Categories
Uncategorized

صوم رمضان

إِنَّ الْحَمْدَ لِلَّهِ، نَحْمَدُهُ وَنَسْتَعِينُهُ، مَنْ يَهْدِهِ اللهُ فَلَا مُضِلَّ لَهُ، وَمَنْ يُضْلِلْ فَلَا هَادِيَ لَهُ، وَأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، أَمَّا بَعْدُ

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا کُتِبَ عَلَیۡکُمُ الصِّیَامُ کَمَا کُتِبَ عَلَی الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِکُمۡ لَعَلَّکُمۡ تَتَّقُوۡنَ

( البقرہ : 183 )

’’اے ایمان والو! تم پر صیام فرض کیے گئے جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے تھے، تاکہ تم پرہیزگار بن جاؤ‘‘

سورہ بقرہ کی اس آیت میں ایمان والوں کو صوم کا حکم دیا جا رہا ہے۔ صوم ایک فرض عبادت ہے۔ ہمارے یہاں اسے روزہ کہا جاتا ہے ۔ روزہ فارسی کا لفظ ہے جبکہ قرآن و حدیث میں اسے صوم ہی کہا گیا ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا :

بُنِيَ الْإِسْلَامُ عَلَی خَمْسٍ شَهَادَةِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ وَإِقَامِ الصَّلَاةِ وَإِيتَائِ الزَّکَاةِ وَالْحَجِّ وَصَوْمِ رَمَضَانَ

( بخاری، کتاب الایمان، بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «بُنِيَ الإِسْلاَمُ عَلَى خَمْسٍ» )

’’ اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے۔اس بات کی گواہی کہ کوئی نہیں ہے معبود سوائے اللہ کے اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں، اور صلاۃ قائم کرنا،اور زکواۃ دینا ، اور حج اور ماہ رمضان کے صوم‘‘۔

صوم کا مادہ باب نَصَرَ سے صَامَ آیا ہے۔جس کے معنی رکے رہنے کے ہیں۔ ماءٌ صَا ئمٌ کے معنی رکا ہوا پانی۔ اصطلاح میں کھانے پینے، جنسی خواہشات اور تمام منکرات سے صبح صادق سے سورج غروب ہونے تک ’’ رکے ‘‘ رہنے کو ’’ صوم ‘‘ کہتے ہیں۔

صوم کس پر فرض ہیں ؟

سورہ بقرہ میں فرمایا :

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا کُتِبَ عَلَیۡکُمُ الصِّیَامُ کَمَا کُتِبَ عَلَی الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِکُمۡ لَعَلَّکُمۡ تَتَّقُوۡنَ

( البقرہ : 183 )

’’اے ایمان والو! تم پر صیام فرض کیے گئے جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے تھے، تاکہ تم پرہیزگار بن جاؤ‘‘

یعنی صوم ایمان والوں پر فرض کئے گئے۔ ایمان والے کون ہوتے ہیں ؟ کیونکہ لوگ ایمان کا دعویٰ کرکے شرک بھی کرتے ہیں جیسا کہ سورہ یوسف میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :

﴿وَمَا يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ

[يوسف: 106]

’’اور نہیں ایمان لاتے ان میں اکثر اللہ پر مگر اس طرح کہ وہ (اس کے ساتھ دوسروں کو) شریک ٹھہراتے ہیں‘‘۔

یعنی دعویٰ تو اللہ پر ایمان کا ہوتا ہے لیکن اس کیساتھ اس کی مخلوق کو بھی اس کی ذات، صفات حقوق و اختیارات میں شریک کردیا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :

﴿ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَلَمۡ يَلۡبِسُوٓاْ إِيمَٰنَهُم بِظُلۡمٍ أُوْلَٰٓئِكَ لَهُمُ ٱلۡأَمۡنُ وَهُم مُّهۡتَدُونَ﴾

[الأنعام: 82]

’’جو لوگ ایمان لائے اور نہیں مخلوط کیا اپنے ایمان کو ظلم ( شرک) سے وہی ہیں کہ ان کے لیے ہی امن ہے اور وہی ہدایت پانیوالے ہیں ۔‘‘

بتایادیا گیا کہ ایمان وہ ہے کہ جس میں شرک کی آمیزش نہ ہو۔ ایک الٰہ واحد کے علاوہ کسی کو بھی اللہ کی صفات کا حامل نہ سمجھا جائےلیکن افسوس کہ آج ہماری قوم کا بھی وہی حال ہوگیا ہے جو سابقہ قوموں کا تھا کہ اللہ پر ایمان کا دعویٰ لیکن ساتھ ساتھ اس کے شریک بھی بنا لئے گئے۔ اگر ہم آج مسلمان کہلوانے والی اس قوم کے عقائد و اعمال پر نگاہ ڈالیں تو کثرت سے مشرکانہ عقائد و اعمال دکھائی دیتے ہیں۔

آج یہ کلمہ گو ایک طرف قل ہو اللہ احد پڑھتا ہے کہ اے اللہ تو یکتا ہے، تیرے جیسا اس کائنات میں کوئی نہیں لیکن جس طرح یہود و نصاریٰ نے اپنے اپنے انبیاء کو اللہ کی ذات سے منسوب کردیا تھا کہ یہ اللہ کے بیٹے ہیں اسی طرح آج اس قوم کا عقیدہ ہے کہ نبی ﷺ اللہ کی ذات کا ٹکڑا ہیں، یعنی عقیدہ نورٌ من نورٌ اللہ ۔گویا اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ ﷺ کی ذات ایک ہی ہے، نعوذوباللہ من ذالک۔یہ شرک فی الذات ہے۔

اسی طرح اس قوم کا دوسرا شرک فرقہ بندی ہے ، سورہ الروم آیت نمبر 31/32 میں اللہ تعالیٰ نے فرقہ بندی اور گروہ بندی کو مشرکانہ عمل بتایا اور ایمان والوں کو حکم دیا کہ تم ان جیسا نہ ہو جانا۔ سورہ انعام میں نبی ﷺ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ اے نبی ؐ! جنہوں نے اسلام میں فرقے اورگروہ بنائے آپ کا ان کیساتھ کوئی تعلق نہیں ہے، یعنی وہ نبی ﷺ کی امت میں سے نہیں۔

اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہوئے کسی فوت شدہ شخصیت کا وسیلہ بنانا بھی اسلام میں جائز نہیں۔ سورہ یونس آیت نمبر 18 میں اللہ تعالیٰ نے اسے شرک قرار دیا ہے۔ اللہ کی ذات کے لئے وسیلہ کیسا ؟ وہ تو ہر ہر لمحے اپنی ہر ہر مخلوق کی حالت جانتا ہے۔ اربوں کھربوں درختوں کے پتوں میں سے کوئی ایک پتابھی ایسا نہیں کہ جو ٹوٹ کر گرے اور اللہ تعالیٰ کو علم نہ ہو۔ وہی اکیلا عالم الغیب ہے اس کے علاوہ کوئی اور عالم الغیب نہیں، یہ بات اس نے سورہ انعام میں بیان کردی ہے ، اب کوئی کسی نبی ، ولی یا کسی ملنگ کو عالم الغیب مانے تو یہ اللہ کی اس صفت میں شرک ہے۔

اللہ تعالی ٰ ’’ داتا ‘‘ ( دینے والا ) پیدائش سے لیکر موت اور موت کے بعد ہر ہر چیز صرف وہی دیتا ہے، اب کوئی علی ہجویری کو داتا مانے تو یہ کھلا شرک ہے۔ کائنات کے سارے خزانوں کا مالک تن تنہا اللہ تعالیٰ ہے، کوئی علی ہجویری کو ’’ گنج بخش ‘‘ ( خزانے بخشنے والا ) سمجھے

تو یہ اللہ کی صفت میں شامل کردینا ہے۔ ’’ غوث الاعظم ‘‘ ( کائنات کا سب سے بڑا دعا سننے والا ، مدد کرنے والا ) صرف ایک اللہ تعالیٰ ہے اب کوئی عبد القادر جیلانی کو غوث الاعظم کہے تو اس سے بڑھ کر اللہ کی صفات اور اختیارات میں کیا شرک ہوگا( نعوذوباللہ من ذالک )۔

کائنات کی ہر چیز کا خالق، اس پر قدرت رکھنے والا صرف اللہ تعالیٰ ہے وہ ہی مدد پر قادر ہے اس کے علاوہ کسی اور کو مدد کے لئے پکارا جائے تو سورہ یونس میں اس فعل کو شرک قرار دیا ہے اور سور ہ الجن میں نبی ﷺ سے کہلوا دیا گیا میں صرف اپنے رب کو پکارتا ہوں ( کسی اور کو پکار کر ) اس کے ساتھ شریک نہیں کرتا۔

الغرض کہ اولادیں دینے والا، کسی بھی قسم کا نفع یا نقصان دینے والا، مفلسی میں غنی کرنے والا، بیماری میں شفاء دینے والا صرف اللہ کو سمجھا جائے اور اسی پر توکل ہو۔ پھر ایسا نہ ہو کہ مدد کے لئے کسی نبی ، ولی یا دوسرے انسانوں کو پکاراجائے۔ قبر میں مدفون افراد کو زندہ سمجھ کر ان کے نام نذر ونیاز ( مالی عبات ) کی جائے یا تعویذ ،کالے پیلےدھاگے، کڑے یا چھلوں پر یقین کرکے اسے پہنا جائے یہ سارے اعمال مشرکانہ ہیں۔

اللہ تعالیٰ کے دین، دین اسلام کیساتھ ساتھ تصوف، جمہوریت ، سوشلزم ، یا دوسرے فرقہ وارانہ مذاہب جیسے اہلحدیث، سلفی، دیوبندی، بریلوی ، شیعہ ، حنفی، مالکی، شافعی و حنبلی کو بھی قبول کرلیا جائے تو اللہ تعالیٰ نے سورہ الشوریٰ میں اسے مشرکانہ فعل قرار دیا ہے۔ حکم صرف اللہ کا ماننا ہے، اللہ تعالیٰ نے ہمارا نام مسلمین رکھا ہےلیکن لوگوں نے اپنے اپنے فرقوں کے علماء و مفتیان کے کہنے پر اپنی پہچان اس سے ہٹ کر بنالی ہے، گویا اللہ کے حکم کے سامنے اپنے فرقوں کے بڑوں کا حکم قبول کرلیا۔ سورہ توبہ میں اللہ تعالیٰ نے اس قسم کے عمل کو اپنے مولیوں اور پیروں کو رب بنانا قرار دیا ہے۔

تو جو اس قسم کے تمام عقائد و اعمال سے دور ہو جائے ایسے گروہ اور فرقے جو اس قسم کے کفریہ و شرکیہ عقائد و اعمال میں ملوث ہیں چھوڑ دے، ایک اللہ کو اپنا کارساز مان لے، صرف قرآن و حدیث صحیحہ کو اپنا لے وہی در حقیقت مومن ہے اور ایسے ہی افراد پر صوم فرض کئے گئے ہیں۔

سورہ بقرہ میں صوم کا حکم دیتے ہوئے فرمایا گیا :

﴿أَيَّامٗا مَّعۡدُودَٰتٖۚ فَمَن كَانَ مِنكُم مَّرِيضًا أَوۡ عَلَىٰ سَفَرٖ فَعِدَّةٞ مِّنۡ أَيَّامٍ أُخَرَۚ وَعَلَى ٱلَّذِينَ يُطِيقُونَهُۥ فِدۡيَةٞ طَعَامُ مِسۡكِينٖۖ فَمَن تَطَوَّعَ خَيۡرٗا فَهُوَ خَيۡرٞ لَّهُۥۚ وَأَن تَصُومُواْ خَيۡرٞ لَّكُمۡ إِن كُنتُمۡ تَعۡلَمُونَ﴾

[البقرة: 184]

’’یہ گنتی کے دن ہیں (جن کو پورا کرنا ہے)، لیکن اگر تم میں سے، کوئی بیمار ہو یا سفر میں ہو تو وہ اور دنوں میں اس گنتی کو پورا کرے ۔ اور جو طاقت ہوتے ہوئے صوم نہ رکھنا چاہیں تو وہ بطور فدیہ ایک مسکین کو کھانا کھلا دیں۔ پھر جس نے بخوشی کچھ اضافی عمل کیا تو وہ اس کے لیے باعث خیر ہوگا، اور اگر تم صوم رکھو تو تمہارے لیے بہتر ہوگا اگر اس بات کو سمجھو۔‘‘

أَيَّامٗا مَّعۡدُودَٰتٖۚ ، گنتی کے چند دن۔ یہ کونسے ایام ہیں اگلی ہی آیت میں فرمایا گیا :

﴿شَهۡرُ رَمَضَانَ ٱلَّذِيٓ أُنزِلَ فِيهِ ٱلۡقُرۡءَانُ هُدٗى لِّلنَّاسِ وَبَيِّنَٰتٖ مِّنَ ٱلۡهُدَىٰ وَٱلۡفُرۡقَانِۚ فَمَن شَهِدَ مِنكُمُ ٱلشَّهۡرَ فَلۡيَصُمۡهُۖ وَمَن كَانَ مَرِيضًا أَوۡ عَلَىٰ سَفَرٖ فَعِدَّةٞ مِّنۡ أَيَّامٍ أُخَرَۗ يُرِيدُ ٱللَّهُ بِكُمُ ٱلۡيُسۡرَ وَلَا يُرِيدُ بِكُمُ ٱلۡعُسۡرَ وَلِتُكۡمِلُواْ ٱلۡعِدَّةَ وَلِتُكَبِّرُواْ ٱللَّهَ عَلَىٰ مَا هَدَىٰكُمۡ وَلَعَلَّكُمۡ تَشۡكُرُونَ﴾

’ماہ رمضان ہی وہ مہینہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا ہے جو لوگوں کے لیے ہدایت ہے اور ہدایت کی واضح دلیلوں پر مشتمل، اور (حق وباطل میں) فرق کرنے والا ہے، لٰہذا تم میں سے جو کوئی اس مہینے کو پائے وہ اس میں صائم رہے، البتہ جو مریض ہو یا سفر میں ہو تو وہ اس تعداد کو دوسرے دنوں میں پورا کرے۔ اللہ تم پر آسانی چاہتا ہے اور تمہیں مشکل میں نہیں ڈالنا چاہتا، تاکہ تم گنتی پوری کرو اور اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی ہدایت پر اس کی کبریائی بیان کرو اور شکر کرو۔‘‘

معلوم ہوا کہ ماہ رمضان کے صوم فرض ہیں، اور حکم ہے کہ ہر ایک ( صاحب ایمان ) صوم رکھے۔ بیماروں اور مسافروں کو یہ رخصت دی گئی کہ مسافر سفر کی حالت میں اور مریض بیماری کی وجہ سے اگر اس مہینے میں کچھ صوم نہ رکھ سکیں تو اس گنتی کو دوسرے دنوں میں پورا کر لیں۔ حدیث میں حاملہ اور رضاعت کرنے والی خواتین کے لئے بھی اس بات کی اجازت دی گئی ہے کہ ان کی یا بچے کی صحت کو خطرہ ہو تو وہ اس گنتی کو دوسرے دنوں میں پورا کر لیں {بخاری کتاب التفسیر ۔نسائی کتاب الصیام}۔

اسلامی احکامات کے نزول میں فطرت انسانی کے پیش نظر تدریج کا خیال رکھا گیا ہے۔ چنانچہ شروع میں اس بات کی رخصت دی گئی کہ طاقت ہونے کے باوجود جو لوگ صوم نہ رکھنا چاہیں وہ اس کے بدلے فدیہ دے سکتے ہیں یعنی ایک صوم کے بدلے ایک مسکین کو کھانا کھلا دیں، لیکن اضافی عمل کو مستحب قرار دیا گیا، یعنی کوئی ایک صوم کے بدلے ایک سے زیادہ مساکین کو کھانا دیدے یا فدیہ دینے کے بعد بھی صوم رکھ لے تو اس کے لئے زیادہ بہتر ہے۔ یہ رخصت بعد والی آیت کے نزول کے بعد ختم ہو گئی۔

آیت نمبر 185 پچھلی آیت کی ناسخ ہے یعنی اس کے ذریعے عام حالات میں صوم کے بدلے فدیہ دینے کی رخصت منسوخ ہو گئی ۔ البتہ مریض اور مسافر کے لیے صوم نہ رکھنے اور اس گنتی کو دوسرے دنوں میں پورا کرنے کی رخصت باقی رکھی گئی۔ حدیث میں عمر رسیدہ افراد یا دائمی مریضوں کے لیے صوم کے بدلے فدیہ دینے کی رخصت دی گئی ہے {بخاری: کتاب التفسیر ونسائی ۔کتاب الصیام}۔یعنی ایسے امراض جن میں صحت یاب ہو جانے کی جلد امید ہو اس میں جو صیام رمضان رہ جائیں تو ان کی گنتی بعد میں پوری کی جائے لیکن ایسے دائمی امراض جن میں صوم کیوجہ سے انسان کی بیماری بڑھ جانے کے زیاد ہ اندیشہ ہو یا وہ افراد ضعیف العمر ہوں تو ان کی طرف سے صیام رمضان نہ رکھنے کا فدیہ ادا کردیا جائے۔

اسی طرح مسافر کے لئے آزادی دی گئی ہے کہ وہ چاہے رکھے یا چاہے بعد میں گنتی پوری کرے۔ ایک سفر میں جب صوم رکھنے والوں کی حالت خراب ہو گئی تو غیر صائم سفر کرنے والوں نے ان کی خدمت کی تو نبی ﷺ نے فرمایا کہ آج صوم نہ رکھنے والے فضیلت لے گئے۔

مقصد صیام و فضیلت:

لَعَلَّکُمۡ تَتَّقُوۡنَ ، تاکہ تم پرہیز گار بن جاؤ۔

ماہ صیام ایمان والوں کی تربیت کا انتہائی قیمتی دورانیہ ہے، دن میں صوم اور رات میں قیام کے ذریعے تزکیہِ نفس یعنی اخلاقی خوبیاں پیدا کرنے اور زبان وجذبات پر قابو حاصل کرنے، سیرت وکردار کی اصلاح وتعمیر کرنے اور صبر وحلم کے اوصاف کو پروان چڑھانے کا بہترین موقع ملتا ہے لہٰذا ضروری ہے کہ صائم اس مقصد کو پیش نظر رکھے۔ حدیث میں بھی اس بات پر زور دیا گیا ہے چنانچہ نبی صلی الله عليه وسلم نے فرمایا کہ

مَنْ لَّمْ یَدَعْ قَوْلَ الزُّوْرِ وَالْعَمَلَ بِهِ فَلَیْسَ لِلہ حَاجَۃٌ فِیْ اَنْ یَّدَعَ طَعَامَہُ وَشَرَابَہُ

( بخاری، کتاب الصوم ، بَابُ مَنْ لَمْ يَدَعْ قَوْلَ الزُّورِ، وَالعَمَلَ بِهِ فِي الصَّوْمِ )

“یعنی جو کوئی غلط بات اور غلط کام نہ چھوڑے تو الله کو ضرورت نہیں کہ وہ اپنا کھانا پینا چھوڑ دے”

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الصِّيَامُ جُنَّةٌ فَلَا يَرْفُثْ وَلَا يَجْهَلْ وَإِنْ امْرُؤٌ قَاتَلَهُ أَوْ شَاتَمَهُ فَلْيَقُلْ إِنِّي صَائِمٌ مَرَّتَيْنِ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ تَعَالَی مِنْ رِيحِ الْمِسْکِ يَتْرُکُ طَعَامَهُ وَشَرَابَهُ وَشَهْوَتَهُ مِنْ أَجْلِي الصِّيَامُ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ وَالْحَسَنَةُ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا

( بخاری، کتاب التوحید ، بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {يُرِيدُونَ أَنْ يُبَدِّلُوا كَلاَمَ اللَّهِ})

’’ ابوہریرہ ؓ روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ صوم ڈھال ہے، اس لئے نہ تو بری بات کرے اور نہ جہالت کی بات کرے اگر کوئی شخص اس سے جھگڑا کرے یا گالی گلوچ کرے تو کہہ دے میں صائم ہوں، دو بار کہہ دے۔ (رسول اللہﷺ نے فرمایا) قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے کہ صائم کے منہ کی بو اللہ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے بہتر ہے وہ کھانا پینا اور اپنی مرغوب چیزوں کو صوم کی خاطر چھوڑ دیتا ہے اور نیکی دس گنا ملتی ہے اور ( اللہ تعالیٰ کا قول) میں اس کا بدلہ دیتا ہوں‘‘۔

حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الصَّوْمُ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ يَدَعُ شَهْوَتَهُ وَأَکْلَهُ وَشُرْبَهُ مِنْ أَجْلِي وَالصَّوْمُ جُنَّةٌ وَلِلصَّائِمِ فَرْحَتَانِ فَرْحَةٌ حِينَ يُفْطِرُ وَفَرْحَةٌ حِينَ يَلْقَی رَبَّهُ وَلَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْکِ

( بخاری، کتاب الباس، بَابُ مَا يُذْكَرُ فِي المِسْكِ)

’’ابوہریرہ ؓ روایت کرتے ہیں، آپ نے فرمایا کہ اللہ عز و جل فرماتا ہے کہ صوم میرے لئے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا، میری وجہ سے وہ اپنی خواہش، کھانا و پینا چھوڑتا ہے اور صوم ڈھال ہے اورصائم کے لئے دو خوشیاں ہیں ایک خوشی جس وقت صوم افطار کرتا ہے اور ایک خوشی جس وقت اپنے رب سے ملاقات کرے گا اورصائم کے منہ کی بو اللہ کو مشک کی خوشبو سے بھی زیادہ اچھی معلوم ہوتی ہے‘‘۔

یہ بات سمجھ لیں کہ اگر صائم زبان وکردار پر قابو نہ رکھے تو مقصد صوم حاصل نہ ہوگا۔ صائم کو اس دوران اپنے رب سے بہت ہی قربت ہوتی ہے اور وہ شیطانی حملوں سے بڑی حد تک محفوظ رہتا ہے۔ نوافل، صدقات وخیرات کے ذریعے اللہ اور اس کے رسولﷺسے محبت اور ایمان میں پختگی پیدا کرنے کا زریں موقع حاصل ہوتا ہے۔ ماہ صیام کا ماحول بھی صائم کے قلب وذہن پر اثرانداز ہوتا ہے اور قیام الّیل میں تسلسل سے قرآن سننا اس کی تربیت کے عمل میں بہت زیادہ بہتری لاتا ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :

وَمَنْ صَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ

( بخاری، کتاب الصوم ، بَابُ مَنْ صَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا وَنِيَّةً )

’’ اور جس نے رمضان کے صوم ایمان اور ثواب کی نیت سے رکھے تو اس کے پچھلے گناہ معاف کردئیے جاتے ہیں ‘‘۔

قیامت کے دن صائم کے لئے جنت میں ایک خصوصی دروازہ ہوگا۔ نبی ﷺ نے فرمایا:

عَنْ سَهْلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ فِي الْجَنَّةِ بَابًا يُقَالُ لَهُ الرَّيَّانُ يَدْخُلُ مِنْهُ الصَّائِمُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَا يَدْخُلُ مِنْهُ أَحَدٌ غَيْرُهُمْ يُقَالُ أَيْنَ الصَّائِمُونَ فَيَقُومُونَ لَا يَدْخُلُ مِنْهُ أَحَدٌ غَيْرُهُمْ فَإِذَا دَخَلُوا أُغْلِقَ فَلَمْ يَدْخُلْ مِنْهُ أَحَدٌ

( بخاری ، کتاب الصوم ، بَابٌ: الرَّيَّانُ لِلصَّائِمِينَ )

’’سہل ، نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ جنت میں ایک دروازہ ہے جس کو ریان کہتے ہیں قیامت کے دن اس دروازے سے صائم ہی داخل ہوں گے کوئی دوسرا داخل نہ ہوگا، کہا جائے گا کہ صائم کہاں ہیں ؟ وہ لوگ کھڑے ہوں گے اس دروازہ سے ان کے سوا کوئی داخل نہ ہو سکے گا، جب وہ داخل ہوجائیں گے تو وہ دروازہ بند ہوجائے گا اور اس میں کوئی داخل نہ ہوگا‘‘۔

نبی ﷺ نے فرمایا:

مَنْ صَامَ يَوْمًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ بَعَّدَ اللَّهُ وَجْهَهُ عَنْ النَّارِ سَبْعِينَ خَرِيفًا

’’ جو شخص اللہ کی راہ میں ایک دن کا صوم رکھے اللہ تعالیٰ اس کے چہرے کو جہنم سے ستر سال دور کردیتا ہے ‘‘

( بخاری، کتاب الجھاد و السیر، بَابُ فَضْلِ الصَّوْمِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ )

رمضان المبارک ماہ صیام و شھر القرآن ہے۔یہ اسلامی تقویم کا نواں مہینہ ہے۔بیان اللسان اور المنجد میں اس کا مادہ رَمَضَ باب سَمِعَ سے بھی آیا ہے ۔ اولذکر باب سے اس کے معنیٰ دن کا بہت گرم ہونا ، ریت کا تیز دھوپ سے جلنا ، پیاس سے بدن کا گرم ہونا ، تپتی زمین پر چلنے وغیرہ کے ہیں۔ جبکہ دوسرے باب سے تلوار وغیرہ کے پھل کو دو پتھروں کے درمیان رکھ کر کوٹ کر دھار لگانے کے معنوں میں آتا ہے۔ یہی مادہ ثلاثی مزید فیہ میں تفعیل و افعال کے ابواب میں بکریوں کو سخت گرم زمین پر چَرانے ، کسی کو جلانے تکلیف دینے کے معنیٰ دیتا ہے۔

چونکہ اس ماہ میں صوم رکھ کر نفس کی تربیت کی جاتی ہے ، بھوکا پیاسہ رہ کر اسے تپایا جاتا ہے ، یعنی اسے کوٹ پیٹ کا سان لگا یا جاتا ہے اس کے اوپر بیان کئے گئے تمام ہی معنی اس ماہ رمضان پر صادق آتے ہیں۔

شَهۡرُ رَمَضَانَ ٱلَّذِيٓ أُنزِلَ فِيهِ ٱلۡقُرۡءَانُ هُدٗى لِّلنَّاسِ وَبَيِّنَٰتٖ مِّنَ ٱلۡهُدَىٰ وَٱلۡفُرۡقَانِۚ ۔ ۔

(البقرہؒ185)

’’ماہ رمضان ہی وہ مہینہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا ہے جو لوگوں کے لیے ہدایت ہے اور ہدایت کی واضح دلیلوں پر مشتمل اور (حق وباطل میں) فرق کرنے والا ہے‘‘۔

یہ نزول قرآن اسی ماہ مبارک کی رات ’’ لیلۃ القدر ‘‘ میں ہوا ہے جسے اللہ تعالیٰ نے ہزار ماہ سے افضل رات قرار دیا ہے۔

نبی ﷺ نے فرمایا:

إِذَا كَانَ رَمَضَانُ فُتِّحَتْ أَبْوَابُ الرَّحْمَةِ وَغُلِّقَتْ أَبْوَابُ جَهَنَّمَ وَسُلْسِلَتْ الشَّيَاطِينُ

( بخاری، کتاب الصوم ، بَابٌ: هَلْ يُقَالُ رَمَضَانُ أَوْ شَهْرُ رَمَضَانَ، وَمَنْ رَأَى كُلَّهُ وَاسِعًا )

’’جب رمضان آتا ہے تو رحمت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کر دئیے جاتے ہیں اور شیطانوں کو زنجیروں میں جکڑ دیا جاتا ہے‘‘۔

یعنی جس طرح شیطان عام دنوں میں مومنین کو آسانی سے بہکا دیتا ہے اس ماہ میں اس طرح نہیں ہوتا بلکہ ایمان دار اس ماہ میں عبادات کا خصوصی اہتمام کرتے ہیں۔اللہ کی طرف سے رحمت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کردئیے جاتے ہیں۔ اس ماہ میں صوم کے کیساتھ ساتھ قیام الیل کا خصوصی اہتمام کرنا چاہئیے۔ صلاۃ العشاء کے بعد مسجد میں طویل قیام الیل ہو اور کوشش کی جائے کہ کم از کم ایک سپارہ روز ختم کریں اور پھر سحری سے قبل بھی قیام الیل ہو۔ نبی ﷺ نے اس کی خاص فضیلت فرمائی :

مَنْ قَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ

( بخاری، کتاب الایمان ، بَابٌ: تَطَوُّعُ قِيَامِ رَمَضَانَ مِنَ الإِيمَانِ )

’’ جو کھڑا ہوا رمضان میں ایمان اور ثواب کی نیت سے اس کے پچھلے گناہ معا ف کردئیے جاتے ہیں ‘‘۔

ابن عباس ؓ سے مروی ہے :

قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِامْرَأَةٍ مِنْ الْأَنْصَارِ سَمَّاهَا ابْنُ عَبَّاسٍ فَنَسِيتُ اسْمَهَا مَا مَنَعَکِ أَنْ تَحُجِّينَ مَعَنَا قَالَتْ کَانَ لَنَا نَاضِحٌ فَرَکِبَهُ أَبُو فُلَانٍ وَابْنُهُ لِزَوْجِهَا وَابْنِهَا وَتَرَکَ نَاضِحًا نَنْضَحُ عَلَيْهِ قَالَ فَإِذَا کَانَ رَمَضَانُ اعْتَمِرِي فِيهِ فَإِنَّ عُمْرَةً فِي رَمَضَانَ حَجَّةٌ أَوْ نَحْوًا مِمَّا قَالَ

( بخاری، کتاب العمرہ ، بَابُ عُمْرَةٍ فِي رَمَضَانَ )

’’انصار کی ایک عورت سے (جس کا نام ابن عباس نے لیا تھا لیکن میں بھول گیا) فرمایا کہ تمہیں میرے ساتھ حج کرنے سے کس چیز نے روکا ؟ اس نے کہا کہ میرے پاس ایک پانی بھرنے والا اونٹ تھا جس پر اس کا بیٹا اور فلاں شخص (یعنی اس کا شوہر) سوار ہو کر چلے گئے اور صرف ایک اونٹ چھوڑ گیا، جس ہر ہم پانی لادتے ہیں، آپ نے فرمایا کہ جب رمضان کا مہینہ آئے تو اس مہینہ میں عمرہ کرلے اس لئے کہ رمضان میں عمرہ کرنا ایک حج کے برابر ہے یا اسی کے مثل کچھ فرمایا۔

یعنی اس ماہ میں عمرے کی اس قدر فضیلت ہے کہ اس کا ثواب حج کے برابر ہے۔

اب ہم آتے ہیں صوم کے طریقہ کار کی طرف۔

صوم کا طریقہ کار

نبی ﷺ نے فرمایا :

الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ لَيْلَةً فَلَا تَصُومُوا حَتَّی تَرَوْهُ فَإِنْ غُمَّ عَلَيْکُمْ فَأَکْمِلُوا الْعِدَّةَ ثَلَاثِينَ

’’مہینہ انتیس راتوں کا بھی ہوتا ہے اس لئے جب تک چاند نہ دیکھ لوصوم نہ رکھو اور جب تک چاند نہ دیکھ لو افطار نہ کرو۔ اور اگر ابر چھایا ہوا ہو تو تیس دن پورے کرو‘‘۔

( بخاری ، کتاب الصوم ، بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ [ص:27]:

إِذَا رَأَيْتُمُوهُ فَصُومُوا وَإِذَا رَأَيْتُمُوهُ فَأَفْطِرُوا فَإِنْ غُمَّ عَلَيْکُمْ فَاقْدُرُوا لَهُ

’’جب تم رمضان کا چاند دیکھو، تو ٍصوم رکھو اور جب شوال کا چاند دیکھو تو افطار کرو، اگر تم پر بدلی چھائی ہو تو اس کا اندازہ کرو ( یعنی تیس دن پورے کرو) ۔‘‘

( بخاری ، کتاب الصوم ، بَابٌ: هَلْ يُقَالُ رَمَضَانُ أَوْ شَهْرُ رَمَضَانَ، وَمَنْ رَأَى كُلَّهُ وَاسِعًا)

سامعین ! چاند دیکھنے پر دعا جو عام طور پر مشہور ہے ، سنداً و ہ ضعیف ہے، اسی طرح صوم رکھنے کی کوئی بھی دعا کسی بھی حدیث سے ثابت نہیں یہ من گھڑت ہے لہذا بدعت ہے۔ اس بارے میں نبی ﷺ کی حدیث پیش کی جاتی ہے کہ ’’ جس نے فجر سے پہلے نیت نہیں کی تو اس کا صوم نہیں‘‘ ( سنن نسائی ، کتاب الصیام ، ذكر اختلاف الناقلين لخبر حفصة في ذلك )۔ نیت دراصل دل کے ارادے کا نام ہے ، یعنی جس نے فجر سے پہلے صوم کا ارادہ نہیں کیا اس کا صوم نہیں۔

اوقات صوم ؛

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :

﴿۔ ۔ ۔ وَكُلُواْ وَٱشۡرَبُواْ حَتَّىٰ يَتَبَيَّنَ لَكُمُ ٱلۡخَيۡطُ ٱلۡأَبۡيَضُ مِنَ ٱلۡخَيۡطِ ٱلۡأَسۡوَدِ مِنَ ٱلۡفَجۡرِۖ ثُمَّ أَتِمُّواْ ٱلصِّيَامَ إِلَى ٱلَّيۡلِۚ ﴾

[البقرة: 187]

’’اور کھاتے پیتے رہو یہاں تک کہ صبح کی سفید دھاری سیاہ دھاری سے الگ نظر آنے لگے، پھر رات تک صوم کو پورا کرلو۔ ‘‘

سیاہ اور سفید دھاری یا دھاگے کا فرق اسی وقت واضح ہو سکتا ہے جبکہ رات کی تاریکی ختم ہو اور دن کی روشنی نمودار ہو۔ عدی بن حاتم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نبی صلی الله عليه وسلم سے اس بارے میں وضاحت چاہی تو آپ نے فرمایا کہ “اس سے رات کی سیاہی اور صبح کی سفیدی مراد ہے” {بخاری: کتاب التفسیر}۔ یہ روشنی شفق سحر کے آغاز پر نمودار ہوتی ہے اور اسی کو “طلوعِ سحر” یا “صبح صادق” کہا جاتا ہے، اور اسی سے صوم کی ابتداء ہوتی ہے ِ،سحری آخری وقت میں کی جائے اور صبح صادق سے قبل سحری ختم کر دی جائے ۔

سحری کھانے میں برکت ہوتی ہے، نبی ﷺ نے فرمایا :

تَسَحَّرُوا فَإِنَّ فِي السَّحُورِ بَرَکَةً

( بخاری، کتاب الصوم ، بَابُ بَرَكَةِ السَّحُورِ مِنْ غَيْرِ إِيجَابٍ )

’’ سحری کھاؤ اس لئے کہ سحری کھانے میں برکت ہوتی ہے‘‘۔

فَصْلُ مَا بَيْنَ صِيَامِنَا وَصِيَامِ أَهْلِ الْکِتَابِ أَکْلَةُ السَّحَرِ

( مسلم ، کتاب الصیام ، بَابُ فَضْلِ السُّحُورِ وَتَأْكِيدِ اسْتِحْبَابِهِ، وَاسْتِحْبَابِ تَأْخِيرِهِ وَتَعْجِيلِ الْفِطْرِ )

’’ہمارے اور اہل کتاب کے صوم میں سحری کھانے کا فرق ہے‘‘۔

نبی ﷺ نے فرمایا :

إِذَا أَقْبَلَ اللَّيْلُ مِنْ هَا هُنَا وَأَدْبَرَ النَّهَارُ مِنْ هَا هُنَا وَغَرَبَتْ الشَّمْسُ فَقَدْ أَفْطَرَ الصَّائِمُ

( بخاری ، کتاب الصوم ، بَابٌ: مَتَى يَحِلُّ فِطْرُ الصَّائِمِ)

’’جب رات اس طرف سے آجائے اور دن اس طرف چلا جائے اور آفتاب ڈوب جائے تو صائم کے افطار کا وقت آگیا‘‘۔

متعدد احادیث میں افطار میں جلدی اور سحری میں تاخیر کرنے کی تاکید کی گئی ہے، لہذا یہ مسنون اور مستحب ہے کہ غروب کے فورا بعد افطار کر لیا جائے اور یہاں یہ بات قابل وضاحت ہے کہ قطبین کے نزدیکی علاقوں میں جہاں دن و رات کئ کئ مہینے کے ہوتے ہیں وہاں مشرقی اور مغربی افق پر کچھ ایسے آثار نمایاں ہو جاتے ہیں جن سے صبح وشام کا اندازہ لگا کے وہ لوگ سونے جاگنے اور دیگر ضروریات ومشاغل کے اوقات کار متعین کر لیتے ہیں، چنانچہ صلوۃ اور سحروافطار کے اوقات کا تعین بھی اسی طرح کیا جا سکتا ہے۔

جب نبی ﷺ افطار فرماتے تو کہتے :

ذَهَبَ الظَّمَأُ وَابْتَلَّتْ الْعُرُوقُ وَثَبَتَ الْأَجْرُ إِنْ شَائَ اللَّهُ

( ابوداؤد ، کتاب الصوم ، باب القول عند الإفطار )

(ترجمہ) پاس بجھ گئی رگیں تر ہوگئیں اور اجر ثابت ہوگیا اگر اللہ نے چاہا۔

اس مبارک ماہ میں صائم کو صوم افطار کرانے کی بھی بڑی فضیلت ہے، نبی ﷺ نے فرمایا :

من فطر صائما كان له مثل أجره، غير أنه لا ينقص من أجر الصائم شيئا

( ترمذی، ابواب الصوم ، باب ما جاء في فضل من فطر صائما )

’’ جس نے کسی صائم کو افطار کرایا اس کے لئے بھی اتنا ہی اجر ہے جتنا صائم کو ملے گا اور صائم کے اجر سے کوئی کمی نہ ہوگی ‘‘۔

لہذا اللہ نے توفیق دی ہو تو زیادہ سے زیادہ کو افطار کرایا جائے۔

اس طرح ماہ صیام مومن کے لیے بہت ہی بڑی نعمت ہے ۔ یہ احساس کہ الله تعالیٰ نے ہدایت عطا فرما کے ہم پر کتنا عظیم احسان فرمایا ہے، مومن کے دل میں جذبۂ تشکر پیدا کرتا ہے چنانچہ اس کو والہانہ اپنے رب کی عظمت وکبریائی اور حمد وثنا میں رطب اللسان رہنا چاہئے۔ اس بات کو دل میں اتار لیں کہ رمضان کا مہینہ سیرت و کردر اور اخلاق و اوصاف کی تعمیر و اصلاح کا بہترین وقت ہے۔ مومنین کو چاہئیے کہ اس زرین موقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں اور جو کمی و کوتاہی اس سے قبل ہوئی ہو اس کا ازالہ کریں۔ اپنے اعمال کا محاسبہ کرتے ہوئے اس ماہ کے دن و رات اللہ کی بندگی میں صرف کریں ۔ اذکار اور صلاہ علی النبی ( درود ) کا اہتمام ہو ، قرآن مجید کی تلاوت بھی کی جائے ، آیاتِ بشارت پر اللہ کی رحمت طلب کی جائے اور آیات ِ وعید پر اللہ کے عذاب سے پناہ مانگی جائے۔ فرض صلاۃ کا اہتمام بھی پہلے سے بڑھ کر ہو اور نوافل پر زور دیا جائے۔

یاد رکھیں کہ اس مبارک ماہ میں تمام ایسے کاموں سے مکمل پرہیز ہو جو دنیا پرستی کی طرف جاتے ہوں۔ بازاروں سے دور رہیں جہاں لوگ اللہ کے احکامات کے مقابلے شیطان کی پیروی کر رہے ہوتے ہیں۔ یہ کمائی کا مہینہ ہےکہ جتنا زیادہ ہو سکے کما لیں ، معلوم نہیں کہ آئندہ سال ہمیں ماہ نصیب ہوگا یا نہیں۔

آج کی اس پوسٹ میں ہم ان باتوںکی نشاندہی کریں گے کہ جو حالت صوم میں کی جا سکتی ہیں یاجن کی وجہ سے صوم ٹوٹ سکتا ہے۔

وہ مباح کام جو حالت صوم میں کئے جا سکتے ہیں :

حالت صوم میں غلطی سے کھا پی لینےکے متعلق نبی ﷺ نے فرمایا :

إِذَا نَسِيَ فَأَكَلَ وَشَرِبَ، فَلْيُتِمَّ صَوْمَهُ، فَإِنَّمَا أَطْعَمَهُ اللَّهُ وَسَقَاهُ

( بخاری، کتاب الصوم ، بَابُ الصَّائِمِ إِذَا أَكَلَ أَوْ شَرِبَ نَاسِيًا )

’’ جب کوئی غلطی سے کھا پی لے تو صوم ختم نہ کرے، کیونکہ اسے اللہ ہی نے کھلایا و پلایا ہوتا ہے ‘‘۔

حالت صوم میں سینگی لگوائی جا سکتی ہے۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں :

احْتَجَمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ وَاحْتَجَمَ وَهُوَ صَائِمٌ

( بخاری، کتاب الجزاء و الصید ، بَابُ الحِجَامَةِ لِلْمُحْرِمِ )

’’(نبیﷺ نے ) حالت احرام میں حجامہ کرایا اور صوم کی حالت میں بھی حجامہ کرایا‘‘۔

جسم سے فاسد خون نکلوانے کو سینگی یا حجامہ کہتےہیں۔ ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ حالت حجامہ کرنے اور کرانے والے دونوں کا صوم ٹوٹ جاتا ہے تو خیال رہے کہ وہ حدیث فتح مکہ کے موقع کی ہے جبکہ وہ حدیث جس میں حالت صوم میں حجامہ کا ذکر ہے وہ حجۃ الوداع کے موقع کی ہے یعنی اسے کے بعد کی ہے لہذا عمل آخر والی پر ہی ہوگا کہ حالت صوم میں حجامہ کرایا جا سکتا ہے۔

اب جب حالت صوم میں جسم سے خون نکلنا ثابت ہے تو بیماری کی صورت میں خون ٹیسٹ وغیرہ کے لئے خون نکالا جا سکتا ہے اور اگر کسی اور کو خون کی ضرورت ہے تو اسے بھی دیا جا سکتا ہے لیکن اس بات کا خیال رکھا جائے کہ اسقدر خون نہ نکل جائے کہ جسم میں کمزوری پیدا ہو جائے۔

صوم کی حالت میں سرمہ بھی لگایا جا سکتا ہے۔ (مصنف ابن أ بي شيبۃ ، کتاب الصیام ، باب من رخص فی الکحل للصائم)

اگر جنابت کی حالت میں بیدار ہو تو سحری کرلے پھر غسل کرکے صلوٰۃ ادا کرلے۔ ( بخاری، کتاب الصوم ،بَابُ الصَّائِمِ يُصْبِحُ جُنُبًا)

حالت صوم میں اگر احتلام ہو جائے تو صوم جاری رکھے کیونکہ یہ انسان کے اپنے کنٹرول کا معاملہ نہیں اور نبی ﷺ کا فرمان ہے کہ ’’ تین آدمیوں پر سے قلم اٹھا لیا گیا ہے، ایک : جو سویا ہوا ہو حتیٰ کہ وہ جاگ جائے ، دوسرا دیوانہ جب تک کہ وہ عقلمند نہ ہو جائے اور تیسرا بچہ حتی کہ وہ بڑا یعنی بالغ ہو جائے۔( سنن ابی داؤد ، کتاب الحدود ، باب في المجنون يسرق أو يصيب حدا )

جو جان بوجھ کر قے کرے تو اس کا صوم ٹوٹ جائے گا، نبی ﷺ نے فرمایا :

مِنْ ذَرَعَهُ الْقَيْءُ وَهُوَ صَائِمٌ فَلَيْسَ عَلَيْهِ قَضَاءٌ وَمَنِ اسْتَقَاءَ فَلْيَقْضِ

( سنن ابی داؤد، کتاب الصوم ، باب الصائم يستقيء عامدا )

’’جسے حالت صوم میں قے آ جائے تو اس پر قضاء نہیں ہے (یعنی اس کاصوم نہیں ٹوٹا) اور جس نے از خود قے کی اس پر قضاء لازم ہے‘‘۔

اکثر انجکشن کے بارے میں سوال کیا جاتا ہے ۔

وضاحت : اگر کسی کی حالت خطرناک حد کو چھو رہی ہو تو وہ انجکشن لگوا لےتو اس میں حرج نہیں لیکن نارمل حالت میں یاطاقت کے لئے انجکشن لگوائے تو یہ جائز نہیں ہوگا۔

حالت صوم میں ممنوعہ امور:

حالت صوم میں جماع کسی بھی طور جائز نہیں البتہ رات میں اس پر کوئی پابندی نہیں۔ سورہ بقرہ میں فرمایا گیا :

اُحِلَّ لَکُمۡ لَیۡلَۃَ الصِّیَامِ الرَّفَثُ اِلٰی نِسَآئِکُمۡ

( البقرہ : 187 )

’’صوم کی رات میں اپنی بیویوں سے ملنا تمہارے لیے حلال کیا گیا ہے‘‘۔

ایک شخص جو حالت صوم میں جماع کا مرتکب ہو گیا اس سے نبی ﷺ نے پوچھا :

أَتَجِدُ مَا تُحَرِّرُ رَقَبَةً ، قَالَ لَا

کیا تم ایک غلام آزاد کر سکتے ہو؟ اس نے جواب دیا: نہیں۔

قَالَ فَتَسْتَطِيعُ أَنْ تَصُومَ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ قَالَ لَا

فرمایا: کیا تم دو ماہ کے مسلسل صوم رکھ سکتے ہو ؟ جواب دیا : نہیں

قَالَ أَفَتَجِدُ مَا تُطْعِمُ بِهِ سِتِّينَ مِسْکِينًا قَالَ لَا

فرمایا : کیا تم ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا سکتے ہو؟ جواب دیا : نہیں

فَأُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَقٍ فِيهِ تَمْرٌ وَهُوَ الزَّبِيلُ قَالَ أَطْعِمْ هَذَا عَنْکَ

نبی ﷺ کے پاس کھجوروں کا ایک تھیلا لایا گیا ، تو نبی ﷺ نے وہ اسے دے دیا کہ وہ لیجا کر اپنی طرف سے کھلا دے، یعنی صدقہ کردے۔

( بخاری ، کتاب الصوم ، بَابُ المُجَامِعِ فِي رَمَضَانَ، هَلْ يُطْعِمُ أَهْلَهُ مِنَ الكَفَّارَةِ إِذَا كَانُوا مَحَاوِيجَ )

لہذا اگر کوئی ایسی حرکت کا مرتکب ہو جائے اور اس میں غلام آزاد کرنے کی توفیق ہو تو وہ غلام آزاد کرے، اگر نہ ہو تو لگاتار دو ماہ کے صوم رکھے، اگر اس کی صحت اس بات کی اجازت نہیں دیتی تو وہ ساٹھ مساکین کو ایک وقت کا کھانا کھلا دے اور اگر اس کی بھی گنجائش نہ ہو تو جو ہو سکے وہ صدقہ کرے۔

حالت حیض میں بھی صوم نہیں رکھا جا سکتا بلکہ بعد کے دنوں میں اس کی قضاء کا حکم ہے۔

سنن نسائی، کتاب الصیام،باب: وضع الصيام عن الحائض )

مباحات میں بیان کی گئی ایک حدیث سے واضح ہے کہ جو جان بوجھ کر قہ کرے اس کا صوم ٹوٹ جاتا ہے اور اسے بعد میں اسے پورا کرنا ہوگا ۔

اس سے قبل سابقہ پوسٹ میں اس بات کی وضاحت کردی گئی ہے حالت صوم میں ایماندار کسی سے جھگڑا نہ کرے ۔ نبی ﷺ نے فرمایا :

’’۔ ۔ ۔ نہ تو بری بات کرے اور نہ جہالت کی بات کرے اگر کوئی شخص اس سے جھگڑا کرے یا گالی گلوچ کرے تو کہہ دے میں صائم ہوں، ‘‘۔

( بخاری، کتاب التوحید ، بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {يُرِيدُونَ أَنْ يُبَدِّلُوا كَلاَمَ اللَّهِ})

مزید فرمایا :

“۔ ۔ ۔ جو کوئی غلط بات اور غلط کام نہ چھوڑے تو الله کو ضرورت نہیں کہ وہ اپنا کھانا پینا چھوڑ دے”

( بخاری، کتاب الصوم ، بَابُ مَنْ لَمْ يَدَعْ قَوْلَ الزُّورِ، وَالعَمَلَ بِهِ فِي الصَّوْمِ )

لہذا مومنین ہر اس چیز سے دور رہیں جس سے صوم میں کی گئی محنت ضائع ہو جائے ۔

قیام الیل فی الرمضان

ماہ صیام میں قیام الیل کا بڑا اجر ہے ،نبی ﷺ نے فرمایا:

مَنْ قَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ

( بخاری، کتاب الایمان ، بَابٌ: تَطَوُّعُ قِيَامِ رَمَضَانَ مِنَ الإِيمَانِ )

’’ جو کھڑا ہوا رمضان میں ایمان اور ثواب کی نیت سے اس کے پچھلے گناہ معا ف کردئیے جاتے ہیں ‘‘۔

قیام الیل کے معنی ہیں رات کو کھڑا ہونا، احادیث میں یہ اصطلاح رات میں نوافل ادا کرنے کے لئے استعمال کی گئی ہے۔ رات کی صلاۃ کی ادائیگی نہایت افضل عبادت ہے اور احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت فرشتے بھی حاضر ہوتے ہیں اور رات کے آخر میں اللہ تعالیٰ آسمان دنیا پر تشریف لاتا ہے اور فرماتا ہے کہ ہے کوئی مجھ سے سوال کرنے والا کہ میں اسے عطا کروں ، کوئی مجھ

سے دعا کرنے والا ہے کہ اس کی دعا قبول کروں ، ہے کوئی کہ مجھ سے مغفرت چاہے اور میں اسے بخش دوں۔ قرآن مجید میں فرمایا گیا :

﴿وَٱلَّذِينَ يَبِيتُونَ لِرَبِّهِمۡ سُجَّدٗا وَقِيَٰمٗا٦٤ وَٱلَّذِينَ يَقُولُونَ رَبَّنَا ٱصۡرِفۡ عَنَّا عَذَابَ جَهَنَّمَۖ إِنَّ عَذَابَهَا كَانَ غَرَامًا﴾

[الفرقان: 64-65]

’’ ان کی راتیں اپنے رب کے سامنے قیام و سجود میں گزرتی ہیں اور وہ دعا کرتے ہیں کہ اے ہمارے رب ! ہمیں عذاب جہنم سے بچا ، بلاشبہ اس کا عذاب بڑا تکلیف دہ ہے‘‘۔

نبی ﷺ نے فرمایا :

«رحم الله رجلا قام من الليل فصلى، وأيقظ امرأته فصلت، فإن أبت نضح في وجهها الماء، رحم الله امرأة قامت من الليل فصلت، وأيقظت زوجها، فإن أبى نضحت في وجهه الماء»

( ابوداؤد، باب تفریع ابواب الوتر، باب الحث على قيام الليل )

’’ اللہ رحم فرمائے اس آدمی پر جو رات کو اٹھے اور صلاۃ ادا کرے اور اپنی عورت کو بھی اٹھائے،اگر وہ نہ اٹھے تو اس منہ پر پانی کے چھینٹے مارے۔ اللہ رحم فرمائے اس عورت پر جو رات کو اٹھے اور صلاۃ ادا کرے اور اپنے شوہر کو اٹھائے اور اگر وہ نہ اٹھے تو اس کے منہ پر پانی کے چھینٹے مارے ‘‘۔

یہی عبادت جب ماہ صیام میں ہو تو اس کا اجر اور بھی بڑھ جاتا ہے جیسا کہ اوپر حدیث میں بیان کیا گیا جو مسلم اس ماہ میں قیام الیل کے لئے ایمان اور ثواب کی نیت سے کھڑا ہوا تو اس کے سابقہ گناہ معاف کردئیے جاتے ہیں۔ گویا ماہ صیام میں یہ عمل ایک مسلم کے لئے ثواب کمانےاور سابقہ گناہ معاف کرانے کا ایک بہترین موقع ہے۔

ماہ صیام میں ہونے والے اس عمل کو لوگ ’’ تراویح ‘‘ کہتے ہیں لیکن احادیث میں اسے ’’ قیام الیل ‘‘ ہی کہا گیا ہے۔زید بن ثابت ؓ فرماتے ہیں :

أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اتَّخَذَ حُجْرَةً – قَالَ: حَسِبْتُ أَنَّهُ قَالَ مِنْ حَصِيرٍ – فِي رَمَضَانَ، فَصَلَّى فِيهَا لَيَالِيَ، فَصَلَّى بِصَلاَتِهِ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِهِ، فَلَمَّا عَلِمَ بِهِمْ جَعَلَ يَقْعُدُ، فَخَرَجَ إِلَيْهِمْ فَقَالَ: «قَدْ عَرَفْتُ الَّذِي رَأَيْتُ مِنْ صَنِيعِكُمْ، فَصَلُّوا أَيُّهَا النَّاسُ فِي بُيُوتِكُمْ، فَإِنَّ أَفْضَلَ الصَّلاَةِ صَلاَةُ المَرْءِ فِي بَيْتِهِ إِلَّا المَكْتُوبَةَ»

( بخاری ، کتاب الاذان ، بَابُ صَلاَةِ اللَّيْلِ )

’’ کہ رسول اللہﷺ نے رمضان میں ایک حجرہ بنایا تھا (سعید کہتے ہیں مجھے خیال آتا ہے کہ زید بن ثابت ؓ نے یہ کہا تھا کہ وہ چٹائی کا تھا) اور اس میں چند شب آپ نے صلوٰۃ ادا کی، اس کا علم آپ کے اصحاب کو ہوگیا اس لئے انہوں نے آپ کی اقتداء میں صلوٰۃ ادا کی۔ مگر جب آپ کو ان کا علم ہوا تو بیٹھ رہے، پھر صبح کو ان کے پاس تشریف لائے اور فرمایا کہ میں نے تمہارا فعل دیکھا، اسے سمجھ لیا (یعنی تم کو عبادت کا شوق ہے) تو اے لوگو ! اپنے گھروں میں صلوٰۃ ادا کیا کرو کیونکہ آدمی کی صلوٰۃمیں سب سے افضل وہ صلوٰۃہے جو وہ گھر میں ادا کرے سوائے فرض صلوٰۃ ‘‘۔

ایک دوسری روایت میں جو عائشہ ؓ سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں:

أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى ذَاتَ لَيْلَةٍ فِي المَسْجِدِ، فَصَلَّى بِصَلاَتِهِ نَاسٌ، ثُمَّ صَلَّى مِنَ القَابِلَةِ، فَكَثُرَ النَّاسُ، ثُمَّ اجْتَمَعُوا مِنَ اللَّيْلَةِ الثَّالِثَةِ أَوِ الرَّابِعَةِ، فَلَمْ يَخْرُجْ إِلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا أَصْبَحَ قَالَ: «قَدْ رَأَيْتُ الَّذِي صَنَعْتُمْ وَلَمْ يَمْنَعْنِي مِنَ الخُرُوجِ إِلَيْكُمْ إِلَّا أَنِّي خَشِيتُ أَنْ تُفْرَضَ عَلَيْكُمْ وَذَلِكَ فِي رَمَضَانَ»

( بخاری، کتاب التہجد، بَابُ تَحْرِيضِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى صَلاَةِ اللَّيْلِ وَالنَّوَافِلِ مِنْ غَيْرِ إِيجَابٍ )

’’عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک رات مسجد میں صلوٰۃ ادا کی تو آپ کے ساتھ لوگوں نے بھی پڑھی، پھر دوسری رات میں آپ نےصلوٰۃ ادا کی تو لوگوں کی تعداد زیادہ ہوگئی، پھر تیسری یا چوتھی رات کو لوگ جمع ہوئے تو رسول اللہﷺان کے پاس نہیں آئے۔ جب صبح ہوئی تو آپ نے فرمایا کہ میں نے اس چیز کو دیکھا جو تم نے کیا اور مجھے باہر آنے سے کسی چیز نے نہیں روکا، بجز اس خوف کے کہ کبھی تم پر فرض نہ ہوجائے، اور یہ رمضان کا واقعہ ہے‘‘۔

واضح ہوا کہ قیام الیل فی رمضان کچھ دن نبی ﷺ کی امامت میں بھی ادا کی گئی ہے لیکن نبی ﷺ نے اسے اس لئے جاری نہیں رکھا کہ کہیں امت پر یہ فرض نہ ہو جائے۔نبی ﷺ کی وفات کے بعد یہ عمل جاری رہا ۔ عمر ؓ کے دور میں ایک ہی مسجد میں کئی کئی جماعتیں متفرق اماموں کے پیچھے ہونے لگیں :

عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدٍ القَارِيِّ، أَنَّهُ قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ عُمَرَ بْنِ الخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، لَيْلَةً فِي رَمَضَانَ إِلَى المَسْجِدِ، فَإِذَا النَّاسُ أَوْزَاعٌ مُتَفَرِّقُونَ، يُصَلِّي الرَّجُلُ لِنَفْسِهِ، وَيُصَلِّي الرَّجُلُ فَيُصَلِّي بِصَلاَتِهِ الرَّهْطُ، فَقَالَ عُمَرُ: «إِنِّي أَرَى لَوْ جَمَعْتُ هَؤُلاَءِ عَلَى قَارِئٍ وَاحِدٍ، لَكَانَ أَمْثَلَ» ثُمَّ عَزَمَ، فَجَمَعَهُمْ عَلَى أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، ثُمَّ خَرَجْتُ مَعَهُ لَيْلَةً أُخْرَى، وَالنَّاسُ يُصَلُّونَ بِصَلاَةِ قَارِئِهِمْ، قَالَ عُمَرُ: «نِعْمَ البِدْعَةُ هَذِهِ، وَالَّتِي يَنَامُونَ عَنْهَا أَفْضَلُ مِنَ الَّتِي يَقُومُونَ» يُرِيدُ آخِرَ اللَّيْلِ وَكَانَ النَّاسُ يَقُومُونَ أَوَّلَهُ

(بخاری، کتاب التراویح ، بَابُ فَضْلِ مَنْ قَامَ رَمَضَانَ )

’’عبدالرحمن بن عبدالقاری سےمنقول ہے ،عبدالرحمن نے بیان کیا کہ میں عمر ؓ کے ساتھ رمضان کی ایک رات مسجد کی طرف نکلا، وہاں لوگوں کو دیکھا کہ کوئی الگ صلوٰۃ ادا کررہا ہے اور کہیں ایک شخص صلوٰۃ ادا رہا ہے تو اس کے ساتھ کچھ لوگ صلوٰۃ ادا کر رہے ہیں، عمر ؓنے فرمایا کہ میرا خیال ہے کہ ان سب کو ایک قاری پر متفق کروں تو زیادہ بہتر ہوگا پھر اس کا عزم کر کے ان کو ابی بن کعب ؓپر جمع کردیا۔ پھر میں ان کے ساتھ دوسری رات میں نکلا لوگ اپنے قاری کے ساتھ صلوٰۃ ادا کر رہے تھے، عمرؓ نے فرمایا کہ یہ ایک اچھی نئی بات ہے اور رات کا وہ حصہ یعنی آخری رات جس میں لوگ سو جاتے ہیں اس سے بہتر ہے جس میں کھڑے ہوجاتے ہیں اور لوگ ابتدائی حصہ میں کھڑے ہوتے تھے‘‘۔

واضح ہوا کہ یہ کام خود نبی ﷺ نے کچھ دن کیا اور بعد میں باقاعدہ صحابہ ؓ نے اس کامکمل اہتمام کیا۔روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ ؓ طویل قیام کیا کرتے تھے:

سائب بن یزید ؒ سے روایت ہے کہ عمرؓ نے ابی بن کعبؓ اور تمیم داری ؓ کو گیارہ رکعتیں پڑھانے کو کہا۔ امام ایک رکعت میں سو سو آیتیں پڑھتا ، یہاں تک کہ ہم لکڑی پر سہارا لگاتے ، اور ہم فجر کے قریب ہی فارغ ہوتے تھے۔

( موطاامام مالک : کتاب الصلوٰۃ،باب قیام رمضان)

’’ عبد الرحمن بن ہرمزاعرج کہتے ہیں : رمضان میں قاری سورہ بقرہ آٹھ رکعات میں مکمل کرتا تھا، اور جب بارہ رکعات میں مکمل کرتا تو لوگ سمجھتے کہ تخفیف ہو گئی ہے ‘‘۔

( موطاامام مالک : کتاب الصلوٰۃ،باب قیام رمضان)

چنانچہ ہمیں بھی اس بات کو اپنانا چاہئیے اور قیام الیل میں طویل قرآت کرنا چاہئیے۔ روزانہ کم از کم ایک یا ڈیڑھ سپارہ پڑھنا چاہئیے۔

تعداد رکعات فی القیام الیل :

قیام الیل فی رمضان نفل ہے اور نفلوں کی تعداد مقرر کرنا صحیح نہیں جب کہ نبیﷺ نے اس کا تعین نہ فرمایا ہو۔ اپنی سہولت ، رغبت و شوق کے مطابق جتنے چاہیں نوافل ادا کیے جائیں ۔ یاد رکھیں تراویح بھی ” قیام اللیل ” ہی ہے ، اس لئے اس کی رکعتیں بھی قیام اللیل کے مطابق ادا کریں ، اور ان کی تعداد مختلف روایات میں مختلف آئی ہے۔

مندرجہ بالا احادیث اور مزید احادیث سے رسول اللہ ﷺ اور صحابہ اکرامؓ سے قیام رمضان میں رکعتوں کی مختلف تعداد ثابت ہوتی ہے ۔ لہِذا قیام الیل فی الرمضان میں آٹھ ،دس ، بارہ، بیس یا زیادہ ، جتنی ہمت اور شوق اجازت دے پڑھ لینی چاہِے ۔ مسجد میں باجماعت قیام ادا کرنے کے بعد رات کو گھر میں انفرادی قیام اللیل کاموقع بھی ضائع نہ کریں کہ یہ افضل ہے۔

بعض لوگ آٹھ رکعات پڑھنے کو خواہش نفس کہتے ہیں اور انہیں تہجد کی صلوٰۃ کہہ کراول قیام الیل فی رمضان سے جدا کر دیتے ہیں، جبکہ دوسرے لوگ انہی آٹھ کو مسنون تعداد کہتے ہیں اور اس سے زیادہ کے انکاری ہیں ۔ یہ دونوں قسم کے لوگ افراط و تفریط اور مسلکی تشدد کا شکار ہیں۔ جیسا کہ پہلے بتایا گیا کہ قیام الیل فی رمضان اور تہجد دونوں ایک ہی صلوٰۃ کے نام ہیں جن کے لئے احادیث میں ” قیام اللیل ” کا لفظ آیا ہے ۔ فرق صرف اتنا ہے کہ اول قیام الیل فی رمضان یعنی جسے عرف عام میں تراویح کہا جاتا ہے کو لوگ عشاء کے ساتھ اول وقت میں ادا کر لیتے ہیں۔

اب جیسا جس کا ذوق اورہمت و وسعت ہو سو اسی قدر وہ رمضان میں قیام اللیل کرے ۔ غرضیکہ نہ تو آٹھ رکعت پڑھنا خواہشِ نفس ہے اور نہ آٹھ سے زیادہ پڑھنا خلافِ سنت ۔

لیلۃ القدر:

ماہ صیام کے آخری عشرے میں ایک ایسی رات آتی ہے جس میں کی گئی عبادت ایک ہزار سال کی عبادت سے بہتر ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اِنَّآ اَنْزَلْنٰهُ فِيْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ۝ښ وَمَآ اَدْرٰىكَ مَا لَيْلَةُ الْقَدْرِ ۝ۭ لَيْلَةُ الْقَدْرِ ڏ خَيْرٌ مِّنْ اَلْفِ شَهْرٍ ۝ڼ تَنَزَّلُ الْمَلٰۗىِٕكَةُ وَالرُّوْحُ فِيْهَا بِاِذْنِ رَبِّهِمْ ۚ مِنْ كُلِّ اَمْرٍ ۝ڒ سَلٰمٌ ڕهِيَ حَتّٰى مَطْلَعِ الْفَجْرِ ۝ۧ

’’ بے شک ہم نے نازل کیا ہے اسے ( قرآن مجید ) لیلۃ القدر میں، اور تم کیا جانو لیلۃ القدر کیا ہے ، لیلۃ القدر ہزار ماہ سے بہتر ہے، نازل ہوتے ہیں فرشتے اور روح ( جبریل) اس رات میں اپنے رب کے حکم سے ہر کام کے لئے،سلامتی ہی سلامتی ہے طلوع فجر تک ‘‘۔

سورہ دخان میں فرمایا :

حٰـمۗ۝ڔ وَالْكِتٰبِ الْمُبِيْنِ ۝ڒ اِنَّآ اَنْزَلْنٰهُ فِيْ لَيْلَةٍ مُّبٰرَكَةٍ اِنَّا كُنَّا مُنْذِرِيْنَ ۝ فِيْهَا يُفْرَقُ كُلُّ اَمْرٍ حَكِيْمٍ ۝ۙ اَمْرًا مِّنْ عِنْدِنَا ۭ اِنَّا كُنَّا مُرْسِلِيْنَ ۝ۚ رَحْمَةً مِّنْ رَّبِّكَ ۭ اِنَّهٗ هُوَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ ۝ۙ

( الدخان 1/6 )

’’ حٰم ۔ اس کتاب روشن کی قسم ہم نے اسے ایک مبارک رات میں نازل کیا ہے۔ ہم تو ( عذاب سے ) ڈرانے والے ہیں، اس رات میں ہماری طرف سے ہر معاملے میں حکیمانہ فیصلے ہوتے ہیں، بے شک ہم رسول بھیجنے والے تھے۔ ( یہ رات ) تمہارے رب کی طرف سے رحمت ہے وہی سننے والا جاننے والا ہے ‘‘۔

شَہۡرُ رَمَضَانَ الَّذِیۡۤ اُنۡزِلَ فِیۡہِ الۡقُرۡاٰنُ ہُدًی لِّلنَّاسِ وَ بَیِّنٰتٍ مِّنَ الۡہُدٰی وَ الۡفُرۡقَانِ

( البقرہ : 185 )

’ماہ رمضان ہی وہ مہینہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا ہے جو لوگوں کے لیے ہدایت ہے اور ہدایت کی واضح دلیلوں پر مشتمل ۔ ۔ ‘‘

قرآن مجید ماہ رمضان میں نازل ہوا ۔ اس رات کو اللہ تعالیٰ نے لیلۃ القدر و لیلۃ مبارکہ کا نام دیا اور بتایا کہ یہ وہ رات ہے کہ جس میں اللہ تعالیٰ حکیمانہ فیصلے فرماتا ہے۔ فرشتے اور جبریل امین بھی اس رات دنیا کی طرف بھیجے جاتے ہیں ۔ یہ رات رحمت و سلامتی کی رات ہے۔ اس کی فضیلت کا اندازہ لگائیں کہ اس ایک رات میں عبادت کرنے کا اجر تیس ہزار راتوں میں عبادت کرنے سے افضل ہے جو کہ تقریبا ً تیراسی ( ۸۳ )سال چار ماہ بنتے ہیں جبکہ عموماً لوگوں کی اتنی عمر تک نہیں ہوتی۔ یہ راب کا مومنوں کو نوازنے کا انداز ہے ۔ اپنے مومن بندوں کے لئے اس نے ثواب کو کس انداز میں لٹا دیا ہے کہ اس ایک رات کی عبادت اس کی زندگی بھر کی عبادت سے افضل ہے ، اور جس ایمان دار کو ایسی بیس تیس یا پچاس راتیں مل جائیں تو اس کے اجر کا کیا کہنا وہ تو اپنی زندگی سے بیس تیس گنا اجر کما لیتا ہے۔نبی ﷺ نے فرمایا :

مَنْ قَامَ لَيْلَةَ الْقَدْرِ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ

( بخاری ، کتاب الصوم ، بَابُ مَنْ صَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا وَنِيَّةً )

’’جو شخص لیلۃقدر میں ایمان اور ثواب کی نیت سے کھڑا ہو، اس کے سابقہ گناہ بخش دئیے جاتے ہیں‘‘۔

حدیث میں ہے کہ نبی ﷺ کو اس رات کا بتایا گیا اور وہ صحابہ ؓ کو بتانے کے لئے باہر تشریف لائے لیکن دو مسلمین کی لڑائی کیوجہ سے انہیں بھلا دی گئی۔ مختلف احادیث میں راتوں کی طاق راتوں کی تاریخ کیساتھ بیان کیا گیا ہے لیکن بات یہی ہے کہ آخری عشرے کی طاق راتوں میں اس تلاش کا حکم دیا گیا ہے جیسا کہ ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے :

فَالْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ وَالْتَمِسُوهَا فِي کُلِّ وِتْرٍ

( بخاری ، کتاب الاعتکاف ، بَابُ الِاعْتِكَافِ فِي العَشْرِ الأَوَاخِرِ، وَالِاعْتِكَافِ فِي المَسَاجِدِ كُلِّهَا )

’’اسے آخری عشرے میں تلاش کرو اور طاق راتوں میں تلاش کرو‘‘۔

عائشہ ؓ فرماتی ہیں :

کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَجْتَهِدُ فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مَا لَا يَجْتَهِدُ فِي غَيْرِهِ

( مسلم ، کتاب الاعتکاف ، بَابُ الِاجْتِهَادِ فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ )

’’ رسول اللہ ﷺ رمضان کے آخری عشرہ میں اتنی جدوجہد کرتے تھے کہ اس کے علاوہ اور دنوں میں اتنی زیادہ جدو جہد نہیں کرتے تھے‘‘۔

نبی ﷺ نے صحابہ کو بھی ان راتوں میں جدوجہد کرنےپر زور دیا اور کہا کہ اگر کمزور بھی ہو تو ان راتوں میں سستی نہ کرے۔ابن عمر ؓ کہتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا:

الْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ يَعْنِي لَيْلَةَ الْقَدْرِ فَإِنْ ضَعُفَ أَحَدُکُمْ أَوْ عَجَزَ فَلَا يُغْلَبَنَّ عَلَی السَّبْعِ الْبَوَاقِي

( مسلم ، کتاب الصیام ، بَابُ اسْتِحْبَابِ صَوْمِ سِتَّةِ أَيَّامٍ مِنْ شَوَّالٍ إِتْبَاعًا لِرَمَضَانَ )

’’( لیلۃ القدر) کو رمضان کے آخری عشرہ میں تلاش کرو کیونکہ اگر تم میں سے کوئی کمزور ہو یا عاجز ہو تو ہو آخری سات راتوں میں سستی نہ کرے‘‘۔

مسروق ؒ عائشہ ؓ سے روایت کرتے ہیں :

قَالَتْ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَ الْعَشْرُ أَحْيَا اللَّيْلَ وَأَيْقَظَ أَهْلَهُ وَجَدَّ وَشَدَّ الْمِئْزَرَ

( مسلم ، کتاب الاعتکاف ، بَابُ الِاجْتِهَادِ فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ )

’’عائشہؓ سے روایت ہے فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب آخری عشرہ میں داخل ہوتے تھے تو آپ رات کو جاگتے تھے اور اپنے گھر والوں کو بھی جگاتے اور عبادت میں خوب کوشش کرتے اور تہبند مضبوط باندھ لیتے ‘‘۔

الغرض کہ لیلۃ القدر ماہ رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں سے ایک رات ہوتی ہے جسے اللہ تعالیٰ نے پوشیدہ رکھا ہے ۔ رسول اللہ ﷺ ان راتوں میں نہ صرف خود محنت کرتے تھے بلکہ خواتین اور بچوں کو بھی جمع کیا کرتے تھے۔ ابو ذر ؓ سے روایت ہے :

’’ ابوذر ؓ سے روایت ہے کہ ہم نے ماہ رمضان میں رسول ﷺ کے ساتھ صوم رکھے۔ آپ نے ہمیں کسی رات کو بھی صلاۃ نہیں پڑھائی یہاں تک کہ (رمضان ختم ہونے میں) سات راتیں باقی رہ گئیں تو آپ کھڑے ہوگئے ہمارے ساتھ تہائی رات تک ۔

پھر جب چھ راتیں باقی رہ گئی تو آپ کھڑے نہیں ہوئے۔پھر جب پانچ راتیں باقی رہ گئیں تو آپ کھڑے ہوئے نصف شب تک، ہم نے عرض کیا یا رسول ﷺکاش آج آپ مزید کھڑے رہتے ۔نبی ﷺ نے فرمایا جب آدمی امام کے ساتھ صلاۃ ادا کر کے فراغت پائے تو اس کو ساری رات کھڑے رہنے کا ثواب ملے گا۔

اور جب چار راتیں باقی رہ گئیں تو آپ کھڑے نہیں ہوئے اور جب تین راتیں باقی رہ گئیں تو آپ نے اپنے تمام اہل خانہ کو اور لوگوں کو جمع فرمایا، پس آپ کھڑے ہوئے یہاں تک کہ ہم کو خوف ہوا کہ فلاح نکل جائے گی راوی کہتے ہیں کہ میں نے پوچھا کہ فلاح کیا چیز ہے ؟ ابوذرؓ نے کہا کہ فلاح سے مراد سحری کھانا ہے پھر آپ چاند رات تک کھڑے نہیں ہوئے ‘‘۔

( سنن ابی داؤد ، باب تفريع أبواب شهر رمضان، باب في قيام شهر رمضان )

نبی ﷺ نے لیلۃ القدر کی یہ دعا بیان فرمائی :

اللَّهُمَّ إِنَّكَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّي

(سنن ابن ماجہ: کتاب الدعاء، بَابُ الدُّعَاءِ بِالْعَفْوِ وَالْعَافِيَةِ)

اعتکاف :

اعتکاف کے لغوی معنی ٰ ٹہرے رہنا، جمے رہنا ، کسی مقام پر اپنے آپ کو روکے رکھنا ہیں۔ شرعاً اعتکاف یہی ہے کہ ایمان دار اپنے رب کا تقرب حاصل کرنے کے لئے مسجد میں ٹہرا رہے۔ عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں :

کَانَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْتَکِفُ فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ فَکُنْتُ أَضْرِبُ لَهُ خِبَائً فَيُصَلِّي الصُّبْحَ ثُمَّ يَدْخُلُهُ

( بخاری ، کتاب الاعتکاف، بَابُ اعْتِكَافِ النِّسَاءِ )

’’ کہ نبیﷺ رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف کرتے تھے، میں آپ کے لئے ایک خیمہ نصب کردیتی تھی، آپ فجر کی صلاۃ ادا کر اس میں داخل ہوتے۔‘‘

عروہ بن زبیر ؓ عائشہ ؓ سے روایت کرتے ہیں :

أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ يَعْتَکِفُ الْعَشْرَ الْأَوَاخِرَ مِنْ رَمَضَانَ حَتَّی تَوَفَّاهُ اللَّهُ ثُمَّ اعْتَکَفَ أَزْوَاجُهُ مِنْ بَعْدِهِ

( بخاری، کتاب الاعتکاف ، بَابُ الِاعْتِكَافِ فِي العَشْرِ الأَوَاخِرِ، وَالِاعْتِكَافِ فِي المَسَاجِدِ كُلِّهَا )

کہ نبیﷺ رمضان کے آخری عشرہ میں اعتکاف کرتے تھے، یہاں تک کہ اللہ نے آپ کو اٹھا لیا پھر آپ کے بعد آپ کی بیویاں بھی اعتکاف کرتی تھیں‘‘۔

عمرہ بنت عبد الرحمن نے بیان کیا :

’’عائشہ ؓ زوجہ رسول اللہ ﷺ سے روایت ہے کہ اگر میں حالت اعتکاف میں ہوتی تو گھر میں حاجت کے لئے داخل ہوتی اور چلتے چلتے مریض کی عیادت کرلیتی اور اگر رسول اللہ ﷺ حالت اعتکاف میں ہوتے تو مسجد میں رہتے ہوئے اپنا سر مبارک میری طرف کردیتے تو میں اس میں کنگھی کرتی اور آپ ﷺ جب معتکف ہوتے تو گھر میں سوائے حاجت کے داخل نہ ہوتے تھے‘‘۔

( مسلم ، کتاب الحیض ، بَابُ جَوَازِ غُسْلِ الْحَائِضِ رَأْسَ زَوْجِهَا وَتَرْجِيلِهِ وَطَهَارَةِ سُؤْرِهَا وَالَاتِّكَاءِ فِي حِجْرِهَا وَقِرَاءَةِ الْقُرْآنِ فِيهِ )

واضح ہوا کہ اعتکاف مسجد میں کیا جاتا ہے، ماہ صیام کے آخری عشرے میں ہوتا ہے ۔ نبی ﷺ نے اپنی زندگی کے آخر تک اعتکاف کیا۔ ان کی ازواج نے بھی ان کی زندگی اور ان کی وفات کے بعد بھی اعتکاف کیا۔ معتکف کے لئے مسجد میں خیمہ لگا دیا جاتا ہے جہاں وہ دنیا سے کٹ کر صرف اور صرف عبادات پر بھرپور زور لگاتا ہے جیسا کہ حدیث سے نبی ﷺ کا طرز عمل ملتا ہے۔ عائشہ ؓ فرماتی ہیں :

کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَجْتَهِدُ فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مَا لَا يَجْتَهِدُ فِي غَيْرِهِ ( مسلم ، کتاب الاعتکاف ، بَابُ الِاجْتِهَادِ فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ )

’’ رسول اللہ ﷺ رمضان کے آخری عشرہ میں اتنی جدوجہد کرتے تھے کہ اس کے علاوہ اور دنوں میں اتنی زیادہ جدو جہد نہیں کرتے تھے‘‘۔

اعتکاف آخری عشرہ یعنی 21 صوم سے شروع ہوتا ہے لہذا اعتکاف کرنے والا بیسویں رمضان کو مغرب سے قبل مسجد میں داخل ہو جائے کیونکہ اکیسویں شب مغرب سے شروع ہو جاتی ہے۔معتکف سوائے لازمی حاجت کے مسجد سے باہر نہیں نکل سکتا اور اگر نکلے گا تو راستے میں کہیں نہیں رکے گا بلکہ جس مقصد کے لئے نکلا ہے صرف اسے پورا کرے گا۔ جیسا کہ آج کل مساجد میں ہی استنجاء و غسل کی جگہ موجود ہوتی ہے تو اس کے لئے گھر جانے کی ضرورت نہ رہی۔ عروہ عائشہ ؓ سے روایت کرتے ہیں :

عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ السُّنَّةُ عَلَی الْمُعْتَکِفِ أَنْ لَا يَعُودَ مَرِيضًا وَلَا يَشْهَدَ جَنَازَةً وَلَا يَمَسَّ امْرَأَةً وَلَا يُبَاشِرَهَا وَلَا يَخْرُجَ لِحَاجَةٍ إِلَّا لِمَا لَا بُدَّ مِنْهُ وَلَا اعْتِکَافَ إِلَّا بِصَوْمٍ وَلَا اعْتِکَافَ إِلَّا فِي مَسْجِدٍ جَامِعٍ

( ابوداؤد ، کتاب الصوم ، باب المعتكف يعود المريض )

’’ عروہ سے روایت ہے کہ عائشہؓ نے فرمایا : سنت یہ ہے معتکف نہ کسی مریض کی عیادت کے لئے جائے اور نہ صلاۃ المیت کے لئے (مسجد سے باہر) جائے اور نہ عورت کو (شہوت کے ساتھ) چھوئے اور نہ اس کے ساتھ مباشرت کرے اور نہ کسی ضرورت کے لئے باہر نکلے سوائے انسانی ضرورت کے (قضاء حاجت وغیرہ کے لئے) اور اعتکاف درست نہیں مگرصوم کے ساتھ۔ اور اعتکاف درست نہیں مگر مسجد میں‘‘۔

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ اعْتَكَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ فَسَمِعَهُمْ يَجْهَرُوا بِالْقِرَاءَةِ وَهُوَ فِي قُبَّةٍ لَهُ فَكَشَفَ السُّتُورَ وَكَشَفَ وَقَالَ أَلَا كُلُّكُمْ مُنَاجٍ رَبَّهُ فَلَا يُؤْذِيَنَّ بَعْضُكُمْ بَعْضًا وَلَا يَرْفَعَنَّ بَعْضُكُمْ عَلَى بَعْضٍ فِي الْقِرَاءَةِ أَوْ قَالَ فِي الصَّلَاةِ

( سنن ابی داؤد ، کتاب الصلاۃ ، باب رفع الصوت بالقراءة في صلاة الليل )

’’ابوسعید خدری ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبیﷺ نے مسجد میں اعتکاف کیا، اس دوران آپ کے کانوں میں لوگوں کے اونچی آواز میں قرآن مجیدپڑھنے کی آواز گئی، اس وقت آپ اپنے خیمے میں تھے، نبیﷺ نے اپنا پردہ اٹھا کر فرمایا یاد رکھو ! تم میں سے ہر شخص اپنے رب سے مناجات کر رہا ہے، اس لئے ایک دوسرے کو تکلیف نہ دو اور ایک دوسرے پر اپنی آوازیں بلند نہ کرو‘‘۔

اگر ہم ان سب روایات میں بیان کردہ کو جمع کریں تو واضح ہوتا ہے کہ

· اعتکاف ماہ رمضان کے آخری عشرے یعنی اکیسویں شب سے ماہ شوال کا چاند کھائی دینے تک ہوتا ہے۔

· اعتکاف کے لئے صوم اور مسجد لازمی ہیں۔

· اعتکاف کے لئے خیمہ بنایا جائے جو ہر ہر فرد کا علیحدہ ہو۔

· معتکف کو اپنا وقت اپنے خیمے میں گزارنا چاہئیے۔ خیمہ سے باہر بیٹھ دنیاوی یا دینی باتوں کی ہر گز اجازت نہیں۔

· معتکف کوئی انتظامی امور نہ نبھائے۔( امیر جماعت اس بات پر زور دیتے ہیں کہ انتظامی امور کے افراد ہی کام کریں، معتکف اس میں ہاتھ نہ بٹائے )

· معتکف اپنا وقت نوافل، قرآت قرآن و اذکار میں لگائے۔( دیگر دینی کتب ، رسالہ جات نہ پڑھےجائیں اور نہ ہی کوئی دوسرا دینی کام کیا جائے)

· اعتکاف کے معنیٰ اللہ کے لئے دنیا سے کٹ کر مسجد میں بیٹھ کر عبادت کرنا ہے لہذا موبائل وغیرہ بالکل نہ استعمال کیا جائے البتہ اہل خانہ معتکف سے ملاقات کے لئے آ سکتے ہیں۔ ( بخاری، کتاب الاعتکاف )

· موجودہ حالات میں واش روم وغیرہ کی سہولت مساجد میں ہی مہیا ہوتی ہے اس لئے معتکف اب مسجد سے باہر نہ جائے۔

· اگر معتکف کا کوئی کھانا لانے والا نہ ہو تو گھر سے جاکر لے آئے۔( ہماری مساجد میں تمام معتکفین کے لئے یہ انتظام ہوتا ہے اس لئے باہر جانے کی ضرورت نہیں )۔

· کسی کی تیمارداری یا جنازے کے لئے بھی باہر نہیں جا سکتا، تیمار داری کی اجازت بھی اس وقت ہے کہ جب اپنی ضروری حاجت کے لئے نکلے تو راستے میں بغیر رکے چلتے چلتے تیمارداری کرلے۔

· دوران اعتکاف خواتین سے تعلقات مکمل ممنوع ہیں، قرآن مجید میں ہے :

وَ لَا تُبَاشِرُوۡہُنَّ وَ اَنۡتُمۡ عٰکِفُوۡنَ ۙ فِی الۡمَسٰجِدِ ( البقرہ 187 )

’’اور جب تم مساجد میں معتکف ہو تو ان کے ساتھ مباشرت نہ کرنا‘‘

یہی بات عائشہ ؓ والی روایت میں ہے کہ

وَلَا يَمَسَّ امْرَأَةً وَلَا يُبَاشِرَهَا

’’اور نہ عورت کو (شہوت کے ساتھ) چھوئے اور نہ اس کے ساتھ مباشرت کرے‘‘

اللہ تعالیٰ تمام ایمان دار معتکفین کو ان باتوں کو سمجھنے اور اس پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *