Categories
Uncategorized

عقیدہ عذاب قبر اور مسلک پرستوں کی مغالطہ آرائیاں ( جسم )

کس قدر افسوس کی بات ہے کہ یہ کلمۂ توحید پڑھنے والی امت بری طرح خبیث مرض شرک میں مبتلا ہوکر ہر سو اﷲکے عذاب سے دوچار ہے۔ قبرپرستی کے شرک کا دارومدار عودروح، حیات فی القبر اور سماع موتیٰ کے باطل نظریات ہی پر ہے، اورانہی نظریات کی پرزور تائیدیہ ماہرینِ فن اپنی تحریروں میں کرتے رہے ہیں۔ خلاف قرآن عقائد کو بڑے ہی شاطرانہ انداز میں پیش کرتے ہیں اور اپنے بچاؤ اور اکابرین کے دفاع کے لیے قرآنی آیات کی معنوی تحریف اور غلط تاویل میں ذرا بھی جھجک محسوس نہیں کرتے۔ اس سے قبل ہم نے ’’ عالم برزخ ‘‘اور ’’ روح ‘‘ کے موضوعات  پر بحث کرتے ہوئے ان ماہرین کی کارستانیوں کو قرآن اور صحیح احادیث کے آئینہ میں دکھایا تھا ۔ اب  ’’بے روح جسدعنصری‘‘کے بارے میں پیداکردہ غلط فہمیوں پر بحث کی جائے گی اور اِن شاء اﷲ تعالیٰ ان کے کتمان کا پردہ چاک کرکے حقائق کو قرآن و حدیث کی روشنی میں واضح کیا جائے گا۔

جسد بے روح کو عذاب

کتاب اﷲ سے جب اس بات کی وضاحت ہوگئی کہ مرنے کے بعد ملنے والی سزا یا جزا کا مقام یہ زمین نہیں بلکہ یہ سارا معاملہ عالمِ برزخ میں ہوتا ہے تو پھر اس عقیدے کا تصور ہی نہیں رہتا کہ اس سزا یا جزا میں یہ دنیاوی جسم بھی شامل ہوتا ہے،لیکن ان مسلک پرستوں کا عقیدہ ہے کہ

’’ اہل سنت و الجماعۃ کا عذاب قبر کے بارے میں یہ عقیدہ ہے کہ عذاب جسم اور روح دونوں کو ہوتا ہے۔ مرنے کے بعد روح جنت یا جہنم میں داخل کردی جاتی ہے جبکہ جسم اپنی قبر میں عذاب یا ثواب سے ہمکنار ہوتا ہے‘‘۔(خلاصہ الدین الخالص از ابوجابر عبد اﷲ دامانوی، صفحہ ۲۵)

ان کا یہ عقیدہ یکسر قرآن و حدیث کا انکار ہے۔جزا و سزا اُس کے لیے ہے جو اس کا شعور و ادراک رکھتا ہو۔ روح اور اس جسم کے اتصال کا نام زندگی ہے، زندگی کے اس دور میں یہ جسم شعور و ادراک رکھتا ہے۔ لیکن جب اس جسم سے روح نکال لی جاتی ہے تو اس مردہ جسم کے تمام حواس قیامت تک کے لیے سلب کر لیے جاتے ہیں۔سورۂ فاطر میں فرمایا گیا:

﴿وَمَا يَسْتَوِي الْأَعْمَى وَالْبَصِيرُ ؁ وَلَا الظُّلُمَاتُ وَلَا النُّورُ ؁ وَلَا الظِّلُّ وَلَا الْحَرُورُ ؁ وَمَا يَسْتَوِي الْأَحْيَاءُ وَلَا الْأَمْوَاتُ ﴾

[فاطر: 19-22]

اندھا اور آنکھوں والا برابر نہیں۔نہ تاریکیاں اور روشنی یکساں ہے۔نہ چھاؤں اور دھوپ ایک جیسی ہے ،اور نہ زندہ اور مردہ برابر ہیں‘‘۔

قرآن کی اس آیت نے اس بات کو مکمل طور پر واضح کردیا کہ جس طرح اندھا دیکھنے والے کی،روشنی تاریکی کی اور دھوپ سائے کی ضد ہے، اسی طرح مردہ جسم ایک زندہ جسم کی ضد ہے،یعنی ان دونوں کی کیفیت یکساں نہیں۔ باالفاظ دیگر مردہ جسم زندہ جسم کی طرح دیکھنے، سننے، بولنے، تکلیف اور آرام کو محسوس کرنے والا نہیں ہوتا بلکہ ان صفات سے عاری ہوتا ہے۔ ہر انسان زندگی اور موت کے مراحل سے گزرتا ہے۔آ یئے قرآن و حدیث کی روشنی میں اس بات کوبغور دیکھیں کہ زندگی اور موت کے دور میں انسانی جسم کی کیا کیفیت ہوتی ہے؟

زندگی اور موت.

﴿الَّذِي خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيَاةَ لِيَبْلُوَكُمْ أَيُّكُمْ أَحْسَنُ عَمَلًا وَهُوَ الْعَزِيزُ الْغَفُورُ﴾

[الملك: 2]

’’وہی جس نے موت اور زندگی کوپیدا کیا تا کہ آزمائے کہ تم میں سے کون اچھے کام کرنے والا ہے‘‘۔

زندگی کا دور

اسی آزمائشی دور کے لیے فرمایا:

﴿وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ﴾

[الذاريات: 56]

’’ اور نہیں پیدا کیا ہم نے انسانوں اور جنوں کو مگر اپنی بندگی کے لیے‘‘۔

﴿إِنَّا خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ مِنْ نُطْفَةٍ أَمْشَاجٍ نَبْتَلِيهِ فَجَعَلْنَاهُ سَمِيعًا بَصِيرًا﴾

[الإنسان: 2]

ہم نے انسان کو مخلوط نطفہ سے پیدا کیا تاکہ اسے آزمائیں اس لیے ہم نے اس کو سننے اور دیکھنے والا بنایا۔‘‘

﴿ وَجَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَالْأَبْصَارَ وَالْأَفْئِدَةَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ﴾

[النحل: 78]

’’ اور اس نے تمہیں کان اور آنکھیں دیں اور دل تاکہ تم شکرگذار بنو۔‘‘

اﷲ تعالیٰ نے انسان کے لیے موت اور زندگی کا جو نظام مرتب فرمایا ہے یہ انسان کی آزمائش اور پھر اس کی جزا و سزا پر مبنی ہے۔اس آزمائشی دور میں انسان کو شعور و ادراک سے نوازا تاکہ یہ اپنے مقصد تخلیق کو سمجھے۔ باصلاحیت انسانی اعضاء عطا فرمائے اور دیکھنے، سننے، بولنے، سمجھنے اور سونگھنے کے حواس سے ا س کونوازا تا کہ حق بندگی اداکرسکے۔ زندگی کے اس دور کے بعد اس کو موت آجاتی ہے۔

﴿ثُمَّ إِنَّكُمْ بَعْدَ ذَلِكَ لَمَيِّتُونَ ؁ ثُمَّ إِنَّكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ تُبْعَثُونَ﴾

[المؤمنون: 15-16]

’’ پھر اس کے بعد تم کوموت آجائے گی، پھر تم قیامت کے دن اٹھائے جاؤ گے‘‘۔

اس جسدِ عنصری پر موت کا یہ دور اب قیامت تک چلے گا، پھر روز قیامت اس جسم کی دوبارہ تخلیق کی جائے گی اور اس میں روح لوٹاکر اﷲ تعالیٰ اسے اٹھا کھڑا کرے گا۔آئیے دیکھیں کہ موت کے اس دور کے بارے میں کتاب اﷲ کیافرماتی ہے:

موت کا مفہوم

﴿وَاللَّاتِي يَأْتِينَ الْفَاحِشَةَ مِنْ نِسَائِكُمْ فَاسْتَشْهِدُوا عَلَيْهِنَّ أَرْبَعَةً مِنْكُمْ فَإِنْ شَهِدُوا فَأَمْسِكُوهُنَّ فِي الْبُيُوتِ حَتَّى يَتَوَفَّاهُنَّ الْمَوْتُ أَوْ يَجْعَلَ اللَّهُ لَهُنَّ سَبِيلًا﴾

[النساء: 15]

’’ اور تمہاری عورتوں میں سے جوکوئی بدکاری کی مرتکب ہوں تو ان پر اپنے میں سے چار کی گواہی لاؤ اور اگر وہ گواہی دیں تو ان عورتوں کو گھر میں قید رکھو یہاں تک کہ موت ان کامعاملہ پورا کردے یا اﷲ ان کے لیے کوئی سبیل نکال دے‘‘۔

مریم صدیقہ کے بارے میں بیان کیا گیا:

﴿فَأَجَاءَهَا الْمَخَاضُ إِلَى جِذْعِ النَّخْلَةِ قَالَتْ يَا لَيْتَنِي مِتُّ قَبْلَ هَذَا وَكُنْتُ نَسْيًا مَنْسِيًّا﴾

[مريم: 23]

’’پھر دردِزہ ان کو کھجور کے تنے کے پاس لے آیا، کہنے لگیں کہ کاش اس سے پہلے میں مرجاتی اور بے نام و نشان ہوجاتی‘‘۔

بخاری کی ایک روایت میں آتا ہے کہ وفات سے قبل نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو بہت تکلیف تھی، فاطمہ رضی اﷲ کہنے لگیں کہ افسوس میرے والد کو بہت تکلیف ہے ۔اس پر نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا:

لَیْسَ عَلٰی اَبِیکِ کَرْبٌ بَعْدَ الْیَوْمِ

(بخاری:کتاب المغازی،باب مرض النبی ﷺ و وفاتہٖ۔۔۔)

’’ آج کے بعد تمہارے والد کو کوئی تکلیف نہیں ہوگی‘‘۔

ابو طلحہ ؓ کا بیٹا وفات پا گیا، ان کے گھر آنے سے قبل ان کی زوجہ ام سُلَیم رضی اﷲ نے اسے غسل دینے کے بعدکفنا کر ایک طرف رکھ دیا۔ ابو طلحہ ؓ جب رات کو واپس آئے تو بیٹے کے متعلق پوچھا ۔ان کی زوجہ نے کہا:

قَدْ ھَدَأَ نَفْسُہٗ

( بخاری:کتاب الجنائز،باب من لم یظھر حزنہ عند المصیبۃ)

’’ اس کی طبیعت کو سکون ہے ‘‘

’’ الموت، السکون: اور ہر وہ جو رک جائے، وہ مرگیا،اور مرگئی آگ موت میں یعنی ٹھنڈی ہوگئی اس کی راکھ پھر نہ باقی رہا اس کی چنگاریوں میں سے کچھ۔ اور مرگئی گرمی اور سردی اور مرگئی ہوا۔ یعنی ٹھہر گئی اور ساکن ہوگئی….اور انہی اقسام میں ہے قوتِ حس کا ختم ہوجانا۔ جیسے کہ اﷲ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ’’اے کاش اس سے پہلے میں مرگئی ہوتی‘‘۔ (لسان العرب)

کتاب اﷲ سے موت کا یہی مفہوم ملتا ہے کہ موت ایک ایسی کیفیت کا نام ہے جو زندگی کا خاتمہ کردینے والی، بے نام و نشان اور پر سکون ٹھہر جانے والی ہو۔یعنی جس میں کسی قسم کا کوئی شعور،ادراک اور حس وحرکت باقی نہیں رہتی۔ یہی اﷲ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ وَمَا يَسْتَوِي الْأَحْيَاءُ وَلَا الْأَمْوَاتُ’’ مردہ اور زندہ برابر نہیں‘‘۔ ایک طرف تو قرآن زندہ انسان کے لیے شعور و ادراک رکھنے والا، سننے اور بولنے والا بیان فرماتا ہے اور دوسری طرف مردے کو زندہ کی ضد قرار دیتے ہوئے اسے شعور و ادراک سے عاری بیان فرماتا ہے۔اس آزمائشی دور کے امتحان میں پوری طرح کامیابی حاصل کرنے کے لیے جو احساس و شعور بخشا گیا تھا، جس طرح ان اوصاف سے نوزا گیا تھا، موت کے اس دور میں ان سب کو واپس لے لیا گیا ہے۔ پہلے یہ انسان بنایا گیا تھا اب یہ مردہ گل رہا ہے، پہلے یہ مٹی سے بنایا گیا تھا اب مٹی میں مل رہا ہے۔پہلے یہ زندہ لوگوں کی باتوں کا جواب دیتا تھا، پیروں سے چلتا تھا، ہاتھوں سے کام کرتا تھا،آنکھوں سے دیکھتا اور کانوں سے سنتا تھا لیکن اب اس کے لیے بیان کیا گیا

﴿أَمْوَاتٌ غَيْرُ أَحْيَاءٍ وَمَا يَشْعُرُونَ أَيَّانَ يُبْعَثُونَ﴾

[النحل: 21]

’’مردے ہیں، ان میں زندگی کی رمق تک نہیں، اورانہیں یہ بھی شعو ر نہیں کہ کب دوبارہ زندہ کیے جائیں گے‘‘

نبی صلی اللہ علیہ و سلم جب غزوہ بدر کے اختتام پر کنویں پر جاکر مشرکین کے قتل ہوجانے والے سرداروں کو نام بنام پکارنے لگے تو عمرؓنے عرض کیا:

یَا رَسُوْلَ اﷲِ مَا تُکَلِّمَ مِنْ اَجْسَادٍ لاَّ اَروَاحَ لَھَا

( بخاری:کتاب المغازی،باب قتل ابی جہل)

’’ اے اﷲ کے رسول !آپ ایسے جسموں سے خطاب کررہے ہیں جن میں روح نہیں‘‘۔

یہی بات قرآن و حدیث سے ثابت ہے کہ زندگی کے دور میں اس جسم اور روح کا اتصال ہوتا ہے اسی لیے یہ جسم شعور و ادراک رکھتا ہے، لیکن جب اس جسم سے روح نکل جاتی ہے تو یہ جسم بے شعور ہوجاتا ہے۔اسی لیے مردہ جسم کو زندہ جسم کی ضد قرار دیا۔

کیا حالت موت میں عذاب ہوتا ہے؟

فرقہ پرستوں کا عقیدہ ہے کہ حالت موت میں بھی اس جسم پر عذاب ہوتا ہے، اس بارے میں کتاب اللہ سے دلائل پیش کئے جاتے ہیں تاکہ ان کے عقیدے کی حقیقت سب کے سامنے آ جائے۔اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے:

﴿وَإِذَا أُلْقُوا مِنْهَا مَكَانًا ضَيِّقًا مُقَرَّنِينَ دَعَوْا هُنَالِكَ ثُبُورًا ؁ لَا تَدْعُوا الْيَوْمَ ثُبُورًا وَاحِدًا وَادْعُوا ثُبُورًا كَثِيرًا﴾

[الفرقان: 13-14]

’’ جب یہ(کفار) جہنم میں تنگ جگہ پر ڈالے جائیں گے تو موت کو پکاریں گے (جواب ملے گا) آج ایک نہیں بہت سی موتوں کو پکارو‘‘۔

﴿وَنَادَوْا يَا مَالِكُ لِيَقْضِ عَلَيْنَا رَبُّكَ قَالَ إِنَّكُمْ مَاكِثُونَ﴾

[الزخرف: 77]

’’ اور وہ آوازیں دیں گے : اے مالک(داروغہ جہنم) تمہارا رب ہمارا کام تمام ہی کردے (یعنی ہمیں موت ہی دیدے )وہ کہے گا:(نہیں) تمہیں (ہمیشہ اسی حالت) میں رہناہے‘‘۔

﴿يَا لَيْتَهَا كَانَتِ الْقَاضِيَةَ﴾

[الحاقة: 27]

’’(وہ کہیں گے)اے کاش موت (ہمیشہ کے لیے)میرا کام کرچکی ہوتی‘‘۔

﴿ يَا لَيْتَنِي كُنْتُ تُرَابًا﴾

[النبأ: 40]

’’(اور تمنا کریں گے) اے کاش میں مٹی ہوگیا ہوتا۔‘‘

نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا:

اِذَا صَارَاَھْلُ الْجَنَّۃِ اِلٰی الْجَنَّۃِ ، وَصَارَ اَھْلُ الْنَّارِ اِلٰی الْنَّارِ، اُتِیَ بِا لْمَوْتِ حَتّٰی یُجْعَلَ بَیِنَ الْجَنَّّۃِ وَ الْنَّارِ ثُمّ یُذْبَحُ ثُمَّ یُنَادِیْ مُنَادٍ :یَّآ اَھْلَ الْجَنَّۃِ لَا مَوْتَ، وَ یَا اَھْلَ الْنَّارَ ، لَا مَوْتَ، فَیَزْدَادُ اَھْلَ الْجَنَّۃِ فَرَحًا اِلٰی فَرَحِھِمْ، وَیَزْدَادُ اَھْلَ الْنَّارِ حُزْنَا اِلٰی حُزْنِھِمْ

(مسلم:کتاب الجنۃ و صفۃ نعیمھا واھلھا باب جھنم)

’’جب جنت والے جنت میں چلے جائیں گے اور جہنم والے جہنم میں تو موت لائی جائے گی اور جنت اور جہنم کے درمیان اسے ذبح کردیا جائے گا ، پھر ایک پکارنے والا پکارے گا اے جنت والو! اب کوئی موت نہیں ہے، اور اے جہنم والو! اب کوئی موت نہیں ہے۔یہ سن کر جنت والوں کو خوشی پر خوشی حاصل ہوگی اورجہنم والوں کے رنج میں اضافہ ہوجائے گا‘‘۔

یُنَادِیْ مُنَادٍ اَنَّ لَکُمْ اَنْ تَصِحُّوْا فَلاَ تَسْقَمُوْٓا اَبَدًا وَّ اَنَّ لَکُمْ اَنْ تَحْیَوْا فَلاَ تَمُوْتُوْٓا اَبَدًا وَّ اَنَّ لَکُمْ اَنْ تَشِبُّوْا فَلاَ تَھْرَمُوْٓا اَبَدًا وَّ اَنَّ لَکُمْ اَنْ تَنْعَمُوْا فَلاَ تَبْأَسُوْا اَبَدًا۔۔۔۔۔۔

(مسلم:کتاب الجنۃ و صفۃ نعیمھا واھلھ)

’’ایک پکارنے والا (جنتیوں کو) پکارے گا:تمہارے لیے یہ طے کردیا گیا ہے کہ تم صحت مند رہو گے اور کبھی بیمار نہ پڑوگے، اور یہ کہ تم زندہ رہوگے اور تمہیں کبھی موت نہ آئے گی، اور یہ کہ تم ہمیشہ جوان رہوگے اور کبھی بوڑھے نہ ہوگے ، اور یہ کہ تم عیش و چین میں رہوگے اور کبھی کوئی رنج نہ ہوگا ۔۔۔۔۔۔‘‘

کیا وجہ ہے کہ کفار جب جہنم میں ڈالیں جائیں گے تو موت کی تمنا کریں گے؟ موت کو پکاریں گے؟قرآن بیان کرتا ہے:

﴿وَالَّذِينَ كَفَرُوا لَهُمْ نَارُ جَهَنَّمَ لَا يُقْضَى عَلَيْهِمْ فَيَمُوتُوا وَلَا يُخَفَّفُ عَنْهُمْ مِنْ عَذَابِهَا﴾

[فاطر: 36]

’’جن لوگوں نے کفر کیا ان کے لیے جہنم کی آگ ہے، ان کا معاملہ پورا نہ کیا جائے گا کہ ان کو موت آ جائے ،نہ ان کے عذاب میں کمی کی جائے گی‘‘۔

قرآن نے بتایا کہ عذاب سے بچنے کی دو ہی صورتیں ہیں: ایک یہ کہ ان کو موت آجائے یا پھر اﷲ تعالیٰ ان کے عذاب میں کمی فرمادے۔یہی وجہ ہے کہ جب موت کو ذبح کرکے یہ اعلان کردیا جائے گا کہ اب کوئی موت نہیں تو جہنمیوں کا رنج بڑھ جائے گا کیونکہ موت ہی وہ چیز تھی کہ جس سے ان کو اپنے عذاب کے ختم ہونے کی امید تھی؛ اور دوسری طرف جنتی خوش ہو جائیں گے کہ اب کوئی چیز ایسی نہیں کہ ہم کو اس بھر پور جزا سے محروم کرسکے۔

قرآن و حدیث سے واضح ہوا کہ موت کے اس دور میں اس جسم کا جزا و سزا سے کوئی تعلق نہیں بلکہ یہ تو وہ کیفیت ہے کہ جس کی وجہ سے یہ دنیاوی جسم جزا وسزا سے دور رہتا ہے۔

قرآن و حدیث کے دیئے ہوئے عقیدے کے مقابلے میں یہ مسلک پرست حالت موت میں عذاب و راحت کا عقیدہ رکھتے ہیں اور اس کی وجہ یہی بتاتے ہیں کہ اس مردہ جسم میں شعور و ادراک باقی رہتا ہے۔ چنانچہ لکھتے ہیں:

’’اور اموات کے احساس و شعور سے کسے انکار ہے؟ اگر ان میں احساس شعور نہ ہو تو قبر کا عذاب کیسے ہوسکتا ہے اور اموات جنت کے فوائد سے کیسے مستفید ہوسکتے ہیں؟‘‘ (روح عذاب قبر اور سماع موتیٰ،از عبد الرحمن کیلانی ( اہلحدیث )،صفحہ۱۲۰)

حقیقت یہ ہے کہ ان مسلکی علماء کے تحت الشعور میں اﷲ کا دیا ہوا عقیدہ موجود ہے، لیکن اس کا انکار اس لیے ضروری ہے کہ ان کے فرقے کا عقیدہ اس کے خلاف ہے۔ مندرجہ بالا تحریر عبد الرحمن کیلانی صاحب نے ڈاکٹر عثمانی رحمۃ اﷲعلیہ کے قرآن و حدیث پر مبنی دلائل کو جھٹلانے کے لیے لکھی ہے، ورنہ جب بات دیگر مسلک والوں کو نیچا دکھانے کی ہوتی ہے تو یہی موصوف ان پر اس طرح برستے ہیں:

’’اور یہی وہ بنیاد ہے جس کی طبقہ صوفیا کو ضرورت تھی۔ لیکن قرآن ان کی ایک ایک بات کی پرزور تردید کرتا ہے۔ وہ کیا ہے کہ یہ دور موت کا دور ہے زندگی کا دور نہیں قبروں میں پڑے ہوئے لوگ مردہ ہیں نہ ان میں شعور ہے نہ یہ سن سکتے ہیں، نہ جواب دے سکتے ہیں۔ اب دو ہی راستے ہیں یا تو ان اماموں اور بزرگوں کی روایات اور اقوال اور مکاشفات کو مان لیجئے اور قرآن سے دستبردار ہو جائیے ورنہ ان سب خرافات سے دست بردار ہونا پڑے گا‘‘۔ ( ایضاً: صفحہ ۵۶)

اوریوں بالآخر اہلحدیثوں نے خود ہی اپنے اوپر قرآن سے دستبرداری کا فتویٰ چسپاں کر ڈالا!

کیسے دو چہرے ہیں ان کے جب ڈاکٹر عثمانی رحمۃ اﷲعلیہ کی تحریر کو رد کر نے اور اپنا باطل عقیدہ ثابت کرنے کی ٹھانی تو قرآن و حدیث کے دلائل کو رد کرتے ہوئے’’شہادت زُور‘‘ کا روّیہ اپنا یااور کہا کہ مردہ میں احساس و شعور ہوتا ہے،اور جب دوسرے مسلک والوں کو ہرانے کی بات ہوئی تو قرآن و حدیث کے انہی دلائل کو بنیاد بناتے ہوئے مردوں کو احساس و شعور سے عاری بتایا اور اس کے خلاف عقیدہ رکھنے پران پر قرآن سے دستبرداری کا فتویٰ نافذ فرما دیا۔یہ ہے شان خود کو اہلحدیث کہنے والوں کی!

مرا ہوا انسان اللہ کے نزدیک کیا حیثیت رکھتا ہے

فرقہ اہلحدیث کا ہر عالم و مفتی نئی نئی کہانیاں سناتا ہے۔ قاری خلیل اہلحدیث کے اس فرقے سے ہیں جو مرنے کے بعد روح لوٹائے جانے والی روایات کو ضعیف قرار دیتا ہے، لیکن عقیدہ وہی ہے کہ اللہ تعالیٰ اس مردہ جسم کو عذاب دیتا ہے ، چنانچہ لکھتے ہیں :

’’پہلی بات تو یہ ہے کہ کسی چیز کا بے جان ہونا صرف ہمارے لیے ہے۔ اﷲ سبحانہ و تعالیٰ کے لیے کوئی چیزبے جان نہیں ہے۔۔۔‘‘۔ (پہلا زینہ ،از قاری خلیل اہلحدیث، صفحہ ۵۴)

اس سے قبل ایک دوسرے اہلحدیث کا بیان بھی آپ کی نظروں سے گزرا اور اب ان موصوف کا یہ بیان بھی آپ کے سامنے ہے۔یہ لوگ اپنے آپ کو قرآن و حدیث پر چلنے والا بیان کرتے ہیں لیکن کیاان کی اس طرح کی تحریروں میں آپ کوقرآن و حدیث کی کوئی دلیل نظر آتی ہے؟یہ ساری باتیں آخر لفاظی تک ہی کیوں محدود ہیں؟ اپنے ان عقائد کے ثبوت میں کتاب اﷲ کا کوئی حوالہ کیوں نہیں دیا جاتا؟دراصل عقیدہ پہلے سے بنا ہوا ہے اور کسی صورت میں قرآن و حدیث سے ثابت نہیں ہورہا ،اس لیے اب اس طرح کی منطق سے کام نہ لیا جائے تو پھر کیا کیا جائے۔ قرآن و حدیث سے ان کی اس منطق کا جواب دینا ہر گز مشکل نہیں لیکن ہم بات صرف اس مردہ جسم تک ہی محدود رکھتے ہیں۔

مرا ہوا یہ انسان اﷲ تعالیٰ کے نزدیک بے جان ہے یا جاندار؟

اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے:

أَمْوَاتٌ غَيْرُ أَحْيَاءٍ

[النحل: 21]

’’مردہ ہیں،ان میں زندگی کی رمق تک نہیں‘‘۔

﴿إِنَّمَا يَسْتَجِيبُ الَّذِينَ يَسْمَعُونَ وَالْمَوْتَى يَبْعَثُهُمُ اللَّهُ ثُمَّ إِلَيْهِ يُرْجَعُونَ﴾

[الأنعام: 36]

’’حقیقت یہ ہے کہ (دعوت حق) پر لبیک وہی کہتے ہیں جو سنتے ہیں، رہے مردے تو اﷲ ان کو اٹھائے گا پھر وہ اسی کی طرف پلٹائے جائیں گے‘‘۔

﴿إِنَّكَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتَى ﴾

[النمل: 80]

’’ (اے نبی ﷺ) بے شک تم مردوں کو نہیں سنا سکتے‘‘۔

﴿ إِنَّ اللَّهَ يُسْمِعُ مَنْ يَشَاءُ وَمَا أَنْتَ بِمُسْمِعٍ مَنْ فِي الْقُبُورِ﴾

[فاطر: 22]

’’بے شک اﷲ جسے چاہے سنا سکتا ہے اور تم انہیں نہیں سنا سکتے جو قبروں میں ہیں‘‘۔

﴿وَلَوْ أَنَّ قُرْآنًا سُيِّرَتْ بِهِ الْجِبَالُ أَوْ قُطِّعَتْ بِهِ الْأَرْضُ أَوْ كُلِّمَ بِهِ الْمَوْتَى ﴾

[الرعد: 31]

’’اگر کوئی قرآن ایسا ہوتا ہے کہ ( اس کی تاثیر) سے پہاڑ چلنے لگتے یا زمین پھٹ جاتی یا مردے کلام کرنے لگتے‘‘۔

﴿وَلَوْ أَنَّنَا نَزَّلْنَا إِلَيْهِمُ الْمَلَائِكَةَ وَكَلَّمَهُمُ الْمَوْتَى وَحَشَرْنَا عَلَيْهِمْ كُلَّ شَيْءٍ قُبُلًا مَا كَانُوا لِيُؤْمِنُوا إِلَّا أَنْ يَشَاءَ اللَّهُ وَلَكِنَّ أَكْثَرَهُمْ يَجْهَلُونَ﴾

[الأنعام: 111]

’’اور اگر ہم ان پر فرشتے بھی اتاردیتے اور مُردے بھی ان سے گفتگو کرنے لگتے اورہم سب چیزوں کو ان کے سامنے لاموجود بھی کردیتے تو بھی یہ ایمان نہ لاتے ۔ مگریہ کہ اﷲایسا چاہتا۔لیکن ان کے اکثرلوگ جاہل ہیں۔‘‘

ان تمام آیات میں اﷲ تعالیٰ مر جانے والوں کو مردہ و بے جان کہہ رہا ہے جو نہ سن سکیں اور نہ بات کرسکیں اور یہ ایک کلیہ ہے جو ناقابل ردّ ہے، لیکن یہ مسلک پرست فرماتے ہیں کہ اﷲ کے لیے کوئی چیزبے جان نہیں۔

اب اگر اﷲ کے نزدیک یہ مرجانے والے بے جان نہیں تو قیامت کے دن اﷲ کسے زندہ کرکے اٹھائے گا؟

یہ مسلکی علماء، لوگوں کو اس قسم کی مشکوک باتوں میں الجھا کر اپنے خود ساختہ عقیدے کے لیے راہ ہموار کرنا چاہتے ہیں۔اب یہ انہی کا ظرف ہے کہ اﷲ تعالیٰ کے فرامین کو اپنی تحریروں سے رد کرنے کی کوشش کریں!

قیامت کے دن کے معاملہ کو اس مردہ جسم پر تھوپ دینا

شروع سے لیکر اب تک آپ مختلف فرقوں کے علما ء اور خاص کر فرقہ اہلحدیث کے علما ء کی خلاف قرآن و حدیث تحریریں پڑھتے چلے آ رہے ہیں کہ کس طرح زبردستی اسی مردہ جسم  پر عذاب ہونے کا عقیدہ ٹھونسنا چاہتے ہیں، اب ہم ان کے بہت ہی بڑے عالم علامہ بدیع الدین شاہ راشدی کی تحریر پیش کر رہے ہیں۔ ان سے ایک سوال کیا گیا تو سوال و جواب دونوں ملاحظہ فرمائیں:

’’کہتے ہیں کہ مردہ جسم بے حس ہوتا ہے، اس کو تکلیف کا کوئی احساس نہیں ہو سکتا، پس اس کو عذا ب دینے کا کیا فائدہ؟ الجواب: یہ ان کا اﷲ کی قدرت پر اعتراض ہے۔ دیکھو!زبان کو اﷲ نے کلام کرنے کی طاقت دی ہے، مگر کسی اور عضو کا بولنا معقول نہیں، لیکن قیامت کے دن انسان کے دوسرے اعضاء بھی بولنے لگیں گے۔جیسا کہ ارشاد ہے: ’’ ہم آج کے دن ان کے منہ پر مہر لگادیں گے اور انکے ہاتھ ہم سے باتیں کرینگے اور ان کے پاؤں گواہیاں دینگے ان کاموں کی جو وہ کرتے تھے۔۔۔ اب غور کریں کہ ہاتھ،پاؤں،کانوں،آنکھوں اور چمڑیوں میں بولنے کی طاقت نہیں، جب زبان بند ہوتی ہے،تو یہ سارے اعضا ء بولنے سے عاجز ہوتے ہیں، اور مشاہدہ میں آیا ہے کہ جوگونگا ہوتاہے،تو اس کا کوئی دوسرا عضو بات نہیں کرسکتا، مگر اﷲ نے چاہا تو ان سے یہ کام لے لیا‘‘(عذاب قبر کی حقیقت، از بدیع الدین شاہ راشدی،صفحہ ۱۴،۱۵)

اس کو کہتے ہیں پوچھو کھیت کی تو سنائے کھلیان کی! یہاں دلیل درکار ہے اس مردہ گل سڑ جانے والے دنیاوی جسم کے شعور و ادراک کی اورمثا ل پیش کی جا رہی ہے ان جسموں کی کہ جن میں دوبارہ تخلیق کے بعد روح ڈال دی جائے گی۔جس جسم میں روح موجود ہو اس کے شعور و ادراک سے کسے انکار ہے؟ رہی بات کہ جسم کے دوسرے اعضاء بولیں گے اور گواہی دیں گے تویہ معاملہ صرف یوم آخرت یعنی حساب کتاب کے لیے بیان فرمایا گیا ہے جبکہ نظام بالکل ہی مختلف ہوگا۔اس معاملے میں بھی ہمارا ایمان صرف اسی حد تک ہوگا ،کسی اور موقع کے لیے اس بات کو دلیل بنانامحض جہالت ہے۔یہی راشدی صاحب مزید فرماتے ہیں:

’’چنانچہ نوح علیہ السلام کی قوم کے لیے فرمایا:۔۔۔۔۔۔یہ لوگ بہ سبب اپنے گناہوں کے ڈبودئے گئے اور جہنم میں پہنچادیئے گئے اور اﷲ کے سوا اپنا مدد گار انہوں نے نہ پایا‘‘۔ اب سوال یہ ہے کہ یہاں ماضی کے صیغے ہیں، جن میں گذری ہوئی باتوں کا ذکر ہے، جب ڈوب کر مرگئے اور بے حس ہوگئے پھر کیونکر ان کو آگ میں ڈالا گیا؟‘‘۔(ایضاً :صفحہ ۱۷)

کیسی مہر لگی ہے ان پر کہ قرآن کی آیت پیش کرتے ہیں اور عقیدہ اس کے خلاف رکھتے ہیں!قرآن و حدیث کا دیا ہوا عقیدہ تو یہ ہے کہ یہ جسم مٹی سے بنا ہے، مرنے کے بعد مٹی میں جاتاہے، روح جنت یا جہنم(عالم برزخ) میں پہنچادی جاتی ہے اوراسے ایک دوسرا جسم دیا جاتا ہے ،روح اور اُس جسم کایہ مجموعہ قیامت تک حسب انجام سزا یا جزا سے نوازا جاتا ہے،قیامت کے دن ان گلے سڑے دنیاوی جسموں کی دوبارہ تخلیق کی جائے گی،ان میں روح لوٹا دی جائے گی اور پھر انہیں حسب انجام جنت یا جہنم میں داخل کیا جائے گا۔ بدیع الدین راشدی صاحب ان اہلحدیثوں کے صف اوّل کے عالم مانے جاتے ہیں جن کے بارے میں ایک دوسرے اہلحدیث ’’عالم‘‘ یہ مبالغہ آرائی کرتے ہیں کہ

ناصرالسنۃ النبویۃ، ناصرالعقیدۃ السلفیۃ، قامع البدعۃ، المجاھد لاعلاء کلمۃ اﷲ، الصلب فی النسبۃ، الملازم للعبادۃ، العالم الفاضل، المحدث الفقیۃ ، رئیس المحققین، العلامۃ الشیخ السیدبدیع الدین الشاہ السندی الراشدی ۔۔۔(ہدایۃ المستفید:ج ۱ص۱۰۰ بحوالہ حدیث اور اہلحدیث:ص ۱۳۴) یعنی موصوف سنت نبوی کے محافظ و مددگار ہیں،اسلاف کے عقیدے کی حفاظت کرنے والے ہیں، بدعات کو ختم کرنے والے، اﷲکے کلمے کو بلند کرنے والے مجاہد ہیں، نسباً بزرگ و برتر ہیں، عبادت کو لازم کیے ہوئے ہیں، عالم و فاضل ہیں، محدث و فقیہ ہیں، تحقیق کرنے والوں کے سربراہ ہیں، بہت بڑے عالم ہیں۔۔۔

مگرحیف کہ ان ’’صفات‘‘ کے مالک عقیدہ یہ دیتے ہیں کہ’’ڈبودیئےگئے اور جہنم میں پہنچادیئے گئے‘‘ اور کہتے ہیں کہ’’جب ڈوب کر مرگئے اور بے حس ہوگئے پھر کیونکر ان کو آگ میں ڈالا گیا؟‘‘

یعنی ثابت کررہے ہیں کہ یہی دنیاوی جسم جہنم میں داخل کردیئےگئےاور اگر یہ جسم اگر بے حس تھے تو ان کو جہنم میں عذاب کے لیے کیوں داخل کیا گیا؟ کیا شہداء کو اڑنے والے جسموں کا ملنا، ان کے علم میں نہیں؟ کیا شہداء کی اﷲتعالیٰ سے درخواست کہ ان کی روحوں کو دنیاوی جسموں میں لوٹادیا جائے، انہیں یاد نہیں!ان پیرجھنڈاصاحب کوایسے ہی اتنے بڑے بڑے القابات دے ڈالے گئے! قیامت سے قبل ان دنیاوی جسموں کے جہنم یا جنت میں داخل کیے جانے کا تو عقیدہ کتاب اﷲ دیتی ہی نہیں ،پھر یہ اہلحدیثوں کے ایمان کا حصہ کیسے بن گیا؟ سچ ہے اکابرپرستی قلب پر ایسا پردہ ڈال دیتی ہے کہ حق کو باطل اور باطل کو حق ثابت کرنے میں لگے رہتے ہیں۔واقعی جس کو اﷲ

ہدایت نہ دے اس کو کوئی ہدایت نہیں دے سکتا۔ ان پیر صاحب کا بیان ایک طرف، ایک دوسرے اہلحدیث اسی بابت فرماتے ہیں:

’’سورہ نوح کی اس آیت سے معلوم ہوا کہ پانی میں جسم غرق ہوئے اور جہنم میں جسموں کو نہیں بلکہ ان کی روحوں کو داخل کیا گیا۔البتہ جسم بھی روح کے ساتھ عذاب میں شریک ہیں۔جیسا کہ عذاب قبر کی احادیث سے یہ مسئلہ واضح ہے اور ہمارے لیے عذاب کے ان اثرات کو دیکھنا اور محسوس کرنا ناممکن ہے کیونکہ یہ غیب کا معاملہ ہے جسے حواس محسوس کرنے سے قاصر ہیں‘‘۔(عقیدہ عذاب قبر، از ابوجابر عبد اﷲ دامانوی، صفحہ۲۵)

سورہ انفال اور سورہ محمد کے حوالے سے اس سے قبل تشریح کردی گئی ہے کہ فرشتے زندہ انسان کی روح قبض کرتے وقت اسے مارتے ہیں، مردہ جسم پر مارنے کا کوئی بیان ان آیات میں نہیں ملتا ،لہٰذا اس کو دلیل بنانا محض گمراہی اور لوگوں کو دھوکہ دینا ہے۔ یہ خود بھی گمراہ ہوئے اور نہ جانے کتنوں کو گمراہ کیا ہے۔

مفتی صاحب نے اپنے فرقے کے عقیدے کو بچانے کے لیے پردۂ غیب کا بہانہ توتراش لیا لیکن قرآن کے اس بیان کو کہاں لے جائیں گے کہ النَّارُ يُعْرَضُونَ عَلَيْهَا غُدُوًّا وَعَشِيًّا  ’’جہنم کی آگ ہے جس پر صبح و شام وہ پیش کیے جاتے ہیں‘‘یعنی عذاب یہاں نہیں ہو رہا بلکہ جہنم میں ہو رہا  ہے ۔ اب موصوف کیسے تسلیم کرلیں کہ یہ جہنم کاتذکرہ ہے کیونکہ اگر یہ بات تسلیم کرلی جائے تو ظاہر ہے ان کے جھوٹ کا بھانڈہ پھوٹ جائے گا۔ لہٰذا مفتی صاحب نے النّار ’’جہنم کی آگ ‘‘ کے معنی ہی بدل ڈالے کہ نہ رہے گا بانس اور نہ بجے گی بانسری! چنانچہ لکھتے ہیں:’’اس آیت میں آل فرعون صبح و شام جس آگ پر پیش کئے جارہے ہیں وہی عذاب قبر ہے‘‘

ملاحظہ فرمایا کہ کس طرح انہوں نے کمال فنکاری دکھاتے ہوئے اسے ’’ جس آگ‘‘ کہہ ڈالا! کوئی ان مفتی صاحب سے پوچھے کہ قرآن و حدیث میں بے شمار جگہ النّارکا لفظ آیا ہے، کیا معنی ہیں النّار کے؟ یہ کافر و مشرک ’’جس آگ‘‘ میں عذاب دیئے جاتے ہیں یا جہنم کی آگ میں! یہ ہے ان مسلک پرستوں کا انداز!

کیا یہ بدترین علمی خیانت نہیں؟ کیا اپنے فرقے کے عقیدے کے دفاع کے لیے قرآن مجید کے الفاظ کے معنی و مفہوم بدل دینا جائز ہے؟

سڑے گلے جسم پر عذاب ہونا

اہلحدیث حضرات احادیث صحیحہ کی غلط تشریحات کرکے اسی قبر اور جسم پر عذاب ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔قبرپرٹہنیاں گاڑنے والی حدیثِ بخاری پیش کرکے عبد الرحمن کیلانی صاحب دعویٰ کرتے ہیں کہ:

’’آپ ؐ نے اسی قبر پر ہری ڈالی گاڑی جس میں جسم مدفون تھے اور فرمایا کہ شاید اس سے عذاب ہلکا ہو۔ یہ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ جسم بھی عذاب سے متاثر ہوتا ہے۔‘‘ (روح،عذاب قبر اورسماع موتیٰ،صفحہ۷۱)

وضاحت: :

نبی ﷺ نے یہ نہیں فرمایا کہ ان قبروں میں عذاب ہو رہا ہے۔ اگر ان قبروں میں عذاب ہونے کا بیان ہوتا تو بالکل واضح تھا کہ انہی دنیاوی جسموں کو عذاب ہورہا ہے۔ اس کے برعکس نبیﷺ نے تو فرمایا کہ ان قبر والوں کو عذاب ہورہا ہے،یعنی جو ان قبروں میں دفن ہوئے تھے ان کو عذاب ہورہا ہے۔یہ عذاب کہاں ہوتا ہے؟ قرآن و حدیث سے بالکل واضح کردیا گیا ہے۔رہا ان موصوف کا یہ کہنا کہ چونکہ اسی قبر پر ہری شاخیں گاڑی تھیں اس کا مطلب ہے کہ اسی جسم کو عذاب ہورہا تھا، تو یہ محض اپنے گمراہ کن عقیدے کا استخراج ہے۔مشرکین عرب بھی اپنے مردے دفنایا کرتے تھے: عمرو بن لحی اور ابو ثمامہ عمرو بن دینار کے اسی دنیاوی قبر میں دفنائے جانے کے باوجود نبی ﷺ نے ان دونوں کے جہنم میں عذاب دیئے جانے کا ذکر فرمایا۔ اسی طرح خود نبی ﷺ نے اپنے فرزند کی وفات پر جنت میں اس کے لیے ایک دودھ پلانے والی کا ذکر فرمایا۔اس قبر میں دفن کیے جانے کے باوجود نبی ﷺنے صرف جنت میں ملنے والی راحت کا ذکر فرمایا، اس دنیاوی جسم کے بارے

میں کچھ بھی نہ کہا؟ کہتے بھی کیسے کہ آپ توقرآن کی تشریح کرنے کے لیے تشریف لائے تھے۔ وہ تویہ مسلک پرست ہیں جو آپ کی احادیث سے اُن باتوں کوکشیدکرنے کی کوشش کرتے ہیں جن سے قرآن کا تضاد ثابت ہو اور جو اِ ن میں ہوں بھی نہیں۔ ایک طرف تو رسول اﷲﷺ کا بیان ہے، دوسری طرف ہے محض گمان ۔ اب ایمان کس پر ہوگا؟ حدیث پر یا نام نہاداہلحدیثوں پر؟

ان کے استدلال کی جولانیاں دیکھیے۔ فرماتے ہیں:

’’ابوہریرہؓ کہتے ہیں کہ:ایک کالا مرد (یاکالی عورت) مسجد میں جھاڑو دیا کرتا تھا۔ وہ مرگیا اور رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ و سلم کو اس کے مرنے کی خبر نہ ہوئی۔۔۔پھر آپؐ اس کی قبر پر آئے اور اس پر نمازِ جنازہ پڑھی۔‘‘یہ حدیث بھی اپنے مضمون میں صاف ہے کہ (۱)قبر سے مراد یہی زمینی گڑھا ہے ورنہ آپ ؐ اس کی قبر پر کیوں تشریف لے گئے؟(۲) یہ کہ قبر پر آکر دعائے استغفار کرنے یا نماز جنازہ پڑھنے سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ اس قبر میں جو جسم پڑا ہے اس کا عذاب و ثوابِ قبر سے تعلق ضرور ہے۔‘‘ ( صفحہ ۷۲)

نبیﷺنے کالے مرد یا کالی عورت کی وفات کے بعد اس کی قبر پر صلوٰۃ ا لمیت ادا فرمائی۔ اہلحدیثوں کو اس عمل سے بھی دنیاوی جسم پر عذاب یا راحت کی خوشبو آگئی حالانکہ یہ تو نہایت سادہ اور عام سی بات ہے کہ صلوٰۃ ا لمیت ادا کرتے وقت میت سامنے رکھتے ہیں۔مذکورہ احادیث کے متن سے پتہ چلتا ہے کہ اس عورت یا مرد کی وفات رات کو ہوئی تھی، صحابہؓ نے نبیﷺ کو جگانامناسب نہ سمجھا اور اس کی ایسے ہی تدفین کردی۔نبی ﷺ نے معلوم ہونے پر اس کی قبر پر جاکر صلواۃ ا لمیت ادا کی۔ نبیﷺ کے اس عمل سے ان مسلک پرستوں کی تسلی نہ ہوسکی، شاید ان کے ذہن میں ہو کہ قبر سے لاش کو باہر نکال کر صلوٰۃ ا لمیت ادا کرنی چاہیے تھی! اب چونکہ ایسا نہیں کیا گیا بلکہ قبر میں مدفون میت پر ہی صلوٰۃ ادا کردی گئی تو اس سے اسی دنیاوی جسم پر عذاب یا راحت کا عقیدہ کشید کرلیا گیا!اس سے قبل انہی موصوف کا یہ فتوی بھی ہم پیش کرچکے ہیں:

’’اور یہی وہ بنیاد ہے جس کی طبقہ صوفیا کو ضرورت تھی۔ لیکن قرآن ان کی ایک ایک بات کی پرزور تردید کرتا ہے۔ وہ کیا ہے کہ یہ دور موت کا دور ہے زندگی کا دور نہیں قبروں میں پڑے ہوئے لوگ مردہ ہیں نہ ان میں شعور ہے نہ یہ سن سکتے ہیں، نہ جواب دے سکتے ہیں۔ اب دو ہی راستے ہیں یا تو ان اماموں اور بزرگوں کی روایات اور اقوال اور مکاشفات کو مان لیجئے اور قرآن سے دستبردار ہو جائیے ورنہ ان سب خرافات سے دست بردار ہونا پڑے گا‘‘۔ ( ایضاً: صفحہ ۵۶)

اب اہلحدیث صاحبان اس بات کا فیصلہ فرمائیں کہ ان کے ان عالم صاحب کا کونسا فتوی سچا ہے اور کونسا جھوٹا، اور وہ قرآن سےدستبردارہوتے ہیں یا اپنے اکابرین کے باطل عقائد سے؟

!کیا سڑ گل جانے اور مٹی بن جانے والے جسم پر عذاب ہوتا ہے؟

﴿إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا بِآيَاتِنَا سَوْفَ نُصْلِيهِمْ نَارًا كُلَّمَا نَضِجَتْ جُلُودُهُمْ بَدَّلْنَاهُمْ جُلُودًا غَيْرَهَا لِيَذُوقُوا الْعَذَابَ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَزِيزًا حَكِيمًا﴾

[النساء: 56]

’’اور جن لوگوں نے ہماری آیات سے انکار کیا، ان کو ہم عنقریب جہنم میں داخل کریں گے۔ جب ان کی کھالیں گل جائیں گی تو ہم دوسری کھالوں سے بدل دیں گے تاکہ عذاب کا مزہ چکھتے رہیں۔ بے شک اﷲغالب ہے، حکمت والا ہے‘‘۔

یہ ہے قرآن و حدیث کا دیا ہوا عقیدہ کہ اﷲ تعالیٰ دنیا کے گل سڑجانے والے ناقص و ناپائیدار بدن کو عذاب نہیں دیتا(نہ مرنے کے بعد، نہ قیامت کے بعد) بلکہ اس کے لیےقرآن و حدیث کا دیا ہوا عقیدہ تو یہ ہے کہ مٹی کا یہ جسم سڑ گل جاتا اور مٹی میں مل کر مٹی ہو جاتا ہے۔اب جو جسم باقی ہی نہ رہے تو اس کے شعور و ادراک کا کیا مطلب! لیکن ان فرقہ پرستوں نے امت میں عقیدہ پھیلایا ہے :

’’ہاں کبھی کبھی مرنے کے بعد اس جسد عنصری پر بھی عذاب و ثواب کے آثار نمایاں ہوتے ہیں۔بندوں کی عبرت و رغبت کے لیے اور اس عالم امثال میں بغیر تعلق روح کے حیات بسیط کے ساتھ عذاب و ثواب ہوتا ہے جس کو ہم محسوس نہیں کرسکتے اور اس عذاب و ثواب کے لیے اس جسم کا صورت نوعی میں باقی رہنا بھی ضروری نہیں اگر لاکھوں ذرات بن کر ہزاروں قسم کے تغیر و تبدل حاصل کرکے کچھ بھی ہوجائے پر حیات بسیط میں عذاب و ثواب کا محل بن سکتا ہے‘‘۔(الاقوال المرضیہ فی الاحوال البرزخیہ، از محمد حسین نیلوی اشاعتی، صفحہ ۴۴)

’’برزخ میں روح اور روحانی زندگی اصل ہے جسم اس کے تابع ہوکر اس کی نعمت و مصیبت کے اثرات قبول کرتا ہے خواہ وہ اپنی ہئیت پر ہو یا بکھر جائے‘‘۔ (عالم برزخ، از قاری محمد طیب دیوبندی، صفحہ۵)

’’اب کوئی کہے کہ مردہ مٹی ہوجاتا ہے۔جسم گل سڑ جاتا ہے پھر اس میں زندگی کے کوئی آثارنہیں ہوتے تو پھر ایک مردہ جسم کو عذاب کیسے ممکن ہے؟ یہ بات سمجھ میں آئے یا نہ آئے لیکن عذاب ہوتا ہے کیونکہ الصادق الامین جناب محمد رسول اﷲ ﷺ جن کی زبان سے زیادہ سچی زبان کائنات میں کسی کی نہیں ہے جن کی زبان پر اﷲ سبحانہ و تعالیٰ کی وحی جاری ہوتی ہے انہوں نے خبر دی ہے کہ قبر میں عذاب ہوتا ہے لہٰذا ہوتا ہے‘‘۔ ( پہلا زینہ ، از قاری خلیل الرحمن اہلحدیث، صفحہ ۸۲)

ان شاء اﷲ تعالیٰ قبر کے موضوع پر قرآن و حدیث سے دلائل دے کر ان فرقہ پرستوں کے گمراہ کن عقیدے کی بھی قلعی اتاری جائے گی۔ فی الوقت ہم صرف گل سڑ جانے والے مردہ دنیاوی جسم پر بحث کرتے ہیں۔ ان لوگو ں نے یہی عقیدہ گھڑاہے کہ چاہے دنیاوی جسم گل سڑ کر مٹی کے ذرات میں تبدیل ہو جائے، عذاب تو بہرحال اسی کو ہوتا ہے۔حدیث پر عمل کرنے کے دعویداروں کو ہم حدیث سے ہی دلیل دیتے ہیں جو ان کے اس باطل استدلال کے تاروپودبکھیردیتی ہے۔ نبی ﷺنے فرمایا:

۔۔۔فَاِذَا رَجَلٌ جَالِسٌ وَرَجَلٌ قَاءِمٌ بِیَدِہِ (قال بعض اصحابنا عن موسیٰ) کَلُوْبً مِنْ حَدِیْدٍ یُدْخِلُہٗ فِی شِدْقِہٖ حَتّٰی یَبْلُغَ قَفَاہُ ثُمَّ یَفْعَلُ بِشِدْقِہِ الْاَخَرِ مِثْلَ ذٰلِکَ وَیَلْتَءِمُ شِدْقُہٗ ھٰذَا فَیَعُوْدُفَیَصْنَعُ مِثْلَہٗ فَقُلْتُ مَا ھٰذَا قَالَ اِنْطَلِقْ فَانْطَلَقْْنَا حَتّٰی اَتَیْنَا عَلٰی رَجُلٍ مُّضْطَجِعٍ عَلٰی قَفَاہُ وَرَجُلٌ قَاءِمٌ عَلٰی رَاْسِہٖ بِفِھْرٍ اَوْ صَخْرَۃٍ فَیَشْدَخُ بِہَا رَاْسَہٗ فَاِذَا ضَرَبَہٗ تَدْھَدَہُ الْحَجَرُ فَانْطَلَقَ اِلَیْہِ لِیَاْخُذَہٗ فَلَا یَرْجِعُ اِلٰی ھٰذَا حَتّٰی ےَلْتءِمَ رَاْسُہٗ وَ عَادَ رَاْسُہٗ کَمَا ھُوَ فَعَادَ اِلَیِْہِ فَضَرَبَہٗ۔۔۔

(بخاری:کتاب الجنائز، عن سمرۃ بن جندب ؓ)

’’۔۔۔۔۔۔(میں دیکھتا کیا ہوں کہ) ایک شخص بیٹھا ہوا ہے اور ایک شخص کھڑا ہے اور اس کے ہاتھ میں لوہے کاآنکڑاہے وہ اس کو بیٹھے ہوئے شخص کے گال میں داخل کرکے گال کو گردن تک پھاڑ ڈالتا ہے پھر اس کے دوسرے گال کے ساتھ یہی عمل کرتا ہے۔ پھر گال جڑ جاتے ہیں اور وہ (کھڑا ہوا) شخص(بیٹھے ہوئے)کے ساتھ دوبارہ یہی معاملہ کرتا ہے۔ میں نے پوچھا کہ یہ کیا ہے۔ کہا آگے چلیے۔ہم چلے یہاں تک کہ ایسے شخص کے پاس پہنچے جو اپنی گدی کے بل لیٹا ہوا تھا اور اس کے سر پر ایک دوسرا شخص پتھر لیے کھڑا ہوا تھا اور پتھر مار کر اس کا سر پھاڑ رہا تھا۔ پتھر سر پر پڑنے کے بعد ایک طرف لڑھک جاتا تھا اور پتھر مارنے والا اس کو اٹھانے کے لیے جاتا اور اس درمیان میں کہ وہ پھر واپس آئے ،سر پھر جڑ جاتا اور ویسے ہی ہوجاتا تھا کہ جیسا پہلے تھا۔ اب پھر وہ پہلے کی طرح پتھر کو سر پر مارتا ہے ۔ ۔ ۔ ‘‘

﴿إِنَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ بِ‍َٔايَٰتِنَا سَوۡفَ نُصۡلِيهِمۡ نَارٗا كُلَّمَا نَضِجَتۡ جُلُودُهُم بَدَّلۡنَٰهُمۡ جُلُودًا غَيۡرَهَا ﴾

[النساء: 56]

’’اور جن لوگوں نے ہماری آیات سے انکار کیا، ان کو ہم عنقریب جہنم میں داخل کریں گے۔ جب ان کی کھالیں گل جائیں گی تو ہم دوسری کھالوں سے بدل دیں گے‘‘۔

اللہ تعالیٰ آخرت کے عذاب میں پائیدار جسم عطا کرتا ہے کہ اگر اس عذاب کی وجہ سے جسم کا کوئی حصہ جل کر بے شعور ہو جاتا ہے تو اس کو بدل دیا جاتا ہے؛ کٹ یا پھٹ جاتا ہے تو اس کو دوبارہ سے بنا دیا جاتا ہے۔ یہ کیوں ہوتا ہے ؟ لِيَذُوقُوا الْعَذَابَ ’’ تاکہ عذاب کا مزہ چکھتے رہیں‘‘۔

یعنی کھال جل کر بے حس ہوجائے تو اسے دوبارہ بنا دیا جاتا ہے کہ وہ عذاب کو محسوس کر سکے؛ جسم کا کوئی حصہ عذاب کی وجہ سے کٹ پھٹ جائے تو اسے دوبارہ بنا دیا جاتا ہے تاکہ وہ مکمل طور پر عذاب کی اذیت بھگت سکے۔گویا عذاب ایسے جسم کو دیا جاتا ہے جو شعور و ادراک اور احساس رکھنے والا ہو، جس سے دنیاوی جسم تو روح نکل جانے کے بعد محروم ہوجاتا ہے۔ علم کے ان نام نہاد پہاڑوں اور سمندروں سے اچھا عقیدہ تو اس قصاب کا ہے جو بکرا ذبح کرتا ہے تو اس کی کھال اس وقت تک نہیں اتارتا جب تک اس کا تڑپنا ختم نہیں ہوجاتا؛ بار بار چھری مار کر دیکھتا ہے کہ اس میں شعور و ادرا ک تو نہیں ہے۔ جب اس بکرے میں بالکل حرکت نہیں رہتی تو سمجھ لیتا ہے کہ اس کی روح نکل گئی ہے، احساس و شعور کا خاتمہ ہو گیا ہے،تو پھر اس کی کھال بھی اتارتا ہے اوراس کا گوشت بھی کاٹتا ہے۔ یہ’’ علماء دین‘‘،’’حضرت و علامہ‘‘ عقیدہ دیتے ہیں کہ دنیاوی جسم خوا ہ مٹی ہو جائے ،ذرات میں تبدیل ہوجائے ،تب بھی اسے عذاب کا احساس ہوتا ہے جبکہ قرآن عقیدہ دیتا ہے کہ مٹی ہونے والے جسم کو تو عذاب ہی نہیں دینا۔ اسی لیے:

﴿۔ ۔ ۔ يَدَاهُ وَيَقُولُ ٱلۡكَافِرُ يَٰلَيۡتَنِي كُنتُ تُرَٰبَۢا﴾

[النبأ: 40]

یعنی مٹی میں مل کرمٹی بن جانا ، فنا ہو جانا،عذاب سے بچ جانے کی صورت ہے ۔ ان مسلک پرستوں کے کس کس عقیدے کو قرآن و حدیث کی کسوٹی پر پرکھا جائے، ان کی کتب میں تو ایک انبار لگا ہواہے باطل و من گھڑت عقائد و اعمال کا!

جماعت المسلین کے مسعود بی ایس اور اہلحدیثوں کا انوکھا فارمولا

ایک طرف تو یہ عقیدہ دیا گیا کہ اس گل سڑ جانے والے دنیاوی جسم پر ہی عذاب ہوتا ہے چاہے گل سڑ جائے تو دوسری طرف ان اہلحدیثوں کے بڑے بڑے’’ علماء ‘‘اور انہی کے ہم مسلک نام نہادجماعت المسلمین والے عقیدہ دیتے ہیں کہ وہ افراد جو جلادیئے جاتے، ڈوب کر مرجاتے یا درندوں کا شکار بن جاتے ہیں ،یعنی وہ جن کے جسم اس زمینی قبر میں دفن نہیں ہوتے اور یونہی پڑے پڑے گل سڑ جاتے اور مٹی مٹی ہوجاتے ہیں، ان کے ساتھ بالکل انوکھے انداز کا معاملہ کیا جاتا ہے۔اپنے اس باطل عقیدے کو ثابت کرنے کے لیے یہ لوگ بخاری کی حدیث پیش کرتے ہیں کہ پچھلی امتوں میں سے ایک شخص کے مرنے کا وقت آیا تو اس نے اپنی اولاد کو وصیت کی کہ

’’جب میں مر جاؤں تو مجھے جلادینا اور پیس ڈالنا اس کے بعد مجھے(یعنی میری راکھ کو) اڑادینا، کیونکہ اﷲ کی قسم اگر اﷲ تعالیٰ مجھ پر قابو پالے گا تو مجھے ایسا عذاب دے گا جو اس نے کسی کو نہ دیا ہوگا۔چنانچہ جب وہ مر گیا تو اس کے بیٹوں نے اسی طرح کیا۔ پس اﷲ تعالیٰ نے زمین کو حکم دیا کہ اس شخص کے جس قدر ذرات تجھ میں ہیں جمع کر۔ زمین نے جمع کردیئے اور وہ شخص صحیح و سالم کھڑا ہوگیا۔ اﷲ تعالیٰ نے فرمایا تجھے اس حرکت پر جو تو نے کی ہے، کس چیز نے آمادہ کیا؟ اس نے عرض کیا :اے میرے رب! تیرے خوف نے۔پھر اﷲ تعالیٰ نے اسے معاف کردیا۔‘‘

(بخاری:کتاب الانبیاء، باب ماذکرعن اسرائیل)

اس حدیث کو بنیاد بنا کررجسٹرڈجماعت المسلمین والے فرماتے ہیں:

’’دوسرا اشکال: جس شخص کو شیر نے کھالیا اس کی ارضی قبر کہاں بنی کہ اس میں عذاب ہو۔جواب: یہ سوال بھی عقل کی بنیاد پر کیا گیا ہے۔ہماری عقل کی رسائی بڑی محدود ہے اور اﷲ تعالیٰ کی قدرت لا محدود ہے لہٰذا اس قسم کا سوال لغو ہے۔قیامت کے روز اﷲ تعالیٰ اس مردہ کو اس کے اصلی جسم کے ساتھ زندہ کرے گا تو کیا وہ اس شخص کو اصلی جسم کے ساتھ اس دن زندہ نہیں کرسکتا جس دن وہ دفن کیا گیا تھا یا جس دن اُسے شیر نے کھایا تھا۔‘‘۔۔۔ ’’اس حدیث سے ثابت ہوا کہ اﷲ تعالیٰ تمام ذرات کو جمع کرکے دوبارہ پیدا کرسکتا ہے تو پھر اشکال دور ہوگیا کہ شیر کے کھائے ہوئے کی قبر کہاں بنے گی۔ شیر کا کھایا ہوا بھی اسی جسم کے ساتھ زندہ کیا جاسکتا ہے اور پھر اس کو اس کی قبر میں رکھا جا سکتا ہے‘‘۔(تفسیر قرآن عزیز:تفسیر سورہ ابراہیم از مسعود بی ایس سی،رجسٹرڈ جماعت المسلمین، جلد۵، صفحہ ۶۶۴)

اہلحدیث ’’عالم ‘‘محمد قاسم صاحب اسی حدیث کو بنیاد بناتے ہو ئے فرماتے ہیں:

’’اس سے معلوم ہوا کہ اﷲ تعالیٰ نے قبل از قیامت بکھرے ہوئے جسمانی ذرات کو مجتمع فرما کر ان میں جان ڈال دی‘‘۔ ( کراچی کا عثمانی مذہب: صفحہ ۵۶)

یعنی لوٹ پھیر کربات وہی ان اﷲ علی کل شیءٍ قدیر کی ہوئی!مسلک پرستوں کے نادر عقائد میں بار بار اسی چیز کا اعادہ ہے۔ نا معلوم کس دین کو انہوں نے اختیار کیا ہے کہ ان کا کوئی عقیدہ قرآن و سنت سے ثابت ہی نہیں ہوتا ، محض اﷲ تعالیٰ کی قدرت کابارباربہانہ کرناپڑتا ہے(مگر اس پر بھی مااناعلیہ و اصحابی کا منہ بھربھرکر دعویٰ کرنے سے باز نہیں آتے یعنی ان خلافِ قرآن و حدیث عقائد رکھنے کے باوجود دعویٰ کرتے ہیں کہ یہ لوگ اسی راستے پر ہیں جس پر اﷲکے رسول ااور صحابہ ؓتھے!) روح کا معاملہ ہوتا ہے تورجسٹرڈ جماعت المسلمین والے کہتے ہیں:

’’جو خالقِ کائنات سورہ حدید میں فرماتا ہے کہ لوہا آسمان سے نازل کیا گیا ہے اور پھر اسے زمین کی تہہ سے نکلوادے تو اس کے لیے کیا بعید ہے کہ کہ وہ قبر میں روح لوٹا کر مردے کو زندہ کردے‘‘

اب جسم کا معاملہ زیر بحث ہے تو پھروہی بریلوی انداز میں باطل عقیدے کے دفاع میں بہانے کے طورپر اﷲ تعالیٰ کی’’ قدرت‘‘ کا سہارا لیا گیاہے۔ رجسٹرڈجماعت المسلمین والے دراصل مسلک اہلحدیث ہی کو اپنائے ہوئے ہیں۔ اہلحدیثوں نے اگر احمد بن حنبل، ابن تیمیہ اور ابن قیم کے دین کو قبول کیا ہوا ہے، تو یہ بھی اسی مذہب کے پیروکار ہیں۔ اسی وجہ سے ان دونوں کے عقائد میں مکمل ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔یہ ان معنوں میں اپنے متقدمین کی ترقی یافتہ شکل ہیں کہ اپنا نام انہوں نے ان سے ہٹ کر’’مسلمین‘‘ رکھ لیا ہے ورنہ باقی سب کچھ وہی ہے۔ ان کے اس بیان کا اگر کتاب اﷲ سے تقابل کیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ یہ قرآن و حدیث کا کھلا انکار ہے۔مالک کائنات فرماتا ہے:

﴿وَضَرَبَ لَنَا مَثَلًا وَنَسِيَ خَلْقَهُ قَالَ مَنْ يُحْيِي الْعِظَامَ وَهِيَ رَمِيمٌ ؁ قُلْ يُحْيِيهَا الَّذِي أَنْشَأَهَا أَوَّلَ مَرَّةٍ وَهُوَ بِكُلِّ خَلْقٍ عَلِيمٌ﴾

[يس: 78-79]

’’اور ( انسان) ہمارے بارے میں مثالیں بیان کرنے لگا اور اپنی پیدائش کو بھول گیا اور کہنے لگاکہ (جب ہماری) ہڈیاں بوسیدہ ہوجائیں گی توکون ان کو زندہ کرے گا؟ کہدو کہ وہی(اﷲ) زندہ کرے گا جس نے ان کو پہلی بار پیدا کیا تھا اور وہ ہر قسم کا پیدا کرنا جانتاہے‘‘۔

﴿قَدْ عَلِمْنَا مَا تَنْقُصُ الْأَرْضُ مِنْهُمْ ﴾ [ق: 4] ”مٹی انکے جسموں سے جو کھا رہی ہے وہ ہمارے علم میں ہے۔“

﴿أَفَعَيِينَا بِالْخَلْقِ الْأَوَّلِ بَلْ هُمْ فِي لَبْسٍ مِنْ خَلْقٍ جَدِيدٍ﴾ [ق: 15]

”کیا ہم پہلی مرتبہ پیدا کر کے تھک گئے ہیں بلکہ یہ دوبارہ پیدا کیے جانے پر شک میں پڑے ہوئے ہیں۔“

نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا

۔۔۔لَیْسَ مِنَ الْاِنْسَانِ شَیْءٌ اِلَّا یَبْلٰی اِلَّا عَظْمًا وَّاحِدًَا وَّ ھُوَ عَجَبُ الْذَّنَبِ وَمِنْہُ یُرَکَّبُ الْخَلْقُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ

(بخاری: کتاب التفسیر، تفسیر سورۃ عم یتسآلون)

’’انسان کے جسم کی کوئی چیز ایسی نہیں ہے جو برباد نہ ہو جائے سوائے ایک ہڈی ’’عجب الذنب‘‘کے اور اسی پر انسانی جسم کو قیامت کے دن پھر بنایا جائے گا‘‘۔

تقابل ملاحظہ فرمایا ،اﷲ کے فرمان اور ان کے دیئے ہوئے عقیدے کا! مالک فرماتا ہے کہ یہ انسانی جسم مرنے کے بعدگل سڑ کر مٹی میں مل جاتا ہے اور زمین ان کے جسموں سے جو کچھ کھارہی ہے وہ ہمارے علم میں ہے ۔یعنی کتاب اﷲ کاعقیدہ یہی ہے کہ فی الوقت یہ جسم گل رہے ہیں، لیکن انہیں قیامت کے دن دوبارہ بنایا جائے گا ۔ مگر قرآن کی تفسیر لکھنے والے مسلک پرست کہتے ہیں:

’’۔۔۔تو کیا وہ اس شخص کو اصلی جسم کے ساتھ اس دن زندہ نہیں کرسکتا جس دن وہ دفن کیا گیا تھا یا جس دن اُسے شیر نے کھایا تھا‘‘

ملاحظہ فرما یارجسٹرڈ جماعت مسلمین والوں کا عقیدہ کس قدر قرآن و حدیث کے ’’مطابق‘‘ ہے! اﷲ تبارک و تعالیٰ تو ہر کام کرسکتا ہے،لیکن جب مالک فرمائے کہ ابھی یہ جسم گل سڑ رہے ہیں اور قیامت کے دن انہیں دوبارہ بنایا جائے گا،تو اس کے انکار میں عقیدہ گھڑنے والا کون؟’’ مسلم ‘‘کے معنی اطاعت کرنے والے کے ہوتے ہیں،تو قرآن وحدیث کے خلاف عقیدہ رکھنے والی یہ رجسٹرڈ جماعت المسلمین کس کے’’ مسلم‘‘ ہے؟ اﷲ کے ’’مسلم ‘‘توایسے نہیں ہوتے۔ یہ صفت تو اﷲ نے مسلموں کی نہیں بلکہ کافروں کی بیان فرمائی ہے کہ اﷲ ایک بات کا علان کرتا ہے اور وہ اس کا انکار کرتے ہوئے دوسرا عقیدہ بنالیتے ہیں ۔اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے:

﴿ وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ فَأُولَئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ﴾

[المائدة: 44]

’’جو لوگ اﷲ کے نازل کردہ کے مطابق فیصلہ نہ کریں وہی کافر ہیں‘‘۔

انہوں نے ایک مخصوص و استثنائی واقعہ کو بنیاد بنا کر قرآن و حدیث کے دیئے ہوئے عقیدے کامکمل انکار کر ڈالا! یا تو ان کو قرآن وحدیث کا علم ہی نہیں یا پھر ان کے نزدیک ان کی کوئی وقعت نہیں۔ قرآن وحدیث نے اس بارے میں بالکل واضح عقیدہ دیا لیکن نام نہاداہلحدیثوں کی طرح

رجسٹرڈجماعت المسلمین والوں نے بھی اسے شاید اس لیے کوئی اہمیت نہیں دی کہ یہ تو ۱۴سو سال پراناہے، لہٰذااب کوئیlatestعقیدہ لانا چاہیے جس میں کوئی کشش ہو ،کوئی نئی بات ہو کہ جس کی وجہ سے ان کوکچھ سمجھا جائے ورنہ اگر یہی پرانا عقیدہ اب بھی جاری رہا تولوگوں پررفتہ رفتہ حقیقت کھل رہی ہے جس سے ان کے جھوٹے سمجھے جانے کاقوی امکان ہے!نیز یہ کہ بات انہوں نے محض اشکالی نہیں رکھی، بلکہ دوٹوک فیصلہ فرمادیا کہ:

’’۔۔۔تو پھر اشکال دور ہوگیا کہ شیر کے کھائے ہوئے کی قبر کہاں بنے گی۔ شیر کا کھایا ہوا بھی اسی جسم کے ساتھ زندہ کیا جاسکتا ہے اور پھر اس کو اس کی قبر میں رکھا جا سکتا ہے‘‘

یعنی اب یہ کسی قسم کے اشکال کی بات ہی نہیں ہے بلکہ ایسا ہی ہوتا ہے کہ اس کا جسم دوبارہ بنا دیا جاتا ہے اور اسے قبر بھی مل جاتی ہے۔چہ خوب ! ہم نے مسعود بی ایس سی صاحب کی یہ ’’زرین تحریر‘‘ ان کی وفات کے بعد پڑھی۔کاش ان کی زندگی میں ہی یہ نظروں سے گذرجاتی تو بھاگتے ہوئے ان کے پاس جاکر اس قبرستان کا پتہ معلوم کرلیتے جس میں جل کرخاک ہوجانے والے، درندوں کانوالہ بن کرموت کا شکارہونے والے، مرنے کے بعدجلادیئے جانے والے یا جن کے جسموں کو پرندوں کو کھلا دیا جاتا ہے،دفن کیے جاتے ہیں۔ویسے ہو سکتا ہے کی وہ اپنے عمی مقلدین کو اس کا پتہ بتا گئے ہوں۔ اﷲ کے فرمان کے خلاف، انہوں نے یہ فوری طور پر جسموں کے دوبارہ بنائے جانے کا عقیدہ گھڑتو لیا، لیکن بات پھر بھی ادھوری ہی رہی کیونکہ ان مسلک پرستوں کا تو یہی عقیدہ ہے کہ اس زمینی قبر میں ہی عذاب ہوتا اور یہیں راحت ملتی ہے۔لیکن ان مذکورہ مُردوں کی تو قبریں ہی نہیں ہوتیں؟ لیکن اس کے باوجودمسعود صاحب فرماگئے ہیں:

’’۔۔۔اور پھر اس کو اس کی قبر میں رکھا جا سکتا ہے‘‘

تو ان کی قبرکہاں بنتی ہے؟ کہاں واقع ہے ایسا قبرستان؟

کون انہیں دفناتا ہے اور وہ کس کی جوتیوں کی آواز سنتے ہیں؟

یہ ہیں مفسر قرآن!

اس سے قبل ہم نے مودودی صاحب کی لکھی ہوئی تفسیر’’تفہیم القرآن‘‘ کا بھی حوالہ دیا تھا۔وہاں بھی آپ نے ملاحظہ فرمایا ہوگا کہ کس انداز میں قرآنی آیات کے ترجمے اور تفسیر میں ،قرآن کے دیئےہوئے عقیدے کا رد کیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ عقیدہ ایصال ثواب اور خلیفہ فی الارض کے موضوع پر بھی مودودی صاحب نے قرآن کے موقف کو بدل ڈالا جو کہ فی الحال ہمارا موضوع سخن نہیں۔

اب ہم آپ کے سامنے اہلحدیثوں کی تحریر کردہ تفاسیر کے کچھ حوالے پیش کرتے ہیں جن سے آپ کو بخوبی اندازہ ہوجائے گا کہ آیا یہ تفاسیر قرآن کے دیئے ہوئے عقیدے کی وضاحت کرتی ہیں یا ان میں صرف اپنے مسلک کا دفاع کیا جاتاہے۔

اہلحدیثوں کی ایک تفسیر ’’ احسن البیان‘‘، دارالسلام،ریاض،سعودی عرب سے شائع ہوئی ہے۔قرآنی آیات کا اردو ترجمہ’’ خطیب الہند مولانا محمد جونا گڑھی‘‘ نے کیا، حاشیہ’’حافظ صلاح الدین صاحب ‘‘نے لکھا اور نظرثانی’’ مولانا صفی الرحمن مبارکپوری صاحب ‘‘نے فرمائی ہے۔ مفسر صاحب سورہ مومنون کی آیت نمبر ۱۰۰ کی تفسیر میں اپنے فرقے کے عقیدے کی وکالت کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

’’ دو چیزوں کے درمیان حجاب اور آڑ کو برزخ کہا جاتا ہے۔ دنیا کی زندگی اور آخرت کی زندگی کے درمیان وقفہ ہے، اسے یہاں برزخ سے تعبیر کیا گیا ہے۔کیوں کہ مرنے کے بعد انسان کا تعلق دنیا کی زندگی سے ختم ہو جاتا ہے اور آخرت کی زندگی کا آغاز اس وقت ہوگا جب تمام انسانوں کو دوبارہ زندہ کیا جائے گا۔ یہ درمیانی زندگی، جو قبر میں یا پرندے کے پیٹ میں یا جلائے ڈالنے کی صورت میں مٹی کے ذرات میں گزرتی ہے،برزخ کی زندگی ہے۔انسان کا یہ وجود جہاں بھی اور جس شکل میں بھی ہوگا۔بظاہر وہ مٹی میں مل کرمٹی بن چکا ہوگا، یا راکھ بنا کر ہواؤں میں اڑادیا یا دریاؤں میں بہا دیا گیا ہوگا۔یا کسی جانور کی خوارک بن گیا ہوگا، مگر اﷲ تعالیٰ سب کو ایک نیا وجود عطا فرماکر میدان محشر میں جمع فرمائے گا‘‘۔ (صفحہ ۸۲۵)

فرماتے ہیں :

’’دنیا کی زندگی اور آخرت کی زندگی کے درمیان وقفہ ہے، اسے یہاں برزخ سے تعبیر کیا گیا ہے‘‘

یہ ’’ارشاد‘‘پڑھتے ہی ہمارے ذہن میں اس تفسیر کے اندرونی سرورق پر لکھا ہوا یہ جملہ گھوم گیا کہ ’’ صحیح احادیث کی روشنی میں ایک مختصر مگر جامع تفسیر‘‘۔ جس کسی نے یہ جملہ پڑھا ہوگا تو اسے پڑھتے ہی مرعوب ہو گیا ہوگا کہ مفسر نے بڑی محنت سے ایک ایک صحیح حدیث کا مطالعہ کرکے یہ تفسیر لکھی ہے۔ لیکن سورہ مومنون کی مذکورہ آیت کی یہ تفسیر پڑھتے ہی ان کی محنت کی قلعی کھل گئی۔ان کا یہ بیان صحیح حدیث کے بالکل خلاف ہے۔ ملاحظہ فرمایئے:

عَنْ عَاءِشَۃَ قَالَتْ تُوَفِّیَ النَّبِیُّ ا فِیْ بَیْتِیْ وَ فِیْ یَوْمِیْ وَ بَیْنَ سَحْرِیْ وَ نَحْرِیْ وَ کَانَتْ اِحْدَانَا تُعَوِّذُہٗ بِدُعَآءٍ اِذَامَرِضَ فَذَھَبْتُ اُعَوِّذُہٗ فَرَفَعَ رَاْسَہٗ اِلَی السَّمَآءِ وَ قَالَ فِی الرَّفِیْقِ الْاَعْلٰی فِی الرَّفِیْقِ الْاَعْلٰی وَ مَرَّ عَبْدُالرَّحْمٰنِ بْنُ اَبِیْ بَکْرٍ وَّ فِیْ یَدِہٖ جَرِیْدَۃٌ رَطْبَۃٌ فَنَظَرَ اِلَیْہِ النَّبِیُّ ا فَظَنَنْتُ اَنَّ لَہٗ بِھَا حَاجَۃً فَاَخَذْتُھَا فَمَضَغْتُ رَاْسَھَا وَ نَفضْتُھَا فَدَفَعْتُھَا اِلَیْہِ فَاسْتُنَّ بِھَا کَاَحْسَنِ مَاکَانَ مُسْتَنَّا ثُمَّ نَاوَلْنِیْھَا فَسَقَطَتْ یَدُہٗ اَوْ سَقَطَتْ مِنْ یَّدِہٖ فَجَمَعَ اﷲُ بَیْنَ رِیْقِیْ وَ رِیْقِہٖ فِیْ اٰخِرِ یَوْمٍ مِنَ الدُّنْیَا وَ اَوَّلِ یَوْمٍ مِّنَ الْاٰخِرَۃِ

( بخاری: کتاب المغازی، باب مرض النبی ا ووفاتہ ۔۔۔)

’’عائشہ رضی اﷲ فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی وفات میرے گھرمیں، میری باری کے دن، میرے حلق اور سینے کے درمیان (سررکھے ہوئے) ہوئی۔ہم لوگ نبیﷺ کے مرض میں دعا کرکے پناہ مانگا کرتے۔ میں آپ کے لیے دعا کرنے لگی۔آپ نے اپنا سرآسمان کی طرف اٹھایا اور کہا:فِی الرَّفِیْقِ الْاَعْلٰی فِی الرَّفِیْقِ الْاَعْلٰی۔ (اتنے میں میرے بھائی) عبدالرحمن بن ابی بکرادھرآنکلے۔ ان کے ہاتھ میں ایک تازہ شاخ تھی۔ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے مسواک کی طرف دیکھا تو میں سمجھ گئی کہ آپ اس کی خواہش رکھتے ہیں۔ میں نے مسواک لی اوراس کا سراچباکر نرم کرکے ، صاف کرکے جھاڑکر نبی ﷺ کو دے دی۔ آپ نے بہت اچھی طرح سے اس کو دانتوں پر پھیرا۔پھراس کو میری طرف بڑھایا تو آپ کا ہاتھ ڈھلک گیا یا مسواک آپ کے ہاتھ سے گر گئی۔ (اﷲ کا فضل تھاکہ) اس نے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے دنیا میں آ خری دن اور آخرت کے پہلے دن میرا لعاب آپ کے لعاب کے ساتھ ملادیا‘‘۔

یہی بات قرآن مجید میں بھی فرمائی گئی کہ جب فرشتے ظالموں کی روح قبض کرتے ہیں تو کہتے ہیں:

فَادْخُلُوْٓا اَبْوَابَ جَهَنَّمَ خٰلِدِيْنَ فِيْهَا ۭ فَلَبِئْسَ مَثْوَى الْمُتَكَبِّرِيْنَ

( النحل :28- 29 )

’’ پس داخل ہو جاو جہنم کے دروازوں میں جہاں تمہیں ہمیشہ رہنا ہے، پس برا ہی ٹھکانہ ہے متکبرین کے لئے۔‘‘

نیک لوگوں کی روح قبض کرتے ہوئے کہتے ہیں :

يَقُوْلُوْنَ سَلٰمٌ عَلَيْكُمُ ۙ ادْخُلُوا الْجَنَّةَ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ

( النحل :32 )

’’ تو کہتے ہیں : تم پر سلامتی ہو داخل ہو جاو جنت میں اپنے ان اعمال کیوجہ سے جو تم کرتے تھے۔‘‘

اس کو دوسری جگہ اس طرح بیان کیا گیا ہے کہ:

﴿يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ ۔۔۔ ﴾

[إبراهيم: 27]

” اللہ تعالی ایمان والوں کو اس قول ِثابت پر دنیا اور آخرت میں ثابت قدم رکھتا ہے۔۔۔

سرکشوں کی روح قبض کرتے ہوئے کہتے ہیں:

الیوم تجزون عذاب الھون

(الانعام:93)

’’آج تمہیں ذلت کا عذا ب د یا جائے گا‘‘۔

ایک شخص کو اس کی قوم والوں نے ایمان کی دعوت دینے پر شہیدکردیا اﷲ تعالی نے اس کا تذکرہ اس طرح فرمایا:

قیل ادخل الجنۃ قال یلیت قومی یعلمون بما غفرلی ربی و جعلنی من المکرمین

(یٰس:26/27)

’’ اس سے کہا گیا داخل ہو جا جنت میں، کہنے لگا کاش میری قوم کو معلوم ہو جائے کہ اﷲ نے مجھے بخش دیا اور عزت داروں میں شامل کردیا‘‘

قرآن و حدیث سے یہی بات واضح ہے کہ دنیا کی زندگی کے بعد انسان کا اگلا لمحہ آخرت میں ہوتا ہے۔ اِدھر دنیاوی زندگی کا خاتمہ ہوااُدھر آخرت کی زندگی شروع ہوگئی۔ اس کے درمیان کوئی وقفہ نہیں۔ عذاب قبر کوئی علیحدہ عذاب نہیں بلکہ یہ تو آخرت کے عذاب ہی کا ایک حصہ ہے۔اور یہی بات اس تفسیرکے شروع میں سورۃ البقرۃ کی آیت کے حوالے سے موجود ہے جس میں یہ تسلیم کیا گیا ہے کہ یہ آخرت کی زندگی کا حصہ ہے۔

موصوف کی دوسری کاریگری ملاحظہ فرمائیے۔سورہ مومن کی آیت نمبر ۴۵ میں اﷲ تعالیٰ آل فرعون پرہونے والے عذاب کا ذکر فرماتا ہے کہ

النّار یعرضون علیھا غدوًّا وّ عشیا

’’جہنم کی آگ ہے جس پر صبح و شام وہ پیش کیے جاتے ہیں‘‘

قرآن کی اس آیت میں النّاربیان کیا گیا ہے جس کے معنی ’’ جہنم کی آگ‘‘ ہیں۔قرآن کا یہ بیان چونکہ فرقہ اہلحدیث کے باطل عقیدے کو رد کر رہا تھا چنانچہ اس کا ترجمہ اس طرح کیا گیا

’’آگ ہے جس کے سامنے یہ ہر صبح شام لائے جاتے ہیں‘‘۔(صفحہ ۱۰۹)

جس کی تفسیر انہوں نے اس طرح بیان کی :

’’اس سے بالکل واضح ہے کہ عرض علی النار کا معاملہ،جو صبح و شام ہوتا ہے،قیامت سے پہلے کا ہے اور قیامت سے پہلے برزخ یا قبر ہی کی زندگی ہے۔قیامت والے دن ان کو قبر سے نکال کر سخت عذاب یعنی جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ آل فرعون سے مراد فرعون،اس کی قوم اور اس کے سارے پیروکار ہیں۔یہ کہنا کہ ہمیں تو قبر میں مردہ آرام سے پڑا نظر آتا ہے، اسے اگر عذاب ہو تو اس طرح نظر نہ آئے۔لغو ہے کیونکہ عذاب کے لیے یہ ضروری نہیں کہ ہمیں نظر بھی آئے۔اﷲ تعالیٰ ہر طرح عذاب دینے پر قادر ہے۔ کیا ہم دیکھتے نہیں ہیں کہ خواب میں ایک شخص نہایت المناک مناظر دیکھ کر سخت کرب و اذیت محسوس کرتا ہے۔ لیکن دیکھنے والوں کو ذرا محسوس نہیں ہوتا کہ یہ خوابیدہ شخص شدید تکلیف سے دوچار ہے۔ اس مشاہدے کے باوجود عذاب قبر کا انکار، محض ہٹ دھرمی اور بے جاتحکم ہے‘‘۔ (ایضاً)

ملاحظہ فرمائی قرآنی آیت کی یہ’’نادر‘‘ تفسیرکہ النّار’’جہنم کی آگ‘‘ کو ’’آگ‘‘ بنا ڈالا! جیسا کہ اس سے قبل اہلحدیث مفتی دامانوی کی کتاب کا حوالہ بھی دیا جا چکا ہے کہ انہوں النّار کو ’’جس آگ‘‘ لکھا تھا۔ مفتی دامانوی نے تومحض ایک کتاب لکھتے ہوئے یہ خیانت کی تھی، لیکن یہ تو قرآن کی تفسیر لکھی جا رہی ہے،تفسیر میں ایسی بدترین خیانت!! اپنے فرقے کا عقیدہ بچانے کے لیے پہلے مترجم نے ترجمے میں خیانت کی اور پھر مفسر صاحب نے قرآن کی آیت کا مفہوم بدل ڈالا اور عقیدہ دیا کہ یہ اسی زمین پر عذاب دیئے جارہے ہیں۔ اورپھرعدم تقلید کے لاکھ دعووں کے باوجوداپنے اکابرین کی تقلید میں وہی کیلانی صاحب والا خیالی فلسفہ دے ڈالا کہ عذاب قبر خواب کی مانند ہے۔موصوف سے کوئی پوچھے کہ کیا مردے بھی خواب دیکھا کرتے ہیں؟کیا ان کا جسم صحیح وسالم ہوتاہے؟ کیا ان میں بھی زندوں کی طرح شعور و ادراک ہوتا ہے؟ذرا اپنا یہ کاغذی فلسفہ قرآن و حدیث سے تو ثابت کر دکھائیں۔ کاش کوئی انہیں قرآن کی یہ آیت کھول کر دکھائے کہ آل فرعون خواب نہیں دیکھ رہے بلکہ جہنم کی آگ پر ان کی پیشی کاہی ذکر ہے۔ اہلحدیثوں کی ایک اور تفسیر’’ تیسیر القرآن‘‘ کا حال بھی کچھ اس سے مختلف نہیں۔اس تفسیر کے مقدمہ میں لکھا ہے:

اردو کی تمام تفاسیر میں یہ پہلی تفسیر ہے جس میں تفسیر کے لیے سب سے زیادہ قرآن ہی کی دیگر آیات اور صحیح احادیث پہ اعتماد کیا گیاہے‘‘۔(مقدمہ)

قرآن وفات پا جانے والوں کے لیے اموات غیر احیاء ’’ مردہ ہیں، جان کی رمق تک نہیں‘‘ بیان فرماتا ہے۔اب ذرا اس تفسیر کی یہ تحریر ملاحظہ فرمائیں:

’برزخ۔ روک،پردہ،اوٹ۔ اس میں ایک لمبی مدت بھی شامل ہے۔ برزخ میں انسان اہل دنیا اور اہل عقبیٰ دونوں سے اوٹ میں ہوتا ہے اور یہ موت کا زمانہ ہے۔اور اس زمانہ میں موت کے اثرات غالب ہوتے ہیں۔ تاہم زندگی کے بھی کچھ اثرات ہوتے ہیں۔جس کی وجہ سے عذاب و ثواب ہوتا ہے مگر قیامت کے عذاب کی نسبت ہلکا ہوتا ہے‘‘۔(تیسیر القرآن اردو،صفحہ۳۵۹)

ان کی یہ تفسیر پڑھ کر زبان پر یکدم سورہ بقرہ کی آیت رواں ہوگئی کہ

افتؤمنون ببفما جزآء من یّفعل ذٰلک منکم الّا خزی فی الحیٰوۃ الدّنیعض الکتٰب و تکفون ببعض ج ا ج و یوم القیٰمۃ یردون الیٰ اشدّ العذاب و ما اﷲ بغافل عمّا تعملون

( البقرۃ: 85)
’’کیا تم (اﷲکی) کتاب کے بعض حصے کو مانتے ہو اور بعض کا انکار کردیتے ہو؟پس تم میں سے جوایسا کرے گا تواس کا بدلہ اس کے سوا اور کیا ہوسکتا ہے کہ دنیا کی زندگی میں ذلت و رسوائی ہواورقیامت کے روز اسے شدید عذاب میں دھکیل دیا جائے۔ اور اﷲتمہارے اعمال سے غافل نہیں۔‘‘

قرآن پر ایمان کا دعویٰ اور یہ انداز کہ کچھ باتیں مانی جائیں اور کچھ کا انکار! قرآن فرمائے کہ ان میں زندگی کی رمق تک نہیں،اور قرآن کی تفسیر میں یہ بیان کریں کہ موت کے اس دور میں زندگی کے بھی کچھ اثرات ہوتے ہیں۔کیا اسی کو قرآن پر ایمان کہتے ہیں؟ انہوں نے موت کے اس دور میں بھی’’ زندگی کے کچھ اثرات‘‘ کا جو ذکر کیا ہے تو وہ ان کی مجبوری ہے۔اگر قرآن کی بات مان لی جائے تو پھر کس طرح اس خلافِ قرآن عقیدے کا دفاع ہوگا کہ زندگی، شعور و ادراک و حواس سے عاری یہ گل سڑجانے والے بے جان لاشے سلام سن لیتے ہیں، جواب دیتے ہیں، فرشتے ان سے سوال و جواب کرتے ہیں، اور انہی جسموں پر عذاب ہوتا یا ان کو راحت سے نوازا جاتا ہے ۔ اب اپنے فرقہ کا عقیدہ بچانا ہے تو چاہے کتابیں لکھی جائیں یا قرآن کی تفسیر ،کچھ نہ کچھ ہیر پھیر تو بالآخرکرنا ہی پڑے گا!

قارئین! ان تفاسیر کی ایک جھلک آپ کے سامنے پیش کی ہے۔کیا یہ تفاسیر انسانیت کو وہ راہ دکھاتی ہیں جو قرآن و حدیث کی اصل ہے۔ دراصل یہ تفا سیر مختلف مسالک اور مکاتب فکر کے

نکتہ ہائے نظر کو توپرزور انداز میں پیش کرتی ہیں لیکن ان میں ا س اصل دعوت کا فقدان ہے جس نے ڈیڑھ ہزار سال قبل ایمان لانے والوں کی فکر و نظر میں انقلا ب برپا کرکے ان کو منصب جہاں بانی کا اہل بنادیا تھا! فی الحقیقت ان مفسرین نے تو اصلاح احوال کے بجائے امت کو کتاب اﷲ کی ہدایت سے محروم کر کے ان کے عقائد بگاڑنے ہی میں مؤثر کردار ادا کیا ہے،لہٰذا ایسی تفاسیر سے تو بہتر تھا کہ قرآن و حدیث کو ان کے اپنے حال پر ہی چھوڑ دیا جاتا۔

اب ان شاء اللہ تعالیٰ ’’ قبر ‘‘ کے بارے میں فرقہ پرستوں کے عقائد کا قرآن مجید سے موازنہ پیش کریں گے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *