کی روحوں کو مارتے ہوئے لے جائیں گے بلکہ مارنے کا بیان صرف روح کے قبض کرنے کے وقت تک کا ہے، اس کے بعد کانہیں۔مودودی صاحب نے جو اس آیت کا ترجمہ کیا ہے وہ محض ان کے اپنے خود ساختہ عقیدے کی ترجمانی ہے۔ روح کی مادیت کا عقیدہ کتاب اﷲ سے ہر گز نہیں ملتا۔اسی طرح اشاعت التوحید والوں نے جو جانوروں کی مثال گھڑی ہے وہ بھی اپنی مثال آپ ہے۔اس بات کی وضاحت بھی یہاں کردی جائے کہ دیگر مسلک پرست بھی یہی کہتے ہیں کہ فرشتے روح قبض کرنے کے بعد اس مردہ جسم کے منہ اور پیٹھ پر مارتے ہیں، اور اس سے وہ اسی جسم پر عذاب کا عقیدہ فراہم کرتے ہیں لیکن یہ قرآن کی معنوی

تحریف ہے فرشتوں کامارنا صرف قبض روح کی حد تک ہے۔ روح زندہ کی قبض کی جاتی ہے مردہ کی نہیں۔عذاب قبرمُردوں کیلئے ہے زندہ انسانوں کیلئے نہیں۔

مودودی صاحب مزید فرماتے ہیں:

’’ بلکہ اس زمانہ میں جسم کے بغیر روح زندہ رہتی ہے، کلام کرتی اور کلام سنتی ہے، جذبات و احساسات رکھتی ہے، خوشی اور غم محسوس کرتی ہے، اور اہل دنیا کے ساتھ بھی اس کی دلچسپیاں باقی رہتی ہیں۔‘‘ ( تفہیم القرآن، جلد چہارم،صفحہ ۲۵۵۔۲۵۶، ابوالاعلیٰ مودودی)

انکا یہ عقیدہ محض ظن و گمان کی بنیاد پر ہے۔احادیث سے پتہ چلتا ہے کہ دنیا سے چلی جانے والی اس روح کو ایک نیا برزخی جسم عطا کیا جاتا ہے جیسا کہ ما قبل بیان کردہ احادیث سے ثابت ہے کہ غزوہ احد کے شہداء کی روحیں سبز اڑنے والے جسموں میں ہیں۔ اسی طرح جعفر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ایسا جسم عطا فرمایا گیا کہ وہ فرشتوں کیساتھ اڑتے ہیں،نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے فرزند کو وفات کے بعد جنت میں دودھ پینے والا جسم عطا کیا گیا۔ اسی طرح عمرو بن لحی کو جہنم میں ایسا جسم دیا گیا کہ جسے عذاب دیا جارہا تھا اور وہ اپنی آنتیں کھینچ رہا تھا، یہودی عورت کو بھی جہنم میں جسم دیا گیا اور بلی اسے نوچ نوچ کر کھا رہی تھی۔ دنیا میں جھوٹ بولنے والے کو ایسا برزخی جسم دیا گیا کہ اسکے گلپھڑے پھاڑے جا رہے تھے، زنا کاروں کو ایک جگہ جمع کر کے انکے جسموں کو جلایا جارہا تھا۔وغیرہ وغیرہ۔ مودودی صاحب روح کے بارے میں ایک اور عقیدہ دیتے ہیں :

’’ دوسری صورت یہ ہو سکتی ہے کہ آپ زور زور سے اُن ولی اﷲ کو پکار کر یہ کہیں۔ اس صورت میں اعتقاد کی خرابی تو لازم نہ آئے گی مگر یہ اندھیرے میں تیر چلانا ہوگا۔ ہو سکتا ہے کہ آپ پکار رہے ہوں اور وہ نہ سن رہے ہوں۔کیونکہ سماع موتیٰ کا مسئلہ مختلف فیہ ہے۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ان کا سماع تو ممکن ہو، مگر ان کی روح اس وقت وہاں تشریف نہ رکھتی ہو، اور آپ خواہ مخواہ خالی مکان پر آوازیں دے رہے ہوں۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ان کی روح تشریف فرما تو ہو مگر وہ اپنے رب کی طرف مشغول ہو،…‘‘ (رسائل و مسائل، حصہ سوم، صفحہ ۳۶۵، از سید ابوالاعلیٰ مودودی)

امت میں پھیلایا گیا یہی ہے وہ عقیدہ جس کی بنیاد پر آج یہ مزار آباد ہیں۔قبر میں روح لوٹا دی گئی، مردہ زندہ بن گیا، اب یہ سن بھی سکتا ہے، گھومنے پھرنے کیلئے قبر سے باہر بھی جاسکتا ہے، دنیا والوں کے ساتھ اس کی دلچسپیاں بھی ہیں اور اﷲ کی عبادت بھی کررہا ہے تو اب کونسی کسر رہ گئی ہے کہ اس کو زندہ نہ کہا جائے۔ پہلے یہ ماتحت الاسباب سارے کام کرتا تھا ، اب یہ ما فوق الاسباب بن گیا ہے۔ کسی زندہ کو قبر میں دبا دو ، وہ قبر سے نہیں نکل سکتا، لیکن مرنے کے بعد، یہ مردے چاہے قبر میں عبادت کرتے رہیں یا چاہے کہیں گھومنے پھرنے چلے جائیں! پھر کیوں نہ ایسے مردے کوحاجت روا اور مشکل کشا گردانا جائے جو اب ان سب صفات کا حامل ہوگیا! آج جو یہ امت جھکی پڑی ہے ان قبروں پر، اس کی بنیاد یہ روح لوٹائے جانے کا عقیدہ ہی توہے جس نے اس مردے کو زندہ کردیا۔ورنہ کون آئے گا سڑ گل جانے والی ان ہڈیوں پر جو کتاب اﷲ کے مطابق نہ سن سکتے ہوں،نہ دیکھ سکتے ہوں۔ نہ شعور رکھتے ہوں اور نہ کوئی احساس۔ اس لیے کہ شعور و احساس تو زندہ رکھتا ہے۔ روح اس جسم سے نکل جانے کے بعد یہ جسم بے حس ہوجاتا ہے۔شعور و ادراک سے عاری ہوتا ہے۔

یہ سب خلاف قرآن و احادیث عقائد ہیں ، وفات کے بعد روح نہ اس دنیا میں ہوتی ہے اور نہ ہی اس کا کوئی جسم ہوتا ہے بلکہ اس دنیا میں زندگی عطا کرتے وقت اسے جو جسم دیا جاتا ہے وہ اب اس سے چھین لیا جاتا ہے اور قیامت کے دن اس جسم کی دوبارہ تخلیق کے بعد اسے یہ جسم دوبارہ عطا کیا جائے گا۔ وفات سے لیکر روز قیامت تک اس عالم برزخ میں ایک دوسرا جسم دیا جاتا ہے جس پر عذاب یا راحت کا یہ دور گزرتا ہے ۔

ایک طرف یہ عقیدہ ہے تو دوسری طرف ایک بار پھر اہلحدیثوں کی عقیدہ ساز فیکٹریاںایک نیا عقیدہ دیتی ہیں:

’’ اس کے بجائے ہمارا نقطہ نظر یہ ہے کہ روح کو کوئی نیا جسم نہیں ملتا۔بلکہ اس کا اپنا بھی جسم ہوتا ہے۔ فرشتے جب کسی مرنے والے کی روح کو نکالتے ہیں تو یہ روح اپنی جسمیت سمیت مادی جسم کے بند بند سے نکلتی ہے۔ پھر فرشتے اسی جسمیت سمیت روح کو کپڑے میں لپیٹ کر آسمانوں کی طرف لے جاتے ہیں اور روح کا یہ جسم مادی جسم میں اسی طرح پھیلا ہوا ہوتا ہے ،جیسے کوئلہ میں گیس یا زیتون کے درخت میں روغن زیتون۔روح کا یہ جسم مرحلہ نمبر ۱ میں بھی موجود تھا جب ’’الست بربکم‘‘ کا سوال جواب ہوا………غرض ہر ہر مرحلہ پر روح کا جسم اس کے ساتھ رہتا ہے۔ البتہ مرحلہ نمبر ۲ (دنیا) اور نمبر۴ ( قیامت کے بعد کی زندگی) میں اسے ایک اضافی جسم بھی ملتا ہے اور اسی اضافی جسم کی وجہ سے ان ہر دو ادوار کو زندگی کے ادوار سے تعبیر کیا گیا ہے۔‘‘ ( روح،عذاب قبر، سماع موتیٰ، صفحہ ۹۲،از عبد الرحمن کیلانی)

ایک اور اہلحدیث عالم قاری خلیل صاحب فرماتے ہیں :

’’ اگر روح کا جسم ہی نہ ہوتا تو فرشتہ کیا نکالتا؟ احادیث میں وارد ہے کہ نیک آدمی کی روح کو ریشمی غلاف میں لپیٹ لیا جاتا ہے،…ان کیلئے آسمان کے دروازے کھولے جاتے ہیں، گفتگو کرتی ہیں، جنت و جہنم کے کفنوں میں لپیٹی جاتی ہیں، ان سے خوشبو یا بدبو نکلتی ہے ایک آسمان سے فرشتے دوسرے آسمان تک لے جاتے ہیں۔‘‘ ( پہلا زینہ۔ صفحہ ۸۵، از قاری خلیل الرحمن)

اﷲ تعالیٰ کا فرمان تو واضح ہے کہ روح کے بارے میں انسان کو بہت کم علم دیا گیا ہے، لیکن اہلحدیث شایداس فرمانِ الٰہی سے مستثنیٰ ہیں۔ جب ایک بات قرآن و حدیث میں بیان ہی نہیں کی گئی تو محض متشابہات کے پیچھے لگے رہنا اور پھر عقل کی بنیاد پراس سے ایک عقید ہ گھڑلینا اور اس کی تبلیغ کرنا اہلحدیثوں کا ہی شیوہ ہے مومنون کا نہیں۔اﷲربُّ العزت فرماتا ہے:

﴿ فَأَمَّا الَّذِينَ فِي قُلُوبِهِمْ زَيْغٌ فَيَتَّبِعُونَ مَا تَشَابَهَ مِنْهُ ابْتِغَاءَ الْفِتْنَةِ وَابْتِغَاءَ ﴾

[آل عمران: 7]

’’جن لوگوں کے دلوں میں ٹیڑھ ہے، وہ فتنے کی تلاش میں ہمیشہ متشابہات ہی کے پیچھے پڑے رہتے ہیں اور ان کو معنیٰ پہنانے کی کوشش کرتے ہیں‘‘۔

روحوں کو غلاف میں لپیٹ کر لے جانا یا روحوں کی خوشبو و بدبوکی کوئی وضاحت کتاب اﷲ میں نہیں ملتی بلکہ یہ تمام معاملات متشابہات میں سے ہیں۔الست بربکم کے وقت بھی یہ جسم تھا،روح کا اپنا جسم ہوتا ہے اورفرشتے روح نکالتے ہیں تو یہ بند بند سے نکلتی ہے، فرشتے اسے جسمیت سمیت لے جاتے ہیں، اس دنیا اور قیامت کے بعد کی زندگی میں اس روح کو اپنے جسم کے ساتھ ساتھ ایک اور جسم بھی عطا کیا جاتا ہے، یہ سارے عقائد قرآن و حدیث میں کہاں بیان کیے گئے ہیں ،ذرا یہ علمائے اہلحدیث اس کی وضاحت تو فرمائیں!

اﷲ تعالیٰ نے قرآن مجید میں اس بات کاذکر فرمایا ہے کہ شیطان نے اﷲ تعالیٰ سے درخواست کی تھی کہ جس طرح میں بہک گیا ہوں اسی طرح مجھے بھی مہلت دی جائے کہ میں بھی اس انسان کو بہکا سکوں، اﷲ تعالیٰ نے اس کو قیامت تک کیلئے یہ مہلت دے دی ،اور فرمایا کہ میرے مخلص بندوں پر تیرا بس نہ چل سکے گا، شیطان نے کہا کہ میں ان کو ضرور گمراہ کروں گا، میرے حکم سے یہ جانوروں کے کان کاٹ ڈالیں گے اور ضروراﷲ کی بنائی ہوئی ساخت میں ردوبدل کریں گے۔تو جو اﷲ کے مخلص بندے ہوتے ہیں ان کے ایمان کی بنیاد اﷲ تعالیٰ کی طرف سے نازل کردہ محکم آیات ہی ہوا کرتی ہیں اور ان کے قیاس بھی اسی بنیاد پر ہوا کرتے ہیں نہ کہ شیطان کے بہکاوؤں پر!

روح کا جسم صرف اس لئے ثابت کرنے کی کوشش کی جارہی ہے کہ قرآن و حدیث میں عذاب قبر کا مقام جہنم بیان کیا گیا ہے۔ اب جب بیان ہوا کہ عمرو بن لحی اپنی آنیتں کھینچ رہا تھا تو روح کی مادئیت کا تو کوئی بھی قائل نہیں اس کا مطلب ہے کہ روح کو ایک نیا جسم عطاکیا جاتا ہے۔ لیکن اگر یہ علمائے مسلک اس عقیدے کو قبول کرلیں تو اس کا مطلب ہے کہ اس دنیاوی جسم سے عذاب قبر کا کوئی تعلق نہیں۔ جب جسم سے کوئی تعلق ہی نہیں تو اس کا مطلب ہے کہ اس قبر سے بھی کوئی تعلق نہیں، گویا ان کا عقیدہ جھوٹا ہے۔ اب اس سے قبل کہ اس جھوٹ کی پول کھلے انہوں نے امت میں یہ عقیدہ پھیلانا شروع کردیا کہ جہنم میں ہونے والا وہ عذاب روح کو ہوتا ہے اور وہ جسم روح کا اپنا ہوتا ہے کوئی دوسرا نہیں، اس قبر میں جسم کو الگ عذاب ہوتا ہے۔

گویا ان کے عقیدے کے مطابق مرنے والے کو دو عذاب ہوتے ہیں، استغفر اللہ من ذالک

کس قدر افسوس کی بات ہے کہ یہ کلمۂ توحید پڑھنے والی امت بری طرح خبیث مرض شرک میں مبتلا ہوکر ہر سو اﷲکے عذاب سے دوچار ہے۔ قبرپرستی کے شرک کا دارومدار عودروح، حیات فی القبر اور سماع موتیٰ کے باطل نظریات ہی پر ہے، اورانہی نظریات کی پرزور تائیدیہ ماہرینِ فن اپنی تحریروں میں کرتے رہے ہیں۔ خلاف قرآن عقائد کو بڑے ہی شاطرانہ انداز میں پیش کرتے ہیں اور اپنے بچاؤ اور اکابرین کے دفاع کے لیے قرآنی آیات کی معنوی تحریف اور غلط تاویل میں ذرا بھی جھجک محسوس نہیں کرتے۔ اس سے قبل ہم نے ’’ عالم برزخ ‘‘اور ’’ روح ‘‘ کے موضوعات پر بحث کرتے ہوئے ان ماہرین کی کارستانیوں کو قرآن اور صحیح احادیث کے آئینہ میں دکھایا تھا ۔ اب ’’بے روح جسدعنصری‘‘کے بارے میں پیداکردہ غلط فہمیوں پر بحث کی جائے گی اور اِن شاء اﷲ تعالیٰ ان کے کتمان کا پردہ چاک کرکے حقائق کو قرآن و حدیث کی روشنی میں واضح کیا جائے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *