Categories
Uncategorized

عقیدہ عذاب قبر اور مسلک پرستوں کی مغالطہ آرا ئیاں ( عالم برزخ )

کان الناس امۃ واحدۃ قف فبعث اللہ النبین مبشرین و منذرین ص وانزل معھم الکتٰب بالحق لیحکم بین الناس فیما اختلفوا فیہ ط وما اختلف فیہ الا الذین اوتوہ من بعد ما جآء تھم البینٰت بغیاً بینھم ج فھدی اللہ الذین اٰمنوا لما اختلفوا فیہ من الحق باذنہٖ ط واللہ یھدی من یشائٓ الٰی صراط مستقیم{}

(البقرۃ:213)

’’لوگ ایک ہی امت تھے ، پھر اللہ تعالیٰ نے انبیاؑء کو خوشخبری سنانے اور ڈرانے والا بناکر بھیجااوران کے ساتھ کتاب حق نازل فرمائی تاکہ وہ لوگوں کے اختلافات کا فیصلہ کردیں۔جن کو کتاب دی گئی تھی انہوں نے واضح دلائل آجانے کے بعد بھی ، آپس میں ضد کی وجہ سے باہم اختلاف کیا ،لہذا اﷲ نے ایمان والوں کوان کے اختلافی معاملات میں اپنے اذن سے حق کے مطابق ہدایت عطا فرمادی اور اللہ جس کو چاہتا ہے سیدھی راہ دکھا دیتاہے۔‘‘

اﷲ تعالیٰ نے انسان کو پیدا فرمایا، جسم و جان اور دیگر صلاحتیوں کے ساتھ اسے عقل و شعور اور فہم و ادراک سے نوازا۔اس کی زندگی کا مقصدمتعین کر کے اسے ہدایت سے سرفراز فرمایا۔ چنانچہ ابتداً ہدایت ربانی کی پیروی کر کے صراط مستقیم پر چلنے والے سب امت واحدہ کہلائے۔ لیکن ان کے بعد قافلہ انسانیت جب اپنے ازلی دشمن کے وار سے گھائل ہو کر ہدایت کے راستے سے ہٹا اور گمراہی کا شکار ہوا تو اﷲ تعالیٰ نے ان کی ہدایت کیلئے انبیاء علیہم السلام کی بعثت کا سلسلہ شروع فرمایا۔

اس طرح حسب ضرورت ہر دور میں گمراہ قوموں کے اندر نبی یا رسول مبعوث ہوتے رہے جنہوں نے اپنی اپنی قوم کے لوگوں کو کفر و شرک اور طاغوت پرستی سے مجتنب ہو کر اﷲ وحدہ لا شریک کی بندگی کی دعوت دی ،انہیں بھولا ہوا سبق یاد دلا کر اصلاح احوال کی طرف متوجہ کیا۔مشرکانہ عقائد سے توبہ کرکے ایمان قبول کرنے والوں کو جنت کی لازوال نعمتوں کی بشارت دی اور اپنے آباء و اکابرین کی اندھی پیروی کرتے ہوئے کفر و شرک پر جمے رہنے والوں کو آخرت کی بدانجامی اور جہنم کے عذاب سے ڈرایا۔ تمام انبیاء علیہم السلام کی دعوت انہی بنیادی اور اصولی باتوں سے عبارت ہے۔چنانچہ جن خوش نصیبوں نے اپنے ان سچے خیرخواہوں کی پکار پر لبیک کہا اور ان کا ساتھ دیا وہ اﷲ کی مغفرت اور اس کی رحمتوں کے سزاوار ٹہرے جبکہ کفر و شرک پر کمر بستہ اکثریت اﷲ کے عذاب کا شکار ہوئی۔سورہ روم کی آیت(نمبر42)… کان اکثرھم مشرکین اسی طرح بربادی سے ہمکنار ہونے والی قوموں کی نشاندہی کرتی ہے۔

اﷲ تعالیٰ نے گذشتہ اقوام کی طرف مبعوث کئے گئے انبیاء علیہم السلام میں سے بعض پر کتابیں بھی نازل فرمائیں، جن سے ان برگزیدہ ہستیوں کی وفات کے بعد بھی لوگ رہنمائی حاصل کرتے رہے۔اﷲ کی آخری اور لاریب کتاب قرآن مجید میں بیان کردہ ان قوموں کے حالات سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ انبیاء علیہم السلام اور ان آسمانی کتابوں کی پیروی کے دعویداروں نے ان کے بعد نہ صرف ان کی تعلیمات سے روگردانی کی بلکہ اپنے دنیوی مقاصد اور حقیر مفادات کے حصول کی خاطر ان الہامی کتابوں میں تحریف بھی کرڈالی، اس طرح اﷲ کی طرف سے علم و ہدایت آنے کے بعد اس کی ناقدری کی گئی جس کا نتیجہ باہم اختلافات اور تفرقے کی صورت میں نکلا ۔ اﷲ کے دین کے ساتھ کھیلے جانے والے اس کھیل میں سب سے بڑا کردار ان کے احبار و رھبان کا تھا جنہوں نے اﷲ کی کتابوں کو پس پشت ڈال دیا، ان میں بیان کردہ تعلیمات کا کتمان کیا اور انکے برخلاف عقائد گھڑے اور لوگوں میں پھیلادئیے جنہوں نے اندھے ، بہرے بن کر، انبیاء علیہم السلام اور ان پر اتاری جانے والی کتابوں کی تعلیمات کے خلاف ان احبار و رھبان کے خود ساختہ عقائد و نظریات کی پیروی کی اور سورہ توبہ کی آیت( نمبر31) کے مطابق اﷲ کے مقابلے میں انکو اپنا رب بنالیا۔

بدقسمتی سے آج یہ امت بھی رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ و سلم کے اس فرمان کہ’’ تم بنی اسرائیل کی پیروی کرو گے، بالشت بہ بالشت اور ہاتھ بہ ہاتھ…‘‘(بخاری۔کتاب  الاعتصام بالکتاب و سنۃ )کے مطابق عقائد و اعمال کی تمام تر خرابیوں سمیت یہود و نصاریٰ کی طرح مختلف گروہوں اور فرقوں میں بٹ کرکل حزب بما لدیھم۔ ۔ ( الروم:32) کا نقشہ پیش کررہی ہے۔ اﷲ تعالیٰ کی آخری و لاریب کتاب اگرچہ اپنی اصلی صورت میں محفوظ اور اس کے رسول صلی اﷲ علیہ و سلم کا اسوہ واضح طور ان کے پاس موجود ہے مگر کتاب و سنت کی تعلیمات کو پس پشت ڈال کر خود ساختہ عقائد و تصورات گھڑ لئے گئے ہیں اور ان کواس طرح لوگوں کے سامنے پیش کیا جاتا ہے کہ گویا یہی کتاب و سنت کا منشا ومقصد ہے۔اﷲ تعالیٰ نے تو بنی اسرائیل کے حوالے سے یہ اصولی بات سب کیلئے بیان کردی ہے:

فویل للذین یکتبون الکتٰب بایدھم   ثم یقولون ھٰذا من عند اﷲ لیشتروا بہٖ ثمناً قلیلا

(البقرہ:79)

’’پس بربادی ہے ان لوگوں کیلئے جو کتاب اپنے ہاتھوں سے لکھتے ہیں پھر کہتے ہیں کہ یہ اﷲ کی طرف سے ہے ،تاکہ اسکے ذریعے سے کچھ تھوڑا سا معاوضہ حاصل کرلیں۔‘‘

مگر پچھلی امتوں کے احبار و رھبان کی طرح اس آخری امت کے مولویوں اور پیروں نے بھی قرآن و حدیث کی واضح تعلیمات کے برعکس دین کوپیشہ بنالیا ہے۔ہر طرح کے رطب و یابس پر مبنی کتب لکھ لکھ کر بیچی جارہی ہیں جو گراںقیمت ہونے کی وجہ سے مصنفین اور اشاعتی اداروں کی آمدنی و کمائی کا بھر پور ذریعہ بنی ہوئی ہیں۔ان کتابوں نے لوگوں کے عقائد کوبری طرح بگاڑ کر رکھ دیا ہے،جنہیں فن دینداری کے یہ ماہر عقائد و اعمال کی خرابی پر مبنی اور رسم و رواج کی تا بع روایتی دینداری میں مست و مگن رکھنا چاہتے اور کسی طرح بھی اپنے ان اندھے پیروکاروں کوسنبھلنے کا موقع نہیں دینا چاہتے ۔اس لئے کہ ان سے ان کا پیٹ اور ان کے بچوں کا مستقبل وابستہ ہے۔

لہذا اب اﷲ کے دین کے ساتھ مخلصانہ تعلق رکھنے والوں کی دینداری کا یہ اہم ترین تقاضہ ہے کہ وہ عامتہ الناس کو خوابِ غفلت سے جگانے کیلئے سرگرم ہوں اور ان چالاک پیشہ وروں کی طرف سے ڈالے ہوئے کتمان کے پردوں کو چاک کر کے کتاب و سنت کی سچی تعلیمات کو فروغ دینے میں اپنا کردار ادا کریں۔ اس سلسلے میں ہماری کتابوں میں ایمان و عقائد کی اصلاح کے ساتھ ساتھ دینداری کے روپ میں نظر آنے والے مختلف گروہوں و فرقوں کے عقائد کا بھی تقابلی جائزہ لیا گیا ہے اور یہ دکھایا گیا ہے کہ ان میں بڑی حد تک مماثلت و ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔درحقیقت ان فرقوں اور مسالک کے عقائد میں ( شرک کی آمیزش کیساتھ)پائی جانے والی یکسانی و موافقت میں بنیادی طور پر حیات فی القبر کا عقیدہ کا رفرما ہے جو شرک کی جڑ ہے، اور ہر دور کی طرح آج بھی اصنام و قبر پرستی، غیر اﷲکے نام کی نذر و نیاز ان سے استمداد کیلئے غائبانہ پکاروںاور واسطے وسیلے وغیرہ کے شاخسانے اور شرک کی گرم بازاری اسی بنیاد پر قائم ہیں۔چنانچہ ان فرقوں میںہر ایک اپنے دل کے اس چور کو کسی نہ کسی انداز میں تحفظ فراہم کررہا ہے۔ ان میں کچھ تو وہ ہیں جو کھلے طور پر اپنے اس عقیدے کا اظہار کرتے اور اس پر عمل پیرا ہیں ،اور کچھ وہ جو توحید و سنت کی پیروی کے لبادے میں یہ کھیل کھیل رہے ہیں۔اور جب قرآن و حدیث کے واضح دلائل سے اس مشرکانہ عقیدے کا ردکرکے یہ بتایاجاتا ہے کہ مرنے کے بعد قیامت سے پہلے یہ جسم مردہ و بے شعور رہتا ہے بلکہ سڑ گل کر مٹی بن جاتا ہے تو ہر ایک اپنے اپنے انداز سے اس دعوت کی مخالفت کرتا ہے۔ کچھ تو انبیاء و صلحاء اور اپنے خود ساختہ اولیاء کی محبت و عقیدت اور اپنے آستانوں کے تقدس کے حوالے سے اس عقیدے کا تحفظ کررہے ہیں جبکہ کچھ اپنے پیشواؤںاور اکابرین کے تحفظ میں اس عقیدے سے تعلق جوڑے ہوئے ہیں، کیونکہ ان کے اکابرین نے حیات فی القبر، عود روح اور سماع موتیٰ کی حمایت میں اپنی تحریروں کے اندر لکھا ہے۔یہ اپنے اندر اخلاقی جرأت کے فقدان کی وجہ سے نہ تو کھل کر حیات فی القبر کے مشرکانہ عقیدے کی حمایت کرسکتے ہیں اور نہ اپنے اکابرین کے باطل تصورات سے برأت ہی کرسکتے ہیں۔ اس طرح یہ ایک عجیب مخمصے اور ادھیڑ پن کا شکار ہیں اور اپنے اس مجرمانہ احساس کے ماتحت مختلف انداز اختیار کرتے اور پینترے بدلتے رہتے ہیں۔کبھی یہ اپنے ان نام نہاد اکابرین کی دینی خدمات اور ان کے علمی مقام و کارناموں کے حوالے سے اور کبھی عذاب قبر کے حوالے سے افکارِپریشان پیش کر کے اپنے پندار کا بھرم رکھنے اور اپنے حلقہ اثر کو مطمئن رکھنے کی کوشش میں مصروف رہتے ہیں۔ چنانچہ اس سلسلے میںگذشتہ کچھ عرصے سے فرقہ اہلحدیث کی طرف سے مختلف کتابیں سامنے آرہی ہیں جس سے ان کی اس بے چینی کا اظہار ہوتاہے۔دراصل یہ لوگ عذاب قبر کے بارے میں پھیلائے گئے اپنے خودساختہ اور گمراہ کن عقائد و تصورات کا جب قرآن و حدیث سے کوئی ثبوت پیش نہیں کرپاتے تو کمال ہوشیاری سے کہنے لگتے ہیں:

’’ اس مرحلے میں موت سے لے کر ’’ یوم البعث ‘‘ کے قائم ہونے تک جو کچھ قرآن کریم اور صحیح احادیث سے ثابت ہے اس پر ایمان لازمی ہے۔ اس کی کیفیت ادلہ شرعیہ میںمذکور و موجود نہیں ہے۔‘‘  ( مقدمہ پہلا زینہ، از عبدالرحمن شاھین الاثری ( شیخ الحدیث و رئیس) فرقہ اہلحدیث)

قرآن و حدیث میں عذاب قبر کے بارے میں بڑی وضاحت موجود ہے، لیکن چونکہ اس بارے میں ان کے خود ساختہ عقائد کا کوئی ذکرکتاب اﷲمیں موجود نہیں ہے اس لیے انہوں نے یہ جھوٹ گھڑا ہے کہ اس کی کیفیت ادلہ شرعیہ یعنی شریعت (قرآن  و حدیث) میں موجود نہیں۔ ذیل میں ہم نے عذاب قبر کے مختلف موضوعات کے تحت کتاب اﷲ سے ان کے باطل عقائد کا موازنہ پیش کیا ہے، اﷲ تعالیٰ حق کو پہچاننے اور قبول کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

’’ برزخ ‘‘ اور ’’ عالم برزخ ‘‘ کے حوالے سے پھیلائی گئی مغالطہ آرائیاں :

برزخ کے معنی اور یہ کس کے درمیان ہے

آج اکثر اذہان اس بارے خلش کا شکار نظر آتے ہیں کہ ’عالم برزخ‘ کیا ہے؟

ہم کوشش کریں گے قرآن و حدیث کی روشنی میں اس مسئلے کو وضاحت کے ساتھ بیان کیا جائے، اور اس کام کو  مختصر قطعات کی صورت میں سلسلہ وار عوام الناس کے سامنے پیش کیا جاتا رہے، تاکہ ضخیم متن کا مطالعہ طبیعتوں پر گراں بھی نہ گزرے۔

اس سلسلے میں ہم جہاں قرآن و حدیث کی روشنی میں اصل مسئلے کی وضاحت کریں گے وہیں  مختلف مسالک  کے علماء و مفتیان کی تصانیف سے کچھ اقتباسات بھی مع  حوالہ پیش کیے جائیں گے (ان شاء اللہ)  تاکہ اس ضمن میں پھیلے ہوئے مختلف و متضاد عقائد و نظریات و شروحات بھی عوام الناس کے سامنے لائی جا سکیں، اور یہ سمجھایا جا سکے  کہ آج کے پیشہ ور مشائخ کس انداز میں قرآن و حدیث کے مجموعی موقف کے خلاف اپنا ایک الگ دین اسلام کے لیبل سے امت کے اندر داخل کر چکے ہیں۔ مسلک اہلحدیث  کے ایک مفتی سورہ المومنون کی آیت نمبر 99/100 کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’ اس آیت میں برزخ کودنیا اور آخرت کے درمیان ایک آڑ قرار دیا گیا ہے یعنی مرنے والوں پر اب جو حالات قیامت تک گذریں گے انہیں دیکھنا اور جاننا ہمارے بس سے باہر ہے کیونکہ اﷲ تعالیٰ نے ہمارے اور ان کے درمیان ایک پردہ حائل کردیا ہے یہی وجہ ہے کہ میت پر قبر میں جو حالات گذرتے ہیں ہم ان کا مشاہدہ نہیں کرسکتے۔‘‘( خلاصہ الدین الخالص،صفحہ نمبر۴۴۔۴۵،از ابو جابر دامانوی اہلحدیث)

احناف اور اہل حدیث  مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے بیشتر  افراد نے اپنی کتابوں میں برزخ کی یہی تشریح بیان کی ہے۔  اہل تشیع بھی اسی عقیدے کے حامل ہیں۔ ملاحظہ فرمائیے:

’’ برزخ کا لغوی معنی ہے۔ پردہ،حائل جو دو چیزوں کے درمیان ہوتا ہے، اور وہ دونوں کو باہم ملنے نہیں دیتا۔ مثلاً کھاری اور میٹھے پانی کا سمندری حصہ جس میں دونوں موجیں مارتے ہیں۔ لیکن قدرت نے دونوں کے درمیان ایک مانع اور لطیف پردہ قرار دیا ہے کہ ایک دوسرے کو ختم نہیں کرسکتا اسی کو برزخ کہتے ہیں، لیکن اصطلاحاً برزخ وہ عالم ہے جسے خداوند عالمین نے دنیا اور آخرت کے درمیان قرار دیا ہے، اس طرح کہ وہ دونوں اپنی اپنی صفت اور اپنی اپنی حدوں میں باقی رہیں۔برزخ امور دنیوی و اخروی کے درمیان ایک عالم ہے۔‘‘(معاد، صفحہ ۵۱، از آیت اﷲ سید عبد الحسین، اہل تشیع)

ان حضرات  کے بیانات سے واضح ہوتا ہے کہ ان کے نزدیک ’’برزخ‘‘ کا مطلب’’ پردہ‘‘ ہے، اوریہ پردہ ’’زندہ انسانوں‘‘ اور ’’ مرنے والوں ‘‘ کے درمیان ہے۔ نیز  یہ ’’برزخ‘‘ دنیا اور آخرت کے درمیان ہے۔آئیے اس بارے میں کتاب اﷲ سے رجوع کریں۔

 

کیا’’برزخ‘‘ سے مراد’’پردہ‘‘ ہے؟

کتاب ا ﷲ کا جواب:

﴿۞ وَهُوَ الَّذِيْ مَرَجَ الْبَحْرَيْنِ ھٰذَا عَذْبٌ فُرَاتٌ وَّھٰذَا مِلْحٌ اُجَاجٌ  ۚ وَجَعَلَ بَيْنَهُمَا بَرْزَخًا وَّحِجْرًا مَّحْجُوْرًا ﴾

[الفرقان: 53]

’’ اور وہی تو ہے جس نے دو دریاؤں کو ملا دیا ایک کا پانی میٹھا ہے پیاس بجھانے والا اور دوسرے کا کھاری اورکڑوا،اور بنا دی دونوں کے درمیان برزخ ( آڑ) اور مضبوط اوٹ۔‘‘

﴿ مَرَجَ الْبَحْرَيْنِ يَلْتَقِيٰنِ     بَيْنَهُمَا بَرْزَخٌ لَّا يَبْغِيٰنِ ﴾

[الرحمن: 19-20]

’’ اس نے دو دریا رواں کئے جو آپس میں ملتے ہیں۔ دونوں کے درمیان برزخ (آڑ) ہے کہ وہ (اپنی حدسے)تجاوز نہیں کرتے۔‘‘

اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ دو دریا ایک ساتھ بہہ رہے ہیں، ایک کا پانی میٹھا ہے اور دوسرے کا کھار ی ،اﷲ تعالیٰ نے ان کے درمیان ایسی آڑ قائم کردی ہے کہ یہ آپس میں مل نہیں پاتے بلکہ اپنی اپنی حدود ہی میں بہتے رہتے ہیں۔اگر یہ لوگ برزخ کے معنیٰ  صرف ایک ایسے پردے کے کرتے ہیں کہ جس کے پار کچھ نہ دکھائی دے تو یہ کسی طرح بھی قرآن کریم کی ان آیات کے مطابق ہرگز نہ ہوگا،ان آیات کا مفہوم ہر گز یہ نہیں ہے کہ یہ دونوں دریاؤں کے پانی ایک دوسرے کو دیکھ نہیں پاتے بلکہ اس میں بیان کردہ بات یہ ہے کہ ان دونوں پانیوں کے درمیان ایک ایسی مضبوط آڑ ہے کہ میٹھا پانی ہرگز کھارے پانی کے دریا میں داخل نہیں ہوسکتا اور اسی طرح کھارا پانی میٹھے پانی کے دریا میں داخل نہیں ہو سکتا، گویا ’’برزخ‘‘ کے معنیٰ ایسی ’’ آڑ‘‘ کے ہیں جو دو چیزوں کو باہم ملنے نہ دے۔

سوچنے کی بات یہ ہے کہ قرآن اسے ایک ’’ آڑ ‘‘ قرار دیتا ہے لیکن فرقوں کے  ان شیوخ کے مطابق  ’’ ایک  ایسا پردہ کے جس کے پار کی چیز نہ دکھائ دے‘‘۔ اب اس فرق کا اگر بغور مطالعہ کیا جائے تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ یہ مردے کو اس دنیاوی قبر میں زندہ قرار دینے کی پہلی کڑی ہے۔۔۔۔۔ آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا!

جب عوام الناس سوال کرتے ہیں کہ ’’حضرت اگر اسی دنیاوی جسم پر عذاب ہوتا ہے تو ہمیں نظر کیوں نہیں آتا؟‘‘ تو بتاتے ہیں کہ اب مردے اور ہمارے درمیان برزخ حائل ہوگئی اس لئے ہمیں نہیں دکھائی دیتا، لیکن یہ ایک بہت بڑا جھوٹ ہے برزخ کے معنی  ہر گز ایک ایسے پردے کے نہیں  کہ جس کی وجہ سے آر پار کی چیز نہ دکھائی دے بلکہ جیسا کہ اوپر قرآن کی آیات سے واضح ہوا کہ برزخ کے معنی ایک ایسی آڑ کے ہیں جو دوچیزوں کو ملنے نہ دے۔ اب ہم ان کے عقائد کو قرآن و حدیث کی کسوٹی پر پرکھتے ہیں :

کیا یہ پردہ ’’زندہ انسانوں‘‘ اور’’ مرنے والوں‘‘ کے درمیان ہے؟

قرآن کا جواب:

﴿وَهُوَ ٱلۡقَاهِرُ فَوۡقَ عِبَادِهِۦۖ وَيُرۡسِلُ عَلَيۡكُمۡ حَفَظَةً حَتَّىٰٓ إِذَا جَآءَ أَحَدَكُمُ ٱلۡمَوۡتُ تَوَفَّتۡهُ رُسُلُنَا وَهُمۡ لَا يُفَرِّطُونَ  ٦١    ثُمَّ رُدُّوٓاْ إِلَى ٱللَّهِ مَوۡلَىٰهُمُ ٱلۡحَقِّۚ أَلَا لَهُ ٱلۡحُكۡمُ وَهُوَ أَسۡرَعُ ٱلۡحَٰسِبِينَ﴾

[الأنعام: 61-62]

”اور وہ اپنے بندوں پر غالب ہے اور تم پر نگہبان بھیجتا ہے۔ یہاں تک کہ جب تم میں سے کسی کی موت آتی ہے تو ہمارے بھیجے ہوئے (فرشتے) اسکی روح قبض کر لیتے ہیں اور وہ کوئی کوتاہی نہیں کرتے۔ پھر تم پلٹائے جاتے ہو   اللہ کی طرف جو تمھارا حقیقی مالک ہے سن لو کہ حکم اسی کا ہے اور وہ بہت جلد حساب لینے والاہے۔“

یعنی فرشتے روح قبض کرکے اسے اللہ تعالیٰ کے پاس لیجاتے ہیں۔مزید دیکھیے :

﴿ حَتّيٰٓ اِذَا جَاۗءَ اَحَدَهُمُ الْمَوْتُ قَالَ رَبِّ ارْجِعُوْنِ ٩٩ لَعَلِّيْٓ اَعْمَلُ صَالِحًا فِيْمَا تَرَكْتُ كَلَّا  ۭ اِنَّهَا كَلِمَةٌ هُوَ قَاۗىِٕلُهَا  ۭ وَمِنْ وَّرَاۗىِٕهِمْ بَرْزَخٌ اِلٰى يَوْمِ يُبْعَثُوْنَ ﴾

[المؤمنون: 99-100]

’’یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی کی موت آتی ہے تو کہتا ہے کہ اے میر ے رب مجھے واپس لوٹا دے تا کہ میں نیک عمل کروں اس میں جسے چھوڑ آیا ہوں۔( اﷲ تعالی فرماتا ہے) ہر گز نہیں یہ تو ایک بات ہے جو وہ کہہ رہا ہے اور ان کے پیچھے برزخ حائل ہے قیامت کے دن تک۔‘‘

جب فرشتے ظالموں کی روحیں قبض کرتے ہیں:

وَلَوْ تَرٰٓي اِذِ الظّٰلِمُوْنَ فِيْ غَمَرٰتِ الْمَوْتِ وَالْمَلٰۗىِٕكَةُ بَاسِطُوْٓا اَيْدِيْهِمْ ۚ اَخْرِجُوْٓا اَنْفُسَكُمْ ۭ اَلْيَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذَابَ الْهُوْنِ بِمَا كُنْتُمْ تَقُوْلُوْنَ عَلَي اللّٰهِ غَيْرَ الْحَقِّ وَكُنْتُمْ عَنْ اٰيٰتِهٖ تَسْتَكْبِرُوْنَ ٩٣ وَلَقَدْ جِئْتُمُوْنَا فُرَادٰي كَمَا خَلَقْنٰكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍ وَّتَرَكْتُمْ مَّا خَوَّلْنٰكُمْ وَرَاۗءَ ظُهُوْرِكُمْ ۚ وَمَا نَرٰي مَعَكُمْ شُفَعَاۗءَكُمُ الَّذِيْنَ زَعَمْتُمْ اَنَّهُمْ فِيْكُمْ شُرَكٰۗؤُا ۭ لَقَدْ تَّقَطَّعَ بَيْنَكُمْ وَضَلَّ عَنْكُمْ مَّا كُنْتُمْ تَزْعُمُوْنَ ﴾

[الأنعام: 93-94]

’’ ۔۔۔ کاش تم دیکھو ان ظالموں کو سکرات موت میں اور فرشتے ہاتھ پھیلا پھیلا کر کہہ رہے ہوتے ہیں کہ نکالو اپنی روحوں کو آ ج تم کو ذلت و الا عذاب دیا جائے گا اس لیے کہ تم اﷲ پر جھوٹ بولا کرتے تھے اور اس کی آیات سے سرکشی کرتے تھے۔اور تم تن تنہا پہنچ گئے ہمارے پاس جیسا کہ ہم نے تم کو پہلی مرتبہ پیدا کیا تھا، اور جو کچھ ہم نے تم کو عطا کیا تھا وہ سب اپنی پیٹھ پیچھے چھوڑ آئے ہو۔‘‘

سورہ ٔالمومنون کی مذکورہ بالا آیت میں اﷲ تعالیٰ نے اسی بات کو بیان فرمایا ہے کہ مرنے والے کی روح کسی اور عالم میں پہنچ کر واپس بھیجے جانے کی درخواست کرتی ہے کہ ’’ مجھے واپس لوٹا دے‘‘۔ کہاں لوٹا دے؟سورہ انعام کی آیت اس بات کی مکمل وضاحت کر دیتی ہے ’’جو کچھ ہم نے تمکو عطا کیا تھا وہ سب اپنی پیٹھ پیچھے چھوڑ آئے ہو‘‘، یعنی یہ دنیا، یہ جسم، یہ تمام نعمتیں۔ گویا مرنے والے کی روح ان سب کو چھوڑ کر چلے جانے کے بعد اب ان کی طرف واپسی کی درخواست کرتی ہے تو اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ’’ہر گز نہیں، یہ تو ایک بات ہے جو وہ کہہ رہا ہے اور انکے پیچھے برزخ (آڑ) حائل ہے قیامت کے دن تک‘‘۔ تو یہ آڑ کس کے درمیان حائل ہے؟ قرآن بتاتا ہے کہ یہ آڑ مرنے والے کی روح اور ان سب چیزوں( یعنی دنیا،اس کی نعمتیں  اور اسکے جسم) کے درمیان ہے جو وہ چھوڑ کرگئی ہے ۔

آج  تمام مشہور مسالک  اسی بات کے دعویدار ہیں  کہ ان کا ہر عقیدہ و عمل قرآن و حدیث کے مطابق ہے ،لیکن جب قرآن و حدیث سے تقابل کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ  کتاب اﷲتو ’’برزخ‘‘ مرنے والے کی روح اور دنیا اوراسکے مردہ جسم کے درمیان بتاتی ہے، لیکن شیوخ کی تصانیف   اسے زندہ انسانوں اورمردوں کے جسم کے درمیان قرار دیتی ہیں !کیا یہ قرآن پر ایمان ہے یا اس کا انکار۔

اس بارے میں ان لوگوں نے ایک خود ساختہ عقیدہ بنا لیا ہے کہ یہ زمینی قبر ’’ آخرت‘‘ کا مقام ہے اور زندہ انسانوں کا تعلق دنیا سے ہے، اور اﷲ تعالیٰ نے اس دنیا و آخرت کے درمیان برزخ حائل کردی ہے اسی وجہ سے اب ہم سے اس مردہ جسم پر ہونے والے تمام حالات مخفی ہیں۔ ان کا یہ عقیدہ جھوٹ ہے اور کسی بھی طور کتاب اللہ سے اس کی کوئی دلیل نہیں ملتی۔ کتاب اﷲ سے اس مسئلے کی وضاحت ہوچکی ہے کہ ’’برزخ‘‘ کے معنی ’’پردہ‘‘ نہیں بلکہ ’’ آڑ ‘‘ ہیں،لہذا ان کا یہ عقیدہ بھی ان کے دوسرے عقائد کی طرح محض خود ساختہ و من گھڑت ہے۔

کیا روح قبض ہونے کا وقت برزخی دور ہے؟

میں ہم نے کتاب اللہ کا حوالہ دیکر سمجھایا تھا کہ برزخ کے معنی پردہ نہیں بلکہ ’’ آڑ ‘‘ ہے جو دو چیزوں کو باہم ملنے نہ دے۔ فرقہ پرست اپنے منگھڑت عقائد ثابت کرنے کے لئے اسے  پردہ قرار دیتے ہیں۔انسان کی موت کے وقت اس کی روح قبض کرنے کیلئے فرشتے آتے ہیں،ان مسلک پرستوں نے اس وقت کو بھی برزخ سے تعبیر کردیا ہے، چناچہ  ایک اہلحدیث عالم صاحب لکھتے ہیں:

ولو ترٰی اذ یتوفیٰ الذین کفروا الملائکۃ  یضربون و جوھھم و ادبارھم و ذوقوا عذاب الحریق (پ۱۰ سورہ انفال آیت ۵۰)کاش تم اس وقت کافروں کی حالت دیکھو جب فرشتے ان کی جان نکالتے ہیں اور ان کے مونہوں اور پشتوں پر چوٹیں لگاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ چکھو عذاب آگ کا۔

اس آیت پر بعض حضرات نے یہ تفسیری نوٹ لکھا ہے کہ فرشتے لوہے کی گرزوں کو آگ میں سرخ کرکے گنہگاروں کو مارتے ہیں اور ان سے جو زخم پیدا ہوتا ہے اس میں آگ پیدا ہوتی ہے اور سوزش ہوتی ہے فرشتے مارتے ہوئے بولتے ہیں کہ عذاب دوزخ کو چکھو۔‘‘( دعا کرنے کا اسلامی تصور، صفحہ نمبر ۱۲۱۔از فضل الرحمن کلیم اہلحدیث)

جماعت المسلمین  مسعود بی ایس سی والے سورہ ٔ محمد کی آیت پیش کرتے ہیں:

’’ اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے ’’ اسوقت کافروں کی کیا کیفیت ہوگی جب فرشتے ان کی روح قبض کرینگے اور انکے چہروں اور پیٹھوں پر مارتے جائینگے‘‘ ( محمد ۲۷)  ‘‘

اس کی تشریح میں اپنی علمیت  کا بھر پور مظاہرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’ جس طرح ارضی قبر میں عذاب ہوتا ہے وہ ہمیں دکھائی نہیں دیتا جبکہ لاش قبر میں پوشیدہ ہوتی ہے اسی طرح جب فرشتے کافروں کی جان نکالتے ہیں اور انھیں مارتے ہیں تو پاس بیٹھنے والوں کو کچھ نظرنہیں آتا پھر بستر پر لیٹے ہوئے کی پیٹھ پر مارنا تو بالکل ہی سمجھ سے بالاتر ہے لیکن ضروری نہیں کہ جو نظر نہ آئے اسکا وجودہی نہ ہو۔ نہ نظر آتے ہوئے بھی ہمارا پختہ ایمان ہوتا ہے مثلاً اﷲ تعالیٰ کوہم نہیں دیکھ سکتے موسیٰ علیہ السلام سے بھی تو اﷲ تعالیٰ نے فرمایا تھا   لن ترانی ( اعراف ۱۴۳) اے موسیٰ ؑ تم مجھے ہرگز نہیں دیکھ سکتے اسی طرح شیاطین وغیرہ ہمیں نہیں دکھائی دیتے۔ کافر کی جان نکالتے وقت فرشتے اسے مارتے ہیں لیکن فرشتے نظر نہیں آتے اسی طرح انسان کو خواب میں تکلیف پہنچتی ہے وہ چیختا چلاتا ہے لیکن پاس بیٹھنے والوں کو کچھ نظر نہیں آتا بتائیے کیسی برزخ ہے؟‘‘ ( ارضی قبر یا فرضی قبر، صفحہ نمبر ۲۵)

ایک اور اہلحدیث بھی اس مسئلے پر یوں قلم طرازی فرماتے ہیں:

’’ وہ ان کے چہروں پر بھی مارتے ہیں اور ان کی پیٹھ پر بھی مارتے ہیں۔ اب فرشتے اس کے منہ اور پیٹھ پر مار مار کر اس کی روح کو نکال کر لے جاتے ہیں تو کیا آج تک کسی زندہ نے مرنے والے کے جسم پر عزرائیل کے تھپڑوں کا نشان دیکھا ہے…؟…اب چونکہ قرآن کریم نے کہا ہے اس لئے سمجھ میں آئے یا نہ آئے اس پر ایمان لانا ضروری ہے یہی معاملہ عذاب قبر کا ہے حالانکہ وہ ابھی زندہ ہوتا ہے صرف مرنے کے قریب ہوتا ہے لیکن اپنے ساتھ ہونے والے واقعات کو وہ بتانے سے قاصر ہے اور لواحقین دیکھنے سے قاصر ہیں اسی کا نام ’’ آڑ اور پردہ‘‘ ہے جسے قرآن نے لفظ ’’ برزخ‘‘ سے تعبیر فرمایاہے۔‘‘(پہلا زینہ ، صفحہ نمبر۱۱۷۔۱۱۸ ، ازقاری خلیل الرحمن اہلحدیث)

فرقہ پرستوں کے ان بیانات سے جو صورت حال سامنے آتی ہے وہ اس طرح ہے:

۱۔انسان کی روح قبض کرنے کا معاملہ برزخی ہے ، ہمارے اور مردے کے درمیان برزخ حائل ہو جاتی ہے۔

۲۔اسی وجہ سے فرشتوں کے مارنے کے نشانات ہم کو نظر نہیں آتے۔

آئیے کتاب اﷲ سے رجوع کریں:

کتاب اللہ

﴿وَهُوَ ٱلۡقَاهِرُ فَوۡقَ عِبَادِهِۦۖ وَيُرۡسِلُ عَلَيۡكُمۡ حَفَظَةً حَتَّىٰٓ إِذَا جَآءَ أَحَدَكُمُ ٱلۡمَوۡتُ تَوَفَّتۡهُ رُسُلُنَا وَهُمۡ لَا يُفَرِّطُونَ  ٦١    ثُمَّ رُدُّوٓاْ إِلَى ٱللَّهِ مَوۡلَىٰهُمُ ٱلۡحَقِّۚ أَلَا لَهُ ٱلۡحُكۡمُ وَهُوَ أَسۡرَعُ ٱلۡحَٰسِبِينَ﴾

[الأنعام: 61-62]

”اور وہ اپنے بندوں پر غالب ہے اور تم پر نگہبان بھیجتا ہے۔ یہاں تک کہ جب تم میں سے کسی کی موت آتی ہے تو ہمارے بھیجے ہوئے (فرشتے) اسکی روح قبض کر لیتے ہیں اور وہ کوئی کوتاہی نہیں کرتے۔ پھر تم پلٹائے جاتے ہو اللہ   کی طرف جو تمھارا حقیقی مالک ہے سن لو کہ حکم اسی کا ہے اور وہ بہت جلد حساب لینے والاہے۔“

اس  آیت میں فرشتوں کے ذریعے روح قبض کرانے اور پھر اﷲ کی طرف پلٹائے جانے کا ذکر ہے، برزخ کا کوئی ذکر نہیں۔

نبی صلی اﷲ علیہ و سلم نے فرمایا:

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: «إِذَا خَرَجَتْ رُوحُ الْمُؤْمِنِ تَلَقَّاهَا مَلَكَانِ يُصْعِدَانِهَا» – قَالَ حَمَّادٌ: فَذَكَرَ مِنْ طِيبِ رِيحِهَا وَذَكَرَ الْمِسْكَ – قَالَ: ” وَيَقُولُ أَهْلُ السَّمَاءِ: رُوحٌ طَيِّبَةٌ جَاءَتْ مِنْ قِبَلِ الْأَرْضِ، صَلَّى الله عَلَيْكِ وَعَلَى جَسَدٍ كُنْتِ تَعْمُرِينَهُ، فَيُنْطَلَقُ بِهِ إِلَى رَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ، ثُمَّ يَقُولُ: انْطَلِقُوا بِهِ إِلَى آخِرِ الْأَجَلِ “، قَالَ: ” وَإِنَّ الْكَافِرَ إِذَا خَرَجَتْ رُوحُهُ – قَالَ حَمَّادٌ وَذَكَرَ مِنْ نَتْنِهَا، وَذَكَرَ لَعْنًا – وَيَقُولُ أَهْلُ السَّمَاءِ رُوحٌ: خَبِيثَةٌ جَاءَتْ مِنْ قِبَلِ الْأَرْضِ. قَالَ فَيُقَالُ: انْطَلِقُوا بِهِ إِلَى آخِرِ الْأَجَلِ “، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: فَرَدَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَيْطَةً كَانَتْ عَلَيْهِ، عَلَى أَنْفِهِ، هَكَذَا

( مسلم۔ کتاب الجنۃ و صفتہ،باب عرض مقعد المیت)

’’ إِذَا خَرَجَتْ رُوحُ الْمُؤْمِنِ تَلَقَّاهَا مَلَكَانِ يُصْعِدَانِهَا  جب مومن کی روح اس کے بدن سے نکلتی ہے تو اسکے آگے آگے دو فرشتے جاتے ہیں ا س کو آسمان پر چڑھاتے ہیں۔ابوہریرۃ ؓ نے اس کی خوشبو اور مشک کا ذکر کیا اور کہا کہ آسمان والے ( فرشتے ) کہتے ہیں  : رُوحٌ طَيِّبَةٌ جَاءَتْ مِنْ قِبَلِ الْأَرْضِ کوئی پاک روح ہے جو زمین سے آئی ہے۔ اﷲ تعالی تجھ پر رحمت کرے اور تیرے جسم پر جس کو تو نے آباد رکھا۔ پھر اس کو اسکے رب کے پاس لیجاتے ہیں وہ فرماتا ہے لیجاؤ اس کو آخری وقت تک کیلئے ۔اور جب کافر کی روح نکلتی ہے تو ابوہریرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ نے اس پر لعنت کا ذکر کیا اور کہا کہ آسمان والے ( فرشتے ) کہتے ہیں رُوحٌ: خَبِيثَةٌ جَاءَتْ مِنْ قِبَلِ الْأَرْضِ کہ ناپاک روح ہے جو زمین سے آئی ہے پھر حکم ہوتا ہے لیجاؤ اس کو آخری وقت تک کیلئے۔‘‘

مالک کائنا ت فرماتا ہے:

وَلَقَدْ جِئْتُمُوْنَا فُرَادٰي كَمَا خَلَقْنٰكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍ وَّتَرَكْتُمْ مَّا خَوَّلْنٰكُمْ وَرَاۗءَ ظُهُوْرِكُمْ ۚ وَمَا نَرٰي مَعَكُمْ شُفَعَاۗءَكُمُ الَّذِيْنَ زَعَمْتُمْ اَنَّهُمْ فِيْكُمْ شُرَكٰۗؤُا ۭ لَقَدْ تَّقَطَّعَ بَيْنَكُمْ وَضَلَّ عَنْكُمْ مَّا كُنْتُمْ تَزْعُمُوْنَ ﴾

[الأنعام: 94]

’’ تم تن تنہا پہنچ گئے ہمارے پاس جیسا ہم نے تم کو پہلی مرتبہ پیدا کیا تھا اور تم چھوڑ آئے ہو اپنی پیٹھ پیچھے جو کچھ ہم نے تم کو عطا فرمایا تھا۔‘‘

مذکورہ بالا آیت اور حدیث سے پتہ چلاکہ فرشتے اس روح کو آسمانوں میں لے جاتے اور اس کو ربِ کائنات کے سامنے پیش کرتے ہیں،وہاں اس روح سے اﷲ تعالیٰ کلام فرماتا ہے، یہاں تک کسی بھی آیت یا حدیث میں برزخ کا کوئی ذکر نہیں ۔

پھر سورہ مومنون میں اس بات کا ذکر کیا گیا ہے کہ جب روح اﷲ تعالیٰ کے پاس چلی جاتی ہے تو مرنے والا اپنے رب سے کیا درخواست کرتا ہے۔

﴿ حَتّيٰٓ اِذَا جَاۗءَ اَحَدَهُمُ الْمَوْتُ قَالَ رَبِّ ارْجِعُوْنِ ٩٩ لَعَلِّيْٓ اَعْمَلُ صَالِحًا فِيْمَا تَرَكْتُ كَلَّا  ۭ اِنَّهَا كَلِمَةٌ هُوَ قَاۗىِٕلُهَا  ۭ وَمِنْ وَّرَاۗىِٕهِمْ بَرْزَخٌ اِلٰى يَوْمِ يُبْعَثُوْنَ ﴾

[المؤمنون: 99-100]

’’یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی کی موت آتی ہے تو کہتا ہے کہ اے میر ے رب مجھے واپس لوٹا دے تا کہ میں نیک عمل کروں اس میں جسے چھوڑ آیا ہوں۔( اﷲ تعالی فرماتا ہے) ہر گز نہیں یہ تو ایک بات ہے جو وہ کہہ رہا ہے اور ان کے پیچھے برزخ حائل ہے قیامت کے دن تک۔‘‘

اب جب روح اﷲ تعالیٰ کے پاس پہنچ کر دنیا میں واپس بھیجے جانے کی درخواست کرتی ہے تویہاں اﷲ تعالیٰ’’ برزخ‘‘  کا ذکر فرماتا ہے کہ دنیا میں واپس جانے کی بات ہرگز ممکن نہیں کیونکہ ان مرنے والوں کے پیچھے اب برزخ ’’آڑ‘‘ہے قیامت کے دن تک  کےلئے۔تو گویا برزخ کا معاملہ اسوقت شروع ہوتا ہے جب روح  آسمانوں سے اس دنیا میں واپس آنا چاہتی ہے۔

اگر یہ اپنے عقیدے میں سچے ہیں تو قرآن یا حدیث پیش کریں کہ یہ ’’ آڑ ‘‘ یعنی برزخ زندہ اور مردہ انسانوں کے درمیان ہے، برزخ کا ذکر ہی صرف اسوقت آیا ہے جب روح واپس اس دنیا میں آنے کی درخواست کرتی ہے۔

ان کے اس جھوٹے عقیدے کہ اب ہمارے اور مردے کے درمیان چونکہ ’’پردہ‘‘ آگیا ہے اس لیے اب مردے کو جو مارا پیٹا جارہا ہے وہ ہمیں نہیں دکھائی دیتا کو بھی  قرآن و حدیث  کی کسوٹی پر  پرکھ لیتے ہیں۔ ۔ یہ کہتے ہیں دکھائی نہیں دیتا اور اللہ   تعالیٰ فرماتا ہے :

﴿كَلَّآ اِذَا بَلَغَتِ التَّرَاقِيَ٢٦ وَقِيْلَ مَنْ ۫رَاقٍ    ٢٧ وَّظَنَّ اَنَّهُ الْفِرَاقُ٢٨ وَالْتَفَّتِ السَّاقُ بِالسَّاقِ٢٩ اِلٰى رَبِّكَ يَوْمَىِٕذِۨ الْمَسَاقُ٣٠﴾

[القيامة: 26-30]

’’ ہر گز نہیں جب روح گلے تک پہنچ جائے اور کہا جائے کون ہے جھاڑپھونک کرنے والا۔ اور اس نے جان لیا کہ اب جدائی کا وقت ہے اور پنڈلی سے پنڈلی مل جائے، اس دن تجھے اپنے رب کی طرف جانا ہے۔‘‘

نبی ﷺ نے فرمایا:

اذَا  طَمَحَ الْبَصَرُ وَ حَشْرَجَ الصَّدْرُ  وَاقْشَعَرَّا لْجِلْدُ فَعَنْدَ…

( نسائی۔کتاب الجنائز۔ فی من احب لقاء اﷲ)

’’ جب بینائی مٹ جائے اور چھاتی میں دم آجائے اور بدن کے روئیں کھڑے ہوجائیں( یہ اﷲ سے ملنے کا وقت ہے)۔‘‘

﴿فَلَوْلَآ اِذَا بَلَغَتِ الْحُلْقُوْمَ٨٣ وَاَنْتُمْ حِيْـنَىِٕذٍ تَنْظُرُوْنَ٨٤﴾

[الواقعة: 83-84]

’’ اور جب روح گلے میں آپہنچتی ہے اور تم اس حالت کو دیکھ رہے ہوتے ہو۔‘‘

دیکھا آپ نے ان فرقہ پرست علماء کو کس طرح  اللہ کے بیان کے خلاف عقیدہ بنایا اور اس کا پرچار کرتے ہیں۔مالک فرماتا ہے کہ تم اس حالت کو دیکھ رہے ہوتے ہو اور یہ اتنے بڑے بڑے عالم کہتے ہیں ہمارے اور اس کے درمیان پردہ ہے۔

فبای حدیثٍ بعدہ یومنون’’تو پھر اس (  یعنی اﷲ کی) بات کے بعد کس بات پر ایمان لاؤ گے‘‘؟؟

نہ معلوم یہ کیسا پردہ ہے کہ مرنے والے کی سانس ٹوٹ رہی ہے ہم دیکھتے ہیں، پنڈلیاںآپس میں مل رہی ہیں ہمیں دکھائی دے رہی ہیں، آنکھیں پتھرا رہی ہیں ہم سے نہیں چھپی ہوئی، سب کچھ ہی تو نظر آتا ہے، نہیں نظر آتا ہے تو فرشتے نظر نہیں آتے، ان کا مارنا نہیں دکھائی دیتا ،روح قبض کرنا نہیں دکھا ئی دیتا، تو یہ برزخ ہے یا غیب کا معاملہ ہے؟ جماعت المسلمین والے اپنے آ پ کو قرآن و حدیث کا چمپئن سمجھتے ہیں لیکن ان کو ’’غیب‘‘ اور ’’ برزخ‘‘ کا فرق بھی معلوم نہیں، یہ کور چشمی ہے یا تجاہل عارفانہ!

یہ علماء فرقہ اگر فرشتوں کے نہ دکھائی دینے کو ’’ برزخ‘‘ قرار دیتے ہیں تو پھر اس دنیا میں اتنی برزخیں ہیں کہ ان کا شمار ممکن نہیں، خود اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے کہ انسان جب بھی کوئی کام کرتا ہے تو جو اس کے دائیں بائیں (فرشتے)بیٹھے ہیں وہ اسے لکھ لیتے ہیں، حدیث میں آتا ہے کہ فرشتے مسجد میں بیٹھنے والوں کیلئے دعا کرتے ہیں، جمعہ کے دن صلوٰۃ کیلئے آنے والوں کے نام رجسٹر میں لکھتے ہیں، اﷲ تعالیٰ کے ذکر کی محفلوں پر اس طرح چھا جاتے ہیں کہ آسمان تک قطار بنا لیتے ہیں، تو اب ہر طرف برزخ ہی برزخ ہے، گھر میں برزخ، بازاروں میں برزخ، مسجدوں میں برزخ ،محفلوں میں برزخ ،ہے کوئی جگہ خالی ان برزخوں سے؟کیا خوب علمی بصیرت پائی ہے ان حضرات نے !

فرشتوں کی مار کے نشان کیوں نہیں دکھائی دیتے

اب ہم  ان آیات کا مطالعہ کرتے ہیں  کہ جو ان علما  ءکی طرف سے پیش کی جاتی ہیں کہ سورہ  انفال اور سورہ محمد میں جو روح قبض کرتے وقت فرشتوں کے روح قبض کرنے کا بیان ہے تو اس میں  ہے کہ فرشتے مارتے بھی  ہیں ۔لہذا یہ علماء عوام کو دھوکہ دیتے ہیں کہ   ہمیں مار کے نشان کیوں نہیں دکھائی دیتے۔

﴿فَكَيْفَ اِذَا تَوَفَّتْهُمُ الْمَلٰۗىِٕكَةُ يَضْرِبُوْنَ وُجُوْهَهُمْ وَاَدْبَارَهُمْ٢٧﴾

[محمد: 27]

’’ اسوقت کافروں کی کیا کیفیت ہوگی جب فرشتے ان کی روح قبض کرتےہوئے انکے چہروں اور پیٹھوں پر مارتے ہیں۔‘‘

﴿وَلَوْ تَرٰٓي اِذْ يَتَوَفَّى الَّذِيْنَ كَفَرُوا ۙ الْمَلٰۗىِٕكَةُ يَضْرِبُوْنَ وُجُوْهَهُمْ وَاَدْبَارَهُمْ ۚ وَذُوْقُوْا عَذَابَ الْحَرِيْقِ٥٠﴾

[الأنفال: 50]

’’کاش تم اس وقت کافروں کی حالت دیکھو جب فرشتے ان کی  روح نکالتے ہیں اور ان کے مونہوں اورپیٹھوں پر چوٹیں لگاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ چکھو جلنے کا عذاب۔‘‘

اپنی ہر  ہر کتاب میں دیوبندی اور اہلحدیث علماء  نے بڑا شور مچایا ہے کہ کیوں نہیں دکھائی دیتے یہ نشان، ماسٹرجی کے مارے ہوئے کا نشان تو تین دن تک رہتا ہے اور عزرائیل کی مار کا نشان؟  ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

وضاحت :

صرف اپنے جھوٹے عقیدے کو ثابت کرنے کے لئے یہ شور مچایا گیا ہے ورنہ قرآن و حدیث میں  کہیں بھی نہیں لکھا کہ ان کے مارنے سے نشان پڑ جاتے ہیں، جب لکھا ہی نہیں تو اسے بنیاد بنانا کیسا ؟ان سارے مفتیان و علماء سے سوال ہے کہ  ان آیتوں میں یہ کہاں لکھاہے کہ قبض روح کے وقت فرشتوں کے مارنے سے نشان پڑ جاتے ہیں؟  آخر کیوں  یہ جھوٹ گھڑتے اور اسے پھیلاتےہیں!

 آمَنَ الرَّسُولُ بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْهِ مِنْ رَبِّهِ  ۔ ۔ ۔[البقرة: 285]

’’ ایمان لاتا ہے اﷲ کا رسول اس پر جو کچھ اس کے رب کی طرف سے نازل کیا گیا ہے اور مومن بھی‘‘۔

ہمارا ایمان تو اُسی حد تک ہے کہ جتنا اﷲ تعالیٰ نے فرمادیا ہے، قرآن و حدیث میں قبض روح کے موقع کیلئے جب اس طرح کی کوئی بات نہیں بیان کی گئی کہ اس سے نشان پڑ جاتے ہیں تومحض اپنی عقل کو بنیاد بنا کر اس پر ایک خود ساختہ عقیدہ گھڑ لینا ایمان والوں کے شایان شان نہیں۔ رہا فرشتوں  اور ان کی مار کا نہ دکھائی دینا تو اس  سےقبل پوسٹ میں اس کی وضاحت کردی گئی کہ یہ ’’ غیب ‘‘ کا معاملہ ہے ’’برزخ ‘‘ کا نہیں۔ہاں اگر فرشتوں کے مارنے سے جسم پر کوئی زخم بنتا ہے تو انسانوں کو بھی دکھائی دیتا ہے ، ملاحظہ فرمائیں یہ حدیث ۔

ایک غزوہ کے موقع پر اﷲ تعالیٰ نے مومنوں کی مدد کیلئے فرشتوں کو  نازل فرمایا،فرشتے نے جب ایک کافر کو کوڑا مارا تو اس کی آواز بھی سنائی دی اور اس کی مار کا نشان بھی صحابی ؓ  کو دکھائی دیا، ملاحظہ ہو:

…اِبْنِ عَبَاسٍ قَالَ بَیْنَمَا رَجُلٌ مِنْ الْمُسْلِمَیْنَ یَوْمَئِذٍ یَشْتَدُّ   فِیْ اَثَرِ مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ اَمَامَہٗ اِذْ سَمِعَ ضَرْبَۃً بِالسَّوْطِ فَوْقَہٗ وَ صَوْتَ الْفَارِسِ  یَقُوْلُ اَقْدِمْ حَیْزُوْمُ فَنَظَرَ اِلَی الْمُشْرِکِ اَمَامَہٗ فَخَرَّ مُسْتَلْقِیًا فَنَظَرَ اِلَیْہِ فَاِذَا ھُوْ قَدْ خُطِمَ اَنْفُہٗ وَ شُقَّ وَجْھُہُ کَضَرْبَۃِ السَّوْطِ فَاخْضَرَّ ذٰلِکَ اَجْمَعَُ  …

(مسلم ۔کتاب الجہاد و سیر،باب المداد بالملائکۃ…الغنائم )

’’ ابن عباس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس روز ایک مسلم ایک کافر کا پیچھا کررہا تھا جو اس کے آگے تھا اتنے میں کوڑے کی آواز آئی اوپر سے ایک سوار کی آواز آئی وہ کہتا تھا بڑھو اے حیزوم، پھر جو دیکھا تو وہ کافر مسلم کے سامنے چت گر پڑا،مسلم نے اس کو دیکھا تو اس کی ناک پرنشان تھا اور اس کا منہ پھٹ گیا تھا جیسے کوئی کوڑا مارتا ہے اور وہ سبز ہوگیا تھا ( یعنی زہر پھیل گیا تھا) پھر وہ مسلم نبی ؓ کے پاس آیا اور قصہ بیان کیا، نبی ؓ نے فرمایا تم نے سچ کہا یہ مدد تیسرے آسمان سے آئی تھی۔‘‘

ملاحظہ فرمایا کہ نہ مارنے والا دکھائی دیا اور نہ کوڑا لیکن انسانی جسم پر جو نشان پڑا وہ نظر آگیا! وہ کافر مر گیا، یعنی ان فرقہ پرستوں کے عقیدے کے مطابق ’’برزخ‘‘ کا خود ساختہ عجیب و غریب پردہ، زندہ اور مردہ کے درمیان آگیا لیکن پھر بھی صحابی ؓ کو وہ نشان نظر آ گیا!اس کے علاوہ اور بھی احادیث میں اس بات کا ثبوت ملتا ہے کہ فرشتوں نے میت کے ساتھ جو کچھ کیا وہ صحابی کو دکھائی دیا، حتیٰ کہ ایک حدیث میں اسی طرح کا ایک واقعہ ایک مشرک کے حوالے سے بھی بیان کیا گیا ہے۔

اب ہم آتے ہیں ان کی دوسری دلیل کی طرف وَذُوقُوا عَذَابَ الْحَرِيقِ چکھو جلنے کا عذاب‘‘۔

’’فرشتے لوہے کی گرزوںکو آگ میں سرخ کرکے گنہگاروں کو مارتے ہیں اور ان سے جو زخم پیدا ہوتا ہے اس میں آگ پیدا ہوتی ہے اور سوزش ہوتی ہے فرشتے مارتے ہوئے بولتے ہیں کہ عذاب دوزخ کو چکھو۔‘‘ ( دعا کرنے کا اسلامی تصور، صفحہ نمبر ۱۲۱۔از فضل الرحمن کلیم اہلحدیث)

قرآن کی کسی آیت کے من مانے معنی اخذ کرلینا انہی فرقہ پرستوں کا کام ہے۔ ’’چکھو جلنے کا عذاب‘‘ سے یہ بات اخذ کرلی گئی ہے کہ یہی جسم اوریہاں ہی جلایا جاتا ہے، جس کا کوئی قرینہ نہیں ۔ قرآن کریم کی دوسری آیات اس کی مکمل تشریح کردیتی ہیں:

فرشتے ظالموں کی روح قبض کرتے ہوئے کہتے ہیں:

﴿فَادْخُلُوْٓا اَبْوَابَ جَهَنَّمَ خٰلِدِيْنَ فِيْهَا  ۭ فَلَبِئْسَ مَثْوَى الْمُتَكَبِّرِيْنَ﴾

[النحل: 29]

’’داخل ہو جاؤ جہنم کے دروازوں میں جہاں تمکو ہمیشہ رہنا ہے۔‘‘

فرشتے جب پاک لوگوں کی روح قبض کرتے ہیں تو کہتے ہیں:

يَقُوْلُوْنَ سَلٰمٌ عَلَيْكُمُ ۙ ادْخُلُوا الْجَنَّةَ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ

[النحل: 32]

’’تم پر سلامتی ہو داخل ہو جاؤجنت میں ان اعمال کی وجہ سے جو تم کرتے تھے۔‘‘

اب بتائیے کہ کیا جہنم اس مرنے والے کے بستر کے ساتھ ہی ہوتی ہے کہ فرشتے کہتے ہیں کہ داخل ہو جاؤ جہنم کے دروازوں میں، یا جنت اس کے بالکل قریب ہوتی ہے کہ فرشتے کہتے ہیں داخل ہو جاؤجنت میں۔ اس بیان کا مطلب یہ ہے کہ اِدھر اس دارالعمل میں اس کی زندگی کا آخری لمحہ ختم ہوا اوراُدھر آخرت کا آغاز ہوگیا۔’’چکھو جلنے کا عذاب‘‘ جہنم ( عالم برزخ) میں دئیے جانے والے عذاب کیلئے ہے ،مرنے کے بعد کی جزا و سزا اس دنیامیں اور اس جسم کیساتھ  ملنے کا کوئی تصور قرآن و حدیث میں ملتاہی نہیں۔ لہذا ان کی یہ دلیل بالکل بودی ہے قرآن و حدیث اس طرح کی کوئی بات نہیں بیان کرتے۔

اہلحدیث حضرات کی طرف سے قرآن کی معنوی تحریف :

اس سے قبل  ہم فرقہ پرستوں کی ’’ برزخ ‘‘ کے بارے میں غلط تشریحات کا ذکر کر چکے ہیں اور یہ بات بالکل واضح ہو چکی ہے کہ انہوں نے برزخ کے وہ معنی بیان کئے ہیں جو کتاب  اللہ میں بیان کردہ معنی کے  بالکل خلاف ہیں۔برزخ کی اسی تشریح میں آل فرعون کو ہونے والے عذاب کو بھی شامل کرلیا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے :

’’ النار یعرضون علیھا غدواً و عشیاً
صبح شام تمام فرعونی آگ پر پیش کئے جاتے ہیں لیکن مصر کے عجائب گھر میں آج بھی فرعون کی لاش موجود ہے اور کبھی بھی مصری پریشان نہیں ہوئے کہ صبح و شام لاش کہاں غائب ہوجاتی ہے۔اس لئے کہ فرعون کی لاش وہاں سے غائب نہیں ہوتی لیکن اﷲ سبحانہ و تعالیٰ کا قرآن کریم سچا ہے وہ یقینا بلاناغہ آگ پر پیش ہوتا ہے لیکن اس پیشی کو بھی برزخ میں رکھا گیا یعنی ہمارے اور ان کے درمیان پردہ حائل کردیا گیا جس کی وجہ سے ہم انکے ساتھ ہونے والے سلوک کو دیکھنے سے قاصر ہیں۔ اب کوئی یہ اعتراض کرے کہ جب ہمیں وہ پیش ہوتے ہوئے نظر نہیں آتے تو پھر ہم کیسے مان لیں؟ تو اس کے جواب میں ہم اتنا عرض کریں گے کہ وہ پیش ہوتے ہیں کیونکہ قرآن کہتا ہے وہ کس طرح پیش ہوتے ہیں ہم اس کیفیت کو نہیں جانتے اور نہ ہی جاننے پر مکلف ہیں۔‘‘( پہلا زینہ، صفحہ نمبر ۸۱۔۸۲، از قاری خلیل الرحمن اہلحدیث)

وضاحت:

دراصل عقیدہ تو پہلے سے بنا ہوا ہے، جو جس فرقے سے وابستہ ہے اس کا عقیدہ اپنے فرقے کے اکابرین کے اقوال پر مبنی ہے، اب لوگ اس کا ثبوت کتاب ﷲ سے مانگتے ہیں تو یہ بات ان کیلئے ممکن ہی نہیں۔ پھر جب ان کے سامنے قرآن و حدیث کی بیان کردہ کوئی بات رکھی جاتی ہے تو یہ فرقہ پرست اس کی وضاحت بھی نہیں کرپاتے اس لئے کہ ان کے تو عقائد ہیں ہی خلاف ِقرآن و حدیث۔ اب یہ اس طرح کا طرز عمل اختیار نہ کریں تو اور کیا کریں،۔ان کے پاس ایک ہی جواب ہوتا ہے کہ ’’ جی بس اب مردے اور ہمارے درمیان برزخ آگئی، آگے ہمیں کچھ نہیں معلوم‘‘۔

حالانکہ صاف اور سمجھ میں آنے والی بات تو یہ ہے کہ آل فرعون پر ہونے والے عذاب کا تعلق اس دنیا اور یہاں موجود مردہ لاشوں سے بالکل نہیں ،بلکہ یہ تو جہنم کی آگ پر پیش کیے جاتے ہیں ۔

قرآن بتاتا ہے :

﴿اَلنَّارُ يُعْرَضُوْنَ عَلَيْهَا غُدُوًّا وَّعَشِـيًّا﴾

[مومن: 46]

’’جہنم کی آگ ہے جس پر وہ صبح و شام پیش کیے جاتے ہیں‘‘

اپنے باطل عقیدے کو چھپانے کے لئے اہلحدیث عالم قاری خلیل الرحمن نے اَلنَّارُ کا ترجمہ ’’ آگ ‘‘ کردیا تاکہ ان کے مقلدین کو معلوم نہ ہو کہ یہاں اَلنَّارُ سے مراد ’’جہنم کی آگ ‘‘ ہے۔ کیونکہ اگر صحیح ترجمہ کردیتے تو ہر کوئی سمجھ جاتا کہ یہ دنیا کا معاملہ نہیں بلکہ عالم برزخ یعنی جہنم میں دئیے جانے والا عذاب ہے۔ اہلحدیث مفتی عبد اللہ جابر دامانوی لکھتے ہیں :

’’ ۔ ۔ ۔ اس آیت میں آل فرعون صبح و شام جس آگ پر پیش کئے جارہے ہیں وہی عذاب قبر ہے‘‘ (عقیدہ عذاب قبر، از ابو جابر عبداﷲ دامانوی، صفحہ ۳،۲۴)

یقینا آپ لوگوں نے علماء فرقہ کا اصل چہرہ دیکھ لیا ہوگا کہ اپنے فرقے کے عقیدے کا تحفظ کرنے کے لئے یہ کیا کچھ کر سکتے ہیں۔ کیا یہ قرآن کی معنوی تحریف نہیں؟

خود بدلتے نہیں     قرآن کو بدل دیتے ہیں

قرآن و حدیث سے ہٹ کر عقائد رکھنے والے یہ فرقہ پرست اس دنیاوی قبر کو بھی برزخ قرار دیتے ہیں،ملاحظہ فرمائیں،عالم فرقہ اہلحدیث فرماتے ہیں :

’’ پھر اس پر مو ت آتی ہے یعنی قبر کی زندگی یا برزخی زندگی شروع ہو جاتی ہے۔‘‘
( روح،عذا ب قبر اور سماع موتیٰ، صفحہ ۱۸، از مولانا عبدالرحمن کیلانی اہلحدیث)

شیعہ افراد عقیدہ رکھتے ہیں :

’’ برزخ اس عالم دنیا کے پردے میں ہے۔  ممکن ہے بعض افراد کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہو کہ عالم برزخ اس طول و تفصیل کے ساتھ کہاں واقع ہے؟ یقینا ہماری عقل اس حد تک نہیں پہنچتی کہ ہم اسے سمجھ سکیں۔ ہم بس اتنا ہی کہیں گے کہ عالم برزخ اس عالم دنیا سے پردہ اور غیب میں ہے اور اسے سمجھنے کیلئے روایات میں بہت سی تشبیہیں وارد ہیں۔ مثلاً یہ کہ ’’ یہ دنیا مع اپنی زمینوں، آسمانوں وغیرہ کے عالم برزخ کے مقابلے میں ایسی ہی ہے جیسے ناپیداکنار صحرا و بیاباں میں ایک مختصر سا حلقہ ہو، جب تک انسان دنیا میں رہتا ہے وہ ریشم کے کیڑے کی طرح یا اس بچے کی طرح جو شکم مادر میں ہو محدود ہوتا ہے۔ جب وہ مرتا ہے تو آزاد ہوجاتا ہے۔ یہ ضرور ہے کہ وہ بظاہر رہتا ہے ہی اسی دنیا میں اور کہیں جاتا نہیں ہے لیکن اب اس کی محدودیت باقی نہیں رہ جاتی، اس کیلئے زمان ومکان کی کوئی قید نہیں رہ جاتی، کیونکہ یہ قیدیں اسی دنیا تک محدود ہیں جو عالم مادہ و طبیعت ہے۔‘‘ ( معاد، صفحہ ۷۸۔۷۹، از آیت اﷲ سید عبد الحسین اہل تشیع)

احمد رضا خان بریلوی کہتے ہیں:

’’اسی لئے علمافرماتے ہیں دنیا کو برزخ سے وہی نسبت ہے جو رحم مادر کو دنیا سے پھر برزخ کو آخرت سے یہی نسبت ہے جو د نیا کو برزخ سے اب اس سے برزخ و دنیا کے علوم و ادراکات میں فرق سمجھ لیجئے وہی نسبت چاہیے جو علم جنین کو علم اہل دنیا سے واقعی روح طائر ہے اور بدن قفس اور علم پرواز پنجرے میں پرند کی پرفشانی کتنی ہاں جب کھڑکی سے باہر آیا اس وقت اس کی جولانیاں قابل دید ہیں۔‘‘(روحوں کی دنیا۔صفحہ ۳۸، از احمد رضا خان بریلوی)

ان مسلک پرستوں کی اکثریت اسی عقیدے کی حامل ہے،قاری محمد طیب دیوبندی نے تو اپنی کتاب ’’عالم برزخ‘‘ میں متعدد جھوٹے چشم دید واقعات بیان کر کے اسی بات کو ثابت کرنے کی کوشش کی ہے، یہاں تک کچھ واقعات کا تعلق انہوں نے صحابہ ؓ سے بھی جوڑ دیا ہے لیکن حوالہ کسی بھی حدیث کا نہیں دیا۔ اس طرح ان سب کی تحریروں میں عذاب قبر کے حوالے سے حیات فی القبر کے سلسلے میں انکے مشترکہ عقیدے کی جھلک نمایاں طور پر نظر آتی ہے۔ دراصل ان لوگوں کے پاس قرآن و احادیث صحیحہ کو چھوڑ کر اپنے خود ساختہ عقائدکیلئے بہت سارے دلائل ہیں اور یہ سب موضوع و منکر روایات یا جھوٹے افسانوی واقعات پر مبنی ہیں انہی کو ثابت کرنے کیلئے قرآن کریم کی آیات اور احادیث صحیحہ کی غلط تشریحات کی جاتی ہیں جسکی مثالیں ابھی آپ کے سامنے آچکی ہیں اور کئی ابھی آگے آئیں گی۔

اوپر بیان کردہ فرقہ پرستوں کے بیانات سے آپ نے جان لیا ہوگا کہ یہ  لوگ اسی زمینی قبر  کو  ’’ برزخ  ‘‘ثابت کر رہے ہیں، یا اس قبر کی زندگی کو ’’ برزخی زندگی ‘‘ کہہ رہے ہیں۔ جبکہ قرآن تو کہتا ہے :

﴿اَمْوَاتٌ غَيْرُ اَحْيَاۗءٍ  ۚ وَمَا يَشْعُرُوْنَ  ۙ اَيَّانَ يُبْعَثُوْنَ﴾

[النحل: 21]

’’مردہ ہیں زندگی کی رمق نہیں، اور نہیں شعور رکھتے کہ کب اٹھائے جائیں گے‘‘۔

﴿وَفِي السَّمَاۗءِ رِزْقُكُمْ وَمَا تُوْعَدُوْنَ ﴾

[الذاريات: 22]

’’تمہارا رزق اور جس چیز کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے آسمان میں ہے‘‘۔

قرآن میں اللہ تعالیٰ فرما رہا ہے کہ  دنیا میں مرجانے والے یہ جسم، انہیں موت آ چکی ہے ، ان میں زندگی کی رمق نہیں، پھر نہ معلوم کیسے اس زمینی قبر میں ’’ برزخی زندگی ‘‘ کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے  فرما دیا ہے کہ مرنے کے بعدکا وہ وعدہ جو تم سے کیا گیا ہے وہ آسمانوں میں ہے ،یعنی تم جنت میں داخل کئے جاؤگے یا جہنم میں۔ اس بارے میں ہماری ’’ عقیدہ عذاب قبرکا مطالعہ کریں کہ انسان کی آخرت کب شروع ہوتی ہے۔

عالم برزخ کسے کہتے ہیں :

سے اس بات کی وضاحت ہو چکی ہے کہ جب روح اﷲ تعالیٰ کے پاس پہنچ کر دنیا میں واپس بھیجے جانے کی درخواست کرتی ہے تویہاں اﷲ تعالیٰ’’ برزخ‘‘ کا ذکر فرماتا ہے کہ دنیا واپس جانے کی بات ہرگز ممکن نہیں کیونکہ ان مرنے والوں کے پیچھے اب برزخ ہے قیامت کے دن تک کیلئے، یعنی اب یہ روح واپس دنیا کی طرف پلٹنا چاہے تو دنیا اور اسکے درمیان ایک آڑ ( برزخ) آگئی ہے ، اب یہ قیامت کے دن تک’’ برزخ‘‘کے اس پار ہی رہیں گے، اسی حوالے سے اسے اصطلاحاً  ’’ عالم برزخ‘‘ کہا جاتا ہے ۔

کتاب اﷲ ہمیں یہ بتاتی ہے کہ انسانی زندگی کے دو ادوار ہیں، ایک عمل کا دور اور دوسرا اس کی جزا و سزا کا دور، انسانیت سے اﷲ تعالیٰ کا یہی وعدہ ہے کہ اگر مسلم بن کر واپس لوٹے تو جزا کا وعدہ ہے اور حالت کفر میں واپس لوٹنے والوں سے صرف اور صرف سزا کا وعدہ ہے، اس وعدے کے پورے ہونے کا مقام کونسا ہے،قرآن ہمیں بتاتا ہے:

﴿ وَفِي السَّمَاۗءِ رِزْقُكُمْ وَمَا تُوْعَدُوْنَ ﴾

[الذاريات: 22]

’’تمہارا رزق اور جس چیز کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے آسمان میں ہے‘‘۔

رسول اﷲ ﷺ نے بھی ہمیں یہی عقیدہ دیا ہے، ملاحظہ فرمائیے:

مَا مِنْ عَبْدٍ یَمُوْتُ لَہٗ عِنْدَ ﷲِ خَیْرٌ یَّسُرُّہٗ اَنْ یَرْجِعَ اِلَی الدُّنْیَا وَمَا فِیْھَا اِلَّا الشَّھِیْدَ لِمَا یَرٰی مِنْ فَضْلِ الشَّھَادَۃِ فَاِنَّہٗ یَسُرُّہٗ اَنْ یَّرْجِعُ اِلَی الدُّنْیَا فَیُقْتَلُ مَرَّۃً اُخْرٰی…

( عن انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ ۔بخاری۔کتاب الجہاد و السیر۔ باب الحور العین و صفتھن)

’’بندوں میں سے جو کوئی مرتا ہے اور اس کیلئے اﷲ کے پاس کچھ خیر ہے تو نہیں چاہتا کہ دنیا کی طرف لوٹ آئے اگرچہ اس کو دنیا کی ہر چیز دے دی جائے، سوائے شہید کے کہ اس نے شہادت کی فضیلت دیکھ لی ہوتی ہے لہذا وہ چاہتا ہے کہ دنیا کی طرف لوٹ آئے اور دوبارہ  اﷲ کی راہ میں قتل کیا جائے…‘‘۔

یہاں بھی یہ فرقہ پرست لوگوں کو دھوکہ دینے کیلئے کہتے ہیں کہ اسی قبر میں اس کو سب کچھ ملتا ہے، اسی قبر میں جنت سے یاجہنم سے کھڑکی کھول دی جاتی ہے ، یہی مقا مِ آخرت ہے جہاں سے مرنے والا واپس نہیں آنا چاہتا ، ان کے اس جھوٹ کا جواب بھی حدیث میں ملتا ہے، ملاحظہ فرمائیے:

مَا اَحَدٌ یَّدْ خُلُ الْجَنَّۃَ یُحِبُّ اَنْ یَرْجِعَ اِلَی الدُّنْیَا وَلَہٗ مَا عَلَی الْاَرْضِ مِنْ شَیئٍ اِلَّا الشَّھَیْدُ…

( بخاری، کتاب الجہاد و السیر، باب تمتی المجاھد۔۔۔الی الدنیا)

’’کوئی بھی شخص ایسا نہیں کہ جو جنت میں داخل کیے جانے کے بعد دنیا میں دوبارہ آنا پسند کرے، خواہ اسے ساری دنیا مل جائے سوائے شہیدکے ۔ ۔ ‘‘

قَالَ لَقَدْ رَاَیْتُ رَجُلاً یَتَقَلَّبْ فِیْ الْجَنَّۃِ شَجَرَۃٍ قَطَعَھَا مِنْ ظَھْرِ الطَّرِیْقِ کَنَتْ تُوْذِی النَّاسَ

( مسلم، کتاب البرو الصلہ والاداب،باب فضل ازالۃ…الطریق)

’’ ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ میں نے جنت میں ایک شخص کو آرام کرتے ہوئے دیکھا جس نے ایک درخت کو راہ سے کاٹ دیا تھا جس سے انسانوں کو تکلیف ہوتی تھی۔‘‘

قرآن و حدیث نے وضاحت کردی کہ مرنے کے بعد جزا  یا سزا اس دنیا میں نہیں ملتی، بلکہ ایسی جگہ ملتی ہے جو اس دنیا سے باہر  ہے۔لہذا ان کا یہ عقیدہ کہ یہی زمینی قبر برزخ ہے جھوٹا قرار پاتا ہے۔

شہید اس دنیا کی طرف واپس آنا چاہتا ہے اس لئے کہ شہادت پر جو اس کا استقبال ہوتا ہے اور جس طرح وہ نوازا جاتا ہے اس کی یہی خواہش ہوتی ہے کہ اس ناقابل بیان جزا کو دوبارہ حاصل کرے۔ یہ شہید کہاں ہوتے ہیں ،کتاب  اﷲ بیان کرتی ہے:

﴿ بَلْ اَحْيَاۗءٌ عِنْدَ رَبِّھِمْ يُرْزَقُوْنَ  ﴾

[آل عمران: 169]

’’بلکہ اپنے رب کے پاس زندہ ہیں،رزق پاتے ہیں۔‘‘

نبی صلی ﷲ علیہ و سلم نے شہداء کے مقام کے بارے میں بیان فرمایا:

اَرْوَاحُھُمْ فِیْ جَوْفِ طَیْرٍ خُضْرٍ لَھَا ……قَالُوْا یَا رَبْ نُرِیْدُ اَنْ تَرُدَّ اَرْوَاحَنَا فِیْ اَجْسَادِنَا حَتّٰی نُقْتَلَ فِیْ سَبِیْلِکَ مَرَّۃٌ اُخْرٰی فَلَمَّا رَأَیٰ اَنْ لَیْسَ لَھُمْ حَاجَۃٌ تُرِکَوْا

(مسلم۔ کتاب الاماراۃ۔باب فی ارواح شھدء۔۔۔۔یرزقون)

’’ شہداء کی روحیں سبز اڑنے والے پرندوں کے جسموں میں ہیں اور ان کیلئے قندیلیں عرشِ الہی سے لٹکی ہوئی ہیں وہ جنت میں جہاں چاہے گھومتے پھرتے ہیں اور پھر ان قندیلوں میں آکر بسیرا کرتے ہیں۔ ان کی طرف انکے رب نے جھانکا اور ارشاد فرمایا کہ تمھیں کسی اور چیز کی خواہش ہے ۔ شہداء نے جواب دیا کہ اب ہم کس چیز کی خواہش کرسکتے ہیں ، جبکہ ہمارا حال یہ ہے کہ ہم جنت میں جہاں چاہیں مزے کریں۔ اﷲ تعالی نے اس طرح تین بار ان سے یہی دریافت کیا اور شہداء نے دیکھا کہ جب تک وہ کسی خواہش کا اظہار نہ کرینگے انکا رب ان سے برابر پو چھتا رہے گا تو انہوں نے کہا کہ مالک ہماری تمنّا یہ ہے کہ ہماری روحوں کو پھر ہمارے جسموں میں واپس لوٹا دیا جائے اور ہم دوسری بار تیری راہ میں شہید کئے جائیں۔ اب کہ مالک نے دیکھ لیا کہ انہیں کسی اور چیز کی خواہش نہیں ہے تو پھر ان سے پوچھنا چھوڑ دیا ‘‘

بات کھل کر سامنے آ گئی کہ فوت شدہ افراد کی جزا و سزا کا اس دنیا، زمینی قبریا مٹی کے اس جسم سے کوئی تعلق نہیں۔

اب ہم آتے ہیں سمرہ بن جندب ؓ کی طویل روایت کی طرف جسے ہم عذاب قبر کی پوسٹس میں مکمل بیان کرچکے ہیں۔

…وَالدَّارُ الْاَوْلیٰ الَّتِیْ دَخَلَتْ دَارُعَآمَّۃِ الْمُوْمِنِیْنَ وَاَمَّا ھٰذِہِ الدَّارُ فَدَارُ الشُّھَدَائِ……اِنَّہٗ بَقِیَ لَکَ عُمُرٌ لَمْ تَسْتَکْمِلْہُ فَلَوِ اسْتَکْمَلْتَ اَتَیْتَ مَنْزِلُکَ۔

( بخاری ۔ کتاب الجنائز)

’’…… وہ پہلا گھر جس میں آپ ﷺ داخل ہوے تھے عام مومنین کا گھرتھا اور یہ شہداء کے گھر ہیں اور میں جبرائیل ہوں اور یہ میرے ساتھی میکائیل ہیں آپؐ ذرا اپنا سر اوپر اٹھائیے۔ میں نے اپنا سر اٹھایا تو میں نے اپنے سر کے اوپر ایک بادل سا دیکھا ان دونوں نے کہا یہ آپؐ کا گھر ہے۔ میں نے کہا کہ مجھے چھوڑدوکہ میں اپنے گھر میں داخل ہوجاؤں ان دونوں نے کہا کہ ابھی آپؐ کی عمر کا کچھ حصہ باقی ہے جس کو آپ ؐ نے پورانہیں کیاجب آپ اس کو پورا کرلیں گے تو اپنے اس گھر میں آجائیں گے‘‘ ۔

اسی طرح سورہ مومنون کی آیت نمبر 100 میں بھی اسی بات کا تذکرہ ہے کہ فاسق لوگوں کی روحیں مرنے کے بعدجب ا ﷲ تعالیٰ کے پاس پہنچائی جاتی ہیں تو حقیقت سامنے آجانے کے بعد  ﷲ تعالیٰ سے اس دنیا میں بھیجے جانے کی درخواست کرتی ہیں۔موت کے بعد کی سزا اس دنیا میں نہیں ملتی بلکہ اس کا مقام جہنم بیان کیا گیا ہےجیسا کہ آ ل فرعون ( المومن: 46)، نوح و لوط علیہما السلام کی بیویاں ( تحریم: 11) نو ح علیہ السلام کی قوم (نوح:25) ۔ غزوہ بدر کے موقع پرنبی ﷺ نے قتل ہوجانے والے کفار کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا: فھل وجدتم ما وعد ربکم حقا’’پھر کیا تم نے پوری طرح پا لیا اس وعدے کو جو تمہارے رب نے تم سے کیا تھا‘‘ ۔ عا ئشہ ؓ نے قرآنی آیات پڑھ کر اس کی تشریح فرمائی کہ یہاں سننا مراد نہیں ہے بلکہ جاننا مرادہے ،یعنی  نبیﷺ نے یہ فرمایا کہ جو میں تم سے کہا کرتا تھا اب تمکو پتہ چل گیا ہوگا کہ وہ سب سچ تھا تو عائشہ ؓ کی قرآنی آیات پڑھنے سے مراد یہ تھی حین تبوؤا مقاعدھم من النار ’’ کہ جب جہنم میں انکو اپناٹھکانہ مل گیا ہوگا (تب انھوں نے اچھی طرح جان لیا)‘‘۔(بخاری۔کتاب المغازی ۔ باب قتل ابی جھل)

انسانوں کی موت کے بعد ان پرہونے والے عذاب بھی نبی ﷺ کو دکھائے گئے۔نبی ﷺ  نےصحابہ کرام رضی اﷲ تعالیٰ عنہم کو بتایا:

فَاِذَا رَجَلٌ جَالِسٌ وَّ رَجَلٌ قَائِمٌ بِیَدِہٖ ……فَقُلْتُ مَا ھٰذَا…

( بخاری ۔ کتاب الجنائز)

میں دیکھتا کیا ہوں کہ ایک شخص بیٹھا ہوا ہے اور ایک شخص کھڑا ہے اور اسکے ہاتھ میں لوہے کا آنکڑا ہے وہ اس کو بیٹھے ہوئے شخص کے گلپھڑے میں داخل کرکے گلپھڑ ے کو گردن تک پھاڑ ڈالتا ہے پھر اسکے دوسرے گلپھڑے کیساتھ یہی عمل کرتا ہے پھر گلپھڑے جڑ جاتے  اور پھر وہ (کھڑا ہوا) شخص (بیٹھے ہوئے) کیساتھ دوبارہ یہی معاملہ کرتا ہے۔ نبی صلی ﷲ علیہ و سلم نے فرمایا میں نے ان سے پوچھا یہ کیا ہے ؟ ان دونوں نے کہا کہ آگے چلئے، پس ہم چلے یہاں تک کہ ایسے شخص کے پاس پہنچے جو اپنی گدی کے بل لیٹا ہوا تھا اور اسکے سر پر ایک دوسرا شخص پتھر لئے کھڑا ہوا تھا اور پتھر مار کر اسکا سر پھاڑ رہا تھا۔ پتھرسر پر پڑنے کے بعد ایک طرف لڑھک جاتا تھا اور پتھر مارنے والا اس کو اٹھانے کیلئے جاتا اور اس درمیان میں کہ وہ پھر واپس آئے سر پھر جڑ جاتا اور ویسے ہی ہوجاتا کہ جیسا پہلے تھا۔ اب پھر وہ پہلے کی طرح پتھر کو سر پر مارتا۔(یہ دیکھ کر) نبی صلی  اﷲ علیہ و سلم نے فرمایا کہ میں نے ان سے پوچھا کہ یہ کون ہے؟ ان دونوں نے کہا کہ آگے چلئے۔ ہم چلے اور تنورکی شکل کے نقب کے پاس آئے اس نقب کے اوپر کا حصہ تنگ اور نیچے کا وسیع تھا اور اس میں آگ جل رہی تھی اس نقب کے اندر برہنہ مرد اور عورتیں تھیں۔ جب آگ تیز ہوتی تو وہ اوپر اٹھتے اور باہر نکلنے کے قریب ہو جاتے اور جب ہلکی ہوتی تو نیچے واپس چلے جاتے۔ نبی صلی ﷲ علیہ و سلم فرماتے ہیں کہ میں نے کہا یہ کیا ہورہا ہے ؟ ان دونوں نے کہا آگے چلئے۔ ہم چلے یہاں تک کہ ایک نہر پر آئے جو خون سے بھری ہوئی تھی اور اس میں ایک شخص کھڑا تھا اور نہر کے کنارے ایک اور شخص کھڑا ہوا تھا جس کے سامنے پتھر پڑے ہوئے تھے۔ جب نہر والا شخص آگے بڑھتااور باہر نکلنا چاہتا تو باہر والا اسکے منہ پر پتھر مارتا اور اسے واپس اس کی جگہ لوٹا دیتا۔ نبی صلی  اﷲ علیہ و سلم نے فرمایا کہ میں نے کہا یہ سب کیا ہے…؟

فرشتوں نے بتایا :

اَمَّا الَّذِی رَاَیْتَہٗ یُشَقُّ شِدْقُہٗ فَکَذَّابٌ تُحَدِّثُ بِالْکَذِبَۃِ فَتُحْمَلُ……وَالَّذِیْ رَأَیْتَہٗ فِیْ الْنَّھْرِ اٰکِلُوْا الرِّبْوَا …

’……وہ جس کو آپ ؐ نے دیکھا کہ اسکے گلپھڑے پھاڑے جارہے تھے وہ کذاب تھا جھوٹی باتیں بیان کرتا تھا اور لوگ اس بات کو لے اڑتے تھے یہاں تک کہ ہر طرف اسکا چرچا ہوتا تھا تو اسکے ساتھ جو آپ ٔ نے ہوتے دیکھا وہ قیامت تک ہوتا ر ہے گا اورجن کو آ پ ؐ نے دیکھا کہ اسکا سر کچلا جارہا تھا یہ وہ شخص تھا کہ جس کو اﷲ تعالیٰ نے قرآن کا علم دیا تھا لیکن وہ رات کو قرآن سے غافل سوتا رہا اور دن میں اسکے مطابق عمل نہ کیا یہ عمل اسکے ساتھ قیامت تک ہوتا رہیگا۔ اور جس کو آپ صلی ا ﷲ علیہ و سلم نے نقب میں دیکھا وہ زناکار تھے اور جس کو آپ ؐ نے نہر میں دیکھا وہ سود خور تھا…‘‘

یہ کونسا عذاب ہے کہ فرشتے بتا رہے ہیں کہ  ’’ قیامت تک ہوتا رہے گا ‘‘، یہ کہاں ہو رہا ہے ؟  زنا کاروں کی قبریں دنیا بھر میں پھیلی ہوئی ہیں پھر یہ مقام کونسا ہے کہ زناکار ایک ہی تنور میں  یعنی ایک ہی جگہ عذاب دئیے جارہے ہیں۔کتاب ا ﷲ کےدلائل سے واضح ہوا کہ’’ عالم برزخ‘‘ کا اس ’’عالم دنیا‘‘ سے تعلق نہیں۔ قرآن و حدیث کے اور بھی دلائل اس سلسلے میں پیش کیے جاسکتے ہیں لیکن طوالت کی وجہ سے صرف انہی دلائل پر اکتفا کیا جاتا ہے ۔ ماننے والوں کیلئے تو یہی بہت ہے اور نہ ماننے والوں کیلئے تو اگر پورا قرآن بھی پیش کردیا جائے تو وہ نہ مانیں گے۔اب یہ باتیں ذہن میں رکھیں :

1:  روح جب اللہ  تعالیٰ کے پاس عرش الٰہی پر چلی جاتی ہے اور واپسی کی درخواست کرتی ہے تو ’’ برزخ ‘‘ کا ذکر کیا گیا کہ یہ قیامت تک واپس دنیا نہیں جا سکتیں، یعنی قیامت تک برزخ کے پار رہیں گی اسی مناسبت سے اسے ’’ عالم برزخ ‘‘ یعنی آڑ کے پیچھے کا عالم کہتے ہیں، یہ صرف قیامت تک کے لئے ہے۔
2:اس دور میں روح کو داخل کئے جانے کا مقام جنت یا جہنم بتایا گیا لہذا اسے جنت اور جہنم ہی کہا جائے گا۔اس دور میں یہ مٹی کا بنا جسم نہیں ہوتا بلکہ احادیث سے ایک دوسرے جسم کا عندیہ ملتا ہے۔
3 :  واضح ہوا کہ یہ زمینی قبریں نہ ہی آخرت کا مقام  ہیں اور نہ یہ برزخی ٹھکانے ہیں کیونکہ برزخ  ( ایک آڑ )کا ذکر تو قرآن نے وہاں کیا ہے جب یہ روح واپس اس دنیا کی طرف آنا چاہتی ہے، یعنی برزخ کسی مقام کا نام نہیں بلکہ صرف ایک آڑ ہے۔

کیاہمارے یہ قبرستان  عالم آخرت میں ہیں ؟

عذاب قبر کے معاملے کا تعلق آخرت سے ہے ، اور جیسا کہ کتاب ا ﷲ کے دلائل سے ثابت ہے کہ آخرت کی جزا و سزا کا مقام یہ دنیا نہیں بلکہ آسمانوں میں ہے۔اب جو یہ عقیدہ رکھے کہ آخرت کی جزا و سزا اس دنیا میں ملتی ہے وہ قرآن و حدیث پر ایمان رکھنے والا ہے یا اس کا کفر کررہا ہے؟ سوچیں ! دنیا والوں کے بنائے ہوئے ان قبرستانوں میں پائی جانے والی یہ قبریں عالم دنیا میں ہیں یا عالم آخرت میں؟ افسوس صد افسوس شیطان نے کیسا گمراہ کردیا ہے!

برزخ کے بارے میں ہر فرقے میں یہ تصور پایا جاتا ہے کہ زندوں کی رسائی وہاں ممکن نہیں، اور یہی حقیقت ہے۔اب اگر یہی قبر ’’برزخ‘‘ ہے تو پھر نبیﷺ نے جابر بن عبداﷲ رضی اللہ عنہ کو کیسے یہ اجازت دے دی کہ وہ اپنے والد کی’’برزخ‘‘ میں داخل ہوجائیں اور ان کا جسم وہاں سے نکال کر ان کی ایک دوسری ’’برزخ‘‘ بنا دیں، اس لیے کہ جابر رضی اللہ عنہ نے نبیﷺ کی اجازت سے اپنے والد کا جسم اس قبر سے نکال کر دوسری جگہ دفنا دیا تھا جہاں وہ ایک دوسرے صحابی رضی اللہ عنہ کے ساتھ دفن کئے گئے تھے۔( بخاری، کتاب الجنائز،ھل یخرج المیت۔۔۔لعلہ)

اسی طرح نبیﷺ نے مدینہ میں مشرکین کی قبریں کھدوادیں(بخاری۔کتاب العمرۃ ۔ باب حرم مدینہ)۔یعنی یہ بات زندہ انسانوں کی دسترس میں ہے کہ وہ جب چاہیں کوئی قبر کھود کر میت کی برزخ میں حائل ہو جائیں، کتنے پوسٹ مارٹم ہوتے ہیں جن میں مردہ اجسام کو یا ان کے مختلف حصوں کو کیمیائی تجربے کے لیے قبر سے نکال لیا جاتا ہے۔ کیانبی ﷺ کو معلوم نہ تھا کہ یہ قبر ’’برزخ‘‘ ہے، ورنہ وہ کیسے کسی زندہ کو اجازت دے دیتے کہ وہ وفات پاجانے والوں کی برزخ میں داخل ہوجائیں ،اور صرف داخل ہی نہ ہوں بلکہ انکے مردہ جسم کو اس برزخ سے باہر بھی نکال لائیں۔ پھر ان کی ایک نئی برزخ بھی بنادی جائے۔ گویا نبیﷺ کو وہ علم نہ تھا جو ان علماء فرقہ کو ہے ۔

پھر ان سے پوچھا جائے کہ جن کی قبریں نہیں بنتیں، جو قومیں اپنے مردوں کو جلا دیتی ہیں اور جو ڈوب کر مرجائیں ان کی ’’برزخ‘‘ کہاں ہے؟ تو پھر اُسی خودساختہ عقیدے کی قوالی سنائی جاتی ہے کہ ہمارے اور مردے کے درمیان’’ برزخ‘‘ہے۔

ایک طرف تو مردہ کی قبر برزخ ہے، یعنی یہاں برزخ ایک ’’مقام‘‘ ہے، اور جہاں مردہ اس قبر میں دفن نہ ہو وہاں برزخ ہمارے اور مردہ کے درمیان آجاتی ہے ، یعنی برزخ یہاں ’’پردہ‘‘ بن جاتی ہے اور جب روح کے حوالے سے بات ہو تو علییں و سجین کو برزخ بنا دیا جاتا ہے۔گویا ان مسلک پرستوں  کے عقائد بے پیندے کے لوٹے کی طرح ہیں کہ کبھی ادھر کبھی ادھر۔

ذرا سوچئیے کہ ایک شخص کی لاش شیروں نے کھالی باقی بچا ہوا گوشت بھیڑیوں نے کھایا، ہڈیوں سے لگا ہوا گوشت گِدھوں نے کھایا باقی ذرات چونٹیوں نے کھا لیے، ہڈیاں کتوں نے کھالیں۔ اب اس کی ’’برزخ‘‘ شیروں کا پیٹ ہے یا بھیڑیوں کا پیٹ، گِدھوں،چیونٹیوں کا پیٹ ہے یا کتوں کا؟یا بیک وقت اس کی بہت ساری ’’ برزخیں‘‘ ہیں؟ پھر ان سب نے کھا کر اسے فضلہ بناکر نکال دیا، ’’برزخ‘‘ ختم ہوگئی؟ پھر سؤروں نے اس گندگی کو کھایا، ایک نئی ’’برزخ‘‘ بن گئی؟

عمارت گر گئی، بم پھٹ گیا، جہاز کا حادثہ ہوگیا یا زلزلہ آگیا کسی کی ٹانگ کسی کے ہاتھ کے ساتھ دفن ہوئی، کسی کادھڑ کسی کے سر کے ساتھ دفن ہوا، ’’الف‘‘ کی ’’برزخ‘‘ میں’’ ب‘‘ کی ’’برزخ‘‘ شامل ہو گئی!

قرآن و حدیث کی بات خواہ کچھ بھی ہو ان کا عقیدہ یہی ہے کہ اسی زمیں میں سب کچھ ہوتا ہے اور اپنے اس باطل عقیدے کو ثابت کرنے کیلئے یہ لوگ سورۃ الاعراف آیت نمبر ۲۵ اور سورۃ طٰہٰ آیت نمبر ۵۵ پیش کرتے ہیں ۔ لہذا ضروری ہے کہ ان آیات کی تشریح لوگوں کے سامنے لائی جائےکہ کیا قرآن مجید میں مرنے کے بعد عذاب و راحت کا مقام یہ زمین بتایا گیاہے؟

کیا مرنے کے بعد عذاب و راحت کا مقام اس زمین کو بتایا گیاہے؟

﴿ قَالَ فِيْهَا تَحْيَوْنَ وَفِيْهَا تَمُوْتُوْنَ وَمِنْهَا تُخْرَجُوْنَ ﴾

[الأعراف: 25]

’’ فرمایا:اسی میں تم کو جینا ہے اور اسی میں تم کو مرنا ہے اور اسی میں سے تم کو نکالا جائے گا۔‘‘

﴿ مِنْهَا خَلَقْنٰكُمْ وَفِيْهَا نُعِيْدُكُمْ وَمِنْهَا نُخْرِجُكُمْ تَارَةً اُخْرٰى ﴾

[طه: 55]

’’اسی سے ہم نے تم کو پیدا کیا ہے،اسی میں ہم تم کو لوٹائیں گے اور اسی سے ہم تم کو نکالیں گے‘‘۔

ان دونوں آیات کو یہ فرقہ پرست اپنے اس باطل عقیدے کی دلیل کے طور پر پیش کرتے ہیں حالانکہ ان دونوں آیات میں سے کسی میں بھی مرنے کے بعد کی جزا و سزا کا کوئی ذکر نہیں۔ جماعت المسلمین والے فرماتے ہیں:

’’ معلوم ہوا کہ زمین میں موت آئیگی اور زمین ہی سے نکالا جائے گا یہ دونوں چیزیں واضح طور پر اعلان کررہی ہیں کہ مرنے کے بعدجو کچھ ہوگا وہ زمین ہی میں ہوگا۔…مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونے کے درمیانی وقت کے سلسلے میں کسی جگہ کا کوئی ذکرنہیں۔زمین میں مرنا اور زمین سے بروز قیامت اٹھایا جانا یہ تسلسل بتا رہا ہے کہ درمیانی وقفہ کیلئے کوئی اور جگہ نہیں۔‘‘ (ارضی قبر یا فرضی قبر)

ان دونوں آیات کا خلاصہ یہ ہے کہ انسان اسی مٹی سے بنایا گیا ہے ، اسی زمین پر یہ اپنی زندگی گذارے گا ، موت کے بعد اسی مٹی میں لوٹایا جائے گا پھر قیامت کے دن اسی مٹی سے نکالا جائے گا۔اب اس کے بعد یہ کہنا کہ’’ یہ دونوں چیزیں واضح طور پر اعلان کررہی ہیں کہ مرنے کے بعد جو کچھ ہوگا وہ زمین ہی میں ہوگا‘‘، محض اپنے باطل عقیدے کا استخراج ہے ورنہ ان آیات میں ایسی کوئی بات ہرگز نہیں۔قرآن و حدیث نے عقیدہ فراہم کیا ہے کہ مرنے کے بعد یہ ہوگا کہ یہ جسم اس مٹی میں جانے کے بعد سڑ گل جاتا اور مٹی میں ملکر مٹی ہوجاتا ہے اور قیامت کے دن  اﷲ تعالیٰ ان جسموں کی دوبارہ تخلیق فرمائے گا۔یہ تو ہے کتاب  اﷲ کا بیان لیکن جو کچھ جماعت المسلمین والے بیان کر رہے ہیں ،اس سے اگر ان کی مراد مرنے کے بعد کی جزا و سزا ہے تو پھر آخر اﷲ کو کیا حجاب تھا اس بات کو بیان کرنے میں!

حیرت ہے کہ ا ﷲتعالیٰ مٹی سے بنایا جانا بیان کررہا ہے، مٹی میں لوٹایا جانا بیان کررہا ہے ،قیامت کے دن اسی زمین سے نکالا جانا بیان کررہا ہے اور نہیں بیان کررہا توان کا گھڑا ہوا عقیدہ نہیں بیان کررہا !لیکن ان کے علم کا عروج بھی ملاحظہ فرمائیں کہ ایک بات ا ﷲ تعالیٰ نے بیان تو کی نہیں لیکن انہوں نے اس چھپی ہوئی بات کو سمجھ بھی لیا، اس پر ایمان بھی بنالیا ،اور اس کی تبلیغ بھی شروع کردی! جب ان سب باتوں کا کتاب  اﷲ میں کوئی ذکر نہیں تو سمجھ نہیں آتا کہ ان باتوں کی تعلیم انہوں نے کہاں سے حاصل کی ہے۔ بہرحال شیطان انسان کا ازلی دشمن ہے اور اس نے اپنا پورا زور لگایا ہوا ہے کہ کسی طرح بھی اس انسان کو بہکا کر ا ﷲ کے بتائے ہوئے راستہ سے دور کردے۔

درمیانی وقفہ:

فرماتے ہیں’’مرنا اور زمین سے بروز قیامت اٹھایا جانا یہ تسلسل بتا رہا ہے کہ درمیانی وقفہ کیلئے کوئی اور جگہ نہیں۔‘‘

قارئیں ملاحظہ فرمایا کہ ان کا قرآن و حدیث سے کس قدر تعلق ہے؟ اس سے پہلے اس بات کی وضاحت ہوچکی ہے کہ دنیا سے واپسی کا اگلا لمحہ آخرت کا پہلا لمحہ ہوتا ہے۔ اِدھر روح قبض ہوتی ہے اُدھراس کا داخلہ جنت یا جہنم (عالم برزخ)میں ہوتا ہے تو قرآن کے اس بیان کے بعد ’’ درمیانی وقفہ‘‘ کا سوال کیسے پیدا ہوتا ہے؟ راحت قبر یا عذابِ قبرکوئی علیحدہ چیز نہیں بلکہ قیامت کے بعد ملنے والی جزا یا سزا کا تسلسل ہی ہے ۔ ان نام نہاد علماء کو اتنا بھی نہیں معلوم کے کوئی درمیانی وقفہ نہیں ہے ادھر روح قبض ہوئی اور اُدھر جنت یا جہنم میں راحت یا عذاب شروع۔

اس سے قبل ہم نے دیو بندیوں کی ایک کتاب ’’ عالم برزخ‘‘ کا حوالہ بھی دیاہے ، یہ کتاب ان کے بڑے نامی گرامی عالم قاری محمد طیب جو کہ دار العلوم دیو بند کے مہتمم تھے کی تحریر کردہ ہے۔ اس کتاب میں انہوں نے قرآن کریم کی آیات کی من مانی تشریح، موضوع و منکر روایات اور جھوٹے چشم دید واقعات سے اس زمینی قبر ہی کو عذاب کا مرکز اور برزخ قراردینے کی ہر ممکن کوشش کی ہے، لیکن ساتھ ہی یہ بھی لکھ گئے:

’’ اسی طرح برزخ والے دنیا والوں کے احوال بھی معلوم کرنے کے خواہشمند رہتے ہیں جیسے نبض حدیث نبوی صلی  اﷲ علیہ و سلم مرنے کے بعد روح کے عالم برزخ میں پہنچتے ہی میت کے اعزہ و احباب اس کے اردگرد جمع ہوجاتے ہیں۔‘‘ ( عالم برزخ، از قاری محمد طیب دیوبندی، صفحہ نمبر ۷)

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان کے نزدیک تو ’’انسان کی روح قبض کرنے کا وقت‘‘ اور ’’اس کے دفنانے کی جگہ ‘‘ برزخ ہے، یا بقول ان کے اگر نہیں دفنایا گیا تو’’ ہمارے اور اس مردہ کے درمیان ‘‘برزخ ہے تو اب یہ ’’عالم برزخ‘‘ کہاں سے آگیا؟

’’الف‘‘ کراچی میں مرا، ان کے عقیدے کے مطابق اس کی برزخ کراچی کے کسی قبرستان میں ہے، ’’ب‘‘ امریکہ میں ڈوب کر مرا چنانچہ اس کی ’’ برزخ‘‘ امریکہ کے سمندر میں ہوگی،’’ ت‘‘ افریقہ کے جنگل میں مرا گویا اس کی برزخ افریقہ کے جنگل میں بسنے والے درندے کے پیٹ ہیں۔ تو اب ’’عالم برزخ‘‘ میں ان سب کی روحیں کہاں سے آگئیں؟ان لوگوں نے تو کتابیں لکھ لکھ کر امت میں یہی عقیدہ پھیلایا ہے کہ یہی قبر اس مردے کی برزخ ہے، یہاں ہی اس کی روح لوٹائی جاتی ہے، یہاں ہی اس کو عذاب دیا جاتا یا راحت ملتی ہے ، تو اب ان سب کی روحیں ’’ عالم برزخ‘‘ میں کیا کرنے گئی ہیں؟؟؟

حقیقت یہ ہے کہ ان سب کے تحت الشعور میں کتاب اﷲ کا دیا ہوا عقیدہ ’’ عالم برزخ‘‘ موجود ہے باقی یہ ساری لڑائی محض اپنے فرقے کو بچانے کیلئے ہے۔یہ حق جانتے ہیں لیکن اس کو چھپاتے اور باطل کو پھیلاتے ہیں، اس لیے کہ ان کے فرقے کے بڑے یہ باتیں لکھ گئے ہیں ان کو کہاں لے کر جائیں!

کیا ہر مرنے والے کی برزخ علیحدہ ہے؟

اب ہم برزخ کے حوالے سے ایک اہم موضوع پر بات کر رہے ہیں اور آپ کے سامنے ان فرقہ پرستوں کے ایک باطل عقیدے کی حقیقت کتاب اللہ کی روشنی میں بیان کر رہے ہیں، آپ اسے پڑھیں اور اندازہ لگائیں کہ انہوں نے کس انداز میں امت کو گمراہ کیا ہے۔ یہ تو آپ کو معلوم ہی ہے کہ ان کا عقائد حالات کے حساب سے بدلتے رہتے ہیں ، کبھی برزخ کو پردہ اور کبھی قبر بنا دیتے ہیں۔ یعنی ہر فرد کی علیحدہ برزخ بنا دیتے ہیں، آئیے اس مسئلہ پر کتاب اللہ کا بیان دیکھیں۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :

ومن ورآئھم برزخ الیٰ یوم یبعثون ’’ ان سب مرنے والوں ‘ ‘ کے پیچھے ’ ’ برزخ‘‘ ہے اٹھائے جانے والے دن تک‘‘۔

[ وَ مِّنْ وَّرَاۗىِٕهِمْ : اور ان سب کے پیچھے سے ] [ بَرْزَخٌ :ایک آڑ ] [ اِلٰى يَوْمِ :دن تک ] [يُبْعَثُوْنَ :وہ سب اٹھائے جائیں گے ]

اﷲ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ ’’ان سب مرنے والوں‘‘ کے پیچھے ’’ برزخیں‘‘ ہیں،  بلکہ فرمایا کہ ان سب مرنے والوں کے پیچھے ایک ’’ برزخ ‘‘ ہے۔

سب کے لئے ایک  ہی برزخ کا اعلان ہے۔ برزخ نہ کوئی پردہ ہے، اور نہ ہی کوئی مقام بلکہ یہ ایک آڑ ہے۔جو دنیا     میں سب سے  پہلے مرا اور جو آج مرا ان سب  کے لئے ایک ہی ’’ برزخ ‘‘ یعنی آڑ ہے۔ سب مرنے والوں کی روحیں جو اللہ تعالیٰ کے پاس ہیں اب دنیا میں واپس آنا چاہیں تو نہیں آ سکتیں کیونکہ ان کے اور دنیا کے درمیاں ایک آڑ ہے جو قیامت تک انہیں دنیا  میں نہیں آنے دے گی۔ اور جیسے ہی قیامت کا دن برپا ہوگا، یہ آڑ ختم ہو جائے گی، یہ جسم دوبارہ سے بنا دئیے جائیں گے اور  ان کی روحیں ان میں ڈالدی جائیں گی۔

قرآنی آیات پڑھیں :

﴿ فَوَقٰىهُ اللّٰهُ سَيِّاٰتِ مَا مَكَرُوْا وَحَاقَ بِاٰلِ فِرْعَوْنَ سُوْۗءُ الْعَذَابِ ٤٥ اَلنَّارُ يُعْرَضُوْنَ عَلَيْهَا غُدُوًّا وَّعَشِـيًّا ۚ وَيَوْمَ تَـقُوْمُ السَّاعَةُ ۣ اَدْخِلُوْٓا اٰلَ فِرْعَوْنَ اَشَدَّ الْعَذَابِ ﴾

[غافر: 45-46]

’’آخر کار ان لوگوں نے جو بری چالیں اسکے خلاف چلیں توا ﷲ نے ان سب سے اس کو بچا لیا اور خود آل ِفرعون بدترین عذاب کے پھیر میں آگئے۔ جہنم کی آگ ہے جس پر صبح و شام وہ پیش کئے جاتے ہیں اور جب قیامت برپا ہوگی تو( حکم ہوگا کہ) آل ِفرعون کو شدید تر عذاب میں داخل کردو۔‘‘

بتائیں فرعونیوں کی علیحدہ علیحدہ ’’ برزخیں ‘‘ ہیں یا سب  ایک ہی جگہ عذاب دئیے جا رہے ہیں۔

﴿ مِمَّا خَطِيْۗـــٰٔــتِهِمْ اُغْرِقُوْا فَاُدْخِلُوْا نَارًا  ڏ فَلَمْ يَجِدُوْا لَهُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَنْصَارًا  ﴾

[نوح: 25]

’( نوح ؑکی قوم والے) اپنی خطاؤں کی بناء پر ڈبو دئیے گئے اور آگ میں داخل کردئیے گئے تو انھوں نےا  للہ کے علاوہ کسی کو اپنا مددگار نہ پایا۔‘‘

ساری قوم نوح ؑ ایک ہی جگہ جہنم میں عذاب دی جارہی ہے ان کی علیحدہ علیحدہ برزخیں نہیں بیان کی گئیں۔

قارئین / سامعین  ! آ پ کے سامنے یہ حقیقت کھل کر آگئی ہوگی کہ اللہ تعالیٰ نے تمام مرنے والوں کے لئے ایک ہی برزخ ( آڑ ) کا اعلان فرمایا ہے یہ نہیں کہ ابھی کسی کی روح قبض ہو رہی ہے تو یہ’’ برزخ’’ پردہ  بن گئی،پھر اسے قبر میں دفن کیا گیا تو اب اس کی ’’ برزخ ‘‘ قبر بن گئی، پھر اس کی روح کا سوال ہوا تو ’’ علیین و سجین ‘‘ اس کی ’’ برزخ ‘‘ بن گئے۔

آپ کی سمجھ میں آ گیا ہوگا کہ برزخ جسے اللہ تعالی نے ’’آڑ‘‘ بیان کیا ہے ، یہ لوگ اس کے معنی ’’ پردہ ‘‘ کیوں کرتے ہیں۔ اس لئے کہ ان کے عقائد کتاب اللہ کے مطابق نہیں ،اب یہ مجبور ہیں کہ اگر  قرآن کی  غلط تشریحات نہ کریں  اور قرآن کی بات مانیں تو فرقہ بدنام ، اپنے سارے مفتی و عالم بدنام۔لہذا ایسا کرنا پڑتا ہے۔

کیا برزخ کوئی تیسرا مقام ہے ؟

دیوبندیوں کے ایک بڑے عالم اشرف علی تھانوی صاحب عالم برزخ کے بارے میں فرماتے ہیں:

’’ اور عالم مثال کا اثبات کرتا ہوں۔ سو سمجھ لیجئے کہ یہ ثابت ہے اشارات ِنصوص سے۔ اور اشارات تو میں نے احتیاطاً کہہ دیا ہے ورنہ وہ اشارات بمنزلہ صراحت کے ہیں تو گویا بالتصریح یہ بات ثابت ہے کہ علاوہ شہادت یعنی دنیا کے اور عالم غیب یعنی آخرت کے ان دونوں کے درمیان میں ایک اور بھی عالم ہے جس کو عالم مثال کہتے ہیں جو من وجہ مشابہ ہے عالم شہادت کے اور من وجہ مشابہ ہے عالم غیب کے یعنی وہ برزخ ہے درمیان دنیا اور آخرت کے اور اس عالم کے ماننے سے ہزاروں اشکالات قرآن و حدیث کے حل ہوجاتے ہیں۔……  تو جس وقت انسان مرتا ہے پہلے اس عالم مثال ہی میں جاتا ہے۔ وہاں ایک آسمان بھی ہے مشابہ دنیا کے آسمان کے اور ایک زمین بھی ہے مشابہ دنیا کی زمین کے۔ اور ایک جسم بھی ہے مشابہ اس جسم کے لیکن وہ بھی ہے جسم ہی۔ تو مرنے کے بعد تو روح کے لئے ایک جسم مثالی ہوگا اور آخرت میں جو جسم ہوگا وہ یہی ہوگا جو دنیا میں ہے۔‘‘( اشرف الجواب،صفحہ ۶۰۶۔۶۰۷، از محمد اشرف علی تھانوی)

وضاحت :

عالم برزخ کی جوتشریح قرآن و حدیث سے ملتی ہے وہ ہے’’ آڑ کے پیچھے کا عالم‘‘، یہ عالم دنیا اور آخرت کے علاوہ ایک تیسرا عالم ہے اس کا کوئی ثبوت قرآن و حدیث سے نہیں ملتا۔قرآن و حدیث میں جہاں مرنے والے کیلئے قیامت تک اس عالم میں رہنے کا ذکر ہے وہاں اس کے ثواب و عذاب کی جگہ جنت ،جہنم بیان  کی گئی ہے جسے نبیﷺ نے قبر کا نام سے بھی موسوم کیا ہے۔کتاب اللہ سے  صرف یہی معلوم  ہوتا ہے کہ مرنے کے بعد انسان کی روح یہاں داخل کی جاتی ہے اسے ایک عارضی جسم دیا جاتا ہے ، روح و عارضی جسم  ( جسے اشرف علی تھانوی صاحب نے مثالی جسم کہا ہے )کا وہ مجموعہ  قیامت تک جزا یا سزا پاتا رہے گا۔  البتہ قیامت کے دن سارے انسان اپنے انہی دنیاوی جسموں کے ساتھ ہمیشہ ہمیشہ کیلئے ان جنتوں یا جہنم میں داخل کیے جائیں گے۔

اہل تشیع نے بھی اسے ’’بہشت برزخ‘‘ بیان کیا ہے،سورہ یٰس میں بیان کیے گئے واقعے اور جنت میں داخلے کے حکم پر فرماتے ہیں:

’’پس یہاں پر جو پروردگار عالم فرماتا ہے کہ ’’حکم ہوا جا بہشت میں‘‘ امام فرماتے ہیں بہشت یعنی بہشت برزخی اور ایک دوسری روایت میں جنت دنیوی سے تعبیر کیا گیا ہے یعنی بہشت قیامت سے نچلے درجے کی۔‘‘  (برزخ،صفحہ۱۰۱،آیت اﷲ العظمیٰ سید عبد الحسین اہل تشیع) ’’برھوت جہنم برزخی کا مظہر ہے۔‘‘ ( ایضاً،صفحہ ۱۱۰)

قرآن و حدیث میں کہیں بھی اس جنت کو برزخی جنت یا دنیوی جنت اور جہنم کو برزخی جہنم نہیں بیان کیا، بلکہ اسے جنت یا جہنم کہا گیا ۔ غزوہ احد کے شہدا تو ایسی جنت میں داخل کیے گئے ہیں کہ جس میں عرش الہی سے قندیلیں لٹکی ہوئی ہیں۔اسی طرح غزوۂ بدر کے موقع پر شہید ہونے والے حارثہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کیلئے فرمایا کہ جنتوں کی تعداد تو بہت ہے اور وہ تو جنت الفردوس میں ہیں۔

لہذا یہ عقیدہ رکھنا کہ عالم برزخ جنت و جہنم کے علاوہ کوئی اور تیسرامقام ہے بالکل غلط ہے۔

’’ برزخ‘‘ اور ’’ عالم برزخ‘‘ کے بعد اب ہم  ’’ روح‘‘ کے بارے میں ان مسلک پرستوں کی طرف سے پھیلائی گئی مغالطہ آرائیوں کی طرف آتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *